Alfanse by Ibn-e-Safi – Last Episode 3

0
الفانسے ​از ابن صفی – آخری قسط نمبر 3

–**–**–

“اوہ!” عمران نے سیٹی بجانے کے انداز میں ہونٹ سکوڑے “مگر تم تو یہاں تھیں۔”
“ابھی ابھی جعفری نے فون پر کہا ہے۔ اسے علم ہے کہ ہم یہاں ہیں۔”
“تو اب کہاں ہیں سر سلطان؟”
“ہسپتال میں سول ہسپتال میں!”
“خیر انہیں وہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ میں فی الحال کرنل کی خواب گاہ کی تلاشی لوں گا۔”
“یہ کیا قصہ ہے؟” بیگم نادر نے بوکھلائے ہوئے انداز میں کہا “سر سلطان وہی نا۔۔۔ جو کرنل کے آفیسر ہیں۔”
“جی ہاں وہی۔۔۔ اتفاق سے وہ بھی اس عورت سے جاپانی سیکھتے تھے۔”
بیگم نادر نے حیرت سے منہ کھولا اور پھر بند کر لیا۔
عمران کو کمرے کی تلاشی لینے کی اجازت مل گئی تھی! اس نے ذرا سی دیر میں پورا کمرہ الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ جولیا اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ وہ نہیں سمجھ سکتی تھی کہ عمران کیا کر رہا ہے۔
اس کا خیال تھا کہ سر سلطان والی خبر عمران کے لئے بڑی سنسنی خیز ثابت ہوگی اور شاید وہ بوکھلاہٹ میں جوتے اتار کر سول ہسپتال کی سمت دوڑنا شروع کر دے گا۔
کچھ دیر بعد اس نے دیکھا کہ عمران ایک بڑی سی کنجی ہاتھ میں لئے اسے اس طرح گھو ررہا تھا جیسے اس پر ایک گندی سی گالی تحریر ہو۔
عمران جولیا کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔
اور کنجی جیب میں ڈال لی۔ پھر وہ فون کی طرف بڑھا۔ کسی کے نمبر ڈائیل کئے۔ اور جب گفتگو شروع ہوئی تو جولیا کو معلوم ہوا کہ وہ اسٹیٹ بینک کے ایک آفیسر سے ہمکلام ہے۔
جب وہ ریسیور رکھ کر جولیا کی طرف مڑا تو اس نے اس کے ہونٹوں پر فاتحانہ انداز کی مسکراہٹ دیکھی۔
“کاغذات اسٹیٹ بنک کی سیف کسٹڈی میں ہیں”۔۔۔ اس نے آہستہ سے کہا۔
“اوہ۔۔۔ تو کیا وہ کنجی۔۔۔!”
“وہ کنجی اسی سیف کی ہے جس میں کاغذات رکھے ہوئے ہیں۔” عمران نے کہا۔ “کسی اور نے بھی تیرہ نمبر کی تجوری کے متعلق ابھی ابھی بنک سے گفتگو کی تھی اور اس نے خود کو محکمہ سراغرسانی کا ایک آفیسر ظاہر کیا تھا۔ لیکن بھلا محکمہ سراغرسانی کو ان کاغذات کے متعلق کیسے معلوم ہو سکتا ہے۔۔۔ کیوں کیا خیال ہے۔”
“اوہ۔۔۔ تو پھر یہ سمجھا جائے کہ کرنل نادر الفانسے کی قید میں ہیں اور کاغذات کے متعلق بتا چکے ہیں۔”
“اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ صحیح ہے تو یقین رکھو کہ سر سلطان بھی آسانی سے ہوش میں نہیں آئیں گے۔ کیونکہ وہ کاغذات کے متعلق اتنا ہی علم رکھتے ہیں جتنا کرنل نادر کوہے اور! آج رات کوئی نہ کوئی اس کنجی کو حاصل کرنے کے لئے عمارت میں ضرور گھسے گا۔”
“کیا تم نے اس کنجی کے لئے تلاشی لی تھی۔”
“نہیں! میں کسی ایسی چیز کی تلاش میں تھا جس سے اس عورت پر روشنی پڑ سکے۔ کنجی تو اتفاقاً ہاتھ آگئی، اور اپنی محنت برباد نہیں ہوئی۔”
“اور اس عورت کے متعلق کیا معلوم ہوا۔؟”
“کچھ بھی نہیں! ایسی کوئی چیز نہیں مل سکی، جس سے اس کے بارے میں کچھ معلوم ہوتا۔”
“اب کیا ارادہ ہے؟”
“ایک بکری کا بچہ پال کر اسے جوان کرنے کی کوشش کروں گا!” عمران نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
“وہ کنجی میرے حوالے کر دو۔”
“تمہارے فرشتے بھی مجھ سے نہیں لے سکتے۔”
“تب تم اس عمارت سے بھی نہیں نکل سکو گے۔۔۔ میں کرنل کے گھر والوں سے کہہ دوں گی کہ محکمہ سراغرسانی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔”
“کہہ کر دیکھو۔۔۔ پھر دیکھنا تمہارا کیا حشر ہوتا ہے۔۔۔ ٹھیک اسی وقت میں کرنل کی بیوی کو یہ اطلاع دوں گاکہ جاپانی سکھانے والی عورت یہی ہے۔”
“وہ کیا بگاڑ لے گی میرا۔”
“بس دیکھ لینا جاؤ کہدو۔۔۔ اس سے میری طرف سے پوری اجازت ہے!”
“بیکار بات نہ بڑھاؤ۔۔۔ کنجی تم نہیں لے جا سکے۔”
“ہو سکتا ہے کہ دیر ہو جانے پر سر سلطان کبھی ہوش میں نہ آ سکیں۔” عمران نے خشک لہجے میں کہا اور کمرے سے باہر نکلتا چلا گیا۔ جولیا بھی اس کے پیچھے تیزی سے قدم اٹھا رہی تھی۔ لیکن عمران اس سے پہلے ہی اپنی کار تک پہنچ گیا۔

سرسلطان کو نو بجے رات تک ہوش نہیں آیا تھا۔ پھر عمران سول ہسپتال سے چلا آیا۔ ڈاکٹروں کی رائے تھی کہ ان کے جسم میں کوئی گہری خواب آور دوا پہنچائی گئی ہے۔ جس کا اثر جلد زائل ہوتا نہیں معلوم ہوتا۔ لیکن خود ان کے علم میں کوئی ایسی خواب آور دوا نہیں تھی جس کا اثر اتنا دیرپا ثابت ہو سکتا ہو۔
عمران سول ہسپتال سے کرنل نادر کے بنگلے کی طرف روانہ ہو گیا اسے یقین تھا کہ آج رات اس کے بنگلے میں گھسنے کی کوشش ضرور کی جائے گی۔اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ جولیا اور اس کے ساتھی یقینی طور پر بنگلے کی نگرانی کر رہے ہوں گے۔ کیونکہ اس نے جولیا پر اپنا یہ خیال ظاہر کر دیا تھا کہ آج رات کرنل نادر کے بنگلے پر کاغذات کے خواہاں ریڈ بھی کر سکتےی ہں۔
اس نے اپنی ٹو سیٹر بنگلے سے کافی فاصلے پر چھوڑ دی تھی اور خود پیدل چلتا ہوا کرنل نادر کی خواب گاہ کے دروازے پر پہنچا جو میدان کی طرف تھا۔ میدان تاریکی اور سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا۔
عمران خود رو جھاڑیوں میں چھپ گیا۔ پھر اسے خیال آیا کہ ممکن ہے اس کا یہ اقدام احمقانہ ہو۔
وہ سوچ رہا تھا کہ اس کے ماتحت آج یہاں موجود نہیں معلوم ہوتے حالانکہ جولیا کے انداز سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ اس سلسلے میں احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کرے گی۔ عمران جھاڑیوں میں بیٹھا رہا۔ اس کے خیال میں جولیا اتنی گدھی نہیں ہو سکتی تھی کہ ایک وقوعے کا امکان ہوتے ہوئے بھی وہ اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتی۔
وقت گزرتا رہا۔ تقریباً دس بجے عمران کو کچھ آہٹیں سنائی دیں اور وہ اندھیرے میں آنکھیں پھاڑنے لگا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اسے نہایت احتیاط سے پیچھے کھسک جانا پڑا کیونکہ چار آدمی سینے کے بلیک زیرو زمین پر رینگتے ہوئے جھاڑیوں کے قریب سے گزر رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا رخ جھاڑیوں کی طرف ہو گیا۔ اور وہ اندر گھستے چلے آئے۔ عمران نے سانس روکی اور ایک طرف سمٹتا چلا گیا۔
چاروں جھاڑیوں میں داخل ہو چکے تھے۔ عمران ان کی سرگوشیاں سنتا رہا اس نے تھوڑی ہی دیر میں انہیں پہچان لیا۔ وہ اس کے ماتحت ہی تھے کیپٹن جعفری کیپٹن خاور۔۔۔ سارجنٹ ناشاد۔۔۔ اور لیفٹینٹ چوہان!
پھر اس کی ریڈیم ڈائیل کی گھڑی نے گیارہ بجائے اور وہ آہستہ آہستہ کھسکتا ہوا جھاڑیوں کے سرے پر پہنچنے کی کوشش کرنے لگا اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ کرنل نادر کی خواب گاہ کے عقبی دروازے سے زیادہ دور نہیں تھا۔ اب وہ اطمینان سے بیٹھ گیا۔ وہ اپنے ماتحتوں سے تقریباً بیس گز کے فاصلے پر تھا۔
دفعتاً بنگلے کی کمپاؤنڈ سے شور و غل کی آوازیں بلند ہوئیں۔ عمران چونکا۔۔۔ لیکن پھر جہاں تھا وہیں رک گیا۔ اس کے ماتحت جھاڑیوں سے نکل کر کمپاؤنڈ کی طرف جا رہے تھے۔ شور بڑھتا ہی رہا۔ لیکن میدان ویران پڑا تھا۔ شاید عمارت کے کسی حصے میں آگ لگ گئی تھی۔ شور و غل سے یہی معلوم ہو رہا تھا۔ عمران کے ذہن نے اسے فوراً ہی معنی پہنا دیئے اور وہ وہیں بیٹھا رہا۔
دفعتاً اسے خواب گاہ کے عقبی دروازے پر ایک سایہ نظر آیا۔ پھر وہ متحرک نظر آنے لگا تاروں کی چھاؤں میں وہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ وہ دروازے پر تھوڑی دیر کے لئے جھکا رہا پھر ایسا معلوم ہوا کہ جیسے دیوار اسے نگل گئی ہو۔۔۔ غالباً وہ درازہ کھول کر اندر داخل ہو چکا تھا کمپاؤنڈ سے شور و غل کی آوازیں برابر چلی آ رہی تھی۔
عمران تھوڑے سے توقف کے ساتھ اٹھا اور سینے کے بلیک زیرو رینگتا ہوا دروازے کے قریب پہنچ گیا۔ دروازہ اندر سے بند تھا۔ وہ بہت آہستگی سے اٹھا، اور دیوار سے چپک کرکھڑا ہو گیا۔ کچھ دیر بعد دروازہ پھر کھلا اور ایک آدمی باہر نکلا ۔ لیکن دوسرے ہی لمحے عمران اس پر سوار تھا۔ اسے سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ اس کی گردن پر عمران کی گرفت مضبوط ہوتی گئی اور پھر وہ کسی وزنی تھیلے کی طرح زمین پر ڈھیر ہو گیا۔
کچھ دیر بعد عمران کی ٹو سیٹر دانش منزل کی طرف جا رہی تھی۔ اور اس کی اسٹپنی میں ایک بیہوش آدمی بند تھا۔اسے ٹو سیٹر تک لے جانے میں عمران کو بڑی محنت کرنی پڑی تھی۔ اس کے لئے اسے آگ بجھانے والوں کی بھیڑ سے کترا کر نکلنا پڑا تھا۔
اب وہ سوچ رہا تھا کہ یہ تدبیر بہت اچھی تھی۔ عمارت کے اگلے حصے میں ایسی جگہ آگ لگا کر جس کا اثر دور تک نہ ہو سکے لوگوں کو الجھا لیا گیا تھا۔ اس طرح اس آدمی کے کام میں خلل پڑنے کے امکانا ت ختم ہو گئے تھے جو خواب گاہ کا عقبی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا۔
عمران یہ دیکھنے کے لئے نہیں رکا تھا کہ آگ کسی حصے میں لگی تھی۔ لیکن اسے یقین تھا کہ اس کے لئے ان لوگوں نے نوکروں کے کوارٹروں ہی کو منتخب کی ہوگا جو اصل عمارت سے کافی فاصلے پر تھے۔
کچھ دیر بعد ٹو سیٹر دانش منزل کی تاریک کمپاؤنٹ میں داخل ہوئی۔ سیکرٹ سروس والوں میں اس عمارت کو ایکس ٹو کا ہیڈ کوارٹر سمجھا جاتا تھا۔۔۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی ایکس ٹو کی اجازت حاصل کئے بغیر اس کی کمپاؤنڈ میں قدم نہیں رکھ سکتا تھا۔
عمران بیہوش آدمی کو کمر پر لادے ہوئے عمارت میں داخل ہوا۔ اور جب وہ کمپاؤنڈ میں داخل ہوا تو روشنی میں شکار پر نظر پڑتے ہی اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ یہ تھریسیا کا آدمی سیسرو تھا۔ وہی اندھا جس نے ایک بار اسے بہت زچ کیا تھا۔ عمران نے اسے ایک کرسی پر ڈال دیا۔ اور خود بھی ایک کرسی کے ہتھے پر ٹک کر چیونگم کا پیکٹ پھاڑنے لگا اس کے ہونٹوں پر ایک شرارت آمیز مسکراہٹ تھی۔ کچھ دیر بعد سیسرو کو ہوش آگیا۔ اور وہ اس طرح کرسی سے اچھلا جیسے کسی نے اس پر حملہ کر دیا ہو۔ لیکن عمران پر نظر پڑتے ہی اس کا منہ کھل گیا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی مشین چلتے چلتے رک گئی ہو۔
“تم۔۔۔ تم۔۔۔” عمران ہکلایا “تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟”
سیسرو خاموش کھڑا پلکیں چھپکاتا رہا۔ غالباً بری طرح بوکھلا گیا تھا۔
“کفنیوشس نے کہا تھا۔” عمران اسے آنکھ مار کر مسکرایا اور تھوڑے سے توقف کے ساتھ کہا۔ “مگر کنفیوشس نے غلط کہا تھا۔ اس کے برعکس مدھو بالا نے ٹھیک کہا ہے کہ لکس ٹائلٹ صابن کی ٹکیا چبانے سے فلم اسٹاروں کی رنگت نکھر آتی ہے۔”
دفعتاً سیسرو نے عمران پر چھلانگ لگائی لیکن نہایت اطمینان سے سامنے والی دیوار سے جا ٹکرایا۔
“ارے خدا تمہیں غارت کرے۔۔۔!” عمران اس کی طرف مڑ کر بولا۔ “تمہاری رنگت تو نہ نکھرے گی خواہ تم سوڈا کاسٹک کی پوری بالٹی چڑھا جاؤ۔
تقریباً پندرہ منٹ تک یہ اچھل کود جاری رہی لیکن سیسرو عمران کو ہاتھ نہ لگا سکا۔ آخر وہ تھک کر رک گیا اور کسی گدھے کی طرح ہانپنے لگا۔
“کنفیوشس ۔۔۔ ” عمران نے کچھ کہنا چاہا۔
“شٹ اپ۔۔۔” سیسرو حلق پھاڑ کر دہاڑا۔
“آہستہ۔۔۔ ذرا آہستہ۔” عمران نے مسمسی صورت بنا کر کہا۔۔۔ “میں کمزور دل کا آدمی ہوں۔ میرا ہارٹ فیل بھی ہو سکتا ہے۔”
“تم کسی۔۔۔ حقیر۔۔۔ کیڑے کی طرح فنا کر دیئے جاؤ گے۔۔۔” سیسرو ہانپتا ہوا بولا۔
“نہیں دوست ایسا نہ کرنا۔۔۔” عمران گھگھیایا۔ “لو یہ کنجی حاضر ہے۔ مجھے معاف کر دو۔” عمران نے جیب سے تجوری کی کنجی نکال کر اسے دکھائی۔
سیسرو پھر جھپٹا۔۔۔ شاید وہ اسی چکر میں تھا کہ عمران اس بار بھی جھکائی دے کر الگ ہٹ جانے کی کوشش کرے گا۔۔۔ اسی لئے اس نے اپنے ذہن کو کافی چاک و چوبند کرکے حملہ کیا تھا۔
لیکن وہ عمران تھا۔ اس سے سرزد ہونے والا ہر فعل اس کے حریفوں کمے لئے عموماً غیر متوقع ہی ثابت ہوا کرتا تھا۔ سیسرو بھی دھوکہ کھا گیا۔ نہ صرف دھوکہ بلکہ چوٹ بھی۔ عمران نے اچھل کر دونوں پیر اس کے سینے میں مارے تھے۔
سیسرو کے حلق سے ایک طویل کراہ نکلی اور وہ بڑی میز سے پھسلتا ہوا دوسری طرف جا گرا۔۔۔ اس بار اس کا پھرتیلا پن جواب دے گیا تھا۔ وہ فوراً ہی نہ اٹھ سکا۔
“معاف کرنا پیارے!” عمران نے مغموم لہجے میں کہا۔ “اس بار میں نے گدھوں کی سی حرکت کی۔۔۔ اپنا دل میری طرف سے صاف کر ڈالو۔ آئندہ ایسا نہ ہوگا۔”
“میں تجھے مار ڈالوں گا۔” سیسرو دونوں مٹھیاں بھینچ کر چیخا۔
“کنفیوشس نے کہا تھا۔۔۔”
سیسرو نے کنفیوشس کو ایک گندی سی گالی دی اور پھر جھپٹا۔۔۔ عمران نے جھک کر اس کے پیٹ پر ٹکر ماری۔۔۔ مگر اس بار وہ خود بھی نہ سنبھل سکا اور دونوں نیچے اوپر فرش پر ڈھیر ہو گئے۔
عمران نے گرتے گرتے اپنی کہنیاں اس کے سینے پر ٹکا دی تھیں۔ اس لئے سیسرو کی گرفت سے نکل آنے میں اسے کوئی دشواری پیش نہیں آئی ورنہ سیسرو نے اس کی گردن اپنے بازؤں میں جکڑ لینے کی کوشش کی تھی۔
یہ ٹکر آخری ثابت ہوئی اور اس نے سیسرو کے کس بل نکال دیئے۔
وہ اٹھا لیکن کھڑا نہیں ہوا۔ میز کے پائے سے ٹک کر اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں!
“اب بتاؤ پیارے سیسرو کہ محکمہ خارجہ کا ڈپٹی سیکرٹری کرنل نادر کہاں ہے؟” عمران نے مضحکہ اڑانے کے سے انداز میں پوچھا۔
سیسرو نے آنکھیں کھول دی جو انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔ وہ اس وقت کسی درندے سے مشابہ معلوم ہو رہا تھا۔
“تم۔۔۔” اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ “تمہارے فرشتے بھی مجھ سے معلوم نہیں کر سکتے۔”
“میرے فرشتے تو اس وقت پنگ پانگ کھیل رہے ہوں گے۔۔۔ میں ہی معلوم کروں گا۔”
“کوشش کرو!” سیسرو غرایا۔
“کوشش بہت بڑی چیز ہے تم کوشش کے بغیر ہی بتا دو گے!” عمران نے لاپرواہی سے کہا۔ پھر ہلکے سے قہقہے کے ساتھ بولا۔ “وہاں آگ لگانے والی اسکیم تو بڑی شاندار تھی مگر تم لوگ ہمیشہ یہ بھول جاتے ہو کہ مقابلہ عمران جیسے بیوقوف سے ہے۔”
“تمہاری موت قریب آ گئی ہے۔ الفانسے تمہیں بڑی بیدردی سے مار ڈالے گا۔” سیسرو نے کہا۔
“تم الفانسے سے کم تو نہیںں ہو۔”
“میں الفانسے کے پیروں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہوں۔”
“تب تو مجھے افسوس ہے کہ میں نے ایک کمتر آدمی پر ہاتھ اٹھایا۔” عمران نے مغموم لہجے میں کہا!”اچاھ سیسرو اب میں تمہارے لئے ہاتھ کبھی نہ استعمال کروں گا۔ چلو بتاؤ کرنل نادر کہاں ہیں۔”
“میں کسی کرنل نادر کو نہیں جانتا۔”
“تب پھر کیا تم مرغیاں چرانے کے لئے اس گھر میں گھسے تھے۔”
“میں کسی کے گھر میں نہیں گھسا تھا۔ تم جھوٹے ہو۔”
“اچھی بات ہے۔ یہ کمرہ تمہاری قبر بنے گا۔” عمران نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
سیسرو اس کی طرف جھپٹا اور دوسرے ہی لمحے اس کے پیٹ پر عمران کی لات پڑی۔ وہ پیٹ دبائے ہوئے دہرا ہو گیا۔
“میں وعدہ کر چکا ہوں پیارے سیسرو کہ تمہارے لئے ہاتھ نہیں استعمال کروں گا۔ کمتر آدمیوں سے میں اسی طرح نپٹتا ہوں۔” عمران نے کہا اور کمرے سے باہر نکل آیا خود کار دروازہ بند ہو کر مقفل ہو گیا۔
اب وہ ایک ایسے کمرے میں آیا۔ جہاں ایک بڑی میز پر تین فون رکھتے ہوئے تھے۔ اس نے ایک پر جولیانا فٹز واٹر کے نمبر ڈائیل کئے۔
“یس سر۔۔۔ ” دوسری طرف سے جولیا کی کپکپاتی ہوئی سی آواز آئی۔
“میرے سارے ماتحت گدھے ہیں۔”
“زبردست غلطی ہوئی جناب!”
“مگر ہوئی کیوں۔ کیا ان کی مدد کے بغیر آگ نہ بجھتی؟”
“میں نہیں کہہ سکتی کہ ان سے یہ حماقت کیسے سر زد ہوئی۔ میں تو آپ کے احکامات کے انتظار میں گھر پر ہی رک گئی تھی۔”
“خیر۔۔۔ دانش منزل کے ساؤنڈ پروف کمرے میں الفانسے کا نائب سیسرو بند ہے اس سے معلوم کرو کہ کرنل نادر کہاں ہے؟”
“سیسرو۱”جولیا نے حیرت سے دہرایا۔
“ہاں! اور دوسرا کام۔۔۔ تمہیں عمران سے اسٹیٹ بنک کے سیف کی کنجی حاصل کرنا ہے۔”
“دوسرا کام بہت مشکل ہے جناب!”
“کیوں؟”
“ہم بس ایک اسی سے نہیں نپٹ سکتے!”
“تم سب نالائق ہو۔۔۔ا چھا خیر میں دیکھوں گا۔”
“مگر سیسرو! آپ کو کہاں سے ملا؟”
“کرنل کی خواب گاہ پر۔۔۔ اگر میں سب کچھ تم لوگوں پر چھوڑ دوں تو نہ میری چیف آفیسری قائم رہ سکتی ہے اور نہ تم لوگوں کی ملازمتیں۔۔۔” عمران نے کہا اور سلسلہ منقطع کر دیا۔!
سیسرو نے اپنے گرد کھڑے ہوئے نقاب پوشوں کو خونخوار نظروں سے دیکھا لیکن چپ چاپ بیٹھا رہا۔
“سیدھے کھڑے ہو جاؤ!” ایک نے اس سے کہا۔
لیکن سیسرو نے دوسری طرف منہ پھیر لیا۔ نتیجے کے طور پر اسے ایک مغز ہلا دینے والا تھپڑ برداشت کرنا پڑا۔۔۔ لفظ “برداشت” مناسب نہیں ہے کیونکہ تھپڑ کھاتے ہی سیسرو کسی بھوکے بھیڑیئے کی طرح بپھر گیا ایسا معلوم ہوتا تھا جیسےوہ اسی وقت موت اور زندگی کا فیصلہ کر دے گا۔
ایکس ٹو کے چاروں ماتحت شاید اس خیال میں تھے کہ وہ اسے ایک خارش زدہ چوہے سے بھی کمتر پائیں گے۔ لہٰذا اس کا یہ حملہ ان کے لئے غیر متوقع بھی تھا۔ جتنی دیر میں وہ سنبھلتے سیسرو دروازہ تک پہنچ چکا تھا۔
پھر اس نے ان چاروں پر ایک کرسی کھینچ ماری۔۔۔ شاید وہ پہلے ہی عمران کو دروازہ کھولتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔ اس لئے اس خود کار دروازے کو کھولنے میں اسے کوئی دشواری پیش نہ آئی۔
دوسرے ہی لمحے میں وہ باہر تھا۔ چاروں اس کے پیچھے دوڑ رہے تھے۔ وہ کمپاؤنڈ میں پہنچ گیا۔ اور اب اسے پا لینا یقیناً مشکل تھا کیونکہ کمپاؤنڈ کافی کشادہ تھی اور اس میں جگہ جگہ مختلف قسم کی گھنی بیلیں اور جھاڑیاں تھیں اور پھر اندھیرا تو تھا ہی۔۔۔ ایکس ٹو کے ماتحتوں کی بوکھلاہٹ قابل دید تھی۔ وہ اندھیرے میں ادھر ادھر سر مارتے رھے۔ لیکن ان میں سے کسی کو بھی اتنی عقل نہیں آئی کہ پھاٹک پر پہنچ جاتا۔ کمپاؤنڈ کی دیواریں کافی اونچی تھیں لہٰذا انہیں سوچنا چاہیئے تھا کہ فرار کے لئے وہ پھاٹک ہی کو ترجیح دے گا۔ تقریباً آدھے گھنٹے تک سر مارتے رہنے کے باوجود بھی وہ اسے نہ پا سکے۔
“اب کیا ہوگا جعفری صاحب!” سارجنٹ ناشاد نے ہانپتے ہوئے کہا۔
“ہوگا کیا۔۔۔ سب تمہاری ہی بدولت ہوا تم نے اسے تھپڑ کیوں مارا تھا۔”
“اسے سبحان اللہ تو ایک میں اسے سجدہ کرتا۔” ناشاد بگڑ گیا۔
“دراصل ہمیں مغالطہ ہوا تھا۔” لیفٹینٹ چوہان نے کہا۔
“پھر کیا کیا جائے؟” کیپٹن خاور نے کہا۔
“کھا جائے وہ۔۔۔ زندہ نہیں چھوڑے گا۔” جعفری بولا۔
“کوئی بہانہ سوچو۔” ناشاد بڑبڑایا۔
“بہانہ!” خاور نے غصیلی آواز میں کہا۔ “بہانہ سوچ کر کیا کرو گے۔ تم ہی نے کام بگاڑا ہے۔”
“خدا کی پناہ! تم لوگ تو ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ گئے ہو۔ یہ کہاں کی انسانیت ہے۔ مارے بغیر وہ کیسے بتاتا۔ ویسے اگر اسے مٹھائیاں پیش کرنے کا ارادہ تھا تو مجھے پہلے ہی بتا دیا ہوتا۔”
“اور دوسری غلطی سب سے ہوئی ہے۔” لیفٹینٹ چوہان بولا۔ “ہم میں سے کسی نہ کسی کو پھاٹک پر ضرور رہناق چاہئے تھا۔”
“وہ سب کچھ ہوا مگر اب کیا ہوگا۔۔۔” کیپٹن جعفری بڑبڑایا۔
“سنو یارو!” سارجنٹ ناشاد نے ہانک لگائی۔ “اب دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں یا تو ہم اس ملازمت سے سبکدوش کر دیئے جائیں گے یا نہ کئے جائیں گے۔ لہٰذا میرا مشورہ ہے کہ اس وقت کسی اچھے سے بار میں بیٹھ کر غم غلط کیا جائے۔۔۔ کیا سمجھے!”
“تم ضرور غم غلط کرو۔۔۔” خاور نے غصیلی آواز میں کہا۔ “ہمارا بیڑہ تو غرق کر ہی چکے۔”
“یار تم سب بڑے ڈرپوک ہو۔” ناشاد نے برا سا منہ بنایا۔ “میں تو چلا۔۔۔ تم لوگ یہیں کھڑے رات بھر جھک مارتے رہو۔۔۔ ٹاٹا۔” ناشاد نے کہا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا کمپاؤنڈ سے نکل گیا۔
عمران نے جب یہ سنا تو سر پیٹ لیا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ان چاروں کی بوٹیاں اڑا دے۔ ابھی ابھی اسے جولیانا فٹز واٹر نے فون پر اس واقعہ کی اطلاع دی تھی اور ریسیور عمران کے ہاتھ ہی میں تھا۔
“تم خود وہاں کیوں نہیں موجود تھیں۔” عمران نے غصیلے لہجے میں کہا۔ “اور پھر جب یہ چاروں گدھے کچھ ہی دیر پہلے ایک بڑی حماقت کر ہی چکے تھے تم نے انہیں بھیجا ہی کیوں؟ سیسرو معمولی آدمیوں میں سے نہیں ہے۔ وہ کوئی گھٹیا قسم کا چور یا اچکا نہیں ہےکہ تشدد کے ذریعے اس سے کچھ معلوم کیا جا سکے۔ اچھا اب تم جہنم میں جاؤ۔۔۔ ایکس ٹو تنہا یہ کام سرانجام دے گا۔”
“آپ سنیئے تو سہی!”
“شپ اپ۔۔۔” عمران غرایا۔۔۔ اور سلسلہ منقطع ہو گیا۔
اب وہ پھر اندھیرے میں تھا۔ اس نے سوچا تھا کہ سیسرو کے ذریعے نہ صرف کرنل نادر کا سراغ مل سکے گا بلکہ اس طرح تھریسیا اور الفانسے تک بھی اس کی رسائی ممکن تھی مگر اب۔۔ وہ اپنے ماتحتوں کے ناکارہ پن پر دانت پیس رہا تھا۔
“سزا” وہ بڑبڑایا۔ “انہیں اس کی سزا ضرور ملنی چاہیئے۔”
اس نے فون پر سارجنٹ ناشاد کے نمبر ڈائیل کئے۔
“یغ۔۔۔ یغ۔۔۔” دوسری طرف سے آواز آئی۔ “کاؤن بولتا پڑا ہے۔۔۔ سالا۔۔۔”
“اوہ۔۔۔ تو تم نے پی رکھی ہے” عمران دانت پیس کر بولا۔
“ہاں ۔۔۔ ہاں۔۔۔ پی رکھی ہے۔۔۔ پھر سالا تم کون ہے۔”
“ایکس ٹو۔۔۔”
“ہوئیں گا سالا۔۔۔ ہمارے ٹھینگے سے۔۔۔ مغز مت کھاؤ۔”
“اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔” عمران سر ہلا کر بولا اور سلسلہ منقطع کر دیا۔
اب اس نے خاور کے نمبر ڈائیل کئے۔ لیکن جواب نہیں ملا۔ شاید وہ گھر پر نہیں تھا۔ جعفری اور چوہان بھی نہیں ملے۔ آخر عمران خود ہی اس مہم پر روانہ ہو گیا۔ اسے کم از کم ناشاد کو تو سزا دینی ہی تھی۔
0
پھر وہ تقریباً چار بجے گھر واپس آیا۔ اس نے ناشاد کے ساتھ جو کچھ بھی برتاؤ کیا تھا اس پر مطمئن تھا۔ اس نے دروازہ بند کیا اور پھر کپڑے اتارنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔
“اب کون مرا۔ ” اس نے بڑبڑاتے ہوئے فون اٹھایا۔
“ہیلو۔”!
“کون۔۔۔ عمران!” دوسری طرف سے کوئی عورت بول رہی تھی لیکن عمران آواز نہیں پہچان سکا۔
“ہاں۔۔۔ عمران۔۔۔ آپ کون ہیں۔۔۔”
“ٹی تھری بی!”
“ہامپ۔۔۔ ہالو۔۔۔ یس۔۔۔ ہاؤ ڈی ای ڈو؟”
“اوکے۔۔۔ ڈارلنگ۔۔۔ تم نے سیسرو کو پکڑا تھا؟”
“اگر وہ مچھروں کی نسل سے ہے تو یقیناً پکڑا گیا ہوگا کیونکہ میں نو بجے سے فلٹ کی پچکاری لئے بیٹھا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اگر مچھر نہ ہوں تو عشاق بھی گہری نیند سو سکتے ہیں۔”
“احمقوں کے چچا تم بہت جلد غرق ہونے والے ہو۔”
“بھتیجوں کو فائدہ پہنچے گا۔۔۔ کیونکہ کروڑوں کا بینک بیلنس چھوڑنے کا ارادہ ہے۔”
“آجکل تم سے سوزی نام کی ایک لڑکی مل رہی ہے اس سے ہوشیار رہو!”
“کرنل نادر کہاں ہے ڈارلنگ؟” عمران نے بڑے پیار سے پوچھا۔
“یہ نہیں بتا سکتی۔ کیونکہ وہ پارٹی کے مفاد کا معاملہ ہے۔”
“تو پھر مجھ پر اتنا کرم کیوں ہے؟”
“تمہاری موت سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔ اس لئے میں اسے فضول سمجھتی ہوں۔”
“ہائیں! تم مجھے فضول سمجھتی ہو!”
“تمہیں نہیں، تمہاری موت کو۔۔۔ لیکن اگر تمہارا بس چلے تو میرے ہتھکڑیاں لگا دو۔”
“ہرگز نہیں سوئیٹی تم کیسی باتیں کر رہی ہو۔ میں تو تم پر جان پٹختا ہوں مگر پٹخنا نہیں لاحول ولا۔۔۔ چھڑکنا میں تم پر جان چھڑکتا ہوں۔۔۔ کرنل نادرکہاں ہے؟”
“تم مکار ہو عمران۔۔۔ تمہاری کسی بات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ تم اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے سب کچھ کر سکتے ہو۔۔۔ تم میں۔۔۔ جمالیاتی حس نہیں ہے۔”
“میں بذات خود جمالیاتی ہوں۔۔۔ کیونکہ میرے دادا کا نام جمال احمد جمالی تھا۔”
“بس مجھے اتنا ہی کہا تھا کہ سوزی سے ہوشیار رہنا”۔۔۔ تھریسیا کی آواز میں بیزاری تھی۔ اور پھر دوسری طرف سے سلسلہ منقطع کر دیا گیا۔
0
سارجنٹ ناشاد اتنی زیادہ پی گیا تھا کہ اس کے حواس جواب دے گئے تھے۔ ایکس ٹو کو فون پر اوٹ پٹانگ سنانے کے بعد وہ زیادہ مسرور نظر آنے لگا تھا پھر اس نے تھوڑی سی اور چڑھائی۔ کچھ دیر حلق پھاڑ پھاڑ کر اپنی کوئی غزل رینکتا رہا پھر سو گیا۔۔۔
پتہ نہیں کب تک شراب اس کے ذہن پر حاوی رہی۔ لیکن جب آنکھ کھلی تو اس نے اپنے نیچے کھڑکھڑاہٹ کی آوازیں سنیں۔ پھر اس نے پیر پھیلانے چاہے لیکن ممکن نہ ہوا۔۔۔ ہاتھ پھیلانے چاہے لیکن یہ بھی دشوار ثابت ہوا اسے ایسے محسوس ہونے لگا جیسے وہ کسی چھوٹے سے صندوق میں بند ہو۔ لیکن اس نے کنکھیوں سے اوپر دیکھا۔ سر پر تاروں بھرا آسمان تھا۔ وہ کنکھیوں ہی سے دیکھ سکتا تھا۔ کیونکہ وہ بائیں کروٹ پر پڑا ہوا تھا۔۔۔ اور سیدھا ہونا محال۔۔۔ جنبش ہی نہیں کر سکتا تھا۔ پھر بھی وہ خود کو متحرک محسوس کررہا تھا کیونکہ وہ بغیر ڈھکن کا وہ چھوٹا سا صندوق دوڑ رہا تھا۔
دفعتاً سارجنٹ ناشاد کے حلق سے بے اختیارانہ انداز میں چیخیں نکلنے لگیں اور متحرک صندوق رک گیا لیکن ناشاد برابر چیختار ہا۔
یکایک کسی نے صندوق میں ٹھوکر مار کر کہا۔ “کاہے چلات ہے رے۔۔۔ گھٹکی دبائےدینوں۔۔۔(کیوں چیخ رہا ہے گردن دبا دوں گا)”
“شٹ اپ ڈرٹی سوائین!” ناشاد دہاڑا۔ “ابے تو ہے کون؟”
“انگریزی ونگریجی نہ چلی سرو۔۔۔ چپے پڑے رہیو!” (چپکے پڑے رہنا انگریزی ونگریزی نہیں چلے گی) اور صندوق پھر حرکت میں آ گیا۔
ناشاد سوچنے لگا کہ یہ کیا مصیبت ہے۔۔ ۔ وہ پھر کوشش کرنے لگا کہ کسی طرح اٹھ کر بیٹھ جائے۔ لیکن پھر اسے مایوسی ہوئی۔ وہ کچھ اس انداز میں صندوق میں پھنسا ہوا تھا کہ نہ تو وہ ہل سکتا تھا اور نہ ہلنے کی کوشش کر سکتا تھا۔۔۔ صندوق دوڑ رہا تھا اور ناشاد کا ذہن ہواؤں میں اڑ رہا تھا۔ نشے سے پہلے کے واقعات بہت تیزی سے اسے یاد آ رہے تھے۔ پہلی شکست۔۔۔۔ دوسری شکست۔۔۔ اور پھر شراب نوشی۔۔۔ اس نے جعفری وغیرہ کے سامنے ایکس ٹو کو برا بھلا کہا تھا اور پھر دفعتاً ذہن کے دھندلکوں سے کچھ سوئی سوئی سی یاداشت ابھری۔۔۔ ایکس ٹو کا فون بھی تو آیا تھا۔۔۔ شاید۔۔۔ لیکن اس نے نشے کی ترنگ میں اس کی توہین کرنے کی کوشش کی تھی۔ ناشاد کانپ گیا۔ اور ایک بار پھر اسے محسوس ہونے لگا جیسے اس پر غشی طاری ہو رہی ہو۔!
دفعتاً قریب ہی کوئی چیخنے لگا۔ “اللہ کے نام پر بابا۔۔۔ اندھے گونگے، بہرے لاچار کیلئے۔”
صندوق رک گیا۔ ناشاد نے محسوس کیا کہ اجالا پھیل گیا ہے پرندوں کی ننداسی آنکھیں اس کے کانوں سے ٹکراتی رہیں۔
“بابا۔۔۔ نور کے تڑکے۔۔۔ اللہ کے نام پر جگ جگ جئیو۔۔۔ بچے آباد رہیں۔۔۔ اندھے گونگے، بہرے لاچار کے لئے۔”
“او میاں ۔۔۔ فقیر۔۔۔” ناشاد نے ہانک لگائی۔ “ذرا مجھے نکالنا تو۔۔۔ انعام دوں گا۔۔۔ منہ مانگا۔۔۔” اسے اپنی آواز سے اجنبیت سی محسوس ہو رہی تھی۔ اس میں بہت زیادہ گھبراہٹ تھی۔ غالباً یہ بے تحاشہ پینے کا اثر تھا۔
“اے حرام کے جنے آج کیا ہو گیا ہے تجھے؟” کسی نے صندوق کو ٹھوکر مار کر کہا۔ “جوتے کھلوائے گا۔؟”
“شٹ اپ یو باسٹرڈ۔۔۔ سن آف اے بچ” ناشاد دانت پیس کر غرایا۔”مجھے اس صندوق سے نکال ورنہ بلاتا ہوں پولیس کو!”
دفعتاً اس نے محسوس کیا کہ کوئی اس پر جھکا ہوا ہے۔ اور پھر اس نے کسی کو کہتے سنا۔
“ابے تو کون ہے؟۔۔۔ میرا بابا کہاں ہے؟”
“جہنم میں۔۔۔ اور تجھے بھی جہنم میں پہنچا دوں گا۔ ورنہ نکال مجھے۔” ناشاد نے کہا اور چند لمحوں کے بعد اس نے ہلکی سی کھڑکھڑاہٹ سنی اور اس کے پیر خود بخود پھیلتے چلے گئے۔ شاید اس طرف کا تختہ نیچے گرایا گیا تھا۔ ناشاد نیچے کھسکا اور اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے سامنے ایک خستہ حال نوجوان فقیر کھڑا تھا اور ناشاد بھی کوئی بھک منگا ہی معلوم ہو رہا تھا۔ اس کے جسم پر ایک ایسا کوٹ تھا، جس کے چیتھڑے جھول رہے تھے اور نیکر کی ساخت بھی یہی کہتی تھی کہ وہ کبھی پتلون رہی ہوگی۔
“تو کون ہے؟” ناشاد نے اسے للکارا۔
“جگو کا بیٹا مداری۔۔۔ تو نے میرے بابا کا کیا بنایا۔۔۔ اس کے پکڑے تو نے کیوں پہنے ہیں؟”
“یو انفرنل بیسٹ!” ناشاد دانت پیس کر رہ گیا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسے غصہ نہیں آیا تھا۔ اس کا ذہن تو اس فکر میں الجھا ہوا تھا کہ اگر کسی شناسا نے اس حال میں دیکھ لیا تو کیا سمجھے گا۔
“بول کہاں ہے میرا بابا!” فقیر اس پر جھپٹ پڑا۔ ناشاد شاید اس کے لئے تیار نہیں تھا اس کے لئے سنبھلنا دشوار ہو گیاپھر بھی اس نے حتی الامکان بچنے کی کوشش کی اور اس کے گھٹنے زمین سے جا لگے تھے۔ فقیر اس پر چھا گیا تھا۔ ناشاد اٹھنے کے لئے زور لگانے لگا تھا لیکن فقیر خاصا طاقتور ثابت ہوا۔ اچھی طرح اجالا پھیل گیا تھاسڑک پر آمد و رفت شروع ہو گئی تھی کچھ لوگ بیچ بچاؤ کرانے کے لئے دوڑ پڑے لیکن اتنی ہی دیر میں ناشاد کا چہرہ داغدار ہو چکا تھا فقیر کے بڑے ہوئے ناخنوں نے خاصے نقش و نگار بنائے تھے۔ اچانک اسی دوران ناشاد کی نظر بائیں جانب والی عمارت کی طرف اٹھی گئی اور وہ سناٹے میں آ گیا پھر اسے اس کا بھی ہوش نہیں رہا کہ وہ پٹ رہا ہے بس ایک بار اس نے چھلانگ لگائی اور مجمع سے باہر تھا۔ پھر وہ اپنی پوری قوت سے ایک سمت دوڑنے لگا۔
اسے اچھی طرح یاد نہیں کہ وہ کیسے اپنے گھر تک پہنچا۔ نہ اسے گھورتی ہوئی نظروں کا ہوش تھا اور نہ پڑوسیوں کےا ستعجاب زدہ چہروں کا۔! البتہ ایک آواز اس کے کانوں میں برابر گونجتی رہی تھی۔
“میرا بابا۔۔۔ میر ابابا؟” اور دروازہ بند کر لینے کے بعد بھی اسے یہ آواز سنائی دیتی رہی۔ فقیر جو اس کے پیچھے دوڑتا ہوا یہاں تک پہنچا تھا۔ دروازہ پیٹ پیٹ کر چیخ رہا تھا۔
“صاحب! آپ کے گھر میں چور گھسا ہے۔۔۔ ڈاکو گھسا ہے قاتل گھسا ہے۔۔۔!”
لیکن ناشاد اب اس حال میں دوبارہ دروازہ نہیں کھولنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ سیدھا اپنی خواب گاہ میں چلا گیا تاکہ جلد سے جلد کم از کم سلیپنگ سوٹ ہی ڈال لے۔ لیکن اسے دروازے پر ہی ٹھٹھک جانا پڑا۔ کیونکہ ایک میلا کچیلا بوڑھا اس کا سلیپنگ سوٹ پہنے ہوئے مسہری پر خراٹے لے رہا تھا۔
ناشاد آہستہ آہستہ آگے بڑھا اور پھر یک لخت اس پر ٹوٹ پڑا۔
“ارے باپ رے۔۔۔؟” بوڑھا رو دینے والی آواز میں چیخا۔
“کون ہے بے تو۔۔۔؟” ناشاد اس کے بال پکڑ کر جھنجھوڑتا ہوا بولا۔
“ارے سرکار۔۔۔ مار ڈالا بال چھوڑئیے۔۔۔ اچھا ہوا آپ واپس آ گئے۔۔۔ ڈر کے مارے میرا دم نکلا جا رہا تھا۔۔۔ ۔مگر نیند بڑی اچھی آئی۔۔۔ جگ جگ جئیو مالک اب مجھے واپس جانے دو۔”
ناشاد کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ بوڑھا اس کے ہاتھ ہٹا کر مسہری سے اتر آیا۔
“اب انعام دلوائیے نا صاحب!” بوڑھے نے مسکرا کر کہا۔ اور ناشاد نے محسوس کیا کہ وہ اندھا ہے۔۔۔ بوڑھا کہہ رہا تھا۔
“اپنے کپڑے لے لیجئے!۔۔۔ اور میرے کپڑے لائیے۔۔۔ بھلا ان ریشمی کپڑوں میں مجھے کون بھیک دے گا۔”
سارا معاملہ ناشاد کی سمجھ میں آ گیا۔ یہ لازمی طور پر ایکس ٹو ہی کا کارنامہ تھا یقیناً اسے اس کی طرف سے سزا ملی تھی ایک بار پہلے بھی ایسا ہو چکا تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد ناشاد نے اسے رخصت کر دیا۔ اس سے دس روپے انعام کا وعدہ کیا گیا تھا لہٰذا ناشاد کو چپ چاپ نکال کر دینے پڑے۔ اندھا باہر کھڑے ہوئے نوجوان فقیر کو ڈانٹتا پھٹکارتا ہوا وہاں سے لے گیا۔
ناشاد کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا کرے۔۔۔ اس کے پاس ایک سنسنی خیز اطلاع تھی۔ ایسی کہ اس سے ماتحتوں کی غلطیوں کا ازالہ بھی ہو سکتا تھا۔
پہلے تو وہ دل ہی دل میں ایکس ٹو کو گالیاں دیتا رہا۔۔۔ پھر سوچنے لگا کہ اگر وہ ملازمت سے مستعفی بھی ہو جائے تو ضروری نہیں کہ ایکس ٹو اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لے۔۔۔ وہ تو ہر جگہ اور ہر حال میں اسے سزا دے سکتا تھا۔۔۔ بہر حال وہ جبراً قہراً اٹھا اور فون پر ایکس ٹو کے نمبر ڈائیل کرنے لگا۔
“ہیلو!” دوسری طرف سے آواز آئی۔
“ناشاد اسپیکینگ سر!” ناشاد گھگھیایا۔
“آہا۔۔۔ فرمائیے۔۔۔ ناشاد صاحب! کیسے مزاج ہیں؟”
“میں کان پکڑ کر اور ناک رگڑ کر معافی چاہتا ہوں جناب!”
“پھر اس طرح پئیو گے!”
“نہیں جناب کبھی نہیں! میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں۔۔۔ مگر میں نے کچھ کام بھی کیا ہے۔”
“اچھا!”
“جی ہاں! میں نے سیسرو کو پیراماونٹ بلڈنگ میں دیکھا ہے۔ وہ اسی کھڑکی میں تھا جہاں “التھرے اینڈ کو” کا بورڈ لگا ہوا ہے!”
“اگر یہ اطلاع غلط ثابت ہوئی تو!”
“میں نے اسے وہیں دیکھا تھا جناب!”
“اچھی بات ہے۔۔۔ اور کچھ؟”
“ایک گزارش بھی ہے!”
“کہو!”
“اس واقعہ کی اطلاع میرے ساتھیوں کو نہ ہونے پائے۔”
“نہ ہوگی!” دوسری طرف سے آواز آئی اور سلسلہ منقطع کر دیا گیا۔
ناشادی ریسیور رکھ کر اس طرح ہانپ رہا تھا جیسے کسی پہاڑی پر چڑھتے چڑھتے دم لینے کے لئے رکا ہو!
عمران نے معلوم کر لیا کہ التھرے اینڈ کو فارورڈنگ اینڈ کلیرنگ ایجنٹس ہیں لیکن نہ تو التھرے کی شکل دیکھ سکا اور نہ ہی وہاں سیسرو ہی کا سراغ مل سکا۔ ایک کلرک اور چپڑاسی وہاں موجود تھے۔ پھر بھی اس نے لیفٹینٹ چوہان کو اس فلیٹ کی نگرانی پر مامور کر دیا۔
تفتیش کرنے پر التھرے کا جو حلیہ معلوم ہوا تھا۔ وہ یقیناً مشتبہ تھا۔ ادھر سے فرصت حاصل کرکے وہ سرسلطان کی طرف متوجہ ہوا جو اب ہوش میں آ گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دن ان کے ڈرائیور اسلم کا بھتیجا انہیں آفس پہنچانے کے لئے آیا تھا لیکن انہوں نے پہلے اسے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس سے معلوم ہوا تھا کہ ڈرائیور اچانک بیمار ہو گیا ہے۔ حالانکہ انہیں کرنل نادر کی گمشدگی کی اطلاع پہلے ہی مل چکی تھی۔ لیکن انہوں نے اس کے امکانات پر غور نہیں کیا تھا۔ آفس جانے سے کچھ دیر پہلے انہیں کرنل نادر کی بیوی کا فون موصول ہوا تھا۔ وہ کہہ رہی تھی کہ کرنل نادر کسی غیر ملکی لڑکی کے ساتھ کہیں وقت گزارنے گیا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ کرنل نادر اپنی خواب گاہ میں اس سے جاپانی سیکھا کرتا تھا۔
عمران نے اسٹیٹ بنک کی سیف کی کنجی سر سلطان کے سپرد کرنی چاہی لیکن انہوں نے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے۔ ویسے انہوں نے محکمہ سراغرسانی کو ضرور ہدایت کرادی کہ اسٹیٹ بنک کے اسٹرانگ روم کی گہری نگرانی کی جائے۔
اب سوزی کی فکر ہو گئی تھی۔ چونکہ اس کے سلسلے میں تھریسیا نے اسے خبردار کیا تھا۔ لہٰذا وہ اسے چیک کرنا چاہتا تھا۔ اس دوران میں تقریباً ہر شام وہ اس سے ملتی رہی تھی لیکن عمران نے اسے اپنی قیام گاہ کا پتہ نہیں بتایا تھا۔
آج عمران کا ذہن بری طرح الجھا ہوا تھا۔ اگر سوزی کی حقیقت معلوم کرنے کا خیال نہ ہوتا تو شاید عمران آج نائٹ کلب کا رخ ہی نہ کرتا۔ سوزی حسب معمول وہاں موجود تھی لیکن عمران نے محسوس کیا کہ وہ آج کچھ نڈھال سی ہے۔ اس کی آنکھوں میں شوخیوں کی بے چین لہریں نہیں تھیں اور وہ اپنی عمر سے دس سال زیادہ معلوم ہو رہی تھی اس نے ایک مضمحل مسکراہٹ کے ساتھ عمران کا خیر مقدم کیا۔
کچھ دیر تک ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر یک بیک سوزی کچھ نروس سی نظر آنے لگی۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ کوئی خاص بات کہنے کے لئے مضطرب ہو۔ لیکن ہمت ساتھ نہ دے رہی ہو۔ آخر اس کے ہونٹ ہلے۔
“کیا تمہیں علم ہے کہ جولیانا فٹز واٹر ایک شادی شدہ عورت ہے؟”
“ہائیں!” عمران آنکھیں پھاڑ کر رہ گیا۔ “کیا مطلب؟”
“تو تم اسے ایک شادی شدہ حیثیت سے نہیں جانتے؟”
“ہرگز نہیں! وہ کنواری ہے تم مذاق کر رہی ہو۔”
“وہ شادی شدہ ہے۔” سوزی نے سنجیدگی سے کہا اور اپنے ہونٹ بھینچ لئے۔ پھر آہستہ سے بولی۔ “وہ تمہیں اب تک دھوکا دیتی رہی ہے۔۔۔ وہ کنواری نہیں ہے۔۔۔ اسے خود کو جولیانا التھرے لکھنا اور کہنا چاہئے لیکن وہ تمہیں دھوکہ دینے کے لئے اپنے نام کے ساتھ باپ کا نام استعمال کر رہی ہے!”
“ارے باپ رے۔۔۔” عمران اپنے سینے پر ہاتھ پھیرتا ہوا مضطربانہ انداز میں بڑبڑایا۔ “جولیانا التھرے خدا تمہیں غارت کرے۔۔۔ وہ اب تک مجھے دھوکہ دیتی رہی۔”
“کیا تم اس سے محبت کرنے لگے ہو؟”
“ہرگز نہیں! کبھی نہیں! وہ مجھے بالکل اچھی نہیں لگتی۔”
سوزی کے چہرے پر اطمینان کی لہریں نظر آنے لگیں اور اس نے مسکرا کر کہا۔ “تم اس سے کہہ دو کہ تم سے نہ ملا کرے۔”
“مگر میں یہ کیوں کہہ دوں۔ اگر وہ شادی شدہ ہے تو میرا اس سے کیا نقصان ہے اگر نہیں ہے تو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔؟”
“ایک شریف آدمی کی زندگی تلخ ہو سکتی ہے۔” سوزی نے کہا۔ “مسٹر التھرے اسے نہیں کھونا چاہتے۔۔۔ اگر تم اسے دھتکار دو تو التھرے کی زندگی برباد ہونے سے بچ جائے گی۔۔۔ ورنہ ایک شریف آدمی کا خون تمہاری گردن پر ہوگا۔”
عمران بوکھلا کر اپنی گردن ٹٹولنے لگا۔ ساتھ ہی اس کے چہرے پر اس قسم کے آثار نظر آئے جیسے وہ خون کی چپچپاہٹ محسوس کر رہا ہو۔
“نہیں!” وہ خوفزدہ سی آواز میں بولا۔ “ہرگز نہیں۔۔۔ اگر وہ مجھ سے ملنا چاہے گی تو نہیں ملوں گا نہ مانے گی۔۔۔ تو اس پر شہد کی مکھیاں چھوڑ دوں گا۔۔۔ میرے پاس تقریباً پانچ ہزار شہد کی مکھیاں ہیں۔۔۔” سوزی اس خیال پر بے ساختہ ہنس پڑی۔ کچھ دیر خاموش رہی پھر بولی۔
“ہم دونوں بہت اچھے دوست بن سکتے ہیں۔”
“کیا اب برے ہیں؟” عمران نے پوچھا۔
“نہیں۔۔۔ یہ میں نے یونہی کہا ہے۔۔۔ دیکھو عمران دوست میں تمہیں ابھی دھوکا دیتی رہی ہوں”
“ہائیں۔۔۔” عمران آنکھیں پھاڑ کر اچھل پڑا “تم بھی دھوکا دے رہی ہو۔۔۔”
“ٹھہرو۔۔۔ ڈئیر اتنی جلدی سمجھنے کی کوشش نہ کرو۔۔۔ پوری بات سن لو۔۔۔ میں نے یہ دھوکا ایک نیک مقصد کے لئے دیا تھا۔ میں صرف یہ چاہتی تھی کہ مسٹر التھرے کی زندگی برباد نہ ہو۔ میں نے آج تک ملایا کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ ہمیشہ اسی شہر میں رہی ہوں۔ مسٹر التھرے میرے باس ہیں!”
“اوہ۔۔۔ ہو۔۔۔!” عمران نے الوؤں کی طرح دیدے گھمائے۔
“ہاں۔۔۔ انہوں نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ کسی طرح عمران کو مسز التھرے سے جدا کر دو۔ پھر انہوں نے کہا کہ اس کی ایک ہی صورت ہے کہ اس سے دوستی کرو۔ پھر اسے اپنے ساتھ لاؤ۔”
“کہاں لاؤ؟”
“یہ بھی مجھے آج ہی معلوم ہوا ہے۔ انہوں نے آج صبح مجھے وہ جگہ بتائی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ وہ تم سے کوئی ایسی تحریر لیں گے جس کی وجہ سے تم پھر کبھی جولیانا کی طرف رخ نہ کر سکو۔”
“تو پھر چلو۔۔۔ میں چل رہا ہوں۔۔۔” عمران نے بڑے بھولے پن سے کہا۔
“تم کیا سچ مچ الو ہو۔۔۔؟” سوزی نے حیرت سے کہا۔
“نہیں۔۔۔ میں ایک شریف آدمی ہوں۔۔۔ تمہارے ساتھ چل کر مسٹر التھرے کی غلط فہمی رفع کر دوں گا۔”
“تم پاگل ہوئے ہو۔۔۔ کیا اتنی بھی عقل نہیں رکھتے کہ اگر تمہیں دیکھ کر مسٹر التھرے کو غصہ آ گیا تو کیا ہوگا۔”
“میں ان سے صاف کہہ دوں گا کہ مجھے مسز التھرے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔ میں تو روڈ انسپکٹر ہوں۔”
“تم واقعی احمق ہو!”
“لیکن اگر تم مجھے وہاں نہ لے گئیں۔۔۔ تو مسٹر التھرے کیا سوچیں گے۔”
“کچھ بھی نہیں۔۔۔ جب مقصد ہی حاصل ہو گیا ہے تو اس کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ میں انہیں اطمینان دلا دوں گی کہ اب تم مسز التھرے سے نہیں ملو گے۔ وہ تو میں اسی دن سمجھ گئی تھی کہ تمہیں اس کی ذرہ برابر بھی پروا نہیں ہے۔ وہ خود ہی تمہاری طرف دوڑی ہوگی مگر اب میں سوچتی ہوں کہ وہ حق بجانب ہے۔ تم انتہائی دلچسپ آدمی ہو!۔۔۔ اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تم وہ ہرگز نہیں ہو۔۔۔ جو نظر آتے ہو۔”
“ہائیں کیا بات ہوئی یعنی کہ میں عمران ہوں علی عمران۔ ایم ایس سی، پی ایچ ڈی۔۔۔”
“تم جو کچھ بھی ہو۔۔۔ لیکن میرے لئے بہت پراسرار ہو۔”
“خدا کی پناہ۔۔۔ بچپن میں میری ممی بھی یہی کہا کرتی تھی۔ ۔۔ لیکن میں اسے مذاق سمجھتا تھا۔ آج تم بھی۔۔۔ کمال ہے مگر تم مجھے وہاں لے چلو میں مسٹر التھرے کو مطمئن کر دوں گا۔”
“نہیں۔۔۔ ضد مت کرو۔۔۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔”
“ہو کر ر ہے گا، تمہیں چلنا پڑے گا، ورنہ میں یہیں سب کے سامنے خود کشی کر لوں گا۔”
“خود کشی۔۔۔ اچھا کر لو۔۔۔”سوزی ہنسنے لگی۔
“میں سچ مچ کر لوں گا۔۔۔ تم یہ نہ سمجھنا کہ یہاں خودکشی کے لئے مجھے میٹریل نہیں ملے گا۔ ۔۔ دو چھریاں، تین چمچے اور ایک آدھ کانٹا نگل جاؤں گا۔۔۔ خودکشی ہو جائے گی۔۔۔”
“نگل جاؤ۔۔۔ میں تمہاری مدد کروں گی۔”
“اچھا یہ بتاؤ کہ تم نے اپنا ارادہ کیوں ملتوی کر دیا۔۔۔ ظاہر ہے کہ تم اب تک مجھ سے اسی لئے ملتی رہی ہو کہ مجھے التھرے کے بتائے ہوئے مقام پر لے جاؤ۔”
“میں نے سوچا کہ کہیں التھرے کوئی غیر قانونی حرکت نہ کر بیٹھے۔۔۔ عورتوں کی وجہ سے دنیا میں بہت کشت و خون ہوا ہے۔”
“ایک اور سہی۔۔۔ محترمہ سوزی!”
“بکواس نہ کرو۔۔۔ تم کافی پئیو گے یا چائے؟”
“ٹھنڈا پانی ہر حال میں مجھے سکون پہنچاتا ہے۔۔۔ کیا یہ التھرے کوئی فوجی ہے۔”
“نہیں۔۔۔ بزنس مین۔۔۔ فاورڈنگ اینڈ کلیرنگ ایجنٹ ہے۔۔۔”
“ارے وہ التھرے اینڈ کو۔۔۔ پیراماؤنٹ بلڈنگ والی؟”
“ہاں۔۔۔ وہی۔۔۔ کیا تم نے ان کے ذریعہ۔۔۔ کبھی کوئی کلیرنگ کرا چکے ہو؟”
“ہاں۔۔۔ آں۔۔۔ پچھلے سال۔۔۔ میری کار انہی کی معرفت مجھے ملی تھی۔”
“تو تم مسٹر التھرے سے ذاتی طور پر واقف ہو؟”
“نہیں۔۔۔ میں نے تو آج تک شکل بھی نہیں دیکھی اس کی۔۔۔ مگر اب دیکھوں گا۔۔۔ وہ مجھے بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔ میں اسے دیکھوں گا۔”
“تم عجیب آدمی ہو۔”
“اس کے دفتر میں ہی ہنگامہ برپا کر دوں گا۔۔۔ وہاں اس کی زیادہ بے عزتی ہوگی ورنہ تم مجھے وہیں لے چلو جہاں اس نے بلوایا ہے!۔۔۔ ظاہر ہے کہ وہ وہاں تنہا ہی ہوگا۔۔۔ لہٰذا اس کی یا میری بے عزتی کا سوال ہی نہ پیدا ہو سکے گا۔۔۔ صرف تم ہوگی۔۔۔ اگر تم سے کسی کی بے عزتی نہ دیکھی جائے تو اپنی آنکھیں بند کر لینا۔”
“کیا تم سنجیدگی سے گفتگو کر رہے ہو؟۔۔۔” سوزی نے حیرت سے کہا۔
“قطعی۔۔۔ سو فیصدی۔۔۔”
“التھرے تمہیں توڑ مروڑ کر رکھ دے گا۔ وہ آدمی نہیں جن ہے۔”
“میں اسی طرح مرنا چاہتا ہوں تم مجھے پلیز لے چلو۔۔۔ ورنہ مسز التھرے کو مجھ سے شادی کرنی پڑے گی۔۔۔ میری ایک معمولی سی توجہ اسے میرے قدموں میں لا ڈالے گی سمجھیں؟”
“اچھا۔۔۔ چلو۔۔۔ لیکن وہاں جو کچھ بھی ہو۔۔۔ اس کی تمام تر ذمہ داری تم پر ہوگی۔ میں تمہیں خطرات سے آگاہ کر چکی ہوں۔”
“ہاں۔۔۔ تم مجھے خطرات سے آگاہ کر چکی ہو۔ اگر میں اپنا ہاتھ یا پیر وہیں چھوڑ آیا تو مجھے تم سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔۔۔ چلو اٹھو!”
“ارے ابھی تو بہت وقت ہے۔ ہم دس بجے تک وہاں پہنچیں گے۔ مگر تم ایک بار پھر سوچ لو۔۔۔!”
“میں نے بہت اچھی طرح سوچ لیا ہے۔ اس کا تصفیہ ہو جانا چاہئے۔ میں بدنامی کا داغ لے کر قبر میں نہیں جانا چاہتا۔”
“تمہاری مرضی!” سوزی نے بظاہر بے پرواہی سے کہا۔ لیکن اس کی آنکھوں میں گہری تشویش صاف پڑھی جا سکتی تھی۔
“مگر ہمیں جانا کہاں ہوگا؟”
“موڈل ٹاؤن۔۔۔ ہیوشام لاج۔۔۔” سوزی نے غالباً بے خیالی میں کہا۔ اور پھر اس طرح چونک پڑی جیسے نادانستگی میں کوئی غلطی سر زد ہوگئی ہو! وہ چند لمحے عمران کی آنکھوں میں دیکھتی رہی۔پھر بولی۔ “دیکھو! اس قصے کو یہیں ختم کرو۔۔۔ مجھ سے بڑی غلطی ہوئی کہ اس کا تذکرہ لے بیٹھی۔۔۔ میں مسٹر التھرے کو دوسری طرح بھی ٹال سکتی ہوں۔”
“اگر تم تذکرہ نہ کرتیں تو میں مرتے دم تک تمہیں معاف نہ کرتا۔ کنفیوشس نے کہا تھا۔۔۔”
“کہا ہوگا کنفیوشس نے۔۔۔ آخر تم سنجیدگی سے کیوں نہیں سوچتے۔۔۔ اگر مسٹر التھرے کو غصہ آ گیا تو۔۔۔؟”
“میں اس کے لئے ایک ڈبہ آئس کریم لے چلوں گا! تم فکر نہ کرو!”
“وہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے عمران۔۔۔ وہ کسی ہاتھی کی طرح مضبوط ہے۔ میں نے آج تک کوئی ایسا آدمی نہیں دیکھا جو اپنے جسم کے کسی حصہ سے خود ہی رائفل کی گولی نکالے اور خود ہی زخم کی ڈریسنگ کرے۔۔۔ اور اسی حال میں اپنے پیروں پر چل کر کسی کو رخصت کرنے کے لئے صدر دروازہ تک جائے۔”
“اوہ۔۔۔ تو کیا التھرے ایسا ہی ہے؟”
“ہاں۔۔۔ عمران! میں جھوٹ نہیں کہتی۔”
“پروا مت کرو۔۔۔ بچپن میں ایک بار میں نے توپ کا گولہ نگل لیا تھا اور اب تک شہزادوں کی سی زندگی بسر کر رہا ہوں۔”
“تم سے خدا سمجھے۔۔۔” سوزی دانت پیس کر رہ گئی۔
عمران کچھ دیر تک بیٹھا رہا۔ پھر اٹھتا ہوا بولا “میں ابھی آیا دس منٹ سے زیادہ نہیں لگیں گے۔”
سوزی نے بڑی خوش دلی سے اجازت دے دی۔ غالباً اس نے سوچا تھا کہ یہ اسی بہانے سے ٹل جائے تو بہتر ہے۔ عمران کلب سے نکل کر ایک پبلک ٹیلیفون بوتھ میں آیا اور وہاں سے اپنے ماتحتوں کے یکے بعد دیگرے نمبر ڈائیل کئے اور انہیں جلدی جلدی مختلف ہدایات دے کر بوتھ سے باہر نکل آیا۔
دفعتاً اس کی نظر سوزی پر پڑی۔ جو کلب سے نکل کر تیزی سے ایک طرف جا رہی تھی۔ عمران نے بھی قدم بڑھائے اور جلد ہی اسے جا لیا۔
“اوہو۔۔۔ تو تم بھی خود کو دھوکہ باز ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔!”
سوزی رکی۔ اور چند لمحے بے حس و حرکت کھڑی رہی۔ پھر ایک بے جان سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر نظر آئی اور اس نے کہا۔ “میں سمجھی تھی شاید تم اسی بہانے سے ٹل گئے۔”
“ارے جاؤ۔۔۔ کیا میں ڈرپوک ہوں۔۔۔ کنفیوشس۔۔۔”
“خدا کے لئے” وہ ہاتھ اٹھا کر بولی “کنفیوشس نہیں، مجھے اس نام سے ہی اختلاج ہوتا ہے۔”
“اچھا تو چلو۔۔۔ واپس چلو۔۔۔ ہم ٹھیک دس بجے ہیویشام لاج پہنچیں گے۔”
“چلو!” سوزی مردہ سی آواز میں بولی۔ اور وہ پھر کلب کی طرف واپس ہوئے۔
0
سوزی پاگل ہوئی جا رہی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس قسم کا آدمی ہے۔ اس نے ہر ہر طرح اسے باز رکھنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن وہ نہ مانا۔ اس وقت ساڑھے نو بج رہے تھے اور عمران کی ٹو سیٹر موڈل ٹاؤن کی طرف اڑی جا رہی تھی۔
“عمران! میں تمہیں پھر سمجھاتی ہوں۔”
“بہت مشکل ہے۔۔۔ اگر تم خوف محسوس کر رہی ہو۔۔۔ تو یہیں سے واپس جاؤ۔۔۔ میں ہیویشام لاج تو ضرور جاؤں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ التھرے اپنی غلطی تسلیم کرکے مجھے بدنام کرنے سے باز آجائے۔”
“میں تم سے وعدہ کرتی ہوں کہ اسے اس پر آمادہ کر لوں گی۔۔۔ مگر تم اس وقت اس کے سامنے نہ جاؤ۔۔۔ معلوم نہیں اس نے تمہارے لئے کس قسم کا جال تیار کیا ہے۔۔۔ میرے خدا میں نے سخت غلطی کی۔۔۔ تم جیسا آدمی آج تک میری نظروں سے نہیں گزرا۔۔۔”
عمران کچھ نہ بولا۔ ٹوسیٹر ہوا سے باتیں کرتی رہی۔ آخر وہ موڈل ٹاؤن کی حدود میں داخل ہوئے اور عمران نے محسوس کیا کہ سوزی کی سانسیں معمول سے زیادہ تیز ہو گئی ہیں۔
“ہیویشام لاج غالباً تیسرے بلاک میں ہے۔” عمران نے پوچھا۔
“ہاں وہیں ہے۔۔۔ اور عمران تم آخر اپنی عقل کیوں کھو بیٹھے ہو۔ اب بھی غنیمت ہے۔۔۔ واپس چلو!”
“یہ ناممکن ہے ڈیری! میں اسے پسند نہیں کرتا کہ کسی کی بیوی کا عاشق سمجھا جاؤں۔”
سوزی پھر چپ ہو رہی۔۔۔ ٹوسیٹر تیسرے بلاک کی طرف مڑ رہی تھی۔
“میرا دل بہت شدت سے دھڑک رہا ہے۔” سوزی نے کچھ دیر بعد کہا۔
“چلو شکر ہے کہ تم زندہ ہو۔۔۔ میں تو سمجھا تھا کہ اس نے دھڑکنا چھوڑ دیا ہے۔”
ٹوسیٹر ایک عمارت کےسامنے رک گئی۔
“چلو اترو! اوہو۔۔۔ یہاں جشن ہو رہا ہے۔ شاید کوئی کھڑکی بھی ایسی نہیں ہے جس سے روشنی نہ جھانک رہی ہو!”
“عمران پھر سوچ لو۔۔۔”سوزی ہذیانی انداز میں بڑبڑائی۔
“سوچ لیا۔۔۔” عمران نے کہا اور سوزی کو کھینچتا ہوا گاڑی سے اتر آیا۔ عمارت کے صدر دروازے پر ایک دربان نے اس کا استقبال کیا۔ اور وہ ہاتھوں ہاتھ اندر پہنچا دیئے گئے۔
وہ ایک کافی طویل و عریض کمرہ تھا۔ انتہائی شاندار اور قیمتی ساز و سامان سے مزین۔۔۔ اور آتشدان کے قریب تھریسیا مضمحل کھڑی تھی۔ سوزی اسے دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔۔۔ تھریسیا بہت حسین لگ رہی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے چہرے پر پائے جانے والے اضمحلال ہی نے اس کی دلکشی میں اضافہ کر دیا ہو۔
عمران اسے آنکھ مار کر مسکرایا اور تھریسیا نےہونٹ سکوڑ کر منہ پھیر لیا۔ دفعتاً ان کی پشت سے ایک قہقہے کی گونج سنائی دی اور وہ چونک کر مڑے۔۔۔ دروازے میں طویل القامت الفانسے کھڑا ہنس رہا تھا اور سیسرو اس کے پیچھے تھے۔
“مسٹر التھرے کہاں ہے؟” سوزی نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
“التھرے۔۔۔؟” الفانسے نے حیرت سے دھرایا۔۔۔ “یہاں کوئی التھرے نہیں رہتا۔”
“میرے خدا!” سوزی نے متحیرانہ انداز میں کہا۔ “آپ کی آواز تو مسٹر التھرے ہی کی سی ہے۔۔۔ مگر آپ۔۔۔”
“تمہیں کسی نے غلط پتہ بتایا ہے لڑکی۔۔۔ میرا نام التھرے نہیں الفانسے ہے۔”
“اور میں ان کا سوتیلا چچا لگتا ہوں!” عمران نے دوبارہ تھریسیا کو آنکھ مار کر کہا۔
سیسرو غرا کر اس پر چڑھ دوڑا۔
“ٹھہرو!” الفانسے نے روکتے ہوئے کہا۔ “اسے وہاں لے چلو جہاں ہم جشن منائیں گے۔”
“اور یہ لڑکی؟” سیسرو نے سوزی کی طرف اشارہ کیا۔
“اسے بھی لے چلو!” الفانسے بولا۔ “فی الحال اس کا باہر جانا مناسب نہیں ہوگا۔”
“مسٹر التھرے۔۔۔ آپ کیا کر رہے ہیں۔” سوزی ہذیانی انداز میں چیخی “تم پھر غلطی کر رہی ہو۔۔۔ میرا نام الفانسے ہے۔”
“ہرگز نہیں۔۔۔ اگر آپ نے اپنی گھنی مونچھیں نہ صاف کر دی ہوتیں تو۔۔۔”
“چلو یہی سہی۔۔ مگر تمہیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ تمہیں اس کام کا معقول معاوضہ ملے گا۔”
“سنا تم نے پاگل کتے۔۔۔”سوزی عمران کو جھنجھوڑ کر باگلوں کی طرح چیخی۔
“میں اب بھی ایسا ہی سمجھ رہا ہوں کہ یہ سب کچھ ایک دلچسپ مذاق ہے۔” عمران نے نہایت اطمینان سے جواب دیا۔ اور ایک بار پھر تھریسیا کو آنکھ ماری۔
“چلو۔۔۔ اپنےہاتھ اوپر اٹھاؤ!” سیسرو ریوالور نکال کر دہاڑا۔
“ہشت۔۔۔” الفانسے نے کراہت سے کہا۔ “ایک حقیر سے کیڑے کے لئے خوامخواہ اپنی انرجی کیوں برباد کرتے ہو۔ ریوالور اپنی جیب میں رکھ لو۔۔۔ یہ یونہی چلے گا۔”
“چلو۔۔۔ چلو!” عمران مسکرا کر بولا۔ “میں اس جشن سے۔۔ کافی لطف اندوز ہوں گا۔”
وہ ایک بہت بڑے کمرے میں لائے گئے۔ یہاں ایک طرف تقریباً سو مربع فٹ کے رقبے میں بڑے بڑے انگارے دہک رہے تھے۔ اور اس کے قریب ہی کرنل نادر ایک کرسی میں بندھا ہوا بیٹھا تھا۔ اس کے علاوہ چھ عورتیں اور چھ مرد بھی وہاں موجود تھے۔
“یہ آگ تم دیکھ رہے ہو؟” الفانسے نے عمران سے کہا۔
“معاف کرنا پیارے! میں اپنی عینک گھر بھول آیا ہوں۔ کہو تو دوڑ کر لیتا آؤں۔”
“اے احمق آدمی۔!” دفعتاً تھریسیا نے اسے مخاطب کیا۔ “اگر تم وہ کنجی ہمارے حوالے کر دو تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔۔۔ یہ ٹی تھری بی کا وعدہ ہے!”
“آپ ایسا کوئی وعدہ نہیں کر سکتیں مادام۔” سیسرو بول پڑا۔ وہ خونخوار نظروں سے عمران کو گھور رہا تھا۔
“تو میری آواز پر اپنی آواز بلند کر رہا ہے۔۔۔” تھریسیا غضب ناک ہو گئی۔
سیسرو نے لاپرواہی کے اظہار میں شانوں کو جنبش دی اور تھریسیا کی خونخوار نظریں الفانسے کی طرف اٹھ گئیں۔
الفانسے خاموش کھڑا تھا۔ اس نے سیسرو کی طرف دیکھ کر آہستہ سے کہا۔ “معافی مانگو۔”
“میں آپ سے معافی چاہتا ہوں مادام!” سیسرو کا لہجہ بہت تلخ تھا۔۔۔ “لیکن اس سے میری ذاتی پرخاش ہے۔”
تھریسیا عمران سے کہہ رہی تھی۔ “یہ آگ تم دونوں کے لئے روشن کی گئی ہے اور اس وقت تک بھڑکائی جاتی رہے گی جب تک کاغذات یہاں نہ آ جائیں۔۔۔ سیف کی کنجی تم نے کہاں رکھی ہے۔”
“ایک جزیرے میں” عمران نے سنجیدگی سے کہا۔ “وہان ایک سرخ رنگ کا گنبد ہے جو دن رات تیزی سے گردش کرتا رہتا ہے۔ اس پر ایک نیلے رنگ کا پرندہ بیٹھا ہر آیند و روند کو آواز دیتا ہے۔۔۔ باش اے رہروان منزل مال روڈ آگے کافی ہاؤز ہے۔۔۔ ذرا سنبھل کر۔۔۔”
“سلاخیں گرم کرو!” الفانسے دانت پیس کر چیخا۔
سیسرو نے بڑی بڑی سلاخیں جن میں لگے ہوئے دستے لکڑی کے تھے آگ میں ڈال دیں۔۔۔ عمران کی نظر اس گراموفون پر پڑی جو ایک طرف ایک میز پر رکھا ہوا تھا۔
“یہ یہاں کس لئے رکھا گیا ہے۔۔۔” عمران نے الفانسے سے پوچھا۔
“جشن کے لئے۔۔۔ تم دونوں کو آگ میں پھینک کر ہم لوگ رمبا ناچیں گے۔” الفانسے نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔ اور سوزی کانپ گئی۔ اس نے کہا۔۔۔
“مسٹر التھرے! ۔۔۔ پلیز۔۔۔ رحم کیجئے!”
“تم بالکل محفوظ ہو بے بی!” الفانسے نے ہنس کر کہا۔
عمران گرامو فون کی طرف بڑھا۔ اس پر ریکارڈ رکھا ہوا تھا۔ اس نے ٹرن ٹیبل کو متحرک کرکے ساؤنڈ بکس رکھ دیا۔ ہال میں موسیقی گونجنے لگی۔ وہ سب اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ عمران مسکراتا ہوا سوزی کے قریب آیا۔ اور اسے بازوؤں میں لے کر رمبا ناچنے لگا۔
“پاگل ہو گئے ہو۔۔۔ تم پاگل ہو گئے ہو۔۔۔” سوزی اس کی گرفت سے نکلنے کے لئے مچلی!
“تم بھی پاگل ہو جاؤ۔” عمران ہنستا ہوا بولا۔ “قبل اس کے یہ لوگ مجھے بھون کر کھا جائیں میں تین منٹ تک رمبا ناچنا چاہتا ہوں۔”
“خدا تم سے سمجھے۔۔۔ میں پہلے ہی منع کر رہی تھی۔”
“مجھے تم سے۔۔۔ کوئی شکوہ نہیں ہے۔۔۔ دوسری دنیا میں ہم ضرور ملیں گے۔”
تھریسیا حیرت سے منہ کھولے انہیں حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ ریکارڈ کے ختم ہوتے ہی وہ رک گئے اور دفعتاً تھریسیا چیخی۔
“الفانسے! کیا تم بھی اسی کی طرح احمق ہو گئے ہو؟ یہ وقت گزارنے کی کوشش کر رہا ہے۔”
“میں سمجھتا ہوں مادام!”
اچانک عمران نے قہقہہ لگایا۔ اور پھر گراموفون کی طرف بڑھتا ہوا بولا۔
“ایک راؤنڈ اور سہی۔۔۔ ٹی تھری بی!۔۔۔ کیا اس بار تم میری پارٹنر بننا پسند کرو گی؟”
سیسرو عمران کی طرف جھپٹا۔ شاید وہ اسے گرامو فون کی طرف نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔
لیکن قبل اس کے وہ عمران کو ہاتھ بھی لگا سکتا۔ عمران نے پلٹ کر ایک گھونسہ اس کی پیشانی پر جڑ دیا اس نے سنبھلنا چاہا لیکن ممکن نہ ہوا۔ اتنی دیر میں عمران کی لات بھی اس کے پیٹ پر پڑ چکی تھی۔ سیسرو کسی زخمی بھینسے کی طرح ڈکرا کر دوہرا ہو گیا۔
“ٹھہرو الفانسے!” تھریسیا کی آواز سناٹے میں گونجی۔ ۔۔ “اس کچھوے کو سیسرو ہی ٹھیک کرے گا۔۔۔ سیسرو اسے اٹھا کر آگ میں جھونک دے۔۔۔!”
“عمران!۔۔۔ خدا کے لئے کنجی کا پتہ بتا دو۔” دفعتاً کرنل نادر چیخا۔
عمران نے سیسرو سے نمٹتے ہوئے جواب میں ہانک لگائی۔ “نہ مجھے جاپانی سیکھنے کا شوق ہے اور نہ ہی میں تمہاری طرح بوڑھا ہوں۔۔۔ میرے کباب یہ لوگ بڑے شوق سے کھائیں گے۔”
پھر کرنل نادر کو سانپ سونگھ گیا۔ سوزی کھڑی بری طرح کانپ رہی تھی۔ اور تھریسیا کی آنکھوں سے تشویش ہویدا تھی۔ لیکن الفانسے اس لڑائی کو بالکل اسی انداز میں دیکھ رہا تھا جیسے آدمی نہیں بلکہ دو مرغ لڑ پڑے ہوں۔ دفعتاً عمران کے پاؤں اکھڑ گئے۔۔۔ اور سیسرو اسے ریلتا ہوا آگ کی طرف لے جانے لگا۔
“ارے۔۔۔ بچاؤ۔۔۔ بچاؤ۔۔۔” سوزی ہذیانی انداز میں چیخی۔
“خاموشً!” الفانسے غرایا۔
“ارے! یہ کیا ہو رہا ہے۔” سوزی کسی ننھی بچی کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“ہائیں۔۔۔” بیک وقت سب کی زبانوں سے نکلا اور جگر خراش چیخ ہال میں گونج اٹھی کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ یک بیک نقشہ کیسے بدل گیا تھا۔ بس آگ کے قریب پہنچتے ہی انہوں نے سیسرو کو اچھلتے دیکھا، جو اپنے ڈیل ڈول سمیت عمران کے سر پر سے گزرتا ہوا آگ میں جا پڑا تھا۔
“اب تم سب اپنے ہاتھ اوپر اٹھا لو۔۔۔” عمران نے ان کی طرف مڑ کر کہا۔
اس کے ہاتھ میں ریوالور تھا۔ جو شاید اس نے اسی دوران میں سیسرو کے ہولسٹر سے کھینچ لیا تھا۔ سیسرو آگ سے کود کر عمران کے قریب آن پڑا۔ اب اس کے منہ سے آوازیں نہیں نکل رہی تھی لیکن وہ کسی زخمی جانور کی طرح تڑپ رہا تھا۔
ان لوگوں کے چپ چاپ ہاتھ اٹھا دئیے۔ چونکہ حالات غیر متوقع طور پر بدلے تھے اس لئے انہیں کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع نہ مل سکا۔
“یہ تیسرا اور شاید آخری موقع ہے الفانسے!” عمران مسکرا کر بولا۔ “لہٰذا قبل اس کے کہ ہم رخصت ہوں جشن ہو جائے۔ میری طرف سے دعوت ہے۔۔۔ سوزی! تم اس شریف آدمی کو کھول دو جو کرسی پر بندھا ہوا ہے۔”
سوزی کانتپے ہاتھوں سے کرنل نادر کو کھولنے لگی اور عمران نے پھر الفانسے کو مخاطب کیا۔ “تم سونے کی مہر میرے حوالے کر دو۔ جس کے بغیر ریڈ اسکوائر کاغذات نامکمل ہیں۔۔۔ تو میں تمہیں نکل جانے دوں گا۔۔۔ یہ عمران کا وعدہ ہے۔!”
“کیا یہ حقیقت ہے؟ کہ مہر ان کاغذات کے ساتھ نہیں تھی؟” الفانسے نے آہستہ سے پوچھا۔
“نہیں!”
“تب تو۔۔۔ ہم اب تک بیکار ہی اپنا وقت ضائع کرتے رہے؟” الفانسے بڑبڑایا۔
“ہاہا۔۔۔!” عمران نے قہقہہ لگایا “تم کسی بیوقوف آدمی کو بیوقوف نہیں بنا سکتے الفانسے!”
الفانسے کچھ نہ بولا۔
عمران نے سوزی سے کہا۔ “ریکارڈ لگا دو۔۔۔ جشن ضرور ہوگا۔” پھر وہ سیسرو کو آوا ز دینے لاگ۔ جو اب بھی ہاتھ پیر پٹخ رہا تھا۔ اس کی شکل بری ڈراؤنی لگ رہی تھی۔ سر کے بال غائب ہو گئے تھے۔۔۔ بھنویں صاف۔۔۔ اور چہرہ مسخ ہو گیا تھا۔۔۔ موسیقی کی لہریں ہال میں نشر ہونے لگیں۔
“ناچو!” عمران چیخ کر بولا “ناچتے رہو۔۔۔ ورنہ ایک ایک کو گولی کا نشانہ بنا دوں گا”۔ رقص شروع ہو گیا۔۔۔ مگر وہ اس طرح لڑکھڑا رہے تھے جیسے بہت زیادہ پی چکے تھے۔ صرف ایک جوڑا ایسا تھا جو اس حالت میں بھی ڈھنگ سے ناچ رہا تھا۔ یہ تھریسیا اور الفانسے تھے۔ ویسے الفانسے کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور تھریسیا کے ہونٹوں پر عجیب سے مسکراہٹ تھی۔!
“بند کرو یہ پاگل پن” سوزی پاگلوں کی طرح چیخنے لگی۔ “تم سبھوں پر خبیث روحیں منڈلا رہی ہیں بند کرو۔۔۔ بند کرو۔” اس کی چیخیں موسیقی کی لہروں سے الجھ الجھ کر لڑکھڑاتی رہیں اور پھر وہ چکرا کر ڈھیر ہو گئی۔ شاید بیہوش ہو گئی تھی۔
وہ اسے عمران کا پاگل پن سمجھی تھی۔ لیکن اسے اس کا علم نہیں تھا کہ عمران خود بھی دل ہی دل میں اپنی بوٹیاں نوچ رہا تھا۔ اسے توقع تھی کہ اس کے ماتحت جلد ہی وہاں پہنچ جائیں گے۔ لیکن ان کا ابھی تک کہیں پتہ نہ تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس بار بھی تھریسیا اور الفانسے بچ کر نکل جائیں۔ وہ ان کی بھیڑ میں تنہا تھا اس لئے انہیں اس وقت تک الجھائے رکھنا چاہتا تھا جب تک اس کے ماتحت وہاں پہنچ نہ جائیں۔
کرنل نادر سے بھی وہ کام لے سکتا تھا مگر اس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اس پر اعتماد کیا جا سکتا۔ اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنے ذہن کو قابو میں رکھنے کے لئے کافی جدوجہد کر رہا ہے۔ ورنہ شاید اس کا بھی وہی انجام ہوتا جو سوزی کا ہوا تھا۔
ریکارڈ ختم ہو گیا تھا۔ اور رقاص رک گئے تھے۔ ادھر سیسرو بھی ساکت ہو گیا تھا۔ ٹھیک اسی وقت عمارت کے کسی حصے سے دوڑتے ہوئے قدموں کی آوازیں آئیں۔ عمران صرف ایک پل کے لئے ادھر متوجہ ہو گیا اور ان میں سے کسی نے کوئی چیز چھت پر لٹکے ہوئے ایک بلب پر کھینچ ماری۔ ہلکے سے دھماکے کے ساتھ ہال نیم تاریک ہو گیا۔
“خبردار! اگر کسی نے جنبش بھی کی۔۔۔” عمران دہاڑا۔۔۔ اور ایک ہوائی فائر بھی کر دیا۔۔۔ایک گوشے میں بکھری ہوئی آگ کی روشنی اتنے بڑے ہال کے لئے ناکافی تھی۔
“خبردار۔۔۔ جہاں ہے وہیں ٹھہرے”۔۔۔ اچانک کئی آوازیں آئیں۔۔۔ “ہمارے پاس ٹامی گنیں ہیں۔۔۔”
پھر کئی ٹارچوں کی روشنی اندھیرے میں آڑی ترچھی لکیریں بنانے لگیں۔
“ارے وہ دونوں تو نکل ہی گئے۔۔۔ ایکس ٹو کے پٹھو۔۔۔” عمران چیخا اور پاگلوں کی طرح چاروں طرف دوڑنے لگا۔ ان لوگوں میں اسے تھریسیا اور الفانسے نظر نہیں آئے۔ پھر اس نے دروازے کا رخ کیا۔ پوری عمارت چھان ماری لیکن ان دونوں کی پرچھائیں بھی نہ ملیں۔
ویسے اس کے ماتحت دوسرے لوگوں کو ہتھکڑیاں لگا چکے تھے۔ عمران نے مزید تگ و دو فضول سمجھی اور پھر ہال میں واپس آ گیا۔ یہاں اب بھی اندھیرا تھا۔ یوں تو پوری عمارت ہی تاریک ہو گئی۔ مگر انگاروں کی مدھم سی سرخ روشنی میں ہال کی فضا کچھ عجیب سی لگ رہی تھی۔
عمران نقاب پوشوں پر برس پڑا “کس اُلو کے پٹھے نے تمہیں یہاں بھیجا ہے میرا سارا کھیل بگاڑ دیا۔”
“یہاں ایک جھلسی ہوئی لاش بھی ہے برخوردار۔۔۔” کیپٹن خاور نے کہا۔
“تمہیں اس کے لئے جوابدہ ہونا پڑے گا۔۔۔ تم ہو کس چکر میں؟”
“فکر نہ کرو۔۔۔ یہاں وزارت خارجہ کے ڈپٹی سیکرٹری بھی موجود ہیں۔ وہ مجھ سے زیادہ اچھا اور کئی زبانوں میں جواب دے سکیں گے۔۔۔ حتیٰ کہ جاپانی میں بھی۔۔۔”
وہ سچ مچ اپنے ان نالائق ماتحتوں پر بری طرح جھلایا ہوا تھا۔ اس کا بس چلتا تو ان سب کو بھی اس دہکتی ہوئی آگ میں جھونک کر خود ان کےکفن کے لئے چندہ اکٹھا کرنے نکل کھڑا ہوتا!
تھریسیا اور الفانسے ایک بار پھر چوٹ دے گئے۔ سیسرو سچ مچ ختم ہو چکا تھا۔ مجبوری کا نام شکر ہے۔ لہٰذا عمران نے سوچا چلو۔۔۔ا یک تو کم ہوا۔ پھر وہ پوری رات عمران کو آنکھوں میں کاٹنا پڑی۔ کیونکہ سوزی کو ہوش تو آ گیا تھا لیکن اس کا ذہنی توازن اب بھی بگڑا ہوا تھا۔
وہ ساری رات ہسپتال میں ہی رہا۔ اور دوسری صبح جب گھر واپس آیا تو اسے ایک لفافہ ملا۔ جس پر اس کا نام تحریر تھا۔۔۔ عمران نے اسے چاک کرکے اندر رکھا ہوا پرچہ نکالا۔
“عمران! ہم فی الحال یہاں سے رخصت ہو رہے ہیں۔ پچھلی رات تو تم نے مجھےبھی پاگل کر دیا تھا۔ میں نہیں سمجھتی تھی کہ میرے متنبہ کر دینے کے باوجود بھی تم سوزی کے ساتھ وہاں چلے آؤ گے۔ خدا کے لئے مجھے بتاؤ کہ تم ہو کیا بلا؟۔۔۔ تم جیسا آدمی شاید روئے زمین پر نہ ملے۔ میں تو تمہیں آدمی ہیس مجھنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ میں سیسرو کا یہی انجام چاہتی تھی وہ شبہ کرنے لگا تھا کہ میں تمہیں بچانے کی کوشش کرتی ہوں جب وہ تمہیں دھکیلتا ہوا آگ کی طرف لے جا رہا تھا تو میں پاگل ہوئی جا رہی تھی۔ پھر جب تم نے اسے آگ میں جھونک دیا تو میرا دل چاہا کہ تمہیں گود میں اٹھا کر ناچنے لگوں۔ کاش میں ایسا کر سکتی۔ سونے کی مہر ہر وقت الفانسے کی جیب میں رہتی ہے۔ میں کوشش کروں گی کہ وہ کسی نہ کسی طرح تم تک پہنچ جائے۔ کاش تم آدمی بن سکتے۔۔۔ مجھے سمجھ سکتے!
“ٹی تھری بی”
“ابے یہ لفافہ یہاں کیسے آیا؟” عمران نے سلیمان کو مخاطب کیا۔
“پتہ نہیں صاحب! یہیں فرش پر پڑا ہوا تھا۔ شاید کسی نے دروازے کی جھری سے ڈالا ہو۔”
“کسی دن کوئی دروازے کی جھری سے یہاں بم ڈال کر چلا جائے گا۔” عمران بگڑ گیا۔
“اتنی باریک جھری سے بم کیسے ڈالے گا؟”
“ابے بم کا سفوف سہی۔۔۔ کبوتر کے پٹھے، اس ایٹمی دور میں سب کچھ ممکن ہے۔ میں تیری دم پر بیٹھ کر مریخ کی طرف بھی پرواز کر سکتا ہوں۔ بس تمجھے ایک ایٹمی پڑیا پھانکنی پڑے گی۔”
اس نے تھریسیا کا لفافہ توڑ مروڑ کر آتش دان میں ڈال دیا۔
شام کو وہ پھر ہسپتال پہنچا۔ سوزی کی حالت اب بہتر تھی۔ اس نے عمران کو دیکھ کر اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لئے اور بھرائی ہوئی آواز میں آہستہ سے بولی۔
“تم جاؤ یہاں سے خدا کے لئے چلے جاؤ۔۔۔ ورنہ میری طبعیت پھر خراب ہو جائے گی۔۔۔ مجھے تم سے خوف محسوس ہوتا ہے!”
عمران چپ چاپ کمرے سے نکل آیا۔
وہ دل ہی دل میں تھریسیا اور عمران کا موازنہ کر رہا تھا۔!

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: