Allama Dahshatnak by Ibne Safi – Episode 1

0

علامہ دہشت ناک از ابن صفی قسط 01

گیارہ افراد ایک قطار میں دوڑے جا رہے تھے۔ اس طرح کہ ایک کے پیچھے ایک تھا۔ اور یہ لمبی سی قطار کہیں سے بھی ٹیڑھی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اس قطار میں عورتیں بھی تھیں اور مرد بھی۔
سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔ اوائلِ جنوری کی یخ بستہ ہوا ہڈیوں میں گھستی محسوس ہو رہی تھی۔
سب سے آگے ایک قد آور جسیم آدمی تھا۔ عمر چالیس اور پچاس کے درمیان رہی ہو گی اور چہرہ ڈاڑھی مونچھوں سے بے نیاز۔ البتہ سر پر گھنے اور لمبے لمبے بال لہرا رہے تھے۔ آنکھوں میں بے پناہ توانائی ظاہر ہوتی تھی۔ سڑک سے وہ بائیں جانب والے میدان میں اُتر گئے اور پھر انہوں نے دائرے کی شکل میں دوڑنا شروع کر دیا تھا۔ ۔ ۔ دائرے میں بھی تنظیم اس حد تک بر قرار رہی تھی کہ وہ کہیں سے بھی غیر متوازن نہیں معلوم ہوتا تھا۔
“ہالٹ۔” قد آور آدمی نے زور سے کہا۔
اور وہ سب رُک گئے لیکن دائرہ بدستور بر قرار رہا۔
“ڈیس پریس” قد آور آدمی کی آواز پھر بلند ہوئی اور وہ سب تتر بتر ہو کر گھاس میں بیٹھ گئے۔
سبھی گہرے گہرے سانس لے رہے تھے۔ قد آور آدمی جہاں تھا وہیں کھڑا رہا اس کی ظاہری حالت سے کوئی تبدیلی نہیں دکھائی دیتی تھی۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ نہ چہرے پر تھکن کے آثار تھے اور نہ سینہ دھونکی کی طرح چل رہا تھا۔ قطعی نہیں معلوم ہوتا تھا کہ اس نے بھی دوسروں کی طرح یہ مسافت دوڑتے ہی ہوئے طے کی ہے۔
آدھے منٹ سے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اس نے “ فال اِن” کی ہانک لگائی اور وہ سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور تیزی سے قطار بنا لی۔
“ایٹ ایز” کہہ کر اس نے ان پر اچٹتی سی نظر ڈالی اور بولا۔
“دوستو۔۔۔۔ طاقت کا سر چشمہ۔”
“ذہانت۔!” سب بیک آواز بولے۔
“کیڑے مکوڑے۔۔۔۔!” وہ پھر دھاڑا۔
“غیر ذہین دو پائے۔!” انہوں نے ہم آواز ہو کر کہا۔
“اور یہ کیڑے مکوڑے۔!” وہ ہاتھ اُٹھا کر بولا “ذہین آدمیوں کے آلۂ کار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔۔۔۔ انہیں استعمال کرو اور صرف اتنا ہی تیل انہیں دو کہ متحرک رہ سکیں۔۔۔۔ اگر ان میں سے کوئی ناکارہ ہو جائے تو اسے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دو اور اس کی جگہ دوسرا پرزہ فٹ کر دو۔ انہیں قابو میں رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ حقارت سے دیکھا جائے۔۔۔۔ اگر تم نے انہیں آدمی سمجھا تو یہ خود کو اہمیت دینے لگیں گے۔۔۔۔ اور پھر تم انہیں اپنے قابو میں نہ رکھ سکو گے۔!”
وہ خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا تھا! سامنے دس افراد سر جھکائے کھڑے تھے۔ یہ سب جوان العمر تھے اور ان میں سے چار لڑکیاں تھیں۔
“بیٹھ جاؤ۔۔۔۔!” قد آور آدمی نے ہاتھ ہلا کر کہا۔
انہوں نے اس طرح تعمیل کی تھی جیسے وہ پوری طرح ان پر حاوی ہو! ان کی آنکھوں میں اس کے لئے بے اندازہ احترام پایا جاتا تھا۔
“آج میں تمہیں ایک کہانی سناؤں گا۔” اُس نے کہا اور وہ سب دم بخود بیٹھے رہے۔!
“یہ کہانی ایک گاؤں سے شروع ہوتی ہے۔۔۔۔ ایک بچے کی کہانی ہے۔۔۔۔ لیکن بچے سے اس کی ابتدا نہیں ہو گی۔۔۔۔ اس گاؤں میں صرف ایک اونچی اور پکی حویلی تھی بقیہ مکانات کچے تھے۔۔۔۔ تم سمجھ گئے ہو گے کہ حویلی میں کون رہتا تھا اور کچے مکانوں میں کیسے لوگ آباد تھے۔ بہرحال ایک بار ایسا ہوا کہ حویلی کا ایک فرد قتل کے ایک وقوعے میں ماخوذ ہو گیا۔۔۔۔ اور کچے مکان کے ایک باسی نے اس کے خلاف عدالت میں شہادت دے دی۔کچے مکان کا وہ باسی ایک دیندار آدمی تھا۔ اس نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، عدالت میں بیان کر دیا۔ اس کی شہادت کے مقابلے میں جھوٹی گواہیاں کام نہ آ سکیں اور حویلی والے ملزم کے خلاف جرم ثابت ہو گیا۔ پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔!”
قد آور آدمی خاموش ہو کر پھر کچھ سوچنے لگا اور سننے والوں کے چہرے اضطراب کی آماجگاہ بن گئے۔
تھوڑی دیر بعد وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔! “اب یہاں سے اس دیندار آدمی کی کہانی شروع ہوتی ہے جو حویلی والوں کا مزارع بھی تھا۔ جانتے ہو اس پر حویلی والوں کا عتاب کس شکل میں نازل ہوا؟ ایک رات جب کچے مکان کے لوگ بے خبر سو رہے تھے۔۔۔۔ کچے مکان میں آگ لگا دی گئی اور اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ کوئی باہر نہ نکلنے پائے۔ چھوٹے بڑے افراد جل کر بھسم ہو گئے تھے۔ جس نے باہر نکلنے کی کوشش کی، اسے گولی مار دی گئی۔ اس کنبے کا صرف ایک بچہ زندہ بچ سکا تھا۔ وہ بھی اس لیے کہ واردات کے وقت وہ اس کچے مکان میں موجود نہیں تھا۔
دوسرے گاؤں میں اس کی نانہال تھی۔ کچھ دنوں پہلے اس کا ماموں اسے گھر سے لے گیا تھا۔۔۔۔ اور وہ وہیں مقیم تھا۔۔۔۔ بہرحال حویلی والوں کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا۔ تھیلیوں کے منہ کُھل گئے تھے۔ پھر قانون کے محافظوں کے منہ پر تالے کیوں نہ پڑ جاتے۔ آگ حادثاتی طور پر لگی تھی اور آٹھ افراد اپنی بدبختی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ اس دیندار آدمی نے ایک درندگی کے خلاف شہادت دی تھی لیکن اس کے ساتھ جو درندگی ہوئی، اس کا کوئی عینی شاہد قانون کو نہ مل سکا!

ظاہر ہے جس بات کا علم ہر ایک کو تھا اسے کیوں نہ ہوتا۔کون نہیں جانتا تھا کہ کچا مکان کیسے بھسم ہوا تھا۔۔۔۔ کون اس سے نا واقف تھا کہ آٹھ بے بس افراد کس طرح جل مرے۔۔۔۔ لیکن کس میں ہمت تھی کہ اب حویلی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکتا۔۔۔۔ وہ ایک شخص کی جرأت کا انجام دیکھ چکے تھے! اب تم مجھے بتاؤ کہ اس بچے کی کہانی کیا ہونی چاہیے؟”
کوئی کچھ نہ بولا۔ وہ خاموشی سے ان کے چہروں کا جائزہ لیتا رہا۔ دفعتاً ایک لڑکی مٹھیاں بھینچ کر چیخی۔“انتقام”
قد آور آدمی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“تمہارا خیال درست ہے !” اس نے کہا۔“لیکن لہجہ مناسب نہیں ہے۔۔۔۔اس لہجے میں اُٹھنے اور جھپٹ پڑنے کا سا انداز ہے۔ اس بچے نے انتقامی جذبے کی تہذیب کی طرف توجہ دی تھی۔ خنجر سنبھال کر ٹوٹ نہیں پڑا تھا دشمنوں پر۔۔۔۔ وہ کیڑے مکوڑوں میں سے نہیں تھا، ذہین تھا۔ اس نے پوری حویلی ویران کر دی لیکن قانون کا ہاتھ اس تک نہیں پہنچ سکا تھا۔”
ایک نوجوان نے اپنا ہاتھ اُٹھایا۔
“ہاں کہو۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کہنا چاہتے ہو۔۔۔۔” قد آور آدمی نے اُس کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔۔
“حویلی والوں تک بھی تو قانون کا ہاتھ نہیں پہنچ سکا تھا۔۔۔۔” نوجوان بولا۔۔۔۔
“قانون کے محافظوں کی چشم پوشی اس کی وجہ تھی۔ اگر جلی ہوئی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا تو ایک آدھ کے جسم سے گولیاں ضرور بر آمد ہوتیں۔ لیکن اس بچے کے انتقام نے کوئی ایسا نشان نہیں چھوڑا تھا جس سے اس کا سراغ قانون کے محافظوں کو مل سکتا۔ اس کے مقابلے میں حویلی والے بھی کیڑے مکوڑے تھے۔۔۔۔ تو کہنے کا مطلب یہ کہ ذہانت ہی برتری کی علامت ہے۔”
“کوئی اور سوال؟”
فوری طور پر کسی نے کچھ نہیں پوچھا تھا پھر ایک لڑکی نے ہاتھ اٹھایا۔
“ہاں۔۔۔۔۔ پوچھو۔۔۔۔”
“کیا اب اس حویلی کا کوئی فرد زندہ نہیں۔۔۔۔؟”
“صرف ایک فرد۔۔۔۔ جس کی موت سے پورے ملک میں تہلکہ مچ جائے گا۔ تم دیکھ ہی لو گے۔۔۔۔”
“ اور اس کا سراغ بھی کوئی نہ پا سکے گا؟”
“ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
کیا وہ کوئی اہم شخصیت ہے؟”
“ بہت زیادہ اہم بھی نہیں ہے۔ حکمران جماعت کی بساطِ سیاست کا ایک مہرہ سمجھ لو۔۔۔۔”
“تب تو اس کا امکان ہے کہ انہیں سراغ مل جائے۔ اُس سے وہ چشم پوشی نہیں کر سکیں گے۔۔۔۔”
“اس بچے کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا۔ اب بھی یہی ہو گا۔۔۔۔”
“میں نہیں سمجھ سکی جناب۔۔۔۔”
“ان کی توجہ صرف اپوزیشن کی طرف مبذول ہو گی۔۔۔۔”
“ہاں یہ تو ہے۔۔۔۔” کسی نے کہا۔
قد آور آدمی نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ “اس بچے کو کوئی نہیں جانتا کیونکہ وہ بہت چھوٹی عمر میں نانہال سے بھی بھاگ نکلا تھا۔ بڑی دشواریوں سے اس نے اعلٰی تعلم حاصل کی لیکن طبعیت کا یہ عالم تھا کہ شاعری شروع کی تو دہشت تخلص کیا۔۔۔۔ اور اب بھی یونیورسٹی میں علامہ دہشت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور اس کی غیبت میں بعض طالب علم اسے علامہ دہشت ناک بھی کہتے ہیں۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ لڑکی تم کیا کہنا چاہتی ہو؟”
“آپ نے یہ کہانی ہمیں کیوں سنائی ہے؟”
“جن پر اعتماد ہو جاتا ہے انہیں یہ کہانی ضرور سناتا ہوں۔۔۔۔ تم جیسے بے شمار شاگرد پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور جہاں بھی ہیں، ذہانت کو بروئے کار لا کر بڑی بڑی پوزیشنیں حاصل کر چکے ہیں۔۔۔۔ کیا تم دسوں میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتے ہو؟”
“ہرگز نہیں۔” سب بیک زبان بولے۔ “آپ ہماری زندگی ہیں۔”
“اس سال پانچ ہزار میں سے تم دس منتخب کئے گئے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ دس جو دس لاکھ پر بھی بھاری رہو گے۔۔۔۔ اچھا۔۔۔۔ عہد۔۔۔۔” وہ ہاتھ اٹھا کر بولا۔۔۔۔
دسوں پھر قطار میں کھڑے ہو گئے اور بیک آواز کہنے لگے۔ “ہماری ذہانت کا سر چشمہ آپ ہیں۔۔۔۔ ہم کبھی آپ سے غداری نہیں کریں گے۔۔۔۔”
“لیکن مجھے اپنے سوال کا جواب نہیں ملا جناب۔۔۔۔” لڑکی پھر ہاتھ اٹھا کر بولی۔
“کس سوال کا جواب؟”
“ہمیں یہ کہانی کیوں سنائی گئی ہے۔”
“یہ بتانے کے لئے کہ جرم کی پردہ پوشی دو ہی طریقوں سے ممکن ہے۔ یا تجوریوں کے دہانے کھول دو یا ذہانت کو بروئے کار لاؤ۔۔۔۔ دولت کے بل بوتے پر کیے جانے والے تمام اقدام کا اثر دیر پا نہیں ہوتا۔ اس لئے اسے کیڑے مکوڑوں کے لیے چھوڑ دو۔۔۔۔ حویلی والوں نے دولت کے بل بوتے پر صرف اپنا تحفظ کیا تھا لیکن دوسرے ذہنوں سے اپنے جرائم کے نقوش نہیں مٹا سکے تھے۔ بے شک وہ عدالت تک نہ پہنچ سکے لیکن گاؤں کا بچہ بچہ جانتا تھا کہ کچا مکان کس طرح تباہ ہوا۔ اب ذہانت کا کارنامہ دیکھو۔۔۔۔ کوئی نہیں جانتا کہ حویلی کیسے تباہ ہوئی اور حویلی والوں کی اموات میں کس کا ہاتھ تھا۔۔۔۔”
“میں سمجھ گئی جناب۔۔۔۔” لڑکی نے طویل سانس لے کر کہا۔
“دوسری بات۔! کچا مکان تباہ ہو گیا۔۔۔۔ حویلی فنا ہو گئی لیکن وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے جنہوں نے حویلی والوں کو عدالت میں پیش ہونے سے بچا لیا تھا۔ لہٰذا اس ذہین بچے کو بھی ہمیشہ زندہ رہنا چاہئے۔”
“علامہ دہشت !” ایک پر جوش جوان نے ہانک لگائی۔
“زندہ باد” متفقہ نعرہ تھا۔
علامہ دہشت نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ “جرائم کی پردہ پوشی کرنے والے قانون کے محافظ اس وقت سے موجود ہیں جب قانون نے جنم لیا تھا اور اب جب تک قانون موجود ہے وہ بھی زندہ رہیں گے۔ لہٰذا انہیں بھی زندہ رہنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ جس دن یہ بھی ختم ہوئے تم بھی ختم ہو جاؤ گے۔ جرائم کا اصل سبب یہی ہے کہ لوگ قانون کے محافظوں کی طرف سے مطمئن نہیں ہیں۔”
وہ خاموش ہو کر ان کی شکلیں دیکھنے لگا تھا۔
دفعتاً ایک لڑکی کی طرف انگلی اٹھا کر بولا۔ “کیا تمہیں اس میں شبہ ہے۔!”
“نن۔۔۔۔ نہیں جناب۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔؟”
“میں نے یہ ‘لیکن’ تمہارے چہرے پر پڑھ لیا تھا۔!”
“میری دانست میں جرائم کی صرف یہی ایک وجہ نہیں ہے۔”
“میں سمجھ گیا تم کیا کہنا چاہتی ہو۔” علامہ دہشت نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔” وہی گھسی پھٹی بات کہ کسی قسم کی اقتصادی بد حالی جرائم کو جنم دیتی ہے۔!”
“غلط ہے! یہ صرف جذبۂ انتقام کی کار فرمائی ہے۔ اگر کوئی ایک روٹی چراتا ہے تو یہ معاشرے کی اس مصلحت کوشی کے خلاف انتقامی کاروائی ہے جس نے اسے بھوکا رہنے پر مجبور کر دیا۔”
“معاشرے کی مصلحت کوشی سمجھ نہیں آئی جناب۔!”
“یہ مصلحت کوشی ان چند افراد کی ہوس ہے جو وسائلِ حیات کو اپنے قبضے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اصل مجرم وہی ہیں لیکن صدیوں سے ان کی ذہانت ا ن کے اس بنیادی جرم کی پردہ پوشی کرتی آ رہی ہے۔۔۔۔!”
“وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟”
“دوسروں کو اپنے سامنے جھکائے رکھنے کے لیے۔ اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے۔ ان کی ذہانت ان کے اس بنیادی جرم کو صدیوں سے خدا کا قانون قرار دیتی چلی آ رہی ہے۔”
“میں سمجھ گئی جناب۔۔۔۔!”
“لیکن مطمئن نہیں ہوئیں۔ میں تمہاری آنکھوں میں اب بھی شبہات کی جھلکیاں دیکھ رہا ہوں۔” لڑکی کچھ نہ بولی۔ علامہ اسے گھورتا رہا۔
“میں دراصل۔۔۔۔ یہ کہنا چاہتی تھی جناب کہ مذہب۔!”
“بس۔۔۔۔!” علامہ بات کاٹ کر بولا۔ “تم پر میری محنت ضائع ہوئی ہے۔!”
لڑکی سختی سے ہونٹ بھینچ کر رہ گئی اور وہ کہتا رہا۔ “تمہاری ذہانت مشتبہ ہے۔۔۔۔!”
“شش شاید۔۔۔۔ مم۔۔۔۔ میں۔”
“بات آگے نہ بڑھاؤ۔ اس مسئلے پر کئی بار روشنی ڈال چکا ہوں اور تم سب بھی سن لو کہ حویلی والے بڑے مذہبی لوگ تھے۔۔۔۔ اور کچے مکان کا وہ فرد بھی بڑا مذہبی تھا جو اپنے متعلقین سمیت جل کر بھسم ہو گیا تھا۔”
کوئی کچھ نہ بولا۔ وہ لڑکی بھی خاموش ہو گئی تھی۔ علامہ نے اس طرح ہونٹ سکوڑ رکھے تھے جیسے کوئی کڑوی کسیلی چیز حلق سے اتار گیا ہو۔
“واپسی۔۔۔۔!” دفعتاً اس نے کہا اوروہ ایک بار پھر قطار میں دوڑتے نظر آئے لیکن ترتیب پہلی سی نہیں تھی۔ علامہ سب سے پیچھے تھا۔۔۔۔ اور پھر وہ ایک نوجوان سمیت دوسروں سے بہت دور رہ گیا۔ اس نے اپنے آگے والے نوجوان کو پہلے ہی ہدایت کردی تھی کہ وہ اپنی رفتار معمول سے کم رکھے۔ اب وہ دونوں برابر سے دوڑ رہے تھے اور دوسروں سے بہت پیچھے تھے۔
“پیٹر۔!” علامہ نے نوجوان کا نام لے کر مخاطب کیا۔
“یس سر۔۔۔۔!” پیٹر بولا اور دوڑ برابر جاری رہی۔
“یاسمین کے خیالات سنے تم نے؟”
“یس سر۔!”
“تمھارا کیا خیال ہے ؟”
“وہ راستے سے ہٹ سکتی ہے۔۔۔۔ اس نے مذہب کا نام لیا تھا۔”
“مجھے تم پر فخر ہے پیٹر۔۔۔۔ تم بہت ذہین ہو۔”
“میں کچھ اور کہنا چاہتا ہوں جناب۔”
“ضرور کہو پیٹر۔”
“قبل اس کے وہ استے سے ہٹے۔۔۔۔ ہم خود ہی کیوں نہ ہٹا دیں۔”
“میں تمہارے علاوہ اور کسی میں اپنا نائب بننے کی صلاحیت نہیں دیکھتا۔”
“میں اسے راستے سے ہٹا دوں گا جناب۔”
“مگر اسے نہ بھولنا کہ تم ایک ذہین آدمی ہو۔”
“آپ مطمئن رہئے۔”
پھر انہوں نے رفتار بڑھائی تھی اور دوسروں سے جا ملے تھے۔۔۔۔ قریباً آدھے گھنٹے بعد وہ اس جگہ پر پہنچے جہاں ان کا کیمپ تھا۔ چھوٹی چھوٹی گیارہ چھولداریاں نصب تھیں۔ ایک ایک کر کے وہ اپنی اپنی چھولداریوں میں داخل ہوئے اور آرام کرنے لگے۔

یہ سب علامہ دہشت کے مخصوص شاگرد تھے یعنی اس کے نظریات سے اتفاق رکھتے تھے۔ وہ نظریات جن کا اظہار وہ سب کے سامنے نہیں کرتا تھا۔ ویسے پڑھے لکھے حلقوں میں خاصی بڑی پوزیشن رکھتا تھا۔ لوگ اس کی علمیت سے مرعوب ہو جاتے تھے۔ یونیورسٹی میں ‘ذہنی دیو’ کہلاتا تھا۔ اچھا شاعر اور اچھا نقاد بھی تھا۔ آئے دن اس کی قیام گاہ پر بزم شعر و سخن کا اہتمام ہوتا رہتا تھا۔
بعض بے تکلف احباب کبھی کبھی کہہ بیٹھتے کہ سوشیالوجی کے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ کو تو دہشت ناک نہ ہونا چاہئے۔ لہٰذا اسے تخلص بدل دینا چاہئے کوئی فرق نہ پڑے گا۔ وہ ہنس کر کہتا “کتنے ہی تخلص تبدیل کروں کہلاؤں گا دہشت ہی۔”
سردیوں کی تعطیل شروع ہوتے ہی وہ ہر سال اپنے مخصوص شاگردوں کا کیمپ لگاتا تھا اور انہیں جسمانی تربیت کی طرف بھی توجہ دینے کی ہدایات کرتا رہتا تھا۔۔۔۔ ان دسوں شاگردوں کا تعلق اسی کے ڈپارٹمنٹ سے نہیں تھا۔ ان کے مضامین مختلف تھے۔۔۔۔ یہ تو اس کی گھریلوں نشستوں کے دوران میں اس کے حلقہ بگوش ہوئے تھے۔
علامہ کی شخصیت بے حد پر کشش تھی اور اس کی ساری باتیں عام ڈگر سے ہٹ کر ہوتی تھیں۔ ہر معاملے میں اس کا نظریہ عام نظریات سے مختلف ہوتا تھا اور اپنی قوت استدلال سے کام کے کر وہ دوسروں کو اس سے متعلق مطمئن بھی کر دیتا تھا۔۔۔۔ پہلے پہل لوگ اس کے طر زِ تقریر کے جال میں پھنستے تھے۔۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ اس طرح گرویدہ ہوتے چلے جاتے تھے جیسے وہ پیغمبرانہ انداز میں ان کے درمیان آیا ہو۔۔۔۔ ان میں کچھ انتہائی درجہ کے جاں نثار ہوتے تھے اور انہی جان نثاروں کو خاص شاگرد ہونے کا شرف حاصل ہو جاتا تھا۔
بہرحال ان مخصوص شاگردوں کو وہ ہر طرح کی تربیت دیتا تھا۔ کیمپنگ کا اصل مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ بے سر و سامانی کی حالت میں بھی زندگی بسر کرنے کے طریقوں سے آگاہ ہو جائیں۔۔۔۔
غلیلوں سے پرندوں کا شکار ہوتا اور زمین سے مختلف قسم کی جڑیں کھود کر نکالی جاتیں۔ پرندے آگ پر بھونے جاتے اور جڑیں ابالی جاتیں۔ کیمپنگ کے دوران میں یہی ان کی خوراک ہوتی۔
چھولداریوں مین راتیں گذارتے۔ سردی سے بچاؤ کے لئے کم سے کم سامان ان کے ساتھ ہوتا تھا۔۔۔۔ ہر فرد اپنی چھولداری میں تنہا رات بسر کرتا تھا۔۔۔۔
اس وقت اس دوڑ دھوپ کے بعد انہیں چھولداری میں صرف آدھے گھنٹے آرام کرنا تھا پھر دوپہر کے لئے غذا فراہم کرنے کی باری آتی۔
علامہ دہشت اپنی چھولداری میں پہنچ کر بیٹھ گیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں فکر مندی کے آثار پائے جاتے تھے۔
تھوڑی دیر بعد اس نے چھولداری سے سر نکال کر یاسمین کو آواز دی تھی۔
وہ اپنی چھولداری سے نکل کر اس طرح اس کی طرف دوڑ پڑی تھی جیسے اس کی پالتو کتیا ہو۔
“اند آ جاؤ۔” وہ ایک طرف کھسکتا ہوا بولا تھا۔
وہ چھولداری میں داخل ہوئی اور اس کی اجازت سے ایک طرف بیٹھ گئی۔ وہ کچھ شرمندہ سی نظر آ رہی تھی۔ سر جھکائے بیٹھی رہی۔ علامہ دہشت اسے گھورتا رہا پھر بولا۔ “تم اب بھی کچھ کہنا چاہتی ہو؟”
“جج۔۔۔۔ جی۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ مذہب کا نام غیر ارادی طور پر زبان سے نکل گیا تھا۔ اس کی بھی وجہ غالباً نفسیاتی ہو سکتی ہے۔”
“تمہاری دانست میں کیا وجہ ہو سکتی ہے۔!”
“آپ عام طور پر خود کو مذہبی آدمی ظاہر کرتے ہیں۔”
“ہمیں کیڑوں مکوڑوں کے درمیان رہ کر ہی زندگی بسر کرنی چاہئے۔!”
“یہ میں بھول گئی تھی!” یاسمین کے لہجے میں کسی قدر تلخی پیدا ہو گئی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: