Allama Dahshatnak by Ibne Safi – Episode 2

0

علامہ دہشت ناک از ابن صفی قسط 02

“حالانکہ ہمیں اپنا مشن ہر وقت یاد رکھنا چاہئے۔!”
یاسمین کچھ نہ بولی۔ بدستور سر جھکائے بیٹھی رہی۔ اُس نے یہ گفتگو علامہ سے آنکھیں ملا کر نہیں کی تھی۔ اس سے آنکیں ملا کر گفتگو کرنا آسان بھی نہیں تھا۔۔۔۔ مقابل کی زبان لڑکھڑاجاتی تھی اور اگلا جملہ ذہن سے محو ہو جاتا تھا۔ اس سے پوری بات اسی طرح کی جاسکتی تھی کہ اس کی آنکھوں میں نہ دیکھا جائے۔
‘مذہب!’ وہ تھوڑی دیر بعد بولا۔ “محض بعض رسوم کی ادائیگی ہی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ لٰہذا اسے کیڑوں مکوڑوں ہی کے لئے چھوڑ دو۔!”
“مم۔۔۔۔ میں سمجھتی ہو جناب!”
“میں نے ابتدا میں لوگوں کو مذہب کی حقیقی روح سے روشناس کرانا چاہا تھا لیکن انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ میں شایدکسی نئے مذہب کی داغ بیل ڈالنا چاہتا ہوں، مجھ پر کفر بکنے کا الزام لگایا گیا تھا۔۔۔۔ لہٰذا میں نے مذہب کو بریانی کی دیگ میں دفن کر دیا۔”
یاسمین کچھ نہ بولی۔۔۔۔ وہ کہتا رہا۔ “میرے بس سے باہر تھا کہ وہ غلاظتوں کے ڈھیر لگاتے رہیں اور میں ان میں دفن ہوتا چلا جاؤں۔ نہ وہ مذہب کی حقیقی روح تک پہنچنے کے لئے تیار ہیں اور نہ کوئی نیا نظریۂ حیات اپنانے پر آمادہ۔۔۔۔ لہٰذا ان کیڑوں مکوڑوں کو فنا کر دینا ہی میرا مشن ٹھہرا۔”
“میں اپنی غلطی پر نادم ہوں جناب!” وہ گھگھیائی۔
“غلطی نہیں، میرے بارے میں غلط فہمی کہو۔!”
“جج۔۔۔۔جی۔۔۔۔ ہاں۔ بعض اوقات مجھے اظہارِ خیال کے لئے الفاظ نہیں ملتے۔”
“اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمہارے ذہن میں ابھی تک کھچڑی پک رہی ہے۔ نہ مذہب کی طرف سے مطمئن ہو اور نہ میرے مشن پر یقین رکھتی ہو۔”!
“میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔”
“فکر نہ کرو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ جاؤ آرام کرو۔!” ۔۔۔۔ وہ اٹھ گئی۔
فون کی گھنٹی بجی تھی اور کیپٹن فیاض نے ہاتھ بڑھا کر ریسیور اٹھایا تھا۔ دوسری طرف سے جانی پہچانی سی نسوانی آواز آئی تھی۔! “مم میں ایک دشواری میں پڑ گئی ہوں کیپٹن۔!”
“آپ کون ہیں!” فیاض نے پیشانی پر بل ڈال کر پوچھا۔
“ڈاکٹر زہرہ جبیں۔”
“اوہ۔۔۔۔ ہیلو ڈاکٹر۔۔۔۔ کیا پریشانی ہے۔۔۔۔؟”
“شش شاید۔۔۔۔ میں گرفتار کر لی جاؤں۔۔۔۔!”
“خیریت۔۔۔۔؟”
“ایسی ہی کچھ بات ہے! کیا آپ میری ڈسپنسری تک آ سکیں گے۔!”
“میں پہنچ رہا ہوں لیکن بات کیا ہے؟”
“دوا خانہ بند کر کے سیل کیا جا رہا ہے اور تفتیش کرنے والے آفیسر کے تیور اچھے نہیں ہیں۔!”
“کیا کوئی مریض غیر متوقع طور پر مر گیا ہے؟”
“ایسی ہی کچھ بات ہے۔!”
“اچھا میں آ رہا ہوں۔۔۔۔ ویسے وارنٹ کے بغیر تمہیں کوئی گرفتار نہیں کر سکتا۔ کیا آفیسر کے پاس وارنٹ موجود ہیں؟”
“میں نہیں جانتی۔ لیکن خدا کے لئے آپ جلد پہنچئے۔!”
“میں آ رہا ہوں۔” فیاض نے کہا اور دوسری طرف سے سلسلہ منقطع ہو جانے کی آواز سن کر خود بھی ریسیور کریڈل پر رکھ دیا۔ پھر وہ اٹھ کر آفس سے باہر آیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد اس کی گاڑی محکمہ سراغ رسانی کے دفاتر کے کمپاؤنڈ سے سڑک پر نکل آئی۔
ڈاکٹر زہرہ جبیں اس کی خاص دوستوں میں سے تھی۔ خوش شکل اور پُر کشش عورت تھی۔
عمر تیس سال سے زیادہ نہیں تھی لیکن اس وقت چالیس سے بھی متجاوز لگ رہی تھی۔ فیاض کو دیکھتے ہی غیر ارادی طور پر اس کی طرف بڑھی۔
“وہ لوگ دوا خانے میں ہیں۔ دواؤں کی الماریوں کو سیل کر رہے ہیں۔!”
“ضابطہ کی کاروائی میں دخل اندازی نہیں کی جا سکے گی۔” ! فیاض نے کہا۔ “پہلے تم بتاؤ معاملہ کیا ہے۔۔۔۔؟”
“پرسوں میری ایک مریضہ اچانک مر گئی تھی۔!”
“کس طرح۔ کیا یہیں ڈسپنسری میں؟”
“نہیں اپنے گھر پر۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔ دوا کی شیشی۔۔۔۔ یہیں ڈسپنسری سے دی گئی تھی۔ اعصاب کو سکون دینے والی ٹکیاں تھیں۔ بازار میں دستیاب نہیں تھی۔ میرے پاس کچھ شیشیاں پہلے کی پڑی ہوئی تھیں۔ ایک میں نے اسے دے دی تھی۔۔۔۔!”
“اوہ۔۔۔۔ کہیں تم اس لڑکی یاسمین کی بات تو نہیں کر رہیں۔۔۔۔؟”
“وہی۔۔۔۔ وہی۔۔۔۔!”
“خداوندا۔۔۔۔ تو وہ ٹکیاں تم نے فراہم کی تھیں۔!”
“ہاں۔۔۔۔ اس وقت اس کی بڑی بہن دردانہ بھی ساتھ تھی۔!”
فیاض سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔ وہ اس کیس سے واقف تھا۔۔۔۔ لڑکی نے اپنے گھر ہی پر بیگ سے دوا کی شیشی نکالی تھی۔ دو ٹکیاں کھائی تھیں اور ایک گھنٹے کے اندر ختم ہو گئی تھی۔
“اگر شیشی تم نے فراہم کی تھی تو۔۔۔۔” وہ تھوڑی دیر بعد بولا۔
“شیشی سر بند تھی۔۔۔۔ میں نہیں جانتی تھی کہ اس میں کیا ہے۔ اس پر لیبل اسی دوا کا موجود تھا جس کی اسے ضروت تھی۔۔۔۔ اس کی بہن کو یاد نہیں لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس نے شیشی کھول کر دو ٹکیاں یہیں میرے سامنے کھائی تھیں۔ میری نرس شہادت دے گی کہ وہ اس کے لیے گلاس میں پانی لائی تھی۔”“تم نے اسے شیشی کب دی تھی؟”
“مرنے سے دو گھنٹے پہلے کی بات ہے۔!”
“ٹکیوں کا تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ ان میں پوٹاشیم سائنائیڈ کی آمیزش تھی اور بناوٹ کے اعتبار سے وہ اصل ٹکیوں سے مماثل تھیں۔!”
“کیا ساری ٹکیاں۔۔۔۔؟” ڈاکٹر زہرہ جبیں نے پوچھا۔!
“جتنی بھی اس وقت شیشی میں تھیں۔!”
“دو دن تک وہ انہیں ٹکیوں کو استعمال کرتی رہی تھی۔!”
“تم نے بہت دیر میں مجھے مطلع کیا۔!” فیاض مضطربانہ انداز میں بولا۔
“میرے فرشتوں کو بھی علم نہیں۔ ابھی ایک گھنٹہ پہلے انہوں نے مجھ سے پوچھ گچھ کی اور دواؤں کی الماریوں کو سیل کرنا شروع کر دیا۔”
“خیر میں دیکھتا ہوں۔ کیا وہ سب ڈسپنسری ہی میں ہیں۔؟”
زہرہ جبیں نے سر کو اثباتی جنبش دیتے ہوئے پوچھا۔ “اب کیا ہو گا؟”
“فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ مرنے سے دو دن قبل بھی اس شیشی کی ٹکیاں استعمال کرتی رہی تھی۔!”
فیاض مطب سے اٹھ کر ڈسپنسری میں آیا جہاں ضابطے کی کاروائی جاری تھی۔ حلقے کے تھانے کے انچارج کی نگرانی میں ساری ادویات سیل کر دی گئی تھیں۔ فیاض کو دیکھ کر وہ پذیرائی کے لیے آگے بڑھا۔
“کیا وارنٹ بھی ہے؟” فیا ض نے پوچھا۔
“نہیں جناب عالی۔۔۔۔!” ڈاکٹر صاحب کے اعتراف کے بعد یہ کاروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
“ٹھیک ہے۔”
“ویسے گرفتاری کا بھی امکان ہے۔!”
“ہاں ہو سکتا ہے۔۔۔۔ وارنٹ تمہارے پاس ہی آئے گا۔!”
“جی ہاں۔!”
“اس کا خیال رکھنا کہ ضمانت قبل از گرفتاری کی کوشش کی جا رہی ہے۔!”
“آپ بے فکر رہیں جناب۔ آپ کو اطلاع دیئے بغیر کوئی کاروائی نہیں کروں گا۔!”
“شکریہ۔!”
“میں تو خادم ہوں جناب!”
فیاض پھر مطب میں واپس آ گیا۔
“کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔؟” زہرہ جبین نے گھٹی گھٹی سی آواز میں پوچھا۔
“خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہو۔ ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دلوانے جا رہا ہوں۔”
“اگر تم اعتراف نہ کر لیتیں کہ یہ شیشی یہیں سے دی گئی ہے تو کوئی بات نہیں تھی پھر بھی بے فکر رہو۔ ضابطے کی کاروائیاں تو ہوتی رہتی ہیں۔”
“اس کی پبلسٹی بھی ہو گی۔”
“یہ مجھ پر چھوڑ دو۔اگر دوستوں کے لئے اتنے چھوٹے موٹے کام بھی نہ کر سکوں تو پھر میرے وجود کا فائدہ ہی کیا۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ تمھارا نام پریس تک نہیں پہنچنے پائے گا۔”
پھر فیاض نے مطب ہی سے اپنے ایک دوست ایڈووکیٹ کو زہرہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے ہدایات دی تھیں اور زہرہ کو مزید تسلّیاں دے کر وہاں سے روانہ ہو گیا تھا۔
اُسے مرنے والی کی قیام گاہ کا پتہ معلوم تھا۔ لہٰذا وہ سیدھا وہیں پہنچا۔ یاسمین کی بڑی بہن دردانہ بنگلے میں موجود تھی۔ زہرہ کے بیان کے مطابق دوا کی شیشی اس کے سامنے ہی یاسمین کو دی گئی تھی۔
“یہ درست ہے جناب۔” دردانہ نے فیاض کو سوال کے جواب میں کہا۔ “میں موجود تھی اور مجھے یہ بھی یاد ہے کہ اس نے شیشی کھول کر دو ٹکیاں کھائی تھیں۔”
“لیکن اس کا حوالہ آپ کے بیان میں نہیں ہے۔۔۔۔ اس سے لیڈی ڈاکٹر کی پوزیشن خطرے میں پڑ گئی ہے۔”
“مجھے افسوس ہے اگر ایسا ہوا ہے۔ میں اپنے بیان میں اس اضافے کے لئے تیّار ہوں۔”
“تو انہوں نے دو دنوں تک اسی شیشی سے وہ ٹکیاں استعمال کی تھیں؟”“جی ہاں۔”
“اور آپ کو یقین ہے کہ کوئی دوسری شیشی نہیں خریدی گئی تھی۔”
“سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ بازار میں دستیاب ہی نہیں ہے۔”
“کیا وہ آخری ٹکیاں استعمال کرنے سے قبل گھر ہی پر رہی تھیں؟”
“جی نہیں۔۔۔۔ تھوڑی دیر قبل باہر سے آئی تھی۔”
“بہرحال۔” فیاض پُر تفکّر لہجے میں بولا۔ “آپ لوگوں کے بیان کی روشنی میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وقوعے سے قبل شیشی سے اصل ٹکیاں نکال کر ویسی ہی شکل والی دوسری ٹکیاں رکھی گئی تھیں کیونکہ وہ ساری ہی زہر آمیز ثابت ہوئی ہیں۔ زہر بھی ایسا کہ دو ٹکیاں زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہنے دے سکتیں۔”
دردانہ کچھ نہیں بولی۔ اس کے پپوٹے متورّم اور آنکھیں سرخ تھیں۔ چہرے پر گہرا اضمحلال طاری تھا۔ فیاض نے دوسرے افرادِ خاندان سے متعلق پوچھ گچھ شروع کر دی۔
دردانہ کا باپ ایک متمول سرکاری ٹھیکیدار تھا۔ ماں سوتیلی تھی لیکن لا ولد تھی۔ یہی دونوں لڑکیاں باپ کے بعد جائیداد اور دوسری املاک کی حق دار ہوتیں۔ بھائی کوئی نہیں تھا۔
“سنئے جناب۔” دردانہ بولی۔ “اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کوئی غلط نظریہ قائم کر لیں۔”
“میں نہیں سجھا۔”
“کہیں آپ لوگ یہ نہ سوچیں کہ سوتیلی ماں۔۔۔۔” وہ جملہ پورا کئے بغیر خاموش ہو گئی۔
غالباً کسی کی آہٹ سن کر بات پوری نہیں کی تھی۔ مڑ کر دروازے کی طرف دیکھنے لگی۔
ادھیڑ عمر کی ایک خوش شکل عورت کمرے میں داخل ہوئی۔ انداز پروقار تھا۔
دردانہ کھڑی ہو گئی۔ فیاض بھی اُٹھا تھا۔ عورت نے دردانہ سے کہا۔ “تم اپنی بات جاری رکھو۔”
“یہ میری ماں ہیں۔” دردانہ نے فیاض سے کہا۔
“آداب قبول فرمایئے محترمہ۔ بعض معاملات کی وضاحت کے لئے آپ لوگوں کو تکلیف دینی پڑی۔”
“تشریف رکھئے۔” عورت نے مغموم لہجے میں کہا۔
“ہاں تو میں یہ کہہ رہی تھی جناب” دردانہ نے ان کے بیٹھ جانے کے بعد کہا۔ “گھر میں کوئی ایسا فرد نہیں جو یاسمین کی موت کا خواہاں ہوتا۔”
“آپ غلط سمجھیں” فیاض مسکرا کر بولا۔ “افرادِ خاندان کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کا یہ مطلب نہیں تھا۔”
“ نہیں! آپ شوق سے امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔” عورت نے کہا۔ “میں ان بچیوں کی سوتیلی ماں ہوں۔”
“خدا کے لئے ایسا نہ کہئے امی۔ !” دردانہ کپکپاتی ہوئی آواز میں بولی۔ “آپ نے کبھی ہمیں یہ محسوس نہیں ہونے دیا۔!”
“دل کا حال صرف خدا جانتا ہے۔!” عورت بولی۔
“تب پھر میں بھی اس کی موت کا باعث ہو سکتی ہوں۔!” دردانہ نے کہا۔
“میں در اصل یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آخری ٹکیاں استعمال کرنے سے پہلے کہاں سے آئی تھیں۔” فیاض بول پڑا۔
“کم از کم مجھے علم نہیں۔!”
“ان کے قریبی دوستوں کے نام اور پتے مل سکیں گے؟”
“میں صرف ایک لڑکی کا نام اور پتا جانتی ہوں جو کبھی کبھی یہاں آتی رہتی ہے!”
فیاض نے جیب سے نوٹ بک اور قلم نکالتے ہوئے کہا۔”براہِ کرم نوٹ کروا دیجئے۔”
“شیلا دھنی رام۔۔۔۔ دھنی اسکوائر۔۔۔۔ ففتھ اسٹریٹ۔۔۔۔!”فیاض نے مزید پوچھ گچھ نہیں کی تھی۔ دونوں سے ایک بار اظہارِ ہمدردی کر کے وہاں سے چل پڑا تھا۔
دھنی اسکوائر والا دھنی رام شہر کے متمول ترین لوگوں میں سے تھا تو اس کی لڑکی سے یاسمین کے اتنے گہرے مراسم تھے کہ وہ اس کے گھر بھی آتی تھی۔
فی الحال فیاض نے اس کی طرف جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ اس کی بھاگ دوڑ کا مقصد صرف اسی قدر تھا کہ ڈاکٹر زہرہ جبین کا تحفظ کیا جا سکے ورنہ ابھی یہ کیس سول پولیس ہی کے پاس تھا۔شیلا دھنی رام ان چار لڑکیوں میں سے تھی جنہوں نے علامہ دہشت کے ساتھ کیمپ کیا تھا۔۔۔۔ اس وقت وہ اسی مسئلے پر گفتگو کرنے کے لئے علامہ کے پاس آئی تھی کیونکہ پولیس نے اس سے بھی یاسمین کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی تھی۔
“قدرتی بات ہے۔” علامہ سر ہلا کر بولا۔ “قریب ترین لوگوں سے ضرور پوچھ گچھ کی جائے گی۔”
“لیکن انہوں نے کیمپ کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا۔”
“اس کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ کیمپنگ کئی دن پہلے ختم ہو گئی تھی۔”
“اس کی ایک وجہ اور بھی ہے۔!” شیلا نے کہا۔
“وہ کیا ہے؟”
“اسے ایک ہفتے تک گھر سے باہر رہنے کی اجازت نہیں مل سکتی تھی۔ میں نے یہ کہہ کر دلوائی تھی کہ میں اسے اپنے ساتھ شاہ دار لے جانا چاہتی ہوں جہاں میرے چچا رہتے ہیں۔”
“اوہ۔۔۔۔!”
“اسی لئے کیمپنگ کا ذکر نہیں آنے پایا۔!”
“میں نہیں جانتا تھا کہ وہ اتنے بیک ورڈ گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ تمہیں مجھ کو آگاہ کر دینا چاہئے تھا۔ تمہاری ہی سفارش پر میں نے اسے خصوصی حلقے میں شامل کیا تھا۔ تم جانتی ہو کہ یہاں بیک ورڈ گھرانوں سے تعلق رکھنے والوں کے لئے گنجائش نہیں ہے۔”
“لیکن وہ ذاتی طور پر بے حد آزاد خیال تھی اور خُود بھی اپنے خاندان والوں کی تنگ نظری سے متنفّر تھی۔!”
“ویسے کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ ان لوگوں نے تمہارے ہی ساتھ جانے کی اجازت کیوں دے دی جبکہ تم ان کی ہم مذہب بھی نہیں ہو؟”
“میرے باپ سے ان کے باپ کے گہرے مراسم ہیں۔!”
“اس کے باوجود بھی بات سمجھ میں نہیں آئی۔ بیک ورڈ گھرانوں کی عورتیں بے حد تنگ نظر ہوتی ہیں۔!”
“گھر کا سربراہ جو چاہتا ہے وہ ہوتا ہے۔ یاسمین کے ڈیڈی نے میری بات کبھی نہیں ٹالی۔!”
“کیوں۔۔۔۔؟” علامہ نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“میں نہیں جانتی۔!”
“کیا تمہارے باپ اور اس کے باپ کی دوستی بہت پرانی ہے؟”
“میری پیدائش سے بھی پہلے کی بات ہے۔!”
پولیس اُس کے بارے میں کیا معلوم کرنا چاہتی تھی؟”
“آخری ٹکیاں استعمال کرنے سے پہلے وہ کہاں سے آئی تھی؟”
“ہاں۔۔۔۔ یہ ضروری سوال ہے” علامہ نے پُر تفکّر لہجے میں کہا۔
“سر کیوں نہ ہم اپنے طور پر پتہ لگانے کی کوشش کریں؟”
“وقت ضائع کرنے سے کیا فائدہ۔۔۔۔ وہ واپس تو نہیں آ سکتی۔!”
“میں اس کے لئے بہت مغموم ہوں۔!”
“شیلا۔!” وہ تیز لہجے میں بولا۔” یہ جہالت کی بات ہے۔! کسی کے مرنے کا غم اسے ہونا چاہئے جسے خود نہ مرنا ہو۔!”
“مم۔۔۔۔ میں نہیں سمجھی؟”
“ایک دن ہم سب مر جائیں گے۔ لہٰذا کسی کے مرنے کا غم احمقانہ اندازِ فکر ہے۔”
“یہ تو ٹھیک ہے جناب۔!”
“شعور نے جہاں ہمیں ذہانت عطا کی ہے، وہیں کچھ احمقانہ کیفیتیں بھی ہم پر مسلط کر دی ہیں۔ ہمیں ان سے پیچھا چُھڑانا چاہئے۔”
شیلا کچھ نہ بولی۔!
“یقیناً کوئی اس کا دشمن تھا جس کا علم خود اسے بھی نہیں تھا۔!”
“وہ بہت اچھی لڑکی تھی۔ سر کوئی بھی اسے ناپسند نہیں کرتا تھا حتٰی کہ سوتیلی ماں کی لاڈلی تھی۔!”
“سوتیلی ماں دوسری بہن کو بھی اسی طرح ختم کرا دے گی اور دوسرے اسے فرشتہ سمجھتے رہیں گے۔ یہی ہے ذہانت۔۔۔۔ واہ۔”
“میں تصور بھی نہیں کر سکتی۔!”
“اس کی سوتیلی ماں کو میرے مخصوص حلقے میں ہونا چاہئے تھا۔!”
شیلا پھر خاموش رہی۔ اس کے چہرے پر تکدّر کے آثار تھے۔
علامہ اسے گھورتا ہوا بولا۔! “تم یقین نہیں کرو گی، وہ بہت ذہین عورت معلوم ہوتی ہے۔ پولیس اس کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں کر سکے گی۔ بہرحال اب تم اس معاملے کی طرف سے اپنا ذہن ہٹا لو۔ اگر پولیس کیمپنگ کے بارے میں پوچھے تو تم صفائی سے ہر بات بتا سکتی ہو۔ میری کیمپنگ کوئی پوشیدہ معاملہ نہیں ہے۔!”
“میری زبان سے ہر گز نہ نکل سکے گا کہ میں شاہ دارا کے بہانے کہیں اور لے گئی تھی۔”
“تمہارا ذاتی معاملہ ہے۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں۔! لیکن اس کا افسوس ہمیشہ رہے گا کہ میں نے نادانستگی میں ایک بڑی غلطی کی تھی۔!”
“کیسی غلطی جناب؟!”
“یہی کہ ایک بیک ورڈ گھرانے کی لڑکی کو اپنے خصوصی حلقے میں جگہ دے دی تھی۔”
“مجھے اس پر شرمندگی ہے جناب۔!”
“خیر آئندہ احتیاط رکھنا۔”بس اب جاؤ۔۔۔۔ پولیس سے اس لئے خائف ہونے کی ضرورت نہیں کہ یاسمین تمہارے حلقے سے تعلق رکھتی تھی۔”
“میں خائف نہیں ہوں جناب صرف اس لئے آئی تھی کہ آپ کو آگاہ کر دوں

Read More:  Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 8

اگر پولیس کو یہ علم ہو بھی گیا کہ تم اسے وہاں نہیں لے گئی تھیں جہاں کا بہانہ کیا تھا تو بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک ہفتہ پہلے جو کچھ بھی ہوا تھا۔ اس کا اس کی موت سے کیا تعلق؟”
شیلا چلی گئی تھی اور علامہ نے فون پر کسی کے نمبر ڈائل کئے تھے اور دوسری طرف سے جواب ملنے پر ماؤتھ پیس میں بولا تھا۔
“پیٹر کو فون پر بلا دیجئے۔” تھوڑی دیر بعد پیٹر کی آواز آئی تھی۔
“تم کتنی دیر میں مجھ تک پہنچ سکتے ہو؟” علامہ نے پوچھا۔
“زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ میں۔”
“بس تو پھر آ جاؤ۔”
“بہت بہتر جناب۔!”
علامہ نے ریسیور کریڈل کر رکھ کر طویل سانس لی تھی اور ایک آرام کرسی پر نیم دراز ہو کر پیٹر کا انتظار کرنے لگا تھا۔

Read More:  Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 1

پیٹر ٹھیک تیرہ منٹ بعد کمرے میں داخل ہوا۔
“تم بہت شاندار جا رہے ہو پیٹر۔” علامہ سیدھا بیٹھتا ہوا بولا۔
“شکریہ جناب۔!”
“تم نے اس کی ٹکیاں کہاں اور کیسے تبدیل کیں تھیں۔۔۔۔؟”
“مجھے اس کی ایک کمزوری کا علم تھا“ اسی سے فائدہ اٹھایا۔ چائے پینے کے دس منٹ بعد باتھ روم ضرور جاتی ہے۔۔۔۔ اس دن ریالٹو کے قریب ملی تھی۔ میں اسے چائے پلانے کے لئے اندر لے گیا۔ ایک کیبین منتخب کر کے اس میں جا بیٹھے۔ چائے منگوائی اس کا علم تو پہلے سے ہی تھا کہ وہ بیگ میں اعصاب کو سکون دینے والی ٹکیاں ضرور رکھتی ہے۔ میں نے ویسی ہی زہریلی ٹکیاں اسی وقت سے اپنے پاس رکھنا شروع کر دی تھیں جب سے اس کا فیصلہ کیا تھا۔ جہاں بھی موقع ملتا مجھے یہی کرنا تھا۔ بہر حال چائے پی کر دس منٹ بعد اس نے باتھ روم کا راستہ لیا تھا۔ بیگ کیبن میں ہی چھوڑ گئی تھی۔ لہٰذا وہ کام بے حد آسان ہو گیا۔”
“کسی شناسا نے تمھیں اس کے ساتھ دیکھا تو نہیں تھا؟”
“میری دانست میں تو نہیں۔”
علامہ نے اسے شیلا سے گفتگو کے متعلق بتاتے ہوئے کہا۔ “اس نے ایک بیک ورڈ گھرانے کی لڑکی کی سفارش کرکے غلطی کی تھی۔۔۔۔”
“یاسمین بے حد آزاد خیال تھی۔”
“اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بات اس کی ہے کہ وہ کسی اور بہانے سے اسے کیمپنگ کے لئے اجازت دلوا لائی تھی۔ ابھی پولیس کے علم میں نہیں آئی یہ بات۔”
“تو پھر شیلا بھی۔۔۔۔”
“جلد بازی کی ضرورت نہیں۔ بہرحال سوچنا پڑے گا۔ ویسے تم محتاط رہو۔”
“میں خائف تو نہیں ہوں جناب، مجھے ذرہ برابر بھی فکر نہیں ہے۔۔۔۔ یاسمین کی موت کی خبر سننے کے بعد گہری نیند سویا تھا۔۔۔۔”
“تم بہت اونچے جاؤ گے اسے لکھ لو۔”
“شکریہ جناب۔”
“شیلا کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کے بعد تمھیں مطلع کردوں گا۔”
“بہت بہتر۔۔۔۔”

Read More:  Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 34

فون کی گھنٹی بجی تھی اور کپیٹن فیاض نے ریسیور اٹھایا تھا لیکن دوسری طرف بولنے والے کی آواز پہچان کر بھنویں سکوڑ لی تھیں۔
“کیا بات ہے؟” اس نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔ “اس وقت میں بہت مصروف ہوں۔”
“کیا آلو چھیل رہے ہو جسے بٹاٹا بھی کہتے ہیں۔۔۔۔؟”
دوسری طرف عمران کی آواز آئی۔
“بکواس کرنے کی ضرورت نہیں۔ جلدی سے اصل موضوع کی طرف آجاؤ” ۔۔۔۔ فیاض نے غصیلے لہجے میں کہا۔۔۔۔
“تم بیگم تصدیق کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو؟”
“تم سے مطلب۔۔۔۔؟”
“بیگم تصدیق ان کے سمدھیانے سے تعلق رکھتی ہیں۔”
“میں نہیں سمجھا۔۔۔۔”
“ثریا کی چیچیا ساس کے بھانجے کی بہو کی خالہ ہیں بیگم تصدیق۔۔۔۔”
“فضول باتیں نہ کرو۔”
“اگر ڈاکٹر لق لقا قبلہ والد صاحب کے پاس پہنچ گئیں تو تمھاری والی ڈاکٹر صاحبہ خطرے میں پڑ جائیں گی۔۔۔۔ لہٰذا اصل مجرم کو گھر کے باہر تلاش کرو تو بہتر ہو گا”۔۔۔۔
“کیا تم کسی نتیجے پر پہنچ گئے ہو۔۔۔۔؟” فیاض نے نرم پڑتے ہوئے پوچھا۔
“مجھے اتنی فرصت کہاں۔۔۔۔” دوسری طرف سے آواز آئی۔ “بیگم تصدیق دل کی مریضہ بھی ہیں لہذا اب تم ادھر کا رخ بھی نا کرنا۔ میں نہیں چاہتا کہ تمھاری محبوبہ صاحبہ والد صاحب قبلہ کی بھی نظر میں آجائیں۔۔۔۔”
“کیوں فضول باتیں کر رہے ہو۔ کہاں ہو اس وقت؟”
“ جہنم میں بیٹھا سلیمان کی شادی پر پچھتا رہا ہوں۔”
“کہیں مت جانا۔۔۔۔ میں آ رہا ہوں۔”
“اب تم بھی آ جاؤ گے۔۔۔۔؟” مری مری سی آواز آئی۔
فیاض نے کچھ کہے بغیر ریسیور کریڈل پر رکھ دیا۔۔۔۔ اور جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکال کر ہاتھ ہی میں لیے بیٹھا رہا۔
کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔ پھر ایک سگریٹ سلگا کر اٹھ گیا۔
چہرے پر پائے جانے والے آثار بتا رہے تھے کہ شرمندگی اور جھنجھلاہٹ کا بیک وقت شکار ہوا ہے۔
آدھے گھنٹے بعد عمران کے فلیٹ پر داخل ہوا تھا۔ جوزف سے مڈ بھیڑ ہوئی۔
“سلیمان ڈاکٹر کو بلانے گیا ہے۔” اس نے اطلاع دی۔
“کیوں بکواس کرتے ہو؟”
“یقین کرو کیپٹن ان پر غشی کے دورے پڑنے لگے ہیں۔ میں نے بہت منع کیا تھا ہر طرح سمجھایا تھا لیکن انہوں نے مجھے احمق سمجھا۔”
“قصہ کیا ہے؟”
“گھریلو ماحول سے بچنے کے لیے گھر چھوڑا تھا اور سلیمان کی شادی کرا کے پھر وہی ماحول پیدا کر لیا۔۔۔۔”
“لیکن غشی کے دورے۔۔۔۔ وہ ہے کہاں؟”
“ آئیے میرے ساتھ۔۔۔۔” وہ بیڈ روم کی طرف بڑھتا ہوا بولا۔
“کون آیا ہے رے کالیے۔۔۔۔؟” کچن کی جانب سے نسوانی آواز آئی۔
“دیکھا تم نے کیپٹن۔۔۔۔؟” جوزف بھنا کر بولا
“کیا دیکھا؟”
“آخر اسے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے کہ کون ہے۔۔۔۔؟”
“چلو۔۔۔۔ چلو!” فیاض بیزاری سے بولا۔
وہ اسے بیڈ روم میں لایا تھا۔ سامنے ہی بستر پر چت پڑا نظر آیا۔ آنکھیں بند تھیں۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: