Allama Dahshatnak by Ibne Safi – Episode 3

0

علامہ دہشت ناک از ابن صفی قسط 03

اب تم جاؤ” فیاض نے مڑ کر جوزف سے کہا۔
جوزف ہچکچاہٹ کے ساتھ واپس ہوا تھا۔ فیاض چند لمحے کھڑا عمران کو دیکھتا رہا۔ پھر آگے بڑھا ہی تھا کہ عمران نے مسکرا کر آنکھیں کھول دین۔ نہ صرف کھول دیں بلکہ بائیں دبائی بھی تھی اور اٹھ بیٹھا تھا۔
“کسی دن اسی طرح پاگل ہو جاؤ گے اور لوگ عادت ہی سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے۔” فیاض بھنا کر بولا
“ میرے پیارے دوست!” عمران نے مغموم لہجے میں کہا۔ “مجھے یہاں سے نکال لے چلو خدا را!”
“تم تو بے ہوش تھے!”
“اسی طرح ڈوج دے دے کر زندگی بسر کر رہا ہوں لیکن وہ اول درجے کا بد معاش ہے۔ ڈاکٹر کو بلانے کے حیلے سے خود نکل بھاگا۔ گاڑی بھی لے گیا ہو گا۔۔۔۔ شادی کے پندرہ دن بعد ہی سے اختلاج قلب کی شکایت کرنے لگا تھا!”
“زندگی بھر اسی طرح مٹی پلید رہے گی تمہاری!” فیاض نے کہا۔
“اور تو اور مردود کہتا ہے کہ شادی اس لیے کی تھی کہ وہ کھانا پکائے گی اور میں آزاد ہو جاؤں گا!”
“تو اب تم بھی شادی کر کے آزاد ہو جاؤ!”
“مجھے خوف زدہ کرنے کی کوشش مت کرو سوپر فیاض!”
فیاض کرسی کھینچ کر بیٹھتا ہوا بولا۔” فون پرکیا بکواس کر رہے تھے؟”
“اب وہ بیچاری ایسی بھی نہیں ہے کہ تم اسے بکواس کہو!”

“اب وہ بیچاری ایسی بھی نہیں ہے کہ تم اسے بکواس کہو!”
“میں بیگم تصدّق کی بات کر رہا تھا!”
“میں سمجھا شاید ڈاکٹر زہرہ جبین!”
“تم نے قبلہ والد کا حوالہ کیوں دیا تھا؟”
“یہ غلط نہیں ہے کہ وہ ڈاکٹر شاہد کی رشتہ دار ہیں۔۔۔۔ اگر ڈاکٹر مہ لقا نے والد صاحب کے گوش گزار کر دیا تو تم زحمت میں پڑو گے!”
“میں صرف پوچھ گچھ کرتا رہا ہوں!”
“دن میں کئی بار؟”
“اتفاق سے!”
“خیر۔۔۔۔ تو کیا معلوم کیا تم نے؟”
“کچھ بھی نہیں۔ جب تک یہ معلوم نہ ہو جائے کہ آخری ٹکیاں استعمال کرنے سے قبل وہ کہاں تھی، اسی نظریئے پر قائم رہنا پڑے گا کہ ٹکیاں گھر ہی میں کسی نے تبدیل کی تھیں!”
“دو دن بعد!” عمران اسے گھورتا ہوا بولا۔ “گھر کا کوئی فرد اتنا احمق نہیں ہو سکتا، وہ اسی دن ٹکیوں کو بدلنے کی کوشش کرتا جس دن شیشی خریدی گئی تھی۔ اسی طرح وہ شبہے سے بالا تر ہو سکتا!”
“ہاں یہ سوچنے کی بات ہے۔”
“لہٰذا اسی پر زور دیتے رہو کہ وہ ٹکیاں استعمال کرنے سے قبل کہاں تھیں!”
“کچھ سمجھ نہیں آتا۔۔۔۔ محض ڈاکٹر جبین کی وجہ سے مجھے توجہ دینی پڑی!”
“ٹھیک ہے۔! میں بھی ہر عمر میں عشق کرنے کا قائل ہوں۔۔۔۔!”
“عشق۔۔۔۔” فیاض دانت پیس کر بولا۔
“فرینڈ شپ میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ایسی صورت میں جب کہ چھوٹی عمر والوں کو ہنسنے کا موقع مل رہا ہو!”
“وہ میری بیوی کی معالج ہے!”
“اس طرح بیوی بھی خوش۔۔۔۔ واہ کپتان صاحب! اگر کبھی شادی کی توفیق عطا ہوئی تو بیوی کو دائم المرض بنا کر رکھ دوں گا۔۔۔۔ اور روزانہ نئی لیڈی ڈاکٹر!”
“بکواس سننے نہیں آیا!”
“میں وعدہ کرتا ہوں کہ ڈاکٹر جبین کو اس بکھیڑے سے صاف نکال لے جاؤں گا۔۔۔۔ مگر جاؤں گا کہاں؟ سیدھے تمہارے گھر!”
“تمہاری باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تم نے کوئی خاص بات معلوم کی ہے۔۔۔۔!”
“ابھی تک تو نہیں لیکن جلد ہی امید ہے۔”
ٹھیک اسی وقت کسی نے دروازے پر ہولے سے دستک دی تھی۔
“کون ہے؟” عمران نے اونچی آواز سے پوچھا۔
“صاحب کیا چائے بنانی پڑے گی۔۔۔۔؟” گل رخ کی آواز آئی۔
“اور سنئے!” عمران فیاض کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔۔ “بنانی پڑے گی۔۔۔۔ یہ تو اس مردود سے بھی دو جوتے آگے جا رہی ہے!”
“میں چائے نہیں پیؤں گا!” فیاض نے برا سا منہ بنا کر کہا۔
“نہیں بنانی پڑے گی۔” عمران اونچی آواز میں بولا “ آرام فرمائیے!”
“میری سمجھ میں نہیں آتا آخر تم کس مٹی سے بنے ہو۔۔۔۔” فیاض بولا۔
“ملتانی مٹی سے۔۔۔۔ کافی چکنی ہوتی ہے۔” عمران نے سر ہلا کر کہا۔ چند لمحے کچھ سوچتا رہا پھر بولا۔۔۔۔ “یاسمین کے دوستوں کو بھی تم نے ٹٹولا ہو گا۔”
“صرف ایک۔۔۔۔ شیلا دھنی رام۔۔۔۔ اس کے علاوہ کوئی اور ایسا نہیں مل سکا جس سے اس کے بارے میں کچھ معلوم ہو سکتا۔۔۔۔ لیکن وقوعے والے دن وہ شیلا سے بھی نہیں ملی تھی۔۔۔۔”
“اور کیا جانتے ہو شیلا دھنی رام کے بارے میں۔۔۔۔؟”“اس کے بارے میں کچھ جاننے کی ضرورت۔۔۔۔؟” فیاض نے سوال کیا۔
“دھنی رام کے گہرے دوستوں میں سے ہیں مسٹر تصدّق!”
“ہوں گے۔۔۔۔” فیاض نے لا پرواہی سے کہا۔
“اچھا۔۔۔۔ اچھا۔!” عمران نے اس طرح کہا جیسے فیاض کا جواب بالکل درست ہو۔۔۔۔
فیاض خاموش بیٹھا رہا۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد عمران نے کہا۔۔۔۔ “اب تم سوچ رہے ہو گے کہ یہاں کیوں آئے تھے!”
“تم ٹھیک سمجھے۔۔۔۔” فیاض اٹھتا ہوا بولا۔۔۔۔ “یہ بات تو فون پر طے ہو سکتی تھی کہ اب میں بیگم تصدّق وغیرہ سے مزید پوچھ گچھ نہ کروں!”
“عقل مند ہو لیکن کسی قدر لیٹ ہو جاتے ہو!”
“میں جانتا ہوں تم نے مجھے کسی معاملے میں اندھیرے میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔ خیر دیکھا جائے گا!”
“سنو پیارے۔ تمہیں اس کے علاوہ کسی بات سے سر و کار نہ ہونا چاہئے کہ ڈاکٹر جبین شبہے سے بالاتر ہو جائیں۔ اس کی ذمہ داری میں پہلے ہی لے چکا ہوں۔۔۔۔”
“گویا تم صاف الفاظ میں کہہ رہے ہو کہ میں دخل اندازی نہ کروں۔”
“اگر ڈاکٹر جبین کی خیر و عافیت خداوند کریم سے نیک مطلوب ہو گی۔۔۔۔ تو تم وہی کرو گے جو میں کہوں گا!”
“ٹھیک ہے۔۔۔۔ خدا حافظ!” کیپٹن فیاض فلیٹ سے نکلا چلا آیا تھا۔فیاض کے جانے کے بعد اس نے فون پر جولیانا فٹز واٹر کے نمبر ڈائل کئے تھے اور ایکس ٹو کی آواز میں بولا تھا! “رپورٹ؟”
“ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی جناب۔۔۔۔” دوسری طرف سے آواز آئی۔ “صفدر شاہ دارا گیا ہے!”
“شیلا سے متعلق یہاں کون معلومات فراہم کر رہا ہے۔۔۔۔؟”
“کیپٹن خاور جناب!”
“کیا اس نے رپورٹ دی نہیں؟!”
“ابھی نہیں دی جناب!”
“سست رفتاری سے کام ہو رہا ہے!” وہ ایکس ٹو کی آواز میں غرایا۔
“مجھے اعتراف ہے جناب!”
“جیسے ہی رپورٹ ملے مجھے مطلع کرنا!”
“ایسا ہی ہو گا جناب!”
عمران نے ریسیور کریڈل پر رکھ کر جوزف کو آواز دی تھی۔
دوسرے ہی لمحے میں وہ دروازہ کھول کر بیڈ روم میں داخل ہوا۔
“سلیمان واپس آیا؟”
“نن۔۔۔۔ نہیں باس۔ لیکن تمہیں کیا معلوم۔۔۔۔؟ وہ تو تمہاری بے ہوشی کے دوران میں گیا تھا!”
“خواب دیکھا تھا میں نے!” عمران دھاڑا۔
“میرا اس میں کیا قصور ہے باس۔۔۔۔؟”
“سارا قصور تیرا ہی تو ہے۔۔۔۔ کیوں ان دونوں کو لڑنے جھگڑنے دیتا ہے!”
“میں کیا کر سکتا ہوں؟ ویسے میرا بس چلے تو دونوں کو قتل کر دوں!”
“کیوں؟”
“لڑتے جھگڑتے ہیں اور پھر ہنسنے بولنے لگتے ہیں!”
“تیری دانست میں کیا ہونا چاہئے۔۔۔۔؟”
“قتل اور صرف قتل جس طرح دونوں ایک دوسرے پر دانت پیستے ہیں ہیں ، وہ قتل ہی کا متقاضی ہے!”
“یہ تجھ پر خون کیوں سوار ہے۔۔۔۔؟”
“یہ جھگڑے کی توہین ہے باس کہ وہ پھر آپس میں ہنسنے بولنے لگیں!”
“جھگڑا کس بات پر ہوتا ہے؟”
“یہ آج تک میری سمجھ میں نہیں آ سکا۔ ! بس ہنستے بولتے ایک دم سے ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے ہیں!”
“کیا دونوں کے دماغ چل گئے ہیں؟”
“خدا ہی بہتر جانے مجھے تو اب کہیں اور بھیج دو باس!”
“جنت الفردوس کے بارے میں کیا خیال ہے؟”
“ایسی زندگی سے تو موت بہتر ہے !”
“او بد بخت شادی شدہ لوگوں کے سے انداز میں کیوں گفتگو کر رہا ہے؟”
“سنجیدگی سے سوچو باس! کہیں سچ میرا دماغ الٹ نہ جائے!” عمران اسے ترحّم آمیز نظروں سے دیکھتا رہا۔
تھوڑی دیر بعد جوزف نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ “ہو گئی ہو گی شادی لیکن میں ان کے اولاد تو ہرگز نہ ہونے دوں گا!”
عمران اچھل پڑا۔ “تو یعنی کہ تو اولاد نہ ہونے دے گا؟”
“ہاں۔۔۔۔ یہ میرا فیصلہ ہے باس!”
“کیا تیری سفارش پر ہونے والی تھی اولاد؟”
“تم نہیں جانتے کالا جادو!”
“واقعی پاگل ہو گیا ہے!”

“الو کی کھوپڑی مل گئی ہے اور گیدڑ کی تھوتھنی کے لئے ہم شکار پر چلیں گے باس۔!”
“شاید اب تم لوگ مجھے زندہ نہیں رہنے دو گے۔”
“تم خود سوچو باس کیا یہ دونوں اس قابل ہیں ‌کہ والدین کہلائیں؟”
“او عقل مند اس دنیا میں ننانوے فیصد افراد اس قابل نہیں ہیں کہ والدین کہلائیں پھر بھی کہلاتے ہیں۔!”
“اسی لئے تو دنیا برباد ہوئی جا رہی ہے۔۔۔۔!”
“میں اپنا سر دیواروں سے ٹکرا کر مر جاؤں گا۔!”
“بس اتنا ہی ہے تیرے بس میں۔ جب دل چاہے کر گزر۔ مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا، دفع ہو جا۔!” عمران ہاتھ ہلا کر بولا۔
جوزف کے جاتے ہی فون کی گھنٹی بجی تھی۔ عمران نے ہاتھ بڑھا کر ریسیور اٹھا لیا۔
“ہیلو۔!”
“میں مہ لقا بول رہی ہوں۔۔۔۔!”
“اچھا اچھا سامالیکم۔!”
“آپ نے کیا کیا۔۔۔۔؟”
“سب ٹھیک ہے۔ اب ان لوگوں سے پوچھ گچھ نہیں ہو گی۔!”
“لیکن مجرم کا سراغ تو ملنا ہی چاہئے۔”
“دعا تعویذ کرایئے۔ ہاتھ باندھے خدمت میں حاضر ہو جائے گا۔!”
“کیا مطلب؟”
“ظاہر ہے کہ بیگم تصدّق دل کی مریضہ ہیں۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ خود ان کے ہاتھ صاف ہوں لیکن انہی کا کوئی ہمدرد بھی ہو سکتا ہے۔!”
“میں نہیں سمجھی آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔!”
“اگر کوئی ہمدرد دونوں لڑکیوں کو ختم کر کے تصدّق صاحب کا وارث انہیں بنانا چاہتا ہو تو۔۔۔۔ پھر ان کے بعد خود مالک بن بیٹھنے کے امکانات پر غور کر رہا ہو تو۔”
“اتنی لمبی چھلانگ کون لگانا پسند کرے گا۔۔۔۔؟”
“کیا دس بیس سال کا فکسڈ ڈپازٹ کرا دینا انسانی فطرت کے خلاف ہے؟”
“بس تو پھر رختِ سفر باندھئے۔ بیگم تصدّق کے آبا و اجداد خراسان سے آئے تھے۔!”
“یہ لیڈی ڈاکٹر زہرہ جبین کیسی عورت ہے؟”
“دیکھئے اس بیچاری کو لپیٹے نہیں۔ یاسمین دو دن تک وہی ٹکیاں استعمال کرتی رہی تھی۔!”
“میرا مطلب ہے کہ اس نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟”
“میں بھلا اس کا کیا جواب دے سکتی ہوں۔۔۔۔ ویسے آپ شادی کیوں نہیں کرتے؟”
“شادی کرنے سے مجھے زکام ہو جاتا ہے۔!”
“کتنی کر چکے ہیں اب تک؟”
عمران خاموش رہا۔ ”ہیلو“ دوسری طرف سے آواز آئی۔
“یاسمین ایک ایک ہفتے تک گھر سے غائب رہتی تھی۔!” عمران نے کہا۔
“مجھے اس کا علم نہیں۔”
“مرنے سے چار دن قبل بھی وہ ایک ہفتے بعد گھر میں داخل ہوئی تھی۔”
“خدا جانے۔!”
“بات بیگم تصدّق کی تھی۔!”
ایکس ٹو والے فون کی گھنٹی بجی۔۔۔۔ اور عمران نے ڈاکٹر مہ لقا سے کہا۔”جو کچھ بھی امکان میں ہے ضرور کیا جائے گا۔”
“آپ ہمارے گھر کب سے نہیں آئے۔!”
“عدیم الفرصتی کی وجہ سے اپنا ہی گھر چُھوٹا ہوا ہے۔” کہہ کر عمران نے ریسیور کریڈل پر رکھ دیا۔
“ایکس ٹو والے فون کا ریسیور اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس سے منسلک ٹیپ ریکارڈر کا سرخ بلب روشن ہو گیا۔ معینہ مدت میں ریسیور نہ اٹھانے کی بنا پر کال ریکارڈ ہونے لگی تھی۔”
وہ چپ چاپ فون کے پاس سے ہٹ آیا۔ پیغام ریکارڈ ہو جانے کی علامت ظاہر ہوتے ہی اس نے ٹیپ ریکارڈ کا بٹن دبایا تھا۔ اسپول ریوائنڈ ہونے لگا۔!”
تھوڑی دیر بعد جولیانا فٹز واٹر کی آواز آئی تھی۔ “کیپٹن خاور کی رپورٹ۔ شیلا دھنی رام، عمر چوبیس سال، ففتھ ایئر میں ‌سوشیالوجی کی طالبہ ہے! آزاد خیال اور سرکش ہے! خاندان کے کسی فرد سے قابو میں نہیں آئی۔ کئی دن گھر سے غائب رہتی ہے۔ بہت جلد بے تکلف ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر لڑ کے دوست ہیں۔ سیر و شکار کی رسیا ہے۔ اکثر اس کے احباب جنگلوں میں کیمپنگ کرتے رہتے ہیں۔ وہ بھی ان کے ساتھ ہوتی ہے لیکن ان افراد کے زمرے میں نہیں آتی جو منشیات کا شوق رکھتے ہیں۔ ! ایسی کوئی شہادت نہیں مل سکی جس کی بنا پر جنسی بے راہ روی کی شکار بھی کہی جاسکے۔ ماضی قریب میں بھی وہ ایک ہفتے کی کیمپنگ میں شریک رہی تھی۔ اس کیمپنگ میں ‌گیارہ افراد نے حصہ لیا تھا! او ور اینڈ آل۔!”
عمران نے ٹیپ ریکارڈر کا سوئچ آف کر دیا۔ اس کی آنکھیں گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ “ماضی قریب میں کیمپنگ۔۔۔۔!” وہ آہستہ سے بڑ بڑایا۔! “گیارہ افراد” اب وہ پھر جولیانا فٹز واٹر کے نمبر ڈائل کر رہا تھا۔ دوسری طرف سے فوراً ہی جواب ملا۔

“رپورٹ مل گئی۔ ان گیارہ افراد کے نام اور پتے درکار ہیں ‌جنہوں نے کیمپ میں ‌شرکت کی تھی۔ جتنی جلد بھی ممکن ہو۔” عمران نے ماؤتھ پیس میں کہا۔
“بہت بہتر جناب۔”
“دیٹس آل۔!” کہہ کر عمران نے ریسیور کریڈل پر رکھ دیا۔
چند لمحے کھڑا کچھ سوچتا رہا اور پھر سٹنگ روم میں ‌آ کر گل رخ کو آواز دی۔
“جی صاحب؟”
“دوپہر کا کھانا۔ دو بج رہے ہیں۔!”
“میں سمجھی تھی شاید آپ باہر جائیں گے۔ اب تو مسور کی دال کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔”
“اس سے پہلے کیا تھا؟”
“کھیری گردے اور آلو کے کباب۔۔۔۔!”
“خدا غریقِ رحمت کرے تم دونوں کو۔۔۔۔ وہ مردود واپس آیا کہ نہیں؟”
“واپس نہ آتا تو مسور کی دال ہی کیسے بچتی۔۔۔۔!”
“کہاں ہے۔۔۔۔؟”
“قیلولہ کر رہا ہے۔” وہ برا سامنہ بنا کر بولی۔! “کوٹھی میں ہوتا تو اب تک چندیا صاف ہو گئی ہوتی۔۔۔۔ میری تو تقدیر ہی پھوٹ گئی ہے چھوٹے سرکار۔۔۔۔!”
“مجھے نہیں معلوم تھا کہ شادی کے بعد قیلولہ بھی شروع کر دے گا۔!”
“آپ جیسے بادشاہ کا نوکر ٹھہرا۔”
“ارے مسور کی دال ہی لے آ بادشاہ کے لئے۔۔۔۔”
“مجھے بڑی شرمندگی ہے صاحب جی۔۔۔۔ اسی نے کہا تھا کہ آپ دوپہر کا کھانا نہیں کھائیں گے۔!”
“اب میں ‌کہہ رہا ہوں کہ کھاؤں گا۔!”
“صرف دال۔۔۔۔ ایک چپاتی بھی تو نہیں ‌چھوڑی۔!” گل رخ نے کہا۔
“صرف دال کھانے کی ترکیب یہ ہے کہ اگر پتلی نہ ہو تو اس میں ‌ایک گلاس پانی بھی شامل کیا جائے۔۔۔۔ اور چمچے سے” عمران نے داہنی ہتھیلی پر چمچہ فرض کر کے منہ کے قریب لے جاتے ہوئے کہا۔
“بڑا جی دکھتا ہے آپ کے لئے صاحب جی۔۔۔۔ ٹھہریئے میں گرم گرم چپاتیاں ڈالتی ہوں اور آملیٹ بنائے دیتی ہوں۔۔۔۔!”
“لیکن انڈے دینے والی مرغی اس وقت کہاں مل سکے گی؟” عمران نے مایوسی سے کہا۔
“انڈے تو ہیں۔!” وہ چہک کر بولی۔
“جا جلدی سے دیکھ کہیں اب تک ان میں سے بچے نہ نکل آئے ہوں۔!”
وہ کھی کھی کرتی ہوئی بھاگ گئی اور عمران دونوں ہاتھوں پر سر تھامے ہوئے ایک طرف بیٹھ گیا۔علامہ دہشت نے شیلا پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی تھی اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کر کے سامنے بکھرے ہوئے کاغذات کی طرف متوجہ ہو گیا تھا۔
وہ چپ چاپ بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ اس کی طرف دیکھے بغیر بولا۔ “تم میرے مشن کےبارے میں کیا جانتی ہو؟”
“آپ دنیا کو غیر ذہین افراد سے پاک کر دینا چاہتے ہیں۔!” شیلا نے جواب دیا۔
“مجھے خوشی ہے کہ مقصد تمہارے ذہن میں‌واضح ہے! بہر حال اس کے لئے پہلا قدم یہی ہونا چاہئے کہ ان غیر ذہین لہو گوں کا صفایا کر دیا جائے جو اپنی نااہلی کے باوجود بھی ذہین لہو گوں کی سطح پر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔”
“ہاں یہ بے حد ضروری ہے جناب۔!”
“اپنے باپ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟”
“میری دانست میں تو وہ ذہین آدمی ہیں۔”
“کس بنا پر کہہ رہی ہو۔۔۔۔؟”
“دولت مندی انہیں ورثے میں نہیں ملی تھی، اپنی ذہانت کے بل بوتے پر وہ اتنے دولت مند ہوسکے ہیں۔!”
“لیکن وہ سیاست میں حصہ لیتا ہے۔۔۔۔ الیکشن لڑتا ہے اور سیٹ بھی حاصل کرتا ہے دولت کے بل بوتے پر۔۔۔۔!”
“مجھے تسلیم ہے۔۔۔۔!”
“سیاست کے لئے نا اہل تسلیم کرتی ہو اسے۔۔۔۔؟”
“جی ہاں۔!”
“تب پھر کیا خیال ہے تمہارا؟”
“میں نہیں سمجھی جناب۔!”
“کیا اسے زندہ رہنا چاہئے؟ ہر بار وہ کسی ذہین آدمی کے حق پر قابض ہو جاتا ہے۔۔۔۔!”
“مم۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ کک۔۔۔۔ کیا عرض کروں۔۔۔۔!”
“میرے مشن کی روشنی میں دیکھو۔!”
“دد۔۔۔۔ دیکھ رہی ہوں۔!”
“اچھا تو پھر اسے سیاست میں حصہ لینے سے باز رکھنے کی کوشش کرو۔!”
“کس طرح جناب؟!”
“جس طرح بھی ممکن ہو۔”
“بہت مشکل ہے۔۔۔۔!”
“یعنی وہ کسی طرح بھی باز نہیں آ سکتا؟”
“سوال ہی نہیں پیدا ہوتا جناب۔۔۔۔!”
“تم نے وفا داری کا عہد کیا تھا۔!”
“میں اس پر قائم ہوں جناب۔!”
“تب پھر اپنے باپ کو قتل کر دو۔۔۔۔!”
“جنابِ عالی۔!” وہ بوکھلا کر کھڑی ہوئی۔
“بیٹھ جاؤ۔”
وہ غیر ارادی طور پر بیٹھ گئی تھی۔ منہ پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہو گئی ہے۔
دفعتاً علامہ دہشت نے قہقہہ لگایا۔
وہ حیرت سے اسے دیکھتی رہی۔ بالآخر وہ بولا۔! “تم بھی کیڑوں مکوڑوں سے بالا تر نہیں ہو۔ الفاظ کی قدر و قیمت جاننا سیکھو! جو کچھ زبان سے کہتی ہو اس پر عمل نہیں کر سکتی۔ تمہارا باپ سیاست کے لئے غیر ذہین ہے۔ اگر سیاست میں حصہ لینا ترک نہیں کرتا تو اسے مر جانا چاہئے۔”
“مم۔۔۔۔ میں ‌تسلیم کرتی ہوں۔۔۔۔!”
“میری تنظیم سے باہر رہ کر صرف تسلیم کرتی ہو۔! میری تنظیم میں‌ رہ کر تمہیں اس کو کسی ذہین آدمی کے لئے راستے سے ہٹانا پڑے گا۔!”
“آپ یہ کام کسی اور کے سپرد کر دیجئے۔ میں‌ اپنے باپ کو اپنے ہی ہاتھوں سے کیسے ختم کرسکتی ہوں۔!” وہ پھنسی پھنسی سی آواز میں بولی۔!
“تم سچ مچ خوف زدہ نظر آنے لگی ہو۔!”
وہ کچھ نہ بولی۔ علامہ کہتا رہا۔ “حقیقتاً میں تمہارے باپ کی موت کا خواہاں نہیں ہوں۔ تمہیں صرف یہ احساس دلانا چاہتا تھا کہ تم ابھی کچی ہو۔ میری تنظیم میں نہ کوئی کسی کا باپ ہے نہ بیٹا ہے اور نہ بھائی۔ وہ صرف تنظیم کے لئے ہے۔ صرف تنظیم کا بیٹا ہے دوسرے غیر ذہین آدمیوں‌کا فنا کر دینے پر تمہیں کوئی اعتراض نہیں۔ بس تمہارا باپ ان کے زمرے میں نہ آتا ہو۔!”
“میں تنظیم کے لائق نہیں ہوں۔!” وہ آہستہ سے بولی۔“لہٰذا جب چاہو ہمارا ساتھ چھوڑ سکتی ہو۔ نہ میں کسی کو بلاتا ہوں اور نہ کسی کے ساتھ چھوڑنے کی پرواہ کرتا ہوں۔ اب تم جاسکتی ہو۔!”
وہ اٹھی تھی اور تیزی سے باہر نکل گئی تھی۔ علامہ مسکراتا رہا تھا اور پھر اونچی آواز میں‌ بولا تھا۔ “اب آ جاؤ۔!”
بائیں جانب کا دروازہ کھلا اور پیٹر کمرے میں داخل ہوا۔ اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔!
“تم نے سنا۔!” علامہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
پیٹر نے سر کو اثباتی جنبش دی تھی۔!
“لیکن فی الحال اسے قتل نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔ پولیس شاہ دارا تک جا پہنچی ہے۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ شیلا کے چچا سے کسی نے براہِ راست اس سلسلے میں گفتگو کی تھی۔!”
“کس سلسلے میں؟”
“شاید تم کنفیوز ہو گئے ہو۔! بیٹھ جاؤ۔ کیا تمہیں یاد نہیں کہ شیلا یاسمین کو شاہ دارا لے جانے کے بہانے کیمپنگ کے لئے لائی تھی۔”
“مجھے یاد ہے جناب۔ شاید میں سچ مچ کنفیوز ہو گیا تھا۔!”
“میں یہ کہہ رہا تھا کہ اس کے چچا نے لا علمی ظاہر کی ہو گی کیونکہ وہ سر ے سے وہاں گئی ہی نہیں تھی۔ لہٰذا اب شیلا سے دوبارہ گفتگو ہو گی“
“اور وہ بتا دے گی؟”
“اس سے پہلے ہی تمہیں یہ کام کرنا ہو گا۔!”
“کیا کام؟!”
“شیلا کو پاگل ہو جانا چاہئے! اسی طرح پولیس ہم سے دور رہ سکتی ہے۔ وہ سمجھے گی کہ شیلا نے جواب دہی سے بچنے کے لئے پاگل پن کا ڈھونگ رچایا ہے۔!”
“لیکن وہ پاگل کس طرح ہو گی جناب؟”
“آج شام کلب میں ‌سب کچھ ہو جائے گا۔!”
“لیکن پولیس طبعی معائنہ تو کرا سکے گی۔!”
“اسے جو چیز شراب میں دی جائے گی، اس کا اثر سسٹم پر دریافت نہ کیا جاسکے گا۔ اسی بنا پر تو پولیس باور کرے گی کہ وہ بن رہی ہے۔!”
“آپ ذہانت کا سرچشمہ ہیں جناب۔!”
“پھر وہ زندگی بھر جاگتی رہے گی۔ لیکن ہوش میں نہ ہو گی اور یہ زہر تم ہی اس کی شراب میں ملاؤ گے۔!”
علامہ نے میز کی دراز سے ایک چھوٹی سی شیشی نکالی تھی۔
“آج ہی یا کبھی نہیں!” پیڑ نے شیشی کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔
“یقین کرو۔۔۔۔ اس گروپ میں تمہارے علاوہ مجھے اور کوئی بھی ذہین نہیں معلوم ہوتا۔”
علامہ اس کی ہتھیلی پر شیشی رکھتا ہوا بولا۔
پیٹر پلکیں جھپکائے بغیر اس کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔!
“اس کا طریقۂ استعمال بھی سن لو۔” علامہ نے کہا اور میز کی دوسری دراز کھول کر ایک بڑی سی انگشتری نکالی۔۔۔۔! “یہ انگشتری۔۔۔۔ ذرا اپنی کرسی اور قریب لاؤ۔۔۔۔ یہ دیکھو۔۔۔۔ نگینہ۔۔۔۔ اس طرح اپنی جگہ سے ہٹا ہے۔ اس خالی جگہ میں‌وہ سیال بھرا جائے گا۔۔۔۔ اس طرح نگینہ دوبارہ اپنی جگہ پر آئے گا۔ انگشتری پہن لی گئی۔۔۔۔ انگشتری والا ہاتھ تم کسی بہانے سے اس طرح اس کے گلاس پر رکھو گے۔۔۔۔ اور بیچ کی انگلی سے اس طرح جگہ پر دباؤ ڈالو گے۔ سارا سیال گلاس میں ٹپک جائے گا۔۔۔۔ اسے یا پاس بیٹھے ہوئے کسی فرد کو احساس تک نہ ہو سکے گا کہ کب کیا ہو گیا۔!”
اس نے انگشتری بھی پیٹر کے حوالے کی تھی اور پیٹر نے ایک بار پھر اس کا طریقِ استعمال سمجھا تھا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: