Allama Dahshatnak by Ibne Safi – Episode 4

0

علامہ دہشت ناک از ابن صفی قسط 04

“لیکن جناب!” اس نے کچھ دیر بعد کہا۔ “یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہ سکتی کہ ہم نے کیمپنگ کی تھی اور اس میں کون کون شریک تھا۔”
“میری کیمپنگ کبھی ڈھکی چھپی نہیں ‌رہتی۔۔۔۔! اب بہتیرے جانتے ہوں گے کہ اس میں کس کس نے شرکت کی تھی۔ دراصل میں‌کالی بھیڑوں کو اپنے آس پاس نہیں دیکھنا چاہتا۔ یہ کسی طرح بھی برداشت نہیں ‌کر سکتا کہ کوئی اپنے گھر والوں کو دھوکے میں رکھ کر میرے حلقے میں شامل ہو۔! علی الاعلان آسکتے ہو تو آؤ۔۔۔۔ ورنہ کوئی ضرورت نہیں۔ تم شیلا کو کیا سمجھتے ہو۔ صرف ایڈونچر کے لئے ہمارے قریب آئی تھی۔ یاسمین احساس کمتری کا شکار تھی۔ اسے اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھتی تھی کہ شیلا جیسی دولت مند لڑکی اسے گھاس ڈالتی ہے۔”
“تو پھر شیلا کو۔۔۔۔!”
“میں سمجھ گیا!” علامہ ہاتھ اٹھا کر بولا۔ “تم یہی کہنا چاہتے ہو نا کہ پھر شیلا کو راستے سے ہٹا دینے سے کیا فرق پڑےگا؟”
“جی ہاں۔!”
“اگر وہ پاگل ہوگئی اور میڈیکل ٹیسٹ نے یہ ثابت کر دیا وہ پاگل نہیں ہے تو یاسمین والا معاملہ صرف اسی کے گرد گھوم کر رہ جائے گا۔۔۔۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ دونوں میری کیمپنگ میں شامل تھیں۔!”
“میں سمجھ گیا جناب۔!”
علامہ دہشت کی کوٹھی سے نکل کر شیلا اپنی سپورٹس کار میں بیٹھی تھی اور اس کا تعین کئے بغیر کہ کہاں جانا ہے، چل پڑی تھی۔ عجیب طرح کا موڈ تھا۔ بڑی گھٹن محسوس کر رہی تھی۔
سوشیالوجی کی طالبہ ہونے کی بنا پر علامہ سے بالکل ہی قطع تعلق ممکن نہیں‌تھا۔ اب وہ اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اسے یہ سال ضائع کرکے اپنا مضمون ہی بدل دینا چاہئے۔ علامہ کے تصور سے بھی وحشت ہو رہی تھی۔
بے خیالی میں گاڑی شہر سے باہر نکل آئی۔ دفعتاً وہ چونک پڑی پہلے اسے یہ خیال کیوں نہ آیا تھا۔ آخر علامہ اتنا دولت مند کہاں سے ہو گیا۔ کیمپ میں‌ وہ اس کی کہانی بھی سن چکی تھی۔
شہر میں‌علامہ کی کئی کوٹھیاں تھیں۔ روپیہ پانی کی طرح بہاتا تھا۔ درجنوں نادار طلبہ اس کی مدد سے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ بے راہ روی کا شکار ہو کر مقروض ہوجانے والے طلباء کی آخری امید گاہ بھی وہی تھا۔ بڑی فراخ دلی سے ان کی امداد کرتا تھا۔
کہاں سے آتی اتنی دولت؟ کیا وہ اپنی ذہانت سے کام لے کر غیر قانونی ذرائع سے دولت کما رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو تعجب کی بات نہیں۔ اور وہ جہنم میں جائے۔۔۔۔ وہ تو اس نے اس کی شخصیت میں‌ ایک خاص قسم کی کشش محسوس کی تھی جو عام طور پر لوگوں میں نہیں پائی جاتی ورنہ اس کے قریب رہنے کی خواہش ہی نہ پیدا ہوتی۔
وہ اپنے ذہن کو ٹٹولنے لگی۔ اس توقع کا تجزیہ کرنے لگی جس کی بنا پر وہ اس کے حلقے میں شامل ہوئی تھی۔ ادھیڑ عمر کے کسی بھی فرد میں اس نے آج تک نوجوانوں کے لئے اتنی کشش نہیں پائی تھی۔ وہ کیسی کشش تھی۔ ذہنوں میں کیسی توقعات کو جنم دیتی تھی۔۔۔۔!
“اوہ لعنت ہے۔۔۔۔!” ختم بھی کر۔۔۔۔ کیوں سوچ رہی ہے اس کے بارے میں۔۔۔۔! اور پھر اسے پولیس کا خیال آیا۔ آج ہی اس کے چچا نے شاہ دارا سے اسے فون کال کی تھی اور اس معاملے کے بارے میں پوچھا تھا۔ جس کا اس کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا۔ اس نے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی تھی کہ کوئی خاص بات نہیں۔ یہ محض اتفاق تھا کہ وہ متوفیہ کو اس کے بہانے پکنک پر لے گئی تھی۔ لہٰذا پولیس اس سلسلے میں بھی پوچھ کرے گی۔ اس کی موت کا تعلق خود اس سے قطعی نہیں ہے۔
سپورٹس کار فراٹے بھرتی رہی۔ ویرانے کا سناٹا کسی قدر سکون بخش محسوس ہو رہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی، کیوں نہ شاہ دارا ہی کی طرف چل نکلے۔ یہاں کے ماحول سے دوچار دن کے لئے چھٹکارا پا ہی لینا چاہئے۔ اس کے ذہن پر یاسمین کی موت کا بھی اثر تھا۔ وہ اس کی بہت قریبی دوست تھی۔ ہر بات پر اس سے متفق ہوجاتی تھی۔ کبھی کوئی کام اس کی مرضی کےخلاف نہیں کرتی تھی۔!
دفعتاً اسے بریک لگانے پڑے۔ کیوں کہ آگے کچھ دور ایک آدمی ہاتھ اٹھائے بیچ سڑک پر کھڑا تھا اور بائیں جانب ایک گاڑی بھی کھڑی نظر آئی۔ شاید یہ گاڑی کچھ ہی دیر قبل اس کے پاس سے نکلی تھی۔ اس نے اپنی کار روک دی۔۔۔۔!
“مم۔۔۔۔ محترمہ۔۔۔۔!” وہ قریب آ کر ہکلایا۔ خوش شکل تھا لیکن احمق بھی معلوم ہوتا تھا۔ چہرے پر ایسے ہی تاثرات تھے۔
“کیا بات ہے؟” شیلا نے تیکھے انداز میں پوچھا۔
وہ کچھ اور زیادہ بوکھلا گیا۔ منہ سے الفاظ ہی نہیں ‌نکل رہے تھے۔ بس ہکلائے جا رہا تھا اور پھر شیلا کو اس پر رحم آنے لگا۔
“بتایئے کیا بات ہے۔۔۔۔؟” اس نے نرم لہجے میں ‌پوچھا۔
اس ہکلاہٹ کے دوران میں اس کی آنکھوں سے آنسو بھی بہنے لگے تھے۔
“مم۔۔۔۔ میری گاڑی۔۔۔۔ بند ہو گئی ہے۔” اس نے بدقّت کہا۔ “معافی چاہتا ہوں میں آپ کو مرد سمجھا تھا۔۔۔۔ ورنہ کبھی اس طرح نہ روکتا۔۔۔۔ معاف کر دیجئے۔”
“مرد سمجھ کر۔۔۔۔؟” شیلا ہنس پڑی۔
“جج۔۔۔۔ جی ہاں۔۔۔۔”
“اور میں چونکہ مرد نہیں ‌ہوں اس لئے آپ کو معاف کر دوں۔۔۔۔ یعنی دوسرے الفاظ میں اپنا راستہ لوں؟”
“میں‌گڑگڑا کر معافی مانگتا ہوں۔۔۔۔”
“میں ہرگز نہیں جاؤں گی۔ میں آپ کی مدد کروں گی۔”
“آپ۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔ یعنی کہ آپ کیا مدد کر سکیں گی؟”
“آپ گاڑی کے انجن کے بارے میں کچھ نہیں‌جانتے؟”
“جج۔۔۔۔ جی نہیں۔۔۔۔”
“میں جانتی ہوں” اس نے کہا اور اپنی کار سڑک کے کنارے لگانے لگی۔
“نہیں آپ جایئے۔۔۔۔ لوگ کیا سوچیں گے؟”
“کیا سوچیں گے؟”
“مم۔۔۔۔ میرا۔۔۔۔ مطلب یہ کہ کہیں کچھ غغ۔۔۔۔ غلط نہ سوچ لیں۔۔۔۔”
وہ حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔ ادھر چہرے پر چھائی ہوئی حماقت کچھ اور گہری ہو گئی تھی۔ شیلا بے ساختہ ہنس پڑی۔ اپنی نوعیت کا ایک ہی آدمی معلوم ہوتا تھا۔
وہ گاڑی سے اُتر کر اس کی گاڑی کے قریب جا کھڑی ہوئی۔
“ بونٹ اٹھایئے۔” اس نے کہا۔
“جج۔۔۔۔ جی۔۔۔۔ بہت اچھا۔” اجنبی نے بوکھلائے ہوئے انداز میں تعمیل کی تھی۔
وہ تھوڑی دیر تک انجن ادھر ادھر ہاتھ لگانے کے بعد بولی تھی۔ “آپ اسٹارٹ کیجئے” لیکن پندرہ بیس منٹ گزر جانے کے بعد بھی گاڑی اسٹارٹ نہیں ہوئی تھی۔
اس دوران میں بہیتری گاڑیاں گزر گئی تھی لیکن شیلا نے اسے کسی اور کو روکنے کا مشورہ نہیں دیا تھا۔ وہ اسی قسم کی لڑکی تھی، مردوں کے مقابلے میں شکست تسلیم کر لینا سیکھا ہی نہیں تھا۔
“اور۔۔۔۔ کسی کو۔۔۔۔ روکوں۔۔۔۔؟” اجنبی نے کچھ دیر بعد پوچھا۔
“میری توہین نہ کیجئے۔” وہ جھنجھلا کر بولی۔ “آپ نے مجھے روکا ہے۔۔۔۔ اس لئے میں ہی آپ کے لئے کچھ کروں گی۔”
“جی بہت اچھا۔” اجنبی نے سعادت مندانہ انداز میں کہا جس میں بے بسی بھی شامل تھی۔ شیلا کو اس کا یہ رویہ بہت بھایا تھا۔ پہلا مرد تھا جو اس سے کسی طرح کا اختلاف ہی نہیں کر رہا تھا۔
“آپ کو کہاں جانا ہے؟”
“شش شاہ دارا۔۔۔۔”
“بس تو پھر ٹھیک ہے۔ میں بھی وہیں جا رہی ہوں، آپ کو بھی کھینچ لے چلوں گی۔”
“کھک۔۔۔۔ کھینچ۔۔۔۔؟”
“ہاں۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ آپ کی گاڑی اپنی گاڑی سے باندھتی ہوں۔۔۔۔”
“رسّہ کہاں سے آئے گا۔۔۔۔؟” اجنبی نے پوچھا۔
“پٹ سن کی کاشت کریں گے۔۔۔۔”
“جی بہت اچھا۔”
اس بار شیلا نے اسے شبے سے دیکھا تھا لیکن وہ سرجھکائے کھڑا رہا۔ چہرے پر بناوٹ کا شائبہ تک نہیں تھا۔
“تو شروع کریں پٹ سن کی کاشت؟”
“ضرور۔۔۔۔ ضرور۔۔۔۔ مم۔۔۔۔ مگر پٹ سن کیا چیز ہے۔۔۔۔؟”
“جوٹ۔۔۔۔”
“تب تو بہت دن لگ جائیں گے۔!” بڑی سادگی سے کہا گیا۔
“آپ کا نام کیا ہے جناب؟”
“عمران۔۔۔۔!”
“کیا کرتے ہیں؟”
“کاشت۔۔۔۔ مطلب یہ کہ ایگریکلچرل فارمز ہیں میرے۔۔۔۔!”
“اور آپ پٹ سن نہیں جانتے۔۔۔۔!”
“اُردو میں بہت سی چیزیں نہیں جانتا۔ کیا آپ بتائیں گی کہ ڈیوٹ کیا ہوتا ہے؟”
شیلا بے ساختہ ہنس پڑی تھی لیکن اس کی احمقانہ سنجیدگی میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آیا تھا۔ اس نے اس کی طرف دیکھا اور پھر خود بھی سنجیدہ ہو کر بولی۔ “میرے لئے بھی یہ لفظ بالکل نیا ہے۔ شاہ دارا میں آپ کہاں جائیں گے؟”
“سٹار ہوٹل میں ٹھہروں گا۔ بیج خریدنے جا رہا ہوں۔”
“ارے۔۔۔۔ وہیں تو مجھے بھی ٹھہرنا ہے۔۔۔۔!” شیلا نے کہا۔۔۔۔ نہ جانے کیوں اُس کا دل چاہ رہا تھا کہ اس شخص سے راہ و رسم بڑھائے۔
“یہ تو واقعی بہت اچھی بات ہے۔۔۔۔!” اجنبی نے خوش ہو کر کہا۔ “تو پھر میں اپنی گاڑی یہیں چھوڑے دیتا ہوں۔!”
“یہ کوئی امریکن ہائی وے نہیں ہے! کل تک آپ کو یہاں ‌گاڑی کا ڈھانچہ بھی شاید نہ ملے۔!”
“میرے پاس رسہ ہے۔۔۔۔ ہمیشہ ساتھ رکھتی ہوں۔۔۔۔ بات یہ ہے کہ ایک سیلانی قسم کی لڑکی ہوں۔ کبھی کبھی مجھے بھی اپنی گاڑی کسی دوسری گاڑی سے باندھنی پڑتی ہے۔!”
اس نے اپنی گاڑی کی ڈکی کھول کر رسّے کا ایک لچھا نکالا تھا۔!

“یہ تو اچھا نہیں لگے گا کہ آپ مجھ مرد کی گاڑی کھینچیں۔!”
“کیا مرد مرد لگا رکھی ہے۔ کیا میں آپ سے کمزور ہوں؟”
“جی ہاں۔!”
“اچھی بات ہے تو کھڑے رہئے یہیں ، میں جا رہی ہوں۔۔۔۔!”
“ارے۔۔۔۔ ارے۔۔۔۔ مم میری بات تو سنئے۔۔۔۔ میں کہہ رہا تھا کہ آپ میری گاڑی میں بیٹھیں اور میں آپ کی گاڑی چلاؤں۔!”
“جی نہیں۔۔۔۔ آپ کو برابری تسلیم کرنی پڑے گی۔!”
“آپ کہتی ہیں تو تسلیم کئے لیتا ہوں۔!” وہ مردہ سی آواز میں بولا۔
“اس بات پر میں آپ کو اجازت دے دوں گی کہ آپ میری گاڑی ڈرائیو کریں۔”
“شکریہ! مادام!”
ڈیڑھ گھنٹے بعد دونوں شاہ دارا پہنچ گئے تھے اور شیلا نے سچ مچ چچا کے گھر قیام کرنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔ سٹار ہوٹل ہی میں کمرہ حاصل کیا تھا اور کوشش کی تھی کہ دونوں کے کمرے برابر ہی ہوں۔!
“کل صبح آپ کی گاڑی کسی مکینک کے حوالے کر دی جائے گی۔!” شیلا نے عمران سے کہا۔! “میں نے منیجر سے بات کر لی ہے۔”
“آپ کتنی اچھی ہیں۔!”
“خوشامد نہیں۔!”
“دیکھئے۔۔۔۔ اب آپ میری توہین کر رہی ہیں۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ خوشامد نہیں کر رہا”
“کیا بُرا مان گئے؟”
“مان جاتا۔۔۔۔ مگر آپ واقعی بہت اچھی ہیں۔!”
“آپ نے میرے بارے میں کوئی بُری رائے کیوں نہیں قائم کی۔!”
“اس لئے کہ آپ بُری نہیں ہیں۔!”
“فرض کیجئے۔ میں آپ کے ساتھ کوئی فراڈ کرنا چاہتی ہوں تو؟”
“تو پھر؟”
“تو پھر کیا؟ جب تک آپ فراڈ نہ کریں۔ میرے لئے اچھی ہی رہیں گی۔!”
“اور آپ میری طرف سے ہوشیار رہیں گے؟”
“میں خواہ مخواہ اپنے ذہن کو تھکاتے رہنے کا قائل نہیں ہوں۔ جب جو کچھ ہو گا دیکھا جائے گا۔ اور میں تو اس کا عادی ہوں۔ میرے ملازم ہی مجھے صبح سے شام تک بے وقوف بناتے رہتے ہیں۔!”
“پھر میں کیا کروں؟ عقل مندوں کی زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ جو کچھ بھی گزرے چپ چاپ جھیلتے رہو اور مگن رہو۔!”
“آپ تو ایک بالکل ہی نئی بات سنا رہے ہیں” شیلا نے اسے گھورتے ہوئے حیرت سے کہا۔ وہ سوچنے لگی تھی کہ ذہین کہلانے کا اہل علامہ دہشت ہے یا یہ بیوقوف آدمی۔!
“یہ نئی بات نہیں ہے محترمہ۔!”
“میرے لئے تو بالکل نئی بات ہے کوئی بھی دیدہ و دانستہ بے وقوف بننا پسند نہیں کرتا۔!”
“جب سے آدمی کو اپنا ادراک ہوا ہے، وہ اسی کش مکش میں مبتلا ہے۔!”
“کس کشمکش میں؟”
“اسے بے وقوف بننا چاہئے یا نہیں۔ جو بے وقوف نہیں بننا پسند کرتے وہ زندگی بھر جھلستے رہتے ہیں۔!”
“آپ بھی بے وقوف نہیں معلوم ہوتے۔!”
“جنہیں نہیں معلوم ہوتا وہ مجھ سے دور بھاگتے ہیں۔ جنہیں معلوم ہوتا ہوں وہ مجھےمزید بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔!”
“اور آپ بنتے ہیں؟”
“بننا ہی پڑتا ہے۔۔۔۔ یہی ہے زندگی۔۔۔۔ اور بڑی خوبصورت زندگی ہے۔ اگر سب عقل مند ہو جائیں تو زندگی ریگستان بن کر رہ جائے گی۔!”
“اوہ۔۔۔۔ میں تو بھول ہی گئی تھی آپ کیا پیتے ہیں؟”
“ٹھنڈا پانی۔!”
“میرا مطلب تھا مشروبات میں۔۔۔۔ اس وقت کیا پئیں گے؟”
“جو کچھ میسر آ جائے۔!”
“وہسکی منگاؤں آپ کے لئے؟”
“محترمہ۔۔۔۔ محترمہ۔۔۔۔ مشروبات سے میری مراد ہمیشہ چائے کافی یا کولڈ ڈرنک ہوتی ہے۔ میں شراب نہیں پیتا۔”
“معاف کیجئے گا۔۔۔۔”
“آپ کچھ پینا چاہیں تو منگوا لیں۔!”
“جب آپ نہیں پیتے تو آپ کے سامنے نہیں پیوں گی۔!”
“آپ خواہ مخواہ تکلف کر رہی ہیں، مجھے قطعی بُرا نہیں لگے گا۔!”
“میں بور ہو کر شہر سے بھاگی تھی۔!”
“کیا میں آپ کو بور کر رہا ہوں؟”
“ہرگز نہیں۔۔۔۔ میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ آپ تو بالکل ہی نئی قسم کے آدمی ہیں۔ آپ کے ساتھ بور ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔۔۔۔ دراصل میں بہت پریشان ہوں۔!”
“آپ محض اس لئے پریشان ہیں کہ خود کو عقل مند سمجھتی ہیں۔!”
“کیا مطلب؟” وہ چونک کر اسے گھورنے لگی۔
“کیا میں آپ کے لئے مارٹینی منگواؤں؟”
“شکریہ شدت سے ضرورت محسوس کر رہی ہوں۔!”
عمران نے فون پر روم سروس سے رابطہ قائم کر کے مارٹینی اور کافی طلب کی تھی۔!
“آپ نے ابھی تک میرا نام بھی معلوم کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔!” شیلا نے کہا۔
“مجھے نام یاد نہیں رہتے اسی لئے پوچھتا بھی نہیں ہوں۔!”
“میرا نام شیلا ہے۔۔۔۔ شیلا دھنی رام۔۔۔۔!”
“شکیلہ فضل امام ہوتا تب بھی کوئی فرق نہ پڑتا۔!”
“میں نہیں سمجھی۔!”
“بس آدمی کا بچہ ہونا کافی ہے نام کچھ بھی ہو۔!”
“آپ مجھے بہت ذہین معلوم ہوتے ہیں۔!”
“سب سے بڑی حماقت وہی ہے جسے لوگ ذہانت کہتے ہیں۔!”
“یہ کیا بات ہوئی؟”
“ذہانت نے آدمی کو نظریات دیئے ہیں۔۔۔۔ اور وہ نظریات کی پوٹ بن کر رہ گیا ہے۔۔۔۔ آدمی نہیں رہا۔!”
نظریات ہی کی بنا پر آپ شیلا دھنی رام ہیں، شکیلہ فضل امام نہیں ہیں۔ نظریات ہی شیلا اور شکیلہ کے درمیان دیوار بن گئے ہیں اور دونوں ایک دوسری کو نفرت سے دیکھتی ہیں۔!”
“آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟”
“کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ خلا میں ہاتھ پاؤں مار رہا ہوں۔!”
کسی نے دروازے پر دستک دی تھی۔
“آ جاؤ۔ !” عمران نے اونچی آواز میں کہا اور ویٹر طلب کی ہوئی اشیا سمیت كمرے میں داخل ہوا۔
شراب نوشی کے دوران بھی شیلا سوچتی رہی تھی۔ عجیب آدمی ہے۔ عجیب قسم کی باتیں کرتا ہے۔ کیا وہ اس کے سامنے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر ڈالے۔ وہ بری طرح گھٹ رہی تھی۔
“میں بہت پریشان ہوں!” وہ بالآخر بولی۔
وہ اس کی طرف دیکھنے لگا۔
“کسی نے میری سہیلی کو زہر دے دیا۔ وہ چپ چاپ مر گئی اور طریقہ بھی وہ اختیار کیا کہ اس نے خود اپنے ہی ہاتھوں سے زہر کھایا۔!”
“میں نہیں سمجھا۔!”
“وہ اعصابی سکون کے لئے مستقل طور پر ایک دوا استعمال کرتی رہتی تھی۔ کسی نے شیشی میں اصل ٹکیاں نکال کر زہریلی ٹکیاں رکھ دیں جو بالکل اصل ٹکیوں کی شکل کی تھیں۔ اس طرح اس نے نادانستگی میں زہر کھا لیا۔”
“ویری سیڈ۔”
“وہ میری بہت پیاری سہیلی تھی۔!”
“واقعی آپ دکھی ہوں گی۔!”
“بہت زیادہ۔ اس سے کچھ ہی دن پہلے مجھ سے ایک غلطی سر زد ہوئی تھی جس کی بنا پر پولیس نے مجھ سے کچھ زیادہ ہی پوچھ گچھ کر ڈالی۔”
“آپ سے کیا غلطی سر زد ہوئی؟”
“میں اسے کہیں اور لے جانے کے بہانے ایسی جگہ لے گئی تھی جہاں جانے کی اجازت اس کے گھر والے ہرگز نہ دیتے۔!”
“اور یہ بات کھل گئی؟”
“جی ہاں۔!”
“واقعی بری بات ہے ! پولیس تو یہی سمجھ لے گی کہ آپ ہی اصل مجرم تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکیں گی۔ لہٰذا قدرتی بات ہے کہ آپ ہی کو زیادہ سے زیادہ بور کیا جائے گا۔”
“میرا گھرانا بے حد آزاد خیال ہے۔۔۔۔ اتنا کہ کسی کو کسی کی فکر نہیں ہوتی۔ آپ یہی دیکھ لیجیئے کہ میں شاہ دارا آنے کے لئے گھر سے نہیں نکلی تھی۔ بس چلی آئی۔ اگر ایک ہفتہ بھی یہیں مقیم رہوں تو میرے گھر والوں کو تشویش نہ ہو گی۔”
“آزاد گھرانوں کا سرتاج گھرانا ٹھہرا۔!”
“لیکن میری سہیلی کے گھر والوں نے اسے محض اس لئے گھر سے ایک ہفتہ غائب رہنے کی اجازت دے دی تھی کہ وہ میرے ساتھ تھی اور میں نے اس کے گھر والوں سے کہہ دیا تھا کہ میں اسے اپنے چچا کے گھر لے جا رہی ہوں۔”
“پولیس نے تفتیش کی ہو گی تو بات غلط نکلی ہو گی۔”
“جی ہاں۔!”
“واقعی آپ دشواری میں پڑ گئی ہیں لیکن آپ اپنی سہیلی کو کہاں لے گئی تھیں؟”
“ہم گیارہ افراد نے کیمپنگ کی تھی۔ در اصل ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ بے سروسامانی کی حالت میں کس طرح زندہ رہا جا سکتا ہے۔!”
“کیا ان گیارہ افراد میں کوئی ایسا بھی ہو سکتا ہے جسے آپ کی سہیلی سے دشمنی رہی ہو؟”
“بظاہر تو ایسا کوئی بھی نہیں تھا۔ ہمارے ایک استاد بھی ساتھ تھے۔ شائد آپ نے نام سُنا ہو۔ علامہ دہشت۔۔۔۔!”
“وہ سوشیالوجی والے؟”“جی ہاں وہی۔۔۔۔ دراصل وہ ہماری ذہنی تربیت کی طرف زیادہ دھیان دیتے ہیں۔”
“میں نے سُنا ہے کہ ان کے لیکچر ز عام طور پر بہت دہشت ناک ہوتے ہیں؟”
“جی ہاں۔۔۔۔ لیکن ذہانت سے بھر پور۔۔۔۔ میں آپ کو ان کے بارے میں بھی سب کچھ بتا دینا چاہتی ہوں۔ میرے دل پر بڑا بوجھ ہے۔۔۔۔ میں نہیں سمجھ سکتی کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟”
عمران ہمہ تن توجہ بن گیا۔ وہ اسے علامہ دہشت کے بارے میں بتاتی رہی۔ اُسے بچے کی کہانی بھی سنائی جس کے والدین زندہ جلا دیئے گئے تھے۔
“بڑی دلچسپ کہانی ہے۔!”
“میں آپ کو یہ سب کچھ کبھی نہ بتاتی۔۔۔۔ لیکن میرے دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گی سوچتے سوچتے۔ میں اپنے باپ کو قتل نہیں کر سکتی۔ خواہ وہ کیسا ہی ہو۔!”
“لیکن علامہ نے تو امتحاناً آپ سے ایسی گفتگو کی تھی۔!”
“پتا نہیں کیوں۔۔۔۔ مجھے اس میں سچائی نظر آئی تھی۔!”
“تو آپ نے اس کے خصوصی حلقے سے نکل جانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟”
“نکل چکی! اس نے خود ہی نکال دیا ہے۔۔۔۔!”
“ذرا ٹھہریئے۔۔۔۔ کیا آپ کی سہیلی نے بھی کبھی اس سے کوئی اختلاف کیا تھا؟”
شیلا چونک پڑی اور اس طرح آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتی رہی جیسے اس کے سر پر اچانک سینگ نکل آئے ہوں۔
“آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔!”
“اس کی طرف تو میں نے دھیان ہی نہیں دیا تھا۔!” وہ آہستہ سے بڑبڑائی۔
“غور کیجئے۔ شاید ایسی کوئی بات یاد آ جائے۔!”
“مجھے یاد آ رہا ہے۔۔۔۔ اسی کیمپنگ کے دوران میں یاسمین کی زبان سے مذہب کا نام نکل گیا تھا۔ اس پر وہ بھڑک اٹھا تھا اور شاید یہ بھی کہا تھا کہ یاسمین ابھی کچی ہے اور اس کے حلقے کے لئے موزوں نہیں۔۔۔۔ وہ مذہب کو ارتقا کی صرف ایک کڑی سمجھتا ہے اور علیحدگی میں یاسمین سے اس سلسلے میں باتیں کی تھیں۔۔۔۔!”
“کس قسم کی باتیں؟”
“نہ اس نے مجھے بتایا تھا اور نہ میں نے پوچھا تھا۔!”
“آپ سے علامہ کی آخری بات چیت کب ہوئی تھی؟”
“آج ہی اور میں اسی کی کوٹھی سے نکل کر سیدھی اسی طرف چلی آئی تھی۔ در اصل میرا ذہن اس طرح الجھا ہوا تھا کہ غیر شعوری طور پر شاہ دارا کی سڑک پر نکلی چلی آئی تھی۔”
“مظلوم بچے کی کہانی وہ ایسے ہی شاگردوں کو سناتا ہو گا جن پر اسے کلی طور پر اعتماد ہو۔”
“باقاعدہ طور پر اعتماد ظاہر کر کے سناتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتا جاتا ہے کہ اگر وہ اس کا ڈھنڈورا بھی پیٹ دے تو پولیس اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی کیوں کہ اس نے یہ سارے جرائم ذہانت سے کئے ہیں۔ کیڑوں مکوڑوں کا سا انداز اختیار نہیں کیا تھا۔”
“اچھا تو محترمہ اب آپ کی بھی خیر نہیں۔!”
“کیا مطلب؟”
“اپنی سہیلی ہی کی طرح آپ کا بھی پتا نہیں چل سکے گا کہ کب مر گئیں۔”
“نن۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔!” اس کا چہرہ فق ہو گیا۔
“لیکن میں آپ کو بچا لوں گا۔!”
“آپ؟”
“جی ہاں۔۔۔۔ آپ غائب ہو گئیں۔ ! مطلب یہ کہ خود کو غائب سمجھئے۔ اونہہ کس طرح آپ کو سمجھاؤں۔! بس یہ سمجھئے کہ میں نے آپ کو غائب کر دیا۔”
“مم۔۔۔۔ میں نہیں سمجھی۔!”
“آپ شہر واپس نہیں جائیں گی۔ کسی ایسی جگہ بھی نہیں رہیں گی جہاں آپ تک علامہ کا ہاتھ پہنچ سکے۔!”
“اب تو مجھے خوف معلوم ہو رہا ہے۔!”
“میں آپ کے لئے سب کچھ کر گزروں گا۔!”
“آخر آپ کیوں کریں گے میرے لئے اتنا کچھ؟ آج ہی تو ہماری جان پہچان ہوئی ہے۔!”
“نہ تو میں ذہین ہوں اور نہ خود کو کیڑوں مکوڑوں میں شمار کرتا ہوں۔۔۔۔ بس بیوقوف ہوں اور حماقت کی تبلیغ کرنا میرا مشن ہے۔۔۔۔!”
“آپ کیا کریں گے؟”
“آپ دراصل میرے قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں۔!”
“میں بالکل نہیں سمجھ رہی۔۔۔۔!”

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: