Allama Dahshatnak by Ibne Safi – Episode 5

0

علامہ دہشت ناک از ابن صفی قسط 05

کیا میری مدد کرنا بے وقوفی نہیں تھی۔۔۔۔! فرض کیجئے میں ہی فراڈ ہوتا۔ آپ سوچ سکتی تھیں لیکن کسی نہ کسی طرح مجھے یہاں تک کھینچ ہی لائیں۔ کسی دوسرے سے مدد نہیں لینے دی۔!”
“اچھا تو پھر۔”“بس آپ خود بخود میرے قبیلے میں شامل ہو گئیں۔ میرا مشن یہ ہے کہ ساری دنیا کو بے وقوف بنا کر رکھ دوں۔۔۔۔ اسی طرح تیسری جنگ کا خطرہ ٹل سکتا ہے۔”
“علامہ کی باتیں سمجھ میں آتی تھیں۔ آپ کی نہیں آ رہیں۔!”
“اسی لئے میں کبھی یہ نہ چاہوں گا کہ آپ چپ چپاتے ختم ہو جائیں۔ اگر ایسا ہوا تو پھر میں اپنی باتیں کیسے سمجھاؤں گا؟”
“آپ کیا کریں گے؟”
“آپ کو غائب کر دوں گا اور یہ دیکھنے کی کوشش کروں گا کہ علامہ پر اس کا کیا رد عمل ہوتا ہے!”
“اگر پولیس کو میری تلاش ہوئی تو؟”
“میں یہی چاہتا ہوں کہ پولیس کو آپ کی تلاش ہو! اسی صورت میں علامہ کا رد عمل بھی ظاہر ہو سکے گا۔!”
“لیکن اس سے میرے خاندان والوں پر کیا اثر پڑے گا؟”
“وہ تو جتنا پڑنا تھا پڑ ہی چکا ہو گا۔”
“میری سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں۔!”
“آپ اپنی سہیلی کی موت کی ذمہ دار نہیں ہیں۔ آپ اسے بہت چاہتی تھیں۔ اس لئے آپ کا فرض ہے کہ اس کی موت کا معمّہ حل کرنے میں مدد دیں۔!”
“میں کیسے مدد دوں؟”
“جس طرح میں کہہ رہا ہوں۔ فی الحال پہلا قدم یہی ہو گا کہ آپ روپوش ہو جائیں۔ لیکن ٹھہرئے اس سے پہلے آپ اپنے باپ اور چچا کو فون پر مطلع کر دیں کہ پولیس کی پوچھ گچھ سے تنگ آ کر آپ کچھ دنوں کے لئے روپوشی اختیار کر رہی ہیں۔!”
“وہ مجھے ایسا نہیں کرنے دیں گے۔!”
“آپ صرف انہیں اطلاع دیں گی۔ یہ بتائے بغیر کہ کہاں سے بول رہی ہیں اور ان کا مشورہ سننے سے قبل ہی سلسلہ منقطع کر دیں گی۔!”
“میں سوچ رہی ہوں۔!”
“آب کیا سوچ رہی ہیں؟”
“راستے میں آپ بالکل بیوقوف تھے! لیکن اس وقت آپ کی عقل مندی کی انتہا نہیں۔!”
“ہر شخص بیوقوف بھی ہوتا ہے اور عقل مند بھی لیکن کوئی بھی اپنی بے وقوفیوں کا اعتراف نہیں کرتا۔۔۔۔ مثال کے طور پر اپنے ذہین ترین علامہ دہشت کی بے وقوفی بھی ملاحظہ کر لو۔۔۔۔ شاگردوں پر اپنی ذہانت کا سکہ جمانے کے لئے جہاں اس بچے کی پچھلی زندگی کی داستان سنائی تھی۔ وہیں اس کے مستقبل کا پروگرام بھی بتا دیا۔!”
“میں نہیں سمجھی۔!”
“حویلی کے باقی بچے ہوئے افراد کے خاتمے کا پروگرام اور ساتھ ہی یہ رائے بھی ظاہر فرما دی کہ اس کی موت کا الزام حزب اختلاف کے سر جائے گا۔۔۔۔ نتیجہ کیا ہوا۔۔۔۔؟ تم نے اس کی پوری کہانی مجھے سنا دی۔!”
“آپ کی توجہ دلانے پر محسوس ہو رہا ہے کہ اس سے حماقت ہی سرزد ہوئی تھی۔ آپ پولیس کو اطلاع دے سکتے ہیں۔ اور پولیس بہرحال اس بچے کو کھود نکالے گی۔!”
عمران کچھ نہ بولا۔
“سچ سچ بتائیے آپ کون ہیں۔ کیا آپ یاسمین ہی کے سلسلے میں میرے پیچھے نہیں لگے تھے۔! مجھے اچھی طرح یاد پڑتا ہے کہ آپ کی گاڑی میرے قریب ہی سے نکل کر آگے گئی تھی۔!”
“اس طرح تو میں علامہ دہشت کا بھی کوئی گرگا ہو سکتا ہوں۔”
یک بیک شیلا کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔!
“ارے آپ تو خوف زدہ نظر آنے لگی ہیں!” وہ اس کے چہرے کی طرف انگلی اٹھا کر بولا۔!
“نن۔۔۔۔ نہیں تو۔!”
“میں علامہ دہشت کا گرگا نہیں ہوں۔۔۔۔ اگر ہوتا تو اس سنسان سڑک ہی پر اپنا کام کر جاتا۔۔۔۔ یہاں تک آنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔!”
“پھر آپ کون ہیں؟”
“ایک بیوقوف آدمی جس پر ایک چھوٹا سا احسان کر کے ایک بہت بڑا کام لینے والی ہیں۔!”
“میرا کام آپ خود ہی کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ میں نے درخواست تو نہیں کی۔!”
“بیوقوفی کی علامت۔!”
“تو آپ مجھے کہاں لے جائیں گے؟”
“واپس شہر۔”
“وہاں میں کیسے چھپ سکوں گی؟”
“نہایت آسانی سے۔ بس کچھ دنوں کے لئے یہ بھلا دینا پڑے گا کہ آپ ایک بے حد سیلانی لڑکی ہیں۔!”
____
“اگر وہ روپوش ہو گئی ہے۔” علامہ نے پر تفکر لہجے میں کہا۔ “تو اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ یا تو اسے شبہ ہو گیا ہے کہ یاسمین کی موت میں میرا ہاتھ ہے۔۔۔۔ یا پھر روپوشی کی وجہ محض خوف ہے۔ ڈرتی ہے کہ تنظیم سے علیحدگی کی بنا پر اسے کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔”
کوئی کچھ نہ بولا۔ اس وقت پیٹر سمیت وہ چھ نوجوان یہاں موجود تھے جنہوں نے علامہ کی کیمپنگ میں حصہ لیا تھا اور علامہ نے ذرا دیر پہلے انہیں بتایا تھا کہ ایک پولیس آفیسر اس سے کیمپنگ کے متعلق تفصیلات معلوم کرنے کے لئے آیا تھا۔
“لیکن جناب اسے یاسمین کی موت کے سلسلے میں آپ پر کیوں شبہ ہونے لگا؟” ایک نوجوان نے سوال کیا۔
“اس لئے کہ یاسمین کی موت میری ہی خواہش پر ہوئی تھی۔ میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ وہ ایک بیک ورڈ گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اس لئے میرے حلقے کے لئے موزوں نہیں تھی۔!”
“میرے معیار پر پورے اُترو۔۔۔۔ ہمیشہ خوش و خرم رہو گے۔ مجھ سے رو گردانی کی سزا ہمیشہ موت ہوتی ہے۔ اور سنو میری اب تک کی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پولیس آفیسر نے کسی سلسلے میں براہِ راست مجھ سے پوچھ گچھ کی ہے اور یہ شیلا کی حماقت کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ کہیں اور لے جانے کے بہانے اسے میرے کیمپ میں نہ لے آئی ہوتی تو پولیس اس طرف توجہ تک نہ دیتی۔!”
“ یہ حقیقت ہے!” پیٹر نے دوسروں کی طرف دیکھ کر کہا۔ “اور شیلا کی تلاش اب نا گزیر ہو گئی۔ ہمیں اسے تلاش کرنا چاہیے۔”
“پولیس آفیسر کی باتوں سے ظاہر ہوتا تھا جیسے میں ہی شیلا کی روپوشی کا بھی ذمہ دار ہوں۔!” علامہ نے کہا۔
“تم پانچوں ان مقامات کی نگرانی کرو۔!” پیٹر بولا۔ “جن کے بارے میں تمہیں بتا چکا ہوں۔۔۔۔ اور میں سیٹھ دھنی رام کو دیکھوں گا۔!”
“وہ شاہ دارا میں بھی نہیں ہے۔!” علامہ نے پر تشویش لہجے میں کہا۔
“آپ بے فکر رہیں جناب!” پیٹر نے کہا۔
“میں تم لوگوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتا ہوں۔۔۔۔!” علامہ بولا۔
“شکریہ جناب!” وہ بیک وقت بولے تھے۔
“تم پانچوں ان جگہوں کی نگرانی کرو جہاں اس کے ملنے کے امکانات ہو سکتے ہیں۔۔۔۔ اور پیٹر تم یہاں ٹھہرو گے۔!”
“بہت بہتر جناب!” پیٹر نے کہا۔
وہ پانچوں چلے گئے تھے۔ پیٹر بیٹھا رہا۔
“اس نے کہیں سے فون پر اپنے باپ کو مطلع کیا تھا کہ وہ پولیس کی پوچھ گچھ سے بچنے کے لئے روپوش ہو گئی ہے اور پھر اپنے باپ کی کوئی بات سنے بغیر سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔ یہ بات مجھے کیپٹن فیاض نے بتائی ہے۔!”
“کیپٹن فیاض۔۔۔۔؟”
“ہاں محکمۂ سراغ رسانی کا سپرنٹنڈنٹ! اس کی باتوں سے معلوم ہوتا تھا جیسے میں نے ہی شیلا کو روپوش ہو جانے کا مشورہ دیا ہو۔”
“یہ تو بہت برا ہوا۔!”
“پرواہ مت کرو۔!”
“اگر وہ پولیس کے ہاتھ لگ گئی تو سب کچھ اگل دے گی۔۔۔۔ اس بچے کی کہانی۔۔۔۔ حویلی کی داستان۔۔۔۔ اور یہ بھی کہ آپ حویلی کے آخری آدمی کی تاک میں ہیں اور اس کی موت کی ذمہ داری حزبِ اختلاف پر ڈالنا چاہتے ہیں۔!”
“اور یہ بھی کہ خود اس سے فرمائش کی تھی کہ اپنے باپ کو محض اس لئے قتل کر دے کہ وہ نا اہل ہونے کے با وجود بھی سیاست میں حصہ لیتا ہے!” علامہ کہہ کر ہنس پڑا۔
“جج۔۔۔۔جی ہاں۔۔۔۔!”
“مجذوب کی بڑ۔۔۔۔ صرف اسی کا بیان۔۔۔۔ شہادت کے لیے تم آٹھوں کے نام لے گی۔ کیا تم لوگ اس کے بیان کی تصدیق کردو گے؟”
“سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔۔۔۔ ہم اس کا مضحکہ اُڑائیں گے۔!”
“لہذا اس کی تو فکر ہی نہ کرو۔۔۔۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ وہ پاگل ہوجائے۔ اس طرح یاسمین کی کہانی اس کی ذات سے آگے نہ بڑھ سکے گی۔!”
“آخر جائے گی کہاں اور کتنے دن روپوش رہ سکے گی۔ ہم دیکھ لیں گے۔۔۔۔”
“ٹھہرو!” علامہ کچھ سوچتا ہوا بولا۔ “سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ پولیس واقعی ہماری طرف متوجہ بھی ہے یا نہیں۔!”
“وہ کس طرح دیکھیں گے جناب۔۔۔۔!”
“نہایت آسانی سے۔ ہم معلوم کریں گے کہ ہماری نگرانی تو نہیں کی جارہی۔!”
“میں سمجھ گیا۔” پیٹر سر ہلا کر بولا۔ “اگر ہمارا تعاقب کیا گیا تو سمجھ لینا کہ پولیس سنجیدگی سے ہم سے متعلق کوئی نظریہ قائم کر چکی ہے۔!”
“بالکل ٹھیک ہے۔!”
تو پھر جیسا فرمایئے۔!”
“تم اپنی گاڑی میں بیٹھو اور روانہ ہو جاؤ۔۔۔۔کوئینس روڈ پہنچ کر بائیں جانب مڑ جانا۔۔۔۔ وہاں سے کنگٹن کی طرف کیفے فلامبو کے سامنے گاڑی پارک کرنا اور اندر چلے جانا۔۔۔۔ پھرٹھیک پندرہ منٹ بعد وہیں کے فون پر تھری ایٹ نائین سکس پر رنگ کر کے صرف لفظ انفارمیشن کہنا، تمہیں صورت حال سے آگاہ کردیا جائے گا۔ اس کے بعد پھر یہیں میرے پاس واپس آ جانا۔”
“بہت بہتر جناب۔” پیٹر اٹھتا ہوا بولا۔
اس نے علامہ کی ہدایات اچھی طرح ذہن نشین کرلی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد اس نے کیفے فلامبو کے سامنے گاڑی روکی تھی اور اندر آیا تھا۔ داخلے کا وقت اس نے نوٹ کیا تھا کیونکہ پندرہ منٹ بعد فون پر بتائے ہوئے نمبر ڈائل کرکے معلومات حاصل کرنی تھیں۔ کافی کا آرڈر دے کر وہ گھڑی ہی پر نظر جمائے رہا تھا۔۔۔۔ ٹھیک پندرہ منٹ بعد اُٹھ کر کاؤنٹر پر آیا تھا اور کاؤنٹر کلرک سے فون کرنے کی اجازت لی تھی۔ نمبر ڈائل کئے تھے۔
“ہیلو۔۔۔۔!” دوسری طرف سے آواز آئی۔
“انفارمیشن۔” اس نےماؤتھ پیس میں کہا۔
“کوئی خاص بات نہیں ہے۔ سب ٹھیک ہے۔!“
اس کے بعد سلسلہ منقطع ہونے کی آواز آئی تھی۔ پیٹر نے اپنی میز پر واپس آ کر کافی ختم کی اور بل ادا کرکے باہر آ گیا۔
اب اس کی گاڑی پھر علامہ کی کوٹھی کی طرف جا رہی تھی۔۔۔۔ ذرا ہی دور گیا تھا کہ سڑک کے کنارے ایک سفید فام غیر ملکی عورت گاڑی رکوانے کے لئے ہاتھ اٹھائے کھڑی نظر آئی۔
وضع قطع میں ہیپی معلوم ہوتی تھی۔
“مجھے لفٹ دے دو۔” اس نے کہا، جیسے ہی گاڑی اس کے قریب رکی۔
“کہاں جانا ہے؟”
لیکن جواب دیئے بغیر اس نے اگلی نشست کا دروازہ کھولا تھا اور اس کے برابر ہی بیٹھ گئی تھی۔ بڑی دل کشش عورت تھی لیکن بیٹھ جانے کے بعد بھی اس نے نہ بتایا کہ اس کو کہاں جانا ہے۔
“کہاں چلو گی؟” پیٹر نے سوال کیا۔
“جہاں دل چاہے۔!”
“اگر کچھ پیسوں کی ضرورت ہو تو ویسے ہی بتا دو۔!” پیٹر بولا۔ “میں بہت مصروف آدمی ہوں۔!”
“مجھے تو تم آدمی ہی معلوم نہیں ہوتے۔!” عورت تلخ لہجے میں بولی اور پیٹر نے اندازہ لگا لیا کہ وہ کسی ایسے خطے سے تعلق نہیں رکھتی جہاں انگریزی بولی جاتی ہو۔
“میرے سر پر سینگ تو نہیں ہیں۔!”
“سارے جانور سینگوں والے نہیں ہوتے۔!”
“تم کہنا کیا چاہتی ہو؟” پیٹر جھنجھلا کر بولا۔
“یہی کہ میں تم سے بھیک نہیں مانگنا چاہتی۔ ایک آدمی میرے پیچھے لگا ہوا ہے اس سے بچنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ اوہ خدایا۔۔۔۔ وہ آ گیا۔!”
ایک دکان سے ایک دیسی آدمی نکل کر تیر کی طرح ان کی طرف آیا تھا۔
“یہ کون ہے؟” وہ قریب پہنچ کر غرایا۔ “تم تو میرے ساتھ ہی جا رہی تھیں۔!”
“کیا مطلب؟” عورت اسے گھورتی ہوئی بولی۔ “میں نہیں جانتی کہ تم کون ہو۔!”
“اچھا۔۔۔۔ ٹھہرو! بتاتا ہوں کہ میں کون ہوں۔!”
اس نے اس طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ پیٹر کڑک کر بولا۔ “خبردار! اسے ہاتھ لگانے کی جرأت نہ کرنا۔!”
“اخاہ بڑے سورما لگتے ہو۔۔۔۔!”
“شٹ اپ۔!”

Read More:  Kaho Mujh Se Mohabbat Hai by Iqra Aziz – Episode 19

“ابے اتر تو نیچے پھر بتاؤں شٹ اپ کہنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔۔۔۔!”
پیٹر آپے سے باہر ہو کر گاڑی سے اُتر آیا۔
“ہاں تو کہنا یہ تھا کہ شٹ اپ نہیں کہا کرتے۔۔۔۔!” اجنبی نے احمقانہ انداز میں کہا۔
“تم مجھے اس کا انجام بتانا چاہتے تھے۔۔۔۔!” پیٹر آنکھیں نکال کر بولا۔
“شرمندگی۔۔۔۔ صرف شرمندگی۔۔۔۔ ہر قسم کی اکڑ بالآخر شرمندگی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔” اجنبی کا لہجہ بے حد ڈھیلا ڈھالا تھا۔
اچانک پیٹر کی گاڑی تیزی سے آگے بڑھ گئی۔ انجن اس نے بند نہیں کیا تھا بوکھلا کر پلٹا تھا لیکن گاڑی اگلے موڑ پر پہنچ کر نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔
اجنبی نے قہقہہ لگایا اور بولا۔ “دیکھا شٹ اپ کہنے کا انجام؟”
“یہ سب کیا تھا؟” پیٹر جھینپے ہوئے لہجے میں بولا۔
“اول درجے کی فراڈ عورت ہے۔ آج میں اس سے اپنا پچھلا حساب بے باق کرنا چاہتا تھا کہ تم بیچ میں ‌آ کودے۔” اجنبی نے کہا۔
“اب کیا کریں؟” پیٹر بڑبڑایا۔
“یہ مجھ سے پوچھ رہے ہو۔۔۔۔؟” اجنبی نے غصیلے لہجے میں کہا۔
“خبر کہاں جائے گی، میں رپوٹ کئے دیتا ہوں۔۔۔۔”
“جتنی دیر میں رپورٹ کرو گے، شہر سے باہر جا چکی ہو گی میں جانتا ہوں وہ کہاں رہتی ہے۔”
“تو پھر میری مد د کرو۔ پولیس کے بکھیڑے میں نہیں پڑنا چاہتا۔” پیٹر بولا۔
“پہلے تم اپنی شٹ اپ واپس لو۔!” اجنبی نے احمقانہ انداز میں کہا۔
“جس طرح کہو واپس لینے کو تیار ہوں۔۔۔۔!”
“چلو کافی ہے۔” اجنبی سر ہلا کر بولا۔ “اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب اکڑ باقی نہیں رہی۔!”
“اچھی بات ہے۔۔۔۔ آؤ وہ رہی میری گاڑی۔۔۔۔!”
دونوں گاڑی میں بیٹھے تھے اور اس طرف روانہ ہو گئے تھے جدھر وہ پیٹر کی گاڑی لے گئی تھی۔
“تم سے کیا کہہ رہی تھی؟” اجنبی نے پوچھا۔
“یہی کہ میں ایک آدمی سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہوں۔۔۔۔ پھر جیسے ہی تم دکان سے برآمد ہوئے تھے اس نے تمہاری طرف اشارہ کیا تھا۔”
“بہر حال تم نے دیکھ ہی لیا ہو گا کہ وہ کیا چیز ہے۔”
“تم جانتے ہو کہ وہ کہاں رہتی ہے۔”
“تب پھر وہ شائد سیدھی گھر کی طرف نہ جائے۔”
“بس تو کوئی فائدہ نہیں۔ اتر جاؤ گاڑی سے اور تھانے جا کر رپوٹ درج کرا دو۔۔۔۔!” اجنبی نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔
“کیا تم ایسا نہیں کر سکتے کہ کسی ٹیلی فون بوتھ کے قریب گاڑی روکو اور میں ایک کال کر لوں۔۔۔۔ اس کے بعد اس کا گھر بھی دیکھ لیں گے۔!”
“چلو یہی کر لو۔۔۔۔ مجھے تم پر رحم آ رہا ہے۔ وہ روز ہی کسی نہ کسی طرح ایک آدھ کو ٹھگ لیتی ہے۔!”
“میں تمہاری اس امداد کو ہمشہ یاد رکھوں گا۔!” پیٹر بولا۔
اجنبی نے گاڑی دوسری سڑک پر موڑ کر اسے ایک ٹیلی فون بوتھ تک پہنچا دیا تھا۔
پیٹر در اصل علامہ کو مطلع کرنا چاہتا تھا کہ وہ ہدایت کے مطابق فوری طور پر اس کے پاس واپس کیوں نہیں پہنچ سکتا؟
علامہ کے نمبرڈائل کر کے وہ اسے اپنی روداد سنانے لگا تھا۔ دوسری طرف سے پوچھا گیا۔
“تمہیں یقین ہے کہ وہ کوئی غیر ملکی عورت تھی؟”
“جی ہاں! اطالوی ہوسکتی ہے۔”
“اگر تمہیں یقین ہے تو دیکھ لو۔ لیکن ٹھہرو۔ اس آدمی کے بارے میں کیا رائے ہے تمہاری جو مدد دے رہا ہے؟”
“ٹھیک ہی معلوم ہوتا ہے۔۔۔۔!”
اچھی بات ہے کوشش کرو۔۔۔۔ناکامی کے بعد رپورٹ درج کرا دینا۔!”
“لل۔۔۔۔ لیکن جناب میں پولیس کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتا۔!”
“تو پھر گاڑی جائے گی ہاتھ سے۔!”
“دیکھا جائے گا۔!” کہہ کر وہ دوسری طرف سے سلسلہ منقطع ہونے کی آواز سننے کا منتظر رہا تھا۔ علامہ کے شاگردانِ خصوصی ایسے ہی تابعدار تھے۔ وہ ریسیور ہک سے لگا کر باہر آیا۔
گاڑی اب کسی نامعلوم منزل کی طرف جا رہی تھی۔ پیٹر تھوڑی تھوڑی دیر بعد کنکھیوں سے اجنبی کی طرف دیکھنے لگا تھا۔
اجنبی نے مکمل سکوت اختیار کر رکھا تھا جیسے ہونٹ سی لئے ہوں۔
کچھ دیر بعد گاڑی کو ایک پرشکوہ عمارت کی کمپاؤنڈ میں داخل ہوتے دیکھ کر پیٹر چونکا تھا۔
“ارے۔۔۔۔ ارے۔۔۔۔ یہ تو رانا پیلس ہے۔” وہ بوکھلا کر بولا۔

Read More:  Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 19

“میں رانا تہور علی صندوقی ہوں۔۔۔۔!” اجنبی نے سخت لہجے میں کہا۔
“مم۔۔۔۔ مطلب یہ کہ۔۔۔۔؟”
گاڑی کمپاؤنڈ میں ایک جگہ رک چکی تھی۔ اجنبی نے پیٹر سے اترنے کو کہا۔
“لیکن آپ تو مجھے اس عورت کے گھر لے جا رہے تھے۔”
“اسے بھی یہیں پکڑوا بلواؤں گا۔ بے فکر رہو۔”
پیٹر چپ چاپ گاڑی سے اُتر آیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس چکر میں پھنس گیا ہے۔ رانا تہور علی کا نام اس نے سنا تھا لیکن کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔
“میرے ساتھ آؤ۔!” رانا نے عمارت کی طرف اشارہ کرکے کہا۔
“پہلے میں پوری بات سمجھ لوں پھر کوئی قدم اٹھاؤں گا۔!”
“کیا سمجھنا چاہتے ہو؟”
“میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ رانا جیسی شخصیت ہیپی عورتوں کے چکر میں پڑے گی۔!”
“تو پھر؟”
“بھلا آپ کو میرے ساتھ کیا سروکار ہوسکتا ہے؟”
وہ مجھے دیکھ کر نروس ہو گئی تھی، اس سے تم کیا نتیجہ اخذ کرو گے؟”
“کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔!”
“اندر چلو۔ میں سمجھا دوں گا۔!”
شیلا بے تحاشہ ہنس رہی تھی اور عمران کے چہرے پر حماقتوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اسے علم ہی نہ ہو کہ وہ کیوں ہنس رہی ہے۔
“میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ تم کیا کرنا چاہتے ہو۔!”
“بتا چکا ہوں کہ ان چھ جوانوں کو بھی پکڑوا لیا ہے جو تمہاری کیمپنگ میں شامل تھے اور دونوں لڑکیوں کی نگرانی کر رہا ہوں۔!”
“آخر تم ہوکون؟”

Read More:  Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 4

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: