Allama Dahshatnak by Ibne Safi – Episode 6

0

علامہ دہشت ناک از ابن صفی قسط 06

احمق اعظم۔۔۔۔اور عقل مندوں کا دشمنِ جانی۔۔۔!”
“اتنے شاندار محل میں رہتے ہو؟”
“محل میرا نہیں۔ میرے ایک دوست رانا تہور علی صندوقی کا ہے۔۔۔۔!”
“میں نے یہ نام سنا ہے لیکن آج تک نہیں سمجھ سکی کہ صندوقی سے کیا مراد ہے۔!”
“صندوق سے برآمد ہوا تھا۔ صندوق سے پہلے کی تاریخ کا پتہ نہیں چلتا۔!”
“میں نہیں سمجھی۔!”
“اس کی حماقت یہ کہ اب تک صندوق سے چمٹا ہوا ہے۔۔۔۔! ہاں تو میں نے ابھی تمہیں جو کچھ سمجھایا تھا یاد ہے یا نہیں؟”
“یاد ہے۔!”
“وہ سب الگ الگ کمروں میں بند ہیں۔ تم ہر ایک کے پاس جاؤ گی۔!”
“وہ سب میرے دشمن ہو رہے ہوں گے۔!”
“لیکن تمہارا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں گے۔ ان پر پوری طرح نظر رکھی جائے گی۔!”
“کیا وہ تمہارے قیدی ہیں؟”
“سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ سب بہت آرام سے ہیں۔ تم ان کے کمروں میں جا کر دیکھ ہی لوگی۔ ان کی ضروریات کی ساری چیزیں مہیا کر دی گئی ہیں۔!”
“تو پھر بتاؤ مجھے کہاں جانا ہے؟”
“سامنے والے کمرے میں۔۔۔۔ اس میں پیٹر نامی لڑکا ہے۔!”
“کیا کمرہ مقفل ہے؟”
“نہیں ہینڈل گماؤ اور اند چلی جاؤ لیکن اس عمارت سے کوئی بھی باہر نہیں نکل سکے گا۔!”
“میں بھی نہیں؟”
“اگر موت کی خواہش ہو گی تو ضرور نکلنے کی کوشش کروگی۔!”
“یعنی مجھے جبراً نہیں روکا گیا۔!”
“ہرگز نہیں۔ جب چاہو جا سکتی ہو لیکن باہر موت تمہاری منتظر ہو گی۔!”
“میں کب جا رہی ہوں۔ میں نے تو صرف اپنی پوزیشن معلوم کی تھی۔۔۔۔ تو اب جاؤں اس کمرے میں؟”
“ہاں۔۔۔۔ جاؤ۔۔۔۔ بس وہ سارے ڈائیلاگ یاد رکھنا۔!” عمران نے کہا اور دوسری طرف مڑ گیا۔
شیلا نے ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا اور “ارے” کہہ کر اچھل پڑی۔ پیٹر بھی اٹھ گیا تھا۔ وہ بے حد متحیر نظر آنے لگا تھا۔
“تت۔۔۔۔ تم۔۔۔۔؟”
“اوہ تو تم بھی۔” شیلا نے کہا۔
پیٹر خاموش رہا۔۔۔۔ شیلا جلدی جلدی پلکیں جھپکاتی ہوئی بولی۔ “اب بات سمجھ میں آئی۔۔۔۔ میں علامہ کی قید میں ہوں۔۔۔۔ کیونکہ میں نے اپنے باپ کو قتل کر دینے سے انکار کیا تھا۔!”
“فضول باتیں مت کرو۔۔۔۔ علامہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں لیکن تم ان لوگوں کے ہتھے کیسے چڑھ گئیں؟”
“علامہ سے آخری ملاقات کے بعد شاہ دارا کی طرف جا رہی تھی کہ راستے میں میری گاڑی خراب ہو گئی۔ ایک غیر ملکی ہیپی کی مدد سے شاہ دارا پہنچی۔ چچا کے گھر جانے سے پہلے اسی ہیپی کے ساتھ شراب پی تھی۔ اس کے بعد کچھ نہیں معلوم کہ کیا ہوا۔ نہیں جانتی کہ اب کہاں ہوں۔!”
“تمہارا مطلب ہے ہیپی کے ساتھ شراب پی کر تم بے ہوش ہو گئی تھیں؟”
“اس کے علاوہ اور کیا سمجھوں؟”
“آخر ایسا کیوں ہوا۔ وہ تم سے کیا چاہتا ہے؟”
“کون کیا چاہتا ہے؟‘
“ہپی۔!”
“وہ تو پھر اس کے بعد دکھائی ہی نہیں دیا۔۔۔۔ یہاں مجھ سے کسی نے کچھ نہیں پوچھا۔ سب اس طرح ٹریٹ کر رہے ہیں جیسے ان کی مہمان ہوں۔!”
“بڑی عجیب بات ہے۔۔۔۔ لیکن اس کمرے میں کیسے پہنچیں؟”
“مجھ پر صرف عمارت سے باہر نکلنے کی پابندی ہے۔ اندر جہاں چاہوں جا سکتی ہوں۔ لہٰذا گھومتی پھر رہی ہوں۔ دروازوں کے ہینڈل گھماتی ہوں مقفل نہیں ہوتے تو کھل جاتے ہیں۔!”
“کسی نے کچھ پوچھا ہی نہیں؟”
“نہیں! اس لئے تو الجھن بڑھ رہی ہے کہ آخر ہمارا معاملہ کیا ہے۔ اب تم بتاؤ کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”
“یہ ایک ہیپی عورت کی کہانی ہے۔۔۔۔” پیٹر نے کہا اور اپنی داستان مختصراً دہراتا ہوا بولا۔ “میں جانتا ہوں کہ اس عمارت کا مالک وہی ہے جو مجھے یہاں لایا ہے۔!”وہ کون ہے؟”
“رانا تہور علی۔۔۔۔ یہ اُسی کا محل ہے۔!”
“مجھے علم نہیں کہ وہ کون ہے۔۔۔۔؟ ہو سکتا ہے یہاں دیکھا ہو لیکن مجھ سے تو ابھی تک کسی نے کوئی بات نہیں کی۔ پہلے میں سمجھی تھی کہ شاید علامہ میرا امتحان لینے والے ہیں۔!”
“علامہ کا نام بھی نہ آنے پائے زبان پر۔!”
“اب تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ بہت اچھا ہوا کہ تم اس طرح مل گئے۔!”
“اوہ۔۔۔۔ بیٹھو۔۔۔۔ تم اب تک کھڑی ہوئی ہو۔۔۔۔ میں تمہارے لئے ایک پگ بنا لوں۔ شراب اور سگریٹ تک مہیا کی گئی ہے میرے لئے۔۔۔۔ لیکن مقصد سمجھ میں نہیں آتا۔!”
“تم سے بھی کچھ نہیں پوچھا کسی نے؟”
“نہیں۔۔۔۔ لیکن میں ان کا قیدی ہوں۔۔۔۔!”
میں تو سمجھتی ہوں کہ ہم علامہ ہی کے کسی امتحان سے گزرنے والے ہیں۔!”
“اونہہ۔۔۔۔ دیکھا جائے گا۔!” اس نے الماری کی طرف بڑھتے ہوئے کہا اور الماری کھولنے سے قبل ہی کوٹ کی اندرونی جیب سے علامہ کی دی ہوئی انگشتری نکل آئی تھی۔۔۔۔ الماری کھولی اور انگشتری کے اندر کا سارا سیال ایک گلاس میں منتقل کر دیا۔ اس کی پشت شیلا کی طرف تھی۔ بوتل اٹھائی اور گلاس میں شراب انڈیلتا ہوا شیلا کی طرف مڑ کر بولا۔
“اسے یاد رکھنا کہ ہمیں اپنی زبانیں بند رکھنی ہیں۔!”
“خدا ہی جانے۔۔۔۔!” اس نے کہا اور گلاس شیلا کے سامنے چھوٹی میز پر رکھ دیا۔۔۔۔ شیلا نے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ کمرے میں عجیب قسم کا شور گونجا اور دونوں ہی اچھل پڑے۔ حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے۔۔۔۔ پھر شیلا بولی۔
“یہ کیسی آواز تھی اور کہاں سے آئی تھی؟”
“پتا نہیں۔!”
ٹھیک اسی وقت دروازہ کھلا تھا اور عمران کمرے میں داخل ہوا تھا۔
“کیا یہاں دستک دے کر اندر آنے کا رواج نہیں ہے۔۔۔۔؟” پیٹر بھنّا کر بولا۔
“نہیں تو۔۔۔۔ یہاں ایسا کوئی طریقہ رائج نہیں ہے۔!” عمران نے بوکھلا کر کہا۔
“لیکن میرے کمرے میں دستک دیئے بغیر اب کوئی داخل نہ ہو۔!” پیٹر سخت لہجے میں بولا۔
“جی بہت اچھا۔۔۔۔!” عمران نے آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے کہا۔
شیلا نے گلاس کی طرف پھر ہاتھ بڑھایا تھا لیکن اس سے قبل ہی عمران نے جھک کر گلاس اٹھا لیا۔ انداز ایسا ہی تھا جیسے خود پیئے گا۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔؟” پیٹر آگے بڑھتا ہوا بولا۔
“اچھا تو پھر تم ہی پی لو۔! شراب پیتی ہوئی عورتیں مجھے اچھی نہیں لگتیں۔!” عمران نے کہا۔
شیلا خاموش بیٹھی رہی۔ بات اس کے پلّے نہیں پڑی تھی کیونکہ کئی بار عمران کے سامنے شراب پی چکی تھی لیکن اس نے اس پر اعتراض نہیں کیا تھا۔
“تم ہو کون؟” پیٹر غصیلے لہجے میں بولا۔
“میں کوئی بھی ہوں۔۔۔۔ لیکن ان خاتون کو شراب ہرگز نہ پینے دوں گا۔۔۔۔!”
“میں تمہیں پیٹ کر رکھ دوں گا۔ !” پیٹر آستین چڑھاتا ہوا بولا۔!
“اچھی بات ہے۔۔۔۔ میں نہیں پیتا۔۔۔۔ تم ہی پی لو۔۔۔۔!”
“کیا مطلب؟!” پیٹر دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔
“میں نے کہا تمہیں یہ شراب پینی پڑے گی۔!” عمران گلاس کو دوبارہ میز پر رکھتا ہوا بولا۔ تیور اچھے نہیں تھے اور لہجے نے بھی شائد پیٹر کی انا کو چھیٹر دیا تھا۔
جھپٹ کر عمران کا گریبان پکڑنا چاہا تھا لیکن اس کا ہاتھ جھٹک دیا گیا۔ شیلا پھرتی سے اٹھی تھی اور ایک گوشے میں جا کھڑی ہوئی تھی۔!
پیٹر نے پیچھے ہٹ کر یکلخت عمران پر حملہ کر دیا۔
ادھر عمران نے بڑی پھرتی سے چپراس ماری۔۔۔۔ پیٹر داہنے پہلو کے بل دھپ سے فرش پر گرا تھا۔۔۔۔ لیکن اس نے دوبارہ اٹھ بیٹھنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔۔۔۔!
“ٹھہر جاؤ۔!” عمران دونوں ہاتھ اٹھا کر بولا۔ “اس دھول دھپے سے کیا فائدہ۔۔۔۔ میں نے کہا تھا کہ یہ شراب تم پی لو۔ گالی تو نہیں دی تھی۔!”
“تم کون ہوتے ہو مجھے مشورہ دینے والے؟” پیٹر ہانپتا ہوا بولا۔! “میں رانا صاحب کا مہمان ہوں۔!”
“رانا صاحب ہی کا فرمان ہے کہ پیٹر صاحب اپنی انڈیلی ہوئی شراب خود ہی پئیں گے۔!”

Read More:  Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 5

“کک۔۔۔۔ کیا مطلب؟”
“مطلب میں نہیں جانتا۔ تمہیں یہ شراب پینی پڑے گی۔!”
“پی لو نا۔ کیوں جھگڑا کر رہے ہو؟” شیلا منمنائی۔
“میں تو ہرگز نہیں پیئوں گا۔ پھینک دوں گا۔!”
“خبردار۔۔۔۔! میز کے قریب بھی نہ آنا۔!” عمران کے بغلی ہولسٹر سے ریوالور نکل آیا۔
“کک۔۔۔۔ کیا؟” پیٹر ہکلا کر رہ گیا۔
“شراب نہیں پیئو گے تو گولی ماردوں گا۔!”
“کک۔۔۔۔ کیا تم سنجیدہ ہو؟”
“بالکل۔ دس تک گنتا ہوں۔” عمران نے کہا۔ “اگر دس تک پہنچنے سے قبل تم نے گلاس خالی نہ کر دیا تو بے دریغ فائر کر دوں گا۔!”
“آخر کوئی وجہ بھی تو ہو۔!”
“قطرہ بھی نہ گرنے پائے۔۔۔۔ ایک۔۔۔۔ دو۔۔۔۔!”
“نہیں۔۔۔۔ نہیں۔!”
“تین۔۔۔۔ چار۔!”
اب تو شیلا بھی سچ مچ حیرت سے آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھے جا رہی تھی۔ اس منظر کے اس ٹکڑے سے وہ لا علم تھی۔ عمران نے ایسی کسی سچویشن کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔
“پانچ۔۔۔۔ چھ۔!” عمران کی آواز سناٹے میں گونجی۔
“ٹھہرو رک جاؤ۔!” پیٹر ہذیانی انداز میں چیخا۔ اس کا چہرہ پسینے سے بھیگنے لگا تھا۔
“سات۔!”
“نہیں۔!”
“یہاں جو کچھ بھی ہو گا اس کی بھنک بھی باہر والوں کے کانوں میں نہ پڑ سکے گی۔” عمران اسے گھورتا ہوا بولا۔
“تت۔۔۔۔ تم کیا چاہتے ہو؟”
“اس گلاس میں کیا ہے؟”
“شش۔۔۔۔ شراب۔!”
“بے ضرر؟” عمران نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
پیٹر خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر رہ گیا۔
“اگر یہ بے ضر ر ہے تو اٹھاؤ گلاس اور حلق میں انڈیل لو۔!”
“ز ز۔۔۔۔ زہر۔۔۔۔!” شیلا کی گھٹی گھٹی سی آواز کمرے میں گونجی تھی۔
“نہیں۔ زہر نہیں ہو سکتا۔!” عمران اس کی طرف دیکھے بغیر بولا۔ “تم یہاں اس کے ساتھ تنہا تھیں۔ گلا گھونٹ کر بھی مار سکتا تھا۔!”
“پھر کیا ہے؟”
“یہی بتائے گا۔۔۔۔ آٹھ۔!”
“رک جاؤ۔۔۔۔ ٹھہرو۔!”
“نہیں زہر ہرگز نہیں ہو سکتا۔!” عمران بولا۔ “ورنہ زہر اور ریوالور کی گولی میں سے کسی کا انتخاب ضرور کر لیا جاتا۔!”
“میں بتاتا ہوں۔۔۔۔ ٹھہر جاؤ۔۔۔۔ زہر نہیں ہے۔ اسے پی کر یہ ہمیشہ کے لیے پاگل ہو جاتی۔!”
“بیٹھ جاؤ۔۔۔۔!” عمران نے ریوالور کو جنبش دے کر کہا۔
پیٹر چپ چاپ پیچھے ہٹا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔
“تم ذلیل کتے۔۔۔۔ کیوں میرا یہ حشر کرنا چاہتے تھے؟” شیلا آگے بڑھتے ہوئی بولی۔
“تم بھی خاموشی سے اس طرف بیٹھ جاؤ۔!” عمران نے سرد لہجے میں کہا۔
پیٹر نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ لیا تھا۔
“میرے پاس وقت بہت کم ہے اس لیے ڈرامہ نہ کرو۔!” عمران نے سخت لہجے میں کہا۔ “تم آخر ایسا کیوں کرنا چاہتے تھے؟”
“اس کے باپ سیٹھ دھنی رام نے اس کام کے صلے میں بیس ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا ہے۔!”
“بکواس ہے۔ جھوٹ ہے۔۔۔۔!” شیلا دہاڑی۔ “میرا باپ ایسا نہیں کر سکتا۔!”
__
“پانچ ہزار ایڈوانس دیئے ہیں اور پندرہ ہزار کامیابی کے بعد ملتے۔!” پیٹر نے غصیلے لہجے میں کہا۔
“سراسر بکواس۔ میرا باپ کیوں چاہے گا کہ میں پاگل ہو جاؤں۔!”
“بہت نام کماتی پھر رہی ہو نا باپ کے لئے۔!” پیٹر کے لہجے میں بے اندازہ تلخی تھی۔ وہ شیلا کو پھاڑ کھانے کے سے انداز میں گھورتا رہا۔
“یہ علامہ کا بہت ہی خاص آدمی ہے۔!” شیلا آپے سے باہر ہوتی ہوئی بولی۔ “ہو سکتا ہے۔۔۔۔ ہو سکتا ہے۔!”
وہ مزید کچھ کہتے کہتے رک گئی تھی لیکن پیٹر کو بدستور قہر آلودہ نظروں سے گھورے جا رہی تھی۔
“تم کہنا کیا چاہتی تھیں؟” عمران بولا۔
“جتنی صفائی سے اس نے شراب کو آلودہ کیا تھا، کیا اسی طرح شیشی کی ٹکیاں نہیں بدل سکتا؟”
اچانک پیٹر نے بیٹھے ہی بیٹھے عمران پر چھلانگ لگائی تھی۔۔۔۔ عمران شاید اس کے لئے تیار نہیں تھا۔۔۔۔ پیٹر کا ہاتھ ریوالور والے ہاتھ پر پڑا۔ اگر سیفٹی کیچ ہٹا ہوا ہوتا تو لازمی طور پر فائر ہو گیا ہوتا۔۔۔۔ اور شیلا زخمی ہوئے بغیر نہ رہتی۔ پھر ریوالور تو عمران نے دور پھینک دیا تھا اور بائیں ہاتھ سے پیٹر کی گدی دبوچ کر داہنی کہنی سے اس کی ناک رگڑ ڈالی۔
کچھ بے ساختہ قسم کی آوازیں پیٹر کے حلق سے نکلی تھیں اور ناک سے خون کی بوندیں ٹپکنے لگی تھیں۔ گھونسہ پیٹ پر پڑا اور وہ دہرا ہو کر زمین بوس ہو گیا۔
رات کے بارہ بجے تھے اور علامہ دہشت ابھی تک جاگ رہا تھا لیکن بستر سے بہت دور۔۔۔۔ اس وقت اگر اس کا کوئی شناسا قریب سے بھی دیکھتا تو ہرگز نہ پہچان سکتا کیونکہ اس کے چہرے پر گھنی ڈاڑھی تھی اور آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔ جسم پر سیاہ لبادہ تھا۔ اپنی کوٹھی میں بھی نہیں تھا۔ یہاں چاندنی کھیت کر رہی تھی اور سمندر کی پُر شور لہریں ساحل سے ٹکرا ٹکرا کر جھاگ اڑا رہی تھیں۔
ساحل سے ایک فرلانگ ادھر دور تک لکڑی کے بے شمار ہٹ بکھرے ہوئے تھے۔ انہی میں سے ایک میں علامہ کا بھی قیام تھا اور ان ہٹوں کے باسی اسے ایک مدہوش رہنے والے نشے باز کی حیثیت سے جانتے تھے۔۔۔۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ ہٹ اس کی ملکیت ہے اور وہ کبھی کبھی وہاں آتا ہے۔ عام طور پر علامہ سنیچر کی شب اور اتوار کا دن اسی ہٹ میں گذارتا تھا لیکن اس کے خاص قسم کے ملاقاتی اس کے ہٹ میں نہیں آتے تھے۔ ملاقاتوں کے لئے وہ ساحل کے قریب کسی ویران جگہ کا انتخاب کرتا تھا اور نصف شب کے سناٹے میں یہ ملاقاتیں ہوتی تھیں۔
اس وقت یہاں وہ ایسے ہی کسی ملاقاتی کا منتظر تھا۔ ٹھیک ساڑھے بارہ بجے ایک آدمی بائیں جانب سے ٹیکرے پر چڑھ کر اس کے قریب آ کھڑا ہوا تھا۔
“تم پندرہ منٹ دیر سے آئے ہو۔!” علامہ غرایا۔
“راستے میں گاڑی خراب ہو گئی تھی باس۔!”
“کیا خبر ہے؟”
“آپ کے ان چھ آدمیوں کا ابھی تک سراغ نہیں مل سکا۔ ان کے گھر والے بھی پریشان ہیں اور اپنے طور پر تلاش کر رہے ہیں۔!”
“اور سیٹھ دھنی رام؟”
“اس کے یہاں حالات معمول پر ہیں۔ کسی کو ذرہ برابر بھی تشویش نہیں معلوم ہوتی۔ شاہ دارا میں بھی لڑکی کی تلاش جاری ہے البتہ آپ کے ایک آدمی پیٹر کی گاڑی پولیس کے قبضے میں ہے۔!”
“کیوں؟”
“تین دن سے ایک جگہ سڑک کے کنارے کھڑی تھی۔!”
“تو اس کا مطلب ہوا کہ پولیس نے اس پر ہاتھ نہیں ڈالا۔!”
“پولیس نے رجسٹریشن آفس سے گاڑی کے مالک کا پتہ لگایا ہے۔!”
“بڑی عجیب بات ہے۔ اگر وہ پولیس کے ہاتھ نہیں لگے تو پھر؟”
“ہمارا کوئی نادیدہ حریف بھی ہو سکتا ہے۔!”
“بے وقوفی کی باتیں مت کرو۔ زیر تربیت آدمیوں کا علم کسی حریف کو نہیں ہو سکتا۔!”
“میں اس کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں باس۔!”
“میرا طریق ایسا نہیں ہے کہ زیرِ تربیت آدمی میرے تجارتی حریفوں کی نظر میں آسکیں۔!”
“ہم انہیں تلاش کرنے کی انتہائی کوشش کر رہے ہیں۔!”
“بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔!”
“ہم محتاط ہیں جناب۔!”
“اس ماہ تمہارا کتنا کمیشن بنا ہے؟”
“بائیس ہزار۔!”
“اگلے مہینے سے میں کمیشن میں پانچ فیصد کا اضافہ کر رہا ہوں۔!”
“شکریہ باس۔!” نو وارد کا لہجہ مسّرت آمیز تھا۔
“جتنا بزنس بڑھے گا اتنا ہی کمیشن بھی بڑھتا جائے گا۔ میں اپنے کار پردازوں کو زیادہ سے زیادہ متمول دیکھنا چاہتا ہوں۔!”
“اسی لئے تو ہمارے کاروباری حریف ہم سے جلتے ہیں۔!”
“جل جل کر راکھ ہونے دو انہیں۔ وہ مجھ سے ٹکرانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔!”
“ہمیں آپ پر فخر ہے باس۔!”
“اور مجھے اپنے کار پردازوں پر فخر ہے۔۔۔۔ وہ بہت ذہین ہیں۔!”
“ایک بات ہے باس۔!”
“کہو کیا بات ہے؟”
“آپ کے ان چھ آدمیوں کے بارے میں علامہ دہشت سے کیوں نہ پوچھ گچھ کی جائے؟”
“ہرگز نہیں ادھر کا رخ بھی نہ کرنا۔!”
“میں بھی تو انہیں کا تربیت یافتہ ہوں۔ ان کے لئے اجنبی تو نہیں۔!”
“اصول توڑو گے؟” علامہ نے حیرت سے کہا۔!” شروع سے یہ طریقہ رہا ہے کہ تربیت مکمل کر لینے کے بعد اس کے مخصوص شاگردوں نے کبھی ادھر کا رخ نہیں کیا صرف میں اس سے براہِ راست رابطہ رکھتا ہوں۔ پہلے ہی معلوم کر چکا ہوں کہ وہ بھی کچھ نہیں جانتا غائب ہو جانے والوں کے بارے میں۔!”
“میں معافی چاہتا ہوں باس۔!”
“اسے ہمیشہ یاد رکھا کرو کہ میرے سارے معاملات اسی طرح الگ الگ ہیں جیسے حکومتوں کی وزارتیں شعبہ وار الگ الگ ہوتی ہیں۔!”
“میں سمجھتا ہوں باس۔!”
“بس اب جاؤ۔۔۔۔ اور ان کی تلاش جاری رکھو اور جیسے ہی اس کا علم ہو کہ وہ پولیس کے ہاتھ لگے ہیں، مجھے مطلع کر دینا۔!”
“وہ احتراماً جھکا اور ٹیکرے سے اترتا چلا گیا۔!”
“ہر وقت کنگھی چوٹی۔ ہر وقت کنگھی چوٹی۔!” سلیمان اپنی پیشانی پر ہاتھ مار کر دھاڑا۔”پتیلی لگنے کی بو بھی ناک میں نہیں پہنچی۔!”
“ارے تو۔۔۔۔ تو ہی دیکھ لے۔۔۔۔!” گل رخ چنچنائی۔
“ہوش میں ہے یا نہیں؟”
“کیوں بکواس کر رہا ہے؟”
“ارے۔۔۔۔ ارے۔۔۔۔ تو میری بیوی ہے۔۔۔۔ بد زبانی نہ کر۔!”
“تو میرا بی وا ہے۔۔۔۔ ٹائیں ٹائیں کیوں کرتا ہے؟”
“بیوا؟”
“ہاں ہاں بیوا ہی لگتا ہے۔۔۔۔ شوہروں جیسی تو شکل ہی نہیں ہے۔!”
“دماغ تو نہیں چل گیا؟”
“ہوش میں ہے یا نہیں۔۔۔۔ دماغ تو نہیں چل گیا؟ اس کے علاوہ کوئی اور بھی ڈائیلاگ یاد ہے یا نہیں؟”
“دیکھ گل رخ اچھا نہیں ہوگا۔ مجھ سے آگے بڑھنے کی کوشش مت کر۔!”
“اسی لئے تو کہتا ہوں کہ تو ہی چولہا ہانڈی کرتا رہ۔۔۔۔ میں خود تجھ سے آگے نہیں بڑھنا چاہتی۔!”
“اور تو کیا کرے گی؟”
“ٹانگ پر ٹانگ رکھے پڑی فلمی رسالے پڑھا کروں گی۔!”
“میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کون تیرا دماغ خراب کیا کرتا ہے؟”
“وہی جس نے تجھے آسمان پر چڑھا رکھا ہے۔!”
“کیا مطلب؟”
“صاحب نے کہا ہے کہ دب کے نہ رہیو۔!”
“ارے۔۔۔۔ مارا گیا۔!” سلیمان پیشانی پر ہاتھ مار کر بولا۔
“اور وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ سنۂ پچھتر عورتوں کا سال تھا۔ بہت دیر میں معلوم ہوا مجھ کو ورنہ بتاتی تجھے۔!”
“اب بتا دے۔۔۔۔!” سلیمان آنکھ نکال کر بولا۔
“کیا فائدہ۔۔۔۔ اب سنۂ چھیتر شروع ہو گیا ہے۔!”
“گردن مروڑ دوں گا کسی دن۔!”
“باتیں بھی باورچیوں ہی جیسی کرتا ہے۔! ارے پرائیویٹ ہی میٹرک پاس کر لے۔!”
“بس بس! بڑی آئی میٹرک والی۔ اب نام لیا میٹرک کا تو زبان گدی سے کھینچ لوں گا۔ بھول جا کہ میٹرک پاس ہے۔!”
“وہ تو بھول ہی جانا پڑے گا، صاحب نے میری تقدیر پھوڑ دی۔!”
“ہاں ہاں نہیں تو ڈپٹی کلکٹر ملتا تجھے۔!”
“ہیڈ کانسٹیبل تو مل ہی جاتا۔!”
“چپ بے غیرت۔!”
“اس میں بے غیرتی کی کیا بات ہے! تیرے مرنے کے بعد ہیڈ کانسٹیبل ہی تلاش کروں گی۔!”
“تم بولے تو ہم ابھی اس کو مار ڈالے۔!” کچن کے باہر سے جوزف کی آواز آئی۔
“چل بے کالئے۔!” سلیمان حلق پھاڑ کر بولا۔
“او کم بختو اب مجھ پر رحم کرو۔!” دور سے عمران کی آواز آئی تھی۔
“چپ چپ۔!” گل رخ آہستہ سے بولی۔
“میں آج ہی اپنا بوریا بستر باندھتا ہوں۔!” سلیمان بڑبڑایا۔
“میں ساتھ نہ جاؤں گی۔!”
“چوٹی پکڑ کے گھسیٹتا ہوا لے جاؤں گا۔!”
“دیکھ اچھا نہ ہوگا اگر بد زبانی کی۔!” گل رخ بہت زور سے چیخی تھی۔
عمران کچن کے دروازے میں آ کھڑا ہوا تھا۔ اس حال میں کہ داہنے ہاتھ کی انگلیاں بائیں ہاتھ کی نبض پر تھیں۔
“تم دونوں کہیں نہ جاؤ میں خود ہی جا رہا ہوں۔!” اس نے مری مری سی آواز میں کہا۔
“شہ دے دے کر دماغ خراب کر دیا ہے سسری کا۔!” سلیمان بھنا کر بولا۔
“تو خود سسرا۔۔۔۔ تیری سات پشتیں سسریاں!” گل رخ دانت پیس کر بولی۔
“لیکن اس گھر کو تو سسرال نہ بناؤ۔!” عمران کراہا
“مجھے چھٹی دیجئے! میں اب یہاں نہیں رہوں گا۔!” سلیمان چولہے پر ہاتھ مار کر بولا۔
“کہاں جائے گا؟”

Read More:  Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 8

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: