Allama Dahshatnak by Ibne Safi – Episode 7

0

علامہ دہشت ناک از ابن صفی قسط 07

جہاں خدا لے جائے گا۔!”
“اور اس بے چاری کا کیا ہوگا؟”
“میری بات نہ کیجئے صاحب۔!” گل رخ بولی۔
“اس بے چاری کو مرتبان میں رکھ کر اوپر سے سرسوں کا تیل انڈیل دیجئے گا۔!” سلیمان نے کہا۔
“اللّہ کرے تیرا ہی اچار پڑ جائے شلجم کے بچے!” گل رخ کلکلائی۔
اور عمران گھنٹی کی آواز سن کر ڈرائنگ روم کی طرف دوڑا گیا۔! کوئی آیا تھا۔ جوزف جو اس کے پیچھے تھا۔ آگے بڑھ کر دروازہ کھولنے لگا۔
عمران ڈرائنگ روم میں ہی رک گیا تھا۔
“مسٹر صفدر ہیں باس!” اس نے جوزف کو کہتے سنا! ”آئیے مسٹر!”
“آئیے مسٹر!” عمران نے بھی ہانک لگائی۔ “لیکن چائے نہ پلا سکوں گا کیونکہ باورچی خانے کے حالات نازک ہیں۔!”
سلیمان اور گل رخ کے جھگڑنے کی آوازیں ڈرائينگ روم میں پہنچ رہی تھیں۔!
“یہ نیا روگ پال لیا ہے آپ نے!” صفدر ہنس کر بولا۔!
“اور اس روگ کے بچے بھی میں ہی پالوں گا۔!” عمران کی ٹھنڈی سانس دور تک سُنی گئی تھی۔!
صفدر نے بیٹھتے ہوئے کوٹ کی اندرونی جیب سے کچھ کاغذات نکالے اور عمران کی طرف بڑھا دیئے۔
“کیا ہے؟”

“علامہ کی ٹیپ کی ہوئی تقاریر سے کچھ نوٹ لئے ہیں۔ یہ تقاریر پچھلے پندرہ برسوں پر پھیلی ہوئی ہیں۔!”
“تمہارا چوہا بہت ذہین ہوتا جا رہا ہے۔!”
“اب تو آپ بھی اسے چیف کہا کیجئے۔! کتنے دنوں سے کام کر رہے ہیں اس کے لئے۔!”
“تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔ میں سر سلطان کے لئے کام کرتا ہوں۔ ایکس ٹو کو صرف رابطے کی ایک کڑی سمجھتا ہوں۔! خیر تو یہ ٹیپ تمہیں کہاں سے ملے؟”
“کچھ یونیورسٹی سے اور کچھ مختلف کلچرل اداروں سے۔۔۔۔ اور ایکس ٹو کا یہ خیال قطعی درست نکلا کہ اس کی تقاریر سے پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کہاں پیدا ہوا تھا۔!”
“کیا معلوم ہوا؟”
“متعدد تقاریر میں اُس نے صرف ضلع احمد پور کی مثالیں یا حوالے دیئے ہیں۔۔۔۔ دس سال پہلے کی تین تقاریر میں ایک گاؤں کا نام بھی لیا ہے۔!”
“کیا نام ہے گاؤں کا؟”
“جھریام۔۔۔۔ چھان بین کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ گاؤں ضلع احمد پور ہی میں واقع ہے۔!”
“گڈ۔۔۔۔! اور کچھ؟”
“احمد پور کے اس گاؤں کے تھانے کا نام بھی تھانہ جھریام ہی ہے۔۔۔۔ وہاں کا پرانا ریکارڈ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ اڑتالیس سال پہلے جھریام میں آتش زدگی کی ایسی واردات ہوئی تھی کہ آٹھ افراد ایک مکان میں جل مرے تھے۔۔۔۔ خاندان کے سربراہ کا نام پیر علی تھا۔!”
“بہت اچھے جا رہے ہو۔!” عمران بولا۔
“وہاں آج بھی صرف ایک ہی حویلی ہے۔ تیرہ سال قبل پوری حویلی ویران ہو گئی تھی۔ اس کے سارے افراد دو ماہ کے اندر اندر ایک حیرت انگیز وباء کا شکار ہو کر مر گئے تھے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ وباء صرف حویلی ہی تک محدود رہی تھی۔ لیکن ٹھہرئیے اس خاندان کا ایک فرد آج بھی زندہ ہے۔ محض اس لئے کہ وہ اُن دنوں لندن میں زیرِ تعلیم تھا۔!”
“اب جلدی سے اس کا نام بھی لے ڈالو۔!” عمران بولا
“میاں توقیر محمد جھریام موجودہ حکمران پارٹی کے ایک سرگرم کارکن اور اپنے ضلعے کی شاخ کے صدر بھی ہیں۔!”
عمران نے سیٹی بجانے والے انداز میں ہونٹ سکوڑے تھے۔ پھر یک بیک وہ اچھل پڑا۔!
“کیا بات ہے؟” صفدر نے حیرت سے پوچھا۔
“تین دن بعد پارٹی کا کنونشن یہیں شروع ہونے والا ہے۔!”
“وہ تو ہے۔!”
“وہ اسی موقعے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔! میاں توقیر محمد بھی کنونشن میں ضرور شرکت کریں گے۔!”
“تو پھر؟”
“کچھ نہیں۔۔۔۔ میں دیکھوں گا کہ ان پر کیا گزرتی ہے۔!”
“آپ دیکھیں گے؟”
“یہ مطلب نہیں تھا کہ انہیں دھماکے سے اڑتا ہوا دیکھوں گا۔!”
ٹھیک اسی وقت جوزف پھر کمرے میں داخل ہوا تھا۔
“باس! وہ جا رہا ہے۔۔۔۔ سامان اکٹھا کر رہا ہے اپنا۔!”
“اور وہ کیا کر رہی ہے؟”
“اس کا ہاتھ بٹا رہی ہے سامان سمیٹنے میں۔!”
“اچھا ہے دفع ہو جانے دو۔!”
“وہ نہیں جا رہی! کہتی ہے! اب میں کسی ہیڈ کانسٹیبل سے شادی کروں گی۔!”
“یہ تو اچھا نہ ہو گا۔۔۔۔ اگر وہ ہیڈ کانسٹیبل بھی یہیں رہ پڑا تو؟”
“یہ سب تم جانو باس۔!”
“جاؤ۔۔۔۔!” عمران ہاتھ ہلا کر بولا۔
“کیا سلیمان جا رہا ہے؟” صفدر نے پوچھا۔ عمران نے مغموم انداز میں سر ہلایا تھا۔
“جا چکا۔۔۔۔!” صفدر مسکرا کر بولا۔
“کیوں نہیں جائے گا۔!”
“اس قابل کب چھوڑا ہے آپ نے کہ کسی اور کے کام آ سکے۔!”
“ڈپلومیسی!” عمران بائیں آنکھ دبا کر مسکرایا۔ پھر اٹھتا ہوا بولا۔! “چلو!”
“کہاں؟”
“کہیں بھی۔۔۔۔ خواہ مخواہ اتوار ضائع ہو رہا ہے۔!”
وہ دونوں نیچے سٹرک پر آئے تھے اور عمران نے صفدر ہی کی گاڑی کا دروازہ کھولا تھا۔
“کدھر چلیں گے؟”
“تفریح کا موڈ بھی ہے اور کام بھی کرنا ہے۔!”
صفدر نے گاڑی اسٹارٹ کی اور عمران نے کہا۔ “ساحل کی طرف۔ تمہیں آج علامہ کے ایک پرانے شاگرد سے ملواؤں گا۔!”
“یہ علامہ آخر ہے کیا بلا۔۔۔۔ بیک گراؤنڈ مظلوموں کی سی رکھتا ہے۔ لیکن کرتوت۔!” صفدر نے کہا۔
“ذہین آدمی ہے! لیکن غلط راستے پر جا نکلا ہے۔۔۔۔ کبھی کبھی انتقام لے چکنے کے بعد بھی انتقام کی آگ نہیں بجھتی۔!”
“ان ساتوں کا کیا رویہ ہے؟”
“پیٹر کے علاوہ اور سب نے وہی کہانی سنائی ہے جو شیلا سُنا چکی تھی۔ پیٹر اسی پر اڑا ہوا ہے کہ دھنی رام نے شیلا کو ذہنی طور پر مفلوج کرا دینے کے لئے اس کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اس کا اعتراف کرنا ہے کہ وہ علامہ کے حلقہ بگوشوں میں سے ہے اور اسے دنیا کا عظیم ترین آدمی سمجھتا ہے۔ اپنے دوسرے ساتھیوں کے بیانات سے اس نے اتفاق نہیں کیا۔!”
“کنفیشن چیئر پر بٹھا دیجئے۔!”
“دیکھا جائے گا۔! فی الحال تو میاں توقیر محمد کا مسئلہ در پیش ہے۔!”
“اس سلسلے میں آپ کیا کریں گے؟”
“نگرانی اور صرف نگرانی۔ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔!”
“کیوں نہ علامہ کو حراست میں لے لیا جائے۔!”
“اس اسٹیج پر بھی ہمارے پاس ناکافی مواد ہے اس کے خلاف اور پھر وہ خاصی بڑی سوشل پوزیشن بھی رکھتا ہے۔!”
“کیا ان چھ افراد کے بیانات بھی ناکافی ہیں؟”
“شاعری پر کون پہرے بٹھا سکا ہے صفدر صاحب! ان کے بیانات محض علامہ کی بکواس تک محدود ہیں۔ شیلا سے اس نے جو گفتگو کی تھی وہ بھی قہقہوں میں اڑا دی جائے گی البتہ اگر پیٹر اعتراف کر لے کہ وہ زہر علامہ نے اسے شیلا پر استعمال کرنے کے لئے دیا تھا تب بات بنے گی۔!”
“میں نے کہا تھا کنفنشن چیئر۔۔۔۔!”
“وہ ناکارہ ہو گئی ہے۔۔۔۔ ابھی تک ٹھیک نہیں ہو سکی۔۔۔۔اس کا ایک پرزہ باہر سے امپورٹ کرنا پڑے گا۔!”
“تھرڈ ڈگری۔!”
“پیٹر کا ٹائپ کمیاب ہے۔ تھرڈ ڈگری کا اس پر اس حد اثر نہیں ہو گا کہ وہ اعتراف کر لے۔ ویسے کبھی کبھی مجھ سے بھی بھول چوک ہو جاتی ہے۔ اگر میں اسی وقت اس کے ہاتھ پیر باندھ کر زبردستی وہ شراب اس کے حلق میں انڈیلنے کی کوشش کرتا تو شاید کامیابی ہو جاتی۔!”
“شراب تو اب بھی محفوظ ہو گی۔!”
“نہیں شیلا اتنی خائف اور نروس تھی کہ بعد میں اس نے ہاتھ مار کر گلاس کو میز سے گرا دیا تھا۔۔۔۔ اور ساری شراب قالین میں جذب ہو گئی تھی۔!”
صفدر کچھ نہ بولا۔ گاڑی تیز رفتاری سے ساحلی علاقے کی طرف جا رہی تھی۔
“گرین ہٹس کی طرف چلنا ہے۔!” عمران نے تھوڑی دیر بعد کہا۔
“کیا علامہ کا وہ پرانا شاگرد وہیں ملے گا؟”
“گمنام آدمی نہیں ہے تم بھی اس سے واقف ہو گے۔!” عمران نے کہا اور کچھ دیر خاموش رہ کر بولا۔!
“گرین بیچ ہوٹل کا مالک شہزاد۔!”
“ارے۔۔۔۔!” صفدر نے حیرت سے کہا۔ “وہ علامہ کا شاگرد تھا؟”
“دس بارہ سال پرانی بات ہوئی۔ مجھے بھی علم نہیں تھا لیکن ان پانچوں سے گفتگو کے دوران میں یہ بات معلوم ہوئی تھی۔!”
“گرین بیچ ہوٹل تو نشہ بازوں کا بہت بڑا اڈہ ہے۔۔۔۔ اور میری معلومات کے مطابق اسے محکمۂ آبکاری کے ایک آفیسر کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔!”
“ہو سکتا ہے کہ وہ آفیسر بھی علامہ ہی کا شاگرد ہو۔۔۔۔علامہ کی جڑیں بہت گہرائی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ شاید ہی کوئی محکمہ ایسا ہو جہاں اس کے شاگرد نہ موجود ہوں۔”
“کیا آپ اس سلسلے میں شہزاد سے پوچھ گچھ کریں گے؟”
“نہیں! صرف اپنی شکل دکھاؤں گا اسے۔۔۔۔ وہ مجھے اچھی طرح جانتا ہے۔!”
“اس سے کیا فائدہ؟”
“پولیس کے علاوہ بھی کچھ لوگ علامہ کے ان شاگردوں کے بارے میں پوچھ کچھ کرتے پھر رہے ہیں جو میری حراست میں ہیں۔ علامہ کو علم ہو گیا ہو گا کہ وہ پولیس کی حوالات میں نہیں ہیں لہٰذا اب اسے معلوم ہو جانا چاہیے کہ وہ حقیقتاً کہاں ہوں گے۔!”
“گویا آپ خود ہی جتانا چاہتے ہیں؟”
“کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔!”
“بھلا کیا بات ہوئی؟”
“اول درجے کا اُلو ہوں۔ بس تم دیکھتے رہو۔!”
“آپ اپنے بارے میں جیسی بھی رائے رکھتے ہوں، براہِ کرم مجھے باور کرانے کی کوشش نہ کریں۔!”
“بڑے سعادت مند ہوتے جا رہے ہو۔! سلیمان کی شادی کرا کے پچھتا نہ رہا ہوتا تو تمہاری بھی ضرور کرا دیتا۔!”
“تو آپ گرین ہوٹل میں بیٹھیں گے؟”
“نہ صرف بیٹھوں گا بلکہ تمہیں چانڈو بھی پلاؤں گا۔!”
صفدر کچھ نہ بولا۔ گاڑی گرین ہٹس کی طرف بڑھی جا رہی تھی۔ گرین ہوٹل بھی اسی نواح میں واقع تھا۔! اس وقت وہاں خاصی بھیڑ تھی۔ زیادہ تر غیر ملکی ہپّی اور جہاز ران نظر آ رہے تھے۔ بڑی تلاش کے بعد ایک میز خالی ملی تھی۔
عمران نے کاؤنٹر کے قریب رک کر خاصی اونچی آواز میں صفدر سے گفتگو کی تھی اور پھر اس خالی میز کی طرف بڑھ گیا تھا۔ اس نے کھانے پینے کی کچھ چیزیں طلب کی تھیں اور ہال میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا جائزہ ایسے انداز میں لینے لگا تھا جیسے کسی کی تلاش ہو۔!
پانچ منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ ہیڈ ویٹر میز کے قریب آ کھڑا ہوا اور ان دونوں کو بغور دیکھتا ہوا بڑے ادب سے بولا۔! “آپ صاحبان میں سے مسٹر علی عمران کون ہیں؟”
“مم۔۔۔۔ میں ہوں۔ سامالیکم۔۔۔۔!” عمران اٹھ کر مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہوا بولا۔
ہیڈ ویٹر نے غیر ارادی طور پر مصافحہ کیا تھا اور جھینپے ہوئے انداز میں بولا تھا۔۔۔۔ “شہزاد صاحب نے کہا ہے کہ اگر کوئی حرج نہ سمجھیں تو ذرا دیر کو آفس میں آ جائیں۔!”
“ضرور۔۔۔۔ ضرور!” اس نے چہک کر کہا اور صفدر سے بولا۔ “تم بیٹھو۔! میں ابھی آیا۔!”
شہزاد صورت ہی سے برا آدمی معلوم ہوتا تھا۔ آنکھوں سے سفاکی عیاں تھی اور بھاری جبڑے مزید درندہ خصلتی کی طرف اشارہ کرتے تھے۔
عمران کو دیکھ کر وہ مسکراتا ہوا اٹھ گیا تھا۔ مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھا کر بولا۔! “کیا میں یہ سمجھ لو کہ تمہیں بھی کسی قسم کی لت لگ گئی ہے۔!”
___
“گدھے ہمیشہ گدھے ہی رہتے ہیں یعنی انہیں کوئی لت نہیں لگتی۔ خود چلاتے ہیں دولتیاں۔!” عمران مصافحہ کرتا ہوا بولا۔
“بیٹھو۔۔۔۔ بیٹھو۔۔۔۔ بہت دنوں کے بعد ملے ہو اور غالباً یہی کہنے آئے ہو کہ ابھی تک تم نے انہیں پولیس کے حوالے نہیں کیا۔!”
“پوری بات سنے اور سمجھے بغیر زبان کھولنے کا عادی نہیں ہوں۔!”
“اگر بات سمجھ میں نہیں آئی تو پھر کیا میں یہاں تمہاری موجودگی کا مقصد معلوم کر سکتا ہوں؟”
“تمہارا کیا خیال ہے؟”
“پہلے یہاں کبھی نہیں آئے؟”
“تفریح کے لیے آئے تھے کہ بھوک معلوم ہوئی۔!”
“ختم کرو۔” وہ ہاتھ ہلا کر بولا۔ “ہم سب ایک ہی ہتھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ پہلے تم پارٹی سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہو، کامیابی نہیں ہوتی توشکاروں کو پولیس کے حوالے کر دیتے ہو۔!”
“گرانی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے۔!” عمران ٹھنڈی سانس لے کر بولا۔
“کس قدر بڑھی ہے گرانی؟ آخر کچھ معلوم بھی تو ہو۔!” شہزاد نے مسکرا کر کہا۔
“شاید میرے ستارے اچھے ہی تھے کہ وہ خوف زدہ لڑکی خواہ مخواہ ہاتھ لگ گئی۔!”
“تو میرا خیال غلط نہیں تھا۔!”
“بقول تمہارے ہم ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔” عمران بائیں آنکھ دبا کر بولا۔
“مطالبہ؟” شہزاد کا لہجہ نا خوشگوار تھا۔
“ڈیڑھ لاکھ۔!”
“گھاس کھا گئے ہو؟”
“اونچی پوزیشن کا معاملہ ہے۔!”
“کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اب یہاں سے واپس بھی جا سکو گے؟”
“شادی کرا دو تو یہیں کا ہو رہوں گا۔!”
عمران کو شروع ہی سے احساس ہوتا رہا تھا کہ اس کی پشت پر دو آدمی موجود ہیں۔ شہزاد نے شاید اس کے سر پر سے انہی کی طرف دیکھا تھا۔ لیکن قبل اس کے کہ وہ کوئی حرکت کر سکتے ، عمران سینے کے بل میز پر پھسلتا ہوا شہزاد سے جا لگا جو میز کے دوسرے سرے پر تھا۔ اس کے ریوالور کی نال شہزاد کی کنپٹی پر تھی۔
“اب کہو تو یونہی پڑا رہوں یا اٹھ جاؤں؟” عمران نے آہستہ سے پوچھا۔
شہزاد کے دونوں آدمی جہاں تھے وہیں رہ گئے۔
شہزاد بے حس و حرکت بیٹھا رہا۔ ریوالور کی نال اس کے کنپٹی سے ہٹائے بغیر عمران میز سے پھسل کر نیچے آیا تھا اور شہزاد کے پہلو میں کھڑا ہو گیا تھا۔
“ان دونوں میں سے اگر کوئی بھی باہر گیا تو تمہاری موت کی ذمہ داری مجھ پر نہ ہو گی۔!” عمران نے کہا۔ “انٹر کوم کے ذریعے ہیڈ ویٹر کو ہداہت دو کہ میرے ساتھی کو بھی یہیں لے آئے۔۔۔۔!”
شہزاد نے کسی سحر زدہ آدمی کے سے انداز میں عمران کے مشورے پر عمل کیا تھا۔
“تم دونوں دروازے کے پاس سے ہٹ کر ادھر کھڑے ہو جاؤ۔!” عمران نے دونوں آدمیوں سے کہا۔
“وہی کرو جو کہہ رہا ہے۔!” شہزاد نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ “میرا بہت پرانا یار ہے۔۔۔۔ کبھی کبھی سٹک جاتا ہے۔!” وہ دونوں بائیں جانب والے گوشے میں سرک گئے۔
“یہ ہوئی نا بات پیار کی۔!” عمران بولا اور ریوالور کنپٹی سے ہٹا کر گدی پر رکھ دیا اور اس طرح کھڑا ہو گیا کہ باہر سے کسی آنے والے کی نظر ریوالور پر نہ پڑ سکے۔
جلدی ہی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی تھی اور عمران بلند آواز میں بولا تھا۔ “آ جاؤ۔”
دروازہ کھلا اور صفدر کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا تھا۔
“ان دونوں کے بغلی ہولسٹر سے ریوالور نکال لو۔” عمران نے شہزاد کے آدمیوں کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
صفدر نے ان کے ہاتھ دیوار پر رکھوائے تھے اور ہولسٹروں سے ریوالور نکال لئے تھے۔
“تم آخر کرنا کیا چاہتے ہو؟” شہزاد نے اپنی آواز میں کرختگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔
“معاملے کی بات۔ لیکن کسی کھلے میدان میں، جہاں میرے اور تمہارے علاوہ اور کوئی نہ ہو۔!”
“میں تیار ہوں۔!”
“تو اٹھو۔۔۔۔ اور جس طرف میں لے جانا چاہتا ہوں اسی طرح چلو۔!”
شہزاد چپ چاپ اٹھا تھا۔ عمران کا ریوالور کوٹ کی جیب میں چلا گیا اوراس کی نال شہزاد کے پہلو میں چبھنے لگی۔
“تمہارے ریوالور شہزاد صاحب کے ساتھ واپس آ جائیں گے۔!” عمران نے اس کے آدمیوں سے کہا تھا۔
پھر وہ شہزاد سے لگ کر چلتا ہوا باہر آیا۔ صفدر اس کے پیچھے تھا اور پوری ہوشیاری سے عمران کے باڈی گارڈ کے فرائض انجام دے رہا تھا۔
وہ عمارت سے نکل آئے تھے۔ عمران شہزاد کو صفدر کی گاڑی تک بڑھا لایا۔ صفدر نے پچھلی نشست کا دروازہ کھولا تھا۔ عمران کے ریوالور کا دباؤ ‌شہزاد کے پہلو پر کسی قدر بڑھ گیا۔۔۔۔
“ڈیڑھ لاکھ بہت ہیں۔ میں پہلے ہی آگاہ کئے دیتا ہوں۔!” شہزاد گاڑی میں بیٹھتا ہوا بولا۔
عمران اس کی طرف توجّہ دیئے بغیر صفدر سے بولا۔ “ہیڈ کوارٹر۔!”
“کک۔۔۔۔ کیا مطلب!” شہزاد چونک پڑا۔
“چپ چاپ بیٹھے رہو۔” عمران ریوالور کا دباؤ بڑھاتا ہوا بولا۔ “پولیس ہیڈ کوارٹر نہیں کہہ رہا۔ میرے گرگے پاگل خانے کو ہیڈ کوارٹر کہتے ہیں۔!”
“تمہیں پچھتانا پڑے گا۔ تم میری قوّت سے واقف نہیں ہو۔!”
“تمہاری قوّت سے واقف نہ ہوتا تو سیدھا تمہارے پاس کیوں آتا۔!”
“لیکن جو حرکت تم نے اس وقت کی ہے تمہیں بہت مہنگی پڑے گی۔ تمہارے باپ کا اثر و رسوخ بھی کام نہ آ سکے گا۔”
“باپ کا تو نام ہی نہ لو۔ ہر بلیک میلر اس بھری پُری دنیا میں تنہا ہوتا ہے۔۔۔۔ باپ کے لائق ہوتا تو گھر کیوں چھوڑتا۔ ویسے کیا تم بتا سکتے ہو کہ اگر میں ان ساتوں کو پولیس کے حوالے کر دوں تو کس کی گردن پھنسے گی؟”
شہزاد کچھ نہ بولا۔ اب اس کی آنکھوں میں فکر مندی ظاہر ہونے لگی تھی۔
“میں نے پوچھا تھا کہ کس کی گردن پھنسنے والی ہے۔!” عمران نے پھر سوال کیا۔
“زندگی میں پہلی بار مجھ سے ایک حماقت سر زد ہوئی ہے۔!” شہزاد آہستہ آہستہ بڑبڑایا۔
“کیسی حماقت؟”
“مجھے تم کو نظر انداز کر دینا چاہئے تھا۔!”
“میں اس لئے نہیں آیا تھا کہ تم مجھے نظر انداز کر دو۔ کر ہی نہیں سکتے تھے جبکہ میں نے پہلی بار تمہارے ہوٹل میں قدم رکھا تھا۔!”
شہزاد خاموش رہا۔
“البتہ تمہیں معاملے کی بات فوراً ہی نہیں شروع کر دینی چاہئے تھی۔” عمران ہی بولتا رہا۔ “بہرحال ان میں براہِ راست صاحبِ معاملہ ہی سے بات کروں گا۔!”
“صاحبِ معاملہ تم کسے سمجھتے ہو؟”
“تمہیں کیوں بتاؤں۔۔۔۔ ویسے حقیقت یہ ہے کہ تم سے حماقت ہی سرزد ہوئی ہے۔!”
“مجھے اعتراف ہے۔۔۔۔ جلد بازی سے کام نہ لینا چاہئے تھا۔۔۔۔ تم نے دام بڑھا دیئے۔!”
“کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تمہیں ان ساتوں سے کیا سروکار ہو سکتا ہے؟” عمران نے سوال کیا۔
“کسی بلیک میلر کو پولیس والوں کے سے انداز میں سوالات کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔!”
ٹھیک اسی وقت ایک تیز رفتار موٹر سائیکل بائیں جانب اتنے قریب سے گزری تھی کہ صفدر گڑبڑا گیا تھا اور عمران کے کان جھنجھنا اٹھے تھے۔
شہزاد اگلی سیٹ کی پشت گاہ پر ڈھلک گیا۔۔۔۔ اس کی بائیں کنپٹی سے خون کا فوّارہ چھوٹ رہا تھا۔ صفدر نے پورے بریک لگائے۔ گاڑی جھٹکے سے رکی تھی۔
“احمق۔!” عمران دھاڑا۔ “چلو ورنہ وہ ہاتھ سے جائے گا۔!”
“کک۔۔۔۔ کیا ہوا۔!” صفدر ہکلایا۔
“فائر کر گیا ہے۔۔۔۔ شہزاد۔۔۔۔ ختم ہو گیا۔!”
صفدر نے ایکسیلیٹر پر دباؤ ڈالا۔۔۔۔ گاڑی نے چھلانگ سی لگائی تھی۔
چالیس۔۔۔۔ پچاس۔۔۔۔ ساٹھ۔۔۔۔ اور پھر سپیڈو میٹر کی سوئی ساٹھ اور ستّر کے درمیان جھولنے لگی۔
“اور تیز۔۔۔۔!” عمران غرّایا۔
لیکن موٹر سائیکل کا کہیں پتا نہ تھا۔
پندرہ منٹ بعد عمران ٹھنڈی سانس لے کر بولا۔! “بے کار ہے وہ کچّے راستے پر مڑ گیا۔۔۔۔ تم بھی گاڑی سڑک سے اتار کر کسی ٹیلے کی اوٹ میں لے چلو۔!”
اور پھر جب گاڑی رکی تھی تو ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔ شہزاد ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ موٹر سائیکل سوار کے فائر سے اس کی بائیں کنپٹی میں سوراخ ہو گیا تھا۔ “باڈی پر پڑے ہوئے خون کے دھبّے صاف کرو۔۔۔۔!” عمران نے صفدر سے کہا۔ “اب اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ اس لاش کو انتہائی احتیاط سے سائیکو مینشن لے چلیں اور سرد خانے میں رکھ دیں۔!”
“وہ کون ہو سکتا ہے؟” صفدر بڑبڑایا۔
“کیا تم اس کا چہرہ دیکھ سکے تھے۔!”
“نہیں۔!”
“میں بھی نہیں دیکھ سکا تھا۔!” عمران بولا۔

Read More:  Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 26

جوزف کو ایک بار پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ وہ دونوں بے غیرت تھوڑی دیر بعد پھر آپس میں ہنسنے بولنے لگے تھے اور سلیمان کا لپٹا ہوا بستر دوبارہ کھل گیا تھا۔
جوزف تو سمجھا تھا کہ اس بار ذرا کچھ نا مناسب سی ہوئی ہے لہٰذا سلمان ضرور بھاگ نکلے گا۔ وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ سلیمان اس حد تک ڈھیٹ ہو گیا ہے کہ کسی ہیڈ کانسٹیبل کے حوالے پر بھی اس کی انا کوٹھیس نہ لگے گی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 9

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: