Allama Dahshatnak by Ibne Safi – Last Episode 8

0

علامہ دہشت ناک از ابن صفی آخری قسط 08

“بے غیرت۔۔۔۔! بے غیرت۔۔۔۔!” اس کے ذہن نے تکرار شروع کر دی اور وہ اکتا کر گھر سے نکل بھاگا۔ عمران بھی موجود نہیں تھا۔ صرف انہی دونوں کے قہقہے پورے فلیٹ میں گونج رہے تھے۔ جوزف نے سوچا تھا کہ جیمسن کی طرف جانکلے گا اور کچھ دیر کے لئے اس کی عقل مندی کی باتوں سے جی بہلانے کی صورت نکال لے گا۔
کئی منٹ تک سڑک کے کنارے کھڑا رہا لیکن کوئی خالی ٹیکسی نہ ملی لہٰذا جھلا کر پیدل ہی چل پڑا۔ ویسے اگلے موڑ پر ٹیکسی مل جانے کی بھی توقع تھی۔
دفعتاً ایک گاڑی اس کے قریب ہی رکی۔ بریک چڑچڑائے تھے اور وہ اس کی طرف متوجہ ہو گیا تھا۔ گاڑی سے اس کا فاصلہ بمشکل دو فٹ کا رہا ہو گا۔
پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے آدمی سے اس کی نظریں چار ہوئی تھیں اور اس نے یہ بھی دیکھا تھا کہ اس کے ہاتھوں میں دبے ہوئے کپڑے کے بنڈل سے کوئی سیاہ چیز جھانک رہی ہے۔
پستول کا سائلنسر پہچان لینے میں کتنی دیر لگتی۔ اس نے متحیرانہ انداز میں پلکیں جھپکائیں۔
“چپ چاپ ڈرائیور کے پاس بیٹھ جاؤ۔!”
پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے آدمی نے سرد لہجے میں کہا تھا اور زبان انگلش استعمال کی تھی۔ گویا اس سے اچھی طرح واقف تھا لیکن جوزف کو اس کی شکل شناساؤں کی سی نہیں لگی تھی۔
“اچھا مسڑ۔!” اس نے ایک طویل سانس لے کر کہا اور اگلے دروازے کے ہینڈل کی طرف ہاتھ بڑھادیا لیکن اس سے پہلے ہی دروازہ کھل گیا تھا۔
جوزف نے بے چارگی سے تعمیل کی پچھلی سیٹ والا بے حد ہوشیار آدمی معلوم ہوتا تھا۔
گاڑی چل پڑی۔۔۔۔ اور پچھلی سیٹ والے نے کہا۔ “میں جاگ رہا ہوں اسے اچھی طرح ذہن نشین رکھنا۔!”
“لیکن مسڑ۔۔۔۔ قصہ کیا ہے؟ میں تو بہت شریف آدمی ہوں۔ کبھی غنڈہ گردی وغیرہ میں بھی ملوث نہیں رہا۔!”
“باتیں بھی نہیں کرو گے۔!” پچھلی سیٹ والا غرایا۔
“تمہاری مرضی۔۔۔۔ میرے ہاتھ صاف ہیں۔!”
“لیکن بغلی ہولسٹر میں ریوالور موجود ہے۔!”
“دو ریوالور بیک وقت رکھ سکتا ہوں۔ اجازت نامہ ہے میرے پاس مسڑ علی عمران کا باڈی گارڈ ہوں۔!”
“ٹھیک ہے زبان بند رکھو اور دونوں ہاتھ اٹھا کر سر پر رکھ لو۔!”
“میری توہین نہ کرو۔ معاملات کو سمجھے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاؤں گا۔ وعدہ کرتا ہوں۔ ویسے سر پر ہاتھ رکھ کر چلنے پر مرجانے کو ترجیح دوں گا۔!”
پچھلی سیٹ والے نے خاموشی اختیار کر لی۔ وہ عقب نما آئینے سے جوزف کا چہرہ بغور دیکھتا رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی۔ گاڑی شہر کی متعد د سڑکوں سے گذرتی ہوئی شاہ دارا والی سڑک پر ہو لی۔ پھر کچھ دیر بعد ایک کچے راستے پر مڑ گئی تھی۔ اونچی اونچی جھاڑیوں کے درمیان خاصا کشادہ راستہ تھا۔ سفر کا اختتام ایک چھوٹی سی سال خودرہ عمارت کے سامنے ہوا۔۔۔۔ ابھی فضا میں اتنی اجلاہٹ موجود تھی کہ عمارت کی ساخت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا تھا۔
جوزف سے اترنے کو کہا گیا۔ پچھلی سیٹ والا پہلے ہی نیچے اتر گیاتھا اور پستول کی نال جوزف کی کھوپڑی کی طرف اٹھی ہوئی تھی۔
“اب ہاتھ اٹھالو اُوپر۔ یہاں ہمارے علاوہ اور کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔!” پستول والے نے کہا۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں۔!” جوزف ہاتھ اٹھاتا ہوا بولا۔ “لیکن ایک ہی جگہ کھڑے کھڑے گھنٹوں ہاتھ اٹھائے رہ سکتا ہوں۔!”
“دائیں مڑو۔۔۔۔! اور چل پڑو۔۔۔۔!”
“مجھے بات تو پوری کر لینے دو۔ میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ ہاتھ اوپر اٹھا کر چلنے میں مجھے دشواری ہوتی ہے۔ اگر گر پڑا تو خواہ مخواہ تمہیں دشواری ہو گی۔!”
“چلو۔!” وہ دہاڑا۔ اور جوزف سال سوا سال کے کسی بچے کے انداز میں لڑکھڑاتا ہوا عمارت کی طرف بڑھنے لگا اور پھر سچ مچ گر ہی پڑا ہوتا، اگر پستول والے نے آگے بڑھ کر اپنے بائیں ہاتھ سے سہارا نہ دیا ہوتا۔ بس اتنا ہی کافی تھا۔ جوزف نے پلٹ کر اس کے پستول پر ہاتھ ڈال دیا لیکن دوسرے ہی لمحے میں اس نے سٹین گن کا قہقہہ سنا تھا اور اس کے قریب ہی زمین سے دھول کا مرغولہ فضا میں بلند ہونے لگا تھا۔۔۔۔ بڑی پھرتی سے ایک طرف ہٹ کر اس نے پھر ہاتھ اٹھا دیئے۔ صدر دروازے کے قریب ایک تاریک ہیولٰی سٹین گن سنبھالے کھڑا تھا۔ جوزف ہاتھ اٹھائے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھ رہا تھا۔
“اندر چلو۔۔۔۔!” پستول والے نے اسے دھکا دیا۔ وہ چل پڑاتھا لیکن چال میں پہلے ہی کی سی لڑکھڑاہٹ تھی۔
جوزف کو ایک کمرے میں لایا گیا جہاں تین بڑے کیروسین لیمپ روشن تھے۔
وہ چند ھیائی ہوئی سی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھنے لگا۔
سٹین گن والا ساتھ نہیں آیا تھا۔ جوزف نے ان دونوں کی طرف ہاتھ اٹھایا تھا جو اسے یہاں تک لائے تھے۔“کیا بات ہے؟” پستول والے نے غصیلے لہجے میں ‌کہا۔ “اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے رکھو۔!”
پھر اس نے اپنے ساتھی سے کہا تھا کہ وہ جوزف کے ہولسٹر سے ریوالور نکال لے۔۔۔۔
جوزف نے بے چون و چرا اسے ریوالور نکالنے دیا تھا۔ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ آدمی غافل نہ ہو گا جس نے سٹین گن سے فائر کئے تھے۔
“نہیں۔!” دفعتاً وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ “تم سمجھتے ہو گے کہ شائد میں نے تم سے پستول جھپٹنے کی کوشش کی تھی۔ ایسا ہرگز نہیں ہوا تھا۔!”
“کیا کہنا چاہتے ہو۔۔۔۔؟”
“پینے کو کچھ ہو تو لاؤ۔۔۔۔ میرا نشہ اکھڑ رہا ہے۔!”
“کیا تم اسے کوئی سوشل وزٹ سمجھتے ہو؟” پستول والا ہنس کر بولا۔
“میں سرے سے کچھ سمجھتا ہی نہیں۔ یہ تو اب تم لوگ سمجھاؤ گے کہ اس تکلیف دہی کا مقصد کیا ہے۔!”
“وہ ساتوں کہاں ہیں؟” کسی نادیدہ آدمی کی آواز آئی۔ جوزف بوکھلا کر چاروں طرف دیکھنے لگا لیکن کوئی دکھائی نہ دیا۔
“کیا مجھ سے کچھ پوچھا جا رہا ہے؟” جوزف نے راز دارانہ انداز میں پستول والے سے سوال کیا۔
“ہاں۔۔۔۔ جواب دو۔!” پستول والا بولا۔
“کن ساتوں کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے؟ میں کچھ نہیں سمجھا۔!”
“وہ ساتوں طالب علم جن میں ایک لڑکی بھی شامل ہے۔!”
“یقین کرو۔۔۔۔ میں کچھ بھی نہیں جانتا۔!”
“اچھی بات ہے۔۔۔۔ تو پھر مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔!” نادیدہ آدمی کی آواز آئی۔
“لیکن میں خواہ مخواہ مارا جاؤں گا۔ اگر جانتا ہوتا تو نہ بتا کر مجھے جتنی خوشی ہوتی اس کا تم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔!”
“عمران کہاں ہے؟”
“جب میں گھر سے نکلا ہوں اس وقت کہیں گئے ہوئے تھے۔!”
“اس کے دوسرے ٹھکانوں کے پتے دو۔!”
“ان کے ٹھکانے؟” جوزف کے لہجے میں حیرت تھی۔ پھر وہ غمناک آواز میں بولا۔ “جب سے باورچی کی شادی ہوئی ہے بالکل ہی بے ٹھکانہ ہو گئے ہیں۔!”
“اگر تم نے نہ بتایا تو تمہارے سارے ناخن ایک ایک کر کے کھینچ لئے جائیں گے۔!”
“سنو بھائی! اگر مجھے علم بھی ہوتا تو مقصد معلوم کئے بغیر ہرگز نہ بتاتا۔ ویسے اگر تم کہو تو خود ہی اپنے سارے ناخن کھینچ کر تمہاری ہتھیلی پر رکھ دوں۔!”
“تم شاید زندہ درگور ہی ہونا چاہتے ہو؟”
“میں صرف ان کے دو ٹھکانوں سے واقف ہوں۔ ایک فلیٹ اور دوسرا۔۔۔۔” جوزف جملہ پورا کئے بغیر خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا۔
“ہاں دوسرا؟”
“ٹپ ٹاپ نائٹ کلب۔۔۔۔!”
“وہاں رہنے کا انتظام نہیں ہے؟”
“میرا مطلب تھا جس رات گھر پر نہیں ہوتے، کلب میں ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی کوئی اور ٹھکانا ہو تو مجھے علم نہیں۔!”
“تمہاری حیثیت کیا ہے؟”
“میں ان کا باڈی گارڈ ہوں۔!”
“اسے باڈی گارڈ رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟”
“نام کا باڈی گارڈ ہوں مسڑ۔ انہوں نے مجھ جیسے نہ جانے کتنے پال رکھے ہیں۔!”
“اتنا پیسہ کہاں سے آتا ہے؟”
“میں نے کبھی معلوم کرنے کی ضرورت نہیں محسوس کی۔!”
“کیا یہ غلط ہے کہ وہ لوگوں کو بلیک میل کرتا ہے اور اگر وہ اس کے مطالبات پورے نہیں کرتے تو وہ پولیس کو ان کی راہ پر لگا دیتا ہے۔!”
جوزف کے ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی اور وہ سر ہلا کر بولا تھا۔ “تمہارا خیال اس حد تک درست ہے کہ ہرقسم کے لوگوں کو نہیں بلکہ صرف ان مجرموں کو بلیک میل کرتے ہیں جو بظاہر اچھی سوشل پوزیش کے حامل ہوتے ہیں۔!”
ٹھیک اسی وقت دوڑتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دی تھی اور ایک بار پھر سٹین گن کے فائر ہوئے تھے۔ جوزف نے جھرجھری سی لی۔ اس کے دونوں نگران بھی کسی قدر متوحش سے نظر آنے لگے تھے۔ پھر ایسا محسوس ہوا جیسے کچھ لوگ دھما دھم چھت پر کودے ہوں
سٹین گن کے فائروں کی آوازیں پہلے کی نسبت اب کچھ دور کی معلوم ہونے لگی تھیں۔ ریوالوروں کے بھی فائر سنائی دیئے اور پھر جوزف نے اس آدمی پر چھلانگ لگادی جس نے اس کے ہولسٹر سے ریوالور نکالا تھا۔ ریوالور ابھی تک اس کے ہاتھ ہی میں تھا۔
“خبردار۔۔۔۔ خبردار۔۔۔۔!” پستول والا جوزف کو دھمکیاں دیتا ہوا پیچھے ہٹا لیکن اتنی دیر میں وہ نہ صرف اپنے ریوالور پر قبضہ کر چکا تھا بلکہ دوسرے آدمی کو ڈھال بناتا ہوا پستول والے سے بولا تھا۔ “پستول زمین پر ڈال دو۔”
وہ دشواری میں پڑ گیا۔ جوزف پر فائر کرنے کے لیے اپنے ساتھی ہی کو چھیدنا پڑتا۔
دفعتاً باہر سناٹا چھا گیا۔ نہ سٹین گن کے فائر سنائی دیئے تھے اور نہ کسی اور قسم کی آواز۔۔۔۔
“کیا تم نے سنا نہیں۔۔۔۔؟” جوزف غرایا اور ریوالور کی نال اپنے شکار کی کنپٹی پر رکھ دی۔
“پھپھ۔۔۔۔ پھینک دو پستول۔۔۔۔” شکار ہکلایا۔
بالآخر اس نے پستول فرش پر ڈال دیا تھا اور اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا دیئے تھے۔
اچانک کوئی اس کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔ اور یہاں کی سیچویشن دیکھ کر دروازے کے قریب ہی رک گیا۔
“سنبھل کر مسڑ صفدر۔۔۔۔!” جوزف نے دانت نکال دیئے۔
صفدر نے سب سے پہلے فرش پر پڑا پوا پستول اٹھایا تھا۔
جوزف نے اپنے شکار کو دھکا دیا اور وہ دوسرے آدمی سے جا ٹکرایا۔
“سٹین گن کس نے چلائی تھی؟” صفدر انہیں گھورتا ہوا بولا۔
“ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا۔!” جوزف بولا۔ “کیا وہ تیسرا آدمی ہاتھ نہیں آیا؟ اسی کے پاس سٹین گن تھی۔!”
“انہیں لے چلنا ہے۔!” صفدر ان دونوں کی طرف ہاتھ اٹھا کر بولا۔
انہی کی ٹائیوں سے ان کے ہاتھ پشت پر باندھے گئے تھے۔
“کیا تم تنہا ہو مسڑ۔!” جوزف نے صفدر سے پوچھا۔
“نہیں۔ چلو نکلو جلدی۔۔۔۔ وہ لوگ تیسرے آدمی کی تلاش میں ہیں۔!”
اس کمرے سے نکل کر وہ صدر دروازے کی طرف بڑھے تھے۔ صفدر نے پہلے باہر نکلنا چاہا تھا لیکن جوزف نے اس کا بازو پکڑ کر کھینچتے ہوئے کہا۔ “ٹھہرو مسٹر! اتنی جلدی بھی ٹھیک نہیں ہے۔!”
“کیا بات ہے؟” صفدر جھنجھلا گیا۔
“پہلے ان دونوں‌ کو باہر نکالو۔ تم دیکھتے نہیں کہ کتنا اندھیرا ہے۔!”
“اوہ۔۔۔۔!” صفدر کو عقل آگئی۔
“ہم نہیں نکلیں گے۔!” ان میں‌ سے ایک بولا۔
“کیوں۔۔۔۔؟” صفدر غرایا۔
“تم شاید زندہ رہنے دو۔ لیکن وہ۔۔۔۔!”
“پوری بات کرو۔!”
“ہمارا باس اپنے آدمیوں کو دوسروں کے قبضے میں زندہ نہیں رہنے دیتا۔!”
“تو وہ تمہارا باس تھا جس نے سٹین گن سے فائرنگ کی تھی؟” جوزف نے پوچھا۔
“ہاں باس ہی تھا۔!”
“وہ کون ہے؟”
“مالک ہے۔۔۔۔!”
“میں نام پوچھ رہا ہوں۔۔۔۔!”
“شہروز۔۔۔۔!”
“نام نیا ہے۔۔۔۔!”
“نام لینے کا حکم نہیں صرف باس کہلاتا ہے۔۔۔۔!”
“کہاں رہتا ہے۔۔۔۔؟”
“ہم نہیں جانتے۔۔۔۔!”
“چلو۔۔۔۔ نکلو باہر۔۔۔۔ ہمارے آدمی بھی ہیں۔!”
“یہ باڈی گارڈ آپ سے زیادہ تجربہ کار ہے۔۔۔۔ باس کہیں آس پاس ہی موجود ہو گا۔ وہ ہمیں تم لوگوں کے ہتھے نہیں چڑھنے دے گا۔ آج تک اس نے اپنے کسی آدمی کو بے بس نہیں ہونے دیا۔ کہتا ہے کہ بے بسی سے موت اچھی۔!”
صفدر کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اس کا دم گھٹ کر رہ گیا۔ ایسا ہی زبردست دھماکہ تھا۔ وہ سب ایک کے اوپر ایک ڈھیر ہوتے چلے گئے تھے اور کسی کو اس کا ہوش نہیں رہا تھا کہ اس کے اوپر چھت کا کتنا ملبہ گرا تھا۔
کسی پر کچھ بھی بیتی ہو لیکن جوزف نے ہوش میں آتے ہی سب سے پہلے صفدر کو آواز دی تھی اور اٹھ بیٹھنے کی کوشش کی تھی۔ آنکھوں سے کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ مدھم سی روشنی کا احساس ہوا تھا اور یہ روشنی بتدریج تیز ہوتی گئی تھی۔ پھر وہ کراہنے لگا تھا کیونکہ بات پوری میں سمجھ آگئی تھی۔۔۔۔ وہ کسی ہسپتال کے کمرے میں تھا۔ قریب ہی نرس کھڑی نظر آئی۔
“اٹھنے کی کوشش مت کرو۔ تمہاری ٹانگ پر پلاسٹر چڑھا ہوا ہے۔۔۔۔!”
“ہاں۔۔۔۔ شاید۔۔۔۔ کیا کئی ٹکڑے ہو گئے ہیں ٹانگ کے۔۔۔۔؟”
“نہیں‌ ایک سمپل فریکچر ہے۔ پریشانی بات نہیں۔!”
“اور میرے ساتھی۔۔۔۔؟”
ایک صاحب اور ہیں جن کے بازو کا گوشت ادھڑ گیا ہے۔!”
“مسڑ صفدر۔۔۔۔!”

“بس یہاں آپ ہی دونوں ہیں۔!” نرس نے کہا تھا اور قریب ہی رکھے ہوئے فون پر کسی کو جوزف کے ہوش میں آ جانے کی اطلاع دی تھی۔
اور پھر پندرہ یا بیس منٹ بعد جوزف عمران کی شکل دیکھتے ہی کھل اٹھا تھا۔
“سب ٹھیک ہے۔!” عمران سر ہلا کر بولا۔ “تیری خواہش تھی نا کہ فلیٹ سے نکل بھاگے۔ بس اب یہیں پڑا رہ۔۔۔۔!”
“لیکن یہ سب کیا تھا باس؟ اس بار تم نے مجھے کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔!”
“بس ہے ایک خطرناک جانور۔۔۔۔ایک بار پھر ہاتھ سے نکل گیا۔!”
“کیا وہ دونوں زندہ ہیں؟”
“بالکل محفوظ ہیں۔ جسموں پر ہلکی سی خراش بھی نہیں آئی۔ صرف بیہوش ہو گئے تھے۔!”
“ہم دونوں کے نیچے تھے نا۔ سارا ملبہ تو ہمیں دونوں پر گرا تھا۔!”
“ایک ترچھے گرنے والے شہیتر نے ملبے کا زیادہ حصہ نیچے نہیں آنے دیا تھا ورنہ کوئی بھی نہ بچتا۔!”
“لیکن تم ٹھیک اسی جگہ کیسے آ پہنچے تھے۔۔۔۔؟”
“فلیٹ کی نگرانی کراتا رہا تھا۔۔۔۔ نہ صرف فلیٹ کی بلکہ تیری اور سلیمان کی بھی۔!”
“تو گویا تمہیں پہلے ہی سے شبہہ تھا۔۔۔۔؟”
“حرکتیں ہی ایسی ہوتی ہیں میری کہ خود ہی اپنا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے۔ بہر حال پہلے وہ سٹین گن سے فائرنگ کرتا رہا تھا اور پھر تھوڑی دیر بعد دستی بم پھینکنے شروع کر دیئے تھے۔!”
“میں نے اس کی شکل نہیں دیکھی تھی۔!” جو زف نے کہا۔ “صرف آواز سنتا رہا تھا۔ وہ تمہیں بلیک میلر سمجھتا ہے۔ تمہارے ٹھکانے پوچھ رہا تھا۔ کہہ رہا تھا کہ جو مجرم تمہارے ہاتھوں بلیک میل ہونے پر تیار نہیں ہوتے انہیں تم پولیس کے حوالے کر دیتے ہو۔۔۔۔!”
“یہ بڑی اچھی اطلاع ہے میرے لئے۔!”
“انہوں نے اس کا نام شہزور بتایا تھا۔!”
“اور خاصی خوفناک شکل والا ہے۔ کوئی خونخوار قسم کا ہیپی معلوم ہوتا ہے ان دونوں کے بیان کے مطابق۔!”
“تو تم بھی اس کی شکل نہیں دیکھ سکے تھے؟”
“نہیں۔۔۔۔ لیکن شاید جلد ہی دیکھ سکوں۔!”
“محتاط رہنا باس۔۔۔۔! بے حد خطرناک آدمی معلوم ہوتا ہے۔!”
“فکر نہ کرو۔۔۔۔!”
“اس کا ٹھکانہ بھی معلوم ہوا ان لوگوں سے۔۔۔۔؟”
“نہیں۔۔۔۔! ان کا بیان ہے کہ اس کی اصل قیام گاہ سے کوئی بھی واقف نہیں ہے اور وہ کبھی کبھی ان کے سامنے آتا ہے۔!”
“خاصا اسلحہ بھی معلوم ہوتا ہے اس کے پاس۔!”
“ہاں تباہ ہو جانے والی عمارت سے آدھے فرلانگ کے فاصلے پر ایک چھوٹے سے غار میں اسلحے کا ذخیرہ ملا ہے۔۔۔۔!”
جوزف خاموش ہو کر چھت کی طرف دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں سے گہری فکر مندی ظاہر ہو رہی تھی۔۔۔۔
“بس اب یہیں پڑا رہ ہفتے بھر تک۔۔۔۔!” عمران تھوڑی دیر بعد بولا۔
“لیکن باس۔ میری بوتلوں کا کیا ہو گا؟”
“کیوں شامت آئی ہے۔۔۔۔ ہسپتال میں پئے گا جہاں ہر وقت ملک الموت کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔!”
“یہ نہیں ہو سکتا باس۔۔۔۔ اس سے تو بہتر یہ ہوتا کہ گردن ہی کی ہڈی ٹوٹ جاتی۔!”
“یہاں ناممکن ہے۔۔۔۔ بکواس مت کرو۔!”
“خدا کے لئے باس۔!”
“میں کچھ نہیں کر سکتا۔!” کہتا ہوا عمران کے کمرے سے نکل گیا۔
جوزف کا دماغ چکرانے لگا تھا۔ یہ سوچ کر کہ یہاں کے دوران قیام میں شراب نہیں ملے گی۔ قریباً آدھے گھنٹے بعد اسے آنکھیں کھولنی پڑی تھی۔ کوئی آیا تھا۔
“آہا ٹم ڈونوں۔۔۔۔؟” جوزف کے دانت نکل پڑے۔
“ہائے کالئے بھیا۔ تجھے میری بھی عمر لگ جائے۔” گلرخ روہانسی ہو کر بولی تھی۔
ایک وزنی سی باسکٹ اس کے ہاتھ میں تھی۔ شاید جوزف کے لئے پھل لائی تھی۔ سلیمان سر جھکائے کھڑا تھا۔
“ارے بیٹھو ٹم ڈونوں۔۔۔۔!” جوزف بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔
“بیٹھ جائیں گے۔۔۔۔!” سلیمان بُرا سا منہ بنا کر بولا۔ “سالے کتنی بار تجھے سمجھایا ہے کہ کھانا پکانا سیکھ لے۔ کہیں باورچی لگوا دوں گا۔۔۔۔ ایسے کاموں میں تو یہی ہوتا ہے۔ کسی دن بڑے صاحب کا بھی شامی کباب بنا پڑا ہوگا۔!”
“چپ رہ کیسی بد فال زبان سے نکالتا ہے۔۔۔۔!” گل رخ بگڑ گئی۔
“چوپ۔۔۔۔ چوپ۔۔۔۔ یہاں نہیں لڑے گا ٹم ڈونوں۔” جوزف گھگھیایا۔
اتنے میں گل رخ نے قریباً ایک فٹ لمبی اور چپٹی سی پلاسٹک کی بوتل باسکٹ سے نکالی تھی۔
اور جوزف سے بولی تھی۔ “چپکے سے بستر کے نیچے رکھ لو۔!”
“یہ کیا ہے؟”
“تمہاری دو بوتلیں اسی میں الٹ لائی ہوں۔ صاحب کو نہ معلوم ہونے پائے۔۔۔۔!”
جوزف نے بوتل اسی کے ہاتھ سے جھپٹ کر چادر میں چھپائی تھی اور پھر اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔!
“میں نے سلیمان سے کہا تھا کہ بے موت مر جائے گا کالیا بھیا کوئی تدبیر کرو۔۔۔۔!”
“ٹم میرا سسٹر ہے ٹم میرا بیٹی ہے۔!” جوزف نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ دو موٹے موٹے قطرے اس کی آنکھوں سے ڈھلک گئے تھے۔
“ابے۔۔۔۔ ابے یہ کیا!” سلیمان بولا۔
“سلیمان بھائی میرے کو معافی ڈو۔!”
“ابے کا ہے کی معافی۔۔۔۔!”
“میں ٹم پر جوگسا کرٹا۔۔۔۔!”
“ابے چل سب ٹھیک ہے۔ بہت بڑا ہے دل میرا۔۔۔۔ لیکن بیٹا ذرا ذرا سی پینا۔۔۔۔ اور بڑی احتیاط سے ورنہ اگر بھانڈا پھوٹ گیا تو ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔۔۔۔!”
گے۔۔۔۔!”
“ہم چوری چوری پیئے گا۔ ذرا سی پیئے گا۔!”
گل رخ میز پر پھل رکھ رہی تھی۔ جوزف نے اس کی طرف دیکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔ تکیہ آنسوؤں سے بھیگتا رہا۔۔۔۔!

تمام شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: