Galti Novel by Safa Asim – Complete Novel

غلطی از صفاء عاصم مکمل ناول

–**–**–

انایہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی ۔ وہ ایک بہت پیاری اور بے حد فرماںبردار بچی تھی ۔ اس کی والدہ نادیہ گھر میں ہی ہوتیں جبکہ اس کے والد امجد، امپورٹ ایکسپورٹ کا کام کرتے تھے جس کے سلسلے میں وہ اکثر شہر سے باہر ہوتے تھے ۔ اس دوران انایہ کے ماموں طاہر ان کے گھر آجاتے جس سے گھر میں رونق ہو جاتی اور نادیہ کو بھی سہارا مل جاتا ۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ امجد اسی طرح شہر سے باہر گئے ہوئے تھے تو طاہر ان کے گھر آئے ہوئے تھے ۔ سردیوں کے دن تھے تو رات کا کھانا کھانے کے بعد سب نے باہر سے کافی پینے کا پلان بنایا ۔ انایہ اور نادیہ سوئٹزر اور شال وغیرہ پہننے لگیں جبکہ طاہر باہر کھڑے ہو کر ان دونوں کا انتظار کرنے لگے ۔
اچانک کچھ دور اندھیرے میں انکو دو سنہری آنکھیں چمکتی ہوئی نظر آئیں ۔ وہ آہستہ آہستہ قریب آ رہی تھیں ۔ آخر اسٹریٹ لائٹ کی روشنی میں انکو ٹھیک سے نظر آیا ۔ وہ ایک کافی بڑی جسامت کا کتا تھا اور ان ہی کو گھور رہا تھا ۔ عام حالات ہوتے تو وہ کبھی نہ ڈرتے لیکن سردیوں کی اندھیری رات اور کسی ذی روح کا نہ ہونا ان کو گھبراہٹ کا شکار کر گیا ۔ وہ کتا آہستہ آہستہ چلتا ہوا قریب آتے ہوئے غرانے لگا ۔ طاہر نے ذمین پر سے ایک پتھر اٹھا لیا اور کتے کو ڈرانے کی کوشش کرنے لگا ، جبکہ کتا بدستور آگے بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا ۔ طاہر نے اپنے ہاتھ میں موجود پتھر کتے کو مار دی جو کہ سیدھا اسکے سر پر جا کے لگا اور کتا وہیں گر کر تڑپنے لگا ۔
پیچھے سے نادیہ کی آواز آئی جو کہ اسکی کار کی طرف ہی آرہی تھی اور اسکو مارتے ہوئے بھی دیکھ چکی تھیں ۔ انہوں نےڈانٹا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔ دونوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں اب کچھ بھی نہیں تھا ۔
خیر انایہ کے آنے پر وہ سب کافی شاپ کی طرف چل پڑے ۔ وہاں پہنچ کر طاہر نے گاڑی پارک کی اور سب اندر چل دیے ۔ کافی آرڈر کرنے کے بعد طاہر کو محسوس ہوا کہ وہ اپنا موبائل گاڑی میں ہی بھول گئے ہیں تو نادیہ کو بتا کر وہ باہر چلے گئے ۔ باہر پہنچ کر انھوں نے اپنی گاڑی کو وہاں موجود نہ پایا ۔ ادھر ادھر دیکھنے اور گارڈ سے معلوم کرنے پر بھی جب گاڑی کا کچھ پتا نہ چلا تو وہ اپنی بہن اور بھانجی کو آگاہ کرنے اندر آئے ۔
وہ دونوں کافی پینے میں مگن تھیں ۔ نادیہ کے استفسار پر جب انھوں نے بتایا تو وہ پریشان ہو گئیں ۔ کافی کا بل پے کرنے کے بعد جب وہ تینوں عجلت میں باہر نکلے تو دیکھا کہ گاڑی جوں کی توں موجود تھی ۔ نادیہ جانتی تھیں کہ طاہر ہرگز ان سے جھوٹ نہیں بول سکتے ۔ وہ دونوں کافی پریشان ہو گئے لیکن انایہ کی وجہ سے حالات نارمل بناتے ہوئے گھر کی جانب چل پڑے ۔
واپسی کا سفر آرامدہ گزرا لیکن گھر پہنچ کر انکو حیرت ہوئی جب انھوں نے امجد کی گاڑی کو پورچ میں کھڑے دیکھا ۔ اول تو کبھی انکی واپسی اتنی جلدی نہیں ہوئی تھی اور دوم یہ کہ وہ اپنے آنے سے پہلے فون پر اطلاع ضرور دیتے تھے ۔ لیکن آج وہ بغیر بتائے آن پہنچے تھے ۔
انایہ خوشی سے اندر کی طرف بھاگی لیکن امجد اسکو کہیں پر بھی نظر نہ آئے تو آوازیں دینے لگی ۔ اتنے میں نادیہ اور طاہر بھی اندر آگئے ۔ انایہ کی طرح وہ بھی امجد کو آواز دے کر بلانے لگے لیکن جواب ندارد ۔
اچانک نادیہ نے کچن سے ہلکی سی غراہٹ کی آواز سنی ۔ انھوں نے انایہ اور طاہر کو چپ ہونے کا اشارہ کیا اور خود کچن کی طرف چل پڑیں ۔ وہاں پہنچ کر ان کو حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا جب انھوں نے امجد کو ڈائننگ ٹیبل کے اوپر اکڑوں بیٹھے ہوئے دیکھا ان کی پشت نادیہ کی جانب تھی تبھی وہ انکا چہرہ نہیں دیکھ سکیں ۔ وہ کافی ڈر گئیں کیونکہ غراہٹ کی آواز وہی نکال رہے تھے ۔ اتنے میں طاہر اور انایہ بھی وہاں پہنچ چکے تھے اور یہ منظر دیکھ کر حیران و پریشان کھڑے تھے ۔۔۔👺👹
طاہر اور انایہ بھی وہاں پہنچ چکے تھے اور یہ منظر دیکھ کرحیران و پریشان کھڑے تھے ۔ نادیہ نے امجد کو آواز دی لیکن ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔ ایسا لگ رہا تھا وہ کوئی بہت ضروری کام کر رہے ہوں ۔ اسی اثناء میں انایہ اور اسکے پیچھے طاہر، ڈائننگ ٹیبل کی دوسری جانب گھوم کر گئے تو بیک وقت دونوں کی چیخیں نکل گئیں ۔
نادیہ بھی بھاگ کر ادھر آئیں تو ہکا بکا رہ گئیں ۔ امجد کا حلیہ بگڑا ہوا تھا ۔ چہرے پر لاتعداد خراشیں جن میسے خون رس رہا تھا ۔ دانت کافی بڑے اور نوکیلے، آنکھیں اوپر کو چڑھی ہوئی تھیں جبکہ ہاتھ اور پاؤں پر جلنے کے نشان تھے ۔ وہ کوئی بہت ہی غلیظ اور بدبودار گوشت، جس سے خون بھی ٹپک رہا تھا، کھاتا دیکھ کر ان کے اوسان خطا ہو گئے اور ایک ہلکی سی چیخ ان کے حلق سے نکلی ۔
ان تینوں کو اپنی طرف متوجہ پا کر امجد رک گئے اور گھور کر انکو دیکھنے لگے ۔ انہوں نے کھانا چھوڑ دیا اور ٹیبل پر سیدھے کھڑے ہو گئے ۔ امجد کو کھڑا ہوتا دیکھ کر وہ تینوں گھبرا گئے اور کچن سے باہر کی طرف بھاگے ۔ تینوں دوڑ کر بیڈروم میں چلے گئے اور نادیہ نے دروازہ لاک کر کے کمرے کی واحد کھڑکی بھی بند کردی اور پردہ ڈال دیا ۔
طاہر پردے کی اوٹ سے باہر جھانکنے لگا ۔ اس نے نادیہ کو اشارے سے پاس بلایا اور دونوں خوفزدہ سے باہر دیکھنے لگے ۔ امجد کسی خونخوار جانور کی طرح چاروں ہاتھ پاؤں سے چل رہے تھے ۔ انکا سانس ہانپ رہا تھا لیکن پھر بھی وہ بہت تیزی سے پورے صحن کے چکر کاٹ رہے تھے ۔
انایہ اپنے والد کی یہ حالت دیکھ کر رونے لگی جبکہ نادیہ اسکو دلاسہ دینے لگیں اور ساتھ ساتھ انھوں نے قرآنی آیات کا ورد بھی شروع کر دیا ۔ جلدبازی میں ان کے موبائل فون بھی گاڑی میں ہی رہ گئے تھے ۔ کچھ دیر میں انایہ تو سو گئی جبکہ نادیہ اور طاہر پوری رات جاگتے رہے گویا وہ رات انھوں نے آنکھوں میں ہی گزار دی ۔ طاہر گاہے بگاہے پردے کی اوٹ سے باہر بھی دیکھ لیتا ۔ اب امجد صحن کے بیچوں بیچ بیٹھے ہوئے تھے اور چوکنی نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے البتہ حلیہ ابھی بھی ویسا ہی تھا ۔
صبح فجر کے وقت جب مسجد سے آذان کی آواز آئی تو نادیہ اور طاہر کی آنکھ کھل گئی ۔ جانے کس پہر ان دونوں کی آنکھ بھی لگ گئی تھی ۔ انھوں نے پردے کی اوٹ سے باہر جھانکا تو صحن خالی تھا ۔ وہاں کوئی ذی روح موجود نہ تھی ۔ کافی دیر انتظار کرنے کے بعد انھوں نے اپنے اطمینان کے لیے دروازہ اندر سے کھٹکھٹایا ۔ کوئی غیر معمولی ہلچل نہ پا کر انھوں نے آہستہ سے دروازہ کھول دیا اور باہر صحن میں آگئے ۔
دن کی روشنی ہر طرف پھیل چکی تھی ۔ وہ دونوں اپنے موبائل لینے کی غرض سے باہر پورچ میں گئے تو وہاں امجد کی گاڑی موجود نہ تھی ۔ ن کو کچھ سمجھ نہ آیا ۔ گھر کے اندر آ کر انھوں نے اچھی طرح گھر کو لاک کر دیا اور موبائل فون چیک کرنے لگے ۔
دونوں کے ہی موبائل پر امجد کی درجنوں کالز آئی ہوئی تھیں جسکو دیکھ کر وہ حیران رہ گئے ۔ اتنے میں امجد کی پھر سے کال آنے لگی۔۔۔🌹
امجد کی پھر سے کال آنے پر نادیہ نے کال اٹھائی ۔ دوسری طرف امجد کی پریشان آواز ابھری ۔ انھوں نے پوچھا کہ وہ کہاں تھے؟ کب سے ان کو کال کر رہے تھے لیکن کوئی اٹھا نہیں رہا تھا؟
نادیہ نے پوچھا کہ اس وقت وہ کہاں پر ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ وہ ایک ہوٹل میں ٹہرے ہوئے ہیں ۔ نادیہ کو ان سے بات کر کے تھوڑی تسلی ہوئی لیکن پھر بھی شک باقی تھا ۔ لہذا انھوں نے کہا کہ آپ روفی صاحب کو لے کر گھر آئیے گا انکے بغیر نہیں ۔
امجد اس مطالبے پر بہت پریشان ہوئے کیونکہ روفی صاحب ان کے دور کے رشتہ دار تھے اور روحانی عملیات کرتے تھے ۔ جب بھی کسی کو کوئی مسئلہ درپیش آتا، وہ روفی صاحب سے رجوع کرتا ۔
خیر وہ روفی صاحب کے گھر گئے اور انکو پوری بات بتا کر اپنے ساتھ چلنے کو کہا ۔ ان کو لے کر وہ گھر آئے تو طاہر نے دروازہ کھولا ۔ وہ واضح طور پر پریشان تھا ۔
وہ سب اکٹھے گھر کے اندر داخل ہوئے ۔ ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی روفی صاحب نے طاہر سے ایک پانی کی بوتل مانگی ۔ طاہر جب بوتل لے کر آیا تو انھوں نے کچھ کلمات پڑھے اور بوتل امجد کو دے کر کہا کہ اسکو پورے گھر میں چھڑک دو ۔
امجد جب واپس آئے تو نادیہ نے پورا احوال سنایا کہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔امجد کے استفسار کرنے پر نادیہ نے بتایا کہ انایہ کمرے میں سو رہی ہے ۔
روفی صاحب طاہر کی طرف دیکھنے لگے لیکن بولے کچھ نہیں ۔ انھوں نے امجد کو کہا کہ اپنا ماجرا بیان کریں ۔
امجد نے بتانا شروع کیا کہ رات کو کو انکو نادیہ کی کال آئی جو مجھے جلدی گھر آنے کا کہ رہی تھی ۔ میں نے وجہ پوچھی لیکن اس نے کچھ نہ بتایا بس جلدی گھر آنے پر بضد تھی ۔ مجھے لگا کوئی ایمرجنسی ہوگئی ہے تو میں جلدی روانہ ہو گیا ۔ گھر پہنچا تو گیٹ کھلا تھا ۔ میں بہت حیران ہوا کہ اتنے میں مجھے انایہ کی آواز آئی اندر کمرے سے ۔ میں اندر کمرے میں پہنچا تو نادیہ کھڑی ہوئی تھی ۔ اس سے پہلے میں کوئی سوال کرتا مجھے اچانک چکر آ گیا ۔ جب آنکھ کھلی تو میں اپنی گاڑی میں ہی بیٹھا ہوا تھا جبکہ گاڑی ہوٹل کے باہر کھڑی تھی ۔ اس دوران میں نے نادیہ کو بہت کالز کیں لیکن کسی نے فون نہ اٹھایا ۔ پھر میں نے ایک اور دفعہ کال کرنی چاہی تو نادیہ نے فون اٹھایا ۔ اس کے بعد سے تو سب کو پتا ہے ۔
سب سننے کے بعد روفی صاحب نے طاہر کی طرف دیکھا اور کہا کہ تم کچھ نہیں کہنا چاہو گے؟ طاہر گھبرا گیا اور جو اسکے ساتھ کتے والا واقعہ پیش آیا تھا، وہ سنا دیا ۔
اس کے بعد روفی صاحب منہ ہی منہ میں کچھ دعائیں پڑھنے لگے ۔ جب وہ پڑھ چکے تو انھوں نے بتایا کہ طاہر نے کسی مخلوق کو نقصان پہنچایا اس لیئے وہ آپ لوگوں کو پریشان کر رہی ہے ۔
آپ لوگ فکر نہ کریں میں کچھ کرتا ہوں ۔ اتنا کہ کر وہ اپنی تسبیح پڑھنے لگے ۔ اچانک انایہ کے بیڈروم سے دروازہ پھٹ کر کے بند ہونے کی آواز آئی ۔
وہ سب گھبرا کر فورا انایہ کے کمرے کی طرف بھاگے اور اندر کا منظر دیکھ کر حیران و پریشان رہ گئے ۔ انایہ بیڈ پر اکڑوں بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے سارے بال چہرے پر آئے ہوئے تھے ۔ منہ سے عجیب طرح کی غرانے کی آوازیں نکال رہی تھی ۔ نادیہ کو یہ منظر دیکھ کر رونا آ گیا ۔
روفی صاحب آگے بڑھے اور اپنی تسبیح انایہ کے چہرے کے سامنے کر دی جس سے اسکی چیخوں میں اضافہ ہو گیا اور وہ ہوا میں ہاتھ چلانے لگی ۔
روفی صاحب نے اسے پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور ان لوگوں کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ رہے؟ انایہ نے بہت غصے سے بدلی ہوئی آواز میں جواب دیا کہ اس لڑکے نے ہمارے بیٹے کو ذخمی کیا ہے اب ہم اسکو نقصان پہنچائیں گے ۔
روفی صاحب نے جواب دیا کہ اس لڑکے کو معاف کر دو، یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اسکو نقصان نہیں پہنچائیں گے یہ بس خود کو محفوظ کر رہا تھا ۔ آئندہ سے یہ ایسی کوئی نادانی نہیں کرے گا اور ویسے بھی آپکا بیٹا تو صحیح سلامت ہے آپکو اور کیا چاہئے ۔ اگر آپ نے میری بات نہ سنی تو مجبورا مجھے زبردستی کرنی پڑے گی ۔
روفی صاحب کی اس بات کے بعد کچھ لمحے تو خاموشی چھائی رہی پھر اچانک انایہ بےدم ہو کر گر پڑی ۔ نادیہ اس کی طرف بھاگیں اور اٹھایا ۔
روفی صاحب نے بتایا کہ اللہ تعالی کے فضل سے اب سب کچھ ٹھیک ہے ۔ بس آپ لوگ آئندہ سے بہت احتیاط کیجئے گا ۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

CompleteDownloadFreeFree Urdu Pdf BooksGaltiNovels Hi NovelspdfRead OnlineSafa AsimUrdu NovelUrdu Novelsurdu novels free downloadاردواردو ناولزارو ناولصفاء عاصمغلطیغلطی از صفاء عاصمناولناولز
Comments (0)
Add Comment