Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 17

قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 17

–**–**–

#گیارہویں_چوٹی_
قسط 17
اتوار 21 اگست 2005
کسی دھماکے کی آواز نے اسے جگایا تھا ۔وہ ہڑبڑا کر اٹھی۔وہ غار میں تہنا اس کے گھٹنے پر بوجھ نہیں تھا ۔افق کہاں گیا او میرے الله وہ چکرا کر رہ گئی اور تیزی سے رہنگتی ہوئی باہر آئی ۔وہ غار کے دائیں طرف کچھ قدم دور بیٹھا تھا ۔اس نے ذخمی ٹانک برف پر لٹا رکھی تھی ۔برف کی دیوار سے ٹیک لگائے سامنے دیکھ رہا تھا
226
تم ادھر کیوں بیٹھے ہو؟ اس کے ساتھ ویسے ہی دوزانوہو کر بیٹھے ہوئے اس کا چہرہ دیکھا ۔برستی برف کے ٹکرے اس کے کپڑوں ٹوپی اور سر پر ٹہھرے ہوئے تھے ۔طوفان اب تھمنے کو تھا مگر برف بے حد خراب تھی اب بھی اسے کسی برفشار کے گرنے کی آواز نے جگایا تھا ۔
نہیں بیٹھ سکتا اس قبر میں نامور۔۔۔۔۔نامور۔۔اسکی سانس رک رہی تھی کل کے مقابلے میں آج اس کے چہرے سے کمزوری نظر آ رہی تھی اس کی توانائی ختم ہو رہی تھی وہ اندر ہی اندر مر رہا تھا ۔
تمہیں درد ہو رہا ہے؟؟
ہاں ۔وہ جھوٹ بول بول کر تھک گیا تھا جانے کب سے باہر بیٹھا تھا پلٹ کر اس نے نگاہ غار پر ڈالی وہ واقعی ہی برفانی قبر لگ رہی تھی ۔
تم فکر نہیں کرو صبع ہونے والی ہے وہ لوگ آنے والے ہوں گے دھند میں دور تک نظر گئ ہیلی کاپٹر کو نہ پا کر مایوس لوٹ آئی۔صبع کی روشنی سے قراقرم کے پہاڑ منور تو ہو گئے تھے مگر دھند کے باعث سورج کا نام و نشان نہیں تھا اس کی نظر افق کے ہاتھ میں سرخ مفلر پر پڑی
اس مفلر کے ساتھ اس کے بہت لمے یاد آ رہے تھے وہ سب اب صدیوں پرانی لگ رہی تھی ۔برف میں ڈوبے پہاڑوں کو دیکھ کر اس کا دل چاہا رہا تھا وہ اس کے کندھے پر سر رکھ کر بہت روئے اس کے آنسو راگاپوشی کی ساری برف پگھلا دیں پھر وہ تھک کر سو جائے اٹھے تو ساری مشکلات ختم ہوئی ہوں۔وہ جاگے تو گھر ہو اور سواتجیسا ہستا مسکراتا افق اس کے سرانے کرسی پر بیٹھتا ہو مگر سوچ اور حقیقت میں کتنا فرق ہے؟
227
اس نے اپنے منجمند ہاتھوں سے افق کے ٹھنڈے ہاتھ تھام لیے۔دونوں کے ہاتھ دستانے میں یغ تھے ۔اسیے لگ رہا تھا برف کے ٹکڑے اوپر نیچے رکھے ہوئے ہیں ۔
جب میں چھوٹی تھی تو ایک کہانی بہت شوق سے پڑھا کرتی تھی دنیا کا بہادر شہزادہ پہاڑوں کی چوٹی پر قید شہزادی کو بچانے جاتا ہے شہزادی نگاہیں جمائے کسی شہزادے کے انتظار میں ہوتی ہے پھر شہزادہ اس پہاڑ پر جاتا ہے اور ۔۔۔۔
وہ یہاں تک کہہ کر خاموش ہو گئی اب افق گردن موڑ کر اسے بغور دیکھ رہا ہے
میری ماما میرا راز تھی مجھے ہر طرح سے بچا لیتی پا پاپا سے بھی اب وہ ہوتی تو ڈھال بن جاتی مگر اب وہ نہیں ہیں ۔۔وہ ادھوری باتیں کر رہی تھی
فکر کیوں کرتی ہو خود ہی تو کہتی ہو وہ آ جائیں گے جیسے فلموں میں بچا لیا جاتا ہے پھر میں تمہارے پاپا پاس جاؤ ں گا۔
کیوں جاؤ گے؟؟ اس کی نگاہ ٹوٹی برف پر تھی
تم میرے منہ سے کیا سننا چاہتی ہو وہ با وقت بول پڑا
کچھ نہیں کچھ بھی تو نہیں اب کچھ سننے کی حسرت نہیں رہی
پری پریشان مت ہو۔ہم سب کو منا لیں گے پھر میں تمہیں ترکی لے جاؤں گا ۔
228
اور… وہ کھانسے کو رجا.
“مجھے خواب مت دیکھاؤ افق. “اس کی آنکھیں پانی سے بھرگئیں .”خواب نہیں چاہئیں . یہ ٹوٹ کر ساری عمر آنکھوں میں کرچیوں کی طرح چبھتے رہتے ہیں. آنکھیں زخمی ہوتی ہیں روح بھی زخمی ہوجاتی ہے. مجھے خواب مت دکھاؤ”. سفید دھول نے نیچے حرفت ہوئے زمین کا بڑا حصہ اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا.
“پری! تم……. “
“نہیں افق….. ابھی تم صرف میری سنو. میں ساری رات ٹھیک سے سو نہیں سکی. میں افق انشا تم ہم سب غلط تھے. بابا نے دس لوگوں کے سامنے میری منگنی کی ہے. میں وہ منگنی توڑ کر ان کو دکھ نہیں دے سکتی. میں ایسا کوئی رشتہ نہیں بنانا چاہتی جس کی بنیاد پر پرانے رشتے قبروں میں ہوں. میں نے ایک فیصلہ کیا ہے. میری بات غور سے سنو.
تم مجھ سے آج اس برفانی غار کے باہر بیٹھے ایک وعدہ کرو. راکا پوشی گلیشئیر یہ برفانی برفشار اور یہ گرتی برف اس عہد کی گواہ ہوگی. محض سے وعدہ کرو کہ یہاں سے نکلتے ہی تم اپنے گھر واپس چلے جاؤ گے . ہمیشہ کے لیے ترکی واپس چلے جاؤ گے .اور پری کے لیے کھبی واپس نہیں آؤ گے پری اب سونے کے پنجرے سے آزاد نہیں ہونا چاہتی. “
وہ اسے دیکھ کر رہ گیا. “بس؟صرف اپنے بارے میں سوچا سود فیصلہ سنا دیا؟میرے بارے میں کچھ نہیں سوچا ؟”
“تمہیں واقعی لگتا کے تمہارے بارے میں کچھ نہیں سوچا؟ہر طرف خاموشی بالکل سکوت تھا جیسے برفشار کبھی آیا ہی نہ ہو.
افق نے گردن نفی میں ہلائی اور دوبار سر پیچھے ٹکا کر آنکھیں موندلیں. “جو تم کہو میں وہ کروں گا. “وہ ہار مان گیا تھا. اتنے مختصر الفاظ میں فیصلہ صادر کرکے پریشے نے اس کے لیے کوئی انتخاب نہیں چھوڑا تھا.
مگر پری…… تمہیں بھی مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا. “وہ پھر کتنی ہی دیر چپ رہا اور بولا. اس میں مزید بولنے کی سکت نہیں تھی.
برف کے تینوں ٹکڑوں نے ابھی تک ایک دوسرے کو تھاما ہوا تھا. پھر پریشے نے درمیان میں پھنسا وہ سرخ کپڑا نکالا ترکی کا جھنڈا جسے کئی دن تک مفلر سمجھتی رہی تھی. اسے
229
نکالا اور سرخ مفلر جھاڑا . برف کی قلمیں نیچے گریں. وہ بے حد گیلا تھا . ان دونوں کے کپڑوں کی طرح گیل.
پھر اس نے غار کے دہانے کے قریب برف چندانچ گہری کھودیسرخ مفلر اندر دبایااور اوپر برف ڈالنے لگی. چند لمحوں بعد کپڑا برف کی تہوں تلے چھپ گیا.
بس اب یہ ہمیشہ ادھر ہئ رہے گا. غار کے دہانے پر برف برابر کرتے ہوئے وہ بہت پیار سے بولی جیسے کوئی اپنی بے حد قیمتی شے محفوظ کرنے کے لیےدفن کرتا ہے.
جانتے ہو افق!قطبین کے بود…. دنیا کے سب سے بڑے گلیشئیر میرے ملک میں ہیں.
جہیں فور ہسپار, بلتورہ کہتے ہیں. یہ گلیشئیر اب تیز سے پگھل رہے ہیں . میں سوچتی ہوںآج سے دس بیس سو سال یا پھر سینکڑوں ہزاروں سال بعد جب یہ گلیشئیر پگھل جائیں گے پھر ایک روز ایسے آئے گا جب قراقرم کے پہاڑوں پر سورج بہت روشن طلوع ہوگا جس کی روشنی سے راکا پوشی کی صدیوں پرانی جائے گی اور پھر” برو”میں دفن یہ مفلر اور قراقرم کے محل میں دبی داستان نگر کے دریا میں بہ جائے گی پھر جہاں جہاں نگر بہے گا اس کے ساتھ پڑے پتھر پتھروں سے دوراگے درخت درختوں پر پھدکتی نیلی چڑیاں اور اس سے اوپر سیاہ پہاڑوں کی سفید چوٹیوں کو چومتے روئی سے نرم بادل بادلوں کے درمیان چکمتی سورج کی سرخ شعاعیں اور ان سب کے اوپر چھایا آسمان سب نگر کے دریا میں والی داستان کے نغمے سنیں گے پھر نگر جس وادی میں جائے گا جس دریا کے ساتھ ملے گا ہنزہ جہلم اور نیلم کے دریاوں میں ہر سو وہ داستان خاموشی سے سنائی جائے گی. کبھی تو نگر کا پانی اس پر چڑھی چاندنی کئ تک سوات کے مرغزاروں میں اس جھرنے کے قریب پہنچے گئ وہ جھرنا جس کے پہاڑ پر کبھی بیٹھا کرتے تھے جہاں اداس چڑیا گیت گاتی تھی کسی کئ روٹھی محبت کی نارسائی کے کسی کئ جدائی کے….. تب وہ چڑیا ہمارا کہانی سیاحوں کو سنایا کرے گی. وہ جو اس جھرنے کے پانی اور پانی میں پڑے سرمئی پتھروں کے نیچے بہت پہلے سے دبی ہوگی.
افق اور پری اور کوہ پیما کی کہانی…. ہوں کبھی تو راکا پوشی کی برف پگھلے گی اور برف میں دبی کہانی اس دریا میں بہہ جائے گی. “
اتنی مدھم سر گوشی میں کہہ رہی تھی کہ اسے یقین بھی نہیں تھا کہ وہ سن رہا ہے.
“اس مفلر کو یہیں رہنے دو. یہیں قراقرم کے تاج محل میں سونے دو. جانے اس کی دیواروں
230
اور کتنے پیار کرنے والوں کی یادیں رقم ہیں، ایک اور سہی” وہ خود سے بڑبڑائی-
برف ویسے ہی اس کے اوپر اور آس پاس گرتی رہی- دھند کبھی بڑھتی’ کبھی گھٹتی’ پریشے خاموش تھی- افق خاموش تھا- قراقرم کے پہاڑ خاموش تھے-
سورج تب بھی نہیں چمکا جب اسے سوا نیزے پر ہونا چاہیے تھا- پہر سفید سی دھند چھٹ گئی اور شام کا نیلگو اندھیرا قراقرم کے پربتوں اور ان کی دیوی کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا-
ہر دو گھنٹے بعد پانی کی آدھی پیالی اس کی ضرورت تھی مگر اس ڈھلتی شام میں اندازا دو ڈھائی گھنٹے بعد اس نے چولھا جلایا تو وہ ٹھنڈا پڑا رہا- اس نے فیول کی آخری بوتل ہلائی وہ خالی تھی’ اس نے ٹرانسمنٹ بٹن دبایا وہ بھی مردہ تھا’ اسکی بیٹری مر چکی تھی’ دوسری بیٹریاں افق کے بیک پیک میں کہیں بہت اوپر برف میں دفن تھیں-
کہر میں ڈوبے دہیوکیل جامنی پہاڑ اپنے چہروں پر سفید چادر تکا بکل مارے خاموشی سے دیکھتے رہے- ان پہاڑوں کے اس پار بھی میلوں دور تک پہاڑی سلسلے تھے- وہ ان کی اوٹ میں بےقرار منتظر نگاہوں سے کسی کی راہ تک رہی تھی-
گیس تھی ‘ نہ پانی’ خشکی اور سردی کے باوجود اس کے حلق میں کانٹے اگ آئے تھے’ بغیر پانی اس کے پاس زندگی کے بس چند آخری گھنٹے رہ گئے تھے’ وہ کپکپا بھی نہیں رہی تھی’ کپکپنے سے گو کہ اس کا جسم ایک دو لمحہ کے لیے گرم ہوجاتا مگر اس اضافی حرکت سے اس کی دسترس میں موجود چند آخری گھنٹوں میں کمی ہوجاتی’ کانپنے کے لئے توانائی خرچ ہوتی اور اسے توانائی بچانا تھی’ چند گھنٹوں کی مہلت کو کھینچنے کے لیئے۔۔۔ چند منٹ مزید حاصل کرنے کے لئے۔۔۔ زیادہ سے زیادہ زندگی کا ایک دن مزید گزارنے کے لئے۔۔۔
“بس وہ آتے ہی ہوں گے رات کی تاریکی پھیلنے سے پہلے وہ آتے ہی ہوں گے۔ ہمیں اب آیک اور سفید رات نہیں گزارنی پڑے گی۔” اسکی متلانشی نگاہیں دور پہاڑوں سے ہو کر بار بار واپس آرہی تھیں۔
“سب کہاں چلے گئے؟ کرنل فاروق آپ نے تو کہا تھا آپ ہمیں لینے آجائیں گے’ آپ کدھر رہ گے؟ میرے اللہ انہیں جلدی بھیج دو ورنہ ادق ل
مر جاے گا۔ وہ بضیر پانی کے سفید رات میں مر جائے گا۔” وہ پہر سے رونے لگی۔
برف باری پھر سے شروع ہو گئی یوں جیسے وہ کبھی ختم نہیں ہوگی۔ پریشے نے امید کا ٹمٹما۔۔
231
آنکھوں میں سجائے دھند میں لپٹے آسمان پر دور تک نگاہ ڈالی۔ اس کی پلکھیں بھیگتی چلی گئیں۔
” کوئی ہے؟”اس نے زور سے چلا کر کہا۔ “کوئی ہے جو ہماری مدد کرے’ ہمیں اس برفیلے پہاڑوں سے نکالے؟ خدا کے لیے کوئی تو آئے ورنہ ادق مر جاے گا۔” اسکی آواز پہاڑوں میں گونجی اور ٹکرا کر واپس آگئی۔
“مت کرو وہ آتے ہی ہوں گے۔” بند آنکھوں سے وہ بڑبڑایا۔
پریشے نے نفی میں سر ہلایا اور نڈھال سی ہو کر پیچھے برف سے ٹیک لگالی اور آخری بار دعا کی کوئی آجاے’ مگر راکاپوشی پر تو دعائیں بھی قبول نہیں ہوتی تھیں۔
“وہ نہیں آئیں گے افق ‘ کبھی نہیں ‘ ہم نے جانے کتنے دن ان کا انتظار کیا’ مگر وہ نہیں آئیں’ اب وہ نہیں آئیں گے۔ یہاں سے ہمیں نکالنے کوئی نہیں آئے گا۔ ہمیں ادھر ہی مرنا ہے’ آہستہ آہستہ دھیرے دھیرے۔۔۔”
اس نے آنکھیں بند نہیں کیں’ بس پھترائی آنکھوں سے دھند میں تقریبا سو میٹر تک نظر جمائے سرمئی سے سفید پن کو دیکھتی رہی۔ پھر برف باری اور تیز ہو گئی تو اس کا پینو راما اور چھوٹا ہوتا چلا گیا۔ طوفان کئیں گھنٹے ہوئے تھم چکا تھا۔ لمحےبھی تھم چکے تھے۔ لوگ کہتے ہیں وقت نہیں ٹھرتامگر تومازہومر کہا کرتا تھا’ بعض اوقات وقت بھی ٹھر جایا کرتا ہے۔
زندگی میں چند لمحے ایسے آتے ہیں جب وقت رک جاتا ہے’ گھڑیاں جم جاتی ہیں۔
تب کوئی گزرا کل اور آنے والا کل نہیں ہوتا۔
تب صرف آپ ہوتے ہیں اور آپ کی تنہائی۔
وقت کی تفریق اور حساب ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔
آپ عجیب سے ٹائم’ ٹائم لیس میں پھنسے ہوتے ہیں، جو در حقیقت وہاں ہوتا ہی نہیں ہے۔
ان لمحوں میں پوری کائنات رک جاتی ہے۔
راکاپوشی پر بھی وقت ٹھر گیا تھا۔
وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہوچکی تھی’ نہ وہ سوچ پا رہی تھی’ نہ وہ وقت کا حساب رکھ پا رہی تھی۔ کتنے بجے تھے ‘ رات کا کونسا پہر تھا’ اس کی یاداشت نے کام کرنا ترک کر دیا تھا۔ ہاں بس اسے نیند آرہی تھی’ وہ گہری میٹھی نیند سونا چاہ رہی تھی مگر اسے اپنے لبوں کی قید سے آزاد ہوتے۔۔
232
الفاظ ہوا میں تحلیل ہوتے سنائی دے رہے تھے-
“سونا نہی افق……!سونا نہی-اگر ہم سو گئے تو پھر کبھی نہیں جاگیں گے-“
وہ سونا چاہتی تھی,نیند,تھکاوٹ اور پیاس سے اس کا برا حال تھا مگر دور اندر کوئی اسے جھنجھوڑ کر اسے جگاۓ رکھنے کی کوشش کر رہا تھا,,اسے کہہ رہا تھا کہ وہ نہ سوۓ-ہاں اندر سے وہ بھی جانتی تھی کہ اگر وہ اس رات سو گئی تو پھر کبھی نہیں جاگے گی-اسے سونا نہیں تھا,خود کو اور افق کو جگاۓ رکھنا تھا-وہ وہی الفاظ باد بار کسی غیر ارادی عمل کے طور پر دہراتی,جانے کب اس دنیا سے,سردی اور دھند کی اس دنیا سے اس دنیا میں چلی گئی جہاں کوئی درد,کوئی تکلیف,کوئی خیال,کوئی ﺫہنی کشمکش,کوئی زماں اور مکاں کی تفریق نہ تھی-وہ دنیا,زمان و مکان کی قید سے آزاد تھی-وہاں مکمل خاموشی اور سکون تھی-
وہ سو گئی تھی-
*……………*…………..*
پیر,22اگست 2005ء
اس کے ﺫہن میں اندھیرا تھا-سماعتوں میں کوئی آواز مسلسل سنائی دے رہی تھی مگر نگاہوں کے سامنے گہری تاریخی چھائی تھی-کمر کے پیچھے برف کی دیوار وہ محسوس کر سکتی تھی پھر اس کی آنکھوں سے تاریخی چھٹنے لگی اور گہرا نیلاہٹ بھرا اندھیرا ان میں بھرنے لگا-
اس نے پلکیں چھپکائیں-ایک دفعہ,دو دفعہ,تین دفعہ پھر کئی دفعہ-منظر قدر واضح ہوا تو سامنے دور دور تک پھیلے سلسلہ قراقرم کی جامنی چوٹیوں کی برف نیلگوں روشنی میں چمک رہی تھی- آسمان صاف تھا-دھند چھٹ چکی تھی-گہرے نیلے آسمان پر ستارے بکھرے تھے-جھلملاتے,ہر سو بکھرے چمکتے ستارے-پہاڑوں سے بہت اوپر بہت اوپر تیرتے بادلوں کے پیچھے سے نارنجی شوعائیں جھانک رہی تھیں-
راکا پوشی پر صبح اتر رہی تھی-
گھومتے سر اور چکراتے ﺫہن کے ساتھ اس نے دونوں ہاتھ برف پر رکھ کر زور لگا کر اٹھنے کی کوشش کی-وہ بامشکل گٹھنوں پر زور دے کر کھڑی ہو پائی-اس کی ٹانگیں جم کر سن ہو چکی تھیں-دماغ پوری طرح ماؤف تھا-
افق وہیں بیٹھا تھا-اس کی آنکھیں کھلی تھیں اور وہ جاگ رہا تھا-پریشے کو کھڑے ہونے کی کوشش کرتے دیکھ وہ مسکرایا-
صفحہ نمبر 233
جلد اتنی خشک ہو چکی تھی کہ مسکراتے ہوۓ کھنچنے سے جگہ جگہ سے نکلنے لگتے-
پریشے نے بے یقینی سے خود کو اور پھر اسے دیکھا-وہ زندہ تھی-وہ اب تک مری نہیں تھی اور اب بھی شاید کسی کے پکارنے پر اٹھی تھی-کس نے پکارا تھا اسے?اس نے سامنے پھیلے پہاڑی سلسلے پر نظر دوڑائی-دور ان پہاڑوں کے درمیان سے آواز آ رہی تھی-برفانی طوفان کے چنگھاڑنے کی آواز مگر وہ طوفان کی آواز نہیں تھی-وہ کوئی دھبا سا تھا,جو ان کی جانب بڑھ رہا تھا-اس نے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا-دھبا بڑا ہوتا جا رہا تھا-سبز رنگ,درمیان میں چمکتا چاند ستارہ…….
“افق اٹھو…وہ آ گۓ ہیں-“وہ ایک دم زور سے پھٹی آواز میں چلائی-اس کی بے حد خشک جلد سے خون نکلنے لگا مگر وہ پرواہ کیے بغیر اس سبز ہیلی کاپٹر کو دیکھتے چلانے لگی,جو فضہ کا سینہ چیرتے ہوۓ ان کے قریب پہاڑ کے سامنے کی جانب بڑھ رہا تھا-
افق اٹھو…….میں نے کہا تھا نہ وہ آ جائیں گے-وہ آ گئے ہیں-وہ خوشی سے رونے لگی تھی-وہ ہمیں چھوڑ کر نہیں. گئے………دیکھو سامنے وہ آ گئے ہیں-
وہ کھڑی تو تھی ہی,اب اس نے پوری قوت سے دونوں بازو ان کی جانب ہلاۓ پھر منہ کے گرد ہاتھوں کا پیالا بنا کر ان کو آواز دینے لگی-
“ہیلپ……..ہیلپ-“وہ انہیں دونوں ہاتھوں کو ہلاتی اپنی جانب بلا رہی تھی-سبز ہیلی کاپٹر کی ایک جھلک نے اس میں جیسے نئی روح پھونک دی تھی-
ہیلی کاپٹر بہت چھوٹا سا تھا-اس میں دو سرمئی یونیفارم میں ملبوس پائلٹ بیٹھے تھے-ایک کے چہرے پر گلاسس تھے اور قدر درمیانی عمر کے دکھائی دیتے تھے-وہ ہیلی کاپٹر اڑا رہے تھے-وہ سمجھ گئی کے وہ کانل فاروق تھے-ان کا معاون پائلٹ نوجوان تھا اور اس کے چہرے پر گلاسس نہیں تھے-اس نے پریشے کو ہاتھ سے اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا-
چلو افق…….اٹھو-نقاہت کے باوجود اس نے افق کو کندھے سے پکڑ کر اٹھانا چاہا-
“تم جاؤ ان کے قریب-“بہ وقت تمام وہ بولا-
اس کی سمجھ میں نہیں آیا کے وہ کیا کرے-وہ افق کو چلنے کا کہہ رہی تھی اور وہ اسے آگے بھیج رہا تھا-دوسری جانب وہ معاون پائلٹ مسلسل اسے اپنی جانب آنے کا اشارہ کر رہا تھا-
جاو ناں-افق نے بیٹھے بیٹھے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے آگے دھکیلا پریشے نے اپنی حفاظتی
134
رسی کھولی پھر افق کی کھولنی چاہی۔وہ کھل کے نہیں دے
رہی تھی ۔اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے اس نے چاقو نکال کر رسی کاٹنے کی کوشش کی ۔اس کے اردگرد دستانوں پر برف گرنے لگی ۔رسی کاٹنے کے ہی نہیں دے رہی تھی ۔اس نے گردن موڑ کر بے چینی سے ہیلی کاپٹر کو دیکھا معاون پائلٹ نے اپنی طرف دروازہ کھول دیا وہ ہاتھ میں چھوٹا سا کیمرہ پکڑے مووی بنا رہا تھا ۔
لرزتے منجمد ہاتھوں سے رسی کاٹ کر ہیلی کاپٹر کی طرف جانے لگی وہ جگہ کسی منڈیر کی طرح لگ رہی تھی ۔
برف کا پل اصراط
وہ ہیلی کاپٹر کی جانب بڑی جو اس کے قریب ابھی تک چکر لگا رہا تھا اس کے پنجے برف کے بہت قریب تھے مگر وہ وہاں لینڈ نہیں کر پا رہا تھا
(پیار مرتا نہیں خاموش ہو جاتا ہے پیج سے مکمل ناول حاصل کریں)
پریشے کے قدم من من بھاری ہو رہے تھے
اس کو قریب آتے دیکھ کر مووی بنانے والے نے کیمرہ رکھ دیا اور بازو اس کی جانب بڑھایا وہ اس کو اندر آنے کا کہہ رہا تھا ۔
پریشے نے اسے اور پھر پلٹ کر افق کو دیکھا جو اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر اندر جانے کا اشارہ کر رہا تھا وہ واپس پلٹی مینیجر اسے اندر انے کا کہہ رہا تھا ۔
میرا ساتھی زخمی ہے پہلے اسے اٹھاؤ وہ زور سے چلائی۔مگر ہیلی کاپٹر کے بھاری پروں کی گڑ گڑ میں آواز دب جاتی۔
مینیجر بلال نے سمجھنے والے انداز میں کہا اور اندر انے کا اشارہ کیا وہ ایک پل لو ہچکچائی پھر اس کا بازو تھام لیا اور ایک ہی پل میں وہ ہیلی کاپٹر میں تھی۔
سر ہم گئے ۔۔سر ہم گئے کلمہ پڑھ لیں مینیجر بلال ہنس کر دروازہ ہیلی کاپٹر کا بند کر دیا
میرا ساتھی زخمی ہے اسے سہارہ دے کر لانا پڑے گا وہ چل نہیں سکتا اتنا شور تھا کہ وہ چیخ کر بھی بولے تو سنائی نہیں دیا مینیجر بلال نے اسے ہیڈ فون دیا
یو اوکے میم؟ اسے پہن لیں
135
اس نے ہیڈ فون مامگر پہنا نہیں ۔بس وہ پھٹی نگاہوں سے شیشے کے اس پار برف پر افق کو دیکھ رہی تھی ۔جس نے سر برف پر رکھ کر انکھیں موند لی تھی ۔تب دفعتاً اسے احساس ہوا افق دور ہوتا جا رہا ہے ۔ہیلی کاپٹر ہوا میں بند ہو رہا تھا اس کے اندر جیسے الارم سا بجا۔
وہ میرا ساتھی اسے بھی تو اٹھائیں مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ اس کی بے چین نگاہیں افق پر جمی ہوئی تھی وہ آنکھیں کیوں نہیں کھول رہا وہ گردن کیوں نہیں سیدھی کر رہا ۔اس کے اندر خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی ۔
اسے مت چھوڑ کر جائیں مینیجر وہ زخمی ہے اسے اٹھا لیں
جیسے جیسے ہیلی کاپٹر اوپر اٹھ رہا تھا پروں کی آواز اور زیادہ ہو گئی تھی ۔اس کے اگے والی سیٹ سے ایک پائلٹ بولا لڑکی چیخ کیوں رہی ہو؟
سر ان کو کوئی شاک ہے یا نفساتی اثر
وہ دوسرا لڑکا تمہارا خیال ہے وہاں ہے
آئی تھنک سر وہ مر چکا ہے
اچھا باڑی تو دینی پڑے گی ترک گورنمنٹ کو
شور بہت تھا اس کے کانوں کے پردے پھٹ رہے تھے سر چکرا رہا تھا اس نے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ دیے۔وہ کیا کہہ رہے تھے سننا نہیں چاہتی تھی اس کی نظریں افق پر تھی وہ چیخ چیخ کر اس کہنا چاہتی تھی وہ آنکھیں کھولے اس جھنجوڑنا چاہتی تھی اس کو گھسٹ کر ہیلی کاپٹر میں لانا چاہتی تھی اس کو اپنا شور زور دار سنا۔
وہ زندہ ہے خدا کے لیے اسے بچا لو وہ زندہ ہے اسے پکارو وہ آنکھیں کھولے گا۔۔منیجر بلال نے موڑ کر اسے دیکھا ہیڈ فون کی طرف اشارہ کیا پہن لو جو اسکی گود میں پڑا تھا اسے سنائی نہیں دے رہا تھا اس کی
136
آنکھوں کے اگے اندھیرا چھا گیا ۔گہرا سیاہ دھند
اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی پلکوں کی ادھ کھلی درازوں سے نیلا آسمان جھانک رہا تھا وہ کسی چیز میں لیٹی ہوئی تھی اور کچھ لوگ اس چیز کو حرکت دے کر کہیں لے جا رہے تھے اس سے آنکھیں نہیں کھول رہی تھی وہ چیخ چلا رہی تھی تم نے اسے مار دیا اسے مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔
وہ پتہ نہیں کسی پر چلا رہی تھی سوئی کی نوک اسے چھبی پھر گہرا اندھیرا اور غنودگی تھی
کوئی اس کے بہت پاس محسوس ہوا دھمی خوبصورت آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔کوئی اس کے بہت قریب تھا اس کے بالوں کو چھوا گرم سانسوں کی تپش اسے گردن پر محسوس ہوئی
اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھول دی
وہ کسی ہسپتال کا کمرہ تھا سفید بستر سفید چھت سفد ساڑھی میں نرسیں اس نے اٹھنے کی کوشش کی اس نے دائیں طرف دیکھا جو تھوڑی دیر پہلے اس کے پاس بیٹھا تھا اب وہ وہاں نہیں تھا وہ بستر پر اکیلی تھی ۔
Happy second birthday Dr parisha
دوسری زندگی مبارک ہو ڈاکٹر پریشے
اس نے دیکھا پاس ہی آرمی ینفارم میں کرنل مبارک دے دیے رہا تھا
تھنک یو سر اس کو اپنا گلہ بیٹھا محسوس ہوا اسے زکام بھی تھا ۔
کیسی ہیں لٹل بریو گرل
بالکل ٹھیک اس کے جسم میں اب کہیں درد نہیں تھا اس نے خود پر نظر ڈالی سفید کپڑے پہن رکھے تھے ۔
مجھے کیا ہوا تھا؟
237
کچھ نہیں نفسیاتی جھٹکا تھا جو ظاہر ہے کسی ساتھی کے مر جانے پر ہوتا ہے
اس کی کلائی سوجی ہوئی تھی چھوٹے موٹے زخم بھی تھے ۔
کسی ساتھی کے مر جانے کے الفاظ پر چونک گئ۔
ممم میں بے ہوش تھی کیا کتنی دیر؟
تین دن تک اج 25 اگست میم وہ مسکرائے وہ مسکرا بھی نہیں سکی
تین دن میں کیسے بے ہوش رہ سکتی ہوں ۔آپ کو بے ہوش رکھنا پڑا
مینیجر بلال نے بتایا کہ سم فرینڈ ان راگاپوشی ان ڑائیڈ
ڑائیڈ؟ وہ سانس نہیں لے پائی
آپ کے انکل انٹی اور ایک کزن اسلام آباد سے آئے ہوئے ہیں ۔
اسلام آباد سے؟؟ تو میں کدھر ہوں؟؟؟
آپ گلگت سی ایم ایچ میں آپ کو شاید یقین نہیں آپ زندہ بچ گئی آپ کا مونٹین کلامبنگ تاریخ کا۔۔۔۔۔۔
پلیز میرے کزن کو بلا دیں میں نے اس سے بات کرنی ہے اس نے ان کی بات کاٹی اور آرام کرنے کا کہہ کر باہر نکل گئے ۔
ڈائیڈ ۔۔وہ ۔۔۔وہ کسی کی بات کر رہے تھے ۔۔۔افق ۔۔۔افق نہیں نہیں ہر گز نہیں
اس کو آخری منظر یاد آ گیا افق کا چہرہ بند آنکھیں ڈھلکی گردن اس کا دل ڈوبنے لگا۔
ہلکی سی آہٹ ہوئی نشاء اندر داخل ہوئی
کیسی ہو پری وہ اس کے پاس آ کر بولی؟
نشاء افق کیسا ہے اس نے بے قراری سے پوچھا۔
وہ خاموشی سے کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر ہلکی سی جنبش سے بولی تم ٹھیک ہو جاؤ گی پری شکر تمہارے ہاتھ پاوں فررسٹ بائٹ سے بچ گئے
138
نشاء میں نے تم سے کچھ پوچھا افق کیسا ہے؟
وہ زور سے بولی اس کا اپنے قدم برف پر کھڑے لگ رہے تھے ابھی نشاء نے کچھ کہے گی اور اس کے نیچے کچی برف پھٹ جائے گی
تم آرام کرو پری ہم پھر بات کریں گے تمہاری طبعیت ۔۔
نشاء خدا کے لیے بتاؤ افق کیسا ہے کوئی جیسے اس کے جسم سے جان نکال رہا تھا نشاء چپ کھڑی وہ بول کیوں نہیں رہی پریشے کا دل گھبرانے لگا
خدا کے لیے بتاؤ وہ اسے بچانے گے تھے کہ نہیں بتاؤ میرا دل پھٹ جائے گا۔
نشاء نے سر ہلایا وہ ٹھیک ہے
پریشے نے سر تکیے پر گرا کر شکر کیا وہ لوگ ارسہ کی بات کر رہے تھے
نشاء نے کہا کہ مگر وہ ۔۔۔
مگر کیا
وہ سانس روک کر اسے دیکھ رہی تھی
مگر وہ چلا گیا ۔
چلا گیا کہاں؟
واپس ترکی میں نے اسے روکنے کی کوشش کی نہیں رکا اس نے کہا میں نے پری سے وعدہ کیا تھا میں نے بولا بھی میں ماما پاپا انکل سے بات کروں گی مگر وہ چلا گیا
تم نے اچھا نہیں کیا پری اس کے ساتھ وعدہ کر کے
پھر کیا کرتی؟ اس کے اندر جیسے بہت زور سے کچھ ٹوٹا اسکی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اچھا ہوا چلا گیا میں اس کے لئے پاپا کو دکھ نہیں دے سکتی تھی
کب گیا؟ اس نے روندی آواز سے پوچھا
کل جانے سے پہلے تمہیں دیکھنے آیا تھا اس کی ٹانگ کافی خراب تھی مگر ضائع ہونے سے بچ گئی ہاتھ پیر فررسٹ بائٹ تھے مگر ضائع نہیں ہوئے تھے
139
تم جاتے اس کی شکل دیکھتی تمھارا دل پھٹ جاتا تم نے اس ٹوڑ دیا ہے وہ کتنا شکست زدہ لگ رہا تھا ۔دیکھ کر لگ نہیں رہ تھا یہ وہی زندہ دل افق ہے جس کے ساتھ سات دن سوات میں گزارے تھے وہ کبھی ایسا نہیں تھا پری تم نے اس کے ساتھ برا کیا ۔
اس یاد آیا وہ بے ہوشی میں بھی افق کی تپش سانسوں کو محسوس کیا تھا اسکی لمس اس کا چھونا مگر کیا کہہ رہا تھا وہ یاد نہیں آ رہا تھا ۔
مجھے اس بارے میں ڈاکٹر احمت فون پر بتایا تھا افق کو انہوں نے بیس کیمپ میں اتارا تھا وہ کل گلگت آیا مجھے ملا اور اسلام آباد کی فلائٹ سے گیا شام کو
سیف بھائی کو تماری پھوپھو نے اپنے طریقے سے بتایا پاپا کو بھی تم بے فکر رہو کوئی نہیں پوچھے گا سیف بھائی کو بھی نیوز پیپر سے پتہ چلا ان کی تنگ نظری کو تو جانتی ہی ہو پاپا نے سب ہینڈل کر لیا انہیں افق کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ارسہ کی ڈیتھ کے اثرات تم سے کچھ نہیں پوچھیں گے
ارسہ کے والدین؟
وہ آئے افق سے ملے افق نے انہیں اس کا ادھورا ناول لکھا دے دیا جس کا اختتام خوشگوار ہونے والا تھا مگر شاید اب نہیں ہو ۔
میں جانتی ہوں ارسہ ہماری کہانی لکھ رہی تھی وہ دھیرے سے بولی مجھے حیرت ہے افق اتنا زخمی سب سے ملتا پھر رہا اور میں بے ہوش
اس. لئے کے وہ ارسٹک نہیں تھا نشاء ہنسی
وہ ہنس بھی نہیں پائی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23
CompleteDownloadFreeFree Urdu Pdf BooksKarakoram Ka Taj MahalNimra AhmedNovels Hi NovelspdfQistRead OnlineSerialUrdu NovelUrdu Novelsurdu novels free downloadاردواردو ناولزارو ناولسلسلہ وارقراقرم کا تاج محلقراقرم کا تاج محل از نمرہ احمدناولناولزنمرہ احمد
Comments (0)
Add Comment