Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 18

قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 18

–**–**–

#بارہویں_چوٹی
قسط18
جمعہ 26اگست2005
ہیلی کاپٹر سبز گھاس پر اس کا انتظار کر رہا تھا اس نے ہاتھوں سے بال سنوارے اور برآمدے میں نکل آئی
اس کا کچر گھر میں تھا
اسے گلگت سے اسلام آباد ہیلی کاپٹر میں جانا تھا کرنل فاروق جا رہے تھے وہ بھی ان کے ساتھ چلی گئی ۔
ہیلی کاپٹر کے پاس مینیجر بلال کھڑا تھا
ہیپی سیکنڈ برتھ ڈے میم وہ خوش دلی سے مسکرایا۔
وہ بھی جواباً مسکرائی کے میں اس کو کتنا غلط سمجھ رہی تھی ۔وہ اس بھول گئے ہوں گے مگر انہوں نے بھلایا نہیں تھا وہ اسے وقت پر بچانے آ گئے تھے
241
میں نے اپنے ریسکیو کی ویڈیو دیکھی تھی آج-مجھے میجر خالد نے دیکھائی – بہت امیزینگ کام کیا آپ نے-اتنا مشکل ریسکیو کیسے کرلیا آپ نے؟میں اب تک آمیزڈ (ششدر )ہوں -“
“ارےمیم!جو کیا اللہ نے کیا-پاک فوج نے بس ہمت کی-ویسے امید ہے اب آپ مجھے شکریہ نہیں کہیں گی-“
وہ شرمندہ سی ہوگئی – “دراصل میں پریشان ہوگئی تھی – آپ بیس کیمپ سے اچانک کیوں گئےتھے؟ “
“میم!ہم فیول کے لئے گئےتھے اور ہنزہ باہر تین دن موسم ٹھیک ہونےکا انتظار کرتے رہے جیسے ہی آسمان صاف ہوا ہم آگئے-“
“مگر آپ نے افق ارسلان کو ہیلی کاپٹر میں کیوں نہیں بٹھایا؟ یہ اچھا خاصا بڑا ہیلی کاپٹر ہے-“اس نے سامنے کھڑے ہیلی کاپٹر کی جانب اشارہ کیا-
“یہ وہ نہیں ہے،جس نے آپ کو ریسکیو کیا تھا – آپکو ٹھیک سے یاد نہیں وہ “لاما”تھا ، اس میں ہم ارسلان کو کیسے بٹھاتے، وہ تو بلکل مچھر تھا – “
“کون ارسلان؟ “
“نہیں میڈم! ہمارا ہیلی!لاما مچھر ہوتا ہے-“وہ ہنسا،”وہ زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتا-تین سے زیادہ بندے اس میں نہیں بیٹھ سکتے-کرنل زبیر اور میجر عاصم نے اپنی گلہری، آئی مین اپنے Square سے ارسلان کو ریسکیو کیا-اس دفعہ راکا پوشی پر ہم نے دو ہیلی کاپٹر بھیجے تھے، جیسے بلتورو پر ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے بھیجتے ہیں – “
پریشے نے غور سے سبز رنگ کے ہیلی کاپٹر کو دیکھا – “ہاں،یہ وہ مچھر تو نہیں لگ رہا “
“ارے میم!اسے کچھ مت کہیں ، یہ مائنڈ کرےگا – “
وہ ہنس دی،”میجر بلال،یہ ہیلی کاپٹر ہے-“جیسے وہ کہنا چاہ رہی تھی کہ “یہ انسان نہیں ہے-“
“جناب یہ شیر جوان ہے-“اس نے ہنستے ہوئے سبزرنگ کی دھات کو تھپکی دی-
“اینی ویز میجر بلال، میں میجر عاصم سے مل نہیں سکی-ان کو میری طرف سے شکریہ کہہ دیجیئے گا-“
“راجر میم!”پھر یک دم بولا،”ہاں،میجر عاصم آپ کا پوچھ رہےتھے – شاید کوئی چیز تھی، آپ کی ان کے پاس..
142
“نہیں کچھ بھی نہیں تھا – اچھا خدا حافظ ایک دفعہ پھر شکریہ -“وہ بات کاٹ کر ہیلی کاپٹر کے کھلے دروازے سے اندر چڑھنے لگی-
میجر بلال نے اب قدرے الجھ کے کچھ کہنا چاہا-شاید اسے کوئی الجھن تھی مگر پریشے کو علم تھا کے وہ کوئی قیمتی شےچھوڑے نہیں جاررہی – وہ جو کھو چکی تھی ، اس کے بعد آگر کچھ رہ بھی گیا تھا تو اسے پرواہ نہیں تھی – وہ اندر بیٹھ گی – میجر فاروق تیار ہی تھے، سودروازہ بند کردیا –
ہیلی کاپٹر فضا میں بلند ہونے لگا – اس نے ہیڈ فون کانوں پے چڑھا لئے-شور نسبتا”کم ہوگیا –
وہ کھڑکی میں چھوٹے ہوتے گلگت اور دور ہوتے پہاڑوں کو دیکھنے لگی،جن کے درمیان بڑی تمکنت اور غرور سے پربتوں کی دیوی کھڑی تھی-
“Thank you raka poshi!,”اس نے چمکتی دیوار کو کس بات کا شکریہ ادا کیا تھا، وہ خود بھی نہیں جانتی تھی –
دور دور تک پھیلے یہ وہ پہاڑ تھے، جن کی پیشانیوں جھک کے آسمان چوم رہا تھا – وہ واقعی عظیم پہاڑ تھے اور ان کے درمیان میں قراقرم کا تاج محل کھڑا تھا، جس کی سفید مرمریں دیواروں پر محبت کی ایک خاموش داستان لکھی تھی – وہ بلاشبہ آگرہ کے تاج محل سے زیادہ سفیداور خوبصورت تھا –
اس نے ایک آخری نظر قراقرم کے کوہساروں پر ڈالی-
“الوداع قراقرم – الوداع ہمالیہ – مجھے تم عظیم چوٹیوں کی قسم!میں زندگی میں پھر کبھی تم ظالم پہاڑوں میں نہیں آؤں گی –
اس نے سیٹ کی پشت کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں-کتنے دنوں بعد آج اس کی کمر کے پیچھے برف نہیں تھی –
“تو یہ تھا کہانی کا اختتام – آخر اس موڑ پر آکر قراقرم کی پری اور کوپیما کی کہانی بالآخر ختم ہوگئی -“وہ بند آنکھوں سے آفسردگی سے مسکرائی-
لیکن قراقرم کی پری اور کوپیما کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی –
……………
محبت جیت ہوتی ہے
مگر یہ ہار جاتی ہے
کبھی دل سوزلمحوں سے
243
کبھی بے کار رسموں سے
کبھی تقدیر والوں سے
کبھی مجبور قسموں سے
محبت ہار جاتی ہے
اسلام آباد واپسی پر اسے ہر اس بندے سے لیکچر ملا
جیسے اس کو توقع تھی پھوپھو ندا ماموں مامانی اور سب سے بڑ کر سیف سے
تمہیں اندازہ ہے تمہاری زندگی ہمارے لیے کتنی قیمتی ہے وہ اسے کتنی دیر کوہ پیما کی ہلاکت اور نقصانات بتاتا رہا جس پر وہ سر جھکائے خاموشی سے بیٹھی تھی آخر اس نے جھنجوڑ کر بولا ۔پریشے نے سر اٹھا کر دیکھا ۔اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی
آپ کے لیے میری زندگی اہم ہے یا میں آپ کی زندگی ہوں.؟سیف کچھ بول نہ سکا۔
اگر آپ کا لیکچر ختم ہو گیا ہو تو اب میں جاؤں؟
پریشے تم ایندہ۔۔۔۔۔
244
پہاڑوں کا نام نہیں لو گی کلائمنگ جیسی فضول سپورٹ
میں حصہ نہیں لو گی اور میری ہر ای میل کا جواب دو گی۔یی ناں؟
تو میں یہ باتیں سن چکی ہوں جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی وہ میز پر پڑے کاغذ فائل میں جوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔
سیف اتنا بےوقوف نہیں تھا کے اس کی سردمہری محسوس نہ کرتا۔مگر وہ اس کی سب باتوں کو اپ سٹ ہونا سمجھ رہا تھا ۔
مجھے دیر ہو رہی ہے وہ پرس اٹھے باہر چلی گئی
پاپا آج ہی پہنچے تھے یہ پریشے کو بعد میں پتہ چلا انہیں سن معلوم ہوا تھا مگر جانے کیوں ارسہ کی موت کے سبب وہ پریشے کی زہنی حالت محسوس کرتے کچھ نہیں پوچھا کوئی باز پرس نہیں کی کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی اخبار میں انہوں نے خبر پڑھ لی تھی مایا ناز گلائمنبر افق ارسلان کو انہوں نے نظر انداز کر دیا اہمت نہیں دی جیسے وہ خود پہلے پڑھ کر اہمت نہیں دیتی تھی ۔
پاپا اس معاملے میں بہت احساس تھا چوں کہ وہ سلامت واپس آ گئی تو انہوں نے کچھ نہیں کہا
مگر وہ بالکل ٹھیک نہیں تھی اندر سے بھی باہر سے بھی وہ زندگی بھر اتنی خاموش اور الگ تھلگ نہیں تھی پھوپھو نے دیکھا تو یقین نہیں آیا یہ وہی پریشے ہے جو 5اگست کو ہنزہ گئ تھی
اس کی گوری رنگت ماند پڑ گئی تھی وزن 20 22 پونڈ کم ہو چکا تھا سب کیا سمجھ رہے تھے کوئی اصل بات نہیں جان پایا تھا اصل مرض نہیں پتہ تھا
پریشے جہاں زیب کو عشق ہو گیا تھا ۔
_________________________
منگل 6ستمبر 2005
اس روز ندا اپا آئیں تو اسے اپنے گھر لے گی۔کسی اور وجہ سے یا چھٹی کی وجہ سے سیف گھر پر ہی تھا اسے ندا آپا کے ساتھ آتا دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی جس سے پریشے کو نفرت تھی
245
میں چمک آ گئی,جس سے پریشے کو نفرت تھی-
کیسی ہو پری?وہ اس کا سر سے پیر تک جائزہ لے کر مسکرایا-
پریشے نے سنجیدگی سے اسے دیکھا,سیف!آپ کو نہی لگتا کہ میں اب بڑی ہو گئی…..ہوں-آپ کو مجھے پورے نام سے پکارنا چاھیے-
اس کی بات پر سیف ہنس پڑا,مگر اس کی پیشانی پر پڑے بل دیکھ کر اسے خاموش ہونا پڑا-….آپا آپ بھی سن لیں,آئندہ پریشے کو پری نہیں کہنا-وہ خاموشی سے سیف کو دیکھتی رہی,جیسے اسے اس مزاق پر ہنسی نہیں آئی-
اوہ پری آئی ہے-پھپھو بھی کمرے سے باہر نکل آئیں,آج تو فریش لگ رہی ہو-
جی پھپھو!بس ﮈائیٹ تھوڑی ہیلدی رکھی ہوئی ہے-وہ بیٹھ گئی ندا آپا اندر سے بری کے سامان والے شاپر اور ﮈبے اٹھا لائیں-
“سیفی بتا رہا تھا تم نے پمز میں جاب شروع کر دی ہے?”
“جی پھپھو!”
“کب سے جا رہی ہو?”
چند دن ہوۓ ہیں-اسے اب اس تفتیش سے الجھن ہو رہی تھی-
خیر سے کتنی تنخواہ دیتے ہیں?
اس کو وہاں بیٹھنا مشکل لگ دہا تھا-اس نے کن انکھیوں سے سیف کو دیکھا,جو بہت دھیان سے اس سوال کے جواب کا منتظر تھا-
اس نے آہستگی سےاپنی تنخواہ بتائی-
ہاں یہ اچھی ہے-ویسے بھی بیٹا اچھی بیوی وہ ہوتی ہے,جو شوہر کے شانہ بہ شانہ کام کرے-وہ بھی تو اس کے لیے کماتا ہے-یہ اس بات کا اشارہ تھا کہوہ شادی کے بعد بھی ملازمت کرتی رہے-
اور نہیں تو کیا اچھا پری!یہ دیکھو,یہ جناح سپر سے فرینچ ویلوٹ کا لے کر آئی ہوں,پورے پانچ ہزار کا ہے-انہوں نے نیوی بلیو ویلوٹ پر فیروزی ستاروں والا ﮈوپٹہ سامنے پھیلایا-وہ قدر بے توجھی سے وہ سارا سامان دیکھتی رہی-
سیف بھی ساتھ بیٹھا کپڑوں کے بارے میں,دکان داروں کی بے ایمانی کے بارے میں
246
مسلسل تبصرہ کر رہا تھا جیسے عمومن عورتیں کرتی ہیں۔ ان کی کلاس بدلی تھی لیکن اس کلاس میں رہنے کا سلیقہ ابھی بھی نہیں آیا تھا۔
دفعتا” اس کے موبائل کی بیپ بجی اس نے موبائل نکال کر روشن اسکرین کو دیکھا۔ وہاں کوئی غیر شناسا نمبر سے میسج آیا ہوا تھا۔ اس نے میسج کھولا۔ “کیا میں آپ سے بات کر سکتا ہوں۔ آپ فارغ ہیں؟” میسج رومن اردو میں تھا تاکہ لکھنے والے کی جنس واضح ہو۔ اس نے کوفت سے اسے ڈیلیٹ کر دیا’ جب سے موبائل کمپنیوں نے نرخ سستے کیے تھے ایسے میسیجز ۔۔۔ اور غیر شناسا نمبر سے کالز آتی رہتی تھیں۔ دنیا جہان کے فارغ اور لوفر لڑکے ایسے کام کرکے لڑکیوں سے دوستی کہ خواہش مند ہوتے تھے۔ اس نے ” ہو آر یو؟” لکھ کر جواب بھی نہیں دیا اور موبائل رکھ دیا۔
“کس کا مسیج تھا۔؟”سیف نے فورا” پوچھا۔
“پاپا کا۔” اس نے یہ کہنے سے احتراض کیا کہ کسی کے ایس ایم ایس کے بارے میں پوچھنا غیر اخلاقی حرکت ہے۔
“اچھا یہ والا دیکھو’ وہ بریزے کا ہے” انھوں نے بازو پر ایک اور ہلکا سا گرین کپڑا پھیلایا۔ وہ “ہوں اچھا ہے ” کہہ کر خاموش ہوگئی۔
اسی اثنا میں روشنان اور سنی جانے کہاں سے وارد ہوگئے ۔
“ماما دیکھیں سیفی ماموں ہمارے لیئے منا پلی لائیں ہیں۔” روشنان مناپلی کا گتہ ‘ کارڈز اور گوٹ ماں کو دیکھانے لگی۔
“بھلا اتنے چھوٹے بچے یہ گیم کھیلیں گے؟” ندا آپا نے کہا’ پریشے کو بے اختیار کچھ یاد آیا۔
رات کی تاریکی’ جلتے آلاو سے اڑ کر گم ہوتی چنگاریاں ‘ لکڑیوں کے چٹخنے کی آواز’ ماہو ڈھنڈ کے خاموش پانیوں پر چڑھی چاندنی کی تہ دور دور تک پھیلا سبزہ زار۔۔۔
اس نے سر جھٹکا’ اس کو مزید وہاں بیٹھنا مشکل لگ رہا تھا۔ وہ آٹھ کھڑی ہوئی۔
“میرا ڈیوٹی ٹائم ہے’ ڈاکٹر وسطی بہت خفا ہوں گے’ مجھے جانا ہوگا۔” بہانا اسے سوجھ گیا تھا۔
—————————
پیر’ 12 ستمبر2005ء
جیولری شاپ کا شیشے کا دروازہ دھکیل کر وہ اندر داجل ہوئی۔ سیف اس کے عقب میں تھا۔
247
وہ اعتماد سے چلتی شوکیس کے سامنے سیٹوں کی لمبی قطار میں سے ایک کرسی کھینچ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئی۔ سامنے بیٹھا سیلزمین پروفیشنل خوش اخلاقی سے اس کی جب متوجہ ہوا’ ” جی میڈم”۔
سیلرز میں کے پیچھے والی دیوار شیشے سے ڈھکی ہوئی تھی’ چمکتے شیشے کی دیوار۔۔۔ اسے کچھ یاد آیا۔ اس نے سر جھٹکا اور آئینہ میں ایک نظر خود پر ڈالی۔ لمبے اور سیدھے بالوں کو آدھا باندھ کر اس نے کیچر لگایا ہوا تھا۔ قیمتی پھتروں سے مزین کیچر جس کا دور نگار پھتر ڈھیلا تھا۔ کیچر سے چند لٹیں نکل کر اس کے گالوں کو چھو رہی تھیں۔ چند دنوں سے کھانے پینے کی احتیاط سے اس کا چہرا خاصا تروتازہ اور گال بھرے بھرے لگ رہے تھے۔
سیف اس کے ساتھ والی کرسی پر آکر بیٹھ گیا۔اس کو دیکھ کر دوربیٹھا ادھیڑ عمر سنار لپک کر اس کی طرف آیا۔
” جی سیٹھ صاحب’ کوئی یونیک چیز دکھائیں ہماری ہونے والی دلہن کو شادی کے دنپہننے کے لیے۔”
اس کو سیف کا متعارف کروانے کا انداز برالگا تھا مگر وہ خاموش رہی۔
(پیار مرتا نہیں خاموش ہو جاتا ہے پیج سے مکمل ناول حاصل کریں)
سنار سیٹھ جھٹ سیاہ مخملیں ڈبوں میں سجے چمکتے دمکتے سونے کے سیٹ شوکیس پر رکھنے لگا۔ دوسرا لڑکا اس کی ھمدد کر رہا تھا۔
پریشے ایک ایک کر کے ہر سیٹ کو مسترد کرتی رہی۔ اسے اس سب میں کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی۔ وہ تو پاپا اور پھپھو نے کہا تھا کہ وہ سیف کے ساتھ اپنی پسند کی شاپنگ کر آئی تو وہ چلی آئی تھی۔
سیف نے بہت سے ڈبے کھلوالیے ۔ وہ جیولر کو اچھی طرح سے جانتا تھا۔ یقینا” وہ پہلے یہاں آتا رہا تھا۔ ندا آپا کی شادی کو کافی عرصہ گزر چکا تھا’ جب ان کی شادی ہوئی تھی تو سیف اتنی مہنگی جیولری افورڑ نہیں کر سکتا تھا۔ یقینا” وہ پچھلے چند برسوں میں یہاں آتا رہا تھا۔ جانے کتنی عورتوں کو زیورات دلوانے۔شاید اسی لیے اس نے دکاندار پر واضح کیا تھا کہ وہ لڑکی اس کی ہونے والی بیوی ہے۔ سووہ محتاط رہے۔
ایک لمحے کو بھی اس کا دل نہیں چاہا تھا کہ وہ جیولرز سے سیف کے چکروں کے متعلق پوچھے۔ اسے سیف اور اس کے افیئرز میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اگر پاپا جانتے بوجھتے اپنی آنکھیں بند کر رہے ہیں تو وہ بھی اپنی آنکھیں اور دل کب کا بند کر چکی تھی۔
“یہ فیروزی پجتر والا تو بہت اچھا ہے۔یہ لے لو۔” اسے کچھ یاد آیا۔ اس نے بالوں پر لگایا ہوا کیچر۔۔۔
248
کیچر اتارا,سیاہ آبشار کمر اور چہرے پہ گرتی چلی گئی-
آپ کے پاس اس طرح کا کوئی دوسرا پتھر ہوگا یا آپ اس پتھر کو جوڑ دیں-یہ کسی بھی لمحے اکھڑ جاۓ گا-پریشے نے کیچر شوکیس پہ رکھتے ہوے دو رنگے پتھر کی جانب اشارہ کیا-
یہ بلکل گرنے والا ہے-اس کیچر کو پھینک دو میں تمہیں نیا لے دونگا-سیف نے لاپرواہی سے کیچر اٹھا کر ﮈسٹ بن میں پھینکنا چاہا-کسی چیتے کی تیزی سے پری نے چھپٹ کر اس کے ہاتھ سے کیچر چھینا-
ہاتھ مت لگائیں اسے-یہ بہت کیمتی ہے,سمجھے آپ?”
کسی متاع عزیز کی طرح اسے مٹھی میں بند کیے پریشے نے سیفطکو غصیلی نگاہوں سے دیکھا-وہ اس کے ردعمل پر شدررہ گیا-“پریشے تم,”اس نے آہستہ آواز میں کچھ کہنا چاہا-میں گاڑی میں بیٹھ رہی ہوں آپ کو آنا ہے تو آ جائیں,نہی تو میں ٹیکسی سے چلی جاوں گی-
بالوں کو پوری طرح کیچر میں جکڑ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور کھٹ کھٹ چلتی گلاس ﮈور دھکیل کر باہر نکل گئی-سیف جیولر سے معزرت کرتا کچھ ہیران اور کچھ دبے دبے غصے کے ساتھ اس کے پیچھے باہر نکل گیا-
جیولر نے استہزایا انداز میں سر جھٹک کر ساتھ والے لڑکے کو بتایا-بیگم صاحبہ شادی پر خوش نہیں ہیں,چچ چچ…….
لڑکا دانت نکوسنے لگا,جیولر پھر سے اپنی سیٹ سنبھال کر رجسٹر پر جھک گی جب کے لڑکا شوکیس رکھے زیورات کے مخملیں ﮈبیں بند کرنے لگا-
*……………*……………*
منگل,13 ستمبر2005ء
وہ ہسپتال جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی-اوورآل بازو پر لپیٹا,سٹیتھو سکوپ پاکٹ میں گھسایا,جلدی جلدی جوتوں کی سٹریپس بند کیں,بالوں کو اسی طرح اسی کیچر میں جکڑا اور پرس کندھے پر ﮈال کر باہر نکل آئی-
گاڑی کی جانب بڑھتے ہوۓ اس نے نشاء کو گیٹ سے اندر آتے دیکھا-
تم ہسپتال جا دہی ہو?وہ اس کی تیاری اور اجلت بھرے انداز کو دور سے ہی پہچان گئی تھی-
ہاں,کہو کوئی کام ہے?وہ گاڑی کا لاک کھولتے ہوۓ کھڑی ہونے لگی-
249
میم آپ کے جہیز کی شاپنگ کرنی ہے آپ کو ممی بلا رہی ہیں ۔
اوہو نشاء مامی کی چوائس بہت اچھی ہے وہ خود کر لیں گی تم ہیلپ کروا دینا تمہیں ان کی پسند نا پسند کا علم تو نہیں ہے ۔
مگر اب ہم جوتے لینے جا رہے ہیں تمہیں ہی جانا ہو گا
یار ادھر پنڈی اسلام آباد سے کہاں جوتے اچھے ملتے ہیں اور میرے پاس بہت جوتے ہیں اچھا تم رہنے دو میں لیٹ ہو رہی اس نے فکر مندی سے گھڑی دیکھی۔
بے وقوف لینے تو پڑے گے آخر شادی تمہاری ہے ۔
اس کے چہرے پر سایہ سا گزرا اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی دروازے پر
پری ۔۔وہ اس کے پاس آ گئی اگر فیصلہ کر لیا ہے تو کمپرومائز کرنا سیکھو۔سیف جیسا بھی ہے اسے قبول کرو اور دل سے کرو۔
دل ایک پھکی سی مسکراہٹ اسکے لبوں کو چھو گئی دل تو کئ دور قراقرم کے پہاڑوں میں رہ گیا اب تو یاد بھی نہیں کس جگہ کھویا تھا اسے ۔
کوئی فون کوئی خط کوئی رابطہ نہیں کیا اس نے؟
وہ جانتی تھی نشاء کس کی بات کر رہی ہے۔
میں نے اسے فون نمبر دیا کب تھا
ای میل؟
احمت کی وائف کی آئی تھی میں نے جواب نہیں دیا۔مجھے ترکی کے واسیوں سے رابطہ نہیں رکھنا ۔وہ سر جھٹک کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر دروازہ بند کر لیا۔کھلے شیشے پر جھکی پریشے نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا
خوش رہ کرو پری ورنہ لوگ جان جائیں گے ۔
جاننے دو اس نے اگنیشن میں چابی گھومائی۔نشاء پیچھے ہو گئی تو اس نے گاڑی باہر نکال لی۔
ہاتھوں کی لکیروں میں کیا تلاش کرتے ہو
ان فضول باتوں میں کس لئے الجھتے ہو ۔
150
جس کو ملنا ہوتا ہے
بن لکیر دیکھے ہی
زندگی کے رستوں پر
ساتھ ساتھ چلتا ہے
پھر کہاں بچھڑتا ہے
_______________________________
یہ اسی دن کی بات ہے جب اسے بےہوشی کی حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا ۔جہاں زیب صاحب کی طبعیت اچانک خراب ہو گئی وہ آفس سے جلدی گھر آ گئے تھے جیسے ہی گاڑی سے نکلے ان کی حالت بگڑ گئی تھی
وہ اپنے سب کام چھوڑ کر بھاگم بھاگ وہاں پہنچی ۔جب گھر پہنچی ممانی نشا پہلے سے موجود تھے اور پاپا۔۔۔۔۔۔وہ اس کے آنے سے پہلے جا چکے تھے اس کے ملنے کا انتظار بھی نہیں کیا
اسے نہیں معلوم وہ کتنے دن کھائے پیئے روتی رہی اس کے بہت غم تھے کس کس کا ماتم کرتی۔
اس نے اپنی پہلی اور آخری محبت کو جس کے لیے چھوڑا وہ دنیا میں اسے تنہا کر کے چھوڑ گیا ۔
وقت چھے سال پھر پیچھے چلا گیا جب کسی نے سر پر ہاتھ رکھ کر دلاسا دیا تھا کھوکھلے دلاسے جھوٹی تسلیاں آج بھی دے رہے تھے ۔
اس نے بہت لوگوں کو پاپا کے سرہانے بین کرتے دیکھا ان میں ندا آپا بھی تھی اور پھوپھو بھی وہ سب کو بھیگی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی اور جانچ رہی تھی ان کے آنسوں کی حقیقت کو سمجھتی تھی وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اس بھر دنیا میں پاپا کا
151
دکھ تھا وہ خود تھی ۔اس کی زندگی میں دو لوگ توتھے دو ہی مرد ایک پاپا ایک ارسلان ایک پہلے چھوڑ گیا اور دوسرے اب وہ اب پھر سے اکیلی رہ گئی تھی
____________________
وقت کا کام ہے گزرنا وہ گزرتا گیا
رو کر یا ہنس کر
بھلا وقت کہاں ایک سا رہتا ہے ۔
سو پریشے جہاں زیب کی زندگی کا بھی وقت گزر رہا تھا چن دن اس نے بہت ماتم کی جیسے اب زندگی ختم ہو گئی ہے مگر گزرتے دنوں کے ساتھ اس نے خود کو سنبھال لیا۔
وہ پھر کمزور ہو گئی تھی بولنا ہسنا ترک کر دیا تھا زندگی کو بہتی ناو میں چھوڑ دیا تھا ۔
اب اتنے بڑے بنگلے میں رہ کر کیا کرتی۔شادی تو جہان زیب صاحب کی وفات سے فلحال ملتوی ہو گئی تھی اس نے ماموں کے یہاں رہنے کا فیصلہ کر لیا۔
ویسے ماموں اسے اکیلے کہاں رہنے دے رہے تھے اس کے سوچنے سے پہلے لے آئے تھے
چند دن اس نے بند کمرے میں گزار لیے۔پھر ایک روز نشاء اس کے پاس آئی سمجھانے لگی۔
زندگی میں غم آتے رہتے ہیں میں صبر کا تو نہیں کہہ سکتی مگر خود کو سنبھالو۔
میں کوشش کر رہی ہوں
میری مانوں تو ہسپتال پھر سے جوائن کر لو۔
ہاں یہی سوچ رہی تھی کہ مصروف رہو گئی تو صبر آ جائے گا۔وہزبردستی مسکرائی ۔
پری اب تم زندگی کو نیے سرے سے شروع کرو
نشاء بہت آرام سے بول رہی تھی ۔
جو جیسے ہو رہا ہونے دو۔نشا مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں ۔پاپا نے
152
میرے لیے اچھا ہی سوچا ہو گا۔اس لیے مجھے مزید کوئی فیصلہ نہیں کرنا۔مجھے سیف قبول ہے کے کہنے سے قبل اس کا مطلب سمجھ کر پریشے نے کہا۔نشاء احتجاجاً کچھ کہنے لگی مگر پھر اس قصے کو کچھ وقت کے کے چھوڑ دیا۔
پریشے بھی اس معاملے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
اس نے ہسپتال جانا شروع کر دیا حالات معمول پر آنے لگے تھے اس کو انتطار تھا نشاء پھر کوئی اس بارے میں بات کرے گی مگر اس نے نہیں کی ۔
ماموں ممانی نشاء کی محبتوں کے قرض اٹھائے وہ زندگی گزار رہی تھی اسے شاید صبر آ گیا تھا یا پھر سمجھوتہ کر لیا تھا ۔
_______________________
جمعہ 30ستمبر 2005
وہ ہسپتال اپنے کمرے میں بیھٹی تھی ۔سامنے والی نشت پر ایک عورت اور ایک نو عمر لڑکی اس کی طرف دیکھ رہے تھے وہ تیز تیز پنسل چلا رہی تھی جیسے وہ سیدھی ہوئی۔کاغذ اس عورت کو دیا بچی کی خوراک کا خیال رکھیں ۔یہ ویسے بھی کم عمر ہے گھر جا کر کام نہیں کرواتے رہنا۔عورت نے شکریہ ادا کیا اور سہمی ہوئی بچی سب سن رہی تھی سستا سا زیوار پہنے۔
اس دوران اس کے موبائل کی گھنٹی بجی
153
اس نے فائل کو کے صفہے پلٹتے ہوئے مصروف انداز میں ہیلو کہا۔
ڈاکٹر پریشے جہاں زیب بات کر رہی ہیں جی؟
مردانه اور غیر شناساتھی۔اس نے کان سے ہٹا کر نمبر دیکھا پنڈی سرکاری ہسپتال نمبر تھا
جی بات کر رہی ہوں آپ کون؟
ڈاکٹر صاحبہ میں رائزنگ پاکستان سے بول رہا ہوں ہم آپ کو اپنے شو میں انوائٹ کرنا چاہتے ہیں کوئی پروڈیوسر بات کر رہا تھا
اچھا مگر کس سلسلے میں
آپ کو ابھی چند ہفتے پہلے راگاپوشی سے ریسکیو ۔۔۔۔
سوری مجھے کوئی انٹرویو نہیں دینا۔وہ کہہ کر فون بند کر کے دوبارہ فائل دیکھنے لگی۔
چند لمحوں بعد دوبارہ گھنٹی بجی
اس نے نمبر دیکھا وہی نو سے شروع ہونے والا تھا
جی؟؟
ڈاکٹر صاحبہ ہم آپ کو انٹرويو کے لئے بہت اچھا ۔۔۔۔۔
رونگ نمبر میں وہ پریشے جہاں زیب نہیں ہوں بائے اس نے کال کٹ کر دی۔اسی لمے پھر گھنٹی بجی اس نے نمبر دیکھا بھی نہیں اور فوراً کان سے لگا کر غصے سے بولی جی فرمائیے
اسلام عیلکم ڈاکٹر پریشے اس بار آواز مردانہ روبدار تھی
اپ کو کیا پرابلم ہے
آپ کو یاد ہو گا آپ کو راگاپوشی سے پاک آرمی نے۔۔۔
گناہ کر دیا تھا پاک آرمی نے معافی چاہتی ہوں میں بچ کر زمین پر آ گئی خدا کے لیے مجھے چھوڑ دیں میں اگلی بار بچ کر آنے کی غلطی نہیں کروں گی ۔
154
اب مجھے کال مت کیجئے گا۔کھری کھر سنا کر کال منقطع کر دی اور موبائل رکھ دیا۔
اتنے دن ہو گئے پھر بھی لوگ بھولے نہیں ابھی ۔۔۔بڑ بڑاتے ہوئے اس کی نگاہ کلینڈر پر پڑی جو اسے سعد بک بینک سے مفت ملا تھا
اس نے گھڑی دیکھی رات کے 8بج رہے تھے وہ اٹھی جانے کے لئے کلینڈر کے صفہے پلٹے وقت نے اسے اکتوبر میں لا کھڑا کیا
وہ جو چیز بھول جانا چاہتی تھی نا جانے کیوں کالی بلی کی طرح اس کا رستہ روک لیتی تھی ۔
اس نے کلینڈر اٹھا کر دراز میں ڈالا اور کھڑی ہو گئی
اس کا موبائل ابھی تک آف تھا…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23
CompleteDownloadFreeFree Urdu Pdf BooksKarakoram Ka Taj MahalNimra AhmedNovels Hi NovelspdfQistRead OnlineSerialUrdu NovelUrdu Novelsurdu novels free downloadاردواردو ناولزارو ناولسلسلہ وارقراقرم کا تاج محلقراقرم کا تاج محل از نمرہ احمدناولناولزنمرہ احمد
Comments (0)
Add Comment