Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 21

قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 21

–**–**–

#آخری_چودہویں_چوٹی_حصہ_دوم
#قسط21
تم کبھی نہیں بدلو گی پریشے جہاں زیب ۔تم ہمیشہ عام چیزوں میں بھی خوبصورتی تلاشتی رہو گی۔وہ اس کے خوبصورت تخیل پر ہنس دیا۔
تم بھی تو یہی کرتے ہو میں دعا کروں گی گل بھی مارگلہ پر ایسے بادل اتارے۔جیسے تین ماہ تین دن پہلے اترے تھے ۔
میں دعا کروں گا میری پری مجھے اسی طرح سفید اور گلامی رنگ میں ملے تم کل وہی کپڑے پہننا جو اس روز پہنے تھے ۔
پریشے نے اپنے جوگرز کو دیکھا کیا وہ یہی پہن کر افق سے ملنے جائے گی ۔نہیں وہ نئے خریدے گی افق کو کون سا ان کا ڈائزائن یاد ہو گا مردوں کو ایسی باتیں یاد کہاں رہتی ہیں بھلا۔
ٹھیک ہے تم بھی وہی جیکٹ پہننا پھر چند لمحے دونوں خاموش رہے دونوں نے کچھ سوچا اور ایک ساتھ بولے
اور تم وہی والا ۔۔مگر کچھ یاد آنے پر دونوں خاموش اکٹھے بولے تھے ایک دوسرے کی بات نہیں سن پائے تھے ۔
کل تمہارے ماموں کے پاس چلیں گے وہ ابھی پچھلی بات میں ہی تھی بے دھیانی میں بولی وہ کیوں؟؟
تمہیں ٹام کروز نے پر پوز کیا تھا نا بس وہی لے کر جائیں گے پھر دونوں ہنس دیے اچھا آدمی ہ کر لوں گی میں اسی سے شادی۔
ہاں مگر مجھے قتل کر کے کرنا اس سے وہ جل کر بولا پھر خود ہی ہنس دیا۔
اچھا اب میں فوج کا مزید خرچہ نہیں کرواتی فون بند کرو ک تین بجے ملتے ہیں
میں ریلیف کے لیے آیا ہوں مگر کل کے لئے ٹائم نکال لوں گا۔
میرے لیے سب سے اہم کام تم ہو مجھے یاد ہے رگاپوشی میں تمہارے آنسو گرے تھے وہ آنسو تمہیں لوٹانے ضرور آؤں گا
اس نے الله حافظ کہہ کر فون بند کر دیا
آج کتنے عرصے بعد وہ پر سکون تھی
289
اس نے آنکھیں میچ کر ایک طمانیت بھری سانس لی اور پھر آنکھیں کھول دیں.
وہ کمرہ کتنی خوب صورتی سے آراستہ تھا کھڑکی سے باہر نظر آتا پودا کرنا سرسبز تھا اور فضا کتنی پر سکون تھی وہ باہر نکل آئی.
میجر نعمان اسے تھوڑی دیر بعد مل گیا تھا. ہوگئ بات ؟اب خوش ہیں؟
پریشے نے بچوں کی طرح اثبات میں سر ہلایا دیا.
چلیں یہ تو اچھی بات ہے وہ سمجھ چکا تھا کہ معاملہ محض پتھر کا نہیں تھا.
وہ اس کا شکریہ ادا کرکے وہاں سے چلی آئی.
آج اسے بہت سارے کام کرنے تھے.
وہ پورا گھنٹہ مظفر آباد کی مسمار کانوں کے قریب متلاشی نگاہوں سے کچھ کھوجتا رہا تھا مگر اس کی وہ شے اسے مل کے ہی نہیں سے رہی تھی.
جانے کب وہ مایوس سا چلتا ہائی کور لانز آگیا.
ہائی کور میں بھی خیمہ بستی نصب تھی. وہاں ایک جگہ گھاس پر بے تحاشا گرم کپڑوں ٹوپیوں اور موزوں کا ڈھیر لگا تھا. اردگرد چند لوگ پھر رہے تھے مگر امداد کے اس ڈھیر سے کوئ کچھ نہیں اٹھا رہا تھا پھر بھی اس نے متلاشی نگاہوں سے اس ڈھیر کو دیکھا اس کی مطلوبہ چیز وہاں بھی نہیں تھی.
وہ مایوسی سے پلٹنے لگا تھا جب اسے دور ایک درخت کے تنے کے ساتھ ایک کم عمر لڑکی بیٹھی دکھائی دی جس کے سر پر ہاتھ سے بنا ہیٹ تھا .
اس کئ مراد بر آئی تھی.
وہ اسی طرح جینز کئ جیبوں میں ہاتھ ڈالے تیز قدموں سے چلتا ہوا اس تک آیا.
بات سنو!. اس کے بالکل سامنے جا کر افق نے اسے مخاطب کیا.
لڑکی نے گردن اوپر اٹھائی. اس کے بال بھورے اور رخسار سیبوں کئ طرح سرخ تھے . اس کا حلیہ دیکھا کر افق کو قدرے تذبذب ہوا.
190
انگریزی سمجھتی ہو؟
ہاں میں یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ ہوں ۔دھوپ سے سرخ چہرے پر سوگواریت بکھر گئی ۔اب کہاں کی یونیورسٹی اور کہاں کی انگریزی سب کچھ راکھ ہو گیا خیر تم بتاؤ تمہیں کچھ چاہے؟؟
ہاں مجھے تمارا ہیٹ چاہئے ۔وہ اسی طرح اس کے سامنے گردن جھکائے اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔اور لڑکی ویسے ہی درخت سے ٹیک لگائے اسے دیکھ رہی تھی ۔
میرا ہیٹ؟؟ اس نے اپنی سبز آنکھیں حیرت سے سکیڑی۔اس بد رنگ پرانے ہیٹ کا کیا کرو گے ۔
مجھے کسی کو گفٹ کرنے کے لیے ہیٹ چاہئے ۔مگر مظفرآباد میں مجھے تمہارے ہیٹ کے سوا کسی کا دیکھائی نہیں دیا۔
یہ تو بہت پرانا ہے تین سال شاید پہلے بنایا تھا لڑکی سر سے ہیٹ اتار کر اسے غور سے دیکھنے لگی۔
اوہ مطلب تم ہیٹ بنا سکتی ہو بلاشبہ یہ بہت مشکل کام ہے
ہے تو مگر میری پھوپھی نے مجھے سکھایا تھا خیر تمہیں ہیٹ چاہئے؟ میرے گھر میں شاید کوئی رکھا ہو ہو
اس نے اسے دوبارہ سر پر پہن لیا ۔
ہاں سادہ سا ہو ایک اوپر کھلا گلاب ضرور ہو جس کی پتیاں سیاہ ہو کر مرجا گئی ہوں
وہ حیرت سے باسی گلاب کا کیا فائدہ؟
میں تمہیں یہ بات نہیں سمجھا سکتا جسے دوں گا اسے باسی گلاب اچھا لگے گا ۔
وہ فون پر اسے یہی ہیٹ پہن کر آنے کو کہنا چاہتا تھا مگر اسے یاد آیا کہ وہ ہیٹ تو بہت پہلے اشومیں گر چکا تھا ان دونوں نے عشق میں بہت کچھ کھویا تھا اب اسے پریشے کے حصے کی چیز اسے لوٹانی تھی ۔
تم نے اسے وہ ہیٹ کب دینا ہے؟
لڑکی نے دلچسپی سے اسے دیکھا جینز کی جیب میں ہاتھ ڈالے اونچا لمبا غیر ملکی وجیہہ مرد اسے خاصی دلچسپ لگ رہا تھا
291
کل سہ پیر.
تو پھر صبح تازہ گلاب ہی لگادوں گئ سہ پیر تک تو وہ مرجھائے گا. میں صبح روشنی ہونے کے بعد گراں توڑوں گئ ایسے وہ جلدی مرجھاتے ہیں منہ اندھیرے توڑو تو وہ زیادہ دیر فریش رہتے ہیں.
واہ تم تو بہت عقل مند لڑکی ہو. شہد رنگ آنکھوں میں ستائش اترا
آئی. ۔خیر مجھے کل صبح ہوتے وہ ہیٹ نیلم سٹیڈیم میں کا دینا وہاں جو آرمی کا آخری کونے والا سبز خیمہ ہے ناں وہ ہے وہاں آجانا ویسے کتنے پیسے لو گی ہیٹ کے؟؟
لڑکی بہت دکھ سے مسکرائی :”تم کہاں سے آئے ہو”؟
“ترکی سے “
“کیا ڈاکٹر ہو؟”
“نہیں انجنیئر ہوں. “
پھرتم پہاڑوں میں بسنے والے لوگوں کی مدد کرو وہ میری طرف سے ترکی سے آنے والے انجنیئر کے لیے تحفہ ہوگا. تمہیں شام میں ہی لادوں گئ. “
نہیں ابھی تو ہم کچھ لوگ دور ریموٹ ایریاز امداد لے کر جا رہے ہیں شام تک تو شاہد ہئ آئیں . تم صبح آجانا اور تحفہ کا شکریہ. وہ کہہ کر پلٹنے لگا.
سنو تم نے وہ ہیٹ دینا کسے ہے؟ لڑکی کئ آواز میں تجس تھا .
افق نے ایک لمحہ کو مڑ لر دیکھا پھر مسکراتے ہوئے شان جھٹکے تہمیں کیوں بتاوں ؟
کتنے مہنیوں بعد وہ آج کھل کر مسکرایا تھا. پھر مزید کچھ کہے بغیر وہ وہاں سے چلا آیا.
اس کے دوست اس کا انتظار کر رہے ہوں گے ان سب نے ابھی آگے پہاڑوں میں جانا کا سوچتے ہوئے اس نے اپنے قدم تیز کر دیئے.
آپ کے باس اندر ہیں ؟ وہ سی ایم ایچ سے سیدھی ماموں کے آفس گئی تھی اور اب اور اب ان کے آفس کے باہر ایک لمحہ کو رک کر ان کی سیکرٹری سے استفسار کر رہی تھی.
جی مگر ابھی وہ دبئ کے لیے نکنے ہئ والے ہیں آپ کچھ دن…..
“وہ ان سنی کرتی دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوگئ.
292
دروازے کی سیدھ میں کافی دور آبنوسی میز. کے پیچھے ماموں اپنی چیئر پر بیٹھے میز کی سطح پر رکھی فائل پہ جھکے کچھ لکھ رہے تھے. آپس پر سر اٹھا کر دیکھا پھر مشفقانہ انداز میں مسکرائے.
آؤ بیٹا! “انہوں نے فائل ایک طرف رکھ دی . آج آفس میں ؟خیریت ؟”
جی بس ایک بات کرنی تھی. وہ طویل کرسی کھنچ کر بیٹھ گئی.
ہوں لہو ویسے اچھے ٹائم پہ آئی ہو میں ابھی فلائٹ کے لیے نکل ہئ رہا تھا. خیر بتاؤکیا پیوگی چائے یا کافی؟؟
نہیں رہنے دیں. مجھے بس بات کرنی تھی.
چلؤ بتاؤ کون سی ایسی ضروری بات تھی. وہ اپنا سارا کام چھوڑ کر بہت دھیان سے اس کی طرف متوجہ تھے.
پریشے نے بمشکل تھوک نگلا. ہمت کرکے تو آگئی مگر اب بات کیسے کرے؟شاہد اسے مامی سے پہلے بات کرنی چاہیے تھی یوں براہ راست ماموں سے بات کرنا مناسب نہ تھا لیکن. نہیں ماموں نےآج چلے جانا تھا اور پھر ہفتے بعد ان کی واپسی تھی. وہ اب اور انتظار نہیں کر سکتی تھی.
وہ….. ماموں….. میں دراصل . وہ رکی ہچکچائی اور پھر انگلی سے انگوٹھی نکال کر سامنے میز کئ چمکتی سطح پر رکھ دی.
آپ یہ پھپھو کو واپس کردیں.
نظریں گود میں دھرے ہاتھوں پر جمائے وہ آہستہ سے بولی. اس میں اس وقت نگاہ اٹھانے کی ہمت نہیں تھی. وہ اور افق بعض معاملات میں بہادر اور بعض میں بہت بزدل تھے.
کچھ دیر تک ماموں کچھ نہ بولے تو اس نے ڈرتے ڈرتے سر اٹھایا.
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہے تھے.
آپ کو مجھ پر غصہ نہیں آیا کہ میں پاپا کئ خواہش کیوں پوری نہیں کی؟”
“خواہشات زندگی تک ہوتی ہیں. جو چلے جاتے ہیں ان کی خواہشات کے پورا ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا عموماً ہم لوگ دوسروں کی زندگیوں میں ان کو دکھ دیتے ہیں اور ان کی موت کے بعد ان کے لیے تسبحیات پڑھتے ہیں. تم نے پری اپنے پاپا کی زندگی میں کبھی نافرمانی نہیں کی . ان کی ہر بات پر سر جھکایا ہر حکم کئ تعمیل کئ. تمہارے پاپا تم سے راضی ہو کر گئے ہیں. تمہاری شادی حس سے بھی ہو اب انہیں فرق نہیں پڑے گا. انہیں صرف اس بات
293 & 294
فرق پڑے گا کہ تم خوش ہو یا نہیں؟”
“آپ لوگ بھی اس رشتے سے ناخوش تھے ناں۔؟” ماموں کی باتوں سے اس کا اعتماد بہال ہونے لگا۔
“ہم قطعا” خوش نہیں تھے مگر اس میں جہانزیب کا قصور بھی نہیں تھا۔ بھانجے بھتیجے سب ہی کو پیارے ہوتے ہیں۔نشاء کے منگنی بھی تو میں نےتمھارے مامی کے بھتیجے سے کی ہوئی ہے۔ اپنے رشتوں کے باعث انسان جانتے بوجھتےہوئے بہت کچھ نظر انداز کر دیتا ہے۔”
“پھر بجی آپ نے پاپا کے انتقال کے بعد یہ رشتہ ختمکرنے کا نہیں سوچا؟”
“میں کئی دنوں سے تمھارے منہ سے یہ سب سننے کا منتظر تھا۔آج میرا انتظار ختم ہوگیا۔” ماموں شفقت سے مسکرائے۔
“آپ یہ پھپھو کو۔۔۔ میرامطلب ہےکس بنیاد پر۔۔۔ ” اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔
“وہ میرا مسلئہ ہے۔”
“لیکن پھر بھی وہ بہت شور مچائیں گی۔” وہ وقتعا پریشان تھی۔
“بیٹا! میری بھی تو کوئی بات ہے ناں؟ اگر اتنا حوصلہ کر کے مجھ پر اعتماد کر کے یہ سب کہا ہے تو میں کہہ رہا ہوں کہ میں سنبھال لوں گا تو تمھیں اس باتے میں سوچ کر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔”
اس نے تفکر سے مسکراتے ہوئے سر ہلا دیا۔
“ٹھینک یو ماموں ! میں چلتی ہوں۔” پھر وہ گھڑی دیکھتی آٹھ کھڑی ہوئی پھر جاتے جاتے مڑی۔ “آپ پھپھو سے کب بات کریں گے۔؟”
“دبئی سے واپسی پر۔”
“اچھا۔” وہ جانے کے لیے مڑی۔
“پری بیٹا۔”
وہ دروازے کے قریب تھی جب انھوں نے اسے پکارا۔ وہ دروازے کی ناب پر ہاتھ دھرے مڑی۔
“جی ماموں!”
“بیٹا اپنے پاپا کے بارے میں کبھی بد گمان نہ ہونا۔ اپنے بھانجوں سے ہر بیٹی کے باپ کو بہت امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ اگر تمھیں لگتا ہے کہ راکاپوشی جانے کی اجازت نہ ملنے پر تمھاری نا خوشی محسوس کرکے تمھارے لیے لاکھوں روپیہ خرچ کر دینے والا باپ زندگی کے سب سے اہم معاملے پر سنگ دل ہوگیا تھا تو تم غلط ہو۔ اسے اندازہ تھا کہ تم نا خوش ہو مگر اسے بھانجا اتنا پیارا تھا کہ اس کے خیال میں سیف سے شادی کراکر وہ تمھیں زندگی کی تمام خوشیاں دے رہا تھا۔ تمھارے پاپا کی سوچ ہر مشرقی باپ کی طرح یہی تھی کہ وہ اپنی بیٹی کا برا بھلا زیادہ بہتر سمجھ سکتا ہے۔ وہ ایک بہترین باپ تھا۔ اس نے ہر حال میں تمھارے لیے بہترین ہی ساچا تھا۔”وہ اداسی سے مسکرادی۔
(پیار مرتا نہیں خاموش ہو جاتا ہے پیج پر مکمل ناول حاصل کریں )
“آئی نو ماموں! میں پاپا سے کبھی ناراض نہیں ہو سکتی۔ شاید میں سیف سے شادی کر بھی لیتی مگر۔۔۔ بس دل نہیں مانتا۔” وہ اس سے آگے کچھ اور بھی کہنا چاہ رہی تھی’ مگر رک گئی۔ یہ بات اسے ماموں کی واپسی پر کرنی تھی۔
“خداحافظ ماموں!”
وہ وہاں سے چلی آئی۔ اب اس کا رخ مارکیٹ کی طرف تھا۔
جناح سپر میں ایک ایسی شاپ تھی جہاں سے اکثر وہ غیر ملکی نواردات خریدتی رہتی تھی۔
“مجھے ترکی کا جھنڈا چاہیے۔”
اس شاپ میں آکر اس نے سیلز مین سے کہا۔
افق کو فون پر وہ وہی مفلر پہن کر آنے کی تاکید کرنے لگی تھی مگر تب اسے یاد آیا تھا کہ وہ مفلر تو بہت اوپر راکاپوشی کی برف میں آنے والی کئی صدیوں کے لیے دفن ہوچکا تھا۔
اب اسے ویسا ہی ایک مفلر افق ارسلان کو گفٹ کرنا تھا۔
“ترکی کا جھنڈا تو نہیں ہے۔” سیلز مین نے چند منٹ بعد بتایا۔
“اچھا۔” اسے مایوسی ہوئی۔ “لیکن آپ منگوا کر تو دے سکتے ہیں ناں! مجھے کل صبح تک چاہیے۔”
“کل تک۔”سیلز مین سوچ میں پڑ گیا۔
“میں دس گنا اوپر قیمت دے دوں گی’ مگر مجھے ہر حال میں ترکی کا جھنڈا کل تک چاہیے”اس کو انداز دو ٹوک تھا۔
“جی جی۔۔۔ شیور کل صبح آپ اٹھا لیجیے گا
ر295ہ نمبر295
وہاں سے وہ جوتوں کی دکان تک آئی-اپنے پرانے جوگرز سے ملتے جلتے سفید اور گلابی رنگوں والے جوگرز خریدے-اب اسے ہسپتال جا کر اسے استفعی دینا تھا-کل سے وہ ایک نئی زندگی شروع کرنے جا رہی تھی-نئی زندگی,جس سے اسے گزرے ہوۓ تین ماہ اور پہاڑوں کو منہا کرنا تھا-
سامان گاڑی میں رکھ کر اس نے اوپر آسمان کو دیکھا-اب نیلی چادر میں جگہ جگہ سفیدی رنگ رہی تھی-سیاہ بادلوں کا جھنﮈا بھی اسلام آباد سے کافی دورتھا-کاش وہ بادل کل اسی جگہ اور اسی وقت مارگلہ کی پہاڑیوں پر اتریں,جب وہ افق سے ملنے جاۓ-
ٹھنﮈی ہوا اس کے مخالف سمت سے چلی اس کے بال بار بار چہرے پر بکھر رہی تھی-اس نے گاڑی میں بیٹھنے سے قبل ,چند لمحوں کے لیے آنکھیں موند کر ہوا کی خشبو سونگھی اور درختوں پر پھدکتی ہواؤں کی سرگوشیاں اور قدموں تلے بولتے پتھروں کی باتیں سنیں اور پھر آنے والے دن کی خوشیوں کا تصور کرتے ہوۓ وہ آنکھین کھول کر گاڑی میں بیٹھنے ہی لگی تھی کہ دور کہیں سے اڑ کر آتے دو کوؤں نے اس کے سر کے پچھلے حصے پر اپنی چونچیں ماریں-اس کے لبوں سے کراہ نکلی-اسی پل وہ آسمان پر اڑتے چلے گئے-
وہ سر کا پچھلہ حصہ سہلاتے ہوۓ خوفزدہ نگاہوں سے افق پر غائب ہوتے ان کوؤں کا کرتی رہی-
کیا پھر کوئی بری خبر اس کی منتظر تھی یا وہ ضرورت سے زیادہ توہم پرست ہو چکی تھی?
وہ سر جھٹک کر کار میں بیٹھ تو گئی مگر اب ان دونوں کوؤں کو ﺫہن سے جھٹکنا اس کے لیے بہت مشکل تھا-
*……….*……….*
مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ سب اتنی اچانک کیسے ہو گیا?خیمے میں رکھی چوتھی کرسی کھینچتے ہوۓ جینیک نے بے حد حیرت سے پوچھا-
باقی تین کرسیوں پر افق,کنین اور احمت بیٹھے تھے-
میں نے اسے کنیکٹ کیا اور کل میں اس سے ملنے جا رہا ہوں ,ﮈیٹس اٹ-وہ بظاہر لا پرواہی سے مگر لبوں پر بکھری آسودہ مسکراہٹ چھپا نہیں سکا-
تم خوش قسمت ہو-ایک مجھے دیکھو منگنی سے دو دن پہلے کال آ گئی کہ کشمیر جانا ہے-جینیک مصنوعی تاسف سے سر جھٹکا-اس کی منگنی ملتوی ہو چکی تھی اور اس نے خود ہی کی تھی-یہ وہی تھا جو
296
ان سب کو وہاں لایا تھا-
پھر تم ہمارے ساتھ ان ریموٹ ایریاز میں نہ ہی جاو تو بہتر ہے-احمت نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سنجیدگی سے کہا-دیکھو,ہمیں وہاں ملبے تلے دبے لوگ نکالنے ہیں-تمام عمارتیں آدھی کھڑی ہوں گی اور اگر ریسکیو ورق کہ دوران کسی آفٹر شاک سے پوری کی پوری عمارت تمہارے اوپر گر گئی تو ہم ﮈاکٹر پریشے کو کیا جواب دیں گے?
احمت,بندے کی شکل اچھی نہ ہو تو بات تو اچھی کر لینی چاہیے-افق نے خفگی سے اسے دیکھا-
میری شکل بہت اچھی ہے-آنے کہتیں ہیں مجھ سے زیادہ خوبصورت بچہ اس نے ترکی میں نہیں دیکھا تھا
ہر ماں یہی کہتی ہے-میری ماں بھی یہی کہتی تھی,اصل اوکات تو یونیورسٹی کی لڑکیوں نے بتائی تھی-کینن ہنس کر بولا-
چلو ہم جا رہے ہیں تم نے چلنا ہے?جینیک سامان بیک پیک میں بند کر رہا تھا-
آف کورس-تمہیں کیا بھول گیا ہے کہ میں اور تم ہمیشہ ہر جگہ اکٹھے جاتے ہیں-وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا-
ہاں,لیکن تمہیں کل اسلام آباد جانا ہے-وہ علاقہ دور ہے,شاید تمہاری کل صبح تک واپسی نہ ہو سکے-
کوئی فرق نہیں پڑتا-اگر دیر ہو گئی تو ………تو میں کل کے بجاۓ پرسوں چلا جاوں گا لیکن ہمیں ساتھ ہی جانا ہے-یاد ہے ہمارا موٹو تھا کہ افق اور جینیک جنت میں بھی اکٹھے ہی جائیں گے-وہ ہنس کر کہتے ہوۓ اپنا سامان سمیٹنے لگا-
بات صرف جینیک کے ساتھ جانے کی نہیں تھی,اس کا دل اندر ہی اندر ان لوگوں کا سوچ کر تڑپ رہا تھا جو اتنے دن گزرنے کے بعد بھی ملبے تلے دبے تھے-آج انہوں نے مظفر آباد سے چند لوگوں کو زندہ نکال لیا تھا,سو اسے امید تھی کہ وہاں کچھ جانیں تو ہونگی جنہیں وہ ظالم پتھروں سے نکال سکیں گۓ-
ان کے گروپ میں کراچی یونیورسٹی کہ کچھ اسٹوﮈنٹس,چند جوان اور وہ چاروں ترک تھے-ہیلی کاپڑر نے انہیں دو پہاڑ دور ایک جگہ اتارا تھا,جہاں سے چھے گھنٹے پیدل سفر کر کے وہ اس بستی
وہاں سے وہ جوتوں کی دکان تک آئی-اپنے پرانے جوگرز سے ملتے جلتے سفید اور گلابی رنگوں والے جوگرز خریدے-اب اسے ہسپتال جا کر اسے استفعی دینا تھا-کل سے وہ ایک نئی زندگی شروع کرنے جا رہی تھی-نئی زندگی,جس سے اسے گزرے ہوۓ تین ماہ اور پہاڑوں کو منہا کرنا تھا-
سامان گاڑی میں رکھ کر اس نے اوپر آسمان کو دیکھا-اب نیلی چادر میں جگہ جگہ سفیدی رنگ رہی تھی-سیاہ بادلوں کا جھنﮈا بھی اسلام آباد سے کافی دورتھا-کاش وہ بادل کل اسی جگہ اور اسی وقت مارگلہ کی پہاڑیوں پر اتریں,جب وہ افق سے ملنے جاۓ-
ٹھنﮈی ہوا اس کے مخالف سمت سے چلی اس کے بال بار بار چہرے پر بکھر رہی تھی-اس نے گاڑی میں بیٹھنے سے قبل ,چند لمحوں کے لیے آنکھیں موند کر ہوا کی خشبو سونگھی اور درختوں پر پھدکتی ہواؤں کی سرگوشیاں اور قدموں تلے بولتے پتھروں کی باتیں سنیں اور پھر آنے والے دن کی خوشیوں کا تصور کرتے ہوۓ وہ آنکھین کھول کر گاڑی میں بیٹھنے ہی لگی تھی کہ دور کہیں سے اڑ کر آتے دو کوؤں نے اس کے سر کے پچھلے حصے پر اپنی چونچیں ماریں-اس کے لبوں سے کراہ نکلی-اسی پل وہ آسمان پر اڑتے چلے گئے-
وہ سر کا پچھلہ حصہ سہلاتے ہوۓ خوفزدہ نگاہوں سے افق پر غائب ہوتے ان کوؤں کا کرتی رہی-
کیا پھر کوئی بری خبر اس کی منتظر تھی یا وہ ضرورت سے زیادہ توہم پرست ہو چکی تھی?
وہ سر جھٹک کر کار میں بیٹھ تو گئی مگر اب ان دونوں کوؤں کو ﺫہن سے جھٹکنا اس کے لیے بہت مشکل تھا-
*……….*……….*
مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ سب اتنی اچانک کیسے ہو گیا?خیمے میں رکھی چوتھی کرسی کھینچتے ہوۓ جینیک نے بے حد حیرت سے پوچھا-
باقی تین کرسیوں پر افق,کنین اور احمت بیٹھے تھے-
میں نے اسے کنیکٹ کیا اور کل میں اس سے ملنے جا رہا ہوں ,ﮈیٹس اٹ-وہ بظاہر لا پرواہی سے مگر لبوں پر بکھری آسودہ مسکراہٹ چھپا نہیں سکا-
تم خوش قسمت ہو-ایک مجھے دیکھو منگنی سے دو دن پہلے کال آ گئی کہ کشمیر جانا ہے-جینیک مصنوعی تاسف سے سر جھٹکا-اس کی منگنی ملتوی ہو چکی تھی اور اس نے خود ہی کی تھی-
297
ان سب کو وہاں لایا تھا-
پھر تم ہمارے ساتھ ان ریموٹ ایریاز میں نہ ہی جاو تو بہتر ہے-احمت نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سنجیدگی سے کہا-دیکھو,ہمیں وہاں ملبے تلے دبے لوگ نکالنے ہیں-تمام عمارتیں آدھی کھڑی ہوں گی اور اگر ریسکیو ورق کہ دوران کسی آفٹر شاک سے پوری کی پوری عمارت تمہارے اوپر گر گئی تو ہم ﮈاکٹر پریشے کو کیا جواب دیں گے?
احمت,بندے کی شکل اچھی نہ ہو تو بات تو اچھی کر لینی چاہیے-افق نے خفگی سے اسے دیکھا-
میری شکل بہت اچھی ہے-آنے کہتیں ہیں مجھ سے زیادہ خوبصورت بچہ اس نے ترکی میں نہیں دیکھا تھا
ہر ماں یہی کہتی ہے-میری ماں بھی یہی کہتی تھی,اصل اوکات تو یونیورسٹی کی لڑکیوں نے بتائی تھی-کینن ہنس کر بولا-
چلو ہم جا رہے ہیں تم نے چلنا ہے?جینیک سامان بیک پیک میں بند کر رہا تھا-
آف کورس-تمہیں کیا بھول گیا ہے کہ میں اور تم ہمیشہ ہر جگہ اکٹھے جاتے ہیں-وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا-
ہاں,لیکن تمہیں کل اسلام آباد جانا ہے-وہ علاقہ دور ہے,شاید تمہاری کل صبح تک واپسی نہ ہو سکے-
کوئی فرق نہیں پڑتا-اگر دیر ہو گئی تو ………تو میں کل کے بجاۓ پرسوں چلا جاوں گا لیکن ہمیں ساتھ ہی جانا ہے-یاد ہے ہمارا موٹو تھا کہ افق اور جینیک جنت میں بھی اکٹھے ہی جائیں گے-وہ ہنس کر کہتے ہوۓ اپنا سامان سمیٹنے لگا-
بات صرف جینیک کے ساتھ جانے کی نہیں تھی,اس کا دل اندر ہی اندر ان لوگوں کا سوچ کر تڑپ رہا تھا جو اتنے دن گزرنے کے بعد بھی ملبے تلے دبے تھے-آج انہوں نے مظفر آباد سے چند لوگوں کو زندہ نکال لیا تھا,سو اسے امید تھی کہ وہاں کچھ جانیں تو ہونگی جنہیں وہ ظالم پتھروں سے نکال سکیں گۓ-
ان کے گروپ میں کراچی یونیورسٹی کہ کچھ اسٹوﮈنٹس,چند جوان اور وہ چاروں ترک تھے-ہیلی کاپڑر نے انہیں دو پہاڑ دور ایک جگہ اتارا تھا,جہاں سے چھے گھنٹے پیدل سفر کر کے وہ اس بستی
297 & 298
پہنچے تھے’ جہاں 8 اکتوبر کے بعد کوئی نہیں آیا تھا۔
وہ چھوٹا سا گاوں نما قصبہ تھا’ جس تک پہنچنے کے زمینی راستے لینڈ سلائڈنگ کے باعث بند ہو چکے تھے۔ ہر سو عمارتوں کا ملبہ بکھرا تھا۔ کیا گھر اور کیا اسکول’ سب سے منہدم ہو چکا تھا۔
وہ ایک بڑی عمارت تھی جو آدھی منہدم ہوچکی تھی اور باقی آدھی سلامت کھڑی تھی۔ 8 اکتوبر کے بعد شاید کوئی شخص اس کے قریب نہیں پہٹکا تھا’ وجہ اس کا آدھا کھڑا حصہ تھا جواتنا کمزور تھا کہ محض ایک آفٹر شاک ہی اسے زمین بوس کرنے کو کافی تھا۔
“یہ اتنی بڑی عمارت ہے’ غالبعا” گورنمنٹ کا کوئی ادارہ ہے۔ یقینا” اندر بہت سے لوگ ہوں گے اور ہوسکتا ہے کچھ زندہ بھی ہوں۔”
افق کے پیچھے جب کوئی بھی اس عمارت میں داخل نہ ہوا تو وہ باہر نکل کر ان تمام لوگوں سے کہنے لگا۔
“اتنے دن بعد تو شاید ہی کوئی زندہ ہو۔” ایک لمبے لڑکے نے مایوسی سے کہا۔
“مگر آج انھوں نے مظفرآباد دے کچھ لوگ نکالے ہیں۔ اس لیے میں اندر جو رہا ہوں’ کسی نے آنا ہے تو آئے اور جو آفٹر شاک کے ڈر سے باہر رکنا چاہتا ہے وہ رک جائے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔”وہ در ٹوک انداز میں کہہ کر اپنے آلات لیے اندر داخل ہوا۔فوجیوں اور ترکوں نے اس کی تقلید کی۔
وہاں ہر طرف ملبہ بکھرا تھا۔ شاید کوئی اسکول تھا جس کے آدھے سے زیادہ کمرے منہدم ہوچکے تھے’ کچھ کی چھتیں بھی آدھی گر چکی تھیں۔
جس کمرے میں وہ داخل ہوا اس کی چھت آدھی سے زیادہ زمین بوس ہوچکی تھی۔وہ اور ایک جوان زمین پر بکھرے پتھر اٹھانے لگے۔ تھوڑی دیر بعد اسے بڑے بڑے پتھروں اور سریے کے ٹکڑوں کے درمیان چند کاغز دکھائی دئیے۔ اس نے جھک کر وہ کاغز اٹھائے اور انہیں آنکھوں کے قریب لایا۔ ان پر اعدو میں کچھ لکھا تھا۔
“یہ دیکھو’ کیا لکھا ہے؟” افق نے سامنے موجود جوان کی جانب وہ کاغز بڑھایا’ جس نے ٹارچ اس پر کرتے ہوئے پڑھما شروع کیا۔
“مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ یہاں بہت اندھیرا ہے۔ کلاس کے سارے بچے بہت چیخ رہے ہیں۔ مجھے بھی رونا آرہا ہے مگر میں رووں گی نہیں ۔ مجھے پتا ہے ابھی کوئی مجھے بچالے گا۔ ابھی ابو آجائیں گے۔ وہ یہ ڈیسک ہٹادیں گے جو میرے اوپر گرا پڑا ہے۔”
کچھ سطور چھوڑ کر لکھا تھا۔
“میری ٹانگ میں بہت درد ہو رہا ہے۔ کچھ نظر بھی نہیں آرہا’ یہاں بہت ڈراونا سا اندھیرا ہے’ شاید رات ہورہی ہے۔ ابو ابھی تک نہیں آئے۔ پلیز اللہ میاں ابو کو بھیج دیں۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔سارے بچے رو رہے ہیں۔ کسی کے ابو نہیں آرہے۔ پلیز کوئی مجھے یہاں سے نکالے۔ مجھے بھوک لگی ہے’ مجھے کھانا کھانا ہے۔”
“اب بچے نہیں چیخ رہے۔میں نے مریم کو آواز دی ہے مگر وہ بولتی نہیں ہے۔ کشمالہ کہ رہی ہے مریم مر گئی ہے اور اب وہ کبھی نہیں بولے گی۔ کشمالہ زور زور سے رو رہی ہے ۔ مجھے بھی رونا آرہا ہے۔ لکھا بھی نہیں جا رہا ۔ اللہ میاں پلیز ہمیں یہاں اکیلا مت چھوڑیں۔ ہمیں نکال لیں۔ یہاں بہت اندھیرا ہے۔” پڑھتے پڑھتے اس جوان کا گلا رندھ گیا۔
“احمت۔۔۔ احمت۔۔۔ !”افق باقیوں کو آوازیں دینے لگا’ احمت اور۔ جینک بھاگتے ہوئے ادھر آئے۔
“آو جلدی کرو یہ ملبہ ہٹاو۔ شاید مریم اور اسکی بہن زندہ ہوں۔”
وہ جانے کس امید پر پتھر ہٹانے لگا ۔ شاید وہ لڑکی زندہ ہو’ شاید وہ نہ مری ہو۔ اس نے کاغز یقینا” پتھروں کر درمیان سراغوں سے اوپر پھینکا ہوگا اور وہ پتھروں میں پہنس گیا ہوگا۔
وہ تیزی سے ملبہ صاف کر رہے تھے۔ افق کے کپڑے مٹی اور گرد سے اٹ چکے تھے۔ سخت سردی کے باوجود پسینے آرہے تھے۔ لاشوں کی تعفن زدہ بو ہر جگہ پھیلی تھی۔تھوڑا نیچے ہی ملبہ ہٹانے پر ایک گوری چٹی’ خوبصورت بچی کی لاش ملبی میں پھنسی دکھائی دی۔اس کے ہاتھ میں ایک پینسل جکڑی ہوئی تھی۔
افق کا دل خراب ہونےلگا۔ بمشکل خود پر قابو پاتے وہ جینک اور احمت کے ساتھ اس بچی کی لاش نکالنے لگا۔ اس کی کچلی ہوئ ٹانگ پر ایک بھاری پتھر تھا ۔ وہ تینوں جھک کر وزنی پتھر اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس پل زمین نے زور دار جھٹکا کھایا۔
اس دے قبل کہ ان میں سے کوئی سیدھا ہوتا ‘ کمرے کی آدھی کھڑی چھت زور سے ان پر آن گری۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23
CompleteDownloadFreeFree Urdu Pdf BooksKarakoram Ka Taj MahalNimra AhmedNovels Hi NovelspdfQistRead OnlineSerialUrdu NovelUrdu Novelsurdu novels free downloadاردواردو ناولزارو ناولسلسلہ وارقراقرم کا تاج محلقراقرم کا تاج محل از نمرہ احمدناولناولزنمرہ احمد
Comments (0)
Add Comment