خلش (افسانہ) از شائستہ میر آرزو

خلش(افسانہ) از تحریر: شائستہ میر آرزو ۔سوات

–**–**–

کچھ عرصہ پہلے سائیکالوجی کی آن لائن کلاس میں ایکٹیویٹی دی گئی جس میں سوشل انگزائٹی کا جواب فیس بک پیج پر دینا تھا۔ لنک کلک کر کے جواب کمنٹس میں ٹائپ کر نے کے بعد جیسے ہی میں نے لاگ اوٹ ہونا چاہا، میری نظر مسینجر پر پڑی بہت سارے پیغامات نظر آئے۔ میں نے کچھ سوچ کے کھول دیا تو سرفہرست ویویان کے پیغامات سکرین پر جگمگا رہے تھے۔ ویویان سے میری گفتگو ایک
سال پہلے سائیکالوجی کے گروپ میں ہوئی تھی۔ اس نے پوسٹ کی تھی کہ وہ ڈپریشن میں مبتلا ہے لہذا گروپ میں کوئی مدد کریں کہ اس پہ قابو کیسے پایا جا سکتا ہے۔ میری طرح کوئی بھی سائیکالوجی کا سٹوڈنٹ نفسیات سے متعلق کسی بھی بیماری کو اگنور نہیں کرتے اور ایسے مریض کو حوصلہ دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
میں نے جٹ سے ڈپریشن پہ قابو پانے کے کچھ سکلز باقی کمنٹس کے نیچے ٹائپ کر کے بتائے۔
کچھ دن بعد ان باکس میں مجھے ویویان کے میسجز موصول ہوئے جس میں اس نے سیشن لینے کی درخواست کی تھی۔ میں نے یہ کہتے ہوئے معذرت کر لی کہ سیشن کے لیے ہمارا پراپر سیٹ اپ ہوتا ہے۔ لیکن میں اتنا کر سکتی ہوں کہ کچھ باتوں سے آپکی مدد کر سکتی ہوں۔ وہ آمادہ ہوئی۔
ویویان امریکہ سے تعلق رکھنے والی مذہبی پابندیوں سے آزاد تھی۔ پاکستان کے رہنے والے مسلمان کی محبت میں گرفتار بہت فخر سے اکثر کہتی کہ احمد علی سے شادی ہوگئی تو میں اسلام قبول کرونگی۔ ہر دوسرے میسج
میں وہ اپنے ہونے والے شوہر کا ضرور ذکر کرتی جس کے ساتھ اس نے مستقبل کے خواب دیکھے تھے۔ تقریباً چار مہینوں تک ہم رابطے میں رہے لیکن پھر مصروفیات بڑھ گئیں تو میرا فیس بک کا استعمال تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔ لیکن آج اتنے عرصے بعد اسکا میسج آیا تو میں نے جواب دینا ضروری سمجھا۔ دوسرے رسپانس میں اسکا سوال کچھ عجیب سا تھا۔
”کیا آپ غیر مردوں سے فیس بک پر دوستی کرتی ہیں،،؟
مجھے اسکا یہ سوال کچھ عجیب سا لگا کیونکہ وہ اتنے عرصے میں مجھے جان چکی تھی کہ میں نا محرم مردوں سے دوستیاں نہیں نبھاتی پھرتی۔
”نہیں”۔ میں نے فوراً جواب دیا۔
”کیو ں”؟
”کیوں کہ میرا مذہب مجھے اجازت نہیں دیتا”۔
”اور ہر مسلمان لڑکی نامحرم سے بات نہیں کرتی”؟
اس سوال سے میں تھوڑی پریشان ہوئی لیکن میں نے جواب دیا۔
”دیکھو ویویان اچھے، برے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ میں تمام مسلمان لڑکیوں کا تو کچھ نہیں کہہ سکتی لیکن بہت بڑی مقدار میں ایسی لڑکیاں ہیں جو کہ اپنے مذہبی اصولوں اور احکامات کی پابند ہیں”.
”اور اگر کوئی ان احکامات کی پابندیوں سے خود کو آزاد سمجھے تو کیا وجہ ہو سکتی ہیں”؟
”جن لڑکیوں کو گھر میں وہ محبت نہ ملے جن کی وہ حقدار ہیں، وہ باغی ہوجاتیں ہیں۔ چاہنا اور چاہے جانا انسانی فطرت میں شامل ہے۔ انسان ہر دور میں محبت کا طلبگار رہا ہے۔ اب اگر گھر سے محبت نہ ملے تو وہ اس محبت کی تڑپ کو تو کسی نا کسی طریقے سکون دلوائے گی نا۔ پھر چاہے وہ سکون اپنے دیں یا پھر غیر۔ محبت پھر مذہبی پابندیوں میں یا تو جکڑ لیتی ہے یا پھر ان پابندیوں سے آزاد کرواتی ہے”۔مجھے اپنے کم
تجربے کی بنیاد پر یہ جواب موزوں لگا۔
”آپ کا دین عورتوں سے سلوک کا کوئی حکم دیتا ہے کیا”؟
”ہاں۔ میرے دین نے عورتوں کو برتری دی، عزت و تکریم دی، حقوق دیئے اور احترام سے پیش آنے کی ترغیب دی”۔
”اور مسلمان مردوں کو یہ بات سمجھ آتی ہے”؟
”ہاں”۔ میں صرف ہاں پہ ہی اکتفا کر سکتی تھی اس وقت کیونکہ مجھے پتا تھا میرے دلائل اس وقت بہت کمزور تھے۔ اور اسی ڈر سے کہ اس بحث ومباحثہ سے مسلمان مردوں اور عورتوں پر انگلیاں اٹھ سکتی تھی۔ میں نے عافیت اسی میں جانی کہ میں تفصیل میں جانے سے گریز کروں۔
”اور شادی شدہ مرد اور عورتیں کسی نامحرم سے بات کر سکتی ہیں”؟
”ضرورت کے حد تک اور بات کی نوعیت کی بنیاد پر”.
”تو پھر شائستہ! مسلمان مرد غیر مسلم لڑکیوں کو کیوں دھوکہ دیتے ہیں؟ شادی کے نام پر جھوٹے خواب دکھا کر تب انکو خاندانی اور مذہبی اصول کیوں نظر نہیں آتے؟ اور شادی شدہ مرد کیا یہ نہیں سوچتے کہ انکی بیوی، بچوں کو دھوکہ دے کر اپنے مذہبی اصولوں کو توڑ دیتے ہیں؟
اسے کوئی بتائے شائستہ کہ ویویان مذہب کی پابندیوں سے آذاد ہوکر بھی محبت کے اصولوں کی پابند رہی۔ اور آپ اتنے عظیم مذہب کے آدمی ہوکے بھی مذہبی اصولوں کے پابند نہ رہے”۔

یہ ویویان کا آخری میسج تھا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ دلائل ڈھونڈ کر اسے سب کچھ تفصیلاً بتاتی، وہ آف لائن ہوگئی۔
آج تک اسکا کوئی پتا نہ چلا۔ وہ تو اپنی بات بتا کر چلی گئی لیکن میرے دل میں یہ خلش چھوڑ گئی کہ اگر اسی طرح کے سوالات مجھ سے کوئی اور پوچھے تو اسکے جوابات کیا ہوں گے؟

–**–**–
——
آپکو یہ تحریر کیسی لگی؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Comments (0)
Add Comment