Mannat Novel by Raaz e Sahar – Episode 8

منّت از رازِ سحر – قسط نمبر 8

–**–**–

سامنے والے فلیٹ میں کچھ بیچلر لڑکے شفٹ ہوئے تھے۔وہ شاید کالج کے اسٹوڈنٹس تھے۔ان کے فلیٹ سے ہر وقت شور شرابے کی آوازیں آتی تھیں۔یہ چار لڑکے تھے جو تقریبا ساری رات ہی جاگتے رہتے تھے۔منت اُنکے شور کی وجہ سے بہت پریشان تھی۔اس کا گھر سے نکلنا محال ہو گیا تھا۔نیچے جانے کے لیے منت کو انکے فلیٹ کے سامنے سے گزرنا پڑتا تھا۔اب وہ بہت اب وہ بہت ڈری ڈری سی رہنے لگی تھی۔اتنے سالوں سے وہ بے فکری سے رہی تھی۔کیونکہ اس فلیٹ  میں ایک بوڑھی خاتون اپنی بہو اور بیٹی سمیت رہتی تھیں۔لیکن پچھلے ماہ وہ لوگ یہ فلیٹ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔وہ جب بھی نیچے کسی کام سے جاتی تو وہ لڑکے اسے دیکھ کر آوازیں کستے تھے۔اس کو غصہ تو بہت آتا تھا لیکن اس میں ہمت نہیں تھی ان کو کچھ کہنے کی۔
عبدالہادی کئی دنوں سے ان لڑکوں کی حرکات دیکھ رہا تھا۔شام کو جب منت دودھ والے سے دودھ لے رہی تھی تو ان لڑکوں نے آوازیں کسنا شروع کیں۔اتنے میں عبدالہادی بھی آ گیا۔اپنے فلیٹ کی بجائے وہ ان لڑکوں کے فلیٹ کی طرف بڑھا ۔منت کی نظر ہادی پر گئی۔اس نے دیکھا کہ وہ تیزی سے ان لڑکوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ان کی فلیٹ کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا تھا۔
” اگر میں نے تم لوگوں کو اس طرح سے آوازیں کستے ہوئے سنا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔” عبدالہادی نے ان چار لڑکوں کو دھمکایا ۔
” کیا کر لو گے تم”؟ ان میں سے ایک لڑکا بہادری سے اٹھا۔
عبدالہادی نے اپنی جیب سے پستول نکالی. اور اس لڑکے پر تان دی.
” کرنے کو تو میں بہت کچھ کرسکتا ہوں۔لیکن بہتر ہے کہ تم مجھے اس کا موقع نہ دو۔ورنہ میں ایک منٹ نہیں لگاؤں گا تم لوگوں کی جان لینے میں۔” عبدالہادی کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو رہی تھیں۔
اس کی یوں اچانک سے پستول نکال نے پر وہ چاروں لڑکے ہڑبڑا گئے. ان کو اس بات کی امید نہیں تھی اور نہ ہی تو وہ اس کے لئے تیار تھے۔یہ سب ان کے لیے غیر متوقع تھا ۔وہ دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ عبدالہادی کچھ بھی کر سکتا ہے۔وہ لڑکی کوئی گنڈے نہیں تھے بس عام سے آوارہ  قسم کے تھے۔
” اچھا سوری آئندہ کوئی شکایت نہیں ہوگی۔” ان میں سے ایک لڑکے نے ہمت کر کے کہا۔باقی تینوں کی سیٹی بیٹی گم ہو گئی تھی پسٹل کو دیکھ کر ۔۔۔
” بہتر یہی ہوگا کہ شرافت سے یہاں رہو ورنہ میں صبح ہی فلیٹ کے مالک سے بات کرکے تم لوگوں کو یہاں سے نکال باہر کروں گا اور تمہارے والدین کو انفارم کر کے تمہارے کارنامے بتاؤں گا۔” عبدالہادی نے پھر دھمکی دی۔
عبدالہادی کہہ کر روکا نہیں تھا باہر نکل گیا اس نے بستر جیب میں ڈالی۔منت ادھ  کھلے دروازے سے یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔عبدالہادی اس کے قریب آیا دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں مگر کہا کچھ نہیں۔وہ بنا کچھ کہے اپنے فلیٹ کے اندر چلا گیا۔
منت کو لگتا تھا کہ وہ ایک روتا بلکتا چوہا ہے۔جس کو صرف رونا آتا ہے اور اس کے اندر بہادری نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔مگر آج ہادی نے اس کا یہ خیال بھی غلط ثابت کردیا تھا۔
                        _______________
ماہین کی طبیعت اب کافی بہتر ہو گئی تھی۔لیکن آج بھی اس کو منت کے الفاظ چبھ رہے تھے۔وہ اس سلسلے میں منت سے بات کرنا چاہتی تھی۔لیکن دونوں ماں بیٹی کے بیچ ہمیشہ سے ایک ججھک تھی۔حالانکہ اب ان دونوں کے بیچ بہت ساری باتیں ہو جاتی تھیں۔لیکن پھر بھی ماہین  ہمت نہیں کر پا رہی تھی منت سے بات کرنے کی۔
” کیا تمہیں لگتا ہے کہ میں نے تمہاری پرورش غلط کی ہے؟” منت شام کی چائے لے کے آئی تو ہمت کرکے ماہین نے کہا۔یہ سن کر منت کچھ نہیں بولی اور واپس جانے کے لیے مڑی۔
” رُکو پلیز تھوڑی دیر میرے پاس بیٹھو میرا آج بہت دل کر رہا ہے تم سے بات کرنے کو۔”ماہین نے اسے روکنا چاہا تو منت نے اپنا نیچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا اس نے مڑ کر ابھی تک ماہرین کو نہیں دیکھا تھا. وہ اسی پوزیشن میں کھڑی تھی اور دروازے کے پاس دیکھ رہی تھی۔
” میں اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔” منت نے مڑ کر دیکھا اور کہا۔
” پلیز تھوڑی دیر میرے پاس بیٹھ جاؤ کیا پتا زندگی دوبارہ یہ موقع دے یا نہ دے مجھے۔ ” ماہین کی بات منت کے دل کو لگی تھی وہ چپ چاپ آکر  اس کے پاس بیٹھ گئی۔
” دیکھو میں نے جو بھی کیا تمہارے بھلے کے لیے کیا ہمیشہ تاکہ تم ایک مضبوط کردار کی لڑکی بن سکو تمھیں  چیزوں کی اہمیت کا اندازہ ہو تمھیں نعمتوں کا احساس ہو۔ہاں مجھ سے یہ غلطیاں ضرور ہوئی کی میں تم سے ذیادہ بات نہیں کرتی تھی۔میں نہیں چاہتی تھی کہ تم دوسری لڑکیوں کی طرح منہ پھٹ بنو۔” ماہین بولتی جا رہی تھی منت کو اس کی باتوں سے اختلاف تھا مگر اب وہ چپ تھی پہلے بھی اس کی وجہ سے اس کی ماں کی یہ حالت ہوئی وہ بیمار ہو گئی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اب پھر سے اس کی ماں بیمار ہوجائے۔ جیسی بھی تھی وہ اس کی ماں تھی اور اس کو عزیز تھی تھی۔
” آپ صحیح کہہ رہی ہیں مما آپ نے جو کیا میرے بھلے کے لیے کیا بس مجھے یہ باتیں سمجھ نہیں آئی میں نے اس دن جو بھی آپ سے کہا میں اس کی معافی آپ سے مانگتی ہوں۔ پلیز آپ مجھے معاف کر دیں میں آئندہ کبھی بھی آپ کا دل نہیں دکھاؤں گی.” منت نے اپنی ماں کا دل خوش کرنے کے لیے کہا۔اور ماہین خوش اور مطمئن بھی ہوگئی۔
                          ______________
منت اب زیادہ سے زیادہ اپنی ماں کے پاس بیٹھنے لگی تھی اس سے باتیں کرنے لگی تھی۔اب دونوں ماں بیٹیوں کا موڈ کافی خوشگوار رہنے لگا تھا۔
” مجھے لگتا ہے ہمیں گھر کی سیٹنگ تھوڑی چینج کرنی چاہیے تھوڑا بہت فرنیچر گھر میں لانا چاہیے۔” ہادی شام کو ماہین کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی رہا تھا تو ماہین نے اس سے کہا منت بھی ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔
” بہت اچھا خیال ہے آنٹی آپ کو واقعی گھر کی سیٹنگ چینج کرنی چاہیے۔اس سے انسان کا موڈ خوشگوار رہتا ہے” ہادی نے پرجوش کی ہو کر کہا ۔
” نہیں میں اس لیے کہہ رہی ہوں کہ کچھ دنوں میں منت کی منگنی ہونے والی ہے تو میں چاہتی ہوں کہ گھر سے سیٹ ہو جائے ۔ پھر اس کی شادی بھی ہوگی مہمانوں کا آنا جانا ہوسکتا ہے ہمارے کچھ خاص جانے والے تو نہیں ہیں لیکن اس فلیٹ میں بہت ہیں۔”ماہین نے کہا.
منت نے دیکھا کہ اس کی منگنی کی بات پر ہادی کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔ہادی نے ایک نذر منت پر ڈالی۔اس کی نظروں میں پتا نہیں کیا تھا  منت سمجھ نہیں پائی۔
“اچھا ماشااللہ کس کے ساتھ ہو رہی ہے منگنی اور کب ہے؟” ہادی نے بجھے ہوئے دل سے پوچھا۔
” منت آفس میں جب کے انٹرویو کے لئے گئی تھی وہاں پر ایک شخص نے اس کو دیکھا اور پسند کیا اور رشتہ لے کے آ گیا ۔منت کی اپنی خواہش وہاں رشتہ کرنے کی ہے اس لئے میں بھی چپ ہوں۔ورنہ وہ شخص منت کے قابل نہیں ہے عمر میں اس سے بہت بڑا ہے۔” ماہین نے جیسے اپنا دل کا حال سنایا ۔
“اگر ذہنی ہم آہنگی ہو تو پھر عمر سے کوئی فرق نہیں پڑتا تا.”ہادی نے کہا.
” کونسی ذہنی ہم آہنگی دو دن نہیں ہوئے ان کی ملاقات کو۔ویسے وہ شخص کافی سلجھا ہوا انسان لگ رہا تھا۔مگر مجھے عمروں کے فرق پر بہت اعتراض ہے۔” ماہی نے کہا منت کو یہ موضوع بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
” رات کے کھانے میں کیا بناؤں؟”منت نے موضوع بدلنے کے لیے کہا .
” کچھ اچھا بنا لو آج ہادی بھی ہمارے ساتھ کھانا کھائے گا۔بولو ہادی کیا کھانا ہے تمہیں؟”ماہی نے پوچھا.
” میں تو آنٹی بریانی ہی کھاؤں گا۔” ہادی نے فرمائش کی۔
منت وہاں سے اٹھی اور کچن کی طرف آ گئی۔ ( میں تو آنٹی بریانی ہی کھاؤں گا) منت نے چڑ کر ہادی کی نقل اتاری۔۔۔بڑا آیا فرمائشیں کرنے والا۔ایک آنکھ نہیں بھاتا يه مجھے۔مان نہ مان میں تیرا مہمان۔۔۔اس نے کمنٹ سے چاول نکالے اور ساتھ ساتھ بڑبڑاتي جا رہی تھی۔
” انٹی اس رشتے سے کچھ خاص خوش نہیں لگ رہی ہیں آپ ان کی خواہش کا احترام کیوں نہیں کرتی ہیں” ۔ اچانک سے پیچھے ہادی نے آکر اس کو چونکا دیا۔
” مما کی جو خواہش ہے وہ میں پوری نہیں کر سکتی ہوں۔اور ان کی خواہش سے بچنے کے لیے ہیں میں نے یہ فیصلہ لیا ہے۔” منت نے سنجیدگی سے کہا وہ ہادی کی طرف دیکھ نہیں رہی تھی اپنے کام میں مگن تھی۔
 “کیا خواہش ہے آپ کی مما کی؟ ہادی نے سے پوچھا۔
منت کی پیاز کاٹتے ہوئے ہاتھ ایک پل کو رک گئے ۔
” مما کی خواہش ہے کہ میری شادی آپ سے ہو اور میں یہ بالکل بھی نہیں کر سکتی ہوں۔صاف صاف لفظوں میں بتاؤں تو مجھے آپ سے نفرت ہے بہت نفرت ہے بہت زیادہ نفرت ہے شدید نفرت ھے۔” منت کی بات پر عبدالہادی بہت حیران ہو گیا تھا اسے اس بات کی توقع نہیں تھی۔
” کہ آپ نے مجھ سے کوئی محبت کر بھی نہیں سکتا۔” ہادی نے افسردہ ہو کر کہا۔
” آپ کیا پسٹل ہر وقت اپنی جیب میں لیے پھرتے ہیں؟” منت کو لگا کہ وہ غلط بول گئی اس لیے موضوع بدلنا چاہا اس کو اس دن والی بات یاد آئی۔
” ہاں تقریبا ہر وقت اپنے ساتھ ہی رکھتا ہوں۔۔۔” ہادی نے آرام سے کہا۔
” کیوں ساتھ کیوں رکھتے ہیں؟ “منت نے حیرت سے پوچھا.
” میرے دشمن بہت ہیں یہاں اس لیے۔۔۔” ہادی نے کہا وہ کچن کی شیلف کے پاس ٹیک لگاۓ کھڑا ہو گیا۔دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لئے۔
منت نے ایک نظر اس پر ڈالی۔ہادی اس سے قد میں تھوڑا لمبا تھا۔گندمی رنگ کا ایک خوش شکل لڑکا۔۔۔چہرے پر گہری سنجیدگی۔۔۔اس کی آنکھوں کے کنارے ہمیشہ لال رہتے تھے۔
” آپ کے گھر والوں نے آپ کو گھر سے نکالا ہے آپ کو اپنا گھر چھوڑ کے آ گئے؟ منت نے اچانک کسی غیر متوقع سوال کیا ۔
” آپ کو کیسے پتہ کہ میں اپنا گھر چھوڑ کر آیا ہوں؟” عبدالہادی چونک گیا۔
” جب پہلی بار اس فلیٹ میں آئے تھے تو اس رات آپ بہت رو رہے تھے میں نے آپ کی رونے کی آوازیں سنی تھیں۔” منت کا دل پتا نہیں کیوں آج ہادی سے باتیں کرنے کو  چاہ رہا تھا۔شاید اس واقعے کے بعد جب اس نے لڑکوں کو چپ کروایا تھا۔تو اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی۔
” کافی جاسوسی کرتی ہیں آپ میری۔۔۔” ہادی نے مسکرا کر کہا۔
” مجھے لوگوں کی زندگیوں میں بہت دلچسپی ہوتی ہے۔مجھے لگتا ہے ہر شخص سے بہتر زندگی جی رہا ہے۔میں نے اتفاق سے آپ کی باتیں سن لی تھی.دوسروں کی باتیں سننے کی میری عادت نہیں مگر میرے کانوں میں پڑ گئی  تھیں۔آپ گیلری میں بیٹھ کے باتیں کیا کرتے تھے فون پر میں سن لیتی تھی۔” منت نے صاف گوئی سے کہا۔
” خواہشات کا پورا  ہونا آپ کی خوش بختی کی نشانی نہیں ہوتی۔بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی خواہشیں ضرورت پوری ہوجاتی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ایک دردناک زندگی جی رہے ہوتے ہیں۔کچھ ایسے حقائق ان پر آشکار ہو جاتے ہیں۔جن کے بعد ان کا سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا۔ہر پل ہر لمحہ ایک اذیت میں کٹتا ہے۔آپ کو یہ دیکھیں آپ کی خواہشات بھی پوری نہ ہوسکیں۔لیکن یقین مانے میری نظر میں آپ سے زیادہ خوش قسمت انسان اور کوئی نہیں ہے۔” ہادی نے کہا۔اب چونکنے کی باری منت کی تھی.
“آپ کو کیسے پتہ یہ سب کہ میری خواہشات پوری نہیں ہوئیں۔؟ منت نے حیرت سے پوچھا۔
” آپ کو کیا لگتا ہے کہ صرف آپ ہی میری باتیں سنتی ہیں؟ میں نہیں سن سکتا کہ آپ کی باتیں؟” ہادی نے مسکرا کر کہا۔
” اس رات جب آپ مجھ سے مدد طلب کرنے آئی  تھین ۔تو میری باتوں کا غصہ اپنے آنٹی پر نکالا۔میں نے سب سے سن لیا تھا۔” ہادی نے بھی صاف گوئی سے سب بتایا۔
” آپ کو اتنا غصہ کس بات پر تھا اس دن؟ کیا واقعی آپ کو لگتا ہے کہ میں اس قسم کی لڑکی ہوں؟ کوئی آپ سے مدد طلب کرنے آئے تو آپ اس کی کردار کشی شروع کر دیں گے؟ آپ مدد نہیں کرنا چاہتے تھے تو نہ کرتے۔میں چپ چاپ چلی جاتی۔آپ کی وجہ سے میں نے اپنی ماں کو اتنی باتیں سنا دیں اور وہ اس حال میں پہنچ گئیں۔” منت نے افسردہ ہو کر کہا۔
” میں اس وقت بہت ذہنی اذیت سے گزر رہا تھا۔بلکہ میں ہر وقت ہی ذہنی اذیت میں رہتا ہوں۔انسان ہوں غلطی ہوگئی دوسروں کا غبار آپ پر نکال دیا۔میں واقعی بہت شرمسار ہوں۔” وہ واقعی بہت شرمندہ لگ رہا تھا۔
منت نے اک آہ بھری۔
                     ________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

CompleteDownloadFreeFree Urdu Pdf BooksMannat، Raaz e SaharNovels Hi NovelspdfRead OnlineUrdu NovelUrdu Novelsurdu novels free downloadاردواردو ناولزارو ناولرازِ سحرمنّتمنّت از رازِ سحرناولناولز
Comments (0)
Add Comment