Browsing tag

Suhaira Awais

Tum Faqat Mery Novel by Suhaira Awais – Last Episode 3

تم فقط میرے از سہیرا اویس – آخری قسط نمبر 3 –**–**– صبح ، عدیل نے اس کو ، اس کی غضب کی گہری نیند سے جگانے کی کوشش کی۔۔ کیوں کہ وقت تھوڑا تھا۔۔ اگر وہ فوراً نہ اٹھتی تو ممکن تھا کہ وہ اپنی یونیورسٹی سے لیٹ ہوجاتی۔۔ عدیل اسے مسلسل آوازیں دے […]

Tum Faqat Mery Novel by Suhaira Awais – Episode 2

تم فقط میرے از سہیرا اویس – قسط نمبر 2 –**–**– عدیل اسے اپنے گھر لا چکا تھا، وہ اس کے کمرے میں سُکڑی سمٹی،بیڈ کی ایک طرف کو ٹانگیں لٹکائے بیٹھی تھی۔ دل بری طرح دُکھ رہا تھا، اسے اس وقت اپنے آپ سے نفرت محسوس ہورہی تھی اور دل چاہ رہا تھا کہ […]

Tum Faqat Mery Novel by Suhaira Awais – Episode 1

تم فقط میرے از سہیرا اویس – قسط نمبر 1 –**–**– “عدیل۔۔!! چھوڑو!! چھوڑو مجھے!!” اس نے بمشکل اپنی ٹوٹتی سانسوں کو بحال کرتے ہوئے، ہلکی آواز میں کہا، جس کا سامنے والے نے کوئی اثر نہ لیا۔ وہ ہنوز اپنی آنکھوں میں وحشت اور انداز میں عجیب پاگل پن لیے،اپنے دونوں ہاتھوں سے اس […]

Pyaar Dobara Na Ho Ga Novel by Suhaira Awais – Last Episode 3

پیار دوباہ نہ ہوگا از سہیرا اویس – آخری قسط نمبر 3 –**–**– یو نو۔۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں۔۔ اور پتہ ہے اس وقت سے کرتی ہوں۔۔ جب تم نے فرسٹ ٹائم۔۔اپنے اور ردا کے بارے میں سب بتا کر ، شادی سے انکار کرنے کی ریکوئسٹ کی تھی۔۔ مجھے نہیں پتہ کہ […]

Pyaar Dobara Na Ho Ga Novel by Suhaira Awais – Episode 2

پیار دوباہ نہ ہوگا از سہیرا اویس – قسط نمبر 2 –**–**– اس لیے وہ وہاں گیا۔۔!! اور انوشے کو لے کر آیا۔۔!! تاکہ اپنے گھر لا کر ۔۔ اسے اچھی طرح تڑپا سکے۔۔ اچھی طرح ستا سکے۔۔ ××××× آج کے دن ولیمہ تھا۔۔ کل سے لے کر اب تک۔۔ دونوں کے درمیان ایک طویل […]

Pyaar Dobara Na Ho Ga Novel by Suhaira Awais – Episode 1

پیار دوباہ نہ ہوگا از سہیرا اویس – قسط نمبر 1 –**–**– وہ کیفیٹیریا میں ، اپنی بیسٹ فرینڈ “سدرہ” کے ساتھ بیٹھی، اپنے نوٹس کھولے ، آج کے اٹینڈ کیے گئے لیکچرز کے بارے میں، بڑے انہماک اور توجہ سے ، گفتگو کرنے میں مصروف تھی۔ وہ بی ایس زولوجی کے لاسٹ ایئر کے […]

Tu Lazmi (Complete Novel) By Suhaira Awais

تُو لازمی از سہیرا اویس- مکمل –**–**– سر کو کالے رنگ کے سٹالر سے کوور کیے، کالے اور سرخ رنگ کے امتزاج والا خوبصورت سوٹ زیب تن کیے وہ گردن اکڑا کر اتراتی ہوئی چلی آ رہی تھی۔ کار کے پاس آ کر اس کے قدم تھمے جہاں دبیر کھڑا گھنٹے سے اس کے آنے […]