Aqalmand Lakarhara By Mukhtar Ahmad

0
عقلمند لکڑ ہارا از مختار احمد

–**–**–

پرانے زمانے کی بات، کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ یہ بادشاہ بہت رحمدل اور سخی تھا اور اپنی رعایا کی فلاح و بہبود کے بارے میں ہر وقت  فکر مند رہتا تھا۔ اس بادشاہ میں ایک خامی بھی تھی۔ وہ اپنے  وزیروں اور مشیروں  کی تمام  باتوں پر آنکھ بند کر کے یقین کر لیا کرتا تھا، ان کی خود تصدیق نہیں کرتا تھا کہ ان لوگوں کی یہ باتیں درست بھی ہیں یا نہیں۔

اس خامی کے پیچھے ایک وجہ تھی۔ وہ اپنے ان وزیروں اور مشیروں پر بہت یقین کرتا تھا کیونکہ  اس نے ان لوگوں کی بہت معقول تنخوائیں مقرر کر رکھی تھیں، رہنے کو بڑے بڑے محل نما گھر دے رکھے تھے، اور اکثر اوقات ان  کو انعامات سے بھی نوازتا رہتا تھا۔ بادشاہ کا خیال تھا کہ ان نوازشات  کی وجہ سے  یہ لوگ  محنت اور دیانت داری سے رعایا کی خدمت میں لگے رہیں گے۔

لیکن معاملہ اس کے برعکس تھا۔ اس کے وزیروں اور درباریوں نے ملک میں لوٹ مار اور ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ ان کے ماتحت  سرکاری اہلکار رعایا کے چھوٹے چھوٹے سے کام کرنے کی بھی رشوت لیتے تھے۔ کسانوں سے اناج زور زبردستی سستے داموں خرید کر مہنگے داموں فروخت کردیا کرتے تھے۔ ان کاموں میں یہ سب لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے اور اس ملی بھگت کی وجہ سے مظلوم عوام کی داد رسی بھی نہیں ہوتی تھی۔ اگر کوئی بادشاہ سے شکایت  کرنے کے لیے محل کی جانب آتا تو اسے ڈرا دھمکا کر واپس کردیا جاتا تھا۔ اگر کوئی ان کی دھونس دھمکیوں میں نہ آتا تو  اسے کسی جھوٹے الزام میں جیل میں ڈال دیا جاتا تھا۔

بادشاہ ان تمام باتوں سے بے خبر تھا۔ اس کا دربار ہر روز لگا کرتا تھا۔ دربار کی کاروائی کے دوران تمام وزیر بادشاہ کے سامنے من گھڑت خبریں سناتے – وہ اسے  بتاتے کہ   ملک کی رعایا خوشحال ہے اور اس کی درازی عمر کی دعائیں کرتی ہے۔ ان باتوں سے بادشاہ بہت خوش ہوتا اور خدا کا شکر ادا کرتا کہ اس کے بہترین طرز حکومت کی وجہ سے اور اس کے ذہین اور وفادار ساتھیوں کی وجہ سے ملک میں چار سو خوشحالی کا دور دورہ ہے۔

ایک روز کا ذکر ہے، بادشاہ اپنے شہزادے کو لے کر شکار پر نکلا۔ شہزادے کی عمر پانچ چھ سال تھی۔ گرمیوں کے دن تھے، بادشاہ اور اس کے ساتھیوں نے ایک دریا کے کنارے پڑاؤ ڈالدیا۔ دریا سے کچھ دور ایک سر سبز جنگل بھی تھا۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہو رہا تھا۔ بادشاہ کے ساتھ  آئے ہوۓ ملازم کھانے کا انتظام کرنے لگے۔ اتنے میں ننھا شہزادہ سب کی آنکھ بچا کر دریا کے کنارے پر آگیا۔ بے دھیانی  میں  اس کی ٹھوکر  کنارے پر پڑے ایک پتھر سے  لگی اور وہ دریا میں جاگرا۔ اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔ پانی کے تیز بھاؤ نے لمحہ بھر میں اسے دریا کے بیچوں بیچ پہنچا دیا۔

شہزدے کی چیخ سن کر بادشاہ اور  دوسرے سب لوگ دریا کی طرف دوڑے۔ انہوں نے شہزادے کو دریا میں ڈوبتے دیکھا تو یک زبان ہو کر چلانے لگے۔ “بچاؤ – بچاؤ”۔ یہ اتفاق کی بات ہی تھی کہ ان تمام لوگوں میں سے کسی کو بھی تیرنا نہیں آتا تھا۔ بادشاہ کے اوسان خطا ہوگئے تھے، اس کا شہزادہ اس کی آنکھوں کے سامنے دریا میں ڈوب رہا تھا۔

یہ شور شرابہ ابھی جاری ہی تھا کہ اچانک جنگل سے ایک خوبصورت نوجوان بھاگتا ہوا آیا اور دریا کے قریب آ کر اس نے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ چند ہی لمحوں میں وہ شہزادے کے نزدیک پہنچ گیا اور اس کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ یہ منظر دیکھ کر بادشاہ کی جان میں جان آئ۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ نوجوان شہزادے کو لے کر کنارے پر آگیا۔

بادشاہ نے ننھے شہزادے کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس کے سینے سے لگتے ہی سہما ہوا شہزادہ رونے لگا۔ بادشاہ نے اس نوجوان سے کہا۔ “نوجوان تم نے ہم پر ایک بہت بڑا احسان کیا ہے۔ ہم تمہیں اس کا انعام  بھی دیں گے اور ساری زندگی تمہارے احسان مند رہیں گے۔ تم نے ہمارے شہزادے کو ہی  نہیں ہمیں نئی زندگی دی ہے”۔ پھر بادشاہ نے ایک قہر آلود نگاہ اپنے ساتھ آئے ہوۓ  ملازمین  پر ڈالی اور غضب ناک آواز میں بولا۔ “اتنے سارے لوگوں میں سے کسی نے بھی دریا میں کودنے کی ہمت نہیں کی۔ اگر یہ نوجوان نہ ہوتا تو شہزادہ تو ڈوب جاتا”۔

بادشا کے سارے ساتھی اس نوجوان کو نفرت بھری نظروں سے دیکھنے لگے جس کی وجہ سے ان کی بے عزتی ہوئی تھی۔ اس واقعہ کے فوراً بعد ہی بادشاہ نے پڑاؤ اٹھانے کا حکم دے دیا اور محل واپس آگیا۔ بادشاہ نے نوجوان کو اپنے ساتھ ہی آنے کا کہہ دیا تھا۔

محل پہنچ کر بادشاہ نے پورا واقعہ ملکہ کو سنایا۔ اس کی کہانی سن کر ملکہ ننھے شہزادے کو خود سے لپٹا کر رونے لگی۔ اس نے اس نوجوان کا بہت شکریہ ادا کی۔ بادشاہ نے کہا۔ “ہم اس نوجوان کو وزیر بنا کر ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں گے”۔

اس کی بات سن کر نوجوان نے ادب سے ہاتھ باندھ کر کہا۔ “جہاں پناہ۔ ڈوبتے ہوۓ شہزادے کو بچانا میرا فرض تھا۔ اس کے بدلے نہ تو مجھے کچھ انعام چاہئیے اور نہ ہی کوئی عہدہ۔ میں ایک لکڑہارا ہوں اور محنت سے اپنی روزی کماتا ہوں۔ اس کے علاوہ، گستاخی معاف، میں ہرگز آپ کا وزیر نہیں بننا چاہتا کیوں کہ……..” یہ کہہ کر نوجوان خاموش ہوگیا۔

نوجوان کی باتیں سن کر بادشاہ دم بخود رہ گیا۔ آج تک کسی میں بھی اتنی ہمت  پیدا نہیں ہوئی  تھی کہ اس کی کسی بات کو ماننے سے انکار کرے۔ اس کے چہرے پر غصے کے اثرات نمودار ہونے کو ہی تھے کہ اس نے خود پر قابو  پاتے ہوۓ نوجوان سے کہا۔ “نوجوان تم ہمارے محسن ہو۔ تم نے نہ صرف ہمارے شہزادے کو بلکہ ہمیں اور ہماری ملکہ کو بھی نئی زندگی دی ہے۔ ہمیں اپنے انکار کی وجہ تو بتاؤ۔ تم ہمارا وزیر کیوں نہیں بننا چاہتے؟”۔

نوجوان بےخوفی سے بولا۔ “حضور۔ میں حق حلال کی کمائی سے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتا ہوں۔ آپ کا وزیر بن جانے کے بعد مجھے بھی آپ کے دوسرے وزیروں کی طرح آپ سے   جھوٹ بولنا پڑے گا،  مکاری سے کام لینا پڑے گا۔ اس طرح میں آپ کو تو خوش کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا مگر میرا ضمیر مطمین نہیں ہوگا”۔

بادشاہ کو نوجوان کی یہ بات سن کر پھر طیش آنے لگا تھا، مگر اس نے چند لمحے خاموش رہ کر پھر اپنی حالت پر قابو پالیا اور کہا۔ “نوجوان ان باتوں سے تمہارا کیا مطلب ہے؟  تم ہم پر الزام لگا رہے ہو کہ ہم جھوٹی باتوں اور مکاریوں سے خوش ہوتے ہیں”۔

نوجوان نے کہا۔ “جہاں پناہ۔ جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔ آپ کے وزیر اور حکومتی عہدیدار اپنی چرب زبانی سے کام لیتے ہوۓ آپ کو بتاتے ہیں کہ ملک میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے اور آپ ان کی باتوں پر یقین کرلیتے ہیں۔ مگر صورت حال اس کے برعکس ہے۔ آپ کی رعایا آپ کے  پڑوس کے تمام ملکوں کی رعایا سے بدتر زندگی گزار رہی ہے۔ اگر میری بات کا یقین نہ ہو تو ماضی کے حکمرانوں کی طرح آپ بھی بھیس بدل کر اپنی رعایا کی حالت زار کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر سکتے ہیں”۔

نوجوان کی باتیں سن کر بادشاہ کی آنکھیں سوچ میں ڈوب گئیں۔ اس نے اقرار کیا کہ وہ رعایا کے بارے میں اپنے وزیروں اور درباریوں کی باتوں پر یقین کرلیتا تھا اور خود کبھی ان کی خبر گیری نہیں کی تھی۔ اس نے نوجوان کو شاہی مہمان بنا کر محل میں رکھا اور اس کے بعد وہ کئی راتوں تک بھیس بدل کر اپنی رعایا کے بارے میں کھوج لگاتا رہا۔ اس کی ان کوششوں نے نوجوان کی باتوں کو سچ ثابت کردیا تھا۔ بادشاہ کو پتہ چل گیا تھا کہ سواۓ شاہی  ملازمین کے اس کی ریاست میں کوئی بھی آسودہ حال نہیں تھا۔ تمام لوگ بادشاہ کو جھولی پھیلا پھیلا کر بددعائیں دیتے تھے کیونکہ ان پر شاہی کارندے طرح طرح کے ظلم  کے پہاڑ توڑتے تھے اور ان کا بادشاہ ان مظالم سے بے خبر تھا۔

جب بادشاہ ان تمام باتوں سے پوری طرح واقف ہو گیا تو ایک روز اس نے اپنے  کوتوال  کو بلا کر اسے حکم دیا کہ ایسے تمام شاہی عہدیداروں کو گرفتار کر لیا جائے جو ان کاموں میں ملوث ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد ان پر مقدمات چلاے گئے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد نے ان کے خلاف گواہی دی اور پھر قاضی کے حکم پر ان سب کو جیل میں ڈالدیا گیا۔

بادشاہ کی آنکھیں کھل گئی تھیں۔ سلطنت کے امور چلانے کے لیے اس نے نئے اور قابل لوگ رعایا میں سے چنے۔ یہ سب حقیقی معنوں میں نیک اور اچھے تھے جس کی وجہ سے بہت جلد ملک میں خوشحالی کا دور دورہ شروع ہو گیا۔ وہ ہی رعایا جو بادشاہ کو برا بھلا کہتی تھی، اب اس کی لمبی عمر اور خوشحالی کی دعائیں کرنے لگی۔

بادشاہ کو احساس تھا کہ اس تبدیلی کا سبب وہ  عقلمند لکڑ ہارا تھا جو نہ صرف اس کا محسن تھا بلکہ اس کی آنکھیں کھولنے میں بھی اس کا ہاتھ تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنا وزیر خاص بنالیا  اور پھر سب لوگ ہنسی خوشی  زندگی گزارنے  لگے۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: