Ar-Raheeq Al-Makhtum by Safiur Rahman Mubarakpuri – Episode 1

0
الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری – قسط نمبر 1

–**–**–

یہ کتاب نشر واشاعت کے لیے پہلے پہل المکتبہ السلفیہ لاہور کے مالک جناب احمد شاکر صاحب کو دی گئی۔ موصوف نے جہاں اس کی ظاہری زیب وزینت اور جمال وکمال کا اہتمام کیا وہیں معنوی اصلاح و نکھار پر بھی توجہ فرمائی۔ مختلف تجارتی مصالح کے پیش نظر تکمیل کتابت کے بعد اس کی اوّلین کاپی ایک بد عقیدہ مولوی کے حوالے کی۔ اس نے بہت سی آیات اور صحیح بخاری تک کی احادیث پرنشان لگا کر انھیں کتاب سے خارج کرنے کی سفارش کی۔ کیونکہ اس کے مزعومہ عقائد پر ان کی زد پڑ رہی تھی۔ موصوف کتاب لیے اصلاح کی خاطر میرے پاس آئے۔ میں نے اس تجویز واصلاح کو سختی سے رد کردیا مگر موصوف نے پنجابی زبان میں غلط فہمی پھیلنے کے بہانے سے چپکے چپکے کچھ نہ کچھ اصلاح کرہی ڈالی۔ اس کے بعد کہیں کہیں ترجمے کی بھی اصلاح کی اور عجیب گل کھلائے۔ مثلاً عبارت تھی ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ جب کسی غزوے کا ارادہ فرماتے تو کسی اور ہی جانب کا توریہ فرماتے ” اسے یوں درست کیا کہ ” کسی اور ہی جانب روانہ ہو تے ” پھر مصنف کی غلطیوں پر تنبیہ کی ضرورت سمجھی گئی اور بتایا گیا کہ زیر وزبر اور پیش کی غلطیاں ٹھیک کی گئی ہیں۔ یہ کہاں تک ٹھیک کی گئی ہیں اس کا نمونہ یہ ہے کہ سلطنت عمان ( عین کو پیش میم بلا تشدید) کو عمََّان ( عین کو زبر میم کو تشدید لگا دی گئی ) بحیرا ( ب کو زبر ح کو زیر ) کو بحیرا ( ب کو پیش ح کو زبر ) لگا دیا گیا۔ جنگ فجار (ف کو زیر جیم بلا تشدید ) کو فجار (ف کو پیش اور جیم کو تشدید، اور بعد میں تشدید اڑا کر محض زبر ) باقی رکھا گیا۔
غرض اس طرح اصلاح کے نام پر بھاری بھاری غلطیاں کرکے معلوم نہیں کہاں کہاں سے کتاب کو خراب کیا گیا۔ اب مجھے اتنی ہمت اور فرصت نہیں ہے کہ ساری کتاب کھنگال کر ان کی اصلاح کردہ غلطیوں کو درست کرسکوں، تاہم جس قدر نگاہ میں آجائیں گی انھیں تو درست ہی کردوں گا۔ باقی اہل ذوق سے گزارش ہے کہ وہ متنبہ کر دیں تاکہ چیزیں صحیح شکل میں پیش کی جاسکیں۔ ولکم جزیل الشکر،والحمد للّٰہ رب العالمین۔
صفی الرحمن المبارکفوری
۳۰ شوال ۱۴۱۲ھ
عرض مؤلف

یہ کتاب :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَمِن وَالَاہ ، أمَّا بَعْد !
یہ ربیع الاوّل ۱۳۹۶ ھ (مارچ ۱۹۷۶ ء ) کی بات ہے کہ کراچی میں عالم اسلام کی پہلی سیرت کانفرنس ہوئی۔ جس میں رابطۂ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس کانفرنس کے اختتام پر ساری دنیا کے اہل قلم کو دعوت دی کہ وہ سیرت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر دنیا کی کسی بھی زندہ زبان میں مقالے لکھیں۔ پہلی ، دوسری ، تیسری ، چوتھی اور پانچویں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو علی الترتیب پچاس ، چالیس، تیس ، بیس اور دس ہزار ریال کے انعامات دیے جائیں گے۔ یہ اعلان رابطہ کے سرکاری ترجمان اخبار العالم الاسلامی کی کئی اشاعتوں میں شائع ہوا لیکن مجھے اس تجویز اور اعلان کا بروقت علم نہ ہوسکا۔
کچھ دنوں کے بعد جب میں بنارس سے اپنے وطن مبارکپور گیا تو مجھ سے اس کا ذکر کیا گیا اور زور دیا گیا کہ میں بھی اس مقابلے میں حصہ لوں۔ میں نے اپنی علمی کم مائیگی اور ناتجربہ کاری کا عذر کیا مگر اصرار قائم رہا اور بار بار کی معذرت پر فرمایا گیا کہ ہمارا مقصود یہ نہیں ہے کہ انعام حاصل ہو، بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ اسی ”بہانے” ایک ”کام ” ہوجائے۔ میں نے اس اصرارِ مسلسل پر خاموشی تو اختیار کر لی لیکن نیت یہی تھی کہ اس مقابلے میں حصّہ نہیں لوں گا۔
چند دن بعد جمعیت اہل حدیث ہند کے آرگن اور پندرہ روزہ ترجمان دہلی میں رابطہ کی اس تجویز اور اعلان کا اُردو ترجمہ شائع ہوا تو میرے لیے ایک عجیب صورتِ حال پیدا ہوگئی۔ جامعہ سلفیہ کے متوسط اور منتہی طلبہ میں سے عموماً جس کسی سے سامنا ہوتا وہ اس مقابلے میں شرکت کا مشورہ دیتا۔ خیا ل ہوا کہ شاید ” خلق کی یہ زبان ” ”خدا کا نقارہ ”ہے۔ تاہم مقابلے میں حصہ نہ لینے کے اپنے قلبی فیصلے پر میں قریب قریب اٹل رہا۔ کچھ دنوں بعد طلبہ کے ”مشورے” اور ”تقاضے” بھی تقریباً ختم ہی ہو گئے۔ مگر چند ایک طالب علم اپنے تقاضے پر قائم رہے۔ بعض نے مقالے کے تصنیفی خاکے کو موضوعِ گفتگو بنا رکھا تھا اور بعض کی ترغیب اصرار کی آخری حدوں کو چھو رہی تھی۔ بالآخر میں خاصی ہچکچاہٹ کے ساتھ آمادہ ہو گیا۔
کام شروع کیا۔ لیکن تھوڑا تھوڑا۔ کبھی کبھی اور آہستہ خرامی کے ساتھ۔ چنانچہ ابھی بالکل ابتدائی مرحلے ہی میں تھا کہ تعطیل کلاں کا وقت آگیا۔ ادھر رابطہ نے آنے والے محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو مقالات کی وصولی کی آخری تاریخ قرار دیا تھا۔ اس طرح مہلتِ کار کے کوئی ساڑھے پانچ ماہ گزر چکے تھے اور اب زیادہ سے زیادہ ساڑھے تین ماہ میں مقالہ مکمل کر کے حوالۂ ڈاک کر دینا ضروری تھا تاکہ وقت پر پہنچ جائے اور ادھر ابھی سارا کام باقی تھا۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ اس مختصر عرصے میں ترتیب وتسوید ، نظر ثانی اور نقل وصفائی کا کام ہوسکے گا۔ مگر اصرار کرنے والوں نے چلتے چلتے تاکید کی کہ کسی طرح کی غفلت یا تذبذب کے بغیر کام میں جت جاؤں۔ رمضان بعد ”سہارا” دیا جائے گا۔ میں نے بھی فرصت کے ایام غنیمت سمجھے۔ اشہبِ قلم کو مہمیز لگائی اور کدوکاوش کے بحر بیکراں میں کود پڑا۔ پوری تعطیل سہانے خواب کے چند لمحوں کی طرح گزر گئی اور جب یہ حضرات واپس پلٹے تو مقالے کا دوتہائی حصہ مرتب ہو چکا تھا۔ چونکہ نظر ثانی اور تبییضکا موقع نہ تھا اس لیے اصل مسودہ ہی ان حضرات کے حوالے کردیا کہ نقل وصفائی اور تقابل کا کام کر ڈالیں۔ باقی ماندہ حصے کے کچھ دیگر لوازمات کی فراہمی وتیاری میں بھی ان سے کسی قدر تعاون لیا۔ جامعہ کی ڈیوٹی اور ہماہمی شروع ہوچکی تھی۔ اس لیے زمانۂ تعطیل کی رفتار برقرار رکھنی ممکن نہ تھی۔ تاہم ڈیڑھ ماہ بعد جب عید ِاضحی کی تعطیل کا وقت آیا تو ”شب بیداری” کی ”برکت” سے مقالہ تیاری کے آخری مرحلے میں تھا ، جسے سرگرمی کی ایک جست نے تمام وکمال کو پہنچا دیا اور میںنے آغاز محرم سے بارہ ، تیرہ دن پہلے یہ مقالہ حوالۂ ڈاک کردیا۔
مہینوں بعد مجھے رابطہ کے دو رجسٹرڈ مکتوب ہفتہ عشرہ آگے پیچھے موصول ہوئے۔ خلاصہ یہ تھا کہ میرا مقالہ ، رابطہ کے مقررہ شرائط کے مطابق ہے، اس لیے شریکِ مقابلہ کر لیا گیا ہے۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا۔
اس کے بعد دن پر دن گزرتے گئے حتیٰ کہ ڈیڑھ سال کا عرصہ بِیت گیا ، مگر رابطہ مہر بلب۔ میں نے دوبارہ خط لکھ کر معلوم کرنا بھی چاہا کہ اس سلسلے میں کیا ہو رہا ہے تو مہرِ سکوت نہ ٹوٹی۔ پھر میں خود بھی اپنے مشاغل اور مسائل میں اُلجھ کر یہ بات تقریباً فراموش کر گیا کہ میں نے کسی ”مقابلہ” میں حصہ لیا ہے۔
اوائل شعبان میں ۱۳۹۸ھ ( ۶/۷/۸ جولائی ۱۹۷۸ء کو) کراچی (پاکستان) میں پہلی ایشیائی اسلامی کانفرنس منعقد ہورہی تھی۔ مجھے اس کی کارروائیوں سے دلچسپی تھی۔ اس لیے اس سے متعلق اخبار کے گوشوں میں دبی ہو ئی خبریں بھی ڈھونڈھ کر پڑھتا تھا۔ ایک روز بھدوہی اسٹیشن پر ٹرین کے انتظار میں … جو لیٹ تھی … اخبار دیکھنے بیٹھ گیا۔ اچانک ایک چھوٹی سی خبر پر نظر پڑی کہ اس کانفرنس کے کسی اجلاس کے اندر رابطہ نے سیرت نگاری کے مقابلے میں کامیاب ہونے والے پانچ ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ او ر ان میں ایک مقالہ نگار ہندوستانی بھی ہے، یہ خبر پڑھ کر اندر ہی اندر طلب وجستجو کا ایک ہنگامۂ محشر بپا ہوگیا۔ بنارس واپس آکر تفصیل معلوم کرنے کی کوشش کی مگرلاحاصل۔
۱۰/ جولائی کو چاشت کے وقت… پوری رات مناظرہ بجرڈیہہ کے شرائط طے کرنے کے بعد بے خبر سورہا تھا کہ اچانک حجرے سے متصل سیڑھیوں پر طلبہ کا شور وہنگامہ سنائی پڑا اور آنکھ کھل گئی۔ اتنے میں طلبہ کا ریلا حجرے کے اندر تھا۔ ان کے چہروں پر بے پناہ مسرت کے آثار اور زبانوں پر مبارکبادی کے کلمات تھے۔
”کیا ہوا؟ کیا مخالف مناظرنے مناظرہ کرنے سے انکار کردیا ؟” میں نے لیٹے ہی لیٹے سوال کیا۔
”نہیں۔ بلکہ آپ سیرت نگاری کے مقابلہ میں اوّل آگئے۔ ”
”اللہ! تیرا شکر ہے۔ ” ”آپ حضرات کو کیسے علم ہوا۔ ” میں اُٹھ کر بیٹھ چکا تھا۔
”مولوی عزیر شمس یہ خبر لائے ہیں۔”
”مولوی عزیر یہاں آچکے ہیں؟”
”جی ہاں۔”
اور چند لمحوں بعد مولوی عزیر مجھے تفصیلات سنا رہے تھے۔
پھر ۲۲/شعبان ۱۳۹۸ ھ (۲۹/جولائی ۱۹۷۸ ء ) کو رابطہ کا رجسٹرڈ مکتوب وارد ہوا۔ جس میں کامیابی کی اطلاع کے ساتھ یہ مژدہ بھی رقم تھا کہ ماہ محرم ۱۳۹۹ھ میں مکہ مکرمہ کے اندر رابطہ کے مستقر پر ، تقسیم انعامات کے لیے ایک تقریب منعقد کی جائے گی اور اس میں مجھے شرکت کرنی ہے۔ یہ تقریب محرم کے بجائے ۱۲/ ربیع الآخر ۱۳۹۹ھ کو منعقد ہوئی۔
ا س تقریب کی بدولت مجھے پہلی بار حرمیَن شریفین کی زیارت کی سعادت نصیب ہوئی۔ ۱۰/ ربیع الآخر یوم جمعرات کو عصر سے کچھ پہلے مکہ مکرمہ کی پُر نور فضاؤں میں داخل ہوا۔ تیسرے دن ساڑھے آٹھ بجے ر ا بطہ کے مستقر پر حاضری کا حکم تھا۔ یہاں ضروری کارروائیوں کے بعد تقریباً دس بجے تلاوت ِ قرآن پاک سے تقریب کا آغاز ہوا۔ سعودی عدلیہ کے چیف جسٹس شیخ عبد اللہ بن حمید ؒ صدر مجلس تھے۔ مکہ کے نائب گورنر امیر سعود بن عبد المحسن – جو مرحوم ملک عبد العزیز کے پوتے ہیں …… تقسیم انعامات کے لیے تشریف فرما تھے۔ انھوں نے مختصر سی تقریر کی ، ان کے بعد رابطہ کے نائب سکریٹری جنرل شیخ علی المختار نے خطاب فرمایا۔ انھوں نے قدر ے تفصیل سے بتایا کہ یہ انعامی مقابلہ کیوں منعقد کرایا گیا اور فیصلے کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا گیا۔ انھوں نے وضاحت فرمائی کہ رابطہ کو اعلان مقابلہ کے بعد ایک ہزار سے زائد (یعنی ۱۱۸۲) مقالات موصول ہوئے، جن کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ابتدائی کمیٹی نے ایک سو تراسی (۱۸۳) مقالات کو مقابلے کے لیے منتخب کیا اور آخری فیصلے کے لیے انہیں وزیر تعلیم شیخ حسن بن عبداللہ آل الشیخ کی سرکردگی میں قائم ماہرین کی ایک آٹھ رکنی کمیٹی کے حوالے کردیا۔ کمیٹی کے یہ آٹھوں ارکان ملک عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ کی شاخ کلیۃ الشریعہ (اور اب جامعہ اُم القری ) مکہ مکرمہ کے استاد اور سیرت ِ نبویﷺ اور تاریخ اسلام کے ماہر اور متخصص ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں :
ڈاکٹر ابراہیم علی شعوط
ڈاکٹر احمد سید دراج
ڈاکٹر عبد الرحمن فہمی محمد
ڈاکٹر فائق بکر صواف
ڈاکٹر محمد سعید صدیقی
ڈاکٹر شاکر محمود عبد المنعم
ڈاکٹر فکری احمد عکاز
ڈاکٹر عبد الفتاح منصور
ان اساتذہ نے مسلسل چھان بین کے بعد متفقہ طور پر پانچ مقالات کو ذیل کی ترتیب کے ساتھ انعام کا مستحق قرار دیا :
1۔ الرحیق المختوم (عربی) تالیف صفی الرحمن مبارکپوری جامعہ سلفیہ ، بنارس ، ہند (اوّل )
2۔ خاتم النبییّنﷺ (انگریزی) ڈاکٹر ماجد علی خان جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی ، ہند (دوم )
3۔ پیغمبر اعظم وآخر (اُردو) تالیف ڈاکٹر نصیر احمد ناصر وائس چانسلر جامعہ اسلامیہ ، بہاوّلپور ، پاکستان (سوم)
4۔ منتقی النقول فی سیرۃ اعظم رسول(عربی) تالیف شیخ حامد محمود بن محمد منصور لیمود ، جیزہ، مصر (چہا رم )
5۔ سیرۃ نبی الہدیٰ والرحمۃ (عربی) استاد عبد السلام ہاشم حافظ مدینہ منورہ، مملکت سعودیہ عربیہ (پنجم)
نائب سکریٹری جنرل محترم شیخ علی المختار نے ان توضیحات کے بعد حوصلہ افزائی، مبارکباد اور دعائیہ کلمات پر اپنی تقریر ختم کردی۔
اس کے بعد مجھے اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی۔ میں نے اپنی مختصر سی تقریر میں رابطہ کو ہندوستان کے اندر دعوت وتبلیغ کے بعض ضروری اور متروک گوشوں کی طرف توجہ دلائی اور اس کے متوقع اثرات ونتائج پر روشنی ڈالی۔ رابطہ کی طرف سے اس کا حوصلہ افزا جواب دیا گیا۔
اس کے بعد امیر محترم سعود بن عبد المحسن نے ترتیب وار پانچوں انعامات تقسیم فرمائے اور تلاوتِ قرآن مجید پر تقریب کا اختتام ہو گیا۔
۱۷/ ربیع الآخر یوم جمعرات کو ہمارے قافلے کا رخ مدینہ منورہ کی طرف تھا۔ راستے میں بدر کی تاریخی رزمگاہ کا مختصراً مشاہدہ کرکے آگے بڑھے تو عصر سے کچھ پہلے حرم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروبام کا جلال وجمال نگاہوں کے سامنے تھا۔ چند دن بعد ایک صبح خیبر بھی گئے اور وہاں کا تاریخی قلعہ اندر وباہر سے دیکھا، پھر کچھ تفریح کر کے سرِ شام مدنیہ منورہ کو واپس ہوئے اور پیغمبر آخر الزماںﷺ کی اس جلوہ گاہ ، جبریل امین کے اس مَہبَط ، قدوسیوں کی اس فردوگاہ اور اسلام کے اس مرکز انقلاب میں دو ہفتے گزارکر طائر شوق نے پھر حرم ِ کعبہ کی راہ لی۔ یہاں طواف وسعی کے ”ہنگامے” میں مزید ایک ہفتہ گزارنے کاشرف حاصل ہوا۔ عزیزوں، دوستوں ، بزرگوں اور علماء ومشائخ نے کیا مکہ ، کیا مدینہ، ہر جگہ ہاتھوں ہاتھ لیا۔ یوں میرے خوابوں اور آرزؤوں کی سرزمین حجاز مقدس کے اندر ایک ماہ کا عرصہ چشم زدن میں گزرگیا اور پھر صنم کدۂ ہند میں واپس آگیا۔
حیف درچشم زدن صحبتِ یار آخر شُد
روئے گل سیر ند یدیم وبہار آخر شُد
حجاز سے واپس ہوا تو ہندوستان و پاکستان کے اُردو خواں طبقے کی طرف سے کتاب کو اُردو جامہ پہنانے کا تقاضا شروع ہوگیا۔ جو کئی برس گزرجانے کے باوجود برابر قائم رہا۔ ادھر نئی نئی مصروفیات اس قدر دامن گیر ہوتی گئیں کہ ترجمہ کے لیے فرصت کے لمحات میسر ہوتے نظر نہ آئے۔ بالآخر مشاغل کے اسی ہجوم میں ترجمہ شروع کردیا گیا اور اللہ کا بے پایاں شکر ہے کہ چند ماہ کی جزوی کوشش سے پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا۔ وللّٰہ الأمر من قبل ومن بعد ۔
اخیر میں میں ان تمام بزرگوں ، دوستوں اور عزیزوں کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں جنھوں نے اس کام میں کسی بھی طرح مجھ سے تعاون کیا۔ خصوصاً استاذمحترم مولانا عبد الرحمن صاحب رحمانی ، اور عزیزانِ گرامی شیخ عزیر صاحب اور حافظ محمد الیاس صاحب فاضلان مدینہ یونیورسٹی کا کہ ان کے مشورے اور ہمت افزائی نے مجھے وقتِ مقررہ پر اس مقالے کی تیاری میں بڑی مدد پہنچائی۔ اللہ ان سب کو جزائے خیر دے۔ ہمارا حامی وناصر ہو۔ کتاب کو شرفِ قبول بخشے اور مؤلف ومعاونین اور مستفیدین کے لیے فلاح ونجاح کا ذریعہ بنائے۔ آمین !!
۱۸/ رمضان المبارک ۱۴۰۴ ھ
صفی الرحمن المبارکفوری
دیباچہ طبع سوم (عربی)
(از عزت مآب ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف سکریٹری جنرل رابطہ عالم اِسلامی ، مکہ المکرمہ )
الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات، وأشہد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، وأشھد أن محمداً عبدہ ورسولہ وصفیہ وخلیلہ، أدی الرسالۃ وبلغ الأمانۃ، ونصح الأمۃ، وترکہا علی المحجۃ البیضاء لیلہا کنہارہا، صلی اللّٰہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ أجمعین، ورضی عن کل من تبع سنتہ وعمل بہا إلی یوم الدین، وعنا معہم بعفوک ورضاک یا أرحم الراحمین ۰ أما بعد :
سنت نبویہ مطہرہ ، جو ایک تجدید پذیر عطیہ اور تاقیامت باقی رہنے والا توشہ ہے اور جس کو بیان کرنے اور جس کے مختلف عنوانات پر کتابیں اور صحیفے لکھنے کے لیے لوگوں میں نبیﷺ کی بعثت کے وقت سے مقابلہ اور تنافس جاری ہے، اور قیامت تک جاری رہے گا۔ یہ سنت مطہّرہ مسلمانوں کے سامنے وہ عملی نمونہ اور واقعاتی پروگرام رکھتی ہے جس کے سانچے میں ڈھل کر مسلمانوں کی رفتار وگفتار اور کردار واطوار کو نکلنا چاہیے اور اپنے پروردگار سے ان کا تعلق اور کنبۂ و قبیلہ ، برادران واخوان اور افرادِ امت سے ان کا ربط اس کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا ﴿٢١﴾ (الاحزاب: ۲۱)
” یقینا تمہارے ہر اس شخص کے لیے رسولﷺ میں بہترین اسوہ ہے جو اللہ اور روزِآخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہو۔”
اور جب حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کیا گیا کہ رسول اللہﷺ کے اخلاق کیسے تھے؟ انھوں نے فرمایا : ((کان خلقہ القرآن۔)) ”بس قرآن ہی آپ کا اخلاق تھا۔ ”
لہٰذا جو شخص اپنی دنیا اور آخرت کے جملہ معاملات میں ربانی شاہراہ پر چل کر اس دنیا سے نجات چاہتا ہوا س کے لیے اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں کہ وہ رسول اعظمﷺ کے اسوہ کی پیروی کر ے اور خوب اچھی طرح سمجھ بوجھ کر اس یقین کے ساتھ نبیﷺ کی سیرت کو اپنائے کہ یہی پروردگار کا سیدھا راستہ ہے جس پر ہمارے آقا اور پیشوا رسول اللہﷺ عملاً اور واقعتا تمام شعبہائے زندگی میں گامزن تھے۔ لہٰذا اسی میں قائدین ومتبعین ، حکّام ومحکومین ، رہبران ومرشدین اور مجاہدین کی رشد وہدایت ہے اور اسی میں سیاست وحکومت ، دولت واقتصاد ، معاشرتی معاملات ، انسانی تعلقات ، اخلاق فاضلہ اور بین الاقوامی روابط کے جملہ میدانوں کے لیے اسوہ ونمونہ ہے۔
آج جبکہ مسلمان اس ربّانی منہج سے دور ہٹ کر جہل وپسماندگی کے کھڈ میں جاگرے ہیں ، ان کے لیے کیا ہی بہتر ہوگا کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور اپنے تعلیمی نصابوں اور مختلف اجتماعات ومجالس میں اس بنا پر سیرت نبوی کو سر فہرست رکھیں کہ یہ محض ایک فکری متاع ہی نہیں بلکہ یہی اللہ کی طرف واپسی کی راہ ہے اور اسی میں لوگوں کی اصلاح وفلاح ہے ، کیونکہ یہی اخلاق وعمل کے میدان میں اللہ عزوجل کی کتاب قرآن مجید کی ترجمانی کا علمی اسلوب ہے ، جس کے نتیجہ میں مومن اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی شریعت کا تابع فرمان بن جاتا ہے اور اسے انسانی زندگی کے جملہ معاملات میں حکم بنالیتا ہے۔
یہ کتاب ” ”اپنے فاضل مؤلف شیخ مبارک پوری کی ایک خوشگوار کوشش اور قابلِ قدر کارنامہ ہے جسے موصوف نے رابطۂ عالمِ اسلامی کے منعقد کردہ مقابلہ سیرت نویسی ۱۳۹۶ ھ کی دعوت ِعام پر لبیک کہتے ہوئے انجام دیا اور پہلے انعام سے سرفراز ہوئے۔ جس کی تفصیل رابطۂ عالمِ اسلامی کے سابق سکریٹری جنرل مرحوم فضیلۃ الشیخ محمد علی الحرکان تغمد ہ اللہ برحمتہ وجزاہ اللہ عنا خیر الجزاء کے مقدمۂ طبع اوّل میں مذکور ہے۔
اس کتاب کو لوگوں میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی اور یہ ان کی مدح وستائش کا مرکز بن گئی۔ چنانچہ پہلے ایڈیشن کے کل کے کل (دس ہزار) نسخے ہاتھوں ہاتھ نکل گئے اور اس کے بعد مجھ سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ میں اس کے تیسرے ایڈیشن کا دیباچہ لکھ دوں۔ چنانچہ اس خواہش کے احترام میں میں نے یہ مختصر سا دیباچہ قلم بند کردیا۔ مولیٰ عزوجل سے دعا ہے کہ وہ اس عمل کو اپنے رُخ کریم کے لیے خالص بنائے اور اس سے مسلمانوں کو ایسا نفع پہنچائے کہ ان کی موجودہ خستہ حالی بہتری میں تبدیل ہو جائے۔ امت ِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گم گشتہ مجدوشرف اور اقوامِ عالم کی قیادت کا مقامِ بلند واپس مل جائے۔ اور وہ اللہ عزّوجل کے اس ارشاد کی عملی تصویر بن جائیں کہ:
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ ۗ (آل عمران: ۱۱۰)
”تم خیرِ امت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا گیا ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ ”
وصلی اللہ علی المبعوث رحمۃ للعالمین، رسول الھدی ومرشد الإنسانیۃ إلی طریق النجاۃ والفلاح، وعلی آلہ وصحبہ وسلم، والحمد اللہ رب العالمین ۰
ڈاکٹر عبد اللہ عمر نصیف
سکریٹری جنرل رابطۂ عالمِ اسلامی ، مکہ مکرمہ
معالی الشیخ محمد علی الحرکان
(سکریٹری جنرل ر ابطۂ عالم اسلامی مکہ مکرمہ)
الحمد للہ رب العالمین ، خالق السموات والأرض وجاعل الظلمات والنور، وصلی اللہ علی سیدنا محمد خاتم الأنبیاء والرسل أجمعین، بشر وأنذر، ووَعَدَ وأَوْعَدَ، وأنقذ اللہ بہ البشر من الضلالۃ ، وھدی الناس إلی الصراط المستقیم ، صراط اللہ الذی لہ ما فی السموات وما فی الأرض ، ألا إلی اللہ تصیر الأمور ، وبعد:
چونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو مقام شفاعت اور درجۂ بلند عطا فرمایا ہے۔ اورآپ سے ہم مسلمانوں کو محبت کرنے کی ہدایت دی ہے اور آپ کی پیروی کو اپنی محبت کی نشانی قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے :
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ (آل عمران: ۳۱)
”یعنی اے پیغمبر کہہ دو ! اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو میری پیروی کرو ، اللہ تمہیں محبوب رکھے گا اور تمہارے گناہوں کو تمہارے لیے بخش دے گا۔ ”
اس لیے یہ بھی ایک سبب ہے جو دلوں کو آپ کا گرویدہ ووارفتہ بنا کر ان اسباب وذرائع کی جستجو میں ڈال دیتا ہے جو آپ کے ساتھ تعلقِ خاطر کو پختہ تر کردیں۔ چنانچہ طلوع اسلام ہی سے مسلمان آپﷺ کے محاسن کے اظہار اور آپﷺ کی سیرت طیبہ کی نشر واشاعت میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ آپﷺ کی سیرتِ طیّبہ نام ہے آپﷺ کے اقوال وافعال اور اخلاق کریمانہ کا۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : (( کان خلقہ القرآن)) یعنی ”قرآن کریم ہی آپ(ﷺ ) کا اخلاق تھا ” اور معلوم ہے کہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے کلماتِ تامّہ کا نام ہے۔ لہٰذا جس ذاتِ گرامی کا یہ وصف ہے وہ یقینا سارے انسانوں سے بہتر اور کامل ہے اور اللہ کی ساری مخلوق کی محبت کی سب سے زیادہ حقدار ہے۔
یہ گراں مایہ محبت ہمیشہ مسلمانوں کا سرمایۂ دل وجان رہی اور اسی کے افق سے سیرت نبویہ شریفہ کی پہلی کانفرنس کا نور پھوٹا۔ یہ کانفرنس ۱۳۹۶ ھ میں پاکستان کی سرزمین پر منعقد ہوئی اور رابطہ نے اس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ذیل کی شرائط پر پورے اترنے والے سیرت کے پانچ سب سے عمدہ مقالات پر ڈیڑھ لاکھ سعودی ریال کے مالی انعامات دیے جائیں گے۔ شرائط یہ ہیں :
مقالہ مکمل ہو اور اس میں تاریخی واقعات زمانۂ وقوع کے لحاظ سے ترتیب وار بیان کیے گئے ہوں۔
1. مقالہ عمدہ ہو اور اس سے پہلے شائع نہ کیا گیا ہو۔
2. مقالے کی تیاری میں جن مخطوطات اور علمی مآخذ پر اعتماد کیا گیا ہو ان سب کے حوالے مکمل دیے گئے ہوں۔
3. مقالہ نگار اپنی زندگی کے مکمل اور مفصل حالات قلم بند کرے اور اپنی علمی اسناد اور اپنی تالیفات کا -اگر ہوں تو – ذکر کرے۔
4. مقالے کا خط صاف اور واضح ہو بلکہ بہتر ہوگا کہ ٹائپ کیا ہوا ہو۔
5. مقالے عربی اور دوسری زندہ زبانوں میں قبول کیے جائیں گے۔
6. یکم ربیع الثانی ۱۳۹۶ ھ سے مقالات کی وصولی شروع کی جائے گی اور یکم محرم ۱۳۹۷ھ کو ختم کردی جائے گی۔
7. مقالات رابطۂ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے سیکرٹریٹ کو مہر بند لفافے کے اندر پیش کیے جائیں۔ رابطہ ان پر اپنا ایک خاص نمبر شمار ڈالے گا۔
8. اکابر علماء کی ایک اعلیٰ کمیٹی تمام مقالات کی چھان بین اور جانچ پڑتال کرے گی۔
رابطہ کا یہ اعلان محبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار اہل علم کے لیے مہمیز ثابت ہوا اور انھوں نے اس مقابلے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ادھر رابطۂ عالمِ اسلامی بھی عربی ، انگریزی، اُردو اور دیگر زبانوں میں مقالات کی وصولی اور استقبال کے لیے تیار تھا۔
پھر ہمارے محترم بھائیوں نے مختلف زبانوں میں مقالات بھیجنے شروع کیے ، جن کی تعداد ۱۷۱تک جا پہنچی۔ ان میں ۸۴ مقالے عربی زبان میں تھے۔ ۶۴ اُردو میں، ۲۱ انگریزی میں، ایک فرانسیسی میں اور ایک ہوسا زبان میں۔
رابطہ نے ان مقالات کو جانچنے اور استحقاقِ انعام کے لحاظ سے ان کی ترتیب قائم کرنے کے لیے کبار علماء کی ایک کمیٹی تشکیل دی اور انعام پانے والوں کی ترتیب یہ رہی :
پہلا انعام : شیخ صفی الرحمن مبارکپوری ، جامعہ سلفیہ ، ہند۔ پچاس ہزار سعودی ریال۔
دوسرا انعام : ڈاکٹر ماجد علی خاں ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی ، ہند۔ چالیس ہزارسعودی ریال۔
تیسرا انعام : ڈاکٹر نصیر احمد ناصر ، صدر جامعہ اسلامیہ ، بہاوّلپور ، پاکستان۔ تیس ہزار سعودی ریال۔
چوتھا انعام : استاد حامد محمود محمد منصور لیمود، مصر ، بیس ہزار سعودی ریال۔
پانچواں انعام : استاد عبد السلام ہاشم حافظ ، مدینہ منورہ ، مملکت سعودیہ عربیہ۔ دس ہزار سعودی ریال۔
رابطہ نے ان کامیاب افراد کے ناموں کا اعلان ، ماہ شعبان ۱۳۹۸ھ میں کراچی (پاکستان) کے اندر منعقد پہلی ایشیائی اسلامی کانفرنس میں کیا اور اشاعت کے لیے تمام اخبارات کو اس کی اطلاع بھیج دی۔
پھر تقسیم انعامات کے لیے رابطہ نے مکہ مکرمہ میں اپنے مستقر پر امیر سعود بن عبد المحسن بن عبد العزیز کی سرپرستی میں سنیچر۱۲/ ربیع الآخر ۱۳۹۹ھ کی صبح ایک بڑی تقریب منعقد کی۔ امیر سعود مکہ مکرمہ کے گورنر امیر فواز بن عبدالعزیز کے سکریٹری ہیں اور اس تقریب میں ان کے نائب کی حیثیت سے موصوف نے انعامات تقسیم کیے۔
اس موقع پر رابطہ کے سیکرٹریٹ کی طرف سے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ان کامیاب مقالات کو مختلف زبانوں میں طبع کراکر تقسیم کیا جائے گا۔ چنانچہ اس کو روبہ عمل لاتے ہوئے شیخ صفی الرحمن مبارکپوری جامعہ سلفیہ ہند کا (عربی) مقالہ سب سے پہلے طبع کراکر قارئین کی خدمت میں پیش کیا گیا، کیونکہ موصوف ہی نے پہلا انعام حاصل کیا ہے۔ اس کے بعد بقیہ مقالے بھی ترتیب وار طبع کیے جائیں گے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے اعمال اپنے لیے خالص بنائے اور انہیں شرفِ قبولیت سے نوازے۔ یقینا وہ بہترین مولیٰ اور بہترین مدد گار ہے۔ وصلی اللّٰہ علی سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔
محمد بن علي الحرکان
سیکرٹری جنرل رابطۂ عالم اسلامی مکہ مکرمہ
اپنی سر گزشت

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الأولین والآخرین محمد خاتم النبیین وعلی آلہ وصحبہ أجمعین أما بعد :
چونکہ رابطۂ عالم اسلامی نے سیرت نویسی کے مقابلے میں حصہ لینے والوں کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے حالات زندگی بھی قلم بند کریں ، اس لیے ذیل کی سطور میں اپنی سادہ زندگی کے چند خاکے پیش کررہا ہوں:
سلسلۂ نسب:
صفی الرحمن بن عبداللہ بن محمد اکبر بن محمد علی بن عبد المومن بن فقیر اللہ مبارک پوری ، اعظمی۔
پیدائش:
میں ۱۹۴۲ء کے وسط میں مبارک پور کے شمال میں تقریباً ایک میل کے فاصلے پر ایک چھوٹی سی بستی موضع حسین آباد میں پیدا ہوا۔ مبارک پور ، ضلع اعظم گڑھ کا ایک معروف علمی اور صنعتی قصبہ ہے۔
تعلیم وتعلّم:
میں نے بچپن میں قرآن مجید کا کچھ حصہ اپنے داد ا اور چچا سے پڑھا اور گاؤں ہی کے مدرسے میں تھوڑی سی تعلیم حاصل کی۔ پھر ۱۹۴۸ء میں مدرسہ عربیہ دارالتعلیم مبارک پور میں داخل ہوا۔ وہاں چند برسوں میں پرائمری درجات کے علاوہ قدرے فارسی وغیرہ کی تعلیم حاصل کر کے عربی زبان وقواعد اور نحو وصرف وغیرہ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جون ۱۹۵۴ء میں مدرسہ احیاء العلوم مبارکپور میں داخل ہو گیا۔ دو سال بعد مدرسہ فیض عام مئو جا پہنچا۔ اس مدرسہ کو اس علاقہ میں ایک اہم دینی درسگاہ کی حیثیت حاصل ہے اور مئو ناتھ بھنجن ، قصبہ مبارکپور سے ۳۵ کیلو میٹر کے فاصلے پر بجانب مشرق واقع ہے۔
مدرسہ فیض عام میں مَیں مئی ۱۹۵۶ء میں داخل ہوا اور وہاں پانچ سال رہ کر عربی زبان و قواعد اور شرعی علوم و فنون، یعنی تفسیر، حدیث ، اصول حدیث ، فقہ اور اصول فقہ وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔ جنوری ۱۹۶۱ء میں میری تعلیم مکمل ہوگئی اور مجھے باقاعدہ سند تکمیل، یعنی شہادۃ التخرج دے دی گئی۔ یہ سند فضیلت فی الشریعہ اور فضیلت فی العلوم کی سند ہے اور تدریس وافتاء کی اجازت پر مشتمل ہے۔
مجھ پر اللہ کا یہ کرم رہا کہ میں تمام امتحانات میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوتا رہا۔
دوران تعلیم ہی میں نے الٰہ آباد بورڈ کے زیر اہتمام منعقد کیے جانے عربی وفارسی کے سرکاری امتحانات مولوی وعالم میں بھی شرکت کی اور فروری ۱۹۵۹ء میں مولوی ، اور فروری ۱۹۶۰ء میں عالم کے امتحانات پاس کیے۔ پھر بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر فروری ۱۹۷۶ء میں فاضل ادب اور فروری ۱۹۷۸ء میں فاضل دینیات کے امتحانات دیئے اور ان سب امتحانات فرسٹ ڈویژن سے کامیاب ہوا۔
کار گاہ علم وحیات میں:
۱۹۶۱ء میں مدرسہ فیض عام سے فراغت کے بعد پہلے ضلع الٰہ آباد پھر شہر ناگپور میں پھر مختلف شہر اور مقامات میں درس وتدریس اور تقریر وخطابت کے شغل میں مشغول رہ کر اکتوبر ۱۹۷۴ء شوال ۱۳۹۴ھ میں جامعہ سلفیہ بنارس آگیا اور یہاں چودہ سال درس وتدریس کے فرائض انجام دے کر مدینہ یونیورسٹی کی دعوت پر اگست ۱۹۸۸ء ، محرم ۱۴۰۹ھ میں مدینہ منورہ آگیا اور یہاں کے مرکز خدمۃ السنۃ والسیرۃ النبویۃ میں علوم سیرت کی علمی تیاری میں مشغول گیا۔ دسمبر ۱۹۹۷ء کے خاتمے کے ساتھ مدینہ یونیورسٹی سے میرا اگریمنٹ ختم ہوگیا۔ اور اس کے کوئی دو ڈھائی مہینے کے بعد میں مکتبہ دارالسلام ریاض آگیا۔ جب سے یہیں تصنیف وتالیف اور علمی کاموں میں مشغول ہوں۔
تالیفات:
تعلیم کی تکمیل کے بعد میں نے درس وتدریس کے پہلو بہ پہلو تالیف وتصنیف کا بھی کچھ نہ کچھ شغل جاری رکھا۔ چنانچہ مختلف مضامین ومقالات کے علاوہ ذیل کی کتابوں اور رسائل کی تالیف یا ترجمے کا کام بھی کرچکا ہوں۔
بزبان عربي:
الرحیق المختوم، سیرت کی پیش نظر کتاب جسے رابطۂ عالم اسلامی سے پہلاانعام ملا اور جسے اللہ نے بڑی مقبولیت دی، دنیا کی پندرہ سے زیادہ زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے اور ہر جگہ ہاتھوں ہاتھ لی گئی۔
روضۃ الأنوارفی سیرۃ النبی المختار
البشارات بالنبی ﷺ في کتب الہندوس
البشارات بالنبی ﷺ عند البوذیین والفرس
اتحاف الکرام بشرح بلوغ المرام للحافظ ابن حجر العسقلانی
منۃ المنعم بشرح صحیح مسلم أحد الصحیحین
بہجۃ النظر فی مصطلح أہل الأثر
ابرازالحق والصواب فی مسألۃ السفور والحجاب
تطور الشعوب والدیانات فی الہند ومجال الدعوۃ الإسلامیۃ فیہا
الفرقۃ الناجیۃ والفرق الإسلامیۃ الأخری
الحکم الاسلامی وتعدد الأحزاب السیاسیۃ
تعلیق لطیف علیٰ ریاض الصالحین
المصباح المنیر فی تہذیب تفسیر ابن کثیر (عمل اشراف )
بزبان اُردو:
ترجمہ الرحیق المختوم
تجلیات نبوت (ترجمہ روضۃ الانوار)
تذکرۃ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب
تاریخ آل سعود
قادیانیت اپنے آئینہ میں
فتنۂ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری
انکار حدیث حق یا باطل
رزم حق یا باطل (روداد مناظرۂ بجرڈیہہ)
اسلام اور اہنسا
اہل تصوف کی کارستانیاں
مختصر اظہار الحق (ترجمہ)
ائمہ اربعہ کا عقیدہ (ترجمہ )
مختصر سیرۃ الرسول (ترجمہ ) از شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی رحمہ اللہ
علاوہ ازیں جامعہ سلفیہ بنارس سے بزبان اُردو شائع ہونے والے ماہنامہ محدث کی ایڈیٹر شپ بھی اس کے آغاز اشاعت (فروری ۱۹۸۲ء ) سے میرے جامعہ سلفیہ چھوڑنے (ستمبر ۱۹۸۸ء ) تک میرے ذمہ رہی اور اس دوران میں نے سیاسی ، سماجی ، ملکی اور دینی موضوعات پر دوسو سے زیادہ مضامین قلم بند کیے اور اس سے قبل اور اس کے بعد مختلف رسائل وجرائد میں بھی میرے مضامین شائع ہوتے رہے۔ وللہ الحمد !!
ناخوشگوار فریضہ:
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے میرے سبکدوش ہونے کے بعد پیہم اصرار کر کے ۱۹/ جولائی ۱۹۹۸ء کو مجھے مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ہند کا امیر یا صدر منتخب کردیا گیا۔ مگر مجھے جلد ہی محسوس ہوگیا کہ یہ ایک نامعقول ذمہ داری ہے۔ چنانچہ بعض اہم افراد سے تبادلۂ خیال کرنے کے بعد میں نے ۳ /اگست ۲۰۰۰ء کو اس ذمہ داری سے سبکدوشی اختیار کر لی، فللّٰہ الحمد والمنۃ علی فضلہ وإحسانہ۔
وہو الموفق وأزمۃ الأمور کلہا بیدہ، ربنا تقبل منا بقبول حسن وأنبتہ نباتاً حسناً۔
زیر نظر کتاب کے بارے میں

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ الذی أرسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ، فجعلہ شاہداً ومبشراً ونذیراً ، وداعیاً إلی اللہ بإذنہ وسراجاً منیراً، وجعل فیہ أسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الآخر وذکر اللہ کثیراً ، اللہم صل وسلم وبارک علیہ وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعہم بإحسان إلی یوم الدین وفجر لہم ینابیع الرحمۃ والرضوان تفجیراً ۰أما بعد :
یہ بڑی مسرت اور شادمانی کی بات ہے کہ ربیع الاوّل ۱۳۹۶ء میں پاکستان کے اندر منعقدہ سیرت کانفرنس کے اختتام پر رابطۂ عالم الاسلامی نے سیرت کے موضوع پر عمدہ ترین بحث پیش کرنے کے لیے مقالہ نویسی کا ایک عالمی مقابلہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ اہلِ قلم میں ایک طرح کی امنگ اور ان کی فکری کاوشوں میں ایک طرح کی ہم آہنگی پیدا ہو۔ میرے خیال میں یہ بڑا مبارک قدم ہے کیونکہ اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ درحقیقت سیرتِ نبوی اور اسوۂ محمدی ہی وہ واحد منبع ہے جس سے عالم اسلام کی زندگی اور انسانی معاشرے کی سعادت کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ آپﷺ کی ذات بابرکات پر بے شمار درود وسلام ہو۔
پھر یہ میری سعادت وخوش بختی ہے کہ میں بھی اس مبارک مقابلے میں شرکت کے لیے ایک مقالہ تیار کررہا ہوں۔ لیکن میری بساط ہی کیا ہے کہ مَیں سیّد الاوّلین والآخرینﷺ کی حیات مبارکہ پر روشنی ڈال سکوں۔ میں تو اپنی ساری خوش بختی وکامرانی اسی میں سمجھتا ہوں کہ مجھے آپﷺ کے انوار کا کچھ حصہ نصیب ہوجائے، تاکہ میں تاریکیوں میں بھٹک کر ہلاک ہونے کے بجائے آپﷺ کے ایک اُمتی کی حیثیت سے آپ کی روشن شاہراہ پر چلتا ہو ا زندگی گزاروں اور اسی راہ میں میری موت بھی آئے اور پھر آپﷺ کی شفاعت کی برکت سے اللہ تعالیٰ میرے گناہوں پر قلمِ عفو پھیردے۔
مقالہ نویسی کے لیے رابطہ کے اعلان میں جن آداب کا پابند کیا گیا ہے ان کے علاوہ ایک چھوٹی سی بات اپنی اس کتاب کے اندازِ تحریر کے متعلق بھی عرض کرنے کی ضرورت محسوس کررہا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں نے کتاب لکھنے سے پہلے ہی یہ بات طے کرلی تھی کہ اسے بارِ خاطر بن جانے والے طول اور ادائیگی مقصود سے قاصر رہ جانے والے اختصار دونوں سے بچتے ہوئے متوسط درجے کی ضخامت میں مرتب کروں گا ، لیکن جب کتبِ سیرت پر نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ واقعات کی ترتیب اور جزئیات کی تفصیل میں اتنا اختلاف ہے کہ جمع وتوفیق کی گنجائش نہیں ہے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ جہاں جہاں ایسی صورت پیش آئے وہاں بحث کے ہر پہلو پر نظر دوڑا کر اور بھر پور تحقیق کر کے جو نتیجہ اخذ کروں اسے اصل کتاب میں درج کردوں اور دلائل وشواہد کی تفصیلات وار ترجیح کے اسباب ذکر نہ کروں، ورنہ کتاب غیر مطلوب حد تک طویل ہوجائے گی۔ روایات کے رد وقبول میں مَیں نے سابق ائمہ متقنین کی تحریروں اور تحقیقات سے فائدہ اٹھایا ہے اور صحت وحسن وضعف کے سلسلے میں ان پر اعتماد کیا ہے، کیونکہ اس میدان میںاترنے کے لیے وقت قطعاً نا کافی تھا۔ البتہ جہاں یہ اندیشہ ہواکہ میری تحقیق قارئین کے لیے حیرت واستعجات کا باعث بنے گی، یا جن واقعات کے سلسلے میں عام اہل قلم نے کوئی ایسی تصویر پیش کی تھی جو میرے نقطۂ نظر سے صحیح نہ تھی وہاں دلائل کی طرف بھی اشارہ کردیا ہے۔
یااللہ! میرے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی مقدر فرما۔ تو یقینا غفور ودود ہے ، عرش کا مالک ہے اور بزرگ وبرتر ہے۔
جمعۃ المبارک جامعہ سلفیہ
۲۴ /رجب ۱۳۹۶ ء مطابق ۲۳/جولائی ۱۹۷۶ء بنارس ، ھند

عرب … محلِ وقوع اور قومیں

سیرتِ نبوی درحقیقت اس پیغام ربانی کے عملی پَر تَو سے عبارت ہے ، جسے رسول اللہﷺ نے قول وفعل اور ارشادوسلوک کے ذریعہ انسانی جمعیت کے سامنے پیش کیا تھا اور جس کے ذریعے زندگی کے پیمانے بدل دیئے تھے۔ برائی کو اچھائی سے تبدیل کردیا تھا اور انسان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں اور بندوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں داخل کردیا تھا۔ یہاں تک کہ دنیائے انسانیت میں تاریخ کی لائن اور زندگی کا دھارا بدل دیاتھا۔ چونکہ اس سیرتِ طیّبہ کی مکمل صورت گری ممکن نہیں جب تک کہ اس پیغامِ ربّانی کے نزول سے پہلے کے حالات اور بعد کے حالات کا تقابل نہ کیا جائے اس لیے اصل بحث سے پہلے پیش نظر باب میں اسلام سے پہلے کی عرب اقوام اور ان کی نشوونما، حکومتیں،امارات ، اس وقت کے قبائلی نظم ، ادیان وملل، عادات ورسوم،سیاست واجتماع ، اور اقتصاد کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ان حالات کا خاکہ پیش کیا جارہا ہے جن میں رسول اللہﷺ کی بعثت ہوئی تھی۔
عرب کا محلِ وقوع:
لفظ عرب صحرا اور بے آب وگیا ہ زمین کا معنی بتلاتا ہے۔ عہد قدیم سے یہ لفظ جزیرہ نمائے عرب اور اس میں بسنے والی قوموں پر بولا گیا ہے۔
عرب کے مغرب میں بحر احمر اور جزیرہ نمائے سینا ہے۔ مشرق میں خلیج عرب اور جنوبی عراق کا ایک بڑا حصہ ہے۔ جنوب میں بحر عرب ہے جو درحقیقت بحر ہند کا پھیلاؤ ہے۔ شمال میں ملک شام اور کسی قدر شمالی عراق ہے۔ ان میں سے بعض سرحدوں کے متعلق اختلاف بھی ہے، کل رقبے کا اندازہ دس لاکھ سے تیرہ لاکھ مربع میل تک کیا گیا ہے۔
جزیرہ نمائے عرب طبعی اور جغرافیائی حیثیت سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اندرونی طور پر یہ ہر چہار جانب سے صحرا اور ریگستان سے گھرا ہوا ہے جس کی بدولت یہ ایسا محفوظ قلعہ بن گیا ہے کہ بیرونی قوموں کے لیے اس پر قبضہ کرنا اور اپنا اثر ونفوذ پھیلانا سخت مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قلب جزیرۃ العرب کے باشندے عہدِ قدیم سے اپنے جملہ معاملات میں مکمل آزاد وخود مختار نظر آتے ہیں حالانکہ یہ ایسی دو عظیم طاقتوں کے ہمسایہ تھے کہ اگر یہ ٹھوس قدرتی رکاوٹ نہ ہوتی تو ان کے حملے روک لینا باشندگانِ عرب کے بس کی بات نہ تھی۔
بیرونی طور پر جزیرہ نمائے عرب پرانی دنیا کے تمام معلوم برّ اعظموں کے بیچوں بیچ واقع ہے اور خشکی اور سمندر دونوں راستوں سے ان کے ساتھ جڑا ہواہے۔ اس کا شمال مغربی گوشہ ، بر ّ اعظم افریقہ میں داخلے کا دروازہ ہے۔ شمال مشرقی گوشہ یورپ کی کنجی ہے۔ مشرقی گوشہ ایران ، وسط ایشیا اور مشرق بعید کے دروازے کھولتا ہے اور ہندوستان اور چین تک پہنچاتا ہے۔ اسی طرح ہر براعظم سمندر کے راستے بھی جزیرہ نمائے عرب سے جڑا ہوا ہے اور ان کے جہاز عرب بندرگاہوں پر براہ راست لنگر انداز ہوتے ہیں۔
اس جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے جزیرۃ العرب کے شمالی اور جنوبی گوشے مختلف قوموں کی آماجگاہ اور تجارت وثقافت اور فنون ومذاہب کے لین دین کا مرکز رہ چکے ہیں۔
عرب قومیں

مؤرّخین نے نسلی اعتبار سے عرب اقوام کی تین قسمیں قرار دی ہیں :
عرب بائدہ…یعنی وہ قدیم عرب قبائل اور قومیں جو بالکل ناپید ہوگئیں اور ان کے متعلق ضروری تفصیلات بھی دستیاب نہیں۔ مثلاً: عاد ، ثمود، طَسم ، جَدِیس ، عَمَالِقَہ ، امیم ، جرہم، حضور ، وبار، عبیل اور حضرموت وغیرہ۔
عرب عَارِبَہ… یعنی وہ عرب قبائل جو یعرب بن یشجب بن قحطان کی نسل سے ہیں۔ انہیں قحطانی عرب کہا جاتا ہے۔
عرب مُستعربہ… یعنی وہ عرب قبائل جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔ انہیں عدنانی عرب کہا جاتا ہے۔
عرب عاربہ : یعنی قحطانی عرب کا اصل گہوارہ ملک یمن تھا۔ یہیں ان کے خاندان اور قبیلے سبأ بن یشجب بن یعرب بن قحطان کی نسل سے مختلف شاخوں میں پھوٹے ، پھیلے اور بڑھے۔ ان میں سے دو قبیلوں نے بڑی شہرت حاصل کی۔ ایک حمیر بن سبأ ، دوسرے کہلان بن سبأ۔ سبأ کی باقی اوّلاد جو گیارہ یا چودہ تھے ان کا کوئی قبیلہ نہ بن سکا۔ وہ سبائی ہی کہلاتے ہیں۔
(الف) حِمیر …کی مشہور شاخیں یہ ہیں :
قضاعہ : اس سے بہراء، بلی ، قین، عذرہ، وبرہ ، کے قبیلے ہیں۔
سکاسک : یہ بنو زید بن وائلہ بن حمیر ہیں۔ زید ہی کا لقب سکاسک ہے اور یہ کندہ کے سکاسک سے الگ ہیں، جن کا ذکر بنو کہلان میں آرہا ہے۔
زید الجمہور : ان کی شاخوں میں حمیر اصغر ، سبأ اصغر ، حضور اور ذو اصبح ہیں۔
(ب ) کہلان …جس کی مشہور شاخیں ہمدان ، الہان ، اشعر ، طَی،مذحِج، (مذحج سے عنس اور نخع ) لَخم ،( لخم سے کندہ ، اور کندہ سے بنو معاویہ ، سکون اور سکاسک) جُذَام ، عائلہ ، خولان ، معافر ، انمار (انمار سے خثعم ، بجیلہ۔ بجیلہ سے احمس ) اور ازد (اور ازد سے اوس ، خَزرج ، خزاعہ اور اوّلادِ جفنہ ہیں ، جنھوں نے آگے چل کر ملک شام کے اطراف میں بادشاہت قائم کی اور آل غسّان کے نام سے مشہور ہوئے۔
عام کہلانی قبائل نے بعد میں یمن چھوڑ دیا اور جزیرۃ العرب کے مختلف اطراف میں پھیل گئے۔ ان کے عمومی ترکِ وطن کا واقعہ سیلِ عَرِم سے کسی قدر پہلے اس وقت پیش آیا جب رومیوں نے مصر وشام پر قبضہ کرکے اہل یمن کی تجارت کے بحری راستے پر اپنا تسلط جما لیا ، اور بَر ّی شاہراہ کی سہولیات غارت کر کے اپنا دباؤ اس قدر بڑھا دیا کہ کہلانیوں کی تجارت تباہ ہو کر رہ گئی۔
اور کہا جاتا ہے کہ انھوں نے سیل عرم کے بعد اس وقت ترک وطن کیا جب تجارت کی ناکامی کے بعد کھیتی اور چوپائے بھی تباہ ہو گئے اور یوں سارے وسائل زندگی ختم ہو گئے۔ سورۂ سبأ :۱۵- ۱۹ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
کچھ عجب نہیں کہ کہلانی اور حمیر ی خاندانوں میں چشمک بھی رہی ہو اور یہ بھی کہلانیوں کے ترکِ وطن کا ایک مؤثر سبب بنی ہو۔ اس کا اشارہ اس سے بھی ملتا ہے کہ کہلانی قبائل نے تو ترکِ وطن کیا لیکن حمیری قبائل اپنی جگہ برقرار رہے۔
جن کہلانی قبائل نے ترکِ وطن کیا ان کی چار قسمیں کی جاسکتی ہیں :
اَزد … انھوں نے اپنے سردار عمران بن عمرو مزیقیاء کے مشورے پر ترکِ وطن کیا۔ پہلے تویہ یمن ہی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہے اور حالات کا پتا لگانے کے لیے آگے آگے ہر اوّل دستوں کو بھیجتے رہے لیکن آخر کار شمال اور مشرق کا رخ کیا اور پھر مختلف شاخیں گھومتے گھماتے مختلف جگہ دائمی طور پر سکونت پذیر ہو گئیں۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے :
ثعلبہ بن عَمرو : اس نے اوّلاً حجاز کا رُخ کیا اور ثعلبیہ اور ذی قار کے درمیان اقامت اختیار کی۔ جب اس کی اوّلاد بڑی ہوگئی اور خاندان مضبوط ہوگیا تو مدینہ کی طرف کوچ کیا ، اور اسی کو اپنا وطن بنا لیا۔ اسی ثعلبہ کی نسل سے اَوس اور خَزرَج ہیں جو ثعلبہ کے صاحبزادے حارثہ کے بیٹے ہیں۔
حارثہ بن عَمرو: یعنی خزاعہ اور اس کی اوّلاد یہ لوگ سرزمین حجاز میں گردش کرتے ہوئے مَرّالظہران میں خیمہ زن ہوئے، پھر حرم پر دھاوا بول دیا اور بنو جرہْم کو نکال کر خود مکہ میں بودو باش اختیار کر لی۔
عمران بن عمَرو: اس نے اور اس کی اوّلاد نے عمان میں سکونت اختیار کی، اس لیے یہ لوگ ازدعمان کہلاتے ہیں۔
نصر بن ازد: اس سے تعلق رکھنے والے قبائل نے تہامہ میں قیام کیا۔ یہ لوگ اَزدِشَنُوء ۃ کہلاتے ہیں۔
جفنہ بن عمَرو: اس نے ملک شام کا رخ کیا اور اپنی اوّلاد سمیت وہیں متوطن ہو گیا۔ یہی شخص غَسّانی بادشاہوں کا جدّ اعلیٰ ہے۔ انہیں آل غَسّان اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے شام منتقل ہونے سے پہلے حجاز میں غَسّان نامی ایک چشمہ پر کچھ عرصہ قیام کیا تھا۔
چھوٹے قبائل حجاز وشام کی جانب منتقل ہونے میں ان ہی قبائل کے ساتھ شامل ہوگئے ، مثلاً: کعب بن عمرو ، حارث بن عمرو اور عوف بن عمر و۔
لخم وجذام … یہ لوگ مشرق اور شمال کی جانب منتقل ہوئے۔ ان ہی لخمیوں میں نصر بن ربیعہ تھا جو حیرہ کے شاہان آل مُنذِر کا جد اعلیٰ ہے۔
بنوطَیٔ … اس قبیلے نے بنو اَزد کے ترک ِ وطن کے بعد شمال کا رخ کیا اور اجاء اور سلمیٰ نامی دوپہاڑیوں کے اطراف میں مستقل طور پر سکونت پذیر ہوگیا ، یہاں تک کہ یہ دونوں پہاڑیاں قبیلہ طی کی نسبت سے مشہور ہو گئیں۔
کندہ … یہ لوگ بحرین –– موجودہ الاحساء –– میں خیمہ زن ہوئے۔ لیکن مجبوراً وہاں سے دست کش ہوکر حضرموت گئے۔ مگر وہاں بھی امان نہ ملی اور آخر کار نجد میں ڈیرے ڈالنے پڑے۔ یہاں ان لوگوں نے ایک عظیم الشان حکومت کی داغ بیل ڈالی۔ مگر یہ حکومت پائیدار نہ ثابت ہوئی اور ا س کے آثار جلد ہی ناپید ہوگئے۔
کہلان کے علاوہ حمیر کا بھی صرف ایک قبیلہ قضاعہ ایسا ہے –– اور اس کا حمیری ہونا بھی مختلف فیہ ہے –– جس نے یمن سے ترکِ وطن کر کے حدود عراق میں بادیۃ السماوہ کے اندر بود وباش اختیار کی 1 بعض نے ملک شام کے حدود میں اور شمالی حجاز میں سکونت اختیار کی۔(1۔ان قبائل کی اور ان کے ترک وطن کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو: نسب معد والیمن الکبیر ، جمہرۃ النسب ، العقد الفرید ، قلائد الجمان ، نہایۃ الادب ، تاریخ ابن خلدون ، سبائک الذہب اور تاریخ العرب قبل الاسلام سے متعلق کتابیں۔ ترک وطن کے ان واقعات کے زمانہ اور اسباب کے تعین میں تاریخی مآخذ کے درمیان بڑا سخت اختلاف ہے۔ ہم نے مختلف پہلوؤں پر غور کرکے جو بات راجح محسوس کی اسے درج کردیا ہے۔)
عرب مُستَعربہ: ان کے جَدِ اعلیٰ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اصلاً عراق کے شہر اُور کے باشندے تھے۔ یہ شہر دریائے فرات کے مغربی ساحل پر کوفے کے قریب واقع تھا۔ اس کی کھدائی کے دوران جو کتبات برآمد ہو ئے ہیں ان سے اس شہر کے متعلق بہت سی تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کی بعض تفصیلات اور باشندگانِ ملک کے دینی اور اجتماعی حالات سے بھی پردہ ہٹا ہے۔
یہ معلوم ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہاں سے ہجرت کر کے شہر حَرّان تشریف لے گئے تھے اور پھر وہاں سے فلسطین جا کر اسی ملک کو اپنی پیغمبرانہ سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا تھا اور دعوت وتبلیغ کے لیے یہیں سے اندرون وبیرون ملک مصروفِ تگ وتاز رہا کرتے تھے۔ ایک بار آپ مصر تشریف لے گئے۔ فرعون نے آپ کی بیوی حضرت سارہؑ کی کیفیت حسن وجمال سنی تو ان کے بارے میں بد نیت ہو گیا اور اپنے دربار میں بُرے ارادے سے بلایا لیکن اللہ نے حضرت سارہؑ کی دعا کے نتیجے میں غیبی طور پر فرعون کی ایسی گرفت کی کہ وہ ہاتھ پاؤں مارنے اور پھینکنے لگا۔ اس کی نیت بد اس کے منہ پر ماردی گئی اور وہ حادثے کی نوعیت سے سمجھ گیا کہ حضرت سارہؑ اللہ تعالیٰ کی نہایت خاص اور مقرب بندی ہیں اور وہ حضرت سارہؑ کی اس خصوصیت سے اس قدر متاثر ہوا کہ حضرت ہاجرہؑ کو ان کی خدمت میں دے دیا۔
(مشہور یہ ہے کہ حضرت ہاجرہ ؑ لونڈی تھیں لیکن علامہ منصور پوری نے مفصل تحقیق کرکے اور محققین اہل کتاب نے اپنے صحیفوں کی شرح میں جو کچھ بیان کیا ہے اس سے استناد کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ لونڈی نہیں بلکہ آزاد تھیں اور فرعون کی بیٹی تھیں۔ دیکھئے رحمۃ للعالمین ۲/۳۶ -۳۷ ،ابن خلدون ، عمرو بن عاص اور اہل ِ مصر کی ایک گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مصریوں نے ان سے کہا کہ ہاجرہ ہمارے ایک بادشاہ کی خاتون تھیں ، ہمارے اور عین شمس والوں کے درمیان لڑائیاں ہوئیں۔ ایک لڑائی میں انھیں شکست ہوئی۔ چنانچہ فاتحین نے بادشاہ کو قتل کردیا ، اور ہاجرہ کو قید کر لیا اور یوں وہ تمہارے باپ ابراہیم ؑ تک پہنچیں۔ (تاریخ ابن خلدون ۲/۱/۷۷ ))
پھر حضرت سارہؑ نے حضرت ہاجرہؑ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجیت میں دے دیا۔
(ایضاً ۲/۳۴ واقعے کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:صحیح بخاری ۱/۴۸۴۔)
حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت سارہؑ اور حضرت ہاجرہؑ کو ہمراہ لے کر فلسطین واپس تشریف لا ئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہاجرہ علیہا السلام کے بطن سے ایک فرزند ارجمند اسماعیل علیہ السلام عطا فرمایا لیکن اس پر حضرت سارہؑ کو جوبے اوّلاد تھیں بڑی غیرت آئی اور انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مجبور کیا کہ حضرت ہاجرہؑ کو ان کے نوزائیدہ بچے سمیت جلاوطن کردیں۔ حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ انہیں حضرت سارہؑ کی بات ماننی پڑی اور وہ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کو ہمراہ لے کر حجاز تشریف لے گئے اور وہاں ایک بے آب وگیاہ وادی میں بیت اللہ شریف کے قریب ٹھہرادیا۔ اس وقت بیت اللہ شریف نہ تھا۔ صرف ٹیلے کی طرح اُبھری ہو ئی زمین تھی۔ سیلاب آتا تھا تو دائیں بائیں سے کتراکر نکل جاتا تھا۔ وہیں مسجد حرام کے بالائی حصے میں زمزم کے پاس ایک بہت بڑا درخت تھا۔ آپ نے اسی درخت کے پاس حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کو چھوڑا تھا۔ اس وقت مکہ میں نہ پانی تھا نہ آدم اور آدم زاد۔ اس لیے حضرت ابراہیم ؑ نے ایک توشہ دان میں کھجور اور ایک مشکیزے میں پانی رکھ دیا۔ اس کے بعد فلسطین واپس چلے گئے لیکن چند ہی دن میں کھجور اور پانی ختم ہو گیا اور سخت مشکل پیش آئی مگر اس مشکل وقت پر اللہ کے فضل سے زمزم کا چشمہ پھوٹ پڑا اور ایک عرصہ تک کے لیے سامانِ رزق اور متاعِ حیات بن گیا۔ تفصیلات معلوم ومعروف ہیں۔
(ملا حظہ ہو: صحیح بخاری ، کتاب الانبیاء ۲/۴۷۴ ، ۴۷۵۔)
کچھ عرصے کے بعد یمن سے ایک قبیلہ آیا جسے تاریخ میں جُرہُم ثانی کہا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ اسماعیل علیہ السلام کی ماں سے اجازت لے کر مکہ میں ٹھہر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قبیلہ پہلے مکہ کے گرد وپیش کی وادیوں میں سکونت پذیر تھا۔ صحیح بخاری میں اتنی صراحت موجود ہے کہ (رہائش کی غرض سے ) یہ لوگ مکہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی آمد کے بعد اور ان کے جوان ہونے سے پہلے وارد ہو ئے تھے لیکن اس وادی سے ان کا گزر اس سے پہلے بھی ہوا کرتا تھا۔
(صحیح بخاری ۱/۴۷۵۔)
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے متروکات کی نگہداشت کے لیے وقتًا فوقتًا مکہ تشریف لایا کرتے تھے لیکن یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس طرح ان کی آمد کتنی بار ہوئی۔ البتہ تاریخی مآخذ میں چار بار ان کی آمد کی تفصیل محفوظ ہے جو یہ ہے :
قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھلایا کہ وہ اپنے صاحبزادے (حضرت اسماعیل علیہ السلام ) کو ذبح کر رہے ہیں۔ یہ خواب ایک طرح کا حکمِ الٰہی تھا اور باپ بیٹے دونوں اس حکمِ الٰہی کی تعمیل کے لیے تیار ہو گئے اور جب دونوں نے سرِ تسلیم خم کردیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بَل لٹا دیا تو اللہ نے پکارا : ”اے ابراہیم ! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا ، ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی ہوئی آزمائش تھی اور ہم نے انہیں فِدیے میں ایک عظیم ذبیحہ عطا فرمایا۔”
(سورۂ صافات : ۱۰۳ – ۱۰۷ (فلما أسلما…بذبح عظیم ))
مجموعہ بائیبل کی کتاب پیدائش میں مذکور ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ، حضرت اسحاق علیہ السلام سے تیرہ سال بڑے تھے اور قرآن کا سیاق بتلاتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے پیش آیا تھا۔ کیونکہ پورا واقعہ بیان کر چکنے کے بعد حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت کا ذکرہے۔
اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے جوان ہو نے سے پہلے کم از کم ایک بار حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کا سفر ضرور کیا تھا۔ بقیہ تین سفروں کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک طویل روایت میں ہے جو ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے (صحیح بخاری ۱/۴۷۵-۴۷۶)
اس کا خلاصہ یہ ہے
حضرت اسماعیل علیہ السلام جب جوان ہو گئے۔ جُرہُم سے عربی سیکھ لی اور ان کی نگاہوں میں جچنے لگے تو ان لوگوں نے اپنے خاندان کی ایک خاتون سے آپؑ کی شادی کردی۔ اسی دوران حضرت ہاجرہؑ کا انتقال ہو گیا۔ ادھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خیال ہو اکہ اپنا ترکہ دیکھنا چاہیے۔ چنانچہ وہ مکہ تشریف لے گئے لیکن حضرت اسماعیل ؑ سے ملاقات نہ ہوئی۔ بہو سے حالات دریافت کیے۔ اس نے تنگ دستی کی شکایت کی۔ آپ ؑ نے وصیت کی کہ اسماعیل علیہ السلام آئیں تو کہنا اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دیں۔ اس وصیت کا مطلب حضرت اسماعیل علیہ السلام سمجھ گئے۔ بیوی کو طلاق دے دی اور ایک دوسری عورت سے شادی کر لی جو جُرہُم کے سردار مضاض بن عَمرو کی صاحبزادی تھی۔
(قلب جزیرۃ العر ب ص :۲۳۰)
اس دوسری شادی کے بعد ایک بار پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ تشریف لے گئے مگر اس دفعہ بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ملاقات نہ ہوئی۔ بہو سے احوال دریافت کیے تو اس نے اللہ کی حمد وثناء کی۔ آپ نے وصیت کی کہ اسماعیل علیہ السلام اپنے دروازے کی چوکھٹ برقرار رکھیں اور فلسطین واپس ہو گئے۔
اس کے بعد پھر تشریف لائے تو اسماعیل علیہ السلام زمزم کے قریب درخت کے نیچے تیر گھڑ رہے تھے۔ دیکھتے ہی لپک پڑے اور وہی کیا جو ایسے موقع پر ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ اور بیٹا باپ کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ ملاقات اتنے طویل عرصے کے بعد ہو ئی تھی کہ ایک نرم دل اور شفیق باپ اپنے بیٹے سے اور ایک اطاعت شعار بیٹا اپنے باپ سے بمشکل ہی اتنی لمبی جدائی برداشت کر سکتا ہے۔ اسی دفعہ دونوں نے مل کر خانۂ کعبہ تعمیر کیا۔ بنیاد کھود کر دیواریں اٹھائیں اور ابراہیم علیہ السلام نے ساری دنیا کے لوگوں کو حج کے لیے آواز دی۔
اللہ تعالیٰ نے مضاض کی صاحبزادی سے اسماعیل علیہ السلام کو بارہ بیٹے عطا فرمائے۔
(قلب جزیرۃ العر ب ص :۲۳۰)
جن کے نام یہ ہیں :
نابت یا نبایوط ، قیدار ، ادبائیل ، مبشام ، مشماع، دوما ، میشا، حدد ، تیما، یطور ، نفیس اور قیدمان۔
ان بارہ بیٹوں سے بارہ قبیلے وجود میں آئے اور سب نے مکہ ہی میں بودوباش اختیار کی۔ ان کی معیشت کا دارومدار زیادہ تر یمن اور مصر وشام کی تجارت پر تھا۔ بعد میں یہ قبائل جزیرۃ العرب کے مختلف اطراف میں – بلکہ بیرون عرب بھی- پھیل گئے اور ان کے حالات ، زمانے کی دبیز تاریکیوں میں دب کر رہ گئے۔ صرف نابِت اور قیدار کی اوّلاد اس گمنامی سے مستثنیٰ ہیں۔
نبطیوں کے تمدّن کو شمالی حجاز میں فروغ اور عروج حاصل ہوا۔ انھوں نے ایک طاقتور حکومت قائم کرکے گردوپیش کے لوگوں کو اپنا باجگذار بنا لیا۔ بَطراء ان کا دار الحکومت تھا۔ کسی کو ان کے مقابلے کی تاب نہ تھی۔ پھر رومیوں کا دور آیا اور انھوں نے نبطیوں کو قصۂ پارینہ بنادیا۔ انساب کا علم رکھنے والے محققین کی ایک جماعت کا رجحان یہ ہے کہ آلِ غسان اور انصار یعنی اَوس وخَزرج قحطانی عرب نہ تھے۔ بلکہ اس علاقے میں نابت بن اسماعیل(علیہ السلام ) کی جو نسل بچی کھچی رہ گئی تھی وہی تھے۔ امام بخاری کا رجحان یہی ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ان کے ایک باب کا عنوان یہ ہے: ”نسبۃ الیمن إلی اسماعیل ”اس پر انھوں نے بعض احادیث سے استدلال کیا ہے، حافظ ابن حجر اس کی شرح میں کہتے ہیں کہ قحطان نابت بن اسماعیل علیہ السلام کے نسل سے ہیں۔
(بخاری ، کتاب المناقب ، باب نسبۃالیمن الی اسماعیل حدیث نمبر ۳۵۰۷ فتح الباری ۶/۶۲۱-۶۲۳ نسب معد والیمن الکبیر ۱/۱۳۱ ، تاریخ ابن خلدون: ۲/۱/۴۶، ۲/۲/۲۴۱ ، ۲۴۲ ۔)
قیدار بن اسماعیل علیہ السلام کی نسل مکہ ہی میں پھلتی پُھولتی پرہی یہاں تک کہ عَدنان اور پھر ان کے بیٹے مَعد کا زمانہ آگیا۔ عدنانی عرب کا سلسلۂ نسب صحیح طور پر یہیں تک محفوظ ہے۔
عدنان ، نبیﷺ کے سلسلۂ نسب میں اکیسویں پشت پر پڑتے ہیں۔ بعض روایتوں میں بیان کیا گیا ہے کہ آپﷺ جب اپنا سلسلۂ نسب ذکر فرماتے تو عدنان پر پہنچ کر رک جاتے اور آگے نہ بڑھتے۔ فرماتے کہ ماہرینِ انساب غلط کہتے ہیں۔
(طبری : تاریخ الامم والملوک: ۲/۱۹۱-۱۹۴، الاعلام ۵/۶۔)
مگر علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ عدنان سے آگے بھی نسب بیان کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ مگر خود ان کے درمیان اتنا اختلاف ہے کہ جمع وتطبیق ممکن نہیں۔ علامہ منصورپوری کا رجحان ابن سعد کے ذکر کردہ اس قول کی جانب ہے ، جسے طبری اور مسعودی نے منجملہ اقوال کے ذکر کیا ہے، عدنان اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان چالیس پشتیں ہیں۔
(ابن سعد ۱/۵۶ تاریخ طبری: ۲/۲۷۲، ۲۷۳ مروج الذہب مسعودی : ۲/۲۷۳ ، ۲۷۴ تاریخ ابن خلدون: ۲/۲/۲۹۸ فتح الباری: ۶/۶۲۲ رحمۃ للعالین: ۲/۷،۸، ۱۴، ۱۷۔)
بہر حال مَعد کے بیٹے نزار سے …جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کے علاوہ مَعَد کی کوئی اوّلاد نہ تھی… کئی خاندان وجود میں آئے۔ در حقیقت نزار کے چار بیٹے تھے اور ہر بیٹا ایک بڑے قبیلے کی بنیاد ثابت ہوا۔ چاروں کے نام یہ ہیں : اِیاد ، انمار، ربیعہ اور مضر ، ان میں سے مؤخر الذکر دوقبیلوں کی شاخیں اور شاخوں کی شاخیں بہت زیادہ ہوئیں۔ چنانچہ ربیعہ سے ضبیعہ اور اَسد بن ربیعہ ، اسد سے عنزہ وجدیلہ ، جدیلہ سے عبد القیس ، وائل ، وائل سے بکر ، تغلب اور بنو بکر سیبنو قیس بنوشیبان اور بنو حنیفہ وغیرہ وجود میں آئے۔ عنزہ سے موجودہ سعودی عرب کے حکمراں آلِ سعود ہیں۔
مُضر کی اوّلاد دو بڑے قبیلوں میں تقسیم ہوئی :

قیس عیلان بن مضر
الیاس بن مضر
قیس بن عیلان سے بنو سُلیم ، بنو ہَوَازِن ، بنو ثقیف ، بنو صعصعہ ، بنو غطفان ، غطفان سے عَبس ، ذُبیَان … اشجع اور غنی بن اعصر کے قبائل وجود میں آئے۔
الیاس بن مضر سے تمیم بن مرہ ، ہذیل بن مدرکہ ، بنو اسد بن خزیمہ اور کنانہ بن خزیمہ کے قبائل وجود میں آئے۔ پھر کِنانہ سے قریش کا قبیلہ وجود میں آیا۔ یہ قبیلہ فِہر بن مالک بن نضر بن کنانہ کی اوّلاد ہے۔
پھر قریش بھی مختلف شاخوں میں تقسیم ہوئے۔ مشہور قریشی شاخوں کے نام یہ ہیں :
جمح ، سَہم ، عَدِی، مخزوم ، تیم ، زُہرہ، اورقُصَیّ بن کلاب کے خاندان۔ یعنی عبد الدار ، اسد بن عبد العزیٰ اور عبد مناف۔ یہ تینوں قُصَیّ کے بیٹے تھے۔ ان میں سے عبدِمناف کے چار بیٹے ہوئے ، جن سے چار ذیلی قبیلے وجود میں آئے۔ یعنی عبدِشمس ، نوفل ، مُطَّلِب اور ہاشم۔ انہیں ہاشم کی نسل سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے حضور محمدﷺ کا انتخاب فرمایا۔
رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی اوّلاد میں سے اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایا، پھر اسماعیل علیہ السلام کی اوّلاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ کی نسل سے قریش کو چنا، پھر قریش میں سے بنو ہاشم کا انتخاب کیا اور بنوہاشم میں سے میرا انتخاب کیا۔ (صحیح مسلم ۲/۲۴۵، جامع ترمذی ۲/۲۰۱۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :”اللہ تعالیٰ نے خلق کی تخلیق فرمائی تو مجھے سب سے اچھے گروہ میں بنایا ، پھر ان کے بھی دوگروہوں میں سے زیادہ اچھے گروہ کے اندر رکھا ، پھر قبائل کو چنا تو مجھے سب سے اچھے قبیلے کے اندر بنایا ، پھر گھرانوں کو چنا مجھے سب سے اچھے گھرانے میں بنا یا، لہٰذا میں اپنی ذات کے اعتبار سے بھی سب سے اچھا ہوں ، اور اپنے گھرانے کے اعتبار سے بھی سب سے بہتر ہوں اور ایک لفظ یوں ہے ”اللہ نے مخلوق پیدا کی تو مجھے بہترین فرقے میں بنایا۔ پھر انہیں دوفرقے بنایا تو مجھے اچھے فرقے کے اندر بنایا ، پھر انہیں قبائل بنائے۔ پھر مجھے بہترین قبیلے میں بنایا۔ پھر انہیں گھرانے بنائے تو مجھے بہترین گھرانے اوربہترین نفس کا بنایا۔ (ترمذی ۲/۲۰۱)
بہر حال عدنان کی نسل جب زیادہ بڑھ گئی تو وہ چارے پانی کی تلاش میں عرب کے مختلف اطراف میں بکھر گئی، چنانچہ قبیلہ عبد القیس نے ، بکر بن وائل کی کئی شاخوں نے اور بنوتمیم کے خاندانوں نے بحرین کا رُخ کیا اور اسی علاقے میں جابسے۔
بنو حنیفہ بن صعب بن علی بن بکر نے یمامہ کا رُخ کیا اور اس کے مرکز حجر میں سکونت پذیر ہوگئے۔
بکر بن وائل کی بقیہ شاخوں نے یمامہ سے لے کر بحرین ، ساحل کاظمہ ، خلیج ، سواد عراق ، اُبُلَّہ اور ہِیت تک کے علاقوں میں بودوباش اختیار کی۔
بنو تغلب جزیرہ فراتیہ میں اقامت گزیں ہوئے، البتہ ان کی بعض شاخوں نے بنوبکر کے ساتھ سکونت اختیار کی۔
بنوتمیم نے بادیہ بصرہ کو اپنا وطن بنایا۔
بنو سلیم نے مدینہ کے قریب ڈیرے ڈالے۔ ان کا مسکن وادی القریٰ سے شروع ہو کر خیبر اور مدینہ کے مشرق سے گزرتا ہوا حرہ بنوسُلیم سے متصل دوپہاڑوں تک منتہی ہوتا تھا۔
بنو ثقیف نے طائف کو وطن بنایا اور بنو ہَوازن نے مکہ کے مشرق میں وادیٔ اوطاس کے گرد وپیش ڈیرے
ڈالے۔ ان کا مسکن مکہ …بصرہ شاہراہ پر واقع تھا۔
بنو اسد تَیماء کے مشرق اور کوفہ کے مغرب میں خیمہ زن ہوئے۔ ان کے اور تیماء کے درمیان بنو طی کا ایک خاندان بحتر آباد تھا۔ بنو اسد کی آبادی اور کوفے کے درمیان پانچ دن کی مسافت تھی۔
بنو ذُبیان تیماء کے قریب حوران کے اطراف میں آباد ہو ئے۔
تہامہ میں بنو کنانہ کے خاندان رہ گئے تھے۔ ان میں سے قریشی خاندانوں کی بود وباش مکہ اور اس کے اطراف میں تھی۔ یہ لوگ پراگندہ تھے۔ ان کی کوئی شیرازہ بندی نہ تھی تا آنکہ قُصی بن کلاب ابھر کر منظر عام پر آیا اور قرشیوں کو متحد کر کے شرف و عزت اور بلندی ووقار سے بہرہ ور کیا۔ ( محاضرات خضری ۱/۱۵، ۱۶۔)

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: