Ar-Raheeq Al-Makhtum by Safiur Rahman Mubarakpuri – Episode 2

0
الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری – قسط نمبر 2

–**–**–

عرب عاربہ میں سے جو قدیم یمانی قوم معلوم ہوسکی وہ قوم سبا ہے اور (عراق ) سے جو کتبات برآمد ہوئے ہیں ان میں ڈھائی ہزار سال قبل مسیح اس قوم کا ذکر ملتا ہے، لیکن اس کے عروج کا زمانہ گیارہ صدی قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس کی تاریخ کے اہم ادوار یہ ہیں :
۱۳۰۰ ق م سے ۶۵۰ ق م تک کا دور :…اس دور میں شاہانِ سبا کا لقب مکرب سَبَا تھا۔ ان کا پایۂ تخت صرواح تھا۔ جس کے کھنڈر آج بھی مارب کے شمال مغرب میں پچاس کیلومیٹر کے فاصلے پر پائے جاتے ہیں اور خربیہ کے نام سے مشہور ہیں۔ اسی دور میں مآرب کے مشہور بند کی بنیاد رکھی گئی ، جسے یمن کی تاریخ میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں سلطنت سبا کو اس قدر عروج حاصل ہوا کہ انھوں نے عرب کے اندر اور عرب سے باہر جگہ جگہ اپنی نو آبادیاں قائم کر لی تھیں۔ اس دور کے بادشاہوں کی تعداد کا اندازہ ۲۳ سے ۲۶ تک کیا گیا ہے۔
1۔۔ ۶۵۰ ق م سے ۱۵ ۱ ق م تک کا دور :…اس میں سبا کے بادشاہوں نے مکرب کا لفظ چھوڑ کر ملک (بادشاہ) کا لقب اختیار کرلیا اور صرواح کے بجائے مآرب کو اپنا دار السلطنت بنایا۔ اس شہر کے کھنڈر آج بھی صنعاء سے ۱۹۲ کیلومیٹر مشرق میں پائے جاتے ہیں۔
2۔۔ ۱۱۵ق م سے ۳۰۰ ء تک کا دور:…اس دور میں سبا کی مملکت پر قبیلہ حِمیر کو غلبہ حاصل رہا اور اس نے مآرب کے بجائے رَیدان کو اپنا پایۂ تخت بنایا۔ پھر ریدان کا نام ظفار پڑ گیا۔ جس کے کھنڈرات آج بھی شہر ”یریم” کے قریب ایک مُدَوّر پہاڑی پر پائے جاتے ہیں۔
یہی دور ہے جس میں قوم سبا کا زوال شروع ہوا۔ پہلے نبطیوں نے شمالی حجاز پر اپنا اقتدار قائم کر کے سبا کو ان کی نو آبادیوں سے نکال باہر کیا۔ پھر رومیوں نے مصر وشام اور شمالی حجاز پر قبضہ کر کے ان کی تجارت کے بحری راستے کو مخدوش کر دیا اور اس طرح ان کی تجارت رفتہ رفتہ تباہ ہو گئی۔ ادھر قحطانی قبائل خود بھی باہم دست وگریباں تھے۔ ان حالات کا نتیجہ یہ ہوا کہ قحطانی قبائل اپنا وطن چھوڑ چھوڑ کر اِدھر اُدھر پراگندہ ہو گئے۔
3۔۔ ۳۰۰ء کے بعد سے آغاز اسلام تک کا دور: …اس دور میں یمن کے اندر مسلسل اضطراب وانتشار برپا رہا۔ انقلابات آئے ، خانہ جنگیاں ہوئیں اور بیرونی قوموں کو مداخلت کے مواقع ہاتھ آئے حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ یمن کی آزادی سلب ہوگئی۔ چنانچہ یہی دور ہے جس میں رومیوں نے عدن پر فوجی تسلط قائم کیا اور ان کی مدد سے حبشیوں نے حمیر وہمدان کی باہمی کشاکش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ۳۴۰ ء میں پہلی بار یمن پر قبضہ کیا۔ جو ۳۷۸ ء تک برقرار رہا۔ اس کے بعد یمن کی آزادی تو بحال ہو گئی مگر ”مآرب” کے مشہور بند میں رخنے پڑنا شروع ہوگئے۔ یہاں تک کہ بالآخر ۴۵۰ ء یا ۴۵۱ ء میں بند ٹوٹ گیا اور وہ عظیم سیلاب آیا جس کا ذکر قرآن مجید (سورۂ سبا ) میں سَیلِ عَرِم کے نام سے کیا گیا ہے۔ یہ بڑا زبردست حادثہ تھا۔ اس کے نتیجے میں بستیاں کی بستیاںویران ہو گئیں اور بہت سے قبائل اِدھر اُدھر بکھر گئے۔
پھر ۵۲۳ء میں ایک اور سنگین حادثہ پیش آیا۔ یعنی یمن کے یہودی بادشاہ ذونواس نے نجران کے عیسائیوں پر ایک ہیبت ناک حملہ کر کے انہیں عیسائی مذہب چھوڑنے پر مجبور کرنا چاہا اور جب وہ اس پر آمادہ نہ ہوئے تو ذونواس نے خندقیں کھدوا کر انہیں بھڑکتی ہوئی آگ کے الاؤ میں جھونک دیا۔ قرآن مجید نے سورۂ بروج کی آیات میں اسی لرزہ خیز واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس واقعے کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائیت ، جو رومی بادشاہوں کی قیادت میں بلادِ عرب کی فتوحات اور توسیع پسندی کے لیے پہلے ہی سے چست وچابکدست تھی … انتقام لینے پر تُل گئی اور حبشیوں کو یمن پر حملے کی ترغیب دیتے ہوئے انہیں بحری بیڑہ مہیا کیا۔ حبشیوں نے رومیوں کی شہ پاکر ۵۲۵ ء میں اریاط کی زیر قیادت ستر ہزار فوج سے یمن پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ قبضہ کے بعد ابتدائً تو شاہ حبش کے گورنر کی حیثیت سے اریاط نے یمن پر حکمرانی کی لیکن پھر اس کی فوج کے ایک ماتحت کمانڈر – اَبرہَہَ – نے ۵۴۹ ء میں اسے قتل کر کے خوداقتدار پر قبضہ کر لیا اور شاہ حبش کو بھی اپنے اس تصرف پر راضی کرلیا۔
یہ وہی اَ بْرہَہَ ہے جس نے جنوری ۵۷۱ ء میں خانۂ کعبہ کو ڈھانے کی کوشش کی اور لشکر جرار کے علاوہ چند ہاتھیوں کو بھی فوج کشی کے لیے ساتھ لایا جس کی وجہ سے یہ لشکر اصحابِ فیل کے نام سے مشہور ہو گیا۔
صنعاء واپس آکر ابرہہ انتقال کر گیا۔ اس کی جگہ اس کا بیٹا یکسوم، پھر دوسرا بیٹا مسروق جانشین ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں اہل یمن پر ظلم ڈھانے اور انہیں مقہور وذلیل کرنے میں اپنے باپ سے بھی بڑھ کر تھے۔
اِدھر واقعۂ فیل میں حبشیوں کی جو تباہی ہوئی اس سے فائدے اٹھاتے ہوئے اہل یمن نے حکومتِ فارس سے مدد مانگی، اور حبشیوں کے خلاف عَلم بغاوت بلند کر کے سیف ذِی یَزَن حمیری کے بیٹے معدیکرب کی قیادت میں حبشیوں کو ملک سے نکال باہر کیا اور ایک آزاد وخود مختار قوم کی حیثیت سے معدیکرب کو اپنا بادشاہ منتخب کر لیا۔ یہ ۵۷۵ء کا واقعہ ہے۔
آزادی کے بعد معدیکرب نے کچھ حبشیوں کو اپنی خدمت اور شاہی جلو کی زینت کے لیے روک لیا لیکن یہ شوق مہنگا ثابت ہو ا۔ ان حبشیوں نے ایک روز معدیکرب کو دھوکے سے قتل کر کے ذِی یَزَن کے خاندان سے حکمرانی کا چراغ ہمیشہ کے لیے گُل کردیا۔ ادھر کسریٰ نے اس صورتِ حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے صنعاء پر ایک فارسی النسل گورنر مقرر کر کے یمن کو فارس کا ایک صوبہ بنا لیا۔ اس کے بعد یمن پر یکے بعد دیگرے فارسی گورنروں کا تقرر ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ آخری گورنر باذان نے ۶۲۸ ء میں اسلام قبول کرلیا اور اس کے ساتھ ہی یمن فارسی اقتدار سے آزاد ہوکر اسلام کی عملداری میں آگیا۔
(تاریخی مآخذ میں سنین وغیرہ کے سلسلے میں بڑے اختلا فات ہیں۔ حتیٰ کہ بعض محققین نے ان تفصیلات کو ”پہلوں کا افسانہ ”قرار دیا ہے۔)
حِیرہ کی بادشاہی

عراق اور اس کے نواحی علاقوں پر کوروش کبیر (خورس یا سائرس ذو القرنین ۵۵۷ ق م – ۵۲۹ ق م ) کے زمانے ہی سے اہل فارس کی حکمرانی چلی آرہی تھی۔ کوئی نہ تھا جو ان کے مد مقابل آنے کی جرأت کرتا۔ یہاں تک کہ ۳۲۶ ق م میں سکندر مَقدونی نے دارا اوّل کو شکست دے کر فارسیوں کی طاقت توڑدی۔ جس کے نتیجے میں ان کا ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور طوائف الملوکی شروع ہوگئی۔ یہ انتشار ۲۳۰ء تک جاری رہا اور اسی دوران قحطانی قبائل نے ترک وطن کر کے عراق کے ایک بہت بڑے شاداب سرحدی علاقے پر بود و باش اختیار کی۔ پھر عدنانی تارکین وطن کا ریلا آیا اور انھوں نے لَڑ بِھڑ کر جزیرۂ فراتیہ کے ایک حصے کو اپنا مسکن بنا لیا۔
ان تارکین وطن میں سے پہلا شخص جو حکمران ہوا وہ آلِ قحطان کا مالک بن فہم تنوخی تھا۔ ان کی جائے پناہ انبار میں یا انبار سے متصل تھی۔ اس کا جانشین ایک روایت کے مطابق(تاریخ طبری ۲/۵۴۰ اسی کو ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں اختیار کیا ہے۔ ۲/۲/۲۳۸۔ اوریہ کہ جذیمہ عمرو بن فہم کے بعد والی ہوا۔ جو اس کے بھائی مالک بن فہم کا بیٹا تھا۔) اسی کا بھائی عمرو بن فہم ہوا اور ایک دوسری روایت کے مطابق(یعقوبی ۱/۱۶۹۔ مسعودی ۳/۹۰۔) اس کا بیٹا جذیمہ بن مالک بن فہم ہوا ، جس کا لقب ابرش اور وضاح تھا۔
ادھر ۲۲۶ ء میں ارد شیر نے جب ساسانی حکومت کی داغ بیل ڈالی تو رفتہ رفتہ فارسیوں کی طاقت ایک بار پھر پلٹ آئی۔ ارد شیر نے فارسیوں کی شیرازہ بندی کی اور اپنے ملک کی سرحد پر آباد عربوں کو زیر کیا۔ اسی کے نتیجے میں قضاعہ نے ملک شام کی راہ لی ، جبکہ حِیرہ اور انبار کے عرب باشندوں نے باجگذار بننا گوارا کیا۔
اردشیر کے عہد میں حیرہ ، بادیۃ العراق اور جزیرہ کے ربیعی اور مُضری قبائل پر جذیمۃالوضاح کی حکمرانی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اَرد شیر نے محسوس کر لیا تھا کہ عرب باشندوں پر براہ راست حکومت کرنا اور انہیں سرحد پر لوٹ مار سے باز رکھنا ممکن نہیں۔ بلکہ اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ خود کسی ایسے عرب کو ان کا حکمران بنادیا جائے جسے اپنے کنبے قبیلے کی حمایت وتائید حاصل ہو۔ اس کا ایک فائد ہ یہ بھی ہوگا کہ بوقت ضرورت رومیوں کے خلاف ان سے مدد لی جاسکے گی اور شام کے روم نواز عرب حکمرانوں کے مقابل عراق کے ان عرب حکمرانوں کو کھڑا کیا جاسکے گا۔
شاہانِ حیرہ کے پاس فارسی فوج کی ایک یونٹ ہمیشہ رہا کرتی تھی ، جس سے بادیہ نشین عرب باغیوں کی سرکوبی کا کام لیا جاتا تھا۔
۲۶۸ ء کے عرصے میں جذیمہ فوت ہو گیا اور عَمرو بن عَدی بن نصر لَخمی ( ۲۶۸ ء – ۲۸۸ ء ) اس کا جانشین ہوا۔ یہ قبیلۂ لخم کا پہلا حکمران تھا اور شاپور اردشیر کا ہمعصر تھا۔ اس کے بعد قباذ بن فیروز ( ۴۴۸ ء …۵۳۱ ء )کے عہد تک حیرہ پر لخمیوں کی مسلسل حکمرانی رہی۔ قباذ کے عہد میں مُزدَک کا ظہور ہوا۔ جو اباحیت کا علمبردار تھا۔ قباذ اور اس کی بہت سی رعایا نے مُزدَک کی ہمنوائی کی۔ پھر قباذ نے حیرہ کے بادشاہ منذر بن ماء السماء ( ۵۱۳ ء – ۵۵۴ ء ) کو پیغام بھیجا کہ تم بھی یہی مذہب اختیار کر لو۔ منذر بڑا غیرت مند تھا انکار کر بیٹھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قباذ نے اسے معزول کرکے اس کی جگہ مُزدَک کی دعوت کے ایک پیر وکار حارث بن عمرو بن حجر کِندی کو حِیرہ کی حکمرانی سونپ دی۔
قباذ کے بعد فارس کی باگ دوڑ کسریٰ نوشیرواں ( ۵۳۱ ء- ۵۷۸ ء ) کے ہاتھ آئی۔ اسے اس مذہب سے سخت نفرت تھی۔ اس نے مُزدَک اور اس کے ہمنواؤو ں کی ایک بڑی تعداد کو قتل کروادیا۔ منذر کو دوبارہ حیرہ کا حکمران بنادیا اور حارث بن عمرو کو اپنے ہاں بلا بھیجا لیکن وہ بنو کلب کے علاقے میں بھاگ گیا اور وہیں اپنی زندگی گزار دی۔
منذربن ماء السماء کے بعدنُعمان بن منذر ( ۵۸۳ ء…۶۰۵ ء ) کے عہد تک حیرہ کی حکمرانی اسی کی نسل میں چلتی رہی، پھر زید بن عدی عبادی نے کسریٰ سے نعمان بن منذر کی جھوٹی شکایت کی۔ کسریٰ بھڑک اٹھا اور نعمان کو اپنے پاس طلب کیا۔ نعمان چپکے سے بنو شَیبان کے سردار ہانی بن مسعود کے پاس پہنچا اور اپنے اہل وعیال اور مال ودولت کو اس کی امانت میں دے کر کسریٰ کے پاس گیا۔ کسریٰ نے اسے قید کر دیا اور وہ قید ہی میں فوت ہوگیا۔
ادھر کسریٰ نے نعمان کو قید کرنے کے بعد اس کی جگہ ایاس بن قَبِیصہ طائی کو حیرہ کا حکمران بنایا اور اسے حکم دیا کہ ہانی بن مسعود سے نعمان کی امانت طلب کرے ، ہانی غیرت مند تھا۔ اس نے صرف انکار ہی نہیں کیا بلکہ اعلان جنگ بھی کردیا۔ پھر کیا تھا۔ ایاس اپنے جَلو میں کسریٰ کے لاؤ لشکر اور مرزبانوں کی جماعت لے کر روانہ ہوا اور ذِی قار کے میدان میں فریقین کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں بنو شیبان کو فتح حاصل ہوئی اور فارسیوں نے شرمناک شکست کھائی۔ یہ پہلا موقع تھا جب عرب نے عجم پر فتح حاصل کی تھی۔ (یہ بات خلیفہ بن خیاط نے اپنی مسند ص ۲۴ میں اور ابن سعد نے طبقات ۷/۷۷ میں رسول اللہﷺ سے مرفوعاً ذکر کی ہے۔)
یہ واقعہ نبیﷺ کی پیدائش کے تھوڑے ہی دنوں پہلے یا بعد کا ہے۔ آپﷺ کی پیدائش حِیرہ پر ایاس کی حکمرانی کے آٹھویں مہینہ ہوئی تھی۔
ایاس کے بعد کِسریٰ نے حِیرہ پر ایک فارسی حاکم مقرر کیا جس کا نام آزاد بہ بن ماہ بیان بن مہرابنداد تھا۔ اس نے ۶۱۴ء سے ۶۳۱ء تک سترہ سال حکومت کی۔ اس کے بعد ۶۳۲ ء میں لخمیوں کا اقتدار پھر بحال ہو گیا اور منذر بن معرور نامی اس قبیلے کے ایک شخص نے باگ دوڑ سنبھالی۔ مگر ابھی اس کو برسرِ اقتدار آئے صرف آٹھ ماہ ہوئے تھے کہ حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ اسلام کا سیل رواں لے کر حیرہ میں داخل ہو گئے۔
(تفصیل کے لیے دیکھئے : طبری ، مسعودی ، ابن قتیبہ، ابن خلدون ، بلادی اور ابن الاثیر وغیرہ۔)
شام کی بادشاہی

جس زمانے میں عرب قبائل کی ہجرت زورں پر تھی قبیلہ قضاعہ کی چند شاخیں حدود شام میں آکر آباد ہو گئیں۔ ان کا تعلق بنی سلیم بن حلوان سے تھا اور ان ہی میں ایک شاخ بنو ضجعم بن سلیم تھی ، جسے ضَجَاعِمہ کے نام سے شہرت ہوئی۔
قُضاعہ کی ایک شاخ کو رومیوں نے صحرائے عرب کے بدوؤں کی لوٹ مار روکنے اور فارسیوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے اپنا ہمنوا بنایا اور اسی کے ایک فرد کے سر پر حکمرانی کا تاج رکھ دیا۔ اس کے بعد مدتوں ان کی حکمرانی رہی۔ ان کا مشہور ترین بادشاہ زیاد بن ہبولہ گزرا ہے۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ ضَجَاعِمہ کا دور حکومت پوری دوسری صدی عیسوی کو محیط رہا ہے۔ اس کے بعد اس دیار میں آلِ غسان کی آمد ہوئی اور ضجاعمہ کی حکمرانی جاتی رہی۔ آلِ غسان نے بنو ضجعم کو شکست دے کر ان کے سارے قلمرو پر قبضہ کر لیا۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر رومیوں نے بھی آلِ غسان کو دیار شام کے عرب باشندوں کا بادشاہ تسلیم کرلیا۔ آلِ غسان کا پایہ تخت دُومَۃ الجندل تھا اور رومیوں کے آلۂ کار کی حیثیت سے دیار شام پر حکمرانی مسلسل قائم رہی۔ تا آنکہ خلافت فاروقی میں ۱۳ھ میں یَرموک کی جنگ پیش آئی اور آلِ غسان کا آخری حکمران جبلہ بن ایہم حلقہ بگوشِ اسلام ہو گیا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: طبری ، مسعودی ، ابن قتیبہ ، ابن خلدون ، بلاذری ، ابن الاثیر وغیرہ۔)
(اگرچہ اس کا غرور اسلامی مساوات کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکا اور وہ مرتد ہو گیا۔ )
حجاز کی امارت
یہ بات تو معلوم ہے کہ مکہ میں آبادی کا آغاز حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ہو ا۔ آپ نے ۱۳۷ سال کی عمر پائی۔( پیدائش(مجموعہ بائیبل ) ۲۵:۱۷ تاریخ طبری ۱/۳۱۴۔ ایک دوسرے قول کے مطابق ۱۳۰ سال میں وفات پائی۔ طبری ایضاً و یعقوبی ۱/۲۲۲)​
اور تاحیات مکہ کے سربراہ اور بیت اللہ کے متولی رہے۔ آپ کے بعد آپ کے دوصاحبزادگان … نابت پھر قَیدار، یا قیدار پھر نابت…یکے بعد دیگرے مکہ کے والی ہوئے۔ ان کے بعد ان کے نانا مضاض بن عَمرو جُرہمی نے زمامِ کار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اس طرح مکہ کی سربراہی بنو جرہم کی طرف منتقل ہوگئی اور ایک عرصے تک انھی کے ہاتھ میں رہی۔ حضر ت اسماعیل علیہ السلام چونکہ (اپنے والد کے ساتھ مل کر ) بیت اللہ کے بانی ومعمار تھے، اس لیے ان کی اوّلاد کو ایک باوقار مقام ضرور حاصل رہا، لیکن اقتدار و اختیار میں ان کا کوئی حصہ نہ تھا۔​
(ابن ہشام ۱/۱۱۱ – ۱۱۳ ، ابن ہشام نے اسماعیل علیہ السلام کی اوّلادمیں صرف نابت کی تولیت کا ذکر کیا ہے۔)​
پھر دن پر دن اور سال پر سال گزرتے گئے لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اوّلاد گوشۂ گمنامی سے نہ نکل سکی۔ یہاں تک کہ بخت نصر کے ظہور سے کچھ پہلے بنو جرہم کی طاقت کمزور پڑ گئی اور مکہ کے افق پر عدنان کا سیاسی ستارہ جگمگانا شروع ہوا۔ اس کاثبوت یہ ہے کہ بخت نَصر نے ذات عِرق میں عربوں سے جو معرکہ آرائی کی تھی اس میں عرب فوج کا کمانڈر جرہمی نہ تھا۔ بلکہ خود عدنان تھا۔ (تاریخ طبری ۱/۵۵۹ )​
پھر بخت نصر نے جب ۵۸۷ق م میں دوسرا حملہ کیا تو بنو عدنان بھاگ کر یمن چلے گئے۔ اس وقت بنو اسرائیل کے نبی حضرت یَرمیاہ تھے، ان کے شاگرد برخیا عدنان کے بیٹے مَعد کو اپنے ساتھ ملک شام لے گئے اور جب بُخت نصر کا زور ختم ہوا اورمعد مکہ آئے تو انہیں مکہ میں قبیلہ جرہم کا صرف ایک شخص جرشم بن جلہمہ ملا۔ معد نے اس کی لڑکی معانہ سے شادی کی اور اسی کے بطن سے نزا ر پیدا ہوا۔ (تاریخ طبری ۱/۵۵۹ ، ۵۶۰، ۲/۲۷۱ ، فتح الباری ۶/۶۲۲)​
اس کے بعد مکہ میں جرہم کی حالت خراب ہوتی گئی۔ انہیں تنگ دستی نے آ گھیرا ، نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے زائرین بیت اللہ پر زیادتیاں شروع کردیں اور خانۂ کعبہ کا مال کھانے سے بھی دریغ نہ کیا۔( تاریخ طبری ۲/۲۸۴ )ادھر بنو عدنان اندر ہی اندر ان کی حرکتوں پر کڑھتے اور بھڑکتے رہے۔ اسی لیے جب بنو خزاعہ نے مَرّ ا لظہران میں پڑاؤ کیا اور دیکھا کہ بنو عدنان بنو جرہم سے نفرت کرتے ہیں تو اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک عدنانی قبیلے (بنو بکر بن عبد مناف بن کنانہ ) کو ساتھ لے کر بنو جرہم کے خلاف جنگ چھیڑ دی اور انہیں مکہ سے نکال کر اقتدار پر خود قبضہ کر لیا۔ یہ واقعہ دوسری صدی عیسوی کے وسط کا ہے۔​
بنو جرہم نے مکہ چھوڑتے وقت زمزم کا کنواں پاٹ دیا اور اس میں کئی تاریخی چیزیں دفن کر کے اس کے نشانات بھی مٹادیئے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ عمرو بن حارث بن مضاض (یہ وہ مضاض جرہمی نہیں ہے جس کا ذکر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعے میں گزر چکا ہے۔)جرہمی نے خانہ کعبہ کے دونوں (مسعودی نے لکھا ہے کہ اہل فارس پچھلے دور میں خانہ کعبہ کے لیے اموال وجواہرات بھیجتے رہتے تھے۔ ساسان بن بابک نے سونے کے بنے ہوئے دوہرن ، جواہرات ، تلواریں اور بہت سا سونا بھیجا تھا۔ عمرو نے یہ سب زمزم کے کنوئیں میں ڈال دیا تھا۔ کتب تاریخ وسیر کے مصنفین کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ یہ چیزیں جرہم ہی کی تھیں ، لیکن جرہم اتنے مالدار نہ تھے کہ یہ چیزیں ان کی طرف منسوب کی جائیں۔ احتمال ہے کہ کسی اور کی رہی ہوں۔ واللہ اعلم (مروج الذہب ۱/۲۴۲ ، ۲۴۳)) ہرن اور اس کے کونے میں لگا ہوا پتھر…حجر اسود… نکال کر زمزم کے کنویں میں دفن کر دیا اور اپنے قبیلے بنو جرہم کو ساتھ لے کر یمن چلاگیا۔ بنو جرہم کو مکہ سے جلاوطنی اور وہاں کی حکومت کے فوت ہونے کا بڑا قلق تھا۔ چنانچہ عمرو مذکور نے اسی سلسلے میں یہ اشعار کہے :​
کأن لم یکن بین الحجون إلی الصفا​
أنیس ولم یسمر بمکۃ سامر​
بلی نحن کنا أہلہا فأبادنا​
صروف اللیالی والجدود العواثر​
(ابن ہشام ۱/۱۱۴، ۱۱۵۔ تاریخ طبری۲/۲۸۵)​
لگتا ہے حَجون سے صفا تک کوئی شناسا تھا ہی نہیں اور نہ کسی قصہ گونے مکہ کی شبانہ محفلوں میں قصہ گوئی کی۔ کیوں نہیں؟ یقینا ہم ہی اس کے باشندے تھے۔ لیکن زمانے کی گردشوں اور ٹوٹی ہوئی قسمتوں نے ہمیں اُجاڑ پھینکا۔​
حضرت اسماعیل علیہ السلا م کا زمانہ تقریباً دوہزار سال قبل مسیح ہے۔ اس حساب سے مکہ میں قبیلۂ جرہم کا وجود کوئی دوہزار ایک سو برس تک رہا اور ان کی حکمرانی لگ بھگ دو ہزار برس تک رہی۔​
بنو خزاعہ نے مکہ پر قبضہ کرنے کے بعد بنو بکر کو شامل کیے بغیر تنہا اپنی حکمرانی قائم کی، البتہ تین اہم اور امتیازی مناصب ایسے تھے جو مُضَری قبائل کے حصے میں آئے :​
حاجیوں کو عرفات سے مزدلفہ لے جانا اور یوم النفر:…۱۳/ ذِی الحجہ کو جوکہ حج کے سلسلہ کا آخری دن ہے … منیٰ سے روانگی کا پروانہ دینا۔یہ اعزاز الیاس بن مضر کے خاندان بنو غَوث بن مرہ کو حاصل تھا۔ جو ”صوفہ” کہلاتے تھے۔ اس اعزاز کی توضیح یہ ہے کہ ۱۳/ ذی الحجہ کو حاجی کنکری نہ مارسکتے تھے یہاں تک کہ پہلے صوفہ کا ایک آدمی کنکری مار لیتا، پھر حاجی کنکری مار کر فارغ ہوجاتے اور منیٰ سے روانگی کا ارادہ کرتے تو صوفہ کے لوگ منیٰ کی واحد گزر گاہ عقبہ کے دونوں جانب گھیرا ڈال کر کھڑے ہوجاتے اور جب تک خود گزر نہ لیتے کسی کو گزرنے نہ دیتے۔ ان کے گزر لینے کے بعد بقیہ لوگوں کے لیے راستہ خالی ہوتا۔ جب صوفہ ختم ہو گئے تو یہ اعزاز بنو تمیم کے خاندان بنوسعد بن زید مناۃ کی طرف منتقل ہو گیا۔​
1۔۔۔۔ ۱۰/ ذی الحجہ کی صبح کو مزدلفہ سے منیٰ کی جانب اِفاضہ (روانگی ): یہ اعزاز بنو عدوان کو حاصل تھا۔​
2۔۔۔۔۔ حرام مہینوں کو آگے پیچھے کرنا: یہ اعزاز بنو کنانہ کی ایک شاخ بنو تمیم بن عدی کو حاصل تھا۔ (ابن ہشام ۱/۴۴، ۱۱۹-۱۲۲)​
مکہ پر بنو خزاعہ کا اقتدار کوئی تین سو برس تک قائم رہا۔( یاقوت : مادّہ مکہ ، فتح الباری ۶/۳۳، مروج الذہب للمسعودی ۲/۵۸)اور یہی زمانہ تھا جب عدنانی قبائل مکہ اور حجاز سے نکل کر نجد ، اطرف ِ عراق اور بحرین وغیرہ میں پھیلے اور مکہ کے اطراف میں صرف قریش کی چند شاخیں باقی رہیں ، جو خانہ بدوش تھیں۔ ان کی الگ الگ ٹولیاں تھیں اور بنو کنانہ میں ان کے چند متفرق گھرانے تھے مگر مکہ کی حکومت اور بیت اللہ کی تولیت میں ان کا کوئی حصہ نہ تھایہاں تک کہ قصی بن کلاب کا ظہور ہو ا۔ (محاضرات خضری ۱/۳۵ ، ابن ہشام ۱/۱۱۷)​
قُصَیّ کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ ابھی گودہی میں تھا کہ اس کے والد کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد اس کی والدہ نے بنوعذرہ کے ایک شخص ربیعہ بن حرام سے شادی کرلی۔ یہ قبیلہ چونکہ ملک شام کے اطراف میں رہتا تھا اس لیے قُصَیّ کی والدہ وہیں چلی گئی اور وہ قُصَیّ کو بھی اپنے ساتھ لیتی گئی۔ جب قصی جوان ہوا تو مکہ واپس آیا۔ اس وقت مکہ کا والی حُلیل بن حبشیہ خزاعی تھا۔ قصی نے اس کے پاس اس کی بیٹی حبی سے نکاح کے لیے پیغام بھیجا ، حُلیل نے منظور کر لیا اور شادی کردی۔ (ابن ہشام ۱/۱۱۷، ۱۱۸ حلیل ح کو پیش، ل کو زبر ، حبشیہ ح کو زبر ، ب ساکن ، یہ سلول بن عمرو بن لُحی بن حارثہ بن عمرو بن عامر بن ماء السما ء کا بیٹا تھا۔ حبی میں ح کو پیش ہے ب کو تشدید ہے۔ امالہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ ابن حجر ، فتح الباری ۶/۶۳۳ میں کہتے ہیں۔ (اور کچھ دوسرے لوگ بھی یہی کہتے ہیں ) کہ حبشیہ کے ح کو پیش ہے۔ ب ساکن ش کو زیر اور ی کو تشدید ہے۔)اس کے بعد حلیل کا انتقال ہو ا تو مکہ اور بیت اللہ کی تولیت کے لیے خزاعہ اور قریش کے درمیان جنگ ہو گئی اور اس کے نتیجے میں مکہ اور بیت اللہ پر قصی کا اقتدار قائم ہو گیا۔​
جنگ کا سبب کیا تھا ؟ اس بارے میں تین بیانات ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب قصی کی اوّلاد خوب پھَل پُھول گئی۔ اس کے پاس دولت کی فراوانی ہوگئی اور اس کا وقار بھی بڑھ گیا ، اور ادھر حُلیل کا انتقال ہو گیا تو قصی نے محسوس کیا کہ اب بنو خزاعہ اور بنوبکر کے بجائے میں کعبہ کی تولیت اور مکہ کی حکومت کا کہیں زیادہ حقدار ہوں۔ اسے یہ احساس بھی تھا کہ قریش خالص اسماعیلی عرب ہیں اور بقیہ آلِ اسماعیل کے سردار بھی ہیں (لہٰذا سربراہی کے مستحق وہی ہیں ) چنانچہ اس نے قریش اور بنو خزاعہ کے کچھ لوگوں سے گفتگو کی کہ کیوں نہ بنو خزاعہ اور بنو بکر کو مکہ سے نکال باہر کیا جائے۔ ان لوگوں نے اس کی رائے سے اتفاق کیا۔ (سیرۃ ابن ہشام ۱/۱۱۷، ۱۱۸ ، طبری ۲/۲۵۵ ، ۲۵۶)​
دوسرا بیان یہ ہے کہ …خزاعہ کے بقول …خود حلیل نے قصی کو وصیت کی تھی کہ وہ کعبہ کی نگہداشت کرے گا اور مکہ کی باگ ڈور سنبھالے گا۔ (سیرۃ ابن ہشام ۱/۱۱۸ ، الروض الانف ۱/۱۴۲)​
تیسرا بیان یہ ہے کہ حلیل نے اپنی بیٹی حبی کو بیت اللہ کی تولیت سونپی تھی اور ابو غبشان(غ کو پیش ب ساکن۔ اس کا نام محرش یا سلیم بن عمرو تھا، فتح الباری ۶/۶۳۳ ، الروض الانف ۱/۱۴۲​
) خزاعی کو اس کا وکیل بنایا تھا، چنانچہ حبی کے نائب کی حیثیت سے وہی خانہ کعبہ کا کلید بردار تھا۔ جب حُلیل کا انتقال ہو گیا تو قصی نے ابو غبشان سے ایک مشک شراب کے بدلے کعبہ کی تولیت خرید لی لیکن خزاعہ نے یہ خرید وفروخت منظور نہ کی اور قصی کو بیت اللہ سے روکنا چاہا۔ اس پر قصی نے بنو خزاعہ کو مکہ سے نکالنے کے لیے قریش اور بنو کنانہ کو جمع کیا اوروہ قصی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہو گئے۔ (تاریخ یعقوبی ۱/۲۳۹ فتح الباری ۶/۶۳۴ مسعودی ۲/۵۸)​
بہر حال وجہ جو بھی ہو ، واقعات کا سلسلہ اس طرح ہے کہ جب حلیل کا انتقال ہو گیا ، اور صوفہ نے وہی کرنا چاہا جو وہ ہمیشہ کرتے آئے تھے تو قصی نے قریش اور کنانہ کے لوگوں کو ہمراہ لیا اور عقبہ کے نزدیک جہاں وہ جمع تھے ان سے آکر کہا کہ تم سے زیادہ ہم اس کے اعزاز کے حقدار ہیں۔ اس پر صوفہ نے لڑائی چھیڑ دی۔ مگر قصی نے انہیں مغلوب کر کے اس کا اعزاز چھین لیا۔ یہی موقع تھا جب خزاعہ اور بنو بکر نے قصی سے دامن کشی اختیار کرلی۔ اس پر قصی نے انہیں بھی للکارا، پھر کیا تھا۔ فریقین میں سخت جنگ چھڑ گئی اور طرفین کے بہت سے آدمی مارے گئے۔ اس کے بعد صلح کی آواز یں بلند ہوئیں اور بنو بکر کے ایک شخص یَعمر بن عوف کو حَکَم بنا یا گیا۔ یَعمرَ نے فیصلہ کیا کہ خزاعہ کے بجائے قصی خانہ کعبہ کی تولیت اور مکہ کے اقتدار کا زیادہ حقدار ہے۔ نیز قصی نے جتنا خون بہا یا ہے سب رائیگاں قرار دے کر پاؤں تلے روند رہا ہوں، البتہ خزاعہ اوربنو بکر نے جن لوگوں کو قتل کیا ہے ان کی دِیت ادا کریں اور خانہ کعبہ کو بلا روک ٹوک قصی کے حوالے کردیں…اسی فیصلے کی وجہ سے یَعمر کا لقب شدّاخ پڑ گیا۔( ابن ہشام ۱/۱۲۳، ۱۲۴ تاریخ طبری ۲/۲۵۵-۲۵۸) شَدّاخ کے معنی ہیں پاؤں تلے روندنے والا۔​
اس فیصلے کے نتیجے میں قصی اور قریش کو مکہ پر مکمل نفوذ اور سیاست حاصل ہو گئی اور قصی بیت اللہ کا دینی سربراہ بن گیا، جس کی زیارت کے لیے عرب کے گوشے گوشے سے آنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ مکہ پرقصی کے تسلط کا یہ واقعہ پانچویں صدی عیسوی کے وسط، یعنی ۴۴۰کا ہے۔ (فتح الباری ۶/۶۳۳ مسعودی ۲/۵۸ قلب جزیرۃ العرب ص ۲۳۲)​
قصی نے مکہ کا بندوبست اس طرح کیا کہ قریش کو اطراف مکہ سے بلا کر پورا شہر ان پر تقسیم کر دیا اور ہر خاندان کے بود وباش کا ٹھکانا مقرر کر دیا، البتہ مہینے آگے پیچھے کرنے والوں کو ، نیز آلِ صفوان، بنو عدوان اور بنو مرہ بن عوف کو ان کے مناصب پر برقرار رکھا کیونکہ قصی سمجھتا تھا کہ یہ بھی دین ہے جس میں ردوبدل کرنا درست نہیں۔( ابن ہشام ۱/۱۲۴ ، ۱۲۵)​
قصی کا ایک کار نامہ یہ بھی ہے کہ اس نے حرم کعبہ کے شمال میں دار الندوہ تعمیر کیا۔ (اس کا دروازہ مسجد کی طرف تھا ) دار الندوہ درحقیقت قریش کی پارلیمنٹ تھی، جہاں تمام بڑے بڑے اور اہم معاملات کے فیصلے ہوتے تھے۔ قریش پر دار الندوہ کے بڑے احسانات ہیں کیونکہ یہ ان کی وحدت کا ضامن تھا اور یہیں ان کے الجھے ہوئے مسائل بحسن وخوبی طے ہوتے تھے۔( ایضا ۱/۱۲۵ محاضرات خضری ۱/۳۶ ، اخبار الکرام ص ۱۵۲)​
قصی کو سربراہی اور عظمت کے حسبِ ذیل مظاہر حاصل تھے :
دار الندوہ کی صدارت:… جہاں بڑے بڑے معاملات کے متعلق مشورے ہو تے تھے اور جہاں لوگ اپنی لڑکیوں کی شادیاں بھی کرتے تھے۔​
لواء : … یعنی جنگ کا پرچم قصی ہی کے ہاتھوں باندھا جاتا تھا۔​
حجابت: …یعنی خانہ کعبہ کی پاسبانی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خانۂ کعبہ کا دروازہ قصی ہی کھولتا تھا اور وہی خانہ کعبہ کی خدمت اور کلید بر داری کا کام انجام دیتا تھا۔​
سقایہ (پانی پلانا ):… اس کی صورت یہ تھی کہ کچھ حوض میں حاجیوں کے لیے پانی بھر دیا جاتا تھا اور اس میں کچھ کھجور اور کشمش ڈال کر اسے شیریں بنادیا جاتا تھا ، جب حجاج مکہ آتے تھے تو اسے پیتے تھے۔​
رفادہ( حاجیوں کی میز بانی ): …اس کے معنی یہ ہیں کہ حاجیوں کے لیے بطور ضیافت کھانا تیار کیا جاتا تھا۔ اس مقصد کے لیے قصی نے قریش پر ایک خاص رقم مقرر کر رکھی تھی ، جو موسم حج میں قصی کے پاس جمع کی جاتی تھی۔ قصی اس رقم سے حاجیوں کے لیے کھانا تیار کراتا تھا جو لوگ تنگ دست ہوتے ، یا جن کے پاس توشہ نہ ہوتا وہ یہی کھانا کھاتے تھے۔ (ابن ہشام ۱/۱۳۰)​
یہ سارے مناصب قصی کو حاصل تھے۔ قصی کا پہلا بیٹا عبد الدار تھا مگر اس کے بجائے دوسرا بیٹا عبد مناف ، قصی کی زندگی ہی میں شرف وسیادت کے مقام پر پہنچ گیا۔ اس لیے قصی نے عبد الدار سے کہا کہ یہ لوگ اگرچہ شرف وسیادت میں تم پر بازی لے جاچکے ہیں مگر میں تمہیں ان کے ہم پلہ کر کے رہوں گا۔ چنانچہ قصی نے اپنے سارے مناصب اور اعزاز ات کی وصیت عبدا لدار کے لیے کر دی۔ یعنی دار الندوہ کی ریاست ، خانہ کعبہ کی حجابت اور لواء ، سقایت اور رفادہ سب کچھ عبد الدار کو دے دیا۔ چونکہ کسی کام میں قصی کی مخالفت نہیں کی جاتی تھی اور نہ اس کی کوئی بات مسترد کی جاتی تھی، بلکہ اس کاہر اقدام ، اس کی زندگی میں بھی اور اس کی موت کے بعد بھی واجب الاتباع دین سمجھا جاتا تھا ، اس لیے اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوںنے کسی نزاع کے بغیر اس کی وصیت قائم رکھی۔ لیکن جب عبد مناف کی وفات ہوگئی تو اس کے بیٹوںنے ان مناصب کے سلسلے میں اپنے چچیرے بھائیوں، یعنی عبد الدار کی اوّلاد سے تنافس کیا۔ اس کے نتیجے میں قریش دو گروہ میں بٹ گئے اور قریب تھا کہ دونوں میں جنگ ہو جاتی مگر پھر انھوں نے صلح کی آواز بلند کی اور ان مناصب کو باہم تقسیم کر لیا۔ چنانچہ سقایت اور رفادہ کے مناصب بنو عبد مناف کو دیے گئے اور دار الندوہ کی سربراہی، لواء اور حجابت بنو عبد الدار کے ہاتھ میں رہی۔ پھر بنوعبد مناف نے اپنے حاصل شدہ مناصب کے لیے قرعہ ڈالا تو قرعہ ہاشم بن عبد مناف کے نام نکلا۔ لہٰذا ہاشم ہی نے اپنی زندگی بھر سقایہ ورفادہ کا انتظام کیا۔ البتہ جب ہاشم کا انتقال ہو گیا تو ان کے بھائی مُطّلب نے ان کی جانشینی کی۔ مگر مُطّلب کے بعد ان کے بھتیجے عبد المطلب بن ہاشم نے… جو رسول اللہﷺ کے دادا تھے… یہ منصب سنبھال لیا اور ان کے بعد ان کی اوّلاد ان کی جانشین ہوئی ، یہاں تک کہ جب اسلام کا دور آیا تو حضرت عباس بن عبد المطلب اس منصب پر فائز تھے۔ (ایضاً ۱/۱۲۹ -۱۳۲ ، ۱۳۷ ، ۱۴۲ ، ۱۷۸، ۱۷۹)​
ان کے علاوہ کچھ اور مناصب بھی تھے، جنھیں قریش نے باہم تقسیم کر رکھا تھا۔ ان مناصب اور انتظامات کے ذریعے قریش نے ایک چھوٹی سی حکومت…بلکہ حکومت نما انتظامیہ… قائم کر رکھی تھی۔ جس کے سرکاری ادارے اور تشکیلات کچھ اسی ڈھنگ کی تھیں جیسی آج کل پارلیمانی مجلسیں اور ادارے ہوا کرتے ہیں۔ ان مناصب کا خاکہ حسب ذیل ہے :​
ایسار:…یعنی فال گیری اور قسمت دریافت کرنے کے لیے بتوں کے پاس جو تیر رکھے رہتے تھے ان کی تولیت–– یہ منصب بنو جمح کو حاصل تھا۔​
مالیات کا نظم:… یعنی بتوں کے تقرب کے لیے جو نذرانے اور قربانیاں پیش کی جاتی تھیں ان کا انتظام کرنا ، نیز جھگڑے اور مقدمات کا فیصلہ کرنا…یہ کام بنو سہم کو سونپا گیا تھا۔​
شوریٰ :…یہ اعزاز بنو اسد کو حاصل تھا۔​
اشناق: …یعنی دیت اور جرمانوں کا نظم …اس منصب پر بنو تَیْم فائز تھے۔​
عقاب :…یعنی قومی پرچم کی علمبرداری …یہ بنو امیہ کا کام تھا۔​
قبہ :…یعنی فوجی کیمپ کا انتظام اور شہسواروں کی قیادت …یہ بنو مخزوم کے حصے میں آیا تھا۔​
سفارت:…بنو عدی کا منصب تھا۔( تاریخ ارض القرآن ۲/۱۰۴، ۱۰۵، ۱۰۶ لیکن صحیح یہ ہے کہ علمبرداری کا حق بنو عبد الدار کا تھا۔ بنو امیہ کو قیادت عامہ یعنی سپہ سالار کا حق حاصل تھا۔)​
بقیہ عرب کی سرداریاں

ہم پچھلے صفحات میں قحطانی اور عدنانی قبائل کے ترکِ وطن کا ذکر کرچکے ہیں اور بتلا چکے ہیں کہ پورا ملک عرب ان قبائل کے درمیان تقسیم ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ان کی امارتوں اور سرداریوں کا نقشہ کچھ یوں تھا کہ جو قبائل حِیرہ کے ارد گرد آباد تھے انہیں حکومت حیرہ کے تابع مانا گیا اور جن قبائل نے بادیۃ الشام میں سکونت اختیار کی تھی، انہیں غسّانی حکمرانوں کے تابع قرار دیا گیا مگر یہ ماتحتی صرف نام کے لیے تھی ، عملاً نہ تھی۔ ان دومقامات کو چھوڑ کر اندرون عرب آباد قبائل بہر طور آزاد تھے۔
ان قبائل میں سرداری نظام رائج تھا۔ قبیلے خود اپنا سردار مقرر کرتے تھے اور ان سرداروں کے لیے ان کا قبیلہ ایک مختصر سی حکومت ہوا کرتا تھا۔ سیاسی وجود وتحفظ کی بنیاد ، قبائلی وحدت پر عصبیت اور اپنی سر زمین کی حفاظت ودفاع کے مشترکہ مفادات تھے۔
قبائلی سرداروں کا درجہ اپنی قوم میں بادشاہوں جیسا تھا، قبیلہ صلح وجنگ میں بہر حال اپنے سردار کے فیصلے کے تابع ہوتاتھا اور کسی حال میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتا تھا۔ سردار کو وہی مطلق العنانی اور استبداد حاصل تھا جو کسی ڈکٹیٹر کو حاصل ہو ا کرتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض سرداروں کا یہ حال تھا کہ اگر وہ بگڑ جاتے تو ہزاروں تلواریں یہ پوچھے بغیر بے نیام ہو جاتیں کہ سردارکے غصے کا سبب کیا ہے۔ تاہم چونکہ ایک ہی کنبے کے چچیرے بھائیوں میں سرداری کے لیے کشاکش بھی ہوا کرتی تھی اس لیے اس کا اقتضا ء تھا کہ سردار ، اپنے قبائلی عوام کے ساتھ رواداری برتے، خوب مال خرچ کرے ، مہمان نوازی میں پیش پیش رہے۔ کرَم و بُرد باری سے کام لے، شجاعت کا عملی مظاہرہ کرے اور غیرتمندانہ امور کی طرف سے دفاع کرے تاکہ لوگوں کی نظر میں عموماً ، اور شعرا ء کی نظر میں خصوصاً خوبی و کمالات کا جامع بن جائے۔ (کیونکہ شعراء اس دور میں قبیلے کی زبان ہوا کرتے تھے) اور اس طرح سردار اپنے مد مقابل حضرات سے بلند وبالا درجہ حاصل کرلے۔
سرداروں کے کچھ مخصوص اور امتیازی حقوق بھی ہوا کرتے تھے ، جنھیں ایک شاعر نے یوں بیان کیا ہے :
لک المرباع فینا ،والصفایا
وحکمک والنشیطۃ والفضول
”ہمارے درمیان تمہارے لیے مالِ غنیمت کا چوتھائی ہے اور منتخب مال اور وہ مال ہے جس کا تم فیصلہ کردو اور جو سرراہ ہاتھ آجائے اور جو تقسیم سے بچ رہے۔ ”
مِرباع : مالِ غنیمت کا چوتھائی حصہ۔
صَفِیّ : وہ مال جسے تقسیم سے پہلے ہی سردار اپنے لیے منتخب کر لے۔
نشیطہ: وہ مال جو اصل قوم تک پہنچنے سے پہلے راستے ہی میں سردار کے ہاتھ لگ جائے۔
فضول :وہ مال جو تقسیم کے بعد بچ رہے اور غازیوں کی تعدادپر برابرتقسیم نہ ہو مثلاً: تقسیم سے بچے ہوئے اونٹ گھوڑے وغیرہ ا ن سب اقسام کے مال سردار قبیلہ کا حق ہوا کرتے تھے۔
عَرَب … اَد ْیان ومذاہب

عام باشندگانِ عرب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعوت وتبلیغ کے نتیجے میں دینِ ابراہیمی کے پَیرو تھے۔ اس لیے صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے اور توحید پر کار بند تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے خدائی درس ونصیحت کا ایک حصہ بھلا دیا۔ پھر بھی ان کے اندر توحید اور کچھ دین ابراہیمی کے شعائر باقی رہے۔ تاآنکہ بنو خزاعہ کا سردار عَمر و بن لُحَی منظر عام پر آیا۔ اس کی نشوونما بڑی نیکوکاری ، صدقہ وخیرات اور دینی امور سے گہری دلچسپی پر ہوئی تھی۔ اس لیے لوگوں نے اسے محبت کی نظر سے دیکھا اور اسے اکابر علماء اور افاضل اوّلیاء میں سے سمجھ کر اس کی پیروی کی۔ پھر اس شخص نے ملک شام کا سفر کیا۔ دیکھا تو وہاں بتوں کی پوجا کی جارہی ہے۔ اس نے سمجھا کہ یہی بہتر اور بر حق ہے کیونکہ ملک شام پیغمبروں کی سر زمین اور آسمانی کتابوں کی نزول گاہ تھی۔ چنانچہ وہ اپنے ساتھ ہبل بت بھی لے آیا اور اسے خانہ کعبہ کے اندر نصب کر دیا اور اہل مکہ کو اللہ کے ساتھ شرک کی دعوت دی۔ اہل مکہ نے اس پر لبیک کہا۔ اس کے بعد بہت جلد باشندگان حجاز بھی اہل مکہ کے نقش قدم پر چل پڑے۔ کیونکہ وہ بیت اللہ کے والی اور حرم کے باشندے تھے۔ (مختصر سیرۃ الرسول ، تالیف شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی ؒ ص ۱۲) اس طرح عرب میں بت پرستی کا آغاز ہوا۔
ہبل سرخ عقیق سے تراشا گیا تھا۔ صورت انسان کی تھی۔ دایاں ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا، قریش کو وہ اسی حالت میں ملا تھا۔ انھوں نے اس کی جگہ سونے کا ہاتھ لگا دیا یہ مشرکین کا پہلا بت تھا اور ان کے نزدیک سب سے عظیم اور مقدس تھا۔ (کتاب الاصنام لابن الکلبی ص ۲۸)
ہبل کے علاوہ عرب کے قدیم ترین بتوں میں سے مَنَاۃ ہے۔ یہ ہذیل اور خزاعہ کا بت تھا اور بحر احمر کے ساحل پر قُدَیْد کے قریب مُشَلَّل میں نصب تھا۔ مشلل ایک پہاڑی گھاٹی ہے جس سے قُدَید کی طرف اترتے ہیں۔( صحیح بخاری ۱/۲۲۲ فتح الباری ۳/۴۹۹، ۸/۶۱۳) اس کے بعد طائف میں لات نامی بت وجود میں آیا۔ یہ ثقیف کا بت تھا اور موجودہ مسجد طائف کے بائیں منارے کی جگہ پر تھا۔ (کتاب الاصنام لابن الکلبی ص ۱۶) پھر وادئ نخلہ میں ذات عرق سے اوپر عُزّیٰ کی تنصیب عمل میں آئی۔ یہ قریش، بنو کنانہ اور دوسرے بہت سے قبائل کا بت تھا۔ (ایضا ص ۱۸، ۱۹ فتح الباری ۸/۶۶۸ ، تفسیر قرطبی ۱۷/۹۹) اور یہ تینوں عرب کے سب سے بڑے بت تھے۔ اس کے بعد حجاز کے ہر خطے میں شرک کی کثرت او ر بتوں کی بھر مار ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک جن عَمرو بن لُحی کے تابع تھا۔ اس نے بتایاکہ قوم نوح کے بت …یعنی وَدّ ، سُواع ، یَغُوث، یَعُوق ، اور نسر …جدہ میں مدفون ہیں۔ اس کی اطلاع پر عمرو بن لحی جدہ گیا اور ان بتوں کو کھود نکالا۔ پھر انہیں تِہامہ لایا اور جب حج کا زمانہ آیا تو انہیں مختلف قبائل کے حوالے کیا۔ یہ قبائل ان بتوں کو اپنے اپنے علاقوں میں لے گئے۔ چنانچہ ود کو بنو کلب لے گئے اور اسے عراق کے قریب شام کی سرزمین پر دومۃ الجندل کے علاقے میں جرش کے مقام پر نصب کیا۔ سواع کو ہذیل بن مدرکہ لے گئے اور اسے حجاز کی سرزمین پر مکہ کے قریب ، ساحل کے اطراف میں رہاط کے مقام پر نصب کیا۔ یغوث کو بنو مرا د کا ایک قبیلہ ، بنو غطیف لے گیا اور سبا کے علاقے میں جرف کے مقام پر نصب کیا۔ یعوق کو بنو ہمدان لے گئے اور یمن کی ایک بستی خیوان میں نصب کیا۔ خیوان اصلاً قبیلہ ہمدان کی ایک شاخ ہے۔ نسر کو قبیلۂ حمیر کی ایک شاخ آل ذی الکلاع لے گئے اور حمیر کے علاقے میں نصب کیا۔ (صحیح بخاری،حدیث نمبر۴۹۲۰ (فتح الباری ۶/۵۴۹، ۸/۶۶۸) المنمق لمحمد بن حبیب ص ۳۲۷ ، ۳۲۸ کتاب الاصنام ص ۹-۱۱، ۵۶-۵۸)
پھر عرب نے ان بتوں کے آستانے تعمیر کیے۔ جن کی کعبہ کی طرح تعظیم کرتے تھے۔ انھوں نے ان آستانوں کے لیے مجاور اور خدام بھی مقرر کر رکھے تھے اور کعبہ ہی کی طرح ان آستانوں کے لیے بھی ہدیہ اور چڑھاوے پیش کرتے تھے۔ البتہ کعبہ کو ان آستانوں سے افضل مانتے تھے۔ (ابن ہشام ۱/۸۳)
پھر دوسرے قبائل نے بھی یہی روایت اپنائی اور اپنے لیے بت اورآستانے بنائے۔ چنانچہ قبیلہ دوس خثعم اور بجیلہ نے مکہ اور یمن کے درمیان یمن کی اپنی سر زمین میں تبالہ کے مقام پر ذو الخلصہ نامی بت اور بت خانہ تعمیر کیا۔ بنو طی اور ان کے اڑوس پڑوس کے لوگوں نے أجا اور سلمیٰ نامی بنو طی کی دو پہاڑیوں کے درمیان فلس نامی بت کو نصب کیا۔ اہل یمن اور حمیر نے صنعاء میں ریام نامی بت اور آستانہ تعمیر کیا۔ بنو تمیم کی شاخ بنو ربیعہ بن کعب نے رضاء نامی بت خانہ بنایا اور بکرو تغلب اور ایاد نے سنداد میں کعبات کی تعمیر کی۔ (ایضا ۱/۷۸، ۸۹ ، تفسیر ابن کثیر : سورہ نوح)
قبیلہ دوس کا بت ذو الکفین کہلاتا تھا۔ بکر ومالک اور ملکان ابنائے کنانہ کے قبائل کاایک بت سعد کہلاتا تھا۔ بنو عذرہ کا ایک بت شمس کہلاتا تھا۔ (تاریخ الیعقوبی ۱/۲۵۵)اور خولان کے ایک بت کا نام عمیانس تھا۔ (ابن ہشام ۱/۸۰)
غرض اس طرح جزیرۃ العرب میں ہرطرف بت اور بت خانے پھیل گئے ، یہاں تک کہ ہرہرقبیلے ، پھر ہرہر گھر میں ایک ایک بت ہوگیا۔ مسجد حرام بھی بتوں سے بھر دی گئی۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے جب مکہ فتح کیا تو بیت اللہ کے گرد اگرد تین سو ساٹھ بت تھے۔ چنانچہ آپ اپنے ہاتھ میں موجود ایک لکڑی سے انہیں مارتے جارہے تھے اور وہ گرتے جارہے تھے۔ پھر آپ نے حکم دیا اور ان سارے بتوں کو مسجد حرام سے باہر نکال کر جلادیا گیا۔ ان کے علاوہ خانۂ کعبہ میں بھی بت اور تصویریں تھیں۔
ایک بت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی صورت پر اور ایک بت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی صورت پر بنا ہوا تھا اور دونوں کے ہاتھ میں فال گیری کے تیر تھے۔ فتح مکہ کے روز یہ بت بھی توڑ دیئے گئے اور یہ تصویریں بھی مٹا دی گئیں۔ (صحیح بخاری ، حدیث نمبر ۱۶۱۰ ، ۲۴۷۸، ۳۳۵۱،۳۳۵۲، ۴۲۸۷، ۴۲۸۸، ۴۷۲۰۔)
لوگوں کی گمراہی اسی پر بس نہ تھی بلکہ ابورجاء عطاردی کا بیان ہے کہ ہم لوگ پتھر پوجتے تھے۔ جب پہلے سے اچھا کوئی پتھر مل جاتا تو پہلا پتھر پھینک کر اسے لے لیتے۔ پتھر نہ ملتا تو مٹی کی ایک چھوٹی سی ڈھیری بناتے۔ اس پر بکری لا کر دوہتے ، پھر اس کا طواف کرتے۔ (ایضاً حدیث نمبر ۴۳۷۶۔)
خلاصہ یہ کہ شرک اور بت پرستی اہل جاہلیت کے دین کا سب سے بڑا مظہر بن گئی تھی جنھیں غرہ تھاکہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہیں۔
باقی رہی یہ بات کہ انہیں شرک وبت پر ستی کا خیال کیونکر پید ا ہوا تو اس کی بنیاد یہ تھی کہ جب انھوں نے دیکھا کہ فرشتے ، پیغمبر ،انبیاء ، اوّلیاء ، اتقیاء ، صلحاء ، اور کار خیر انجام دینے والے اللہ کے سب سے مقرب بندے ہیں ، اللہ کے نزدیک ان کا بڑا مرتبہ ہے ، ان کے ہاتھ پر معجزے اور کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں تو انھوں نے سمجھا کہ اللہ نے اپنے ان نیک بندوں کو بعض ایسے کاموں پر قدرت اور تصرف کا اختیار دے دیا ہے جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں اور یہ لوگ اپنے اس تصرف کی وجہ سے ، اور اللہ کے نزدیک ان کی جو جاہ ومنزلت ہے اس کی وجہ سے اس بات کے اہل ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے عام بندوں کے درمیان وسیلہ اور واسطہ ہوں۔ اس لیے مناسب نہیں کہ کوئی آدمی اپنی حاجت اللہ کے حضور ان لوگوں کے وسیلے کے بغیر پیش کرے کیونکہ یہ لوگ اللہ کے نزدیک اس کی سفارش کریں گے اور اللہ ان کے جاہ ومرتبے کے سبب ان کی سفارش رد نہیں کرے گا۔ اسی طرح مناسب نہیںکہ کوئی آدمی اللہ کی عبادت ان لوگوں کے وسیلے کے بغیر کرے ، کیونکہ یہ لوگ اپنے مرتبے کی بدولت اسے اللہ کے قریب کردیں گے۔
جب لوگوں میں اس خیال نے جڑ پکڑ لی اور یہ عقیدہ راسخ ہو گیا تو انھوں نے ان فرشتوں ، پیغمبروں اور اوّلیاء وغیرہ کو اپنا ولی بنالیا ، اور انہیں اپنے اور اللہ کے درمیان وسیلہ ٹھہرالیا اور اپنے خیال میں جن ذرائع سے ان کا تقرب حاصل ہو سکتا تھا ان ذرائع سے تقرب حاصل کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ اکثر کی مورتیاں اور مجسّمے تراشے۔ جو ان کی حقیقی یا خیالی صورت کے مطابق تھے، انھی مجسّموں کو بت کہا جاتا ہے۔
بہت سے بت ایسے بھی تھے جن کا کوئی مجسمہ نہیں تراشاگیا بلکہ ان کی قبروں ، مزاروں ، قیام گاہوں ، پڑاؤ اور آرام کی جگہوں کو مقدس مقام قرار دے لیا گیا اور انہیں پر نذر اور چڑھاوے پیش کیے جانے لگے اور ان کے سامنے جھکاؤ عاجزی اور اطاعت کا کام ہونے لگا۔ ان مزارات، قبروں، آرام گاہوں اور قیام گاہوں کو عربی زبان میں ”اوثان” کہا جاتا ہے۔ جو بت کے تقریباً ہم معنی ہے اور ہماری زبان میں اس کے لیے قریب ترین لفظ درگاہ وزیارت اور دربار وسرکار ہے۔
مشرکین کے نزدیک ان بتوں اور مزارات وغیرہ کی پوجا کے کچھ خاص طریقے اور رسم بھی تھے۔ جوزیادہ تر عمرو بن لحی کی اختراع تھے۔ اہل جاہلیت سمجھتے تھے کہ عمرو بن لحی کی اختراعات دین ابراہیمی ؑ میں تبدیلی نہیں بلکہ بدعت حسنہ ہیں۔ ذیل میں ہم اہل جاہلیت کے اندر رائج بُت پرستی کے چند اہم مراسم کا ذکر کر رہے ہیں :
دور جاہلیت کے مشرکین بتوں کے پاس مجاور بن کر بیٹھتے تھے، ان کی پناہ ڈھونڈھتے تھے۔ انہیں زور زور سے پکارتے تھے اور حاجت روائی ومشکل کشائی کے لیے ان سے فریاد اور التجائیں کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ اللہ سے سفارش کر کے ہماری مراد پوری کرا دیں گے۔
1۔۔۔ بتوں کا حج وطواف کرتے تھے ، ان کے سامنے عجز ونیاز سے پیش آتے تھے اور انہیں سجدہ کر تے تھے۔
2۔۔۔ بتوں کے لیے نذرانے اور قربانیاں پیش کرتے اور قربانی کے ان جانوروں کو کبھی بتوں کے آستانوں پر لیجاکر ذبح کرتے تھے اور کبھی کسی بھی جگہ ذبح کر لیتے تھے مگر بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے۔ ذبح کی ان دونوں صورتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کیا ہے۔ ارشاد ہے (۵:۳) یعنی ”وہ جانور بھی حرام ہیں جو آستانوں پر ذبح کیے گئے ہوں ” اور دوسری جگہ ارشاد ہے (۶:۱۲۱) یعنی ”اس جانور کاگوشت مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ ”
3۔۔۔ بتوں سے تقرب کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ مشرکین اپنی صوا بدید کے مطابق اپنے کھانے پینے کی چیزوں اور اپنی کھیتی اور چوپائے کی پیداوار کا ایک حصہ بتوں کے لیے خاص کر دیتے تھے۔ اس سلسلے میںان کا دلچسپ رواج یہ تھا کہ وہ اللہ کے لیے بھی اپنی کھیتی اور جانوروں کی پیداوار کا ایک حصہ خاص کرتے تھے۔ پھر مختلف اسباب کی بنا پر اللہ کا حصہ تو بتوں کی طرف منتقل کر سکتے تھے لیکن بتوںکا حصہ کسی بھی حال میں اللہ کی طرف منتقل نہیں کرسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَكَائِنَا ۖفَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّـهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَائِهِمْ ۗ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ ﴿١٣٦﴾
(۶: ۱۳۶)
”اللہ نے جو کھیتی اور چوپائے پیدا کیے ہیں اس کا ایک حصہ انھوں نے اللہ کے لیے مقرر کیاہے اور کہا کہ یہ اللہ کے لیے ہے…ان کے خیال میں…اور یہ ہمارے شرکاء کے لیے ہے، تو جو ان کے شرکاء کے لیے ہوتا ہے وہ اللہ تک نہیں پہنچتا (مگر) جو اللہ کے لیے ہوتا ہے وہ ان کے شرکاء تک پہنچ جاتا ہے ، کتنا برا ہے وہ فیصلہ جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ ”
4۔۔۔ بتوں کے تقرب کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ مشرکین کھیتی اور چوپائے کے اندر مختلف قسم کی نذریں مانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَقَالُوا هَـٰذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لَّا يَطْعَمُهَا إِلَّا مَن نَّشَاءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّـهِ عَلَيْهَا افْتِرَاءً عَلَيْهِ ۚ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ ﴿١٣٨﴾
(۶: ۱۳۸ )
”ان مشرکین نے کہا کہ یہ چوپائے اور کھیتیاں ممنوع ہیں انہیں وہی کھا سکتا ہے جسے ہم چاہیں … ان کے خیال میں… اور یہ وہ چوپائے ہیں جن کی پیٹھ حرام کی گئی ہے۔ (نہ ان پر سواری کی جاسکتی ہے نہ سامان لادا جاسکتا ہے ) اور کچھ چوپائے ایسے ہیں جن پر یہ لوگ- اللہ پر افتراء کرتے ہوئے – اللہ کا نام نہیں لیتے۔ ”
5۔۔ ان ہی جانوروں میں بحیرہ، سائبہ ، وَصیلہ اور حامی تھے۔ حضرت سعید بن مسیبؒ کا بیان ہے کہ بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے لیے خاص کر لیا جاتا تھا اور اسے کوئی نہ دوہتا تھا اور سائبہ وہ جانور ہے جسے اپنے معبودوں کے نام پر چھوڑتے تھے۔ اس پر کوئی چیز لادی نہ جاتی تھی۔ وصیلہ اس جوان اونٹنی کو کہا جاتا ہے جو پہلی دفعہ کی پیدائش میں مادہ بچہ جنتی۔ پھر دوسری دفعہ کی پیدائش میں بھی مادہ ہی بچہ جنتی۔ چنانچہ اسے اس لیے بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا کہ اس نے ایک مادہ بچے کو دوسرے مادہ بچے سے جوڑ دیا۔ دونوں کے بیچ میں کوئی نر بچہ پیدا نہ ہوا۔ حامی اس نر اونٹ کو کہتے جو گنتی کی چند جفتیاں کرتا (یعنی دس اوٹنیاں) جب یہ اپنی جفتیاں پوری کرلیتا اور ہر ایک سے مادہ بچہ پیدا ہو جاتا… تو اسے بتوں کے لیے چھوڑ دیتے اور لادنے سے معاف رکھتے ، چنانچہ اس پر کوئی چیز لادی نہ جاتی اور اسے حامی کہتے۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر ۴۶۲۳ فتح الباری ۸/۱۳۳ ، ابن خلدون (مرتب) ۸/۵۳ قوسین کی عبارت ابن حبان کی ہے۔) ابن اسحاق کہتے ہیں کہ بحیرہ ، سائبہ ، کی بچی کو کہا جاتا ہے اور سائبہ اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جس سے پے دَرپے دس مادہ بچے پیدا ہوں۔ درمیان میں کوئی نر نہ پیدا ہو ، ایسی اونٹنی کو آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس پر سواری نہیں کی جاتی تھی۔ اس کے بال نہیں کاٹے جاتے تھے اور مہمان کے سوا کوئی اس کا دودھ نہیں پیتا تھا۔ اس کے بعد یہ اونٹنی جو مادہ بچہ جنتی اس کا کان چیر دیا جاتا اور اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ آزاد چھوڑ دیا جاتا ، اس پر سواری نہ کی جاتی ، اس کا بال نہ کاٹا جاتا اور مہمان کے سوا کوئی اس کا دودھ نہ پیتا ، یہی بحیرہ ہے اور اس کی ماں سائبہ ہے۔
وصِیلہ اس بکری کو کہا جاتا تھا جو پانچ دفعہ پے در پے دومادہ بچے جنتی۔ (یعنی پانچ بار میں دس مادہ بچے پیدا ہوتے ) درمیان میں کوئی نَر نہ پیدا ہوتا۔ اس بکری کو اس لیے وصیلہ کہا جاتا تھا کہ وہ سارے مادہ بچوں کو ایک دوسرے سے جوڑدیتی تھی۔ اس کے بعد اس بکری سے جو بچے پیدا ہوتے انہیں صرف مرد کھاسکتے تھے ، عورتیں نہیں کھا سکتی تھیں۔ البتہ اگر کوئی بچہ مُردہ پیدا ہوتا تو اس کو مرد عورت سبھی کھاسکتے تھے۔
حامی اس نَر اونٹ کو کہتے تھے جس کی جُفتی سے پے در پے دس مادہ بچے پیدا ہوتے۔ درمیان میں کوئی نر نہ پیدا ہوتا۔ ایسے اونٹ کی پیٹھ محفوظ کر دی جاتی تھی۔ نہ اس پر سواری کی جاتی تھی ، نہ اس کا بال کاٹا جاتا تھا، بلکہ اسے اونٹوں کے ریوڑ میں جفتی کے لیے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا اور اس کے سوا اس سے کوئی دوسرا فائدہ نہ اٹھایا جاتا تھا۔ دورِ جاہلیت کی بت پرستی کے ان طریقوں کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
مَا جَعَلَ اللَّـهُ مِن بَحِيرَةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ ۙ وَلَـٰكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ ۖوَأَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ﴿١٠٣﴾
(۵: ۱۰۳)
” اللہ نے نہ کوئی بحیرہ ، نہ کوئی سائبہ نہ کوئی وصیلہ اور نہ کوئی حامی بنایا ہے۔ لیکن جن لوگوں نے کفر کیا وہ اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں اور ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے۔ ”
ایک دوسری جگہ فرمایا :
وَقَالُوا مَا فِي بُطُونِ هَـٰذِهِ الْأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰ أَزْوَاجِنَا ۖ وَإِن يَكُن مَّيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاءُ ۚ ﴿١٣٩﴾
(۶: ۱۳۹ )
”ان (مشرکین ) نے کہا کہ ان چوپایوں کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ خالص ہمارے مَردوں کے لیے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے ، البتہ اگر وہ مردہ ہوتو اس میں مرد عورت سب شریک ہیں۔ ”
چوپایوں کی مذکورہ اقسام، یعنی بحیرہ ، سائبہ وغیرہ کے کچھ دوسرے مطالب بھی بیان کیے گئے ہیں۔ (سیرت ابن ہشام ۱/۸۹، ۹۰) جو ابن اسحاق کی مذکورہ تفسیر سے قدرے مختلف ہیں۔
حضرت سعید بن مُسیَّب رحمہ اللہ کا بیان گزرچکا ہے کہ یہ جانور ان کے طاغوتوں کے لیے تھے۔ (صحیح بخاری ۱/۴۹۹)صحیحین میں ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: میں نے عمرو بن عامر لحی خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر ۱۲۱۲ فتح الباری ۳/۹۸ حدیث نمبر ۳۵۲۱ فتح الباری ۶/۶۳۳ حدیث نمبر ۴۶۲۳ فتح الباری ۸/۱۳۲) کیونکہ یہ پہلا شخص تھا جس نے دین ابراہیم کو تبدیل کیا، بت نصب کیے ، سائبہ چھوڑے ، بحیرہ بنائے ، وصیلہ ایجاد کیا
اور حامی مقرر کیے۔ (اسے حافظ نے فتح الباری ۶/۶۳۴ میں ابن اسحاق سے نقل کیا ہے۔ اسی طرح کلبی نے اصنام میں اور ابن حبیب نے المنمق میں درج کیا ہے کہ اس کا بعض حصہ صحیح بخاری میں مرفوعاً موجود ہے۔ بعض کو حافظ نے صحیح مسلم کی طرف ابو صالح عن ابی ہریرہ کی روایت سے منسوب کیا ہے۔ دیکھئے: فتح الباری ۸/۸۵)
عرب اپنے بتوں کے ساتھ یہ سب کچھ اس عقیدے کے ساتھ کرتے تھے کہ یہ بت انہیں اللہ کے قریب کردیں گے اور اللہ کے حضور ان کی سفارش کردیں گے، چنانچہ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ مشرکین کہتے تھے :
مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَىٰ
(۳۹: ۳)
”ہم ان کی عبادت محض اس لیے کررہے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے۔ ”
وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَـٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّـهِ ﴿١٨﴾
(۱۰: ۱۸ )
” یہ مشرکین اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں نہ نفع پہنچاسکیں نہ نقصان اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ ”
مشرکین عرب اَزلام، یعنی فال کے تیر بھی استعمال کرتے تھے۔ (اَزلام، زَلَم کی جمع ہے اور زَلَم اس تیر کو کہتے ہیں جس میں پر نہ لگے ہوں ) فال گیری کے لیے استعمال ہونے والے یہ تیر تین قسم کے ہوتے تھے۔ ایک وہ جن پر صرف ”ہا ں” یا ”نہیں” لکھا ہوتا تھا۔ اس قسم کے تیر سفر اور نکاح وغیرہ جیسے کاموں کے لیے استعمال کیے جاتے تھے، اگر فال میں ”ہاں ” نکلتا تو مطلوبہ کام کر ڈالا جاتا اگر ”نہیں” نکلتا تو سال بھر کے لیے ملتوی کردیا جاتا اور آئندہ پھر فال نکالا جاتا۔
فال گیری کے تیروں کی دوسری قسم وہ تھی جن پر پانی اور دیت وغیرہ درج ہوتے تھے اور تیسری قسم وہ تھی جس پر یہ درج ہوتا تھا کہ ”تم میں سے ہے۔ ”یا ”تمہارے علاوہ سے ہے۔ ” یا ”ملحق ہے۔” ان تیروں کا مصرف یہ تھا کہ جب کسی کے نسب میں شبہ ہوتا تو اسے ایک سو اونٹوں سمیت ہُبل کے پاس لے جاتے۔ اونٹوں کو تیر والے مَہَنت کے حوالے کرتے اور وہ تمام تیروں کو ایک ساتھ ملا کر گھماتا جھنجوڑتا، پھر ایک تیر نکالتا۔ اب اگر یہ نکلتا کہ ”تم میں سے ہے۔” تو وہ ان کے قبیلے کا ایک معزز فرد قرار پاتا اور اگر یہ برآمد ہوتا کہ ”تمہارے غیر سے ہے۔ ” تو حلیف قرار پاتا اور اگر یہ نکلتا کہ ”ملحق ” ہے تو ان کے اندر اپنی حیثیت پر برقرار رہتا۔ نہ قبیلے کا فرد مانا جاتا نہ حلیف۔ (فتح الباری ۸/۲۷۷ ، ابن ہشام ۱/۱۵۲، ۱۵۳)
اسی سے ملتا جلتا ایک رواج مشرکین میں جوا کھیلنے اور جوئے کے تیر استعمال کرنے کا تھا، اسی تیر کی نشاندہی پر وہ جوئے کا اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت بانٹتے تھے۔
اس کا طریقہ یہ تھا کہ جوا کھیلنے والے ایک اونٹ ادھار خریدتے اور ذبح کر کے اسے دس یا اٹھائیس حصوں پر تقسیم کرتے ، پھر تیروں سے قرعہ اندازی کرتے۔ کسی تیر پر جیت کانشان بنا ہوتا اور کوئی تیر بے نشان ہوتا، جس کے نام پر جیت کے نشان والا تیر نکلتا وہ کامیاب مانا جاتا اور اپنا حصہ لیتا اور جس کے نام پر بے نشان تیر نکلتا اسے قیمت دینی پڑتی۔ (یعقوبی نے اپنی تاریخ میں بعض جزئیات کے اختلاف کے ساتھ بسط سے بیان کیا ہے۔ ۱/۲۵۹، ۲۶۱ا)
مشرکین عرب کاہنوں ، عرافوں اور نجومیوں کی خبروں پر بھی ایمان رکھتے تھے۔ کاہن اسے کہتے ہیں جو آنے والے واقعات کی پیشین گوئی کرے اور راز ہائے سر بستہ سے واقفیت کا دعویدار ہو۔ بعض کاہنوں کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ایک جِن ان کے تابع ہے ،جو انہیں خبریں پہنچاتا رہتا ہے اور بعض کاہن کہتے تھے کہ انہیں ایسا فہم عطا کیا گیا ہے جس کے ذریعے وہ غیب کا پتہ لگا لیتے ہیں۔ بعض اس بات کے مدعی تھے کہ جو آدمی ان سے کوئی بات پوچھنے آتا ہے اس کے قول وفعل سے یا اس کی حالت سے ، کچھ مقدمات اور اسباب کے ذریعے وہ جائے واردات کا پتہ لگا لیتے ہیں۔ اس قسم کے آدمی کو عرّاف کہا جاتا تھا۔ مثلاً: وہ شخص جو چوری کے مال ، چوری کی جگہ اور گم شدہ جانور وغیرہ کا پتہ ٹھکانا بتاتا۔
نجومی اسے کہتے ہیں جو تاروں پر غور کرکے اور ان کی رفتار واوقات کا حساب لگا کر پتہ لگا تا ہے کہ دنیا میں آئندہ کیا حالات وواقعات پیش آئیں گے۔ (اللسان اور دیگر کتب لغت۔) ان نجومیوں کی خبر وں کو ماننا درحقیقت تاروں پر ایمان لاناہے اور تاروں پر ایمان لانے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ مشرکینِ عرب نچھتروں پر ایمان رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم پر فلاں اور فلاں نَچِھتّر سے بارش ہوئی ہے۔( ملاحظہ ہو : صحیح بخاری حدیث نمبر ۸۴۶، ۱۰۳۸ ، ۴۱۴۷، ۷۵۰۳، صحیح مسلم مع شرح نووی : کتاب الایمان ، باب بیان کفر من قال مُطرنا بالنوء ۱/۹۵)
مشرکین میں بد شگونی کا بھی رواج تھا۔ اسے عربی میں طِیَرہ کہتے ہیں۔ اس کی صورت یہ تھی کہ مشرکین کسی چڑیا یا ہرن کے پاس جاکر اسے بھگاتے تھے۔ پھر اگر وہ داہنے جانب بھاگتا تو اسے اچھائی اور کامیابی کی علامت سمجھ کر اپنا کام کر گزرتے اور اگر بائیں جانب بھاگتا تو اسے نحوست کی علامت سمجھ کر اپنے کام سے باز رہتے۔ اسی طرح اگر کوئی چڑیا یا جانور راستہ کاٹ دیتا تو اسے بھی منحوس سمجھتے۔
اسی سے ملتی جلتی ایک حرکت یہ بھی تھی کہ مشرکین ، خرگوش کے ٹخنے کی ہڈی لٹکاتے تھے اور بعض دنوں ، مہینوں، جانوروں ، گھروں اورعورتوں کو منحوس سمجھتے تھے۔ بیماریوں کی چھوت کے قائل تھے اور روح کے اُلّو بن جانے کا عقیدہ رکھتے تھے۔ یعنی ان کا عقیدہ تھا کہ جب تک مقتول کا بدلہ نہ لیا جائے ، اس کو سکون نہیں ملتا اور اس کی روح اُلّو بن کر بیابانوں میں گردش کرتی رہتی ہے اور ”پیاس ، پیاس ”یا ”مجھے پلاؤ ، مجھے پلاؤ” کی صدا لگاتی رہتی ہے۔ جب اس کا بدلہ لے لیا جاتا ہے تو اسے راحت اور سکون مل جاتا ہے۔ (صحیح بخاری۲/۸۵۱ ،۸۵۷ مع شروح۔)
دینِ ابراہیمی میں قریش کی بدعات

یہ تھے اہل جاہلیت کے عقائد واعمال ، اس کے ساتھ ہی ان کے اندر دین ابراہیمی کے کچھ باقیات بھی تھے۔ یعنی انھوں نے یہ دین پورے طور پر نہیں چھوڑا تھا، چنانچہ وہ بیت اللہ کی تعظیم اور اس کا طواف کرتے تھے۔ حج وعمرہ کرتے تھے۔ عرفات ومزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور ہَدی کے جانور وں کی قربانی کرتے تھے ، البتہ انھوں نے اس دین ابرہیمی میں بہت سی بدعتیں ایجاد کرکے شامل کردی تھیں۔ مثلاً:
1۔۔۔۔ قریش کی ایک بدعت یہ تھی کہ وہ کہتے تھے ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اوّلاد ہیں ، حرم کے پاسبان، بیت اللہ کے والی اور مکہ کے باشندے ہیں ، کوئی شخص ہمارا ہم مرتبہ نہیں اور نہ کسی کے حقوق ہمارے حقوق کے مساوی ہیں…اور اسی بنا پر اپنا نام حمس (بہادر اور گرم جوش ) رکھتے تھے…لہٰذا ہمارے شایان شان نہیں کہ ہم حدود حرم سے باہر جائیں۔ چنانچہ حج کے دوران یہ لوگ عرفات نہیں جاتے تھے اور نہ وہاں سے اِفاضہ کرتے تھے۔ بلکہ مُزْدَلِفہ ہی میں ٹھہر کر وہیں سے افاضہ کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بدعت کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا : ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ (۲:۱۹۹) یعنی ” تم لوگ بھی وہیں سے افاضہ کرو جہاں سے سارے لوگ افاضہ کرتے ہیں۔ ”
ابن ہشام ۱/۱۹۹ ، صحیح بخاری ۱/۲۲۶
2۔۔۔۔ ان کی ایک بدعت یہ بھی تھی کہ کہتے تھے کہ حمس (قریش) کے لیے احرام کی حالت میں پنیر اور گھی بنانا درست نہیں اور نہ یہ درست ہے کہ بال والے گھر (یعنی کمبل کے خیمے ) میں داخل ہوں اور نہ یہ درست ہے کہ سایہ حاصل کرنا ہوتو چمڑے کے خیمے کے سوا کہیں اور سایہ حاصل کریں۔ (ابن ہشام ۱/۲۰۲)
3۔۔۔۔ ان کی ایک بدعت یہ بھی تھی کہ وہ کہتے تھے کہ بیرونِ حرم کے باشندے حج یا عمرہ کرنے کے لیے آئیں اور بیرون حرم سے کھانے کی کوئی چیز لے کر آئیں تو ان کے لیے کھانا درست نہیں۔ (ایضاً ایضا ً)
4۔۔۔۔ ایک بدعت یہ بھی تھی کہ انھوں نے بیرون حرم کے باشندوں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ حرم میں آنے کے بعد پہلا طواف حمس سے حاصل کیے ہوئے کپڑوں ہی میں کریں۔ چنانچہ اگر ان کا کپڑا دستیاب نہ ہوتا تو مرد ننگے طواف کرتے اور عورتیں اپنے سارے کپڑے اتار کر صرف ایک چھوٹا سا کھلا ہوا کرتا پہن لیتیں اور اسی میں طواف کرتیں اور دوران طواف یہ شعر پڑھتی جاتیں :

الیوم یبدو کلہ أو بعضہ​
وما بدا منہ فلا أحلہ​

”آج کچھ یا کل شرمگاہ کھل جائے گی۔ لیکن جو کھل جائے اسے (دیکھنا ) حلال نہیں قرار دیتی۔ ”
اللہ تعالیٰ نے اس خرافات کے خاتمے کے لیے فرمایا:
يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ (۷: ۳۱)
”اے آدم کے بیٹو ! ہر مسجد کے پاس اپنی زینت اختیار کر لیا کرو۔ ”
بہر حال اگر کوئی عورت یا مرد برتر اور معزز بن کر ، بیرونِ حرم سے لائے ہوئے اپنے ہی کپڑوں میں طواف کر لیتا تو طواف کے بعد ان کپڑوں کو پھینک دیتا ان سے نہ خود فائدہ اٹھاتا نہ کوئی اور۔ (ایضاً ۱/۲۰۲، ۲۰۳، صحیح بخاری ۱/۲۲۶)
5۔۔۔۔ قریش کی ایک بدعت یہ بھی تھی کہ وہ حالتِ احرام میں گھر کے اندر دروازے سے نہ داخل ہوتے تھے بلکہ گھر کے پچھواڑے ایک بڑا سا سوراخ بنا لیتے ، اور اسی سے آتے جاتے تھے اور اپنے اس اجڈ پنے کو نیکی سمجھتے تھے۔ قرآنِ کریم نے اس سے بھی منع فرمایا: وَلَيْسَ الْبِرُّ‌ بِأَن تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِن ظُهُورِ‌هَا وَلَـٰكِنَّ الْبِرَّ‌ مَنِ اتَّقَىٰ ۗ وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿١٨٩﴾ یہی دین – یعنی شرک وبُت پرستی اور توہمات وخرافات پر مبنی عقیدہ وعمل والا دین – عام اہل عرب کا دین تھا۔
اس کے علاوہ جزیرۃ العرب کے مختلف اطراف میں یہودیت ، مسیحیت ، مجوسیت اور صابئیت نے بھی دَر آنے کے مواقع پالیے تھے، لہٰذا ان کا تاریخی خاکہ بھی مختصراً پیش کیا جارہا ہے۔
جزیرۃ العرب میں یہودکے کم از کم دو اَدوار ہیں۔ پہلا دور اس وقت سے تعلق رکھتا ہے جب فلسطین میں بابل اور آشور کی حکومت کی فتوحات کے سبب یہودیوں کو ترکِ وطن کرنا پڑا۔ اس حکومت کی سخت گیری اور بخت نصر کے ہاتھوں یہودی بستیوں کی تباہی وویرانی ، ان کے ہَیکل کی بربادی اور ان کی اکثریت کی ملک بابل کو جلا وطنی کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہود کی ایک جماعت فلسطین چھوڑ کر حجاز کے شمالی اطراف میں آبسی۔ (قلب جزیرۃ العرب ص ۲۵۱)
دوسرا دور اس وقت شروع ہوتا ہے جب ٹائیٹس رومی کی زیر قیادت ۷۰ ء میں رومیوں نے فلسطین پر قبضہ کیا۔ اس موقع پر رومیوں کے ہاتھوں یہودیوں کی دارو گیر اور ان کے ہیکل کی بربادی کا نتیجہ یہ ہوا کہ متعدد یہودی قبیلے حجاز بھاگ آئے اور یَثْرِب ، خَیْبَر اور تَیْماء میں آباد ہو کر یہاں اپنی باقاعدہ بستیاں بسا لیں اور قلعے اور گڑھیاں تعمیر کر لیں۔ ان تارکینِ وطن یہود کے ذریعے عرب باشندوں میں کسی قدر یہودی مذہب کا بھی رواج ہوا اور اسے بھی ظہور ِاسلام سے پہلے اور اس کے ابتدائی دور کے سیاسی حوادث میں قابل ذکر حیثیت حاصل ہوگئی۔ ظہورِ اسلام کے وقت مشہور یہودی قبائل یہ تھے۔ خَیبر، نضیر، مُصْطَلق ، قریظہ اور قَینُقاع۔ سمہودی نے ذکر کیا ہے کہ یہود قبائل کی تعداد بیس سے زیادہ تھی۔ (قلب جزیرۃ العرب ص ۲۵۱ ۔ وفاء الوفاء ۱/۱۶۵)
یہودیت کو یمن میں بھی فروغ حاصل ہوا۔ یہاں اس کے پھیلنے کا سبب تبان اسعد ابو کرب تھا۔ یہ شخص جنگ کرتا ہوا یثرب پہنچا اور وہاں یہودیت قبول کرلی اور بنو قریظہ کے دو یہودی علماء کو اپنے ساتھ یمن لے آیا اور ان کے ذریعے یہودیت کو یمن میں وسعت اور پھیلاؤ حاصل ہوا۔ ابو کرب کے بعد اس کا بیٹا یوسف ذو نواس یمن کا حاکم ہوا تواس نے یہودیت کے جوش میں نجران کے عیسائیوں پر ہلہ بول دیا اور انہیں مجبورکیا کہ یہودیت قبول کریں مگر انھوں نے انکار کردیا۔ اس پر ذو نواس نے خندق کھدوائی اور اس میں آگ جلوا کر بوڑھے ، بچے ، مرد، عورت سب کو بلا تمیز آگ کے الاؤ میں جھونک دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس حادثے کا شکار ہونے والوں کی تعداد بیس سے چالیس ہزار کے درمیان تھی۔ یہ اکتوبر ۵۲۳ ء کا واقعہ ہے۔ قرآن مجید نے سورۂ بروج میں اسی واقعے کا ذکر کیا ہے۔ (ابن ہشام ۱/۲۰، ۲۱، ۲۲، ۲۷، ۳۱، ۳۵، ۳۶، نیز ملاحظہ فرمایئے کتب تفسیر ، تفسیر سورۂ بروج اور الیمن عبر التاریخ ص ۱۵۸،۱۵۹)
جہاں تک عیسائی مذہب کا تعلق ہے کہ بلاد عرب میں اس کی آمد حبشی اور رومی قبضہ گیروں اور فاتحین کے ذریعے ہوئی۔ ہم بتا چکے ہیں کہ یمن پر حبشیوں کا قبضہ پہلی بار ۳۴۰ء میں ہوا لیکن یہ قبضہ دیر تک برقرار نہ رہا۔ یمنیوں نے ۳۷۰ء سے ۳۷۸ء کے دوران نکال بھگایا۔ (الیمن عبر التاریخ ۱۵۸، ۱۵۹، تاریخ العرب قبل الاسلام ص ۱۳۲، ۴۳۲ )البتہ اس دوران یمن میں مسیحی مشن کام کرتا رہا۔ تقریباً اسی زمانے میں ایک مستجاب الدعوات اور صاحب کرامات زاہد جس کانام فیمیون تھا ، نجران پہنچا اور وہاں کے باشندوں میں عیسائی مذہب کی تبلیغ کی۔ اہل نجران نے اس کی اور اس کے دین کی سچائی کی کچھ ایسی علامات دیکھیں کہ وہ عیسائیت کے حلقہ بگوش ہو گئے۔ (ابن ہشام ۱/۳۱،۳۲،۳۳،۳۴)
پھر ذونواس کی کاروائی کے رَدِّ عَمل کے طور پر ۵۲۵ء میں حبشیوں نے دوبارہ یمن پر قبضہ کیا ، اور اَبْرَہہ نے حکومتِ یمن کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی توا س نے بڑے جوش وخروش کے ساتھ بڑے پیمانے پر عیسائیت کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ اسی جوش وخروش کا نتیجہ تھا کہ اس نے یمن میں ایک کعبہ تعمیر کیا اور کوشش کی کہ اہلِ عرب کو (مکہ اور بیت اللہ سے ) روک کر اسی کا حج کرائے اور مکہ کے بیت اللہ شریف کو ڈھا دے لیکن اس کی جرأت پر اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی سزادی کہ اوّلین وآخرین کے لیے عبرت بن گیا۔
دوسری طرف رومی علاقوں کی ہمسائیگی کے سبب آل غسان ، بنوتغلب ، اور بنو طی وغیرہ قبائل عرب میں بھی عیسائیت پھیل گئی تھی، بلکہ حِیرہ کے بعض عرب بادشاہوں نے بھی عیسائی مذہب قبول کرلیا تھا۔
جہاں تک مجوسی مذہب کا تعلق ہے تو اسے زیادہ تر اہلِ فارس کے ہمسایہ عربوں میں فروغ حاصل ہوا تھا۔ مثلاً: عراق عرب ، بحرین، (الاحساء) حجر اور خلیج عربی کے ساحلی علاقے۔ ان کے علاوہ یمن پر فارسی قبضے کے دوران وہاں بھی اکّا دُکّا افراد نے مجوسیت قبول کی۔
باقی رہا صابی ٔ مذہب …جس کا طرۂ امتیاز ستارہ پرستی ، نچھتروں پر اعتقاد ، تاروں کی تاثیر اور انہیں کائنات کا مدبر ماننا تھا۔ تو عراق وغیرہ کے آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران جو کتبات برآمد ہوئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کلدانی قوم کا مذہب تھا۔ دورِ قدیم میں شام ویمن کے بہت سے باشندے بھی اسی مذہب کے پیروتھے لیکن جب یہودیت اور پھر عیسائیت کا دَور دَورہ ہوا تو اس مذہب کی بنیادیں ہل گئیں اور اس کی شمع فروزاں گل ہو کر رہ گئی ، تاہم مجوس کے ساتھ خلط ملط ہو کر یا ان کے پڑوس میں عراق عرب اور خلیج عربی کے ساحل پر اس مذہب کے کچھ نہ کچھ پَیروکار باقی رہے۔ (تاریخ ارض القرآن ۲/۱۹۳-۲۰۸)
دینی حالت

جس وقت اسلام کا نیّرتاباں طلوع ہوا ہے یہی مذاہب وادیان تھے جو عرب میں پائے جاتے تھے ، لیکن یہ سارے ہی مذاہب شکست وریخت سے دوچار تھے۔ مشرکین جن کا دعویٰ تھا کہ ہم دین ابراہیمی پر ہیں شریعت ابراہیمی کے اوامر ونواہی سے کوسوں دُور تھے۔ اس شریعت نے جن مکارمِ اخلاق کی تعلیم دی تھی ان سے ان مشرکین کو کوئی واسطہ نہ تھا۔ ان میں گناہوں کی بھر مار تھی اور طولِ زمانہ کے سبب ان میں بھی بت پرستوں کی وہی عادات ورسوم پیدا ہو چلی تھیں جنھیں دینی خرافات کا درجہ حاصل ہے۔ ان عادات ورسوم نے ان کی اجتماعی سیاسی اور دینی زندگی پر نہایت گہرے اثرات ڈالے تھے۔
یہودی مذہب کا حال یہ تھا کہ وہ محض ریا کاری اور تحکم بن گیا تھا۔ یہودی پیشوا اللہ کے بجائے خود رب بن بیٹھے تھے۔ لوگوں پر اپنی مرضی چلاتے تھے اور ان کے دلوں میں گزرنے والے خیالات اور ہونٹوں کی حرکات تک کا محاسبہ کرتے تھے۔ ان کی ساری توجہ اس بات پر مرکوز تھی کہ کس طرح مال وریاست حاصل ہو۔ خواہ دین برباد ہی کیوں نہ ہو اور کفر والحاد کو فروغ ہی کیوں نہ حاصل ہو اور ان تعلیمات کے ساتھ تساہُل ہی کیوں نہ برتا جائے، جن کی تقدیس کا اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو حکم دیا ہے اور جن پر عمل درآمد کی ترغیب دی ہے۔
عیسائیت ایک ناقابل فہم بت پرستی بن گئی تھی۔ اس نے اللہ اور انسان کو عجیب طرح سے خلط ملط کر دیا تھا ، پھر جن عربوں نے اس دین کو اختیار کیا تھا ان پر اس دین کا کوئی حقیقی اثر نہ تھا کیونکہ اس کی تعلیمات ان کے مالوف طرز زندگی سے میل نہیں کھاتی تھیں اور وہ اپنا طرزِ زندگی چھوڑ نہیں سکتے تھے۔ باقی ادیان عرب کے ماننے والوں کا حال مشرکین ہی جیسا تھا، کیونکہ ان کے دل یکساں تھے عقائد میں توارد تھا اور رسم ورواج میں ہم آہنگی تھی۔

جاہلی معاشرے کی چند جھلکیاں

جزیرۃ العرب کے سیاسی اور مذہبی حالات بیان کر لینے کے بعد اب وہاں کے اجتماعی ، اقتصادی اور اخلاقی حالات کا خاکہ مختصراً پیش کیا جا رہا ہے۔

اجتماعی حالات
عرب آبادی مختلف طبقات پر مشتمل تھی اور ہر طبقے کے حالات ایک دوسرے سے بہت زیادہ مختلف تھے۔ چنانچہ طبقہ اَشراف میں مرد عورت کا تعلق خاصہ ترقی یافتہ تھا۔ عورت کو بہت کچھ خود مختاری حاصل تھی۔ اس کی بات مانی جاتی تھی اور اس کا احترام اور تحفظ کیا جاتا تھا۔ اس کی راہ میں تلواریں نکل پڑتی تھیں اور خون ریزیاں ہو جاتی تھیں۔ آدمی جب اپنے کرم وشجاعت پر…جسے عرب میں بڑا بلند مقام حاصل تھا …اپنی تعریف کرنا چاہتا تو عموماً عورت ہی کو مخاطب کرتا۔ بسا اوقات عورت چاہتی تو قبائل کو صلح کے لیے اکٹھا کر دیتی اور چاہتی تو ان کے درمیان جنگ اور خون ریزی کے شعلے بھڑکا دیتی۔ لیکن ان سب کے باوجود بلا نزاع مرد ہی کو خاندان کا سربراہ مانا جاتا تھا اور اس کی بات فیصلہ کن ہوا کرتی تھی۔ اس طبقے میں مرد اور عورت کا تعلق عقد نکاح کے ذریعے ہوتا تھا اور یہ نکاح عورت کے اوّلیاء کے زیرنگرانی انجام پاتا تھا۔ عورت کو یہ حق نہ تھا کہ ان کی ولایت کے بغیر اپنے طور پر اپنا نکاح کر لے۔
ایک طرف طبقہ اشراف کا یہ حال تھا تو دوسری طرف دوسرے طبقوں میں مرد وعورت کے اختلاط کی بھی کئی صورتیں تھیں۔ جنھیں بد کاری وبے حیائی اور فحش کاری وزنا کاری کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔ حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ جاہلیت میں نکاح کی چار صورتیں تھیں: ایک تو وہی صورت تھی جو آج بھی لوگوں میں رائج ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو اس کی زیر ولایت لڑکی کے لیے نکاح کا پیغام دیتا۔ پھر منظوری کے بعد مہر دے کر اس سے نکاح کرلیتا۔ دوسری صورت یہ تھی کہ عورت جب حیض سے پاک ہوتی تو اس کا شوہر کہتا کہ فلاں شخص کے پاس پیغام بھیج کر اس سے اس کی شرمگاہ حاصل کرو۔ (یعنی زنا کراؤ) اور شوہر خود اس سے الگ تھلگ رہتا اور اس کے قریب نہ جاتا۔ یہاں تک کہ واضح ہوجاتا کہ جس آدمی سے شرمگاہ حاصل کی تھی (یعنی زنا کرایا تھا ) اس سے حمل ٹھہر گیا ہے۔ جب واضح ہوجاتا تو اس کے بعد اگرشوہر چاہتا تو اس عورت کے پاس جاتا۔ ایسا اس لیے کیا جاتا تھا کہ لڑکا شریف اور باکمال پیدا ہو۔ اس نکاح کو نکاحِ اِسْتبضاع کہا جاتا تھا۔ (اسی کو ہندوستان میں نیوگ کہتے ہیں۔) نکاح کی تیسری صورت یہ تھی کہ دس آدمیوں سے کم کی ایک جماعت اکٹھا ہوتی ، سب کے سب ایک ہی عورت کے پاس جاتے اور بد کاری کرتے۔ جب وہ عورت حاملہ ہوجاتی اور بچہ پیدا ہوتا تو پیدائش کے چند رات بعد وہ عورت سب کو بلابھیجتی اور سب کو آنا پڑتا مجال نہ تھی کہ کوئی نہ آئے۔ اس کے بعد وہ عورت کہتی کہ آپ لوگوں کا جو معاملہ تھا وہ تو آپ لوگ جانتے ہی ہیں اور اب میرے بطن سے بچہ پیدا ہوا ہے اور اے فلاں! وہ تمہارا بیٹا ہے۔ وہ عورت ان میں سے جس کا نام چاہتی لے لیتی ، اور وہ اس کا لڑکا مان لیا جاتا۔
چوتھا نکاح یہ تھا کہ بہت سے لوگ اکٹھا ہوتے اور کسی عورت کے پاس جاتے ، وہ اپنے پاس کسی آنے والے سے انکار نہ کرتی۔ یہ رنڈیاں ہوتی تھیں جو اپنے دروازوں پر جھنڈیاں گاڑے رکھتی تھیں تاکہ یہ نشانی کا کام دے اور جو ان کے پاس جانا چاہے بے دھڑک چلا جائے۔ جب ایسی عورت حاملہ ہوتی ، اور بچہ پیدا ہوتا تو سب کے سب اس کے پاس جمع ہوتے ، اور قیافہ شناس کو بلاتے۔ قیافہ شناس اپنی رائے کے مطابق اس لڑکے کو کسی بھی شخص کے ساتھ ملحق کر دیتا۔ پھر یہ اسی سے مربوط ہو جاتا اور اسی کا لڑکا کہلاتا۔ وہ اس سے انکار نہ کرسکتا تھا – جب اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو مبعوث فرمایا تو جاہلیت کے سارے نکاح منہدم کردیے۔ صرف اسلامی نکاح باقی رہا جو آج رائج ہے۔ (صحیح بخاری : کتاب النکاح ، باب من قال لانکاح الابولی ۲/۷۶۹ وابوداؤد : باب وجوہ النکاح۔)
عرب میں مرد وعورت کے ارتباط کی بعض صورتیں ایسی بھی تھیں جو تلوار کی دھار اور نیزے کی نوک پر وجود میں آتی تھیں۔ یعنی قبائلی جنگوں میں غالب آنے والے والا قبیلہ مغلوب قبیلے کی عورتوں کو قید کر کے اپنے حرم میں داخل کر لیتا تھا لیکن ایسی عورتیں سے پیدا ہونے والی اوّلاد زندگی بھر عار محسوس کرتی تھی۔
زمانۂ جاہلیت میں کسی تحدید کے بغیر متعدد بیویاں رکھنا بھی معروف با ت تھی۔ لوگ ایسی دوعورتیں بھی بیک وقت نکاح میں رکھ لیتے تھے جو آپس میں سگی بہن ہوتی تھیں۔ باپ کے طلاق دینے یا وفات پانے کے بعد بیٹا اپنی سوتیلی ماں سے بھی نکاح کر لیتا تھا۔ طلاق ورجعت کا اختیار مرد کو حاصل تھا اور ان کی کوئی حد معین نہ تھی تا آنکہ اسلام نے ان کی حد بندی کی۔ (ابو داؤد ، نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث ، نیز کتب تفسیر متعلقہ الطلاق مرتان۔)
زنا کاری تمام طبقات میں عروج پر تھی۔ کوئی طبقہ یا انسانوں کی کوئی قسم اس سے مستثنیٰ نہ تھی ، البتہ کچھ مرد اور عورتیں ایسی ضرور تھیں جنھیں اپنی بڑائی کا احساس اس بُرائی کے کیچڑ میں لت پت ہونے سے باز رکھتا تھا۔ پھر آزاد عورتوں کا حال لونڈیوں کے مقابل نسبتاً اچھا تھا، اصل مصیبت لونڈیاں ہی تھیں اور ایسا لگتا ہے کہ اہلِ جاہلیت کی غالب اکثریت اس برائی کی طرف منسوب ہونے میں کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتی تھی۔ چنانچہ سنن ابی داؤد وغیرہ میں مروی ہے کہ ایک دفعہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ !فلاں میرا بیٹا ہے ، میں نے جاہلیت میں اس کی ماں سے زنا کیا تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : اسلام میں ایسے دعوے کی کوئی گنجائش نہیں، جاہلیت کی بات گئی اب تو لڑکا اسی ہوگا جس کی بیوی یا لونڈی ہو اور زنا کار کے لیے پتھر ہے اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور عبد بن زَمْعہ کے درمیان زمعہ کی لونڈی کے بیٹے…عبد الرحمن بن زمعہ…کے بارے میں جو جھگڑا پیش آیا تھا وہ بھی معلوم ومعروف ہے۔
(صحیح بخاری ۲/۹۹۹، ۱۰۶۵، ابو داؤد: الولد للفراش ، مسند احمد ۲/۲۰۷
)
جاہلیت میں باپ بیٹے کا تعلق بھی مختلف نوعیت کا تھا ، کچھ تو ایسے تھے جو کہتے تھے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: