Ar-Raheeq Al-Makhtum by Safiur Rahman Mubarakpuri – Episode 3

0
الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری – قسط نمبر 3

–**–**–

انما أولادنا بیننا​
أکبادنا تمشی علی الأرض​

”ہماری اولاد ہمارے کلیجے ہیں جو روئے زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔”
لیکن دوسری طرف کچھ ایسے بھی تھے جو لڑکیوں کو رسوائی اور خرچ کے خوف سے زندہ دفن کر دیتے تھے اور بچوں کو فقروفاقہ کے ڈر سے مار ڈالتے تھے۔ (قرآن۶:۱۰۱۔ ۱۶:۵۸، ۵۹۔ ۱۷:۳۱۔ ۸۱:۸)لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سنگ دلی بڑے پیمانے پر رائج تھی کیونکہ عرب اپنے دشمن سے حفاظت کے لیے دوسروں کی بہ نسبت کہیں زیادہ اوّلاد کے محتاج تھے اور اس کا احساس بھی رکھتے تھے۔
جہاں تک سگے بھائیوں، چچیرے بھائیوں، اور کنبے قبیلے کے لوگوں کے باہمی تعلقات کا معاملہ ہے تو یہ خاصے پختہ اور مضبوط تھے۔ کیونکہ عرب کے لوگ قبائلی عصبیت ہی کے سہارے جیتے اور اسی کے لیے مرتے تھے۔ قبیلے کے اندر باہمی تعاون اور اجتماعیت کی روح پوری طرح کار فرماہوتی تھی۔ جسے عصبیت کا جذبہ مزید دو آتشہ رکھتا تھا۔ درحقیقت قومی عصبیت اور قرابت کا تعلق ہی ان کے اجتماعی نظام کی بنیاد تھا۔ وہ لوگ اس مثل پر اس کے لفظی معنی کے مطابق عمل پیرا تھے کہ ((انصر أخاک ظالمًا أو مظلومًا)) (اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ ظالم ہو یا مظلوم) اس مثل کے معنی میں ابھی وہ اصلاح نہیں ہوئی تھی جو بعدمیں اسلام کے ذریعے کی گئی۔ یعنی ظالم کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے باز رکھا جائے ، البتہ شرف وسرداری میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کا جذبہ بہت سی دفعہ ایک ہی شخص سے وجود میں آنے والے قبائل کے درمیان جنگ کا سبب بن جایا کرتا تھا ، جیسا کہ اَوس وخزرج ، عَبْس و ذُبَیْان اور بکر و تَغْلب وغیرہ کے واقعات میں دیکھا جاسکتا ہے۔
جہاں تک مختلف قبائل کے ایک دوسرے سے تعلقات کا معاملہ ہے تو یہ پوری طرح شکسۃ وریختہ تھے۔ قبائل کی ساری قوت ایک دوسرے کے خلاف جنگ میں فنا ہورہی تھی۔ البتہ دین اور خرافات کے آمیز ے سے تیار شدہ بعض رسوم و عادات کی بدولت بسا اوقات جنگ کی حِدّ ت و شِدّت میں کمی آجاتی تھی اور بعض حالات میں مُوالاۃ، حلف اور تابعداری کے اصولوں پر مختلف قبائل یکجا ہو جاتے تھے۔ علاوہ ازیں حرام مہینے ان کی زندگی اور حصول معاش
کے لیے سراپا رحمت ومدد تھے۔ کیونکہ عرب ان کی حرمت کا بڑا احترام کرتے تھے۔ ابو رجاء عطاری کہتے ہیں کہ جب رجب کا مہینہ آجاتا توہم کہتے کہ یہ نیزے کی انیاں اتارنے والا ہے۔ چنانچہ ہم کوئی نیزہ نہ چھوڑتے جس میں دھار دار برچھی ہوتی مگر ہم وہ برچھی نکال لیتے اور کوئی تیر نہ چھوڑتے جس میں دھار دار پھل ہوتا مگر اسے بھی نکال لیتے اور رجب بھر اسے کہیں ڈال کر پڑا چھوڑ دیتے۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر ۴۳۷۶ )اسی طرح حرام کے بقیہ مہینوں میں بھی۔ (فتح الباری ۸/۹۱
)
خلاصہ یہ کہ اجتماعی حالت ضُعف وبے بصیرتی کی پستی میں گری ہوئی تھی۔ جہل اپنی طنابیں تانے ہوئے تھا اور خرافات کا دور دورہ تھا۔ لوگ جانوروں جیسی زندگی گزار رہے تھے۔ عورت بیچی اور خریدی جاتی تھی اور بعض اوقات اس سے مٹی اور پتھر جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔ قوم کے باہمی تعلقات کمزور بلکہ ٹوٹے ہو ئے تھے اور حکومتوں کے سارے عزائم ، اپنی رعایا سے خزانے بھر نے یا مخالفین پر فوج کشی کرنے تک محدود تھے۔
اقتصادی حالت
اقتصادی حالت، اجتماعی حالت کے تابع تھی۔ اس کا اندازہ عرب کے ذرائع معاش پر نظر ڈالنے سیہوسکتا ہے کہ تجارت ہی ان کے نزدیک ضروریات زندگی حاصل کرنے کا سب سے اہم ذریعہ تھی اور معلوم ہے کہ تجارتی آمد ورفت امن وسلامتی کی فضا کے بغیر آسان نہیں اور جزیرۃ العرب کا حال یہ تھا کہ سوائے حرمت والے مہینوں کے امن وسلامتی کا کہیں وجود نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف حرام مہینوں ہی میں عرب کے مشہور بازار عُکاظ ، ذی المجَاز اور مَجِنہ وغیرہ لگتے تھے۔
جہاں تک صنعتوں کا معاملہ ہے تو عرب اس میدان میں ساری دنیا سے پیچھے تھے۔ کپڑے کی بُنائی اور چمڑے کی دِباغت وغیرہ کی شکل میںجو چند صنعتیں پائی بھی جاتی تھیں وہ زیادہ تریمن، حیرہ اور شام کے متصل علاقوں میں تھیں۔البتہ اندرونِ عرب کھیتی باڑی اور گلہ بانی کا کسی قدر رواج تھا۔ ساری عرب عورتیں سوت کاتتی تھیں لیکن مشکل یہ تھی کہ سارا مال ومتاع ہمیشہ لڑائیوں کی زد میں رہتا تھا۔ فقر اور بھوک کی وبا عام تھی اور لوگ ضروری کپڑوں اور لباس سے بھی بڑی حد تک محروم رہتے تھے۔
اخلاق
یہ تو اپنی جگہ مسلم ہے ہی کہ اہل جاہلیت میں خَسیس و رَذیل عادتیں اور وجدان وشعور اور عقلِ سلیم کے خلاف باتیں پائی جاتی تھیں۔ لیکن ان میں ایسے پسندیدہ اخلاقِ فاضلہ بھی تھے جنھیں دیکھ کر انسان دنگ اور ششدر رہ جاتا ہے۔ مثلاً:
کرم وسخاوت :…یہ اہل جاہلیت کا ایسا وصف تھا جس میں وہ ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے تھے اور اس پر اس طرح فخر کرتے تھے کہ عرب کے آدھے اشعار اسی کی نذر ہوگئے ہیں۔ اس وصف کی بنیاد پر کسی نے خود اپنی تعریف کی ہے تو کسی نے کسی اور کی۔ حالت یہ تھی کہ سخت جاڑے اور بھوک کے زمانے میں کسی کے گھر کوئی مہمان آجاتا اور اس کے پاس اپنی اس ایک اونٹنی کے سوا کچھ نہ ہوتا جو اس کی اور اس کے کنبے کی زندگی کا واحد ذریعہ ہوتی تو بھی …ایسی سنگین حالت کے باوجود …اس پر سخاوت کا جوش غالب آجاتا اور وہ اٹھ کر اپنے مہمان کے لیے اپنی اونٹنی ذبح کر دیتا۔ ان کے کرم ہی کا نتیجہ تھا کہ وہ بڑی بڑی دیت اور مالی ذمہ داریاں اٹھا لیتے اور اس طرح انسانوں کو بربادی اور خون ریزی سے بچا کر دوسرے رئیسوں اور سرداروں کے مقابل فخر کرتے تھے۔
اسی کرم کا نتیجہ تھا کہ وہ شراب نوشی پر فخر کرتے تھے ، اس لیے نہیں کہ یہ بذاتِ خود کوئی فخر کی چیز تھی بلکہ اس لیے کہ یہ کرم وسخاوت کو آسان کردیتی تھی۔ کیونکہ نشے کی حالت میں مال لٹانا انسانی طبیعت پر گراں نہیں گزرتا۔ اس لیے یہ لوگ انگور کے درخت کو کرم اور انگور کی شراب کو بنت الکرم کہتے تھے۔ جاہلی اشعار کے دَوَاوِین پر نظر ڈالیے تو یہ مدح وفخر کا ایک اہم باب نظر آئے گا عنترہ بن شداد عبسی اپنے معلقہ میں کہتا ہے :

ولقد شربت من المدامۃ بعد مارکد
الھواجربالمشوف المعلم
بزجاجۃ صفراء ذات أسـرۃ
قرنت بأزھر بالشمال مفدم
فإذا شربت فإنني مستھلک
مالي ،وعرضي وافر لم یکلم
وإذا صحوت فما أقصر عن ندی
وکما علمت شمائلي وتکرمی

”میں نے دوپہر کی تیزی رکنے کے بعد ایک زرد رنگ کے دھاری دار جام بلوریں سے جو بائیں جانب رکھی ہوئی تابناک اور منہ بند خُم کے ساتھ تھا ، نشان لگی ہوئی ْصاف شفاف شراب پی اور جب میں پی لیتا ہوں تو اپنا مال لٹا ڈالتا ہوں۔ لیکن میری آبرو بھر پور رہتی ہے ، اس پر کوئی چوٹ نہیں آتی۔ ا ور جب میں ہوش میں آتا ہوں تب بھی سخاوت میں کوتاہی نہیں کرتا اور میرا اخلاق وکرم جیسا کچھ ہے تمہیں معلوم ہے۔ ”
ان کے کرم ہی کا نتیجہ تھا کہ وہ جوا کھیلتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ بھی سخاوت کی ایک راہ ہے کیونکہ انہیں جو نفع حاصل ہوتا ، یا نفع حاصل کرنے والوں کے حصے سے جو کچھ فاضل بچ رہتا اسے مسکینوں کو دے دیتے تھے۔ اسی لیے قرآن پاک نے شراب اور جوئے کے نفع کا انکار نہیں کیا۔ بلکہ فرمایا کہ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ‌ مِن نَّفْعِهِمَا (۲:۲۱۹ ) ”ان دونوں کا گناہ ان کے نفع سے بڑھ کر ہے۔ ”
وفائے عہد:…یہ بھی دَورِ جاہلیت کے اخلاقِ فاضلہ میں سے ہے۔ عہد کو ان کے نزدیک دین کی حیثیت حاصل تھی۔ جس سے وہ بہر حال چمٹے رہتے تھے اور اس راہ میں اپنی اوّلاد کا خون اور اپنے گھر بار کی تباہی بھی ہیچ سمجھتے تھے۔ اسے سمجھنے کے لیے ہانیٔ بن مسعود شیبانی، سموأل بن عادیا اور حاجب بن زرارہ کے واقعات کافی ہیں۔ ہانی بن مسعود کا واقعہ حیرہ کی بادشاہی کے تحت گزر چکا ہے۔ سموأل کا واقعہ یہ ہے کہ امرؤ القیس نے اس کے پاس کچھ زرہیں امانت رکھ چھوڑی تھیں۔ حارث بن ابی شمر غسانی نے انھیں اس سے لینا چاہا ، اس نے انکار کردیا اور تیماء میں اپنے محل کے اندر بند ہوگیا۔ سموأل کا ایک بیٹا قلعہ سے باہر رہ گیا تھا۔ حارث نے اسے گرفتار کر لیا اور زرہیں نہ دینے کی صورت میں قتل کی دھمکی دی مگر سموأل انکار پر اڑا رہا۔ آخر حارث نے اس کے بیٹے کو اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کردیا۔
حاجب کا واقعہ یہ ہے کہ اس کے علاقے میں قحط سالی پیش آئی۔ اس نے کسریٰ سے اس کی عملداری کے حدود میں اپنی قوم کو ٹھہرانے کی اجازت چاہی۔ کسریٰ کو ان کے فساد کا اندیشہ ہوا، لہٰذا ضمانت کے بغیر منظور نہ کیا۔ حاجب نے اپنی کمان رہن رکھ دی اور وعدے کے مطابق قحط ختم ہونے پر اپنی قوم کو واپس لے گیا اور ان کے صاحبزادے حضرت عطارد بن حاجب رضی اللہ عنہ نے کسریٰ کے پاس جاکر باپ کی امانت واپس طلب کی۔ جسے کسریٰ نے ان کی وفاداری کے پیش نظر واپس کردیا۔
خودداری وعزتِ نفس:…اس پر قائم رہنا اور ظلم وجبر برداشت نہ کرنا بھی جاہلیت کے معروف اخلاق میں سے تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ ان کی شجاعت وغیرت حد سے بڑھی ہوئی تھی، وہ فوراً بھڑک اٹھتے تھے اور ذرا ذرا سی بات پر جس سے ذلت واہانت کی بوآتی ، شمشیر وسنان اٹھالیتے اور نہایت خونریز جنگ چھیڑ دیتے۔ انہیں اس راہ میں اپنی جان کی قطعاً پروا نہ رہتی۔
عزائم کی تنفیذ: …اہل جاہلیت کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ جب وہ کسی کام کو مجد وافتخار کا ذریعہ سمجھ کر انجام دینے پر تُل جاتے تو پھر کوئی رکاوٹ انہیںروک نہیںسکتی تھی۔ وہ اپنی جان پر کھیل کر اس کام کو انجام دے ڈالتے تھے۔
حلْم وبردباری اور سنجیدگی: …یہ بھی اہل جاہلیت کے نزدیک قابل ستائش خوبی تھی ، مگر یہ ان کی حد سے بڑھی ہوئی شجاعت اور جنگ کے لیے ہمہ وقت آمادگی کی عادت کے سبب نادرالوجود تھی۔
بدوی سادگی: …یعنی تمدن کی آلائشوں اور داؤپیچ سے ناواقفیت اور دوری۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ ان میں سچائی اور امانت پائی جاتی تھی۔ وہ فریب کاری وبدعہدی سے دور اور متنفر تھے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ جزیرۃُ العرب کو ساری دنیا سے جو جغرافیائی نسبت حاصل تھی اس کے علاوہ یہی وہ قیمتی اخلاق تھے جن کی وجہ سے اہل عرب کو بنی نوع انسان کی قیادت اور رسالتِ عامہ کابوجھ اُٹھانے کے لیے منتخب کیا گیا۔ کیونکہ یہ اخلاق اگرچہ بعض اوقات شر وفساد کا سبب بن جاتے تھے اور ان کی وجہ سے المناک حادثات پیش آجاتے تھے لیکن یہ فی نفسہٖ بڑے قیمتی اخلاق تھے۔ جو تھوڑی سی اصلاح کے بعد انسانی معاشرے کے لیے نہایت مفید بن سکتے تھے اور یہی کام اسلام نے انجام دیا۔
اور غالباً ان اخلاق میں بھی ایفائے عہد کے بعد عزتِ نفس اور پختگی ٔ عزم سب سے گراں قیمت اور نفع بخش جوہر تھا۔ کیونکہ اس قوتِ قاہرہ اور عزمِ مُصَمّم کے بغیر شر وفساد کا خاتمہ اور نظامِ عدل کا قیام ممکن نہیں۔
اہل جاہلیت کے کچھ اور بھی اخلاق ِ فاضلہ تھے لیکن یہاں سب کا اِستقصاء مقصود نہیں۔
خاندانِ نبوت

نسب :
نبیﷺ کا سلسلۂ نسب تین حصوں پر تقسیم کیاجاسکتاہے۔ ایک وہ حصہ جس کی صحت پر اہل سِیر اور ماہرینِ انساب کا اتفاق ہے۔ یہ عدنان تک مُنْتہی ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ جس میں اہل سیر کا اختلاف ہے کسی نے توقف کیا ہے اور کوئی قائل ہے۔ یہ عدنان سے اوپر ابراہیم علیہ السلام تک منتہی ہوتا ہے۔ تیسرے حصہ میں یقینا کچھ غلطیاں ہیں یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اوپر حضرت آدم علیہ السلام تک جاتا ہے۔ اس کی جانب اشارہ گزر چکا ہے۔ ذیل میں تینوں حصوں کی قدرے تفصیل پیش کی جارہی ہے۔
پہلا حصہ: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (شَیْبَہ) بن ہاشم (عمرو ) بن عبد مناف (مغیرہ) بن قصی (زید) بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لُوی بن غالب بن فِہر (انہی کا لقب قریش تھا اور ان ہی کی طرف قبیلۂ قریش منسوب ہے ) بن مالک بن نضر (قیس) بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ (عامر ) بن الیاس بن مضر بن نِزار بن مَعَد بن عَدْنان۔1
دوسرا حصہ: عدنان سے اوپر، یعنی عدنان بن أد بن ہمیسع بن سلامان بن عوص بن یوز بن قموال بن أبی بن عوام بن ناشد بن حزا بن بلداس بن یدلاف بن طابخ بن جاحم بن ناحش بن ماخی بن عیض بن عبقر بن عبید بن الدعا بن حمدان بن سنبر بن یثربی بن یحزن بن یلحن بن أرعوی بن عیض بن ذیشان بن عیصر بن أفناد بن أیہام بن مقصر بن ناحث بن زارح بن سمی بن مزی بن عوضہ بن عرام بن قیدار بن اسماعیل ؑ بن ابراہیم علیہ السلام ۔ 2
تیسرا حصہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اوپر۔ ابراہیم بن تارح (آزر ) بن ناخور بن ساروع (یاساروغ) بن راعو بن فالخ بن عابر بن شالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح علیہ السلام بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ (کہا جاتا ہے کہ یہ ادریس ؑ کا نام ہے) بن یرد بن مہلائیل بن قینان بن آنوشہ بن شیث بن آدم علیہ السلام ۔ 3
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۱، ۲ تاریخ الطبری ۲/۲۳۹-۲۷۱
2 اسے ابن سعد نے طبقات ۱/۵۶،۵۷ میں ابن کلبی کی روایت سے کیا ہے اور اس کے طریق سے طبری نے اپنی تاریخ ۲/۲۷۲میں ذکر کیا ہے۔ اس حصے کا کچھ اختلاف دیکھنے کے لیے ملاحظہ ہو: طبر ی ۲/۲۷۱، ۲۷۶، فتح الباری ۶/۶۲۱، ۶۲۲ ، ۶۲۳۔
3 ابن ہشام ۱/۲-۴ تاریخ طبری ۲/۲۷۶ بعض ناموں کے متعلق ان مآخذ میں اختلاف بھی ہے اور بعض نام بعض مآخذ سے ساقط بھی ہیں۔
خانوادہ:
نبیﷺ کا خانوادہ اپنے جَدِّ اعلیٰ ہاشم بن عبد مناف کی نسبت سے خانوادۂ ہاشمی کے نام سے معروف ہے ، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہاشم اور ان کے بعد کے بعض افراد کے مختصر حالات پیش کر دیے جائیں۔
ہاشم:… ہم بتا چکے ہیں کہ جب عبد مناف اور بنو عبد الدار کے درمیان عہدوں کی تقسیم پر مصالحت ہوگئی تو عبدمناف کی اوّلاد میں ہاشم ہی کو سِقَایہ اور رِفادہ، یعنی حجاج کرام کو پانی پلانے اور ان کی میز بانی کرنے کا منصب حاصل ہوا۔ ہاشم بڑے معزز اور مالدار تھے۔ یہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے مکے میں حاجیوں کو شوربا روٹی سان کر کھلانے کا اہتمام کیا۔ ان کا اصل نام عَمرو تھا۔ لیکن روٹی توڑ کر شوربے میں ساننے کی وجہ سے ان کو ہاشم کہا جانے لگا۔ کیونکہ ہاشم کے معنی ہیں توڑنے والا۔ پھر یہی ہاشم وہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے قریش کے لیے گرمی اور جاڑے کے دو سالانہ تجارتی سفروں کی بنیاد رکھی۔ ان کے بارے میں شاعر کہتا ہے :

عمرو الذی ھشم الثرید لقومہ
قوم بمکۃ مسنتین عجاف
سنت إلیہ الرحلتان کلاھما
سفر الشتاء ورحلۃ الأصیاف1

”یہ عمرو ہی ہیں جنھوں نے قحط کی ماری ہوئی اپنی لاغر قوم کو مکہ میں روٹیاں توڑ کر شوربے میں بھگو بھگو کر کھلائیں اور جاڑے اور گرمی کے دونوں سفروں کی بنیاد رکھی۔ ”
ان کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ وہ تجارت کے لیے ملک شام تشریف لے گئے۔ راستے میں مدینہ پہنچے تو وہاں قبیلۂ بنی نجار کی ایک خاتون سَلْمیٰ بنت عَمْروسے شادی کر لی اور کچھ دنوں وہیں ٹھہرے رہے۔ پھر بیوی کو حالتِ حمل میں میکے ہی میں چھوڑ کر ملک شام روانہ ہوگئے اور وہاں جاکر فلسطین کے شہر غَزَّہ میں انتقال کر گئے۔ ادھر سَلمیٰ کے بطن سے بچہ پیدا ہوا۔ یہ ۴۹۷ ء کی بات ہے چونکہ بچے کے سر کے بالوں میں سفیدی تھی، اس لیے سلمیٰ نے اس کا نام شَیْبہ رکھا۔ 2 اور یثرب میں اپنے میکے ہی کے اندر اس کی پرورش کی۔ آگے چل کر یہی بچہ عبد المُطَّلِبْ کے نام سے مشہور ہوا۔ عرصے تک خاندانِ ہاشم کے کسی آدمی کو اس کے وجود کا علم نہ ہوسکا۔ ہاشم کے کل چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں۔ جن کے نام یہ ہیں: اسد، ابوصیفی ، نضلہ اور عبد المطلب…شفا ء ، خالدہ، ضعیفہ ، رقیہ اور جنۃ۔ 3
عبد المطلب: … پچھلے صفحات سے معلوم ہو چکا ہے کہ سِقَایہ اور رِفادہ کا منصب ہاشم کے بعد ان کے بھائی مطلب کو ملا۔ یہ بھی اپنی قوم میں بڑی خوبی واعزاز کے مالک تھے ، ان کی بات ٹالی نہیں جاتی تھی۔ ان کی سخاوت کے سبب قریش نے ان کا لقب فیاض رکھ چھوڑا تھا۔ جب شیبہ یعنی عبد المطلب…سات یا آٹھ برس کے ہوگئے تو مطلب کو ان کا علم ہوا اور وہ انہیں لینے کے لیے روانہ ہوئے۔ جب یثرب کے قریب پہنچے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۱۵۷ مع الروض الانف اوروہاں الاصیاف کی جگہ الإیلاف ہے۔
2 ابن ہشام ۱/۱۳۷ 3 ایضاً ۱/۱۰۷
اور شیبہ پر نظر پڑی تو اشکبار ہوگئے انہیں سینے سے لگا لیا اور پھر اپنی سواری پر پیچھے بٹھا کر مکہ کے لیے روانہ ہوگئے۔ مگر شیبہ نے ماں کی اجازت کے بغیر ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ اس لیے مطلب ان کی ماں سے اجازت کے طالب ہوئے، مگر ماں نے اجازت نہ دی۔ آخر مُطَّلِب نے کہا کہ یہ اپنے والد کی حکومت اور اللہ کے حرم کی طرف جارہے ہیں ، اس پر ماں نے اجازت دے دی اور مُطَّلِب انہیں اپنے اونٹ پر بٹھا کر مکہ لے آئے۔ مکے والوں نے دیکھا تو کہا یہ عبد المطب ہے یعنی مُطَّلب کا غلام ہے۔ مطلب نے کہا نہیں نہیں ، یہ میرا بھتیجا، یعنی میرے بھائی ہاشم کا لڑکا ہے۔ پھر شَیبہ نے مطلب کے پاس پرورش پائی اور جوان ہوئے۔ اس کے بعد مقام ردمان (یمن) میں مُطَّلِب کی وفات ہوگئی اور ان کے چھوڑے ہوئے مناصب عبدالمطلب کو حاصل ہوئے۔ عبدا لمطلب نے اپنی قوم میں اس قدر شرف واعزاز حاصل کیا کہ ان کے آباء واجداد میں بھی کوئی اس مقام کو نہ پہنچ سکا تھا۔ قوم نے انہیں دل سے چاہا اور ان کی بڑی عزت وقدر کی۔ 1
جب مطلب کی وفات ہوگئی تو نوفل نے عبد المطلب کے صحن پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ عبد المطلب نے قریش کے کچھ لوگوں سے اپنے چچا کے خلاف مدد چاہی ، لیکن انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کردی کہ ہم تمہارے اور تمہارے چچا کے درمیان دخیل نہیں ہوسکتے۔ آخر عبد المطلب نے بنی نجار میں اپنے ماموں کو کچھ اشعار لکھ بھیجے، جس میں ان سے مدد کی درخواست کی تھی۔ جواب میں ان کا ماموں ابوسعد بن عدی اسی سوار لے کر روانہ ہوا اور مکے کے قریب اَبْطَح میں اترا۔ عبدالمطلب نے وہیں ملاقات کی اور کہا: ماموں جان ! گھر تشریف لے چلیں۔ ابو سعد نے کہا: نہیں اللہ کی قسم ! یہاں تک کہ نَوفَل سے مل لوں۔ اس کے بعد ابو سعد آگے بڑھا اور نوفل کے سر پر آن کھڑا ہوا۔ نوفل حَطِیْم میں مشائخ قریش کے ہمراہ بیٹھا تھا۔ ابو سعد نے تلوار بے نیام کرتے ہوئے کہا : اس گھر کے رب کی قسم ! اگر تم نے میرے بھانجے کی زمین واپس نہ کی تو یہ تلوار تمہارے اندر پیوست کردوں گا۔ نوفل نے کہا: اچھا ! لو میں نے واپس کردی۔ اس پر ابوسعد نے مشائخ قریش کو گواہ بنایا، پھر عبد المطلب کے گھر گیا اور تین روز مقیم رہ کر عُمرہ کرنے کے بعد مدینہ واپس چلا گیا۔
اس واقعے کے بعد نوفل نے بنی ہاشم کے خلاف بنی عبد شمس سے باہمی تعاون کا عہد وپیمان کیا۔ ادھر بنو خزاعہ نے دیکھا کہ بنو نجّار نے عبد المطلب کی اس طرح مدد کی ہے ، تو کہنے لگے کہ عبد المطلب جس طرح تمہاری اوّلادہے ہماری بھی اوّلاد ہے۔ لہٰذا ہم پر اس کی مدد کا حق زیادہ ہے…اس کی وجہ یہ تھی کہ عبد مناف کی ماں قبیلہ خزاعہ ہی سے تعلق رکھتی تھیں…چنانچہ بنو خزاعہ نے دارالندوہ میں جاکر بنوعبد شمس اور بنو نوفل کے خلاف بنو ہاشم سے تعاون کا عہد وپیمان کیا۔ یہی پیمان تھا جو آگے چل کر اسلامی دور میں فتح مکہ کا سبب بنا ، تفصیل اپنی جگہ آرہی ہے۔ 2
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۱۳۷ ، ۱۳۸ ، عمر کی تعیین تاریخ طبری ۲/۲۴۷ میں ہے۔
2 طبری نے اپنی تاریخ۳/۲۴۸-۲۵۱ میں اور دوسرے مصنّفین نے اپنی کتابوں میں اس کی تفصیل ذکر کی ہے۔
بیت اللہ کے تعلق سے عبد المطلب کے ساتھ وداہم واقعات پیش آئے۔ ایک چاہِ زَمزَم کی کھدائی کا واقعہ اور دوسرے فِیل کا واقعہ۔
چاہِ زَمزَم کی کھدائی:
پہلے واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ عبد المطلب نے خواب دیکھا کہ انہیں زمزم کا کنواں کھودنے کا حکم دیا جارہا ہے اور خواب ہی میں انہیں اس کی جگہ بھی بتائی گئی۔ انھوں نے بیدار ہونے کے بعد کھدائی شروع کی اور رفتہ رفتہ وہ چیزیں برآمد ہوئیں جو بنو جُرہم نے مکہ چھوڑتے وقت چاہِ زمزم میں دفن کی تھیں، یعنی تلوار یں ، زرہیں ، اور سونے کے دونوں ہرن۔ عبدالمطلب نے تلواروں سے کعبے کا دروازہ ڈھالا۔ سونے کے دونوں ہرن بھی دروازے ہی میں فٹ کیے اور حاجیوں کو زمزم پلانے کا بندوبست کیا۔
کھدائی کے دوران یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ جب زمزم کا کنواں نمودار ہوگیا تو قریش نے عبد المطلب سے جھگڑا شروع کیا اور مطالبہ کیا کہ ہمیں بھی کھدائی میں شریک کرلو۔ عبدالمطلب نے کہا میں ایسا نہیں کرسکتا، میں اس کام کے لیے مخصوص کیا گیا ہوں ، لیکن قریش کے لوگ باز نہ آئے۔ یہاں تک کہ فیصلے کے لیے بنو سعد کی ایک کاہنہ عورت کے پاس جانا طے ہوا اور لوگ مکہ سے روانہ بھی ہوگئے لیکن راستے میں پانی ختم ہوگیا۔ اللہ نے عبد المطلب پر بارش نازل فرمائی جس سے انہیں وافر پانی مل گیا۔ جبکہ مخالفین پر ایک قطرہ بھی نہ برسا۔ وہ سمجھ گئے کہ زمزم کا کام قدرت کی طرف سے عبد المطلب کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس لیے راستے ہی سے واپس پلٹ آئے۔ یہی موقع تھا جب عبد المطلب نے نذرمانی کہ اگر اللہ نے انہیں دس لڑکے عطا کیے اور وہ سب کے سب اس عمر کو پہنچے کہ ان کا بچاؤ کر سکیں تو وہ ایک لڑکے کو کعبہ کے پاس قربان کردیں گے۔ 1
واقعہ ٔ فیل:
دوسرے واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ اَبْرہہ بن صباح حبشی نے (جو نجاشی بادشاہ حبش کی طرف سے یمن کا گورنر جنرل تھا) جب دیکھا کہ اہل عرب خانہ کعبہ کا حج کرتے ہیں تو صنعاء میں ایک بہت بڑا کلیسا تعمیر کیا اور چاہا کہ عرب کا حج اسی کی طرف پھیر دے مگر جب اس کی خبر بنو کنانہ کے ایک آدمی کو ہوئی تو اس نے رات کے وقت کلیسا کے اندر گھس کر اس کے قبلے پر پائخانہ پوت دیا۔ اَبْرَہَہ کو پتہ چلا تو سخت بر ہم ہوا اور ساٹھ ہزار کا ایک لشکر ِ جرار لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے لیے ایک زبردست ہاتھی بھی منتخب کیا۔ لشکر میں کل نو یا تیرہ ہاتھی تھے۔ ابرہہ یمن سے یلغار کرتا ہوا مُغَمَّس پہنچا اور وہاں اپنے لشکر کو ترتیب دے کر اور ہاتھی کو تیار کر کے مکے میں داخلے کے لیے چل پڑا جب مزدَلِفَہ اور منیٰ کے درمیان وادیٔ محسرِ میں پہنچا تو ہاتھی بیٹھ گیا اور کعبے کی طرف بڑھنے کے لیے کسی طرح نہ اٹھا۔ اس کا رُخ شمال جنوب یا مشرق کی طرف کیا جاتا تو اٹھ کر دوڑنے لگتا۔ لیکن کعبے کی طرف
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۱۴۲ تا ۱۴۷
کیا جاتا تو بیٹھ جاتا۔ اسی دوران اللہ نے چڑیوں کا ایک جھنڈ بھیج دیا ، جس نے لشکر پر ٹھیکری جیسے پتھر گرائے اور اللہ نے اسی سے انہیں کھائے ہوئے بھس کی طرح بنا دیا۔ یہ چڑیاں ابابیل جیسی تھیں۔ ہر چڑیا کے پاس تین تین کنکریاں تھیں ، ایک چونچ میں اور دو پنجوں میں ، کنکریاں چنے جیسی تھیں،مگر جس کو لَگ جاتی تھیں اس کے اعضاء کٹنا شروع ہوجاتے تھے اور وہ مرجاتا تھا۔ یہ کنکریاں ہر آدمی کو نہیں لگی تھیں، لیکن لشکر میں ایسی بھگدڑ مچی کہ ہر شخص دوسرے کو روندتا کچلتا گرتا پڑتا بھاگ رہا تھا۔ پھر بھاگنے والے ہرراہ پر گر رہے تھے اور ہر چشمے پر مر رہے تھے۔ ادھر اَبْرَہہَ پر اللہ نے ایسی آفت بھیجی کہ اس کی انگلیوں کے پور جھڑ گئے اور صنعاء پہنچتے پہنچتے چوزے جیسا ہوگیا۔ پھر اس کا سینہ پھٹ گیا ، دل باہر نکل آیا اور وہ مَر گیا۔
اَبْرَہَہ کے اس حملے کے موقع پر مکے کے باشندے جان کے خوف سے گھاٹیوں میں بکھر گئے تھے اور پہاڑکی چوٹیوں پر جاچھپے تھے۔ جب لشکر پر عذاب نازل ہوگیا تو اطمینان سے اپنے گھروں کو پلٹ آئے۔ 1
یہ واقعہ…بیشتر اہل سِیَر کے بقول…نبیﷺ کی پیدائش سے صرف پچاس یا پچپن دن پہلے ماہ محرم میں پیش آیا تھا۔ لہٰذا یہ ۵۷۱ ء کی فروری کے اواخر یا مارچ کے اوائل کا واقعہ ہے یہ درحقیقت ایک تمہیدی نشانی تھی جو اللہ نے اپنے نبی اور کعبہ کے لیے ظاہر فرمائی تھی کیونکہ آپ بیت المقدس کو دیکھئے کہ اپنے دور میں اہل اسلام کا قبلہ تھا۔ ا ور وہاں کے باشندے مسلمان تھے۔ اس کے باوجود اس پر اللہ کے دشمن یعنی مشرکین کا تسلط ہو گیا تھا جیسا کہ بخت نصر کے حملہ ( ۵۸۷ ق م ) اور اہل روما کے قبضہ ( ۷۰ ء ) سے ظاہر ہے۔ لیکن اس کے بر خلاف کعبہ پر عیسائیوں کو تسلط حاصل نہ ہوسکا۔ حالانکہ اس وقت یہی مسلمان تھے اور کعبے کے باشندے مشرک تھے۔
پھر واقعہ ایسے حالات میں پیش آیا کہ اس کی خبر اس وقت کی متمدن دنیا کے بیشتر علاقوں، یعنی روم وفارس میں آناً فاناً پہنچ گئی۔ کیونکہ حبشہ کا رومیوں سے بڑا گہرا تعلق تھا اور دوسری طرف فارسیوں کی نظر رومیوں پر برابر رہتی تھی اور وہ رومیوں اور ان کے حلیفوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا برابر جائزہ لیتے رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کے بعد اہل فارس نے نہایت تیزی سے یمن پر قبضہ کر لیا۔ اب چونکہ یہی دوحکومتیں اس وقت متمدن دنیا کے اہم حصے کی نمائندہ تھیں۔ اس لیے اس واقعے کی وجہ سے دنیا کی نگاہیں خانہ کعبہ کی طرف متوجہ ہوگئیں۔ انہیں بیت اللہ کے شرف وعظمت کا ایک کھلا ہوا خدائی نشان دکھلائی پڑ گیا اور یہ بات دلوں میں اچھی طرح بیٹھ گئی کہ اس گھر کو اللہ نے تقدیس کے لیے منتخب کیا ہے۔ لہٰذا آئندہ یہاں کی آبادی سے کسی انسان کا دعویٰ نبوت کے ساتھ اٹھنا اس واقعے کے تقاضے کے عین مطابق ہو گا اور اس خدائی حکمت کی تفسیر ہوگا جو عالم اسباب سے بالاتر طریقے پر اہل ایمان کے خلاف مشرکین کی مدد میں پوشیدہ تھی۔
عبدالمطلب کے کل دس بیٹے تھے جن کے نام یہ ہیں : حارِث ، زُبیر ، ابوطالب ، عبد اللہ ، حمزہ ؓ ، ابو لَہَب ،
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۴۳تا ۵۶ ، اور کتب تفاسیر ، تفسیر سورۂ فیل
غَیْدَاق ، مقوم ، صفار اور عباس ؓ بعض نے کہا ہے کہ گیارہ تھے۔ ایک کا نام قثم تھا اور بعض اور لوگوں نے کہا ہے کہ تیرہ تھے۔ ایک کا نام عبدالکعبہ اور ایک کانام حجل تھا۔ لیکن دس کے قائلین کہتے ہیں مقوم ہی کا دوسرا نام عبد الکعبہ اور غیداق کا دوسرا نام حجل تھا اور قثم نام کا کوئی شخص عبدالمطلب کی اوّلاد میں نہ تھا۔ عبد المطلب کی بیٹیاں چھ تھیں۔ نام یہ ہیں : ام الحکیم ان کا نام بیضاء ہے۔ بَرّہ ، عَاتِکہ ، اَروی ٰ اور اُمَیْمَہ۔1
عَبدُاللہ …رسول اللہﷺ کے والد محترم: …ان کی والدہ کا نام فاطمہ تھا اور وہ عمرو بن عائذ بن عمران بن مخزوم بن یقظہ بن مرہ کی صاحبزادی تھیں۔ عبد المطلب کی اوّلاد میں عبد اللہ سب سے زیادہ خوبصورت ، پاک دامن اور چہیتے تھے اور ذبیح کہلاتے تھے۔ ذبیح کہلانے کی وجہ یہ تھی کہ جب عبد المطلب کے لڑکوں کی تعداد پوری دس ہوگئی اور وہ بچاؤ کرنے کے لائق ہوگئے۔ تو عبد المطلب نے انہیں اپنی نذر سے آگاہ کیا ، سب نے بات مان لی۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ عبد المطلب نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی تو قرعہ عبد اللہ کے نام نکلا۔ وہ سب سے محبوب تھے ، اس لیے عبد المطلب نے کہا کہ یااللہ!وہ یا سو اونٹ ؟ پھر ان کے اور اونٹوں کے درمیا ن قرعہ اندازی کی تو قرعہ سو اونٹوں پر نکل آیا۔ 2 اور کہا جاتا ہے کہ عبدالمطلب نے قسمت کے تیروں پر ان سب کے نام لکھے… اورہُبل کے قیم کے حوالے کیا۔ قیم نے تیروں کو گردش دے کر قرعہ نکالا تو عبد اللہ کا نام نکلا۔ عبدالمطلب نے عبد اللہ کا ہاتھ پکڑا ، چھری لی ، اور ذبح کرنے کے لیے خانہ کعبہ کے پاس لے گئے ، لیکن قریش اور خصوصاً عبد اللہ کے ننہیال والے، یعنی بنو مخزوم اور عبداللہ کے بھائی ابو طالب آڑے آئے۔ عبد المطلب نے کہا: تب میں اپنی نذر کا کیا کروں؟ انھوں نے مشورہ دیا کہ وہ کسی خاتون عرافہ کے پاس جاکر حل دریافت کریں۔ عبد المطلب ایک عرافہ کے پاس گئے۔ اس نے کہا کہ عبد اللہ اور دس اونٹوں کے درمیان قرعہ اندازی کریں۔ اگر عبدا للہ کے نام قرعہ نکلے تو مزید دس اونٹ بڑھادیں۔ اس طرح اونٹ بڑھاتے جائیں اور قرعہ اندازی کرتے جائیں ، یہاں تک کہ اللہ راضی ہو جائے۔ پھر اونٹوں کے نام قرعہ نکل آئے تو انہیں ذبح کردیں۔ عبد المطلب نے واپس آکر عبد اللہ اور دس اونٹوں کے درمیان قرعہ اندازی کی مگر قرعہ عبد اللہ کے نام نکلا۔ اس کے بعد وہ دس دس اونٹ بڑھاتے گئے اور قرعہ اندازی کرتے گئے مگر قرعہ عبدا للہ کے نام ہی نکلتا رہا۔ جب سو اونٹ پورے ہوگئے تو قرعہ اونٹوں کے نام نکلا۔ اب عبد المطلب نے انہیں عبد اللہ کے بدلے ذبح کیا اور وہیں چھوڑدیا۔ کسی انسان یا درندے کے لیے کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ اس واقعے سے پہلے قریش اور عرب میں خُون بہا (دیت ) کی مقدار دس اونٹ تھی، مگر اس واقعے کے بعد سو اونٹ کر دی گئی۔ اسلام نے بھی اس مقدار کو برقرار رکھا۔ نبیﷺ سے آپ کا یہ ارشاد مروی ہے کہ میں دو ذبیح کی اوّلاد ہوں۔ ایک حضرت اسماعیل علیہ السلام اور دوسرے آپﷺ کے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 سیرت ابن ہشام ۱/۱۰۸ ، ۱۰۹،تلقیح الفہوم ص ۸،۹ 2 تاریخ طبری ۲/۲۳۹
والد عبد اللہ۔ 1 عبد المطلب نے اپنے صاحبزادے عبد اللہ کی شادی کے لیے حضرت آمنہ کا انتخاب کیا جو وہب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب کی صاحبزادی تھیں اورنسب و رتبے کے لحاظ سے قریش کی افضل ترین خاتون شمار ہوتی تھیں۔ ان کے والد نسب اور شرف دونوں حیثیت سے بنو زہرہ کے سردار تھے۔ وہ مکہ ہی میں رخصت ہو کر حضرت عبد اللہ کے پاس آئیں مگر تھوڑے عرصے بعدعبد اللہ کو عبد المطلب نے کھجور لانے کے لیے مدینہ بھیجا اور وہ وہیں انتقال کر گئے۔
بعض اہل سِیرکہتے ہیں کہ وہ تجارت کے لیے ملک شام تشریف لے گئے تھے۔ قریش کے ایک قافلے کے ہمراہ واپس آتے ہوئے بیمار ہو کر مدینہ اترے اور وہیں انتقال کر گئے۔ تدفین نابغہ جَعدی کے مکان میں ہوئی۔ اس وقت ان کی عمر پچیس برس کی تھی۔ اکثر مؤرخین کے بقول ابھی رسول اللہﷺ پیدا نہیں ہوئے تھے۔ البتہ بعض اہل سیر کہتے ہیں کہ آپﷺ کی پیدائش ان کی وفات سے دوماہ پہلے ہوچکی تھی۔ 2جب ان کی وفات کی خبر مکہ پہنچی تو حضرت آمنہ نے نہایت درد انگیز مرثیہ کہا جو یہ ہے :

عفا جانب البـطحاء من ابن ھـاشم وجـاور لحــداً خارجـاً فـی الـغماغم
دعتــــہ المنـایـا دعـوۃ فـأجـابھـا ومـا ترکت فی الناس مثـل ابن ھاشـم
عشیـــۃ راحــوا یحملون سـریـرہ تعــاورہ أصحـابـــہ فــی التـزاحــم
فـإن تـک غـالـتـہ الـمنایا وریـبـہا فقد کان معطاء کثیر التراحم 3

”بطحاء کی آغوش ہاشم کے صاحبزادے سے خالی ہو گئی۔ وہ بانگ وخروش کے درمیان ایک لحد میں آسودۂ خواب ہوگیا۔ اسے موت نے ایک پکار لگائی اور اس نے لبیک کہہ دیا۔ اب موت نے لوگوں میں ابن ہاشم جیسا کوئی انسان نہیں چھوڑا (کتنی حسرت ناک تھی ) وہ شام جب لوگ انہیں تخت پر اٹھائے لے جارہے تھے۔ اگر موت اور موت کے حوادث نے ان کا وجود ختم کر دیا ہے (تو ان کے کردار کے نقوش نہیں مٹائے جاسکتے ) وہ بڑے دانا اور رحم دل تھے۔”
عبد اللہ کا کل ترکہ یہ تھا۔ پانچ اونٹ ، بکریوں کا ایک ریوڑ ، ایک حبشی لونڈی جن کا نام برکت تھا اور کنیت اُم ایمن۔ یہی اُمِ ایمن ہیں جنھوں نے رسول اللہﷺ کو گود کھلایا تھا۔ 4
****​
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۱۵۱ تا ۱۵۵، تاریخ طبری ۲/۲۴۰-۲۴۳
2 ابن ہشام ۱/۱۵۶ ، ۱۵۸ تاریخ طبری ۲/۲۴۶ ، الروض الانف ۱/۱۸۴
3 طبقات ابن سعد ۱/۱۰۰
4 صحیح مسلم ۲/۹۶، تلقیح الفہوم ص ۱۴
ولادت باسعادت:
رسول اللہﷺ مکہ میں شِعبِ بنی ہاشم کے اندر ۹/ ربیع الاوّل ۱ عام الفیل یوم دوشنبہ کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔ 1اس وقت نوشیرواں کی تخت نشینی کا چالیسواں سال تھا اور ۲۰/ یا ۲۲ / اپریل ۵۷۱ ء کی تاریح تھی۔ علامہ محمد سلیمان صاحب سلمان منصور پوری ؒ کی تحقیق یہی ہے۔ 2
ابن سعد کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کی والدہ نے فرمایا: جب آپ کی ولادت ہوئی تو میرے جسم سے ایک نور نکلا جس سے ملک شام کے محل روشن ہوگئے۔ امام احمد اور دارمی وغیرہ نے بھی تقریباً اسی مضمون کی روایت نقل فرمائی ہے۔ 3
بعض روایتوں میں بتایا گیا ہے کہ ولادت کے وقت بعض واقعات نبوت کے پیش خیمے کے طور پر ظہور پذیر ہوئے، یعنی ایوانِ کسریٰ کے چودہ کنگورے گر گئے، مجوس کا آتش کدہ ٹھنڈا ہو گیا، بحیرہ ساوہ خشک ہوگیا اور اس کے گرجے منہدم ہوگئے۔ یہ طبری اور بیہقی وغیرہ کی روایت ہے۔ 4مگر اس کی سند پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی ہے اور ان قوموں کی تاریخ سے بھی اس کی کوئی شہادت نہیں ملتی ، حالانکہ ان واقعات کو قلمبند کیے جانے کا قوی داعیہ موجود تھا۔
ولادت کے بعد آپ کی والدہ نے عبد المطلب کے پاس پوتے کی خوشخبری بھجوائی۔ وہ شاداں وفرحاں تشریف لائے اور آپ کو خانہ کعبہ میں لے جاکر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس کا شکر ادا کیا۔ 5 اور آپ کا نام محمدتجویز کیا۔ یہ نام عرب میں معروف نہ تھا ، پھر عرب دستور کے مطابق ساتویں دن ختنہ کیا۔ 6
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے : نتائج الافہام فی تقویم العرب قبل الاسلام ص ۲۸-۳۵ ازمحمود پاشا فلکی۔ طبع بیروت۔ مگر چاند دیکھنے کے اعتبار سے ۹ کے بجائے ۸تاریخ بنتی ہے۔
2 ۲۰/اپریل قدیم عیسوی کلنڈر کے مطابق ، اور ۲۲ /اپریل جدید عیسوی کلنڈر کے مطابق۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: رحمۃ للعالمین ۱/۳۸، ۳۹، ۲/۳۶۰، ۳۶۱
3 مسند احمد ۴/۱۲۷، ۱۲۸، ۱۸۵، ۵/۱۶۲ سنن دارمی ۱/۹، ابن سعد ۱/۱۰۲
4 دلائل النبوہ للبیہقی ۱/۱۲۶، ۱۲۷، تاریخ طبری ۲/۱۶۶ ، ۱۶۷ ، البدایہ والنہایہ ۲/۲۶۸، ۲۶۹
5 ابن ہشام ۱/۱۵۹ ، ۱۶۰ تاریخ طبری ۲/۱۵۶ ، ۱۵۷ ، ابن سعد ۱/۱۰۳
6 کہاجاتا ہے کہ آپ مختون (ختنہ کیے ہوئے ) پیدا ہوئے تھے۔ دیکھئے: تلقیح الفہوم ص ۴ مگر ابن قیم کہتے ہیں کہ اس بارے میں کوئی ثابت حدیث نہیں۔ دیکھئے: زاد المعاد ۱/۱۸
آپ کو آپ کی والدہ کے ایک ہفتہ1 بعد سب سے پہلے ابولہب کی لونڈی ثُویبَہ نے دودھ پلایا۔ اس وقت اس کی گود میں جو بچہ تھا اس کا نام مسروح تھا۔ ثُویبَہ نے آپ سے پہلے حضرت حمزہ بن عبد المطلب کو اور آپ کے ابوسلمہ بن عبد الاسد مخزومی کو بھی دودھ پلایا تھا۔ 2
بنی سعد میں:
عرب کے شہری باشندوں کا دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کو شہری امراض سے دور رکھنے کے لیے دودھ پلانے والی بدوِی عورتوں کے حوالے کردیا کرتے تھے تاکہ ان کے جسم طاقتور اور اعصاب مضبوط ہوں اور اپنے گہوارہ ہی سے خالص اور ٹھوس عربی زبان سیکھ لیں۔ اسی دستور کے مطابق عبد المطلب نے دودھ پلانے والی دایہ تلاش کی اور نبیﷺ کو حضرت حلیمہ بنت ابی ذُوَیب کے حوالے کیا۔ یہ قبیلہ بنی سعد بن بکر کی ایک خاتون تھیں۔ ان کے شوہر کا نام حارث بن عبد العزیٰ اور کنیت ابو کبشہ تھی اور وہ بھی قبیلہ بنی سعد ہی سے تعلق رکھتے تھے۔
حارث کی اوّلاد کے نام یہ ہیں جو رضاعت کے تعلق سے رسول اللہﷺ کے بھائی بہن تھے: عبد اللہ ، انیسہ ، حذافہ یا جذامہ ، انہیں کالقب شَیْماَء تھا اور اسی نام سے وہ زیادہ مشہور ہوئیں۔ یہ رسول اللہﷺ کو گود کھلایا کرتی تھیں ، ان کے علاوہ ابوسفیان بن حارث بن عبد المطلب جو رسول اللہﷺ کے چچیرے بھائی تھے وہ بھی حضرت حلیمہ کے واسطے سے آپ کے رضاعی بھائی تھے۔ آپﷺ کے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب بھی دودھ پلانے کے لیے بنو سعد کی ایک عورت کے حوالے کیے گئے تھے۔ اس عورت نے بھی ایک دن جب رسول اللہﷺ حضرت حلیمہ کے پاس تھے آپ کو دودھ پلادیا۔ اس طرح آپ اور حضرت حمزہ دوہرے رضاعی بھائی ہوگئے ایک ثویبہ کے تعلق سے اور دوسرے بنوسعد کی اس عورت کے تعلق سے۔ 3
رضاعت کے دوران حضرت حلیمہ نے نبیﷺ کی برکت کے ایسے ایسے مناظر دیکھے کہ سراپا حیرت رہ گئیں۔ تفصیلات انہیں کی زبانی سنیے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت حلیمہ ؓ بیان کیا کرتی تھیں کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنا ایک چھوٹا سادودھ پیتا بچہ لے کر بنی سعد کی کچھ عورتوں کے قافلے میں اپنے شہر سے باہر دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں نکلیں۔ یہ قحط سالی کے دن تھے اورقحط نے کچھ باقی نہ چھوڑا تھا۔ میں اپنی ایک سفید گدھی پر سوار تھی اور ہمارے پاس ایک اونٹنی بھی تھی، لیکن واللہ ! اس سے ایک قطرہ دودھ نہ نکلتا تھا۔ اِدھر بھُوک سے بچہ اس قدر بِلکتا تھا کہ ہم رات بھر سو نہیں سکتے تھے، نہ میرے سینے میں بچہ کے لیے کچھ تھا اور نہ اونٹنی اس کی خوراک دے سکتی تھی۔ بس ہم بارش اور خوشحالی کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ میں اپنی گدھی پر سوار ہوکر چلی تو وہ کمزوری اور دُبلے پن
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 اتحاف الوردی ۱/۵۷
2 صحیح بخاری حدیث نمبر ۲۶۴۵، ۵۱۰۰، ۵۱۰۱، ۵۱۰۶ ، ۵۱۰۷، ۵۳۷۲، تاریخ طبری ۲/۱۵۸۔ طبری کی اس روایت پر کلام ہے۔ دلائل النبوہ لابی نعیم ۱/۱۵۷
3 زاد المعاد ۱/۱۹
کے سبب اتنی سست رفتار نکلی کہ پورا قافلہ تنگ آگیا۔ خیر ہم کسی نہ کسی طرح دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں مکہ پہنچ گئے۔ پھر ہم میں سے کوئی عورت ایسی نہیں تھی جس پر رسول اللہﷺ کو پیش نہ کیا گیا ہو مگر جب اسے بتایا جاتا کہ آپﷺ یتیم ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لینے سے انکار کر دیتی۔ کیونکہ ہم بچے کے والد سے داد ووہش کی امید رکھتے تھے۔
ہم کہتے کہ یہ تو یتیم ہے۔ بھلا اس کی بیوہ ماں اور اس کے دادا کیا دے سکتے ہیں ، بس یہی وجہ تھی کہ ہم آپ کو لینا نہیں چاہتے تھے۔
ادھر جتنی عورتیں میرے ہمراہ آئی تھیں سب کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا صرف مجھ ہی کو نہ مل سکا۔ جب واپسی کی باری آئی تو میں نے اپنے شوہر سے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میری ساری سہیلیاں تو بچے لے لے کر جائیں اور تنہا مَیں کوئی بچہ لیے بغیر واپس جاؤں۔ میں جاکر اسی یتیم بچے کو لے لیتی ہوں۔ شوہر نے کہا: کوئی حرج نہیں ! ممکن ہے اللہ اسی میں ہمارے لیے برکت دے۔ اس کے بعد میں نے جاکر بچہ لے لیا اور محض اس بناء پر لے لیا کہ کوئی اور بچہ نہ مل سکا۔
حضرت حلیمہؓ کہتی ہیں کہ جب میں بچے کو لے کر اپنے ڈیرے پر واپس آئی اور اسے اپنی آغوش میں رکھا تو اس نے جس قدر چاہا دونوں سینے دودھ کے ساتھ اس پر اُمنڈ پڑے اور اس نے شکم سیر ہوکر پیا۔ اس کے ساتھ اس کے بھائی نے بھی شکم سیر ہوکر پیا، پھر دونوں سوگئے۔ حالانکہ اس سے پہلے ہم اپنے بچے کے ساتھ سو نہیں سکتے تھے۔ ادھر میرے شوہر اونٹنی دوہنے گئے تو دیکھا کہ اس کا تھن دودھ سے لبریز ہے، انھوں نے اتنا دودھ دوہا کہ ہم دونوں نے نہایت آسودہ ہو کر پیا اور بڑے آرام سے رات گزاری۔ ان کا بیان ہے کہ صبح ہوئی تو میرے شوہر نے کہا : حلیمہ ! اللہ کی قسم ! تم نے ایک بابرکت روح حاصل کی ہے۔ میں نے کہا : مجھے بھی یہی توقع ہے۔
حلیمہؓ کہتی ہیں کہ اس کے بعد ہمارا قافلہ روانہ ہوا۔ میں اپنی اسی خستہ حال گدھی پر سوار ہوئی اور اس بچے کو بھی اپنے ساتھ لیا۔ لیکن اب وہی گدھی اللہ کی قسم! پورے قافلے کو کاٹ کر اس طرح آگے نکل گئی کہ کوئی گدھا اس کا ساتھ نہ پکڑ سکا۔ یہاں تک میری سہیلیاں مجھ سے کہنے لگیں: او ! ابو ذویب کی بیٹی ! ارے یہ کیا ہے ؟ ذرا ہم پر مہربانی کر۔ آخریہ تیری وہی گدھی تو ہے جس پر تُو سوار ہو کر آئی تھی ؟ میں کہتی : ہاں ہاں ! اللہ کی قسم یہ وہی ہے، وہ کہتیں۔ اس کا یقینا کوئی خاص معاملہ ہے۔
پھر ہم بنو سعدمیں اپنے گھروں کو آگئے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اللہ کی روئے زمین کا کوئی خطہ ہمارے علاقے سے زیادہ قحط زدہ تھا۔ لیکن ہماری واپسی کے بعد میری بکریاں چرنے جاتیں تو آسودہ حال اور دودھ سے بھرپور واپس آتیں۔ ہم دوہتے اور پیتے۔ جبکہ کسی اور انسان کو دودھ کا ایک قطرہ بھی نصیب نہ ہوتا۔ ان کے جانوروں کے تھنوں میں دودھ سرے سے رہتا ہی نہ تھا۔ حتیٰ کہ ہماری قوم کے شہری اپنے چرواہوں سے کہتے کہ کم بختو ! جانور وہیں چرانے لے جایا کرو جہاں ابو ذویب کی بیٹی کا چرواہا لے جاتا ہے…لیکن تب بھی ان کی بکریاں بھوکی واپس آتیں۔ ان کے اندر ایک قطرہ دودھ نہ رہتا، جبکہ میری بکریاں آسودہ اور دودھ سے بھر پور پلٹتیں۔ اس طرح ہم اللہ کی طرف سے مسلسل اضافے اور خیر کا مشاہدہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اس بچے کے دوسال پورے ہوگئے اور میں نے دودھ چھڑادیا۔ یہ بچہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں اس طرح بڑھ رہاتھا کہ دوسال پورے ہوتے ہوتے وہ کڑا اور گٹھیلا ہو چلا۔ اس کے بعد ہم اس بچے کو اس کی والدہ کے پاس لے گئے ، لیکن ہم اس کی جو برکت دیکھتے آئے تھے۔ اس کی وجہ سے ہماری انتہائی خواہش یہی تھی کہ وہ ہمارے پاس رہے۔ چنانچہ ہم نے اس کی ماں سے گفتگو کی۔ میں نے کہا : کیوں نہ آپ میرے بچے کو میرے پاس ہی رہنے دیں کہ ذرا مضبوط ہوجائے۔ کیونکہ مجھے اس کے متعلق مکہ کی وباء کا خطرہ ہے۔ غرض ہمارے مسلسل اصرار پر انھوں نے بچہ ہمیں واپس دے دیا۔ 1
واقعۂ شق صدر:
اس طرح رسول اللہﷺ مدت رضاعت ختم ہونے کے بعد بھی بنو سعد ہی میں رہے یہاں تک کہ ولادت کے چوتھے یا پانچویں2 سال شَقّ ِ صَدر (سینہ مبارک چاک کیے جانے) کا واقعہ پیش آیا۔ اس کی تفصیل حضرت انسؓ سے صحیح مسلم میں مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے۔ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ حضرت جبریل نے آپ کو پکڑ کر پٹخا اور سینہ چاک کر کے دل نکالا، پھر دل سے ایک لوتھڑا نکال کر فرمایا: یہ تم سے شیطان کا حصہ ہے، پھر دل کو طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا اور پھر اسے جوڑکر اس کی جگہ لوٹا دیا۔ ادھر بچے دوڑ کر آپ کی ماں، یعنی دایہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے: محمد قتل کر دیا گیا۔ ان کے گھر کے لوگ جھٹ پٹ پہنچے ، دیکھا تو آپ کا رنگ اترا ہوا تھا۔ 3
ماں کی آغوشِ محبت میں:
اس واقعے سے حلیمہ ؓ کو خطرہ محسوس ہوا اور انھوں نے آپ کو آپ کی ماں کے حوالے کردیا۔ چنانچہ آپ چھ سال کی عمر تک والدہ ہی کی آغوشِ محبت میں رہے۔ 4
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۱۶۲ ، ۱۶۳، ۱۶۴، تاریخ طبری ۲/۱۵۸ ، ۱۵۹، ابن حبان (مرتب ) ۸/۸۲-۸۴ ، ابن سعد ۱/۱۱۱ سب نے الفاظ کے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ ابن اسحاق کے طریق سے روایت کیا ہے۔
2 عام سیرت نگاروں کا یہی قول ہے۔ دیکھئے: ابن سعد ۱/۱۱۲ ، مروج الذہب للمسعودی ۲/۲۸۱ ، دلائل النبوہ لابی نعیم ۱/۱۶۱، ۱۶۲ ، ان کے نزدیک ابن عباس کے بقول پانچویں سال کا واقعہ ہے۔ ۱/۱۶۲، البتہ ابن اسحاق کے بقول یہ آپ کی واپسی کے صرف چند ماہ بعد کا واقعہ ہے۔ ( دیکھئے: ابن ہشام ۱/۱۶۴ ، ۱۶۵ ، تاریخ طبری ۲/۱۶۰ ) مگر ابن اسحاق کا قول تقریباً متناقض ہے۔ کیونکہ صرف دوسال چند ماہ کے بچے سے بکری چرانے کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
3 صحیح مسلم، باب الاسراء ۱/۹۲
4 تلقیح الفہوم ص ۷ ، ابن ہشام ۱/۱۶۸
ادھر آمنہ کا ارادہ ہوا کہ وہ اپنے متوفی شوہر کی یادِ وفا میں یثرب جاکر ان کی قبر کی زیارت کریں۔ چنانچہ وہ اپنے یتیم بچے محمدﷺ اپنی خادمہ اُمِّ ایمن اور اپنے سر پرست عبد المطلب کی معیت میں کوئی پانچ سو کیلو میٹر کی مسافت طے کر کے مدینہ تشریف لے گئیں اور وہاں ایک ماہ تک قیام کر کے واپس ہوئیں۔ لیکن ابھی ابتداء راہ میں تھیں کہ بیماری نے آلیا۔ پھر یہ بیماری شدت اختیار کرتی گئی یہاں تک کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام اَبْوَاء میں پہنچ کر رحلت کر گئیں۔ 1
دادا کے سایۂ شفقت میں:
بوڑھے عبد المطلب اپنے پوتے کو لے کر مکہ پہنچے۔ ان کا دل اپنے اس یتیم پوتے کی محبت وشفقت کے جذبات سے تپ رہا تھا۔ کیونکہ اب اسے ایک نیا چرکا لگا تھا جس نے پرانے زخم کرید دیئے تھے۔ عبد المطلب کے جذبات میں پوتے کے لیے ایسی رِقّت تھی کہ ان کی اپنی صُلبی اوّلاد میں سے بھی کسی کے لیے ایسی رقت نہ تھی۔ چنانچہ قسمت نے آپ کو تنہائی کے جس صحرا میں لا کھڑا کیا تھا عبد المطلب اس میں آپ کو تنہا چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے بلکہ آپ کو اپنی اوّلاد سے بھی بڑھ کر چاہتے تھے اور بڑوں کی طرح ان کا احترام کرتے تھے۔ ابن ہشام کا بیان ہے کہ عبد المطلب کے لیے خانہ کعبہ کے سائے میں فرش بچھایا جاتا۔ ان کے سارے لڑکے فرش کے ارد گرد بیٹھ جاتے۔ عبد المطلب تشریف لاتے تو فرش پر بیٹھتے۔ ان کی عظمت کے پیش نظر ان کا کوئی لڑکا فرش پر نہ بیٹھتا، لیکن رسول اللہﷺ تشریف لاتے تو فرش ہی پر بیٹھ جاتے۔ ابھی آپ کم عمر بچے تھے۔ آپ کے چچا حضرات آپ کو پکڑ کر اتار دیتے لیکن جب عبد المطلب انہیں ایسا کرتے دیکھتے تو فرماتے : میرے اس بیٹے کو چھوڑ دو، اللہ کی قسم ! اس کی شان نرالی ہے، پھر انہیں اپنے ساتھ اپنے فرش پر بٹھا لیتے۔ اپنے ہاتھ سے پیٹھ سہلاتے اور ان کی نقل وحرکت دیکھ کر خوش ہوتے۔ 2
آپ کی عمر ابھی ۸ سال دو مہینے دس دن کی ہوئی تھی کہ دادا عبد المطلب کا بھی سایۂ شفقت اُٹھ گیا۔ ان کا انتقال مکہ میں ہوا اور وہ وفات سے پہلے آپﷺ کے چچا ابوطالب کو…جوآپ کے والد عبد اللہ کے سگے بھائی تھے…آپ کی کفالت کی وَصیت کر گئے تھے۔ 3
شفیق چچا کی کفالت میں:
ابو طالب نے اپنے بھتیجے کا حق کفالت بڑی خوبی سے ادا کیا۔ آپ کو اپنی اوّلاد میں شامل کیا۔ بلکہ ان سے بھی بڑھ کر مانا۔ مزید اعزاز واحترام سے نوازا۔ چالیس سال سے زیادہ عرصے تک قوت پہنچائی اپنی حمایت کا سایہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۱۶۸ 2 ابن ہشام ۱/۱۶۸
3 تلقیح الفہوم ص ۷ ابن ہشام ۱/۱۴۹
دراز رکھا اور آپ ہی کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی کی۔ مزید وضاحت اپنی جگہ آرہی ہے۔
روئے مبارک سے فیضانِ باراں کی طلب:
ابن عساکر نے جلہمہ بن عرفطہ سے روایت کی ہے کہ میں مکہ آیا۔ لوگ قحط سے دوچار تھے۔ قریش نے کہا : ابوطالب ! وادی قحط کا شکار ہے۔ بال بچے کال کی زد میں ہیں۔ چلیے بارش کی دعا کیجیے۔ ابوطالب ایک بچہ ساتھ لے کر برآمد ہوئے۔ بچہ ابر آلود سورج معلوم ہوتا تھا۔ جس سے گھنا بادل ابھی ابھی چھٹا ہو۔ اس کے ارد گرد اور بھی بچے تھے۔ ابوطالب نے اس بچے کا ہاتھ پکڑ کر اس کی پیٹھ کعبہ کی دیوار سے ٹیک دی۔ بچے نے ان کی انگلی پکڑر کھی تھی۔ اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا نہ تھا۔ لیکن (دیکھتے دیکھتے ) اِدھر اُدھر سے بادل کی آمد شروع ہوگئی اور ایسی دھواں دھار بارش ہوئی کہ وادی میں سیلاب آگیا اور شہر وبیاباں شاداب ہوگئے۔ بعد میں ابوطالب نے اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے محمدﷺ کی مدح میں کہا تھا:

وأبیض یستسقی الغمام بوجہہ
ثمال الیتامی عصمۃ للأرامل 1

”وہ خوبصورت ہیں ، ان کے چہرے سے بارش کا فیضان طلب کیا جاتا ہے۔ یتیموں کے ماویٰ اور بیواؤں کے محافظ ہیں۔ ”
بحیرا راہب:
بعض روایات کے مطابق… جو تحقیق کے رو سے مجموعی طور پر ثابت اور مستند ہیں… جب آپ کی عمر بارہ برس اور تفصیلی قول کے مطابق بارہ برس دومہینے دس دن 2کی ہوگئی تو ابوطالب آپ کو ساتھ لے کر تجارت کے لیے ملک شام کے سفر نکلے اور بصریٰ پہنچے بصریٰ ملک شام کا ایک مقام اور حوران کا مرکزی شہر ہے۔ اس وقت یہ جزیرۃ العرب کے رومی مقبوضات کا دار الحکومت تھا۔ اس شہر میں جرجیس نامی ایک راہب رہتا تھا ، جو بحیرا کے لقب سے معروف تھا۔ جب قافلے نے وہاں پڑاؤ ڈالا تو یہ راہب اپنے گرجا سے نکل کر قافلے کے اندر آیا اور اس کی میزبانی کی حالانکہ اس سے پہلے وہ کبھی نہیں نکلتا تھا۔ اس نے رسول اللہﷺ کو آپ کے اوصاف کی بنا پر پہچان لیا اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا : یہ سید العالمین ہیں۔ اللہ انہیں رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجے گا۔ ابوطالب نے کہا : آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا ؟ اس نے کہا: تم لوگ جب گھاٹی کے اس جانب نمودار ہوئے تو کوئی درخت یا پتھر ایسا نہیں تھا جو سجدہ کے لیے جھک نہ گیا ہو اور یہ چیزیں نبی کے علاوہ کسی انسان کو سجدہ نہیں کرتیں۔ پھر میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 مختصر السیرۃ شیخ عبد اللہ ص ۱۵، ۱۶ ، ہیثمی نے مجمع الزوائد میں طبرانی سے اسی طرح کا واقعہ کتاب علامات النبوۃ ۸/۲۲۲ میں نقل کیا ہے۔
2 یہ با ت ابن جوزی نے تلقیح الفہوم ص ۷ میں کہی ہے۔
جو کندھے کے نیچے کری (نرم ہڈی) کے پاس سیب کی طرح ہے اور ہم انہیں اپنی کتابوں میں بھی پاتے ہیں۔اس کے بعد بحیرا راہب نے ابوطالب سے کہا کہ انہیں واپس کر دو ملک شام نہ لے جاؤ۔ کیونکہ یہود سے خطرہ ہے۔ اس پر ابوطالب نے بعض غلاموں کی معیت میں آپ کو مکہ واپس بھیج دیا۔ 1
جنگ فجا ر:
آپ کی عمر کے بیسویں سال عکاظ کے بازار میں قریش وکنانہ…اور قیس عیلان کے درمیان ماہ ذی قعدہ میں ایک جنگ پیش آئی جو جنگ فجار کے نام سے معروف ہے۔ 2اس کی وجہ یہ ہوئی کہ براض نامی بنو کنانہ کے ایک شخص نے قیس عیلان کے تین آدمیوں کو قتل کردیا تھا۔ اس کی خبر عکاظ پہنچی تو فریقین بھڑک اٹھے اور لڑ پڑے۔ اس جنگ میں قریش اور کنانہ کا کمانڈر حرب بن امیہ تھا۔ کیونکہ وہ اپنے سن وشرف کی وجہ سے قریش وکنانہ کے نزدیک بڑا مرتبہ رکھتا تھا۔ پہلے پہر کنانہ پر قیس کا پلہ بھاری تھا لیکن دوپہر ہوتے ہوتے قیس پر کنانہ کا پلہ بھاری ہوا چاہتا تھا کہ اتنے میں صلح کی آواز اٹھی اور یہ تجویز آئی کہ فریقین کے مقتولین گن لیے جائیں۔ جدھر زیادہ ہوں ان کو زائد کی دیت دے دی جائے، چنانچہ اسی پر صلح ہوگئی۔ جنگ ختم کردی گئی اورجو شر وعداوت پیدا ہوگئی تھی اسے نیست ونابود کر دیا گیا۔ اسے حرب فجار اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں حرام مہینے کی حرمت چاک کی گئی۔ اس جنگ میں رسول اللہﷺ بھی تشریف لے گئے تھے اور اپنے چچاؤں کو تیر تھماتے تھے۔ 3
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے: جامع ترمذ ی ۵/۵۵۰، ۵۵۱ حدیث نمبر ۳۶۲۰ تاریخ طبری ۲/۲۷۸ ، ۲۷۹ ، مصنف ابن ابی شیبہ ۱۱/۴۸۹ حدیث نمبر ۱۱۷۸۲، دلائل النبوۃ بیہقی ۲/۲۴، ۲۵ ، ابونعیم ۱/۱۷۰ ، اس روایت کی سند قوی ہے۔ البتہ اس کے آخر میں یہ مذکور ہے کہ آپ کو حضرت بلال کی معیت میں روانہ کیا گیا لیکن یہ فاش غلطی ہے۔ بلال تو اس وقت غالباً پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور اگر پیدا تھے بھی تو بہرحال ابو طالب یاابوبکر ؓ کے ساتھ نہ تھے۔ زاد المعاد ۱/۱۷۔ اس واقعے میں مزید تفصیلات بھی مروی ہیں جنھیں ابن سعد نے واہیات سندوں سے روایت کیا ہے۔ (۱/۱۳۰) اور ابن اسحاق نے بلا سند ذکر کیا ہے۔ جسے ابن ہشام ۱/۱۸۰ – ۱۸۳ ،طبری ۲/۲۷۷ ، بیہقی نے روایت کیا ہے۔
2 ان دونوں گروہ میں فجار کے واقعات چار مرتبہ پیش آئے ، پہلے تین میں کچھ جھگڑا فساد ہوا۔ لیکن جنگ کے بغیر صلح ہوگئی۔ پہلے کی وجہ یہ تھی کہ ایک قیسی کا ایک کنانی پر قرض تھا اور وہ ٹال مٹول کررہا تھا۔ دوسرے کی وجہ یہ تھی کہ عکاظ کے بازار میں ایک کنانی اپنی بڑائی جتا رہا تھا اور تیسرے کی وجہ یہ تھی کہ مکہ کے کچھ جوان قیس کی ایک خوبصورت عورت سے چھیڑ چھاڑ کررہے تھے۔ چوتھے کی وجہ براض کا واقعہ تھا جسے ہم نے کتاب میں ذکر کیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: المنمق فی اخبار قریش ص ۱۶۰-۱۶۴ الکامل لابن الاثیر ۱/۴۶۷ ، ابن اثیر نے سب کو ایک ہی قرار دے دیا ہے۔
3 ابن ہشام ۱/۱۸۴ تا ۱۸۶ ، المنمق فی اخبار قریش ص ۱۶۴-۱۸۵۔ کامل ابن اثیر ۱/۴۶۸ -۴۷۲ عموما ًمؤرخین نے کہا ہے کہ یہ شوال میں پیش آئی تھی، مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ شوال کا مہینہ حرام کا مہینہ نہیں اور عکاظ حرم سے باہر ہے۔ تو پھر حرمت کون سی چاک ہوئی۔ علاوہ ازیں عکاظ کا بازار ذی قعدہ کے شروع سے لگتا تھا۔
حلف الفضول:
اس جنگ کے بعد اسی حرمت والے مہینے ذی قعدہ میں حلف الفضول پیش آئی۔ چند قبائل قریش ، یعنی بنی ہاشم ، بنی مُطّلب ، بنی اَسَدَ بن عبد العزیٰ بنی زہرہ بن کلاب اور بنی تَیم بن مُرّہ نے اس کا اہتمام کیا۔ یہ لوگ عبداللہ بن جُدْعان تیمی کے مکان پر جمع ہوئے…کیونکہ وہ سن وشرف میں ممتاز تھا …اور آپس میںعہد وپیمان کیا کہ مکہ میں جو بھی مظلوم نظر آئے گا۔ خواہ مکے کا رہنے والا ہو یا کہیں اور کا ، یہ سب اس کی مدد اور حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوں گے اور اس کا حق دلوا کر رہیں گے۔ اس اجتماع میں رسول اللہﷺ بھی تشریف فرما تھے اور بعد میں شرفِ رسالت سے مشرف ہونے کے بعد فرمایا کرتے تھے۔ میں عبداللہ بن جدعان کے مکان پر ایک ایسے معاہدے میں شریک تھا کہ مجھے اس کے عوض سُرخ اونٹ بھی پسند نہیں اور اگر (دور) اسلام میں اس عہد وپیمان کے لیے مجھے بلا یا جاتا تو میں لبیک کہتا۔ 1
اس معاہدے کی روح عصبیت کی تہہ سے اٹھنے والی جاہلی حمیت کے منافی تھی۔ اس معاہدے کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ زبید کا ایک آدمی سامان لے کر مکہ آیا اور عاص بن وائل نے اس سے سامان خریدا لیکن اس کا حق روک لیا۔ اس نے حلیف قبائل عبد الدار ، مخزوم ، جمح ، سہم اور عَدِی سے مدد کی درخواست کی لیکن کسی نے توجہ نہ دی۔ اس کے بعد اس نے جَبَلِ ابو قُبَیس پر چڑھ کر بلند آواز سے چند اشعار پڑھے۔ جن میں اپنی داستانِ مظلومیت بیان کی تھی۔ اس پر زبیر بن عبد المطلب نے دوڑ دھوپ کی اور کہا کہ یہ شخص بے یار ومدد گار کیوں ہے ؟ ان کی کوشش سے اوپر ذکر کیے ہوئے قبائل جمع ہوگئے ، پہلے معاہدہ طے کیا اور پھر عاص بن وائل سے زبیدی کا حق دلایا۔ 2
جفاکشی کی زندگی:
عنفوانِ شباب میں رسول اللہﷺ کا کوئی معین کام نہ تھا۔ البتہ یہ خبر متواتر ہے کہ آپ بکریاں چراتے تھے۔ آپﷺ نے بنی سعد کی بکریاں چرائیں۔3اور مکہ میں بھی اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے عوض چراتے تھے۔4اور غالباً جوان ہوئے تو تجارت کی طرف منتقل ہوگئے۔ کیونکہ یہ روایت آتی ہے کہ آپ سائب بن یزید مخزومی کے ساتھ تجارت کرتے تھے اور بہترین شریک تھے ، نہ ہیر پھیر نہ کوئی جھگڑا۔ چنانچہ سائب فتح مکہ کے دن آپ کے پاس آئے تو آپ نے انہیں مرحباً کہا اور فرمایا کہ میرے بھائی اور میرے شریک کو مرحبا۔5پچیس سال
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۱۳۳ ، ۱۳۵ ، مختصر السیرہ شیخ عبد اللہ ص ۳۰ ، ۳۱۔
2 طبقات ابن سعد ۱/۱۲۶-۱۲۸ نسب قریش للزبیر ی ص ۲۹۱
3 ابن ہشام ۱/۱۶۶
4 صحیح بخاری۔ الاجارات ، باب رعی الغنم علی قراریط ۱/۳۰۱
5 سنن ابی داؤد ۲/۶۱۱ ، ابن ماجہ ح ۲۲۸۷ (۲/۷۶۸)
کی عمر ہوئی توحضرت خدیجہ ؓ کا مال لے کر تجارت کے لیے ملک شام تشریف لے گئے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ خدیجہ بنت خویلد ایک معزز مالدار اور تاجر خاتون تھیں۔ لوگوں کو اپنا مال تجارت کے لیے دیتی تھیں اور مضاربت کے اصول پر ایک حصہ طے کرلیتی تھیں۔ پورا قبیلۂ قریش ہی تاجر پیشہ تھا۔ جب انہیں رسول اللہﷺ کی راست گوئی ، امانت اور مکارمِ اخلاق کا علم ہوا تو انھوں نے ایک پیغام کے ذریعے پیش کش کی۔ آپ ان کا مال لے کر تجارت کے لیے ان کے غلام مَیْسَرہ کے ساتھ ملک شام تشریف لے جائیں۔ وہ دوسرے تاجروں کو جوکچھ دیتی ہیں اس سے بہتر اجرت آپ کو دیں گی۔ آپ نے یہ پیش کش قبول کر لی اور ان کا مال لے کر ان کے غلام مَیْسَرہ کے ساتھ ملک شام تشریف لے گئے۔ 1
حضرت خدیجہ ؓ سے شادی:
جب آپ مکہ واپس تشریف لائے اور حضرت خدیجہ ؓ نے اپنے مال میں ایسی امانت وبرکت دیکھی جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی اور ادھر ان کے غلام مَیْسَرہ نے آپ کے شریں اخلاق ، بلند پایہ کردار موزوں اندازِ فکر ، راست گوئی اور امانت دارانہ طور طریق کے متعلق اپنے مشاہدات بیان کیے تو حضرت خدیجہ کو اپنا گم گشتہ گوہرِ مطلوب دستیاب ہوگیا۔ اس سے پہلے بڑے بڑے سردار اور رئیس ان سے شادی کے خواہاں تھے، لیکن انھوں نے کسی کا پیغام منظور نہ کیا تھا۔ اب انھوں نے اپنے دل کی بات اپنی سہیلی نفیسہ بنت منبہ سے کہی اور نفیسہ نے جاکر نبیﷺ سے گفت وشنید کی۔ آپﷺ راضی ہوگئے اور اپنے چچاؤں سے اس معاملے میں بات کی۔ انھوں نے حضرت خدیجہ ؓ کے چچا سے بات کی اور شادی کا پیغام دیا۔ اس کے بعد شادی ہوگئی۔ نکاح میں بنی ہاشم اور رؤسائے مضر شریک ہوئے۔
یہ ملک شام سے واپسی کے دو مہینے بعد کی بات ہے۔ 2آپﷺ نے مہر میں بیس اونٹ دیے۔ اس وقت حضرت خدیجہ ؓ کی عمر چالیس سال اور کہا جاتا ہے کہ اٹھائیس سال تھی اور وہ نسب ودولت اور سوجھ بوجھ کے لحاظ سے اپنی قوم کی سب سے معزز اور افضل خاتون تھیں ، یہ پہلی خاتون تھیں جن سے رسول اللہﷺ نے شادی کی اور ان کی وفات تک کسی دوسری خاتون سے شادی نہیں کی۔ 3
ابراہیم کے علاوہ رسول اللہﷺ کی بقیہ تمام اوّلاد انہی کے بطن سے تھیں۔ سب سے پہلے قاسم پیدا ہوئے اور انہی کے نام پر آپ کی کنیت ابوالقاسم پڑی۔ پھر حضرت زینب ؓ ، رقیہ ؓ ، اُم کلثوم ؓ ، فاطمہؓ اور عبد اللہ پیدا ہوئے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۱۸۷ ، ۱۸۸
2 مسعودی نے تعیین کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ آپ جنگ فجار کے چار سال نومہینہ ، چھ دن کے بعد ملک شام کے لیے نکلے اور حضرت خدیجہ ؓ سے آپ کی شادی ملک شام روانگی کے دومہینہ چو بیس دن کے بعد ہوئی دیکھئے: مروج الذہب ۲/۲۷۸
3 ابن ہشام ۱/۱۸۹، ۱۹۰
عبد اللہ کا لقب طیب اور طاہر تھا۔ آپﷺ کے سب بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے۔ البتہ بچیوں میں سے ہر ایک نے اسلام کا زمانہ پایا۔ مسلمان ہوئیں اور ہجرت کے شرف سے مشرف ہوئیں ، لیکن حضرت فاطمہ ؓ کے سوا باقی سب کا انتقال آپ کی زندگی ہی میں ہوگیا۔ حضرت فاطمہ ؓ کی وفات آپ کے چھ ماہ بعد ہوئی۔ 1
کعبہ کی تعمیر اور حجر اسود کے تنازعہ کا فیصلہ:
آپﷺ کی عمر کا پینتیسواں سال تھا کہ قریش نے نئے سرے سے خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی۔ وجہ یہ تھی کہ کعبہ صرف قد سے کچھ اونچی چہار دیوار کی شکل میں تھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمانے ہی سے اس کی بلندی ۹ہاتھ تھی اور اس پر چھت نہ تھی۔ اس کیفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ چوروں نے اس کے اندر رکھا ہوا خزانہ چرالیا… اس کے علاوہ اس کی تعمیر پر ایک طویل زمانہ گزر چکا تھا۔ عمارت خستگی کا شکار ہوچکی تھی اور دیوار یں پھٹ گئی تھیں۔ ادھر اسی سال ایک زور دار سیلاب آیا۔ جس کے بہاؤ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف تھا۔ اس کے نتیجے میں خانہ کعبہ کسی بھی لمحے ڈھہ سکتا تھا ، اس لیے قریش مجبور ہوگئے کہ اس کا مرتبہ ومقام بر قرار رکھنے کے لیے اسے ازسرِ نو تعمیر کر یں۔
اس مرحلے پر قریش نے یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ خانۂ کعبہ کی تعمیر میں صرف حلال رقم ہی استعمال کریں گے۔ اس میں رنڈی کی اُجرت ، سود کی دولت اور کسی کا ناحق لیا ہوا مال استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
(نئی تعمیر کے لیے پرانی عمارت کو ڈھانا ضروری تھا) لیکن کسی کو ڈھانے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ بالآخر ولید بن مغیرہ مخزومی نے ابتداء کی اور کدال لے کر یہ کہا کہ اے اللہ ! ہم خیر ہی کا ارادہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد دو کونوں کے اطراف کو کچھ ڈھا دیا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ اس پر کوئی آفت نہیں ٹوٹی تو باقی لوگوں نے بھی دوسرے دن ڈھانا شروع کیا اور جب قواعد ابراہیم تک ڈھاچکے تو تعمیر کا آغاز کیا۔ تعمیر کے لیے الگ الگ ہر قبیلے کا حصہ مقرر تھا اور ہر قبیلے نے علیحدہ علیحدہ پتھر کے ڈھیر لگا رکھے تھے، تعمیر شروع ہوئی۔ باقوم نامی ایک رومی معمار نگراں تھا۔ جب عمارت حجر اسود تک بلند ہو چکی تو یہ جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا کہ حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنے کا شرف وامتیاز کسے حاصل ہو، یہ جھگڑا چار پانچ روز تک جاری رہا اور رفتہ رفتہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ معلوم ہوتا تھا سر زمینِ حرم میں سخت خون خرابہ ہوجائے گا ، لیکن ابو اُمَیہ مخزومی نے یہ کہہ کر فیصلے کی ایک صورت پیدا کردی کہ مسجد حرام کے دروازے سے جو شخص پہلے داخل ہو اسے اپنے جھگڑے کا حَکَم مان لیں۔ لوگوں نے یہ تجویز منظور کرلی۔ اللہ کی مشیت کہ اس کے بعد سب سے پہلے رسول اللہﷺ تشریف لائے۔ لوگوں نے آپ کو دیکھا تو چیخ پڑے کہ ھذا الأمین رضیناہ ھذا محمدﷺ ”یہ امین ہیں۔ ہم ان راضی ہیں یہ محمدﷺ ہیں۔” پھر جب آپ ان کے قریب پہنچے اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۱۹۰ ، ۱۹۱ صحیح بخاری ، فتح الباری ۷/۱۰۵ ، تلقیح الفہوم ص ۷
انھوں نے آپ کو معاملے کی تفصیل بتائی تو آپ نے ایک چادر طلب کی بیچ میں حجر اسود رکھا اور متنازعہ قبائل کے سرداروں سے کہا کہ آپ سب حضرات چادر کا کنارہ پکڑ کر اوپر اٹھائیں۔ انھوں نے ایسا ہی کیا ، جب چادر حجر اسود کے مقام تک پہنچ گئی تو آپ نے اپنے دست مبارک سے حجر اسود کو اس کی مقررہ جگہ پر رکھ دیا، یہ بڑا معقول فیصلہ تھا۔ اس پر ساری قوم راضی ہوگئی۔
ادھر قریش کے پاس مال حلال کی کمی پڑ گئی اس لیے انھوں نے شمال کی طرف سے کعبہ کی لمبائی تقریبا ً چھ ہاتھ کم کردی۔ یہی ٹکڑا حجر اور حطیم کہلاتا ہے۔ اس دفعہ قریش نے کعبہ کا دروازہ زمین سے خاصا بلند کر دیا تاکہ اس میں وہی شخص داخل ہوسکے جسے وہ اجازت دیں۔ جب دیواریں پندرہ ہاتھ بلند ہوگئیں تو اندر چھ ستون کھڑے کر کے اوپر سے چھت ڈال دی گئی اور کعبہ اپنی تکمیل کے بعد قریب قریب چوکور شکل کا ہو گیا۔ اب خانہ کعبہ کی بلندی پندرہ میٹر ہے۔ حجر اَسْوَد والی دیوار اور اس کے سامنے کی دیوار، یعنی جنوبی اور شمالی دیواریں دس دس میٹر ہیں۔ حجرِ اسود مطاف کی زمین سے ڈیڑھ میٹر کی بلندی پر ہے۔ دروازے والی دیوار اور اس کے سامنے کی دیوار یعنی پورب اور پچھم کی دیواریں ۱۲ – ۱۲ میٹر ہیں۔ دروازہ زمین سے دومیٹر بلند ہے۔ دیوار کے گرد نیچے ہر چہار جانب سے ایک بڑھے ہوئے کرسی نما ضلعے کا گھیرا ہے، جس کی اوسط اونچائی ۲۵ سینٹی میٹر اور اوسط چوڑائی ۳۰ سینٹی میٹر ہے۔ اسے شاذروان کہتے ہیں۔ یہ بھی دراصل بیت اللہ کا جزو ہے لیکن قریش نے اسے بھی چھوڑ دیا تھا۔1
نبوت سے پہلے کی اجمالی سیرت:
نبیﷺ کا وجود ان تمام خوبیوں اور کمالات کا جامع تھا جو متفرق طور پر لوگوں کے مختلف طبقات میں پائے جاتے ہیں۔ آپﷺ اصابتِ فکر ، دُور بینی اور حق پسندی کا بلند مینار تھے۔ آپﷺ کوحسنِ فراست ، پختگی فکر اور وسیلہ ومقصد کی درستگی سے حظِ وافر عطا ہوا تھا۔ آپﷺ اپنی طویل خاموشی سے مسلسل غور وخوض ، دائمی تفکیر اور حق کی کرید میں مدد لیتے تھے۔ آپﷺ نے اپنی شاداب عقل اور روشن فطرت سے زندگی کے صحیفے، لوگوں کے معاملات اور جماعتوں کے احوال کا مطالعہ کیا اور جن خرافات میں یہ سب لت پت تھیں۔ ان سے سخت بیزاری محسوس کی۔ چنانچہ آپﷺ نے ان سب سے دامن کش رہتے ہوئے پوری بصیرت کے ساتھ لوگوں کے درمیان زندگی کا سفر طے کیا۔ یعنی لوگوں کا جو کام اچھا ہوتا اس میں شرکت فرماتے۔2 ورنہ اپنی مقررہ تنہائی کی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : ابن ہشام ۱/۱۹۲ تا ۱۹۷ ، تاریخ طبری ۲/۲۸۹، اور اس کے بعد صحیح بخاری باب فضل مکۃ ونبیانہا۔ ۱/۲۱۵، تحکیم کی یہ خبر مسند ابی داؤد طیالسی میں بھی ہے۔ نیز دیکھئے : تاریخ خضری ۱/۶۴، ۶۵۔
2 مثلاً: قریش جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔ رسول اللہﷺ بھی عہد جاہلیت میں یہ روزہ رکھتے تھے۔ دیکھئے: صحیح بخاری حدیث نمبر ۲۰۰۲ ، فتح الباری ۴/۲۸۷
طرف پلٹ جاتے۔ چنانچہ آپﷺ نے شراب کو کبھی منہ نہ لگایا ، آستانوں کا ذبیحہ نہ کھایا اور بتوں کے لیے منائے جانے والے تہوار اور میلوں ٹھیلوں میں کبھی شرکت نہ کی۔
آپ کو شروع ہی سے ان باطل معبودوں سے اتنی نفرت تھی کہ ان سے بڑھ کر آپ کی نظر میں کوئی چیز مبغوض نہ تھی حتیٰ کی لات وعزیٰ کی قسم سننا بھی آپ کو گوارا نہ تھا۔ 1
اس میں شبہ نہیں کہ تقدیر نے آپ پر حفاظت کا سایہ ڈال رکھا تھا۔ چنانچہ جب بعض دنیاوی تمتعات کے حصول کے لیے نفس کے جذبات متحرک ہوئے یا بعض ناپسندیدہ رسم ورواج کی پیروی پر طبیعت آمادہ ہوئی تو عنایتِ ربانی دخیل ہوکر رکاوٹ بن گئی۔ ابن اثیر کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اہل جاہلیت جو کام کرتے تھے مجھے دو دفعہ کے علاوہ کبھی ان کا خیال نہیں گزرا لیکن ان دونوں میں سے بھی ہر دفعہ اللہ تعالیٰ نے میرے اور اس کام کے درمیان رکاوٹ ڈال دی۔ اس کے بعد پھر کبھی مجھے اس کا خیال نہ گزرا یہاں تک کہ اللہ نے مجھے اپنی پیغمبری سے مشرّف فرمادیا۔ ہوا یہ کہ جو لڑکا بالائی مکہ میں میرے ساتھ بکریاں چرایا کر تا تھا، اس سے ایک رات میں نے کہا کیوں نہ تم میری بکریاں دیکھو اور میں مکہ جاکر دوسرے جوانوں کی طرح وہاں کی شبانہ قصہ گوئی کی محفل میں شرکت کرلوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ اس کے بعد میں نکلا اور ابھی مکہ کے پہلے ہی گھر کے پاس پہنچا تھا کہ باجے کی آواز سنائی پڑی۔ میں نے دریافت کیا کہ کیا ہے، لوگوں نے بتایا فلاں کی فلاں سے شادی ہے ، میں سننے بیٹھ گیا اور اللہ نے میرا کان بند کر دیا اور میں سو گیا، پھر سورج کی تمازت ہی سے میری آنکھ کھلی اور میں اپنے ساتھی کے پاس واپس چلا گیا۔ اس کے پوچھنے پر میں نے تفصیلات بتائیں۔ اس کے بعد ایک رات پھر میں نے یہی بات کہی اور مکہ پہنچا تو پھر اسی رات کی طرح کا واقعہ پیش آیا اور اس کے بعد پھر کبھی غلط ارادہ نہ ہوا۔ 2
صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ جب کعبہ تعمیر کیا گیا تو نبیﷺ اور حضرت عباسؓ پتھر ڈھورہے تھے۔ حضرت عباس ؓ نے نبیﷺ سے کہا: اپنا تہبند اپنے کندھے پر رکھ لو، پتھر سے حفاظت رہے گی لیکن آپ زمین پر جاگرے، نگاہیں آسمان کی طرف اُٹھ گئیں۔ افاقہ ہوتے ہی آواز لگائی میرا تہبند ، میرا تہبند۔ اورآپ کا تہبند آپ کو باندھ دیا گیا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اس کے بعد آپ کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی گئی۔ 3
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے: ابن ہشام ۱/۱۲۸، تاریخ طبری ۲/۱۶۱، تہذیب تاریخ دمشق ۱/۳۷۳، ۳۷۶
2 اس حدیث کو طبری ۲/۲۷۹ وغیرہ نے روایت کیا ہے اور حاکم وذہبی نے صحیح کہا ہے لیکن ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ ۲/۲۸۷ میں اس کی تضعیف کی ہے۔
3 صحیح بخاری باب بنیان الکعبہ ۱/۵۴۰، فتح الباری ۳/۵۱۳، ۵۱۷، ۷/۱۸۰ ، مسند احمد ۳/۲۹۵، ۳۱۰، ۳۳۳، ۳۸۰۔
نبیﷺ اپنی قوم میں شیریں کردار ، فاضلانہ اخلاق اور کریمانہ عادات کے لحاظ سے ممتاز تھے۔ چنانچہ آپ سب سے زیادہ بامروت ، سب سے خوش اخلاق ، سب سے معزز ہمسایہ ، سب سے بڑھ کر دُور اندیش ، سب سے زیادہ راست گو، سب سے نرم پہلو ،سب سے زیادہ پاک نفس ، خیر میں سب سے زیادہ کریم ، سب سے نیک عمل، سب سے بڑھ کر پابندِ عہد اور سب سے بڑے امانت دار تھے۔ حتیٰ کہ آپ کی قوم نے آپ کا نام ہی ”امین ” رکھ دیا تھا۔ کیونکہ آپ احوالِ صالحہ اور خصالِ حمیدہ کا پیکر تھے اور جیسا کہ حضرت خدیجہ ؓ کی شہادت ہے۔ ”آپﷺ درماندوں کا بوجھ اٹھاتے تھے۔ تہی دستوں کا بندوبست فرماتے تھے ، مہمان کی میزبانی کرتے تھے اور مصائبِ حق میں اعانت فرماتے تھے۔ ” 1
****​
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری ۱/۳۔
نبوت و دعوت کا مکی دور

نبوت ورسالت سے مشرف ہونے کے بعد رسول اللہﷺ کی زندگی کے دو واضح دور ہیں جو ایک دوسرے سے مکمل طور پر ممتاز ہیں۔ جو یہ ہیں :
(۱) مکی دور…تقریبا ً تیرہ سال
(۲) مدنی دور …پورے دس سال
پھر دونوں میں سے ہر دور کے کئی مرحلے ہیں اور ہر مرحلے کی اپنی خصوصیات ہیں۔ جن کے ذریعہ سے وہ دوسرے مرحلوں سے ممتاز ہے۔ دونوں دور میں آپﷺ کی دعوت جن حالات سے گزری ہے ان پر باریک نظر ڈالنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔
مکی دور کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :
سری اور انفرادی دعوت کا مرحلہ …تین سال –
1۔۔۔۔ اہل مکہ میں کھلی دعوت کا مرحلہ …نبوت کے چوتھے سال کے آغاز سے ہجرتِ مدینہ تک۔
2۔۔۔۔ مکہ سے باہر دعوت کے پھیلاؤ کا مرحلہ …نبوت کے دسویں سال کے آغاز سے …یہ مرحلہ مدنی دور کو بھی شامل ہے اور نبیﷺ کی آخری زندگی تک ممتد ہے۔
مدنی دور کے مرحلوں کی تفصیل اپنی جگہ پر آرہی ہے۔
نبوت ورسالت کی چھاؤں میں

غارِ حِرا ء کے اندر:
رسول اللہﷺ کی عمر شریف جب چالیس برس کے قریب ہوچلی…اور اس دوران آپﷺ کے اب تک کے تاملات نے قوم سے آپﷺ کا ذہنی اور فکری فاصلہ بہت وسیع کردیا تھا… تو آپﷺ کو تنہائی محبوب ہوگئی۔چنانچہ آپﷺ ستو اور پانی لے کر مکہ سے کوئی دومیل دور کوہِ حراء کے ایک غار میں جارہتے … یہ ایک مختصر ساغار ہے جس کا طول چار گز اور عرض پونے دوگز ہے۔ یہ نیچے کی جانب گہرا نہیں تھا بلکہ ایک مختصر راستے کے بازو میں اوپر کی چٹانوں کے باہم ملنے سے ایک کوتل کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔ آپﷺ رمضان بھر اس غار میں قیام فرماتے، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کرتے۔ کائنات کے مشاہد اور اس کے پیچھے کار فرما قدرتِ نادرہ پر غور فرماتے۔ آپﷺ کو اپنی قوم کے لچر پوچ شرکیہ عقائد اور واہیات تصورات پر بالکل اطمینان نہ تھا لیکن آپﷺ کے سامنے کوئی واضح راستہ ، معین طریقہ اور افراط وتفریط سے ہٹی ہوئی کوئی ایسی راہ نہ تھی جس پر آپﷺ اطمینان وانشراح قلب کے ساتھ رواں دواں ہو سکتے۔
نبیﷺ کی یہ تنہائی پسندی بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی تدبیر کا ایک حصہ تھی تاکہ زمین کے مشاغل ، زندگی کے شور ، اور لوگوں کے چھوٹے چھوٹے ہم وغم کی دنیا سے آپ کا کٹنا اس کار عظیم کی تیاری کے لیے پلٹنے کا نقطہ ہو جس کا دنیا کو انتظار تھا اور آپ امانتِ کبریٰ کا بوجھ اٹھانے ، روئے زمین کو بدلنے اور خطِ تاریخ کو موڑنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اللہ نے رسالت کی ذمہ داری عائد کرنے سے تین سال پہلے آپﷺ کے لیے یہ خلوت نشینی مقدر کردی۔ آپﷺ اس خلوت میں ایک ماہ تک کائنات کی آزاد روح کے ساتھ ہم سفر رہتے اور اس وجود کے پیچھے چھپے ہوئے غیب کے اندر تدبر فرماتے تاکہ جب اللہ تعالیٰ کا اذن ہو تو اس غیب کے ساتھ تعامل کے لیے مستعد رہیں۔ 1
جبریل ؑ وحی لاتے ہیں:
جب آپﷺ کی عمر چالیس برس ہوگئی … اور یہی سن کمال ہے ، اور کہا جاتا ہے کہ یہی پیغمبروں کی بعثت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 اصل واقعے کے لیے دیکھئے : صحیح بخاری ح ۳، ابن ہشام ۱/۲۳۵، ۲۳۶، اور دیگر کتب تفسیر وسنت وسیرت۔ کہا جاتا ہے کہ عبدالمطلب پہلے شخص ہیں جنھوں نے حراء میں عبادت کی۔ وہ رمضان آتے ہی وہاں جاپہنچتے۔ اور پورے مہینے مسکینوں کو کھانا کھلاتے۔ (الکامل لابن الاثیر۱/۵۵۳)
کی عمر ہے … تو آثار نبوت چمکنا اور جگمگانا شروع ہوئے، چنانچہ مکہ میں ایک پتھر آپ کو سلام کرتا تھا۔ نیز آپ کو سچے خواب نظر آتے تھے۔ آپﷺ جو بھی خواب دیکھتے وہ سپیدۂ صبح کی طرح نمودار ہوتا۔ اس حالت پر چھ ماہ کا عرصہ گزر گیا… جو مدتِ نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اور کل مدتِ نبوت کا تیئس برس ہے… اس کے بعد جب حراء میں خلوت نشینی کا تیسرا سال آیا تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ روئے زمین کے باشندے پر اس کی رحمت کا فیضان ہو۔ چنانچہ اس نے آپﷺ کو نبوت سے مشرف کیا اور حضرت جبریل علیہ السلام قرآن مجید کی چند آیات لے کر آپﷺ کے پاس تشریف لائے۔ 1
دلائل وقرآن پر ایک جامع نگاہ ڈال کر حضرت جبریل علیہ السلام کی تشریف آوری کے اس واقعے کی تاریخ معین کی جاسکتی ہے۔ ہماری تحقیق کے مطابق یہ واقعہ رمضان المبارک کی ۲۱/تاریخ کو دوشنبہ کی رات میں پیش آیا۔ اس روز اگست کی ۱۰/تاریخ تھی اور ۶۱۰ ء تھا۔ قمری حساب سے نبیﷺ کی عمر چالیس سال چھ مہینے بارہ دن اور شمسی حساب سے ۳۹ سال تین مہینے ۲۲ دن تھی۔ 2
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں کہ بیہقی نے یہ حکایت کی ہے کہ خواب کی مدت چھ ماہ تھی۔ لہٰذا خواب کے ذریعے نبوت کا آغاز چالیس سال کی عمر مکمل ہونے پر ماہ ربیع الاوّل میں ہوا جو آپ کی ولادت کا مہینہ ہے لیکن حالت بیداری میں آپ کے پاس وحی رمضان شریف میں آئی۔ (فتح الباری ۱/۲۷ )
2 آغاز وحی کا مہینہ ، دن اور تاریخ مورخین میں بڑا اختلاف ہے کہ نبیﷺ کس مہینے میں شرفِ نبوت اور اعزازِ وحی سے سر فروزہوئے۔
بیشتر سیرت نگار کہتے ہیں کہ یہ ربیع الاوّل کا مہینہ تھا لیکن ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ رجب کا مہینہ تھا۔ (دیکھئے : مختصر السیرۃ از شیخ عبد اللہ ص :۷۵) ہمارے نزدیک دوسرا قول زیادہ صحیح ہے کہ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے : شَهْرُ‌ رَ‌مَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْ‌آنُ (۲/۱۸۵) ”رمضان کا مہینہ ہی وہ (بابرکت مہینہ ہے ) جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا ”اور ارشاد ہے: إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ‌ (۹۷/۱) یعنی ”ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا۔ ” اور معلوم ہے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہے،یہی لیلۃ القدر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں بھی مراد ہے: إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَ‌كَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِ‌ينَ (۴۴/۳) ”ہم نے قرآن مجید کو ایک بابرکت رات میں اتارا۔ ہم لوگوں کو عذاب کے خطرے سے آگاہ کرنے والے ہیں۔ ”دوسر ے قول کی ترجیح کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حراء میں رسول اللہﷺ کا قیام ماہ رمضان میں ہوا کرتا تھا اور معلوم ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام حراء ہی میں تشریف لائے تھے۔
جو لوگ رمضان میں نزول وحی کے آغاز کے قائل ہیں ان میں پھر اختلاف ہے کہ اس دن رمضان کی کونسی تاریخ تھی۔ بعض سات کہتے ہیں۔ بعض سترہ اور بعض اٹھارہ (دیکھئے: مختصر السیرہ ص ۷۵ رحمۃ للعالمین ۱/۴۹ ) ابن اسحاق اور علامہ خضری کا اصرار ہے کہ یہ سترہویں تاریخ تھی۔ دیکھئے : تاریخ خضری ۱/۶۹ اور تاریخ التشریع الاسلامی ص ۵، ۶،۷۔)
میں نے ۲۱ تاریخ کو اس بنا پر ترجیح دی ہے کہ بیشتر سیرت نگاروں کا اتفاق ہے کہ آپ کی بعثت دوشنبہ کے روز ہوئی تھی اور اس کی تائیدابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہﷺ سے دوشنبہ کے دن کے روزے کی بابتïïï
آیئے ! اب ذرا حضرت عائشہ ؓ کی زبانی اس واقعے کی تفصیلات سنیں جو نبوت کا نقطۂ آغاز تھا اور جس سے کفر وضلالت کی تاریکیاں چھٹتی چلی گئیں۔ یہاں تک کہ زندگی کی رفتار بدل گئی اور تاریخ کا رُخ پلٹ گیا ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ پر وحی کی ابتدا نیند میں اچھے خواب سے ہوئی۔ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے وہ سپیدۂ صبح کی طرح نمودار ہوتا تھا، پھر آپ کو تنہائی محبوب ہوگئی۔ چنانچہ آپ غارِ حرا میں خلوت اختیار فرماتے اور کئی کئی رات گھر تشریف لائے بغیر مصروفِ عبادت رہتے۔ اس کے لیے آپ توشہ لے جاتے۔ پھر (توشہ ختم ہونے پر ) حضرت خدیجہ ؓ کے پاس واپس آتے اور تقریباً اتنے ہی دنوں کے لیے پھر توشہ لے جاتے۔ یہاں تک کہ آپ کے پاس حق آیا اور آپ غارِ حراء میں تھے، یعنی آپ کے فرشتہ آیا اور اس نے کہا پڑھو۔ آپ نے فرمایا: میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس پراس نے مجھے پکڑ کر اس زور سے دبایا کہ میری قوت نچوڑ دی۔ پھر چھوڑ کر کہا: پڑھو ! میں نے کہا: میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس نے دوبارہ پکڑ کر دبوچا۔ پھر چھوڑ کر کہا: پڑھو ! میں نے پھر کہا: میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس نے تیسری بار پکڑ کر دبوچا، پھر چھوڑ کر کہا: اقْرَ‌أْ بِاسْمِ رَ‌بِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾ اقْرَ‌أْ وَرَ‌بُّكَ الْأَكْرَ‌مُ ﴿٣﴾
”پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ، انسان کو لوتھڑے سے پیدا کیا ، پڑھو اور تمہارا رب نہایت کریم ہے۔”
ان آیات کے ساتھ رسول اللہﷺ پلٹے۔ آپﷺ کا دل دَھک دَھک کر رہا تھا۔ حضرت خَدِیجہ ؓبنت خویلد کے پاس تشریف لائے اور فرمایا مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اڑھا دو۔ انہوں نے آپﷺ کو چادر اوڑھا دی یہاں تک کہ خوف جاتا رہا۔
اس کے بعد آپﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ کو واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا۔ یہ مجھے کیا ہوگیا ہے؟ مجھے تو اپنی جان کاڈر لگتا ہے۔ حضرت خدیجہ ؓ نے کہا قطعاً نہیں۔ واللہ ! آپﷺ کو اللہ تعالیٰ رسوا نہ کرے گا۔ آپﷺ صلہ رحمی کرتے ہیں۔ درماندوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ تہی دستوں کا بند وبست کرتے ہیں۔ مہمان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ïïïدریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں پیدا ہوا اور جس میں مجھے پیغمبر بنایا گیا ۔ یا جس میں مجھ پر وحی نازل کی گئی ۔ (صحیح مسلم ۱/۳۶۸ ، مسند احمد ۵/۲۹۷ ، ۲۹۹ بیہقی ۴/۲۸۶ ، ۳۰۰ حاکم ۲/۲،۶ ) اور اس سال رمضان میں دوشنبہ کا دن ۷، ۱۴، ۲۱، اور ۲۸تاریخوں کو پڑا تھا ادھر صحیح روایات سے یہ ثابت اور معین ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں پڑتی ہے اور انھی طاق راتوں میں منتقل بھی ہوتی رہتی ہے ۔ اب ہم ایک طرف اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دیکھتے ہیں کہ ہم نے قرآن مجید کو لیلۃ القدر میں نازل کیا ۔ دوسری طرف ابو قتادہؓ کی یہ روایت دیکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کو دوشنبہ کے روز مبعوث فرمایا گیا ۔ تیسری طرف تقویم کا حساب دیکھتے ہیں کہ اس سال رمضان میں دوشنبہ کن کن تاریخوں میں پڑا تھا تو متعین ہوجاتا ہے کہ نبیﷺ کی بعثت اکیسویں رمضان کی رات میں ہوئی ۔ اس لیے یہی نزول ِ وحی کی پہلی تاریخ ہے ۔
آیتیں عَلَّمَ الْاِِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ تک نازل ہوئی تھیں۔
کی میزبانی کرتے ہیں اور حق کے مصائب پر اعانت کرتے ہیں۔
اس کے بعد حضرت خدیجہ ؓ آپ کو اپنے چچیرے بھائی وَرَقَہ بن نَوفل بن اسد بن عبد العزیٰ کے پاس لے گئیں۔ ورقہ دورِ جاہلیت میں عیسائی ہوگئے تھے اور عبرانی میں لکھنا جانتے تھے۔ چنانچہ عبرانی زبان میں حَسبِ توفیق الٰہی انجیل لکھتے تھے۔ اس وقت بہت بوڑھے اور نابینا ہوچکے تھے، ان سے حضرت خدیجہؓ نے کہا : بھائی جان ! آپ اپنے بھتیجے کی بات سنیں۔ ورقہ نے کہا : بھتیجے ! تم کیا دیکھتے ہو ؟ رسول اللہﷺ نے جو کچھ دیکھا تھا بیان فرمادیا، اس پر ورقہ نے آپ سے کہا: یہ تو وہی ناموس ہے جسے اللہ نے موسیٰ ؑ پر نازل کیا تھا۔ کاش! میں اس وقت توانا ہوتا۔ کاش! میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اچھا ! تو کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے کہا : ہاں! جب بھی کوئی آدمی اس طرح کا پیغام لایا جیسا تم لائے ہو تو اس سے ضرور دشمنی کی گئی اور اگر میں نے تمہارا زمانہ پالیا تو تمہاری زبردست مدد کروںگا۔ اس کے بعد ورقہ جلد ہی فوت ہوگئے اور وحی رک گئی۔ 1
وحی کی بندش:
رہی یہ بات کہ وحی کتنے دنوں تک بند رہی تو اس سلسلے میں ابن سعد نے ابن عباسؓ سے ایک روایت نقل کی ہے۔ جس کا مفاد یہ ہے کہ بندش چند دنوں کے لیے تھی اور سارے پہلوؤں پر نظر ڈالنے کے بعد یہی بات راجح بلکہ یقینی معلوم ہوتی ہے اور یہ جو مشہور ہے کہ وحی کی بندش تین سال یا ڈھائی سال تک رہی تو یہ قطعاً صحیح نہیں۔
روایات اور اہل علم کے اقوال پر نظر ڈالنے کے بعد میں ایک عجیب وغریب نتیجہ پر پہنچاہوں۔ جس کا ذکر مجھے کسی صاحب علم کے یہاں نہیں مل سکا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ روایات اور اہل علم کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ غار حراء میں ہر سال ایک مہینہ تشریف رکھتے تھے اور یہ رمضان کا مہینہ ہوا کرتا تھا۔ یہ کام آپ نے نبوت کے تین سال پہلے سے شروع کیا تھا اور سال نبوت اس کام کا آخری سال تھا، پھر رمضان کے خاتمے کے ساتھ حراء میں آپ کی اقامت ختم ہوجاتی تھی اور آپ صبح کو …یعنی پہلی شوال کی صبح کو …گھر واپس آجاتے تھے۔
ادھر صحیحین کی روایات میں یہ بات صراحت سے بیان کی گئی ہے کہ وحی کی بندش کے بعد دوبارہ جس وقت وحی نازل ہوئی ہے اس وقت آپﷺ غار حراء میں اپنے قیام کا مہینہ پورا کر کے گھر تشریف لا رہے تھے۔ اس لیے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس رمضان میں آپﷺ نبوت اور وحی سے مشرف ہوئے اسی رمضان کے خاتمے کے بعد پہلی شوال کو دوبارہ وحی نازل ہوئی کیونکہ یہ حراء میں آپ کے قیام کا آخری موقع تھا اور جب یہ بات ثابت ہے کہ آپ پر پہلی وحی ۲۱/رمضان دوشنبہ کی رات نازل ہوئی تو اس کے معنی یہ ہے کہ وحی کی بندش کل دس دن تھی اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری باب کیف کا بدء الوحی ۱/۲،۳ الفاظ کے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ یہ روایت صحیح بخاری کتاب التفسیر اور تعبیر الرؤیا میں بھی مروی ہے۔ نیز مسلم : کتاب الایمان حدیث نمبر ۲۵۲
دوبارہ اس کا نزول جمعرات یکم شوال ۱ نبوت کو ہوا اور شاید یہی وجہ ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کو اعتکاف کے لیے خاص کیا گیا ہے اور پہلی شوال کو عید کے لیے۔ (واللہ اعلم )
وحی کی اس بندش کے عرصے میں رسول اللہﷺ حزین وغمگین رہے اور آپ پر حیرت واستعجاب طاری رہا۔ چنانچہ صحیح بخاری کتاب التعبیرکی روایت ہے کہ :
”وحی بند ہوگئی جس سے رسول اللہﷺ اس قدر غمگین ہوئے کہ کئی بار بلند وبالا پہاڑ کی چوٹیوں پر تشریف لے گئے کہ وہاں سے لڑھک جائیں، لیکن جب کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے کہ اپنے آپ کو لڑھکا لیں تو حضرت جبریل ؑ نمودار ہوتے اور فرماتے اے محمد! آپ اللہ کے رسول برحق ہیں اور اس کی وجہ سے آپ کا اضطراب تھم جاتا، نفس کو قرار آجاتا اور آپ واپس آجاتے ، پھر جب آپ پر وحی کی بندش طول پکڑ جاتی تو آپ پھر اسی جیسے کام کے لیے نکلتے لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے توحضرت جبریل ؑ نمودار ہوکر پھر وہی بات دہراتے۔”1
جبریل ؑ دوبارہ وحی لاتے ہیں:
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ یہ (یعنی وحی کی چند روزہ بندش ) اس لیے تھی تاکہ آپ پرجو خوف طاری ہوگیا تھا وہ رخصت ہوجائے اور دوبارہ وحی کی آمد کا شوق وانتظار پیدا ہوجائے۔2 چنانچہ جب یہ بات حاصل ہوگئی اور آپ وحی کی آمدکے منتظر رہنے لگے تو اللہ نے آپ کو دوبارہ وحی سے مشرف کیا۔ آپ کا بیان ہے کہ :
”میں نے حراء میں ایک مہینہ اعتکاف کیا۔ جب میرا عتکاف پورا ہوگیا تو میں اترا۔ جب بطن وادی میں پہنچا تو مجھے پکارا گیا۔ میں نے دائیں دیکھا ، کچھ نظر نہ آیا ، بائیں دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا۔ آگے دیکھا ، کچھ نظر نہ آیا، پیچھے دیکھا۔ کچھ نظر نہ آیا، پھر آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی تو ایک چیز نظر آئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حِراء میں آیا تھا آسمان وزمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے۔ میں اس سے خوف زدہ ہوکر زمین کی طرف جاجھکا، پھر میں نے خدیجہؓ کے پاس آکر کہا : مجھے چادر اوڑھا دو ، مجھے چادر اوڑھادو، مجھے کمبل اوڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈال دو، انہوں نے مجھے چادر اوڑھادی اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تک نازل فرمائی: يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ‌ ﴿١﴾ قُمْ فَأَنذِرْ‌ ﴿٢﴾ وَرَ‌بَّكَ فَكَبِّرْ‌ ﴿٣﴾ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ‌ ﴿٤﴾ وَالرُّ‌جْزَ فَاهْجُرْ‌ ﴿٥﴾ (المدثر:۱تا۵) یہ نماز فرض ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد وحی میں گرمی آگئی اور وہ پیاپے نازل ہونے لگی۔ ” 3
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری کتاب التعبیر باب اول مابدئ بہ رسول اللہﷺ الرؤیا الصالحۃ ۲/۱۰۳۴
2 فتح الباری ۱/۲۷
3 صحیح بخاری کتاب التفسیر : تفسیر سورۂ مدثر باب اور اس کے مابعد ، فتح الباری ۸/۴۴۵ -۴۴۷ اور ایسا ہی صحیح مسلم ، کتاب الایمان حدیث نمبر ۲۵۷ ، ۱/۱۴۴ میں ہے۔
یہی آیات آپﷺ کی رسالت کا نقطۂ آغاز ہیں۔ یہ رسالت آپ کی نبوت سے اتناہی عرصہ متأخر ہے جتنا عرصہ وحی بند رہی۔ اس میں دوقسم کی باتوں کا آپ کو مکلف کیا گیا ہے اور اس کے نتائج بھی بتلائے گئے ہیں۔
پہلی قسم:… تبلیغ اور ڈراوے کی ہے۔ جس کا حکم ”قم فانذر” سے دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ اٹھ جایئے ، اور آگاہ کر دیجیے کہ لوگ اللہ برتر کے علاوہ دوسروں کی پوجا کر کے ، اور اس کی ذات وصفات اور افعال وحقوق میں دوسروں کو شریک ٹھہرا کر جس غلطی وگمراہی میں پھنسے ہوئے ہیں اگر اس سے باز نہ آئے تو ان پر اللہ کا عذاب آپڑے گا۔
دوسری قسم:… جس کا آپ کو مکلف کیا گیا ہے یہ ہے کہ آپ اپنی ذات پر اللہ کا حکم لاگو کریں اور اپنی حد تک اس کا التزام کریں۔ تاکہ ایک طرف آپ اللہ کی مرضی حاصل کرسکیں اور دوسری طرف ایمان لانے والوں کے لیے بہترین نمونہ بھی ہوں۔ اس کا حکم باقی آیات میں ہے چنانچہ وَرَ‌بَّكَ فَكَبِّرْ‌ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو بڑا ئی کے ساتھ خاص کریں اور اس میں کسی کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ‌ اپنے کپڑے پاک رکھ۔ کا ،مقصود یہ ہے کہ کپڑے اور جسم پاک رکھیں۔ کیونکہ جو اللہ کے حضور کھڑا ہو اور اس کی بڑائی بیان کرے کسی صورت درست نہیں کہ وہ گندہ اور ناپاک ہو اور جب جسم ولباس تک کی پاکی مطلوب ہوتو شرک اور اخلاق وکردار کی گندگی سے پاکی بدرجہ اولیٰ مطلوب ہوگی۔ وَالرُّ‌جْزَ فَاهْجُرْ‌ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ناراضگی اور اس کے عذاب کے اسباب سے دور رہو اور اس کی صورت یہی ہے کہ اس کی اطاعت لازم پکڑو اور معصیت سے کنارہ کش رہو اور وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ‌ کامطلب یہ ہے کہ کسی احسان کا بدلہ لوگوں سے نہ چاہو۔ یا جیسا احسان کیا ہے اس سے افضل جزاء کی امید اس دنیا میں نہ رکھو۔
آخری آیت میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اپنی قوم سے الگ دین اختیار کرنے ، اسے اللہ وحدہ لاشریک لہ کی دعوت دینے ، اور اس کے عذاب اور گرفت سے ڈرانے کے نتیجے میں قوم کی طرف سے اذیتوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس لیے فرمایا گیا: وَلِرَ‌بِّكَ فَاصْبِرْ‌ اپنے پروردگار کے لیے صبر کرنا۔
پھر ان آیات کا مطلع اللہ بزرگ وبرتر کی آواز میں ایک آسمانی نداء پر مشتمل ہے ، جس میں نبیﷺ کو اس عظیم وجلیل کام کے لیے اٹھنے اور نیند کی چادر پوشی اور بستر کی گرمی سے نکل کر جہاد وکفاح اور سعی مشقت کے میدان میں آنے کے لیے کہا گیا ہے: اے چادر پوش! اٹھ اور ڈرا۔ گویا یہ کہا جارہا ہے کہ جسے اپنے لیے جینا ہے وہ تو راحت کی زندگی گزار سکتا ہے لیکن آپ جو اس زبر دست بوجھ کو اٹھا رہے ہیں تو آپ کو نیند سے کیا تعلق ؟ آپ کو راحت سے کیا سروکار؟ آپ کو گرم بستر سے کیا مطلب ؟ یہ سکون زندگی سے کیا نسبت ؟ راحت بخش سازوسامان سے کیا واسطہ ؟ آپ اٹھ جایئے !اس کار عظیم کے لیے جو آپ کا منتظر ہے۔ ا س بار گزاں کے لیے جو آپ کی خاطر تیار ہے۔ اٹھ جایئے جہد ومشقت کے لیے۔ تکان اور محنت کے لیے۔ اٹھ جایئے ! کہ اب نیند اور راحت کا وقت گزر چکا۔ اب آج سے پیہم بیداری ہے اور طویل اور پر مشقت جہاد ہے۔ اٹھ جایئے ! اور اس کام کے لیے مستعد اور تیار ہوجایئے۔
یہ بڑا عظیم اور پر ہیبت کلمہ ہے۔ اس نے نبیﷺ کو پر سکون گھر ، گرم آغوش اور نرم بستر سے کھینچ کر تند طوفانوں اور تیز جھکڑوں کے درمیان اتھا ہ سمندر میں پھینک دیا اور لوگوں کے ضمیر اور زندگی کے حقائق کی کشاکش کے منجد ھار میں لاکھڑا کیا۔
پھر …رسول اللہﷺ اٹھ گئے اور بیس سال سے زیادہ عرصہ تک اٹھے رہے، راحت وسکون تج دیا۔ زندگی اپنے لیے اور اپنے اہل وعیال کے لیے نہ رہی۔ آپ اٹھے تو اٹھے ہی رہے ، کام اللہ کی دعوت دینا تھا۔ آپ نے یہ کمر توڑ بارگراں اپنے شانے پر کسی دباؤ کے بغیر اٹھا لیا۔ یہ بوجھ تھا اس روئے زمین پر امانت کبریٰ کا بوجھ ، ساری انسانیت کا بوجھ ، سارے عقیدے کا بوجھ اور مختلف میدانوں میں جہاد ودفاع کا بوجھ۔ آپ نے تیس سال سے زیادہ عرصے تک پیہم اور ہمہ گیر معرکہ آرائی میں زندگی بسر کی اور اس پورے عرصے میں ، یعنی جب سے آپ نے وہ آسمانی ندائے جلیل سنی، اور یہ گراں بار ذمہ داری پائی۔ آپ کو کوئی ایک حالت دوسری حالت سے غافل نہ کرسکی۔ اللہ آپ کو ہماری طرف سے اور ساری انسانیت کی طرف سے بہترین جزا دے۔
اگلے صفحات رسول اللہﷺ کے اسی طویل اور پر مشقت جہاد کاا یک مختصر ساخاکہ ہیں۔
وحی کے اقسام :
اب ہم سلسلہ ٔ بیان سے ذرا ہٹ کر، یعنی رسالت ونبوت کی حیاتِ مبارکہ کی تفصیلات شروع کرنے سے پہلے وحی کے اقسام ذکر کردینا چاہتے ہیں۔ کیونکہ یہ رسالت کا مصدر اور دعوت کی کمک ہے۔ علامہ ابن ِ قیم ؒ نے وحی کے حسبِ ذیل مراتب ذکر کیے ہیں :
سچا خواب: اسی سے نبیﷺ کے پاس وحی کی ابتدا ہوئی۔
فرشتہ آپ کو دکھلائی دیئے بغیر آپ کے دل میں بات ڈال دیتا تھا۔ مثلاً: نبیﷺ کا ارشاد ہے :
(( ان روح القدس نفث فی روعی أنہ لن تموت نفس حتی تستکمل رزقہا فاتقوا اللہ وأجملوا فی الطلب ولا یحملنکم استبطاء الرزق علی أن تطلبوہ بمعصیۃ اللہ فان ما عند اللہ لا ینال الا بطاعتہ۔))
”روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونکی کہ کوئی نفس مر نہیں سکتا یہاں تک کہ اپنا رزق پورا پورا حاصل کرلے۔ پس اللہ سے ڈرو اورطلب میں اچھائی اختیار کرو اور رزق کی تاخیر تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اسے اللہ کی معصیت کے ذریعے تلاش کرو۔ کیونکہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی اطاعت کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔”
فرشتہ نبیﷺ کے لیے آدمی کی شکل اختیار کرکے آپ کو مخاطب کرتا، پھر جو کچھ وہ کہتا اسے آپ یاد کرلیتے۔ اس صورت میں کبھی کبھی صحابہ ؓ بھی فرشتے کو دیکھتے تھے۔
آپ کے پاس وحی گھنٹی کے ٹن ٹنانے کی طرح آتی تھی اور وحی کی یہ سب سے سخت صورت ہوتی تھی۔ اس صورت میں فرشتہ آپ سے ملتا تھا اور وحی آتی تھی تو سخت جاڑے کے زمانے میں بھی آپ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ پڑتا تھا اور آپ اوٹنی پر سوار ہوتے تو وہ زمین پر بیٹھ جاتی تھی۔ ایک بار اس طرح وحی آئی اور آپ کی ران حضرت زید بن ثابت کی ران پر تھی ، تو ان پر اس قدر گراںبار ہوئی کہ معلوم ہوتا تھا کہ ران کچل جائے گی۔
آپ فرشتے کو اس کی اصلی اور پیدائشی شکل میں دیکھتے تھے اور اسی حالت میں وہ اللہ تعالیٰ کی حسبِ مشیت آپ کی طرف وحی کرتا تھا۔ یہ صورت آپ کے ساتھ دو مرتبہ پیش آئی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ النجم میں فرمایاہے۔
وہ وحی جو آپ پر معراج کی رات نماز کی فرضیت وغیرہ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اس وقت فرمائی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسمانوں کے اُوپر تھے۔
فرشتے کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ کی آپ سے براہ راست گفتگو۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے گفتگوفرمائی تھی۔ وحی کی یہ صورت موسیٰ علیہ السلام کے لیے نص ِقرآنی سے قطعی طورپر ثابت ہے ، لیکن نبیﷺ کے لیے اس کا ثبوت (قرآن کی بجائے) معراج کی حدیث میں ہے۔
بعض لوگوں نے ایک آٹھویں شکل کا بھی اضافہ کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ رُو در رُو بغیر حجاب کے گفتگو کرے، لیکن یہ ایسی صورت ہے جس کے بارے میں سلف سے لے کر خلف تک اختلاف چلا آیا ہے۔ 1
****​
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زاد المعاد ۱/۱۸ پہلی اور آٹھویں صورت کے بیان میں اصل عبارت کے اندر تھوڑی تلخیص کر دی گئی ہے۔
پہلا مرحلہ:
دعوت الی اللہ

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: