Ar-Raheeq Al-Makhtum by Safiur Rahman Mubarakpuri – Episode 4

0
الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری – قسط نمبر 4

–**–**–

خفیہ دعوت کے تین سال:
سورۂ مدثر کی گزشتہ آیات نازل ہونے کے بعد رسول اللہﷺ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف دعوت دینے کے لیے اٹھ گئے۔ چونکہ آپ کی قوم جفاکار تھی۔ بت پرستی اور درگاہ پرستی اس کا دین تھا۔ باپ دادا کی روش اس کی دلیل تھی۔ غرور وتکبر اور حمیت وانکار اس کا اخلاق تھا اور تلوار ان کے مسائل کا ذریعہ تھی۔ اس کے علاوہ وہ جزیرۃ العرب میں دینی پیشوائی کے صدر نشین تھے۔ اس کے اصل مرکز پر قابض اور اس کے وجود کے نگہبان تھے۔ اس لیے اس کیفیت کے پیش نظر حکمت کا تقاضا تھاکہ پہلے پہل دعوت وتبلیغ کا کام پس پردہ انجام دیا جائے، تاکہ اہل مکہ کے سامنے اچانک ایک ہیجان خیزصورت حال نہ آجائے۔
اوّلین رَاہروَان اسلام:
یہ بالکل فطری بات تھی کہ رسول اللہﷺ سب سے پہلے ان لوگوں پر اسلام پیش کرتے جن سے آپ کا سب سے گہرا ربط و تعلق تھا، یعنی اپنے گھر کے لوگوں اور دوستوں پر۔ چنانچہ آپ نے سب سے پہلے انہیں دعوت دی۔ اس طرح آپ نے ابتدا میں اپنی جان پہچان کے ان لوگوں کو حق کی طرف بلایا جن کے چہروں پر آپ بھلائی کے آثار دیکھ چکے تھے اور یہ جان چکے تھے کہ وہ حق اور خیر کو پسند کرتے ہیں ، آپ کے صدق وصلاح سے واقف ہیں۔ پھر آپ نے جنہیں اسلام کی دعوت دی ان میں سے ایک ایسی جماعت نے جسے کبھی بھی رسول اللہﷺ کی عظمت ، جلالتِ نفس اور سچائی پر شبہ نہ گزرا تھا، آپ کی دعوت قبول کر لی۔ یہ اسلامی تاریخ میں سابقین اولین کے وصف سے مشہور ہیں۔ ان میں سر فہرست آپ کی بیوی اُم المومنین حضرت خدیجہ ؓ بنت خویلد ، آپ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ بن شراحیل کلبی 1، آپ کے چچیرے بھائی حضرت علی بن ابی طالب، جو ابھی آپ کے زیر کفالت بچے تھے اور آپ کے یار غار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ سب کے سب پہلے ہی دن مسلمان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 جنگ میں قید ہوکر غلام بنالیے گئے تھے۔ بعد میں حضرت خدیجہ ؓ ان کی مالک ہوئیں اور انہیں رسول اللہﷺ کو ہبہ کردیا۔ اس کے بعد ان کے والداور چچا انہیں گھر لے جانے کے لیے آئے لیکن انہوں نے باپ اور چچا کو چھوڑ کر رسول اللہﷺ کے ساتھ رہنا پسند کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے دستور کے مطابق انہیں اپنا متَبنی (لے پالک ) بنالیا اور انہیں زید بن محمد کہاجانے لگا۔ یہاں تک کہ اسلام نے اس رسم کا خاتمہ کردیا۔ یہ جنگ موتہ جمادی الاولیٰ ۸ ھ میں سپہ سالار لشکر کی حیثیت سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔
ہوگئے تھے۔ اس کے بعد ابو بکرؓ اسلام کی تبلیغ میں سرگرم ہوگئے۔ وہ بڑے ہر دلعزیزنرم خُو، پسندیدہ خصال کے حامل بااخلاق اور دریادل تھے ، ان کے پاس ان کی مروت ،دور اندیشی ، تجارت اور حسن صحبت کی وجہ سے لوگوں کی آمد ورفت لگی رہتی تھی۔ چنانچہ انہوں نے اپنے پاس آنے والوں اور اٹھنے بیٹھنے والوں میں سے جس کو قابلِ اعتماد پایا اسے اب اسلام کی دعوت دینی شروع کردی۔ ان کی کوشش سے حضرت عثمان ؓ، حضرت زبیر ؓ، حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ ، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ مسلمان ہوئے۔ یہ بزرگ اسلام کا ہر اوَل دستہ تھے۔
ان کے بعد امینِ امت 1حضرت ابوعبیدہ ؓ عامر بن جراح ؓ ، ابوسلمہ بن عبد الاسد مخزومی ، ان کی بیوی ام سلمہ، ارقم بن ابی الارقم مخزومی ، عثمان بن مظعون اور ان کے دونوں بھائی قدامہ اور عبداللہ ، اور عبیدہ بن حارث بن مطلب بن عبدمناف ، سعید بن زید عدوی ، اور ان کی بیوی، یعنی حضرت عمر ؓ کی بہن فاطمہ بنت خطاب عدویہ ، اور خباب بن اَرت تمیمی ، جعفر بن ابی طالب اور ان کی بیوی اسماء بنت عمیس ، خالد بن سعید بن عاص اموی ، ان کی بیوی امینہ بنت خلف، اور ان کے بھائی عمرو بن سعید بن عاص ، حاطب بن حارث جحمی ، ان کی بیوی فاطمہ بنت مجلل ، اور ان کے بھائی حطاب بن حارث ، اور ان کی بیوی فکیہہ بنت یسار ، اور ان کے ایک اور بھائی معمر بن حارث ، مطلب بن ازہر زہری اور ان کی بیوی رملہ بنت ابی عوف ، اور نعیم بن عبد اللہ بن نحام عدوی مسلمان ہوئے۔ یہ سب قبیلہ قریش کے مختلف خاندانوں اور شاخوں سے تعلق رکھتے تھے۔
قریش کے باہر سے جولوگ پہلے پہل اسلام لائے ان میں سر فہرست یہ ہیں : عبد اللہ بن مسعود ہذلی ، مسعود بن ربیعہ قاری ، عبد اللہ بن جحش اسدی ، ان کے بھائی احمد بن جحش ، بلال بن رباح حبشی ،صہیب بن سنان رومی ، عمار بن یاسر عنسی ، ان کے والد یاسر اور والدہ سمیہ ، اور عامر بن فہیرہ۔
عورتوں میں مذکورہ عورتوں کے علاوہ جو پہلے پہل اسلام لے آئیں ان کے نام یہ ہیں: أم ایمن برکۃ حبشیہ، حضرت عباس بن عبد المطلب کی بیوی أم الفضل لبابہ الکبریٰ بنت حارث ہلالیہ ، اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صاحبزادی حضرت اسماء۔ 2
یہ سب سابقین اولین کے لقب سے معروف ہیں۔ تلاش وجستجو سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ اسلام کی طرف سبقت کرنے کے وصف سے موصوف کیے گئے ہیں ان کی تعداد مردوں اور عورتوں کو ملا کر ایک سو تیس تک پہنچ جاتی ہے، لیکن یہ بات پورے تیقن کے ساتھ نہیں معلوم ہوسکی کہ یہ سب کھلی دعوت وتبلیغ سے پہلے اسلام لائے یا بعض لوگ اس سے متاخر بھی ہوئے تھے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 اس لقب سے ملقب کیے جانے کی وجہ کے لیے ملاحظہ ہو : صحیح بخاری۔ منا قب ابی عبیدہ بن جراح ۱/۵۳۰
2 تفصیل کے لیے دیکھئے : سیرت ابن ہشام ۱/۲۴۵-۲۶۲، ابن ہشام کے بعض ذکر کردہ نام محل نظر ہیں۔ میں نے ایسے ناموں کو ترک کردیا ہے۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کے بعد مردوں اور عورتیں اسلام میں جماعت درجماعت داخل ہوئیں، یہاں تک کہ مکہ میں اسلام کا ذکر پھیل گیا اور لوگوں میں اس کا چرچا ہوگیا۔ 1
یہ لوگ چھپ چھپا کر مسلمان ہوئے تھے اور رسول اللہﷺ بھی چھپ چھپا کر ہی ان کی رہنمائی اور دینی تعلیم کے لیے ان کے ساتھ جمع ہوتے تھے۔ کیونکہ تبلیغ کا کام ابھی تک انفرادی طور پر پسِ پردہ چل رہا تھا۔ ادھر سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات کے بعد وحی کی آمد پورے تسلسل اور گرم رفتاری کے ساتھ جاری تھی۔ اس دور میں چھوٹی چھوٹی آیتیں نازل ہورہی تھیں۔ ان آیتوں کا خاتمہ یکساں قسم کے بڑے پرُ کشش الفاظ پر ہوتا تھا اور ان میں بڑی سکون بخش اور جاذب قلب نغمگی ہوتی تھی۔ جو اس پر سکون اور رِقت آمیز فضا کے عین مطابق ہوتی تھی پھر ان آیتوں میں تزکیہ نفس کی خوبیاں اور آلائش دنیا میں لت پت ہونے کی برائیاں بیان کی جاتی تھیں اور جنت وجہنم کا نقشہ اس طرح کھینچا جاتا تھا کہ گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہیں۔ یہ آیتیں اہل ایمان کو اس وقت کے انسانی معاشرے سے بالکل الگ ایک دوسری ہی فضا کی سیر کراتی تھیں۔
نماز:
ابتدائً جو کچھ نازل ہوا اسی میں نماز کا حکم بھی تھا۔ علامہ ابن حجرؒ کہتے ہیں کہ نبیﷺ اور اسی طرح آپ کے صحابہ کرامؓ واقعۂ معراج سے پہلے قطعی طور پر نماز پڑھتے تھے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ نماز پنجگانہ سے پہلے کوئی نماز فرض تھی یا نہیں؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے ایک ایک نماز فرض تھی۔
حارث بن اسامہ نے ابن لَہِیْعَہ کے طریق سے موصولاً حضرت زید بن حارثہؓ سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ پر ابتدائً جب وحی آئی تو آپ کے پاس حضرت جبریل تشریف لا ئے اور آپ کو وضو کا طریقہ سکھایا۔ جب وضو سے فارغ ہوئے تو ایک چُلّو پانی لے کر شرمگاہ پر چھینٹا مارا۔ ابن ماجہ نے بھی اس مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ براء بن عازبؓ اور ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ ابن عباس ؓ کی حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ یہ (نماز) اولین فرائض میں سے تھی۔ 2
ابن ہشام کا بیان ہے کہ نبیﷺ اور صحابہ کرامؓ نماز کے وقت گھاٹیوں میں چلے جاتے تھے اور اپنی قوم سے چھپ کر نماز پڑھتے تھے۔ ایک بار ابو طالب نے نبیﷺ اور حضرت علیؓ کو نماز پڑھتے دیکھ لیا۔ پوچھا اور حقیقت معلوم ہوئی تو کہا کہ اس پر برقرار رہیں۔ 3
یہ عبادت تھی جس کا اہل ایمان کو حکم دیا گیا تھا۔ اس وقت نماز کے علاوہ اور کسی بات کے حکم کا پتہ نہیں چلتا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 سیرت ابن ہشام ۱/۲۶۲
2 مختصر السیرۃ از شیخ عبد اللہ ص ۸۸
3 ابن ہشام ۱/۲۴۷
البتہ وحی کے ذریعے توحید کے مختلف گوشے بیان کیے جاتے تھے ، تزکیۂ نفس کی رغبت دلائی جاتی تھی۔ مکارم اخلاق پر ابھارا جاتا تھا۔ جنت اور جہنم کا نقشہ اس طرح کھینچا جاتا تھا گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہیں۔ ایسے بلیغ وعظ ہوتے تھے جن سے سینے کھل جاتے تھے۔ روحیں آسودہ ہوجاتیں اور اہل ایمان اس وقت کے انسانی معاشرے سے الگ ایک دوسری ہی فضا کی سیر کرنے لگتے۔
یوں تین برس گزر گئے اور دعوت وتبلیغ کا کام صرف افراد تک محدود رہا۔ مجمعوں اور مجلسوں میں اس کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن اس دوران وہ قریش کے اندر خاصی معروف ہوگئی ، مکہ میں اسلام کا ذکر پھیل گیا اور لوگوں میں اس کا چرچا ہوگیا۔ بعض نے کسی کسی وقت نکیر بھی کی اور بعض اہل ایمان پر سختی بھی ہوئی لیکن مجموعی طور پر اس دعوت کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی۔ کیونکہ رسول اللہﷺ نے بھی ان کے دین سے کوئی تعرض نہیں کیا تھا۔ نہ ان کے معبودوں کے بارے میں زبان کھولی تھی۔
دوسرا مرحلہ :
کھلی تبلیغ

اظہارِ دعوت کا پہلا حکم:
جب مومنین کی ایک جماعت اخوت وتعاون کی بنیاد پر قائم ہوگئی۔ جو اللہ کا پیغام پہنچانے اور اس کو اس کا مقام دلانے کا بوجھ اٹھاسکتی تھی تو وحی نازل ہوئی اور رسول اللہﷺ کو مکلف کیا گیا کہ اپنی قوم کو کھلم کھلا دعوت دیں اور ان کے باطل کا خوبصورتی کے ساتھ رخ کریں۔
اس بارے میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نازل ہوا ، وَأَنذِرْ‌ عَشِيرَ‌تَكَ الْأَقْرَ‌بِينَ (۲۶:۲۱۴) ”آپ اپنے نزدیک ترین قرابتداروں کو (عذاب الٰہی سے) ڈرایئے ” یہ سورئہ شعراء کی آیت ہے اور اس سورت میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے یعنی یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کاآغاز ہوا۔ پھر آخر میں انہوں نے بنی اسرائیل سمیت ہجرت کر کے فرعون اور قومِ فرعون سے نجات پائی اور فرعون وآل فرعون کو غرق کیا گیا۔ بلفظ دیگر یہ تذکرہ ان تمام مراحل پر مشتمل ہے جن سے حضرت موسیٰ علیہ السلام ، فرعون اور قومِ فرعون کو اللہ کے دین کی دعوت دیتے ہوئے گزرے تھے۔
میرا خیال ہے کہ جب رسول اللہﷺ کو اپنی قوم کے اندر کھل کر تبلیغ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس موقعے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کی یہ تفصیل اس لیے بیا ن کر دی گئی تاکہ کھلم کھلا دعوت دینے کے بعد جس طرح کی تکذیب اور ظلم وزیادتی سے سابقہ آنے والا تھا اس کا ایک نمونہ آپ اور صحابہ کرامؓ کے سامنے موجودر ہے۔
دوسری طرف اس سورت میں پیغمبروں کو جھٹلانے والی اقوام مثلاً: فرعون اور قومِ فرعون کے علاوہ قومِ نوح ،عاد، ثمود قومِ ابراہیم ، قومِ لوط اور اصحاب الأیکہ کے انجام کا بھی ذکر ہے۔ اس کا مقصد غالباً یہ ہے کہ جو لوگ آپ کو جھٹلائیں انہیں معلوم ہوجائے کہ تکذیب پر اصرار کی صورت میں ان کا انجام کیا ہونے والا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کس قسم کے مؤاخذے سے دوچار ہوں گے، نیز اہل ایمان کو معلوم ہوجائے کہ اچھا انجام انھیں کا ہوگا، جھٹلانے والوں کا نہیں۔
قرابت داروں میں تبلیغ:
بہرحال اس آیت کے نزول کے بعد نبیﷺ نے پہلا کام یہ کیا کہ بنی ہاشم کو جمع کیا ان کے ساتھ بنی مطلب بن عبد مناف کی بھی ایک جماعت تھی۔ کل پینتالیس آدمی تھے لیکن ابولہب نے بات لپک لی اور بولا: دیکھو یہ تمہارے چچا اور چچیرے بھائی ہیں، بات کرو لیکن نادانی چھوڑدو اور یہ سمجھ لو کہ تمہارا خاندان سارے عرب سے مقابلے کی تاب نہیں رکھتا اور میں سب سے زیادہ حق دار ہوں کہ تمہیں پکڑلوں۔ پس تمہارے لیے تمہارے باپ کا خانوادہ ہی کافی ہے اور اگر تم اپنی بات پر قائم رہے تو یہ بہت آسان ہوگا کہ قریش کے سارے قبائل تم پر ٹوٹ پڑیں اور بقیہ عرب بھی ان کی مدد کریں۔ پھر میں نہیں جانتا کہ کوئی شخص اپنے باپ کے خانوادے کے لیے تم سے بڑھ کر شر (اور تباہی ) کا باعث ہوگا۔ اس پر نبیﷺ نے خاموشی اختیار کرلی۔ اوراس مجلس میں کوئی گفتگو نہ کی۔
اس کے بعد آپ نے انہیں دوبارہ جمع کیا اور ارشاد فرمایا: ساری حمد اللہ کے لیے ہے، میں اس کی حمد کرتا ہوں اور اس سے مدد چاہتا ہوں۔ اس پر ایمان رکھتا ہوں، اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور یہ گوہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، پھر آپ نے فرمایا: رہنما اپنے گھر کے لوگوں سے جھوٹ نہیں بول سکتا۔ اس اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں تمہاری طرف خصوصاً اور لوگوں کی طرف عموماً اللہ کا رسول (فرستادہ) ہوں۔ واللہ ! تم لوگ اسی طرح موت سے دوچار ہوگے جیسے سوجاتے ہو اور اسی طرح اٹھا ئے جاؤ گے جیسے سو کر جاگتے ہو۔ پھر جو کچھ تم کرتے ہو اس کا تم سے حساب لیا جائے گا۔ اس کے بعد یا تو ہمیشہ کے لیے جنت ہے یا ہمیشہ کے لیے جہنم۔
اس پر ابو طالب نے کہا (نہ پوچھو ) ہمیں تمہاری معاونت کس قدر پسند ہے۔ تمہاری نصیحت کس قدر قابلِ قبول ہے اور ہم تمہاری بات کس قدر سچی جانتے اور مانتے ہیں اور یہ تمہارے والد کا خانوادہ جمع ہے اور میں بھی ان کا ایک فرد ہوں ، فرق اتنا ہے کہ میں تمہاری پسند کی تکمیل کے لیے ان سب سے پیش پیش ہوں۔ لہٰذا تمہیں جس بات کا حکم ہوا ہے اسے انجام دو۔واللہ! میں تمہاری مسلسل حفاظت واعانت کرتا رہوں گا۔ البتہ میری طبیعت عبد المطلب کا دین چھوڑنے پر راضی نہیں۔
ابو لہب نے کہا: یہ اللہ کی قسم! برائی ہے۔ اس کے ہاتھ دوسروں سے پہلے تم لوگ خود ہی پکڑ لو۔ اس پر ابوطالب نے کہا : اللہ کی قسم! جب تک جان میں جان ہے، ہم ان کی حفاظت کرتے رہیں گے۔
کوہ ِ صفا پر:
جب نبیﷺ نے اچھی طرح اطمینان کر لیا کہ اللہ کے دین کی تبلیغ کے دوران ابو طالب ان کی حمایت کریں گے۔ تو ایک روز آپ کوہِ صفا پر تشریف لے گئے اور سب سب سے اونچے پتھر پر چڑھ کر یہ آواز لگائی: یاصَبَاحَاہ۔ ہائے صبح! (اہل عرب کا دستور تھا کہ دشمن کے حملے یا کسی سنگین خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے کسی بلند مقام پر چڑھ کر انہی الفاظ سے پکارتے تھے )
اس کے بعد آپ نے قریش کی ایک ایک شاخ اور ایک ایک خاندان کو آواز لگائی۔ اے بنی فہر ! اے بنی عدی ! اے بنی فلاں اوراے بنی فلاں ! اے بنی عبد مناف ! اے بنی عبد المطلب !
جب لوگوں نے یہ آواز سنی تو کہا: کون پکار رہا ہے ؟ جواب ملا :محمد ہیں ،اس پر لوگ تیزی سے آئے۔ اگر کوئی خود نہ آسکا تو اپنا آدمی بھیج دیا کہ دیکھے کیا بات ہے۔ یوں قریش کے لوگ آگئے اور ان میں ابو لہب بھی تھا۔
جب سب جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا : یہ بتاؤ اگر میں خبر دوں کہ ادھر اس پہاڑ کے دامن میں وادی کے اندر شہسواروں کی ایک جماعت ہے جو تم پر چھاپہ مارنا چاہتی ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا مانو گے ؟
لوگوں نے کہا : ہاں ! ہاں! ہم نے آپ پر کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا ، ہم نے آپ پر سچ ہی کا تجربہ کیا ہے۔
آپ نے فرمایا : اچھا تو میں ایک سخت عذاب سے پہلے تمہیں خبردار کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ میری اور تمہاری مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی آدمی نے دشمن کو دیکھا پھر اس نے کسی اونچی جگہ چڑھ کر اپنے خاندان والوں پر نظر ڈالی تو اسے اندیشہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے پہنچ جائے گا، لہٰذا اس نے وہیں سے پکار لگانی شروع کردی یا صباحاہ ! ہائے صبح !
اس کے بعد آپ نے لوگوں کو حق کی دعوت دی اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور خاص کو بھی خطاب کیا اور عام کو بھی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
قریش کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو، جہنم سے بچالو۔ میں تمہارے نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ نہ تمہیں اللہ سے بچانے کے لیے کچھ کام آسکتا ہوں۔
بنو کعب بن لؤی ! اپنے آپ کو جہنم سے بچالو ، کیونکہ مجھے تمہارے نفع ونقصان کا اختیارنہیں۔
بنو مرہ بن کعب ! اپنے آپ کو جہنم سے بچالو۔
بنو قصی ! اپنے آپ کو جہنم سے بچالو کیونکہ مجھے تمہارے نفع ونقصان کا اختیار نہیں۔
بنو عبد مناف ! اپنے آپ کو جہنم سے بچالو ! کیونکہ مجھے تمہارے نفع ونقصان کا اختیار نہیں۔ نہ میں تمہیں اللہ سے بچانے کے لیے کچھ کام آسکتا ہوں۔
بنو عبد شمس ! اپنے آپ کو جہنم سے بچالو۔
بنو ہاشم ! اپنے آپ کو جہنم سے بچالو۔
بنو عبد المطلب ! اپنے آپ کو جہنم سے بچالو کیونکہ میں تمہارے نفع ونقصان مالک نہیں۔ اورنہ تمہیں ! اللہ سے بچانے کے لیے کچھ کام آسکتا ہوں، میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو۔ مگر میں تمہیں اللہ سے بچانے کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔
عباس بن مطلب ! میں تمہیں بھی اللہ سے بچانے کے لیے کچھ کام نہیں آسکتا۔
رسول اللہ کی پھوپھی ، صفیہ بنت عبد المطلب ! میں تمہیں بھی اللہ سے بچانے کے لیے کچھ کام نہیں آسکتا۔
فاطمہ بنت محمد رسول اللہ ! میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو مگر اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ ، کیونکہ میں تمہارے بھی نفع ونقصان کا مالک نہیں ، اور نہ تمہیں اللہ سے بچانے کے لیے کچھ کام آسکتا ہوں۔
جب تم لوگوں سے پوچھا جائے تو یہ کنایات ہیں۔ جسے میں اس کی تری کے مطابق تر کروں گا۔
جب یہ انذار ختم ہوا تو لوگ بکھر گئے۔ ان کے کسی قوی رد عمل کا کوئی ذکر نہیں ملتا ، البتہ ابولہب نے بدتمیزی کی ، کہنے لگا : تو سارے دن غارت ہو۔ تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا۔ اس پر سورۂ تبت یداأبی لہب نازل ہوئی کہ ابو لہب کے دونوں ہاتھ غارت ہوں اور وہ خود غارت ہو۔ 1
یہ بانگ درا غایت تبلیغ تھی۔ رسول اللہﷺ نے اپنے قریب ترین لوگوں پر واضح کر دیا تھا کہ اب اس رسالت کی تصدیق ہی پر تعلقات موقوف ہیں اور جس نسلی اور قبائلی عصبیت پر عرب قائم ہیں وہ اس الٰہی انذار کی حرارت میں پگھل کر ختم ہو چکی ہے۔
اس آواز کی گونج ابھی مکے کے اطراف میں سنائی ہی دے رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا ایک اور حکم نازل ہوا :
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ‌ وَأَعْرِ‌ضْ عَنِ الْمُشْرِ‌كِينَ (۱۵: ۹۴ )
”آپ کو جو حکم دیا جارہا ہے اس کھول کر بیان کر دیجیے اور مشرکین سے رخ پھیر لیجئے۔”
چنانچہ اس کے بعد رسول اللہﷺ نے مشرکین کے مجمعوں اور ان کی محفلوں میں کھلے عام دعوت دینی شروع کر دی۔ آپ لوگوں پر اللہ کی کتاب تلاوت کرتے اور ان سے وہی فرماتے جو پچھلے پیغمبروں نے اپنی قوموں سے فرمایا تھا کہ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّـهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُ‌هُ (۷: ۵۹) ”اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لیے اس کے سوا کوئی اور لائق عبادت نہیں۔” اس کے ساتھ آپ نے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ، دن دھاڑے مجمعِ عام کے روبرو اللہ کی عبادت بھی شروع کر دی۔
آپ کی دعوت کو مزید قبولیت حاصل ہوئی اور لوگ اللہ کے دین میں اکا دکا داخل ہوتے گئے۔ پھر جو اسلام لاتا اس میں اور اس کے گھر والوں میں بغض ، دوری اور اختلاف کھڑا ہوجاتا۔ قریش اس صورتِ حال سے تنگ ہو رہے تھے اور جو کچھ ان کی نگاہوں کے سامنے آرہا تھا انہیں ناگوار محسوس ہو رہا تھا۔
حجاج کو روکنے کے لیے مجلس شوریٰ:
ان ہی دنوں قریش کے سامنے ایک اور مشکل آن کھڑی ہوئی، یعنی ابھی کھُم کھلا تبلیغ پر چند ہی مہینے گزرے تھے کہ موسم حج قریب آگیا۔ قریش کو معلوم تھا کہ اب عرب کے وفود کی آمد شروع ہوگی۔ اس لیے وہ ضروری سمجھتے تھے کہ نبیﷺ کے متعلق کوئی ایسی بات کہیں کہ جس کی وجہ سے اہل عرب کے دلوں پر آپ کی تبلیغ کا اثر نہ ہو۔ چنانچہ وہ اس بات پر گفت وشنید کے لیے ولید بن مغیرہ کے پاس اکٹھے ہوئے۔ ولید نے کہا :اس بارے میں تم سب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری ۱/۲۷۵۳ ، ۳۵۲۵، ۳۵۲۶، ۳۵۲۷، ۴۷۷۱، صحیح مسلم ۱/۱۱۴ ،فتح الباری ۵/ ۴۴۹، ۶/۶۳۷ ، ۸/۳۶۰، جامع ترمذی تفسیر سور ۂ شعراء وغیرہ ، میں نے تمام روایات کے الفاظ کو مرتب کردیا ہے۔
لوگ ایک رائے اختیار کر لو تم میں باہم کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے کہ خود تمہارا ہی ایک آدمی دوسرے آدمی کی تکذیب کردے اور ایک کی بات دوسرے کی بات کاٹ دے۔ لوگوں نے کہا :آپ ہی کہئے۔ اس نے کہا : نہیں تم لوگ کہو، میں سنوں گا۔ اس پر چند لوگوں نے کہا: ہم کہیں گے وہ کاہن ہے۔ ولید نے کہا: نہیں واللہ! وہ کاہن نہیں ہے، ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ اس شخص کے اندر نہ کا ہنوں جیسی گنگنا ہٹ ہے۔نہ ان کے جیسی قافیہ گوئی اور تُک بند ی۔
اس پر لوگوں نے کہا : تب ہم کہیں گے کہ وہ پاگل ہے۔ ولید نے کہا : نہیں ، وہ پاگل بھی نہیں، ہم نے پاگل بھی دیکھا ہے اور اس کی کیفیت بھی۔ اس شخص کے اندر نہ پاگلوں جیسی دَم گھٹنے کی کیفیت اور الٹی سیدھی حرکتیں ہیں۔ اورنہ ان کے جیسی بہکی بہکی باتیں۔
لوگوں نے کہا : تب ہم کہیں گے کہ وہ شاعر ہے۔ ولید نے کہا: وہ شاعر بھی نہیں۔ ہمیں رَجَز، ہجز ، قریض ، مقبوض،مبسوط سارے ہی اصنافِ سخن معلوم ہیں۔ اس کی بات بہر حال شعر نہیں ہے۔
لوگوں نے کہا: تب ہم کہیں کہ وہ جادو گر ہے۔ ولید نے کہا یہ شخص جادو گر بھی نہیں۔ ہم نے جادوگر اور ان کا جادو بھی دیکھا ہے ، یہ شخص نہ تو ان کی طرح چھا ڑ پھونک کرتا ہے نہ گرہ لگا تا ہے۔
لوگوں نے کہا : تب ہم کیا کہیں گے ؟ ولید نے کہا : اللہ کی قسم! اس کی بات بڑی شیریں ہے۔ اس کی جڑ پائیدار ہے اور اس کی شاخ پھلدار۔ تم جوبات بھی کہو گے لوگ اسے باطل سمجھیں گے۔ البتہ اس کے بارے میں سب سے مناسب بات یہ کہہ سکتے ہو کہ وہ جادوگر ہے۔ اس نے ایسا کلام پیش کیا ہے جو جادو ہے۔ اس سے باپ بیٹے ، بھائی بھائی ، شوہر بیوی اور کنبے قبیلے میں پھوٹ پڑ جاتی ہے بالآخر لوگ اسی تجویز پر متفق ہو کر وہاں سے رخصت ہوئے۔ 1
بعض روایات میں یہ تفصیل بھی مذکور ہے کہ جب ولید نے لوگوں کی ساری تجویزیں رد کردیں تو لوگوں نے کہا کہ پھر آپ ہی اپنی بے دماغ رائے پیش کیجیے۔ اس پر ولید نے کہا : ذرا سوچ لینے دو۔ اس کے بعد وہ سوچتا رہا سوچتا رہا یہاں تک کہ اپنی مذکورہ بالا رائے ظاہر کی۔ 2
اسی معاملے میں ولید کے متعلق سورۂ مد ثر کی سولہ آیات ( ۱۱ تا ۲۶ ) نازل ہوئیں۔ جن میں سے چند آیات کے اندر اس کے سوچنے کی کیفیت کا نقشہ بھی کھینچا گیا۔ چنانچہ ارشاد ہوا :
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۲۷۱
2 یہ واقعہ حاکم نے مستدرک ۲/۳۶۱ میں ، ابن ابی شیبہ نے مصنف ۱۱/۴۹۸(حدیث نمبر ۱۱۸۱۷) میں ،ابویعلیٰ نے مسند ۴/۲۴۶ (حدیث نمبر ۲۳۵۸) میں ، اسماعیل اصبہانی نے دلائل النبوۃ ص ۷۱ (حدیث نمبر ۵۴) میں ، اور طبرانی اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ سیاق میں ہلکا سا اختلاف ہے۔
إِنَّهُ فَكَّرَ‌ وَقَدَّرَ‌ ﴿١٨﴾ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ‌ ﴿١٩﴾ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ‌ ﴿٢٠﴾ ثُمَّ نَظَرَ‌ ﴿٢١﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ‌ ﴿٢٢﴾ ثُمَّ أَدْبَرَ‌ وَاسْتَكْبَرَ‌ ﴿٢٣﴾ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ‌ يُؤْثَرُ‌ ﴿٢٤﴾ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ‌ ﴿٢٥﴾ (۷۴: ۱۸ تا ۲۵)
”اس نے سوچا اور اندازہ لگا یا۔ وہ غارت ہو۔ اس نے کیسا اندازہ لگا یا۔ پھر غارت ہوا س نے کیا اندازہ لگا یا پھر نظر دوڑائی ، پھرپیشانی سکیڑ ی اور منہ بسورا۔ پھر پلٹا اور تکبر کیا۔ آخرکار کہا کہ یہ نرالا جادو ہے جو پہلے سے نقل ہوتا آرہا ہے۔ یہ محض انسان کا کلام ہے۔”
بہر حال یہ قرار داد طے پاچکی تو اسے جامۂ عمل پہنانے کی کارروائی شروع ہوئی کچھ کفارِ مکہ عازمین حج کے مختلف راستوں پر بیٹھ گئے اور وہاں سے ہر گزرنے والے کو آپ کے ”خطرے” سے آگاہ کرتے ہوئے آپ کے متعلق تفصیلات بتانے لگے۔ 1
جہاں تک رسول اللہﷺ کا تعلق ہے تو آپ حج کے ایام میں لوگوں کے ڈیروں اور عُکاظ، مجنہ اور ذو المجازکے بازاروں میں تشریف لے جاتے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے۔ ادھر ابولہب آپ کے پیچھے پیچھے لگا رہتا اور کہتا کہ اس کی بات نہ ماننا یہ جھوٹا بددین ہے۔ 2
اس دوڑ دھوپ کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اس حج سے اپنے گھروں کو واپس ہوئے تو ان کے علم میں یہ بات آچکی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی ٔنبوت کیا ہے اور یوں ان کے ذریعے پورے دیارِ عرب میں آپ کا چرچا پھیل گیا۔
محاذ آرائی کے مختلف انداز:
جب قریش نے دیکھا کہ محمدﷺ کو تبلیغ دین سے روکنے کی حکمت کار گر نہیں ہورہی ہے تو ایک بار پھر انہوں نے غور وخوض کیا اور آپ کی دعوت کا قلع قمع کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جن کا خلاصہ یہ ہے۔
ہنسی ، ٹھٹھا ، تحقیر ، استہزا ، اور تکذیب:… اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو بددل کر کے ان کے حوصلے توڑ دیئے جائیں۔ اس کے لیے مشرکین نے نبیﷺ کو نارواتہمتوں اور بیہودہ گالیوں کا نشانہ بنا یا۔
چنانچہ وہ کبھی آپ کو پاگل کہتے، جیسا کہ ارشاد ہے :
وَقَالُوا يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ‌ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ (۱۵: ۶)
”ان کفار نے کہا کہ اے وہ شخص جس پر قرآن نازل ہوا تو یقینا پاگل ہے۔”
اور کبھی آپ پر جادو گر اور جھُوٹے ہونے کا الزام لگاتے۔چنانچہ ارشاد ہے :
وَعَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ‌ مِّنْهُمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُ‌ونَ هَـٰذَا سَاحِرٌ‌ كَذَّابٌ (۳۸: ۴)
”انہیں حیرت ہے کہ خود انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافرین کہتے ہیں کہ یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے۔”
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۲۷۱
2 مسند احمد ۳/۴۹۲، ۴/۳۴۱ میں اس کی یہ حرکت مروی ہے۔ نیز دیکھئے: البدایۃ والنہایۃ ۵/۷۵ ، کنزل العمال ۱۲/۴۴۹، ۴۵۰
یہ کفار آپ کے آگے پیچھے پُر غضب ،منتقمانہ نگاہوں اور بھڑکتے ہوئے جذبات کے ساتھ چلتے تھے ارشاد ہے :
وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِ‌هِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ‌ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ (۶۸: ۵۱)
”اور جب کفار اس قرآن کو سنتے ہیں تو آپ کو ایسی نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ گویا آپ کے قدم اکھاڑدیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ یقینا ً پاگل ہے۔”
اور جب آپ کسی جگہ تشریف فرما ہوتے اور آپ کے ارد گرد کمزور اور مظلوم صحابہ کرام ؓ موجود ہوتے تو انہیں دیکھ کر مشرکین استہزاء کرتے ہو ئے کہتے :
أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا (۶: ۵۳)
”اچھا ! یہی حضرات ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان سے احسان فرمایا ہے ؟”
جواباً اللہ کا ارشاد ہے :
أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِ‌ينَ (۶: ۵۳)
”کیا اللہ شکر گزاروں کو سب سے زیادہ نہیں جانتا۔”
عام طور پر مشرکین کی کیفیت وہی تھی جس کا نقشہ ذیل کی آیات میں کھینچا گیا ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَ‌مُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ ﴿٢٩﴾ وَإِذَا مَرُّ‌وا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ ﴿٣٠﴾ وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ ﴿٣١﴾ وَإِذَا رَ‌أَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ لَضَالُّونَ ﴿٣٢﴾ وَمَا أُرْ‌سِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ ﴿٣٣﴾ (۸۳: ۲۹تا۳۳)
”جو مجرم تھے وہ ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اورجب ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مارتے تھے اور جب اپنے گھروں کو پلٹتے تو لُطف اندوز ہوتے ہوئے پلٹتے تھے اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے کہ یہی گمراہ ہیں۔ حالانکہ وہ ان پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔”
انہوں نے سخریہ اور استہزاء کی بڑی کثرت کی اور طعن وتضحیک میں رفتہ رفتہ آگے بڑھتے گئے۔ یہاں تک کہ رسول اللہﷺ کی طبیعت پر اس کا اثر پڑا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُ‌كَ بِمَا يَقُولُونَ (۱۵: ۹۷)
”ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں اس سے آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے۔”
لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات قدمی عطا فرمائی اور بتلایا کہ سینے کی یہ تنگی کس طرح جاسکتی ہے چنانچہ فرمایا:
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَ‌بِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ ﴿٩٨﴾ وَاعْبُدْ رَ‌بَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ ﴿٩٩﴾ (۱۵:۹۸،۹۹)
یعنی”اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور سجدہ گزاروں میں سے ہو جاؤ اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے جاؤ یہاں تک کہ موت آجائے۔”
اور اس سے پہلے یہ بھی بتلادیا کہ ان استہزاء کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ چنانچہ فرمایا :
إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ﴿٩٥﴾ الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ‌ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ (الحجر: ۹۵، ۹۶)
”ہم آپ کے لیے استہزاء کرنے والوں سے (نمٹنے کو) کافی ہیں جوا للہ کے ساتھ دوسرے کو معبود ٹھہراتے ہیں ، انہیں جلد ہی معلوم ہوجائے گا۔”
اللہ نے یہ بھی بتلایا کہ ان کا یہ فعل جلد ہی وبال بن کر ان پر پلٹے گا۔ چنانچہ ارشاد ہوا:
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُ‌سُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُ‌وا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ (الانعام :۱۰ ۔ الانبیاء :۴۱ )
”آپ سے پہلے پیغمبروں سے بھی استہزاء کیا گیا۔ توا ن کی ہنسی اڑانے والے جو استہزاء کر رہے تھے اس نے انہیں کو گھیر لیا۔”
محاذ آرائی کی دوسری صورت شکوک وشبہات پیدا کرنا ، اور سخت جھوٹا پروپیگنڈا کرنا: … یہ کام انہوں نے اس کثرت سے کیا اور ایسے ایسے انداز سے کیا کہ عوام کو آپ کی دعوت وتبلیغ پر غور وفکر کا موقع ہی نہ مل سکا، چنانچہ وہ قرآن کے بارے میں کہتے کہ:
یہ پریشان خواب ہیں جنہیں محمد رات میں دیکھتے اور دن میں تلاوت کردیتے ہیں۔ کبھی کہتے بلکہ اسے انہوں نے خود ہی گھڑ لیا ہے۔ کبھی کہتے انہیں کوئی انسان سکھاتا ہے۔ کبھی کہتےیہ قرآن تو محض جھوٹ ہے۔ اسے محمد نے گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر ان کی مدد کی ہے۔ یعنی آپ اور آپ کے ساتھیوں نے مل کر اسے گھڑ لیا ہے۔ اور یہ بھی کہا کہ یہ پہلوں کے افسانے ہیں جنہیں اس نے لکھوا لیا ہے۔ اور اب یہ اس پر صبح وشام پڑھے جاتے ہیں۔کبھی یہ کہتے کہ کاہنوں کی طرح آپ پر بھی کوئی جن یا شیطان اترتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا: هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ ﴿٢٢١﴾ تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٢٢٢﴾ (۲۶:۲۲۱، ۲۲۲) آپ کہہ دیں میں بتلاؤں کس پر شیطان اترتے ہیں ؟ ہر جھوٹ گھڑنے والے گنہگار پر اترتے ہیں۔ یعنی شیطان کا نزول جھوٹے اور گناہوں میں لت پت لوگوں پر ہوتا ہے اور تم لوگوں نے مجھ سے نہ کبھی کوئی جھوٹ سنا ، اور نہ مجھ میں کبھی کوئی فسق پایا؟ پھر قرآن کو شیطان کا نازل کیا ہوا کیسے قرار دے سکتے ہو ؟
کبھی انہوں نے نبیﷺ کے بارے میں یہ کہا کہ آپ ایک قسم کے جنون میں مبتلا ہیں۔ جس کی وجہ سے آپ معانی کا تخیل کرتے ہیں، اور انہیں عمدہ اورنادر قسم کے کلمات میں ڈھال لیتے ہیں۔ جس طرح شعراء اپنے خیالات کو حسین الفاظ کا جامہ پہنایا کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ بھی شاعر ہیں ، اور ان کا کلام شعر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا : وَالشُّعَرَ‌اءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ﴿٢٢٤﴾ أَلَمْ تَرَ‌ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ ﴿٢٢٥﴾ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ﴿٢٢٦﴾ (۲۶: ۲۲۴ تا ۲۲۶) یعنی شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ چلتے ہیں تم دیکھتے نہیں کہ وہ ہر وادی کا چکر کاٹتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جنہیں کرتے نہیں، یعنی یہ شعراء کی تین خصوصیات ہیں اور ان میں سے کوئی بھی خصوصیت نبیﷺ میں موجود نہیں۔ چنانچہ جو لوگ آپ کے پیروکار ہیں وہ ہدایت یاب وہدایت کار ہیں۔ اپنے دین ، اخلاق ، اعمال اور تصرفات ہر چیز میں صالح اور پرہیز گار ہیں۔ ان پر ان کی زندگی کے کسی بھی معاملے میں گمراہی کا نام ونشان نہیں۔ پھر نبیﷺ شعراء کی طرح ہر وادی کا چکر نہیں کاٹتے، بلکہ ایک رب، ایک دین ، اور ایک راستے کی دعوت دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ وہی کہتے ہیں جو کرتے ہیں ، اور وہی کرتے ہیں جو کہتے ہیں۔ لہٰذا آپ کو شعراء اور ان کی شاعری سے کیا واسطہ ؟ اور شعراء اور ان کی شاعری کو آپ سے کیا واسطہ ؟
یوں وہ لوگ نبیﷺ کے خلاف اور قرآن واسلام کے خلاف جو شبہ بھی اٹھاتے تھے ، اللہ تعالیٰ اس کا کافی وشافی جواب دیتا تھا۔
ان کے زیادہ تر شبہات توحید ، محمدﷺ کی رسالت اور مرنے کے بعد قیامت کے روز دوبارہ اٹھائے جانے سے متعلق ہوا کرتے تھے۔ قرآن نے توحید کے متعلق ان کے ہر شبہے کا ردّ کیا ہے۔ بلکہ مزید اتنی باتیں بیان کی ہیں جن سے اس قضیے کا ہر پہلو واضح ہوگیا ہے اور اس کا کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوٹا ہے۔ اس ضمن میں ان کے معبودوں کی عاجزی ومجبوری اس طرح کھول کر بیان کی ہے کہ اس پر اضافے کی گنجائش نہیں اور شاید اسی بات پر ان کا غصہ بھڑک اٹھا اور پھر جو کچھ پیش آیا وہ معلوم ہے۔
جہاں تک نبیﷺ کی پیغمبری کے بارے میں ان کی شبہات کا تعلق ہے تو وہ تو یہ تسلیم کرتے تھے کہ آپﷺ سچے، امانتدار اور انتہائی صلاح وتقویٰ پر قائم ہیں ، لیکن وہ سمجھتے تھے کہ منصب نبوت ورسالت اس سے کہیں زیادہ عظیم وجلیل ہے کہ وہ کسی انسان کو دیا جائے۔ یعنی ان کا عقیدہ تھا کہ جو بشر ہے وہ رسول نہیں ہوسکتا اور جو رسول ہو وہ بشر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جب رسول اللہﷺ نے اپنی نبوت کاا علان کیا اور اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دی تو انہیں حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا: وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّ‌سُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرً‌ا ﴿٧﴾ (۲۵:۷) یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا : قَالُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ عَلَىٰ بَشَرٍ‌ مِّن شَيْءٍ (۶: 91) اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں اتاری ہے۔ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا: قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَىٰ نُورً‌ا وَهُدًى لِّلنَّاسِ (۶: ۹۱) آپ کہہ دیں وہ کتاب کس نے اتاری ہے جسے موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے اور جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت ہے۔ وہ چونکہ جانتے تھے اور مانتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام بشر ہیں۔ اس لیے جواب نہ دے سکے۔ اللہ نے ان کے رد میں یہ بھی فرمایا کہ ہرقوم نے اپنے پیغمبروں کی پیغمبری کا انکار کرتے ہوئے یہی کہا تھا کہ: أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ‌ مِّثْلُنَا (۱۴: ۱۰) تم لوگ ہمارے ہی جیسے بشر ہو نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ‌ مِّثْلُكُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ (۱۴: ۱۱) اور اس کے جواب میں پیغمبر وں نے ان سے کہا تھا کہ ہم لوگ یقینا ً تمہارے ہی جیسے بشرہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔مطلب یہ کہ انبیاء ورسل ہمیشہ بشر ہی ہوا کیے ہیں۔ بشریت اور رسالت میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔
چونکہ انہیں اقرار تھا کہ ابراہیم اور اسماعیل اور موسیٰ پیغمبر تھے اور بشر بھی تھے، اس لیے وہ اپنے اس شبہ پر زیادہ اصرار نہ کر سکے۔ اس لیے انہوں نے پینترا بدلا اور کہنے لگے : اچھا اگر ایسا ہے بھی کہ بشر پیغمبر ہوسکتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کو اپنی پیغمبری کے لیے یہی یتیم ومسکین انسان ملا تھا ؟ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مکہ اور طائف کے بڑے بڑے لوگوں کو چھوڑ کر اس مسکین کو پیغمبر بنالے۔ لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا الْقُرْ‌آنُ عَلَىٰ رَ‌جُلٍ مِّنَ الْقَرْ‌يَتَيْنِ عَظِيمٍ (۴۳: ۳۱) یہ قرآن ان دونوں آبادیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا۔ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا؟
کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وحی ورسالت تو اللہ کی رحمت ہے اور اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِ‌سَالَتَهُ (۶: ۱۲۴) اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ اسے اپنی پیغمبری کہاں رکھنی چاہیے۔ان جوابات کے بعد مشرکین نے ایک اور پہلو بدلا اور کہنے لگے کہ دنیا کے بادشاہوں کے ایلچی تو خدم وحشم کے جلو میں چلتے ہیں، ان کا بڑا جاہ وجلال ہوا کرتا ہے اور ان کے لیے ہر طرح کے سامان زندگی مہیا رہا کرتے ہیں۔ پھر محمد کا کیا معاملہ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور انہیں لقمۂ زندگی کے لیے بازاروں کے چکر بھی کاٹنا پڑتے ہیں۔ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرً‌ا ﴿٧﴾ أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا ۚ (۲۵:۷،۸) ان پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا جو ان کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔ یا ان کی طرف خزانہ کیوں نہیں ڈال دیاگیا۔ یا ان کا کوئی باغ ہی ہوتا جس سے وہ کھاتے اور ظالموں نے کہا کہ تم لوگ تو ایک جادو کیے ہوئے آدمی کی پیروی کر رہے ہو۔
اللہ نے اس ساری کٹ حجتی کا ایک مختصر سا جواب دیا کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ یعنی آپ کی مہم یہ ہے کہ آپ ہر چھوٹے بڑے ، کمزور اور طاقتور ، شریف اور پست ، آزاد اور غلام تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں۔ لہٰذا اگر ایسا ہوتاکہ آپ بھی بادشاہوں کے ایلچیوں کی طرح جاہ وجلال ،خدم وحشم ، اردلی اور جلو میں چلنے والوں کے ساتھ بھیجے جاتے تو کمزور اور چھوٹے لوگ تو آپ تک پہنچ ہی نہیں سکتے تھے کہ آپ سے کسی طرح کا استفادہ کر سکیں۔ حالانکہ یہی جمہور ہیں۔ لہٰذا ایسی صورت میں پیغمبر بنانے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا اور اس کا کوئی قابل ذکر فائدہ نہ ہوتا۔
جہاں تک مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے معاملے کا تعلق ہے تو اس کے انکار کے لیے مشرکین کے پاس ،حیرت واستعجاب اورعقلی استبعاد کے علاوہ کوئی دلیل نہ تھی۔ وہ تعجب سے کہتے تھے: وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَ‌ابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ﴿٤٧﴾ أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ ﴿٤٨﴾ (۵۶: ۴۷، ۴۸) کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو پھر اٹھادئے جائیں گے کیا ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ (الصافات :۱۶، ۱۷) پھر خود ہی کہتے تھے:
یہ دور کی واپسی ہے۔ وہ تعجب سے کہتے: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَىٰ رَ‌جُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ ﴿٧﴾ أَفْتَرَ‌ىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا أَم بِهِ جِنَّةٌ (۳۴: ۷،۸) کیاہم تمہیں ایک ایسا آدمی نہ بتلائیں جو خبر دیتا ہے کہ جب تم لوگ بالکل ریزہ ریزہ ہوجائوگے تو پھر تمہاری ایک نئی پیدائش ہوگی۔ معلوم نہیں اس نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے یا اس کو پاگل پن ہے۔ کہنے والے نے یہ بھی کہا:

أموت ثم بعث ثم حشر
حدیث خرافۃ یا أم عمرو

”کیا موت ، اس کے بعد زندگی ، اس کے بعد حشر ؟ ام عمرو ! یہ تو خرافات کی بات ہے۔ ”
اللہ نے اس کی تردید کے لیے دنیا میں پیش آنے والے حالات پر ان کی نظر ڈلوائی کہ دیکھو ! ظالم اپنے ظلم کی جزا پائے بغیر دنیا سے گزر جاتا ہے اور مظلوم بھی ظالم سے اپناحق وصول کیے بغیر موت سے دوچار ہو جاتاہے۔ محسن اور صالح اپنے احسان اور صلاح کا بدلہ پائے بغیر فوت ہوجاتا ہے اور فاجر اور بدکار اپنی بدعملی کی سزا پائے بغیر مر جاتا ہے۔ اب اگر انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھایا جائے اور اس کے عمل کا بدلہ نہ دیا جائے تو دونوں فریق برابر ہو جائیں گے۔ بلکہ ظالم اور فاجر مظلوم اور نیکوکار سے زیادہ ہی خوش قسمت ہوں گے اور یہ بات قطعاً غیر معقول ہے اور اللہ کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وہ اپنی مخلوق کے نظام کی بنیاد ایسے فساد پر رکھے گا۔ اللہ فرماتا ہے: أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِ‌مِينَ ﴿٣٥﴾ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ﴿٣٦﴾ (۶۸: ۳۵،۳۶) کیا ہم تابعداروں کو مجرموں جیسا ٹھہرائیں گے۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ تم کیسے فیصلے کررہے ہو؟ نیز فرمایا: أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْ‌ضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ‌ (۳۸: ۲۸) کیا ہم ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو زمین کے اندر فساد برپا کرنے والوں جیسا بنائیں گے ؟ یا کیا ہم پرہیز گاروں کو فاجروں جیسا ٹھہرائیں گے اور فرمایا: أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ (۲۹: ۴) کیا برائیاں کرنے والے سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں جیسا بنائیں گے کہ ان (دونوں گروہوں) کی زندگی اور موت یکساں ہو۔ بر افیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں۔
جہاں تک ان کے عقل استبعاد کا تعلق ہے تو اللہ نے اس کا رد کرتے ہوئے فرمایا: أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا (۷۹: ۲۷) کیا تم پیدائش میں زیادہ سخت ہو یا آسمان ؟ اور فرمایا: أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ‌ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ (۴۶: ۳۳) کیا انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کو پیدا کرنے سے نہیں تھکا ، وہ اس پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کردے ؟ کیوں نہیں ،یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ نیز فرمایا: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُ‌ونَ (۵۶: ۶۲) تم پہلی پیدائش تو جانتے ہی ہو، پھر حقیقت کیوں نہیں مانتے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ بات بھی بتلائی جو عقلاً اور عرفاً دونوں طرح معروف ہے کہ کسی چیز کو دوبارہ کرنا پہلی بار سے زیادہ آسان ہوتا ہے۔ فرمایا : كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ (۲۱: ۱۰۴) جیسے ہم نے پہلی بار پیدائش کی ابتدا کی تھی اسی طرح پلٹا بھی لیں گے اور فرمایا :
کیا پہلی بار پیدا کرنے سے ہم تھک گئے ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ نے ان کے ایک ایک شبہے کا نہایت اطمینان بخش جواب دیا۔ جس سے ہر سوجھ بوجھ والا آدمی مطمئن ہو سکتا ہے لیکن کفار مکہ ہنگامہ پسند تھے۔ ان میں استکبار تھا۔ وہ زمین پر بڑے بن کر رہنا چاہتے تھے اور مخلوق پر اپنی رائے لاگو کرنا چاہتے تھے، اس لیے اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہے۔
محاذ آرائی کی تیسری صورت: … پہلوں کے واقعات اور افسانوں سے قرآن کا مقابلہ کرنا اور لوگوں کو قرآن کی سماعت سے دور رکھنا۔
مشرکین اپنے مذکورہ شبہات کو پھیلانے کے علاوہ ہر ممکن طریقے سے لوگوں کو قرآن کی سماعت سے دور رکھنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ چنانچہ وہ لوگوں کو ایسی جگہوں سے بھگا تے اور جب دیکھتے کہ نبیﷺ دعوت وتبلیغ کے لیے اٹھنا چاہتے ہیں یا نماز میں قرآن کی تلاوت فرما رہے ہیں تو شور کرتے اور تالیاں اور سیٹیاں بجاتے۔ اللہ فرماتاہے: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَا تَسْمَعُوا لِهَـٰذَا الْقُرْ‌آنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ (۴۱: ۲۶) کفار نے کہا: یہ قرآن نہ سنو ، اور اس میں شور مچاؤ تاکہ تم غالب رہو۔ اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ تھا کہ نبیﷺ کو ان کے مجمعوں اور محفلوں کے اندر پہلی بار قرآن تلاوت کرنے کا موقع پانچویں سن نبوت کے اخیر میں مل سکا۔ وہ بھی اس طرح کہ آپ نے اچانک کھڑے ہوکر قرآن کی تلاوت شروع کردی اور پہلے سے کسی کو اس کا اندازہ نہ ہو سکا۔
نضر بن حارث قریش کے شیطانوں میں سے ایک شیطان تھا۔ وہ حیرہ گیا۔ وہاں بادشاہوں کے واقعات اور رستم واِسْفَنْدیار کے قصے سیکھے۔ پھر واپس آیا تو جب رسول اللہﷺ کسی جگہ بیٹھ کر اللہ کی باتیں کرتے اور اس کی گرفت سے لوگوں کو ڈراتے تو آپ کے بعد یہ شخص وہاں پہنچ جاتا اور کہتاکہ واللہ ! محمدکی باتیں مجھ سے بہتر نہیں، اس کے بعد وہ فارس کے بادشاہوں اور رُستم واسفندیار کے قصے سناتا پھر کہتا۔ آخر کس بنا پر محمد کی بات مجھ سے بہتر ہے۔1
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ملخص از ابن ہشام ۱/۲۹۹ ، ۳۰۰، ۳۵۸
ابن عباسؓ کی ایک روایت ہے کہ نضر نے ایک لونڈی خرید رکھی تھی جب وہ کسی آدمی کے متعلق سنتا کہ وہ نبیﷺ کی طرف مائل ہے تو اس کو اس لونڈی کے پاس لیجاکر کہتا کہ اسے کھلاؤ پلاؤ اور گانے سناؤ۔ یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم کو محمد بلاتے ہیں۔1 اسی کے بارے میں یہ ارشاد ِ الٰہی نازل ہوا:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِ‌ي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ (۳۱: ۶)
”کچھ لوگ ایسے ہیں جو کھیل کی بات خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں۔”
جب قریش اپنی اس گفت وشنید میں ناکا م ہوگئے اور ابو طالب کو اس بات پر مطمئن نہ کرسکے کہ وہ رسول اللہﷺ کو روکیں ، اور انہیں دعوت الیٰ اللہ سے باز رکھیں توا نہوں نے ایک ایسا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا جس پر چلنے سے وہ اب تک کتراتے رہے تھے اور جس کے انجام ونتائج کے خوف سے انہوں اب تک دو ر رہنا ہی مناسب سمجھا تھا اور وہ راستہ تھا رسول اللہﷺ کی ذات پر ظلم وجور کا راستہ۔
رسول اللہﷺ پر ظلم وجور:
چنانچہ قریش نے بالآخر وہ حدیں توڑ دیں جنہیں ظہور دعوت سے اب تک عظیم سمجھتے اور جن کا احترام کرتے آرہے تھے۔ درحقیقت قریش کی اکڑ اور کبریائی پر یہ بات بڑی گراں گزر رہی تھی کہ وہ لمبے عرصے تک صبر کریں۔ چنانچہ وہ اب تک ہنسی اور ٹھٹھے۔ تحقیر اور استہزاء۔ تلبیس اور تشویش اور حقائق کو مسخ کرنے کا جو کام کرتے آرہے تھے اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر رسول اللہﷺ کی طرف ظلم وتعدی کا ہاتھ بھی بڑھادیا اور یہ بالکل فطری بات تھی کہ اس کام میں بھی آپ کا چچا ابولہب سر فہرست ہو۔ کیونکہ وہ بنو ہاشم کا ایک سردار تھا ، اسے وہ خطرہ نہ تھا جو اوروں کو تھا اور وہ اسلام اور اہل اسلام کا کٹر دشمن تھا۔ نبیﷺ کے متعلق اس کا موقف روز اول ہی سے ، جبکہ قریش نے اس طرح کی بات ابھی سوچی بھی نہ تھی ، یہی تھا ْ۔ اس نے بنو ہاشم کی مجلس میں جو کچھ کیا ، پھر کوہ صفا پر جو حرکت کی اس کا ذکر پچھلے صفحات میں آچکا ہے۔
بعثت کے پہلے ابو لہب نے اپنے دو بیٹوں عُتْبہ اور عُتَیْبہ کی شادی نبیﷺ کی دو صاحبزادیوں رقیّہ اور ام کلثوم سے کی تھی لیکن بعثت کے بعد اس نے نہایت سختی اور درشتی سے ان دونوں کو طلاق دلوادی۔ 2
اسی طرح جب نبیﷺ کے دوسرے صاحبزادے عبد اللہ کا انتقال ہو اتو ابولہب کو اس قدر خوشی ہوئی کہ وہ دوڑتا ہوااپنے رفقاء کے پاس پہنچا اور انہیں یہ ”خوشخبری” سنائی کہ محمدﷺ ابتر (نسل بریدہ ) ہوگئے ہیں۔ 3
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 الدر المنثور تفسیر سورۂ لقمان آیت ۶ (۵؍۳۷)
2 اسے طبری نے قتادہ سے ذکر کیا ہے۔ ابن اسحاق کی روایت یہ بھی بتلاتی ہے کہ قریش نے بھی ا س بارے میں دوڑ دھوپ کی تھی۔ دیکھئے : ابن ہشام ۱/۶۵۲
3 یہ عطاء سے مروی ہے۔ تفسیر ابن کثیر ، سورۃ الکوثر ۴/۵۹۵
ہم ذکر کرچکے ہیں کہ ایام حج میں ابولہب نبیﷺ کی تکذیب کے لیے بازاروں ،اجتماعات میں آپ کے پیچھے پیچھے لگا رہتا تھا۔ طارق بن عبد اللہ مُحَاربی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص صرف تکذیب ہی پر بس نہیں کرتا تھا، بلکہ پتھر بھی مارتارہتا تھا جس سے آپ کی ایڑیاں خون آلود ہوجاتی تھیں۔ 1
ابو لہب کی بیوی اُم ِ جمیل ، جس کا نام اَرْویٰ تھا ، اور جو حَرب بن اُمیہ کی بیٹی اور ابو سفیان کی بہن تھی ، وہ نبیﷺ کی عداوت میں اپنے شوہرسے پیچھے نہ تھی۔چنانچہ وہ نبیﷺ کے راستے میں اور دروازے پر رات کو کانٹے ڈال دیا کرتی تھی۔ خاصی بدزبان اور مفسدہ پرداز بھی تھی۔چنانچہ نبیﷺ کے خلاف بدزبانی کرنا ، لمبی چوڑی دَسِیسَہ کاری وافتراء پردازی سے کام لینا، فتنے کی آگ بھڑکانا ، اور خوفناک جنگ بپا رکھنا اس کا شیوہ تھا۔ اسی لیے قرآن میں اس کو وَامْرَ‌أَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ (۱۱۱: ۴) (لکڑی ڈھونے والی ) کا لقب عطا کیا۔
جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی اور اس کے شوہر کی مَذَمت میں قرآن نازل ہوا ہے تو وہ رسول اللہﷺ کو تلاش کرتی ہوئی آئی۔ آپ خانہ کعبہ کے پاس مسجد حرام میں تشریف فرما تھے۔ ابو بکر صدیقؓ بھی ہمراہ تھے۔ یہ مُٹھی بھر پتھر لیے ہوئے تھی۔ سامنے کھڑی ہوئی تو اللہ نے اس کی نگاہ پکڑ لی اور وہ رسول اللہﷺ کو نہ دیکھ سکی۔ صرف ابو بکرؓ کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے سامنے پہنچتے ہی سوال کیا : ابوبکر تمہارا ساتھی کہاں ہے ؟ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ میری ہجو کرتا ہے۔ واللہ! اگر میں اسے پاگئی تو اس کے منہ پر یہ پتھر دے ماروں گی۔ دیکھو! اللہ کی قسم! میں بھی شاعرہ ہوں، پھر اس نے یہ شعر سنایا: 2
مذمماً عصینا وأمرہ أبینا ودینہ قلینا
”ہم نے مذمم کی نافرمانی کی۔ اس کے امر کو تسلیم نہ کیا اور اس کے دین کو نفرت وحقارت سے چھوڑدیا۔”
اس کے بعد واپس چلی گئی۔ ابو بکرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اس نے آپ کو دیکھا نہیں تھا ؟ آپ نے فرمایا: نہیں ؟ اس نے مجھے نہیں دیکھا۔ اللہ نے اس کی نگاہ پکڑ لی تھی۔ 3
ابوبکر بَزّار نے بھی یہ واقعہ روایت کیا ہے اور اس میں اتنا مزید اضافہ کیا ہے کہ جب وہ ابو بکرؓ کے پاس کھڑی ہوتی تھی تو اس نے یہ بھی کہا : ابوبکر ! تمہارے ساتھی نے ہماری ہجو کی ہے۔ ابوبکر ؓ نے کہا : نہیں اس عمارت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 کنز العمال ۱۲/۴۴۹
2 مشرکین جل کر نبیﷺ کومحمد کے بجائے مُذمم کہتے تھے جس کا معنی محمد کے معنی کے بالکل عکس ہے محمد : وہ شخص ہے جس کی تعریف کی جائے۔ مذمم : وہ شخص ہے جس کی مذمت اور برائی کی جائے۔ وہ چونکہ مذمم کی برائی کرتے تھے اس لیے ان کی برائی نبیﷺ پر لاگونہ ہوتی۔ تاریخ بخاری ۱/۱۱، صحیح بخاری مع الفتح ۷/۱۶۲، مسند احمد ۲/۲۴۴ ، ۳۴۰ ، ۳۶۹۔
3 ابن ہشام ۱/۳۳۵، ۳۳۶
کے رب کی قسم ، نہ وہ شعر کہتے ہیں نہ اسے زبان پر لاتے ہیں۔ اس نے کہا: تم سچ کہتے ہو۔
ظلم و جور:
۴ نبوت میں اسلامی دعوت کے منظر عام پر آنے کے بعد مشرکین نے اس کے خاتمے کے لیے سابقہ کارروائیاں رفتہ رفتہ انجام دیں۔ مہینوں اس سے آگے قدم نہیں بڑھا یا اور ظلم وزیادتی شروع نہیں کی لیکن جب دیکھا کہ یہ تدبیریں اسلامی دعوت کو ناکام بنانے میں مؤثر نہیں ہورہی ہیں تو باہمی مشورے سے طے کیا کہ مسلمانوں کو سزائیں دے دے کر ان کو ان کے دین سے باز رکھا جائے۔ اس کے بعد سردار نے اپنے قبیلے کے ماتحت لوگوں کو جو مسلمان ہوگئے تھے۔ سزائیں دینی شروع کیں اور ہر مالک اپنے ایمان لانے والے غلاموں پر ٹوٹ پڑا اور یہ بات تو بالکل فطری تھی کہ دم چھلے اور اوباش اپنے سرداروں کے پیچھے دوڑیں اور ان کی مرضی اور خواہش کے مطابق حرکت کریں ، چنانچہ مسلمانوں اور بالخصوص کمزوروں پر ایسے ایسے مصائب توڑے گئے اور انہیں ایسی ایسی سزائیں دی گئیں جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل پھٹ جاتا ہے۔ ذیل میں محض ایک جھلک دی جارہی ہے۔
ابو جہل جب کسی معزز اور طاقتور آدمی کے مسلمان ہونے کی خبر سنتا تو اسے برا بھلا کہتا۔ ذلیل ورسوا کرتا اور مال کو سخت خسارے سے دوچار کرنے کی دھمکیاں دیتا اور اگر کوئی کمزور آدمی مسلمان ہوتا تو اسے خود بھی مارتا اور دوسروں کو بھی بر انگیختہ کرتا۔ 1
حضرت عثمان بن عفانؓ کا چچا انہیں کھجور کی چٹائی میں لپیٹ کر نیچے سے دھواں دیتا۔ 2
حضرت مصعب بن عمیرؓ کی ماں کو ان کے اسلام لانے کا علم ہوا تو ان کا دانہ پانی بند کر دیا اور گھر سے نکال دیا، یہ بڑے ناز ونعمت میںپلے تھے۔ شدت سے دوچار ہو ئے تو کھال اس طرح ادھڑ گئی جیسے سانپ کچلی چھوڑتا ہے۔ 3
صہیب بن سنان رومیؓ کو اس قدر سزادی جاتی کہ ہوش وحواس جاتا رہتا اور انہیں یہ پتہ نہ چلتا کہ وہ کیا بول رہے ہیں۔ 4
حضرت بلالؓ امیہ بن خلف جحمی کے غلام تھے۔ امیہ ان کی گردن میں رسی ڈال کر لڑکوں کے حوالے کردیتا اور وہ انہیں مکہ کے پہاڑوں میں گھماتے اور کھینچتے پھرتے۔ یہاں تک کہ گردن پر رسی کا نشان پڑ جاتا۔ پھر بھی أحد أحدکہتے رہتے۔ خود بھی انہیں باندھ کر ڈنڈے مارتا ، اور چلچلاتی دھوپ میں جبراً بٹھائے رکھتا۔ کھانا پانی بھی نہ دیتا،
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۳۲۰ 2 رحمۃ للعالمین ۱/۵۷
3 اسد الغابہ ۴/۴۰۶، تلقیح الفہوم ص۶۰
4 الاصابہ ۳،۴/۲۵۵، ابن سعد ۳/۲۴۸
بلکہ بھوکا پیاسا رکھتا اور ان سب سے بڑھ کر یہ ظلم کرتا کہ جب دوپہر کی گرمی شباب پر ہوتی تو مکہ کے پتھریلے کنکروں پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھوا دیتا۔ پھر کہتا : واللہ! تو اسی طرح پڑارہے گا یہا ں تک کہ مر جائے یا محمد کے ساتھ کفر کرے اور لات وعزیٰ کی پوجا کرے۔ حضرت بلالؓ اس حالت میں بھی کہتے : أحد ،أحد اور فرماتے : اگر مجھے کوئی ایسا کلمہ معلوم ہوتا جو تمہیں اس سے بھی زیادہ ناگوار ہوتا تو میں اسے کہتا۔ ایک روز یہی کاروائی جاری تھی کہ حضرت ابوبکرؓ کا گزر ہوا۔ انہوں نے حضرت بلالؓ کو ایک کالے غلام کے بدلے اور کہا جاتا ہے کہ دوسو درہم (۷۳۵ گرام چاندی) یا دوسو اسی درہم (ایک کلو سے زائد چاندی ) کے بدلے خرید کر آزاد کر دیا۔ 1
حضرت عمار بن یاسرؓ بنو مخزوم کے غلام تھے۔ انہوں نے اور ان کے والدین نے اسلام قبول کیا تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ مشرکین ، جن میں ابوجہل پیش پیش تھا۔ سخت دھوپ کے وقت پتھریلی زمین پرلے جاکر اس کی تپش سے سزا دیتے۔ ایک بار انہیں اسی طرح سزادی جارہی تھی کہ نبیﷺ کا گزر ہوا۔ آپ نے فرمایا : آل یاسر ! صبر کرنا۔ تمہارا ٹھکانہ جنت ہے۔ آخر کار یاسر ظلم کی تاب نہ لاکر وفات پاگئے اور حضرت سمیہؓ ، جو حضرت عمارؓ کی والدہ تھیں۔ ابوجہل نے ان کی شرمگاہ میں نیزہ مارا اور وہ دم توڑ گئیں۔ یہ اسلام میں پہلی شہیدہ ہیں۔ ان کے والد کا نام خیاط تھا اور یہ ابوحذیفہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کی لونڈی تھیں۔ بہت بوڑھی اور ضعیف تھیں۔
حضرت عمار پر سختی کا سلسلہ جاری رہا۔ انہیں کبھی دھوپ میں تپایا جاتا تو کبھی ان کے سینے پر سرخ پتھر رکھ دیا جاتا اور کبھی پانی میں ڈبویا جاتا یہاں تک کہ وہ ہوش حواس کھو بیٹھتے۔ ان سے مشرکین کہتے تھے کہ جب تک تم محمد کو گالی نہ دو گے ، یا لات وعزیٰ کے بارے میں کلمۂ خیر نہ کہو گے ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔ مجبوراً انہوں نے مشرکین کی بات مان لی۔ پھر نبیﷺ کے پاس روتے اور معذرت کرتے ہوئے تشریف لائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
(۱۶ : ۱۰۶ ) ”جس نے اللہ پر ایمان لانے کے بعد کفر کیا (اس پر اللہ کا غضب اور عذاب عظیم ہے ) لیکن جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ” (اس پر کوئی گرفت نہیں ) 2حضرت ابو فکیہہ جن کا نام افلح تھا۔ جو اصلاً قبیلہ ازد سے تھے اور بنو عبد الدار کے غلام تھے ، ان کے دونوں پاؤں میں لوہے کی بیڑیاں ڈال کر دوپہر کی سخت گرمی میں باہر نکالتے اور جسم سے کپڑے اتار کر تپتی ہوئی زمین پر پیٹ کے بل لٹادیتے اور پیٹھ پر بھاری پتھر رکھ دیتے کہ حرکت نہ کرسکیں۔ وہ اسی طرح پڑے پڑ ے ہوش حواس کھو بیٹھتے۔ انہیں اسی طرح کی سزائیں دی جاتی رہیں ، یہاں تک کہ دوسری ہجرتِ حبشہ میں وہ بھی ہجرت کر گئے۔ ایک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۳۱۷، ۳۱۸ ، تلقیح الفہوم ص۶ تفسیر ابن کثیر سورۂ النحل ۳/۶۴۸
2 ابن ہشام ۱/۳۱۹ ، ۳۲۰ ، طبقات ابن سعد ۳/۲۴۸، ۲۴۹، آخری ٹکڑا طوفی نے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے۔ ابن کثیر اورالدرالمنثور تفسیر سورۂ نحل آیت ۲۰۶۔
بار مشرکین نے ان کا پاؤں رسی میں باندھ ، اور گھسیٹ کر تپتی ہوئی زمین پر ڈال دیا، پھر اس طرح گلا دبا یا کہ سمجھے یہ مر گئے ہیں۔ اسی دوران وہاں حضرت ابوبکر کا گزر ہوا۔ انہوں نے خرید کر اللہ کے لیے آزاد کر دیا۔ 1
خباب بن ارت قبیلہ خزاعہ کی ایک عورت ام انمار کے غلام تھے اور لوہاری کا کام کرتے تھے۔ مسلمان ہوئے تو ان کی مالکہ انھیں آگ سے جلانے کی سزا دیتی۔ وہ لوہے کا گرم ٹکڑا لاتی اور ان کی پیٹھ یا سر پر رکھ دیتی۔ تاکہ وہ محمدﷺ کے ساتھ کفر کریں۔ مگر اس سے ان کے ایمان اور تسلیم ورضا میں اور اضافہ ہوتا۔ انھیں مشرکین بھی طرح طرح کی سزائیں دیتے۔ کبھی سختی سے گردن مروڑتے تو کبھی سر کے بال نوچتے۔ ایک بار تو انھیں دہکتے ہوئے انگاروں پر ڈال دیا۔ اسی پر گھسیٹا اور دبائے رکھا، یہاں تک کہ ان کی پیٹھ کی چربی پگھلنے سے آگ بچھی۔ 2
حضرت زنیرہ رومی لونڈی تھیں۔ وہ مسلمان ہوئیں تو انھیں اللہ کی راہ میں سزائیں دی گئیں۔ اتفاق سے ان کی آنکھ جاتی رہی۔ مشرکین نے کہا :دیکھو ! تم پر لات وعزیٰ کی مار پڑگئی ہے۔ انہوں نے کہا: نہیں ، واللہ ! یہ لات وعزیٰ کی مار نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر وہ چاہے تو دوبارہ بحال کرسکتا ہے۔ پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ دوسرے دن نگاہ پلٹ آئی ، مشرکین کہنے لگے :یہ محمد کا جادو ہے۔ 3
ام عبیس بنو زہرہ کی لونڈی تھیں۔ وہ اسلام لائیں تو مشرکین نے انھیں بھی سزائیں دیں۔ خصوصاً ان کا مالک اسود بن عبد یغوث انھیں سزائیں دیتا۔ وہ رسول اللہ کا بڑا کٹر دشمن تھا اور آپ کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ 4
بنو عدی کے عمرو بن مؤمل کی لونڈی مسلمان ہوئیں تو عمر بن خطاب انھیں سزائیں دیتے۔ وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ انھیں اس قدر مارتے کہ مارتے مارتے تھک جاتے۔ پھر کہتے : واللہ! میں نے تجھے (کسی مروت کی بنا پر نہیں ، بلکہ محض) تھک کر چھوڑاہے۔ وہ کہتیں : تیرے ساتھ تیرا پروردگار بھی ایساہی کرے گا۔ 5
حضرت نہدیہ اور ان کی صاحبزادی بھی بنوعبدالدار کی ایک عورت کی لونڈی تھیں۔ اسلام لے آئیں تو انہیں بھی سزائوں سے دوچار ہونا پڑا۔ 6
غلاموں میں عامر بن فہیرہ بھی تھے، اسلام لانے پر انھیں بھی اس قدر سزائیں دی جاتیں کہ وہ اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھتے اور انھیں پتہ نہ چلتا کہ کیا بول رہے ہیں۔7
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 اسد الغابہ ۵/۲۴۸، الاصابہ ۷،۸/۱۵۲وغیرہ۔
2 اسد الغابہ ۱/۵۹۱ ، ۵۹۳ ، تلقیح الفہوم ص ۶ وغیرہ۔
3 طبقات ابن سعد ۸/۲۵۶ ، ابن ہشام ۱/۱۳۸
4 الاصابہ ۷،۸/۲۵۸
5 ابن ہشام ۱/۳۱۹ ، طبقات ابن سعد ۸/۲۵۶
6 ابن ہشام ۱/۳۱۸ ، ۳۱۹
7 طبقات ابن سعد ۳/۲۴۸
حضرت ابوبکرؓ نے ان سارے غلاموں اورلونڈیوں کو خرید کو آزاد کردیا۔ اس پر ان کے والد ابو قحافہ نے ان کو عتاب کیا۔ کہنے لگے : (بیٹا ) میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ کمزور گرد نیں آزاد کر رہے ہو۔ توانا لوگوں کو آزاد کرتے تو وہ تمہارا بچاؤ بھی کرتے۔ انہوں نے کہا : میں اللہ کی رضا چاہتا ہوں اس پر اللہ نے قرآن اتارا۔ حضرت ابوبکرؓ کی مدح کی اور ان کے دشمنوں کی مذمت کی۔ فرمایا: فَأَنذَرْ‌تُكُمْ نَارً‌ا تَلَظَّىٰ ﴿١٤﴾ لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى (۹۲: ۱۴ تا ۱۶) میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے جس میں وہی بد بخت داخل ہوگا جس نے جھٹلایا اور پیٹھ پھیری۔ اس سے مراد امیہ بن خلف اور اس کے ہم نوا ہیں پھر فرمایا: وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ﴿١٧﴾ الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰ ﴿١٩﴾ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَ‌بِّهِ الْأَعْلَىٰ ﴿٢٠﴾ وَلَسَوْفَ يَرْ‌ضَىٰ ﴿٢١﴾ (۹۲: ۱۷ تا ۲۱) اور اس آگ سے وہ پرہیزگار آدمی دور رکھا جائے گا جو اپنا مال پاکی حاصل کرنے کے لیے خرچ کررہا ہے۔ اس پر کسی کا احسان نہیں ہے جس کا بدلہ دیا جارہا ہو۔ بلکہ محض اپنے رب اعلیٰ کی مرضی کی طلب ہے۔ اس سے مقصود حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں۔ 1
خود ابوبکر صدیقؓ کو بھی اذیت دی گئی۔ انھیں اور ان کے ساتھ طلحہ بن عبیداللہ کو نوفل بن خویلد عدوی نے پکڑ کر ایک ہی رسی میں باندھ دیا۔ تاکہ انھیں نماز نہ پڑھنے دے، بلکہ دین اسلام سے بھی باز رکھے۔ مگر انہوں نے اس کی بات نہ سنی ، اس کے بعد اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ دونوں بندھن سے آزاد اور نماز میں مشغول ہیں۔ اس واقعہ کے بعد ان دونوں کو قرینین…ایک ساتھ بندھے ہوئے… کہا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کام نوفل کے بجائے طلحہ بن عبید اللہؓ کے بھائی عثمان بن عبیداللہ نے کیا تھا۔ 2
خلاصہ یہ کہ مشرکین کو جس کسی کے متعلق بھی معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہوگیاہے تو اس کی ایذا رسانی کے درپے ضرور ہوئے اور کمزور مسلمانوں بالخصوص غلاموں اور لونڈیوں کے متعلق یہ کام آسان بھی تھا۔ کیونکہ کوئی نہ تھا جو ان کے لیے غصہ ہوتا اور ان کی حمایت کرتا بلکہ ان کے سردار اور مالک انھیں خود ہی سزائیں دیتے تھے اور اوباشوں کو بھی ورغلاتے تھے۔ البتہ بڑے لوگوں اور اشراف میں سے کوئی مسلمان ہوتا تو اس کی ایذا رسانی ذرا آسان نہ ہوتی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کی حفاظت اور بچائو میں ہوتا، اس لیے ایسے لوگوں پر خود ان کے اپنے قبیلے کے اشراف کے سوا کم ہی کوئی جرأت کرتا تھا، وہ بھی بہت بچ بچا کر، اور سوچ سمجھ کر۔
رسول اللہﷺ کے بارے میں مشرکین کا موقف:
جہاں تک رسول اللہﷺ کے معاملہ کا تعلق ہے تو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آپ پر شکوہ باوقار اور منفرد شخصیت کے مالک تھے۔ دوست دشمن سبھی آپ کو تعظیم کی نظر سے دیکھتے تھے۔ آپ جیسی شخصیت کا سامنا اکرام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۱۳۸ ، ۳۱۹ ، طبقات ابن سعد ۸/۲۵۶ کتب تفسیر آیت مذکورہ۔
2 اسد الغابہ ۲/۴۶۸
واحترام ہی سے کیا جاسکتا تھا اور آپ کے خلاف کسی نیچ اور ذلیل حرکت کی جرأت کوئی رذیل اور احمق ہی کرسکتا تھا۔ اس ذاتی عظمت کے علاوہ آپ کو ابو طالب کی حمایت وحفاظت بھی حاصل تھا اور ابوطالب مکہ کے ان گنے چنے لوگوں میں سے تھے جو اپنی ذاتی اور اجتماعی دونوں حیثیتوں سے اتنے باعظمت تھے کہ کوئی شخص بڑی مشکل سے ان کے عہد توڑ نے اور ان کے خانوادے پر ہاتھ ڈالنے کی جسارت کرسکتا تھا۔ اس صورت حال نے قریش کو سخت پریشانی اور کشمکش سے دوچار کر رکھا تھا جو تقاضا کر رہی تھی کہ کسی ناپسند یدہ دائرے میں پڑے بغیر اس مشکل سے نکلنے کے لیے سنجیدگی سے غور کریں۔ بالآخر انہیں یہ راستہ سمجھ میں آیا کہ سب سے بڑے ذمہ دار ابوطالب سے بات چیت کریں لیکن خاصی حکمت اور واقعیت پسندی کے ساتھ اور ایک گونہ چیلنج اور پوشیدہ دھمکی لیے ہوئے ، تاکہ جو بات کہی جائے اسے وہ تسلیم کر لیں۔
قریش کا وفد ابو طالب کی خدمت میں:
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ اشراف قریش سے چند آدمی ابو طالب کے پاس گئے اور بولے : ابو طالب ! آپ کے بھتیجے نے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا ہے۔ ہمارے دین کی عیب چینی کی ہے۔ ہماری عقلوں کو حماقت زدہ کہا ہے اور ہمارے باپ دادا کو گمراہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا یا تو آپ انہیں اس سے روک دیں ، یا ہمارے اور ان کے درمیان سے ہٹ جائیں۔ کیونکہ آپ بھی ہماری طرح ان سے مختلف دین پر ہیں۔ ہم ان کے معاملے میں آپ کے لیے بھی کافی رہیں گے۔
اس کے جواب میں ابوطالب نے نرم بات کہی اور روادارانہ لب ولہجہ اختیار کیا۔ چنانچہ وہ واپس چلے گئے اور رسول اللہﷺ اپنے سابقہ طریقہ پر رواں دواں رہتے ہوئے اللہ کا دین پھیلانے اور اس کی تبلیغ کرنے میں مصروف رہے۔1
لیکن جب قریش نے دیکھا کہ آپ دعوت الیٰ اللہ کے کام میں حسب سابق مصروف عمل ہیں تو زیادہ دیر تک صبر نہ کر سکے۔ بلکہ آپس میں خاصی چہ میگوئی کی اور ناگواری کا اظہار کیا۔ حتیٰ کہ ابوطالب سے دوبارہ زیادہ سخت اور سنگین لہجے میں گفتگو کرنے کا فیصلہ کیا۔
ابو طالب کو قریش کی دھمکی:
اس فیصلے کے بعد سرداران قریش ابوطالب کے پاس پھر حاضر ہوئے اور بولے: ابو طالب ! آپ ہمارے اندر سن وشرف اور اعزاز کے مالک ہیں ، ہم نے آپ سے گزارش کی تھی کہ آپ اپنے بھتیجے کو روکیے لیکن آپ نے انہیں نہیں روکا۔ آپ یاد رکھیں ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے اباء واجداد کو گالیاں دی جائیں۔ ہماری عقل وفہم کو حماقت زدہ قرار دیا جائے اور ہمارے معبودوں کی عیب چینی کی جائے۔ آپ روک دیجیے ورنہ ہم آپ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۲۵۶
سے اور ان سے ایسی جنگ چھیڑ دیں گے کہ ایک فریق کا صفایا ہو کر رہے گا۔
ابو طالب پر اس زور دار دھمکی کا بہت زیادہ اثر ہوا اور انہوں نے رسول اللہﷺ کو بلا کر کہا : بھتیجے ! تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے تھے اور ایسی ایسی باتیں کہہ گئے ہیں۔ اب مجھ پر اور خود اپنے آپ پر رحم کرو۔ اوراس معاملے میں مجھ پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جو میرے بس سے باہر ہے۔
یہ سن کر رسول اللہﷺ نے سمجھا کہ اب آپ کے چچا بھی آپ کا ساتھ چھوڑدیں گے اور وہ بھی آپ کی مدد سے کمزور پڑ گئے ہیں۔ اس لیے فرمایا : چچا جا ن ! اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ میرے داہنے ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں کہ میں اس کام کو اس حد تک پہنچائے بغیر چھوڑ دوں کہ یا تواللہ اسے غالب کردے یا مَیں اسی راہ میں فنا ہو جاؤں تو نہیں چھوڑ سکتا۔
اس کے بعد آپ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں ، آپ روپڑے۔ اور اٹھ گئے۔ جب واپس ہونے لگے تو ابوطالب نے پکارا اور سامنے تشریف لائے تو کہا : بھتیجے ! جاؤ جو چاہو کہو۔ اللہ کی قسم! میں تمہیں کبھی بھی کسی بھی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتا۔ 1 اور یہ اشعار کہے :

واللّٰہ لن یصلوا الیک بجمعہم
حتی أوسد فی التراب دفیناً
فاصدع بآمرک ما علیک غضاضۃ
وابشر وقر بذاک منک عیونًا2

”واللہ! وہ لوگ تمہارے پاس اپنی جمعیت سمیت بھی ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔ یہاں تک کہ میں مٹی میں دفن کردیا جاؤں۔ تم اپنی بات کھلم کھلا کہو۔ تم پر کوئی قدغن نہیں ، تم خوش ہوجاؤ اور تمہاری آنکھیں اس سے ٹھنڈی ہو جائیں۔”
قریش ایک بار پھر ابو طالب کے سامنے:
پچھلی دھمکی کے باوجود جب قریش نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ اپنا کام کیے جارہے ہیں تو ان کی سمجھ میں آگیا کہ ابو طالب رسول اللہﷺ کو چھوڑ نہیں سکتے۔ بلکہ اس بارے میں قریش سے جدا ہونے اور ان کی عداوت مول لینے کو تیار ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ ولید بن مغیرہ کے لڑکے عُمَارَہ کو ہمراہ لے کر ابوطالب کے پاس پہنچے اور ان سے یوں عرض کیا :
اے ابو طالب ! یہ قریش کا سب سے بانکا اور خوبصورت نوجوان ہے ، آپ اسے لے لیں۔ اس کی دیت اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام۱/۲۶۵، ۲۶۶
2 مختصر السیرۃشیخ محمد بن عبد الوھاب ص ۶۸
نصرت کے آپ حق دار ہوں گے، آپ اسے اپنا لڑکا بنالیں ، یہ آپ کا ہوگا اور آپ اپنے اس بھتیجے کو ہمارے حوالے کردیں جس نے آپ کے آباء و اجداد کے دین کی مخالفت کی ہے۔ آپ کی قوم کا شیرازہ منتشر کر رکھا ہے اور ان کی عقلوں کوحماقت سے دوچار بتلایاہے ، ہم اسے قتل کریں گے۔ بس یہ ایک آدمی کے بدلے ایک آدمی کا حساب ہے۔
ابو طالب نے کہا : اللہ کی قسم ! کتنا بُرا سودا ہے جو تم لوگ مجھ سے کر رہے ہو۔ تم اپنا بیٹا مجھے دیتے ہو کہ میں اسے کھلاؤں پلاؤں۔ پالوں پوسوں اور میرا بیٹا مجھ سے طلب کرتے ہو کہ اسے قتل کردو۔ اللہ کی قسم ! یہ نہیں ہوسکتا۔
اس پر نوفَل بن عبد مناف کا پوتا مُطْعِم بن عَدِی بولا : اللہ کی قسم ! اے ابوطالب ! تم سے تمہاری قوم نے انصاف کی بات کہی ہے اور جو صورت تمہیں ناگوار ہے اس سے بچنے کی کوشش کی ہے ، لیکن دیکھتا ہوں کہ تم ان کی کسی بات کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔
جواب میں ابوطالب نے کہا : واللہ !تم لوگوں نے مجھ سے انصاف کی بات نہیں کی ہے بلکہ تم بھی میرا ساتھ چھوڑ کر میرے مخالف لوگوں کی مدد پر تُلے بیٹھے ہو تو ٹھیک ہے جو چاہو کرو۔ 1
ابو لہب اس کے باوجود یہ ساری حرکتیں کررہا تھا کہ رسول اللہﷺ کا چچا اور پڑوسی تھا۔ اس کا گھر آپ کے گھر سے متصل تھا۔ اسی طرح آپ کے دوسرے پڑوسی بھی آپ کو گھر کے اندر ستاتے تھے۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جوگروہ گھر کے اندر رسول اللہﷺ کو اذیت دیا کر تا تھا وہ یہ تھا۔ ابو لہب ، حَکم بن ابی العاص بن امیہ ، عقبہ بن ابی مُعیط ، عَدِی بن حمراء ثقفی ، ابن الاصداء ہذلی۔ یہ سب کے سب آپﷺ کے پڑوسی تھے اور ان میں سے حکم 2بن ابی العاص کے علاوہ کوئی بھی مسلمان نہ ہوا۔ ان کے ستانے کا طریقہ یہ تھا کہ جب آپﷺ نماز پڑھتے تو کوئی شخص بکری کی بچہ دانی اس طرح ٹکا کر پھینکتا کہ وہ ٹھیک آپﷺ کے اوپر گرتی۔ چولھے پر ہانڈی چڑھائی جاتی تو بچہ دانی اس طرح پھینکتے کہ سیدھے ہانڈی میں جا گرتی۔ آپﷺ نے مجبور ہوکر ایک گھروندا بنا لیا تاکہ نماز پڑھتے ہوئے ان سے بچ سکیں۔
بہر حال جب آپﷺ پر یہ گندگی پھینکی جاتی تو آپﷺ اسے لکڑی پر لے کر نکلتے اور دروازے پر کھڑے ہو کر فرماتے : اے بنی عبد مناف ! یہ کیسی ہمسائیگی ہے ؟ پھر اسے راستے میں ڈال دیتے۔ 3
عُقبہ بن ابی مُعیط اپنی بدبختی اور خباثت میں اور بڑھا ہو ا تھا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ بیت اللہ کے پاس نماز پڑ ھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے کچھ رفقاء بیٹھے ہوئے تھے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۲۶۶، ۲۶۷۔
2 یہ اموی خلیفہ مروان بن الحکم کے باپ ہیں۔
3 یہ ساتواں شخص عمارہ بن ولید تھا۔ خود صحیح بخاری حدیث نمبر ۵۲۰ میں اس کی صراحت آگئی ہے۔
کہ اتنے میں بعض نے بعض سے کہا : کون ہے جو بنی فلاں کے اونٹ کی اوجھڑی لائے اور جب محمد سجدہ کریں تو ان کی پیٹھ پر ڈال دے ؟ اس پر قوم کا بد بخت ترین آدمی…عقبہ بن ابی معیط1…اٹھا اور اوجھ لاکر انتظار کرنے لگا۔ جب نبیﷺ سجدے میں تشریف لے گئے تو اسے آپ کی پیٹھ پر دونوں کندھوں کے درمیان ڈال دیا۔ میں سارا ماجرا دیکھ رہا تھا ، مگر کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ کاش! میرے اندر بچانے کی طاقت ہوتی۔
حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعدوہ ہنسی کے مارے ایک دوسرے پر گرنے لگے اور رسول اللہﷺ سجدے میں ہی پڑے رہے، سَر نہ اٹھایا۔ یہاں تک کہ فاطمہؓ آئیں اور آپ کی پیٹھ سے اوجھ ہٹا کر پھینکی، تب آپ نے سَر اٹھایا۔ پھر تین بار فرمایا : ((اللّٰھم علیک بقریش۔)) ” اے اللہ تو قریش کو پکڑ لے۔” جب آپ نے بد عا کی تو ان پر بہت گراں گزری۔ کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اس شہر میں دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد آپ نے نام لے لے کر بددعا کی : اے اللہ ! ابوجہل کو پکڑ لے اور عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ولید بن عتبہ ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ لے …
انہوں نے ساتویں کا بھی نام گنایا لیکن راوی کو یاد نہ رہا…2 ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے دیکھا کہ جن لوگوں کے نام رسول اللہﷺ نے گن گن کر لیے تھے۔ سب کے سب بدر کے کنویں میں مقتول پڑے ہوئے تھے۔ 3
اُمَیہ بن خلف کا وطیرہ تھا کہ وہ جب رسول اللہﷺ کو دیکھتا تولعن طعن کرتا۔ اسی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ (۱۰۴: ۱) ”ہر لعن طعن اور برائیاں کرنے والے کے لیے تباہی ہے۔” ابن ہشام کہتے ہیں ہُمَزَہ وہ شخص ہے جو علانیہ گالی بکے اور آنکھیں ٹیڑھی کر کے اشارے کرے اور لُمَزَہ وہ شخص جو پیٹھ پیچھے لوگوں کی برائیاں کرے اور انہیں اذیت دے۔ 4
اُمیہ کا بھائی اُبی بن خلف ، عُقبہ بن ابی معیط کا گہرا دوست تھا۔ ایک بار عقبہ نے نبیﷺ کے پاس بیٹھ کر کچھ سنا۔ اُبی کو معلوم ہوا تو اس نے سخت سست کہا ، عتاب کیا اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ جا کر رسول اللہﷺ کے منہ پر تھوک آئے۔
آخر عُقبہ نے ایسا ہی کیا خود اُبی بن خَلف نے ایک مرتبہ ایک بوسیدہ ہڈی لا کر توڑی اور ہوا میں پھینک کر رسول اللہﷺ کی طرف اڑادی۔ 5
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۴۱۶
2 خود صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت میں اس کی صراحت آگئی۔ دیکھئے ۱/۵۴۳۔
3 صحیح البخاری کتاب الوضوء باب اذا ألقی علی المصلی قذر أو جیفۃ ۱/۳۷
4 ابن ہشام ۱/۳۵۶، ۳۵۷
5 ابن ہشام ۱/۳۶۱ ، ۳۶۲
اَخْنَس بن شُرَیق ثَقَفی بھی رسول اللہﷺ کے ستانے والوں میں تھا۔ قرآن میں اس کے نو اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ جس سے اس کے کردار کا اندازہ ہوتا ہے۔ ارشاد ہے :
وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ﴿١٠﴾ هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿١١﴾ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ‌ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿١٢﴾ عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ﴿١٣﴾ (۶۸: ۱۰ تا ۱۳)
”تم بات نہ ما نو کسی قسم کھانے والے ذلیل کی ،جو لعن طعن کرتا ہے ، چغلیاں کھاتا ہے ، بھلائی سے روکتا ہے ، حد درجہ ظالم ، بد عمل اور جفاکار ہے اور اس کے بعد بداصل بھی ہے۔”
ابو جہل کبھی کبھی رسول اللہﷺ کے پاس آکر قرآن سنتا تھا ، لیکن بس سنتا ہی تھا، ایمان واطاعت اور ادب وخشیت اختیار نہیں کرتا تھا۔ وہ رسول اللہﷺ کو اپنی بات سے اذیت پہنچاتا اور اللہ کی راہ سے روکتا تھا۔ پھر اپنی اس حرکت اور برائی پر ناز اور فخر کرتا ہوا جاتا تھا۔ گویا اس نے قابل ذکر کارنامہ انجام دے دیا ہے قرآن مجید کی یہ آیات اسی شخص کے بارے میں نازل ہوئیں:

فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ ﴿٣١﴾ وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ﴿٣٢﴾ ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰ أَهْلِهِ يَتَمَطَّىٰ ﴿٣٣﴾ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ﴿٣٤﴾ ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ﴿٣٥﴾
(۷۵: ۳۱ تا ۳۵)
”نہ اس نے صدقہ دیا نہ نماز پڑھی، بلکہ جھٹلایا اور پیٹھ پھیری ، پھر وہ اکڑ تا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا۔ تیرے خوب لائق ہے۔ خوب لائق ہے۔”
اس شخص نے پہلے دن جب نبیﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اسی دن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے روکتا رہا۔ ایک بار نبیﷺ مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھ رہے تھے کہ اس کا گزر ہوا۔ دیکھتے ہی بولا : محمد ! کیا میں نے تجھے اس سے منع نہیں کیا تھا؟ ساتھ ہی دھمکی بھی دی۔ رسول اللہﷺ نے بھی ڈانٹ کر سختی سے جواب دیا۔ اس پر وہ کہنے لگا : اے محمد ! کاہے کی دھمکی دے رہے ہو ، دیکھو، اللہ کی قسم ! اس وادی (مکہ ) میں میری محفل سب سے بڑی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ (۹۶: ۱۷)1اچھا! تو بلائے اپنی محفل کو( ہم بھی سزا کے فرشتوں کو بلائے دیتے ہیں)
ایک روایت میں مذکورہے کہ رسول اللہﷺ نے اس کا گریبان گلے کے پاس پکڑلیا اور جھنجوڑتے ہوئے فرمایا:
أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ﴿٣٤﴾ ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ﴿٣٥﴾ (۷۵: ۳۴،۳۵)
”تیرے لیے بہت ہی موزوں ہے۔ تیرے لیے بہت ہی موزوں ہے۔”
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 اسے ابن جریر نے تفسیر میں روایت کیا ہے۔ اسی کے مثل ترمذی نے بھی ابواب التفسیر تفسیر سورہ ٔ اقراء ، آیت نمبر ۱۷، ۱۸ (حدیث نمبر ۳۳۴۹) ۵/۴۱۴ میں روایت کیا ہے۔
اس پر اللہ کا دشمن کہنے لگا : اے محمد ! مجھے دھمکی دے رہے ہو ؟ اللہ کی قسم !تم اور تمہارا پروردگار میرا کچھ نہیں کر سکتے۔ میں مکے کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے پھرنے والوں میں سب سے زیادہ معزز ہوں۔ 1
بہرحال اس ڈانٹ کے باوجود ابوجہل اپنی حماقت سے باز آنے والا نہ تھا۔ بلکہ اس کی بدبختی میں کچھ اور اضافہ ہی ہوگیا۔چنانچہ صحیح مسلم میں ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ (ایک بارسردارانِ قریش سے) ابوجہل نے کہا کہ محمد آپ حضرات کے رُو برو اپنا چہرہ خاک آلود کرتا ہے ؟ جواب دیا گیا: ہاں۔ اس نے کہا: لات وعزیٰ کی قسم ! اگر میں نے (اس حالت میں) اسے دیکھ لیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کا چہرہ مٹی پر رگڑ دوں گا۔ اس کے بعد اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا اور اس زعم میں چلا کہ آپ کی گردن روند دے گا لیکن لوگوں نے اچانک کیا دیکھا کہ وہ ایڑی کے بل پلٹ رہاہے ، اور دونوں ہاتھ سے بچائو کررہاہے۔ لوگوں نے کہا : ابوالحکم ! تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا : میرے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق ہے۔ ہولناکیاں ہیں اور پَر ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو اچک لیتے۔ 2
یہ اس ظلم وجور کا ایک نہایت مختصر خاکہ ہے جو اہل اللہ اور سکان حرم ہونے کا دعویٰ رکھنے والے سرکش مشرکین کے ہاتھوں رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کو سہنا پڑ رہے تھے۔
اس سنگین صورت حال کا تقاضا یہ تھا کہ رسول اللہﷺ ایسا محتاط اور حزم وتدبیر پر مبنی موقف اختیار کریں کہ مسلمانوں پر جو آفت ٹوٹ پڑی تھی اس سے بچانے کی کوئی صورت نکل آئے اور ممکن حد تک اس کی سختی کم کی جاسکے۔ اس مقصد کے لیے رسول اللہﷺ نے دو حکیمانہ قدم اٹھائے۔ جو دعوت کا کام آگے بڑھانے میں بھی مؤثر ثابت ہوئے:
ارقم بن ابی الارقم مخزومی کے مکان کو دعوت وتربیت کے مرکز کے طور پر اختیار فرمایا۔
” مسلمانوں کو ہجرت حبشہ کا حکم فرمایا۔
دار ارقم:
یہ مکان سرکشوں کی نگاہوں اور ان کی مجلسوں سے دور کوہ صفا کے دامن میں الگ تھلگ واقع تھا۔ رسول اللہﷺ نے اسے اس مقصد کے لیے منتخب فرمایا کہ یہاں مسلمانوں کے ساتھ خفیہ طور پر جمع ہوں۔ چنانچہ آپ یہاں اطمینان سے بیٹھ کر مسلمانوں پر اللہ کی آیات تلاوت فرماتے ، ان کا تزکیہ کرتے اور انھیں کتاب وحکمت سکھاتے اور مسلمان بھی امن وسلامتی کے ساتھ اپنی عبادت اور اپنے دینی اعمال انجام دیتے اور اللہ کی نازل کی ہوئی وحی سیکھتے ، جو آدمی اسلام لانا چاہتا بھی یہاں آکر خاموشی سے مسلمان ہوجاتا اور ظلم وانتقام پر اترے ہوئے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے: تفسیر ابن کثیر ۴/۴۷۷ ، الدر المنثور ۶/۴۷۸ وغیرہ ۔
2 صحیح مسلم : کتاب صفات المنافقین واحلامہم حدیث نمبر ۳۸ (۴/۲۱۵۴ )
سرکشوں کو اس کی خبر نہ ہوتی۔
یہ بات یقینی ہے کہ اگر رسول اللہﷺ اس کے بجائے مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلااکٹھا ہوتے تو مشرکین اپنی پوری قوت وشدت کے ساتھ اس بات کی کوشش کرتے کہ آپ تزکیۂ نفس اور تعلیم کتاب وسنت کا جو کام کرناچاہتے ہیں اسے نہ ہونے دیں۔ اس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان تصادم ہوسکتا تھا۔ بلکہ عملاً ایسا ہو بھی چکا تھا، چنانچہ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ کے صحابہ کرامؓ گھاٹیوں اکٹھے ہو کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ایک بار کفار قریش کے کچھ لوگوں نے دیکھ لیا تو گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑے پر اتر آئے۔ جواباً حضرت سعد بن ابی وقاص نے ایک شخص کو ایسی ضرب لگائی کہ اس کا خون بہہ پڑا اور یہ پہلا خون تھا جو اسلام میں بہایا گیا۔ 1
معلوم ہے کہ اس طرح کا ٹکرائو بار بار ہوتا اور طول پکڑجاتا تو مسلمانو ں کے خاتمے کی نوبت آسکتی تھی۔ لہٰذا حکمت کا تقا ضا یہی تھا کہ کام پس پردہ کیا جائے۔ چنانچہ عام صحابہ کرامؓ اپنا اسلام ، اپنی عبادت ، اپنی تبلیغ اور اپنے باہمی اجتماعات سب کچھ پس پردہ کرتے تھے۔ البتہ رسول اللہﷺ تبلیغ کا کام بھی مشرکین کے رُو برُو کھلم کھلا انجام دیتے تھے ، اور عبادت کاکام بھی۔ کوئی چیز آپﷺ کو اس سے روک نہیں سکتی تھی۔ تاہم آپ بھی مسلمانوں کے ساتھ خود ان کی مصلحت کے پیش نظر خفیہ طور سے جمع ہوتے تھے۔ ادھر اَرقَم بن ابی ا لارقم مخزومی کا مکان کوہِ صفا پر سرکشوں کی نگاہوں اور ان کی مجلسوں سے دور الگ تھلگ واقع تھا۔ اس لیے آپ نے پانچویں سنہ نبوت سے اسی مکان کو اپنی دعوت اور مسلمانوں کے ساتھ اپنے اجتماع کا مرکز بنالیا۔2
پہلی ہجرتِ حَبْشَہ:
جور وستم کا مذکورہ سلسلہ نبوت کے چوتھے سال کے درمیان یا آخر میں شروع ہوا تھا اور ابتدائً معمولی تھا مگر دن بدن اور ماہ بماہ بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ نبوت کے پانچویں سال کا وسط آتے آتے اپنے شباب کو پہنچ گیا۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کے لیے مکہ میں رہنا دوبھر ہوگیا اور انہیں ان پیہم ستم رانیوں سے نجات کی تدبیر سوچنے کے لیے مجبورہوجانا پڑا۔ ان ہی سنگین اور تاریک حالات میں سورۂ زُمَر کا نزول ہوا۔ اوراس میں ہجرت کی طرف اشارہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے۔
لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَـٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرْ‌ضُ اللَّـهِ وَاسِعَةٌ ۗ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُ‌ونَ أَجْرَ‌هُم بِغَيْرِ‌ حِسَابٍ (۳۹: ۱۰ )
”جن لوگوں نے اس دنیامیں اچھائی کی ان کے لیے اچھا ئی ہے اور اللہ کی زمین کشادہ ہے۔صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بلا حساب دیا جائے گا۔”
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۲۶۳
2 مختصر السیرۃ محمد بن عبدالوہاب ص ۶۱
ادھر رسول اللہﷺ کو معلوم تھا کہ اَصحَمَہ نجاشی شاہ حبش ایک عادل بادشاہ ہے۔ وہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔ اس لیے آپﷺ نے مسلمانو ں کو حکم دیا کہ وہ فتنوں سے اپنے دین کی حفاظت کے لیے حبشہ ہجرت کر جائیں۔ 1 اس کے بعد ایک طے شدہ پروگرام کے مطابق رجب ۵ نبوی میں صحابہ کرامؓ کے پہلے گروہ نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ اس گروہ میں بارہ مرد اور چار عورتیں تھیں۔ حضرت عثمان بن عفانؓ ان کے امیر تھے اور ان کے ہمراہ رسول اللہﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ ؓ بھی تھیں۔رسول اللہﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہما السلام کے بعد یہ پہلا گھرانہ ہے جس نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔ 2
یہ لوگ رات کی تاریکی میں چپکے سے نکل کر اپنی نئی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ رازداری کا مقصد یہ تھا کہ قریش کو اس کا علم نہ ہوسکے۔ رُخ بحر احمر کی بندرگاہ شُعَیْبَہ کی جانب تھا۔ خوش قسمتی سے وہاں دوتجارتی کشتیاں موجود تھیں، جو انہیں اپنے دامنِ عافیت میں لے کر سمندر پار حبشہ چلی گئیں۔ قریش کوکسی قدر بعد میں ان کی روانگی کا علم ہوسکا۔ تاہم انہوں نے پیچھا کیا اور ساحل تک پہنچے لیکن صحابہ کرام ؓ آگے جاچکے تھے ، اس لیے نامراد واپس آئے۔ ادھر مسلمانوں نے حبشہ پہنچ کر بڑے چین کا سانس لیا۔ 3
مسلمانوں کے ساتھ مشرکین کا سجدہ اور مہاجرین کی واپسی:
لیکن اسی سال رمضان شریف میں یہ واقعہ پیش آیا کہ نبیﷺ ایک بار حرم تشریف لے گئے۔ وہاں قریش کا بہت بڑا مجمع تھا۔ ان کے سردار اور بڑے بڑے لوگ جمع تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دم اچانک کھڑے ہو کر سورۂ نجم کی تلاوت شروع کردی۔ ان کفار نے اس سے پہلے عموماً قرآن سنانہ تھا۔ کیونکہ ان کا دائمی وطیرہ قرآن کے الفاظ میں یہ تھا کہ :
لَا تَسْمَعُوا لِهَـٰذَا الْقُرْ‌آنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ (۴۱: ۲۶)
”اس قرآن کو مت سنو اور اس میں خلل ڈالو۔ (اودھم مچاؤ) تاکہ تم غالب رہو۔”
لیکن جب نبیﷺ نے اچانک اس سورۂ کی تلاوت شروع کردی اور ان کے کانوں میں ایک ناقابل بیان رعنائی ودلکشی اور عظمت لیے ہوئے کلام الٰہی کی آواز پڑی تو انہیں کچھ ہوش نہ رہا۔ سب کے سب گوش بر آواز ہوگئے کسی کے دل میں کوئی خیال ہی نہ آیا۔ یہاں تک کہ جب آپ نے سورہ کے اواخر میں دل ہلا دینے والی آیات فرماکر اللہ کا یہ حکم سنایا کہ:
{فَاسْجُدُوْا لِلَّہِ وَاعْبُدُوْا} (۵۳: ۶۲ )
”اللہ کے لیے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو۔”
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے: السنن الکبریٰ للبیہقی ۹/۹ 2 زاد المعاد ۱/۲۴
3 زاد المعاد ۱/۲۴
اور اس کے ساتھ ہی سجدہ فرمایا تو کسی کو اپنے آپ پر قابو نہ رہا ، اور سب کے سب سجدے میں گر پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر حق کی رعنائی وجلال نے متکبرین ومستہزئین کی ہٹ دھرمی کا پردہ چاک کردیا تھا۔ اس لیے انہیں اپنے آپ پر قابو نہ رہ گیا تھا اور وہ بے اختیار سجدے میں گر پڑے تھے۔ 1
لیکن بعد میں جب انہیں احساس ہوا کہ کلامِ الٰہی کے جلال نے ان کی لگا م موڑدی اور وہ ٹھیک وہی کام کر بیٹھے جسے مٹانے اور ختم کرنے کے لیے انہوں نے ایڑی سے چوٹی تک کا زور لگا رکھا تھا اور اس کے ساتھ ہی اس واقعے میں غیر موجود مشرکین نے ان پر ہر طرف سے عتاب اور ملامت کی بوچھاڑ شروع کی تو ان کے ہاتھ کے طوطے اُڑ گئے اور انہوںنے اپنی جان چھڑانے کے لیے رسول اللہﷺ پر یہ افتراء پردازی کی اور یہ جھوٹ گھڑا کہ آپ نے ان بتوں کا ذکر عزت واحترام سے کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ :
((تلک الغرانیق العلی ، وان شفاعتھن لترتجی۔))
”یہ بلند پایہ دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے۔”
حالانکہ یہ صریح جھوٹ تھا جو محض اس لیے گھڑلیاگیا تھا تاکہ نبیﷺ کے ساتھ سجدہ کرنے کی جو” غلطی” ہو گئی ہے اس کے لیے ایک ”معقول” عذر پیش کیا جاسکے اور ظاہر ہے کہ جو لوگ نبیﷺ پر ہمیشہ جھوٹ گھڑتے اور آپ کے خلاف ہمیشہ دسیسہ کاری اور افتراء پردازی کرتے رہے تھے ، وہ اپنادامن بچانے کے لیے اس طرح کا جھوٹ کیوں نہ گھڑتے۔
بہرحال مشرکین کے سجدہ کرنے کے اس واقعے کی خبر حبشہ کے مہاجرین کو بھی معلوم ہوئی لیکن اپنی اصل صورت سے بالکل ہٹ کر۔ یعنی انہیں یہ معلوم ہوا کہ قریش مسلمان ہوگئے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ماہ شوال میں مکہ واپسی کی راہ لی لیکن جب اتنے قریب آگئے کہ مکہ ایک دن سے بھی کم فاصلے پر رہ گیا تو حقیقت حال آشکارا ہوئی۔ اس کے بعدکچھ لوگ تو سیدھے حبشہ پلٹ گئے اور کچھ لوگ چھپ چھپا کر یا قریش کے کسی آدمی کی پناہ لے کر مکے میںداخل ہوئے۔ 2
دوسری ہجرت حبشہ:
اس کے بعدان مہاجرین پر خصوصاً اور مسلمانوں پر عموماً قریش کا ظلم وتشدد ،جور وستم اور بڑھ گیا اور ان کے خاندان والوںنے انہیں خوب ستایا۔ کیونکہ قریش کو ان کے ساتھ نجاشی کے حسن وسلوک کی جو خبر ملی تھی اس پر وہ نہایت چیںبہ جبیں تھے۔ ناچار رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو پھر ہجرت حبشہ کا مشورہ دیا لیکن دوسری ہجرت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری میں اس سجدے کا واقعہ ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مختصراً مروی ہے ، دیکھئے: باب سجدۃ النجم اور باب سجود المسلمین والمشرکین ۱/۱۴۶ اور باب ما لقی النبی ﷺ واصحابہ بمکۃ ۱/۵۴۳
2 زاد المعاد ۱/۲۴، ۲/۴۴، ابن ہشام ۱/۳۶۴
پہلی ہجرت کے بالمقابل اپنے دامن میں زیادہ مشکلات لیے ہوئے تھی۔کیونکہ اب کی بار قریش پہلے سے ہی چوکنا تھے اورایسی کسی کوشش کو ناکام بنانے کا تہیہ کیے ہوئے تھے لیکن مسلمان ان سے کہیں زیادہ مستعد ثابت ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے سفر آسان بنادیا۔ چنانچہ وہ قریش کی گرفت میں آنے سے پہلے ہی شاہ حبش کے پاس پہنچ گئے۔
اس دفعہ کل ۸۲ یا۸۳ مردوں نے ہجرت کی (حضرت عمار کی ہجرت مختلف فیہ ہے) اور اٹھارہ یا انیس عورتوں نے۔ 1علامہ منصور پوری ؒنے جزم کے ساتھ عورتوں کی تعداد اٹھارہ لکھی ہے۔ 2
مہاجرینِ حبشہ کے خلاف قریش کی سازش:
مشرکین کو سخت قلق تھا کہ مسلمان اپنی جان اور اپنا دین بچا کر ایک پُر امن جگہ بھاگ گئے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے عَمرو بن عاص اور عبداللہ بن ربیعہ کو جو گہری سوجھ بوجھ کے مالک تھے اور ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک اہم سفارتی مہم کے لیے منتخب کیا اور ان دونوں کو نجاشی اور بطریقوں کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے بہترین تحفے اور ہدیے دے کر حبش روانہ کیا۔ ان دونوں نے پہلے حبش پہنچ کر بطریقوں کو تحائف پیش کیے۔ پھر انہیں اپنے ان دلائل سے آگاہ کیا ، جن کی بنیاد پر وہ مسلمانوں کوحبش سے نکلوانا چاہتے تھے۔ جب بطریقوں نے اس بات سے اتفاق کرلیا کہ وہ نجاشی کو مسلمانوں کے نکال دینے کا مشورہ دیں گے تو یہ دونوں نجاشی کے حضور حاضر ہوئے اور تحفے پیش کرکے اپنا مُدّعا عرض کیا۔ کہا:
” اے بادشاہ ! آپ کے ملک میں ہمارے کچھ ناسمجھ نوجوان بھاگ آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑدیا ہے لیکن آپ کے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں۔ بلکہ یہ ایک نیا دین ایجاد کیا ہے جسے نہ ہم جانتے ہیں نہ آپ۔ ہمیں آپ کی خدمت میں انہی کی بابت ان کے والدین چچائوں اور کنبے قبیلے کے عمائدین نے بھیجا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ آپ انہیں ان کے پاس واپس بھیج دیں۔ کیونکہ وہ لوگ ان پر سب سے اونچی نگاہ رکھتے ہیں اور ان کی خامی اور عتاب کے اسباب کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔” جب یہ دونوں اپنا مدعا عرض کر چکے تو بطریقوں نے کہا : بادشاہ سلامت ! یہ دونوں ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں۔ آپ ان جوانوںکو ان دونوں کے حوالے کردیں۔ یہ دونوں انہیں ان کی قوم اور ان کے ملک میں واپس پہنچادیں گے۔
لیکن نجاشی نے سوچا کہ اس قضیے کو گہرائی سے کھنگالنا اور اس کے تمام پہلوئوں کو سننا ضروری ہے۔ چنانچہ ا س نے مسلمانوں کو بلا بھیجا۔ مسلمان یہ تہیہ کر کے اس کے دربار میں آئے کہ ہم سچ ہی بولیں گے ، خواہ نتیجہ کچھ بھی ہو۔ جب مسلمان آگئے تو نجاشی نے پوچھا : یہ کونسا دین ہے جس کی بنیاد پر تم نے اپنی قوم سے علٰیحدگی اختیار کرلی ہے ؟ لیکن میرے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہو اور نہ ان ملتوں ہی میں سے کسی کے دین میں داخل ہوئے ہو ؟ مسلمانو ں کے ترجمان حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے کہا : اے بادشاہ ! ہم ایسی قوم تھے جو جاہلیت میں مبتلا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زاد المعاد ۱/۲۴ 2 رحمۃ للعالمین
تھی۔ ہم بُت پوجتے تھے ، مردار کھاتے تھے ، بدکاریاں کرتے تھے۔ قرابتداروں سے تعلق توڑتے تھے۔ ہمسایوں سے بد سلوکی کرتے تھے اور ہم میں سے طاقتور کمزور کو کھا رہا تھا، ہم اسی حالت میں تھے کہ اللہ نے ہم ہی میں سے ایک رسول بھیجا اس کی عالی نسبی ، سچائی ، امانت اور پاکدامنی ہمیں پہلے سے معلوم تھی۔ اس نے ہمیں اللہ کی طرف بلایا اور سمجھایا کہ ہم صرف ایک اللہ کو مانیں اور اسی کی عبادت کریں اور اس کے سوا جن پتھروں اور بتوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے انہیں چھوڑدیں۔ اس نے ہمیں سچ بولنے، امانت ادا کرنے ، قرابت جوڑنے ، پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے اور حرام کاری وخونریزی سے باز رہنے کا حکم دیا اور فواحش میں ملوث ہونے ، جھوٹ بولنے ، یتیم کا مال کھانے اور پاکدامن عورت پر جھوٹی تہمت لگا نے سے منع کیا۔ اس نے ہمیں یہ بھی حکم دیا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اس نے ہمیں نماز، روزہ، اور زکوٰۃ کا حکم دیا… اسی طرح حضرت جعفرؓ نے اسلام کے کام گنائے ، پھر کہا : ہم نے اس پیغمبر کو سچا مانا ، اس پر ایمان لائے اور اس کے لائے ہوئے دینِ الٰہی میں اس کی پیروی کی۔ چنانچہ ہم نے صرف اللہ کی عبادت کی۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا اور جن باتوں کو اس پیغمبر نے حرام بتایا انہیں حرام مانا اور جن کو حلال بتایا انہیں حلال جانا۔ اس پر ہماری قوم ہم سے بگڑ گئی۔ اس نے ہم پر ظلم وستم کیا اور ہمیں ہمارے دین سے پھیرنے کے لیے فتنے اور سزاؤں سے دوچار کیا۔ تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر بُت پرستی کی طرف پلٹ جائیں اور جن گندی چیزوں کو حلال سمجھتے تھے انہیں پھر حلال سمجھنے لگیں۔ جب انہوں نے ہم پر بہت قہر وظلم کیا ، زمین تنگ کردی اور ہمارے درمیان اور ہمارے دین کے درمیان روک بن کر کھڑے ہوگئے تو ہم نے آپ کے ملک کی راہ لی اور دوسروں پر آپ کو ترجیح دیتے ہوئے آپ کی پناہ میں رہنا پسند کیا اور یہ امید کی کہ اے بادشاہ ! آپ کے پاس ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
نجاشی نے کہا : وہ پیغمبر جو کچھ لائے ہیں اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہے ؟
حضرت جعفر ؓ نے کہا : ہاں !
نجاشی نے کہا : ذرا مجھے بھی پڑھ کر سنا ؤ۔
حضرت جعفرؓ نے سورہ ٔ مریم کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں۔ نجاشی اس قدر رویا کہ اس کی ڈاڑھی تر ہوگئی۔ نجاشی کے تمام اسقف بھی حضرت جعفر ؓ کی تلاوت سن کر اس قدر روئے کہ ان کے صحیفے تر ہوگئے۔ پھر نجاشی نے کہا کہ یہ کلام اور وہ کلا م جو عیسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے دونوں ایک ہی شمع دان سے نکلے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد نجاشی نے عَمرو بن عاص اور عبد اللہ بن ربیعہ کو مخاطب کر کے کہا کہ تم دونوں چلے جاؤ۔ میں ان لوگوں کو تمہارے حوالے نہیں کر سکتا اور نہ یہاں ان کے خلاف کوئی چال چلی جاسکتی ہے۔
اس کے حکم پر وہ دونوں وہاں سے نکل گئے ، لیکن پھر عمرو بن عاص نے عبد اللہ بن ربیعہ سے کہا : اللہ کی قسم ! کل ان کے متعلق ایسی بات لاؤں گا کہ ان کی ہریالی کی جڑ کاٹ کر رکھ دوں گا۔ عبد اللہ بن ربیعہ نے کہا : نہیں۔ ایسا نہ کرنا۔ ان لوگوں نے اگر چہ ہمارے خلاف کیا ہے لیکن ہیں بہر حال ہمارے اپنے ہی کنبے قبیلے کے لوگ۔ مگر عَمر و بن عاص اپنی رائے پر اَڑ ے رہے۔
اگلا دن آیا تو عَمرو بن عاص نے نجاشی سے کہا : اے بادشاہ ! یہ لوگ عیسیٰ ؑ بن مریم کے بارے میں ایک بڑی بات کہتے ہیں؟ اس پر نجاشی نے مسلمانوں کو پھر بلا بھیجا۔ وہ پوچھنا چاہتا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مسلمان کیا کہتے ہیں۔ اس دفعہ مسلمانوں کو گھبراہٹ ہوئی لیکن انہوں نے طے کیا کہ سچ ہی بولیں گے۔ نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو۔ چنانچہ جب مسلمان نجاشی کے دربار میں حاضر ہوئے اور اس نے سوال کیا تو حضرت جعفرؓ نے فرمایا :
ہم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہی بات کہتے ہیں جو ہمارے نبیﷺ لے کر آئے ہیں۔ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ، اس کے رسول ، اس کی روح اور اس کا کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری پاکدامن حضرت مریم علیہا السلام کی طرف القا کیا تھا۔
اس پر نجاشی نے زمین سے ایک تنکہ اٹھا یا اور بولا : اللہ کی قسم ! جو کچھ تم نے کہا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے اس تنکے کے برابر بھی بڑھ کر نہ تھے۔ اس پر بطریقوں نے ”ہونہہ” کی آواز لگائی۔ نجاشی نے کہا : اگر چہ تم لوگ ”ہونہہ” کہو۔
اس کے بعد نجاشی نے مسلمانوں سے کہا: جاؤ ! تم لوگ میرے قلمرو میں امن وامان سے ہو۔ جو تمہیں گالی دے گا اس پر تاوان لگا یا جائے گا۔ مجھے گوارا نہیں کہ تم میں سے مَیں کسی آدمی کو ستاؤں اور اس کے بدلے مجھے سونے کا پہاڑ مل جائے۔
اس کے بعد اس نے اپنے حاشیہ تشینوں سے مخاطب ہوکر کہا: ان دونوں کو ان کے ہدیے واپس کردو۔ مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے جب مجھے میرا ملک واپس کیا تھا تو مجھ سے کوئی رشوت نہیں لی تھی کہ مَیں اس کی راہ میں رشوت لوں۔ نیز اللہ نے میرے بارے میں لوگوں کی بات قبول نہ کی تھی کہ مَیں اللہ کے بارے میں لوگوں کی بات مانوں۔
حضرت ام سلمہ ؓ جنہوں نے اس واقعے کو بیان کیا ہے ، کہتی ہیں اس کے بعد وہ دونوںاپنے ہدیے تحفے لیے بے آبرو ہو کر واپس چلے گئے اور ہم نجاشی کے پاس ایک اچھے ملک میں ایک اچھے پڑوسی کے زیر سایہ مقیم رہے۔1
یہ ابن اسحاق کی روایت ہے۔ دوسرے سیرت نگاروں کا بیان ہے کہ نجاشی کے دربار میں حضرت عَمرو بن عاصؓ کی حاضری جنگ بدر کے بعد ہوئی تھی۔ بعض لوگوں نے تطبیق کی یہ صورت بیان کی ہے کہ حضرت عَمرو بن عاص ؓ نجاشی کے دربار میں مسلمانوں کی واپسی کے لیے دومرتبہ گئے تھے لیکن جنگ بدر کے بعد کی حاضری کے ضمن
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ملخصاً ۱/۳۳۴تا ۳۳۸
میں حضرت جعفرؓ اور نجاشی کے درمیان سوال وجواب کی جو تفصیلات بیان کی جاتی ہیں وہ تقریباً وہی ہیں جو ابن اسحاق نے ہجرت ِ حبشہ کے بعد حاضری کے سلسلے میں بیان کی ہیں۔ پھر ان سوالات کے مضامین سے واضح ہوتا ہے کہ نجاشی کے پاس یہ معاملہ ابھی پہلی بار پیش ہوا تھا۔ اس لیے ترجیح اس بات کو حاصل ہے کہ مسلمانوں کو واپس لانے کی کوشش صرف ایک بار ہوئی تھی اور وہ ہجرت حبشہ کے بعد تھی۔
ایذاء رسانی میں شدت اور رسول اللہﷺ کے قتل کی کوشش:
جب مشرکین اپنی چال میں کامیاب نہ ہوسکے، اور مہاجرینِ حبشہ کو واپس لانے کی کوشش میں منہ کی کھانی پڑی تو آپے سے باہر ہوگئے اور لگتا تھا کہ غیظ وغضب سے پھٹ پڑیں گے ، چنانچہ ان کی درندگی اور بڑھ گئی۔ ان کا دست جور رسول اللہﷺ تک بڑھ آیا اور ان کی نقل وحرکت سے یہ محسوس ہونے لگا کہ وہ آپﷺ کا خاتمہ کیا چاہتے ہیں ، تاکہ ان کے خیال میں جس فتنے نے ان کی خوابگاہوں کو خار زار بنارکھا ہے اسے بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکیں۔
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو اب مکہ میں جو مسلمان بچے کھچے رہ گئے تھے وہ بہت ہی تھوڑے تھے اور پھر صاحب شرف وعزت بھی تھے۔ یا کسی بڑے شخص کی پناہ میں تھے۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے بھی تھے اور حتی الامکان سرکشوں اور ظالموں کی نگاہوں سے دور رہتے تھے۔ مگر اس احتیاط اور بچاؤ کے باوجود بھی وہ ظلم وجور اور ایذاء رسانی سے مکمل طور پر محفوظ نہ رہ سکے۔
جہاں تک رسول اللہﷺ کا تعلق ہے تو آپ ظالموں کی نگاہوں کے سامنے نماز پڑھتے اور اللہ کی عبادت کرتے تھے اور خفیہ اور کھلم کھلا دونوں طرح اللہ کے دین کی دعوت دیتے تھے۔ اس سے آپ کو نہ کوئی روکنے والی چیز روک سکتی تھی اور نہ موڑنے والی چیز موڑ سکتی تھی۔ کیونکہ یہ اللہ کی رسالت کی تبلیغ کا ایک حصہ تھا اور اس پر آپ اس وقت سے کار بند تھے
جب سے اللہ کا یہ حکم نازل ہوا تھا : یعنی آپ کو جو حکم دیا جاتا ہے اسے ببانگ دہل بیان کیجیے اور مشرکین سے منہ پھیر ے رکھئے۔
چنانچہ اس صورتِ حال کی بناء پر مشرکین کے لیے ممکن تھا کہ آپ سے جب چاہیں چھیڑ چھاڑ کر بیٹھیں۔ بظاہر کوئی چیز نہ تھی جوا ن کے ، اور ان کے عزائم کے درمیان روک بن سکتی تھی۔ اگر کچھ تھا تو وہ نبیﷺ کا اپنا ذاتی شکوہ ووقار تھا۔ ابو طالب کا ذمہ واحترام تھا۔ یا اس بات کا اندیشہ تھا کہ اگر انہوں نے کوئی غلط حرکت کی تو انجام اچھا نہ ہوگا اور سارے بنوہاشم ان کے خلاف ڈٹ جائیں گے۔
مگر ان کے دلوں میں ان ساری باتوں کا مطلوبہ اثر بر قرار نہ رہ گیا تھا اور جب سے انہیں یہ محسوس ہو چلا تھا کہ آپﷺ کی دعوت کے سامنے ان کی دینی چودھراہٹ اور بت پرستانہ نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا چاہتا ہے۔ تب سے انہوں نے آپ کے ساتھ اوچھی حرکتیں کرنی شروع کردی تھیں۔ جو واقعات کتب حدیث وسیرت میں مروی ہیں اور قرائن شہادت دیتے ہیں کہ وہ اسی دور میں پیش آئے ، ان کے ایک دونمونے یہ ہیں کہ ایک روز ابولہب کا بیٹا عتیبہ رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور بولا: وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ ﴿١﴾ (۵۳: ۱) میں اور ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ (۵۳:۸) کے ساتھ کفر کرتا ہوں۔ اس کے بعد وہ آپ پر ایذا رسانی کے ساتھ مسلط ہوگیا، آپ کا کرتا پھاڑ دیا اور آپ کے چہرے پر تھوک دیا۔ اگر چہ تھوک آپ پر نہ پڑا۔ اسی موقع پرنبیﷺ نے بددعا کی کہ اے اللہ! اس پر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مسلط کر دے۔ نبیﷺ کی یہ بد دعا قبول ہوئی۔ چنانچہ عُتیبہ ایک بار قریش کے کچھ لوگوں کے ہمراہ سفر میں گیا۔ جب انہوں نے ملک شام کے مقام زَرْقاء میں پڑا ؤ ڈالا تو رات کے وقت شیر نے ان کا چکر لگایا۔ عُتیبہ نے دیکھتے ہی کہا : ہائے میری تباہی ! واللہ! یہ مجھے کھا جائے گا۔ جیسا کہ محمد نے مجھ پر بددعا کی ہے، دیکھو میں شام میں ہوں لیکن اس نے مکہ میں رہتے ہوئے مجھے مار ڈالا۔ احتیاطا ً لوگوں نے عتیبہ کو اپنے اور جانوروں کے گھیرے کے بیچوں بیچ سلایا لیکن رات کو شیر سب کو پھلانگتا ہوا سیدھا عُتَیبہ کے پاس پہنچا اور سر پکڑ کر ذبح کر ڈالا۔ 1
ایک بار عقبہ بن ابی مُعَیْط نے رسول اللہﷺ کی گردن حالتِ سجدہ میں اس زور سے روندی کہ معلوم ہوتا تھا دونوں آنکھیں نکل آئیں گی۔ 2
جہاں تک قریش کے دوسرے بد معاشوں کا تعلق ہے تو ان کے دلوں میں بھی نبیﷺ کے خاتمے کا خیال برابر پک رہا تھا۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے ابن اسحاق نے ان کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ایک بار مشرکین حَطِیْم میں جمع تھے، میں بھی موجود تھا۔ مشرکین نے رسول اللہﷺ کا ذکر چھیڑا اور کہنے لگے : اس شخص کے معاملے میں ہم نے جیسا صبر کیا ہے اس کی مثال نہیں۔ درحقیقت ہم نے اس کے معاملے میں بہت ہی بڑی بات پر صبر کیا ہے۔ یہ گفتگو چل ہی رہی تھی کہ رسول اللہﷺ نمودار ہوگئے۔ آپ نے تشریف لا کر پہلے حجر اسود کو چوما۔ پھر طواف کرتے ہوئے مشرکین کے پاس سے گزرے۔ انہوں نے کچھ کہہ کر طعنہ زنی کی۔ جس کا اثر میں نے آپ کے چہرے پر دیکھا۔ اس کے بعد دوبارہ آپ کا گزر ہوا تو مشرکین نے پھر اسی طرح لعن طعن کی۔ میں نے اس کا بھی اثر آپ کے چہرے پر دیکھا اس کے بعد آپ سہ بارہ گزرے تو مشرکین نے پھر آپ پر لعن طعن کی۔ اب کی بار آپ ٹھہر گئے اور فرمایا :
قریش کے لوگو! سن رہے ہو ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے پاس ذبح
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 مختصر السیرۃ شیخ عبد اللہ ص ۱۳۵، استیعاب ، اصابہ ، دلائل النبوۃ، الروض الانف
2 ایضاً مختصر السیرۃ ص ۱۱۳
لے کر آیا ہوں۔
آپ کے اس ارشاد نے لوگوں کو پکڑ لیا۔ (ان پر سکتہ طاری ہوا کہ ) گویا ہر آدمی کے سر پر چڑیا ہے۔ یہاں تک کہ جو آپ پر سب سے زیادہ سخت تھا وہ بھی بہتر سے بہتر لفظ جو پاسکتا تھا اس کے ذریعے آپ سے طلب گارِ رحمت ہونے لگا۔ کہتا کہ ! ابوالقاسم ! واپس چلے جایئے۔ اللہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی نادان نہ تھے۔
دوسرے دن قریش پھر اسی طرح جمع ہوکر آپ کا ذکر کر رہے تھے کہ آپ نمودار ہوئے۔ دیکھتے ہی سب (یکجان ہوکر ) ایک آدمی کی طرح آپ پر پل پڑے اور آپ کو گھیر لیا، پھر میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے گلے کے پاس سے آپ کی چادر پکڑ لی۔ (اور بل دینے لگا) ابوبکر ؓ آپ کے بچاؤ میں لگ گئے۔ وہ روتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے:
تم لوگ ایک آدمی کو اس لیے قتل کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ؟ اس کے بعد وہ لوگ آپ کو چھوڑ کر پلٹ گئے …عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ یہ سب سے سخت ترین ایذا رسانی تھی جو میں نے قریش کو کبھی کرتے ہوئے دیکھی۔1 انتھی ملخصًاصحیح بخاری میں حضرت عُروہ بن زُبیرؓ سے ان کا بیان مروی ہے کہ میں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ مشرکین نے نبیﷺ کے ساتھ جو سب سے سخت ترین بدسلوکی کی تھی آپ مجھے اس کی تفصیل بتایئے ؟ انہوں نے کہا کہ نبیﷺ خانہ کعبہ کے پاس حَطیم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آگیا، اس نے آتے ہی اپنا کپڑا آپ کی گردن میں ڈال کر نہایت سختی کے ساتھ آپ کا گلا گھونٹا۔ اتنے میں ابوبکر ؓ آپہنچے اور انہوں نے اس کے دونوں کندھے پکڑ کر دھکا دیا اور اسے نبیﷺ سے دور کرتے ہوئے فرمایا:
تم لوگ ایک آدمی کو اس لیے قتل کررہے ہوکہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔ 2حضرت اسماء ؓ کی روایت میں مزید تفصیل ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس یہ چیخ پہنچی کہ اپنے ساتھی کو بچاؤ۔ وہ جھٹ ہمارے پاس سے نکلے، ان کے سر پر چار چوٹیاں تھیں۔ وہ یہ کہتے ہوئے گئے کہ
تم لوگ ایک آدمی کو محض اس لیے قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ؟ مشرکین نبیﷺ کو چھوڑ کر ابوبکر ؓ پر پل پڑے۔ وہ واپس آئے تو حالت یہ تھی کہ ہم ان کی چوٹیوں کا جو بال بھی چھوتے تھے ، وہ ہماری (چٹکی ) کے ساتھ چلا آتا تھا۔ 3
حضرت حمزہؓ کا قبولِ اسلام:
مکہ کی فضا ظلم وجور کے ان سیاہ بادلوں سے گھمبیر تھی کہ اچانک ایک بجلی چمکی اور مقہوروں کا راستہ روشن
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۲۸۹، ۲۹۰
2 صحیح بخاری باب ذکر مالقی النبی ﷺ من المشرکین بمکۃ ۱/۵۴۴
3 مختصر السیرۃ شیخ عبد اللہ ص ۱۱۳
ہوگیا۔ یعنی حضرت حمزہؓ مسلمان ہوگئے۔ ان کے اسلام لانے کا واقعہ ۶ نبوی کے اخیر کا ہے اور اغلب یہ ہے کہ وہ ماہ ذی الحجہ میں مسلمان ہوئے تھے۔
ان کے اسلام لانے کا سبب یہ ہے کہ ایک روز ابوجہل کوہِ صفا کے نزدیک رسول اللہﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ کو ایذا پہنچائی اور سخت سست کہا۔ رسول اللہﷺ خاموش رہے اور کچھ بھی نہ کہا لیکن اس کے بعد اس نے آپ کے سر پر ایک پتھر دے مارا ، جس سے ایسی چوٹ آئی کہ خون بہہ نکلا۔ پھر وہ خانہ کعبہ کے پاس قریش کی مجلس میں جا بیٹھا۔ عبد اللہ بن جُدعان کی ایک لونڈی کوہِ صفا پر واقع اپنے مکان سے یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ حضرت حمزہؓ کمان حمائل کیے شکار سے واپس تشریف لائے تو اس نے ا ن سے ابوجہل کی ساری حرکت کہہ سنائی۔ حضرت حمزہ ؓ غصے سے بھڑک اٹھے … یہ قریش کے سب سے طاقتور اور مضبوط جوان تھے۔ ماجرا سن کر کہیں ایک لمحہ رکے بغیر دوڑتے ہوئے اور یہ تہیہ کیے ہوئے آئے کہ جوں ہی ابوجہل کا سامنا ہوگا ، اس کی مرمت کردیں گے۔ چنانچہ مسجد حرام میں داخل ہو کر سیدھے اس کے سر پر جاکھڑے ہوئے اور بولے : او اپنے چوتڑ سے پاد نکالنے والے ! تو میرے بھتیجے کو گالی دیتا ہے۔ حالانکہ میں بھی اسی کے دین پر ہوں۔ اس کے بعد کمان سے اس زور کی مار ماری کہ اس کے سر پر بدترین قسم کا زخم آگیا۔ اس پر ابوجہل کے قبیلے بنومخزوم اور حضرت حمزہ ؓ کے قبیلے بنوہاشم کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف بھڑک اٹھے لیکن ابوجہل نے یہ کہہ کر انہیں خاموش کردیا کہ ابوعمار ہ کو جانے دو۔ میں نے واقعی اس کے بھتیجے کو بہت بری گالی دی تھی۔1
ابتدائً حضرت حمزہؓ کا اسلام محض اس حمیت کے طور پر تھا کہ ان کے عزیز کی توہین کیوں کی گئی لیکن پھر اللہ نے ان کا سینہ کھول دیا اور انہوں نے اسلام کا کڑا مضبوطی سے تھام لیا 2اور مسلمانوں نے ان کی وجہ سے بڑی عزت وقوت محسوس کی۔
حضرت عمر ؓ کا قبولِ اسلا م:
ظلم وطغیان کے سیاہ بادلوں کی اسی گھمبیر فضا میں ایک اور برقِ تاباں کا جلوہ نمودار ہوا۔ جس کی چمک پہلے سے زیادہ حیرت کن تھی۔ یعنی حضرت عمرؓ مسلمان ہوگئے۔ ان کے اسلام کا واقعہ ۶نبوی کا ہے۔3وہ حضرت حمزہ ؓ کے صرف تین دن بعد مسلمان ہوئے تھے اور نبیﷺ نے ان کے اسلام لانے کے لیے دعا کی تھی۔ چنانچہ امام ترمذی ؒ نے ابن عمر سے روایت کی ہے اور اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔ اسی طرح طبرانی نے حضرت ابن مسعود اور حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
2 ابن ہشام ۱/۲۹۱، ۲۹۲
3 اس کا اندازہ مختصر السیرۃ شیخ عبد اللہ میں مذکور ایک روایت سے ہوتا ہے۔ دیکھئے: ص ۱۰۱
3 تاریخ عمر بن الخطاب لابن جوزی ص ۱۱
(( اللّٰھم أعز الاسلام بأحب الرجلین الیک ؛ بعمر بن الخطاب أو بأبی جھل بن ھشام۔))
” اے اللہ ! عمر بن خطاب اور ابو جہل بن ہشام میں سے جو شخص تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعے سے اسلام کو قوت پہنچا۔”
(اللہ نے یہ دعا قبول فرمائی اور حضرت عمر ؓ مسلمان ہوگئے ) اللہ کے نزدیک ان دونوں میں زیادہ محبوب حضرت عمرؓ تھے۔ 1
حضرت عمرؓ کے اسلام لانے سے متعلق جملہ روایات پر مجموعی نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے دل میں اسلام رفتہ رفتہ جاگزیں ہوا۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان روایات کا خلاصہ پیش کرنے پہلے حضرت عمرؓ کے مزاج اور جذبات واحساسات کی طرف بھی مختصرا ً اشارہ کر دیا جائے۔
حضرت عمرؓ اپنی تند مزاجی اور سخت خوئی کے لیے مشہور تھے۔ مسلمانوں نے طویل عرصے تک ان کے ہاتھوں طرح طرح کی سختیاں جھیلی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان میں متضاد قسم کے جذبات باہم دست وگریباں تھے۔ چنانچہ ایک طرف تو وہ آباء واجداد کی ایجاد کردہ رسموں کا بڑا احترام کرتے تھے اور بلا نوشی اور لہو لعب کے دلدادہ تھے لیکن دوسری طرف وہ ایمان وعقیدے کی راہ میں مسلمانوں کی پختگی اور مصائب کے سلسلے میں ان کی قوتِ برداشت کو خوشگوار حیرت وپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ پھر ان کے اندر کسی بھی عقلمند آدمی کی طرح شکوک وشبہات کا ایک سلسلہ تھا جو رہ رہ کر ابھرا کرتا تھا کہ اسلام جس بات کی دعوت دے رہا ہے غالباً وہی زیادہ برتر اور پاکیزہ ہے۔ اسی لیے ان کی کیفیت (دم میں ماشہ دم میں تولہ کی سی ) تھی۔ کہ ابھی بھڑکے اور ابھی ڈھیلے پڑ گئے۔
حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کے متعلق تمام روایات کا خلاصہ مع جمع وتطبیق یہ ہے کہ ایک رات انہیں گھر سے باہر رات گزارنی پڑی۔ وہ حرم تشریف لائے اور خانۂ کعبہ کے پردے میں گھس گئے۔ اس وقت نبیﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور سورۃ الحاقہ کی تلاوت فرمارہے تھے۔ حضرت عمرؓ قرآن سننے لگے اور اس کی تالیف پر حیرت زدہ رہ گئے۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے…اپنے جی میں… کہا : اللہ کی قسم! یہ تو شاعر ہے جیساکہ قریش کہتے ہیں ، لیکن اتنے میں آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ﴿٤٠﴾ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ ﴿٤١﴾ (۶۹: ۴۰، ۴۱)
”یہ ایک بزرگ رسول کا قول ہے۔ یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے۔ تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔”
حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں نے …اپنے جی میں …کہا : (اوہو ) یہ تو کاہن ہے لیکن اتنے میں آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ترمذی ابواب المناقب ! مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب ۲/۲۰۹
وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ﴿٤٢﴾ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٤٣﴾ (۶۹: ۴۲ تا۴۳ )
”یہ کسی کاہن کا قول بھی نہیں۔ تم لوگ کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔ یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔” ”اخیر سورۃ تک ”
حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ اس وقت میرے دل میں اسلام جاگزیں ہو گیا۔1
یہ پہلا موقع تھا کہ حضرت عمرؓ کے دل میں اسلام کا بیج پڑا ، لیکن ابھی ان کے اندر جاہلی جذبات ، تقلیدی عصبیت اور آباء واجداد کے دین کی عظمت کے احساس کا چھلکا اتنا مضبوط تھا کہ نہاں خانہ ٔ دل کے اندر مچلنے والی حقیقت کے مغز پر غالب رہا۔ اس لیے وہ اس چھلکے کی تہہ میں چھپے ہوئے شعور کی پرواہ کیے بغیر اپنے اسلام دشمن عمل میں سرگرداں رہے۔
ان کی طبیعت کی سختی اور رسول اللہﷺ سے فرط عداوت کا یہ حال تھا کہ ایک روز خود جناب محمد رسول اللہﷺ کا کام تمام کرنے کی نیت سے تلوار لے کر نکل پڑے لیکن ابھی راستے ہی میں تھے کہ نعیم بن عبد اللہ النحام عدوی 2سے یا بنی زہرہ3 یا بنی مخزوم4 کے کسی آدمی سے ملاقات ہوگئی۔ اس نے تیور دیکھ کر پوچھا : عمر ! کہا ں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا : محمد کو قتل کرنے جارہا ہوں۔ اس نے کہا : محمد کو قتل کرکے بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے کیسے بچ سکو گے ؟ حضرت عمرؓ نے کہا : معلوم ہوتا ہے تم بھی اپنا پچھلا دین چھوڑ کر بے دین ہو چکے ہو۔ اس نے کہا :عمر ! ایک عجیب بات نہ بتا دوں ؟ تمہاری بہن اور بہنوئی بھی تمہارا دین چھوڑ کر بے دین ہوچکے ہیں۔ یہ سن کے عمر غصے سے بے قابو ہوگئے اور سیدھے بہن بہنوئی کا رخ کیا۔ وہاں انہیں حضرت خباب بن ارتؓ سورۂ طہٰ پر مشتمل ایک صحیفہ پڑھا رہے تھے اور قرآن پڑھانے کے لیے وہاں آنا جانا حضرت خباب ؓکا معمول تھا۔جب حضرت خباب ؓنے حضرت عمرؓ کی آہٹ سنی تو گھر کے اندر چھپ گئے۔ ادھر حضرت عمر ؓ کی بہن فاطمہ ؓ نے صحیفہ چھپا دیا لیکن حضرت عمر ؓ گھر کے قریب پہنچ کر حضرت خباب ؓ کی قراء ت سن چکے تھے۔ چنانچہ پوچھا کہ یہ کیسی دھیمی دھیمی آواز تھی جو تم لوگوں کے پاس میں نے سنی تھی ؟ انہوں نے کہا کچھ بھی نہیں۔ بس ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے کہا : غالباً تم دونوں بے دین ہوچکے ہو۔ بہنوئی نے کہا: اچھا عمر ! یہ بتاؤ اگر حق تمہارے دین کے بجائے کسی اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 تاریخ عمر بن خطاب لابن الجوزی ص ۶ ، ابن اسحاق نے عطاء اور مجاہد سے بھی تقریباً یہی بات نقل کی ہے۔ البتہ اس کا آخری ٹکڑا اس سے مختلف ہے۔ دیکھئے: سیرۃ ابن ہشام ۱/۳۴۶، ۳۴۸ ، اور خود ابن ِ جوزی نے بھی حضرت جابرؓ سے اسی کے قریب قریب روایت نقل کی ہے۔لیکن اس کا آخری حصہ بھی اس روایت سے مختلف ہے۔ دیکھئے: تاریخ عمر بن الخطاب ص ۹- ۱۰
2 یہ ابن اسحاق کی روایت ہے۔ دیکھئے : ابن ہشام ۱/۳۴۴
3 یہ حضرت انسؓ سے مروی ہے۔ دیکھئے : تاریخ عمر بن الخطاب لابن الجوزی۔ص ۱۰۔
4 یہ ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ دیکھئے : مختصر السیرۃ ایضا ًص ۱۰۲
دین میں ہو تو ؟ حضرت عمر ؓ کا اتنا سننا تھا کہ اپنے بہنوئی پر چڑھ بیٹھے اور انہیں بری طرح کچل دیا۔ ان کی بہن نے لپک کر انہیں اپنے شوہر سے الگ کیا تو بہن کو ایسا چانٹا مارا کہ چہرہ خون آلودہوگیا۔ ابن اسحاق کی روایت ہے کہ ان کے سر میں چوٹ آئی۔ بہن نے جوش غضب میں کہا : عمر ! اگر تیرے دین کے بجائے دوسرا ہی دین برحق ہو تو ؟ أشھد أن لا الٰہ الا اللّٰہ وأشھد أنَّ محمدًا رسول اللّٰہ میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق ِ عبادت نہیں اور میں شہادت دیتی ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ پر مایوسی کے بادل چھا گئے اور انہیں اپنی بہن کے چہرے پر خون دیکھ کر شرم و ندامت بھی محسوس ہوئی۔ کہنے لگے: اچھا یہ کتاب جو تمہارے پاس ہے ذرا مجھے بھی پڑھنے کو دو۔ بہن نے کہا: تم ناپاک ہو۔ اس کتا ب کو صرف پاک لوگ ہی چھوسکتے ہیں۔ اٹھو غسل کرو۔ حضرت عمر ؓ نے اٹھ کر غسل کیا۔ پھر کتاب لی اور ”z” پڑھی۔ کہنے لگے: یہ تو بڑے پاکیزہ نام ہیں۔ اس کے بعد
سے (۲۰: ۱۴) تک قراء ت کی۔ کہنے لگے: یہ تو بڑا عمدہ اور بڑا محترم کلام ہے۔ مجھے محمدﷺ کا پتہ بتاؤ !حضرت خباب ؓ حضرت عمر ؓ کے یہ فقرے سن کر اندر سے باہر آگئے۔ کہنے لگے : عمر خوش ہو جاؤ! مجھے امید ہے کہ رسول اللہﷺ نے جمعرات کی رات تمہارے متعلق جو دعا کی تھی ( کہ اے اللہ ! عمر بن خطاب یا ابو جہل بن ہشام کے ذریعے اسلام کو قوت پہنچا) یہ وہی ہے اور اس وقت رسول اللہﷺ کوہ صفا کے پاس والے مکان میں تشریف فرماہیں۔
یہ سن کر حضرت عمرؓ نے اپنی تلوار حمائل کی اور اس گھر کے پاس آکر دروازے پر دستک دی۔ ایک آدمی نے اٹھ کر دروازے کی دراز سے جھانکا تو دیکھا کہ عمر تلوار حمائل کیے موجود ہیں۔ لپک کر رسول اللہﷺ کو اطلاع دی اور سارے لوگ سمٹ کر یکجا ہوگئے۔ حضرت حمزہؓ نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا : عمر ہیں۔ حضرت حمزہ ؓ نے کہا : بس ! عمر ہے۔ دروازہ کھول دو، اگر وہ خیر کی نیت سے آیا ہے تو اسے ہم عطا کریں گے اور اگر کوئی برا ارادہ لے کر آیا ہے تو ہم اسی کی تلوار سے اس کا کام تمام کردیں گے۔ ادھر رسول اللہﷺ اندر تشریف فرما تھے۔ آپ پر وحی نازل ہورہی تھی۔ وحی نازل ہوچکی تو حضرت عمر ؓ کے پاس تشریف لائے۔ بیٹھک میں ان سے ملاقات ہوئی۔ آپ نے ان کے کپڑے اور تلوار کا پر تلا سمیٹ کر پکڑا اور سختی سے جھٹکتے ہوئے فرمایا : عمر ! کیا تم اس وقت تک باز نہیں آؤ گے جب تک اللہ تعالیٰ تم پر بھی ویسی ہی ذلت ورسوائی اور عبرتناک سزا نازل نہ فرمادے جیسی ولید بن مغیرہ پر نازل ہو چکی ہے ؟ یا اللہ ! یہ عمر بن خطاب ہے۔ یا اللہ ! اسلام کو عمر بن خطاب کے ذریعے قوت وعزت عطا فرما۔ آپ کے اس ارشاد کے بعد حضرت عمر ؓ نے حلقہ بگوش اسلام ہوتے ہوئے فرمایا: أشھد أن لا الہ الا اللّٰہ وأنک رسول اللّٰہ (میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا اللہ کے سوا کوئی لائق ِ عبادت نہیں اور یقینا آپ اللہ کے رسول
ہیں )یہ سن کر گھر کے اندر موجود صحابہ ؓ نے اس زور سے تکبیر کہی کہ مسجد الحرام والوں کو سنائی پڑی۔ 1 معلوم ہے کہ حضرت عمر ؓ کی زور آوری کا حال یہ تھا کہ کوئی ان سے مقابلے کی جرأت نہ کرتا تھا۔ اس لیے ان کے مسلمانوں ہوجانے سے مشرکین میں کہرام مچ گیا اور انہیں بڑی ذلت ورسوائی محسوس ہوئی۔
دوسری طرف ان کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو بڑی عزت وقوت ، شرف واعزاز اور مسرت وشادمانی حاصل ہوئی۔ چنانچہ ابن ِ اسحاق نے اپنی سند سے حضرت عمرؓ کا بیان روایت کیا ہے کہ جب میں مسلمان ہوا تو میں نے سوچا کہ مکے کا کون شخص رسول اللہﷺ کا سب سے بڑا اور سخت ترین دشمن ہے ؟ پھر میں نے جی ہی جی میں کہا یہ ابو جہل ہے۔ اس کے بعد میں نے اس کے گھر جاکر اس کا دروازہ کھٹکھٹا یا۔ وہ باہر آیا۔ دیکھ کر بولا :أھلًا وسھلًا (خوش آمدید ، خوش آمدید ) کیسے آنا ہوا ؟ میں نے کہا : تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ میں اللہ اور اس کے رسول محمدﷺ پر ایمان لاچکا ہوں اور جو کچھ وہ لے کر آئے ہیں اس کی تصدیق کرچکا ہوں۔ حضرت عمر ؓ کا بیان ہے کہ (یہ سنتے ہی ) اس نے میرے رخ پر دروازہ بند کر لیا اور بولا : اللہ تیرا برا کرے اور جو کچھ تو لے کر آیا ہے اس کا بھی برا کر ے۔ 2
امام ابن جوزی نے حضرت عمرؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب کوئی شخص مسلمان ہوجاتا تو لوگ اس کے پیچھے پڑ جاتے، اسے زدوکوب کرتے اور وہ بھی انہیں مارتا۔ اس لیے جب میں مسلمان ہوا تو اپنے ماموں عاصی بن ہاشم کے پاس گیا اور اسے خبر دی۔ وہ گھر کے اندر گھس گیا، پھر قریش کے ایک بڑے آدمی کے پاس گیا -شاید ابوجہل کی طرف اشارہ ہے… اور اسے خبر دی وہ بھی گھر کے اندر گھس گیا۔ 3
ابن ہشام اور ابن ِ جوزی کا بیان ہے کہ جب حضرت عمر ؓ مسلمان ہوئے تو جمیل بن معمر جمحی کے پاس گئے۔ یہ شخص کسی بات کا ڈھول پیٹنے میں پورے قریش کے اندر سب سے زیادہ ممتاز تھا۔ حضرت عمر ؓ نے اسے بتایا کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ اس نے سنتے ہی نہایت بلند آواز سے چیخ کر کہا کہ خطاب کا بیٹا بے دین ہو گیا ہے۔ حضرت عمر ؓ اس کے پیچھے ہی تھے۔ بولے :یہ جھوٹ کہتا ہے۔ میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ بہر حال لوگ حضرت عمر ؓ پر ٹوٹ پڑے اور مار پیٹ شروع ہوگئی۔ لوگ حضرت عمر ؓ کو مار رہے تھے اور حضرت عمر ؓ لوگوں کو مار رہے تھے۔ یہاں تک کہ سورج سر پر آگیا اور حضرت عمر ؓ تھک کر بیٹھ گئے۔ لوگ سر پر سوار تھے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: جو بن پڑے کر لو۔ اللہ کی قسم !اگر ہم لو گ تین سو کی تعداد میں ہوتے تو پھر مکے میں یا تو تم ہی رہتے یا ہم ہی رہتے۔ 4
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 تاریخ عمر بن الخطاب ص ۷، ۱۰، ۱۱ ، سیرت ابن ہشام ۱/۳۴۳ تا۳۴۶
2 ابن ہشام ۱/۳۴۹ ، ۳۵۰ 3 تاریخ عمر بن الخطاب ص ۸
4 ایضاً ص ۸ابن ہشام ۱/۳۴۸، ۳۴۹، ابن حبان (مرتب ) ۹/۱۶، المعجم الاوسط للطبرانی ۲/۱۷۲ (حدیث نمبر ۱۳۱۵)
اس کے بعد مشرکین نے اس ارادے سے حضرت عمرؓ کے گھر پر ہلہ بول دیا کہ انہیں جان سے مار ڈالیں۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت ابن ِ عمرؓ سے مروی ہے کہ حضرت عمر ؓ خوف کی حالت میں گھر کے اندر تھے کہ اس دوران ابو عَمرو عاص بن وائل سہمی آگیا۔ وہ دھاری دار یمنی چادر کا جوڑا اور ریشمی گوٹے سے آراستہ کرتا زیب تن کیے ہوئے تھا۔ اس کاتعلق قبیلہ سَہم سے تھا اور یہ قبیلہ جاہلیت میں ہمارا حلیف تھا۔ اس نے پوچھا: کیا بات ہے؟ حضرت عمر ؓ نے کہا: میں مسلمان ہوگیا ہوں ، اس لیے آپ کی قوم مجھے قتل کرنا چاہتی ہے۔ عاص نے کہا : یہ ممکن نہیں۔ عاص کی یہ بات سن کر مجھے اطمینان ہوگیا۔ اس کے بعد عاص وہاں سے نکلا اور لوگوں سے ملا۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ لوگوں کی بھیڑ سے وادی کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ عاص نے پوچھا :کہاں کا ارادہ ہے ؟ لوگوں نے کہا : یہی خطاب کا بیٹا مطلوب ہے جو بے دین ہوگیا ہے۔ عاص نے کہا : اس طرف کوئی راہ نہیں۔ یہ سنتے ہی لوگ واپس پلٹ گئے۔ 1 ابن ِ اسحاق کی ایک روایت میں ہے کہ واللہ! ایسا لگتا تھا گویا وہ لوگ ایک کپڑا تھے جسے اس کے اوپر سے جھٹک کر پھینک دیا گیا۔ 2
حضرت عمرؓ کے اسلام لانے پر یہ کیفیت تو مشرکین کی ہوئی تھی۔ باقی رہے مسلمان تو ان کے احوال کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ مجاہد نے ابنِ عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عمر ؓ بن الخطاب سے دریافت کیا کہ کس وجہ سے آپ کا لقب فاروق پڑا ؟ تو انہوں نے کہا: مجھ سے تین دن پہلے حضرت حمزہؓ مسلمان ہوئے ، پھر حضرت عمر ؓ نے ان کے اسلام لانے کا واقعہ بیان کر کے اخیر میں کہا کہ پھر جب میں مسلمان ہوا تو — میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں، خواہ زندہ رہیں، خواہ مریں ؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم لوگ حق پر ہو خواہ زندہ رہو خواہ موت سے دوچار ہو … حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ تب میں نے کہا کہ پھر چھپنا کیسا ؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، ہم ضرور باہر نکلیں گے۔ چنانچہ ہم دوصفوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمراہ لے کر باہر آئے۔ ایک صف میں حمزہ ؓ تھے اور ایک میں میں تھا۔ ہمارے چلنے سے چکی کے آٹے کی طرح ہلکا ہلکا غبار اڑ رہا تھا یہاں تک کہ ہم مسجد حرام میں داخل ہوگئے۔ حضرت عمر ؓ کا بیان ہے کہ قریش نے مجھے اور حمزہ ؓ کو دیکھا تو ان کے دلوں پر ایسی چوٹ لگی کہ اب تک نہ لگی تھی۔ اسی دن رسول اللہﷺ نے میرا لقب فاروق رکھ دیا۔ 3
حضرت ابن مسعودؓ کا ارشاد ہے کہ ہم خانۂ کعبہ کے پاس نماز پڑھنے پر قادر نہ تھے۔ یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ نے اسلام قبول کیا۔4
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری باب اسلام عمر بن الخطاب ۱/۵۴۵
2 ابن ہشام ۱/۳۴۹ 3 تاریخ عمر بن الخطاب لابن الجوزی ص ۶،۷
4 مختصر السیرۃ للشیخ عبد اللہ ص ۱۰۳
حضرت صہیب بن سنا ن رومیؓ کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے تو اسلام پر دے سے باہر آیا، اس کی علانیہ دعوت دی گئی۔ ہم حلقے لگا کر بیت اللہ کے گرد بیٹھے ، بیت اللہ کا طواف کیا ، اور جس نے ہم پر سختی کی اس سے انتقام لیا اور اس کے بعض مظالم کا جواب دیا۔ 1
حضرت ابنِ مسعودؓ کا بیان ہے کہ جب سے حضرت عمر ؓ نے اسلام قبول کیا تب سے ہم برابر طاقتور اور باعزت رہے۔ 2
قریش کے نمائندہ رسول اللہﷺ کے حضور میں:
ان دونو ں بطلِ جلیل، یعنی حضرت حمزہ بن عبد المطلب اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے مسلمان ہوجانے کے بعد ظلم وطغیان کے بادل چھٹنا شروع ہوگئے اور مسلمانوں کو جور وستم کا تختۂ مشق بنانے کے لیے مشرکین پر جو بدمستی چھائی تھی اس کی جگہ سوجھ بوجھ نے لینی شروع کی۔ چنانچہ مشرکین نے یہ کو شش کی کہ اس دعوت سے نبیﷺ کا جو منشا اور مقصود ہوسکتاہے اسے فراواں مقدار میں فراہم کرنے کی پیشکش کر کے آپ کو آپ کی دعوت وتبلیغ سے باز رکھنے کے لیے سودے بازی کی جائے لیکن ان غریبوں کو یہ پتہ نہ تھا کہ وہ پوری کائنات ، جس پر سورج طلوع ہوتا ہے ، آپ کی دعوت کے مقابل پرِکاہ حیثیت بھی نہیں رکھتی، اس لیے انہیں اپنے اس منصوبے میں ناکام ونامراد ہونا پڑا۔
ابن اسحاق نے یزید بن زیاد کے واسطے سے محمد بن کعب قرظی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ مجھے بتایا گیا کہ عُتبہ بن ربیعہ نے جو سر دارِ قوم تھا۔ ایک روز قریش کی محفل میں کہا… اور اس وقت رسول اللہﷺ مسجدِ حرام میں ایک جگہ تن تنہا تشریف فرما تھے… کہ قریش کے لوگو ! کیوں نہ میںمحمد کے پاس جاکر ان سے گفتگو کروں ، اور ان کے سامنے چند امور پیش کروں ، ہوسکتا ہے وہ کوئی چیز قبول کر لے۔ توجو کچھ وہ قبول کر لیں گے ، اسے دے کر ہم انہیں اپنے آپ سے باز رکھیں گے؟… یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت حمزہ ؓ مسلمان ہوچکے تھے اور مشرکین نے یہ دیکھ لیا تھا کہ مسلمانوں کی تعداد برابر بڑھتی ہی جارہی ہے …
مشرکین نے کہا : ابوالولید ! آپ جایئے اور ان سے بات کیجیے ! اس کے بعد عتبہ اٹھا اور رسول اللہﷺ کے پاس جاکر بیٹھ گیا۔ پھر بولا : بھتیجے ! ہماری قوم میں تمہارا جو مرتبہ ٔ ومقام ہے اور جو بلند پایہ نسب ہے، وہ تمہیں معلوم ہی ہے اور اب تم اپنی قوم میں ایک بڑا معاملہ لے کر آئے ہو جس کی وجہ سے تم نے ان کی جماعت میں تفرقہ ڈال دیا ہے۔ ان کی عقلوں کو حماقت سے دوچار قرار دیا۔ ان کے معبودوں اور ان کے دین پر عیب چینی کی اور ان کے جو آباء و اجداد گزر چکے ہیں انہیں کا فر ٹھہرایا۔ لہٰذا میری بات سنو ! میں تم پر چند باتیں پیش کر رہا ہوں ، ان پر غور کرو۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 تاریخ عمر بن الخطاب لابن الجوزی ۱۳
2 صحیح البخاری :باب اسلام عمر بن الخطاب ۱/۵۴۵
ہوسکتا ہے کوئی با ت قبول کر لو۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ابو الولید کہو! میں سنو ں گا۔ ابو الولید نے کہا :
بھتیجے ! یہ معاملہ جسے تم لے کر آئے ہو اگر اس سے تم یہ چاہتے ہو کہ مال حاصل کرو تو ہم تمہارے لیے اتنا مال جمع کیے دیتے ہیں کہ تم ہم میں سب سے مالدار ہوجاؤ اور اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اعزاز و مرتبہ حاصل کرو تو ہم تمہیں اپنا سردار بنائے لیتے ہیں، یہاں تک کہ تمہارے بغیر کسی معاملہ کا فیصلہ نہ کریں گے اور اگر تم چاہتے ہو کہ بادشاہ بن جاؤ تو ہم تمہیں اپنا باد شاہ بنائے لیتے ہیں اور اگر یہ جو تمہارے پاس آتا ہے کوئی جن بھوت ہے جسے تم دیکھتے ہو لیکن اپنے آپ سے دفع نہیںکر سکتے تو ہم تمہارے لیے اس کا علاج تلاش کیے دیتے ہیں اور اس سلسلے میں ہم اپنا مال خرچ کر نے کو تیار ہیں کہ تم شفایاب ہو جاؤ۔ کیونکہ کبھی کبھی ایسا ہو تا ہے کہ جن بھوت انسان پر غالب آجاتا ہے اور اس کا علاج کروانا پڑتا ہے۔
عتبہ یہ باتیں کہتا رہا اور رسول اللہﷺ سنتے رہے۔ جب فارغ ہوچکا تو آپ نے فرمایا : ابوالولید! تم فارغ ہوگئے؟ اس نے کہا : ہاں۔ آپ نے فرمایا: اچھا اب میری سنو۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ سنوں گا۔ آپ نے فرمایا :
حم ﴿١﴾ تَنزِيلٌ مِّنَ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿٢﴾ كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿٣﴾ بَشِيرًا وَنَذِيرًا فَأَعْرَضَ أَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ ﴿٤﴾ وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ وَفِي آذَانِنَا وَقْرٌ وَمِن بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ إِنَّنَا عَامِلُونَ ﴿٥﴾ (۴۱: ۱ تا ۵)
” حم۔ یہ رحمن ورحیم کی طرف سے نازل کی ہوئی ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی گئی ہیں۔ عربی قرآن ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔ بشارت دینے والا۔ ڈرانے والا لیکن اکثر لو گوں نے اعراض کیا اور وہ سنتے نہیں۔ کہتے ہیں کہ جس چیزکی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس کے لیے ہمارے دلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے… الخ ”
رسول اللہﷺ آگے پڑھتے جارہے تھے اور عتبہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹیکے چپ چاپ سنتا جارہا تھا۔ جب آپ سجدے کی آیت پر پہنچے تو آپ نے سجدہ کیا، پھر فرمایا : ابو الولید ! تمہیں جو سننا تھا سن چکے اب تم جانو اور تمہارا کام جانے۔
عتبہ اٹھا اور سیدھا اپنے ساتھیوں کے پاس آیا۔ اسے آتا دیکھ کر مشرکین نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا : اللہ کی قسم ! ابو الولید تمہارے پاس وہ چہرہ لے کر نہیں آرہا ہے جو چہرہ لے کر گیا تھا۔ پھر جب ابوالولید آکر بیٹھ گیا تو لوگوں نے پوچھا : ابوالولید ! پیچھے کی کیا خبر ہے ؟ اس نے کہا: پیچھے کی خبر یہ ہے کہ میں نے ایسا کلام سنا ہے کہ اس جیسا کلام واللہ! میں نے کبھی نہیں سنا۔ اللہ کی قسم ! وہ نہ شعر ہے نہ جادو ، نہ کہانت ، قریش کے لوگو! میری بات مانو اور اس معاملے کو مجھ پر چھوڑ دو۔ (میری رائے یہ ہے کہ ) اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ کر الگ تھلگ بیٹھ رہو۔ اللہ کی قسم! میں نے اس کا جو قول سنا ہے اس سے کوئی زبردست واقعہ رونما ہو کر رہے گا۔ پھر اگر اس شخص کو عرب نے مار ڈالا تو تمہارا کام دوسروں کے ذریعے انجام پاجائے گا اور اگر یہ شخص عرب پر غالب آگیا تو اس کی بادشاہت تمہاری بادشاہت اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور اس کا وجود سب سے بڑھ کر تمہارے لیے سعادت کا باعث ہوگا۔ لوگوں نے کہا: ابوالولید ! اللہ کی قسم! تم پر بھی اس کی زبان کا جادو چل گیا۔ عتبہ نے کہا : اس شخص کے بارے میں میری رائے یہی ہے اب تمہیں جو ٹھیک معلوم ہو کرو۔ 1
ایک دوسری روایت میں یہ مذکور ہے کہ نبیﷺ نے جب تلاوت شروع کی تو عتبہ چپ چاپ سنتا رہا۔ جب آپ اللہ تعالیٰ کے اس قول پر پہنچے فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ ﴿١٣﴾ (۴۱: ۱۳) (پس اگر وہ روگردانی کریں تو تم کہہ دو کہ میں تمہیں عادوثمود کی کڑک جیسی ایک کڑک کے خطرے سے آگا ہ کر رہا ہوں )تو عتبہ تھرا کر کھڑا ہوگیا اور یہ کہتے ہوئے اپنا ہاتھ رسول اللہﷺ کے منہ پر رکھ دیا کہ میں آپ کو اللہ کااور قرابت کا واسطہ دیتا ہوں (کہ ایسا نہ کریں) اسے خطر ہ تھا کہ کہیں یہ ڈراوا آن نہ پڑے۔ اس کے بعد وہ قوم کے پاس گیا اور مذکورہ گفتگو ہو ئی۔ 2
رسول اللہﷺ سے رؤسائے قریش کی بات چیت:
عتبہ کی مذکورہ پیش کش کا جس انداز میں رسول اللہﷺ نے جواب دیا تھا اس سے قریش کی توقعات پورے طور سے ختم نہیں ہوئی تھیں۔ کیونکہ آپ کے جواب میں ان کی پیشکش کو ٹھکرانے یا قبول کرنے کی صراحت نہ تھی۔ بس آپ نے چند آیات تلاوت کر دیں تھیں ، جنہیں عتبہ پورے طور پر سمجھ نہ سکا تھا اور جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا گیا تھا۔ اس لیے قریش نے آپس میں پھرمشورہ کیا۔ معاملے کے پہلوؤں پر نظر دوڑائی اور سارے امکانات کا غور وخوض کے ساتھ جائزہ لیا۔ اس کے بعد ایک دن سورج ڈوبنے کے بعد کعبہ کی پشت پر جمع ہوئے اور رسول اللہﷺ کو بلا بھیجا۔ آپ خیر کی توقع لیے ہوئے جلدی سے تشریف لائے۔ جب ان کے درمیان بیٹھ چکے تو انہوں نے ویسی ہی باتیں کہیں جیسی عتبہ نے کہی تھیں اور وہی پیشکش کی جو عتبہ نے کی تھی۔ شاید ان کا خیال رہا ہو کہ ممکن ہے تنہا عتبہ کے پیشکش کرنے سے آپ کو پورا اطمینان نہ ہوا ہو۔ اس لیے جب سارے رؤساء مل کر اس پیشکش کو دہرائیں گے تو اطمینان ہوجائے گا اور آپ اسے قبول کر لیں گے۔ مگر آپﷺ نے فرمایا :
”میرے ساتھ وہ بات نہیں جو آپ لوگ کہہ رہے ہیں۔ میں آپ لوگوں کے پاس جو کچھ لے کر آیا ہوں وہ اس لیے نہیں لے کر آیا ہوںکہ مجھے آپ کا مال مطلوب ہے۔ یا آپ کے اندر شرف مطلوب ہے۔ یا آپ پر حکمرانی مطلوب ہے۔ نہیں بلکہ مجھے اللہ نے آپ کے پاس پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ مجھ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۲۹۳،۲۹۴۔ اس کا ایک جزء المعجم الصغیر للطبرانی میں بھی ہے(۱/۲۶۵)
2 تفسیر ابن کثیر ۶/۱۵۹، ۱۶۰، ۱۶۱
پر اپنی کتاب اتاری ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو خوشخبری دوں اور ڈراؤں۔ لہٰذا میں نے آپ لوگوں تک اپنے رب کے پیغامات پہنچا دے اور آپ لوگوں کو نصیحت کردی۔ اب اگر آپ لوگ میری لائی ہوئی بات قبول کرتے ہیں تو یہ دنیا اور آخرت میں آپ کا نصیب ہے اور اگر رد کرتے ہیں تو میں اللہ کے امر کا انتظار کروں گا ، یہاں تک کہ وہ میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ فرمادے۔”
اس جواب کے بعد انہوں نے ایک دوسرا پہلو بدلا کہنے لگے: آپ اپنے رب سے سوال کریں کہ وہ ہمارے پاس سے ان پہاڑوں کو ہٹا کر کھلا ہو میدان بنادے او راس میں ندیاں جاری کر دے اور ہمارے مُردوں بالخصوص قصی بن کلاب کو زندہ کر لائے۔ اگر وہ آپ کی تصدیق کردیں تو ہم بھی ایمان لے آئیں گے۔ آپ نے ان کی اس بات کا بھی وہی جواب دیا۔
اس کے انہوں نے ایک تیسر اپہلو بدلا۔ کہنے لگے آپ اپنے رب سے سوال کریں کہ وہ ایک فرشتہ بھیج دے جو آپ کی تصدیق کرے اور جس سے ہم آپ کے بارے میں مراجعہ بھی کرسکیں اور یہ بھی سوال کریں کہ آپ کے لیے باغات ہوں ، خزانے ہوں اور سونے چاندی کے محل ہوں۔ آپ نے اس بات کا بھی وہی جواب دیا۔
اس کے بعد انہوں نے ایک چوتھا پہلو بدلا۔ کہنے لگے کہ اچھا تو آپ ہم پر عذاب ہی لادیجیے اور آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی گرادیجیے۔ جیسا کہ آپ کہتے ہیں اور دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : اس کا اختیار اللہ کو ہے۔ وہ چاہے تو ایسا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ کے رب کو معلوم نہ تھا کہ ہم آپ کے ساتھ بیٹھیں گے۔ آپ سے سوال وجواب کریں گے اور آپ سے مطالبے کریں گے کہ وہ سکھا دیتا کہ آپ ہمیں کیا جواب دیں گے اور اگر ہم نے آپ کی بات نہ مانی تو وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا ؟
پھر اخیر میں انہوں نے سخت دھمکی دی اور کہنے لگے: سن لو ! جوکچھ کر چکے ہو اس کے بعد ہم تمہیں یوں ہی نہیں چھوڑیں گے بلکہ یا تو تمہیں مٹادیں گے یا خود مٹ جائیں گے۔ یہ سن کر رسول اللہﷺ اٹھ گئے اور اپنے گھر واپس آگئے۔ آپ کو غم وافسوس تھا کہ جو توقع آپ نے باندھ رکھی وہ پوری نہ ہوئی۔ 1
ابو جہل ، رسول اللہﷺ کے قتل کا اقدام کر تا ہے:
جب رسول اللہﷺ ان لوگوں کے پاس سے اٹھ کرواپس تشریف لے گئے تو ابوجہل نے انہیں مخاطب کر کے پورے غرور وتکبر کے ساتھ کہا :برادران قریش آپ دیکھ رہے ہیں کہ محمد (ﷺ ) ہمارے دین کی عیب چینی ، ہمارے آباء واجداد کی بد گوئی ، ہماری عقلوں کی تخفیف اور ہمارے معبودوں کی تذلیل سے باز نہیں آتا ، اس لیے میں اللہ سے عہد کررہا ہوں کہ ایک بہت بھاری اور بمشکل اٹھنے والاپتھر لے کر بیٹھوں گا اور جب وہ سجدہ کرے گا تو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ملخص از روایت ابن اسحاق (ابن ہشام ۱/۲۹۵، ۲۹۸ ) وابن جریر وابن المنذرو ابن ابی حاتم (الدر المنثور ۴/۳۶۵،۳۶۶)
اس پتھر سے اس کا سر کچل دوں گا۔ اب اس کے بعد چاہے آپ لوگ مجھ کو بے یارومددگار چھوڑدیں چاہے میری حفاظت کریں اور بنوعبد مناف بھی اس کے بعد جو جی چاہے کریں۔ لوگوں نے کہا : نہیں واللہ! ہم تمہیں کبھی کسی معاملے میں بے یارومدد گار نہیں چھوڑسکتے، تم جو کرنا چاہو کر گزرو۔ چنانچہ صبح ہوئی تو ابوجہل ویسا ہی ایک پتھر لے کر رسول اللہﷺ کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ رسول اللہﷺ حسب دستور تشریف لائے ، اور کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے ، قریش بھی اپنی اپنی مجلسوں میں آچکے تھے اور ابو جہل کی کاروائی دیکھنے کے منتظر تھے۔ جب رسول اللہﷺ سجدے میں تشریف لے گئے تو ابوجہل نے پتھر اٹھایا ، پھر آپ کی جانب بڑھا لیکن جب قریب پہنچا تو شکست خوردہ حالت میں واپس بھاگا۔ اس کار نگ فق تھا اور اس قدر مرعوب تھا کہ اس کے دونوں ہاتھ پتھر پر چپک کر رہ گئے تھے۔ وہ بمشکل ہاتھ سے پتھر پھینک سکا۔ ادھر قریش کے کچھ لوگ اٹھ کر اس کے پاس آئے ، اور کہنے لگے : ابو الحکم تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے رات جو بات کہی تھی وہی کرنے جارہا تھا لیکن جب اس کے قریب پہنچا تو ایک اونٹ آڑے آگیا۔ واللہ! میں نے کبھی کسی اونٹ کی ویسی کھوپڑی ، ویسی گردن اور ویسے دانت دیکھے ہی نہیں، وہ مجھے کھا جانا چاہتا تھا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : یہ جبریل علیہ السلام تھے، اگر ابوجہل قریب آتا تو اسے دھر پکڑتے۔ 1
سودے بازیاں اور دست برداریاں:
جب قریش ترغیب و تحریص اور دھمکی ووعید سے ملی جلی اپنی گفتگو میں ناکام ہوگئے اور ابوجہل کو اپنی رعونت اور ارادہ ٔ قتل میں منہ کی کھانی پڑی تو قریش میں ایک پائیدار حل تک پہنچے کی رغبت بیدار ہوئی ، تاکہ جس” مشکل ”میں وہ پڑ گئے تھے اس سے نکل سکیں۔ ادھر انہیں یہ یقین بھی نہیں تھا کہ نبیﷺ واقعی باطل پر ہیں۔ بلکہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے۔ وہ لوگ ڈگمگا دینے والے شک میں تھے۔ لہٰذا انہوں نے مناسب سمجھا کہ دین کے بارے میں آپﷺ سے سودے بازی کی جائے۔ اسلام اور جاہلیت دونوں بیچ راستے میں ایک دوسرے سے مل جائیں اور کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر اپنی باتیں مشرکین چھوڑ دیں اور بعض باتوں کو نبیﷺ سے چھوڑنے کے لیے کہا جائے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر نبیﷺ کی دعوت بر حق ہے تو اس طرح وہ بھی اس حق کو پالیں گے۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ خانۂ کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ اسود بن مطلب بن اسد بن عبدالعزیٰ ولید بن مغیرہ ، امیہ بن خلف اور عاص بن وائل سہمی آپ کے سامنے آگئے۔ یہ سب اپنی قوم کے بڑے لوگ تھے۔ بولے: اے محمد ! آئیے جسے آپ پوجتے ہیں اسے ہم بھی پوجیں اور جسے ہم پوجتے ہیں اسے آپ بھی پوجیں۔ اسی طرح ہم اور آپ اس کام میں مشترک ہوجائیں۔ اب اگر آپ کا معبود ہمارے معبود سے بہتر ہے تو ہم اس سے اپنا حصہ حاصل کرچکے ہوں گے اور اگر ہمارا معبود آپ کے معبود سے بہتر ہوا تو آپ اس سے اپنا حصہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۲۹۸، ۲۹۹
حاصل کرچکے ہوں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ سورۂ نازل فرمائی جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ جسے تم لوگ پوجتے ہو اسے میں نہیں پوج سکتا۔ 1
عبد بن حمید وغیرہ نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ قریش نے کہا: اگر آپ ہمارے معبودوں کو تبرک کے طور پر چھوئیں توہم آپ کے معبود کی عبادت کریں گے اس پر پوری سورہ ٔ نازل ہوئی۔ 2
ابن جریر وغیرہ نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ مشرکین نے رسول اللہﷺ سے کہا : آپ ایک سال ہمارے معبودوں کی پوجا کریں اور ہم ایک سال آپ کے معبود کی پوجا کریں۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّـهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ ﴿٦٤﴾ (۳۹: ۶۴) آپ کہہ دیں کہ اے نادانو ! کیا تم مجھے غیر اللہ کی عبادت کے لیے کہتے ہو ؟3
اللہ تعالیٰ نے اس قطعی اور فیصلہ کن جواب سے اس مضحکہ خیز گفت وشنید کی جڑ کا ٹ دی لیکن پھر بھی قریش پورے طور سے مایوس نہیں ہوئے۔ بلکہ انہوں نے اپنے دین سے مزید دست برداری پر آمادگی ظاہر کی۔ البتہ یہ شرط لگائی کہ نبیﷺ بھی جو تعلیمات لے کر آئے ہیں اس میں کچھ تبدیلی کریں۔ چنانچہ انہوں نے کہا : اس کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ۔ یا اسی میں تبدیلی کر دو۔ اللہ نے اس کا جو جواب نبیﷺ کو بتلایا اس کے ذریعہ یہ راستہ بھی کاٹ دیا۔ چنانچہ فرمایا: قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۖ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿١٥﴾ (۱۰: ۱۵) ”آپ کہہ دیں مجھے اس کا اختیار نہیں کہ میں اس میں خود اپنی طرف سے تبدیلی کروں۔ میں تو محض اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جس کی وحی میری طرف کی جاتی ہے۔ میں نے اگر اپنے رب کی نافرمانی کی تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہو ں۔ ”
اللہ نے اس کا م کی زبردست خطر ناکی کا ذکر اس آیت میں بھی فرمایا:
وَإِن كَادُوا لَيَفْتِنُونَكَ عَنِ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهُ ۖ وَإِذًا لَّاتَّخَذُوكَ خَلِيلًا ﴿٧٣﴾ وَلَوْلَا أَن ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدتَّ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا ﴿٧٤﴾ إِذًا لَّأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا ﴿٧٥﴾ (۱۷: ۷۳ تا ۷۵)
”اور قریب تھا کہ جو وحی ہم نے آپ کی طرف کی ہے اس سے یہ لوگ آپ کو فتنے میں ڈال دیتے تاکہ آپ ہم پر کوئی اور بات کہہ دیں۔ اورتب یقینا یہ لوگ آپ کو گہرا دوست بنالیتے اور اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپ ان کی طرف تھوڑا سا جھک جاتے اور تب ہم آپ کو دوہری سزا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: