Ar-Raheeq Al-Makhtum by Safiur Rahman Mubarakpuri – Episode 7

0
الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری – قسط نمبر 7

–**–**–

مسلمانوں میں بھائی چارگی:
جس طرح رسول اللہﷺ نے مسجد نبوی کی تعمیر کا اہتمام فرماکر باہمی اجتماع اور میل ومحبت کے ایک مرکز کو وجود بخشا اسی طرح آپﷺ نے تاریخ ِ انسانی کا ایک اور نہایت تابناک کارنامہ انجام دیا جسے مہاجرین وانصار کے درمیان مواخات اور بھائی چارے کے عمل کا نام دیا جاتا ہے۔ ابن قیم لکھتے ہیں :
پھر رسول اللہﷺ نے حضرت انس بن مالکؓ کے مکان میں مہاجرین وانصار کے درمیان بھائی چارہ کرایا۔ کل نوے آدمی تھے ، آدھے مہاجرین اور آدھے انصار۔ بھائی چارے کی بنیاد یہ تھی کہ یہ ایک دوسرے کے غمخوار ہوں گے اور موت کے بعد نسبتی قرابتداروں کے بجائے یہی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ وراثت کا یہ حکم جنگ ِ بدر تک قائم رہا ، پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ :
وَأُولُو الْأَرْ‌حَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِ‌ينَ
(۳۳: ۶)”نسبتی قرابتدار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔” (یعنی وراثت میں )
توانصار ومہاجرین میں باہمی توارُث کا حکم ختم کردیا گیا لیکن بھائی چارے کا عہد باقی رہا۔ کہا جاتا ہے کہ آپﷺ نے ایک اور بھائی چارہ کرایا تھا جو خود باہم مہاجرین کے درمیان تھا لیکن پہلی بات ہی ثابت ہے۔ یوںبھی مہاجرین اپنی باہمی اسلامی اخوت ، وطنی اخوت اور رشتہ وقرابتداری کی اخوت کی بنا پر آپس میں اب مزید کسی بھائی چارے کے محتاج نہ تھے جبکہ مہاجرین اور انصار کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ 1
اس بھائی چارے کا مقصود یہ تھا کہ جاہلی عصبیتیں تحلیل ہوجائیں۔ نسل ، رنگ اور وطن کے امتیاز ات مٹ جائیں۔ موالات اور برا ء ت کی اساس اسلام کے علاوہ کچھ اور نہ ہو۔
اس بھائی چارے کے ساتھ ایثار وغمگساری اور موانست اور خیر وبھلائی کرنے کے جذبات مخلوط تھے، اسی لیے اس نے اس نئے معاشرے کو بڑے نادر اور تابناک کارناموں سے پُر کردیا تھا۔
چنانچہ صحیح بخاری میں مروی ہے کہ مہاجرین جب مدینہ تشریف لائے تو رسول اللہﷺ نے عبد الرحمن بن عوفؓ اور سعدؓ بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کرادیا۔ اس کے بعد حضرت سعدؓ نے حضرت عبدالرحمنؓ سے کہا: ”انصار میں میں سب سے زیادہ مال دار ہوں۔ آپ میرا مال دوحصوں میں بانٹ کر (آدھا لے لیں) اور میری دوبیویاں ہیں، آپ دیکھ لیں جو زیادہ پسند ہو مجھے بتادیں میں اسے طلاق دے دوں اور عدت گزرنے کے بعد آپ اس سے شادی کرلیں۔” حضرت عبد الرحمنؓ نے کہا: اللہ آپ کے اہل اور مال میں برکت دے۔ آپ لوگوں کا بازار کہا ں ہے ؟ لوگوں نے انہیں بنو قینقاع کا بازار بتلادیا۔ وہ واپس آئے تو ان کے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زاد المعاد ۲/۵۶۔
پاس کچھ فاضل پنیر اور گھی تھا۔اس کے بعدوہ روزانہ جاتے رہے، پھر ایک دن آئے تو اُن پر زردی کا اثر تھا۔ نبیﷺ نے دریافت فرمایا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا :میں نے شادی کی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا : عورت کو مہر کتنا دیا ہے ؟ بولے : ایک نواۃ (گٹھلی ) کے ہموزن (یعنی کوئی سواتولہ ) سونا۔1
اسی طرح حضرتِ ابو ہریرہؓ سے ایک روایت آئی ہے کہ انصار نے نبیﷺ سے عرض کیا : آپﷺ ہمارے درمیان اور ہمارے بھائیوں کے درمیان ہمارے کھجور کے باغات تقسیم فرمادیں۔ آپﷺ نے فرمایا : نہیں۔ انصار نے کہا : تب آپ لوگ، یعنی مہاجرین ہمارا کام کردیا کریں اور ہم پھل میں آپ لوگوں کو شریک رکھیں گے۔ انہوں نے کہا : ٹھیک ہے ہم نے بات سنی اور مانی۔2
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انصار نے کس طرح بڑھ چڑھ کر اپنے مہاجر بھائیوں کا اعزاز واکرام کیاتھا اور کس قدر محبت ، خلوص ، ایثار اور قربانی سے کام لیا تھا اور مہاجرین ان کی اس کرم ونوازش کی کتنی قدر کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اس کا کو ئی غلط فائد ہ نہیں اٹھا یا بلکہ ان سے صرف اتنا ہی حاصل کیا جس سے وہ اپنی ٹوٹی ہوئی معیشت کی کمرسیدھی کرسکتے تھے۔
اور حق یہ ہے کہ بھائی چارہ ایک نادر حکمت ، حکیمانہ سیاست اور مسلمانوں کو درپیش بہت سارے مسائل کا ایک بہترین حل تھا۔
اسلامی تعاون کا پیمان: 3
مذکوہ بھائی چارے کی طرح رسول اللہﷺ نے ایک اور عہد وپیمان کرایا جس کے ذریعے ساری جاہلی کشاکش اور قبائلی کشمکش کی بنیاد ڈھادی اور دور جاہلیت کے رسم ورواج کے لیے کوئی گنجائش نہ چھوڑی۔ ذیل میں اس پیمان کو اس کی دفعات سمیت مختصراً پیش کیا جارہا ہے۔
یہ تحریر ہے محمدنبیﷺ کی جانب سے قریشی ، یثربی اور ان کے تابع ہوکر ان کے ساتھ لاحق ہونے اور جہاد کرنے والے مومنین اور مسلمانوں کے درمیان کہ :
یہ سب اپنے ماسوا انسانوں سے الگ ایک امت ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری : باب اخاء البنی ﷺ بین المہاجرین والانصار ۱/۵۵۳
2 ایضاً باب اذا قال اکفنی مؤنۃ النخل ۱/۲۱۳
3 یہ عہد وپیمان امت کی تاسیس وتکوین کا درمیانی مرحلہ ہے۔ ورنہ خود اسلام نے مسلمانوں کو باہم اس طرح مربوط کردیا ہے کہ اب ان میں کسی عہد وپیمان کی ضرورت نہیں رہی۔ بلکہ اسلام کے معین کردہ حقوق ہی ایجاب تعاون کے لیے کافی ہیں۔ یہی معنی ہے اس حدیث کا کہ اسلام میں کوئی حلف نہیں اور جاہلیت کا کوئی حلف ہوتو اسے اسلام مزید پختہ ہی کرتا ہے۔ (مسلم فضائل الصحابہ ، باب المواخاۃ )
مہاجرین ِ قریش اپنی سابقہ حالت کے مطابق باہم دیت کی ادائیگی کریں گے اور مومنین کے درمیان معروف اور انصاف کے ساتھ اپنے قیدی کا فدیہ دیں گے۔ اور انصار کے تمام قبیلے اپنی سابقہ حالت کے مطابق باہم دیت کی ادائیگی کریں گے اور ان کا ہرگروہ معروف طریقے پر اور اہل ِ ایمان کے درمیان انصاف کے ساتھ اپنے قیدی کا فدیہ ادا کرے گا۔

اور اہل ِ ایمان اپنے درمیان کسی بیکس کو فدیہ یا دیت کے معاملے میں معروف طریقے کے مطابق عطا ونوازش سے محروم نہ رکھیں گے۔

اور سارے راست باز مومنین اس شخص کے خلاف ہوں گے جوان پرزیادتی کرے گا یا ان کے درمیان ظلم اور گناہ اور زیادتی اور فساد کی راہ کا جویا ہوگا۔

اور یہ کہ ان سب کے ہاتھ اس شخص کے خلاف ہوں گے، خواہ وہ ان میں سے کسی کا لڑکا ہی کیوں نہ ہو۔

کوئی مومن کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل کرے گا اورنہ ہی کسی مومن کے خلاف کسی کافر کی مدد کرے گا۔

اور اللہ کا ذِمّہ (عہد) ایک ہوگا، ایک معمولی آدمی کا دیا ہوا ذمہ بھی سارے مسلمانوں پر لاگو ہوگا۔

جو یہود ہمارے پیروکار ہوجائیں ، ان کی مدد کی جائے گی اور وہ دوسرے مسلمانوں کے مثل ہوں گے۔ نہ ان پر ظلم کیا جائے گا اور نہ ان کے خلاف تعاون کیا جائے گا۔
( مسلمانوں کی صلح ایک ہوگی۔ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو چھوڑ کر قتال فی سبیل اللہ کے سلسلے میں مصالحت نہیں کرے گا بلکہ سب کے سب برابر ی اور عدل کی بنیاد پر کوئی عہد وپیمان کریں گے۔) مسلمان اس خون میں ایک دوسرے کے مساوی ہوں گے جسے کوئی فی سبیل اللہ بہائے گا۔

کوئی مشرک قریش کی کسی جان یامال کو پناہ نہیں دے سکتا اور نہ کسی مومن کے آگے اِس کی حفاظت کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہے۔

جو شخص کسی مومن کو قتل کرے گا اور ثبوت موجود ہوگا ، اس سے قصاص لیا جائے گا۔ سوائے اس صورت کے کہ مقتول کا ولی راضی ہوجائے۔

اور یہ کہ سارے مومنین اس کے خلاف ہوں گے۔ ان کے لیے اس کے سوا کچھ حلال نہ ہوگا کہ اس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں۔

کسی مومن کے لیے حلال نہ ہوگا کہ کسی ہنگامہ برپا کرنے والے (یا بدعتی) کی مدد کرے اور اسے پناہ دے ، اور جو اس کی مدد کرے گا یا اسے پناہ دے گا ، اس پر قیامت کے دن اللہ کی لعنت اور اس کا غضب ہوگا اور اس کا فرض ونفل کچھ بھی قبول نہ کیا جائے گا۔
.
تمہارے درمیا ن جو بھی اختلاف رُونما ہوگا اسے اللہ عزوجل اور محمدﷺ کی طرف پلٹایا جائے گا۔ 1

معاشرے پر معنویات کا اثر:
اس حکمتِ بالغہ اور اس دُور اندیشی سے رسول اللہﷺ نے ایک نئے معاشرے کی بنیادیں اُستوارکیں، لیکن معاشرے کا ظاہری رُخ درحقیقت ان معنوی کمالات کا پر توتھا جس سے نبیﷺ کی صحبت وہم نشینی کی بدولت یہ بزرگ ہستیاں بہرہ ور ہوچکی تھیں۔ نبیﷺ ان کی تعلیم وتربیت ، تزکیۂ نفس اور مکارمِ اخلاق کی ترغیب میں مسلسل کوشاں رہتے تھے اور انہیں محبت وبھائی چارگی ، مجدوشرف اور عبادت واطاعت کے آداب برابر سکھاتے اور بتاتے رہتے تھے۔
ایک صحابیؓ نے آپﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا اسلام بہتر ہے ؟ (یعنی اسلا م میں کون سا عمل بہتر ہے ؟) آپﷺ نے فرمایا : ”تم کھانا کھلاؤ اور شناسا اور غیرشناسا سبھی کو سلام کرو۔”2
حضرت عبد اللہ بن سلامؓ کا بیان ہے کہ جب نبیﷺ مدینہ تشریف لائے تو میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب میں نے آپﷺ کا چہرہ ٔ مبارک دیکھا تو اچھی طرح سمجھ گیا کہ یہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔ پھر آپﷺ نے پہلی بات جو ارشاد فرمائی وہ یہ تھی :”اے لوگو! سلام پھیلاؤ ، کھانا کھلاؤ ، صلہ رحمی کرو، اور رات میں جب لوگ سورہے ہوں نماز پڑھو۔ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے۔”3
آپﷺ فرماتے تھے : ”وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں اور تباہ کاریوں سے مامون ومحفوظ نہ رہے۔”3
اور فرماتے تھے :”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔”4اور فرماتے تھے : ”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرے جو خود اپنے لیے پسند کرتا ہے۔”5
اور فرماتے تھے :” سارے مومنین ایک آدمی کی طرح ہیں کہ اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو سارے جسم کو تکلیف محسوس ہوتی ہے اور اگر سر میں تکلیف ہوتو سارے جسم کو تکلیف محسوس ہوتی ہے۔”6
اور فرماتے :”مومن ،مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا بعض بعض کو قوت پہنچا تا ہے۔”7
اور فرماتے :” آپس میں بغض نہ رکھو ، باہم حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کو تین دن سے اوپر چھوڑے رہے۔”8
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۵۰۲، ۵۰۳ 2 صحیح بخاری ۱/۶، ۹
3 ترمذی۔ ابن ماجہ ، دارمی ، مشکوٰۃ ۱/۱۶۸ 4 صحیح مسلم ، مشکوٰۃ ۲/۴۲۲
5 ،6 صحیح بخاری ۱/۶ 7 مسلم ، مشکوٰۃ ۲/۴۲۲
8متفق علیہ ، مشکوٰۃ ۲/۴۲۲ صحیح بخاری ۲/۸۹۰
اور فرماتے :”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے دشمن کے حوالے کرے ، اورجو شخص اپنے بھائی کی حاجت (برآری) میں کوشاںہوگا اللہ اس کی حاجت (برآری) میں ہوگا ، اور جو شخص کسی مسلمان سے کوئی غم اور دُکھ دُور کرے گا اللہ اس شخص سے روز قیامت کے دُکھوں میں سے کوئی دُکھ دُور کرے گا ، اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔”1
اور فرماتے:”تم لوگ زمین والوں پر مہربانی کرو تم پر آسمان والا مہربانی کرے گا۔”2
اورفرماتے :”وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کھالے اوراس کے بازو میں رہنے والا پڑوسی بھوکا رہے۔”3
اور فرماتے :”مسلمان سے گالی گلوچ کرنا فسق ہے اوراس سے مارکاٹ کرنا کفر ہے۔” 4
اسی طرح آپﷺ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو صدقہ قرار دیتے تھے اور اسے ایمان کی شاخوں میں سے ایک شاخ شمار کرتے تھے۔5
نیز آپﷺ صدقے اور خیرات کی ترغیب دیتے تھے اور اس کے لیے ایسے ایسے فضائل بیان فرماتے تھے کہ اس کی طرف دل خود بخود کھنچتے چلے جائیں ، چنانچہ آپﷺ فرماتے کہ صدقہ گناہوں کو ایسے ہی بجھادیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔7
اور آپﷺ فرماتے کہ جو مسلمان کسی ننگے مسلمان کوکپڑا پہنادے اللہ اسے جنت کا سبز لباس پہنائے گا اور جو مسلمان کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلادے اللہ اسے جنت کے پھَل کھلائے گا اور جو مسلمان کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلادے اللہ اسے جنت کی مُہر لگی ہوئی شراب طہور پلائے گا۔”8
آپﷺ فرماتے :”آگ سے بچو اگر چہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کرکے ، اور اگر وہ بھی نہ پاؤ تو پاکیزہ بول ہی کے ذریعے۔”9
اور اسی کے پہلو بہ پہلو دوسری طرف آپﷺ مانگنے سے پرہیز کی بھی بہت زیادہ تاکید فرماتے ، صبر وقناعت کی فضیلتیں سناتے اور سوال کرنے کو سائل کے چہرے کے لیے نوچ ، خراش اور زخم قرار دیتے۔0 البتہ اس سے اس شخص کو مُستثنیٰ قرار دیا جو حد درجہ مجبور ہوکر سوال کرے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1صحیح بخاری ۲/۸۹۶ 2 متفق علیہ مشکوٰۃ ۲/۴۲۲
3 سنن ابی داؤد ۲/ ۳۳۵۔ جامع ترمذی ۲/۱۴ 4 شعب الایمان للبیہقی ، مشکوٰۃ ۲/۴۲۴
5 صحیح بخاری ۲ /۸۹۳
6 اس مضمون کی حدیث صحیحین میں مروی ہے۔ مشکوٰۃ ۱/۱۲، ۱۶۷
7 احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ۔ مشکوٰۃ ۱/۱۴
8 سنن ابی داؤد ، جامع ترمذی ، مشکوٰۃ ۱/۱۶۹
(صحیح بخاری ۱/۱۹۰، ۲/۸۹۰
)دیکھئے : ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ، مشکوٰۃ ۱/۱۶۳
اسی طرح آپﷺ یہ بھی بیان فرماتے کہ کن عبادات کے کیا فضائل ہیں اور اللہ کے نزدیک ان کا کیا اجر وثواب ہے؟ پھر آپﷺ پر آسمان سے جو وحی آتی آپﷺ اس سے مسلمانوں کو بڑی پختگی کے ساتھ مربوط رکھتے۔ آپﷺ وہ وحی مسلمانوں کو پڑھ کرسناتے اور مسلمان آپﷺ کو پڑھ کر سناتے تاکہ اس عمل سے ان کے اندر فہم و تدبر کے علاوہ دعوت کے حقوق اور پیغمبرانہ ذمّے داریوں کا شعور بیدار ہو۔
اسی طرح رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کی اخلاقیات بلند کیں ، ان کی خداداد صلاحیتوں کو عروج بخشا اور انہیں بلند ترین اقدار وکردار کا مالک بنایا ، یہاں تک کہ وہ انسانی تاریخ میں انبیاء کے بعد فضل وکمال کی سب سے بلند چوٹی کا نمونہ بن گئے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جس شخص کو طریقہ اختیار کرنا ہو وہ گزرے ہوئے لوگوں کا طریقہ اختیار کرے کیونکہ زندہ کے بارے میں فتنے کا اندیشہ ہے۔ وہ لوگ نبیﷺ کے ساتھی تھے۔ اس امت میں سب سے افضل ، سب سے نیک دل، سب سے گہرے علم کے مالک اور سب سے زیادہ بے تکلف۔ اللہ نے انہیں اپنے نبی کی رفاقت اور اپنے دین کی اقامت کے لیے منتخب کیا، لہٰذا ان کا فضل پہچانو اور ان کے نقش ِ قدم کی پیروی کرو اور جس قدر ممکن ہوان کے اخلاق اور سیرت سے تمسک کرو کیونکہ وہ لوگ ہدایت کے صراطِ مستقیم پر تھے۔ 1
پھر ہمارے پیغمبر رہبر اعظمﷺ خود بھی ایسی معنوی اور ظاہری خوبیوں، کمالات، خداداد صلاحیتوں ، مجد وفضائل مکارمِ اخلاق اور محاسن ِ اعمال سے متصف تھے کہ دل خودبخودآپ کی جانب کھنچے جاتے تھے اور جانیں قربان ہوا چاہتی تھیں۔ چنانچہ آپﷺ کی زبان سے جونہی کوئی کلمہ صادر ہوتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی بجا آوری کے لیے دوڑ پڑتے اور ہدایت ورہنمائی کی جو بات آپﷺ ارشاد فرمادیتے اسے حرزِجان بنانے کے لیے گویا ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی بازی لگ جاتی۔
اس طرح کی کوشش کی بدولت نبیﷺ مدینے کے اندر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوگئے جو تاریخ کا سب سے زیادہ باکمال اور شرف سے بھر پور معاشر ہ تھا اور اس معاشرے کے مسائل کا ایسا خوشگوار حل نکالا کہ انسانیت نے ایک طویل عرصے تک زمانے کی چکی میں پِس کر اور اتھاہ تاریکیوں میں ہاتھ پاؤں مارکر تھک جانے کے بعد پہلی بار چین کا سانس لیا۔
اس نئے معاشرے کے عناصر ایسی بلند وبالا تعلیمات کے ذریعے مکمل ہوئے جس نے پوری پامردی کے ساتھ زمانے کے ہر جھٹکے کا مقابلہ کرکے اس کا رُخ پھیر دیا اور تاریخ کا دھارابدل دیا۔

****​
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 رزین ، مشکوٰۃ ۱/۳۲
یہود کے ساتھ معاہد ہ

نبیﷺ نے ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کے درمیان عقیدے ، سیا ست اور نظام کی وحدت کے ذریعے ایک نئے اسلامی معاشرے کی بنیادیں استوار کرلیں تو غیر مسلموں کے ساتھ اپنے تعلقات منظم کرنے کی طرف توجہ فرمائی۔ آپﷺ کا مقصود یہ تھا کہ ساری انسانیت امن وسلامتی کی سعادتوں اور برکتوں سے بہرہ ور ہو اور اس کے ساتھ ہی مدینہ اور اس کے گرد وپیش کا علاقہ ایک وفاقی وحدت میں منظم ہوجائے۔ چنانچہ آپﷺ نے رواداری اور کشادہ دلی کے ایسے قوانین مسنون فرمائے جن کااس تعصب اور غلو پسندی سے بھری ہوئی دنیا میں کوئی تصور ہی نہ تھا۔
جیسا کہ ہم بتاچکے ہیں مدینے کے سب سے قریب ترین پڑوسی یہود تھے۔ یہ لوگ اگرچہ درپردہ مسلمانوں سے عداوت رکھتے تھے لیکن انہوں نے اب تک کسی محاذ آرائی اور جھگڑے کا اظہار نہیں کیا تھا، اس لیے رسول اللہﷺ نے ان کے ساتھ ایک معاہدہ منعقد کیا ، جس میں انہیں دین ومذہب اور جان ومال کی مطلق آزادی دی گئی تھی اور جلاوطنی ، ضبطی ٔ جائیداد یاجھگڑے کی سیاست کا کوئی رُخ اختیار نہیں کیا گیا تھا۔
یہ معاہدہ اسی معاہدے کے ضمن میں ہوا تھا جوخود مسلمانوں کے درمیان باہم طے پایا تھا اور جس کا ذکر قریب ہی گزر چکا ہے۔ آگے اس معاہدے کی اہم دفعات پیش کی جارہی ہیں۔
معاہدے کی دفعات:
1 بنوعوف کے یہود مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک ہی امّت ہوں گے۔ یہود اپنے دین پر عمل کریں گے اور مسلمان اپنے دین پر۔ خود ان کا بھی یہی حق ہوگا ، اور ان کے غلاموں اور متعلقین کا بھی اور بنوعوف کے علاوہ دوسرے یہود کے بھی یہی حقوق ہوں گے۔
2 یہود اپنے اخراجات کے ذِمے دار ہوں گے اور مسلمان اپنے اخراجات کے۔
3 اور جو طاقت اس معاہدے کے کسی فریق سے جنگ کرے گی سب اس کے خلاف آپس میں تعاون کریں گے۔
4 اور اس معاہدے کے شرکاء کے باہمی تعلقات خیر خواہی ، خیر اندیشی اور فائدہ رسانی کی بنیاد پر ہوں گے ، گناہ پر نہیں۔
5 کوئی آدمی اپنے حلیف کی وجہ سے مجرم نہ ٹھہرے گا۔
6 مظلوم کی مدد کی جائے گی۔
7 جب تک جنگ بر پارہے گی یہودبھی مسلمانوں کے ساتھ خرچ برداشت کریں گے۔
8 اس معاہدے کے سارے شرکاء پر مدینہ میں ہنگامہ آرائی اور کشت وخون حرام ہوگا۔
9 اس معاہدے کے فریقوں میں کوئی نئی بات یا جھگڑا پیدا ہوجائے جس میں فساد کا اندیشہ ہوتو اس کا فیصلہ اللہ عزّوجل اور محمد رسول اللہﷺ فرمائیں گے۔
10 قریش اور اس کے مددگاروں کو پناہ نہیں دی جائے گی۔
11 جو کوئی یثرب پر دھاوا بول دے اس سے لڑنے کے لیے سب باہم تعاون کریں گے اور ہر فریق اپنے اپنے اطراف کا دفاع کرے گا۔
12 یہ معاہدہ کسی ظالم یامجرم کے لیے آڑ نہ بنے گا۔1
اس معاہدے کے طے ہوجانے سے مدینہ اور اس کے اطراف ایک وفاقی حکومت بن گئے جس کا دار الحکومت مدینہ اور جس کے سربراہ رسول اللہﷺ تھے اور جس میں کلمہ نافذہ اور غالب حکمرانی مسلمانوں کی تھی ، اور اس طرح مدینہ واقعتا اسلام کا دار الحکومت بن گیا۔
امن وسلامتی کے دائرے کو مزید وسعت دینے کے لیے نبیﷺ نے آئندہ دوسرے قبائل سے بھی حالات کے مطابق اسی طرح کے معاہدے کیے ، جن میں سے بعض بعض کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔

****​
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے: ابن ہشام ۱/ ۵۰۳ ، ۵۰۴
مسلح کشاکش

ہجرت کے بعد مسلمانوں کے خلاف قریش کی فتنہ خیز یاں
اور عبد اللہ بن اُبی سے نا مہ وپیام

پچھلے صفحات میں بتایا جاچکا ہے کہ کفارِ مکہ نے مسلمانوں پر کیسے کیسے ظلم وستم کے پہاڑ توڑے تھے اور جب مسلمانوں نے ہجرت شروع کی تو ان کے خلاف کیسی کیسی کارروائیاں کی تھیں جن کی بنا پر وہ مستحق ہوچکے تھے کہ ان کے اموال ضبط کر لیے جائیں اور ان پر بزن بول دیا جائے۔ مگر اب بھی ان کی حماقت کا سلسلہ بند نہ ہوا اور وہ اپنی ستم رانیوں سے باز نہ آئے بلکہ یہ دیکھ کر ان کا جوشِ غضب اور بھڑک اُٹھا کہ مسلمان ان کی گرفت سے چھوٹ نکلے ہیں اور انہیں مدینے میں ایک پُر امن جائے قرار مل گئی ہے۔ چنانچہ انہوں نے عبد اللہ بن اُبی کو…جو ابھی تک کھلم کھلا مشرک تھا…اس کی حیثیت کی بنا پر ایک دھمکی آمیز خط لکھا کہ وہ انصار کا سردار ہے۔ کیونکہ انصار اس کی سربراہی پر متفق ہوچکے تھے اور اگر اسی دوران رسول اللہﷺ کی تشریف آوری نہ ہوئی ہوتی تو اس کو بادشاہ بھی بنا لیے ہوتے …مشرکین نے اس خط میں عبد اللہ بن اُبیّ اور اس کے مشرک رفقاء کو مخاطب کرتے ہوئے دوٹوک لفظوں میں لکھا :
”آپ لوگوں نے ہمارے آدمی کو پناہ دے رکھی ہے ، اس لیے ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یاتو آپ لوگ اس سے لڑائی کیجیے یا اسے نکال دیجیے یا پھر ہم اپنی پوری جمعیت کے ساتھ آپ لوگوں پر یورش کرکے آپ کے سارے مردانِ جنگی کو قتل کردیں گے اور آپ کی عورتوںکی حرمت پامال کرڈالیں گے۔” 1
اس خط کے پہنچتے ہی عبد اللہ بن اُبیّ مکے کے اپنے ان مشرک بھائیوں کے حکم کی تعمیل کے لیے اٹھ پڑا۔ اس لیے کہ وہ پہلے ہی سے نبیﷺ کے خلاف رنج اور کینہ لیے بیٹھا تھا کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ آپﷺ ہی نے اس سے بادشاہت چھینی ہے ، چنانچہ جب یہ خط عبد اللہ بن اُبی اور اس کے بت پرست رفقاء کو موصول ہو ا تو وہ رسول اللہﷺ سے جنگ کے لیے جمع ہوگئے۔ جب نبیﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : ”قریش کی دھمکی تم لوگوں پر بہت گہرا اثر کر گئی ہے تم خود اپنے آپ کو جتنا نقصان پہنچادینا چاہتے ہو قریش اس سے زیادہ تم کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ تم اپنے بیٹو ں اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابوداؤد : باب خبر النضیر ۲/۱۵۴
بھائیوں سے خود ہی لڑنا چاہتے ہو؟ نبیﷺ کی یہ بات سن کر لوگ بکھر گئے۔ 1
اس وقت تو عبد اللہ بن اُبی جنگ کے ارادے سے باز آگیا کیونکہ اس کے ساتھی ڈھیلے پڑ گئے تھے یا بات ان کی سمجھ میں آگئی تھی لیکن حقیقت میں قریش کے ساتھ اس کے روابط درپردہ قائم رہے کیونکہ مسلمان اور مشرکین کے درمیان شَر وفساد کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے جانے نہ دینا چاہتا تھا۔ پھر اس نے اپنے ساتھ یہود کو بھی ساٹ رکھا تھا تاکہ اس معاہدے میں ان سے بھی مدد حاصل کرے ، لیکن وہ تو نبیﷺ کی حکمت تھی جو رہ رہ کر شَرّوفساد کی بھڑ کنے والی آگ بجھا دیا کرتی تھی۔ 2
مسلمانوں پر مسجد حرام کا دروازہ بند کیے جانے کا اعلان:
اس کے بعد حضرت سعد بن معاذؓ عمرہ کے لیے مکہ گئے اور اُمَیّہ بن خلف کے مہمان ہوئے۔ انہوں نے اُمیہ سے کہا : ”میرے لیے کوئی خلوت کا وقت دیکھو ذرا میں بیت اللہ کا طواف کر لوں۔” اُمیّہ دوپہر کے قریب انہیں لے کر نکلا تو ابوجہل سے ملاقات ہوگئی۔ اس نے (اُمیہ کو مخاطب کرکے ) کہا : ابوصفوان تمہارے ساتھ یہ کون ہے ؟ اُمیہ نے کہا: یہ سعد ہیں۔ ابوجہل نے سعد کو مخاطب کرکے کہا: ”اچھا ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بڑے امن واطمینان سے طواف کررہے ہو حالانکہ تم لوگوں نے بے دینوں کو پناہ دے رکھی ہے اور یہ زعم رکھتے ہو کہ ان کی نصرت واعانت بھی کرو گے۔ سنو ! اللہ کی قسم! اگر تم ابوصفوان کے ساتھ نہ ہوتے تو اپنے گھر سلامت پلٹ کر نہ جاسکتے تھے۔” اس پر حضرت سعدؓ نے بلند آواز میں کہا :”سن ! اللہ کی قسم اگر تو نے مجھ کو اس سے روکا تو میں تجھے ایسی چیز سے روک دوں گا جو تجھ پر اس سے بھی زیادہ گراں ہوگی۔” (یعنی اہل مدینہ کے پاس سے گزرنے والا تیرا۔ (تجارتی ) راستہ ) 3
مہاجرین کو قریش کی دھمکی:
پھر قریش نے مسلمانوں کو کہلا بھیجا : ”تم مغرور نہ ہونا کہ مکہ سے صاف بچ کرنکل آئے ، ہم یثرب ہی پہنچ کر تمہارا ستیاناس کردیتے ہیں۔”4
اور یہ محض دھمکی نہ تھی بلکہ رسول اللہﷺ کو اتنے مؤکد طریقے پر قریش کی چالوں اور بُرے ارادوں کا علم ہوگیا تھا کہ آپ یا توجاگ کر رات گزارتے تھے یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پہرے میں سوتے تھے۔ چنانچہ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ مدینہ آنے کے بعد ایک رات رسول اللہﷺ جاگ رہے تھے کہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابوداؤد: باب مذکورہ ۲/ ۵۶۳
2 اس معاملے میں دیکھئے : صحیح بخاری ۲/۶۵۵ ، ۶۵۶، ۹۱۶، ۹۲۴
3 بخاری ، کتاب المغازی ۲/۵۶۳
4 رحمۃ للعالمین ۱/۴۰۴
فرمایا :” کاش! آج رات میرے صحابہؓ میں سے کوئی صالح آدمی میرے یہاں پہرہ دیتا۔” ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ ہمیں ہتھیار کی جھنکار سنائی پڑی۔ آپ نے فرمایا : ”کون ہے ؟” جواب آیا : ”سعد بن ابی وقاص ” فرمایا: کیسے آنا ہوا؟ َ بولے : ”میرے دل میں آپﷺ کے متعلق خطرے کا اندیشہ ہوا تو میں آپﷺ کے یہاں پہرہ دینے آگیا۔” اس پر رسول اللہﷺ نے انہیں دُعا دی، پھر سو گئے۔1
یہ بھی یاد رہے کہ پہرے کا یہ انتظام بعض راتوں کے ساتھ مخصوص نہ تھا بلکہ مسلسل اور دائمی تھا ، چنانچہ حضرت عائشہ ؓ ہی سے مروی ہے کہ رات کو رسول اللہﷺ کے لیے پہرہ دیا جاتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی:
(۵: ۶۷) (اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا ) تب رسول اللہﷺ نے قبے سے سر نکالا اور فرمایا : ”لوگو ! واپس جاؤ اللہ عزّوجل نے مجھے محفوظ کردیا ہے۔”2پھر یہ خطرہ صرف رسول اللہﷺ کی ذات تک محدود نہ تھا بلکہ سارے ہی مسلمانوں کو لاحق تھا ، چنانچہ حضرت اُبیّ بن کعبؓ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہﷺ اور آپ کے رُفقاء مدینہ تشریف لائے ، اور انصار نے انہیں اپنے یہاں پناہ دی تو سارا عرب اُن کے خلاف متحد ہوگیا۔ چنانچہ یہ لوگ نہ ہتھیار کے بغیر رات گزارتے تھے اور نہ ہتھیار کے بغیر صبح کرتے تھے۔
جنگ کی اجازت:
ان پُر خطر حالات میں جو مدینہ میں مسلمانوں کے وجود کے لیے چیلنج بنے ہوئے تھے اور جن سے عیاں تھا کہ قریش کسی طرح ہوش کے ناخن لینے اور اپنے تمرد سے باز آنے کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنگ کی اجازت فرمادی ، لیکن اسے فرض قرار نہیں دیا۔ اس موقعے پر اللہ تعالیٰ کا جوارشاد نازل ہو ا وہ یہ تھا:
أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ نَصْرِ‌هِمْ لَقَدِيرٌ‌ (۲۲: ۳۹)
”جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے انہیں بھی جنگ کی اجازت دی گئی کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقینا ً اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔”
پھراس آیت کے ضمن میں مزید چند آیتیں نازل ہوئیں جن میں بتایا گیا کہ یہ اجازت محض جنگ برائے جنگ کے طور پرنہیں ہے بلکہ اس سے مقصود باطل کے خاتمے اور اللہ کے شعائر کا قیام ہے۔ چنانچہ آگے چل کر ارشاد ہوا :
الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُ‌وا بِالْمَعْرُ‌وفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ‌ ۗ وَلِلَّـهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ‌ (۲۲: ۴۱)
” جنہیں ہم اگر زمین میں اقتدار سونپ دیں تو وہ نماز قائم کریں گے ، زکوٰۃ اداکریں گے، بھلائی کا حکم دیں گے اور بُرائی سے روکیں گے۔”
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 مسلم باب فضل سعدؓ بن ابی وقاص ۲/۲۸۰ ، صحیح بخاری باب الحراسۃ فی الغزو فی سبیل اللہ ۱/۴۰۴
2 جامع ترمذی : ابواب التفسیر ۲/۱۳۰
صحیح بات جسے قبول کرنے کے سوا چارہ ٔ کار نہیں یہی ہے کہ یہ اجازت ہجرت کے بعد مدینے میں نازل ہوئی تھی ، مکے میں نازل نہیں ہوئی تھی، البتہ وقت ِ نزول کا قطعی تعین مشکل ہے۔
قتال کی یہ اجازت پہلے پہل قریش تک محدود تھی۔ پھر حالات بدلنے کے ساتھ اس میں بھی تبدیلی آئی۔ چنانچہ آگے چل کر یہ اجازت وجوب سے بدل گئی اور قریش سے متجاوز ہوکر غیر قریش کو بھی شامل ہوگئی۔ مناسب ہوگا کہ واقعات کے ذکر سے پہلے اس کے مختلف مراحل کو مختصراً پیش کردیا جائے:
پہلا مرحلہ : قریش کو برسر جنگ شمار کیا گیا کیونکہ انہیں نے ظلم کا آغاز کیا تھا، لہٰذا مسلمانوں کو حق پہنچتا تھا کہ ان سے لڑیں اور ان کے اموال ضبط کریں لیکن دوسرے مشرکین عرب کے ساتھ یہ بات درست نہ تھی۔

غیر قریش میں سے وہ فریق جس نے قریش کا ساتھ دیا اور ان سے اتحاد کیا ، یاجس نے بذات خود مسلمانوں پر ظلم وتعدی کی ان سے جنگ کرنا۔

جن یہود کے ساتھ رسول اللہﷺ کا عہد وپیمان تھا ، مگر انہوں نے خیانت کی اور مشرکین کا ساتھ دیا، ایسے یہود کے عہد وپیمان کو ان کے منہ پر دے مارنا اور ان سے جنگ کرنا۔

اہل کتاب مثلاً: نصاریٰ میں سے جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ عداوت کا آغاز کیا اور مد مقابل آئے۔ ان سے جنگ کرنا، یہاں تک کہ وہ چھوٹے بن کر اپنے ہاتھوںسے جزیہ اداکریں۔

جو اسلام میں داخل ہوجائے اس سے ہاتھ روک لینا۔ خواہ وہ مشرک رہا ہو یا یہودی یا نصرانی یا کچھ اور۔ اب اس کی جان یا مال سے اسلام کے حق کے مطابق ہی تعرض کیا جاسکتا ہے اور اس کے باطن کا حساب اللہ پر ہے۔
جنگ کی اجازت تو نازل ہوگئی لیکن جن حالات میں نازل ہوئی وہ چونکہ محض قریش کی قوت اور تمرد کا نتیجہ تھے، اس لیے حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمان اپنے تسلط کا دائرہ قریش کی اس تجارتی شاہراہ تک پھیلا دیں جو مکے سے شام تک آتی جاتی ہے ، اسی لیے رسول اللہﷺ نے تسلط کے اس پھیلاؤ کے لیے دو منصوبے اختیار کیے :

(۱) ایک:… جو قبائل اس شاہراہ کے اردگرد یا اس شاہراہ سے مدینے تک کے درمیانی علاقے میں آبادتھے ان کے ساتھ حلف (دوستی وتعاون) اور جنگ نہ کرنے کا معاہدہ۔
(۲) دوسرا منصوبہ:… اس شاہراہ پر گشتی دستے بھیجنا۔
پہلے منصوبے کے ضمن میں یہ واقعہ قابلِ ذکر ہے کہ پچھلے صفحات میں یہود کے ساتھ کیے گئے جس معاہدے کی تفصیل گزر چکی ہے ، آپﷺ نے عسکری مہم شروع کرنے سے پہلے اسی طرح کی دوستی وتعاون اور عدم ِ جنگ کا ایک معاہدہ قبیلہ جُہینہ کے ساتھ بھی کیا۔ ان کی آبادی مدینے سے تین مرحلے پر — ۴۵ یا ۵۰ میل کے فاصلے پر — واقع تھی۔ اس کے علاوہ طلایہ گردی کے دوران بھی آپﷺ نے متعدد معاہدے کیے جن کاذکر آئندہ آئے گا۔
دوسرا منصوبہ سرایا اور غزوات سے تعلق رکھتا ہے جس کی تفصیلات اپنی اپنی جگہ آتی رہیں گی۔
سرایا اور غزوات 1

جنگ کی اجازت نازل ہونے کے بعد ان دونوں منصوبوں کے نفاذ کے لیے مسلمانوں کی عسکری مہمات کا سلسلہ عملاً شروع ہوگیا۔ طلایہ گردی کی شکل میں فوجی دستے گشت کرنے لگے۔ اس کا مقصود وہی تھا جس کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے کہ مدینہ کے گرد وپیش کے راستوں پر عموماً اور مکے کے راستے پر خصوصاً نظر رکھی جائے اور اس کے احوال کا پتا لگایا جاتا رہے اور ساتھ ہی ان راستوں پر واقع قبائل سے معاہدے کیے جائیں اور یثرب کے مشرکین ویہود اور آس پاس کے بدؤوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ مسلمان طاقتور ہیں اور اب انہیں اپنی کمزوری سے نجات مل چکی ہے۔ نیز قریش کو ان کے بے جا طیش اور تہور کے خطرناک نتیجے سے ڈرایا جائے تاکہ جس حماقت کی دلدل میں وہ اب تک دھنستے چلے جارہے ہیں اس سے نکل کر ہوش کے ناخن لیں اور اپنے اقتصاد اور اسبابِ معیشت کو خطرے میں دیکھ کر صلح کی طرف مائل ہو جائیں اور مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر ان کے خاتمے کے جو عزائم رکھتے ہیںاور اللہ کی راہ میں جو رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں اور مکے کے کمزور مسلمانوںپر جو ظلم وستم ڈھارہے ہیں ان سب سے باز آجائیں اور مسلمان جزیرۃ العرب میں اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے آزاد ہو جائیں۔
ان سَرَایا اور غزوات کے مختصر احوال ذیل میں درج ہیں:
۱۔ سریہ سیف البحر: 2(رمضان ۱ ھ مطابق مارچ ۶۲۳ ء )
رسول اللہﷺ نے حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ کو اس سَریہ کا امیر بنایا اور تیس مہاجرین کو ان کے زیر ِ کمان شام سے آنے والے ایک قریشی قافلے کا پتا لگانے کے لیے روانہ فرمایا۔ اس قافلے میں تین سوآدمی تھے جن میں ابو جہل بھی تھا۔مسلمان عِیْص3کے اطراف میں ساحل سمندر کے پاس پہنچے تو قافلے کا سامنا ہوگیا اور فریقین جنگ کے لیے صف آراء ہوگئے لیکن قبیلہ جہینہ کے سردار مجدی بن عَمرو نے جو فریقین کا حلیف تھا ، دوڑ دھوپ کر کے جنگ نہ ہونے دی۔
حضرت حمزہؓ کا یہ جھنڈا پہلا جھنڈا تھا جسے رسول اللہﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے باندھا تھا۔ اس کا رنگ سفیدتھا اور اس کے علمبردار حضرت ابو مرثد کناز بن حصین غنویؓ تھے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 اہل سیر کی اصطلاح میں غزوہ اس فوجی مہم کو کہتے ہیں جس میں نبیﷺ بنفس نفیس تشریف لے گئے ہوں، خواہ جنگ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو اور سریہ وہ فوجی مہم جس میں آپﷺ خود تشریف نہ لے گئے ہوں سرایا اسی سریہ کی جمع ہے۔
2 سیف البحر، س کو زیر پڑھیں گے۔ بمعنی ساحل سمندر۔
3 عیْص۔ ع کو زیر پڑھیں گے۔ بحر احمر کے اطراف میں ینبع اور مَرْوَہ کے درمیان ایک مقام ہے۔
۲۔ سریہ رابغ: (شوال ۱ھ اپریل ۶۲۳ ء )
رسول اللہﷺ نے حضرت عبیدہؓ بن حارث بن عبدالمطلب کو مہاجرین کے ساٹھ سواروں کا رسالہ دے کر روانہ فرمایا۔ رابغ کی وادی میں ابو سفیان سے سامنا ہوا۔ اس کے ساتھ دوسو آدمی تھے، فریقین نے ایک دوسرے پر تیر چلائے لیکن اس سے آگے کوئی جنگ نہ ہوئی۔
اس سریے میں مکی لشکر کے دوآدمی مسلما نوں سے آملے۔ ایک حضرت مقداد بن عمرو البہرانی اور دوسرے عتیبہ بن غزوان المازنی رضی اللہ عنہما ۔ یہ دونوںمسلمان تھے اور کفار کے ساتھ نکلے ہی اس مقصد سے تھے کہ اس طرح مسلمانوں سے جاملیں گے۔
حضرت ابو عبیدہؓ کا عَلَم سفید تھا اور علمبردار حضر ت مسطح بن اثاثہ بن مطلب بن عبد مناف تھے۔
۳۔ سریہ خرار: 1 (ذی قعدہ۱ ھ مئی ۶۲۳ ء )
رسول اللہﷺ نے اس سَرِیہ کا امیر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو مقرر فرمایا اور انہیں بیس آدمیوں کی کمان دے کر قریش کے ایک قافلے کا پتا لگانے کے لیے روانہ فرمایا اوریہ تاکیدفرمادی کہ خرار سے آگے نہ بڑھیں۔ یہ لوگ پیدل روانہ ہوئے رات کو سفر کرتے اور دن میں چھپے رہتے تھے۔ پانچویں روز صبح خر ار پہنچے تو معلوم ہوا کہ قافلہ ایک دن پہلے جا چکاہے۔
اس سریے کا عَلَم سفید تھا اور علمبردار حضرت مقداد بن عمروؓ تھے۔
۴۔ غزوہ ابواء یا ودان : 2 (صفر ۲ ھ اگست ۶۲۳ ء )
اس مہم میں ستّر مہاجرین کے ہمراہ رسول اللہﷺ بہ نفسِ نفیس تشریف لے گئے تھے اور مدینے میں حضرت سعدؓ بن عبادہ کو اپنا قائم مقام مقرر فرمایا تھا۔ مہم کا مقصد قریش کے ایک قافلے کی راہ روکنا تھا۔ آپﷺ وَدَّان تک پہنچے لیکن کوئی معاملہ پیش نہ آیا۔
اسی غزوہ میں آپﷺ نے بنوضمرہ کے سردار عمرو بن مخشی الضمری سے حلیفانہ معاہدہ کیا ، معاہدے کی عبارت یہ تھی :
” یہ بنو ضمرہ کے لیے محمد رسول اللہﷺ کی تحریر ہے۔ یہ لوگ اپنے جان اور مال کے بارے میں مامون رہیں گے۔ اور جوان پر یورش کرے گا اس کے خلاف ان کی مدد کی جائے گی ، اِلاّ کہ یہ خود اللہ کے دین کے خلاف جنگ کریں۔ ( یہ معاہدہ اس وقت تک کے لیے ہے ) جب تک سمندر سِوار 3
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 خرار، خ پر زبر اور رپر تشدید ، جحفہ کے قریب ایک مقام کا نام ہے۔
2 ودان ، و پر زبر۔ د پر تشدید ، مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے۔ یہ رابغ سے مدینہ جاتے ہوئے ۲۹ میل کے فاصلے پر پڑتا ہے ، ابواء ودان کے قریب ہی ایک دوسرے مقام کا نام ہے۔
3 سوار : پانی کی تہہ میں اگنے والی ایک گھاس۔
کو تر کرے (یعنی ہمیشہ کے لیے ہے ) اور جب نبیﷺ اپنی مدد کے لیے انہیں آواز دیں گے تو انہیں آنا ہو گا۔”1
یہ پہلی فوجی مہم تھی جس میں رسول اللہﷺ بذاتِ خود تشریف لے گئے تھے۔ اور پندرہ دن مدینے سے باہر گزار کر واپس آئے۔ اس مہم کے پرچم کا رنگ سفید تھا اور حضرت حمزہؓ علمبردارتھے۔
۵۔ غزوہ ٔبواط: (ربیع الاول ۲ ھ ستمبر۶۲۳ ء )
اس مہم میں رسول اللہﷺ دوسو صحابہ کو ہمراہ لے کر روانہ ہوئے۔ مقصود قریش کا ایک قافلہ تھا جس میں امیہ بن خلف سمیت قریش کے ایک سو آدمی اور ڈھائی ہزار اونٹ تھے۔ آپﷺ رضویٰ کے اطراف میں مقام بُواط 2 تک تشریف لے گئے لیکن کوئی معاملہ پیش نہ آیا۔
اس غزوہ کے دوران حضرت سعد بن معاذؓ کو مدینے کا امیر بنایا گیا تھا۔ پر چم سفید تھا علمبردار حضرت سعد بن ابی وقاصؓ تھے۔
۶۔ غزوہ ٔ سفوان: (ربیع الاول ۲ ھ ، ستمبر ۶۲۳ ء )
اس غزوہ کی وجہ یہ تھی کہ کرز بن جابر فہری نے مشرکین کی ایک مختصر سی فوج کے ساتھ مدینے کی چراگاہ پر چھاپہ مارا اور کچھ مویشی لوٹ لیے۔ رسول اللہﷺ نے ستر صحابہ کے ہمراہ اس کا تعاقب کیا اور بدر کے اطراف میں واقع وادیٔ سفوان تک تشریف لے گئے۔کرز اور اس کے ساتھیوں کو نہ پاس کے اور کسی ٹکراؤ کے بغیر واپس آگئے۔ اس غزوہ کو بعض لوگ غزوہ ٔ بدر اولیٰ بھی کہتے ہیں۔
اِس غزوہ کے دوران مدینے کی امارت زید بن حارثہؓ کو سونپی گئی تھی۔ عَلَم سفید تھا اور علمبر دار حضرت علیؓ تھے۔
۷۔ غزوہ ٔ ذی العشیرہ: (جمادی الاولی وجمادی الآخر ہ ۲ ھ نومبر ، دسمبر ۶۲۳ ء )
اس مہم میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ ڈیڑھ یا دو سو مہاجرین تھے لیکن آپﷺ نے کسی کو روانگی پر مجبور نہیں کیا تھا۔ سواری کے لیے صرف تیس اونٹ تھے۔ اس لیے لوگ باری باری سوار ہوتے تھے۔ مقصود قریش کا ایک قافلہ تھا جو ملک شام جارہا تھا اور معلوم ہوا تھا کہ یہ مکے سے چل چکا ہے۔ اس قافلے میں خاصا مال تھا۔ آپﷺ اس کی طلب میں ذوالعُشَیْرہ3تک پہنچے لیکن آپﷺ کے پہنچنے سے کئی دن پہلے ہی قافلہ جاچکا تھا۔ یہ وہی قافلہ ہے جسے شام سے واپسی پر نبیﷺ نے گرفتار کرنا چاہا تو یہ قافلہ تو بچ نکلا لیکن جنگ ِ بدر پیش آگئی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 المواہب اللدنیہ ۱/۷۵ شرح زرقانی
2 بواط ،ب پر پیش اور رضویٰ کو ہستان جہینہ کے سلسلے کے دوپہاڑ ہیں جو درحقیقت ایک ہی پہاڑ کی دوشاخیں ہیں یہ مکہ سے شام جانے والی شاہراہ کے متصل ہے اور مدینہ سے ۴۸ میل کے فاصلے پر ہے۔
3 عشیرہ، ع کو پیش اور ش کو زبر ، عشیراء اور عسیرہ بھی کہا جاتا ہے،ینبوع کے اطراف میں ایک مقام کا نام ہے۔
اس مہم پر ابن ِ اسحاق کے بقول رسول اللہﷺ جمادی الاولیٰ کے اواخر میں روانہ ہوئے – اور جمادی الآخرہ میں واپس آئے۔ غالبا ً یہی وجہ ہے کہ اس غزوے کے مہینے کی تعیین میں اہل سیر کا اختلاف ہے۔
اس غزوہ میں رسول اللہﷺ نے بنو مدلج اور ان کے حلیف بنو ضمرہ سے عدمِ جنگ کا معاہدہ کیا۔
ایام سفر میں مدینہ کی سربراہی کاکام حضرت ابوسلمہ بن عبد الاسد مخزومیؓ نے انجام دیا۔ اس دفعہ بھی پر چم سفید تھا اور علمبردار حضرت حمزہؓ تھے۔
۸۔ سریۂ نخلہ: (رجب ۲ ھ جنوری ۶۲۴ ء )
اس مہم پر رسول اللہﷺ نے حضرت عبد اللہ بن جحشؓ کی سرکردگی میں بارہ مہاجرین کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔ ہر دوآدمیوں کے لیے ایک اونٹ تھا جس پر باری باری دونوں سوار ہوتے تھے۔ دستے کے امیر کو رسول اللہﷺ نے ایک تحریر لکھ کر دی تھی اور ہدایت فرمائی تھی کہ دودن سفر کر لینے کے بعد ہی اسے دیکھیں گے۔ چنانچہ دودن کے بعد حضرت عبد اللہ نے تحریر دیکھی تو اس میں درج تھا :”جب تم میری یہ تحریر دیکھو تو آگے بڑھتے جاؤیہاں تک کہ مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں اُترو اور وہاں قریش کے ایک قافلے کی گھات میں لگ جاؤ اور ہمارے لیے اس کی خبروں کا پتا لگا ؤ۔” انہوںنے سمع وطاعت کہا اور اپنے رفقاء کوا س کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا کہ میں کسی پر جبر نہیں کرتا ، جسے شہادت محبوب ہووہ اٹھ کھڑا ہو اور جسے موت ناگوار ہو وہ واپس چلاجائے۔ باقی رہا میں ! تو ،میں بہر حال آگے جاؤں گا۔ اس پر سارے ہی رُفقاء اٹھ کھڑے ہوئے اور منزل مقصود کے لیے چل پڑے۔ البتہ راستے میں سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما کا اونٹ غائب ہوگیا جس پر یہ دونوں بزرگ باری باری سفر کررہے تھے، اس لیے یہ دونوں پیچھے رہ گئے۔
حضرت عبد اللہ بن جحشؓ نے طویل مسافت طے کر کے نخلہ میں نزول فرمایا۔ وہاں سے قریش کا ایک قافلہ گزرا جو کشمش ، چمڑے اور سامانِ تجارت لیے ہوئے تھا۔ قافلے میں عبد اللہ بن مغیرہ کے دوبیٹے عثمان اور نوفل اور عمرو بن حضرمی اور حکیم بن کیسان مولیٰ مغیرہ تھے۔ مسلمانوں نے باہم مشورہ کیا کہ آخر کیا کریں۔ آج حرام مہینے رجب کا آخری دن ہے اگر ہم لڑائی کرتے ہیں تو اس حرام مہینے کی بے حرمتی ہوتی ہے اور رات بھر رک جاتے ہیں تو یہ لوگ حدودِ حرم میں داخل ہو جائیں گے۔ اس بعد سب ہی کی یہی رائے ہوئی کہ حملہ کردینا چاہیے چنانچہ ایک شخص نے عمرو بن حضرمی کو تیر مارا اور اس کا کام تمام کردیا۔ باقی لوگوں نے عثمان اور حکیم کو گرفتار کرلیا ، البتہ نوفل بھاگ نکلا۔ اس کے بعد یہ لوگ دونوں قیدیوں اور سامانِ قافلہ کو لیے ہوئے مدینہ پہنچے۔ انہوں نے مالِ غنیمت سے خمس بھی نکال لیا تھا۔1 اور یہ اسلامی تاریخ کا پہلا خمس پہلامقتول اور پہلے قیدی تھے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 اہل سیر کا بیان یہی ہے مگر اس میں پیچیدگی یہ ہے کہ خمس نکالنے کا حکم جنگ بدر کے موقعے پر نازل ہوا تھا اور اس کے سبب کی جو تفصیلات کتب تفاسیر میں بیان کی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے مسلمان خمس کے حکم سے نا آشنا تھے۔
رسول اللہﷺ نے ان کی اس حرکت پر بازپرس کی اور فرمایا کہ میں نے تمہیں حرام مہینے میں جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، اور سامان قافلہ اور قیدیوں کے سلسلے میں کسی بھی طرح کے تصرف سے ہاتھ روک لیا۔
ادھراس حادثے سے مشرکین کو اس پروپیگنڈے کا موقع مل گیا کہ مسلمانوں نے اللہ کے حرام کیے مہینے کو حلال کرلیا ، چنانچہ بڑی چہ میگوئیاں ہوئیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اس پروپیگنڈہ کی قلعی کھولی اور بتلایا کہ مشرکین جو کچھ کررہے ہیں وہ مسلمانوں کی حرکت سے بدرجہا زیادہ بڑا جرم ہے۔ ارشاد ہوا :
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ‌ الْحَرَ‌امِ قِتَالٍ فِيهِ ۖ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ‌ ۖ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَكُفْرٌ‌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ وَإِخْرَ‌اجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ‌ عِندَ اللَّـهِ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ‌ مِنَ الْقَتْلِ ۗ (۲: ۲۱۷ )
” لوگ تم سے حرام مہینے میں قتال کے متعلق دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو اس میں جنگ کرنا بڑا گناہ ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اللہ کے ساتھ کفر کرنا ، مسجد حرام سے روکنا اور اس کے باشندوں کو وہاں سے نکالنا یہ سب اللہ کے نزدیک اور زیادہ بڑا جرم ہے اور فتنہ قتل سے بڑھ کر ہے۔”
اس وحی نے صراحت کردی کہ لڑنے والے مسلمانوں کی سیرت کے بارے میں مشرکین نے جو شور برپا کررکھا ہے اس کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ قریش اسلام کے خلاف لڑائی میں مسلمانوں پر ظلم وستم رانی میں ساری ہی حرمتیں پامال کرچکے ہیں۔ کیا جب ہجرت کرنے والے مسلمانوں کا مال چھینا گیا اور پیغمبر کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو یہ واقعہ شہرحرام (مکہ ) سے باہر کہیں اور کا تھا ؟ پھرکیا وجہ ہے کہ اب ان حرمات کا تقدس اچانک پلٹ آیا اور ان کا چاک کرنا باعث ننگ وعار ہوگیا۔ یقینا مشرکین نے پروپیگنڈے کا جوطوفان برپا کر رکھا ہے وہ کھلی ہوئی بے حیائی اور صریح بے شرمی پر مبنی ہے۔
اس کے بعد رسول اللہﷺ نے دونوں قیدیوں کو آزاد کردیا اور مقتول کے اولیاء کو اس کا خون بہاادا کیا۔1
یہ ہیں جنگِ بدر سے پہلے کے سریے اور غزوے۔ ان میں سے کسی میں بھی لوٹ مار اور قتل وغارت گری کی نوبت نہیں آئی جب تک کہ مشرکین نے کرز بن جابر فہری کی قیادت میں ایسا نہیں کیا ، اس لیے اس کی ابتدا بھی مشرکین ہی کی جانب سے ہوئی جب کہ اس سے پہلے بھی وہ طرح طرح کی ستم رانیوں کا ارتکاب کرچکے تھے۔
ادھر سَریہ عبد اللہ بن جحش کے واقعات کے بعد مشرکین کا خوف حقیقت بن گیا اور ان کے سامنے ایک واقعی خطرۂ مجسم ہوکر آگیا۔ انہیں جس پھندے میں پھنسنے کا اندیشہ تھا اس میں اب وہ واقعی پھنس چکے تھے۔ انہیں معلوم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ان سرایا اور غزوات کی تفصیل ذیل سے لی گئی ہے۔ زاد المعاد ۲/۸۳-۸۵ ابن ہشام ۱/۵۹۱ – ۶۰۵ رحمۃ للعالمین ۱ / ۱۱۵، ۱۱۶، ۲/۲۱۵ ، ۲۱۶ ، ۴۶۸ – ۴۷۰۔ ان مآخذ میں ان سرایا وغزوات کی ترتیب اور ان میں شرکت کرنے والوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے۔ ہم نے علامہ ابن ِ قیم اور علامہ منصور پوری کی تحقیق پر اعتماد کیا ہے۔
ہوگیا کہ مدینے کی قیادت انتہائی بیدار مغز ہے اور ان کی ایک ایک تجارتی نقل وحرکت پر نظر رکھتی ہے۔مسلمان چاہیں تو تین سو میل کا راستہ طے کرکے ان کے علاقے کے اندر انہیں مار کاٹ سکتے ہیں ، قید کرسکتے ہیں ، مال لُوٹ سکتے ہیں اور ان سب کے بعد صحیح سالم واپس بھی جاسکتے ہیں۔ مشرکین کی سمجھ میں آگیا کہ ان کی شامی تجارت اب مستقل خطرے کی زد میں ہے لیکن ان سب کے باوجود وہ اپنی حماقت سے باز آنے اور جُہَینہ او ربنو ضمرہ کی طرح صلح وصفائی کی راہ اختیار کرنے کے بجائے اپنے جذبۂ غیظ وغضب اور جوشِ بغض وعداوت میں کچھ اور آگے بڑھ گئے اور ان کے صنادید واکابر نے اپنی اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کرلیا کہ مسلمانوں کے گھر وں میں گھس کر ان کا صفایا کردیا جائے گا۔چنانچہ یہی طیش تھا جو انہیں میدانِ بدر تک لے آیا۔
باقی رہے مسلمان تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن جحشؓ کے سریہ کے بعد شعبان ۲ ھ میں ان پر جنگ فرض قرار دے دی اور اس سلسلے میں کئی واضح آیات نازل فرمائیں۔ ارشاد ہوا :
وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِ‌جُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَ‌جُوكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ حَتَّىٰ يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِ‌ينَ ﴿١٩١﴾ فَإِنِ انتَهَوْا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿١٩٢﴾ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ ﴿١٩٣﴾ (۲: ۱۹۰تا۱۹۳)
” اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور حد سے آگے نہ بڑھو۔ یقینا اللہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا ، اور انہیں جہاں پاؤ قتل کرو ، اور جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے وہاں سے تم بھی انہیںنکال دو اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے اور ان سے مسجد حرام کے پاس قتال نہ کرو یہاں تک کہ وہ تم سے مسجد حرام میں قتال کریں۔ پس اگروہ (وہاں) قتال کریں تو تم (وہاںبھی) انہیںقتل کرو۔ کافروں کی جزاایسی ہی ہے۔ پس اگر وہ باز آجائیں تو بے شک اللہ غفور رحیم ہے اور ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہوجائے۔ پس اگر وہ باز آجائیں تو کوئی تَعدّ ِی نہیں ہے مگر ظالموں ہی پر۔”
اس کے جلد ہی بعد دوسری نوع کی آیات نازل ہوئیں جن میں جنگ کا طریقہ بتایا گیا اور اس کی ترغیب دی گئی ہے اور بعض احکامات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے :
فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا فَضَرْ‌بَ الرِّ‌قَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْ‌بُ أَوْزَارَ‌هَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ‌ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ ﴿٤﴾ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ ﴿٥﴾ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّ‌فَهَا لَهُمْ ﴿٦﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُ‌وا اللَّـهَ يَنصُرْ‌كُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ ﴿٧﴾ (۴۷: ۴- ۷ )
”پس جب تم لوگ کفر کرنے والوں سے ٹکراؤ تو گردنیں مار و ، یہاں تک کہ جب انہیں چھی طرح کچل لو تو جکڑ کر باندھو۔ اس کے بعد یا تو احسان کرو یا فدیہ لو ، یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے۔ یہ ہے (تمہارا کام ) اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے انتقام لے لیتا لیکن (وہ چاہتاہے کہ ) تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میںقتل کیے جائیں اللہ ان کے اعمال کو ہرگز رائیگاں نہ کرے گا۔ اللہ ان کی رہنمائی کرے گا اور ان کا حال درست کرے گا اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس سے ان کو واقف کرچکا ہے۔ اے اہل ایمان ! اگر تم نے اللہ کی مدد کی تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم ثابت رکھے گا۔”
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت فرمائی جن کے دل جنگ کا حکم سن کر کانپنے اور دھڑکنے لگے تھے۔ فرمایا:
فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَ‌ةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ‌ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَ‌أَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ يَنظُرُ‌ونَ إِلَيْكَ نَظَرَ‌ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ (۴۷: ۲۰)
”تو جب کوئی محکم سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر ہوتا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہورہی ہو۔”
حقیقت یہ ہے کہ جنگ کی فرضیت وترغیب اور اس کی تیاری کا حکم حالات کے تقاضے کے عین مطابق تھا حتی کہ اگر حالات پر گہری نظر رکھنے والا کوئی کمانڈر ہوتا تو وہ بھی اپنی فوج کو ہر طرح کے ہنگامی حالات کا فوری مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیتا۔ لہٰذا وہ پرور دگارِ برتر کیوں نہ ایسا حکم دیتا جو ہر کھلی اور ڈھکی بات سے واقف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حالات حق وباطل کے درمیان ایک خون ریز اور فیصلہ کن معرکے کا تقاضا کررہے تھے ، خصوصاً سریہ عبد اللہ بن جحشؓ کے بعد جو کہ مشرکین کی غیرت وحمیت پر ایک سنگین ضرب تھی اور جس نے انہیں کبابِ سیخ بنارکھا تھا۔
احکام ِ جنگ کی آیا ت کے سیاق وسباق سے اندازہ ہوتا ہے کہ خون ریز معرکے کا وقت قریب ہی ہے اور اس میں آخری فتح ونصرت مسلمانوں ہی کو نصیب ہوگی۔ آپ اس بات پر نظر ڈالیے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جہاں سے مشرکین نے تمہیں نکالا ہے اب تم بھی وہاں سے انہیں نکال دو۔ پھر کس طرح اس نے قیدیوں کے باندھنے اور مخالفین کو کچل کر سلسلہ ٔ جنگ کو خاتمے تک پہنچانے کی ہدایت دی ہے جو ایک غالب اور فاتح فوج سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ اشارہ تھا کہ آخری غلبہ مسلمانوں ہی کو نصیب ہوگا۔ لیکن یہ بات پردوں اور اشاروں میں بتائی گئی تاکہ جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کے لیے جتنی گرمجوشی رکھتا ہے اس کا عملی مظاہرہ بھی کرسکے۔
پھر انہی دنوں – شعبان ۲ ھ فروری ۶۲۴ ء میں – اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ قبلہ ، بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو بنایا جائے اورنماز میں اسی طرف رخ پھیرا جائے۔ اس کا فائدہ ہوا کہ کمزور اور منافق یہود جو مسلمانوں کی صف میں محض اضطراب وانتشار پھیلانے کے لیے داخل ہوگئے تھے کھل کر سامنے آگئے اور مسلمانوں سے علیحدہ ہوکر اپنی اصل حالت پر واپس چلے گئے اور اس طرح مسلمانوں کی صفیں بہت سے غداروں اور خیانت کوشوں سے پاک ہوگئیں۔
تحویل قبلہ میں اس طرف بھی ایک لطیف اشارہ تھا کہ اب ایک نیا دور شروع ہورہاہے جو اس قبلے پر مسلمانوںکے قبضے سے پہلے ختم نہ ہوگا ، کیونکہ یہ بڑی عجیب بات ہوگی کہ کسی قوم کا قبلہ اس کے دشمنوں کے قبضے میں ہو اور اگر ہے تو پھر ضروری ہے کہ کسی نہ کسی دن اسے آزاد کرایا جائے۔
ان احکام اور اشارو ں کے بعد مسلمانوں کی نشاط میں مزید اضافہ ہوگیا اور ان کے جہاد فی سبیل اللہ کے جذبات اوردشمن سے فیصلہ کن ٹکر لینے کی آرزو کچھ اور بڑھ گئی۔
غزوۂ بدر کبریٰ
اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ

غزوے کا سبب:
غزوۂ عشیرہ کے ذکر میں ہم بتا چکے ہیں کہ قریش کا ایک قافلہ مکے سے شام جاتے ہوئے نبیﷺ کی گرفت سے بچ نکلا تھا۔ یہی قافلہ جب شام سے پلٹ کر مکہ واپس آنے ولا تھا تو نبیﷺ نے طلحہ بن عبید اللہؓ اور سعید بن زیدؓ کو اس کے حالات کا پتا لگا نے کے لیے شمال کی جانب روانہ فرمایا۔ یہ دونوں صحابی مقامِ حوراء تک تشریف لے گئے اور وہیں ٹھہرے رہے۔ جب ابو سفیان قافلہ لے کر وہاں سے گزرا تو یہ نہایت تیز رفتاری سے مدینہ پلٹے اور رسول اللہﷺ کو اس کی اطلاع دی۔
اس قافلے میں اہل مکہ کی بڑی دولت تھی ، یعنی ایک ہزار اونٹ تھے جن پر کم ازکم پچاس ہزار دینار (دوسو ساڑھے باسٹھ کلو سونے ) مالیت کا سازوسامان بار کیا ہو ا تھا درآں حالیکہ اس کی حفاظت کے لیے صرف چالیس آدمی تھے۔
اہل ِ مدینہ کے لیے یہ بڑا زرّین موقع تھا جبکہ اہل ِ مکہ کے لیے اس مالِ فراواں سے محرومی بڑی زبردست فوجی ، سیاسی اور اقتصادی مار کی حیثیت رکھتی تھی اس لیے رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کے اندر اعلان فرمایا کہ یہ قریش کا قافلہ مال ودولت لیے چلا آرہا ہے اس کے لیے نکل پڑو۔ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بطور ِ غنیمت تمہارے حوالے کردے۔
لیکن آپﷺ نے کسی پر روانگی ضروری نہیں قرار دی بلکہ اسے محض لوگوں کی رغبت پر چھوڑ دیا کیونکہ اس اعلان کے وقت یہ توقع نہیں تھی کہ قافلے کے بجائے لشکر ِ قریش کے ساتھ میدانِ بدر میں ایک نہایت پُر زور ٹکر ہوجائے گی اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مدینے ہی میں رہ گئے۔ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہﷺ کا یہ سفر آپ کی گزشتہ عام فوجی مہمات سے مختلف نہ ہوگا۔ اور اسی لیے اس غزوے میں شریک نہ ہونے والوں سے کوئی باز پرس نہیں کی گئی۔
اسلامی لشکر کی تعداد اور کمان کی تقسیم:
رسول اللہﷺ روانگی کے لیے تیار ہوئے تو آپ کے ہمراہ کچھ اُوپر تین سو افراد تھے۔ (یعنی ۳۱۳ یا ۳۱۴ یا ۳۱۷ ) جن میں سے ۸۲ یا ۸۳ یا ۸۶ مہاجر تھے اور بقیہ انصار۔ پھر انصار میں سے ۶۱ اَوس سے تھے اور ۱۷۰ قبیلہ خزرج سے۔ اس لشکر نے غزوے کا نہ کوئی خاص اہتمام کیا تھا نہ مکمل تیاری۔ چنانچہ پورے لشکر میں صرف دو گھوڑے تھے (ایک حضرت زُبیرؓ بن عوام کا اور دوسرا حضرت مقدادؓ بن اسود کندی کا )اور ستر اونٹ ، جن میں سے ہر اونٹ پر دو یاتین آدمی باری باری سوار ہوتے تھے۔ ایک اونٹ رسول اللہﷺ ، حضرت علیؓ اور حضرت مرثدبن ابی مرثد غنویؓ کے حصے میں آیا تھا جن پر تینوں حضرات باری باری سوار ہوتے تھے۔
مدینہ کا انتظام اور نماز کی امامت پہلے پہل حضرت ابنِ اُمّ ِ مکتومؓ کو سونپی گئی ، لیکن جب نبیﷺ مقام ِ رَوْحاء تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ﷺ نے حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذرؓ کو مدینہ کا منتظم بنا کر واپس بھیج دیا، لشکر کی تنظیم اس طرح کی گئی کہ ایک جیش مہاجرین کابنایا گیا اور ایک انصار کا۔ مہاجرین کا علَم حضرت علی بن ابی طالب کو دیا گیا اورا نصار کا علَم حضرت سعدؓ بن معاذ کو۔ اور جنرل کمان کا پرچم جس کا رنگ سفید تھا حضرت مصعب بن عمیر عبدریؓ کو دیا گیا۔ میمنہ کے افسر حضرت زُبیر بن عوامؓ مقرر کیے گئے او رمَیْسَرہ کے افسر حضرت مقداد بن اسودؓ — اور جیسا کہ ہم بتاچکے ہیں ، پورے لشکر میں صرف یہی دونوں بزرگ شہسوار تھے — ساقہ کی کمان حضرت قیسؓ بن ابی صَعْصَعہ کے حوالے کی گئی اور سپہ سالارِ اعلیٰ کی حیثیت سے جنرل کمان رسول اللہﷺ نے خود سنبھالی۔
بدر کی جانب اسلامی لشکر کی روانگی:
رسول اللہﷺ اس نامکمل لشکر کو لے کر روانہ ہوئے تو مدینے کے دہانے سے نکل کر مکہ جانے والی شاہراہ عام پر چلتے ہوئے بئرروحاء تک تشریف لے گئے۔ پھر وہاں سے آگے بڑھے تو مکے کا راستہ بائیں جانب چھوڑدیا اور داہنے جانب کتراکر چلتے ہوئے ناز یہ پہنچے (منزل مقصود بدر تھی ) پھر نازیہ کے ایک گوشے سے گزر کر وادی رحقان پارکی۔ یہ نازیہ اور درۂ صفراء کے درمیان ایک وادی ہے۔ اس وادی کے درۂ صفراء سے گزرے۔ پھر درہ سے اتر کر وادی صفراء کے قریب جاپہنچے اور وہاں سے قبیلہ جہینہ کے دوآدمیوں، یعنی بسیس بن عمر اور عدی بن ابی الزغباء کو قافلے کے حالات کا پتا لگانے کے لیے بدر روانہ فرمایا۔
بدر کا انتخاب کیوں کیا ؟
رسول اللہﷺ کی منزل مقصود مقام بدر تھا کیونکہ ابوسفیان کا قافلہ جس کا روانی شاہراہ سے آرہا تھا وہ مقام بدر سے گزرتی تھی اور دستور تھا کہ قافلے یہاں پہنچ کر پڑاؤ ڈالتے تھے اور یہ مقام بدر کوئی ایک میل لمبا اوراس سے کچھ کم چوڑا ایک میدان ہے۔ جو ہر طرف بلند وبالا اور ناقابل عبور پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ آنے جانے کے لیے ان پہاڑوں کے درمیان صرف تین یا چار راستے ہیں۔ آپﷺ کا پلان غالباً یہ تھا کہ قافلہ یہاں اترپڑے۔ اس کے بعد ان راستوں کو بند کرکے اسے گھیر لیا جائے۔ اس صورت میں کوئی آدمی یا کوئی اونٹ بچ کر جانہیں سکتا تھا۔ غالباً اسی لیے آپﷺ دھیمی رفتار سے اور بدر کے رخ سے قدرے ہٹ کر جارہے تھے۔
مکے میں خطرے کا اعلان:
دوسر ی طرف قافلے کی صور ت ِ حال یہ تھی کہ ابو سفیان جوا س کا نگہبا ن تھا ، حددرجہ محتاط تھا۔ اسے معلوم تھا کہ مکے کا راستہ خطروں سے پُر ہے ، اس لیے وہ حالات کا مسلسل پتا لگاتا رہتا تھا اور جن قافلوں سے ملاقات ہوتی تھی ان سے کیفیت دریافت کرتا رہتا تھا ، چنانچہ اس کا جلد ہی یہ اندیشہ قوی ہوگیا کہ محمدﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قافلے پر حملے کی دعوت دے دی ہے ، لہٰذا اس نے فوراً ضمضم بن عمرو غفاری کو اجرت دے کر مکے بھیجا کہ وہاں جاکر قافلے کی حفاظت کے لیے قریش میں نفیر ِعام کی صدا لگائے۔ ضمضم نہایت تیزرفتاری سے مکہ آیا اور عرب دستور کے مطابق اپنے اونٹ کی ناک چیڑی، کجاوہ الٹا ، کرتا پھاڑا اور وادی ٔ مکہ میں اسی اونٹ پر کھڑے ہو کر آواز لگائی: ”اے جماعت قریش ! قافلہ … قافلہ … تمہارا مال جو ابوسفیان کے ہمراہ ہے اس پر محمد (ﷺ ) اور اس کے ساتھی دھاوا بولنے جارہے ہیں۔ مجھے یقین نہیں کہ تم اسے پاسکو گے۔ مدد…مدد…”
جنگ کے لیے اہل مکہ کی تیاری:
یہ آواز سن کر لوگ ہر طرف سے دوڑ پڑے۔ کہنے لگے :محمد اور اس کے ساتھی سمجھتے ہیں کہ یہ قافلہ بھی ابن حضرمی کے قافلے جیسا ہے ؟ جی نہیں ! ہر گز نہیں۔ اللہ کی قسم ! انہیں پتا چل جائے گا کہ ہمارا معاملہ کچھ اور ہے۔ چنانچہ سارے مکے میں دوہی طرح کے لوگ تھے یاتو آدمی خود جنگ کے لیے نکل رہا تھا یا اپنی جگہ کسی اور کو بھیج رہا تھا اور اس طرح گویا سبھی نکل پرے۔ خصوصاً معزز ین مکہ میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ صرف ابو لہب نے اپنی جگہ ایک قرضدار کو بھیجا۔ گردوپیش کے قبائل ِ عرب کو بھی قریش نے بھرتی کیا اور خود قریشی قبائل میں سے سوائے بنوعدی کے کوئی بھی پیچھے نہ رہا ، البتہ بنوعدی کے کسی بھی آدمی نے اس جنگ میں شرکت نہ کی۔
مکی لشکر کی تعداد:
ابتدا میں مکی لشکر کی تعداد تیرہ سو تھی جن کے پاس ایک سو گھوڑے اور چھ سو زرہیں تھیں۔ اونٹ کثرت سے تھے جن کی ٹھیک ٹھیک تعداد معلوم نہ ہوسکی۔ لشکر کا سپہ سالار ابو جہل بن ہشام تھا۔ قریش کے نو معزز آدمی اس کی رسد کے ذمے دار تھے۔ایک دن نو اور ایک دن دس اونٹ ذبح کیے جاتے تھے۔
قبائل بنو بکر کا مسئلہ:
جب مکی لشکر روانگی کے لیے تیار ہو گیا تو قریش کو یاد آیا کہ قبائل بنوبکر سے ان کی دشمنی اور جنگ چل رہی ہے، اس لیے انہیں خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ قبائل پیچھے سے حملہ نہ کردیں اور اس طرح وہ دشمنوں کے بیچ میں نہ گھر جائیں۔ قریب تھا کہ یہ خیال قریش کو ان کے ارادۂ جنگ سے روک دے ، لیکن عین اسی وقت ابلیس لعین بنو کنانہ کے سردار سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں نمودار ہوا اور بولا :”میں بھی تمہارا رفیق کا رہوں اور اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ بنو کنانہ تمہارے پیچھے کوئی ناگوار کام نہ کریں گے۔”
جیش مکہ کی روانگی:
اس ضمانت کے بعد اہلِ مکہ اپنے گھروں سے نکل پڑے اور جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے: ”اِ تراتے ہوئے، لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے ، اور اللہ کی راہ سے روکتے ہوئے ”،مدینہ کی جانب روانہ ہوئے۔جیسا کہ رسول اللہﷺ کاارشاد ہے :”اپنی دھارا ور ہتھیار لے کر ، اللہ سے خار کھاتے ہوئے اور اس کے رسولﷺ سے خار کھاتے ہوئے ، جوشِ انتقام سے چور اور جذبۂ حمیت وغضب سے مخمور ، اس پر کچکچائے ہوئے کہ رسول اللہﷺ اور آپ کے صحابہؓ نے اہل ِ مکہ کے قافلوں پر آنکھ اٹھانے کی جرأت کیسے کی ؟ بہر حال یہ لوگ نہایت تیز رفتاری سے شمال کے رخ پر بدر کی جانب چلے جارہے تھے کہ وادی عسفان اور قدید سے گزرکر جحفہ پہنچے تو ابو سفیان کا ایک نیا پیغام موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ آپ لوگ اپنے قافلے ، اپنے آدمیوںاور اپنے اموال کی حفاظت کی غرض سے نکلے ہیں اور چونکہ اللہ نے ان سب کو بچا لیا ہے، لہٰذا اب واپس چلے جائیے۔
قافلہ بچ نکلا :
ابو سفیان کے بچ نکلنے کی تفصیل یہ ہے کہ وہ شام سے کاروانی شاہراہ پر چلا تو آرہا تھا لیکن مسلسل چوکنا اور بیدار تھا۔ اس نے اپنی فراہمی اطلاعات کی کوشش بھی دو چند کر رکھی تھیں۔ جب وہ بدر کے قریب پہنچا تو خود قافلے سے آگے جاکر مجدی بن عمرو سے ملاقات کی اور اس سے لشکر ِ مدینہ کی بابت دریافت کیا۔ مجدی نے کہاـ :”میں نے کوئی خلافِ معمول آدمی تو نہیں دیکھا البتہ دوسوار دیکھے جنہوں نے ٹیلے کے پاس اپنے جانور بٹھائے۔ پھر اپنے مشکیز ے میں پانی بھر کر چلے گئے۔” ابو سفیان لپک کر وہاں پہنچا اور ان کے اونٹ کی مینگنیاں اُٹھا کر توڑ یں تو اس میں کھجور کی گٹھلی برآمد ہوئی۔ ابو سفیان نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ یثرب کا چارہ ہے۔ اس کے بعد وہ تیزی سے قافلے کی طرف پلٹا اور اسے مغرب کی طرف موڑکر اس کا رخ ساحل کی طرف کردیا اور بدر سے گزرنے والی کا روانی شاہراہ کو بائیں ہاتھ چھوڑدیا۔ اس طرح قافلے کو مدنی لشکر کے قبضے میں جانے سے بچالیا اور فوراْ ہی مکی لشکر کو اپنے بچ نکلے کی اطلاع دیتے ہوئے اسے واپس جانے کا پیغام دیا جو اسے جحفہ میں موصول ہوا۔
مکی لشکر کا ارادہ ٔ واپسی اور باہمی پھُوٹ:
یہ پیغام سن کر مکی لشکر نے چاہا کہ واپس چلا جائے لیکن قریش کا طاغوت اکبر ابو جہل کھڑا ہوگیا اور نہایت کبر وغرور سے بولا :” اللہ کی قسم! ہم واپس نہ ہوں گے یہاں تک کہ بدر جاکر وہاں تین روز قیام کریں گے اور اس دوران اونٹ ذبح کریں گے۔ لوگوں کو کھانا کھلائیں گے اور شراب پلائیں گے۔ لونڈیاں ہمارے لیے گانے گائیں گی اور سار ا عرب ہمارا اور ہمارے سفر واجتماع کا حال سنے گا اور اس طرح ہمیشہ کے لیے ان پر ہماری دھاک بیٹھ جائے گی۔”
لیکن ابو جہل کے علی الرغم اخنس بن شُرَیْق نے یہی مشورہ دیا کہ واپس چلے چلو مگر لوگوں نے اس کی بات نہ مانی اس لیے وہ بنو زہرہ کے لوگوں کو ساتھ لے کر واپس ہوگیا کیونکہ وہ بنو زہرہ کا حلیف اور اس لشکر میں ان کا سردار تھا۔ بنو زہرہ کی کل تعداد کوئی تین سو تھی۔ ان کا کوئی بھی آدمی جنگ بدر میں حاضر نہ ہوا۔ بعد میں بنو زہرہ اخنس بن شریق کی رائے پر حددرجہ شاداں وفرحاں تھے اور ان کے اندر اس کی تعظیم واطاعت ہمیشہ برقرار رہی۔
بنو زہرہ کے علاوہ بنو ہاشم نے بھی چاہا کہ واپس چلے جائیں لیکن ابو جہل نے بڑی سختی کی اور کہا کہ جب تک ہم واپس نہ ہوں یہ گروہ ہم سے الگ نہ ہونے پائے۔
غرض لشکر نے اپنا سفر جاری رکھا۔ بنو زہرہ کی واپسی کے بعد اب اس کی تعداد ایک ہزار رہ گئی تھی اور اس کا رخ بدر کی جانب تھا۔ بدر کے قریب پہنچ کر اس نے ایک ٹیلے کے پیچھے پڑاؤ ڈالا۔یہ ٹیلہ وادی کے حدود پر جنوبی دہانے کے پاس واقع ہے۔
اسلامی لشکر کے لیے حالات کی نزاکت:
ادھر مدینے کے ذرائع اطلاعات نے رسول اللہﷺ کو جبکہ ابھی آپﷺ راستے ہی میں تھے اور وادی ذفران سے گزررہے تھے قافلے اور لشکردونوں کے متعلق اطلاعات فراہم کیں۔ آپﷺ نے ان اطلاعات کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد یقین کر لیا کہ اب ایک خون ریز ٹکراؤ کا وقت آگیا ہے اور ایک ایسا اقدام ناگزیر ہے جو شجاعت وبسالت اور جرأت وجسارت پر مبنی ہو۔ کیونکہ یہ بات قطعی تھی کہ اگر مکی لشکر کو اس علاقے میں یوںہی دندناتا ہوا پھرتے دیا جاتا تو اس سے قریش کی فوجی ساکھ کو بڑی قوت پہنچ جاتی اور ان کی سیا سی بالادستی کا دائرہ دور تک پھیل جاتا۔ مسلمانوں کی آواز دب کر کمزور ہو جاتی اور اس کے بعد اسلامی دعوت کو ایک بے روح ڈھانچہ سمجھ کر اس علاقے کا ہرکس وناکس ، جو اپنے سینے میں اسلام کے خلاف کینہ وعداوت رکھتا تھا شر پر آمادہ ہوجاتا۔
پھر ان سب باتوں کے علاوہ آخر اس کی کیا ضمانت تھی کہ مکی لشکر مدینے کی جانب پیش قدمی نہیںکرے گا اور اس معرکہ کو مدینہ کی چہار دیواری تک منتقل کرکے مسلمانوں کو ان کے گھروں میں گھس کر تباہ کرنے کی جرأت اور کوشش نہیں کرے گا ؟ جی ہاں ! اگر مدنی لشکر کی جانب سے ذرا بھی گریز کیا جاتا تو یہ سب کچھ ممکن تھا اور اگر ایسا نہ بھی ہوتا تو مسلمانوں کی ہیبت وشہرت پر تو بہرحال اس کا نہایت بُرا اثر پڑتا۔
مجلس شوریٰ کاا جتماع:
حالات کی اس اچانک اور پُر خطر تبدیلی کے پیش نظر رسول اللہﷺ نے ایک اعلیٰ فوجی مجلس شوریٰ منعقد کی۔ جس میں درپیش صورتِ حال کا تذکرہ فرمایا اور کمانڈروں اور عام فوجیوں سے تبادلہ ٔ خیالات کیا۔ اس موقع پر ایک گروہ خون ریز ٹکراؤ کا نام سن کرکانپ اٹھا اور اس کا دل لرزنے اور دھڑکنے لگا۔ اسی گروہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
كَمَا أَخْرَ‌جَكَ رَ‌بُّكَ مِن بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِ‌يقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِ‌هُونَ ﴿٥﴾ يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُ‌ونَ ﴿٦﴾ (۸: ۵،۶)
”جیسا کہ تجھے تیرے رب نے تیرے گھر سے حق کے ساتھ نکالا اور مومنین کا ایک گروہ ناگوار سمجھ رہا تھا۔ وہ تجھ سے حق کے بارے میں اس کے و اضح ہوچکنے کے بعد جھگڑرہے تھے گویا وہ آنکھوں دیکھتے موت کی طرف ہانکے جارہے ہیں۔ ”
لیکن جہاں تک قائدین لشکر کا تعلق ہے توحضرت ابوبکرؓ اُٹھے اور نہایت اچھی بات کہی۔ پھر عمر بن خطابؓ اٹھے اور اُنہوں نے بھی نہایت عمدہ بات کہی۔ پھر حضرت مقداد بن عمروؓ اٹھے اور عرض پرداز ہوئے : ”اے اللہ کے رسول !(ﷺ ) اللہ نے آپ کو جو راہ دکھلائی ہے اس پر رواں دواں رہئے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اللہ کی قسم !ہم آپ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنو اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی کہ :
فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَ‌بُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ (۵: ۲۴)
”تم اور تمہارا رب جاؤ اور لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں۔”
بلکہ ہم کہیں گے کہ آپﷺ اور آپ کے پروردگار چلیں اور لڑیں اور ہم بھی آپﷺ کے ساتھ ساتھ لڑیں گے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! اگر آپ ﷺ ہم کو برکِ غما د تک لے چلیں تو ہم راستے والوں سے لڑتے بھڑتے آپﷺ کے ساتھ وہاں بھی چلیں گے۔ ”
رسول اللہﷺ نے ان کے حق میں کلمہ خیر ارشاد فرمایا اور دعا دی۔
یہ تینوں کمانڈر مہاجرین سے تھے جن کی تعداد لشکر میں کم تھی۔ رسول اللہﷺ کی خواہش تھی کہ انصار کی رائے معلوم کریں کیونکہ وہی لشکر میں اکثریت رکھتے تھے اور معرکے کا اصل بوجھ انہیں کے شانوں پر پڑنے والاتھا۔ درآں حالیکہ بیعت ِ عقبہ کی رُو سے ان پر لازم نہ تھا کہ مدینے سے باہر نکل کر جنگ کریں اس لیے آپﷺ نے مذکور ہ تینوں حضرات کی باتیں سننے کے بعد پھر فرمایا: ”لوگو! مجھے مشورہ دو ۔” مقصود انصار تھے اور یہ بات انصار کے کمانڈر اور علمبردار حضرت سعدؓ بن معاذؓ نے بھانپ لی ، چنانچہ انہوں نے عرض کیا کہ واللہ ! ایسا معلو م ہوتا ہے کہ اے اللہ کے رسول ! آپ کا رُوئے سخن ہماری طرف ہے۔ آپ نے فرمایا : ہاں !
انہوں نے کہا :”ہم تو آپﷺ پر ایمان لائے ہیں ، آپﷺ کی تصدیق کی ہے اور یہ گواہی دی ہے کہ آپ جوکچھ لے کر آئے ہیں سب حق ہے اور اس پر ہم نے آپﷺ کو اپنی سمع وطاعت کا عہد ومیثاق دیا ہے ، لہٰذا اے اللہ کے رسولﷺ ! آپﷺ کا جو ارادہ ہے اس کے لیے پیش قدمی فرمایئے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپﷺ ہمیں ساتھ لے کر اس سمندر میں کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی آپ کے ساتھ کود پڑیں گے۔ ہمارا ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا۔ہمیں قطعاً کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ کل آپﷺ ہمارے دشمن سے ٹکراجائیں۔ ہم جنگ میں پامرد اور لڑنے میں جوانمرد ہیں اور ممکن ہے اللہ آپﷺ کو ہمارا وہ جوہر دکھلائے جس سے آپﷺ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں ، پس آپﷺ ہمیں ہمراہ لے کر چلیں، اللہ برکت دے۔”
ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت سعدؓ بن معاذ نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ غالبا ً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ ہے کہ انصار اپنا یہ فرض سمجھتے ہیں کہ وہ آپﷺ کی مدد محض اپنے دیا ر میں کریں اس لیے میں انصار کی طرف سے بول رہا ہوں اور ان کی طرف سے جواب دے رہاہوں۔ عرض ہے کہ آپﷺ جہاں چاہیں تشریف لے چلیں ، جس سے چاہیں تعلق استوار کریں اور جس سے چاہیں تعلق کاٹ لیں۔ ہمارے مال میں سے جو چاہیں لے لیں اور جو چاہیں دے دیں اور جو آپﷺ لے لیں گے وہ ہمارے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہوگا جسے آپﷺ چھوڑ دیں گے اور اس معاملے میں آپﷺ کا جوبھی فیصلہ ہوگا ہمار ا فیصلہ بہرحال اس کے تابع ہوگا۔ اللہ کی قسم !اگر آپﷺ پیش قدمی کرتے ہو ئے برکِ غماد تک جائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ ساتھ چلیں گے اور اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی کود جائیں گے۔
حضرت سعدؓ کی یہ بات سن کر رسول اللہﷺ پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ آپﷺ پر نشاط طاری ہوگئی۔ آپﷺ نے فرمایا : ”چلو اور خوشی خوشی چلو۔ اللہ نے مجھ سے دوگروہوں میں سے ایک کا وعدہ فرمایا ہے۔ واللہ! اس وقت گویا میں قوم کی قتل گاہیں دیکھ رہا ہوں۔”
اسلامی لشکر کا بقیہ سفر:
اس کے بعد رسول اللہﷺ ذفران سے آگے بڑھے اور چند پہاڑی موڑ سے گزر کر جنہیں اصافر کہا جاتا ہے دیت نامی ایک آبادی میں اترے۔ اور حنان نامی پہاڑ نماتودے کو دائیں ہاتھ چھوڑ دیا۔ اور اس کے بعد بدر کے قریب نزول فرمایا۔
جاسوسی کا اقدام:
یہاں پہنچ کر رسول اللہﷺ نے اپنے رفیق ِ غار حضرت ابوبکرؓ کو ہمراہ لیا اور حود فراہمی ٔ اطلاعات کے لیے نکل پڑے۔ ابھی دور ہی سے مکی لشکر کے کیمپ کا جائزہ لے رہے تھے کہ ایک بوڑھا عرب مل گیا۔ رسول اللہﷺ نے اس سے قریش اور محمدﷺ واصحابِ محمد کا حال دریافت کیا – دونوں لشکر وں کے متعلق پو چھنے کا مقصد یہ تھا کہ آپﷺ کی شخصیت پر پردہ پڑارہے – لیکن بڈھے نے کہا :” جب تک تم لوگ یہ نہیں بتاؤ گے کہ تمہارا تعلق کس قوم سے ہے میں بھی کچھ نہیں بتاؤں گا۔” رسول اللہﷺ نے فرمایا : جب تم ہمیں بتادو گے تو ہم بھی تمہیں بتادیں گے۔ اس نے کہا : اچھا تو یہ اس کے بدلے ہے؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اس نے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ محمدﷺ اور ان کے ساتھی فلاں روز نکلے ہیں۔ اگر مجھے بتانے والے نے صحیح بتایا ہے تو آج وہ لوگ فلاں جگہ ہوں گے۔اور ٹھیک اس جگہ کی نشاندہی کی جہاں اس وقت مدینے کا لشکر تھا اور مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قریش فلاں دن نکلے ہیں۔ اگر خبر دینے والے نے صحیح خبر دی ہے تو وہ آج فلاں جگہ ہوں گے۔اور ٹھیک اس جگہ کا نام لیا جہاں اس وقت مکے کا لشکر تھا۔
جب بڈھا اپنی بات کہہ چکاتو بولا : اچھا اب یہ بتاؤ کہ تم دونوں کس سے ہو ؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ہم لوگ پانی سے ہیں اور یہ کہہ کر واپس چل پڑے۔ بڈھا بکتا رہا۔ ”پانی سے ہیں ”کیا ؟ کیا عراق کے پانی سے ہیں؟
لشکر ِمکہ کے بارے میں اہم معلومات کا حصول:
اسی روز شام کو آپﷺ نے دشمن کے حالات کا پتا لگانے کے لیے نئے سرے سے جاسوسی دستہ روانہ فرمایا۔ اس کاروائی کے لیے مہاجرین کے تین قائد علی بن ابی طالب ، زُبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ یہ لوگ سیدھے بدر کے چشمے پر پہنچے۔ وہاں دوغلام مکی لشکر کے لیے پانی بھر رہے تھے۔ انہیں گرفتار کر لیا اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر کیا۔ اس وقت آپﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان دونوں سے حالات دریافت کیے۔ انہوں نے کہا : ہم قریش کے سقے ہیں ، انہوں نے ہمیں پانی بھرنے کے لیے بھیجا ہے قوم کو یہ جواب پسندنہ آیا۔ انہیں توقع تھی کہ یہ دونوں ابوسفیان کے آدمی ہوں گے — کیونکہ ان کے دلوں میں اب بھی بچی کھچی آرزو رہ گئی تھی کہ قافلے پر غلبہ حاصل ہو — چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان دونوں کی ذرا سخت پٹائی کردی اور انہوں نے مجبور ہو کر کہہ دیا کہ ہاں ہم ابو سفیان کے آدمی ہیں۔ اس کے بعدمارنے والوں نے ہاتھ روک لیا۔
رسول اللہﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ناراضی سے فرمایا : جب ان دونوں نے صحیح بات بتائی تو آپ لوگوں نے پٹائی کردی اور جب جھوٹ کہا تو چھوڑدیا۔ اللہ کی قسم! ان دونوںنے صحیح کہا تھاکہ یہ قریش کے آدمی ہیں۔
اس کے بعدآپ نے ان دونوں غلاموں سے فرمایا : اچھا ! اب مجھے قریش کے متعلق بتاؤ۔ انہوں نے کہا : یہ ٹیلہ جو وادی کے آخری دہانے پر دکھائی دے رہا ہے قریش اسی کے پیچھے ہیں۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا : لوگ کتنے ہیں؟ انہوں نے کہا : بہت ہیں۔ آپﷺ نے پوچھا : تعداد کتنی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہمیں معلوم نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا : روزانہ کتنے اُونٹ ذبح کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : ایک دن نو اور ایک دن دس۔ آپﷺ نے فرمایا : تب لوگوں کی تعداد نو سو اور ایک ہزار کے درمیان ہے۔ پھر آپﷺ نے پوچھا : ان کے اندر معززین قریش میں سے کون کون ہیں؟ انہوں نے کہا : ربیعہ کے دونوں صاحبزادے عتبہ اور شیبہ اور ابو البختری بن ہشام ، حکیم بن حزام ، نوَفل بن خُوَیْلد ، حارث بن عامر ، طعیمہ بن عدی ، نضر بن حارث، زمعہ بن اسود ، ابوجہل بن ہشام ، اُمیہ بن خلف اور مزید کچھ لوگوں کے نام گنوائے۔ رسول اللہﷺ نے صحابہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: ”مکہ نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو تمہارے پاس لا کر ڈال دیا ہے۔”
بارانِ رحمت کا نزول:
اللہ عزوجل نے اسی رات ایک بارش نازل فرمائی جو مشرکین پر موسلا دھار برسی۔ اور ان کی پیش قدمی میں رکاوٹ بن گئی لیکن مسلمانوں پر پھوار بن کر بر سی۔اور انہیں پاک کردیا ، شیطان کی گندگی (بزدلی) دور کردی اور زمین کو ہموار کر دیا۔ اس کی وجہ سے ریت میں سختی آگئی اور قدم ٹکنے کے لائق ہوگئے۔ قیام خوشگوار ہو گیا اور دل مضبوط ہوگئے۔
اہم فوجی مراکز کی طرف اسلامی لشکر کی سبقت:
اس کے بعد رسول اللہﷺ نے اپنے لشکر کو حرکت دی تاکہ مشرکین سے پہلے بدر کے چشمے پر پہنچ جائیں اور اس پر مشرکین کو مُسلط نہ ہونے دیں۔ چنانچہ عشاء کے وقت آپﷺ نے بدر کے قریب ترین چشمے پر نزول فرمایا۔ اس موقعے پر حضرت حباب بن منذرؓ نے ایک ماہرفوجی کی حیثیت سے دریافت کیاکہ یارسول اللہ!(ﷺ ) کیا اس مقام پر آپ اللہ کے حکم سے نازل ہوئے ہیں کہ ہمارے لیے اس سے آگے پیچھے ہٹنے کی گنجائش نہیں یا آپ نے اسے محض ایک جنگی حکمتِ عملی کے طور پر اختیار فرمایا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : یہ محض جنگی حکمتِ عملی کے طور پر ہے۔ انہوں نے کہا: ”یہ مناسب جگہ نہیں ہے۔ آپﷺ آگے تشریف لے چلیں اور قریش کے سب سے قریب جو چشمہ ہو اس پر پڑاؤ ڈالیں۔ پھر ہم بقیہ چشمے پاٹ دیں گے اور اپنے چشمے پر حوض بنا کر پانی بھر لیں گے ، اس کے بعد ہم قریش سے جنگ کریں گے تو ہم پانی پیتے رہیں گے اور انہیں پانی نہ ملے گا۔” رسول اللہﷺ نے فرمایا :”تم نے بہت ٹھیک مشورہ دیا۔” اس کے بعد آپﷺ لشکر سمیت اُٹھے اور کوئی آدھی رات گئے دشمن کے سب سے قریب ترین چشمے پر پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا۔ پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حوض بنایا اور باقی تمام چشموں کو بند کر دیا۔
مرکز قیادت:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چشمے پر پڑاؤ ڈال چکے تو حضرت سعد بن معاذؓ نے یہ تجویز پیش کی کہ کیوں نہ مسلمان آپﷺ کے لیے ایک مرکزِ قیادت تعمیر کردیں تاکہ خدانخواستہ فتح کے بجائے شکست سے دوچار ہونا پڑ جائے یا کسی اور ہنگامی حالت سے سابقہ پیش آجائے تو اس کے لیے آپ پہلے ہی سے مستعد رہیں ، چنانچہ انہوں نے عرض کیا :
”اے اللہ کے نبیﷺ ! کیوں نہ ہم آپﷺ کے لیے ایک چھپر تعمیر کردیں جس میں آپﷺ تشریف رکھیں گے اور ہم آپ ﷺ کے پاس آپ ﷺ کی سواریاں بھی مہیا رکھیں گے۔ اس کے بعد دشمن سے ٹکر لیں گے۔ اگر اللہ نے ہمیں عزت بخشی اور دشمن پر غلبہ فرمایا تو یہ وہ چیز ہوگی جو ہمیں پسند ہے ، اور اگر دوسری صورت پیش آگئی تو آپﷺ سوار ہوکر ہماری قوم کے ا ن لوگوں کے پاس جارہیں گے جو پیچھے رہ گئے ہیں۔ درحقیقت آپﷺ کے پیچھے اے اللہ کے نبیﷺ ! ایسے لوگ رہ گئے ہیں کہ ہم آپﷺ کی محبت میں ان سے بڑھ کر نہیں۔ اگر انہیں یہ اندازہ ہوتا کہ آپﷺ جنگ سے دوچار ہوں گے تو وہ ہرگز پیچھے نہ رہتے۔ اللہ ان کے ذریعے آپﷺ کی حفاظت فرمائے گا۔ وہ آپ ﷺ کے خیر خواہ ہوں گے اور آپﷺ کے ہمراہ جہاد کریں گے۔”
اس پر رسول اللہﷺ نے ان کی تعریف فرمائی اور ان کے لیے دعائے خیر کی ، اور مسلمانوں نے میدان جنگ کے شمال مشرق میں ایک اونچے ٹیلے پر چھپر بنایا جہاں سے پورا میدانِ جنگ دکھائی پڑتاتھا۔ آپﷺ کے اس مرکزِ قیادت کی نگرانی کے لیے حضرت سعد بن معاذؓ کی کمان میں انصار نوجوانوں کا ایک دستہ منتخب کردیا گیا۔
لشکر کی ترتیب اور شب گزاری:
اس کے بعد رسول اللہﷺ نے لشکر کی ترتیب فرمائی1 اور میدان جنگ میں تشریف لے گئے ، وہاں آپﷺ اپنے ہاتھ سے اشارہ فرماتے جارہے تھے کہ یہ کل فلاںکی قتل گاہ ہے ، ان شاء اللہ ، اور یہ کل فلاں کی قتل گاہ ہے ، ان شاء اللہ ،2 اس کے بعد رسول اللہﷺ نے وہیں ایک درخت کی جڑ کے پا س رات گزاری اور مسلمانوں نے بھی پُر سکون نفس اور تابناک اُفق کے ساتھ رات گزاری۔ ان کے دل اعتماد سے پُر تھے اور انہوں نے راحت وسکون سے اپنا حصہ حاصل کیا۔ انہیں یہ توقع تھی کہ صبح اپنی آنکھوں سے اپنے رب کی بشارتیں دیکھیں گے۔
إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّنَ السَّمَاءِ مَاءً لِّيُطَهِّرَ‌كُم بِهِ وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِ‌جْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْ‌بِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ (۸: ۱۱)
”جب اللہ تم پر اپنی طرف سے امن وبے خوفی کے طور پر نیند طاری کررہا تھا اور تم پر آسمان سے پانی برسارہا تھا تاکہ تمہیں اس کے ذریعے پاک کردے اور تم سے شیطان کی گندگی دور کر دے اور تمہارے دل مضبوط کر دے اور تمہارے قدم جمادے۔”
یہ رات جمعہ ۱۷ رمضان۲ ھ کی رات تھی اور آپ اس مہینے کی ۸ یا ۱۲ تاریخ کو مدینے سے روانہ ہوئے تھے۔
میدانِ جنگ میں مکی لشکر کی آمداور ان کا باہمی اختلاف:
دوسری طرف قریش نے وادی کے دہانے کے باہر اپنے کیمپ میں رات گزاری اور صبح اپنے تمام دستوں سمیت ٹیلے سے اتر کر بدر کی جانب روانہ ہوئے۔ ایک گروہ رسول اللہﷺ کے حوض کی جانب بڑھا۔ آپﷺ نے فرمایا:” انہیں چھوڑ دو۔” مگر ان میں سے جس نے بھی پانی پیا وہ اس جنگ میں مارا گیا۔ صرف حکیم بن حزام باقی بچا جو بعد میں مسلمان ہوا، اور بہت اچھا مسلمان ہوا۔ اس کا دستور تھا کہ جب بہت پختہ قسم کھانی ہوتی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے : جامع ترمذی ، ابواب الجہاد ، باب ماجاء فی الصف والتعبیہ ۱/۲۰۱
2 مسلم عن انس ، مشکوٰۃ ۲ /۵۴۳
کہتا: ”لا والذی نجانی من یوم بدر۔” ”قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے بدر کے دن سے نجات دی۔”
بہر حال جب قریش مطمئن ہوچکے تو انہوں نے مدنی لشکر کی قوت کا اندازہ لگانے کے لیے عمیر بن وہب جمحی کو روانہ کیا۔ عمیر نے گھوڑے پر سوار ہوکر لشکر کا چکر لگایا، پھر واپس جاکر بولا : ”کچھ کم یا کچھ زیادہ تین سو آدمی ہیں ، لیکن ذرا ٹھہرو۔ میں دیکھ لوں ان کی کمین گاہ یا کمک تو نہیں ؟” اس کے بعد وہ وادی میں گھوڑا دوڑاتا ہو ادور تک نکل گیا لیکن اسے کچھ دکھائی نہ پڑا، چنانچہ اس نے واپس جا کر کہا:”میں نے کچھ پایا تو نہیںلیکن اے قریش کے لوگو! میں نے بلائیں دیکھی ہیں جو موت کو لادے ہوئے ہیں۔ یثرب کے اونٹ اپنے اوپر خالص موت سوار کیے ہوئے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کی ساری حفاظت اور ملجا وماویٰ خود ان کی تلواریں ہیں۔ کوئی اور چیز نہیں۔ اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ ان کا کوئی آدمی تمہارے آدمی کو قتل کیے بغیر قتل نہ ہوگا ، اور اگر تمہارے خاص خاص افراد کو انہوں نے مار لیا تو اس کے بعد جینے کا مزہ ہی کیاہے ! اس لیے ذرا اچھی طرح سوچ سمجھ لو۔”
اس موقعے پر ابو جہل کے خلاف -جو معرکہ آرائی پر تُلا ہوا تھا – ایک اور جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا جس میں مطالبہ کیا گیا جنگ کے بغیر مکہ واپس جائیں۔ چنانچہ حکیم بن حزام نے لوگوں کے درمیان دوڑ دھوپ شروع کردی۔ وہ عُتبَہ بن ربیعہ کے پاس آیا اور بولا :”ابو الولید ! آپ قریش کے بڑے آدمی اور واجب الاطاعت سردار ہیں ، پھر آپ کیوں نہ ایک اچھا کام کرجائیں جس کے سبب آپ کا ذکر ہمیشہ بھلائی سے ہوتا رہے۔ ” عتبہ نے کہا : حکیم! وہ کون سا کام ہے ؟ اس نے کہا: ” آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور اپنے حلیف عمرو بن حضرمی کا معاملہ – جو سریہ نخلہ میں مارا گیا تھا – اپنے ذمے لے لیں۔” عتبہ نے کہا:” مجھے منظور ہے۔ تم میری طرف سے ا س کی ضمانت لو۔ وہ میرا حلیف ہے ، اس کی دیت کا بھی ذمے دار ہوں اور اس کا جو مال ضائع ہوا اس کا بھی۔”
اس کے بعد عتبہ نے حکیم بن حزام سے کہا :”تم حنظلیہ کے پوت کے پاس جاؤ کیونکہ لوگوں کے معاملات کو بگاڑنے اور بھڑکانے کے سلسلے میں مجھے اس کے علاوہ کسی اور سے کوئی اندیشہ نہیں۔” حنظلیہ کے پوت سے مراد ابوجہل ہے۔ حنظلیہ اس کی ماں تھی۔
اس کے بعد عتبہ بن ربیعہ نے کھڑے ہو کر تقریر کی اور کہا :”قریش کے لوگو! تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے لڑ کر کوئی کارنامہ انجام نہ دوگے۔ اللہ کی قسم ! اگر تم نے انہیں مار لیا تو صرف ایسے ہی چہرے دکھائی پڑیں گے جنہیں دیکھنا پسند نہ ہوگا ، کیونکہ آدمی نے اپنے چچیرے بھائی کو یا خالہ زاد بھائی کویا اپنے ہی کنبے قبیلے کے کسی آدمی کو قتل کیا ہو گا۔ اس لیے چلے چلو اور محمد (ﷺ ) اور سارے عرب سے کنارہ کش ہورہو۔ اگر عرب نے انہیں مارلیا تویہ وہی چیز ہوگی جسے تم چاہتے ہو ، اور اگر دوسری صورت پیش آئی تو محمد (ﷺ ) تمہیں اس حالت میں پائیں گے کہ تم نے جو سلوک ان سے کرنا چاہا تھا اسے کیا نہ تھا۔”
ادھر حکیم بن حزام ابوجہل کے پاس پہنچا تو ابو جہل اپنی زِرَہ درست کر رہا تھا۔ حکیم نے کہا کہ اے ابو الحکم ! مجھے عتبہ نے تمہارے پاس یہ اور یہ پیغام دے کر بھیجا ہے۔ ابو جہل نے کہا :”اللہ کی قسم! محمد (ﷺ ) اور اس کے ساتھیوں کو دیکھ کر عتبہ کا سینہ سوج آیا ہے ، نہیں ہرگز نہیں۔ واللہ ! ہم واپس نہ ہوں گے یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور محمد (ﷺ )کے درمیان فیصلہ فرمادے۔ عتبہ نے جو کچھ کہا ہے محض اس لیے کہا ہے کہ وہ محمد (ﷺ ) اور اس کے ساتھیوں کو اونٹ خور سمجھتا ہے اور خود عتبہ کا بیٹا بھی انہیں کے درمیان ہے اس لیے وہ تمہیں ان سے ڈراتا ہے۔” – عتبہ کے صاحبزادے ابو حذیفہ قدیم الاسلام تھے اور ہجرت کر کے مدینہ تشریف لاچکے تھے- عتبہ کو پتا چلا کہ ابو جہل کہتا ہے۔ ”اللہ کی قسم عتبہ کا سینہ سوج آیا ہے۔” تو بولا : ”اس سرین پر خوشبو لگا کر بزدلی کا مظاہرہ کرنے والے کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس کا سینہ سوج آیا ہے میرا یا اس کا ؟ ” ادھر ابوجہل نے اس خوف سے کہ کہیں یہ معارضہ طاقتور نہ ہوجائے ، اس گفتگو کے بعد جھٹ عامر بن حضرمی کو – جو سریہ عبد اللہ بن جحش کے مقتول عمرو بن حضرمی کا بھائی تھا – بلا بھیجا اور کہا کہ یہ تمہارا حلیف – عتبہ – چاہتا ہے کہ لوگوں کو واپس لے جائے حالانکہ تم اپنا انتقام اپنی آنکھ سے دیکھ چکے ہو، لہٰذا اٹھو ! اور اپنی مظلومیت اور اپنے بھائی کے قتل کی دہائی دو۔ اس پر عامر اُٹھا اور سرین سے کپڑا اٹھا کر چیخا۔ واعمراہ، واعمراہ ، ہائے عمرو، ہائے عمرو۔ اس پر قوم گرم ہوگئی۔ ان کا معاملہ سنگین اور ان کا ارادہ ٔ جنگ پختہ ہوگیا اور عتبہ نے جس سوجھ بوجھ کی دعوت دی تھی وہ رائیگاں گئی۔ اس طرح ہوش پر جوش غالب آگیا اور یہ معارضہ بھی بے نتیجہ رہا۔
دونوں لشکر آمنے سامنے:
بہر حال جب مشرکین کا لشکر نمودار ہوا اور دونوں فوجیں ایک دوسرے کو دکھائی دینے لگیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:” اے اللہ! یہ قریش ہیں جو اپنے پورے غرور وتکبر کے ساتھ تیری مخالف کرتے ہوئے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلاتے ہوئے آگئے ہیں۔ اے اللہ! تیری مدد … جس کا تو نے وعدہ کیا ہے۔ اے اللہ! آج انہیںاینٹھ کر رکھ دے۔”
نیز رسول اللہﷺ نے عتبہ بن ربیعہ کو اس کے ایک سرخ اونٹ پر دیکھ کر فرمایا:
”اگر قوم میں کسی کے پاس خیر ہے تو سُرخ اونٹ والے کے پاس ہے۔ اگر لوگوں نے اس کی بات مان لی تو صحیح راہ پائیں گے۔”
اس موقع پر رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کی صفیں درست فرمائیں۔ صف کی درستگی کے دوران ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ آپﷺ کے ہاتھ میںایک تیر تھا۔ جس کے ذریعے آپ صف سیدھی فرمارہے تھے کہ سواد بن غزیہ کے پیٹ پر، جو صف سے کچھ آگے نکلے ہوئے تھے ، تیر کا دباؤ ڈالتے ہوئے فرمایا : سواد ! برابر ہوجاؤ۔ سواد نے کہا :اے اللہ کے رسول ! آپ نے مجھے تکلیف پہنچادی بدلہ دیجیے۔ آ پ نے اپنا پیٹ کھول دیا اور فرمایا: بدلہ لے لو۔ سواد آپ سے چمٹ گئے اور آپﷺ کے پیٹ کا بوسہ لینے لگے۔ آپﷺ نے فرمایا : سواد اس حرکت پر تمہیں کس بات نے آمادہ کیا ؟ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ ! جو کچھ درپیش ہے آپ ﷺ دیکھ ہی رہے ہیں۔ میں نے چاہا کہ ایسے موقعے پر آپﷺ سے آخری معاملہ یہ ہو کہ میری جلد آپ ﷺ کی جلد سے چھو جائے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے ان کے لیے دعائے خیر فرمائی۔
پھر جب صفیں درست ہو چکیں تو آپﷺ نے لشکر کو ہدایت فرمائی کہ جب تک اسے آپ کے آخری احکام موصول نہ ہوجائیں جنگ شروع نہ کرے۔ اس کے بعد طریقہ جنگ کے بارے میں ایک خصوصی رہنمائی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب مشرکین جمگھٹ کرکے تمہارے قریب آجائیں تو ان پر تیر چلانا اور اپنے تیر بچانے کی کوشش کرنا۔ 1(یعنی پہلے ہی سے فضول تیر اندازی کر کے تیروں کو ضائع نہ کرنا) اور جب تک وہ تم پر چھا نہ جائیں تلوار نہ کھینچنا۔ 2اس کے بعد خاص آپﷺ اور ابوبکرؓ چھپر کی طرف واپس چلے گئے اور حضرت سعد بن معاذؓ اپنا نگراں دستہ لے کر چھپر کے دروازے پر تعینات ہوگئے۔
دوسری طرف مشرکین کی صورت ِ حال یہ تھی کہ ابوجہل نے اللہ سے فیصلہ کی دعا کی۔ اس نے کہا :”اے اللہ ! ہم میں سے جو فریق قرابت کو زیادہ کاٹنے والا اور غلط حرکتیں زیادہ کرنے والا ہے اسے توآج توڑ دے۔ اے اللہ ! ہم میں سے جو فریق تیرے نزدیک زیادہ محبوب اور زیادہ پسندیدہ ہے آج اس کی مدد فرما۔” بعد میں اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :
إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ ۖ وَإِن تَنتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ‌ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَعُودُوا نَعُدْ وَلَن تُغْنِيَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْئًا وَلَوْ كَثُرَ‌تْ وَأَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ (۸: ۱۹ )
” اگر تم فیصلہ چاہتے تو تمہارے پاس فیصلہ آگیا ، اور اگر تم باز آجاؤ تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے ، لیکن اگر تم (اپنی ا س حرکت کی طرف ) پلٹو گے تو ہم بھی (تمہاری سزا کی طرف ) پلٹیں گے اور تمہاری جماعت اگر چہ وہ زیادہ ہی کیوں نہ ہو تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی۔ (اور یاد رکھوکہ ) اللہ مومنین کے ساتھ ہے۔”
نقطہ ٔ صفر اور معرکے کا پہلاایندھن:
اس معرکے کا پہلا ایندھن اسود بن عبد الاسد مخزومی تھا۔ یہ شخص بڑا اڑیل اور بد خلق تھا۔ یہ کہتے ہوئے میدان میں نکلا کہ میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ ان کے حوض کا پانی پی کررہوں گا۔ ورنہ اسے ڈھا دوں گا یا اس کے لیے جان دے دوں گا۔ جب یہ اُدھر سے نکلا تو اِدھر سے حضرت حمزہ بن عبدا لمطلبؓ برآمد ہوئے۔ دونوں میں حوض سے پرے ہی مڈبھیڑ ہوئی۔ حضرت حمزہؓ نے ایسی تلوار ماری کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی سے کٹ کر اڑگیا اور وہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری ۲/۵۶۸
2 سنن ابی داؤد: باب فی سل السیوف عند اللقاء ۲/۱۳
پیٹھ کے بل گر پڑا۔ اس کے پاؤں سے خون کا فوارہ نکل رہا تھاجس کا رخ اس کے ساتھیوں کی طرف تھا لیکن اس کے باوجود وہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر حوض کی طرف بڑھا اور اس میں داخل ہوا ہی چاہتا تھا تا کہ اپنی قسم پوری کرلے اتنے میں حضرت حمزہؓ نے دوسری ضرب لگائی اور وہ حوض کے اندر ہی ڈھیر ہوگیا۔
مبارزت:
یہ اس معرکے کا پہلا قتل تھا اور اس سے جنگ کی آگ بھڑک اُٹھی ، چنانچہ اس کے بعد قریش کے تین بہترین شہسوارنکلے جو سب کے سب ایک ہی خاندان کے تھے۔ ایک عُتبہ اور دوسرا اس کا بھائی شیبہ جو دونوں ربیعہ کے بیٹے تھے اور تیسرا ولید جو عتبہ کا بیٹا تھا۔ انہوں نے اپنی صف سے الگ ہوتے ہی دعوت مُبارزت دی۔ مقابلے کے لیے انصار کے تین جوان نکلے۔ ایک عوفؓ ، دوسرے معوذؓ – یہ دونوں حارث کے بیٹے تھے اوران کی ماں کا نام عفراء تھا -تیسرے عبد اللہ بن رواحہ۔ قریشیوں نے کہا : تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا : انصار کی ایک جماعت ہیں۔ قریشیوں نے کہا: آپ لو گ شریف مدمقابل ہیں لیکن ہمیں آپ سے سروکار نہیں۔ ہم تو اپنے چچیرے بھائیوں کو چاہتے ہیں، پھر ان کے منادی نے آواز لگائی: محمد صلی اللہ علیہ وسلم … ! ہمارے پاس قوم کے ہمسروں کو بھیجو۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : عبیدہؓ بن حارثؓ ! اٹھو۔ حمزہؓ ! اٹھئے۔ علی! اٹھو۔ جب یہ لوگ اُٹھے اور قریشیوں کے قریب پہنچے تو انہوں نے پوچھا : آپ کو ن لوگ ہیں ؟ انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ قریشیوں نے کہا : ہاں آپ لوگ شریف مدمقابل ہیں، اس کے بعد معرکہ آرائی ہوئی۔ حضرت عبیدہ نے – جو سب سے معمر تھے – عتبہ بن ربیعہ سے مقابلہ کیا، حضرت حمزہؓ نے شیبہ سے اور حضرت علیؓ نے ولید سے۔1 حضرت حمزہؓ اور حضرت علیؓ نے تو اپنے اپنے مقابل کو جھٹ مارلیا لیکن حضرت عبیدہ اور ان کے مدّ ِ مقابل کے درمیان ایک ایک وار کا تبادلہ ہوااور دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو گہرا زخم لگایا۔ اتنے میں حضرت علیؓ اور حضرت حمزہؓ اپنے اپنے شکار سے فارغ ہوکر آگئے ، آتے ہی عتبہ پر ٹوٹ پڑے ، اس کا کام تمام کیا اور حضرت عبیدہ کو اٹھا لائے۔ ان کا پاؤں کٹ گیا تھا اورآواز بند ہوگئی تھی جو مسلسل بند ہی رہی یہاں تک کہ جنگ کے چوتھے یا پانچویں دن جب مسلمان مدینہ واپس ہوتے ہوئے وادیٔ صفراء سے گزر رہے تھے ان کا انتقال ہوگیا۔
حضرت علیؓ اللہ کی قسم کھاکر فرمایا کرتے تھے کہ یہ آیت ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی:
هَـٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَ‌بِّهِمْ ۖ (۲۲: ۱۹)
”یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ہے۔”
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام۔ مسند احمد ابوداؤد کی روایت اس سے مختلف ہے۔ (مشکوٰۃ ۲/۳۴۳ ) اور وہ یہ ہے کہ عبیدہ نے ولید سے مبارزت کی ، علی نے شیبہ سے اور حمزہ نے عتبہ سے۔
عام ہجوم:
اس مبارزت کا انجام مشرکین کے لیے ایک برا آغاز تھا وہ ایک ہی جست میں اپنے تین بہترین شہ سوار وں اور کمانڈروں سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے، اس لیے انہوں نے غیظ وغضب سے بے قابو ہو کر ایک آدمی کی طرح یکبار گی حملہ کردیا۔
دوسری طرف مسلمان اپنے رب سے نصرت اور مدد کی دعا کرنے اور اس کے حضور اخلاص و تضر ع اپنانے کے بعد اپنی اپنی جگہوں پر جمے اور دفاعی موقف اختیار کیے مشرکین کے تابڑ توڑ حملوں کو روک رہے تھے اور انہیں خاصا نقصان پہنچارہے تھے۔ زبان پر أحد أحد کا کلمہ تھا۔
رسول اللہﷺ کی دعا:
ادھر رسول اللہﷺ صفیں درست کرکے واپس آتے ہی اپنے پاک پروردگار سے نصرت ومدد کا وعدہ پورا کرنے کی دعا مانگنے لگے۔ آپﷺ کی دعا یہ تھی :
((اللّٰہم انجز لی ما وعدتنی، اللّٰہم أنشدک عہدک ووعدک۔))
”اے اللہ ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرمادے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیرا عہد اور تیرے وعدے کا سوال کررہا ہوں۔”
جب گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی، نہایت زور کا رَن پڑا اور لڑائی شباب پر آگئی تو آپﷺ نے یہ دعا فرمائی :
((اللہم إن تہلک ہذہ العصابۃ الیوم لا تعبد اللہم إن شئت لم تعبد بعد الیوم أبداً۔))
”اے اللہ ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت کبھی نہ کی جائے۔”
آپﷺ نے خوب تضرع کے ساتھ دعا کی یہاں تک کہ دونوں کندھوں سے چادر گر گئی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے چادر درست کی اور عرض پرداز ہوئے :”اے اللہ کے رسول ! بس فرمائیے ! آپ نے اپنے رب سے بڑے الحاح کے ساتھ دعا فرمالی۔” ادھر اللہ نے فرشتوں کو وحی کی کہ :
أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا ۚ سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا الرُّ‌عْبَ (۸: ۱۲)
”میں تمہارے ساتھ ہوں ، تم اہل ِ ایمان کے قدم جماؤ ، میں کافروں کے دل میں رُعب ڈال دوں گا۔”
اور رسول اللہﷺ کے پاس وحی بھیجی کہ :
إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَ‌بَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْ‌دِفِينَ ﴿٩﴾ (۸: ۹)
”میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئیں گے۔”
فرشتوں کا نزول:
اس کے بعد رسول اللہﷺ کو ایک جھپکی آئی۔ پھر آپﷺ نے سر اٹھا یا اور فرمایا: ”ابو بکر خوش ہو جاؤ ، یہ جبریل ؑہیں ، گرد وغبار میں اٹے ہوئے۔” ابن اسحاق کی روایت میں یہ ہے کہ آپﷺ نے فرمایا : ”ابوبکر خوش ہو جاؤ ، تمہارے پاس اللہ کی مدد آگئی۔ یہ جبریل علیہ السلام ہیں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اور اس کے آگے آگے چلتے ہوئے آرہے ہیں اور گرد وغبار میں اَٹے ہوئے ہیں۔”
اس کے بعد رسول اللہﷺ چھپر کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ آپﷺ نے زرہ پہن رکھی تھی۔ آپﷺ پُر جوش طور پر آگے بڑھ رہے تھے اور فرماتے جارہے تھے :
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ‌ ﴿٤٥﴾ (۵۴: ۴۵)
”عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔”
اس کے بعد آپﷺ نے ایک مٹھی کنکریلی مٹی لی اور قریش کی طرف رُخ کر کے فرمایا: ((شاھتِ الوجوہ۔))چہرے بگڑ جائیں اور ساتھ ہی مٹی ان کے چہروں کی طرف پھینک دی۔ پھر مشرکین میں سے کوئی بھی نہیں تھا جس کی دونوں آنکھوں،نتھنے اور منہ میں اس ایک مٹھی مٹی سے کچھ نہ کچھ گیا نہ ہو۔ اسی کی بابت اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَمَا رَ‌مَيْتَ إِذْ رَ‌مَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَ‌مَىٰ (۸: ۱۷)
”جب آپ (ﷺ ) نے پھینکا تو درحقیقت آپ (ﷺ )نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔”
جوابی حملہ:
اس کے بعد رسول اللہﷺ نے جوابی حملے کا حکم اور جنگ کی ترغیب دیتے ہو ئے فرمایا: ”شدوا” چڑھ دوڑو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ان سے جو آدمی بھی ڈٹ کر ، ثواب سمجھ کر ، آگے بڑھ کر اور پیچھے نہ ہٹ کر لڑے گا اور مار اجائے گا اللہ اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا۔”
آپﷺ نے قتال پر ابھارتے ہوئے یہ بھی فرمایا : اس جنت کی طرف اٹھو جس کی پہنائیاں آسمانوں اور زمین کے برابر ہیں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر ) عمیر بن حمام نے کہا : بہت خوب بہت خوب۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : تم بہت خوب بہت خوب ، کیوں کہہ رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! کوئی بات نہیں سوائے اس کے کہ مجھے توقع ہے کہ میں بھی اسی جنت والوں میں سے ہوں گا۔ آپﷺ نے فرمایا: تم بھی اسی جنت والوں میں سے ہو۔ اس کے بعد وہ اپنے توشہ دان سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانے لگے۔ پھر بولے : اگر میں اتنی دیر تک زندہ رہا کہ اپنی کھجوریں کھا لوں تو یہ تولمبی زندگی ہوجائے گی، چنانچہ ان کے پاس جو کھجور یں تھیں انہیں پھینک دیا، پھر مشرکین سے لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔1
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 مسلم ۲/۱۳۹ مشکوٰۃ ۲/۳۳۱
اسی طرح مشہور خاتون عفراء کے صاحبزادے عوف بن حارث نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! پروردگار اپنے بندے کی کس بات سے (خوش ہوکر ) مسکراتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا : ”اس بات سے کہ بندہ خالی جسم (بغیر حفاظتی ہتھیار پہنے ) اپنا ہاتھ دشمن کے اندر ڈبودے ” یہ سن کر عوف نے اپنے بدن سے زِرہ اتار پھینکی اور تلو ار لے کر دشمن پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔
جس وقت رسول اللہﷺ نے جوابی حملے کا حکم صادر فرمایا ، دشمن کے حملوں کی تیزی جاچکی تھی اور ان کا جوش و خروش سرد پڑرہا تھا۔ اس لیے یہ باحکمت منصوبہ مسلمانوں کی پوزیشن مضبوط کرنے میں بہت مؤثر ثابت ہوا ، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب حملہ آور ہونے کا حکم ملا اور ابھی ان کا جوشِ جہاد شباب پر تھا تو انہوں نے نہایت سخت تند اور صفایا کن حملہ کیا۔ وہ صفوں کی صفیں درہم برہم کرتے اور گردنیں کاٹتے آگے بڑھے۔ ان کے جوش و خروش میں یہ دیکھ کر مزید تیز ی آگئی کہ رسول اللہﷺ بہ نفس نفیس زرہ پہنے تیز تیز چلتے تشریف لا رہے ہیں اور پورے یقین وصراحت کے ساتھ فرمارہے ہیں کہ ”عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا ، اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔” اس لیے مسلمانوں نے نہایت پُر جوش و پرخروش لڑائی لڑی، اور فرشتوں نے بھی ان کی مدد فرمائی۔ چنانچہ ابن سعد کی روایت میں حضرت عکرمہؓ سے مروی ہے کہ اس دن آدمی کا سر کٹ کر گرتا اور یہ پتا نہ چلتا کہ اسے کس نے مارا۔ اور آدمی کاہاتھ کٹ کر گرتا اور یہ پتہ نہ چلتا کہ اسے کس نے کاٹا۔ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان ایک مشرک کا تعاقب کررہا تھا کہ اچانک اس مشرک کے اوپر کو ڑے مارنے کی آواز آئی۔ اور ایک شہسوار کی آواز سنائی پڑی جو کہہ رہا تھا کہ حیزوم! آگے بڑھ۔ مسلمان نے مشرک کو اپنے آگے دیکھا کہ وہ چِت گرا ، لپک کر دیکھا تو اس کی ناک پر چوٹ کا نشان تھا ، چہرہ پھٹا ہوا تھا جیسے کوڑے سے مارا گیا ہو اور یہ سب کا سب ہرا پڑ گیا تھا۔ اس انصاری مسلمان نے آکر رسول اللہﷺ سے یہ ماجرا بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا :”تم سچ کہتے ہو ، یہ تیسرے آسمان کی مدد تھی۔”1
ابو داؤد مازنی کہتے ہیں کہ میں ایک مشرک کو مارنے کے لیے دوڑ رہا تھا کہ اچانک اس کا سر میری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کٹ کر گر گیا۔ میں سمجھ گیا کہ اسے میرے بجائے کسی اور نے قتل کیا ہے۔
ایک انصاری حضرت عباسؓ بن عبد المطلب کو قید کر کے لایا تو حضرت عباسؓ کہنے لگے: ”واللہ ! مجھے اس نے قید نہیں کیا ہے ، مجھے تو ایک بے بال کے سر والے آدمی نے قید کیا ہے جو نہایت خوبرو تھا اور چتکبرے گھوڑے پر سوار تھا۔ اب میں اسے لوگوں میں نہیں دیکھ رہا ہو ں۔” انصاری نے کہا :”اے اللہ کے رسول! انہیں میں نے قید کیا ہے۔” آپﷺ نے فرمایا : خاموش رہو۔ اللہ نے ایک بزرگ فرشتے سے تمہاری مدد فرمائی ہے۔
حضرت علیؓ کا ارشاد ہے کہ رسول اللہﷺ نے بدر کے روز مجھ سے اور ابوبکرؓ سے کہا: تم میں سے ایک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 مسلم ۲/۹۳ وغیرہ
کے ساتھ جبرئیل اور دوسرے کے ساتھ میکائیل ؑ ہیں اور اسرافیل بھی ایک عظیم فرشتہ ہیں جو جنگ میں آیا کرتے ہیں۔1
میدان سے ابلیس کا فرار:
جیسا کہ ہم بتاچکے ہیں کہ ابلیس لعین ، سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں آیا تھا اور مشرکین سے اب تک جدا نہیں ہوا تھا ، لیکن جب اس نے مشرکین کے خلاف فرشتوں کی کاروائیاں دیکھیں تو اُلٹے پاؤں پلٹ کر بھاگنے لگا ، مگر حارث بن ہشام نے اسے پکڑ لیا ، وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ واقعی سراقہ ہی ہے ، لیکن ابلیس نے حارث کے سینے پر ایسا گھونسامارا کہ وہ گر گیااور ابلیس نکل بھاگا۔ مشرکین کہنے لگے: سراقہ کہا ں جارہے ہو؟ کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم ہمارے مدد گا ر ہو ہم سے جدا نہ ہوگے ؟ اس نے کہا : میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جسے تم نہیں دیکھتے۔ مجھے اللہ سے ڈرلگتا ہے، اور اللہ بڑی سخت سزا والا ہے۔ اس کے بعد بھاگ کر سمندر میں جارہا۔
شکست ِ فاش:
تھوڑی دیر بعد مشرکین کے لشکر میں ناکامی اور اضطراب کے آثار نمودار ہوگئے ، ان کی صفیں مسلمانوں کے سخت اور تابڑ توڑ حملوں سے درہم برہم ہونے لگیں اور معرکہ اپنے انجام کے قریب جاپہنچا۔ پھر مشرکین کے جھتے بے ترتیبی کے ساتھ پیچھے ہٹے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ مسلمانوں نے مارتے کاٹتے اور پکڑ تے باندھتے ان کا پیچھا کیا، یہاں تک کہ ان کو بھرپور شکست ہوگئی۔
ابو جہل کی اکڑ:
لیکن طاغوت اکبر ابو جہل نے جب اپنی صفوں میں اضطراب کی ابتدائی علامتیں دیکھیں تو چاہا کہ اس سیلاب کے سامنے ڈٹ جائے۔ چنانچہ وہ اپنے لشکر کو للکار تا ہوا اکڑ اور تکبر کے ساتھ کہتا جارہا تھا کہ سراقہ کی کنارہ کشی سے تمہیں پست ہمت نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس نے محمد (ﷺ ) کے ساتھ پہلے سے ساز باز کر رکھی تھی۔ تم پر عتبہ ، شیبہ اور ولید کے قتل کا ہول بھی سوارنہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان لوگوں نے جلد بازی سے کام لیا تھا۔ لات و عزی کی قسم! ہم واپس نہ ہوں گے یہاں تک کہ انہیں رسیوں میں جکڑ لیں۔ دیکھو! تمہارا کوئی آدمی ان کے کسی آدمی کو قتل نہ کرے بلکہ انہیں پکڑو اور گرفتار کرو تاکہ ہم ان کی بُری حرکت کا انہیں مزہ چکھائیں۔
لیکن اسے اس غرور کی حقیقت کا بہت جلد پتہ لگ گیا کیونکہ چند ہی لمحے بعد مسلمانوں کے جوابی حملے کی تندی کے سامنے مشرکین کی صفیں پھٹنا شروع ہوگئیں ، البتہ ابوجہل اب بھی اپنے گر د مشرکین کاا یک غول لیے جماہوا تھا۔ اس غول نے ابوجہل کے چاروں طرف تلواروں کی باڑھ اور نیزوں کا جنگل قائم کررکھا تھا ، لیکن اسلامی ہجوم کی آندھی نے اس باڑھ کو بھی بکھیر دیا اور اس جنگل کو بھی اکھیڑ دیا۔ اس کے بعد یہ طاغوتِ اکبر دکھا ئی پڑا۔ مسلمانوں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 مسند احمد ۱/۱۴۷ ، بزارح۱۴۶۷ مستدرک حاکم ۳/۱۳۴ ، انہوں نے اسے صحیح کہا ہے۔ اورذہبی نے موافقت کی ہے ، مسند ابو یعلی ۱/۲۸۴ ح ۳۴۰
نے دیکھا کہ وہ ایک گھوڑے پر چکر کاٹ رہا ہے۔ ادھر اس کی موت دوانصاری جوانوں کے ہاتھوں اس کا خون چوسنے کی منتظر تھی۔
ابوجہل کا قتل:
حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کا بیان ہے کہ میں جنگ بدر کے روز صف کے اندر تھا کہ اچانک مڑا تو کیا دیکھتا ہو ں کہ دائیں بائیں دو نوعمرجوان ہیں۔ گویا ان کی موجودگی سے میں حیران ہو گیا کہ اتنے میں ایک نے اپنے ساتھی سے چھپا کر مجھ سے کہا :”چچاجان ! مجھے ابوجہل کو دکھلادیجیے۔” میں نے کہا :بھتیجے !تم اسے کیا کروگے ؟ اس نے کہا:”مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کو گالی دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے الگ نہ ہوگا یہاں تک کہ ہم میں جس کی موت پہلے لکھی ہے وہ مر جائے۔” وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس پر تعجب ہوا۔ اتنے میں دوسرے شخص نے مجھے اشارے سے متوجہ کرکے یہی بات کہی۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے چند ہی لمحوںبعد دیکھا کہ ابو جہل لوگوں کے درمیان چکر کاٹ رہا ہے۔ میں نے کہا :”ارے دیکھتے نہیں ! یہ رہا تم دونوں کا شکار جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔” ان کا بیان ہے کہ یہ سنتے ہی وہ دونوں اپنی تلواریں لیے جھپٹ پڑے اور اسے مار کر قتل کردیا۔ پھر پلٹ کر رسول اللہﷺ کے پاس آئے ، آپﷺ نے فرمایا : تم میں سے کس نے قتل کیا ہے ؟ دونوں نے کہا : میں نے قتل کیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:اپنی اپنی تلواریں پوچھ چکے ہو ؟ بولے نہیں۔ آپﷺ نے دونوں کی تلواریں دیکھیں اور فرمایا : تم دونوں نے قتل کیا ہے۔ البتہ ابو جہل کا سامان معاذبن عَمرو بن جموح کو دیا۔ دونوں حملہ آوروں کا نام معاذبن عَمر و بن جموح اور معاذ بن عفراء ہے۔ 1
ابن ِ اسحاق کا بیان ہے کہ معاذ بن عمرو بن جموح نے بتلایا کہ میں نے مشرکین کو سنا وہ ابو جہل کے بارے میں جو گھنے درختوں جیسی – نیزوں اور تلواروں کی – باڑھ میں تھا کہہ رہے تھے: ابو الحکم تک کسی کی رسائی نہ ہو۔ معاذؓ بن عمرو کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ بات سنی تو اسے اپنے نشانے پر لے لیا اور اس کی سمت جمارہا۔ جب گنجائش ملی تومیں نے حملہ کر دیا اور ایسی ضرب لگائی کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی سے اڑ گیا۔ واللہ! جس وقت یہ پاؤں اڑا ہے تو میں اس کی تشبیہ صرف اس گٹھلی سے دے سکتا ہوں جو موسل کی مار پڑنے سے جھٹک کر اڑ جائے۔ ان کابیان ہے کہ ادھر میں نے ابو جہل کو مارا اور ادھر اس کے بیٹے عکرمہ نے میرے کندھے پر تلوار چلا ئی جس سے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری ۱/۴۴۴ ، ۲/۵۶۸ مشکوٰۃ ۲/۳۵۲۔ دوسری روایات میں دوسرانام معوذ بن عَفراء بتایا گیا ہے۔ (ابن ہشام ۱/۶۳۵ ) نیز ابو جہل کا سامان صرف ایک ہی آدمی کو اس لیے دیا گیا کہ بعد میں حضرت معاذ (معوذ) بن عفراء اسی جنگ میں شہید ہوگئے تھے۔ البتہ ابو جہل کی تلوار حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو دی گئی کیونکہ ان ہی نے اس (ابو جہل ) کا سر تن سے جدا کیا تھا۔ (دیکھئے :سنن ابی داؤد باب من اجاز علی جریح الخ ۲/۳۷۳ )
میرا ہاتھ کٹ کر میرے بازو کے چمڑ ے سے لٹک گیا اور لڑائی میں مخل ہونے لگا۔ میں اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے سارا دن لڑا ، لیکن جب وہ مجھے اذیت پہنچانے لگا تو میں نے اس پر اپنا پاؤں رکھا اور اسے زور سے کھینچ کر الگ کردیا 1 اس کے بعد ابوجہل کے پاس معوذؓ بن عفراء پہنچے۔ وہ زخمی تھا۔ انہوں نے اسے ایسی ضرب لگائی کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا صرف سانس آتی جاتی رہی۔ اس کے بعد معوذ بن عفراء بھی لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔
جب معرکہ ختم ہوگیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :”کون ہے جو دیکھے کہ ابو جہل کا انجام کیاہو ا۔” اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی تلاش میں بکھر گئے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اسے اس حالت میں پایا کہ ابھی سانس آجارہی تھی۔ انہوں نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا اور سر کاٹنے کے لیے ڈاڑھی پکڑی اور فرمایا : او اللہ کے دشمن ! آخر اللہ نے تجھے رسوا کیا نا ؟ اس نے کہا : ”مجھے کاہے کو رسوا کیا ؟ کیا جس شخص کوتم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے بھی بلند پایہ کوئی آدمی ہے”؟”یا جس کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے بھی اوپر کوئی آدمی ہے ؟” پھر بو لا : ”کاش ! مجھے کسانوں کے بجائے کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔” اس کے بعد کہنے لگا : ”مجھے بتاؤ آج فتح کس کی ہوئی ؟ ” حضرت عبد ا للہ بن مسعود نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول کی۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعودسے – جو اس کی گردن پر پاؤں رکھ چکے تھے – کہنے لگا : او بکری کے چرواہے ! تو بڑی اونچی اور مشکل جگہ پر چڑھ گیا۔ واضح رہے کہ عبد اللہ بن مسعودؓ مکے میں بکریاں چرایا کرتے تھے۔
اس گفتگو کے بعد عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر کاٹ لیا اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں لاکر حاضر کر تے ہوئے عرض کیا :”یارسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ !یہ رہا اللہ کے دشمن ابوجہل کا سر۔” آپﷺ نے تین بار فرمایا: ”واقعی۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔” اس کے بعد فرمایا :
((اللہ أکبر، الحمد للہ الذی صدق وعدہ ونصر عبدہ وہزم الأحزاب وحدہ۔))
”اللہ اکبر ، تمام حمد اللہ کے لیے ہے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھا یا ، اپنے بندے کی مدد فرمائی ، اور تنہا سارے گروہوں کو شکست دی۔”
پھر فرمایا : چلو مجھے اس کی لاش دکھاؤ۔ ہم نے آپﷺ کو لے جاکر لاش دکھائی۔ آپﷺ نے فرمایا : یہ اس امت کا فرعون ہے۔
ایمان کے تابناک نقوش:
حضرت عمیر بن الحمام اور حضرت عوف بن حارث ابن عَفراء کے ایمان افروز کارناموں کا ذکر پچھلے صفحات میں آچکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معرکے میں قدم قدم پر ایسے مناظر پیش آئے جن میں عقیدے کی قوت اور اصول کی پختگی نمایاں اور جلوہ گر تھی۔ اس معرکے میں باپ اور بیٹے میں بھائی اور بھائی میں صف آرائی ہوئی۔ اصولوں کے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 حضرت معاذؓ بن عمرو بن جموح حضرت عثمانؓ کے دور خلافت تک زندہ رہے۔
اختلاف پر تلواریں بے نیام ہوئیں اور مظلوم ومقہور نے ظالم وقاہر سے ٹکر ا کر اپنے غصے کی آگ بجھائی۔
ابن اسحاق نے ابن ِ عباسؓ سے روایت کی ہے کہ نبیﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا :”مجھے معلوم ہے کہ بنو ہاشم وغیرہ کے کچھ لوگ زبردستی میدانِ جنگ میں لائے گئے ہیں۔ انھیں ہماری جنگ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ لہٰذا بنو ہاشم کا کوئی آدمی کسی کی زد میں آجائے تو وہ اسے قتل نہ کرے۔ ابو البختری بن ہشام کسی کی زد میں آجائے تو وہ اُسے قتل نہ کرے اور عباس بن عبد المطلبؓ کسی کی زد میں آجائیں تو وہ بھی انہیں قتل نہ کرے کیونکہ وہ بالجبر لائے گئے ہیں۔” اس پر عُتبہ کے صاحبزادے حضرت ابو حذیفہؓ نے کہا :”کیا ہم اپنے باپ بیٹوں ، بھائیوں اور کنبے قبیلے کے لوگوں کو قتل کریں گے اور عباس کو چھوڑ دیں گے اللہ کی قسم ! اگر اس سے میری مڈبھیڑ ہوگئی تو میں تو اسے تلوار کی لگام پہنادوں گا ” یہ خبر رسول اللہﷺ کو پہنچی تو آپﷺ نے عمر بن خطابؓ سے فرمایا : کیا رسول اللہﷺ کے چچا کے چہرے پر تلوار ماری جائے گی ؟ حضرت عمرؓ نے کہا :”یارسول اللہ ! مجھے چھوڑیے میں تلوارسے اِس کی گردن آڑا دوں۔ کیونکہ واللہ! یہ شخص منافق ہو گیا ہے۔”
بعد میں ابو حذیفہؓ کہا کرتے تھے ، اس دن میں نے جو بات کہہ دی تھی اس کی وجہ سے میں مطمئن نہیں ہوں۔ برابر خوف لگا رہتا ہے۔ صرف یہی صورت ہے کہ میری شہادت اس کا کفارہ بن جائے اور بالآخر وہ یمامہ کی جنگ میں شہید ہوہی گئے۔
ابو البختری کو قتل کرنے سے اس لیے منع کیا گیا تھا کہ مکے میں یہ شخص سب سے زیادہ رسول اللہﷺ کی ایذا رسانی سے اپنا ہاتھ روکے ہوئے تھا۔ آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچا تا تھا اور نہ اس کی طرف سے کوئی ناگوار بات سننے میں آئی تھی ، اور یہ ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کے بائیکاٹ کا صحیفہ چاک کیا تھا۔
لیکن ان سب کے باوجود ابو البختری قتل کر دیا گیا۔ ہوا یہ کہ حضرت مجذرؓ بن زیاد بلوی سے اس کی مڈبھیڑ ہوگئی۔ اس کے ساتھ اس کا ایک اور ساتھی بھی تھا۔ دونوں ساتھ ساتھ لڑ رہے تھے۔ حضرت مجذرؓ نے کہا: ”ابوالبختری ! رسول اللہﷺ نے ہمیں آپ کو قتل کرنے سے منع کیا ہے۔” اس نے کہا : اور میرا ساتھی ؟ حضرت مجذرؓ نے کہا : نہیں ، واللہ! ہم آپ کے ساتھی کو نہیں چھوڑسکتے۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم! تب میں اور وہ دونوں مریں گے۔ اس کے بعد دونوں نے لڑائی شروع کردی۔ مجذرؓ نے مجبورا ً اسے بھی قتل کردیا۔
مکے کے اندر جاہلیت کے زمانے سے حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ اور اُمیہ بن خلف میں باہم دوستی تھی۔ جنگ بدر کے روز امیہ اپنے لڑکے علی کا ہاتھ پکڑے کھڑا تھا کہ اتنے میں ادھر سے حضرت عبد الرحمن بن عوف کا گزر ہوا۔ وہ دشمن سے کچھ زِرہیں چھین کر لادے لیے جارہے تھے۔ اُمیہ نے انہیں دیکھ کر کہا :”کیاتمہیں میری ضرورت ہے ؟ میں تمہاری ان زِرہوں سے بہتر ہوں۔ آج جیسا منظر تومیں نے دیکھا نہیں۔ کیا تمہیں دودھ کی حاجت نہیں ”؟ …مطلب یہ تھا کہ جو مجھے قید کرے گا میں اسے فدیے میں خوب دودھیل اونٹنیاں دوں گا…یہ سن کر عبد الرحمن بن عوفؓ نے زِرہیں پھینک دیں اور دونوں کو گرفتار کر کے آگے بڑھے۔
حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کہتے ہیں کہ میں امیہ اور اس کے بیٹے کے درمیان چل رہاتھا کہ اُمیہ نے پوچھا : آپ لوگوں میں وہ کون سا آدمی تھا جو اپنے سینے پر شتر مرغ کا پَر لگائے ہوئے تھا ؟ میں نے کہا : وہ حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ تھے۔ اُمیہ نے کہا : یہی شخص ہے جس نے ہماری اندر تباہی مچا رکھی تھی۔
حضرت عبد الرحمنؓ کہتے ہیں کہ واللہ! میں ان دونوں کو لیے جارہا تھا کہ اچانک حضرت بلالؓ نے امیہ کو میرے ساتھ دیکھ لیا – یادرہے کہ امیہ حضرت بلالؓ کو مکے میں ستایا کرتا تھا…حضرت بلالؓ نے کہا: اوہو! کفار کا سرغنہ، امیہ بن خلف ! اب یا تو میں بچوں گا یا یہ بچے گا۔ میں نے کہا: اے بلالؓ ! یہ میرا قیدی ہے ، انہوں نے کہا : اب یاتو میں رہوں گا یایہ رہے گا۔ پھر نہایت بلند آواز سے پکار ا:”اے اللہ کے انصارو ! یہ رہاکفار کا سرغنہ اُمیہ بن خلف ، اب یاتو میں رہوں گا یا یہ رہے گا۔” حضرت عبد الرحمنؓ کہتے ہیں کہ اتنے میں لوگوں نے ہمیں کنگن کی طرح گھیرے میں لے لیا۔ میں ان کا بچاؤ کر رہا تھا مگر ایک آدمی نے تلوار سونت کر اس کے بیٹے کے پاؤں پر ضرب لگائی اور وہ تیورا کر گر گیا۔ اُدھر اُمیہ نے اتنے زور کی چیخ ماری کہ میں نے ویسی چیخ کبھی سنی ہی نہ تھی۔ میں نے کہا : نکل بھاگو ، مگر آج بھاگنے کی گنجائش نہیں ، اللہ کی قسم ! میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ حضرت عبد الرحمنؓ کا بیان ہے کہ لوگوں نے اپنی تلوار وں سے ان دونوں کو کاٹ کر ان کاکام تمام کردیا۔ اس کے بعد حضرت عبدالرحمنؓ کہا کرتے تھے :”اللہ بلالؓ پر رحم کرے۔ میری زِرہیں بھی گئیں اور میرے قیدی کے بارے میں مجھے تڑ پا بھی دیا۔”
زاد المعاد میں علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ عبد الرحمنؓ بن عوف نے اُمیہ بن خلف سے کہا کہ گھٹنوں کے بل بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ گیا اور حضرت عبدالرحمنؓ نے اپنے آپ کو اس کے اوپر ڈال لیا، لیکن لوگوں نے نیچے سے تلوار مار کر اُمیہ کو قتل کردیا۔ بعض تلواروں سے حضرت عبدالرحمن بن عوف کا پاؤں بھی زخمی ہوگیا۔
امام بخاری نے عبد الرحمن بن عوف سے روایت کی ہے ان کا بیان ہے کہ میں نے امیہ بن خلف سے طے کیا تھا کہ وہ مکہ میں میرے اموال ومتعلقات کی حفاظت کرے گا اور میں مدینہ میں اس کے اموال ومتعلقات کی حفاظت کروں گا۔ بدر کے دن جب لوگوں نے راحت اختیار کی تو میں ایک پہاڑ کی طرف نکلا کہ اسے (قیدیوں میں ) سمیٹ لو ں۔ لیکن بلال نے اسے دیکھ لیا اور نکل کر انصار کی ایک مجلس پر جاکر کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: امیہ بن خلف ہے ، اب یا تو وہ رہے گا یا میں رہوں گا۔ اس پر انصار کے ایک گروہ نے ان کے ساتھ نکل کر ہمار ا پیچھا کر لیا۔ جب میں نے دیکھا کہ وہ ہمیں پالیں گے تو میں نے امیہ کے بیٹے کو پیچھے چھوڑ دیا تاکہ وہ اسی میں مشغول رہیں۔ مگر انہوں نے اسے قتل کر کے پھر ہمارا پیچھا کر لیا۔ امیہ بھاری بھرکم آدمی تھا۔جب انہوں نے ہمیں پالیا تو میں نے اس سے کہا: بیٹھ جاؤ، وہ بیٹھ گیا اور میں نے اپنے آپ کو اس کے اوپر ڈال لیا۔ تاکہ اسے بچاسکوں۔ مگر لوگوں نے میرے نیچے سے تلوار مار مار کر اسے قتل کر دیا۔ کسی کی تلوار میرے پاؤں میں بھی جالگی۔ چنانچہ عبد الرحمنؓ اپنے پاؤں کی پشت پر اس کا نشان دکھایا کرتے تھے۔1
حضرت عمر بن خطابؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیااور قرابت کی کوئی پروا نہ کی۔ بلکہ مدینہ آئے تو رسول اللہﷺ کے چچا حضرت عباس کو قید میں پاکر کہا : اے عباس ! اسلام لائیے ، واللہ آپ اسلام لائیں تو یہ میرے نزدیک خطاب کے بھی اسلام لانے سے زیادہ پسند ہے اور ایسا صرف اس لیے ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہﷺ کو آپ کا اسلام لانا پسند ہے۔2
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے بیٹے عبد الرحمن کو -جو اس وقت مشرکین کے ہمراہ تھے – پکارکر کہا : اوخبیث ! میرا مال کہا ں ہے ؟ عبد الر حمن نے کہا :

لم یبق غیر شکۃ ویعبوب​
وصارم یقتل ضلال الشیب​

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: