Ar-Raheeq Al-Makhtum by Safiur Rahman Mubarakpuri – Episode 8

0
الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری – قسط نمبر 8

–**–**–

ہتھیار ، تیز روگھوڑے اور اس تلوار کے سوا کچھ باقی نہیں جو بڑھاپے کی گمراہی کا خاتمہ کرتی ہے۔ ”
جس وقت مسلمانوں نے مشرکین کی گرفتاری شروع کی رسول اللہﷺ چھپر میں تشریف فرماتھے اور حضرت سعد بن معاذؓ تلوار حمائل کیے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ رسول اللہﷺ نے دیکھا کہ حضرت سعدؓ کے چہرے پر لوگوں کی اس حرکت کا ناگوار اثر پڑ رہا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :”اے سعد ! واللہ! ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تم کو مسلمانوں کا یہ کام ناگوار ہے۔” انہوں نے کہا : جی ہاں ! اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول ! یہ اہل ِ شرک کے ساتھ پہلا معرکہ ہے جس کا موقع اللہ نے ہمیں فراہم کیا ہے۔ اس لیے اہلِ شرک کو باقی چھوڑنے کے بجائے مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے اور اچھی طرح کچل دیا جائے۔”
اس جنگ میں حضرت عکاشہ بن محصن اسدیؓ کی تلوار ٹوٹ گئی۔ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے انہیں لکڑی کا ایک پھٹا تھمادیا اور فرمایا: عکاشہؓ ! اسی سے لڑائی کرو۔ عکاشہؓ نے اسے رسو ل اللہﷺ سے لے کر ہلا یا تو وہ ایک لمبی ، مضبوط اور چم چم کرتی ہوئی سفید تلوار میں تبدیل ہوگیا۔ پھر انہو ں نے اسی سے لڑائی کی یہاں تک کہ اللہ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ اس تلوار کا نام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری ، کتاب الوکالہ ۱/۳۱۸ زاد المعاد ۲/۸۹
2 مستدرک حاکم (فتح القدیر للشوکانی ۲/۳۲۷ )
عون …یعنی مدد …رکھا گیا تھا۔ یہ تلوار مستقلاً حضرت عکاشہؓ کے پاس رہی اوروہ اسی کو لڑائیوں میں استعمال کرتے رہے یہاں تک کہ دَورِ صدیقی میں مرتدین کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اس وقت بھی یہ تلوار اُن کے پاس ہی تھی۔
خاتمۂ جنگ کے بعد حضرت مُصعب بن عمیر عبدریؓ اپنے بھائی ابو عزیر بن عُمیر عبدری کے پاس سے گزرے۔ ابو عزیز نے مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑی تھی اور اس وقت ایک انصاری صحابی اِس کا ہاتھ باندھ رہے تھے۔ حضرت مصعبؓ نے اس انصاری سے کہا : ”اس شخص کے ذریعے اپنے ہاتھ مضبوط کرنا، اس کی ماں بڑی مالدار ہے وہ غالبا ً تمہیں اچھا فدیہ دے گی ۔” اس پر ابوعزیز نے اپنے بھائی مُصعبؓ سے کہا : کیا میرے بارے میں تمہاری یہی وصیت ہے ؟ حضرت مصعب نے فرمایا : (ہاں) تمہارے بجائے یہ …انصاری …میرا بھائی ہے۔
( جب مشرکین کی لاشوں کو کنویں میں ڈالنے کا حکم دیا گیا اور عتبہ بن ربیعہ کو کنویں کی طرف گھسیٹ کر لے جایا جانے لگا تو رسول اللہﷺ نے اس کے صاحبزادے حضرت ابو حذیفہؓ کے چہرے پر نظر ڈالی ، دیکھا تو غمزدہ تھے ، چہرہ بدلا ہوا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا :”ابو حذیفہ ! غالبا ً اپنے والد کے سلسلے میں تمہارے دل کے اندر کچھ احساسات ہیں ؟” انہوںنے کہا :” نہیں واللہ، یا رسول اللہ ! میرے اندر اپنے باپ کے بارے میں اور ان کے قتل کے بارے میں ذرا بھی لرزش نہیں۔ البتہ میں اپنے باپ کے متعلق جانتا تھا کہ ان میں سوجھ بوجھ ہے۔ دوراندیشی اور فضل وکمال ہے، اس لیے میں آس لگائے بیٹھا تھا کہ یہ خوبیاں انہیں اسلام تک پہنچادیں گی ، لیکن اب ان کا انجام دیکھ کر اور اپنی توقع کے خلاف کفر پر ان کا خاتمہ دیکھ کر مجھے افسوس ہے۔” اس پر رسول اللہﷺ نے حضرت حذیفہؓ کے حق میں دعائے خیر فرمائی اور ان سے بھلی بات کہی۔
فریقین کے مقتو لین :
یہ معرکہ ، مشرکین کی شکست ِ فاش اور مسلمانوں کی فتح ِ مبین پر ختم ہوا۔ اور اس میں چودہ مسلمان شہید ہوئے۔ چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے ، لیکن مشرکین کو بھاری نقصان اٹھا نا پڑا۔ ان کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر قید کیے گئے جو عموماً قائد ، سردار اوربڑے بڑے سر بر آوردہ حضرات تھے۔
خاتمۂ جنگ کے بعد رسول اللہﷺ نے مقتولین کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا : تم لوگ اپنے نبی کے لیے کتنا برا کنبہ اور قبیلہ تھے۔ تم نے مجھے جھٹلایا جبکہ اوروں نے میری تصدیق کی۔ تم نے مجھے بے یارومددگار چھوڑا جبکہ اوروں نے میری تائید کی۔ تم نے مجھے نکالا جبکہ اوروں نے مجھے پناہ دی۔” اس کے بعد آپ نے حکم دیا اور انہیں گھسیٹ کر بدر کے ایک کنویں میں ڈال دیا گیا۔
حضرت ابو طلحہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے حکم سے بدر کے روز قریش کے چوبیس بڑے بڑے سرداروں کی لاشیں بدر کے ایک گندے خبیث کنویں میں پھینک دی گئیں۔ آپﷺ کا دستورتھا کہ آپ جب کسی قوم پر فتح یاب ہوتے تو تین دن میدانِ جنگ میں قیام فرماتے تھے۔ چنانچہ جب بدر میں تیسرا دن آیا تو آپﷺ کے حسب الحکم آپﷺ کی سواری پر کجاوہ کسا گیا۔ اس کے بعد آپﷺ پیدل چلے اور پیچھے پیچھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی چلے یہاں تک کہ آپﷺ کنویں کی بار پر کھڑے ہوگئے۔ پھر انہیں ان کا اور ان کے باپ کا نام لے لے کر پکارنا شروع کیا۔ اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں ! کیا تمہیں یہ بات خوش آتی ہے کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی ہوتی؟ کیونکہ ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے ہم نے برحق پایا تو کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے برحق پایا ؟ حضرت عمرؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ ایسے جسموں سے کیاباتیں کررہے ہیں جن میں رُوح ہی نہیں ؟ نبیﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اسے تم لوگ ان سے زیادہ نہیں سن رہے ہو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ تم لوگ ان سے زیادہ سننے والے نہیں لیکن یہ لوگ جواب نہیں دے سکتے۔ 1
مکے میں شکست کی خبر:
مشرکین نے میدانِ بدر سے غیر منظم شکل میں بھاگتے ہوئے تتر بتر ہو کر گھبراہٹ کے عالم میں مکے کا رخ کیا۔ شرم وندامت کے سبب ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کس طرح مکے میں داخل ہوں۔
ابن ِ اسحاق کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جو شخص قریش کی شکست کی خبر لے کر مکے وارد ہوا وہ حَیْسمان بن عبد اللہ خزاعی تھا۔ لوگوں نے اس سے دریافت کیا کہ پیچھے کی کیا خبر ہے ؟ اس نے کہا : عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ابو الحکم بن ہشام ، اُمیہ بن خلف …اورمزید کچھ سرداروں کا نام لیتے ہوئے …یہ سب قتل کردیئے گئے۔ جب اس نے مقتولین کی فہرست میں اشراف قریش کو گنا نا شروع کیا تو صفوان بن اُمیہ نے جو حطیم میں بیٹھا تھا کہا: اللہ کی قسم! اگر یہ ہوش میں ہے تو اس سے میرے متعلق پوچھو۔ لوگوں نے پوچھا: صفوان بن امیہ کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا : وہ تو وہ دیکھو ! حطیم میں بیٹھا ہوا ہے۔ واللہ! اس کے باپ اور اس کے بھائی کو قتل ہوتے ہوئے میں نے خود دیکھا ہے۔
رسول اللہﷺ کے مولیٰ ابورافعؓ کا بیان ہے کہ میں ان دنوں حضرت عباسؓ کا غلام تھا۔ ہمارے گھر میں اسلام داخل ہوچکا تھا۔ حضرت عباسؓ مسلمان ہوچکے تھے ، امّ الفضلؓ مسلمان ہو چکی تھیں ، میں بھی مسلمان ہو چکا تھا ، البتہ حضرت عباسؓ نے اپنا اسلا م چھپا رکھا تھا۔ ادھر ابو لہب جنگ بدر میں حاضر نہ ہوا تھا۔ جب اسے خبر ملی تو اللہ نے اس پر ذلت و روسیاہی طاری کردی اور ہمیں اپنے اندر قوت وعزت محسوس ہوئی۔ میں کمزور آدمی تھا تیر بنایا کرتا تھا اور زمزم کے حجرے میں بیٹھا تیر کے دستے چھیلتا رہتا تھا۔ واللہ ! اس وقت میں حجرے میں بیٹھا اپنے تیر چھیل رہا تھا۔ میرے پاس اُم ّ الفضلؓ بیٹھی ہوئی تھیں اور جو خبر آئی تھی اس سے ہم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 متفق علیہ۔ مشکوٰۃ ۲/۳۴۵
شاداں وفرحاں تھے کہ اتنے میں ابو لہب اپنے دونوں پاؤں بری طرح گھسیٹتا ہواآپہنچا اور حجرے کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ اس کی پیٹھ میری پیٹھ کی طرف تھی۔ ابھی وہ بیٹھا ہی ہوا تھا کہ اچانک شور ہوا: یہ ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب آگیا۔ ابو لہب نے اس سے کہا: میرے پاس آؤ ، میری عمر کی قسم ! تمہارے پاس خبر ہے۔ وہ ابو لہب کے پاس بیٹھ گیا۔ لوگ کھڑے تھے۔ ابو لہب نے کہا: بھتیجے بتاؤ لوگوں کا کیا حال رہا ؟ اس نے کہا : کچھ نہیں۔ بس لوگوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی اور ہم نے اپنے کندھے ان کے حوالے کردیئے۔ وہ ہمیں جیسے چاہتے تھے قتل کرتے تھے اور جیسے چاہتے تھے قید کرتے تھے ، اور اللہ کی قسم! میں اس کے باوجود لوگوں کو ملامت نہیں کر سکتا۔ درحقیقت ہماری مڈبھیڑ کچھ ایسے گورے چٹے لوگوں سے ہوئی تھی جو آسمان وزمین کے درمیان چتکبرے گھوڑوں پر سوار تھے۔ اللہ کی قسم! نہ وہ کسی چیز کو چھوڑتے تھے اور نہ کوئی چیز ان کے مقابل ٹک پاتی تھی۔
ابو رافعؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے خیمے کا کنارہ اٹھا یا ، پھر کہا : وہ اللہ کی قسم فرشتے تھے ؟ یہ سن کر ابو لہب نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور میرے چہرے پر زور دار تھپڑ رسید کیا۔ میں اس سے لڑ پڑا۔ لیکن اس نے مجھے اٹھا کر زمین پر پٹک دیا۔ پھر میرے اوپر گھٹنے کے بل بیٹھ کر مجھے مارنے لگا۔ میں کمزور جو ٹھہرا، لیکن اُم ّ الفضل نے اٹھ کر خیمے کا ایک کھمبا لیا اور اسے ایسی ضرب ماری کہ سر میں بُری چوٹ آگئی اور ساتھ ہی بولیں: اس کا مالک نہیں ہے اس لیے اسے کمزور سمجھ رکھا ہے ؟ ابولہب رسوا ہو کر اٹھا اور چلا گیا۔ اس کے بعد اللہ کی قسم صرف سات راتیں گزری تھیں کہ اللہ نے اسے عدسہ (ایک قسم کے طاعون ) میں مبتلا کردیا اوراس کا خاتمہ کردیا۔ عدسہ کی گلٹی کو عرب بہت منحوس سمجھتے تھے ، چنانچہ (مرنے کے بعد ) اس کے بیٹوں نے بھی اسے یوں ہی چھوڑ دیا اور وہ تین روز تک بے گور وکفن پڑا رہا۔کوئی اس کے قریب نہ جاتا تھا اور نہ اس کی تدفین کی کوشش کرتا تھا۔ جب اس کے بیٹوں کو خطرہ محسوس ہو اکہ اس طرح چھوڑنے پر لوگ انہیں ملامت کریں گے تو ایک گڑھا کھود کر اسی میں لکڑی سے اس کی لاش دھکیل دی اور دور ہی سے پتھر پھینک پھینک کر چھپادی۔
غرض اس طرح اہل ِ مکہ کو میدان ِ بدر کی شکست ِ فاش کی خبر ملی اور ان کی طبیعت پر اس کا نہایت برا اثر پڑا حتیٰ کہ انہوں نے مقتولین پر نوحہ کرنے کی ممانعت کردی تاکہ مسلمانوں کو اس کے غم پر خوش ہونے کا موقع نہ ملے۔
اس سلسلے کاا یک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں اسود بن عبد المطلب کے تین بیٹے مارگئے، اس لیے وہ ان پر رونا چاہتا تھا۔ وہ اندھا آدمی تھا۔ ایک رات اس نے نوحہ کرنے والی عورت کی آواز سنی۔ جھٹ اپنے غلام کو بھیجا اور کہا :”ذرا ، دیکھو ! کیا نوحہ کرنے کی اجازت مل گئی ہے ؟ کیا قریش اپنے مقتولین پر رورہے ہیں تاکہ میں بھی … اپنے بیٹے …ابو حکیمہ پر روؤں ، کیونکہ میرا سینہ جل رہا ہے۔” غلام نے واپس آکر بتا یا کہ یہ عورت تو اپنے گم شدہ اُونٹ پر رورہی ہے۔ اسود یہ سن کر اپنے آپ پر قابو نہ پاس کا اور بے اختیار کہہ پڑا :

أتبـکی أن یضـل لہـا بعیــر ویمنعہـا مـن النوم السہــود​
فلا تبکی علی بکـر ولکــن علی بدر تقـاصرت الجـدود​
علي بدر سراۃ بنی ہصیـص ومخـزوم ورہـط أبی الولیـد​
وبـکی إن بکیت علی عقیل وبکي حارثاً أســد الأســود​
وبکیہــم ولا تسمي جمیعاً وما لأبی حـکیـمۃ من ندیــد​
ألا قد سـاد بعــدہم رجال ولولا یـوم بــدر لم یسـودوا​


”کیا وہ اس بات پر روتی ہے کہ اس کاا ونٹ غائب ہوگیا ؟ اور اس پر بے خوابی نے اس کی نیند حرام کر رکھی ہے ؟ تو اونٹ پر نہ رو بلکہ بدر پر روجہاں قسمتیں پھوٹ گئیں۔ ہاں ہاں ! بدر پر رو جہاں بنی ہصیص، بنی مخزوم اور ابو الولید کے قبیلے کے سر بر آوردہ افراد ہیں۔ اگر روناہی ہے تو عقیل پر رو اور حارث پر رو جو شیروں کا شیر تھا، تو ان لوگوں پر رو اورسب کا نام نہ لے اور ابوحکیمہ کا تو کوئی ہمسر ہی نہ تھا۔ دیکھو ! ان کے بعد ایسے ایسے لوگ سردار ہوگئے کہ اگر بدر کا دن نہ ہوتا تو وہ سردار نہ ہوسکتے تھے۔”
مدینے میں فتح کی خوش خبر ی:
ادھر مسلمانوں کی فتح مکمل ہوچکی تو رسول اللہﷺ نے اہل ِ مدینہ کو جلد از جلد خوشخبری دینے کے لیے دو قاصدروانہ فرمائے۔ ایک حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ جنہیں عوالی (بالائی مدینہ ) کے باشندوں کے پاس بھیجا گیا تھا اور دوسرے حضرت زید بن حارثہؓ جنہیں زیرین مدینہ کے باشندوں کے پاس بھیجا گیا تھا۔
اس دوران یہود اور منافقین نے جھوٹے پر وپیگنڈے کر کر کے مدینے میں ہلچل بپاکر رکھی تھی یہاں تک کہ یہ خبر بھی اڑا رکھی تھی کہ نبیﷺ قتل کر دیئے گئے ہیں ، چنانچہ جب ایک منافق نے حضرت زید بن حارثہؓ کو نبیﷺ کی اونٹنی قَصْوَاء پر سوار آتے دیکھا تو بول پڑا :”واقعی محمدﷺ قتل کردیئے گئے ہیں۔ دیکھو ! یہ تو انھی کی اونٹنی ہے۔ ہم اسے پہچانتے ہیں ، اور یہ زید بن حارثہؓ ہے ، شکست کھا کر بھاگا ہے اور ا س قدر مرعوب ہے کہ اس کی سمجھ میں نہیںآتا کہ کیا کہے۔” بہرحال جب دونوں قاصد پہنچے تو مسلمانوں نے انہیں گھیر لیا اور ان سے تفصیلات سننے لگے حتیٰ کہ انہیں یقین آگیا کہ مسلمان فتح یاب ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ہر طرف مسرت وشادمانی کی لہر دوڑ گئی اور مدینے کے دَرو بام تہلیل وتکبیر کے نعروں سے گونج اُٹھے اور جو سربر آوردہ مسلمان مدینے میں رہ گئے تھے وہ رسول اللہﷺ کو اس فتح مبین کی مبارک باد دینے کے لیے بدر کے راستے پر نکل پڑے۔
حضرت اُسامہ بن زیدؓ کا بیان ہے کہ ہمارے پاس اس وقت خبر پہنچی جب رسول اللہﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہؓکو ، جو حضرت عثمانؓ کے عقد میں تھیں ، دفن کر کے قبر پر مٹی برابر کر چکے تھے۔ ان کی تیمار داری کے لیے حضرت عثمانؓ کے ساتھ مجھے بھی رسول اللہﷺ نے مدینے ہی میں چھوڑ دیا تھا۔
مالِ غنیمت کا مسئلہ:
رسول اللہﷺ نے معرکہ ختم ہونے کے بعد تین دن بدر میں قیام فرمایا ، اور ابھی آپﷺ نے میدانِ جنگ سے کوچ نہیں فرمایا تھا کہ مالِ غنیمت کے بارے میں لشکر کے اندر اختلاف پڑگیا اور جب یہ اختلاف شدت اختیار کر گیا تو رسول اللہﷺ نے حکم دیا کہ جس کے پاس جو کچھ ہے وہ آپﷺ کے حوالے کردے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس حکم کی تعمیل کی اور اس کے بعد اللہ نے وحی کے ذریعہ اس مسئلے کا حل نازل فرمایا۔
حضرت عبادہ بن صامتؓ کا بیان ہے کہ ہم لوگ نبیﷺ کے ساتھ مدینے سے نکلے اور بدر میں پہنچے۔ لوگوں سے جنگ ہوئی اور اللہ نے دشمن کو شکست دی۔ پھر ایک گروہ ان کے تعاقب میں لگ گیا اور انہیں کھدیڑ نے اور قتل کرنے لگا اور ایک گروہ مالِ غنیمت پر ٹوٹ پڑا اور اسے بٹورنے اور سمیٹنے لگا اور ایک گروہ نے رسول اللہﷺ کے گرد گھیرا ڈالے رکھا کہ مبادا دشمن دھوکے سے آپﷺ کو کوئی اذیت پہنچادے۔ جب رات آئی اور لوگ پلٹ پلٹ کر ایک دوسرے کے پاس پہنچے تو مالِ غنیمت جمع کرنے والوں نے کہا کہ ہم نے اسے جمع کیا ہے، لہٰذا اس میں کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔ دشمن کا تعاقب کرنے والوں نے کہا :”تم لوگ ہم سے بڑھ کر اس کے حق دار نہیں کیونکہ اس مال سے دشمن کو بھگانے اور دور رکھنے کاکام ہم نے کیا تھا۔” اور جو لوگ رسول اللہﷺ کی حفاظت فرما رہے تھے انہوں نے کہا :”ہمیں یہ خطرہ تھا کہ دشمن آپ کو غفلت میں پاکر کوئی اذیت نہ پہنچا دے اس لیے ہم آپﷺ کی حفاظت میں مشغول رہے۔” اس پراللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ ۖ قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿١﴾ (۸: ۱)
”لوگ آپﷺ سے مال ِ غنیمت کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دو غنیمت اللہ اور رسولﷺ کے لیے ہے، پس اللہ سے ڈرو ، اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرلو اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرو اگر واقعی تم لوگ مومن ہو۔”
اس کے بعد رسول اللہﷺ نے مالِ غنیمت کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرمادیا۔1
اسلامی لشکر مدینے کی راہ میں:
رسول اللہﷺ تین روز بدر میں قیام فرماکر مدینے کے لیے چل پڑے۔ آپﷺ کے ہمراہ مشرک قیدی بھی تھے اور مشرکین سے حاصل کیا ہوا مالِ غنیمت بھی۔ آپﷺ نے حضرت عبد اللہ بن کعبؓ کو اس کی نگرانی سونپی تھی۔ جب آپﷺ وادیٔ صفرا ء کے درّے سے باہر نکلے تو درّے اور نازیہ کے درمیان ایک ٹیلے پر پڑاؤ ڈالا اور وہیں خمس (پانچواں حصہ ) علیحدہ کر کے باقی مال ِ غنیمت مسلمانوں پر برابر تقسیم کردیا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 مسند احمد ۵ / ۳۲۳ ، ۳۲۴ حاکم ۲/۳۲۶
اور وادیٔ صفراء ہی میں آپﷺ نے حکم صادر فرمایا کہ نضر بن حارث کو قتل کردیا جائے۔ اس شخص نے جنگ ِ بدر میں مشرکین کا پرچم اُٹھارکھا تھا اور یہ قریش کے اکابر مجرمین میں سے تھا۔ اسلام دشمنی اور رسول اللہﷺ کی ایذاء رسانی میں حد درجہ بڑھا ہوا تھا۔ آپﷺ کے حکم پر حضرت علیؓ نے اس کی گردن مار دی۔
اس کے بعد آپﷺ عرق الظبیہ پہنچے تو عقبہ بن ابی معیط کے قتل کا حکم صادر فرمایا۔ یہ شخص جس طرح رسول اللہﷺ کو ایذاء پہنچایا کرتا تھا اس کا کچھ ذکرپیچھے گزر چکا ہے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہﷺ کی پیٹھ پر نماز کی حالت میں اونٹ کی اوجھ ڈالی تھی اور اسی شخص نے آپﷺ کی گردن پہ چادر لپیٹ کر آپﷺ کو قتل کرنا چاہا تھا اور اگر ابوبکرؓ بروقت نہ گئے ہوتے تو اس نے (اپنی دانست میں تو )آپﷺ کا گلا گھونٹ کر مار ہی ڈالاتھا۔ جب نبیﷺ نے اس کے قتل کا حکم صادر فرمایا تو کہنے لگا: ”اے محمد ! بچوں کے لیے کون ہے ؟” آپ نے فرمایا : آگ1 اس کے بعد حضرت عاصم بن ثابت انصاریؓ نے – اور کہا جاتا ہے کہ حضرت علیؓ نے – اس کی گردن ماردی۔
جنگی نقطۂ نظر سے ان دونوں طاغوتوں کا قتل کیا جانا ضروری تھا کیونکہ یہ صرف جنگی قیدی نہ تھے بلکہ جدید اصطلاح کی روسے جنگی مجرم بھی تھے۔
تہنیت کے وفود:
اس کے بعد آپﷺ مقامِ رَوحا ء پہنچے تو ان مسلمان سربراہوں سے ملاقات ہوئی جو دونوں قاصدوں سے فتح کی بشارت سن کر آپﷺ کا استقبال کرنے اور آپﷺ کو فتح کی مبارک باد پیش کرنے کے لیے مدینے سے نکل پڑے تھے۔ جب انہوں نے مبارک پیش کی تو حضرت سلمہ بن سلامہؓ نے کہا :” آپ لوگ ہمیں کاہے کی مبارک باد دے رہے ہیں ہمارا ٹکراؤ تو اللہ کی قسم ! گنجے سر کے بوڑھوں سے ہوا تھا جو اونٹ جیسے تھے۔” اس پر رسول اللہﷺ نے مسکرا کر فرمایا : بھتیجے! یہی لوگ سر برآوردگانِ قوم تھے۔
اس کے بعد حضرت اسید بن حضیرؓ عرض پر داز ہوئے :”یارسول اللہ!(ﷺ ) اللہ کی حمد ہے کہ اس نے آپ کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشی۔ واللہ ! میں یہ سمجھتے ہوئے بدر سے پیچھے نہ رہا تھا کہ آپ کا ٹکراؤ دشمن سے ہوگا ، میں تو سمجھ رہا تھا کہ بس قافلے کا معاملہ ہے ، اور اگر میں یہ سمجھتا کہ دشمن سے سابقہ پڑے گا تو میں پیچھے نہ رہتا۔” رسول اللہﷺ نے فرمایا :” سچ کہتے ہو۔”
اس کے بعد آپﷺ مدینہ منور ہ میں اس طرح مظفر ومنصور داخل ہوئے کہ شہر اور گرد وپیش کے سارے دشمنوں پر آپﷺ کی دھاک بیٹھ چکی تھی۔ اس فتح کے اثر سے مدینے کے بہت سے لوگ حلقۂ بگوش اسلام ہوئے اور اسی موقع پر عبداللہ بن اُبی اور اس کے ساتھیوں نے بھی دکھاوے کے لیے اسلام قبول کیا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 یہ حدیث کتب صحاح میں مروی ہے ، مثلاً: دیکھئے: سنن ابی داؤد مع شرح عون المعبود ۳/۱۲
آپﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے ایک دن بعد قیدیوں کی آمد آمد ہوئی۔ آپ نے انہیں صحابہ کرامؓ پر تقسیم فرمادیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرمائی۔ اس وصیت کا نتیجہ یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خود کھجور کھاتے تھے لیکن قیدیوں کو روٹی پیش کرتے تھے۔ (واضح رہے کہ مدینے میں کھجور بے حیثیت چیز تھی اور روٹی خاصی گراں قیمت )
قیدیوں کا قضیہ:
جب رسول اللہﷺ مدینہ پہنچ گئے تو آپﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا :”یا رسول اللہ! (ﷺ ) یہ لوگ چچیرے بھائی اور کنبے قبیلے کے لوگ ہیں۔ میری رائے ہے کہ آپﷺ ان سے فدیہ لے لیں۔ اس طرح جو کچھ ہم لیں گے وہ کفارکے خلاف ہماری قوت کا ذریعہ ہوگا اور یہ بھی متوقع ہے کہ اللہ انہیں ہدایت دے دے اور وہ ہمارے بازو بن جائیں۔”
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ”ابن ِ خطاب! تمہاری کیا رائے ہے ؟ ”انہوں نے کہا : ”واللہ ! میری وہ رائے نہیں ہے جو ابوبکرؓ کی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں کو…جو حضرت عمرؓ کا قریبی تھا – میرے حوالے کردیں اور میں اس کی گردن ماروں۔ عقیل بن ابی طالب کو علیؓ کے حوالے کریں اور وہ اس کی گردن ماریں اور فلاں کوجو حمزہؓ کا بھائی ہے حمزہؓ کے حوالے کریں اور وہ اس کی گردن ماردیں یہاں تک کہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لیے نرم گوشہ نہیں ہے ، اور یہ حضرات مشرکین کے صنادِید وائمہ اور قائدین ہیں۔”
حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے ابو بکرؓ کی بات پسند فرمائی اور میری بات پسند نہیں فرمائی ، چنانچہ قیدیوں سے فدیہ لینا طے کرلیا۔ اس کے بعد جب اگلا دن آیا تو میں صبح ہی صبح رسول اللہﷺ اور ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہو ا۔ وہ دونوں رورہے تھے۔ میں نے کہا : ”اے اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی کیوں رو رہے ہیں ؟ اگر مجھے بھی رونے کی وجہ ملی تو روؤں گا اور اگر نہ مل سکی تو آپ حضرات کے رونے کی وجہ سے روؤں گا۔” رسول اللہﷺ نے فرمایا : ”فدیہ قبول کرنے کی وجہ سے تمہارے اصحاب پر جو چیز پیش کی گئی ہے۔ اسی کی وجہ سے رو رہا ہوں۔” اور آپﷺ نے ایک قریبی درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : مجھ پر ان کا عذاب اس درخت سے بھی زیادہ قریب پیش کیا گیا۔1 اور اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :
مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَ‌ىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْ‌ضِ ۚ تُرِ‌يدُونَ عَرَ‌ضَ الدُّنْيَا وَاللَّـهُ يُرِ‌يدُ الْآخِرَ‌ةَ ۗ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿٦٧﴾ لَّوْلَا كِتَابٌ مِّنَ اللَّـهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿٦٨﴾ (۸: ۶۷،۶۸ )
” کسی نبی کے لیے درست نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خونریزی کرلے۔ تم لوگ دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے ، اور اللہ غالب حکمت والاہے۔ اگر اللہ کی طرف سے نوشتہ سبقت نہ کرچکا ہوتا تو تم لوگوں نے جو کچھ لیا ہے اس پر تم کو سخت عذاب پکڑ لیتا۔”
اور اللہ کی طرف سے جو نوشتہ سبقت کرچکا تھا وہ یہ تھا: إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً (۴۷: ۴) یعنی ”مشرکین کو جنگ میں قیدی کرنے کے بعد یا تو احسان کرو یا فدیہ لے لو۔”
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 تاریخ عمر بن خطاب ابن جوزی۔ ص ۳۶
چونکہ اس نوشتے میں قیدیوں سے فدیہ لینے کی اجازت دی گئی ہے، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قبولِ فدیہ پر سزا نہیں دی گئی بلکہ صرف سرزنش کی گئی اور یہ بھی اِس لیے کہ انہوں نے کفار کوا چھی طرح کچلنے سے پہلے قیدی بنا لیا تھا ، اور کہا جاتا ہے کہ آیت مذکورہ بعد میں نازل ہوئی اور جو نوشتہ اللہ کی طرف سے سبقت کرچکا تھا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ تھا کہ اس امت کے لیے مال ِ غنیمت حلال ہے یا کہ اہل بدر کے لیے رحمت ومغفرت ہے۔
بہر حال چونکہ حضرت ابوبکرؓ کی رائے کے مطابق معاملہ طے ہوچکا تھا، اس لیے مشرکین سے فدیہ لیا گیا۔ فدیہ کی مقدار چار ہزار اور تین ہزار درہم سے لے کر ایک ہزار درہم تک تھی۔ اہل ِ مکہ لکھنا پڑھنا بھی جانتے تھے جبکہ اہل ِ مدینہ لکھنے پڑھنے سے واقف نہ تھے، اس لیے طے کیا گیا کہ جس کے پاس فدیہ نہ ہووہ مدینے کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھادے۔ جب یہ بچے اچھی طرح سیکھ جائیں تو یہی اس کا فدیہ ہوگا۔
رسول اللہﷺ نے قیدیوں پر احسان بھی فرمایا اور انہیں فدیہ لیے بغیر رہا کردیا۔ اس فہرست میں مطلب بن حنطب ، صیفی بن ابی رفاعہ اور ابو عزہ جمحی کے نام آتے ہیں۔ آخر الذکر کو آئندہ جنگ احد میں قید اور قتل کیا گیا۔ (تفصیل آگے آرہی ہے )
آپﷺ نے اپنے داماد ابو العاص کو بھی اس شرط پر بلا فدیہ چھو ڑ دیا کہ وہ حضرت زینبؓکی راہ نہ روکیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت زینبؓ نے ابو العاص کے فدیے میں کچھ مال بھیجا تھا جس میں ایک ہار بھی تھا۔ یہ ہا ر درحقیقت خدیجہ ؓ کا تھا اور جب انہوں نے حضرت زینبؓکو ابو العاص کے پا س رخصت کیا تھا تو یہ ہار انہیں دے دیا تھا۔ رسول اللہﷺ نے اسے دیکھا تو آپﷺ پر بڑی رِقت طاری ہوگئی اور آپﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اجازت چاہی کہ ابوالعاص کو چھوڑ دیں۔ صحابہ نے اسے بسرو چشم قبول کر لیا اور رسول اللہﷺ نے ابو لعاص کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ حضرت زینبؓکی راہ چھوڑ دیں گے۔ چنانچہ حضرت ابو العاص نے ان کا راستہ چھوڑ دیا اور حضرت زینبؓ نے ہجرت فرمائی۔ رسول اللہﷺ نے حضرت زیدؓ بن حارثہ اور ایک انصاری صحابی کو بھیج دیا کہ تم دونوں بطن یا جج میں رہنا۔ جب زینبؓ تمہارے پاس سے گزریں تو ساتھ ہو لینا۔ یہ دونوں حضرات تشریف لے گئے اور حضرت زینبؓکو ساتھ لے کر مدینہ واپس آئے۔ حضرت زینبؓکی ہجرت کا واقعہ بڑا طویل اور المناک ہے۔
قیدیوں میں سہیل بن عمرو بھی تھا جو بڑا زبان آور خطیب تھا۔ حضرت عمرؓ نے کہا :”اے اللہ کے رسول! سہیل بن عمرو کے اگلے دو دانت تڑوادیجیے ا س کی زبان لپٹ جایا کرے گی اور وہ کسی جگہ خطیب بن کر آپ کے خلاف کبھی کھڑا نہ ہو سکے گا۔” لیکن رسول اللہﷺ نے ان کی یہ گزارش مسترد کردی کیونکہ یہ مثلے کے ضمن میں آتا ہے جس پر قیامت کے روز اللہ کی طرف سے پکڑ کا خطرہ تھا۔
حضرت سعد بن نعمانؓ عمرہ کرنے کے لیے نکلے تو انہیں ابو سفیان نے قید کر لیا۔ ابو سفیان کا بیٹا عمرو بھی جنگ ِ بدر کے قیدیوں میں تھا۔ چنانچہ عمرو کوابو سفیان کے حوالے کردیا گیا اور اس نے حضرت سعدؓ کو چھوڑ دیا۔
قرآن کا تبصر ہ:
اسی غزوے کے تعلق سے سورۂ انفال نازل ہوئی جو درحقیقت اس غزوے پر ایک الٰہی تبصرہ ہے …گر یہ تعبیر صحیح ہو …اور یہ تبصرہ بادشاہوں اور کمانڈروں وغیرہ کے فاتحانہ تبصروں سے بالکل ہی جدا گانہ ہے۔ اس تبصرے کی چند باتیں مختصراً یہ ہیں :
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے مسلمانوں کی نظر ان کو تاہیوں اور اخلاقی کمزوریوں کی طرف مبذول کرائی جوان میں فی الجملہ باقی رہ گئیں تھیں۔اور جن میں سے بعض بعض کا اظہار اس موقع پر ہوگیا تھا۔ اس توجہ دہانی کا مقصود یہ تھا کہ مسلمان اپنے آپ کو ان کمزوریوں سے پاک صاف کر کے کا مل ترین بن جائیں۔
اس کے بعداس فتح میں اللہ تعالیٰ کی جو تائید اور غیبی مدد شامل تھی ، اس کا ذکر فرمایا۔ اس کا مقصود یہ تھا کہ مسلمان اپنی شجاعت وبسالت کے فریب میں نہ آجائیں۔ جس کے نتیجے میں مزاج وطبائع پر غرور وتکبر کا تسلط ہو جاتا ہے ، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ پر توکل کریں اور اس کے اور پیغمبرﷺ کے اطاعت کیش رہیں۔
پھر ان بلند اغراض ومقاصد کاتذکرہ کیاگیا ہے جن کے لیے رسول اللہﷺ نے اس خوفناک اور خون ریز معرکے میں قدم رکھا تھا اور اسی ضمن میں ان اخلاق واوصاف کی نشان دہی کی گئی ہے جو معرکوں میں فتح کا سبب بنتے ہیں۔
پھر مشرکین ومنافقین کو اور یہود اور جنگی قیدیوں کو مخاطب کرکے فصیح وبلیغ نصیحت فرمائی گئی ہے تاکہ وہ حق کے سامنے جھک جائیں اور اس کے پابند بن جائیں۔
اس کے بعد مسلمانوں کو مالِ غنیمت کے معاملے میں مخاطب کرتے ہوئے انہیں اس مسئلے کے تمام بنیادی قواعد و اصول سمجھائے اور بتائے گئے ہیں۔
پھر اس مرحلے پر اسلامی دعوت کو جنگ وصلح کے جن قوانین کی ضرورت تھی ان کی توضیح اور مشروعیت ہے تاکہ مسلمانوں کی جنگ اور اہل ِ جاہلیت کی جنگ میں امتیاز قائم ہوجائے ، اور اخلاق وکردار کے میدان میں مسلمانوں کو برتری حاصل رہے ، اور دنیا اچھی طرح جان لے کہ اسلام محض ایک نظر یہ نہیں ہے بلکہ وہ جن اصولوں اور ضابطوں کا داعی ہے ان کے مطابق اپنے ماننے والوں کی عملی تربیت بھی کرتا ہے۔
پھر اسلامی حکومت کے قوانین کی کئی دفعات بیان کی گئی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت کے دائرے میں بسنے والے مسلمان اور اس دائرے سے باہر رہنے والے مسلمانوں میں کیا فرق ہے۔
متفرق واقعات:
۲ ھ میں رمضان کا روزہ اور صدقۂ فطر فرض کیا گیا اور زکوٰۃ کے مختلف نصابوں کی تفصیلاً تعیین کی گئی۔ صدقۂ فطر کی فرضیت اور زکوٰۃ کے نصاب کی تعیین سے اس بوجھ اور مشقت میں بڑی کمی آگئی جس سے فقراء مہاجرین کی ایک بڑی تعداد دوچار تھی ، کیونکہ وہ طلب رزق کے لیے زمین میں دوڑ دھوپ کے امکانات سے محروم تھے۔
پھر نہایت نفیس موقع اور خوشگوار اتفاق یہ تھا کہ مسلمانوں نے اپنی زندگی میں پہلی عید جو منائی وہ شوال ۲ ھ کی عید تھی جو جنگ بدر کی فتح مبین کے بعد پیش آئی۔ کتنی خوشگوار تھی یہ عید سعید جس کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے سر فتح وعزت کا تاج رکھنے کے بعد عطا فرمائی اور کتنا ایمان افروز تھا اس نماز عید کا منظر جسے مسلمانوں نے اپنے گھروں سے نکل کر تکبیر وتوحید اور تحمید وتسبیح کی آوازیں بلند کرتے ہوئے میدان میں جاکر ادا کیا تھا۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ مسلمانوں کے دل اللہ کی دی ہوئی نعمتوں اوراس کی کی ہوئی تائید کے سبب اس کی رحمت ورضوان کے شوق سے لبریز اور اس کی طرف رغبت کے جذبات سے معمور تھے اور ان کی پیشانیاں اس کے شکر وسپاس کی ادائیگی کے لیے جھکی ہوئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کا ذکر اس آیت میں فرمایا ہے :
وَاذْكُرُ‌وا إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْ‌ضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِ‌هِ وَرَ‌زَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ (۸: ۲۶)
”اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے ، زمین میں کمزور بنا کر رکھے گئے تھے ، ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک لے جائیں گے، پس اس نے تمہیں ٹھکانا مرحمت فرمایا اور اپنی مدد کے ذریعے تمہاری تائید کی اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی دی تاکہ تم لوگ اس کا شکر ادا کرو۔”
بدر کے بعد کی جنگی سر گرمیاں

بدر کا معرکہ مسلمانوں اور مشرکین کا سب سے پہلا مسلح ٹکراؤ اور فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں مسلمانوں کو فتحِ مبین حاصل ہوئی اور سارے عرب نے اس کا مشاہدہ کیا۔ اس معرکے کے نتائج سے سب سے زیادہ وہی لوگ دل گرفتہ تھے جنہیں براہ ِ راست یہ نقصان ِ عظیم برداشت کرنا پڑا تھا ، یعنی مشرکین ، یا وہ لوگ جو مسلمانوں کے غلبہ وسر بلندی کو اپنے مذہبی اور اقتصادی وجود کے لیے خطرہ محسوس کرتے تھے ، یعنی یہود۔ چنانچہ جب سے مسلمانوں نے بدر کا معرکہ سر کیا تھا یہ دونوں گروہ مسلمانوں کے خلاف غم وغصہ اور رنج والم سے جل بھن رہے تھے ، جیسا کہ ارشاد ہے :
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَ‌كُوا (۵: ۸۲)
”تم اہل ِ ایمان کا سب سے زبردست دشمن یہود کو پاؤ گے اور مشرکین کو۔”
مدینے میں کچھ لوگ ان دونوں گروہوں کے ہمرازو دمساز تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ اپنا وقار برقرار رکھنے کی اب کوئی سبیل باقی نہیں رہ گئی ہے تو بظاہر اسلام میں داخل ہوگئے۔ یہ عبد اللہ بن اُبی اور اس کے رفقاء کا گروہ تھا۔ یہ بھی مسلمانوں کے خلاف یہود اور مشرکین سے کم غم وغصہ نہ رکھتا تھا۔
ان کے علاوہ ایک چوتھاگروہ بھی تھا ، یعنی وہ بدو جو مدینے کے گرد وپیش بود وباش رکھتے تھے۔ انہیں کفر و اسلام سے کوئی دلچسپی نہ تھی، لیکن یہ لٹیرے اور رہزن تھے ، اس لیے بدر کی کامیابی سے انہیں بھی قلق و اضطراب تھا۔ انہیں خطرہ تھا کہ مدینے میں ایک طاقت ور حکومت قائم ہوگئی تو ان کی لوٹ کھسوٹ کاراستہ بند ہوجائے گا ، اس لیے ان کے دلوں میں بھی مسلمانوں کے خلاف کینہ جاگ اٹھا اور یہ بھی مسلم دشمن ہوگئے۔
اس طرح مسلمان چاروں طرف سے خطرے میں گھر گئے ، لیکن مسلمانوں کے سلسلے میں ہر فریق کا طرزِ عمل دوسرے سے مختلف تھا۔ ہر فریق نے اپنے حسبِ حال ایسا طریقہ اپنایا تھا جو اس کے خیال میں اس کی غرض وغایت کی تکمیل کا کفیل تھا ، چنانچہ اہل ِ مدینہ نے اسلام کا اظہار کرکے درپردہ سازشوں ، دسیسہ کا ریوں اور باہم لڑانے بھڑانے کی راہ اپنائی۔ یہود کے ایک گروہ نے کھلم کھلا رنج وعداوت اور غیظ وغضب کا مظاہرہ کیا۔ اہل ِ مکہ نے کمر توڑ ضرب کی دھمکیاں دینی شروع کیں اور بدلہ اور انتقام لینے کا کھلا اعلان کیا۔ ان کی جنگی تیاریاں بھی کھلے عام ہورہی تھیں ، گویا وہ زبان ِ حال سے مسلمانوں کو یہ پیغام دے رہے تھے۔

ولا بد من یوم أغرّ محجل​
یطول استماعی بعدہ للنوادب​


”ایک ایسا روشن اور تابناک دن ضرور ی ہے جس کے بعد عرصہ ٔ دراز تک نوحہ کرنے والیوں کے نوحے سنتا رہوں۔”
اور سال بھر کے بعد وہ عملاً ایک ایسی معرکہ آرائی کے لیے مدینے کی چہاردیواری تک چڑھ آئے جو تاریخ میں غزوہ ٔ احد کے نام سے معروف ہے اور جس کا مسلمانوں کی شہرت اور ساکھ پر برا اثر پڑا تھا۔
ان خطرات سے نمٹنے کے لیے مسلمانوں نے بڑے اہم اقدامات کیے جن سے نبیﷺ کی قائدانہ عبقریت کا پتا چلتا ہے اور یہ واضح ہوتا ہے کہ مدینے کی قیادت گرد وپیش کے ان خطرات کے سلسلے میں کس قدر بیدار تھی اور ان سے نمٹنے کے لیے کتنے جامع منصوبے رکھتی تھی۔ اگلی سطور میں اسی کا ایک مختصر سا خاکہ پیش کیا جارہا ہے:
۱۔ غزوہ بنی سلیم بہ مقام کدر1:
غزوہ ٔ بدر کے بعد سب سے پہلی خبر جو مدینے کے شعبۂ اطلاعات نے فراہم کی وہ یہ تھی کہ قبیلۂ غطفان کی شاخ بنو سُلیم کے لوگ مدینے پر چڑھائی کے لیے فوج جمع کررہے ہیں۔ اس کے جواب میں نبیﷺ نے دوسو سواروں کے ساتھ ان پر خود ان کے اپنے علاقے میں اچانک دھا وا بول دیا اور مقام کدر 1میں ان کی منازل تک جاپہنچے۔ بنوسلیم میں اس اچانک حملے سے بھگدڑ مچ گئی اور وہ افراتفری کے عالم میں وادی کے اندر پانچ سو اونٹ چھوڑ کر بھا گ گئے۔ جس پر لشکر ِ مدینہ نے قبضہ کر لیا اور رسول اللہﷺ نے اس کا خمس نکال کر بقیہ مالِ غنیمت مجاہدین میں تقسیم کردیا۔ ہر شخص کے حصے میں دو دو اونٹ آئے۔ اس غزوے میں یسار نامی ایک غلام ہاتھ آیا جسے آپﷺ نے آزاد کردیا – اس کے بعد آپﷺ دیار بنی سلیم میں تین روز قیام فرما کر مدینہ پلٹ آئے۔
یہ غزوہ شوال ۲ ھ میں بدر سے واپسی کے صرف سات دن بعد یا نصف محرم ۳ ھ میں پیش آیا۔ اس غزوے کے دوران سباعؓ بن عرفطہ کو اور کہا جاتا ہے کہ ابن ِ ام مکتوم کو مدینے کا انتظام سونپا گیا تھا۔2
۲۔نبیﷺ کے قتل کی سازش:
جنگ بدر میں شکست کھا کر مشرکین غصے سے بے قابو تھے اور پورا مکہ نبیﷺ کے خلاف ہانڈی کی طرح کھول رہا تھا۔ بالآخر مکے کے دوبہادر نوجوان نے طے کیا کہ وہ …اپنی دانست میں…اس اختلاف وشقاق کی بنیاد اور اس ذلت ورسوائی کی جڑ (نعوذ باللہ ) یعنی نبیﷺ کا خاتمہ کردیں گے۔
چنانچہ جنگ بدر کے کچھ ہی دنوں بعد کا واقعہ ہے کہ عُمیر بن وہب جمحی – جو قریش کے شیطانوں میں سے تھا اور مکے میں نبیﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اذیتیں پہنچا یا کرتا تھا اور اب اس کا بیٹا وہب بن عُمیر جنگ بدر میں گرفتار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 کد ر۔ ک پر پیش اور دال ساکن ہے۔ یہ دراصل مٹیا لے رنگ کی ایک چڑیا ہوتی ہے لیکن یہاں بنوسلیم کا ایک چشمہ مراد ہے جو نجد میں مکے سے (براستہ نجد ) شام جانے والی کاروانی شاہراہ پر واقع ہے۔
2 زاد المعاد ۲/۹۰، ابن ہشام ۲؍۴۳ ، ۴۴۔ مختصر السیرۃ للشیخ عبد اللہ ص ۲۳۶
پسند پسند x 3 علمی علمی x 1
‏اگست 13، 2013 #2
محمد نعیم یونس
محمد نعیم یونس
خاص رکن
شمولیت:
‏اپریل 27، 2013
پیغامات:
21,606
موصول شکریہ جات:
5,081
تمغے کے پوائنٹ:
1,064
ہوکر مسلمانوں کی قید میں تھا۔ اس لیے عمیر-نے ایک دن صفوان بن امیہ کے ساتھ حطیم میں بیٹھ کر گفتگو کرتے ہوئے بدر کے کنویں میں پھینکے جانے والے مقتولوں کا ذکر کیا۔ اس پر صفوان نے کہا :”اللہ کی قسم! ان کے بعد جینے میں کوئی لطف نہیں۔” جواب میں عمیر نے کہا :”اللہ کی قسم! تم سچ کہتے ہو۔ دیکھو اللہ کی قسم! اگر میرے اوپر قرض نہ ہوتا ، جس کی ادائیگی کے لیے میرے پاس کچھ نہیں، اور اہل وعیال نہ ہوتے ، جن کے بارے میں اندیشہ ہے کہ میرے بعد ضائع ہوجائیں گے ، تو میں سوار ہو کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتا اور اسے قتل کر ڈالتا ، کیونکہ میرے لیے وہاں جانے کی ایک وجہ موجود ہے۔ میرا بیٹا ان کے ہاں قید ہے۔ ”
صفوان نے اس صورت حال کو غنیمت سمجھتے ہوئے کہا :”اچھا چلو ! تمہارا قرض میرے ذِمے ہے میں اسے تمہاری جانب سے ادا کردوں گا ، اور تمہارے اہل وعیال میرے اہل وعیال ہیں۔ جب تک وہ موجود رہیں گے میں ان کی دیکھ بھال کرتا رہوں گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ میرے پاس کوئی چیز موجود ہو اوران کو نہ ملے۔”
عمیر نے کہا :اچھا تو اب میرے اور اپنے معاملے کو صیغہ ٔ راز میں رکھنا۔ صفوان نے کہا: ٹھیک ہے میں ایسا ہی کروں گا۔
اس کے بعد عمیر نے اپنی تلوار پر سان رکھا ئی اور زہر آلود کرائی ، پھر روانہ ہوا اور مدینہ پہنچا ، لیکن ابھی وہ مسجد کے دروازے پر اپنی اونٹنی بٹھا ہی رہا تھا کہ حضرت عمر بن خطابؓ کی نگاہ اس پر پڑ گئی …وہ مسلمانوں کی ایک جماعت کے درمیان جنگ ِ بدر میں اللہ کے عطا کردہ اعزاز واکرام کے متعلق باتیں کررہے تھے …انہوں نے دیکھتے ہی کہا :”یہ کتا ، اللہ کا دشمن عمیر ، کسی بُرے ہی ارادے سے آیا ہے۔” پھر انہوں نے نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! یہ اللہ کا دشمن عمیر اپنی تلوار حمائل کیے آیا ہے۔آپﷺ نے فرمایا : اسے میرے پاس لے آؤ۔ عمیر آیا تو حضرت عمرؓ نے اس کی تلوار کے پرتلے کو اس کے گلے کے پاس سے پکڑ لیا اور انصار کے چند افراد سے کہا کہ تم لوگ رسول اللہﷺ کے پاس جاؤ اور وہیں بیٹھ جاؤ اور آپﷺ کے خلاف اس خبیث کے خطرے سے چوکنارہو ، کیونکہ یہ قابل اطمینان نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ عمیر کو اندر لے گئے۔ رسول اللہﷺ نے جب یہ کیفیت دیکھی کہ حضرت عمرؓ اس کی گردن میں اس کی تلوار کا پر تلا لپیٹ کر پکڑ ے ہوئے ہیں تو فرمایا :”عمر ! اسے چھوڑ دو اور عمیر ! تم قریب آجاؤ۔” اس نے قریب آکر کہا : آپ لوگوں کی صبح بخیر ہو۔ نبیﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسے تحیہ سے مشرف کیا ہے جو تمہارے اس تحیہ سے بہتر ہے ، یعنی سلام سے ، جو اہل ِ جنت کا تحیہ ہے۔
اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا : اے عمیر ! تم کیوں آئے ہو ؟ اس نے کہا : یہ قیدی جو آپ لوگوں کے قبضے میں ہے اسی کے لیے آیاہوں۔ آپ لوگ اس کے بارے میں احسان فرمادیجیے۔
آپﷺ نے فرمایا : پھر یہ تمہاری گردن میں تلوار کیوں ہے ؟ اس نے کہا : اللہ ان تلواروں کا بُرا کرے کہ یہ ہمارے کچھ کام نہ آسکیں۔
آپﷺ نے فرمایا: سچ سچ بتاؤ کیوں آئے ہو ؟ اس نے کہا : بس صرف اسی قیدی کے لیے آیاہو ں۔
آپﷺ نے فرمایا : ”نہیں بلکہ تم اور صفوان بن امیہ حطیم میں بیٹھے،اور قریش کے جو مقتولین کنویں میں پھینکے گئے ہیں ان کا تذکرہ کیا ، پھر تم نے کہا : اگر مجھ پر قرض نہ ہوتا اور میرے اہل وعیال نہ ہوتے تو میں یہاں سے جاتا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیتا۔ اس پر صفوا ن نے تمہارے قرض اور اہل وعیال کی ذمے داری لی بشرطیکہ تم مجھے قتل کردو، لیکن یاد رکھو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان حائل ہے۔
عمیر نے کہا :”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اے اللہ کے رسولﷺ ! آپ ہمارے پاس آسمان کی جو خبریں لاتے تھے ، اور آپﷺ پر جو وحی نازل ہوتی تھی ، اسے ہم جھٹلادیا کرتے تھے لیکن یہ تو ایسا معاملہ ہے جس میں میرے اور صفوان کے سوا کوئی موجود ہی نہ تھا۔ اس لیے واللہ مجھے یقین ہے کہ یہ بات اللہ کے سوا اور کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچائی۔ پس اللہ کی حمد ہے جس نے مجھے اسلام کی ہدایت دی اور اس مقام تک ہانک کر پہنچایا۔” پھر عمیر نے کلمۂ حق کی شہادت دی اور رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطب کر کے فرمایا : ”اپنے بھائی کو دین سمجھاؤ ، قرآن پڑھا ؤ اور اس کے قیدی کو آزاد کردو۔”
ادھر صفوان لوگوں سے کہتا پھر رہاتھا کہ یہ خوشخبری سن لو کہ چند ہی دنوں میں ایک ایسا واقعہ پیش آئے گا جو بدر کے مصائب بھلوادے گا۔ ساتھ ہی وہ آنے جانے والوں سے عمیرؓ کی بابت پوچھتا بھی رہتا تھا۔ بالآخر اسے ایک سوار نے بتایا کہ عمیر مسلمان ہوچکا ہے۔ یہ سن کر صفوان نے قسم کھائی کہ اس سے کبھی بات نہ کرے گا اور نہ کبھی اسے نفع پہنچائے گا۔ ادھر عمیر نے اسلام سیکھ کر مکے کی راہ لی اور وہیں مقیم رہ کر اسلام کی دعوت دینی شروع کی۔ ان کے ہاتھ پر بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ 1
۳۔ غزوۂ بنی قینقاع:
رسول اللہﷺ نے مدینہ تشریف لانے کے بعد یہود کے ساتھ جو معاہدہ فرمایا تھا اس کی دفعا ت پچھلے صفحات میں ذکر کی جاچکی ہیں۔ رسول اللہﷺ کی پوری کوشش اور خواہش تھی کہ اس معاہدے میں جو کچھ طے پا گیا ہے وہ نافذ رہے ، چنانچہ مسلمانوں کی طرف سے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا جو اس معاہدے کی عبارت کے کسی ایک حرف کے بھی خلاف ہو۔ لیکن یہود جن کی تاریخ غدر وخیانت اور عہد شکنی سے پُر ہے وہ بہت جلد اپنے قدیم مزاج کی طرف پلٹ گئے۔اورمسلمانوں کی صفوں کے اندر دسیسہ کاری ، سازش ، لڑانے بھڑانے اور ہنگامے اور اضطراب بپا کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ لگے ہاتھوں ایک مثال بھی سنتے چلیے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۶۶۱، ۶۶۲ ، ۶۶۳
یہود کی عیاری کا ایک نمونہ:
ابن ِ اسحاق کا بیان ہے کہ ایک بوڑھا یہودی شاش بن قیس -جو قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے تھا …بڑا زبردست کافر تھا ، اور مسلمانوں سے سخت عدوات وحسد رکھتا تھا…ایک بار صحابۂ کرام کی ایک مجلس کے پاس سے گذرا ، جس میں اوس خزرج دونوں ہی قبیلے کے لوگ بیٹھے باہم گفتگو کررہے تھے۔ اسے یہ دیکھ کر کہ اب ان کے اندر جاہلیت کی باہمی عداوت کی جگہ اسلام کی الفت واجتماعیت نے لے لی ہے ، اور ان کی دیرینہ شکر رنجی کا خاتمہ ہو گیا ہے ، سخت رنج ہوا۔ کہنے لگا : ”اوہ ! ا س دیار میں قیلہ کے اشراف متحد ہوگئے ہیں۔ واللہ ! ان اشراف کے اتحاد کے بعد تو ہمارا یہاں گذر نہیں۔” چنانچہ اس نے ایک نوجوان یہودی کو جو اس کے ساتھ تھا حکم دیا کہ ان کی مجلس میں جائے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر پھر جنگ بعاث اور اس کے پہلے کے حالات کا ذکر کرے۔ اور اس سلسلے میں دونوں جانب سے جو اشعار کہے گئے ہیں کچھ ان میں سنائے۔ اس یہودی نے ایساہی کیا۔ اس کے نتیجے میں اوس وخزرج میں تو تو میں میں شروع ہوگئی۔ لوگ جھگڑنے لگے اور ایک دوسرے پر فخر جتانے لگے حتی ٰ کہ دونوں قبیلوں کے ایک ایک آدمی نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ردّ وقدح شروع کردی ، پھر ایک نے اپنے مدّ ِ مقابل سے کہا : اگر چاہو تو ہم اس جنگ کو پھر جوان کرکے پلٹا دیں – مقصد یہ تھا کہ ہم اس باہمی جنگ کے لیے پھر تیار ہیں جو اس سے پہلے لڑی جاچکی ہے- اس پر دونوں فریقوں کو تاؤ آگیا اور بولے : چلو تیار ہیں، حرہ میں مقابلہ ہوگا — ہتھیا ر … ! ہتھیار …!
اب لوگ ہتھیار لے کر حرہ کی طرف نکل پڑے، قریب تھا کہ خونریز جنگ ہوجاتی لیکن رسول اللہﷺ کو اس کی خبر ہوگئی۔ آپﷺ اپنے مہاجرین صحابہ کو ہمراہ لے کر جھٹ ان کے پاس پہنچے اور فرمایا :”اے مسلمانوں کی جماعت ! اللہ۔ اللہ۔ کیا میرے رہتے ہوئے جاہلیت کی پکار ! اور وہ بھی اس کے بعد کہ اللہ تمہیں اسلام کی ہدایت سے سرفراز فرماچکا ہے اور اس کے ذریعے تم سے جاہلیت کا معاملہ کا ٹ کر اور تمہیں کفر سے نجات دے کر تمہارے دلو ں کو آپس میں جوڑ چکا ہے۔” آپﷺ کی نصیحت سن کر صحابہ کو احساس ہوا کہ ان کی حرکت شیطا ن کا ایک جھٹکا اور دشمن کی ایک چال تھی ، چنانچہ وہ رونے لگے اور اوس وخزرج کے لوگ ایک دوسرے سے گلے ملے۔ پھر رسول اللہﷺ کے ساتھ اطاعت شعار وفرمانبردار بن کر اس حالت میں واپس آئے کہ اللہ نے ان کے دشمن شاش بن قیس کی عیاری کی آگ بجھادی تھی۔1
یہ ہے ایک نمونہ ان ہنگاموں اور اضطراب کا جنہیں یہود مسلمانوں کی صفوں میں بپا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے اور یہ ہے ایک مثال اس روڑے کی جسے یہ یہود اسلامی دعوت کی راہ میں اٹکاتے رہتے تھے۔ اس کام کے لیے انہوں نے مختلف منصوبے بنا رکھے تھے۔ وہ جھوٹے پروپیگنڈے کرتے تھے۔ صبح مسلمان ہو کر شام کو پھرکافر ہوجاتے تھے تاکہ کمزور اور سادہ لوح قسم کے لوگوں کے دلوں میں شک وشبہے کے بیج بو سکیں۔ کسی کے ساتھ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۱/۵۵۵، ۵۵۶
مالی تعلق ہو تا اور وہ مسلمان ہوجاتا تو اس پر معیشت کی راہیں تنگ کردیتے ، چنانچہ اگر اس کے ذمے کچھ بقایا ہوتا تو صبح وشام تقاضے کرتے اور اگر خود اس مسلمان کا کچھ بقایا ان پر ہوتا تو اسے ادا نہ کرتے بلکہ باطل طریقے پر کھاجاتے اور کہتے کہ تمہارا قرض تو ہمارے اُوپر اُس وقت تھا جب تم اپنے آبائی دین پر تھے لیکن اب جبکہ تم نے اپنا دین بدل دیا ہے تو اب ہمارا اور تمہارا کوئی لین دین نہیں۔1
واضح رہے کہ یہود نے یہ ساری حرکتیں بدر سے پہلے ہی شروع کردی تھیں ، اورا س معاہدے کے علی الرغم شروع کردیں تھیں جو انہوں نے رسول اللہﷺ سے کر رکھا تھا۔ ادھر رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ حال تھا کہ وہ ان یہود کی ہدایت یابی کی امید میں ان ساری باتوں پر صبر کرتے جارہے تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی مطلوب تھا کہ اس علاقے میں امن وسلامتی کا ماحول برقرار رہے۔
بنو قینقاع کی عہد شکنی:
جب یہود نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے میدان ِ بدر میں مسلمانوں کی زبردست مدد فرماکر انہیں عزت وشوکت سے سرفراز فرمایا ہے اور ان کا رعب ودبدبہ دور ونزدیک ہر جگہ رہنے والوں کے دلو ں پر بیٹھ گیا ہے تو ان کی عداوت وحسد کی ہانڈی پھٹ پڑی۔ انہوں نے کھلم کھلا شر وعداوت کا مظاہرہ کیا اور علی الاعلان بغاوت وایذا رسانی پر اتر آئے۔
ان میں سب سے زیادہ کینہ تو زاور سب سے بڑھ کر شر یر کعب بن اشرف تھا جس کا ذکر آگے آرہا ہے ، اسی طرح تینوں یہودی قبائل میں سب سے زیادہ بدمعاش بنو قینقاع کا قبیلہ تھا۔ یہ لوگ مدینہ ہی کے اندر تھے اور ان کا محلہ انہیں کے نام سے موسوم تھا۔ یہ لوگ پیشے کے لحاظ سے سونار ، لوہار اور برتن ساز تھے۔ ان پیشوں کے سبب ان کے ہرآدمی کے پاس وافر مقدار میںسامانِ جنگ موجود تھا۔ ان کے مرد ان جنگی کی تعداد سات سو تھی اور وہ مدینے کے سب سے بہادر یہودی تھے۔ انھی نے سب سے پہلے عہد شکنی کی۔ تفصیل یہ ہے :
جب اللہ تعالیٰ نے میدان ِ بدر میں مسلمانوں کو فتح سے ہمکنار کیا تو ان کی سر کشی میں شدت آگئی۔ انہوں نے اپنی شرارتوں ، خباثتوں اور لڑانے بھڑانے کی حرکتوں میں وسعت اختیار کرلی۔ اور خلفشار پیدا کرنا شروع کر دیا ، چنانچہ جو مسلمان ان کے بازار میں جاتا اس سے مذاق واستہزاء کرتے اور اسے اذیت پہنچاتے حتیٰ کہ مسلمان عورتوں سے بھی چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔ اس طرح جب صورت ِ حال زیادہ سنگین ہوگئی اور ان کی سرکشی خاصی بڑھ گئی تو رسول اللہﷺ نے انہیں جمع فرماکر وعظ ونصیحت کی اور رشدو ہدایت کی دعوت دیتے ہوئے ظلم و بغاوت کے انجام سے ڈرایا۔ لیکن اس سے ان کی بدمعاشی اور غرور میں کچھ اور ہی اضافہ ہوگیا۔
چنانچہ امام ابو داؤد ؒ وغیرہ نے حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے قریش کو بدر کے دن شکست دے دی۔ اور آپ مدینہ تشریف لائے تو بنو قینقاع کے بازار میں یہود کو جمع کیا اور فرمایا :
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 مفسرین نے سورہ آل عمران وغیرہ میں ان کی اس قسم کی حرکات کے نمونے ذکر کیے ہیں۔
”اے جماعت ِ یہود ! اس سے پہلے اسلام قبول کر لو کہ تم پر بھی ویسی ہی مار پڑے جیسی قریش پر پڑ چکی ہے۔” انہوں نے کہا : ”اے محمد ! تمہیں اس بنا پر خود فریبی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ تمہاری مڈ بھیڑ قریش کے اناڑی اور نا آشنا ئے جنگ لوگوں سے ہوئی، اور تم نے انہیں مارلیا۔ اگر تمہاری لڑائی ہم سے ہوگئی تو پتہ چل جائے گا کہ ہم مرد ہیں اور ہمارے جیسے لوگوں سے تمہیں پالا نہ پڑا ہوگا۔” اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :1
قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُ‌وا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُ‌ونَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ ﴿١٢﴾ قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَأُخْرَ‌ىٰ كَافِرَ‌ةٌ يَرَ‌وْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَ‌أْيَ الْعَيْنِ ۚ وَاللَّـهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِ‌هِ مَن يَشَاءُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَ‌ةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ‌ ﴿١٣﴾ (۳: ۱۲ ،۱۳ )
”ان کافروں سے کہہ دو کہ عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہان کے جاؤ گے ، اور وہ برا ٹھکا نا ہے۔ جن دوگروہوں میں ٹکر ہوئی ان میں تمہارے لیے نشانی ہے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑرہاتھا اور دوسرا کا فرتھا، یہ ان کو آنکھوں دیکھنے میں اپنے سے دگنا دیکھ رہے تھے ، اور اللہ اپنی مدد کے ذریعے جس کی تائید چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس کے اندر یقینا نظر والوں کے لیے عبرت ہے۔”
بہر حال بنو قینقاع نے جو جواب دیا تھا اس کا مطلب صاف صاف اعلانِ جنگ تھا ، لیکن نبیﷺ نے اپنا غصہ پی لیا اور صبر کیا۔ مسلمانوں نے بھی صبر کیا اور آنے والے حالات کا انتظار کرنے لگے۔
ادھر اس نصیحت کے بعد یہود بنو قینقاع کی جرأت رندانہ اور بڑھ گئی ، چنانچہ تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ انہوں نے مدینہ میں بلوہ اور ہنگامہ بپا کردیا جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنے ہی ہاتھوں اپنی قبر کھود لی اور اپنے اوپر زندگی کی راہ بندکر لی۔
ابن ہشام نے ابوعون سے روایت کی ہے کہ ایک عرب عورت بنو قینقاع کے بازار میں کچھ سامان لے کر آئی اور بیچ کر (کسی ضرورت کے لیے ) ایک سنار کے پاس ، جو یہودی تھا ، بیٹھ گئی۔ یہودیوں نے اس کا چہرہ کھلوانا چاہا مگر اس نے انکار کردیا۔ اس پر اس سنار نے چپکے سے اس کے کپڑے کا نچلا کنارا پچھلی طرف باندھ دیا اور اسے کچھ خبر نہ ہوئی۔ جب وہ اٹھی اور بے پردہ ہوگئی تو یہودیوں نے قہقہہ لگا یا۔ اس پر اس عورت نے چیخ پکار مچائی جسے سن کر ایک مسلمان نے اس سنار پر حملہ کیا اور اسے مار ڈالا۔ جوابا ً یہودیوں نے اس مسلمان پر حملہ کرکے اسے مارڈالا۔ اس کے بعد مقتول مسلمان کے گھر والوں نے شور مچایا اور یہود کے خلاف مسلمانوں سے فریاد کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اور بنی قینقاع کے یہودیوں میں بلوہ ہو گیا۔2
محاصرہ ، سپردگی اور جلاوطنی:

اس کے بعد رسول اللہﷺ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ آپﷺ نے مدینے کا انتظام ابو لبابہؓ بن
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1سنن ابی داؤد مع عون المعبود ۳/۱۱۵ ، ابن ہشام ۱/۵۵۲ 2 ابن ہشام ۲/۴۷، ۴۸
عبد المنذر کو سونپا اور خود، حضرت حمزہؓ بن عبد المطلب کے ہاتھ میں مسلمانوں کا پھریرا دے کر اللہ کے لشکر کے ہمراہ بنو قینقاع کا رخ کیا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو گڑھیوں میں قلعہ بند ہوگئے۔ آپﷺ نے ان کا سختی سے محاصر ہ کر لیا۔ یہ جمعہ کا دن تھا اور شوال ۲ ھ کی ۱۵ تاریخ۔ پندرہ روز تک -یعنی ہلال ذی القعدہ کے نمودار ہونے تک – محاصرہ جاری رہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا جس کی سنت ہی یہ ہے کہ جب وہ کسی قوم کو شکست وہزیمت سے دوچار کرنا چاہتا ہے تو ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ بنو قینقاع نے اس شرط پر ہتھیا ر ڈال دیئے کہ رسول اللہﷺ ان کی جان ومال ، آ ل واولاد اور عورتوں کے بارے میں جو فیصلہ کریں گے انہیں منظور ہوگا۔ اس کے بعد آپﷺ کے حکم سے ان سب کو باندھ لیا گیا۔
لیکن یہی موقع تھا جب عبد اللہ بن اُبی نے اپنا منافقانہ کردار ادا کیا۔ اس نے رسول اللہﷺ سے سخت اصرار والحاح کیا کہ آپﷺ ان کے بارے میں معافی کا حکم صادر فرمائیں۔ اس نے کہا :”اے محمد! میرے معاہدین کے بارے میں احسان کیجیے” واضح رہے کہ بنو قینقاع خزرج کے حلیف تھے – لیکن رسول اللہﷺ نے تاخیر کی۔ اس پر اس نے اپنی بات پھر دہرائی۔ مگر اب کی بار آپﷺ نے اس سے رُخ پھیر لیا۔ لیکن اس شخص نے آپﷺ کے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال دیا۔ آپﷺ نے فرمایا : مجھے چھوڑ دو اور ایسے غضبناک ہوئے کہ لوگوں نے غصے کی پرچھائیاں آپﷺ کے چہرے پر دیکھیں۔پھر آپﷺ نے فرمایا: تجھ پر افسوس مجھے چھوڑ۔ لیکن یہ منافق اپنے اصرار پر قائم رہا اور بو لا : ”نہیں واللہ! میں آپ کو نہیں چھوڑ وں گا یہاں تک کہ آپﷺ میرے معاہدین کے بارے میں احسان فرمادیں۔ چار سو کھلے جسم کے جوان اور تین سوزِرہ پوش جنہوں نے مجھے سرخ وسیاہ سے بچایا تھا آپ انہیں ایک ہی صبح میں کاٹ کر رکھ دیں گے ؟ واللہ! میں اس سے زمانے کی گردش کا خطرہ محسوس کررہا ہوں۔”
بالآخر رسول اللہﷺ نے اس منافق کے ساتھ (جس کے اظہارِ اسلام پر ابھی کوئی ایک ہی مہینہ گزرا تھا ) رعایت کا معاملہ کیا اور اس کی خاطر ان سب کی جان بخشی کردی۔ البتہ انہیں حکم دیا کہ وہ مدینہ سے نکل جائیں اور آپﷺ کے پڑوس میں نہ رہیں ، چنانچہ یہ سب اذرعات شام کی طرف چلے گئے اور تھوڑے ہی دنوں بعد وہاں اکثر کی موت واقع ہوگئی۔
رسول اللہﷺ نے ان کے اموال ضبط کر لیے۔ جن میں سے تین کمانیں ، دو زِرہیں ، تین تلواریں اور تین نیزے اپنے لیے منتخب فرمائے اور مالِ غنیمت میں سے خمس بھی نکالا۔ غنائم جمع کرنے کاکام محمدبن مسلمہؓ نے انجام دیا۔ 1
۴۔ غزوہ ٔ سویق:
ایک طرف صفوان بن امیہ ، یہوداورمنافقین اپنی اپنی سازشوں میں مصروف تھے تو دوسری طرف ابوسفیان بھی کوئی ایسی کاروائی انجام دینے کی ادھیڑ بن میں تھا جس میں بار کم سے کم پڑے لیکن اثر نمایاں ہو۔ وہ ایسی کاروائی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زاد المعاد ۲/۷۱،۹۱ ابن ہشام ۲؍۴۷ ، ۴۸ ، ۴۹
جلد از جلد انجام دے کر اپنی قوم کی آبرو کی حفاظت اور ان کی قوت کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ اس نے نذر مان رکھی تھی کہ جنابت کے سبب اس کے سر کو پانی نہ چھوسکے گا یہاں تک کہ محمدﷺ سے لڑائی کرلے۔ چنانچہ وہ اپنی قسم پوری کرنے کے لیے دوسو سواروں کو لے کر روانہ ہوا اور وادیٔ قناۃ کے سرے پر واقع نیب نامی ایک پہاڑی کے دامن میں خیمہ زن ہوا۔مدینے سے اس کا فاصلہ کوئی بارہ میل ہے ، لیکن چونکہ ابو سفیان کو مدینے پر کھلم کھلا حملے کی ہمت نہ ہوئی اس لیے اس نے ایک ایسی کارروائی انجام دی جسے ڈاکہ زنی سے ملتی جلتی کارروائی کہا جاسکتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ رات کی تاریکی میں اطرافِ مدینہ کے اندر داخل ہوا اور حیی بن اخطب کے پاس جاکر اس کا دروازہ کھلوایا۔ حیی نے انجام کے خوف سے انکار کردیا۔ ابو سفیان پلٹ کر بنونضیر کے ایک دوسرے سردار سلام مشکم کے پاس پہنچا جو بنو نضیر کا خزانچی بھی تھا۔ ابو سفیان نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ اس نے اجازت بھی دی اور مہمان نوازی بھی کی۔ خوراک کے علاوہ شراب بھی پلائی اور لوگوں کے پس پردہ حالات سے آگاہ بھی کیا۔ رات کے پچھلے پہر ابو سفیان وہاں سے نکل کر اپنے ساتھیوں میں پہنچا اور ان کا ایک دستہ بھیج کر مدینے کے اطراف میں عریض نامی ایک مقام پر حملہ کردیا۔ اس دستے نے وہاں کھجور کے کچھ درخت کاٹے اور جلائے اور ایک انصاری اور اس کے حلیف کو ان کے کھیت میں پاکر قتل کردیا اور تیزی سے مکہ واپس بھاگ نکلا۔
رسول اللہﷺ نے واردات کی خبر ملتے ہی تیز رفتاری سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کا تعاقب کیا لیکن وہ اس سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے بھاگے ، چنانچہ وہ لوگ تو دستیاب نہ ہوئے لیکن انہوں نے بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ستو ، توشے اور سازوسامان پھینک دیا تھا جو مسلمانوں کے ہاتھ لگا۔ رسول اللہﷺ نے کرکرۃ الکدر تک تعاقب کر کے واپسی کی راہ لی۔مسلمان ستو وغیرہ لاد پھا ند کر واپس ہوئے اور اس مہم کا نام غزوہ ٔسویق رکھ دیا۔ (سویق عربی زبان میں ستو کو کہتے ہیں۔) یہ غزوہ ، جنگ بدر کے صرف دوماہ بعد ذی الحجہ ۲ ھ میں پیش آیا۔ اس غزوے کے دوران مدینے کا انتظام ابو لبابہ بن عبد المنذرؓ کو سونپا گیا تھا۔1
۵- غزوہ ٔ ذی امر:
معرکہ ٔ بدر واحد کے درمیانی عرصے میں رسو ل اللہﷺ کے زیر قیادت یہ سب سے بڑی فوجی مہم تھی جو محرم ۳ ھ میں پیش آئی۔
اس کا سبب یہ تھا کہ مدینے کے ذرائع اطلاعات نے رسول اللہﷺ کو یہ اطلاع فراہم کی کہ بنو ثعلبہ اور محارب کی بہت بڑی جمعیت مدینے پر چھا پہ مارنے کے لیے اکٹھی ہورہی ہے۔ یہ اطلاع ملتے ہی رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا اور سوار وپیادہ پر مشتمل ساڑھے چار سو کی نفری لے کر روانہ ہوئے اور حضرت عثمان بن عفانؓ کو مدینے میں اپنا جانشین مقرر فرمایا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زاد المعاد ۲/ ۹۰ ، ۹۱ ، ابن ہشام ۲/ ۴۴ ، ۴۵
راستے میں صحابہؓ نے بنو ثعلبہ کے جبار نامی ایک شخص کو گرفتار کرکے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر کیا۔ آپﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دی تو اس نے اسلام قبول کرلیا۔ اس کے بعد آپﷺ نے اسے حضرت بلالؓ کی رفاقت میں دے دیا اور ا س نے راہ شناس کی حیثیت سے مسلمانوں کو دشمن کی سرزمین تک راستہ بتایا۔
ادھر دشمن کو جیش مدینہ کی آمد کی خبر ہوئی تو وہ گردوپیش کی پہاڑیوں میں بکھر گئے لیکن نبیﷺ نے پیش قدمی جاری رکھی اور لشکر کے ہمراہ اس مقام تک تشریف لے گئے جسے دشمن نے اپنی جمعیت کی فراہمی کے لیے منتخب کیا تھا۔ یہ درحقیقت ایک چشمہ تھا جو ”ذی امر ”کے نام سے معروف تھا۔ آپﷺ نے وہاں بدوؤں پر رعب ودبدبہ قائم کرنے اور انہیں مسلمانوں کی طاقت کا احساس دلانے کے لیے صفر (۳ ھ) کا پور ا یا تقریباً پورا مہینہ گزار دیا اور اس کے بعد مدینہ تشریف لائے۔1
۶۔ کعب بن اشرف کا قتل:
یہودیوں میں یہ وہ شخص تھا جسے اسلام اور اہل ِ اسلام سے نہایت سخت عداوت اور جلن تھی۔ یہ نبیﷺ کو اذیتیں پہنچا یا کرتا تھا اور آپﷺ کے خلاف جنگ کی کھلم کھلا دعوت دیتا پھرتا تھا۔
اس کا تعلق قبیلہ طی کی شاخ بنو نبھان سے تھا اور اس کی ماں قبیلہ بنی نضیر سے تھی۔ یہ بڑا مالدار اور سرمایہ دار تھا۔ عرب میں اس کے حسن وجمال کا شہرہ تھا اور یہ ایک معروف شاعر بھی تھا۔ اس کا قلعہ مدینے کے جنوب میں بنو نضیر کی آبادی کے پیچھے واقع تھا۔
اسے جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح اور سردارانِ قریش کے قتل کی پہلی خبر ملی تو بے ساختہ بول اٹھا :”کیا واقعتا ایسا ہواہے ؟ یہ عرب کے اشراف اور لوگوں کے بادشاہ تھے۔ اگر محمد نے ان کو مارلیا ہے تو روئے زمین کا شکم اس کی پشت سے بہتر ہے۔”
اور جب اسے یقینی طور پر اس خبر کا علم ہوگیا تو اللہ کا یہ دشمن ، رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کی ہجو اور دشمنانِ اسلام کی مدح سرائی پر اتر آیا۔ اور انہیں مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے لگا۔ اس سے بھی اس کے جذبات آسودہ نہ ہوئے تو سوار ہوکر قریش کے پاس پہنچا اور مطلب بن ابی وداعہ سہمی کا مہمان ہوا۔ پھر مشرکین کی غیرت بھڑکانے ، ان کی آتش ِ انتقام تیز کرنے اور انہیں نبیﷺ کے خلاف آمادہ ٔ جنگ کرنے کے لیے اشعار کہہ کہہ کر ان سردارانِ قریش کا نوحہ وماتم شروع کردیا جنہیں میدان ِ بدر میں قتل کیے جانے کے بعد کنویں میں پھینک دیا گیا تھا۔ مکے میں اس کی موجودگی کے دوران ابو سفیان اور مشرکین نے اس سے دریافت کیا کہ ہمارا دین تمہارے نزدیک زیادہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۲/۴۶ ، زاد المعاد ۲/۹۱ کہا جاتا ہے کہ دعثور یا غورث محاربی نے اسی غزوے میں نبیﷺ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ ایک دوسرے غزوے میں پیش آیا ، دیکھئے: صحیح بخاری ۲/۵۹۳۔
پسندیدہ یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کا ؟ اور دونوں میں سے کون سا فریق زیادہ ہدایت یافتہ ہے؟ کعب بن اشرف نے کہا :”تم لوگ ان سے زیادہ ہدایت یافتہ اور افضل ہو۔” اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُ‌وا هَـٰؤُلَاءِ أَهْدَىٰ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا ﴿٥١﴾ (۴: ۵۱)
” تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا ہے کہ وہ جبت اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہیں۔”
کعب بن اشرف یہ سب کچھ کرکے مدینہ واپس آیا تو یہاں آکر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عورتوں کے بارے میں واہیات اشعار کہنے شروع کیے اور اپنی زبان درازی وبدگوئی کے ذریعے سخت اذیت پہنچائی۔
یہی حالات تھے جن سے تنگ آکر رسول اللہﷺ نے فرمایا :”کون ہے جو کعب بن اشرف سے نمٹے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دی ہے۔”
اس کے جواب میں محمد بن مسلمہ ، عبادہ بن بشرؓ ، ابو نائلہ – جن کانام سلکان بن سلامہ تھا اور جو کعب کے رضاعی بھائی تھے – حارث بن اوسؓ اور ابو عبسؓ بن جبر نے اپنی خدمات پیش کیں۔ اس مختصر سی کمپنی کے کمانڈر محمد بن مسلمہ تھے۔
کعب بن اشرف کے قتل کے بارے میں روایات کا حاصل یہ ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کعب بن اشرف سے کون نمٹے گا ؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کو اذیت دی ہے ، تو محمد بن مسلمہ نے اٹھ کر عرض کیا:”یارسول اللہ!میں حاضر ہوں۔کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کردوں ؟آپﷺ نے فرمایا : ہاں ! انہوں نے عرض کیا : ”تو آپ مجھے کچھ کہنے کی اجازت عطافرمائیں۔” آپﷺ نے فرمایا : کہہ سکتے ہو۔
اس کے بعد محمدبن مسلمہؓ ،کعب بن اشرف کے پاس تشریف لے گئے اور بولے : ”اس شخص نے – اشارہ نبیﷺ کی طرف تھا – ہم سے صدقہ طلب کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس نے ہمیں مشقت میں ڈال رکھا ہے۔”
کعب نے کہا :”واللہ ، ابھی تم لوگ اور بھی اکتاجاؤ گے۔”
محمدبن مسلمہؓ نے کہا : اب جبکہ ہم اس کے پیروکار بن ہی چکے ہیں تو مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں جب تک یہ دیکھ نہ لیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے ! اچھا ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں ایک وَسق یا دووسق غلہ دے دیں۔”
کعب نے کہا :”میرے پاس کچھ رہن رکھو۔”
محمدبن مسلمہؓ نے کہا : ”آپ کو ن سی چیز پسند کریں گے ؟”
کعب نے کہا :”اپنی عورتوں کو میرے پاس رہن رکھ دو۔”
محمدؓ بن مسلمہ نے کہا :”بھلا ہم اپنی عورتیں آپ کے پاس کیسے رہن رکھ دیں جبکہ آپ عرب کے سب سے خوبصورت انسان ہیں۔”
اس نے کہا :”تو پھر اپنے بیٹوں ہی کو رہن رکھ دو۔”
محمد بن مسلمہؓ نے کاکہا :”ہم اپنے بیٹوں کو کیسے رہن رکھ دیں ؟ اگر ایسا ہوگیا تو انہیں گالی دی جائے گی کہ یہ ایک وسق یا دووسق کے بدلے رہن رکھا گیا تھا۔ یہ ہمارے لیے عار کی بات ہے۔ البتہ ہم آپ کے پاس ہتھیار رہن رکھ سکتے ہیں۔”
اس کے بعد دونوں میں طے ہوگیا کہ محمدبن مسلمہؓ (ہتھیار لے کر ) اس کے پاس آئیں گے۔
ادھر ابو نائلہ نے بھی اسی طرح کا اقدام کیا ، یعنی کعب بن اشرف کے پاس آئے۔ کچھ دیر اِدھر اُدھر کے اشعار سنتے سناتے رہے پھر بو لے :”بھئ ابن اشرف ! میں ایک ضرورت سے آیا ہوں ، اسے ذکرکرنا چاہتا ہوں ، لیکن اسے آپ ذراصیغہ ٔ راز ہی میں رکھیں گے۔”
کعب نے کہا:” ٹھیک ہے میں ایسا ہی کروں گا۔ ”
ابو نائلہؓ نے کہا :” بھئ اس شخص …اشارہ نبیﷺ کی طرف تھا …کی آمد تو ہمارے لیے آزمائش بن گئی ہے۔ ساراعرب ہمارا دشمن ہوگیا ہے۔ سب نے ہمارے خلاف اتحاد کرلیا ہے ، ہماری راہیں بند ہوگئی ہیں، اہل وعیال برباد ہورہے ہیں ، جانوں پر بن آئی ہے، ہم اور ہمارے بال بچے مشقتوں سے چورچور ہیں۔” اس کے بعد انہوں نے بھی کچھ اسی ڈھنگ کی گفتگو کی جیسی محمدؓ بن مسلمہ نے کی تھی۔ دورانِ گفتگو ابو نائلہؓ نے بھی کہا کہ میرے کچھ رفقا ء ہیں جن کے خیالات بھی بالکل میرے ہی جیسے ہیں۔ انہیں بھی آپ کے پاس لانا چاہتا ہوں۔ آپ ان کے ہاتھ بھی کچھ بیچیں اور ان پر احسان کریں۔
محمدؓ بن مسلمہ اور ابو نائلہؓ اپنی اپنی گفتگو کے ذریعے اپنے مقصد میں کامیاب رہے کیونکہ اس گفتگوکے بعد ہتھیا ر اور رفقاء سمیت ان دونوں کی آمد پرکعب بن اشرف چونک نہیں سکتا تھا۔ اس ابتدائی مرحلے کو مکمل کر لینے کے بعد ۱۴۔ ربیع الاول ۳ ھ کی چاندنی رات کو یہ مختصر سا دستہ رسو ل اللہﷺ کے پاس جمع ہوا۔ آپﷺ نے بقیع غَرقد تک ان کی مشایعت فرمائی۔ پھر فرمایا : اللہ کے نام لے کر جاؤ۔ اللہ تمہاری مدد فرمائے۔ پھر آپﷺ اپنے گھر پلٹ آئے اور نماز و مناجات میں مشغول ہوگئے۔
ادھر یہ دستہ کعب بن اشرف کے قلعے کے دامن میں پہنچا تو اسے ابو نائلہؓ نے قدرے زور سے آواز دی۔ آواز سن کر وہ ان کے پا س آنے کے لیے اٹھا تو اس کی بیوی نے…جو ابھی نئی نویلی دلہن تھی… کہا : ” اس وقت کہاں جارہے ہیں ؟ میں ایسی آواز سن رہی ہوں جس سے گویا خون ٹپک رہا ہے۔”
کعب نے کہا :”یہ تو میرا بھائی محمدؓ بن مسلمہ اور میرا دودھ کا ساتھی ابو نائلہؓ ہے۔ کریم آدمی کو اگر نیزے کی مار کی طرف بلایا جائے تو اس پکار پر بھی وہ جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ باہر آگیا۔ خوشبو میں بسا ہواتھا اور سر سے خوشبو کی لہریں پھوٹ رہی تھیں۔
ابو نائلہؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہہ رکھاتھا کہ جب وہ آجائے گا تومیں اس کے بال پکڑ کر سونگھوں گا۔ جب تم دیکھنا کہ میں نے اس کا سر پکڑ کر اسے قابو میں کرلیا ہے تو اس پر پل پڑنا … اور اسے مار ڈالنا۔ چنانچہ جب کعب آیا تو کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں۔ پھر ابو نائلہؓ نے کہا :”ابن اشرف!کیوں نہ شِعب عجوز تک چلیں، ذرآج رات باتیں کی جائیں۔” اس نے کہا : اگر تم چاہتے ہو تو چلتے ہیں ؟ اس پر سب لوگ چل پڑے۔ اثنا ء راہ میں ابو نائلہؓ نے کہا : آج جیسی عمدہ خوشبوتو میں نے کبھی دیکھی ہی نہیں۔یہ سن کر کعب کا سینہ فخر سے تن گیا۔ کہنے لگا : میرے پاس عرب کی سب سے زیادہ خوشبو والی عور ت ہے۔ ابو نائلہ نے کہا : اجازت ہوتو ذرآپ کا سر سونگھ لوں ؟ وہ بو لا: ہا ں ہاں۔ ابو نائلہ نے اس کے سر میں اپنا ہاتھ ڈالا۔ پھر خود بھی سونگھا اور ساتھیوں کو بھی سونگھایا۔
کچھ اور چلے توابو نائلہؓ نے کہا : بھئ ایک بار اور۔ کعب نے کہا : ہاں ہاں ، ابو نائلہ نے پھر وہی حرکت کی یہاں تک کہ وہ مطمئن ہوگیا۔
اس کے بعد کچھ اور چلے تو ابو نائلہؓ نے پھر کہا : بھئ ایک باراور۔ اس نے کہا : ٹھیک ہے۔ اب کی بار ابو نائلہ نے اس کے سر میں ہاتھ ڈال کر ذرا اچھی طرح پکڑ لیا تو بولے :”لے لو اللہ کے اس دشمن کو۔” اتنے میں اس پر کئی تلواریں پڑیں ، لیکن کچھ کام نہ دے سکیں۔ یہ دیکھ کر محمدؓ بن مسلمہ نے جھٹ اپنی کدال لی اور اس کے پیڑو پر لگا کر چڑھ بیٹھے۔ کدال آر پار ہوگئی ا ور اللہ کا دشمن وہیں ڈھیر ہوگیا۔ حملے کے دوران اس نے اتنی زبردست چیخ لگائی تھی کہ گرد وپیش میں ہلچل مچ گئی اور کوئی ایسا قلعہ باقی نہ بچا جس پر آگ روشن نہ کی گئی ہو۔ (لیکن ہوا کچھ بھی نہیں)
کارروائی کے دوران حضرت حارثؓ بن اوس کو بعض ساتھیوں کی تلوار کی نوک لگ گئی تھی۔ جس سے وہ زخمی ہوگئے تھے اور ان کے جسم سے خون بہہ رہا تھا ، چنانچہ واپسی میں جب یہ دستہ حرہ ٔ عریض پہنچا تو دیکھا کہ حارثؓ ساتھ نہیں ہیں، اس لیے سب لوگ وہیں رک گئے۔ تھوڑی دیر بعد حارث بھی ان کے نشانات قدم دیکھتے ہوئے آن پہنچے۔ وہاں سے لوگوں نے انہیں اٹھا لیا اور بقیع غرقد پہنچ کر اس زور کا نعرہ لگایا کہ رسول اللہﷺ کو بھی سنائی پڑا۔ آپﷺ سمجھ گئے کہ ان لوگوں نے اسے مار لیا ہے ، چنانچہ آپﷺ نے بھی اللہ اکبر کہا ، پھر جب یہ لوگ آپﷺ کی خدمت میں پہنچے تو آپﷺ نے فرمایا: ((افلحت الوجوہ )) یہ چہرے کامیاب رہیں۔ ان لوگوں نے کہا: (ووجہک یا رسول اللہ) آپﷺ کا چہرہ بھی اے اللہ کے رسول! اور اس کے ساتھ ہی اس طاغوت کا سر آپﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ آپﷺ نے اس کے قتل پر اللہ کی حمد وثنا کی اور حارث کے زخم پر لعابِ دہن لگادیا جس سے وہ شفایاب ہوگئے اور آئندہ کبھی تکلیف نہ ہوئی۔1
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 اس واقعے کی تفصیل ابن ِ ہشام ۲/۵۱ – ۵۷ صحیح بخاری ۱/۳۴۱ -۴۲۵ ، ۲/۵۷۷۔ سنن ابی داؤد مع عون المعبود ۲/۴۲، ۴۳۔ اور زاد المعاد ۲/۹۱ سے ماخوذ ہے۔
ادھر یہود کو جب اپنے طاغوت کعب بن اشرف کے قتل کا علم ہوا تو ان کے ہٹ دھرم اور ضدی دلوں میں رعب کی لہر دوڑ گئی۔ ان کی سمجھ میں آگیا کہ رسول اللہﷺ جب یہ محسوس کرلیں گے کہ امن وامان کے ساتھ کھیلنے والوں، ہنگامے اور اضطراب بپا کرنے والوں اور عہد وپیمان کا احترام نہ کرنے والوں پر نصیحت کا ر گر نہیں ہورہی ہے تو آپﷺ طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہ کریں گے ، اس لیے انہوں نے اپنے اس طاغوت کے قتل پر چوں نہ کیا بلکہ ایک دم ، دم سادھے پڑے رہے۔ ایفاء عہد کا مظاہرہ کیا اور ہمت ہار بیٹھے، یعنی سانپ تیزی کے ساتھ اپنی بلوں میں جاگھسے۔
اس طرح ایک مدّت تک کے لیے رسول اللہﷺ بیرون مدینہ سے پیش آنے والے متوقع خطرات کا سامنا کرنے کے لیے فارغ ہوگئے اور مسلمان ان بہت سی اندرونی مشکلات کے بارِ گراں سے سبکدوش ہوگئے جن کا اندیشہ انہیں محسوس ہورہا تھا اور جن کی بُو وقتاً فوقتا ًوہ سونگھتے رہتے تھے۔
۷۔ غزوہ ٔ بحران:
یہ ایک بڑی فوجی طلایہ گردی تھی جس کی تعداد تین سوتھی۔ اس فوج کو لے کر رسول اللہﷺ ماہ ربیع الآخر ۳ھ میں بحران نامی ایک علاقے کی طرف تشریف لے گئے تھے …یہ حجاز کے اندر فرع کے اطراف میں ایک معدنیاتی مقام ہے …اور ربیع الآخر اور جمادی الاولیٰ کے دو مہینے وہیں قیام فرمارہے۔ اس کے بعد مدینہ واپس تشریف لائے۔ کسی قسم کی لڑائی سے سابقہ پیش نہ آیا۔1
۸۔ سَرِیہ زید بن حارثہ:
جنگ احد سے پہلے یہ مسلمانوں کی یہ آخری اور کامیاب ترین مہم تھی جو جمادی الآخر ۳ ھ میں پیش آئی۔
واقعے کی تفصیل یہ ہے کہ قریش جنگ بدر کے بعد قلق واضطراب میں مبتلا تو تھے ہی مگر جب گرمی کا موسم آگیا اور ملک شام کے تجارتی سفر کا وقت آن پہنچا توانہیں ایک اور فکر دامن گیر ہوئی۔ اس کی وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ صفوان بن امیہ نے …جسے قریش کی طرف سے اس سال ملکِ شام جانے والے تجارتی قافلے کا میرکارواں منتخب کیاگیا تھا …قریش سے کہا : ”محمد اور اس کے ساتھیوں نے ہماری تجارتی شاہراہ ہمارے لیے پُر صعوبت بنادی ہے ، سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم اس کے ساتھیوں سے کیسے نمٹیں۔ وہ ساحل چھوڑ کر ہٹتے ہی نہیں اور باشندگانِ ساحل نے ان سے مصالحت کرلی ہے۔ عام لوگ بھی انہیں کے ساتھ ہوگئے ہیں۔ اب سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم کون سا راستہ اختیار کریں ؟ اگر ہم گھروں ہی میں بیٹھ رہیں تو اپنا اصل مال بھی کھا جائیں گے اور کچھ باقی نہ بچے گا ، کیونکہ مکے میں ہماری زندگی کا دار ومدار اس پر ہے کہ گرمی میں شام اور جاڑے میں حبشہ سے تجارت کریں۔”
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ِ ہشام ۲/ ۵۰ ، ۵۱۔ زاد المعاد ۲/۹۱۔ اس غزوے کے اسباب کی تعیین میں مآخذ مختلف ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مدینہ میں یہ خبر پہنچی کہ بنو سلیم مدینہ اور اطراف مدینہ پر حملے کرنے کے لیے بہت بڑے پیمانے پر جنگی تیاریاں کررہے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے کسی قافلے کی تلاش میں نکلے تھے۔ابن ہشام نے یہی سبب ذکر کیا ہے اور ابن قیم نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ چنانچہ پہلا سبب سر ے سے ذکر نہیں کیا ہے۔
صفوان کے اس سوال کے بعد اس موضوع پر غور وخوض شروع ہوگیا۔ آخر اسود بن عبد المطلب نے صفوان سے کہا:”تم ساحل کا راستہ چھوڑ کر عراق کے راستے سفر کرو۔” واضح رہے کہ یہ راستہ بہت لمبا ہے۔ نجد سے ہوکر شام جاتا ہے اور مدینہ کے مشرق میں خاصے فاصلے سے گزرتا ہے۔ قریش اس راستے سے بالکل نا واقف تھے اس لیے اسود بن عبد المطلب نے صفوان کو مشورہ دیا کہ وہ فرات بن حیان کو…جو قبیلہ بکر بن وائل سے تعلق رکھتا تھا … راستہ بتانے کے لیے راہنما رکھ لے۔ وہ اس سفر میں اس کی رہنمائی کردے گا۔
اس انتظام کے بعد قریش کا کارواں صفوان بن امیہ کی قیادت میں نئے راستے سے روانہ ہوا، مگر اس کارواں اور اس کے سفر کے پورے منصوبے کی خبر مدینہ پہنچ گئی۔ ہوا یہ کہ سلیطؓ بن نعمان جو مسلمان ہوچکے تھے نعیم بن مسعود کے ساتھ جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے ، بادہ نوشی کی ایک مجلس میں جمع ہوئے …یہ شراب کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے …جب نعیم پر نشے کا غلبہ ہوا تو انہوں نے قافلے اوراس کے سفر کے پورے منصوبے کی تفصیل بیان کرڈالی۔ سلیطؓ پوری برق رفتاری کے ساتھ خدمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور ساری تفصیل کہہ سنائی۔
رسول اللہﷺ نے فوراً حملہ کی تیاری کی اور سو سواروں کا ایک رسالہ حضرت زید بن حارثہ کلبیؓ کی کمان میں دے کر روانہ کیا۔ حضرت زیدؓ نے نہایت تیزی سے راستہ طے کیا اور ابھی قریش کا قافلہ بالکل بے خبر ی کے عالم میں قردہ نامی ایک چشمہ پر پڑاؤ ڈالنے کے لیے اُتررہا تھا کہ اسے جالیا اور اچانک یلغار کرکے پورے قافلے پر قبضہ کرلیا۔ صفوان بن امیہ اور دیگر محافظین ِ کا رواں کو بھاگنے کے سوا کوئی چارۂ کار نظر نہ آیا۔
مسلمانوں نے قافلے کے راہنما فرات بن حیان کو اور کہا جاتا ہے کہ مزید دوآدمیوں کو گرفتار کرلیا۔ظروف اور چاندی کی بہت بڑی مقدار ، جو قافلے کے پاس تھی ، اور جس کا اندازہ ایک لاکھ درہم تھا، بطور غنیمت ہاتھ آئی رسول اللہﷺ نے خُمس نکال کر مالِ غنیمت رسالے کے افراد پر تقسیم کردیا اور فرات بن حیان نے نبیﷺ کے دست ِ مبارک پر اسلام قبول کر لیا۔1
بدر کے بعد قریش کے لیے یہ سب سے الم انگیز واقعہ تھا جس سے ان کے قلق واضطراب اور غم والم میں مزید اضافہ ہوگیا۔ اب ان کے سامنے دوہی راستے تھے یاتو اپنا کبر وغرور چھوڑ کر مسلمانوں سے صلح کرلیں یا بھر پور جنگ کر کے اپنی عزت ِ رفتہ اور مجدِ گزشتہ کو واپس لائیں اور مسلمانوں کی قوت کو اس طرح توڑ دیں کہ وہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں۔ قریش مکہ نے اسی دوسرے راستے کا انتخاب کیا ، چنانچہ اس واقعہ کے بعد قریش کا جو شِ انتقام کچھ اور بڑھ گیا اور اس نے مسلمانوں سے ٹکر لینے اور ان کے دیار میں گھس کر ان پر حملہ کرنے کے لیے بھر پور تیاری شروع کردی۔ اس طرح پچھلے واقعات کے علاوہ یہ واقعہ بھی معرکۂ احد کا خاص عامل ہے۔

****​
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۲/۵۰ ، ۵۱۔ رحمۃ للعالمین ۲/۲۱۹
غزوۂ اُحد

انتقامی جنگ کے لیے قریش کی تیاریاں:
اہل ِ مکہ کو معرکہ ٔ بدر میں شکست وہزیمت کی جو زک اور اپنے صَنادید واَشراف کے قتل کا جو صدمہ برداشت کرنا پڑا تھا اس کے سبب وہ مسلمانوں کے خلاف غیظ و غضب سے کھول رہے تھے، حتیٰ کہ انہوں نے اپنے مقتولین پر آہ وفغاں کرنے سے بھی روک دیاتھا اور قیدیوں کے فدیے کی ادائیگی میں بھی جلد بازی کا مظاہرہ کرنے سے منع کردیا تھا تاکہ مسلمان ان کے رنج وغم کی شدت کا اندازہ نہ کرسکیں۔پھر انہوں نے جنگ ِ بدر کے بعد یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ مسلمانوں سے ایک بھر پور جنگ لڑکر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کریں اور اپنے جذبۂ غیظ وغضب کو تسکین دیں۔ اور اس کے ساتھ ہی اس طرح کی معرکہ آرائی کی تیاری بھی شروع کردی۔ اس معاملے میں سردارانِ قریش میں سے عِکرمَہ بن ابی جہل ، صفوان بن امیہ ، ابو سفیان بن حرب ، اور عبد اللہ بن ربیعہ زیادہ پُر جوش تھے اور سب سے پیش پیش تھے۔
ان لوگوں نے اس سلسلے میں پہلا کام یہ کیا کہ ابو سفیان کا وہ قافلہ جو جنگ ِ بدر کا باعث بنا تھا اور جسے ابوسفیان بچاکر نکال لے جانے میں کامیاب ہوگیا تھا ، اس کا سارا مال جنگی اخراجات کے لیے روک لیا اور جن لوگوں کا مال تھا ان سے کہا کہ اے قریش کے لوگو! تمہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت دھچکا لگایا ہے اور تمہارے منتخب سرداروں کو قتل کر ڈالا ہے۔ لہٰذا ان سے جنگ کرنے کے لیے اس مال کے ذریعے مدد کرو ، ممکن ہے کہ ہم بدلہ چکالیں۔ قریش کے لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔ چنانچہ یہ سارامال جس کی مقدار ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار دینار تھی ، جنگ کی تیاری کے لیے بیچ ڈالا گیا۔ اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے :
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَ‌ةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ (۸: ۳۶)
”جن لوگوں نے کفر کیا وہ اپنے اموال اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کریں گے۔ تو یہ خرچ توکریں گے لیکن پھر یہ ان کے لیے باعث حسرت ہوگا۔ پھر مغلوب کیے جائیں گے۔”
پھر انہوں نے رضاکارانہ جنگی خدمات کا دروازہ کھول دیا کہ جو اَحَابِیش ، کنانہ اور اہل ِ تِہامہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک ہونا چاہیں وہ قریش کے جھنڈے تلے جمع ہوجائیں۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ترغیب وتحریص کی مختلف صورتیں بھی اختیار کیں ، یہاں تک کہ ابو عزہ شاعر جو جنگ بدر میں قید ہوا تھا اور جس کو رسول اللہﷺ نے یہ عہد لے کر کہ اب وہ آپﷺ کے خلاف کبھی نہ اٹھے گا ازراہِ احسان بلا فدیہ چھوڑدیا تھا ، اسے صفوان بن امیہ نے ابھا را کہ وہ قبائل کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کاکام کرے اور اس سے یہ عہد کیا کہ اگروہ لڑائی سے بچ کر زندہ وسلامت واپس آگیا تو اسے مالا مال کردے گا، ورنہ اس کی لڑکیوں کی کفالت کرے گا۔ چنانچہ ابو عزہ نے رسول اللہﷺ سے کیے ہوئے عہد وپیمان کو پسِ پشت ڈال کر جذباتِ غیرت وحمیت کو شعلہ زن کر نے والے اشعار کے ذریعے قبائل کو بھڑکانا شروع کردیا۔ اسی طرح قریش نے ایک اور شاعر مسافع بن عبد مناف جُمحی کو اس مہم کے لیے تیار کیا۔
ادھر ابو سفیان نے غزوہ ٔ سَویق سے ناکام ونامراد بلکہ سامان رسد کی ایک بہت بڑی مقدار سے ہاتھ دھو کر واپس آنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو ابھارنے اور بھڑکانے میں کچھ زیادہ ہی سرگرمی دکھائی۔
پھر اخیر میں سَریۂ زیدؓ بن حارثہ کے واقعے سے قریش کو جس سنگین اور اقتصادی طور پر کمر توڑ خسارے سے دوچار ہوناپڑا اور انہیں جس قدر بے اندازہ رنج والم پہنچا اس نے آگ پر تیل کاکام کیا اور اس کے بعد مسلمانوں سے ایک فیصلہ کن جنگ لڑنے کے لیے قریش کی تیاری کی رفتار میں بڑی تیز ی آگئی۔
قریش کا لشکر ، سامانِ جنگ اور کمان:
چنانچہ سال پورا ہوتے ہوتے قریش کی تیاری مکمل ہوگئی۔ ان کے اپنے افراد کے علاوہ ان کے حلیفوں اور احابیش کو ملا کر مجموعی طور پر کل تین ہزار فوج تیار ہوئی۔ قائدین قریش کی رائے ہوئی کہ اپنے ساتھ عورتیں بھی لے چلیں تاکہ حرمت وناموس کی حفاظت کا احساس کچھ زیادہ ہی جذبہ ٔ جان سپاری کے ساتھ لڑنے کا سبب بنے۔ لہٰذا اس لشکر میں ان کی عورتیں بھی شامل ہوئیں جن کی تعداد پندرہ تھی۔ سواری وبار برداری کے لیے تین ہزار اونٹ تھے اور رسالے کے لیے دوسو گھوڑے۔1 ان گھوڑوں کو تازہ دم رکھنے کے لیے انہیں پورے راستے بازو میں لے جایا گیا، یعنی ان پر سواری نہیں کی گئی۔ حفاظتی ہتھیاروں میں سات سو زِر ہیں تھیں۔
ابو سفیان کو پورے لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا گیا۔ رسالے کی کمان خالد بن ولید کو دی گئی اور عکرمہ بن ابی جہل کو ان کا معاون بنایا گیا۔ پرچم مقررہ دستور کے مطابق قبیلہ بنی عبد الدار کے ہاتھ میں دیا گیا۔
مکی لشکر کی روانگی:
اس بھر پور تیاری کے بعد مکی لشکر نے اس حالت میں مدینے کا رُخ کیا کہ مسلمانوں کے خلاف غم وغصہ اور انتقام کا جذبہ ان کے دلوں میں شعلہ بن کر بھڑک رہا تھا اور یہ عنقریب پیش آنے والی جنگ کی خونریزی اور شدت کا پتادے رہا تھا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زاد المعاد ۲/۹۲۔ یہی مشہور ہے۔لیکن فتح الباری ۷/۳۴۶ میں گھوڑوں کی تعداد ایک سو بتائی گئی ہے۔
مدینے میں اطلاع:
حضرت عباسؓ قریش کی اس ساری نقل وحرکت اور جنگی تیاریوں کا بڑی چابکدستی اور گہرائی سے مطالعہ کررہے تھے ، چنانچہ جوں ہی یہ لشکر حرکت میں آیا ، حضرت عباسؓ نے اس کی ساری تفصیلات پر مشتمل ایک خط فوراً نبیﷺ کی خدمت میں روانہ فرمادیا۔
حضرت عباسؓ کا قاصد پیغام رسانی میں نہایت پُھر تیلا ثابت ہو ا۔ اس نے مکے سے مدینے تک کوئی پانچ سو کیلومیٹر کی مسافت تین دن میں طے کر کے ان کا خط نبیﷺ کے حوالے کیا۔ اس وقت آپ مسجد قباء میں تشریف فرماتھے۔
یہ خط حضرت اُبی بن کعبؓ نے نبیﷺ کو پڑھ کر سنایا۔ آپﷺ نے انہیں رازداری برتنے کی تاکید کی اور جھٹ مدینہ تشریف لاکر انصار ومہاجرین کے قائدین سے صلاح ومشورہ کیا۔
ہنگامی صورتِ حال کے مقابلے کی تیاری:
اس کے بعد مدینے میں عام لام بندی کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ لوگ کسی بھی اچانک صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت ہتھیار بند رہنے لگے۔ حتی کہ نماز میں بھی ہتھیار جدا نہیں کیا جاتا تھا۔
ادھر انصار کا ایک مختصر سادستہ ، جس میں سعد بن معاذ، اُسَید بن حُضیراور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہم تھے، رسول اللہﷺ کی نگرانی پر تعینات ہوگیا۔ یہ لوگ ہتھیار پہن کر ساری ساری رات رسول اللہﷺ کے دروازے پر گزار دیتے تھے۔
کچھ اوردستے اس خطرے کے پیش نظر کہ غفلت کی حالت میں اچانک کوئی حملہ نہ ہوجائے۔ مدینے میں داخلے کے مختلف راستوں پر تعینات ہوگئے۔
چند دیگر دستوں نے دشمن کی نقل وحرکت کا پتا لگا نے کے لیے طلایہ گردی شروع کردی یہ دستے ان راستوں پر گشت کرتے رہتے تھے جن سے گزر کر مدینے پر چھا پہ مارا جاسکتا تھا۔
مکی لشکر ، مدینے کے دامن میں:
ادھر مکی لشکر معروف کاروانی شاہراہ پر چلتا رہا۔ جب اَبْوَاء پہنچا تو ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عُتبہ نے یہ تجویز پیش کی کہ رسول اللہﷺ کی والدہ کی قبرا کھیڑ دی جائے۔
لیکن اس دروازے کو کھولنے کے جو سنگین نتائج نکل سکتے تھے اس کے خوف سے قائدین لشکر نے یہ تجویز منظور نہ کی۔ اس کے بعدلشکر نے اپنا سفر بدستور جاری رکھا یہاں تک کہ مدینے کے قریب پہنچ کر پہلے وادیٔ عقیق سے گزرا، پھر کسی قدر داہنے جانب کترا کر کوہ اُحد کے قریب عینین نامی ایک مقام پر جو مدینہ کے شمال میں وادئ قناۃ کے کنارے ایک بنجر زمین ہے پڑاؤ ڈال دیا۔ یہ جمعہ ۶ شوال ۳ ھ کا واقعہ ہے۔
مدینے کی دفاعی حکمت ِ عملی کے لیے مجلس ِ شور یٰ کا اجلاس:
مدینے کے ذرائع اطلاعات مکی لشکر کی ایک ایک خبر مدینہ پہنچارہے تھے ، حتیٰ کہ اس کے پڑاؤ کی بابت آخری خبر بھی پہنچادی۔ اس وقت رسول اللہﷺ نے فوجی ہائی کمان کی مجلس ِ شوریٰ منعقد فرمائی جس میں مناسب حکمت ِ عملی اختیار کرنے کے لیے صلاح مشورہ کرنا تھا۔ آپﷺ نے انہیں اپنا دیکھا ہو ا ایک خواب بتلایا۔ آپﷺ نے بتلایا کہ واللہ! میں نے ایک بھلی چیز دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ کچھ گائیں ذبح کی جارہی ہیں اور میں نے دیکھا کہ میری تلوار کے سرے پر کچھ شکستگی ہے اور یہ بھی دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک محفوظ زِرہ میں داخل کیا ہے۔ پھر آپﷺ نے گائے کی یہ تعبیر بتلائی کہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم قتل کیے جائیں گے۔ تلوارمیں شکستگی کی یہ تعبیر بتلائی کہ آپﷺ کے گھر کا کوئی آدمی شہید ہوگا اورمحفوظ زِرہ کی یہ تعبیر بتلائی کہ اس سے مراد شہر مدینہ ہے۔
پھرآپﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے دفاعی حکمت ِ عملی کے متعلق اپنی رائے پیش کی کہ مدینے سے باہر نہ نکلیں بلکہ شہر کے اندر ہی قلعہ بند ہوجائیں۔ اب اگر مشرکین اپنے کیمپ میں مقیم رہتے ہیں تو بے مقصد اور بُرا قیام ہوگا اور اگر مدینے میں داخل ہوتے ہیں تو مسلمان گلی کوچے کے ناکوں پر ان سے جنگ کریں گے اور عورتیں چھتوںکے اُوپر سے ان پر خشت باری کریں گی۔ یہی صحیح رائے تھی اور اسی رائے سے عبد اللہ بن اُبی ّ راس المنافقین نے بھی اتفاق کیا جوا س مجلس میں خزرج کے ایک سر کردہ نمائندہ کی حیثیت سے شریک تھا لیکن اس کے اتفاق کی بنیاد یہ نہ تھی کہ جنگی نقطۂ نظر سے یہی صحیح موقف تھا بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ جنگ سے دور بھی رہے اور کسی کو اس کا احساس بھی نہ ہو۔ لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس نے چاہا کہ یہ شخص اپنے رفقاء سمیت پہلی بار سر عام رسوا ہوجائے اور اُن کے کفر ونفاق پر جو پردہ پڑا ہوا ہے وہ ہٹ جائے، اور مسلمانوں کو اپنے مشکل ترین وقت میں معلوم ہوجائے کہ کی آستین میں کتنے سانپ رینگ رہے ہیں۔
چنانچہ فضلاء ِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے جو بدر میں شرکت سے رہ گئی تھی ، بڑھ کر نبیﷺ کو مشورہ دیا کہ میدان میں تشریف لے چلیں اور انہوں نے اپنی اس رائے پر سخت اصرار کیا ، حتیٰ کہ بعض صحابہؓ نے کہا : ”اے اللہ کے رسول! ہم تو اس دن کی تمنا کیا کرتے تھے اور اللہ سے اس کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اب اللہ نے یہ موقع فراہم کردیا ہے اور میدان میں نکلنے کا وقت آگیا ہے توپھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے مد ِ مقابل ہی تشریف لے چلیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم ڈر گئے ہیں۔
ان گرم جوش حضرات میں خود رسول اللہﷺ کے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب سر فہرست تھے جو معرکہ ٔ بدر میں اپنی تلوار کا جوہر دکھلا چکے تھے۔ انہوں نے نبیﷺ سے عرض کی کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی میں کوئی غذانہ چکھوں گا یہاں تک کہ مدینہ سے باہر اپنی تلوار کے ذریعے ان سے دودو ہاتھ کر لوں۔1
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 سیرۃ حلبیہ ۲/۱۴
رسول اللہﷺ نے ان لوگوں کے اصرار کے سامنے اپنی رائے ترک کردی اور آخری فیصلہ یہی ہوا کہ مدینے سے باہر نکل کر کھلے میدان میں معرکہ آرائی کی جائے۔
اسلامی لشکر کی ترتیب اور میدانِ جنگ کے لیے روانگی :
اس کے بعد نبیﷺ نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو وعظ ونصیحت کی ، جد وجہد کی ترغیب دی اور بتلایا کہ صبر اور ثابت قدمی ہی سے غلبہ حاصل ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی حکم دیا کہ دشمن سے مقابلے کے لیے تیار ہو جائیں، یہ سن کر لوگوںمیں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
اس کے بعد جب آپﷺ نے عصر کی نماز پڑھی تو اس وقت تک لوگ جمع ہوچکے تھے۔ عَوَالی کے باشندے بھی آچکے تھے۔ نماز کے بعد آپﷺ اندر تشریف لے گئے۔ ساتھ میں ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ انہوں نے آپﷺ کے سر پر عَمامَہ باندھا اور لباس پہنایا۔ آپﷺ نے نیچے اوپر دو زِرہیں پہنیں ، تلوار حمائل کی اور ہتھیار سے آراستہ ہوکر لوگوں کے سامنے تشریف لائے۔
لوگ آپﷺ کی آمد کے منتظرتو تھے ہی لیکن اس دوران حضرت سعد بن معاذ اور اُسَیْد بن حُضیر رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے کہا کہ آپ لوگوں نے رسول اللہﷺ کو میدان میں نکلنے پر زبردستی آمادہ کیا ہے، لہٰذا معاملہ آپﷺ ہی کے حوالے کر دیجیے۔ یہ سن کر سب لوگوں نے ندامت محسوس کی اور جب آپﷺ باہر تشریف لائے تو آپﷺ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! ہمیںآپ کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ آپﷺ کو جو پسند ہو وہی کیجیے۔ اگر آپﷺ کو یہ پسند ہے کہ مدینے میں رہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیجیے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :” کوئی نبی جب اپنا ہتھیار پہن لے تو مناسب نہیں کہ اسے اتار ے تا آنکہ اللہ اس کے درمیان اور اس کے دشمن کے درمیا ن فیصلہ فرمادے ۔”1
اس کے بعد نبیﷺ نے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا :
مہاجرین کا دستہ : اس کا پرچم حضرت مُصْعب بن عُمیر عبدریؓ کو عطاکیا۔
قبیلۂ اوس(انصار ) کا دستہ : اس کا علم حضرت اُسید بن حضیرؓ کو عطافرمایا۔
قبیلہ خزرج (انصار )کا دستہ : اس کا عَلَم حباب بن منذرؓ کو عطا فرمایا۔
پورا لشکر ایک ہزار مردانِ جنگی پر مشتمل تھا جن میں ایک سو زِرہ پوش اور پچاس شہسوار تھے۔2اور یہ بھی کہا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 مسند احمد ، نسائی ،حاکم۔ ابن اسحاق اور بخاری نے الاعتصام ، باب نمبر ۲۸ کے ترجمۃ الباب میں ذکر کیا ہے۔
2 یہ بات ابن قیم نے زاد المعاد ۲/۹۲ میں بیان کی ہے۔ حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں کہ یہ فاش غلطی ہے۔ موسیٰ بن عقبہ نے جزم کے ساتھ کہا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ ِ اُحد میں سرے سے کوئی گھوڑا تھا ہی نہیں۔ واقدی کا بیان ہے کہ صرف دوگھوڑے تھے ، ایک رسول اللہﷺ کے پاس۔ اور ایک ابو بُردہؓ کے پاس۔ (فتح الباری ۷/۳۵۰)
جاتا ہے کہ شہسوار کوئی بھی نہ تھا۔
حضرت ابن ام مکتومؓ کو اس کام پر مقرر فرمایا کہ وہ مدینے کے اندر رہ جانے والے لوگوں کو نماز پڑھائیں گے۔ اس کے بعد کوچ کا اعلان فرمایا اور لشکر نے شمال کا رُخ کیا۔ حضرت سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما زرہ پہنے نبیﷺ کے آگے چل رہے تھے۔
ثَنِیّۃ الوداع سے آگے بڑھے تو ایک دستہ نظر آیا جو نہایت عمدہ ہتھیار پہنے ہوئے تھا اور پورے لشکر سے الگ تھلگ تھا۔ آپﷺ نے دریافت کیا تو بتلایا گیا کہ خزرج کے حلیف یہود ہیں۔1جو مشرکین کے خلاف شریک ِ جنگ ہونا چاہتے ہیں۔آپ نے دریافت فرمایا: کیا یہ مسلمان ہوچکے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : نہیں۔ اس پر آپﷺ نے اہل ِ شرک کے خلاف اہلِ کفر کی مدد لینے سے انکار کردیا۔
لشکر کا معائنہ:
پھر آپﷺ نے ”شیخان” نامی ایک مقام تک پہنچ کر لشکر کا معائنہ فرمایا۔ جو لوگ چھوٹے یا ناقابل ِ جنگ نظر آئے انہیں واپس کر دیا۔ ان کے نام یہ ہیں : حضرت عبد اللہ بن عمر، اسامہ بن زید، اسید بن ظہیر ، زید بن ثابت ، زید بن ارقم، عرابہ بن اوس ، عَمرو بن حزم ، ابو سعید خدری ، زید بن حارثہ انصاری اور سعد بن حبہ رضی اللہ عنہم ۔ اسی فہرست میں حضرت براء بن عازبؓ کا نام بھی ذکر کیا جاتا ہے لیکن صحیح بخاری میں ان کی جو روایت مذکور ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اُحدکے موقعے پر لڑائی میں شریک تھے۔
البتہ صغر سنّی کے باوجو د حضرت رافع بن خدیج اور سمُرہ بن جُنْدُب رضی اللہ عنہما کو جنگ میں شرکت کی اجازت مل گئی۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت رافع بن خدیجؓ بڑے ماہر تیر انداز تھے، اس لیے اُنہیں اجازت مل گئی۔ جب اُنہیں اجازت مل گئی تو حضرت سمرہ بن جندبؓ نے کہا کہ میں تورافع سے زیادہ طاقتور ہوں ، میں اسے پچھاڑ سکتا ہوں۔ چنانچہ رسول اللہﷺ کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپﷺ نے اپنے سامنے دونوں سے کشتی لڑوائی اور واقعتا سمرہؓ نے رافعؓ کو پچھاڑ دیا، لہٰذ ا انہیں بھی اجازت مل گئی۔
احد اور مدینے کے درمیان شب گزاری:
یہیں شام ہوچکی تھی۔ لہٰذا آپﷺ نے یہیں مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور یہیں رات بھی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ پہرے کے لیے پچاس صحابہ رضی اللہ عنہم منتخب فرمائے جو کیمپ کے گرد وپیش گشت لگاتے رہتے تھے۔ ان کے قائد محمد بن مسلمہ انصاریؓ تھے۔ یہ وہی بزرگ ہیں جنہوں نے کعب بن اشرف کوٹھکانے لگانے والی جماعت کی قیادت فرمائی تھی۔ ذکوانؓ بن عبد اللہ بن قیس خاص نبیﷺ کے پاس پہرہ دے رہے تھے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 یہ واقعہ ابن ِ سعد نے روایت کیا ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ بنو قینقاع کے یہود تھے۔ (۲/۳۴) لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ بنو قینقاع کو جنگ ِ بدر کے کچھ ہی دنوں بعد جلاوطن کردیا گیا تھا۔
عبد اللہ بن اُبیّ اور اس کے ساتھیوں کی سر کشی:
طلوع ِ فجر سے کچھ پہلے آپ پھر چل پڑے اور مقام ”شوط” پہنچ کر فجر کی نماز پڑھی۔ اب آپﷺ دشمن کے بالکل قریب تھے اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ یہیں پہنچ کر عبد اللہ بن اُیّ منافق نے بغاوت کردی، اور کوئی ایک تہائی لشکر، یعنی تین سو افراد کو لے کر یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ کیوں خواہ مخواہ اپنی جان دیں۔ اس نے اس بات پر بھی احتجاج کا مظاہرہ کیا کہ رسول اللہﷺ نے اس کی بات نہیں مانی اور دوسروں کی بات مان لی۔
یقینا ً اس علیحدگی کا سبب وہ نہیں تھا جو اس منافق نے ظاہر کیا تھا کہ رسول اللہﷺ نے اس کی بات نہیں مانی ، کیونکہ اس صورت میں جیش ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہاں تک اس کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اسے لشکر کی روانگی کے پہلے ہی قدم پرالگ ہوجاناچاہیے تھا۔ اس لیے حقیقت وہ نہیں جو اس نے ظاہر کی تھی بلکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ اس نازک موڑ پر الگ ہوکر اسلامی لشکر میں ایسے وقت اضطراب اور کھلبلی مچانا چاہتا تھا جب دشمن اس کی ایک ایک نقل و حرکت دیکھ رہا ہو ، تاکہ ایک طرف تو عام فوجی نبیﷺ کا ساتھ چھوڑ دیں اور جو باقی رہ جائیں ان کے حوصلے ٹوٹ جائیں اور دوسری طرف اس منظر کو دیکھ کر دشمن کی ہمت بندھے اور اس کے حوصلے بلند ہوں۔ لہٰذا یہ کارروائی نبیﷺ اور ان کے مخلص ساتھیوں کے خاتمے کی ایک مؤثر تدبیر تھی جس کے بعداس منافق کو توقع تھی کہ اس کی اور اس کے رفقاء کی سرداری وسربراہی کے لیے میدان صاف ہو جائے گا۔
قریب تھا کہ یہ منافق اپنے بعض مقاصد کی برآری میں کامیاب ہو جاتا ، کیونکہ مزید دوجماعتوں، یعنی قبیلہ اوس میںسے بنوحارثہ اور قبیلہ خزرج میںسے بنوسلمہ کے قد م بھی اکھڑ چکے تھے اور وہ واپسی کی سوچ رہے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی دستگیری کی اور یہ دونوں جماعتیں اضطراب اور ارادۂ واپسی کے بعد جم گئیں۔ انہیں کے متعلق اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے :
إِذْ هَمَّت طَّائِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَا وَاللَّـهُ وَلِيُّهُمَا ۗ وَعَلَى اللَّـهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿١٢٢﴾ (۳: ۱۲۲)
”جب تم میں سے دو جماعتوں نے قصد کیا کہ بُزدلی اختیار کریں ، اور اللہ ان کا ولی ہے ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے ۔”
بہر حال منافقین نے واپسی کا فیصلہ کیا تو اس نازک ترین موقعے پر حضرت جابرؓ کے والدحضرت عبد اللہ بن حرامؓ نے انہیں ان کا فرض یا ددلانا چاہا۔ چنانچہ موصوف انہیں ڈانٹتے ہوئے ، واپسی کی ترغیب دیتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چلے کہ آؤ ! اللہ کی راہ میں لڑو یاد فاع کرو۔ مگر انہوں نے جواب میں کہا : اگر ہم جانتے کہ آپ لوگ لڑائی کریں گے تو ہم واپس نہ ہوتے۔ یہ جواب سن کر حضرت عبد اللہ بن حرام یہ کہتے ہوئے واپس ہوئے کہ او اللہ کے دشمنو! تم پر اللہ کی مار۔ یاد رکھو ! اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے مستغنی کردے گا۔
انہی منافقین کے بارے میںاللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ ۗ هُمْ لِلْكُفْرِ‌ يَوْمَئِذٍ أَقْرَ‌بُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَانِ ۚ يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۗ وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ ﴿١٦٧﴾ (۳: ۱۶۷ )
”اور تاکہ اللہ انہیں بھی جان لے جنہوں نے منافقت کی ، اور ان سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑائی کرو یادفاع کرو تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم لڑائی جانتے تو یقینا تمہاری پیروی کرتے۔ یہ لوگ آج ایمان کی بہ نسبت کفر کے زیادہ قریب ہیں۔ منہ سے ایسی بات کہتے ہیں جو دل میں نہیں ہے اور یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اللہ اسے جانتا ہے ۔”
بقیہ اسلامی لشکر دامنِ اُحد میں:
اس بغاوت اور واپسی کے بعد رسول اللہﷺ نے باقی ماندہ لشکر کو لے کر ، جس کی تعداد سات سو تھی ، دشمن کی طرف قدم بڑھایا۔ دشمن کا پڑاؤ آپ کے درمیان اور اُحد کے درمیان کئی سمت سے حائل تھا۔ اس لیے آپﷺ نے دریافت کیا کہ کوئی آدمی ہے جو ہمیں دشمن کے پاس سے گزرے بغیر کسی قریبی راستے سے لے چلے۔
اس کے جواب میں ابو خَیْثَمہؓ نے عرض کیا :”یا رسول اللہ!ﷺ میں اس خدمت کے لیے حاضر ہوں۔” پھر انہوں نے ایک مختصر سا راستہ اختیار کیا جو مشرکین کے لشکر کو مغرب کی سمت چھوڑتا ہوا بنی حارثہ کے حرہ اور کھیتوں سے گزرتا تھا۔
اس راستے سے جاتے ہوئے لشکر کا گزر مربع بن قیظی کے باغ سے ہو ا۔ یہ شخص منافق بھی تھا اور نابینا بھی۔ اس نے لشکر کی آمد محسوس کی تو مسلمانوں کے چہروں پر دھول پھینکنے لگا اور کہنے لگا : اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو یادرکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے باغ میں آنے کی اجازت نہیں۔ لوگ اسے قتل کرنے کو لپکے لیکن آپﷺ نے فرمایا : ”اسے قتل نہ کرو۔ یہ دل اور آنکھ دونوں کا اندھا ہے۔”
پھر رسول اللہﷺ نے آگے بڑ ھ کر وادی کے آخری سرے پر واقع اُحد پہاڑ کی گھاٹی میں نزول فرمایا اور وہیں اپنے لشکرکاکیمپ لگوایا۔ سامنے مدینہ تھا اور پیچھے اُحد کا بلند وبالا پہاڑ ، اس طرح دشمن کا لشکر مسلمانوں اور مدینے کے درمیان حَدِّ فاصل بن گیا۔
دفاعی منصوبہ:
یہاں پہنچ کر رسول اللہﷺ نے لشکر کی ترتیب وتنظیم قائم کی، اور جنگی نقطۂ نظر سے اسے کئی صفوں میں تقسیم فرمایا۔ ماہر تیر اندازوں کا ایک دستہ بھی منتخب کیا جو پچاس مردان جنگی پر مشتمل تھا۔ ان کی کمان حضرت عبد اللہ بن جبیر بن نعمان انصاری دَوْسی بدر یؓ کو سپر د کی، اور انہیں وادی قناۃ کے جنوبی کنارے پر واقع ایک چھوٹی سی پہاڑی پر جو اسلامی لشکر کے کیمپ سے کوئی ڈیڑھ سو میٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور اب جبل رماۃ کے نام سے مشہور ہے ، تعینات فرمایا۔ اس کا مقصد ان کلمات سے واضح ہے جو آپﷺ نے ان تیر اندازوں کو ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمائے۔ آپﷺ نے ان کے کمانڈر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ”شہسواروں کو تیر مار کر ہم سے دور رکھو۔ وہ پیچھے سے ہم پر چڑھ نہ آئیں۔ ہم جیتیں یا ہاریں تم اپنی جگہ رہنا۔ تمہاری طرف سے ہم پر حملہ نہ ہونے پائے ۔”1 پھر آپﷺ نے تیراندازوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ”ہماری پشت کی حفاظت کرنا۔ اگر دیکھو کہ ہم مارے جارہے ہیں تو ہماری مدد کو نہ آنا اور اگر دیکھوکہ ہم مال غنیمت سمیٹ رہے ہیں تو ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا۔”2اور صحیح بخاری کے الفاظ کے مطابق آپﷺ نے یوں فرمایا : ”اگر تم لوگ دیکھو کہ ہمیں پرندے اچک رہے ہیں تو بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ نا یہاں تک کہ میں بلابھیجوں ، اور اگر تم لوگ دیکھو کہ ہم نے قوم کو شکست دے دی ہے اور انہیں کچل دیا ہے تو بھی اپنی جگہ نہ چھوڑنا یہاں تک کہ میں بلا بھیجوں۔”3
ان سخت ترین فوجی احکامات وہدایات کے ساتھ اس دستے کو اس پہاڑی پر متعین فرماکر رسول اللہﷺ نے وہ واحد شگاف بند فرمادیا جس سے نفوذ کر کے مشرکین کا رسالہ مسلمانوں کی صفوں کے پیچھے پہنچ سکتا تھا اور ان کو محاصر ے اور نرغے میں لے سکتا تھا۔
باقی لشکر کی ترتیب یہ تھی کہ مَیمنہ پر حضرت مُنْذِرؓ بن عَمرو مقرر ہوئے اور مَیْسَرہ پر حضرت زُبیرؓ بن عوام – اور ان کا معاون حضرت مِقدادؓ بن اسود کو بنایا گیا – حضرت زبیرؓ کو یہ مہم بھی سونپی گئی کہ وہ خالد بن ولید کے شہسواروں کی راہ روکے رکھیں۔ اس ترتیب کے علاوہ صف کے اگلے حصے میں ایسے ممتاز اور منتخب بہادر مسلمان رکھے گئے جس کی جانبازی ودلیری کا شہرہ تھا۔ اور جنہیں ہزاروں کے برابر ماناجاتا تھا۔
یہ منصوبہ بڑی باریکی اور حکمت پر مبنی تھا۔ جس سے نبیﷺ کی فوجی قیادت کی عبقریت کا پتہ چلتا ہے۔ اور ثابت ہوتا ہے کہ کوئی کمانڈر خواہ کیسا ہی بالیاقت کیوں نہ ہو آپﷺ سے زیادہ باریک اور باحکمت منصوبہ تیارنہیں کرسکتا۔کیونکہ آپﷺ باوجود یکہ دشمن کے بعد یہاں تشریف لائے تھے۔ لیکن آپﷺ نے اپنے لشکر کے لیے وہ مقام منتخب فرمایا جو جنگی نقطۂ نظر سے میدانِ جنگ کا سب سے بہترین مقام تھا۔ یعنی آپﷺ نے پہاڑ کی بلندیوں کی اوٹ لے کر اپنی پُشت اور دایاں بازو محفوظ کرلیا۔ اور بائیں بازو دورانِ جنگ جس واحد شگاف سے حملہ کر کے پُشت تک پہنچا جاسکتا تھا اسے تیر اندازوں کے ذریعے بند کردیا۔ اور پڑاؤ کے لیے ایک اونچی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابنِ ہشام ۲/۶۵ ، ۶۶
2 احمد، طبرانی ، حاکم ، عن ابن عباس۔ دیکھئے فتح الباری ۷/۳۵۰
3 صحیح بخاری کتاب الجہاد ۱/۴۲۶
جگہ منتخب فرمائی کہ اگر خدانخواستہ شکست سے دوچار ہونا پڑے تو بھا گنے اور تعاقب کنندگان کی قید میں جانے کے بجائے کیمپ میں پناہ لی جاس کے۔ اور اگر دشمن کیمپ پرقبضے کے لیے پیش قدمی کرے تو اسے نہایت سنگین خسارہ پہنچایا جاس کے۔ اس کے بر عکس آپﷺ نے دشمن کو اپنے کیمپ کے لیے ایک ایسا نشیبی مقام قبول کرنے پر مجبور کردیا کہ اگر وہ غالب آجائے تو فتح کا کوئی خاص فائدہ نہ اُٹھا سکے۔ اور اگر مسلمان غالب آجائیں تو تعاقب کرنے والوں کی گرفت سے بچ نہ سکے۔ اسی طرح آپﷺ نے ممتاز بہادروں کی ایک جماعت منتخب کرکے فوجی تعداد کی کمی پوری کردی۔ یہ نبیﷺ کے لشکر کی ترتیب وتنظیم تھی جو ۷ / شوال ۳ ھ یوم سنیچر کی صبح عمل میں آئی۔
رسول اللہﷺ لشکر میں شجاعت کی روح پھونکتے ہیں:
اس کے بعد رسول اللہﷺ نے اعلان فرمایا کہ جب تک آپﷺ حکم نہ دیں جنگ شروع نہ کی جائے۔ آپﷺ نے نیچے اوپر دوزِرہیں پہن رکھی تھیں۔ اب آپﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنگ کی ترغیب دیتے ہوئے تاکید فرمائی کہ جب دشمن سے ٹکراؤ ہو تو پامردی اور اولو العزمی سے کام لیں۔ آپﷺ نے ان میں دلیری اور بہادری کی روح پھُونکتے ہوئے ایک نہایت تیز تلوار بے نیام کی اور فرمایا : کو ن ہے جو اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کر ے؟ اس پر کئی صحابہ تلوار لینے کے لیے لپک پڑے ، جن میں علیؓ بن ابی طالب ، زبیرؓ بن عوام اور عمرؓ بن خطاب بھی تھے۔ لیکن ابو دُجانہ سِماک بن خَرْشہؓ نے آگے بڑھ کر عرض کی کہ یا رسول اللہ! اس کا حق کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا: اس سے دشمن کے چہرے کو مارو یہاں تک کہ یہ ٹیڑھی ہوجائے۔ انہوں نے کہا : یارسول اللہ ! میں اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپﷺ نے تلوار انہیں دے دی۔
ابو دجانہؓ بڑے جانباز تھے۔ لڑائی کے وقت اکڑ کر چلتے تھے۔ ان کے پاس ایک سُرخ پٹی تھی۔ جب اُسے باندھ لیتے تو لو گ سمجھ جاتے کہ وہ اب موت تک لڑتے رہیں گے۔ چنانچہ جب انہوں نے تلوار لی تو سر پر پٹی بھی باندھ لی اور فریقین کی صفوں کے درمیان اکڑ کر چلنے لگے۔ یہی موقع تھا جب رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ چال اللہ کو ناپسند ہے لیکن اس جیسے موقع پر نہیں۔
مکی لشکر کی تنظیم:
مشرکین نے بھی صف بندی ہی کے اصول پر اپنے لشکر کو مرتب اور منظم کیا تھا۔ ان کا سپہ سالار ابو سفیان تھا۔ جس نے قلب لشکر میں اپنا مرکز بنا یا تھا۔ مَیمنہ پر خالد بن ولید تھے جو ابھی مشرک تھے ، مَیْسرہ پر عکرمہ بن ابی جہل تھا۔ پیدل فوج کی کمان صفوان بن امیہ کے پاس تھی اور تیر اندازوں پر عبد اللہ بن ربیعہ مقرر ہوئے۔
جھنڈا عبد الدار کی ایک چھوٹی سی جماعت کے ہاتھ میں تھا۔ یہ منصب انہیں اسی وقت سے حاصل تھا جب بنو عبد مناف نے قُصی سے وراثت میں پائے ہوئے مناصب کو باہم تقسیم کیا تھا۔ جس کی تفصیل ابتدائے کتاب میں گزر چکی ہے۔ پھر باپ دادا سے جو دستور چلا آرہا تھا اس کے پیش ِ نظر کوئی شخص اس منصب کے بارے میں ان سے نزاع بھی نہیں کرسکتا تھا، لیکن سپہ سالار ابو سفیان نے انہیں یاد دلایا کہ جنگ ِ بدر میں ان کا پرچم بردار نضر بن حارث گرفتار ہوا تو قریش کو کن حالات سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اس بات کو یاد دلانے کے ساتھ ہی ان کا غصہ بھڑکانے کے لیے کہا : اے بنی عبد الدار ! بدر کے روز آپ لوگوں نے ہمار اجھنڈا لے رکھا تھا تو ہمیں جن حالات سے دوچار ہونا پڑا وہ آپ نے دیکھ ہی لیا ہے۔ درحقیقت فوج پر جھنڈے ہی کے جانب سے زد پڑتی ہے۔ جب جھنڈا گرپڑتا ہے تو فوج کے قدم اکھڑ جاتے ہیں، پس اب کی بار آپ لوگ یا تو ہمارا جھنڈا ٹھیک طور سے سنبھالیں یا ہمارے اور جھنڈے کے درمیان سے ہٹ جائیں۔ ہم اس کا انتظام خود کرلیں گے۔ اِ س گفتگو سے ابوسفیان کا جو مقصد تھا اس میں وہ کامیاب رہا۔ اس کی بات سن کر بنی عبد الدار کو سخت تاؤ آیا۔ انہوں نے دھمکیاں دیں۔معلوم ہوتا تھا کہ اس پر پل پڑیں گے۔ کہنے لگے : ہم اپنا جھنڈا تمہیں دیں گے ؟ کل جب ٹکر ہوگی تو دیکھ لینا ہم کیا کرتے ہیں۔ اور واقعی جب جنگ شروع ہوئی تو وہ نہایت پامردی کے ساتھ جمے رہے، یہاں تک کہ ان کا ایک ایک آدمی لقمۂ اجل بن گیا۔
قریش کی سیاسی چال بازی:
آغاز جنگ سے کچھ پہلے قریش نے مسلمانوں کی صف میں پھوٹ ڈالنے اور نزاع پیدا کر نے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے ابو سفیان نے انصار کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگ ہمارے اور ہمارے چچیرے بھائی (محمدﷺ ) کے بیچ سے ہٹ جائیں تو ہمار ارُخ بھی آپ کی طرف نہ ہوگا۔ کیونکہ ہمیں آپ لوگوںسے لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن جس ایمان کے آگے پہاڑ بھی نہیں ٹھہر سکتے اس کے آگے یہ چال کیونکر کامیاب ہوسکتی تھی۔ چنانچہ انصار نے اسے نہایت سخت جواب دیا اور کڑوی کسیلی سنائی۔
پھر وقت صفر قریب آگیا۔ اور دونوں فوجیں ایک دوسرے کے قریب آگئیں تو قریش نے اس مقصد کے لیے ایک اور کوشش کی۔ یعنی ان کا ایک خیانت کوش آلۂ کار ابو عامر فاسق مسلمانوں کے سامنے نمودار ہوا۔ اس شخص کا نام عبد عمرو بن صیفی تھا۔ اور اسے راہب کہا جاتا تھا لیکن رسول اللہﷺ نے اس کا نام فاسق رکھ دیا۔ یہ جاہلیت میں قبیلۂ اوس کا سردار تھا۔ لیکن جب اسلام کی آمد آمد ہوئی تو اسلام اس کے گلے کی پھانس بن گیا۔ اور وہ رسول اللہﷺ کے خلاف کھل کر عداوت پراُتر آیا۔ چنانچہ وہ مدینہ سے نکل کر قریش کے پاس پہنچا۔ اور انہیں آپﷺ کے خلاف بھڑ کا بھڑکا کر آمادۂ جنگ کیا۔ اور یقین دلایا کہ میری قوم کے لوگ مجھے دیکھیں گے تومیری بات مان کر میرے ساتھ ہوجائیں گے۔ چنانچہ یہ پہلا شخص تھا جو میدان ِ اُحدمیں احابیش اور اہل ِ مکہ کے غلاموں کے ہمراہ مسلمانوں کے سامنے آیا۔ اور اپنی قوم کو پکار کر اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا : قبیلہ اوس کے لوگو! میں ابو عامر ہوں۔ ان لوگوں نے کہا : اوفاسق ! اللہ تیر ی آنکھ کو خوشی نصیب نہ کرے۔ اس نے یہ جواب سنا تو کہا : اوہو ! میری قوم میرے بعد شر سے دوچار ہوگئی ہے۔ (پھر جب لڑائی شروع ہوئی تو اس شخص نے بڑی پُر زور جنگ کی اور مسلمانوں پر جم کر پتھر برسائے)
اس طرح قریش کی جانب سے اہلِ ایمان کی صفوں میں تفرقہ ڈالنے کی دوسری کوشش بھی ناکام رہی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تعداد کی کثرت اور سازوسامان کی فراوانی کے باوجودمشرکین کے دلوں پر مسلمانوں کا کس قدر خوف اور ان کی کیسی ہیبت طاری تھی۔
جوش وہمت دلانے کے لیے قریشی عورتوں کی تگ وتاز:
ادھر قریشی عورتیں بھی جنگ میں اپنا حصہ ادا کر نے اٹھیں۔ ان کی قیادت ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ کر رہی تھی۔ ان عورتوں نے صفوں میں گھوم گھوم کر اور دف پیٹ پیٹ کر لوگوں کو جوش دلایا۔ لڑائی کے لیے بھڑ کایا ، جانبازوں کو غیرت دلائی ، اور نیزہ بازی وشمشیر زنی ، مار دھاڑ اور تیرا فگنی کے لیے جذبات کو بر انگیختہ کیا۔ کبھی وہ علمبرداروں کو مخاطب کر کے یوں کہتیں :
ویہا بنی عبد الدار ویہا حماۃ الأدبار ضرباً بکل بتار
دیکھو ! عبد الدار ! دیکھو! پشت کے پاسدار خوب کرو شمشیر کا وار
اور کبھی اپنی قوم کو لڑائی کا جوش دلاتے ہوئے یوں کہتیں :
إن تقبلوا نعانق ونفرش النمارق أو تدبروا نفارق فراق غیر وامق
”اگر پیش قدمی کرو گے تو ہم گلے لگائیں گی۔ اور قالینیں بچھائیں گی۔ اور اگر پیچھے ہٹو گے تو روٹھ جائیں گی اور الگ ہوجائیں گی۔ ”
جنگ کا پہلا ایندھن:
اس کے بعددونوں فریق بالکل آمنے سامنے اور قریب آگئے۔ اور لڑائی کا مرحلہ شروع ہوگیا۔ جنگ کا پہلا ایندھن مشرکین کا علمبردارطلحہ بن ابی طلحہ عبدری بنا۔ یہ شخص قریش کا نہایت بہادر شہسوار تھا۔ اسے مسلمان کبش الکتیبہ (لشکر کا مینڈھا ) کہتے تھے۔ یہ اونٹ پر سوار ہوکر نکلا اور مُبارزت کی دعوت دی ، اس کی حدسے بڑی ہوئی شجاعت کے سبب عام صحابہ مقابلے سے کترا گئے۔ لیکن حضرت زبیر آگے بڑھے اور ایک لمحہ کی مہلت دیئے بغیر شیر کی طرح جست لگا کر اونٹ پر جاچڑھے۔ پھر اسے اپنی گرفت میں لے کر زمین پر کود گئے اور تلوار سے ذبح کردیا۔
نبیﷺ نے یہ ولولہ انگیز منظر دیکھا تو فرطِ مسرت سے نعر ۂ تکبیر بلند کیا۔ مسلمانوں نے بھی نعرۂ تکبیر لگایا، پھر آپﷺ نے حضرت زبیرؓ کی تعریف کی اور فرمایا : ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے۔ اور میرے حواری زبیر ہیں۔1
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 اس کا ذکر صاحب سیر ت حلبیہ نے کیا ہے۔ ورنہ احادیث میں یہ جملہ دوسرے موقعے پر مذکور ہے۔
معرکہ کا مرکزِ ثقل اور علمبرداروں کا صفایا:
اس کے بعد ہر طرف جنگ کے شُعلے بھڑ ک اُٹھے۔ اور پورے میدان میں پُر زور مار دھاڑ شروع ہوگئی۔ مشرکین کا پرچم معرکے کا مرکزِ ثقل تھا۔ بنو عبد الدار نے اپنے کمانڈر طلحہ بن ابی طلحہ کے قتل کے بعد یکے بعد دیگرے پرچم سنبھالا۔ لیکن سب کے سب مارے گئے۔ سب سے پہلے طلحہ کے بھائی عثمان بن ابی طلحہ نے پرچم اٹھایا اور یہ کہتے ہوئے آگے بڑھا :
إن علی أہل اللواء حقًا
أن تخضب الصعدۃ أو تندقا
”پرچم والوں کا فرض ہے کہ نیزہ (خون سے ) رنگین ہوجائے یا ٹوٹ جائے۔”
اس شخص پر حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ نے حملہ کیا اور اس کے کندھے پر ایسی تلوار ماری کہ وہ ہاتھ سمیت کندھے کو کاٹتی اور جسم کو چیرتی ہوئی ناف تک جاپہنچی، یہاں تک کہ پھیپھڑا دکھا ئی دینے لگا۔
اس کے بعد ابو سعد بن ابی طلحہ نے جھنڈا اٹھایا۔ اس پر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے تیر چلایا۔ اور وہ ٹھیک اس کے گلے میں لگا ، جس سے اس کی زبا ن باہر نکل آئی اور وہ اسی وقت مر گیا – لیکن بعض سیرت نگاروں کا کہنا ہے کہ ابوسعد نے باہر نکل کر دعو ت ِ مُبارَزَت دی۔ اور حضرت علیؓ نے آگے بڑھ کر مقابلہ کیا، دونوں نے ایک دوسرے پر تلوار کا ایک وار کیا، لیکن حضرت علیؓ نے ابو سعد کو مارلیا۔
اس کے بعد مسافع بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈا اٹھا لیا، لیکن اسے عاصم بن ثابت بن ابی افلحؓ نے تیر مارکر قتل کردیا۔ اس کے بعد اس کے بھائی کلاب بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈا اٹھایا۔ مگر اس پر حضرت زُبیر بن عوامؓ ٹوٹ پڑے، اور لڑبھڑ کر اس کاکام تمام کردیا۔ پھر ان دونوں کے بھائی جلاس بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈا اٹھایا۔ مگر اسے طلحہ بن عبید اللہؓ نے نیزہ مار کر ختم کردیا۔ اور کہا جاتا ہے کہ عاصم بن ثابت بن ابی افلحؓ نے تیر مار کر ختم کیا۔
یہ ایک ہی گھر کے چھ افراد تھے۔ یعنی سب کے سب ابوطلحہ عبد اللہ بن عثمان بن عبد الدار کے بیٹے یا پوتے تھے۔ جو مشرکین کے جھنڈے کی حفاظت کرتے ہوئے مارے گئے۔ اس کے بعد قبیلہ بنی عبد الدار کے ایک اور شخص اَرْطَاۃ بن شُرَحْبِیل نے پر چم سنبھا لا۔ لیکن اسے حضرت علی بن ابی طالبؓ نے ، اور کہا جاتا ہے کہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ نے قتل کر دیا۔ اس کے بعد شُرَیح بن قارظ نے جھنڈا اٹھا یا۔ مگر اسے قزمان نے قتل کردیا – قزمان منافق تھا۔ اور اسلام کے بجائے قبائلی حمیت کے جوش میں مسلمانوں کے ہمراہ لڑنے آیاتھا – شریح کے بعد ابو زید بن عمرو بن عبد مناف عبدری نے جھنڈا سنبھالا۔ مگر اسے بھی قزمان نے ٹھکانے لگا دیا۔ پھر شُرَحْبیل بن ہاشم عبدری کے ایک لڑکے نے جھنڈا اٹھایا۔ مگر وہ بھی قزمان کے ہاتھوں مارا گیا۔
یہ بنو عبد الدار کے دس افراد ہوئے جنہوں نے مشرکین کا جھنڈااٹھایا اور سب کے سب مارے گئے۔ اس کے بعد اس قبیلے کا کوئی آدمی باقی نہ بچا جو جھنڈا اٹھاتا۔ لیکن اس موقعے پر ان کے ایک حبشی غلام نے – جس کا نام صواب تھا – لپک کر جھنڈا اٹھا لیا۔ اور ایسی بہادری اور پامردی سے لڑاکہ اپنے سے پہلے جھنڈا اٹھانے والے اپنے آقاؤں سے بھی بازی لے گیا۔ یعنی یہ شخص مسلسل لڑتا رہا، یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھ یکے بعد دیگر ے کاٹ دیے گئے لیکن اس کے بعد بھی اس نے جھنڈا گرنے نہ دیا، بلکہ گھٹنے کے بل بیٹھ کر سینے اور گردن کی مدد سے کھڑا کیے رکھا یہاں تک کہ جان سے مار ڈالاگیا۔ اور اس وقت بھی یہ کہہ رہاتھا کہ یا اللہ ! اب تو میں نے کوئی عذر باقی نہ چھوڑا؟
اس غلام (صواب) کے قتل کے بعد جھنڈا زمین پر گر گیا۔ اور اِسے کوئی اٹھانے والا باقی نہ بچا، اس لیے وہ گراہی رہا۔
بقیہ حصوں میں جنگ کی کیفیت :
ایک طرف مشرکین کا جھنڈا معرکے کا مرکزِ ثقل تھا تو دوسری طرف میدان کے بقیہ حصوں میں بھی شدید جنگ جاری تھی۔ مسلمانوں کی صفوں پر ایمان کی رُوح چھائی ہوئی تھی۔ اس لیے وہ شرک وکفر کے لشکر پر اس سیلاب کی طرح ٹوٹے پڑ رہے تھے جس کے سامنے کوئی بند ٹھہر نہیں پاتا۔ مسلمان اس موقعے پر اَمِتْ اَمِت کہہ رہے تھے۔ اور اس جنگ میں یہی ان کا شعار تھا۔
ادھر ابو دجانہؓ نے اپنی سُرخ پٹی باندھے، رسول اللہﷺ کی تلوار تھامے، اور اس کے حق کی ادائیگی کا عزم ِ مصمم کیے پیش قدمی کی۔ اور لڑتے ہوئے دور تک جاگھسے وہ جس مشرک سے ٹکراتے اس کا صفایا کردیتے۔ انہوں نے مشرکین کی صفوں کی صفیں اُلٹ دیں۔
حضرت زبیر بن عوامؓ کا بیان ہے کہ جب میں نے رسول اللہﷺ سے تلوار مانگی اور آپ نے مجھے نہ دی تو میرے دل پر اس کا اثر ہو ا۔ اور میں نے اپنے جی میں سوچا کہ میں آپ کی پھوپھی حضرت صفیہ کا بیٹا ہوں ، قریشی ہوں۔ اور میں نے آپ کے پاس جاکر ابو دجانہ سے پہلے تلوار مانگی ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہ دی ، اور انہیں دے دی۔ اس لیے واللہ ! میں دیکھوں گا کہ وہ اس سے کیا کام لیتے ہیں ؟ چنانچہ میں ان کے پیچھے لگ گیا۔ انہوں نے یہ کیا کہ پہلے اپنی سرخ پٹی نکالی اورسر پر باندھی۔ اس پر انصار نے کہا: ابو دُجانہ نے موت کی پٹی نکال لی ہے۔ پھر وہ یہ کہتے ہوئے میدان کی طرف بڑھے۔
أنا الـذی عاہدنـی خلیـلـی ونحن بالسفح لـدی النخیل
أن لا أقوم الدہر في الکیول اضرب بسیف اللہ والرسول
”میں نے اس نخلستان کے دامن میں اپنے خلیلﷺ سے عہد کیا ہے کہ کبھی صفوں کے پیچھے نہ رہوں گا۔ (بلکہ آگے بڑھ کر ) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار چلاؤں گا۔”
اس کے بعد انہیں جو بھی مل جاتا اسے قتل کردیتے۔ ادھر مشرکین میں ایک شخص تھا جو ہمارے کسی بھی زخمی کو پاجاتا تو اس کا خاتمہ کردیتا تھا۔ یہ دونوں رفتہ رفتہ قریب ہورہے تھے۔ میں نے اللہ سے دعا کی کہ دونوں میں ٹکر ہوجائے۔ اور واقعتا ٹکر ہوگئی۔ دونوں نے ایک دوسر ے پر ایک ایک وار کیا۔ پہلے مشرک نے ابو دجانہ پر تلوار چلائی، لیکن ابو دجانہ نے یہ حملہ ڈھال پر روک لیا۔ اور مشرک کی تلوار ڈھال میں پھنس کر رہ گئی۔ اس کے بعد ابودجانہ نے تلوار چلائی اور مشرک کو وہیں ڈھیر کردیا۔1
اس کے بعد ابو دجانہ صفوں پر صفیں درہم برہم کرتے ہوئے آگے بڑھے، یہاں تک کہ قریشی عورتوں کی کمانڈر تک جاپہنچے۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ عورت ہے۔ چنانچہ ان کا بیان ہے کہ میں نے ایک انسان کو دیکھا وہ لوگوں کو بڑے زور وشور سے جوش وولولہ دلارہا تھا۔ اس لیے میں نے اس کو نشانے پر لے لیا لیکن جب تلوار سے حملہ کرنا چاہا تو اس نے ہائے پکار مچائی اور پتہ چلا کہ عورت ہے۔ میں نے رسول اللہﷺ کی تلوار کو بٹہ نہ لگنے دیا کہ اس سے کسی عورت کو ماروں۔
یہ عورت ہند بنت عتبہ تھی۔ چنانچہ حضرت زُبیر بن عوامؓ کا بیان ہے کہ میں نے ابو دجانہ کو دیکھاکہ انہوں نے ہند بنت عتبہ کے سر کے بیچوں بیچ تلوار بلند کی، اور پھر ہٹالی۔ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسولﷺ بہتر جانتے ہیں۔2
ادھر حضرت حمزہؓ بھی بپھرے ہوئے شیر کی طرح جنگ لڑرہے تھے۔ اور بے نظیر مار دھاڑ کے ساتھ قلب لشکر کی طرف بڑھے اور چڑھے جارہے تھے۔ ان کے سامنے سے بڑے بڑے بہادر اس طرح بکھر جاتے تھے جیسے چومکھی ہوا میں پتے اُڑرہے ہوں۔ انہوں نے مشرکین کے علمبرداروں کے صفائے میں نمایاں رول ادا کرنے کے علاوہ ان کے بڑے بڑے جانبازوں اور بہادروں کا بھی حال خراب کر رکھا تھا لیکن صد حیف کہ اسی عالم میں ان کی شہادت واقع ہوگئی۔ مگر انہیں بہادروں کی طرح رُو در رُو لڑ کر شہیدنہیں کیا گیا بلکہ بزدلوں کی طرح چھپ چھپا کر بے خبری کے عالم میں مارا گیا۔
اللہ کے شیر حضرت حمزہؓ کی شہادت:
حضرت حمزہؓ کا قاتل وحشی بن حرب تھا۔ ہم ان کی شہادت کا واقعہ اسی کی زبانی نقل کرتے ہیں۔ اس کا بیان ہے کہ میں جُبیر بن مُطْعم کا غلام تھا۔ اور ان کا چچا طُعیمہ بن عِدِی جنگ بدر میں مارا گیا تھا۔ جب قریش جنگ احد پر روانہ ہونے لگے تو جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا : اگر تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حمزہؓ کو میرے چچا کے بدلے قتل کردو تو تم آزاد ہو۔ وحشی کا بیان ہے کہ (اس پیش کش کے نتیجے میں ) میں بھی لوگوں کے ساتھ روانہ ہوا۔ میں حبشی آدمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۲/۶۸، ۶۹ 2 ابنِ ہشام ۲/۶۹
تھا۔اور حبشیوں کی طرح نیزہ پھینکنے میں ماہر تھا۔ نشانہ کم ہی چوُکتا تھا۔ جب لوگو ں میں جنگ چھڑ گئی تو میں نکل کر حمزہ کو دیکھنے لگا۔ میری نگاہیں انہی کی تلاش میں تھیں۔ بالآخر میں نے انہیں لوگوں کی پہنائی میں دیکھ لیا۔ وہ خاکستری اونٹ معلوم ہورہے تھے۔ لوگوں کو درہم برہم کرتے جارہے تھے، ان کے سامنے کو ئی چیز ٹک نہیں پاتی تھی۔
واللہ ! میں ابھی ان کے ارادے سے تیار ہی ہورہا تھا اور ایک درخت یا پتھر کی اوٹ میں چھپ کر انہیں قریب آنے کا موقع دیناچاہتا تھا کہ اتنے میں سباع بن عبد العزیٰ مجھ سے آگے بڑھ کر ان کے پاس جاپہنچا۔ حمزہؓ نے اسے للکارتے ہوئے کہا : او شرمگاہ کی چمڑی کا ٹنے والی کے بیٹے ! یہ لے۔ اور ساتھ ہی اس زور کی تلوار ماری کہ گویا اس کا سر تھا ہی نہیں۔
وحشی کا بیان ہے کہ اس کے ساتھ ہی میں نے اپنا نیزہ تولا اور جب میری مرضی کے مطابق ہوگیا تو ان کی طرف اچھال دیا۔ نیزہ ناف کے نیچے لگا اور دونوں پاؤں کے بیچ سے پار ہو گیا۔ انہوں نے میری طرف اٹھنا چاہا۔ لیکن مغلوب ہوگئے میں نے ان کو اسی حال میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ اس کے بعد میں نے ان کے پاس جاکر اپنا نیزہ نکال لیا۔ اور لشکر میں واپس جاکر بیٹھ گیا۔ (میرا کام ہوچکا تھا ) مجھے ان کے سوا کسی اور سے سروکار نہ تھا۔ میں نے انہیں محض اس لیے قتل کیا تھا کہ آزاد ہو جاؤں۔ چنانچہ جب مکہ آیا تو مجھے آزادی مل گئی۔1
مسلمانوں کی بالادستی:
اللہ کے شیر اور رسولﷺ کے شیر حضرت حمزہؓ کی شہادت کے نتیجے میں مسلمانوں کو جو سنگین خسارہ اور ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچا اس کے باوجود جنگ میں مسلمانوں ہی کا پلہ بھاری رہا۔ حضرت ابو بکر وعمر ، علی وزبیر ، مصعب بن عُمیر ، طلحہ بن عبید اللہ ، عبد اللہ بن جحش ، سعد بن معاذ ، سعد بن عبادہ ، سعد بن ربیع اور نضر بن انس وغیرہم نے ایسی پامردی وجانبازی سے لڑائی لڑی کہ مشرکین کے چھکے چھوٹ گئے۔حوصلے ٹوٹ گئے اور ان کی قوتِ بازو جواب دے گئی۔
عورت کی آغوش سے تلوار کی دھار پر:
اور آیئے ! ذرا ادھر دیکھیں۔ اپنی جان فروش شہبازوں میں ایک اور بزرگ حضرت حَنْظَلۃ الغَسیلؓ نظر آرہے ہیں۔ جو آج ایک نرالی شان سے میدانِ جنگ میں تشریف لا ئے ہیں – آپ اسی ابو عامر راہب کے بیٹے ہیں جسے بعد میں فاسق کے نام سے شہرت ملی۔ اور جس کا ذکر ہم پچھلے صفحات میں کر چکے ہیں۔ حضرت حنظلہ نے ابھی نئی نئی شادی کی تھی۔ جنگ کی منادی ہوئی تو وہ بیوی سے ہم آغوش تھے۔ آواز سنتے ہی آغوش سے نکل کر جہاد کے لیے رواں دواں ہوگئے۔ اور جب مشرکین کے ساتھ میدانِ کارزار گرم ہوا تو ان کی صفیں چیر تے پھاڑتے ان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۲ ٌ/۶۹-۷۲ صحیح بخاری ۲/۵۸۳ وحشی نے جنگ طائف کے بعد اسلام قبول کیا۔ اور اپنے اسی نیزے سے دور صدیقی میں جنگ یمامہ کے اندر مَسیلمہ کذاب کو قتل کیا۔ رومیوں کے خلاف جنگ ِ یر موک میں بھی شرکت کی۔
کے سپہ سالار ابو سفیان تک جاپہنچے اور قریب تھاکہ اس کاکام تمام کردیتے۔ مگر اللہ نے خود ان کے لیے شہادت مقدر کررکھی تھی۔ چنانچہ انہوں نے جوں ہی ابو سفیان کو نشانے پر لے کر تلوار بلند کی شَدّاد بن اوس نے دیکھ لیا اور جھٹ حملہ کردیا جس سے خود حضرت حنظلہؓ شہید ہوگئے۔
تیر اندازوں کاکارنامہ :
جبل رماۃ پر جن تیر اندازوں کو رسول اللہﷺ نے متعین فرمایا تھا انہوں نے بھی جنگ کی رفتار مسلمانوں کے موافق چلانے میں بڑا اہم رول ادا کیا۔ مکی شہسواروں نے خالد بن ولید کی قیادت میں اور ابو عامر فاسق کی مدد سے اسلامی فوج کا بایا ں بازو توڑ کر مسلمانوں کی پشت تک پہنچنے اور ان کی صفوں میں کھلبلی مچاکر بھر پور شکست سے دوچار کرنے کے لیے تین بار پُر زور حملے کیے۔ لیکن مسلمان تیر اندازوں نے انہیں اس طرح تیروں سے چھلنی کیا کہ ان کے تینوں حملے ناکام ہو گئے۔1
مشرکین کی شکست:
کچھ دیر تک اسی طرح شدید جنگ ہوتی رہی۔ اور چھوٹا سا اسلامی لشکر ، رفتارِ جنگ پر پوری طرح مسلط رہا۔ بالآخر مشرکین کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ ان کی صفیں دائیں بائیں ، آگے پیچھے سے بکھرنے لگیں۔ گویا تین ہزار مشرکین کو سات سو نہیں بلکہ تیس ہزار مسلمانوں کا سامنا ہے۔ ادھر مسلمان تھے کہ ایمان ویقین اور جانبازی وشجاعت کی نہایت بلند پایہ تصویر بنے شمشیر وسنان کے جوہر دکھلارہے تھے۔
جب قریش نے مسلمانوں کے تابڑ توڑ حملے روکنے کے لیے اپنی انتہائی طاقت صَرف کر نے کے باوجود مجبوری وبے بسی محسوس کی ، اور ان کے حوصلے اس حد تک ٹوٹ گئے کہ صواب کے قتل کے بعد کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ سلسلۂ جنگ جاری رکھنے کے لیے اپنے گرے ہوئے جھنڈے کے قریب جاکر اسے بلند کرے تو انہوں نے پسپا ہونا شروع کر دیا۔ اور فرار کی راہ اختیار کی۔ اور بدلہ وانتقام ، بحالیٔ عزت ووقار اور واپسیٔ مجد وشرف کی جو باتیں انہوں نے سوچ رکھی تھیں انہیں یکسر بھول گئے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ اللہ نے مسلمانوں پر اپنی مدد نازل کی، اور ان سے اپنا وعدہ پورا کیا۔ چنانچہ مسلمانوں نے تلواروں سے مشرکین کی ایسی کٹائی کی کہ وہ کیمپ سے بھی پرے بھاگ گئے۔ اور بلا شبہ ان کو شکست فاش ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کا بیان ہے کہ ان کے والد نے فرمایا: واللہ! میں نے دیکھا کہ ہند بنت عتبہ اور اس کی ساتھی عورتوں کی پنڈلیاں نظر آرہی ہیں۔ وہ کپڑے اٹھائے بھاگی جارہی ہیں۔ ان کی گرفتاری میں کچھ بھی حائل نہیں … الخ 2
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے: فتح الباری ۷/۳۴۶
2 ابن ہشام ۲/۷۷
صحیح بخاری میں حضرت براء بن عازبؓ کی روایت ہے کہ جب مشرکین سے ہماری ٹکر ہوئی تو مشرکین میں بھگدڑ مچ گئی۔ یہاں تک کہ میں نے عورتوں کو دیکھا کہ پنڈلیوں سے کپڑ ے اٹھائے پہاڑ میں تیزی سے بھاگ رہی تھیں۔ ان کے پازیب دکھائی پڑرہے تھے۔ 1اور اس بھگدڑ کے عالم میں مسلمان مشرکین پر تلوار چلاتے اور مال سمیٹتے ہوئے ان کا تعاقب کررہے تھے۔
تیر اندازوں کی خوفناک غلطی:
لیکن عین اس وقت جبکہ یہ مختصر سااسلامی لشکر اہل ِ مکہ کے خلاف تاریخ کے اوراق پر ایک اور شاندار فتح ثبت کر رہا تھا جو اپنی تابناکی میں جنگ ِ بدر کی فتح سے کسی طرح کم نہ تھی ، تیر اندازوں کی اکثریت نے ایک خوفناک غلطی کا ارتکاب کیا جس کی وجہ سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ مسلمانوں کو شدید نقصانات کا سامنا کر نا پڑا۔ اور خود نبی کریمﷺ شہادت سے بال بال بچے ، اوراس کی وجہ سے مسلمانوں کی وہ ساکھ اور وہ ہیبت جاتی رہی جو جنگ ِ بدر کے نتیجے میں انہیں حاصل ہوئی تھی۔
پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے کہ رسول اللہﷺ نے تیر اندازوں کو فتح وشکست ہر حال میں اپنے پہاڑی مورچے پر ڈٹے رہنے کی کتنی سخت تاکید فرمائی تھی۔ لیکن ان سارے تاکیدی احکامات کے باوجود جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان مال ِ غنیمت لوٹ رہے ہیں تو ان پر حُبّ ِ دنیا کا کچھ اثر غالب آگیا ، چنانچہ بعض نے بعض سے کہا: غنیمت ……! غنیمت …… ! تمہارے ساتھی جیت گئے ……! اب کاہے کا انتظار ہے ؟
اس آواز کے اٹھتے ہی ان کے کمانڈر حضرت عبد اللہؓ بن جبیر نے انہیں رسول اللہﷺ کے احکامات یاد دلائے اور فرمایا : کیا تم لوگ بھول گئے کہ رسول اللہﷺ نے تمہیں کیا حکم دیا تھا ؟ لیکن ان کی غالب اکثریت نے اس یاد دہانی پر کان نہ دھرا اور کہنے لگے : ”اللہ کی قسم! ہم بھی لوگوں کے پاس ضرور جائیں گے اور کچھ مالِ غنیمت ضرور حاصل کریں گے۔ ” 2اس کے بعدچالیس تیر اندازوں نے اپنے مورچے چھوڑ دیے اور مالِ غنیمت سمیٹنے کے لیے عام لشکر میں جا شامل ہوئے۔ اس طرح مسلمانوں کی پشت خالی ہوگئی اور وہاں صرف عبد اللہؓ بن جبیر اور ان کے نو ساتھی باقی رہ گئے جو اس عزم کے ساتھ اپنے مورچوں میں ڈٹے رہے کہ یا تو انہیں اجازت دی جائے گی یاوہ اپنی جان جان آفریں کے حوالے کردیں گے۔
اسلامی لشکر مشرکین کے نرغے میں:
حضرت خالد بن ولیدؓ ، جو اس سے پہلے تین بار اس مورچے کو سر کرنے کی کوشش کر چکے تھے ، اس زرّیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری ۲/۵۷۹
2 یہ بات صحیح بخاری میں حضرت براء بن عازبؓ سے مروی ہے۔ دیکھئے ۱/۴۲۶
موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہایت تیزی سے چکر کاٹ کر اسلامی لشکر کی پشت پر جاپہنچے۔ اور چند لمحوں میں عبداللہؓ بن جبیر اور ان کے ساتھیوں کا صفا یا کر کے مسلمانوں پر پیچھے سے ٹوٹ پڑے۔ ان کے شہسواروں نے ایک نعرہ بلند کیا جس سے شکست خوردہ مشرکین کو اس نئی تبدیلی کا علم ہوگیا۔ اور وہ بھی مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ ادھر قبیلہ بنو حارث کی ایک عورت عمرہ بنت علقمہ نے لپک کر زمین پر پڑا ہوا مشرکین کا جھنڈا اٹھا لیا ، پھر کیا تھا ، بکھرے ہوئے مشرکین اس کے گرد سمٹنے لگے اور ایک نے دوسرے کو آواز دی ، جس کے نتیجے میں وہ مسلمانوں کے خلاف اکٹھے ہوگئے اور جم کر لڑائی شروع کردی۔ اب مسلمان آگے اور پیچھے دونوں طرف سے گھیر ے میں آچکے تھے۔ گویا چکی کے دوپاٹوں کے بیج میں پڑگئے تھے۔
رسول اللہﷺ کا پُر خطر فیصلہ اوردلیرانہ اقدام :
اس وقت رسول اللہﷺ صرف نو صحابہؓ 1کی ذرا سی نفری کے ہمراہ پیچھے 2تشریف فرماتھے اور مسلمانوں کی ماردھاڑ اور مشرکین کے کھدیڑ ے جانے کا منظر دیکھ رہے تھے کہ آپﷺ کو ایک دم اچانک خالد بن ولید کے شہسوار دکھائیپڑے۔ اس کے بعد آپﷺ کے سامنے دوہی راستے تھے ، یا تو آپﷺ اپنے نو رفقاء سمیت بھاگ کر کسی محفوظ جگہ چلے جاتے اور اپنے لشکر کو جو اب نرغے میں آیا ہی چاہتا تھا اس کی قسمت پر چھوڑ دیتے۔ یا اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنے صحابہ کو بلاتے۔ اور ان کی معتد بہ تعداد اپنے پاس جمع کرکے ایک مضبوط محاذ تشکیل دیتے اور اس کے ذریعے مشرکین کا گھیرا توڑ کر اپنے لشکر کے لیے احد کی بلندی کی طرف جانے کا راستہ بناتے۔
آزمائش کے اس نازک ترین موقع پر رسول اللہﷺ کی عبقریت اور بے نظیر شجاعت نمایاں ہوئی کیونکہ آپﷺ نے جان بچاکر بھاگنے کے بجائے اپنی جان خطرہ میں ڈال کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جان بچانے کا فیصلہ کیا۔
چنانچہ آپﷺ نے خالد بن ولید کے شہسواروں کو دیکھتے ہی نہایت بلند آواز سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پکار ا: اللہ کے بند و ! ادھر … ! حالا نکہ آپﷺ جانتے تھے کہ یہ آواز مسلمانوں سے پہلے مشرکین تک پہنچ جائے گی۔ اور یہی ہوا بھی۔ چنانچہ یہ آواز سن کر مشرکین کو معلوم ہو گیا کہ آپﷺ یہیں موجود ہیں۔ لہٰذا ان کا ایک دستہ مسلمانوں سے پہلے آپﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ اور باقی شہسواروں نے تیزی کے ساتھ مسلمانوں کو گھیرنا شروع کردیا۔ اب ہم دونوں کی تفصیلات الگ الگ ذکرکررہے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح مسلم (۲/۱۰۷ ) میں روایت ہے کہ آپﷺ احد کے روز صرف سات انصار اور دوقریشی صحابہؓ کے درمیان رہ گئے تھے۔
2 اس کی دلیل اللہ یہ کا ارشاد ہے:
یعنی رسول تمہارے پیچھے سے تمہیں بلارہے تھے۔
مسلمانوں میں انتشار :
جب مسلمان نرغے میں آگئے تو ایک گروہ تو ہوش کھو بیٹھا، اسے صرف اپنی جان کی پڑی تھی۔ چنانچہ اس نے میدان ِ جنگ چھوڑ کر فرار کی راہ اختیار کی۔ اسے کچھ خبر نہ تھی کہ پیچھے کیا ہورہا ہے ؟ ان میں سے کچھ تو بھاگ کر مدینے میں جاگھسے۔ اور کچھ پہاڑ کے اُوپر چڑھ گئے۔ ایک اور گروہ پیچھے کی طرف پلٹا تو مشرکین کے ساتھ مخلوط ہوگیا۔ دونوں لشکر گڈ مڈ ہوگئے۔ اور ایک دوسرے کا پتہ نہ چل سکا۔ اس کے نتیجے میں خود مسلمانوں کے ہاتھوں بعض مسلمان مار ڈالے گئے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ احد کے روز (پہلے ) مشرکین کو شکست فاش ہوئی۔ اس کے بعد ابلیس نے آواز لگائی کہ اللہ کے بندو ! پیچھے … اس پر اگلی صف پلٹی اور پچھلی صف سے گتھ گئی۔ حذیفہ نے دیکھا کہ ان کے والد یمان پر حملہ ہورہا ہے۔ وہ بولے : اللہ کے بندو ! میرے والد ہیں۔ لیکن اللہ کی قسم! لوگوں نے ان سے ہاتھ نہ روکا۔ یہاں تک کہ انہیں مار ہی ڈالا۔ حذیفہ نے کہا : اللہ آپ لوگوں کی مغفرت کرے۔ حضرت عروہ کا بیان ہے کہ واللہ حضرت حذیفہؓ میں ہمیشہ خیر کا بقیہ رہا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جاملے۔1
غرض اس گروہ کی صفوں میں سخت انتشار اور بد نظمی پیدا ہوگئی تھی۔ بہت سے لوگ حیران وسرگرداں تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کدھر جائیں۔ اسی دوران ایک پکار نے والے کی پکار سنائی پڑی کہ محمدﷺ قتل کر دیئے گئے ہیں۔ اس سے رہا سہا ہوش بھی جاتا رہا۔ اکثر لوگوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ بعض نے لڑائی سے ہاتھ روک لیا اور درماندہ ہو کر ہتھیار پھینک دیئے۔ کچھ اور لوگوں نے سوچا کہ رأس المنافقین عبد اللہ بن اُبی سے مل کر کہا جائے کہ وہ ابو سفیان سے ان کے لیے امان طلب کردے۔
چند لمحے بعد ان لوگوں کے پاس حضرت انس بن نضرؓ کا گزر ہوا۔ دیکھا کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے پڑے ہیں۔ پوچھا کاہے کا انتظار ہے ؟ جواب دیا کہ رسول اللہﷺ قتل کر دیئے گئے۔ حضرت انس بن نضر نے کہا : تو اب آپﷺ کے بعد تم لوگ زندہ رہ کر کیا کرو گے ؟ اُٹھو! اور جس چیز پر رسول اللہﷺ نے جان دی اسی پر تم بھی جان دیدو۔ اس کے بعد کہا : اے اللہ ! ان لوگوں نے ـــــ یعنی مسلمانوں نے ـــــ جو کچھ کیا ہے اس پر میں تیرے حضور معذرت کرتا ہوں۔ اور ان لوگوں نے ـــــ یعنی مشرکین نے ـــــ جو کچھ کیا ہے اس سے براء ت اختیار کرتا ہوں۔ اور یہ کہہ کر آگے بڑ ھ گئے۔ آگے حضرت سعدؓ بن معاذ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے دریافت کیا: ابو عمر ! کہاں جارہے ہو ؟ حضرت انسؓ نے جواب دیا : آہا ، جنت کی خوشبو کا کیا کہنا۔ اے سعد ! میں اسے احد کے پرے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری ۱/۵۳۹ ، ۲/۵۸۱ فتح الباری ۷/۳۵۱ ، ۳۶۲ ، ۳۶۳ ، بخاری کے علاوہ بعض روایات میں مذکور ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کی دیت دینی چاہی۔ لیکن حضرت حذیفہؓ نے کہا : میں نے ان کی دیت مسلمانوں پر صدقہ کردی۔ اس کی وجہ سے نبیﷺ کے نزدیک حضرت حذیفہؓ کے خیر میں مزید اضافہ ہو گیا۔
محسوس کررہاہوں۔ اس کے بعد اور آگے بڑھے اور مشرکین سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ خاتمہ ٔ جنگ کے بعد انہیں پہچانا نہ جاسکا حتی ٰ کہ ان کی بہن نے انہیں محض انگلیوں کے پور سے پہچانا۔ ان کو نیزے،تلوار اور تیر کے اسی ۸۰ سے زیا دہ زخم آئے تھے۔1
اسی طرح ثابت بن دَحداحؓ نے اپنی قوم کو پکارکر کہا : اگر محمدﷺ قتل کردیئے گئے ہیں تو اللہ تو زندہ ہے۔ وہ تو نہیں مر سکتا۔ تم اپنے دین کے لیے لڑو۔ اللہ تمہیں فتح ومدد دے گا۔ اس پر انصار کی ایک جماعت اٹھ پڑی۔ اور حضرت ثابتؓ نے ان کی مدد سے خالد کے رسالے پر حملہ کردیا۔ اور لڑتے لڑتے حضرت خالد کے ہاتھوں نیزے سے شہید ہوگئے، انہی کی طرح ان کے رفقاء نے بھی لڑتے لڑتے جام ِ شہادت نوش کیا۔2
ایک مہاجر صحابی ایک انصاری صحابی کے پاس سے گزرے جو خون میں لت پت تھے۔ مہاجر نے کہا : بھئ فلاں! آپ کو معلوم ہوچکا ہے کہ محمدﷺ قتل کردیئے گئے۔ انصار ی نے کہا : اگرمحمدﷺ قتل کردیئے گئے تو وہ اللہ کا دین پہنچاچکے ہیں۔ اب تمہارا کام ہے کہ اس دین کی حفاظت کے لیے لڑو۔3
اس طرح کی حوصلہ افزا اور ولولہ انگیز باتوں سے اسلامی فوج کے حوصلے بحال ہوگئے۔ اوران کے ہوش وحواس اپنی جگہ آگئے۔ چنانچہ اب انہوں نے ہتھیار ڈالنے یا ابن اُبی ّ سے مل کر طلب ِ امان کی بات سوچنے کے بجائے ہتھیار اٹھالیے۔ اور مشرکین کے تند سیلاب سے ٹکر اکر ان کا گھیرا توڑنے اور مرکز قیادت تک راستہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہوگئے۔ اسی دوران یہ بھی معلوم ہوگیا کہ رسول اللہﷺ کے قتل کی خبر محض جھوٹ اور گھڑنت ہے۔ اس سے ان کی قوت اور بڑھ گئی۔ اور ان کے حوصلوں اور ولولوں میں تازگی آگئی۔ چنانچہ وہ ایک سخت اور خون ریز جنگ کے بعد گھیرا توڑ کرنرغے سے نکلنے اور ایک مضبوط مرکز کے گرد جمع ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
اسلامی لشکر کا ایک تیسرا گروہ وہ تھا جسے صرف رسول اللہﷺ کی فکر تھی۔ یہ گروہ گھیراؤ کی کارروائی کا علم ہوتے ہی رسول اللہﷺ کی طرف پلٹا۔ ان میں سر ِ فہرست ابوبکر صدیق ، عمر بن الخطاب اور علی بن ابی طالب وغیرہم رضی اللہ عنہم تھے۔یہ لوگ مقاتلین کی صف ِ اول میں بھی سب سے آگے تھے لیکن جب نبیﷺ کی ذات گرامی کے لیے خطرہ پیدا ہوا تو آپﷺ کی حفاظت اور دفاع کرنے والوں میں بھی سب سے آگے آگے آگئے۔
رسول اللہﷺ کے گرد خون ریز معرکہ:
عین اس وقت جبکہ اسلامی لشکر نرغے میں آکر مشرکین کی چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پس رہا تھا۔ رسول اللہﷺ کے گرد اگرد بھی خون ریز معرکہ آرائی جاری تھی۔ ہم بتاچکے ہیں کہ مشرکین نے گھیراؤ کی کارروائی شروع
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زاد المعاد ۲/۹۳، ۹۶۔ صحیح بخاری ۲/۵۷۹
2 السیرۃ الحلبیہ ۲/۲۲ 3 زاد المعاد ۲/۹۶
کی تورسول اللہﷺ کے ہمراہ محض نو آدمی تھے۔ اور جب آپﷺ نے مسلمانوں کو یہ کہہ کر پکار اکہ میری طرف آؤ ! میں اللہ کا رسول ہوں، تو آپ کی آواز مشرکین نے سن لی۔ اور آپﷺ کو پہچان لیا۔ (کیونکہ اس وقت وہ مسلمانوں سے بھی زیادہ آ پﷺ کے قریب تھے ) چنانچہ انہوں نے جھپٹ کر آپﷺ پر حملہ کردیا اور کسی مسلمان کی آمد سے پہلے پہلے اپناپور ابوجھ ڈال دیا۔ اس فوری حملے کے نتیجے میں ان مشرکین اور وہاں پر موجود نوصحابہ کے درمیان نہایت سخت معرکہ آرائی شروع ہوگئی۔ جس میں محبت وجان سپاری اور شجاعت وجانبازی کے بڑے بڑے نادر واقعات پیش آئے۔
صحیح مسلم میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اُحد کے روز رسول اللہﷺ سات انصار اور دوقریشی صحابہ کے ہمراہ الگ تھلگ رہ گئے تھے۔ جب حملہ آور آپﷺ کے بالکل قریب پہنچ گئے تو آپﷺ نے فرمایا : کون ہے جو انہیں ہم سے دفع کرے اور اس کے لیے جنت ہے ؟ یا (یہ فرمایا کہ ) وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا؟ اس کے بعد ایک انصاری صحابی آگے بڑھے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ اس کے بعد پھر مشرکین آپﷺ کے بالکل قریب آگئے ، اور پھر یہی ہوا۔ اس طرح باری باری ساتوں انصاری صحابی شہید ہوگئے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے اپنے دو باقی ماندہ ساتھیوں – یعنی قریشیوں- سے فرمایا : ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔ 1
ان ساتوں میں سے آخری صحابی حضرت عمارہ بن یزید بن السکن تھے، وہ لڑتے رہے لڑتے رہے یہاں تک کہ زخموں سے چور ہوکر گر پڑے۔ 2
ابن السکن کے گرنے کے بعد رسول اللہﷺ کے ہمراہ صرف دونوں قریشی صحابی رہ گئے تھے۔ چنانچہ صحیحین میں ابوعثمانؓ کا بیان مروی ہے کہ جن ایام میں آپﷺ نے معرکہ آرائیاں کیں ان میں سے ایک لڑائی میں آپﷺ کے ساتھ طلحہ بن عبید اللہ اور سعد (بن ابی وقاص )کے سوا کوئی نہ رہ گیا تھا۔ 3اور یہ لمحہ رسول اللہﷺ کی زندگی کے لیے نہایت ہی نازک ترین لمحہ تھا۔ جبکہ مشرکین کے لیے انتہائی سنہری موقع تھا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ مشرکین نے اس موقعے سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ انہوں نے اپنا تابڑ توڑ حملہ نبیﷺ پر مرکوز رکھا۔ اور چاہا کہ آپﷺ کا کام تمام کردیں۔ اسی حملے میں عُتبہ بن ابی وقاص نے آپﷺ کو پتھر مارا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح مسلم باب غزوۂ احد ۲/۱۰۷
2 ایک لحظہ بعد رسول اللہﷺ کے پاس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت آگئی۔ انہوں نے کفار کو حضرت عمارہ سے پیچھے دھکیلا۔ اور انہیں رسول اللہﷺ کے قریب لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاؤں پر ٹیک لیا۔ اور انہوں نے اس حالت میں دم توڑ دیا۔ کہ ان کے رخسار رسول اللہﷺ کے پاؤں پر تھا۔ (ابن ہشام ۲/۸۱) گویا یہ آرزو حقیقت بن گئی ؎
نکل جائے دم تیرے قدموں کے ”اوپر ” یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے
3 صحیح بخاری ۱/۵۲۷ ، ۵۸۱
جس سے آپﷺ پہلو کے بل گر گئے۔ آپﷺ کا داہنا نچلا رباعی1 دانت ٹوٹ گیا۔ اور آپﷺ کا نچلا ہونٹ زخمی ہوگیا۔ عبد اللہ بن شہاب زہری نے آگے بڑھ کر آپﷺ کی پیشانی زخمی کردی۔ ایک اور اڑیل سوار عبداللہ بن قمئہ نے لپک کر آپﷺ کے کندھے پر ایسی سخت تلوار ماری کہ آپﷺ ایک مہینے سے زیادہ عرصے اس کی تکلیف محسوس کرتے رہے۔ البتہ آپﷺ کی دوہری زِرہ نہ کٹ سکی۔ اس کے بعد اس نے پہلے ہی کی طرح پھرایک زور دار تلوار ماری جوآنکھ سے نیچے کی اُبھری ہوئی ہڈی پر لگی اور اس کی وجہ سے خود 2کی دوکڑیاں چہرے کے اندر دھنس گئیں۔ ساتھ ہی اس نے کہا : اسے لے ، میں قمئہ (توڑنے والے ) کا بیٹا ہوں۔ رسول اللہﷺ نے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے فرمایا : اللہ تجھے توڑ ڈالے۔ 3
صحیح بخاری میں مروی ہے کہ آپﷺ کا رباعی دانت توڑ دیا گیا اور سر زخمی کردیا گیا۔ اس وقت آپﷺ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جارہے تھے ، اور کہتے جارہے تھے ، وہ قوم کیسے کامیاب ہوسکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو زخمی کردیا۔ اور اس کا دانت توڑ دیا۔ حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہاتھا۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی :
(۳: ۱۲۸)”آپ کو کوئی اختیار نہیں اللہ چاہے توانہیں توبہ کی توفیق دے اور چاہے تو عذاب دے کہ وہ ظالم ہیں ۔”4
طبرانی کی روایت ہے کہ آپﷺ نے اس روزفرمایا :اس قوم پر اللہ کا سخت عذاب ہو جس نے اپنے پیغمبر کا چہرہ خون آلود کر دیا۔ پھر تھوڑی دیر رک کر فرمایا :
(( اللہم اغفر لقومي فإنہم لا یعلمون۔ )) 5
”اے اللہ! میری قوم کو بخش دے ،وہ نہیں جانتی ۔”
صحیح مسلم کی روایت میں بھی یہی ہے کہ آپﷺ باربار کہہ رہے تھے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 منہ کے بالکل بیچوں بیچ نیچے اُوپر کے دودو دانت ثنایا کہلاتے ہیں۔ اور ان کے دائیں بائیں ، نیچے اوپر کے ایک ایک دانت رباعی کہلاتے ہیں۔ جو کچلی کے نو کیلے دانت سے پہلے ہوتے ہیں۔
2 لوہے یا پتھر کی ٹوپی جسے جنگ میں سراور چہرے کی حفاظت کے لیے اوڑھا جاتا ہے۔
3 اللہ نے آپﷺ کی یہ دعاسن۔ لی چنانچہ ابن عائذ سے روایت ہے کہ ابن قمئہ جنگ سے گھر واپس جانے کے بعد اپنی بکریاں دیکھنے کے لیے نکلا تو یہ بکریاں پہاڑ کی چوٹی پر ملیں۔ یہ شخص وہاں پہنچا تو ایک پہاڑی بکرے نے حملہ کردیا۔ اور سینگ مارمار کر پہاڑ کی بلندی سے نیچے لڑھکا دیا۔ (فتح الباری ۷/۳۷۳)اور طبرانی کی روایت ہے کہ اللہ نے اس پر ایک پہاڑی بکرا مسلط کردیا ، جس نے سینگ مارمار کر اسے ٹکڑ ے ٹکڑے کر دیا۔ (فتح الباری ۷/۳۶۶)
4 صحیح بخاری ۲/۵۸۲۔ صحیح مسلم ۲/۱۰۸
5 فتح الباری ۷/۳۷۳
(( رب اغفر لقومی فإنہم لا یعلمون ۔)) 1
”اے پروردگار ! میری قوم کو بخش دے وہ نہیں جانتی ۔”
قاضی عیاض کی شفا میں یہ الفاظ ہیں :
(( اللہم اہد قومي فإنہم لا یعلمون ۔ )) 2
”اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے۔ وہ نہیں جانتی ۔”
اس میں شبہ نہیں کہ مشرکین آپﷺ کاکام تمام کردینا چاہتے تھے مگر دونوں قریشی صحابہ، یعنی حضرت سعد بن ابی وقاص اور طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہما نے نادر الوجود جانبازی اور بے مثال بہادر ی سے کام لے کر صرف دوہوتے ہوئے مشرکین کی کامیابی ناممکن بنادی۔ یہ دونوں عرب کے ماہر ترین تیر انداز تھے۔ انہوں نے تیر مارمار کر مشرکین حملہ آوروں کو رسول اللہﷺ سے پرے رکھا۔
جہاں تک سعد بن ابی وقاصؓ کا تعلق ہے تو رسول اللہﷺ نے اپنے ترکش کے سارے تیر ان کے لیے بکھیر دیئے۔ اور فرمایا: چلا ؤ۔ تم پر میرے ماں باپ فداہوں۔3 ان کی صلاحیت کا اندازہ اس سے لگا یا جاسکتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کے سوا کسی اور کے لیے ماں باپ کے فدا ہونے کی بات نہیں کہی۔4
اور جہاں تک حضرت طلحہؓ کا تعلق ہے تو ان کے کارنامے کا اندازہ نسائی کی ایک روایت سے لگا یا جاسکتا ہے۔ جس میں حضرت جابرؓ نے رسول اللہﷺ پر مشرکین کے اس وقت کے حملے کا ذکر کیا ہے۔جب آپﷺ انصار کی ذرا سی نفری کے ہمراہ تشریف فرماتھے۔ حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ مشرکین نے رسول اللہﷺ کو جالیا تو آپﷺ نے فرمایا : کون ہے جو ان سے نمٹے ؟حضر ت طلحہؓ نے کہا : میں۔ اس کے بعد حضرت جابرؓ نے انصار کے آگے بڑھے اور ایک ایک کر کے شہید ہونے کی تفصیل ذکر کی ہے جسے ہم صحیح مسلم کے حوالے سے بیان کر چکے ہیں۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ سب شہید ہوگئے تو حضرت طلحہؓ آگے بڑھے۔ اور گیارہ آدمیوں کے برابر تنہا لڑائی کی۔ یہاں تک کہ ان کے ہاتھ پر تلوار کی ایک ایسی ضرب لگی جس سے ان کی انگلیاں کٹ گئیں۔ اس پر ان کے منہ سے آواز نکلی حس (سی)۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر تم بسم اللہ کہتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور لوگ دیکھتے۔ حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ پھر اللہ نے مشرکین کو پلٹادیا۔5
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح مسلم ، باب غزوۂ احد ۲/۱۰۸
2 کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ۱/۸۱
3 ، 4 صحیح بخاری ۱/۴۰۷ ، ۲/۵۸۰ ، ۵۸۱
5 فتح الباری ۷/۳۶۱سنن النسائی ۲/۵۲، ۵۳
اکلیل میں حاکم کی روایت ہے ا نہیں اُحد کے روز انتالیس تا پینتیس زخم آئے۔ اور ان کی بچلی اور شہادت کی انگلیاں شل ہوگئیں۔1
امام بخاری نے قیس بن ابی حازم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے حضرت طلحہؓ کا ہاتھ دیکھا کہ وہ شل تھا۔ اس سے اُحد کے دن انہوں نے نبیﷺ کو بچایا تھا۔2
ترمذی کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کے بارے میں اس روز فرمایا: جو شخص کسی شہید کو روئے زمین پر چلتا ہوا دیکھنا چاہے وہ طلحہؓ بن عبید اللہ کو دیکھ لے۔3
اور ابوداؤد طیالسی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ابو بکرؓ جب جنگ ِاحد کا تذکرہ فرماتے تو کہتے کہ یہ جنگ کل کی کل طلحہؓ کے لیے تھی۔ 4(یعنی اس میں نبیﷺ کے تحفظ کا اصل کا رنامہ انہیں نے انجام دیا تھا) حضرت ابو بکرؓ نے ان کے بارے میں یہ بھی کہا :
یا طلحۃ بن عبید اللہ قد وجبت
لک الجنان وبوأت المہا العینا 5
”اے طلحہ بن عبید اللہ تمہارے لیے جنتیں واجب ہوگئیں۔ اور تم نے اپنے یہاں حورعین کا ٹھکا نا بنا لیا ۔”
اسی نازک ترین لمحہ اور مشکل ترین وقت میں اللہ نے غیب سے اپنی مدد نازل فرمائی۔چنانچہ صحیحین میں حضرت سعدؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو اُحد کے روز دیکھا آپﷺ کے ساتھ دوآدمی تھے۔ سفید کپڑے پہنے ہوئے۔ یہ دونوں آپﷺ کی طرف سے انتہائی زوردار لڑائی لڑرہے تھے۔ میں نے اس پہلے اور اس کے بعد ان دونوں کو کبھی نہیں دیکھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ دونوں حضرت جبریل وحضرت میکائیل تھے۔6
رسول اللہﷺ کے پاس صحابہ کے اکٹھا ہونے کی ابتدا:
یہ سارا حادثہ چند لمحات کے اندر اندر بالکل اچانک اور نہایت تیز رفتاری سے پیش آگیا۔ ورنہ نبیﷺ کے منتخب صحابہ کرام جو لڑائی کے دوران صفِ اوّل میں تھے، جنگ کی صورت ِ حال بدلتے ہی یا نبیﷺ کی آواز سنتے ہی آپ کی طرف بے تحاشا دوڑ کر آئے کہ کہیں آپﷺ کو کوئی ناگوار حادثہ پیش نہ آجائے۔ مگر یہ لوگ پہنچے تو رسول اللہﷺ زخمی ہوچکے تھے۔ چھ انصاری شہید ہوچکے تھے ساتویں زخمی ہوکر گر چکے تھے۔ اور حضرت سعدؓ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 فتح الباری ۷/۳۶۱ 2 صحیح البخاری ۱/۵۲۷، ۵۸۱
3 ترمذی : مناقب ، حدیث نمبر ۳۷۴۰، ابن ماجہ :مقدمہ حدیث نمبر ۱۲۵
4 فتح الباری ۷/۳۶۱ 5 مختصر تاریخ دمشق ۷/۸۲
6 صحیح بخاری ۲/۵۸۰ ، مسلم : فضائل حدیث نمبر ۴۶ ، ۴۷ (۴/۱۸۰۲)
اور حضرت طلحہؓ جان توڑ کر مدافعت کررہے تھے۔ ان لوگوں نے پہنچتے ہی اپنے جسموں اور ہتھیاروں سے نبیﷺ کے گرد ایک باڑھ تیار کردی۔ اور دشمن کے تابڑ توڑ حملے روکنے میں انتہائی بہادری سے کام لیا۔ لڑائی کی صف سے آپﷺ کے پاس پلٹ کر آنے والے سب سے پہلے صحابی آپﷺ کے یارِ غار حضرت ابوبکر صدیقؓ تھے۔
ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ابو بکرؓ نے فرمایا : اُحد کے دن سارے لوگ نبیﷺ سے پلٹ گئے تھے۔ (یعنی محافظین کے سوا تمام صحابہ آپﷺ کو آپ کی قیام گاہ میں چھوڑ کر لڑائی کے لیے اگلی صفوں میں چلے گئے تھے۔ پھر گھیراؤ کے حادثے کے بعد ) میں پہلا شخص تھا جو نبیﷺ کے پاس پلٹ کر آیا۔ دیکھا تو آپ کے سامنے ایک آدمی تھا۔ جو آپﷺ کی طرف سے لڑرہا تھا۔ اور آپﷺ کو بچا رہا تھا۔ میں نے (جی ہی جی میں ) کہا:تم طلحہؓ ہو ؤ۔ تم پر میرے ماں باپ فداہوں۔ تم طلحہ ہوؤ۔ تم پر میرے ماں باپ فداہوں۔ (چونکہ مجھ سے یہ لمحہ فوت ہو گیا تھا، اس لیے میں نے کہا کہ میری قوم ایک آدمی ہو تو یہ زیادہ پسندیدہ بات ہے۔ 1اتنے میں ابو عبیدہ بن جراح میرے پاس آگئے۔ وہ اس طرح دوڑ رہے تھے۔ گویا چڑیا (اُڑ رہی ) ہے۔ یہاں تک کہ مجھ سے آملے۔ اب ہم دونوں نبیﷺ کی طرف دوڑے۔ دیکھا تو آپ کے آگے طلحہ بچھے پڑے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا : اپنے بھائی کو سنبھالو اس نے (جنت ) واجب کرلی۔ حضرت ابو بکرؓ کا بیان ہے کہ (ہم پہنچے تو ) نبیﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوچکا تھا۔ اور خُود کی دوکڑیاں آنکھ کے نیچے رخسار میں دھنس چکی تھیں۔ میں نے انہیں نکالنا چاہا تو ابو عبیدہ نے کہا: اللہ کا واسطہ دیتا ہوں مجھے نکالنے دیجیے۔ اس کے بعد انہوں نے منہ سے ایک کڑی پکڑ ی۔ اور آہستہ آہستہ نکالنی شروع کی تاکہ رسول اللہﷺ کو اذیت نہ پہنچے۔ اور بالآخر ایک کڑی اپنے منہ سے کھینچ کر نکال دی لیکن ( اس کوشش میں ) ان کا ایک نچلا دانت گرگیا۔ اب دوسری میں نے کھینچنی چاہی تو ابو عبیدہ نے پھر کہا : ابوبکر ! اللہ کا واسطہ دیتا ہوں مجھے کھینچنے دیجیے ! اس کے بعد دوسری بھی آہستہ آہستہ کھینچی۔ لیکن ان کا دوسرا نچلا دانت بھی گرگیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : اپنے بھائی طلحہؓ کو سنبھالو۔ (اس نے جنت ) واجب کرلی۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کہتے ہیں کہ اب ہم طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور انہیں سنبھالا۔ ان کو دس سے زیادہ زخم آچکے تھے۔2تہذیب تاریخ دمشق میں ہے کہ ہم ان کے پاس بعض گڑھوں میں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ انہیں نیزے ، تیراور تلوار کے کم وبیش ساٹھ زخم لگے ہوئے ہیں۔ اور ان کی انگلی کٹ گئی ہے۔ ہم نے کسی قدر ان کا حال درست کیا۔3(اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت طلحہؓ نے اس دن دفاع وقتال میں کیسی جانبازی اور بے جگری سے کام لیا تھا۔)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 تہذیب تاریخ دمشق ۷/۷۷ طلحہ بن عبیدا للہ بھی حضرت ابو بکر کے قبیلہ بنو تیم سے تھے۔
2 زاد المعاد ۲/۹۵ 3 تہذیب تاریخ دمشق ۷/۷۸
پھر ان ہی نازک ترین لمحات کے دوران رسول اللہﷺ کے گرد جانباز صحابہ کی ایک جماعت بھی آن پہنچی۔ جن کے نام یہ ہیں:
ابو دجانہ ! مصعب بن عمیر
” علی بن ابی طالب 3 سہل بن حُنیف
4 مالک بن سنان(ابو سعید خدری کے والد ) 5 ام عمارہ نُسیبہ بنت کعب مازنیہ
& قتادہ بن نعمان ‘ عمر بن الخطاب
( حاطب بن ابی بلتعہ اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہم اجمعین
یہ لوگ کیسے کیسے رسول اللہﷺ تک پہنچے ہوں گے ان کا ایک ہلکا سا اندازہ حضرت علیؓ کے اس بیان سے ہوسکتا ہے کہ احد کے دن جب لوگ رسول اللہﷺ سے منہزم ہوگئے تو میں نے مقتولین میں دیکھا۔ رسول اللہﷺ نظر نہ آئے۔ میں نے جی میں کہا: واللہ! آپ بھا گ نہیں سکتے۔ اور مقتولین میں آپ کو دیکھ نہیں رہا ہوں ، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے اس سے اللہ نے غضبناک ہوکر اپنے نبیﷺ کو اٹھا لیا ہے۔ لہٰذامیرے لیے اس سے بہتر کوئی صورت نہیں کہ لڑتے لڑتے شہید ہوجاؤں۔ پھر کیا تھا میں نے اپنی تلوارکی میان توڑ دی اور قریش پر اس زور کا حملہ کیا کہ انہوں نے جگہ خالی کردی۔ اب کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ ان کے درمیا ن (گھیرے میں ) موجودہیں۔1
مشرکین کے دباؤ میں اضافہ:
ادھر مشرکین کی تعدادبھی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جارہی تھی۔ جس کے نتیجے میں ان کے حملے سخت ہوتے جارہے تھے اور ان کا دباؤ بڑھتا جارہا تھا یہاں تک کہ رسول اللہﷺ ان چند گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں جاگرے۔ جنہیں ابو عامر فاسق نے اسی قسم کی شرارت کے لیے کھود رکھا تھا۔ اور اس کے نتیجے میں آپﷺ کا گھُٹنا موچ کھا گیا۔ چنانچہ حضرت علیؓ نے آپﷺ کا ہاتھ تھاما۔ اور طلحہ بن عبید اللہ نے ( جو خود بھی زخموں سے چُور تھے) آپﷺ کو آغوش میں لیا۔ تب آپﷺ برابر کھڑے ہوسکے۔
نافع بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ایک مہاجر صحابی کو سنا فرمارہے تھے : میں جنگ اُحد میں حاضر تھا۔ میں نے دیکھا کہ ہر جانب سے رسول اللہﷺ پر تیر برس رہے ہیں۔ اور آپﷺ تیروں کے بیچ میں ہیں لیکن سارے تیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھیر دیے جاتے ہیں۔ (یعنی آگے گھیرا ڈالے ہوئے صحابہ انہیں روک لیتے تھے۔ ) اور میں نے دیکھا کہ عبد اللہ بن شہاب زہری کہہ رہا تھا: مجھے بتاؤ محمد کہاں ہے ؟ اب یاتو میں رہوں گا یا وہ رہے گا۔ حالانکہ رسول اللہﷺ اس کے بازو میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل گیا۔ اس پر صفوان نے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 مسند ابی یعلی ۱/۴۱۶ حدیث نمبر ۵۴۶
اسے ملامت کی۔ جواب میں اس نے کہا: واللہ ! میں نے اسے دیکھا ہی نہیں۔ اللہ کی قسم! وہ ہم سے محفوظ کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہم چار آدمی یہ عہد وپیمان کر کے نکلے کہ انہیں قتل کردیں گے لیکن ان تک پہنچ نہ سکے۔1
نادرۂ روزگار جانبازی:
بہرحال اس موقع پر مسلمانوں نے ایسی نادرۂ روزگار جانبازی اور تابناک قربانیوں سے کام لیا جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ چنانچہ ابو طلحہؓ نے اپنے آپ کو رسول اللہﷺ کے آگے سپربنا لیا۔ وہ اپنا سینہ اوپر اٹھا لیا کرتے تھے تاکہ آپﷺ کو دشمن کے تیروں سے محفوظ رکھ سکیں۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ اُحد کے روز لوگ (یعنی عام مسلمان) شکست کھاکر رسول اللہﷺ کے پاس (آنے کے بجائے اِدھر اُدھر )بھاگ گئے۔ اور ابوطلحہؓ آپﷺ کے آگے اپنی ایک ڈھال لے کر سپر بن گئے۔ وہ ماہر تیر انداز تھے ، بہت کھینچ کر تیر چلاتے تھے۔ چنانچہ اس دن دویاتین کمانیں توڑ ڈالیں۔ نبیﷺ کے پاس سے کوئی آدمی تیروں کا ترکش لیے گزرتا تو آپ فرماتے کہ انہیں ابو طلحہ کے لیے بکھیر دو۔ اور نبیﷺ قوم کی طرف سر اٹھا کر دیکھتے تو ابو طلحہ کہتے : میرے ماں باپ آپ پر قربان ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھا کر نہ جھانکیں۔ آپ کوقوم کا کوئی تیر نہ لگ جائے ، میرا سینہ آپ کے سینہ کے آگے ہے۔2
حضرت انسؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ حضرت ابو طلحہؓ نبیﷺ سمیت ایک ہی ڈھال سے بچاؤ کررہے تھے اور ابو طلحہ بہت اچھے تیر انداز تھے۔ جب وہ تیر چلاتے تو نبیﷺ گردن اٹھا کر دیکھتے کہ ان کا تیر کہاں گرا۔3
حضرت ابو دجانہ نبیﷺ کے آگے کھڑے ہوگئے۔ اور اپنی پیٹھ کو آپﷺ کے لیے ڈھال بنادیا۔ ان پر تیر پڑ رہے تھے لیکن وہ ہلتے نہ تھے۔
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے عُتبہ بن وقاص کا پیچھا کیا۔ جس نے نبیﷺ کا دندان مبارک شہید کیا تھا۔ اور اسے اس زور کی تلوار ماری کہ اس کا سر چھٹک گیا۔ پھر اس کے گھوڑے اور تلوار پر قبضہ کرلیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بہت زیادہ خواہاں تھے کہ اپنے اس بھائی – عُتبہ – کو قتل کریں۔ مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ بلکہ یہ سعادت حضرت حاطبؓ کی قسمت میں تھی۔
حضرت سَہلؓ بن حُنیف بھی بڑے جانباز تیر انداز تھے۔انہوں نے رسول اللہﷺ سے موت پر بیعت کی اور اس کے بعد مشرکین کو نہایت زور شور سے دفع کیا۔
رسول اللہﷺ خود بھی تیر چلارہے تھے۔ چنانچہ حضرت قتادہ بن نعمانؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زاد المعاد ۲/۹۷ 2 صحیح بخاری ۲/۵۸۱
3 صحیح بخاری / ۴۰۶
نے اپنی کمان سے اتنے تیر چلائے کہ اس کاکنارہ ٹوٹ گیا۔ پھر اس کمان کو حضرت قتادہ بن نعمانؓ نے لے لیا، اور وہ انہیں کے پاس رہی۔ اس روز یہ واقعہ بھی ہوا کہ حضرت قتادہ کی آنکھ چوٹ کھا کر چہرے پر ڈھلک آئی۔ نبیﷺ نے اسے اپنے ہاتھ سے پپوٹے کے اندر داخل کردی۔ اس کے بعد ان کی دونوں آنکھوں میں یہی زیادہ خوبصورت لگتی تھی۔ اور اسی کی بینائی زیادہ تیز تھی۔
حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے لڑتے لڑتے منہ میں چوٹ کھائی ، جس سے ان کا سامنے کا دانت ٹوٹ گیا۔ اور انہیں بیس یا بیس سے زیادہ زخم آئے جن میں سے بعض زخم پاؤں میں لگے اور وہ لنگڑے ہوگئے۔
ابو سعید خدریؓ کے والد مالک بن سنانؓ نے رسول اللہﷺ کے چہرے سے خون چوس کر صاف کیا۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے تھوک دو۔ انہوں نے کہا : واللہ اسے تو میں ہرگز نہ تھوکوں گا۔ اس کے بعد پلٹ کر لڑنے لگے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : جو شخص کسی جنتی آدمی کو دیکھنا چاہتا ہو وہ انہیں دیکھے۔ اس کے بعد وہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔
ایک نادر کارنامہ خاتون صحابیہ حضرت ام عمارہ نسیبہ بنت کعب ؓ نے انجام دیا۔ وہ چند مسلمانوں کے درمیان لڑتی ہوئی ابن قمئہ کے سامنے اڑگئیں۔ ابن قمئہ نے ان کے کندھے پر ایسی تلوار ماری کہ گہرا زخم ہوگیا۔ انہوں نے بھی ابن قمئہ کو اپنی تلوار کی کئی ضرب لگائی لیکن کمبخت دوزِرہیں پہنے ہوئے تھا ، اس لیے بچ گیا۔ حضرت ام ِ عمارہ ؓ نے لڑتے بھڑتے بارہ زخم کھائے۔
حضرت مصعب بن عمیرؓ نے بھی انتہائی پامردی وجانبازی سے جنگ کی۔ وہ رسول اللہﷺ سے ابن قمئہ اور اس کے ساتھیوں کے پے در پے حملوں کا دفاع کررہے تھے۔ انہی کے ہاتھ میں اسلامی لشکر کا پھریرا تھا۔ ظالموں نے ان کے داہنے ہاتھ پر اس زور کی تلوار ماری کہ ہاتھ کٹ گیا۔ اس کے بعد انہوں نے بائیں ہاتھ میں جھنڈا پکڑ لیا۔ اور کفار کے مد مقابل ڈٹے رہے بالآخر ان کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے جھنڈے پر گھٹنے ٹیک کر اسے سینے اور گردن کے سہارے لہرائے رکھا۔ اور اسی حالت میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان کا قاتل ابن قمئہ تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ محمدﷺ ہیں۔ کیونکہ حضرت مصعبؓ بن عمیر آپﷺ کے ہم شکل تھے۔ چنانچہ وہ حضرت مصعبؓ کو شہید کرکے مشرکین کی طرف واپس چلاگیا اور چلا ّچلاّ کر اعلان کیا کہ محمدﷺ قتل کر دیئے گئے۔1
نبیﷺ کی شہادت کی خبر اور معرکہ پر اس کا اثر:
اس کے اس اعلان سے نبیﷺ کی شہادت کی خبر مسلمانوں اور مشرکین دونوں میں پھیل گئی۔ اور یہی وہ نازک ترین لمحہ تھا۔ جس میں رسول اللہﷺ سے الگ تھلگ نرغے کے اندر آئے ہوئے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے: ابن ہشام ۲/۷۳، ۸۰- ۸۳ زادالمعاد ۲/۹۷
کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ان کے عزائم سرد پڑ گئے اور ان کی صفیں اتھل پتھل اور بد نظمی وانتشار کا شکار ہوگئیں۔ مگر آپﷺ کی شہادت کی یہی خبر اس حیثیت سے مفید ثابت ہوئی کہ اس کے بعد مشرکین کے پُرجوش حملوں میں کسی قدر کمی آگئی۔ کیونکہ وہ محسوس کررہے تھے کہ ان کا آخری مقصد پورا ہوچکا ہے۔ چنانچہ اب بہت سے مشرکین نے حملہ بند کرکے مسلمان شہداء کی لاشوں کا مُثلہ کرنا شروع کردیا۔
رسول اللہﷺ کی پیہم معرکہ آرائی اور حالات پر قابو:
حضرت مُصعب بن عمیرؓ کی شہادت کے بعد رسول اللہﷺ نے جھنڈا حضرت علی بن ابی طالبؓ کودیا۔ انہوں نے جم کر لڑائی کی۔ وہاں پر موجود باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی بے مثال جانبازی وسرفروشی کے ساتھ دفاع اور حملہ کیا۔ جس سے بالآخر اس بات کا امکان پیدا ہوگیا کہ رسول اللہﷺ مشرکین کی صفیں چیر کر نرغے میں آئے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب راستہ بنائیں۔ چنانچہ آپﷺ نے قدم آگے بڑھایا اور صحابہ کرام کی جانب تشریف لائے۔ سب سے پہلے حضرت کعب بن مالک نے آپﷺ کو پہچانا۔ خوشی سے چیخ پڑے کہ مسلمانو! خوش ہوجاؤ۔ یہ ہیں رسول اللہﷺ ! آپﷺ نے اشارہ فرمایا کہ خاموش رہو – تاکہ مشرکین کو آپﷺ کی موجودگی اور مقام موجودگی کا پتہ نہ لگ سکے – مگر ان کی آواز مسلمانوں کے کان تک پہنچ چکی تھی۔ چنانچہ مسلمان آپ کی پناہ میں آنا شروع ہوگئے۔ اور رفتہ رفتہ تقریباً تیس صحابہ جمع ہوگئے۔
جب اتنی تعداد جمع ہو گئی تو رسول اللہﷺ نے پہاڑ کی گھاٹی، یعنی کیمپ کی طرف ہٹنا شروع کیا مگر چونکہ اس واپسی کے معنی یہ تھے کہ مشرکین نے مسلمانوں کو نرغے میں لینے کی جو کارروائی کی تھی وہ بے نتیجہ رہ جائے۔ اس لیے مشرکین نے اس واپسی کو ناکام بنانے کے لیے اپنے تابڑ توڑحملے جاری رکھے۔ مگر آپﷺ نے ان حملہ آوروں کا ہجوم چیر کر راستہ بناہی لیا۔ اور شیرا ن ِ اسلام کی شجاعت وشہ زوری کے سامنے ان کی ایک نہ چلی۔ چنانچہ اسی اثناء میں مشرکین کا ایک اڑیل شہسوار عثمان بن عبداللہ بن مغیرہ یہ کہتے ہوئے رسول اللہﷺ کی جانب بڑھا کہ یا تو میں رہوں گا یا وہ رہے گا۔ ادھر رسول اللہﷺ بھی دودوہاتھ کرنے کے لیے ٹھہر گئے مگر مقابلے کی نوبت نہ آئی۔ کیونکہ اس کا گھوڑا ایک گڑھے میں گر گیا۔ اور اتنے میں حارث بن صمہ نے اس کے پاس پہنچ کر اسے للکارا۔ اور اس کے پاؤں پر اس زور کی تلوار ماری کہ وہیں بٹھادیا ، پھر اس کاکام تمام کرکے اس کا ہتھیار لے لیا۔ اور رسول اللہﷺ کی خدمت میںآگئے مگر اتنے میں مکی فوج کے ایک دوسرے سوار عبد اللہ بن جابر نے پلٹ کر حضرت حارثہ بن صمہ پر حملہ کردیا اور ان کے کندھے پر تلوار مار کر زخمی کردیا۔ مگر مسلمانوں نے لپک کر انہیں اٹھا لیا۔ اور اُدھر خطرات سے کھیلنے والے مرد مجاہد حضرت ابو دجانہؓ ، جنہوں نے آج سرخ پٹی باندھ رکھی تھی ، عبداللہ بن جابر پر ٹوٹ پڑے اور اسے ایسی تلوارماری کہ اس کا سر اڑگیا۔
کرشمۂ قدرت دیکھئے کہ اسی خونریز مار دھاڑ کے دوران مسلمانوں کو نیند کی چھپکیاں بھی آرہی تھیں اور جیسا کہ قرآن نے بتلایا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے امن وطمانیت تھی۔ ابو طلحہؓ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا جن پر اُحد کے روز نیند چھارہی تھی ، یہاں تک کہ میرے ہاتھ سے کئی بار تلوار گرگئی۔حالت یہ تھی کہ وہ گرتی تھی اور میں پکڑتا تھا ،پھر گرتی تھی اور پھر پکڑتا تھا۔1
خلاصہ یہ کہ اس طرح کی جانبازی وجان سپاری کے ساتھ یہ دستہ منظم طور سے پیچھے ہٹتا ہوا پہاڑ کی گھاٹی میں واقع کیمپ تک جاپہنچا۔ اور بقیہ لشکر کے لیے بھی اس محفوظ مقام تک پہنچنے کا راستہ بنادیا۔ چنانچہ باقی ماندہ لشکر بھی اب آپﷺ کے پاس آگیا۔ اور حضرت خالد کی فوجی عبقریت رسول اللہﷺ کی فوجی عبقریت کے سامنے ناکام ہوگئی۔
اُبی بن خلف کا قتل:
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جب رسول اللہﷺ گھاٹی میں تشریف لاچکے تو اُبی بن خلف یہ کہتا ہوا آیا کہ محمد کہاں ہے ؟ یاتو میں رہوں گا یا وہ رہے گا۔ صحابہ نے کہا : یارسول اللہ !ہم میں سے کوئی اس پر حملہ کرے ؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا : اسے آنے دو۔ جب قریب آیا تو رسول اللہﷺ نے حارث بن صمہ سے ایک چھوٹا سا نیزہ لیا۔ اور لینے کے بعد جھٹکا دیا تو اس طرح لوگ ادھر ادھر اڑ گئے جیسے اُونٹ اپنے بدن کو جھٹکا دیتا ہے تو مکھیاں اُڑ جاتی ہیں۔ اس کے بعد آپﷺ اس کے مد مقابل پہنچے۔ اس کی خود اور زِرہ کے درمیان حلق کے پاس تھوڑی سی جگہ کھُلی دکھائی پڑی۔ آپﷺ نے اسی پر ٹکا کر ایسا نیزہ مارا کہ وہ گھوڑے سے کئی بار لڑھک لڑھک گیا۔ جب قریش کے پاس گیا – درآں حالیکہ گردن میں کوئی بڑی خراش نہ تھی۔ البتہ خون بند تھا اور بہتا نہ تھا – توکہنے لگا : مجھے واللہ! محمد نے قتل کردیا۔لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! تمہارا دل چلا گیا ہے۔ ورنہ تمہیں واللہ کوئی خاص چوٹ نہیں ہے۔ اس نے کہا : وہ مکے میں مجھ سے کہہ چکا تھا کہ میں تمہیں قتل کروں گا۔2اس لیے اللہ کی قسم! اگر وہ مجھ پرتھوک دیتا تو بھی میری جان چلی جاتی۔ بالآخر اللہ کا یہ دشمن مکہ واپس ہوتے ہوئے مقام سرف پہنچ کر مر گیا۔3 ابو الاسود نے حضرت عروہ سے روایت کی ہے کہ یہ بیل کی طرح آواز نکالتا تھا اور کہتا تھا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو تکلیف مجھے ہے اگر وہ ذی المجاز کے سارے باشندوں کوہوتی تو وہ سب کے سب مرجاتے۔4
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری ۲/۵۸۲
2 اس کا واقعہ یہ ہے کہ جب مکے میں ابی بن خلف کی ملاقات رسول اللہﷺ سے ہوتی تو وہ آپ سے کہتا : اے محمد! میرے پاس عود نامی ایک گھوڑا ہے۔ میں اسے روزانہ تین صاع (ساڑھے سات کلو) دانہ کھلاتا ہوں۔ اسی پر بیٹھ کر تمہیں قتل کروں گا۔ جواب میں رسول اللہﷺ فرماتے تھے : بلکہ ان شاء اللہ میں تمہیں قتل کروں گا۔
3 ابن ہشام ۲/۸۴۔ زاد المعاد ۲/۹۷
4 مستدرک حاکم ۲/۳۲۷
حضرت طلحہؓ ، نبیﷺ کو اٹھاتے ہیں:
پہاڑ کی طرف نبیﷺ کی واپسی کے دوران ایک چٹان پڑگئی۔ آپﷺ نے اس پر چڑھنے کی کوشش کی مگر چڑھ نہ سکے۔ کیونکہ ایک تو آپ کا بدن بھاری ہوچکا تھا۔ دوسرے آپﷺ نے دوہری زِرہ پہن رکھی تھی۔ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت چوٹیں بھی آئی تھیں۔ لہٰذا حضرت طلحہؓ بن عبیداللہ نیچے بیٹھ گئے۔ اورآپﷺ کو سوار کرکے کھڑے ہوگئے۔ اس طرح آپ چٹان پر پہنچ گئے۔ آپﷺ نے فرمایا: ”طلحہ نے (جنت ) واجب کرلی۔ ”1
مشرکین کا آخری حملہ:
جب رسول اللہﷺ گھاٹی کے اندر اپنی قیادت گاہ میں پہنچ گئے تو مشرکین نے مسلمانوں کو زک پہنچانے کی آخری کوشش کی۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اس اثناء میں کہ رسول اللہﷺ گھاٹی کے اندر تشریف فرماتھے۔ ابو سفیان اور خالد بن ولید کی قیادت میں مشرکین کاایک دستہ چڑھ آیا، رسول اللہﷺ نے دُعا فرمائی کہ اے اللہ ! یہ ہم سے اوپر نہ جانے پائیں۔ پھر حضرت عمرؓ بن خطاب اور مہاجرین کی ایک جماعت نے لڑکر انہیں پہاڑ سے نیچے اتار دیا۔2
مغازی اموی کا بیان ہے کہ مشرکین پہاڑ پر چڑھ آئے تو رسول اللہﷺ نے حضرت سعدؓ سے فرمایا: ان کے حوصلے پست کرو ، یعنی انہیں پیچھے دھکیل دو۔ انہوں نے کہا : میں تنہا ان کے حوصلے کیسے پست کروں؟ اس پر آپﷺ نے تین بار یہی بات دہرائی۔ بالآخر حضرت سعدؓ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا۔ اور ایک شخص کو مارا تو وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ حضرت سعدؓ کہتے ہیں کہ میں نے پھر اپنا تیر لیا ، اسے پہچانتا تھا۔ اور اس سے دوسرے کو مار ا تو اس کا بھی کام تمام ہوگیا اس کے بعد پھر تیر لیا۔ اسے پہچانتا تھا اور اس سے ایک تیسرے کو مارا تو اس کی بھی جان جاتی رہی۔ اس کے بعد مشرکین نیچے اُتر گئے۔ میں نے کہا یہ مبارک تیر ہے۔ پھر میں نے اسے اپنے ترکش میں رکھ لیا۔ یہ تیر زندگی بھر حضرت سعدؓ کے پاس رہا۔ اور ان کے بعد ان کی اولاد کے پاس رہا۔3
شہداء کا مُثلہ:
یہ آخری حملہ تھا جو مشرکین نے نبیﷺ کے خلاف کیا تھا ، چونکہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انجام کا صحیح علم نہ تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ﷺ کی شہادت کا تقریباً یقین تھا، اس لیے انہوں نے اپنے کیمپ کی طرف پلٹ کر مکہ واپسی کی تیاری شروع کردی۔ کچھ مشرکین مرد اور عورتیں مسلمان شہداء کے مثلہ میں مشغول ہوگئے۔ یعنی شہیدوں کی شرمگاہیں اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۲/۸۶، ترمذی حدیث نمبر ۱۶۹۲ (جہاد) ۳۷۳۹ (مناقب ) مسند احمد ۱/۱۶۵ ، حاکم نے (۳/۳۷۴ میں )اسے صحیح کہا ہے۔ اور ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔
2 ابن ہشام ۲/۸۶ 3 زاد المعاد ۲/۹۵
کان ، ناک وغیرہ کاٹ لیے۔ پیٹ چیر دیے۔ ہند بنت عتبہ نے حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چاک کردیا اور مُنہ میں ڈال کر چبایا اور نگلنا چاہا لیکن نگل نہ سکی تو تھوک دیا۔ اور کٹے ہوئے کانوں اور ناکوں کاپازیب اور ہار بنایا۔1
آخرتک جنگ لڑنے کے لیے مسلمانوں کی مستعدی:
پھر اس آخری وقت میں دوایسے واقعات پیش آئے جن سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جانبازوسرفروش مسلمان اخیر تک جنگ لڑنے کے لیے کس قدر مستعد تھے۔ اور اللہ کی راہ میں جان دینے کا کیسا ولولہ خیز جذبہ رکھتے تھے۔
حضرت کعب بن مالکؓ کا بیا ن ہے کہ میں ان مسلمانوں میں تھا جو گھاٹی سے باہر آئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ مشرکین کے ہاتھوں مسلمان شہداء کا مُثلہ کیا جارہا ہے تو رک گیا۔ پھر آگے بڑھا ، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مشرک جو بھاری بھرکم زِرہ میںملبوس تھا شہیدوں کے درمیا ن سے گزررہا ہے۔ اور کہتا جارہا ہے کہ کٹی ہوئی بکریوں کی طرح ڈھیر ہوگئے۔ اور ایک مسلمان اس کی راہ تک رہا ہے۔ وہ بھی زِرہ پہنے ہوئے ہے۔ میں چند قدم اور بڑھ کر اس کے پیچھے ہولیا۔ پھر کھڑے ہوکر آنکھوں ہی آنکھوں میں مسلم اور کافر کو تولنے لگا۔ محسوس ہوا کہ کافر اپنے ڈیل ڈول اور سازوسامان دونوں لحاظ سے بہتر ہے۔ اب میں دونوں کا انتظار کرنے لگا۔ بالآخر دونوں میں ٹکر ہوگئی اور مسلمان نے کافر کو ایسی تلوار ماری کہ وہ پاؤں تک کاٹتی چلی گئی۔ مشرک دوٹکڑے ہوکر گرا، پھر مسلمان نے اپنا چہرا کھولا اور کہا : او کعب ! کیسی رہی ؟ میں ابو دجانہ ہوں۔2
خاتمۂ جنگ پر کچھ مومن عورتیں میدانِ جہاد میں پہنچیں۔ چنانچہ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ بنت ابی بکرؓ اور امِ سُلیم کو دیکھا کہ پنڈلی کے پازیب تک کپڑے چڑھائے پیٹھ پر مشک لاد لاد کر لارہی تھیں۔ اور قوم کے منہ میں انڈیل رہی تھیں۔ 3حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ احد کے روز حضرت اُم ِ سلیطؓ ہمارے لیے مشک بھر بھر کر لارہی تھیں۔4
ان ہی عورتوں میں حضرت امِ ایمن بھی تھیں۔ انہوں نے جب شکست خوردہ مسلمانوں کودیکھا کہ مدینے میں گھسنا چاہتے ہیں تو ان کے چہروں پر مٹی پھینکنے لگیں اور کہنے لگیں : یہ سوت کاتنے کا تکلالو اور ہمیں تلوار دو۔ 5اس کے بعد تیزی سے میدان جنگ پہنچیں اور زخمیوں کو پانی پلانے لگیں۔ ان پر حِبان بن عرقہ نے تیر چلایا ، وہ گر پڑیں۔ اور پردہ کھل گیا۔ اس پر اللہ کے اس دشمن نے بھر پور قہقہہ لگایا۔ رسول اللہﷺ پر یہ بات گراں گزری۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۲/۹۰ 2 البدایۃ والنہایۃ ۴/۱۷
3 صحیح بخاری ۱/۴۰۳ ، ۵۸۱ 4 ایضاً ۱/۴۰۳
5 سُوت کا تنا عرب عورتوں کا خاص کام تھا۔ اس لیے سُوت کاتنے کا تکلا، یعنی پھر کی عورتوں کا ویسا ہی مخصوص سامان تھا جیسے ہمارے ملک میں چوڑی۔ اس موقعے پر مذکورہ محاورہ کا ٹھیک وہی مطلب ہے۔ جو ہماری زبان کے اس کا محاروے کا ہے کہ ”چوڑی لو۔ اورتلوار دو ۔”
اور آپﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو ایک بے ریش تیردے کر فرمایا: اسے چلاؤ۔ حضرت سعدؓ نے چلایا تو وہ تیر حِبان کے حلق پر لگا۔ اور وہ چت گرا۔ اور اس کا پردہ کھل گیا۔ اس پر رسول اللہﷺ اس طرح ہنسے کہ جڑ کے دانت دکھائی دینے لگے۔ اورفرمایا: سعد نے اُمِ ایمن کا بدلہ چکا لیا۔ اللہ ان کی دعا قبول کرے۔1
گھاٹی میں قراریابی کے بعد:
جب رسول اللہﷺ نے گھاٹی کے اندر اپنی قیام گاہ میں ذرا قرار پالیا تو حضرت علی بن ابی طالبؓ مہر اس سے اپنی ڈھال میں پانی بھر لائے – کہا جاتا ہے مہراس پتھر میں بنا ہوا وہ گڑھا ہوتا ہے جس میں زیادہ ساپانی آسکتا ہو۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ احد میں ایک چشمے کا نام تھا۔ بہرحال حضرت علیؓ نے وہ پانی نبیﷺ کی خدمت میں پینے کے لیے پیش کیا۔ آپﷺ نے قدرے ناگوار بو محسوس کی اس لیے اسے پیا تو نہیں۔ البتہ اس سے چہرے کا خون دھولیا اور سر پر بھی ڈال لیا۔ اس حالت میں آپﷺ فرمارہے تھے : اس شخص پر اللہ کا غضب ہو جس نے اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو خون آلود کیا۔2
حضرت سَہلؓ فرماتے ہیں : مجھے معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ کا زخم کس نے دھویا ؟ پانی کس نے بہایا ؟ اور علاج کس چیز سے کیا گیا ؟ آپﷺ کی لختِ جگر حضرت فاطمہؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زخم دھورہی تھیں۔ اور حضرت علیؓ ڈھال سے پانی بہا رہے تھے۔ جب حضرت فاطمہؓ نے دیکھا کہ پانی کے سبب خون بڑھتا ہی جارہا ہے تو چٹائی کا ایک ٹکڑ ا لیا۔اور اسے جلا کر چپکا دیا ، جس سے خون رک گیا۔3
ادھر محمد بن مسلمہؓ شیریں اور خوش ذائقہ پانی لائے۔ نبیﷺ نے نوش فرمایا : اور دعائے خیر دی۔ 4 زخم کے اثر سے نبیﷺ نے ظہر کی نماز بیٹھے بیٹھے پڑھی۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی آپﷺ کے پیچھے بیٹھ ہی کر نماز ادا کی۔5
ابو سفیان کی شماتت اور حضرت عمرؓ سے دودو باتیں:
مشرکین نے واپسی کی تیاری مکمل کرلی تو ابو سفیان جبل اُحد پر نمودار ہوا۔ اور بآواز بلند بو لا: کیا تم میں محمد ہیں ؟ لوگوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔اس نے پھر کہا : کیا تم میں ابو قحافہ کے بیٹے (ابوبکر ) ہیں؟ لوگوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے پھر سوال کیا : کیا تم میں عمر بن خطاب ہیں ؟ لوگوں نے اب کی مرتبہ بھی جواب نہ دیا – کیونکہ نبیﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کا جواب دینے سے منع فرمادیا تھا۔ ابو سفیان نے ان تین کے سوا کسی اور کے بارے میں نہ پوچھا۔ کیونکہ اسے اور اس کی قوم کو معلوم تھا کہ اسلام کا قیام ان ہی تینوں کے ذریعے ہے۔ بہرحال
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 السیرۃ الحلبیہ ۲/۲۲ 2 ابن ہشام ۲/۸۵
3 صحیح بخاری ۲/۵۸۴ 4 السیرۃ الحلبیہ ۲/۳۰
5 ابن ہشام ۲/۸۷
جب کوئی جواب نہ ملا تو اس نے کہا : چلو ان تینوں سے فرصت ہوئی۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ بے قابو ہوگئے۔ اور بولے: او اللہ کے دشمن ! جن کا تو نے نام لیا ہے وہ سب زندہ ہیں۔ اور ابھی اللہ نے تیری رسوائی کا سامان باقی رکھا ہے۔اس کے بعد ابو سفیان نے کہا: تمہارے مقتولین کا مُثلہ ہوا ہے۔ لیکن میں نے نہ اس کا حکم دیا تھا اور نہ اس کا براہی منایا ہے۔ پھر نعرہ لگا یا : اُعلُ ھُبَل۔ ھبل بلند ہو۔
نبیﷺ نے فرمایا : تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے۔ صحابہ نے عرض کیا: کیا جواب دیں ؟ آپ نے فرمایا: کہو: ((اللہ أعلی وأجل۔)) ”اللہ اعلیٰ اور برتر ہے۔ ”
پھر ابو سفیان نے نعرہ لگایا : لنا عزی ولا عزی لکم۔ ”ہمارے لیے عُزیٰ ہے۔ اور تمہارے لیے عُزیٰ نہیں ۔”
نبیﷺ نے فرمایا: جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے دریافت کیا : کیا جواب دیں ؟ آپﷺ نے فرمایا :کہو: ((اللہ مولانا ولا مولی لکم۔)) ”اللہ ہمار امولیٰ ہے اور تمہاراکوئی مولیٰ نہیں ۔”
اس کے بعد ابو سفیان نے کہا : کتنا اچھا کارنامہ رہا۔ آج کا دن جنگ بدر کے دن کا بدلہ ہے اور لڑائی ڈول ہے۔1
حضرت عمرؓ نے جواب میں کہا : برابر نہیں۔ ہمارے مقتولین جنت میں ہیں۔ اور تمہارے مقتولین جہنم میں۔
اس کے بعد ابو سفیان نے کہا : عمر! میرے قریب آؤ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : جاؤ۔ دیکھو کیا کہتا ہے ؟ وہ قریب آئے تو ابو سفیان نے کہا : عمر ! میں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا ہم نے محمد کو قتل کردیا ہے ؟حضرت عمرؓ نے کہا: واللہ ! نہیں۔ بلکہ اس وقت وہ تمہاری باتیں سن رہے ہیں۔ ابو سفیان نے کہا : تم میرے نزدیک ابن قمئہ سے زیادہ سچے اور راست باز ہو۔2
بدر میں ایک اور جنگ لڑنے کا عہد وپیمان:
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ ابوسفیان اور اس کے رُفقاء واپس ہونے لگے تو ابو سفیان نے کہا : آئندہ سال بدر میں پھر لڑنے کا وعدہ ہے۔ رسول اللہﷺ نے ایک صحابی سے فرمایا : کہہ دو ٹھیک ہے۔ اب یہ بات ہمارے اور تمہارے درمیا ن طے رہی۔3
مشرکین کے موقف کی تحقیق:
اس کے بعد رسول اللہﷺ نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو روانہ کیا۔ اور فرمایا: قوم (مشرکین ) کے پیچھے پیچھے جاؤ۔ اور دیکھو وہ کیا کررہے ہیں ؟ اور ان کاارادہ کیا ہے ؟ اگر انہوں نے گھوڑے پہلو میں رکھے ہوں اور اونٹوں پر سوارہوں تو ان کا ارادہ مکہ کا ہے۔ اور اگر گھوڑوں پر سوار ہوں ، اور اونٹ ہانک کر لے جائیں تو مدینے کا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 یعنی کبھی ایک فریق غالب آتا ہے اور کبھی دوسرا ، جیسے ڈول کبھی کوئی کھینچتا ہے کبھی کوئی۔
2 ابن ہشام ۲/۹۳، ۹۴ زاد المعاد ۲/۹۴ صحیح بخاری ۲/۵۷۹
3 ابن ہشام ۲/۹۴
ارادہ ہے۔ پھر فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر انہوں نے مدینے کا ارادہ کیا تو میں مدینے جاکر ان سے دودوہاتھ کروں گا۔ حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ اس کے بعد میں ان کے پیچھے نکلا تو دیکھا کہ انہوں نے گھوڑے پہلو میں کررکھے ہیں۔ اونٹوں پر سوار ہیں۔ اور مکے کا رُخ ہے۔1
شہیدوں اور زخمیوں کی خبر گیری:
قریش کی واپسی کے بعد مسلمان اپنے شہیدوں اور زخمیوں کی کھوج خبر لینے کے لیے فارغ ہوگئے۔ حضرت زیدبن ثابتؓ کا بیان ہے کہ احد کے روز رسول اللہﷺ نے مجھے بھیجا کہ میں سعد بن الربیع کو تلاش کروں اور فرمایا کہ اگر وہ دکھائی پڑجائیں تو انہیں میرا سلام کہنا۔ اور یہ کہنا کہ رسول اللہﷺ دریافت کررہے ہیں کہ تم اپنے آپ کو کیسا پارہے ہو؟ حضرت زیدؓ کہتے ہیں کہ میں مقتولین کے درمیان چکر لگاتے ہوئے ان کے پاس پہنچا تو ان کی آخری سانس آجارہی تھی۔ انہیں نیزے ، تلوار اور تیر کے ستر سے زیادہ زخم آئے تھے۔ میں نے کہا: اے سعد ! اللہ کے رسول آپ کو سلام کہتے ہیں اور دریافت فرمارہے ہیں کہ مجھے بتاؤ اپنے آپ کو کیسا پارہے ہو ؟ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ کو سلا م۔ آپ سے عرض کرو کہ یارسول اللہ ! جنت کی خوشبو پارہا ہوں۔ اور میری قوم انصار سے کہو کہ اگر تم میں سے ایک آنکھ بھی ہلتی رہی ، اور دشمن رسول اللہﷺ تک پہنچ گیا تو تمہارے لیے اللہ کے نزدیک کوئی عذر نہ ہوگا۔ اور اسی وقت ان کی روح پرواز کر گئی۔2
لوگوں نے زخمیوں میں اُصیرم کو بھی پایا۔ جن کا نام عمرو بن ثابت تھا۔ ان میں تھوڑی سی رمق باقی تھی۔ اس سے قبل انہیں اسلام کی دعوت دی جاتی تھی مگر وہ قبول نہیں کرتے تھے۔ اس لیے لوگوں نے (حیرت سے ) کہا: یہ اصیرم کیسے آیا ہے ؟ اسے تو ہم نے اس حالت میں چھوڑا تھا کہ وہ اس دین کا انکاری تھا۔ چنانچہ ان سے پوچھا گیا کہ تمہیں یہاں کیا چیز لے آئی ؟ قوم کی حمایت کا جوش ؟ یا اسلام کی رغبت ؟ انہوں نے کہا : اسلام کی رغبت۔ درحقیقت میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا۔ اور اس کے بعد رسول اللہﷺ کی حمایت میں شریک ِ جنگ ہوا۔ یہاں تک کہ اب اس حالت سے دوچار ہوں جو آپ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ اور اسی وقت ان کا انتقال ہوگیا۔ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپﷺ نے فرمایا: وہ جنتیوں میں سے ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ حالانکہ اس نے اللہ کے لیے ایک وقت کی بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔3 (کیونکہ اسلام لانے کے بعد ابھی کسی نماز کا وقت آیا ہی نہ تھا کہ شہید ہوگئے )
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۲/۹۴ حافظ ابن حجر نے فتح الباری (۷/۳۴۷) میں لکھا ہے کہ مشرکین کے عزائم کا پتہ لگانے کے لیے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ تشریف لے گئے تھے۔
2 زاد المعاد ۲/۹۶
3 ایضا ۲/۹۴، ابن ہشام ۲/۹۰

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: