Ar-Raheeq Al-Makhtum by Safiur Rahman Mubarakpuri – Last Episode 10

0
الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری – آخری قسط نمبر 10

–**–**–

تنبیہ”اور (یہ معاہدہ اس شرط پر کیا جارہا ہے کہ ) ہمارا جو آدمی آپ کے پاس جائے گا آپ اسے لازما ً واپس کر دیں گے، خواہ وہ آپ ہی کے دین پر کیوں نہ ہو۔”
لہٰذا عورتیں اس معاہدے میں سرے سے داخل ہی نہ تھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلے میں یہ آیت بھی نازل فرمائی :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَ‌اتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ ۖ اللَّـهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ ۖ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْ‌جِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ‌ ۖ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ ۖ وَآتُوهُم مَّا أَنفَقُوا ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَن تَنكِحُوهُنَّ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَ‌هُنَّ ۚ وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ‌ (۶۰: ۱۰ )
یعنی ”اے اہل ایمان جب تمہارے پاس مومنہ عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو ان کا امتحان لو۔ اللہ ان کے ایمان کو بہتر جانتا ہے۔ پس اگر انہیں مومنہ جانو تو کفار کی طرف نہ پلٹاؤ۔ نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لیے حلال ہیں۔ البتہ ان کے کافر شوہروں نے جو مہر ان کو دیے تھے اسے واپس دے دو۔ (پھر ) تم پر کوئی حرج نہیں کہ ان سے نکاح کر لو جب کہ انہیں ان کے مہر ادا کرو۔ اور کافرہ عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ رکھو۔”
اس آیت کے نازل ہونے کے بعد جب کوئی مومنہ عورت ہجرت کرکے آتی تو رسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی روشنی میں اس کا امتحان لیتے کہ
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِ‌كْنَ بِاللَّـهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِ‌قْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِ‌ينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْ‌جُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُ‌وفٍ ۙ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ‌ لَهُنَّ اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ (۶۰: ۱۲)
یعنی”اے نبی ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں آئیں اور اس بات پر بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گی ، چوری نہ کریں گی ، زنانہ کریں گی ، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی۔ اپنے ہاتھ پاؤں کے درمیا ن سے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی اور کسی معروف بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی توان سے بیعت لے لو۔ اور ان کے لیے اللہ سے دعائے مغفرت کرو۔ یقینا اللہ غفور رحیم ہے۔ )”
چنانچہ جو عورتیں اس آیت میں ذکر کی ہوئی شرائط کی پابندی کا عہد کرتیں۔ آپ ان سے فرماتے کہ میں نے تم سے بیعت کر لی ، پھر انہیں واپس نہ پلٹا تے۔
اس حکم کے مطابق مسلمانوں نے اپنی کافرہ بیویوں کو طلاق دے دی۔ اس وقت حضرت عمر کی زوجیت میں دوعورتیں تھیں جو شرک پر قائم تھیں۔ آپ نے ان دونوں کوطلاق دے دی ، پھر ایک سے معاویہ نے شادی کرلی اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے۔
اس معاہدے کی دفعات کا حاصل :
یہ ہے صلح حدیبیہ۔ جو شخص اس کی دفعات کا ان کے پس منظر سمیت جائزہ لے گا اسے کوئی شبہ نہ رہے گا کہ یہ مسلمانوں کی فتح عظیم تھی۔ کیونکہ قریش نے اب تک مسلمانوں کا وجود تسلیم نہیں کیا تھا اور انہیں نیست ونابود کرنے کا تہیہ کیے بیٹھے تھے۔ انہیں انتظار تھا کہ ایک نہ ایک دن یہ قوت دم توڑ دے گی۔ اس کے علاوہ قریش جزیرۃ العرب کے دینی پیشوا اور دنیاوی صدر نشین ہونے کی حیثیت سے اسلامی دعوت اور عام لوگوں کے درمیان پوری قوت کے ساتھ حائل رہنے کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ اس پس منظر میں دیکھئے تو صلح کی جانب محض جھک جانا ہی مسلمانوں کی قوت کا اعتراف اور اس بات کا اعلان تھا کہ اب قریش اس قوت کو کچلنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ پھر تیسری دفعہ کے پیچھے صاف طور پر یہ نفسیاتی کیفیت کارفرما نظر آتی ہے کہ قریش کو دنیاوی صدرنشینی اور دینی پیشوائی کا جو منصب حاصل تھا اسے انہوں نے بالکل بھُلا دیا تھا۔ اور اب انہیں صرف اپنی پڑی تھی۔ ان کو اس سے کوئی سروکار نہ تھا کہ بقیہ لوگوں کا کیا بنتا ہے۔ یعنی اگر سارے کا سارا جزیرۃ العرب حلقہ بگوش ِ اسلام ہوجائے تو قریش کو اس کی کوئی پروانہیں اور وہ اس میں کسی طرح کی مداخلت نہ کریں گے۔ کیا قریش کے عزائم اور مقاصد کے لحاظ سے یہ ان کی شکستِ فاش نہیں ہے؟ اور مسلمانوں کے مقاصد کے لحاظ سے یہ فتحِ مبین نہیں ہے ؟ آخر اہلِ اسلام اور اعدائے اسلام کے درمیان جو خونریز جنگیں پیش آئی تھیں ان کا منشاء اور مقصد اس کے سوا کیا تھا کہ عقیدے اور دین کے بارے میں لوگوں کو مکمل آزادی اور خودمختاری حاصل ہوجائے۔ یعنی اپنی آزاد مرضی سے جو شخص چاہے مسلمان ہو اور جو چاہے کافررہے۔ کوئی طاقت ان کی مرضی اور ارادے کے سامنے روڑا بن کر کھڑی نہ ہو۔ مسلمانوں کا یہ مقصد تو ہرگز نہ تھا کہ دشمن کے مال ضبط کیے جائیں۔ انہیں موت کے گھاٹ اتارا جائے۔ اور انہیں زبردستی مسلمان بنایا جائے۔ یعنی مسلمانوں کا مقصو د صرف وہی تھا جسے علامہ اقبال نے یوں بیان کیا ہے ؎
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی!
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس صلح کے ذریعے مسلمانوں کا مذکورہ مقصد اپنے تمام اجزا اور لوازم سمیت حاصل ہو گیا اور اس طرح حاصل ہوگیا کہ بسا اوقات جنگ میں فتح ِ مبین سے ہمکنارہونے کے باوجود حاصل نہیں ہوپاتا۔ پھر اس آزادی کی وجہ سے مسلمانوں نے دعوت وتبلیغ کے میدان میں نہایت زبردست کامیابی حاصل کی، چنانچہ مسلمان افواج کی تعداد جو اس صلح سے پہلے تین ہزار سے زائد کبھی نہ ہوسکی تھی وہ محض دوسال کے اندر فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار ہوگئی۔
دفعہ نمبر ۲بھی درحقیقت اس فتح ِ مبین کا ایک جزو ہے کیونکہ جنگ کی ابتدا مسلمانو ں نے نہیں بلکہ مشرکین نے کی تھی۔ اللہ کا ارشاد ہے :
وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ ۚ (۹: ۱۳)
”یعنی پہلی بار ان ہی لوگوں نے تم لوگو ں سے ابتداء کی۔”
جہاں تک مسلمانوں کی طلایہ گردیوں اور فوجی گشتوں کا تعلق ہے تو مسلمانوں کا مقصود ان سے صرف یہ تھا کہ قریش اپنے احمقانہ غرورمیں اللہ کی راہ روکنے سے باز آجائیں اور مساویانہ بنیاد پر معاملہ کرلیں۔ یعنی ہر فریق اپنی اپنی ڈگرپر گامزن رہنے کے لیے آزاد رہے۔ اب غور کیجیے کہ دس سالہ جنگ بندرکھنے کا معاہدہ آخر اس غرور اور اللہ کی راہ میں رکاوٹ سے باز آنے ہی کا توعہد ہے ، جو اس بات کی دلیل ہے کہ جنگ کا آغاز کرنے والا کمزور اور بے دست وپا ہو کر اپنے مقصد میں ناکام ہوگیا۔
جہاں تک پہلی دفعہ کا تعلق ہے تو یہ بھی درحقیقت مسلمانوں کی ناکامی کے بجائے کامیابی کی علامت ہے کیونکہ یہ دفعہ درحقیقت اس پابندی کے خاتمے کا اعلان ہے جسے قریش نے مسلمانوں پر مسجد حرام میں داخلے سے متعلق عائد کررکھی تھی۔ البتہ اس دفعہ میں قریش کے لیے بھی تشفی کی اتنی سی بات تھی کہ وہ اس ایک سال مسلمانوں کو روکنے میں کامیاب رہے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ وقتی اور بے حیثیت فائدہ تھا۔
اس کے بعد اس صلح کے سلسلے میں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ قریش نے مسلمانوں کو یہ تین رعائتیں دے کر صرف ایک رعایت حاصل کی جو دفعہ ۴ میں مذکور ہے ، لیکن یہ رعایت حددرجہ معمولی اور بے وقعت تھی اور اس میں مسلمانوں کا کوئی نقصان نہ تھا۔ کیونکہ یہ معلوم تھا کہ جب تک مسلمان رہے گا۔ اللہ ، رسول اور مدینۃ الاسلام سے بھاگ نہیں سکتا۔ اس کے بھاگنے کی صرف ایک ہی صورت ہوسکتی ہے کہ وہ مرتد ہوجائے۔ خواہ ظاہراً خواہ درپردہ۔ اور ظاہر ہے کہ جب مُرتد ہوجائے تو مسلمانوں کو اس کی ضرورت نہیں بلکہ اسلامی معاشرے میں اس کی موجودگی سے کہیں بہتر ہے کہ وہ الگ ہوجائے اور یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف رسول اللہﷺ نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا تھا :
(( إنہ من ذہب منا إلیہم فأبعدہ اللہ ۔ )) 1
”جو ہمیں چھوڑ کران مشرکین کی طرف بھاگا اسے اللہ نے دور (یابرباد) کردیا۔”
باقی رہے مکے کے وہ باشندے جو مسلمان ہوچکے تھے یا مسلمان ہونے والے تھے تو ان کے لیے اگرچہ اس معاہدے کی رو سے مدینہ میں پناہ گزین ہونے کی گنجائش نہ تھی لیکن اللہ کی زمین تو بہر حال کشادہ تھی۔ کیا حبشہ کی زمین نے ایسے نازک وقت میں مسلمانوں کے لیے اپنی آغوش وانہیں کردی تھی ، جب مدینہ کے باشندے اسلام کا نام بھی نہ جانتے تھے ؟ اسی طرح آج بھی زمین کا کوئی ٹکڑا مسلمانوں کے لیے اپنی آغوش کھول سکتا تھا، اور یہی بات
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح مسلم باب صلح الحدیبیہ ۲/۱۰۵
تھی جس کی طرف رسول اللہﷺ نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایاتھا :
(( ومن جاء نا منہم سیجعل اللہ لہ فرجاً ومخرجاً ۔))1
”ان کا جو آدمی ہمارے پاس آئے گا۔ اللہ اس کے لیے کشادگی اور نکلنے کی جگہ بنادے گا۔”
پھر اس قسم کے تحفظات سے اگرچہ نظر بظاہر قریش نے عزّووقار حاصل کیا تھا مگر یہ درحقیقت قریش کی سخت نفسیاتی گھبراہٹ ، پریشانی ، اعصابی دباؤ اور شکستگی کی علامت ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں اپنے بُت پرست سماج کے بارے میں سخت خوف لاحق تھا اور وہ محسوس کررہے تھے کہ ان کا یہ سماجی گھروندا ایک کھائی کے ایسے کھوکھلے اور اندر سے کٹے ہوئے کنارے پر کھڑاہے جو کسی بھی دم ٹوٹ گرنے والا ہے۔ لہٰذا اس کی حفاظت کے لیے اس طرح کے تحفظات حاصل کر لینا ضروری ہیں۔ دوسری طرف رسول اللہﷺ نے جس فراخ دلی کے ساتھ یہ شرط منظور کی کہ قریش کے یہاں پناہ لینے والے کسی مسلمان کو واپس نہ طلب کریں گے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو اپنے سماج کی ثابت قدمی اور پختگی پر پورا پورا اعتماد تھا اور اس قسم کی شرط آپ کے لیے قطعا ً کسی اندیشے کا سبب نہ تھی۔
مسلمانوں کا غم اور حضرت عمرؓ کا مناقشہ:
یہ ہے معاہدۂ صلح کی دفعات کی حقیقت لیکن ان دفعات میں دوباتیں بظاہر اس قسم کی تھیں کہ ان کی وجہ سے مسلمانوں کو سخت غم والم لاحق ہوا۔ ایک یہ کہ آ پﷺ نے بتایا تھا کہ آپ بیت اللہ تشریف لے جائیں گے اوراس کا طواف کرینگے ، لیکن آپﷺ طواف کیے بغیر واپس ہورہے تھے۔ دوسرے یہ کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں اور حق پر ہیں۔ اور اللہ نے اپنے دین کو غالب کرنے کا وعدہ کیا ہے ، پھر کیا وجہ ہے کہ آپﷺ نے قریش کا دباؤ قبول کیا۔ اور دب کر صلح کی ؟ یہ دونوں باتیں طرح طرح کے شکوک وشبہات اور گمان ووسوسے پیدا کررہی تھیں۔ ادھر مسلمانوں کے احساسات اس قدر مجروح تھے کہ وہ صلح کی دفعات کی گہرائیوں اور مآل پر غور کرنے کے بجائے حُزن وغم سے نڈھال تھے۔ اور غالباً سب سے زیادہ غم حضرت عمر بن خطابؓ کوتھا۔ چنانچہ انہوں نے خدمت ِ نبوی میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا ہم لوگ حق پر اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا : کیوں نہیں ؟ انہوں نے کہا : کیاہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا : کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: تو پھر کیوں ہم اپنے دین کے بارے میں دباؤ قبول کریں ؟ اور ایسی حالت میں پلٹیں کہ ابھی اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : خطاب کے صاحبزادے ! میں اللہ کا رسول ہو ں اور اس کی نافرمانی نہیں کرسکتا۔ وہ میری مدد کرے گا۔ اور مجھے ہرگز ضائع نہ کرے گا ، انہوں نے کہا:کیاآپﷺ نے ہم سے یہ بیان نہیں کیا تھا کہ آپﷺ بیت اللہ کے پاس تشریف لائیں گے اور اس کا طواف
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ایضًا صحیح مسلم ۲/۱۰۵
کریں گے؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں ؟لیکن کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم اسی سال آئیں گے ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو بہرحال تم بیت اللہ کے پاس آؤگے اور اس کا طواف کرو گے۔
اس کے بعد حضرت عمرؓ غصے سے بپھرے ہوئے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پاس پہنچے۔ اور ان سے وہی بات کہی جو رسول اللہﷺ سے کہی تھیں۔ اور انہو ں نے بھی ٹھیک وہی جواب دیا جو رسول اللہﷺ نے دیا تھا۔ اور اخیر میں اتنا اور اضافہ کیا کہ آپﷺ کی رکاب تھامے رہویہاں تک کہ موت آجائے کیونکہ اللہ کی قسم آپ حق پر ہیں۔
اس کے بعد إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا (۴۸: ۱)کی آیات نازل ہوئیں۔ جس میں اس صلح کو فتح ِ مبین قراردیا گیا ہے۔ اس کا نزول ہوا تو رسول اللہﷺ نے حضرت عمر بن خطابؓ کوبلایا اور پڑھ کرسنایا۔ وہ کہنے لگے : یارسول اللہ ! یہ فتح ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ اس سے ان کے دل کو سکون ہوگیا۔ اور واپس چلے گئے۔
بعد میں حضرت عمرؓ کو اپنی تقصیر کا احساس ہوا تو سخت نادم ہوئے۔ خود ان کا بیان ہے کہ میں نے اس روز جو غلطی کی تھی اور جو بات کہہ دی تھی اس سے ڈرکر میں نے بہت سے اعمال کیے۔ برابر صدقہ وخیرات کرتا رہا۔ روزے رکھتا اور نماز پڑھتا رہا۔ اور غلام آزاد کرتا رہا ، یہاں تک کہ اب مجھے خیر کی امید ہے۔1
کمزور مسلمانوں کا مسئلہ حل ہوگیا:
رسول اللہﷺ مدینہ واپس تشریف لاکر مطمئن ہوچکے تو ایک مسلمان جسے مکہ میں اذیتیں دی جارہی تھیں چھوٹ کر بھاگ آیا۔ ان کا نام ابو بصیر تھا۔ وہ قبیلہ ثقیف سے تعلق رکھتے تھے۔ اور قریش کے حلیف تھے۔ قریش نے ان کی واپسی کے لیے دوآدمی بھیجے اور یہ کہلوایا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان جو عہد وپیمان ہے اس کی تعمیل کیجیے۔ نبیﷺ نے ابو بصیر کو ان دونوں کے حوالے کردیا۔ یہ دونوں انہیں ہمراہ لے کر روانہ ہوئے۔ اور ذُو الحلیفہ پہنچ کر اترے ، اور کھجور کھانے لگے۔ ابو بصیر نے ایک شخص سے کہا : اے فلاں ! اللہ کی قسم! میں دیکھتا ہوں کہ تمہاری یہ تلوار بڑی عمدہ ہے۔ اس شخص نے اسے نیام سے نکال کر کہا : ہاں ہاں ! واللہ یہ بہت عمدہ ہے۔ میں نے اس کا بارہا تجربہ کیا ہے۔ ابو بصیر نے کہا: ذرا مجھے دکھلاؤ ، میں بھی دیکھوں۔ اس شخص نے ابو بصیر کو تلوار دے دی۔ اور ابوبصیر نے تلوار لیتے ہی اسے مار کر ڈھیر کردیا۔
دوسر اشخص بھاگ کر مدینہ آیا اور دوڑتا ہو ا مسجد نبوی میں گھس گیا۔ رسول اللہﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا : اس نے خطرہ دیکھا ہے۔ وہ شخص نبیﷺ کے پاس پہنچ کر بولا : میرا ساتھی اللہ کی قسم قتل کردیا گیا۔ اور میں بھی قتل
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صلح حدیبیہ کی تفصیلات کے مآخذ یہ ہیں: فتح الباری۷/۴۳۹تا ۴۵۸ صحیح بخای ۱/۳۷۸ تا ۳۸۱ ، ۲/۵۹۸، ۶۰۰،۷۱۷ صحیح مسلم ۲/۱۰۴، ۱۰۵، ۱۰۶ ابن ہشام ۲/۳۰۸ تا ۳۲۲ زادا لمعاد ۲/۱۲۲ تا ۱۲۷ ، تاریخ عمر بن الخطاب لابن الجوزی ص ۳۹، ۴۰۔
ہی کیا جانے والا ہوں۔ اتنے میں ابو بصیر آگئے۔ اور بولے : یا رسول اللہ! اللہ نے آپ کا عہد پورا کردیا۔ آپ نے مجھے ان کی طرف پلٹا دیا۔ پھر اللہ نے مجھے ان سے نجات دے دی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : اس کی ماں کی بربادی ہو۔ اسے کوئی ساتھی مل جائے تو یہ تو جنگ کی آگ بھڑ کا دے گا۔ یہ بات سن کر ابو بصیر سمجھ گئے کہ اب انہیں پھر کافروں کے حوالے کیا جائے گا۔ اس لیے وہ مدینہ سے نکل کر ساحل سمندر پر آگئے۔ ادھر ابو جندل بن سہیل بھی چھوٹ بھاگے اور ابو بصیر سے آملے۔ اب قریش کا جو آدمی بھی اسلام لاکر بھاگتا وہ ابو بصیر سے آملتا۔ یہاں تک کہ ا ن کی ایک جماعت اکٹھی ہوگئی۔ اس کے بعد ان لوگوں کو ملک شام آنے جانے والے کسی بھی قریشی قافلے کا پتہ چلتاتو وہ اس سے ضرور چھیڑ چھاڑ کرتے اور قافلے والوں کو مار کر ان کا مال لوٹ لیتے۔ قریش نے تنگ آکر نبیﷺ کو اللہ اور قرابت کا واسطہ دیتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ آپ انہیں اپنے پاس بلالیں۔ اور اب جو بھی آپ کے پاس جائے گا مامون رہے گا۔
اس کے بعد نبیﷺ نے انھیں بلوالیا اور وہ مدینہ آگئے۔1
کبار قریش کا قبولِ اسلام:
اس معاہدہ ٔ صلح کے بعد ۷ھ کے اوائل میں حضرت عَمرو بن عاص ،خالد بن ولید اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم مسلمان ہوگئے۔ جب یہ لوگ خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا : مکہ نے اپنے جگر گوشو ں کو ہمارے حوالے کردیا ہے۔2
****​
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 سابقہ مآخذ
2 اس بارے میں سخت اختلاف ہے کہ ہے کہ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کس سنہ میں اسلام لائے۔ اسماء الرجال کی عام کتابوںمیں اسے ۸ ھ کا واقعہ بتایا گیا ہے ، لیکن نجاشی کے پاس حضرت عمرو بن عاصؓ کے اسلام لانے کا واقعہ معروف ہے جو ۷ ھ کا ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ حضرت خالد اور عثمان بن طلحہ اس وقت مسلمان ہوئے تھے جب عمرو بن عاص حبشہ سے واپس آئے تھے کیونکہ انہوں نے حبشہ سے واپس آکر مدینہ کا قصد کیا توراستے میں ان دونوں سے ملاقات ہوئی۔ اور تینوں حضرات نے ایک ساتھ خدمت نبوی میں حاضر ہوکر اسلام قبول کیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سبھی حضرات ۷ ھ کے اوائل میں مسلمان ہوئے۔ واللہ اعلم
دو سرا مرحلہ:

نئی تبدیلی
صلح حدیبیہ درحقیقت اسلام اور مسلمانوں کی زندگی میں ایک نئی تبدیلی کا آغاز تھا۔ کیونکہ اسلام کی عداوت ودشمنی میں قریش سب سے زیادہ مضبوط ، ہٹ دھرم اور لڑاکا قوم کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس لیے جب وہ جنگ کے میدان میں پسپا ہوکرامن وسلامتی کی طرف آگئے تو احزاب کے تین بازوؤں- قریش ، غطفان اور یہود – میں سب سے مضبوط بازو ٹوٹ گیا۔ اور چونکہ قریش ہی پورے جزیرۃ العرب میں بت پرستی کے نمائندے اور سربراہ تھے، اس لیے میدان جنگ سے ان کے ہٹتے ہی بت پرستوں کے جذبات سردپڑگئے اور دشمنانہ روش میں بڑی حد تک تبدیلی آگئی، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس صلح کے بعد غطفان کی طرف سے بھی کسی بڑی تگ ودو اور شور وشر کا مظاہرہ نہیں ہو ا بلکہ انہوں نے کچھ کیا بھی تو یہود کے بھڑکانے پر۔
جہاں تک یہود کا تعلق ہے تو وہ یثرب سے جلاوطنی کے بعد خیبر کو اپنی دسیسہ کاریوں اور سازشوں کا اڈہ بنا چکے تھے وہاں ان کے شیطان انڈے بچے دے رہے تھے۔ اور فتنے کی آگ بھڑکانے میں مصروف تھے۔ وہ مدینہ کے گرد وپیش آباد بدوؤں کو بھڑکاتے رہتے تھے اور نبیﷺ اور مسلمانوں کے خاتمے یا کم ازکم انہیں بڑے پیمانے پر زک پہنچانے کی تدبیریں سوچتے رہتے تھے۔ اس لیے صلح حدیبیہ کے بعد نبیﷺ نے سب سے پہلا اور فیصلہ کن راست اقدام اسی مرکز شروفساد کے خلاف کیا۔
بہر حال امن کے اس مرحلے پر جو صلح حدیبیہ کے بعد شروع ہوا تھا مسلمانوں کو اسلامی دعوت پھیلانے اور تبلیغ کرنے کا اہم موقع ہاتھ آگیا تھا۔ اس لیے اس میدان میں ان کی سرگرمیاں تیز تر ہوگئیں جو جنگی سرگرمیوں پر غالب رہیں، لہٰذا مناسب ہوگا کہ اس دور کی دو قسمیں کردی جائیں :
تبلیغی سرگرمیاں ، اور بادشاہوں اور سربراہوں کے نام خُطوط
جنگی سرگرمیاں
پھر بے جا نہ ہوگا کہ اس مرحلے کی جنگی سرگرمیاں پیش کرنے سے پہلے بادشاہوں اور سربراہوں کے نام خطوط کی تفصیلات پیش کردی جائیں کیونکہ طبعی طور پر اسلامی دعوت مقدم ہے بلکہ یہی وہ اصل مقصد ہے جس کے لیے مسلمانوں نے طرح طرح کی مشکلات ومصائب ، جنگ اور فتنے ، ہنگامے اور اضطرابات برداشت کیے تھے۔

بادشاہوں اور اُمراء کے نام خطوط

۶ ھ کے اخیر میں جب رسول اللہﷺ حدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو آپ نے مختلف بادشاہوں کے نام خطوط لکھ کر انہیں اسلام کی دعوت دی۔
آپ نے ان خطوط کے لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے کہا گیا کہ بادشاہ اسی صورت میں خطوط قبول کریں گے جب ان پر مہر لگی ہو۔ اس لیے نبیﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی ، جس پر محمد رسول اللہ نقش تھا۔ یہ نقش تین سطروں میں تھا۔ محمد ایک سطر میں،رسول ایک سطر میں ، اور اللہ ایک سطر میں ، شکل یہ تھی :
1پھر آپﷺ نے معلومات رکھنے والے تجربہ کار صحابہ کو بطور قاصد منتخب فرمایا۔ اور انہیں بادشاہوں کے پاس خطوط دے کر روانہ فرمایا۔علامہ منصور پوری نے جزم کے ساتھ بیان کیا ہے کہ آپ نے یہ قاصد اپنی خیبر روانگی سے چند دن پہلے یکم محرم ۷ ھ کو روانہ فرمائے تھے۔ 2اگلی سطور میں وہ خطوط اور ان پر مرتّب ہونے والے کچھ اثرات پیش کیے جارہے ہیں۔
۱۔ نجاشی شاہ حبش کے نام خط:
اس نجاشی کا نام اَصْحَمہ بن اَبْجَر تھا۔ نبیﷺ نے اس کے نام جو خط لکھا اسے عَمرو بن امیہ ضمری کے بدست ۶ ھ کے اخیر یا ۷ ھ کے شروع میں روانہ فرمایا۔ طبری نے اس خط کی عبارت ذکر کی ہے ، لیکن اسے بنظر ِ غائر دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وہ خط نہیں جسے رسول اللہﷺ نے صلح حدیبیہ کے بعد لکھا تھا بلکہ یہ غالباً اس خط کی عبارت ہے جسے آپ نے مکی دور میں حضرت جعفر کو ان کی ہجرت ِ حبشہ کے وقت دیا تھا۔ کیوں کہ خط کے اخیر میں ان مہاجرین کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے :
((وقد بعثت إلیکم ابن عمی جعفراً ومعہ نفر من المسلمین، فإذا جاء ک فاقرہم ودع التجبر ))
”میں نے تمہارے پاس اپنے چچیرے بھائی جعفر کو مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ کیاہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1صحیح بخاری ۲/۸۷۲، ۸۷۳
2 رحمۃ للعالمین ۱/۱۷۱
جب وہ تمہارے پاس پہنچیں تو انہیں اپنے پا س ٹھہرانا اور جبر اختیار نہ کرنا۔”
بیہقی نے ابن عباسؓ سے ایک اور خط کی عبارت روایت کی ہے جسے نبیﷺ نے نجاشی کے پاس روانہ کیا تھا۔ اس کا ترجمہ یہ ہے :
”یہ خط ہے محمد نبی کی طرف سے نجاشی اصحم شاہ ِ حبش کے نام ، اس پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ اس نے نہ کوئی بیوی اختیار کی نہ لڑکا۔ اور ( میں اس کی بھی شہادت دیتاہوں کہ ) محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔ اور میںتمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں کیوں کہ میں اس کا رسول ہوں۔ لہٰذا تم اسلام لاؤ سلامت رہوگے۔” اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور عبادت نہ کریں ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور ہم میں سے بعض بعض کو اللہ کے بجائے رب نہ بنائے۔ پس آگر وہ منہ موڑ یں تو کہہ دو کہ گواہ رہو ہم مسلمان ہیں ۔” اگر تم نے(یہ دعوت ) قبول نہ کی تو تم پر اپنی قوم کے نصاریٰ کا گناہ ہے۔”1
ڈاکڑ حمیداللہ صاحب (پاریس ) نے ایک اور خط کی عبارت درج فرمائی ہے۔ جو ماضی قریب میں دستیاب ہوا ہے اور صرف ایک لفظ کے اختلاف کے ساتھ یہی خط علامہ ابن قیم کی کتاب زاد المعاد میں بھی موجود ہے۔ ڈاکٹرصاحب موصوف نے اس خط کی عبارت کی تحقیق میں بڑی عرق ریزی سے کام لیا ہے۔ دَورِ جدید کے اکتشافات سے بہت کچھ استفادہ کیا ہے اور اس خط کا فوٹو کتا ب کے اندر ثبت فرمایا ہے۔
اس کا ترجمہ یہ ہے :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ کی جانب سے نجاشی عظیم حبشہ کے نام !!
اس شخص پرسلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ امابعد!میں تمہاری طرف اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں،جو قدوس اور سلام ہے۔ امن دینے والا محافظ ونگراں ہے۔ اور میں شہادت دیتا ہوں کہ عیسیٰ ابن مریم اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ اللہ نے انہیں پاکیزہ اور پاکدامن مریم بتول کی طرف ڈال دیا۔ اور اس کی روح اور پھونک سے مریم عیسیٰ کے لیے حاملہ ہوئیں۔ جیسے اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ میں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی جانب اور اس کی اطاعت پر ایک دوسرے کی مددکی جانب دعوت دیتا ہوں۔ اور اس بات کی طرف (بلاتا ہوں ) کہ تم میری پیروی کرو اور جو کچھ میرے پاس آیا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ کیونکہ میں اللہ کا رسول (ﷺ ) ہوں۔ اور میں تمہیں اور تمہارے لشکر کو اللہ عزوجل کی طرف بلاتا ہوں۔ اورمیں نے تبلیغ ونصیحت کردی۔ لہٰذا میری نصیحت قبول
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دلائل النبوۃ ، بیہقی ۲/۳۰۸ ، مستدر ک حاکم ۲/۶۲۳
کرو۔ اور اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔”1
ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے بڑے یقینی انداز میں کہا ہے کہ یہی وہ خط ہے جسے رسول اللہﷺ نے حدیبیہ کے بعد نجاشی کے پاس روانہ فرمایا تھا۔ جہاں تک اس خط کی استنادی حیثیت کا تعلق ہے تو دلائل پر نظر ڈالنے کے بعد اس کی صحت میں کوئی شبہ نہیں رہتا ، لیکن اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ نبیﷺ نے حدیبیہ کے بعد یہی خط روانہ فرمایاتھا۔ بلکہ بیہقی نے جو خط ابن عباس ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے اس کا انداز ان خطوط سے زیادہ ملتا جُلتا ہے جنہیں نبیﷺ نے حدیبیہ کے بعد عیسائی بادشاہوں اور اُمراء کے پاس روانہ فرمایا تھا کیونکہ جس طرح آپ نے ان خطوط میں آیت کریمہ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّـهَ وَلَا نُشْرِ‌كَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْ‌بَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (۳: ۶۴) درج فرمائی تھی ، اسی طرح بیہقی کے روایت کردہ خط میں بھی یہ آیت درج ہے۔ علاوہ ازیں اس خط میں صراحتاً اصحمہ کا نام بھی موجود ہے۔ جبکہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کے نقل کردہ خط میں کسی کانام نہیں ہے۔ اس لیے میرا گمان غالب یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا نقل کردہ خط درحقیقت وہ خط ہے جسے رسول اللہﷺ نے اصحمہ کی وفات کے بعد اس کے جانشین کے نام لکھا تھا اورغالباً یہی سبب ہے کہ اس میں کوئی نام درج نہیں۔
اس ترتیب کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ، بلکہ اس کی بنیاد صرف وہ اندرونی شہادتیں ہیں جو ان خطوط کی عبارتوں سے حاصل ہوتی ہیں۔ البتہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب پر تعجب ہے کہ موصوف نے ادھر ابن ِ عباسؓ کی روایت سے بیہقی کے نقل کردہ خط کو پورے یقین کے ساتھ نبیﷺ کا وہ خط قرار دیا ہے جو آپ نے اصحمہ کی وفات کے بعد اس کے جانشین کے نام لکھا تھا۔ حالانکہ اس خط میں صراحت کے ساتھ اصحمہ کا نام موجود ہے۔ والعلم عند اللّٰہ۔ 2
بہرحال جب عَمرو بن امیہ ضمریؓ نے نبیﷺ کا خط نجاشی کے حوالے کیا تو نجاشی نے اسے لے کر آنکھ پر رکھا اور تخت سے زمین پر اتر آیا۔ اور حضرت جعفر بن ابی طالب کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اور نبیﷺ کے پاس اس بارے میں خط لکھا جو یہ ہے :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ کی خدمت میں نجاشی اصحمہ کی طرف سے !!
اے اللہ کے نبی! آپ پر اللہ کی طرف سے سلام اور اس کی رحمت اور برکت ہو۔ وہ اللہ جس کے سوا کوئی لائق ِ عبادت نہیں۔ اما بعد!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے: رسول اکرم کی سیاسی زندگی ، مولفہ ڈاکٹر حمید اللہ ص ۱۰۸ ، ۱۰۹ ، ۱۲۲، ۱۲۳ ، ۱۲۴، ۱۲۵، زاد المعاد میں آخری فقرہ والسلام علی من اتبع الہدی کے بجا ئے أسلم أنت ہے۔ دیکھئے: زاد المعاد ۳/۶۰
2 دیکھئے: ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی کتاب ”حضور اکرم کی سیاسی زندگی از ص ۱۰۸ تا ۱۱۴ واز ص ۱۲۱ تا ۱۳۱
اے اللہ کے رسول ! مجھے آپ کا گرامی نامہ ملا۔ جس میں آپ نے عیسیٰ ؑ کا معاملہ ذکر کیا ہے۔ رب آسمان وزمین کی قسم! آپ نے جو کچھ فرمایا ہے حضرت عیسیٰ اس سے ایک تنکہ بڑھ کر نہ تھے۔ وہ ویسے ہی ہیں جیسے آپ نے ذکر فرمایا ہے۔ 1پھر آپ نے جو کچھ ہمارے پاس بھیجا ہے ہم نے اسے جانا اور آپ کے چچیرے بھائی اور آپ کے صحابہ کی مہمان نوازی کی۔ اور میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے اور پکے رسول ہیں۔ اور میں نے آپ سے بیعت کی اور آپ کے چچیرے بھائی سے بیعت کی۔ اور ان کے ہاتھ پر اللہ رب العالمین کے لیے اسلام قبول کیا۔2
نبیﷺ نے نجاشی سے یہ بھی طلب کیا تھا کہ وہ حضرت جعفر اور دوسرے مہاجرین ِ حبشہ کو روانہ کردے۔ چنانچہ اس نے حضرت عمرو بن امیہ ضمری کے ساتھ دوکشتیوں میں ان کی روانگی کا انتظام کردیا۔ ایک کشتی کے سوار جس میں حضرت جعفر اور حضرت ابو موسیٰ اشعری اور کچھ دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے ، براہ راست خیبر پہنچ کر خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئے۔ اور دوسری کشتی کے سوار جن میں زیادہ تر بال بچے تھے سیدھے مدینہ پہنچے۔3
مذکورہ نجاشی نے غزوہ تبوک کے بعد رجب ۹ ھ میں وفات پائی۔ نبیﷺ نے اس کی وفات ہی کے دن صحابہ کرام کو اس کی موت کی اطلاع دی۔ اور اس پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔ اس کی وفات کے بعد دوسرا بادشاہ اس کا جانشین ہوکر سریرآرائے سلطنت ہوا تو نبیﷺ نے اس کے پاس بھی ایک خط روانہ فرمایا لیکن یہ نہ معلوم ہوسکا کہ اس نے اسلام قبول کیا یا نہیں۔4
۲۔ مقوقس شاہ ِ مصر کے نام خط:
نبیﷺ نے ایک گرامی نامہ جریج بن متی 5کے نام روانہ فرمایا جس کا لقب مقوقس تھا۔ اور جو مصر واسکندریہ کا بادشاہ تھا۔ نامۂ گرامی یہ ہے :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد کی طرف سے مقوقس عظیم ِ قِبط کی جانب !!
اس پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد :
میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لاؤ سلامت رہوگے۔ اور اسلام لاؤ اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 حضرت عیسیٰ کے متعلق یہ فقرے ڈاکٹر حمید اللہ کی اس رائے کی تائید کرتے ہیں کہ ان کا ذکرکردہ خط اصحمہ کے نام تھا۔ واللہ اعلم
2 زادا لمعاد ۳/۶۱
3 ابن ہشام ۲/۳۵۹ وغیرہ ۔
4 یہ بات کسی قدر صحیح مسلم کی روایت سے اخذ کی جاسکتی ہے جو حضرت انس سے مروی ہے۔ ۲/۹۹
5 یہ نام علامہ منصورپوری نے رحمۃ للعالمین ۱/۱۷۸ میں ذکر فرمایا ہے۔ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے اس کا نام بنیامین بتلایا ہے۔ دیکھئے رسول اکرم کی سیا سی زندگی ، ص ۱۴۱۔
لیکن اگر تم نے منہ موڑا تو تم پراہل ِ قبط کا بھی گناہ ہوگا۔ ”اے اہل ِ قبط ! ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور ہم میں سے بعض ، بعض کو اللہ کے بجائے رب نہ بنائیں۔ پس اگر وہ منہ موڑ یں تو کہہ دوکہ گواہ رہو ہم مسلمان ہیں۔”1
اس خط کو پہنچانے کے لیے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کا انتخاب فرمایا گیا۔ وہ مقوقس کے دربار میں پہنچے تو فرمایا کہ (اس زمین پر ) تم سے پہلے ایک شخص گزرا ہے جو اپنے آپ کو رب اعلیٰ سمجھتا تھا۔ اللہ نے اسے آخر واوّل کے لیے عبرت بنادیا۔ پہلے تو اس کے ذریعے لوگوں سے انتقام لیا۔ پھر خود اس کو انتقام کا نشانہ بنایا۔ لہٰذا دوسرے سے عبرت پکڑو۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے تم سے عبرت پکڑیں۔
مقوقس نے کہا : ہمارا ایک دین ہے جسے ہم چھوڑ نہیں سکتے جب تک کہ اس سے بہتر دین نہ مل جائے۔
حضرت حاطب نے فرمایا: ہم تمہیں اسلام کی دعوت دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے تمام ماسوا (ادیان) کے بدلے کافی بنادیا ہے۔ دیکھو ! اس نبی نے لوگوں کو (اسلام کی ) دعوت دی تو اس کیخلاف قریش سب سے زیادہ سخت ثابت ہوئے۔ یہودنے سب سے بڑھ کر دشمنی کی۔ اور نصاریٰ سب سے زیادہ قریب رہے۔ میری عمر کی قسم ! جس طرح حضرت موسیٰ ؑنے حضرت عیسیٰ ؑکے لیے بشارت دی تھی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ نے محمدﷺ کے لیے بشارت دی ہے۔ اور ہم تمہیں قرآن مجید کی دعوت اسی طرح دیتے ہیں جیسے تم اہلِ تورات کو انجیل کی دعوت دیتے ہو۔ جو نبی جس قوم کو پاجاتا ہے وہ قوم اس کی امت ہوجاتی ہے۔ اور اس پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اس نبی کی اطاعت کرے اور تم نے اس نبی کا عہد پالیا ہے۔ اور پھر ہم تمہیں دین ِ مسیح سے روکتے نہیں ہیں بلکہ ہم تو اسی کا حکم دیتے ہیں۔
مقوقس نے کہا : میں نے اس نبی کے معاملے پر غور کیا تو میں نے پایا کہ وہ کسی ناپسندیدہ بات کا حکم نہیں دیتے۔ اور کسی پسندیدہ بات سے منع نہیں کرتے۔ وہ نہ گمراہ جادوگر ہیں نہ جھوٹے کاہن۔ بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ ان کے ساتھ نبوت کی یہ نشانی ہے کہ وہ پوشیدہ کو نکالتے اور سرگوشی کی خبر دیتے ہیں میں مزید غور کروں گا۔
مقوقس نے نبیﷺ کا خط لے کر (احترام کے ساتھ ) ہاتھی دانت کی ایک ڈبیہ میں رکھ دیا اور مہرلگا کر اپنی ایک لونڈی کے حوالے کردیا۔ پھر عربی لکھنے والے ایک کاتب کو بلا کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حسب ذیل خط لکھوایا :
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زاد المعاد لابن قیم ۳/۶۱ ماضی قریب میں یہ خط دستیاب ہوا ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے اس کا جو فوٹو شائع کیا ہے اس میں اور زاد المعاد کی عبارت میں صرف دو حرف کا فرق ہے۔ زاد المعاد میں ہے اسلم تسلم۔ اسلم یوتک اللہ…الخ اور خط میں ہے فاسلم تسلم یوتک اللّٰہ ، اسی طرح زاد المعاد میں ہے اثم اہل القبط اور خط میں ہے اثم القبط۔ دیکھئے: رسول اکرم کی سیاسی زندگی ص ۱۳۶، ۱۳۷
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد بن عبد اللہ کے لیے مقوقس عظیم قبط کی طرف سے۔
آپ پر سلام ! اما بعد میں نے آپ کا خط پڑھا۔ اورا س میں آپ کی ذکر کی ہوئی بات اور دعوت کو سمجھا۔ مجھے معلوم ہے کہ ابھی ایک نبی کی آمد باقی ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ وہ شام سے نمودار ہوگا۔ میں نے آپ کے قاصد کا اعزاز واکرام کیا۔ اور آپ کی خدمت میں دولونڈیاں بھیج رہاہوں جنہیں قبطیوں میں بڑا مرتبہ حاصل ہے۔ اور کپڑے بھیج رہا ہوں۔ اور آپ کی سواری کے لیے ایک خچر بھی ہدیہ کررہا ہوں ، اور آپ پرسلام۔”
مقوقس نے اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا اور اسلام نہیں لایا۔ دونوں لونڈیاں ماریہ اور سیرین تھیں۔ خچر کا نام دُلدل تھا۔ جو حضرت معاویہؓ کے زمانے تک باقی رہا۔ 1نبیﷺ نے ماریہ کو اپنے پاس رکھا۔ اور انہی کے بطن سے نبیﷺ کے صاحبزادے ابراہیم پیدا ہوئے۔ اور سیرین کو حضرت حسان بن ثابت انصاری کے حوالے کردیا۔
۳۔ شاہ فارس خسرو پرویز کے نام خط :
نبیﷺ نے ایک خط بادشاہِ فارس کسریٰ (خسرو ) کے پاس روانہ کیا جو یہ تھا :
”بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ کی طرف سے کِسریٰ عظیم فارس کی جانب !!
اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ اور گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی لائق ِ عبادت نہیں۔ وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ کیونکہ میں تمام انسانوں کی جانب اللہ کا فرستادہ ہوں تاکہ جو شخص زندہ ہے اسے انجام ِ بد سے ڈرایا جائے۔ اور کافرین پر حق بات ثابت ہوجائے۔( یعنی حجت تمام ہو جائے ) پس تم اسلام لاؤ، سالم رہوگے۔ اور اگر اس سے انکارکیا توتم پر مجوس کا بھی بارِ گناہ ہوگا۔”
اس خط کو لے جانے کے لیے آپﷺ نے حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمیؓ کو منتخب فرمایا۔ انہوں نے یہ خط سربراہ بحرین کے حوالے کیا۔ اب یہ معلوم نہیں کہ سربراہ بحرین نے یہ خط اپنے کسی آدمی کے ذریعہ کسریٰ کے پاس بھیجا یا خود حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی کو روانہ کیا۔ بہرحال جب یہ خط کسریٰ کو پڑھ کرسنا یا گیا تو اس نے چاک کردیا۔ اور نہایت متکبرانہ اندازمیں بولا : میری رعایا میں سے ایک حقیر غلام اپنانام مجھ سے پہلے لکھتا ہے۔ رسول اللہﷺ کو اس واقعے کی جب خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا : اللہ اس کی بادشاہت کو پارہ پارہ کرے۔ اور پھر وہی ہوا جو آپ نے فرمایا تھا۔ چنانچہ اس کے بعد کسریٰ نے اپنے یمن کے گورنر باذان کو لکھا کہ یہ شخص جو حجاز میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زاد المعاد ۳/۶۱
ہے اس کے یہاں اپنے دو توانا اور مضبوط آدمی بھیج دو کہ وہ اسے میرے پاس حاضر کریں۔ باذان نے اس کی تعمیل کرتے ہوئے دو آدمی منتخب کیے۔ ایک اسکا قہرمان بانویہ جو حساب داں تھا اور فارسی میں لکھتا تھا۔ دوسرا خرخسرو۔ یہ بھی فارسی تھا۔1 اور انھیں ایک خط دے کر رسول اللہﷺ کے پاس روانہ کیا جس میں آپ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ ان کے ساتھ کسریٰ کے پاس حاضر ہوجائیں۔ جب وہ مدینہ پہنچے اور نبیﷺ کے روبرو حاضر ہوئے تو ایک نے کہا : شہنشاہ کسریٰ نے شاہ باذان کو ایک مکتوب کے ذریعہ حکم دیا ہے کہ وہ آپ کے پا س ایک آدمی بھیج کر آپ کو کسریٰ کے روبروحاضر کرے اور باذان نے اس کام کے لیے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ میرے ساتھ چلیں۔ ساتھ ہی دونوں نے دھمکی آمیز باتیں بھی کہیں۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ کل ملاقات کریں۔
ادھر عین اسی وقت جبکہ مدینہ میں یہ دلچسپ ”مہم ” درپیش تھی۔ خود خسروپرویز کے گھرانے کے اندر اس کے خلاف ایک زبردست بغاوت کا شعلہ بھڑ ک رہا تھا جس کے نتیجے میں قیصر کی فوج کے ہاتھوں فارسی فوجوں کی پے در پے شکست کے بعد اب خسرو کا بیٹا شیرویہ اپنے باپ کو قتل کر کے خود بادشاہ بن بیٹھا تھا۔ یہ منگل کی رات ۱۰ جمادی الاولیٰ ۷ھ کا واقعہ ہے۔ 2رسول اللہﷺ کو اس واقعہ کا علم وحی کے ذریعہ ہوا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی اور دونوں فارسی نمائندے حاضر ہوئے تو آپ نے انہیں اس واقعے کی خبردی۔ ان دونوں نے کہا : کچھ ہوش ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ ہم نے اس سے بہت معمولی بات بھی آپ کے جرائم میں شمار کی ہے۔ تو کیا آپ کی یہ بات ہم بادشاہ کو لکھ بھیجیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اسے میری اس بات کی خبر کردو۔ اور اس سے یہ بھی کہہ دو کہ میرا دین اور میری حکومت وہاں تک پہنچ کررہے گی جہاں تک کسریٰ پہنچ چکا ہے۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے اس جگہ جاکر رُکے گی جس سے آگے اونٹ اور گھوڑے کے قدم جاہی نہیں سکتے۔ تم دونوں اس سے یہ بھی کہہ دینا کہ اگر تم مسلمان ہو جاؤ تو جو کچھ تمہارے زیراقتدار ہے وہ سب میں تمہیں دے دوں گا اور تمہیں تمہاری قوم ابناء کا بادشاہ بنادوں گا۔ اس کے بعد وہ دونوں مدینہ سے روانہ ہوکر باذان کے پاس پہنچے اور اسے ساری تفصیلات سے آگاہ کیا۔ تھوڑے عرصہ بعد ایک خط آیا کہ شیرویہ نے اپنے باپ کو قتل کردیا ہے۔ شیرویہ نے اپنے اس خط میں یہ بھی ہدایت کی تھی کہ جس شخص کے بارے میں میرے والد نے تمہیں لکھا تھا اسے تا حکم ثانی برانگیختہ نہ کرنا۔
اس واقعہ کی وجہ سے باذان اور اس کے فارسی رفقاء (جو یمن میں موجود تھے) مسلمان ہوگئے۔3
۴۔ قیصر شاہ روم کے نام خط:
صحیح بخاری میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں اس گرامی نامہ کی نص مروی ہے، جسے رسول اللہﷺ نے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 تاریخ ابن خلدون ۲/۳۷
2 فتح الباری ۸/۱۲۷ تاریخ ابن خلدون ۲/۳۷
3 محاضرات خضری ۱/۱۴۷ فتح الباری ۸/۱۲۷ ، ۱۲۸
ہِرَقْل شاہ روم کے پاس روانہ فرمایا تھا۔ وہ مکتوب یہ ہے :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد کی جانب سے ہرقْل عظیم روم کی طرف !
اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ تم اسلام لاؤ سالم رہو گے۔ اسلام لاؤ اللہ تمہیں تمہارا اجر دوبار دے گا۔ اور اگر تم نے روگردانی کی تو تم پر اَرِیْسییوں (رعایا ) کا (بھی )گناہ ہوگا۔ اے اہل ِ کتاب ! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پوجیں۔ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں۔ اور اللہ کے بجائے ہمارا بعض بعض کو رب نہ بنائے۔ پس اگر لوگ رخ پھیریں تو کہہ دو کہ تم لوگ گواہ رہو ہم مسلمان ہیں۔1
اس گرامی نامہ کو پہنچانے کے لیے دِحْیَہ بن خلیفہ کلبی کا انتخاب ہوا۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ یہ خط سربراہ بصری کے حوالے کردیں۔ اور وہ اسے قیصر کے پا س پہنچادے گا۔ اس کے بعد جوکچھ پیش آیا ا س کی تفصیل صحیح بخاری میں ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ ا ن کا ارشاد ہے کہ ابو سفیان بن حرب نے ان سے بیان کیا کہ ہِرَقل نے اس کو قریش کی ایک جماعت سمیت بلوایا۔ یہ جماعت صلح حدیبیہ کے تحت رسول اللہﷺ اور کفار قریش کے درمیان طے شدہ عرصہ امن میں ملک شام کی تجارت کے لیے گئی ہوئی تھی۔ یہ لوگ ایلیاء (بیت المقدس ) میں اس کے پاس حاضر ہوئے۔ 2ہرقل نے انھیں اپنے دربار میں بلایا۔ اس وقت اس کے گرداگرد روم کے بڑے بڑے لوگ تھے۔ پھر اس نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلا کر کہا کہ یہ شخص جو اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے اس سے تمہارا کونسا آدمی سب سے زیادہ قریبی نسبی تعلق رکھتا ہے؟ ابو سفیان کا بیان ہے کہ میں نے کہا : میں اس کا سب سے زیادہ قریب النسب ہوں۔ ہرقل نے کہا : اسے میرے قریب کردو۔ اور اس کے ساتھیوں کو بھی قریب کرکے اس کی پیٹھ کے پیچھے بٹھادو۔ اس کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ میں اس شخص سے اس آدمی (نبیﷺ ) کے متعلق سوالات کروں گا۔ اگر یہ جھوٹ بولے توتم لوگ اسے جھٹلادینا۔ ابو سفیان کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اگر جھوٹ بولنے کی بدنامی کا خوف نہ ہوتا تو میں آپ کے متعلق یقینا جھوٹ بولتا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری ۱/۴، ۵
2 اس وقت قیصر اس بات پر اللہ کا شکر بجالانے کے لیے حمص سے ایلیاء (بیت المقدس) گیا ہوا تھا کہ اللہ نے اس کے ہاتھو ں اہل ِ فارس کو شکست فاش دی۔ (دیکھئے صحیح مسلم ۲/۹۹) اس کی تفصیل یہ ہے کہ فارسیوں نے خسرو پرویز کو قتل کرنے کے بعد رومیوں سے ان کے مقبوضہ علاقوں کی واپسی کی شرط پر صلح کرلی۔ اور وہ صلیب بھی واپس کردی جس کے متعلق نصاریٰ کا عقیدہ ہے کہ اسی پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی دی گئی تھی۔ قیصر اس صلح کے بعد صلیب کو اصل جگہ نصب کرنے اور اس فتح مبین پر اللہ کا شکر بجالانے کے لیے ۶۲۹ء یعنی۷ ھ میں ایلیاء (بیت المقدس ) گیا تھا۔
ابو سفیان کہتے ہیں کہ اس کے بعد پہلا سوال جو ہرقل نے مجھ سے آپ کے بارے میں کیا وہ یہ تھا کہ تم لوگوں میں اس کا نسب کیسا ہے ؟
میں نے کہا : وہ اونچے نسب والا ہے۔
ہرقل نے کہا : تو کیا یہ بات اس سے پہلے بھی تم میں سے کسی نے کہی تھی ؟
میں نے کہا : نہیں۔
ہرقل نے کہا : کیا اس کے باپ دادا میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہے ؟
میں نے کہا : نہیں۔
ہرقل نے کہا : اچھا تو بڑے لوگوں نے اس کی پیروی کی ہے یا کمزوروں نے؟
میں نے کہا : بلکہ کمزوروں نے۔
ہرقل نے کہا : یہ لوگ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں ؟
میں نے کہا : بلکہ بڑھ رہے ہیں۔
ہرقل نے کہا : کیا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص اس دین سے برگشتہ ہوکر مرتد بھی ہوتا ہے ؟
میں نے کہا : نہیں۔
ہرقل نے کہا : اس نے جو بات کہی ہے کیا اسے کہنے سے پہلے تم لو گ اس کو جھوٹ سے متہم کرتے تھے؟
میں نے کہا : نہیں۔
ہرقل نے کہا : کیا وہ بد عہدی بھی کرتا ہے ؟
میں نے کہا: نہیں۔ البتہ ہم لوگ اس وقت اس کے ساتھ صلح کی ایک مدت گزار رہے ہیں معلوم نہیں اس
میں وہ کیا کرے گا۔ ابو سفیان کہتے ہیں کہ اس فقرے کے سوامجھے اور کہیں کچھ گھُسیڑ نے کا موقع نہ ملا۔
ہرقل نے کہا : کیاتم لوگوں نے اس سے جنگ کی ہے ؟
میں نے کہا: جی ہاں۔
ہرقل نے کہا : تو تمہاری اور اس کی جنگ کیسی رہی ؟
میں نے کہا : جنگ ہمارے اور اس کے درمیان ڈول ہے۔ وہ ہمیں زک پہنچالیتا ہے اور ہم اسے زک پہنچالیتے ہیں۔
ہرقل نے کہا : تمہیں کن باتوں کا حکم دیتا ہے ؟
میں نے کہا : وہ کہتا ہے : صرف اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ کسی چیزکو شریک نہ کرو۔ تمہارے باپ
دادا جو کچھ کہتے تھے اسے چھوڑ دو۔ اور وہ ہمیں نماز ، سچائی ، پرہیز ، پاک دامنی اور قرابت داروں کے ساتھ حسن ِ سلوک کا حکم دیتا ہے۔
اس کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا: تم اس شخص (ابو سفیان) سے کہو کہ میں نے تم سے اس شخص (نبیﷺ ) کا نسب پوچھا تو تم نے بتا یا کہ وہ اونچے نسب کا ہے۔اور دستور یہی ہے کہ پیغمبر اپنی قوم کے اونچے نسب میں بھیجے جاتے ہیں۔
اور میں نے دریافت کیا کہ کیا یہ بات اس سے پہلے بھی تم میں سے کسی نے کہی تھی ؟ تم نے بتلایا کہ نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یہ بات اس سے پہلے کسی اور نے کہی ہوتی تو میں یہ کہتا کہ یہ شخص ایک ایسی بات کی نقالی کر رہاہے جواس سے پہلے کہی جاچکی ہے۔
اور میں نے دریافت کیا کہ کیا اس کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ گزرا ہے ؟ تم نے بتلایا کہ نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اس کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ گزراہوتا تو میں کہتا کہ یہ شخص اپنے باپ کی بادشاہت کا طالب ہے۔
اور میں نے یہ دریافت کیا کہ کیا جو بات اس نے کہی ہے اسے کہنے سے پہلے تم لوگ اسے جھوٹ سے مُتّہم کرتے تھے ؟ تو تم نے بتایا کہ نہیں۔ اور میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ لوگوں پرتوجھوٹ نہ بولے اور اللہ پر جھوٹ بولے۔
میںنے یہ بھی دریافت کیا کہ بڑے لوگ اس کی پیروی کررہے ہیں یا کمزور ؟ تو تم نے بتایا کہ کمزورں نے اس کی پیروی کی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ پیغمبر وں کے پیروکار ہوتے ہیں۔
میں نے پوچھا کہ کیا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص برگشتہ ہوکرمرتد بھی ہوتا ہے ؟ تو تم نے بتلایا کہ نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی بشاشت جب دلوں میں گھس جاتی ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔
اور میں نے دریافت کیا کہ کیا وہ بدعہدی بھی کرتا ہے ؟ تو تم نے بتلایا کہ نہیں۔ اور پیغمبر ایسے ہی ہوتے ہیں۔وہ بدعہدی نہیں کرتے۔
میں نے یہ بھی پوچھا کہ وہ کن باتوں کا حکم دیتا ہے ؟ تو تم نے بتایا کہ وہ تمہیں اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے کا حکم دیتا ہے۔ بت پرستی سے منع کرتا ہے۔ اور نماز ، سچائی اور پرہیزگاری وپاکدامنی کا حکم دیتا ہے۔
تو جو کچھ تم نے بتایا ہے اگر وہ صحیح ہے تویہ شخص بہت جلد میرے ان دونوں قدموں کی جگہ کا مالک ہوجائے گا۔ میں جانتا تھا کہ یہ نبی آنے والا ہے ، لیکن میرا یہ گمان نہ تھا کہ وہ تم میں سے ہوگا۔ اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں اس کے پاس پہنچ سکوں گا تو اس سے ملاقات کی زحمت اٹھاتا۔ اور اگر اس کے پاس ہوتا تو اس کے دونوں پاؤں دھوتا۔
اس کے بعد ہرقل نے رسول اللہﷺ کا خط منگا کر پڑھا۔ جب خط پڑھ کر فارغ ہوا تو وہاں آوازیں بلند ہوئیں اور بڑا شور مچا۔ ہرقل نے ہمارے بارے میں حکم دیا اور ہم باہر کردیے گئے۔ جب ہم لوگ باہر لائے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابو کبشہ1 کے بیٹے کا معاملہ بڑا زور پکڑگیا۔ اس سے تو بنو اَصْفَرْ (رومیوں)2 کا بادشاہ ڈرتا ہے۔ اس کے بعد مجھے برابر یقین رہا کہ رسول اللہﷺ کا دین غالب آکر رہے گا۔ یہاں تک کہ اللہ نے میرے اندر اسلام کو جاگزیں کردیا۔3
یہ قیصر پر نبیﷺ کے نامہ ٔ مبارک کا وہ اثر تھا جس کا مشاہدہ ابو سفیان نے کیا۔ اس نامۂ مبارک کا ایک اثر یہ بھی ہوا کہ قیصر نے رسول اللہﷺ کے اس نامہ ٔ مبارک کو پہنچانے والے، یعنی دِحْیہ کلبیؓ کو مال اور پارچہ جات سے نوازا ، لیکن حضر ت دِحیہؓ یہ تحائف لے کر واپس ہوئے تو حُسْمیٰ میں قبیلہ جذام کے کچھ لوگو ں نے ان پر ڈاکہ ڈال کر سب کچھ لوٹ لیا۔ حضرت دِحیہ مدینہ پہنچے تو اپنے گھر کے بجائے سیدھے خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ تفصیل سن کر رسول اللہﷺ نے حضرت زید بن حارثہ کی سرکردگی میں پانچ سو صحابہ کرام کی ایک جماعت حُسمیٰ روانہ فرمائی۔ حضرت زید نے قبیلہ جذام پر شبخون مارکر ان کی خاصی تعداد کو قتل کردیا۔ اور اس کے چوپایوں اور عورتوں کو ہانک لائے۔ چوپایوں میں ایک ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریاں تھیں۔ اور قیدیوں میں ایک سو عورتیں اور بچے تھے۔
چونکہ نبیﷺ اور قبیلہ جذام میں پہلے سے مصالحت کا عہد چلا آرہا تھا ، اس لیے اس قبیلہ کے ایک سردار زیدبن رفاعہ جذامی نے جھٹ نبیﷺ کی خدمت میں احتجاج وفریاد کی۔ زید بن رفاعہ اس قبیلے کے کچھ مزید افراد سمیت پہلے ہی مسلمان ہوچکے تھے۔ اورجب حضرت دِحیہ پر ڈاکہ پڑا تھاتو ان کی مدد بھی کی تھی ، اس لیے نبیﷺ نے ان کا احتجاج قبول کرتے ہوئے مالِ غنیمت اور قیدی واپس کردیے۔
عام اہل مغازی نے اس واقعہ کو صلح حدیبیہ سے پہلے بتلایا ہے۔ مگر یہ فاش غلطی ہے۔ کیونکہ قیصر کے پاس نامۂ مبارک کی روانگی صلح حدیبیہ کے بعد عمل میں آئی تھی۔ اسی لیے علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ بِلا شُبہہ حدیبیہ کے بعد کا ہے۔4
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابو کبشہ کے بیٹے سے مراد نبیﷺ کی ذات گرامی ہے۔ ابو کبشہ رجزبن غالب خزاعی کی کنیت ہے۔ یہ وہب بن عبد مناف کا نانا تھا۔ اور وہب نبیﷺ کے نانا تھے۔ ابو کبشہ مشرک تھا۔ شام گیا تو نصرانی ہو گیا۔ جب نبیﷺ نے قریش کے دین کی مخالف کی ، اور حنیفیہ لے کر آئے تو آپ کی تنقیص کے لیے اس کے ساتھ تشبیہ دی۔ اور اس کی طرف منسوب کیا۔ (دلائل النبوۃ بیہقی ۱/۸۲، ۸۳، سیرت نبویہ لابی حاتم ص ۴۴) بہرحال ابو کبشہ غیر معروف شخص ہے۔ اور عرب کا دستور تھا کہ جب کسی کی تنقیص کرنی ہوتی تو اسے اس کے آباء واجداد میں سے کسی غیر معروف شخص کی طرف منسوب کردیتے۔
2 بنوالاصفر (اصفر کی اولاد۔ اوراصفر کے معنی زرد ، یعنی پیلا ) رومیوں کو بنوالاصفر کہا جاتا ہے۔ کیونکہ روم کے جس بیٹے سے رومیوں کی نسل تھی وہ کسی وجہ سے اصفر (پیلے ) کے لقب سے مشہور ہوگیا تھا۔
3 صحیح بخاری ۱/۴ ، صحیح مسلم ۲/۹۷- ۹۹
4 دیکھئے: زاد المعاد ۲/۱۲۲ حاشیہ تلقیح الفہوم ص ۲۹
۵۔ منذر بن ساوی کے نام خط:
نبیﷺ نے ایک خط منذر بن ساوی حاکم بحرین کے پاس لکھ کر اسے بھی اسلام کی دعوت دی، اور اس خط کو حضرت علاء بن الحضرمیؓ کے ہاتھوں روانہ فرمایا۔ جواب میں منذر نے رسول اللہﷺ کو لکھا۔ امابعد : اے اللہ کے رسول ! میں نے آپ کا خط اہل بحرین کو پڑھ کر سنادیا۔ بعض لوگوں نے اسلام کو محبت اور پاکیزگی کی نظر سے دیکھا اور اس کے حلقہ بگوش ہوئے۔ اور بعض نے پسند نہیں کیا۔ اور میری زمین میں یہود اور مجوس بھی ہیں۔ لہٰذا آپ اس بارے میں اپنا حکم صادر فرمایئے۔اس کے جواب میں رسول اللہﷺ نے یہ خط لکھا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ کی جانب سے منذر بن ساوی کی طرف !!
تم پر سلام ہو۔ میں تمہاری طرف اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سواکوئی لائق عبادت نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔”
امابعد: میں تمہیں اللہ عزوجل کو یاد دلاتا ہوں۔ یاد رہے کہ جو شخص بھلائی اور خیر خواہی کرے گا وہ اپنے ہی لیے بھلائی کرے گا۔ اور جو شخص میرے قاصدوں کی اطاعت اور ان کے حکم کی پیروی کرے اس نے میری اطاعت کی اور جو ان کے ساتھ خیرخواہی کرے اس نے میرے ساتھ خیرخواہی کی اور میرے قاصدوں نے تمہاری اچھی تعریف کی ہے اور میں نے تمہاری قوم کے بارے میں تمہاری سفارش قبول کرلی ہے۔ لہٰذا مسلمان جس حال پر ایمان لائے ہیں انھیں اس پر چھوڑ دو۔ اور میں نے خطا کاروں کو معاف کردیا ہے، لہٰذا ان سے قبول کرلو۔ اور جب تک تم اصلاح کی راہ اختیار کیے رہو گے ہم تمہیں تمہارے عمل سے معزول نہ کریں گے اور جو یہودیت یا مجوسیت پر قائم رہے اس پر جزیہ ہے۔”1
۶۔ ہوذہ بن علی صاحبِ یمامہ کے نام خط:
نبیﷺ نے ہوذہ بن علی حاکم ِ یمامہ کے نام حسب ذیل خط لکھا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ کی طرف سے ہوذہ بن علی کی جانب !!
اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میرا دین اونٹوں اور گھوڑوں کی رسائی کی آخری حد تک غالب آکر رہے گا۔ لہٰذااسلا م لاؤ سالم رہو گے اور تمہارے ماتحت جو کچھ ہے اسے تمہارے لیے برقرار رکھوں گا۔”
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زادالمعاد ۳/۶۱، ۶۲یہ خط ماضی قریب میں دستیاب ہوا ہے۔ اور ڈاکٹر حمیداللہ صاحب نے اس کا فوٹو شائع کیا ہے زادالمعاد کی عبارت اور اس فوٹو والی عبارت میں صرف ایک لفظ کا فرق (یعنی فوٹو میں) ہے لاالہ الا ھو کے بجائے لاالہ غیرہ ہے۔
اس خط کو پہنچانے کے لیے بحیثیت قاصد سلیط بن عمرو عامری کا انتخاب فرمایا گیا۔ حضرت سلیط اس مہر لگے ہوئے خط کو لے کر ہوذہ کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے آپ کو مہمان بنایا۔ اور مبارکباد دی۔ حضرت سلیط نے اسے خط پڑھ کر سنایا تو اس نے درمیانی قسم کا جواب دیا۔ اور نبیﷺ کی خدمت میں یہ لکھا :آپ جس چیز کی دعوت دیتے ہیں اس کی بہتری اور عمدگی کا کیا پوچھنا۔ اور عرب پر میری ہیبت بیٹھی ہوئی ہے۔ اس لیے کچھ کار پردازی میرے ذمہ کردیں۔ میں آپ کی پیروی کروں گا۔ اس نے حضرت سلیط کو تحائف بھی دیے۔ انہیں ہجر کا بناہوا کپڑا دیا۔ حضرت سلیط یہ تحائف لے کر خدمت نبوی میں واپس آئے اور ساری تفصیلات گوش گزار کیں۔ نبیﷺ نے اس کا خط پڑھ کر فرمایا : اگر وہ زمین کا ایک ٹکڑا بھی مجھ سے طلب کرے گا تو میں اسے نہ دوں گا۔ وہ خود بھی تباہ ہوگا ، اور جو کچھ اس کے ہاتھ میں ہے وہ بھی تباہ ہوگا۔ پھر جب رسول اللہﷺ فتح مکہ سے واپس تشریف لائے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے یہ خبر دی کہ ہوذہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا : سنو ! یمامہ میں ایک کذاب نمودار ہونے والا ہے جو میرے بعد قتل کیا جائے گا۔ ایک کہنے والے نے کہا : یارسول اللہ ! اسے کون قتل کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : تم اور تمہارے ساتھی ، اور واقعۃً ایسا ہی ہوا۔1
۷۔ حارث بن ابی شمر غسانی حاکم دمشق کے نام خط:
نبیﷺ نے اس کے پاس ذیل کا خط رقم فرمایا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ کی طرف سے حارث بن ابی شمر کی طرف !!
اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے اور ایمان لائے اور تصدیق کرے۔ اور میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ اللہ پر ایمان لاؤ جو تنہا ہے ، اور جس کا کوئی شریک نہیں۔ اور تمہارے لیے تمہاری بادشاہت باقی رہے گی۔”
یہ خط قبیلہ اسد بن خزیمہ سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی حضرت شجاع بن وہب کے بدست روانہ کیا گیا۔ جب انہوں نے یہ خط حارث کے حوالے کیا تو اس نے کہا :”مجھ سے میری بادشاہت کون چھین سکتا ہے ؟میں اس پر یلغار کرنے ہی والاہوں۔” اور اسلام نہ لایا۔2بلکہ قیصر سے رسول اللہﷺ کے خلاف جنگ کی اجازت چاہی۔ مگر اس نے اس کو اس کے ارادے سے باز رکھا۔ پھر حارث نے شجاع بن وہب کو پارچہ جات اور اخراجات کا تحفہ دے کر اچھائی کے ساتھ واپس کردیا۔
۸۔ شاہ ِ عمان کے نام خط:
نبیﷺ نے ایک خط شاہ ِ عمان جیفر اور اس کے بھائی عبد کے نام لکھا۔ ان دونوں کے والد کا نام جلندی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زادالمعاد ۳/۶۳
2 زاد المعاد ۳/۶۳ محاضرات تاریخ الامم الاسلامیہ ، خضیری ۱/۱۴۶
تھا۔ خط کا مضمون یہ تھا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد بن عبداللہ کی جانب سے جلندی کے دونوں صاحبزادوں جیفر اور عبد کے نام !!
اس شخص پر سلا م جو ہدایت کی پیروی کرے۔میںتم دونوں کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں ، اسلام لاؤ ، سلامت رہوگے۔ کیونکہ میں تمام انسانوں کی جانب اللہ کا رسول ہوں ، تاکہ جو زندہ ہے اسے انجام کے خطرہ سے آگاہ کردوں۔ اور کافرین پر قول برحق ہوجائے۔ اگر تم دونوں اسلام کا اقرار کر لوگے تو تم ہی دونوں کو والی اور حاکم بناؤں گا۔ اور اگرتم دونوں نے اسلام کا اقرار کرنے سے گریز کیا تو تمہاری بادشاہت ختم ہوجائے گی۔ تمہاری زمین پر گھوڑوں کی یلغار ہوگی۔ اور تمہاری بادشاہت پر میری نبوت غالب آجائے گی۔
اس خط کو لے جانے کے لیے ایلچی کی حیثیت سے حضرت عمرو بن العاصؓ کا انتخاب عمل میں آیا۔ ان کا بیان ہے کہ میں روانہ ہوکر عمان پہنچا۔ اور عبد سے ملاقات کی۔ دونوں بھائیوں میں یہ زیادہ دور اندیش اور نرم خوتھا۔ میں نے کہا : میں تمہارے پاس اور تمہارے بھائی کے پاس رسول اللہﷺ کا ایلچی بن کر آیا ہوں۔ اس نے کہا : میرا بھائی عمر اور بادشاہت دونوں میں مجھ سے بڑا اور مجھ پر مقدم ہے۔ اس لیے میں تم کو اس کے پاس پہنچا دیتا ہوں کہ وہ تمہارا خط پڑھ لے۔ اس کے بعد اس نے کہا: اچھا ! تم دعوت کس بات کی دیتے ہو ؟
میں نے کہا : ہم ایک اللہ کی طرف بلاتے ہیں ، جو تنہا ہے ، جس کا کوئی شریک نہیں۔ اور ہم کہتے ہیں کہ
اس کے علاوہ جس کی پوجا کی جاتی ہے اسے چھوڑدو اور یہ گواہی دوکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور
رسول ہیں۔
عبد نے کہا : اے عمرو! تم اپنی قوم کے سردار کے صاحبزادے ہو ، بتاؤ تمہارے والد نے کیا کیا؟ کیونکہ ہمارے لیے اس کا طرز عمل لائق ِاتباع ہوگا۔
میں نے کہا: وہ تو محمدﷺ پر ایمان لائے بغیر وفات پاگئے ، لیکن مجھے حسرت ہے کہ کاش! انہوں نے
اسلام قبول کیا ہوتا اور آپ کی تصدیق کی ہوتی۔ میں خود بھی انہیں کی رائے پر تھا لیکن اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دے دی۔
عبد نے کہا : تم نے کب ان کی پیروی کی ؟
میں نے کہا : ابھی جلد ہی۔
اس نے دریافت کیا : تم کس جگہ اسلام لائے ؟
میں نے کہا : نجاشی کے پاس اور بتلایا کہ نجاشی بھی مسلمان ہوچکا ہے۔
عبد نے کہا : اس کی قوم نے اس کی بادشاہت کا کیا کیا ؟
میں نے کہا : اسے برقرار رکھا ، اوراس کی پیروی کی۔
اس نے کہا : اسقفوں اور راہبوں نے بھی اس کی پیروی کی ؟
میں نے کہا : ہاں!
عبد نے کہا : اے عمرو ! دیکھو کیا کہہ رہے ہو کیونکہ آدمی کی کوئی بھی خصلت جھوٹ سے زیادہ رسواکن نہیں۔
میں نے کہا : میں جھوٹ نہیں کہہ رہاہوں ،اور نہ ہم اسے حلال سمجھتے ہیں۔
عبد نے کہا : میں سمجھتا ہوں ، ہرقل کو نجاشی کے اسلام لانے کا علم نہیں۔
میں نے کہا : کیوں نہیں۔
عبدنے کہا : تمہیں یہ بات کیسے معلوم ؟
میں نے کہا : نجاشی ہرقل کو خراج ادا کیا کرتا تھا لیکن جب اس نے اسلام قبول کیا ، اور محمدﷺ کی تصدیق کی تو بولا : اللہ کی قسم! اب اگر وہ مجھ سے ایک درہم بھی مانگے تو میں نہ دوںگا۔ اور جب اس کی اطلاع ہرقل کو ہوئی تو اس کے بھائی یناق نے کہا : کیا تم اپنے غلام کو چھوڑ دوگے کہ وہ تمہیں خراج نہ دے ؟ اور تمہارے بجائے ایک دوسرے شخص کا نیا دین اختیار
کرلے ؟ ہرقل نے کہا : یہ ایک آدمی ہے جس نے ایک دین کو پسند کیا۔ اور اسے اپنے لیے اختیار کرلیا۔ اب میں اس کا کیا کرسکتا ہوں ؟ اللہ کی قسم ! اگر مجھے اپنی بادشاہت کی حرص نہ
ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جو اس نے کیا ہے۔
عبد نے کہا : عمرو! دیکھو کیا کہہ رہے ہو ؟
میں نے کہا : واللہ ! میں تم سے سچ کہہ رہا ہوں۔
عبد نے کہا: اچھا مجھے بتاؤوہ کس بات کا حکم دیتے ہیں ؟اور کس چیز سے منع کرتے ہیں ؟
میں نے کہا : اللہ عزوجل کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں اور اس کی نافرمانی سے منع کرتے ہیں۔ نیکی وصِلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ اور ظلم وزیادتی ، زنا کاری ، شراب نوشی اور پتھر ، بت اور صلیب کی عبادت سے منع کرتے ہیں۔
عبد نے کہا: یہ کتنی اچھی بات ہے جس کی طرف بلاتے ہیں۔ اگر میرا بھائی بھی اس بات پر میری متابعت کرتا تو ہم لوگ سوار ہوکر (چل پڑتے )یہاں تک کہ محمدﷺ پر ایمان لاتے اور ان کی تصدیق کرتے لیکن میرابھائی اپنی بادشاہت کااس سے کہیں زیادہ حریص ہے کہ اسے چھوڑ کر کسی کا تابع فرمان بن جائے۔
میں نے کہا: اگر وہ اسلام قبول کرلے تو رسول اللہﷺ اس کی قوم پر اس کی بادشاہت برقرار رکھیں گے۔ البتہ ان کے مالداروں سے صدقہ لے کر فقیروں پر تقسیم کردیں۔
عبد نے کہا: یہ بڑی اچھی بات ہے ، اچھا بتاؤ صدقہ کیا ہے ؟
جواب میں میں نے مختلف اموال کے اندر رسول اللہﷺ کے مقرر کیے ہوئے صدقات کی تفصیل بتائی۔ جب اونٹ کی باری آئی تو وہ بولا : اے عمرو ! ہمارے ان مویشیوں میں سے بھی صدقہ لیا جائے گا ، جو خود ہی درخت پر چر لیتے ہیں۔
میں نے کہا: ہاں !
عبد نے کہا : واللہ !میں نہیں سمجھتا تھا کہ میری قوم اپنے ملک کی وسعت اور تعداد کی کثرت کے باوجود اس کو مان لے گی۔
حضرت عمرو بن عاص کا بیان ہے کہ میں اس کی ڈیوڑھی میں چند دن ٹھہرارہا۔ وہ اپنے بھائی کے پاس جاکر میری ساری باتیں بتاتا رہتا تھا۔ پھر ایک دن اس نے مجھے بلایا۔اور میں اندر داخل ہوا۔ چوبداروں نے میرے بازو پکڑ لیے۔ اس نے کہا :چھوڑ دو اور مجھے چھوڑ دیا گیا۔ میں نے بیٹھنا چاہا تو چوبداروں نے مجھے بیٹھنے نہ دیا۔ میں نے بادشاہ کی طرف دیکھا تو اس نے کہا : اپنی بات کہو۔ میں نے سر بمہر خط اس کے حوالے کردیا۔ اس نے مہر توڑ کر خط پڑھا۔ اور پورا خط پڑھ چکا تو اپنے بھائی کے حوالہ کردیا۔ بھائی نے بھی اسی طرح پڑھا مگر میں نے دیکھا کہ اس کا بھائی اس سے زیادہ نرم دل ہے۔
بادشاہ نے پوچھا : مجھے بتاؤ قریش نے کیا روش اختیار کی ہے ؟
میں نے کہا : سب ان کے اطاعت گزار ہوگئے ہیں۔ کسی نے دین کی رغبت کی بنا پر اور کسی نے تلوار سے مقہور ہوکر۔
بادشاہ نے پوچھا: ان کے ساتھ کون لوگ ہیں ؟
میں نے کہا: سارے لوگ ہیں۔ انہو ں نے اسلام کو برضاورغبت قبول کرلیا ہے۔ اور اسے تمام دوسری چیزوں پر ترجیح دی ہے۔ انہیں اللہ کی ہدایت اور اپنی عقل کی رہنمائی سے یہ بات معلوم ہوگئی ہے کہ وہ گمراہ تھے۔ اب اس علاقہ میں میں نہیں جانتا کہ تمہارے سوا کوئی اور باقی رہ گیا ہے۔ اور اگر تم نے اسلام قبول نہ کیا اور محمدﷺ کی پیروی نہ کی تو تمہیں سوار روند ڈالیں گے۔ اور تمہاری ہریالی کا صفایا کردیں گے۔ اس لیے اسلام قبول کرلو۔ سلامت رہوگے۔اور رسول اللہﷺ تم کو تمہاری قوم کا حکمراں بنادیں گے۔ تم پر نہ سوار داخل ہوں گے نہ
پیادے۔
بادشاہ نے کہا : مجھے آج چھوڑ دو اور کل پھر آؤ۔
اس کے بعد میں اس کے بھائی کے واپس آگیا۔
اس نے کہا: عمرو ! مجھے امید ہے کہ اگر بادشاہت کی حرص غالب نہ آئی تو وہ اسلام قبول کرلے گا۔ دوسرے دن پھر بادشاہ کے پاس گیا لیکن اس نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اس لیے میں اس کے بھائی کے پاس واپس آگیا اور بتلایا کہ بادشاہ تک میری رسائی نہ ہوسکی۔ بھائی نے مجھے اس کے یہاں پہنچا دیا۔ ا س نے کہا : میں نے تمہاری دعوت پر غور کیا۔ اگر میں
بادشاہت ایک ایسے آدمی کے حوالے کردوں جس کے شہسوار یہاں پہنچے بھی نہیں تو میں عرب میں سب سے کمزور سمجھا جاؤں گا۔ اور اگر شہسوار یہاں پہنچ آئے تو ایسا رن پڑے گا کہ انہیں کبھی اس سے سابقہ نہ پڑا ہوگا۔
میں نے کہا: اچھا تو میں کل واپس جارہا ہوں۔
جب اسے میری واپسی کا یقین ہوگیا تو اس نے بھائی سے خلوت میں بات کی۔ اور بو لا : یہ پیغمبر جن پر غالب آچکا ہے ان کے مقابل ہماری کوئی حیثیت نہیں۔ اور اس نے جس کسی کے پاس پیغام بھیجا ہے اس نے دعوت قبول کرلی ہے۔ لہٰذا دوسرے دن صبح ہی مجھے بلوایا گیا۔ اور بادشاہ اور اس کے بھائی دونوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اور نبیﷺ کی تصدیق کی۔ اور صدقہ وصول کرنے اور لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے مجھے آزاد چھوڑ دیا۔ اور جس کسی نے میری مخالفت کی اس کے خلاف میرے مدد گار ثابت ہوئے۔1
اس واقعے کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ بقیہ بادشاہوں کی بہ نسبت ان دونوں کے پاس خط کی روانگی خاصی تاخیر سے عمل میں آئی تھی غالبا ً یہ فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے۔
—————​
ان خطوط کے ذریعے نبیﷺ نے اپنی دعوت روئے زمین کے بیشتر بادشاہوں تک پہنچا دی۔ اور اس کے جواب میں کوئی ایمان لایا تو کسی نے کفر کیا ، لیکن اتنا ضرور ہوا کہ کفر کرنے والوں کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہوگئی۔ اور ان کے نزدیک آپﷺ کا دین اور آپ کا نام ایک جانی پہچانی چیز بن گیا۔
****​
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زاد المعاد ۳/۶۲، ۶۳
صلح حد یبیہ کے بعد کی فوجی سرگرمیاں

غزوۂ غابہ یا غزوہ ٔ ذی قرد :
یہ غزوہ درحقیقت بنو فزارہ کی ایک ٹکڑی کے خلاف جس نے رسول اللہﷺ کے مویشیوں پر ڈاکہ ڈالاتھا ، تعاقب سے عبارت ہے۔
حدیبیہ کے بعد اور خیبر سے پہلے یہ پہلا اور واحد غزوہ ہے جو رسول اللہﷺ کوپیش آیا۔ امام بخاری نے اس کا باب منعقد کرتے ہوئے بتایا کہ یہ خیبر سے صرف تین روز پہلے پیش آیا تھا۔ اور یہی بات ا س غزوے کے خصوصی کار پرداز حضرت سلمہ بن اکوعؓ سے بھی مروی ہے۔ ان کی روایت صحیح مسلم میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جمہور اہل مغازی کہتے ہیں کہ یہ واقعہ حدیبیہ سے پہلے کا ہے لیکن جو بات صحیح میں بیان کی گئی ہے اہلِ مغازی کے بیان کے مقابل میں وہی زیادہ صحیح ہے۔1
اس غزوہ کے ہیرو حضرت سلمہ بن اکوعؓ سے جوروایات مروی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ نبیﷺ نے اپنی سواری کے اونٹ اپنے غلام رباح کے ہمراہ چرنے کے لیے بھیجے تھے۔ اور میں بھی ابو طلحہ کے گھوڑے سمیت ان کے ساتھ تھا کہ اچانک صبح دم عبد الرحمن فزاری نے اونٹوں پر چھاپہ مارا۔ اور ان سب کو ہانک لے گیا اور چرواہے کو قتل کردیا۔ میں نے کہا کہ رباح ! یہ گھوڑا لو۔ اسے ابوطلحہ تک پہنچادو۔ اور رسول اللہﷺ کو خبر کردو۔ اور خود میں نے ایک ٹیلے پر کھڑے ہوکر مدینہ کی طرف رُخ کیا۔ اور تین بار پکار لگائی : یا صَبَاحاہ !ہائے صبح کا حملہ۔ پھر حملہ آوروں کے پیچھے چل نکلا۔ ان پر تیر برساتا جاتا تھا اور یہ رجزپڑھتا جاتا تھا۔
[خذھا ] أنا ابن الأکوع والیـوم یـوم الـرضـع
”( لو )میں اکوع کا بیٹا ہوں۔ اور آج کا دن دودھ پینے والے کا دن ہے (یعنی آج پتہ لگ جائے گا کہ کس نے اپنی ماں کا دودھ پیا ہے )”
سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ واللہ میں انھیں مسلسل تیروں سے چھلنی کرتا رہا۔ جب کوئی سوار میری طرف پلٹ کر آتا تو میں کسی درخت کی اوٹ میں بیٹھ جاتا۔ پھراسے تیر مار کر زخمی کردیتا۔ یہاں تک کہ جب یہ لوگ پہاڑ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے: صحیح بخاری باب غزوۃ ذات قرد ۲/۶۰۳ صحیح مسلم باب غزوۃ ذی قرد وغیرہا ۲/۱۱۳،۱۱۴، ۱۱۵فتح الباری ۷/ ۴۶۰،۴۶۱،۴۶۲، زاد المعاد ۲/۱۲۰۔ حدیبیہ سے اس غزوے کے موخرہونے پر حضرت ابو سعید خدریؓ کی ایک اور حدیث بھی دلالت کرتی ہے۔ دیکھئے: مسلم : کتاب الحج باب الترغیب فی سکنی المدینۃ والصبر علی لاوائہا حدیث نمبر ۴۷۵ (۱۳۷۴) ۲/۱۰۰۱۔
کے تنگ راستے میں داخل ہوئے تو میں پہاڑ پر چڑھ گیا۔ اور پتھروں سے ان کی خبر لینے لگا۔ اس طرح میں نے مسلسل ان کا پیچھا کیے رکھا ، یہاں تک کہ رسول اللہﷺ کے جتنے بھی اونٹ تھے میں نے ان سب کو اپنے پیچھے کرلیا۔ اور ان لوگوں نے میرے لیے ان اونٹوں کو آزاد چھوڑدیا۔
لیکن میں نے پھر بھی ان کا پیچھا جاری رکھا۔ اور ان پر تیر برساتارہا یہاں تک کہ بوجھ کم کرنے کے لیے انہوں نے تیس سے زیادہ چادریں اور تیس سے زیادہ نیزے پھینک دیئے۔ وہ لوگ جو کچھ بھی پھینکتے تھے میں اس پر (بطور نشان ) تھوڑے سے پتھر ڈال دیتا تھا تاکہ رسول اللہﷺ اور ان کے رفقاء پہچان لیں (کہ یہ دشمن سے چھینا ہوا مال ہے۔ ) اس کے بعد وہ لوگ ایک گھاٹی کے تنگ موڑ پر بیٹھ کر دوپہر کا کھانا کھانے لگے۔ میں بھی ایک چوٹی پر جابیٹھا۔ یہ دیکھ کر ان کے چار آدمی پہاڑ پر چڑھ کر میری طرف آئے (جب اتنے قریب آگئے کہ بات سن سکیں تو ) میں نے کہا: تم لوگ مجھے پہچانتے ہو؟ میں سلمہ بن اکوعؓ ہوں ، تم میں سے جس کسی کو دوڑاؤں گا بے دھڑک پالوں گا اور جوکوئی مجھے دوڑائے گا ہرگزنہ پاسکے گا۔ میری یہ بات سن کر چاروں واپس چلے گئے۔ اور میں اپنی جگہ جمارہا۔ یہاں تک کہ میں نے رسول اللہﷺ کے سواروں کو دیکھا کہ درختوں کے درمیان سے چلے آرہے ہیں۔ سب سے آگے اخرم تھے۔ ان کے پیچھے ابو قتادہ ، اور ان کے پیچھے مقداد بن اسود۔ (محاذ پر پہنچ کر ) عبدالرحمن اور حضرت اخرم میں ٹکر ہوئی۔ حضرت اخرم نے عبدالرحمن کے گھوڑے کو زخمی کردیا لیکن عبد الرحمن نے نیزہ مار کر حضرت اخرم کو قتل کردیا۔ اور ان کے گھوڑے پر جاپلٹا مگر اتنے میں حضرت قتادہؓ ، عبدالرحمن کے سر پر جاپہنچے اور اسے نیزہ مار کرزخمی کردیا۔ بقیہ حملہ آور پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ اور ہم نے انھیں کھدیڑنا شروع کیا۔ میں اپنے پاؤں پر اچھلتا ہوا دوڑ رہا تھا۔ سورج ڈوبنے سے کچھ پہلے ان لوگوں نے اپنا رخ ایک گھاٹی کی طرف موڑا جس میں ذی قرد نام کا ایک چشمہ تھا۔ یہ لوگ پیاسے تھے اور وہاں پانی پینا چاہتے تھے لیکن میں نے انھیں چشمے سے پرے ہی رکھا اور وہ ایک قطرہ بھی نہ چکھ سکے۔ رسول اللہﷺ اور شہسوار صحابہ دن ڈوبنے کے بعد میرے پاس پہنچے۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ سب پیاسے تھے۔ اگرآپ مجھے سو آدمی دے دیں تو میں ان کے جانور بھی چھین لوں۔ اور ان کی گردنیں پکڑ کر حاضر خدمت بھی کردوں۔ آپ نے فرمایا : اکوع کے بیٹے! تم قابوپاگئے ہو تو اب ذرا نرمی برتو۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کہ اس وقت بنو غطفان میں ان کی مہمان نوازی کی جارہی ہے۔
(اس غزوے پر ) رسول اللہﷺ نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: آج ہمارے سب سے بہتر شہسوار ابو قتادہ اور سب سے بہتر پیادہ سلمہ ہیں۔ اور آپ نے مجھے دو حصے دیے۔ ایک پیادہ کا حصہ اور ایک شہسوار کا حصہ۔ اور مدینہ واپس ہوتے ہوئے مجھے (یہ شرف بخشا کہ ) اپنی عضباء نامی اونٹنی پر اپنے پیچھے سوار فرمالیا۔
ا س غزوے کے دوران رسول اللہﷺ نے مدینہ کاانتظام حضرت ابن اُمِ مکتوم کو سونپا تھا۔ اور اس غزوے کا پرچم حضرت مقداد بن عمروؓ کو عطافرمایا تھا۔1
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 سابقہ مآخذ
غزوہ ٔ خیبر اور غزوۂ وادی القریٰ

(محرم ۷ھ )​
خیبر ، مدینہ کے شمال میں ایک سو ستر کلو میٹر کے فاصلے پر ایک بڑا شہر تھا۔ یہاں قلعے بھی تھے اور کھیتیاں بھی۔ اب یہ ایک بستی رہ گئی ہے۔ اس کی آب وہوا قدرے غیر صحت مند ہے۔
غزوے کا سبب:
جب رسول اللہﷺ صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں جنگِ احزاب کے تین بازوؤں میں سب سے مضبوط بازو (قریش ) کی طرف سے پوری طرح مطمئن اور مامون ہوگئے تو آپ نے چاہا کہ بقیہ دوبازوؤں -یہود اور قبائل نجد-سے بھی حساب کتاب چکا لیں۔ تاکہ ہرجانب سے مکمل امن وسلامتی حاصل ہوجائے۔ اور پورے علاقے میں سکون کا دور دورہ ہو۔ اور مسلمان ایک پیہم خون ریز کشمکش سے نجات پاکر اللہ کی پیغام رسانی اور اس کی دعوت کے لیے فارغ ہوجائیں۔
چونکہ خیبر سازشوں اور دسیسہ کاریوں کا گڑھ ، فوجی انگیخت کا مرکز اور لڑانے بھڑانے اور جنگ کی آگ بھڑکانے کی کان تھا۔ اس لیے سب سے پہلے یہی مقام مسلمانوں کی نگہِ التفات کا مستحق تھا۔
رہا یہ سوال کہ خیبر واقعتاً ایسا تھا یا نہیں تواس سلسلے میں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ اہل ِ خیبر ہی تھے جو جنگ ِ خندق میں مشرکین کے تمام گروہوں کو مسلمانوں پر چڑھالائے تھے۔ پھر یہی تھے جنہوں نے بنو قریظہ کو غدر وخیانت پر آمادہ کیا تھا۔ نیز یہی تھے جنہوں نے اسلامی معاشرے کے پانچویں کالم منافقین سے اور جنگِ احزاب کے تیسرے بازو – بنو غطفان اور بدوؤں – سے رابطہ پیہم کر رکھا تھا اور خود بھی جنگ کی تیاریاں کررہے تھے۔ اور اپنی ا ن کارروائیوں کے ذریعے مسلمانوں کو آزمائشوں میں ڈال رکھا تھا۔ یہاں تک کہ نبیﷺ کو بھی شہید کرنے کا پروگرام بنالیا تھا۔ اور ان حالات سے مجبور ہوکر مسلمانوں کو بار بارفوجی مہمیں بھیجنی پڑی تھیں۔ اور ان دسیسہ کاروں اور سازشیوں کے سربراہوں مثلاً:”سلام بن ابی الحقیق اور اسیر بن زارم ”کا صفایا کرنا پڑا تھا۔ لیکن ان یہود کے تئیں مسلمانوں کا فرض درحقیقت اس سے بھی کہیں بڑاتھا۔ البتہ مسلمانوں نے اس فرض کی ادائیگی میں قدرے تاخیر سے کام لیا تھا کہ ابھی ایک قوت – یعنی قریش- جو ان یہود سے زیادہ بڑی ،طاقتور،جنگجو اورسرکش تھی۔ مسلمانوں کے مد مقابل تھی۔ اس لیے مسلمان اسے نظر انداز کر کے یہود کا رُخ نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن جو نہی قریش کے ساتھ اس محاذآرائی کا خاتمہ ہوا ان مجرم یہودیوں کے محاسبہ کے لیے فضا صاف ہوگئی اور ان کا یوم الحساب قریب آگیا۔
خیبر کو روانگی:
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے حدیبیہ سے واپس آکر ذی الحجہ کا پورا مہینہ اور محرم کے چند دن مدینے میں قیام فرمایا۔ پھر محرم کے باقی ماندہ ایام میں خیبر کے لیے روانہ ہوگئے۔
مفسرین کا بیان ہے کہ خیبر اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا جوا س نے اپنے ارشاد کے ذریعہ فرمایا تھا :
وَعَدَكُمُ اللَّـهُ مَغَانِمَ كَثِيرَ‌ةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَـٰذِهِ (۴۸: ۲۰)
”اللہ نے تم سے بہت سے اموال ِ غنیمت کا وعدہ کیا ہے جسے تم حاصل کرو گے تو اس کو تمہارے لیے فوری طور پر عطاکردیا۔”
”جس کو فوری طور پر ادا کردیا ”اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے اور ”بہت سے اموال ِ غنیمت ” سے مراد خیبر ہے۔
اسلامی لشکر کی تعداد:
چونکہ منافقین اور کمزور ایمان کے لوگ سفر حدیبیہ میں رسول اللہﷺ کی رفاقت اختیار کرنے کے بجائے اپنے گھروںمیں بیٹھ رہے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو ان کے بارے میں حکم دیتے ہوئے فرمایا :
سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انطَلَقْتُمْ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُ‌ونَا نَتَّبِعْكُمْ ۖ يُرِ‌يدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّـهِ ۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمْ قَالَ اللَّـهُ مِن قَبْلُ ۖ فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا ۚ بَلْ كَانُوا لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًا (۴۸: ۱۵)
”جب تم اموال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑ ے گئے لوگ کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بات بدل دیں۔ ان سے کہہ دینا کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اللہ نے پہلے ہی سے یہ بات کہہ دی ہے (اس پر) یہ لوگ کہیں گے کہ (نہیں) بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو۔ (حالانکہ حقیقت یہ ہے ) کہ یہ لوگ کم ہی سمجھتے ہیں۔”
چنانچہ جب رسول اللہﷺ نے خیبر کی روانگی کا ارادہ فرمایا تو اعلان فرمادیا کہ آپ کے ساتھ صرف وہی آدمی روانہ ہوسکتا ہے جسے واقعۃ ً جہاد کی رغبت اور خواہش ہے۔ اس اعلان کے نتیجہ میں آپ کے ساتھ صرف وہی لوگ جاسکے جنہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے بیعت ِ رضوان کی تھی۔ اور ان کی تعداد صرف چودہ سو تھی۔
اس غزوے کے دوران مدینہ کا انتظام حضرت سباع بن عرفطہ غفاری کو ــ— اور ابن اسحاق کے بقول — نمیلہ بن عبداللہ لیثی کو سونپا گیا تھا۔ محققین کے نزدیک پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔1
اسی موقع پر حضرت ابوہریرہؓ بھی مسلمان ہوکر مدینہ تشریف لائے تھے۔ اس وقت حضرت سباع بن عرفطہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے: فتح الباری ۷/۴۶۵ ، زاد المعاد ۲/۱۳۳
فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت ابو ہریرہؓ ان کی خدمت میں پہنچے۔ انہوں نے توشہ فراہم کردیا۔ اور حضرت ابو ہریرہؓ خدمت نبویﷺ میں حاضری کے لیے خیبر کی جانب چل پڑے۔ جب خدمت نبوی میں پہنچے تو (خیبر فتح ہوچکاتھا ) رسول اللہﷺ نے مسلمانوں سے گفتگو کر کے حضرت ابو ہریرہ اور ان کے رفقاء کو بھی مال غنیمت میں شریک کر لیا۔
یہود کے لیے منافقین کی سرگرمیاں :
اس موقع پر یہود کی حمایت میں منافقین نے بھی خاصی تگ ودو کی۔ چنانچہ راس المنافقین عبد اللہ بن ابی نے یہود ِ خیبر کو یہ پیغام بھیجا کہ اب محمدﷺ نے تمہار ا رُخ کیا ہے۔ لہٰذا چوکنا ہو جاؤ ،تیاری کرلو۔ اوردیکھو !ڈرنا نہیں۔ کیونکہ تمہاری تعداد اور تمہارا سازوسامان زیادہ ہے۔ اور محمدﷺ کے رفقاء بہت تھوڑے اور تہی دست ہیں۔ اور ان کے پاس ہتھیار بھی بس تھوڑے ہی سے ہیں۔
جب اہل خیبر کو اس کا علم ہو ا تو انہوں نے کنانہ بن ابی الحقیق اور ہوذہ بن قیس کو حصولِ مدد کے لیے بنو غطفان کے پاس روانہ کیا۔ کیونکہ وہ خیبر کے یہودیوں کے حلیف اور مسلمانوں کے خلاف ان کے مدد گار تھے۔ یہود نے یہ پیشکش بھی کی کہ اگر انہیں مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوگیا تو خیبر کی نصف پیداوار انہیں دی جائے گی۔
خیبر کا راستہ:
رسول اللہﷺ نے خیبر جاتے ہوئے۔ جبل عِصْر کو عبور کیا – عِصْر کے عین کو زیر ہے اور ص ساکن ہے۔ اور کہا جاتاہے کہ دونو ں پر زبر ہے – پھر وادیٔ صہباء سے گذرے۔ اس کے بعد ایک اور وادی میں پہنچے جس کا نام رجیع ہے۔ (مگر یہ وہ رجیع نہیں جہاں عضل وقارہ کی غداری سے بنو لحیان کے ہاتھو ں آٹھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شہادت اور حضرت زید وخبیب رضی اللہ عنہما کی گرفتاری اور پھر مکہ میں شہادت کا واقعہ پیش آیا تھا )
رجیع سے بنو غطفان کی آبادی صرف ایک دن اور ایک رات کی دوری پر واقع تھی اور بنو غطفان نے تیار ہوکر یہود کی اِمداد کے لیے خیبر کی راہ لے لی تھی۔ لیکن اثنائِ راہ میں انھیں اپنے پیچھے کچھ شور وشغب سنائی پڑا تو انہوں نے سمجھا کہ مسلمانوں نے ان کے بال بچوں اور مویشیوں پر حملہ کردیا ہے اس لیے وہ واپس پلٹ کر آگئے اور خیبر کو مسلمانوں کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔
اس کے بعدرسول اللہﷺ نے ان دونوںماہرین ِ راہ کو بلایا جو لشکر کو راستہ بتانے پر مامور تھے ان میں سے ایک کا نام حسیل تھا – ان دونو ں سے آپ نے ایسا مناسب ترین راستہ معلوم کرنا چاہا جسے اختیار کر کے خیبر میں شمال کی جانب سے یعنی مدینہ کے بجائے شام کی جانب سے داخل ہوسکیں۔ تاکہ اس حکمت ِ عملی کے ذریعے ایک طرف تو یہود کے شام بھاگنے کا راستہ بند کردیں۔ اور دوسری طرف بنو غطفان اور یہود کے درمیان حائل ہوکر ان کی طرف سے کسی مدد کی رسائی کے امکانات ختم کردیں۔
ایک راہنمانے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں آپ کو ایسے راستے سے لے چلوں گا۔ چنانچہ وہ آگے آگے چلا۔ ایک مقام پر پہنچ کر جہاں متعدد راستے پھوٹتے تھے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ان سب راستوں سے آپ منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ وہ ہرایک کا نام بتائے۔ اس نے بتایا کہ ایک کام حَزن (سخت اور کھردرا) ہے۔ آپﷺ نے اس پر چلنا منظور نہ کیا۔ اس نے بتایا : دوسرے کانام شاش (تفرق واضطراب والا) ہے۔ آپ نے اسے بھی منظور نہ کیا۔ اس نے بتایا: تیسرے کانام حاطب (لکڑہارا ) ہے آپ نے اس پر بھی چلنے سے انکار کردیا۔ حُسَیْل نے کہا : اب ایک ہی راستہ باقی رہ گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا : اس کا نام کیا ہے ؟ حُسیل نے کہا: مرحب۔ نبیﷺ نے اسی پر چلنا پسند فرمایا۔
راستے کے بعض واقعات :
۔ حضرت سلمہ بن اکوعؓ کا بیان ہے کہ ہم لوگ نبیﷺ کے ہمراہ خیبر روانہ ہوئے۔ رات میں سفر طے ہورہا تھا۔ ایک آدمی نے عامر سے کہا : اے عامر ! کیوں نہ ہمیں اپنے کچھ نوادرات سناؤ -عامر شاعر تھے – سواری سے اترے اور قوم کی حدی خوانی کرنے لگے۔ اشعار یہ تھے:

اللہم لولا أنت ما اہتدینا ولا تصدقنا ولا صلینـا​
فـاغفر فداء لک ما اتقینا وثبت الأقدام إن لاقینا​
وألقیــن سکینــۃ علینــا إنــا إذا صیح بنـا أبینـا​
وبالصیـاح عولـوا علینـــا​


”اے اللہ ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ نہ صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے۔ ہم تجھ پر قربان ! تو ہمیں بخش دے۔ جب تک ہم تقویٰ اختیار کریں۔ اور اگر ہم ٹکرائیں تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور ہم پر سکینت نازل فرما۔ جب ہمیں للکارا جاتا ہے تو ہم اکڑجاتے ہیں، اور للکار میں ہم پر لوگوں نے اعتماد کیا ہے۔”
رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ کون حدی خوان ہے ؟ لوگوں نے کہا: عامر بن اکوع۔ آپﷺ نے فرمایا : اللہ اس پر رحم کرے۔ قوم کے ایک آدمی نے کہا : اب تو (ان کی شہادت ) واجب ہوگئی۔ آپ نے ان کے وجود سے ہمیں بہرہ ورکیوں نہ فرمایا۔1
صحابہ کرام کو معلوم تھا کہ( جنگ کے موقع پر )رسول اللہﷺ کسی انسان کے لیے خصوصیت سے دعائے مغفرت کریں تو وہ شہید ہوجاتا ہے۔2اور یہی واقعہ جنگِ خیبر میں (حضرت عامر کے ساتھ ) پیش آیا۔ (اسی لیے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری باب غزوۂ خیبر ۲/۶۰۳ صحیح مسلم باب غزوۃ ذی قرد وغیرہا ۲/۱۱۵
2 صحیح مسلم ۲/۱۱۵
انہوں نے یہ عرض کی تھی کہ کیوں نہ ان کے لیے درازیٔ عمر کی دعا کی گئی کہ ان کے وجود سے ہم مزید بہرہ ور ہوتے)
خیبر کے بالکل قریب وادی ٔ صہباء میں آپﷺ نے عصر کی نماز پڑھی۔ پھر توشے منگوائے تو صرف ستو لایا گیا۔ آپﷺ کے حکم سے سانا گیا۔ پھر آپﷺ نے کھایا اور صحابہ نے بھی کھایا۔ اس کے بعد آپﷺ مغرب کے لیے اُٹھے تو صرف کلی کی۔ صحابہ نے بھی کلی کی۔ پھر آپﷺ نے نماز پڑھی اوروضو نہیں فرمایا۔1 (پچھلے ہی وضو پر اکتفا کیا۔ )پھر آپﷺ نے عشاء کی نماز ادا فرمائی۔2
نیز جب آپﷺ خیبر کے اتنے قریب پہنچ گئے کہ شہر دکھائی پڑنے لگا تو آپﷺ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ۔ لشکر ٹھہر گیا۔ اور آپﷺ نے یہ دعا فرمائی :
(( اللہم رب السماوات السبع وما أظللن، ورب الأرضین السبع وما أقللن، ورب الشیاطین وما أضللن فإنا نسألک خیر ہذہ القریۃ وخیر أہلہا وخیر ما فیہا، ونعوذ بک من شر ہذہ القریۃ وشر أہلہا وشر ما فیہا ۔))
”اے اللہ ! ساتوں آسما ن ، اور جن پروہ سایہ فگن ہیں ، ان کے پروردگار ! اور ساتوں زمین ، اور جن کو وہ اٹھائے ہوئے ہیں ، ان کے پروردگار ! اور شیاطین ، اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ، ان کے پروردگار! ہم تجھ سے اس بستی کی بھلائی ، اس کے باشندوں کی بھلائی اور اس میں جو کچھ ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں۔ اور اس بستی کے شر سے ، اس کے باشندوں کے شر سے ، اور اس میں جو کچھ ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔” 3
اسلامی لشکر خیبر کے دامن میں:
مسلمانوں نے آخری رات جس کی صبح جنگ شروع ہوئی خیبر کے قریب گذاری لیکن یہودیو ں کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ نبیﷺ کا دستور تھا کہ جب رات کے وقت کسی قوم کے پاس پہنچتے تو صبح ہوئے بغیر ان کے قریب نہ جاتے۔ چنانچہ اس رات جب صبح ہوئی تو آپﷺ نے غلس (اندھیرے ) میں فجر کی نماز ادا فرمائی۔ اس کے بعد مسلمان سوار ہوکر خیبر کی طرف بڑھے۔ ادھر اہل خیبر بے خبری میں اپنے پھاوڑے اور کھانچی وغیرہ لے کر اپنی کھیتی باڑی کے لیے نکلے تو اچانک لشکر دیکھ کر چیختے ہوئے شہر کی طرف بھاگے کہ اللہ کی قسم! محمد لشکر سمیت آگئے ہیں۔
نبیﷺ نے (یہ منظر دیکھ کر ) فرمایا:اللہ اکبر ! خیبر تباہ ہوا۔ اللہ اکبر ! خیبر تباہ ہوا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترپڑتے ہیں تو ان ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بُری ہوجاتی ہے۔4
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ایضا، صحیح بخاری ۲/۶۰۳
2 مغازی الواقدی (غزوہ خیبر ص ۱۱۲)
3 ابن ہشام ۲/۳۲۹
4 صحیح بخاری : باب غزوہ خیبر ۲/۶۰۳ ، ۶۰۴
خیبر کے قلعے :
خیبر کی آبادی دو منطقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک منطقے میں حسب ذیل پانچ قلعے تھے:
حصن ناعم
حصن صعب بن معاذ
حصن قلعہ زبیر
حصن ابی
حصن نزار
ان میں سے مشہور تین قلعوں پر مشتمل علاقہ نطاۃ کہلاتا تھا۔ اور بقیہ دوقلعوں پر مشتمل علاقہ شق کے نام سے مشہور تھا۔ خیبر کی آبادی کا دوسرا منطقہ کَتیبَہ کہلاتا تھا۔ اس میں صرف تین قلعے تھے :
حصن قموص (یہ قبیلہ بنو نضیر کے خاندان ابو الحقیق کا قلعہ تھا۔ )
حصن وطیح
حصن سلالم
ان آٹھ قلعوں کے علاوہ خیبر میں مزید قلعے اور گڑھیاں بھی تھیں، مگر وہ چھوٹی تھیں اور قوت وحفاظت میں ان قلعوں کے ہم پلہ نہ تھیں۔
جہاں تک جنگ کا تعلق ہے تو وہ صرف پہلے منطقے میں ہوئی۔ دوسرے منطقے کے تینوں قلعے لڑنیوالوں کی کثرت کے باوجود جنگ کے بغیر ہی مسلمانوں کے حوالے کردیے گئے۔
لشکر کا پڑاؤ :
نبیﷺ نے لشکر کے پڑاؤ کے لیے ایک جگہ کا انتخاب فرمایا۔ اس پر حباب بن منذرؓ نے آکر عرض کیا یارسول اللہ ! یہ بتلایئے کہ اس مقام پر اللہ نے آپ کو پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا ہے یایہ محض آپ کی جنگی تدبیر اور رائے ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں یہ محض ایک رائے اور تدبیر ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! یہ مقام قلعہ ٔنطاۃ سے بہت ہی قریب ہے اور خیبر کے سارے جنگ جو افراد اسی قلعے میں ہیں۔ انہیں ہمارے حالات کا پورا پورا علم رہے گا اور ہمیں ان کے حالات کی خبر نہ ہوگی۔ ان کے تیر ہم تک پہنچ جائیں گے۔ اور ہمارے تیر ان تک نہ پہنچ سکیں گے۔ ہم ان کے شبخون سے بھی محفوظ نہ رہیں گے۔ پھر یہ مقام کھجوروں کے درمیا ن ہے۔ پستی میں واقع ہے۔ اور یہاں کی زمین بھی وبائی ہے۔ اس لیے مناسب ہوگا کہ آپ کسی ایسی جگہ پڑاؤ ڈالنے کا حکم فرمائیں جو ان مفاسد سے خالی ہو۔ اور ہم اسی جگہ منتقل ہوکر پڑاؤ ڈالیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : تم نے جورائے دی بالکل درست ہے۔ اس کے بعد آپ دوسری جگہ منتقل ہوگئے۔
جنگ کی تیاری اور فتح کی بشارت:
جس رات خیبر کی حدود میں رسول اللہﷺ داخل ہوئے فرمایا : میں کل جھنڈا ایک ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ اور جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔ صبح ہوئی تو صحابہ کرام نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہر ایک یہی آرزو باندھے اور آس لگائے تھا کہ جھنڈا اسے مل جائے گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ صحابہ نے کہا: یارسول اللہ ! ان کی تو آنکھ آئی ہوئی ہے۔1 فرمایا : انہیں بلالاؤ۔ وہ لائے گئے۔ رسول اللہﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب ِ دہن لگایا اور دعا فرمائی۔ وہ شفایاب ہوگئے، گویا انہیں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔ پھر انہیں جھنڈا عطافرمایا۔ انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں ان سے اس وقت تک لڑوں کہ وہ ہمارے جیسے ہوجائیں۔ آپ نے فرمایا : اطمینان سے جاؤ یہاں تک کہ ان کے میدان میں اترو۔ پھر انہیں اسلام کی دعوت دو۔ اور اسلام میں اللہ کے جو حقوق ان پر واجب ہوتے ہیں ان سے آگاہ کرو۔ واللہ تمہارے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک آدمی کوبھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔2
معرکے کا آغاز اور قلعہ ناعم کی فتح :
بہرحال یہود نے جب لشکر دیکھا تو سیدھے شہر میں بھاگے اور اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے۔ اور یہ بالکل فطری بات تھی کہ جنگ گے لیے تیارہوجائیں مسلمانوں نے سب سے پہلے قلعہ ناعم پر حملہ کیا۔ کیونکہ یہ قلعہ اپنے محلِ وقوع کی نزاکت اور اسٹراٹیجی کے لحاظ سے یہود کی پہلی دفاعی لائن کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور یہی قلعہ مَرْحب نامی اس شہ زور اور جانبازیہودی کا قلعہ تھا جسے ایک ہزار مردوں کے برابرمانا جاتا تھا۔
حضرت علی بن ابی طالبؓ مسلمانوں کی فوج لے کر اس قلعے کے سامنے پہنچے اور یہود کو اسلام کی دعوت دی۔ تو انہوں نے یہ دعوت مسترد کردی۔ اور اپنے بادشاہ مرحب کی کمان میں مسلمانوں کے مد مقابل آکھڑے ہوئے۔ میدان جنگ میں اتر کر پہلے مرحب نے دعوتِ مبارزت دی جس کی کیفیت سلمہ بن اکوعؓ نے یوں بیان کی ہے کہ جب ہم لوگ خیبر پہنچے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار لے کر نازوتکبر کے ساتھ اَٹْھلاتا اور یہ کہتا ہو نمودار ہوا :

قد علمت خیبر أنی مرحب​
شاکی السلاح بطل مجرب​
إذا الحروب أقبلت تلہب​


خیبر کو معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیار پوش ، بہادر اور تجربہ کار ! جب جنگ وپیکار شعلہ زن ہو۔
اس کے مقابل میرے چچا عامر نمودار ہوئے اور فرمایا:
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 اسی بیماری کی وجہ سے پہلے پہل آپ پیچھے رہ گئے تھے، پھر لشکر سے جاملے۔
2 صحیح بخاری باب غزوۂ خیبر ۲/۶۰۵ ، ۶۰۶ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خیبر کے ایک قلعے کی فتح میں متعدد کوششوں کی ناکامی کے بعد حضرت علی کو جھنڈا دیا گیا تھا لیکن محققین کے نزدیک راجح وہی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔
قد علمت خیبر أنی عامر​
شاکی السلاح بطل مغامر​


”خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہو ں۔ ہتھیار پوش ، شہ زور اور جنگجو۔ ”
پھر دونوں نے ایک دوسرے پر وار کیا۔ مرحب کی تلوار میرے چچا عامر کے ڈھال میں جاچبھی۔ اور عامر نے اسے نیچے سے مارنا چاہا۔ لیکن ان کی تلوار چھوٹی تھی۔ انہوں نے یہودی کی پنڈلی پر وار کیا تو تلوار کا سرا پلٹ کر ان کے گھٹنے پر آلگا۔ اور بالآخر اسی زخم سے ان کی موت واقع ہوگئی۔ نبیﷺ نے اپنی دو انگلیاں اکٹھا کرکے ان کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لیے دوہرا اجر ہے۔ وہ بڑے جانباز مجاہد تھے۔ کم ہی ان جیسا کوئی عرب رُوئے زمین پر چلا ہوگا۔1
بہرحال حضرت عامر کے زخمی ہوجانے کے بعد مرحب کے مقابلے کے لیے حضرت علیؓ تشریف لے گئے۔ حضرت سلمہ بن اکوع کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت علیؓ نے یہ اشعار کہے:

أنا الذي سمتني أمي حیدرہ کلیث غابات کریہ المنظرہ​
أوفیہم بالصاع کیل السندرہ​


”میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر ( شیر) رکھا ہے۔ جنگل کے شیر کی طرح خوفناک، میں انہیں صاع کے بدلے نیزے کی ناپ پوری کروں گا۔”
اس کے بعد مرحب کے سر پر ایسی تلوار ماری کہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ پھر حضرت علیؓ ہی کے ہاتھوں فتح حاصل ہوئی۔2
جنگ کے دوران حضرت علیؓ یہود کے قلعہ کے قریب پہنچے تو ایک یہودی نے قلعہ کی چوٹی سے جھانک کرکہا : تم کون ہو ؟ حضرت علیؓ نے کہا : میں علی بن ابی طالب ہوں۔ یہودی نے کہا: اس کتاب کی قسم جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی ! تم لوگ بلند ہو ئے۔ اس کے بعد مرحب کا بھائی یاسر یہ کہتے ہوئے نکلا کہ کون ہے جو میرا مقابلہ کرے گا۔ اس کے اس چیلنج پر حضرت زبیرؓ میدان اترے۔ اس پر ان کی ماں حضرت صفیہ ؓ نے کہا : یارسول اللہ ! کیا میرا بیٹا قتل کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا:نہیں ! بلکہ تمہارا بیٹا اسے قتل کرے گا۔ چنانچہ حضرت زبیرؓ نے یاسر کو قتل کردیا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح مسلم ، باب غزوۂ خیبر ۲/۱۲۲ باب غزوہ ذی قرد وغیرہا ۲/۱۱۵ صحیح بخاری باب غزوۂ خیبر ۲/۶۰۳
2 مرحب کے قاتل کے بارے میں مآخذ کے اندر بڑا اختلاف ہے۔ اور اس میں بھی سخت اختلاف ہے کس دن وہ مارا گیا اور کس دن یہ قلعہ فتح ہوا۔ صحیحین کی روایت کے سیاق میں بھی کسی قدر اس اختلاف کی علامت موجود ہے۔ ہم نے اوپر جو ترتیب ذکر کی ہے وہ صحیح بخاری کی روایت کے سیاق کو ترجیح دیتے ہوئے قائم کی گئی ہے۔
اس کے بعد حصن ناعم کے پاس زور دار جنگ ہوئی، جس میں کئی سربرآوردہ یہودی مارے گئے۔ اور بقیہ یہود میں تابِ مقاومت نہ رہی۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کا حملہ نہ روک سکے۔ بعض مآخذ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنگ کئی دن جاری رہی اور اس میں مسلمانوں کو شدید مقاومت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم یہود، مسلمانوں کو زیر کرنے سے مایوس ہوچکے تھے۔ اس لیے چپکے چپکے اس قلعے سے منتقل ہوکر قلعہ صعب میں چلے گئے اور مسلمانو ں نے قلعہ ناعم پر قبضہ کرلیا۔
قلعہ صعب بن معاذ کی فتح :
قلعہ ناعم کے بعد ، قلعہ صعب قوت وحفاظت کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑااور مضبوط قلعہ تھا۔ مسلمانوں نے حضرت حُباب بن منذر انصاریؓ کی کمان میں اس قلعہ پر حملہ کیا اور تین روز تک اسے گھیرے میں لیے رکھا۔ تیسرے دن رسول اللہﷺ نے اس قلعہ کی فتح کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اسلم کی شاخ بنوسہم کے لوگ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ہم لوگ چور ہوچکے ہیں … اور ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : یا اللہ ! تجھے ان کا حال معلوم ہے، تو جانتا ہے کہ ان کے اندر قوت نہیں اور میرے پاس بھی کچھ نہیں کہ میں انہیں دوں۔ لہٰذا انہیں یہود کے ایسے قلعے کی فتح سے سرفروز فرماجو سب سے زیادہ کار آمد ہو۔ اور جہاں سب سے زیادہ خوراک اور چربی دستیاب ہو۔ اس کے بعد لوگوں نے حملہ کیا۔ اور اللہ عزوجل نے قلعہ صعب بن معاذ کی فتح عطافرمائی۔ خیبر میں کوئی ایسا قلعہ نہ تھا جہاںاس قلعے سے زیادہ خوراک اور چربی رہی ہو۔1
اور جب دعا فرمانے کے بعد نبیﷺ نے مسلمانوں کو اس قلعے پر حملے کی دعوت دی تو حملہ کرنے میں بنواسلم ہی پیش پیش تھے۔ یہاں بھی قلعے کے سامنے مبارزت اور مار کاٹ ہوئی۔ پھر اسی روز سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے قلعہ فتح ہوگیا۔ اور مسلمانوں نے اس میں بعض منجنیق اور دبابے2 بھی پائے۔
ابن اسحاق کی اس روایت میں جس شدید بھوک کا تذکرہ کیا گیا ہے اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ لوگوں نے (فتح حاصل ہوتے ہی) گدھے ذبح کردیے۔ اور چولہوں پر ہنڈیاں چڑھادیں لیکن جب رسول اللہﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے گھریلو گدھے کے گوشت سے منع فرمادیا۔
قلعہ زبیر کی فتح :
قلعہ ناعم اور قلعہ صعب کی فتح کے بعد یہود ، نطاۃ کے سارے قلعوں سے نکل کر قلعہ زبیر میں جمع ہوگئے۔ یہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ہشام ۲/۳۳۲
2 لکڑی کا ایک محفوظ اور بند گاڑی نما ڈبہ بنایا جاتا تھا جس میں نیچے سے کئی آدمی گھس کر قلعے کی فصیل کو جاپہنچتے تھے اور دشمن کی زد سے محفوظ رہتے ہوئے فصیل میں شگاف کرتے تھے۔ یہی دبابہ کہلاتا تھا۔ اب ٹینک کو دبابہ کہا جاتا ہے۔
ایک محفوظ قلعہ تھا، اور پہاڑ کی چوٹی پر واقع تھا۔ راستہ اتنا پر پیچ اور مشکل تھا کہ یہاں نہ سواروں کی رسائی ہوسکتی تھی نہ پیادوں کی۔ اس لیے رسول اللہﷺ نے اس کے گرد محاصرہ قائم کیا۔ اور تین روز تک محاصرہ کیے پڑے رہے۔ اس کے بعد ایک یہودی نے آکر کہا : اے ابو القاسم ! اگر آپﷺ ایک مہینہ تک محاصرہ جاری رکھیں تو بھی انہیں کوئی پروا نہ ہوگی۔ البتہ ان کے پینے کاپانی اور چشمے زمین کے نیچے ہیں۔ یہ رات میں نکلتے ہیں پانی پی لیتے ہیں اور لے لیتے ہیں۔ پھر قلعہ میں واپس چلے جاتے ہیں۔ اور آپﷺ سے محفوظ رہتے ہیں۔ اگر آپ ان کا پانی بند کردیں تو یہ گھٹنے ٹیک دیں گے۔ اس اطلاع پر آپ نے ان کا پانی بند کردیا۔ اس کے بعد یہود نے باہر آکر زبردست جنگ کی جس میں کئی مسلمان مارے گئے اور تقریباً دس یہودی بھی کام آئے لیکن قلعہ فتح ہوگیا۔
قلعہ ابی کی فتح:
قلعہ زبیر سے شکست کھانے کے بعد یہود ، حصنِ ابی میں قلعہ بند ہوگئے۔ مسلمانوں نے اس کا بھی محاصرہ کرلیا۔ اب کی بار دوشہ زور اور جانباز یہودی یکے بعد دیگرے دعوت ِ مبارزت دیتے ہوئے میدان میں اترے۔ اور دونوں ہی مسلمان جانبازوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ دوسرے یہودی کے قاتل سُر خ پٹی والے مشہور جانفروش حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ انصاریؓ تھے۔ وہ دوسرے یہودی کو قتل کرکے نہایت تیزی سے قلعے میں جاگھسے۔ اور ان کے ساتھ ہی اسلامی لشکر بھی قلعے میں جاگھسا۔ قلعے کے اندر کچھ دیر تک تو زوردار جنگ ہوئی لیکن اس کے بعد یہودیوں نے قلعے سے کھسکنا شروع کردیا۔ اور بالآخر سب کے سب بھاگ کر قلعہ نزار میں پہنچ گئے ، جو خیبر کے نصف اوّل (یعنی پہلے منطقے ) کا آخری قلعہ تھا۔
قلعہ نزار کی فتح :
یہ قلعہ علاقے کا سب سے مضبوط قلعہ تھا اور یہود کو تقریباً یقین تھا کہ مسلمان اپنی انتہائی کوشش صرف کردینے کے باوجود اس قلعہ میں داخل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے اس قلعے میں انہوں نے عورتوں اور بچوں سمیت قیام کیا جبکہ سابقہ چار قلعوں میں عورتوں اور بچوں کو نہیں رکھا گیا تھا۔
مسلمانوں نے اس قلعے کا سختی سے محاصرہ کیا۔ اور یہود پر سخت دباؤ ڈالا لیکن قلعہ چونکہ ایک بلند اور محفوظ پہاڑی پر واقع تھا اس لیے اس میں داخل ہونے کی کوئی صورت بن نہیں پڑرہی تھی۔ ادھر یہود قلعے سے باہر نکل کر مسلمانوں سے ٹکرانے کی جرأت نہیںکر رہے تھے۔ البتہ تیر برسابرسا کر اور پتھر پھینک پھینک کر سخت مقابلہ کررہے تھے۔
جب اس قلعہ (نزار) کی فتح مسلمانوں کے لیے زیادہ دشوار محسوس ہونے لگی تو رسول اللہﷺ نے منجنیق کے آلات نصب کرنے کا حکم فرمایا۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے چند گولے پھینکے بھی جس سے قلعہ کی دیواروں میں شگاف پڑگیا۔ اور مسلمان اندر گھس گئے۔ اس کے بعد قلعے کے اندر سخت جنگ ہوئی۔ اور یہود نے فاش اور بدترین شکست کھائی۔ کیونکہ وہ بقیہ قلعوں کی طرح اس قلعے سے چپکے چپکے کھسک کر نہ نکل سکے بلکہ اس طرح بے محابا بھاگے کہ اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی ساتھ نہ لے جاسکے اور انہیں مسلمانوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔
اس مضبوط قلعے کی فتح کے بعد خیبر کا نصف اول یعنی نطاۃ اور شق کا علاقہ فتح ہوگیا۔ اس علاقے میں چھوٹے چھوٹے کچھ مزید قلعے بھی تھے۔ لیکن اس قلعے کے فتح ہوتے ہی یہودیوں نے ان باقی ماندہ قلعوں کو بھی خالی کردیا۔ اور شہر خیبر کے دوسرے منطقے یعنی کتیبہ کی طرف بھاگ گئے۔
خیبر کے نصف ثانی کی فتح:
نطاۃ اور شق کا علاقہ فتح ہوچکا تو رسول اللہﷺ نے کتیبہ ،و طیح اور سلالم کے علاقے کا رُخ کیا۔ سلالم بنو نضیر کے ایک مشہور یہودی ابو الحقیق کا قلعہ تھا۔ ادھر نطاۃ اور شق کے علاقے سے شکست کھا کر بھاگنے والے سارے یہودی بھی یہیں پہنچے تھے۔ اور نہایت ٹھوس قلعہ بندی کرلی تھی۔
اہل مغازی کے درمیان اختلاف ہے کہ یہاں کے تینوں قلعوں میں سے کسی قلعے پر جنگ ہوئی یا نہیں ؟ ابن اسحاق کے بیان میں یہ صراحت ہے کہ قلعہ قموص کو فتح کرنے کے لیے جنگ لڑی گئی۔ بلکہ اس کے سیاق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ قلعہ محض جنگ کے ذریعے فتح کیاگیا اور یہودیوں کی طرف سے خودسپردگی کے لیے یہاں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔1
لیکن واقدی نے دوٹوک لفظوں میں صراحت کی ہے کہ اس علاقے کے تینوں قلعے بات چیت کے ذریعے مسلمانوں کے حوالے کیے گئے۔ ممکن ہے قلعہ قموص کی حوالگی کے لیے کسی قدر جنگ کے بعد گفت وشنید ہوئی ہو۔ البتہ باقی دونوں قلعے کسی جنگ کے بغیر مسلمانوں کے حوالے کیے گئے۔
جب رسول اللہﷺ اس علاقے – کتیبہ – میں تشریف لائے تو وہاں کے باشندوں کا سختی سے محاصرہ کیا۔ یہ محاصرہ چودہ روز جاری رہا۔ یہود اپنے قلعوں سے نکل ہی نہیں رہے تھے۔ یہاں تک کہ رسول اللہﷺ نے قصد فرمایا کہ منجنیق نصب فرمائیں۔ جب یہود کو تباہی کا یقین ہوگیا تو انہوں نے رسول اللہﷺ سے صلح کے لیے سلسلہ ٔ جنبانی کی۔
صلح کی بات چیت :
پہلے ابن ابی الحقیق نے رسول اللہﷺ کے پاس پیغام بھیجا کہ کیا میں آپﷺ کے پاس آکر بات چیت کرسکتا ہوں ؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں ! اور جب یہ جواب ملا تو اس نے آپﷺ کے پاس حاضر ہوکر اس شرط پر صلح کرلی کہ قلعے میں جو فوج ہے اس کی جان بخشی کردی جائے گی۔ اور ان کے بال بچے انہیں کے پاس رہیں گے۔ (یعنی انہیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے: ابن ہشام ۲/۳۳۱، ۳۳۶ ،۳۳۷
لونڈی اور غلام نہیں بنایا جائے گا ) بلکہ وہ اپنے بال بچوں کو لے کر خیبر کی سر زمین سے نکل جائیں گے۔ اور اپنے اموال ، باغات ، زمینیں ، سونے ، چاندی، گھوڑے ، زرہیں ، رسول اللہﷺ کے حوالے کردیں گے۔ صرف وہ کپڑا لے جائیں گے جو انسان کی پشت پر ہوگا۔ 1رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ اوراگر تم لوگوں نے مجھ سے کچھ چھپایا تو پھر اللہ اور اس کے رسول برئ الذمہ ہوں گے۔ یہود نے یہ شرط منظور کرلی اور مصالحت ہوگئی۔2 اس مصالحت کے بعد تینوں قلعے مسلمانوں کے حوالے کردیے گئے۔ اور اس طرح خیبر کی فتح مکمل ہوگئی۔
ابو الحقیق کے دونوں بیٹوں کی بد عہدی اور ان کا قتل :
اس معاہدے کے علی الرغم ابو الحقیق کے دونوں بیٹوں نے بہت سا مال غائب کردیا۔ ایک کھال غائب کردی جس میں مال اور حیی بن اخطب کے زیورات تھے۔ اسے حیی بن اخطب مدینہ سے بنو نضیر کی جلاوطنی کے وقت اپنے ہمراہ لایا تھا۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس کنانہ بن ابی الحقیق لایا گیا۔ اس کے پاس بنو نضیر کاخزانہ تھا۔ لیکن آپﷺ نے دریافت کیا تو اس نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ اسے خزانے کی جگہ کے بارے میں کوئی علم ہے۔ اس کے بعد ایک یہودی نے آکر بتایا کہ میں کنانہ کو روزانہ اس ویرانے کا چکر لگاتے ہوئے دیکھتا تھا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے کنانہ سے فرمایا : یہ بتاؤ کہ اگر یہ خزانہ ہم نے تمہارے پاس سے برآمد کر لیا تو پھر تو ہم تمہیں قتل کردیں گے نا؟ اس نے کہا: جی ہاں ! آپﷺ نے ویرانہ کھودنے کا حکم دیا۔ اور ا س سے کچھ خزانہ برآمد ہوا۔ پھر باقی ماندہ خزانہ کے متعلق آپﷺ نے دریافت کیا تو اس نے پھر ادائیگی سے انکار کردیا۔ اس پر آپﷺ نے اسے حضرت زبیرؓ کے حوالے کردیا اور فرمایا: اسے سزادو، یہاں تک کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب کا سب ہمیں حاصل ہوجائے۔ حضرت زبیرؓ نے اس کے سینے پر چقماق کی ٹھوکر یں ماریں یہاں تک کہ اس کی جان پر بن آئی۔ پھر اسے رسول اللہﷺ نے محمد بن مسلمہؓ کے حوالے کردیا۔ اور انہوں نے محمود بن مسلمہ کے بدلے اس کی گردن ماردی (محمود سایہ حاصل کر نے کے لیے قلعہ ناعم کی دیوار کے نیچے بیٹھے تھے کہ اس شخص نے ان پر چکی کا پاٹ گراکر انہیں قتل کردیا تھا )
ابن قیم کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے ابو الحقیق کے دونوں بیٹوں کو قتل کرادیا تھا۔ اور ان دونوں کے خلاف مال چھپانے کی گواہی کنانہ کے چچیرے بھائی نے دی تھی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 لیکن سنن ابو داؤد میں یہ صراحت ہے کہ آپ نے اس شرط پر معاہدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے یہود کو اجازت ہوگی کہ خیبر سے جلاوطن ہوتے ہوئے اپنی سواریوں پر جتنا مال لادسکیں لے جائیں۔ (دیکھئے : ابو داؤد باب ما جاء فی حکم ارض خیبر ۲/۷۶)
2 زاد المعاد ۲/۱۳۶
اس کے بعد رسول اللہﷺ نے حیی بن اخطب کی صاحبزادی صفیہ کو قیدی بنالیا۔ وہ کنانہ بن ابی الحقیق کے تحت تھیں۔ اور ابھی دلہن تھیں، انہیں حال ہی میں رخصت کیا گیا تھا۔
اموال غنیمت کی تقسیم:
رسول اللہﷺ نے یہود کو خیبر سے جلاوطن کرنے کا ارادہ فرمایا تھا۔ اور معاہدہ میں یہی طے بھی ہوا تھا۔ مگر یہود نے کہا : اے محمد ! ہمیں اسی سرزمین میں رہنے دیجیے۔ ہم اس کی دیکھ ریکھ کریں گے۔ کیونکہ ہمیں آپ لوگوں سے زیادہ اس کی معلومات ہیں۔ ادھر رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس اتنے غلام نہ تھے جو اس زمین کی دیکھ ریکھ اور جوتنے بونے کاکام کرسکتے اور نہ خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اتنی فرصت تھی کہ یہ کام سر انجام دے سکتے۔ اس لیے آپ نے خیبر کی زمین اس شرط پر یہود کے حوالے کردی کہ ساری کھیتی اور تمام پھلوں کی پیداوار کا آدھا یہود کو دیا جائے گا۔ اور جب تک رسول اللہﷺ کی مرضی ہوگی اس پر برقرار رکھیں گے (اور جب چاہیں گے جلاوطن کردیں گے ) اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ خیبر کی پیداوار کا تخمینہ لگایا کرتے تھے۔
خیبر کی تقسیم اس طرح کی گئی کہ اسے ۳۶ حصوںمیںبانٹ دیا گیا۔ ہر حصہ ایک سو حصوں کا جامع تھا۔ اس طرح کل تین ہزار چھ سو (۳۶۰۰ ) حصے ہوئے۔ اس میں سے نصف، یعنی اٹھارہ سو حصے رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کے تھے۔ عام مسلمانوں کی طرح رسول اللہﷺ کا بھی صرف ایک ہی حصہ تھا۔ باقی یعنی اٹھارہ سو حصوں پر مشتمل دوسرا نصف، رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کی اجتماعی ضروریات و حوادث کے لیے الگ کر لیا تھا۔ اٹھارہ سو حصوں پر خیبر کی تقسیم اس لیے کی گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل حدیبیہ کے لیے ایک عطیہ تھا۔ جو موجود تھے ان کے لیے بھی اور جو موجود نہ تھے ان کے لیے بھی۔ اور اہل حدیبیہ کی تعداد چودہ سو تھی۔ جو خیبر آتے ہوئے اپنے ساتھ دو سو گھوڑے لائے تھے۔ چونکہ سوار کے علاوہ خود گھوڑے کو بھی حصہ ملتا ہے۔ اور گھوڑے کا حصہ ڈبل، یعنی دو فوجیوں کے برابر ہوتا ہے۔ اس لیے خیبر کو اٹھارہ سو حصوں پر تقسیم کیا گیا تو دوسو شہ سواروں کو تین تین حصے کے حساب سے چھ سو ملے تھے۔ اور بارہ سو پیدل فوج کو ایک ایک حصے کے حساب سے بارہ سو حصے ملے۔1
خیبر کے اموال غنیمت کی کثرت کا اندازہ صحیح بخاری میں مروی ابن عمرؓ کی اس روایت سے ہوتا ہے کہ انہوں نے فرمایا” ہم لوگ آسودہ نہ ہوئے یہاں تک کہ ہم نے خیبر فتح کیا۔ ” اسی طرح حضرت عائشہ ؓ کی اس روایت سے ہوتا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا : اب ہمیں پیٹ بھر کر کھجور ملے گی2 نیز جب رسول اللہﷺ مدینہ واپس تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کو کھجوروں کے وہ درخت واپس کردیے جو انصار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زاد المعاد ۲/۱۳۷، ۱۳۸ ، مع توضیح
2 صحیح بخاری ۳/۶۰۹
نے امداد کے طور پر انہیں دے رکھے تھے۔ کیونکہ اب ان کے لیے خیبر میں مال اور کھجور کے درخت ہوچکے تھے۔1
حضرت جعفر بن ابی طالب اور اشعری صحابہ کی آمد:
اسی غزوے میں حضرت جعفر بن ابی طالبؓ خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے ان کے ساتھ اشعری مسلمان یعنی حضرت ابو موسیٰ اور ان کے رفقاء بھی تھے۔ رضی اللہ عنہم ۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا بیان ہے کہ یمن میں ہمیں رسول اللہﷺ کے ظہور کا علم ہوا تو ہم لوگ یعنی میں اور میرے دوبھائی اپنی قوم کے پچاس آدمیوں سمیت اپنے وطن سے ہجرت کر نے کے لیے ایک کشتی پر سوار آپﷺ کی خدمت میں روانہ ہوئے۔ لیکن ہماری کشتی نے ہمیں نجاشی کے ملک حبشہ میں پھینک دیا۔ وہاں حضرت جعفر اور ان کے رفقاء سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں بھیجا ہے۔ اور یہیں ٹھہر ے رہنے کا حکم دیا ہے اور آپ لوگ بھی ہمارے ساتھ ٹھہر جایئے۔ چنانچہ ہم لوگ بھی ان کے ساتھ ٹھہر گئے۔ اور خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس وقت پہنچ سکے جب آپﷺ خیبر فتح کرچکے تھے۔ آپﷺ نے ہمارا بھی حصہ لگایا لیکن ہمارے علاوہ کسی بھی شخص کا جو فتح خیبر میں موجود نہ تھا ،کوئی حصہ نہیں لگایا۔ صرف شرکاء ِ جنگ ہی کا حصہ لگایا۔ البتہ حضرت جعفرؓ اور ان کے رفقاء کے ساتھ ہماری کشتی والوں کا بھی حصہ لگایا۔ اور ان کے لیے بھی مال غنیمت تقسیم کیا۔2
اور جب حضرت جعفرؓ نبیﷺ کی خدمت میں پہنچے تو آپﷺ نے ان کا استقبال کیا۔ اور انھیں چوم کر فرمایا: واللہ! میں نہیں جانتا کہ مجھے کس بات کی خوشی زیادہ ہے۔ خیبر کے فتح کی یاجعفر کی آمد کی۔3
یاد رہے کہ ان لوگوں کو بلانے کے لیے رسول اللہﷺ نے حضرت عَمرو بن اُمیہ ضمری کو نجاشی کے پاس بھیجا تھا اور اس سے کہلوایا تھا کہ وہ ان لوگوں کو آپ کے پا س روانہ کرے۔ چنانچہ نجاشی نے دوکشتیوں پر سوار کرکے انہیں روانہ کردیا۔ یہ کل سولہ آدمی تھے اور ان کے ساتھ ان کے باقی ماندہ بچے اور عورتیں بھی تھیں۔ بقیہ لوگ اس سے پہلے مدینہ آچکے تھے۔4
حضرت صفیہؓ سے شادی:
ہم بتاچکے ہیں کہ جب حضرت صفیہؓ کا شوہر کنانہ بن ابی الحقیق اپنی بد عہدی کے سبب قتل کردیا گیا تو حضرت صفیہؓ قیدی عورتوں میں شامل کرلی گئیں۔ اس کے بعد جب یہ قیدی عورتیں جمع کی گئیں تو حضرت دِحیہ بن خلیفہ کلبیؓ نے نبیﷺ کی خدمت میں آکرعرض کیا : اے اللہ کے نبی ! مجھے قیدی عورتوں میں سے ایک لونڈی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زاد المعاد ۲/۱۴۸ صحیح مسلم ۲/۹۶
2 صحیح بخاری ۱/۴۴۳ دیکھئے فتح الباری ۷/۴۸۴ تا ۴۸۷
3 زاد المعاد ۲/۱۳۹ ، المعجم الصغیر للطبرانی ۱/۱۹
4 تاریخ خضری ۱/۱۲۸
دے دیجیے۔ آپﷺ نے فرمایا: جاؤ ایک لونڈی لے لو۔ انہوں نے جاکر حضرت صفیہ بنت حییؓ کو منتخب کرلیا۔ اس پر ایک آدمی نے آپﷺ کے پاس آکر عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ! آپﷺ نے بنی قریظہ اور بنی نضیر کی سیّدہ صفیہ کو دحیہ کے حوالے کردیا حالانکہ وہ صرف آپﷺ کے شایانِ شان ہے۔ آپﷺ نے فرمایا : دِحیہ کو صفیہ سمیت بلاؤ۔ حضرت دِحیہ ان کو ساتھ لیے ہوئے حاضر ہوئے۔ آپﷺ نے انہیں دیکھ کر حضرت دِحیہ سے فرمایا کہ قیدیوں میں سے کوئی دوسری لونڈی لے لو۔ پھر آپﷺ نے حضرت صفیہ پر اسلام پیش کیا۔ انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اس کے بعد آپﷺ نے انھیں آزاد کر کے ان سے شادی کرلی۔ اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔ مدینہ واپسی میں سدّ ِ صہباء پہنچ کر وہ حلال ہوگئیں۔ اس کے بعد ام سُلیم ؓ نے انھیں آپﷺ کے لیے آراستہ کیا۔ اور رات میں آپﷺ کے پاس رخصت کردیا۔ آپ نے دولہے کی حیثیت سے ان کے ہمراہ صبح کی۔ اور کھجور ، گھی اور ستو سان کر ولیمہ کھلایا۔ اور راستہ میں تین روز شبہائے عروسی کے طور پر ان کے پاس قیام فرمایا۔1اس موقع پر آپﷺ نے ان کے چہرے پر ہرا نشان دیکھا۔ دریافت فرمایا: یہ کیا ہے ؟ کہنے لگیں : یا رسول اللہ ! آپﷺ کے خیبر آنے سے پہلے میں نے خواب دیکھا تھا کہ چاند اپنی جگہ سے ٹوٹ کر میری آغوش میں آگرا ہے۔ واللہ ! مجھے آپﷺ کے معاملے کا کوئی تصور بھی نہ تھا لیکن میں نے یہ خواب اپنے شوہر سے بیان کیا تو اس نے میرے چہرے پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا : یہ بادشاہ جو مدینہ میں ہے تم اس کی آرزو کررہی ہو۔2
زہر آلود بکری کا واقعہ :
خیبر کی فتح کے بعد جب رسول اللہﷺ مطمئن اور یکسوہوچکے تو سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث نے آپ کے پاس بھُنی ہوئی بکری کا ہدیہ بھیجا۔ اس نے پوچھ رکھا تھا کہ رسول اللہﷺ کو ن ساعضو زیادہ پسند کرتے ہیں ؟ اور اسے بتایا گیا تھا کہ دستہ ، اس لیے اس نے دستے میں خوب زہر ملادیا تھا۔ اور اس کے بعد بقیہ حصہ بھی زہر آلود کردیا تھا۔ پھر اسے لے کروہ رسول اللہﷺ ؑ کے پاس آئی۔ اور آپﷺ کے سامنے رکھا تو آپ نے دستہ اُٹھاکر اس کاایک ٹکڑا چبایا۔ لیکن نگلنے کے بجائے تھوک دیا۔ پھر فرمایا کہ یہ ہڈی مجھے بتلارہی ہے کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے۔ اس کے بعد آپﷺ نے زینب کو بلایا تو اس نے اقرار کرلیا۔ آپﷺ نے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا : میں نے سوچا کہ اگر یہ بادشاہ ہے تو ہمیں اس سے راحت مل جائے گی۔ اور اگر نبی ہے تو اسے خبر دے دی جائے گی۔ اس پر آپﷺ نے اسے معاف کردیا۔
اس موقع پر آپﷺ کے ساتھ حضرت بشر بن براء بن معرورؓ بھی تھے، انہوں نے ایک لقمہ نگل لیا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری ۱/۵۴، ۲/۶۰۴ ، ۶۰۶ زادا لمعاد ۲/۱۳۷
2 ایضاً زاد المعاد ۲/۱۳۷۔ ابن ہشام ۲/۳۳۶
روایات میں اختلاف ہے کہ آپ نے اس عورت کو معاف کردیا تھایاقتل کردیا تھا۔ تطبیق اس طرح دی گئی ہے کہ پہلے تو آپ نے معاف کردیا لیکن جب حضرت بشرؓ کی موت واقع ہوگئی تو پھر قصاص کے طور پر قتل کردیا۔1
جنگ ِ خیبر میں فریقین کے مقتولین:
خیبر کے مختلف معرکوں میں کل مسلمان جو شہید ہوئے ان کی تعداد سولہ ہے۔ چار قریش سے ، ایک قبیلہ اشجع سے ، ایک قبیلہ اسلم سے، ایک اہل خیبر سے ، اور بقیہ انصار سے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ ان معرکوں میں کل ۱۸ مسلمان شہید ہوئے۔ علامہ منصور پوری نے ۱۹ لکھا ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں: ”اہل سیر نے شہدائے خیبر کی تعداد پندرہ لکھی ہے۔ مجھے تلاش کرتے ہوئے ۲۳ نام ملے … زنیف بن وائلہ کا نام صرف واقدی نے اور زنیف بن حبیب کا نام صرف طبری نے لیا ہے۔ بشر بن براء بن معرور کا انتقال خاتمہ جنگ کے بعد زہر آلود گوشت کھانے سے ہوا جو نبیﷺ کے لیے زینب یہودیہ نے بھیجا تھا۔ بشر بن عبد المنذر کے بارے میں دو روایا ت ہیں۔ [۱] بدر میں شہید ہوئے۔ [۲] جنگ خیبر میں شہید ہوئے۔ میرے نزدیک روایتِ اوّل قوی ہے۔2
دوسرے فریق، یعنی یہود کے مقتولین کی تعداد ۹۳ ہے۔
فدک:
رسول اللہﷺ نے خیبرپہنچ کر مُحیّصَہ بن مسعودؓ کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے فدک کے یہود کے پاس بھیج دیا تھا۔ لیکن اہل ِ فدک نے اسلام قبول کرنے میں دیر کی۔ مگر جب اللہ نے خیبر فتح فرمادیاتو ان کے دلوں میں رعب پڑگیا۔ اور انہوں نے رسول اللہﷺ کے پاس آدمی بھیج کر اہل ِ خیبر کے معاملہ کے مطابق فدک کی نصف پیداواردینے کے شرائط پر مصالحت کی پیشکش کی۔ آپ نے پیشکش قبول کرلی اور اس طرح فدک کی سرزمین خالص رسول اللہﷺ کے لیے ہوئی کیونکہ مسلمانوں نے اس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے۔ 3(یعنی اسے بزور شمشیر فتح نہیں کیا تھا) فد ک کا موجودہ نام حائط ہے جو حائل کے منطقہ میں واقع ہے۔ اور مدینہ سے کم وبیش ،ڈھائی سو کلو میٹر دور ہے۔
وادیٔ القریٰ:
رسول اللہﷺ خیبر سے فارغ ہوئے تو وادی القریٰ تشریف لے گئے۔ وہاں بھی یہود کی ایک جماعت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے: زاد المعاد ۲/۱۳۹، ۱۴۰ فتح الباری ۷/۴۹۷ اصل واقعہ صحیح البخاری میں مطولاً اور مختصراً دونوں طرح مروی ہے۔ دیکھئے: ۱/۴۴۹ ، ۲/۶۱۰، ۸۶۰نیز ابن ہشام ۲/۳۳۷،۳۳۸
2 رحمۃ للعالمین ۲/۲۶۸، ۲۶۹ ، ۲۷۰
3 ابن ہشام ۲/۳۳۷ ، ۳۵۳
تھی۔ اور ان کے ساتھ عرب کی ایک جماعت بھی شامل ہوگئی تھی۔
جب مسلمان وہاں اترے تو یہود نے تیروں سے استقبال کیا۔ وہ پہلے سے صف بندی کیے ہوئے تھے۔ رسول اللہﷺ کا ایک غلام مارا گیا۔ لوگوں نے کہا: اس کے لیے جنت مبارک ہو۔ نبیﷺ نے فرمایا : ہرگز نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے جنگ خیبر میں مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اس میں سے جو چادر چرائی تھی وہ آگ بن کر اس پر بھڑک رہی ہے۔ لوگوں نے نبیﷺ کا یہ ارشاد سنا تو ایک آدمی ایک تسمہ یا دو تسمہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبیﷺ نے فرمایا : یہ ایک تسمہ یادوتسمہ آگ کا ہے۔1
اس کے بعد نبیﷺ نے جنگ کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ترتیب اور صف بندی کی۔ پورے لشکر کا عَلَم حضرت سعد بن عُبادہؓ کے حوالے کیا۔ ایک پرچم حُبابؓ بن مُنذر کو دیا اور تیسرا پر چم عُبادہ بن بشر کو دیا اس کے بعد آپﷺ نے یہود کو اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے قبول نہ کیا۔ اور ان کا ایک آدمی میدانِ جنگ میں اترا۔ ادھر سے حضرت زبیر بن عوامؓ نمودار ہوئے۔ اور اس کاکام تمام کردیا۔ پھر دوسرا آدمی نکلا۔ حضرت زبیرؓ نے اسے بھی قتل کردیا۔ اس کے بعد ایک اور آدمی میدان میں آیا۔ اس کے مقابلے کے لیے حضرت علی ؓ نکلے اور اسے قتل کردیا۔ اس طرح رفتہ رفتہ ان کے گیارہ آدمی مارے گئے، جب ایک آدمی مارا جاتا تو نبیﷺ باقی یہودیو ں کو اسلام کی دعوت دیتے۔
اس دن جب نماز کا وقت ہوتا تو آپﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نمازپڑھاتے اور پھر پلٹ کر یہود کے بالمقابل چلے جاتے اور انہیں اسلام ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت دیتے۔ اس طرح لڑتے لڑتے شام ہوگئی۔ دوسرے دن صبح آپﷺ پھر تشریف لے گئے۔ لیکن ابھی سورج نیزہ برابر بھی بلند نہ ہوا ہوگا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ تھا اسے آپﷺ کے حوالے کردیا۔ یعنی آپ نے بزورِ قوت فتح حاصل کی اور اللہ نے ان کے اموال آپﷺ کو غنیمت میں دیے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بہت سارا سازوسامان ہاتھ آیا۔
رسول اللہﷺ نے وادیٔ القریٰ میں چار روز قیام فرمایا۔ اور جو مال ِ غنیمت ہاتھ آیا اسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تقسیم فرما دیا۔ البتہ زمین اور کھجور کے باغات کو یہود کے ہاتھ میں رہنے دیا۔ اوراس کے متعلق ان سے بھی (اہل ِ خیبر جیسا) معاملہ طے کر لیا۔2
تَیْمَاء:
تیماء کے یہودیوں کو جب خیبر ، فدک اور وادی القری کے باشندوں کے سپر انداز ہونے کی اطلاع ملی تو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی کا مظاہر کرنے کے بجائے از خود آدمی بھیج کر صلح کی پیش کش
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاری ۲/۶۰۸
2 زاد المعاد ۲/۱۴۶ ، ۱۴۷
کی۔ رسول اللہﷺ نے ان کی پیشکش قبول فرمالی۔ اور یہ یہود اپنے اموال کے اندر مقیم رہے۔1اس کے متعلق آپ نے ایک نوشتہ بھی تحریر فرمادیا جو یہ تھا :
”یہ تحریر ہے محمد رسول اللہ کی طرف سے بنو عادیا کے لیے۔ ان کے لیے ذمہ ہے۔ اور ان پر جزیہ ہے ان پر نہ زیادتی ہوگی نہ انہیں جلاوطن کیاجائے گا۔ رات معاون ہوگی اور دن پختگی بخش ( یعنی یہ معاہدہ دائمی ہوگا ) اور یہ تحریر خالد بن سعید نے لکھی۔”2
مدینہ کو واپسی:
اس کے بعد رسول اللہﷺ نے مدینہ واپسی کی راہ لی۔ واپسی کے دوران لوگ ایک وادی کے قریب پہنچے تو بلند آواز سے اللّٰہ اکبر اللّٰہ أکبر لا إلٰہ إلا اللّٰہ کہنے لگے رسول اللہﷺ نے فرمایا : اپنے نفسوں کے ساتھ سہولت برتو تم لوگ کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو، بلکہ اس ہستی کو پکار رہے ہو جو سننے والی اور قریب ہے۔3
نیز اثنائے راہ میں ایک باررات بھر سفر جاری رکھنے کے بعد آپ نے اخیررات میں راستے میں کسی جگہ پڑاؤ ڈالا اور حضرت بلال کویہ تاکید کرکے سورہے کہ ہمار ے لیے رات پر نظر رکھنا (یعنی صبح ہوتے ہی نماز کے لیے بیدار کردینا) لیکن حضرت بلالؓ کی بھی آنکھ لگ گئی۔ وہ (پورب کی طرف منہ کرکے ) اپنی سواری پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے کہ سو گئے پھر کوئی بھی بیدار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ لوگوں پر دھوپ آگئی۔ اس کے بعد سب سے پہلے رسول اللہﷺ ؑ بیدار ہوئے۔ پھر (لوگوں کو بیدار کیا گیا ) اور آپ اس وادی سے نکل کر کچھ آگے تشریف لے گئے۔ پھر لوگو ں کو فجر کی نماز پڑھائی۔ کہاجاتا ہے کہ یہ واقعہ کسی دوسرے سفر میں پیش آیاتھا۔4
خیبر کے معرکوں کی تفصیلات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیﷺ کی واپسی یا تو ( ۷ھ کے ) صفر کے اخیر میں ہوئی تھی یا پھر ربیع الاول کے مہینے میں۔
سریہ ابان بن سعید:
نبیﷺ سارے سپہ سالاروں سے زیادہ اچھی طرح یہ بات جانتے تھے کہ حرام مہینوں کے خاتمے کے بعد مدینہ کو مکمل طور پر خالی چھوڑ دینا تدبر اور دُور اندیشی کے بالکل خلاف ہے۔ درآں حالیکہ مدینہ کے گردوپیش ایسے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 زاد المعاد ۲/۱۴۷
2 ابن سعد ۲/۲۷۹
3 صحیح بخاری ۲/۶۰۵
4 ابن ہشام ۲/۳۴۰ یہ واقعہ خاصا مشہور اور عام کتب ِ حدیث میں مروی ہے۔ نیز دیکھئے: زادا لمعاد ۲/۱۴۷
بدو مقیم ہیں جو لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کے لیے مسلمانوں کی غفلت کے منتظر رہتے ہیں۔ اسی لیے جن ایام میں آپ خیبر تشریف لے گئے تھے، انہی ایام میں آپ نے بدوؤں کو خوف زدہ کرنے کے لیے اَبان بن سعیدؓ کی کمان میں نجد کی جانب ایک سریہ بھیج دیا تھا۔ اَ بَان بن سعید اپنا فرض ادا کرکے واپس پلٹے تو نبیﷺ سے خیبر میں ملاقات ہوئی۔ اس وقت آپ فتح خیبر فرماچکے تھے۔
اغلب یہ ہے کہ یہ سریہ صفر ۷ھ میں بھیجا گیا تھا۔ اس کا ذکر صحیح بخاری میں آیا ہے۔1حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ مجھے اس سریہ کا حال معلوم نہ ہوسکا۔2
****​
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 دیکھئے: صحیح بخاری باب غزوۂ خیبر ۲/۶۰۸ ، ۶۰۹
2 فتح الباری ۷/۴۹۱

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: