Asaib Mein Shadi Novel By Hiba Sheikh – Episode 1

0

آسیب میں شادی از حبہ شیخ – قسط نمبر 1

–**–**–

چند اہم کردار
ابو بکر
یونیورسٹی کا لڑکا
خاندانی رائیس مگر یتیم
انس ، عدنان ، اسد
اسکے جگری دوست
ابوبکر یار تجھے اب بھی سگریٹ ہی سوجھ رہی ہے ( رات کے پچھلے پہر انس نے ابو بکر کو قبرستان میں چلتے چلتے کہا)
یار کچھ نہیں ہوتا
ہم بیسویں صدی میں ہے۔ جن بھوت چڑیل کچھ نہیں ہوتا یار ۔
ابوبکر نے کش لگاتے ہوئے کہا
انس ابھی بھی گھبرا رہا تھا ۔ قبرستان کے درمیان جا کر دونوں نے ویڈیو کال آن کی اور دوسری طرف عدنان اور اسد کے قہقوں کی آواز بلند ہوگئی ۔
ابو بکر : دیکھ بھائی ہم قبرستان کے درمیان ہی کھڑے ہیں اب شرط پوری ہوگئی ۔
اتنا کہتے ھی ابوبکر کال کاٹنے لگا کے اسے دور سے جینز پہنے ایک لڑکی نظر آئی جو مسلسل اسی کی طرف چلی آرہی تھی ۔
ابو بکر انس دونوں پریشان تھے کہ آخر یہ کون ہے اور اتنی رات کو یہاں کیوں ہے
اس لڑکی نے انکی طرف دھیان نہ دیا اور تھوڑا سا آگے جا کر کچھ ڈھونڈنے لگی ۔
دونوں حیران تھے وہ کیا ڈھونڈ رہی ہے
اس لڑکی نے وہاں سے ایک عدد چھوٹی انگوٹھی اٹھائی اور انگلی میں پہن لی اور واپس قبرستان سے باہر چلی گئی
دونوں ابھی بھی ہکا بکا تھے کہ آخر معملہ کیا تھا ۔
ابوبکر نے سگریٹ سلگائی اور دونوں دوست گپ شپ لگاتے ہوۓ قبرستان سے باہر نکل آئے
سڑک ساری ویران تھی
نہ بندا نہ بندے دی ذات
دونوں دوست پیدل ھی سفر تہہ کر رہے تھے شاید انکی شرط میں یہ بھی شامل تھا
دونوں نے بمشکل چند قدم کا فیصلہ ہی طے کیا ہوگا
کہ اچانک سے کسی گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی دی ۔
دونوں اچانک یہ آواز سن کار ڈر گئے اور ابوبکر سے سگریٹ بھی چھوٹ گئی ۔
پیچھے دیکھا
وہ محترمہ انکو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کر رہی تھیں
دونوں حیران تھے کہ یہ لڑکی آخر اتنی نڈر کیسے ہو سکتی ہے
پھر دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے
شاید میری طرح آپ بھی شرط ہارے ہیں دوستوں سے وہ ابو بکر کی طرف دیکھتے ہوے بولی ۔
ججججی
ابو بکر ہکلاتا ہوا بولا
میرا نام سہرش ہے اور آپکا
ننننام
نام
ابوبکر ہکلاتا ہو بولا
اس بات کو سمجھتے ہوے کہ ابو بکر ڈر رہا ہے
سہرش نے مزید بات نہیں کی اور گاڑی چلتی رہی ۔
جب کافی دیر گزر گئی تو انس نے ابو بکر کو گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹائم دیکھو تین گھنٹوں سے ہم گاڑی میں بیٹھے سفر کر رہے ہیں مگر سڑک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی
وہ سڑک جسے ہم پیدل چند منٹ میں عبور کر سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک انس کی نظر سڑک پر پڑی تو وہ چیخنے چلانے لگا کیوں کہ گاڑی ہوا میں تھی اور پہیے سڑک پر نہیں تھے ۔
اور پھر سحرش زور زور سے ہنسنے لگی۔
اچانک سحرش غائب ہوگئی اور گاڑی خود بخود چلنے لگی ۔
بہت تیز بارش شروع ہوگئی اور کسی لڑکی کے کے قہقہوں کی آواز ان کے کانوں میں پڑی وہ سحرش ہی تھی۔
گاڑی ایک ویرن حویلی کی طرف چل پڑی اور وہاں پہنچ کر رک گئی۔
دروازے کھلے اور دونوں نیچے اتر کر بھاگنے لگے کہ اچانک کسی نے انکو آوز لگائی بھاگو گے تو مارے جاؤ گے جیسے یہ مارے گئے ہیں
ہاہاہاہا
اور قہقہے سنائی دیے
دونوں واپس پلٹے تو دیکھا انکے کئی ہم عمر جوان لڑکوں کی لاشیں وہاں پڑیں تھیں
دونوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی
مرتے کیا نہ کرتے مجبورً سحرش کے ساتھ اندر داخل ہوگئے ۔
وہ حویلی جو باہر سے ویران کھنڈر لگ رہی تھی اندر سے کسی شاہی محل کے جیسے تھی۔ دونوں حیران تھے کہ آخر ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔
اتنے میں وہ لڑکی ان کے قریب آئی اور مخاطب ہوتے ہوئے بولی میرے پیچھے پیچھے چلو وہ دونوں اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے وہ حویلی کم کوئی رہائشی حوٹل زیادہ لگ رہا تھا کیوں کہ وہاں درجونوں کمرے تھے اور سینکڑوں لڑکے لڑکیاں گھوم پھر رہے تھے
اور پھر وہ ایک کمرے میں داخل ہوئی اور ان سے کہا یہ تمہارا کمرہ ہے
آج کی رات آپ میرے مہمان ہیں جو خواہش کرو گے پوری ہوگی
بھاگنے کی کوشش کی تو مارے جاؤ گے ۔
انکو کمرے میں چوڑ کر وہ باہر چلی گئی
دونوں حیران تھے آخر ماجرہ کیا ہے ۔
تبھی انس کو پیاس کی شدت لگی اور وہ پانی ڈھونڈنے لگا کہ دیوار سے آوز آئی کیا چاہیے دونوں ایک بار پھر کانپ اٹھے
پپپپانی
دیوار سے ایک بچہ نکلا اور پانی کا گلاس انس کے ہاتھ میں تھماتا ہوا چل دیا
انس کی پیاس شاید خوف کی وجہ سے ختم ہی ہوگئی تھی
دونوں نے جاگ کر بمشکل رات گزاری اور صبح ان کے دروزے پر دستک ہوئی
دونوں پریشان تھے کہ اب کیا ہونے والا ہے کیا ہوگا ان کے ساتھ ؟
سحرش کمرے میں داخل ہوئی اور بولی کیسی گزری رات مہمان نوازی اچھی رہی ہماری۔
سحرش نے ابوبکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہاں بتاو کیا نام ہے تمہارا کیا کرتے ہو؟
میں ابو بکر ہوں
پڑھائی کر رہا ہوں
والدین بچپن میں ھی گزر گئے تھے
سحرش نے بتایا میں یہاں اپنی ایک دوست کی شادی پر آئی تھی قبرستان کے پیچھے سرکاری سکول میں ایک آسیب کی بستی ہے وہ وہیں رہتی میں شادی سے گھر واپس جانے لگی تھی کہ میری نظر تم پر پڑی اور پہلی ہی نظر میں مجھے تم سے پیار ہوگیا
میں تم سے نکاح کرنا چاہتی ہوں شادی کرنا چاہتی ہو
آپ ہوش میں تو ہیں
آپ آسیب ہیں اور میں ایک انسان
یہ تو نا ممکن ہے
میں نہیں جانتی کیا ممکن ہے کیا نا ممکن
بس اتنا جانتی ہو کہ میں آپکو حاصل کرنا چاہتی ہوں اس کے لیے چایے کسی کو جان سے مارنا یہ مرنا پڑے
آپ بات کو سمجھ نہیں رہی ایک آسیب انسان سے کیسے شادی کر سکتا ہے ؟
سحرش ہمارے یہاں ایک ایسا پیڑ ہے جو بھی اس کے سائے میں بیٹھتا ہے آسیب بن جاتا ہے
تم آج میرے ساتھ میری بستی چلو گے
میں شام کو تمہیں لینے آوں گی
مجھے کچھ کام ہیں پہلے وہ سر انجام دیے آوں
انس : جانی تیری تو لاٹری نکل پڑی
بھابھی مل گئی بھابھی
ابوبکر : میری جان نکل رہی ہے اور تجھے مذاق سوجھ رہا ہے
چل کوئی ترکیب سوچ یہاں سے بھاگنے کی
انس : بھول گیا اس نے کیا کہا تھا
بھاگنے کی کوشش کی تو مارے جاؤ گے
ابوبکر : اور تو بھول گیا اس نے اب کیا کہا ہے ؟
نا بھاگے تو بھی مارے جائیں گے
انس : شیخ کچھ کر کچھ کر یار
ابوبکر : چل بیٹھ کے سوچتے ہیں
اور سگریٹ جلا کر پینے لگتا ہے
بیٹھے بیٹھے اچانک دروازے پر دستک ہوتی ہے
سحرش : کیسے ہو ؟
ابوبکر : ذندہ ہے اب تک تو ؟
سحرش :
شاید غصّے ہو آپ مجھ پر
سنو میں یہاں سے دور لاہور شہر میں میانی قبرستان میں اپنے گھر والوں ساتھ رہتی تھی
ہمارا اپنا ایک قبیلہ تھا
ہم سب لوگ بہت خوش تھے
میرے ابو اس قبیلے کے سردار تھے
میری ایک کزن ہے جو ملتان میں رہتی ہے
انکا ایک الگ قبیلہ ہے
آج سے سال پہلے جب میری کزن کی شادی تھی تو گھر والے اس وجہ سے نہ آسکے کہ قریبی قبیلے سے تعلقات خراب چل رہے تھے اور لڑائی کا خطرہ تھا
میں اکیلی ھی ملتان آگئی
یہاں آ کر شادی بڑے مزے سے دیکھی
اسکی
Love marriage
تھی
میں نے اس دن سے ٹھان لی کے میں بھی جس سے پیار ہوگا اس سے شادی کروں گی
اور اتفاق سے وہ انسان نکلا میرا کیا قصور
یہ کہتے ہوئے سحرش رونے لگ پڑی
انس اور ابوبکر کا دل موم ہوگیا اور اسے چپ کروانے لگے
ابوبکر کے ذہن میں خیال آیا کہ
یہ تو بہت بھولی ہے
اسکے بھولے پن کا فائدہ اٹھایا جائے
اس نے کہا سحرش
دیکھو
ہمارے خاندان میں رواج ہے کہ جب تک کسی بزرگ سے اجازت نہ لو شادی نہیں کر سکتے
میرے ابو کے ایک ماموں ہیں
مجھے ان سے اجازت لینی ہوگی
وہ دے دیں گے
میں اجازت لے کر آجاتا ہوں
سحرش : دیکھو میں تم پر یقین کر رہی ہوں کیوں کہ پیار جو کرتی ہو
مجھے دھوکہ مت دینا پلیز
اور ہاں تم بھی اپنے والد اور والدہ کا بتاؤ وہ تو مان جائیں گے نہ ؟
سحرش : وہ تو ہے ھی نہیں
ابوبکر : کیوں کیا ہوا انکو ؟
سحرش : جب میں شادی سے واپس لوٹی تو دیکھا۔
جاری ہے
 
Read More:  Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Episode 5

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: