Asaib Mein Shadi Novel By Hiba Sheikh – Last Episode 2

0

آسیب میں شادی از حبہ شیخ – آخری قسط نمبر 2

–**–**–

جب میں شادی سے گھر لوٹی تو دیکھا سب کچھ اجڑ گیا تھا ۔
سارا قبیلہ جنگ میں مارا گیا ۔ میں اپنی کزن کے پاس ھی رہتی ہوں تب سے ۔
دیکھو تم پر یقین کیا ہے میرا بھروسہ مت توڑنا
ورنہ میں مر جاؤں گی
میں نہیں زندگی گزار سکتی اب آپ کے بغیر۔
آپ کو لگتا ہوگا کہ دو دن نہیں ہوئے ملے ہوئے اور اتنی محبت کہاں سے ہوگئی😔
مگر حقیقت میں یہ ایک سچ ہے کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں
جاؤ مگر لوٹ آنا
مجھے تمہارا انتظار رہے گا
وہ ابو بکر اور انس کو باہر تک چھوڑنے آتی ہے جب الوداع کر رہی ہوتی ہے تو اسکی آنکھیں نم ہوتیں ہیں
جیسے کوئی محبوب کے جانے پر اسکا عاشق روتا ہے
انس اور ابو بکر جب ہاسٹل پہنچتے ہیں تو
ان کے دوست ان پر سخت غصہ ہوتے ہیں
پھر وہ انکو تفصیل سے سارا قصہ سناتے مگر کوئی ماننے کو ھی تیار نہیں ہوتا ۔
وقت گزرتا گیا اور دن مہینوں اور مہینے سال میں بدل گئے
ادھر وہ بیچاری اپنی محبت کا انتظار کرتی رہی ادھر ابوبکر اپنی زندگی میں مگن مزے سے دن گزارتا رہا
پھر ایک دن یوں ہوا ہے
ابوبکر یونیورسٹی کینٹین پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا کہ ایک خوبصورت لڑکی
بال سنہری
نین نشیلے
اور رنگت سفید
جیسے دکھنے میں کوئی پٹھانی لگ رہی ہو
یا کوئی انگریز افسرہ
حسن مانو کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا
جو بھی دیکھے اپنی نگاہ ہٹا نہ پائے اس سے ۔
اس نے ابوبکر کو آواز دی
ہیلو
بات سنیں
ہیلو
محترم
ابوبکر منہ کھول کر آنکھیں پھاڑ پھاڑ اسکو دیکھتا رہا
میں آپ سے مخاطب ہو
یہاں بی بی اے کا ڈیپارٹمنٹ کہاں ہے ؟
آپ ٹھیک تو ہیں ؟
اس نے کاندھے سے ہلایا تو ابوبکر ہڑابڑا کر اٹھ کھڑا ہوا۔
منظر کچھ یوں تھا کہ ابوبکر اسکے حسن میں اس قدر مگن تھا کہ اسکو سگریٹ کا ہوش نہ رہا اور شڑٹ پر ایک بڑا سا دائرہ نما سوراخ بن گیا
کیا آپ مجھے
بی بی اے
کے ڈیپارٹمنٹ کا بتا دیں گے
جی وہ سیدھا جاکر دائیں طرف مڑ جائیے وہیں ہیں
بہت شکریہ آپکا
وہ شکریہ ادا کر کہ سیدھا چل پڑتی ہے
سامنے چند آوارہ لڑکے کھڑے ہوتے ہیں
جو اس کے گزرنے پر اسکو پٹاکہ بول دیتے ہیں
وہ بہت غصّے میں آجاتی ہیں
اور انکو تھپڑ مار دیتی ہے جس پر وہ واپس لڑکی کو تھپڑ مار دیتے ہیں
ابوبکر جب یہ دیکھتا ہے تو دوڑ کر انکی طرف جاتا ہے
لڑکوں کو ان گنت تھپڑ مارتا ہے اور وہ برداشت بھی کرتے ہیں کیوکہ وہ جونیئر ہوتے ہیں اور ابو بکر سینئر
آئندہ کو تنگ کرے مجھے بتانا میں
بی بی اے
لسٹ ائیر میں ہوں
اس کے بعد وہ لڑکی شکریہ ادا کر کہ چلی جاتی ہے
دوپہر کو وہی لڑکی جب کنٹیں میں آتی ہے تو دیکھتی ہے انس اور ابوبکر بیٹھے ہیں
تو وہ پاس آ کر بولتی ہے کیا میں بھی یہاں بیٹھ جاؤں
انس جی ضرور
میرا نام عائشہ ہے
میں کشمیر سے یہاں پڑھنے آئی ہوں
ماموں کے گھر رہتی ہو
ماما بابا ایک حادثے میں مارے گئے تھے
اور آپ ؟
انس
ہم ویلے ہیں
😂😂😂
چھے دن ویلے اتوار دی چھٹی
کیا مطلب
مطلب میں بی ایس انگلش لاسٹ ائیر
آپ کچھ لیں گی
ابوبکر یار تین کپ چائے کا بول دوں
آپ کو کسی بھی قسم کی پریشانی ہو مجھے بتائیے گا
اس کے بعد وہ سب چائے پیتے ہیں اور گپ شپ لگاتے ہیں
رات بھر وہ لڑکی ابو بکر کہ دل سے نہیں نکلتی
اسکی زلفیں
اسکی آنکھیں
اسکی آواز
اسکا چہرا
اسکا حسن
ابوبکر رات بھر سکون سے سو نہیں پاتا
اگلے دن وہ لڑکی ابوبکر کو کہیں نظر نہیں آتی
ابوبکر ڈھونڈتا بہت ہے مگر اسکا نام ونشان نہیں ملتا اسکی کلاس میں جاتا ہے تو علم ہوتا ہے وہ واپس کشمیر چلی گئی ہے کسی ضروری کام سے
ہفتے بعد ھی آئے گی
ابوبکر نے وہ ہفتہ کیسے گزرا یہ اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا
رات بھر جاگتا رہتا اسے ھر پل وہ حسین صورت نظر آتی رہتی
مگر وہ کر بھی کیا سکتا تھا
نا تو اس کے پاس عائشہ کا نمبر تھا
اگر وہ کسی سے لے بھی لیتا تو کال کر کے کیا بولتا اس کو کیا کہتا
ہفتہ اختتام پذیر ہوگیا مگر وہ لڑکی نظر نہ آئی اسکو ۔
پھر ایک دن وہ گراؤنڈ میں بیٹھا اپنی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک اس کے کانوں میں ایک آواز پڑی
جس کو وہ بخوبی جانتا تھا
اس نے پلٹ کر دیکھتا تو وہ وہی لڑکی تھی
اس کے بعد اس نے ابو بکر کا حال چل پوچھا اور گپ شپ لگانے لگ گئے
عائشہ نے بتایا کہ آج اس کا جنم دن ہے اور ساتھ ہی اس کو اپنے گھر سالگرہ کی دعوت پر بھی بلا لیا
یہ بھی کہا انس کو بھی لیتے آنا
دونوں نے فون نمبر ایکسچینج کیے اور پھر وہ اپنے گھر کا پتا بتانے لگ گئی اور وقت کا بھی بتا دیا
آپ لازمی آنا
ہاں میں آجاؤں گا کوئی مسلہ نہیں
وقت سے پانچ دس منٹ پہلے ھی آجاؤں گا
اور دونوں نے بلند قہقہے لگائے
یونیورسٹی سے واپس آکر ابوبکر سوچنے لگ گیا اسکو کیا تحفہ دوں کیا تحفہ نہ دو
بازار گیا اور گھنٹوں گھومنے کے بعد ایک گھڑی لی جو واقعی دکھنے میں دل کش تھی
اسکو پیک کروا کر وہ واپس آیا
اور انس کے مشورے سے سفید شلوار قمیض پہن کر تیار ہوگیا
سامنے وہی خوبصورت لڑکی
آج تو بلکل حور لگ رہی تھی
ابوبکر اسکو دیکھتا ھی رہ گیا اسکو دنیا کی کوئی خبر نہ رہی جب دونوں بت بنے ایک دوسرے کو دیوانہ وار دیکھتے رہے
تب انس نے ابوبکر کو کہا کہ سرکار یہ کہیں نہیں جا رہی اندر جا کر دیکھ لینا اسکو
جس پر عائشہ شرماتی ہوئی بولی اندر آجائیں اور دونوں اندر داخل ہو گئے
عآئشہ نے اسکو امنے باقی دوستوں سے ملوایا
اور لگ بھگ ان سب سے مل کر ابو بکر کو یہی محسوس ہوا کہ شاید وہ سب کے سامنے میرا ذکر کر چکی ہے
پھر عائشہ نے کیک کاٹا اور سب نے اس کو تحفے دیئے
ابوبکر نے بھی اپنی گھڑی دی
جو اس نے فورا اپنے ہاتھ میں پہن لی
اس کے بعد سب نے کھانا کھایا اور عائشہ نے ان کو اچھے طریقے سے رخصت کیا
اور وہ گھر واپس آنے کے لیے کار میں بیٹھ گئے اور وہاں سے نکل پڑے
گھنٹے بعد جب عائشہ نے یہ پوچھنے کے لیے فون کیا کہ وہ گھر پونچھے کہ نہیں تو ابوبکر کا نمبر بند آنے لگ
وہ بار بار فون کرتی رہی مگر نمبر بند آتا رہا پھر اچانک گھنٹے بعد اسکو ایک کال آئی جس کو سنتے ھی اسکے پاؤں تلے سے زمین نکل پڑی ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون کی رنگ بھجتے ھی عائشہ نے فورا فون اٹھایا تو دوسری طرف کسی لڑکی کی آواز سنی کہ کیا آپ ابوبکر کو جانتی ہیں
جی میں جانتی ہوں آپ کون ؟
میں سول ہسپتال سے بات کر رہی ہوں
آپ یہاں آ سکتی ہیں کیا ؟
کیوں کیا ہوا ؟
خیریت تو ہے ؟
جی انکا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے
وہ ٹھیک ہیں ؟
کچھ ہوا تو نہیں انکو ؟
جی وہ ٹھیک ہیں آپ یہاں آجائیں جلدی
عائشہ فورا ہسپتال کو روانہ ہو جاتی ہے
جب وہ کاؤنٹر سے معلوم کرتی ہے ابوبکر نام کا کوئی کیس آیا ہے کہاں ہے ؟
جی میں نے ھی آپ کو کال کی تھی
آپ میرے پیچھے آئیں
وہ اسکو ابوبکر کے پاس لے جاتی ہے
وہ اسکو ابو بکر کے پاس لے جاتی ہے
دھیان کہاں ہوتا ہے تمہارا ڈرائیو کرتے وقت ؟
ہوش سے کام نہیں لے سکتے کیا ؟
میں تو ٹھیک ھی چلا رہا تھا گاڑی بس اچانک سے آگے سے کار آگئی میں کیا کرتا
مجھے وہ نظر ھی نہیں آئیوہ کار تھی کہ بھوت چڑیل جو نظر نہیں آئی
جیسے تم سے بدلہ لینا ہو اس نے ؟
یہ سنتے ھی ابوبکر اور انس کو سحرش کا خیال آیا کہ کیسے وہ اسکو دھوکہ دے کر آئے تھے یہ ضرور اسی کا بدلہ ہوگا
خیر وہ بیٹھے رہتے ہیں گھنٹوں گپ شپ لگاتے ہیں
جب عائشہ وہاں سے اجازت لے کر گھر واپس آتی ہے
تب انس بولتا ہے
اس نے مار دینا ہے سب کو
اس نے کہا تھا نہ وہ تجھے کسی اور کا نہیں ہونے دے گی
مار دے گی جان سے
ھم سب مریں گے
کوئی ذندہ نہیں بچے گا
سارے مارے جائیں گے
دیکھ لینا تم
ہمارے برے دن شروع ہوگئے ہیں
بکواس نہ کر کچھ نہیں ہوگا
یہ سب ہمارا وہم ہے
اسکو برا خواب سمجھ کر بھول جا
اس کے بعد وہ ہفتہ ہسپتال میں رہتے ہیں اور عائشہ انکو ملنے آتی رہی
دونوں کے درمیان نزدیکیاں آتی گئی
اور آخر کار ایک دن ابوبکر نے سوچ لیا وہ اسکو اپنے دل کا حال بتا ھی د ے گا
پھر ایک دن ابوبکر نے سوچا آج جو ہوگا دیکھا جائے گا
وہ بازار گیا وہاں سے ایک سنار کی دکان سے پیاری سی انگوٹھی لی جس پر اپنا نام لکھوایا
پھر اسکو پیک کروایا ۔
نہ دھو کر تیار ہو کر
عائشہ کے گھر کی جانب چل پڑا
وہاں پہنچ کر دیکھا کہ وہاں تو کھنڈر ھی کھنڈر ہیں جہاں کچھ دن پہلے ایک پیاری سی کالونی تھی ۔
وہ دھنگ رہ گیا آخر ماجرہ کیا ہے
عائشہ کے نمبر پر کال ملائی تو نمبر بند آیا
جب سارا دن مسلسل نمبر بند آیا تو
وہ پولیس سٹیشن گیا وہاں جا کر گمشدگی کی رپورٹ لکھوانے لگ گیا
پولیس ولوں نے لڑکی کی تصویر مانگی تو اسے یاد آیا کہ اس نے تو اپنے موبائل میں کبھی اس کی تصویر نہیں لی
ہاں یاد آیا
انس نے سالگرہ کی ویڈیو بنائی تھی
اس میں ضرور اسکی شکل نظر آئے گی
اس نے فورا انس کو فون کیا اور کہا ویڈیو مجھے بھیجو
اور پولیس ولوں نے جب اسکا پتا پوچھا اور کہا کوئی اور شناخت فون نمبر
تو ابو بکر نے بتا دیا
پولیس افسر نے کہا سر آپ کا ذہنی توازن درست ہے
یہ گاڑی تو ابھی تک لانچ ھی نہیں ہوئی اور نا ھی نمبر ایکٹو ہوا ہے
آپ پاگل خانے سے بھاگ کر آئے ہیں کیا ؟
موبائل کی گھنٹی بجی
ہاں انس بول
اچھا میں دیکھتا ہوں
اور وہتسپپ آن کیا
مگر آنکھیں حیرت کے مارے پھٹی رہ گئی
ویڈیو میں کوئی چیز نظر نہیں اری چھری خود بخود حرکت کر رہی ہے کیک کٹ رہا ہے
عائشہ اور اسکے گھر والے نظر نہیں آرہے
یہ کیا ماجرہ ہے ؟
ابوبکر پولیس سٹیشن سے باہر نکلتا ہے اور سیدھا انس کے پاس جاتا ہے ۔
یہ کیا ماجرہ ہے بکر ؟
یار بات صاف صاف ہے
سحرش عائشہ ہے
عْائشہ
کککککیا
ہاں یہی سچ ہے
مطلب جہاں سے سفر شروع کیا تھا وہیں آگئے
پہلے سحرش کو تجھ سے محبت ہوئی
اور اب تجھے اس سے
جو مرضی ہوجاے میں اب نہیں بھاگ سکتا
وہ آسیب ہو یا انسان میں بس اتنا جانتا ہوں
مجھے محبت ہوگئی ہے اس سے
میں اب اس کے بغیر نہیں رہ سکتا
تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے
ہاں ہاں میرا دماغ خراب ہوگیا ہے
کہاں جا رہے ہو اب تم ؟
میں وہاں جہاں سے بھاگ کر آئے تھے
ابوبکر گاڑی نکالتا ہے اور قبرستان کی طرف چلا جاتا ہے
وہاں جا کر دیکھتا ہے
کہ دور دور تک ویرانی ہے نہ کوئی بندا نہ بندے کی ذات
وہ زور سے آواز لگاتا ہے سحرش سحرش سحرش سحرش سحرش
لیکن آواز بس گونج کر واپس آجاتی ہے
پھر وہ تھک ہار کر وہیں بیٹھ جاتا ہے اور رونے لگتا ہے
اتنے میں اسے اپنے پیچھے قدموں کی اہٹ سنائی دیتی ہے
وہ پلٹ کر دیکھتا ہے تو وہ سحرش ہوتی ہے
وہ بھاگ کر جاتا ہے اور اس کے گلے لگ جاتا ہے
سحرش: ۔ مجھ کو معلوم تھا تم واپس نہیں آو گے
تو میں نے سوچا میں تمھارے پاس آجاؤں اور انسانی شکل میں تمہارے پاس آگئی
مجھے یہ ہر گز علم نہ تھا آپ کو مجھ سے محبت ہو جائے گی
ابوبکر : تم انسان ہو یا آسیب مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا
میں بس اتنا جانتا ہوں مجھے تجھ سے محبت ہے
میں تمہاری خاطر آسیب بنننے کو تیار ہوں
سحرش: نہیں آپ آسیب نہ بنیں میں انسان بننا سیکھ چکی ہو میں انسان بن جاؤں گی

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: