Aurat Baraye Farokht Novel By Sama Chaudhary

0
عورت برائے فروخت از رائٹر سماء چوہدری – مختصر مکمل کہانی

–**–**–

جون جولائی کے گرم دن، عین سر پر چمکتا سورج ہر کسی کو گھروں میں باندھے ہوئے تھا پر وہ بائیس برس کا نوجوان جمالی محلے کی نکڑ میں بنے اونچے چوبارے پر موٹر سے لگائی مشین کو دھواں دھار رفتار سے بھاگا رہا تھا، نا کسی گرمی کا احساس نا سر پر کوئی سائبان، یہ جمالی محلے کی مصروف ترین نکڑ تھی، خرید و فروخت کی دوکانیں اور حسن و نکھار کا سامان بھی اسی نکڑ پر پایا جاتا۔
جمالی محلہ اپنی رنگین آب و تاب سے ہر زبان کی زینت ہوتا، یہاں کے قصے کہانیاں گویا ہر کوچہ میں بڑی رفت و ادا سے بتائی جاتی
محلہ بےنام ہو یا نام ور ہوتا تو رہائش پذیر سانس لیتی چلتی پھرتی آبی مخلوق سے ہے۔ یہ تو پھر بدنام ِزمانہ نگار و عیاشی کا ایک دم لیتا مجسمہ تھا۔ حسن کی محفلوں میں ایک پروانہ جو شمع کو اپنے گرد کیے ہوئے تھا۔
تنگ گلیوں میں رہائش گاہیں بہت تھی، ہر پردے کے پیچھے ہزار چہرے اور ان چہروں کی الگ کہانی، ہر کہانی کے دسوں باب ایک دوسرے سے مختلف ہوتے، ہر صفحے پر کردار بدل جاتے ہر دوسرے حرف پر نام تبدیل ہوتے، فہم و فراست کی اماں بھی یہاں دفن تھی
اور لُٹی ہوئی بےرنگ و آبرو بھی لاش سی بنی ہر دیوار پر حرفِ آخر بن کر چمک رہی تھی ہر اینٹ گواہ تھی صدیوں سے ہوئے واقعات کی عصبیت و عصمت کے جنازوں کی، لوگ مٹ رہے تھے اور مکانوں پر بوجھ تھا بوجھ بھی وہ کہ بےزباں کو کہو ہم راز رہے، بھید بھاؤ میں
بھلا کون بولےگا، ہم تو کہانی میں کہانی بن جائیں گے تم رہے مکان تو مکان کہاں بولا کرتے ہیں ! تم کو حکم ِخاموشی ہے اور ہم رخصت کے طلب گار۔
۔ ☆☆☆☆☆ ۔
” سنو ! ” نازک سی آواز پر وہ چونکا نظریں اٹھا کر
دیکھا وہ نیا چہرہ تھا ویسے تو یہاں کی ہر نسوانی آواز
کو وہ پہچان جاتا پر اب کی بار اس کو دیکھنا پڑا ۔
” جی ” جواب قدرے مختصر تھا ۔
” یہاں رہائش مل جائےگی؟ ” اپنا سراپا
ڈھانپ کر وہ گویا ہوئی۔
” نئی لگتی ہو پر اس جمالی محلے میں کوئی مکان خالی نہیں
ہے یہاں تو ہر اٹاری پر دسوں بندے رہ رہے، ہاں ایک مکان ہے پر
وہ شخص کچھ اچھا معلوم نہیں ہوتا ” وہ ٹر ٹر کرتا سب بتاتا گیا۔
” یہاں بھئ تفریق ہوتی ہے اچھے بٌرے کی؟ ”
وہ طنز بھری نظروں سے بولی۔
” کیا ہوتی ہے؟ ” وہ نا سمجھ بھلا کیا جانتا۔
” کچھ نہیں تم کیا کہہ رہے وہ شخص کا اس کا پتہ دو
میں خود بات کرلوںگئ ” لڑکے سے پتہ لےکر شبانہ بتائے
گئے پتہ پر گلی میں داخل ہوئی تنگ گلی چاروں طرف چھن چھن
کی آوازیں، عروج پر تھی دو مکان چھوڑ وہ ایک منزل کے سامنے
رکی دروازے پر نام کی تختی لٹک رہی تھی جس پر نگارش سے
” اللہ دتہ منزل ” لکھا تھا اپنے بیگ کو بغل گیر کرکے اس نے
گھنٹی بجائی ، کچھ پل کے انتظار پر دروازہ کھولا اور ایک چالیس سال کا مرد اپنی مونچھ کو تاؤدیتا باہر آیا، شبانہ نے گہری نظروں
سے دیکھا وہ کرتا شلوار میں مبلوس نہائت ادبی شخص معلوم ہوا
اس نے کچھ پل اس کو دیکھا پھر اپنی رہائش کا ذکر کیا۔
” آداب ، سنا ہے آپ مکان کرایے پر دیتے ہیں مجھے رہائش چاہیے تھی اگر آپ ایک کمرہ دے دیتے تو مہربانی ہوتی” وہ ترنم سی بولی
” کہاں سے آئی ہو؟ کوئی نام پتہ؟ اس محلے کا واحد شریف خانہ
یہ میرا مکان ہی ہے اگر تو تم دھندے والی ہو تو یہاں رہائش نہیں مل سکتی ہاں اگر ویسے پر ویسے یہاں کون رہنے کو آئےگا ؟ ” اللہ دتہ گہری نظروں سے اس کا معائنہ کرکے بولا جیب سے پان نکالا اور منہ میں ڈال لیا پھر کمر پر ہاتھ باندھے اس کو سر سے پاؤں کے ناخن تک دیکھا سانس چھوڑی اور اندر آنے کا کہہ کر دروازے سے پیچھے ہٹ گیا۔ وہ انہی قدموں چلتئ اندر آئی اللہ دتہ نے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ جا بیٹھی ۔
” میرے سوال کا جواب نہیں دیاتم نے ”
پان تھوک کر اس نے پان دان نیچےرکھ دیا ۔
” میرا نام شبانہ ہے ، پرانی کچی بستی کی رہائشی تھی
وہاں طوفان سے مکان گر گئے تو رہنے کو جگہ دیکھ رہی ہوں باقی
محلے مہنگے تھے تو اس محلہ کا انتخاب کیا” اللہ دتہ کی حرکات اس کو مشکوک لگ رہی تھی خود اعتمادی سے جواب دےکر وہ کرسی کے کنارے دیکھنے لگی۔
“سن لڑکی تُو تو پڑھی لکھی معلوم ہوتی ہے، کیا تعلیم ہے تیری ؟” اللہ دتہ کو اپنا دھندا پر ایک اکاؤنٹ منیجر جو چاہیے تھا حرام کا روپیہ بڑا سنبھالنا پڑتا ہے، موقع سے فائدہ اٹھا کر اس نے پوچھا۔
” ہاں بہت پڑھی لکھی ہوں گلیوں میں پرچے دیے ہیں، اور چوکوں پر نتیجے آئے ہیں،میں نے معاشرے پر “پی ایچ ڈی” کی ہے اور رویوں پر “ڈگریاں ” لی ہیں ” وہ بےحد سادگی سے بولی تھی اللہ دتہ کے ہاتھ سے پان گر گیا۔
” غصہ کیوں ہوتی ہو چل کرایے پر تجھے اوپر کا مکان دیتا ہوں ساتھ غسل خانہ ہے اور ایک چھوٹا کونا کھانے پکانے کو بھئ ہے، کھڑکیاں خوب ہوا دار ہیں کمرے میں پنکھا بھی لگا اور بجلی کا انتظام بھی ہے سارا ملا کر تیرا کرایہ اٹھ سو بنتا ہے، اگر چاہے تو کرایہ معاف ہوسکتا ہے بس میرے حساب کتاب کا انتظام دیکھ لیاکر تو تجھ کو پانچ سو چھوڑ دوںگا ” کاپی پر قلم گھوما کر اللہ دتہ نے شبانہ کی طرف دیکھا۔
” اور باقی کے چار سو ؟ ” شبانہ نے اس کے لفظوں کا مطلب
خوب سمجھ رہی تھی پھر اس وقت کہیں اور ٹھکانہ بھی نہیں تھا
سو چپ چاپ اس سے چابی پکڑی اور سیڑھیاں چڑھ گئی۔
(اللہ دتہ کی مکرو ہنسی اور حرکات و سکنات اس کو مشکوک معوم ہورہی تھی بنا اپنا جواب پائے وہ منظر سے اٌوجھل ہوگئی.)
۔☆☆☆☆☆☆☆۔
“کچھ کر اللہ دتہ کچھ سوچ یہ چنچل چھوری بڑا فائدہ دے گی ویسے بھی اب جمالی محلے کی ساری رنڈیاں عمر رسیدہ ، اب ناں ادا میں شوخی ناں چال میں چمک ، شبانہ بڑی دلکش ہے سارے محلے میں تو امیر ترین اور اونچا مقام حاصل کرئے گا” خود کلامی کرتا اللہ دتہ شام سے یوں ہی ٹہل رہا تھا اپنے اصول و ضوابط وہ کچرے دان میں کب کا ڈال چکا تھا۔ساری رات وہ لکڑی کی ایک تختی تیار کرتا رہا رنگ و روغن کرکےاب قلم سے اس پر ایک عبارت تحریر کررہا تھا۔ سوچتے سوچتے ایک لائن ذہن میں ابُھری تو تختی پر قید کردی “عورت برائے فروخت ”
راتوں رات اللہ دتہ نے وہ تختی اپنے دروازے کے اوپر لگادی رات کی سیاہی میں بھلا کون دیکھ پاتا سوائے خالق کے کہ مخلوق کن تماشوں میں مصروف ہے۔ “جب منہ کو خون لگ جائے تو حلال و حرام کا تصویر ناپید ہوجاتا، پینے والے کو بس مشروب سے مطلب ہے اُس کو تیاری سے کیا لینا دینا؟ ” لمبا سانس چھوڑ کر جمائی کو روکتا اللہ دتہ اب لمبئ تان سو گیا اس بات سے بےخبر کہ تماشائی لائنوں میں جھگڑ رہے ہیں۔ وہ خواب خرگوش کے مزے لیتا سبز اور لال نوٹوں پر چہل قدمی کررہا تھا قمیض کے بٹن سے پاجامے کی سلائی تک بس روپیہ پیسہ ہی عیاں تھا۔
۔☆☆☆☆☆☆۔
” جادو سن یارر وہ ٹھرکی اللہ دتہ ہے ناں ؟ اس کے مکان میں
ایک لڑکی رہنے کو آئی ہے یار کیا چیز ہے ٹوٹا ہے پورا مست
مال مکھن ملائی کی طرح گوری چٹی اور ہائے کیا چلتی ہے
جان کےگئئ یارر سن رہا ہے ناں ؟؟ جادو ” اپنی بات دوہرا کر
وہ جاوید کا کاندھا ہلا کر بولا۔
” کام کرنے دے یار کل جانم خاتون کے چار جوڑے دینے ہیں
اس نے خون پی جانا میرا اس جمالی محلے کی خوفناک مخلوق ہے وہ چل نکل میری دوکان سے چل چل شاباش ” سوئی کا ٹانکہ سیدھا کرکے اس نے کپڑے پر سلائی ماری۔
” کیا مسلہ ہے تیرا یارر ، فضول بکواس نا کیا یہ عمر ہی تو ان شوخ کاموں کی ہے جوانی جانے من کہاں سنبھال کرلے جانی ہے۔ اچھا ہے سارا تیل نکال دو ویسے بھئ ملک ڈوب رہا ہے میں کیوں خسارے میں مارا جاوں بھائی ” ٹیبل پر لمبی تان کر وہ سسکیاں بھرتا اپنے حواس سے آگے کی سوچنے لگا۔
” دیکھ بلال لالے ، یہ جوانی سنبھال کے رکھ یوں طوائفوں کے چکر میں اپناتیل مٹی تو ضائع کرئےگا ساتھ جو چار پیسے محنت سے کمائے وہ بھی حرام میں نکل جانے اور تجھ کو اتنا یقین کیوں وہ نئی لڑکی طوائف ہی ہوگئ؟ کیا پتہ وہ اللہ دتہ کی رشتہ دار ہو ؟ ”
جاوید نے سن سنا کر بلال کو اپنی دوکان سے فارغ کیا اور واپس
چولی کے کنارے پر سلائی لگانے لگا۔
” سن بھائی ایک بار پتہ کر کے آوں؟ اگر وہ دھندے والی تو پہلا گاہگ میں ہی ہوں گا ہائے مجھے تو آج نیند نہیں آنی” دوکان
کے دروازے سے چھانک کر بلال نے زبان ہونٹوں پر بھری اور
قدرے چھاچھور پن سے کہنے لگا۔
” دفعہ ہوجا یہاں سے کمینہ حرام کے سکون میں حلال کا پسینہ ڈالے گا ، بد بخت نا ہو تو ؛ میری دوکان پر واپس آیا تو منہ توڑ دوںگا سالہ سڑک چھاپ لوفر ناں ہو تو ” جاوید نے غصے سے چپل اتار کر پھینکی تو وہ بھاگ گیا۔
” خدا کی پناہ! لعنت برسے اِن نوعمر جذبات پرست نسل پر، گندی فلمیں، دیکھ کر خود لذتی میں ڈوبے ہوئے بس اپنی جوانی گال رہے باقی کی کسر یہ رنگ برنگی تتلیاں پوری کردیتی ہیں نا ہاتھ آتی نا کچھ بس پیچھے دیوانہ وار گھوم لو چار روپے دو بستر گرم کرو اور بس بھئی عشق کی ایکسپائری ڈیٹ آجاتی ۔ تف ایسی جوانی پر”
جاوید لعن طعن کرتا واپس کپڑوں کے تھان پر جھکا اور ماپ لینے لگا۔۔ رات کے سائے تلے زمین کی مخلوق سو چکُی تھی یا سونے کا ناٹک کررہی تھی پر ہر طرف گہری خاموشی کا راج تھا ۔
۔☆☆☆☆☆☆☆۔
جانم خاتون جسم کی بھارئ اور زبان کی بڑی ہلکی خاتون تھی،اللہ دتہ کے بعد اس محلے کی دوسری امیر ترین شخصیت فرق صرف ایک تھا وہ روپیہ فروخت کرتا تھا جانم لڑکی؛ جو نوعمر لڑکیوں کو راہ و رسم بڑھانے،طوائف کی شوخی و ادا چال چلن کے علاوہ مرد کے دل تک کا راستہ بھی سمجھاتی تھی۔ عام کہاوت جو کہ مرد کے دل کا راستہ پیٹ سے ہوکر جاتا” جانم نے اس کہاوت کو کھلم کھلا تبدیل کردیا تھا بقول جانم ” مرد کے دل کا راستہ عورت کے ناز و نظر لب و لہجہ اور شوخی سے ہوکرجاتا ہے مرد کو بہلاو اس کو خوش کرو تو تمہارا مقام اس کے دل گردے میں ہوگا “
اس کی منزل میں اٹھارہ سے بیس لڑکیاں ابھی عہد سیکھ میں تھی
منزل میں لگا شیشہ اور اس کا فریم جس میں جگہ جگہ تیل ناخن پالش اور لپ اسٹک کے دھبے تھے جس سے اس کا رنگ مٹ میلا ہو گیا تھا اور شام ہوتے ہی وہ بالکنی میں کھڑی رہتی تھیں لیکن انداز یہ نہیں تھا۔ پر اب تو چہرے پر گہرا پاوڈر تھوپتی تھی اور ہونٹوں پر گاڑھی لپ اسٹک جما کر بالکنی میں ٹھٹھا کرتی تھی۔ اور ان کے عاشق ہاتھوں میں دس دس روپے کی چڑیا پکڑ کر دور سے اشارے کرتے وہ میری ہے لال والی تٌو رکھ لے، سبز والی میری فلاں فلاں۔
اور یوں ہی شام رات میں بدل جاتی رات دن ہوجاتا اور ان نوآموز طوائفوں کو ادھیڑ عمر شحض اپنی تسکین کا سامان بناکر خوب محو عیاشی میں روند کر اپنی مستیوں میں مگن رہتے۔ “کھوٹھوں پر شہزادے نہیں آیا کرتے یہ تو بازارِ تن ہے یہاں بولی لگتی ہے اور گاہک
برہنہ گوشت کے مجسمے اٹھا لےجاتے ”
۔☆☆☆☆☆☆☆☆۔
سویرے کا سورج بھئ بڑا چالاک نکلا آج وقت سے پہلے اُبھر آیا شاید
وہ بھی چاند کو طلاق دے زمین کا تماشائی بن کر آیا تھا۔
جانم خاتون نے خود کو آراستہ کیا، پائل پہنی، ماتھے پر ٹیکہ لگا کر وہ آئینہ میں ایک جھلک دیکھاپھر اپنی نظر اتار کر پھینکی اور چھنکار کی تھاپ پر چلتی منزل کی دہلیز پار کرکے سڑک کنارے بالوں میں انگلیاں گھومتی بڑی بے نیازی سے چلتی جاوید کی دوکان کا رخ کیا
اس کا آڈر بن گیا تھا لینے آج خود جارہی تھی راستے میں اللہ دتہ منزل پر نظر پڑی تو دیوانہ وار ہنستی گئی کمر پر ہاتھ باندھے دیر تک سڑک کنارے بس لوٹ پوٹ ہوتئ گئی، پھر خود کو روک ناسکی اور سیدھا اندر داخل ہوگئی۔۔
” واہ اللہ دتہ تم بھی کوٹھا کھول لیا کتنے برے ہو افتتاح پر بلایا ہی نہیں یہ تو کوئی بات ناں ہوئی ” وہ بھرم ہوئی اللہ دتہ کے چہرے پر
ناگوار تاثرات چھائے۔
” چل اب بول بھی اب تو ہم کاروبار میں بھی ایک جیسے ہوئے
کہاں سے لایا ہے مال ؟ میرا لڑکیاں ہی ہیں یا تم نے لڑکے بیٹھا لیے؟ ” جانم کا ہر طنز اللہ دتہ کو سیدھا لگا وہ ٹوپی سیدھی کرکے
منہ موڑ کر بیٹھ گیا۔ جانم کی ہنسی نکل گئی پھر اس کو وہاں چھوڑ
خود سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کی منزل میں داخل ہوگئی۔
بنا کسی دستک کے وہ اندر داخل ہوئی اور اس کو مخاطب کیا، وہ
چولی کی گانٹھ باندھ رہی تھی جب آواز پر چونکی۔
” تیرا نام کیا ہے؟ ” جانم نے پشت دیکھ کر پوچھا
وہ پلٹی تو جانم حیران سی رہ گئی پھر چار قدم آگے
ہوئےاور کمرہ جو شروع ہوتےہی ختم ہوگیا اٹاری پر لگے
تخت پر اس کو بیٹھا دیکھ خود پاس کرسی پر بیٹھ گئی۔
” میرا نام؟ شبانہ ہے ” وہ مسکان دبائے بولی ۔
جانم خاتون نے بغل میں دبی پرس سے پان دان نکلا۔
” سن شبانہ تٌو اس لائن میں کیوں آئی؟ “
جانم خاتون نے منہ میں پان ڈال کر حیرانی
سے پوچھا وہ ہنس پڑی۔
” کیوں جانم خاتون تیرا دھندا بند ہوگیا میرے آنے سے ؟ ”
شبانہ بات کو مذاق میں لےگئی۔
” نہیں رے چھوری؛ تٌو بہت حسین ہے، خوب شکل سیرت کی بھی
مجھ کو بھلی لگی اور خاندان کی بھی اچھی لگی ہے ؛ ہمارا تو بخت ہی سیاہ تھا تجھے کیا ہوگیا رے جو سفید چھوڑ سیاہ چن لیا ؟ “
جانم خاتون نے دکھ سے بھری آنکھوں کو چپکا۔
” کیوں زخم پر نمک پاشی کررہی ہے جانم ؛ مردے کو بار بار قبر سے نکلو تو ہڈیاں بھی ٹوٹ جاتی ہیں ” شبانہ نے تلخ سی مسکان کو دبا لیا کروٹ بدلی اپنی چولی کا دھاگہ باندھے چارپائی سے اٹھی اور انگڑی لیتے جانم کو دیکھا وہ اسی پر نظرے جمائے بیٹھی تھی۔
” بول ناں ” میرا دل چاہتا ہے تجھے سنوں پتہ نہیں ایک کسک سی اٹھی ہے ” جانم نے پان دان کو بند کیا اور اس کو بولی۔
” بارہ کی تھی جب باپ مر گیا ، لوگوں نے ماں کو تنگ کرنا شروع کردیا، ماں نے اُسی محلے کے نشئی سے بیاہ رچا لیا ابا کا ادھار تھا سر پر ماں نے خود کو نیلام کردیا۔۔ باپ سوتیلا تھا بلکہ باپ کہاں کا تھا ۔۔۔پھر ایک روز ماں چل بسی تو میں سوتیلی اکیلی کہاں اپنا محافظ تلاش کرتی ؟ تیرہ برس کی تھی جب زیادتی کا نشانہ بنی اور بنتی گئی روز مردوں کا آنا جاتا رہتا نشئ کو چار پیسے مل جاتے اور مجھ لاش کو دو نوالے روٹی۔۔ پندرہ برس میں کوکھ ہری ہوگئی دن بہ دن بھاری، سوتیلے باپ کا دھندا رک رہا تھا تو گلی کی ہیلتھ ورکر سے چار گولیاں لا دی ۔ اپنے بچپن میں کہاں کسی اور کا بچپن پالتی؟؟ اٹھارہ کی دہلیز پار کی تو باپ بھی مر گیا پھر بس کھلی کتاب ہر صفحہ سیاہ برہنہ تن لیے کچے مکان میں سرد راتوں کا عذاب بھی کاٹا اب تو بدن پک گیا ہے اب کسی سے وحشت نہیں ہوتی ” شبانہ نے ہنسی مسکراتی اپنی کرب بھری کہانی پانچ منٹ میں سنادی دیکھا تو جانم رو رہی تھی۔
” ری شبانہ تجھے دکھ نہیں ہوا ؟ تیرا اندر برداشت کرگیا
یہ زخم یہ ظلم ” جانم نے آنکھ پونچھ کر کہا۔
” جانم جان بہار، دکھ درد ؟ کیا پوچھتی ہو کلی مسل دو تو مہک مر جاتی ، روح کچل دو تو جسم کہاں شاداب رہتا ؟ مری ہوئی عورت کا کوئی بھاو نہیں ہوتا، ” شبانہ کا لہجہ دو ٹوک تھا ۔
” تم اس محلے کو چھوڑ کر چلی جاو یہ تیرےرہنے کے قابل نہیں
اللہ دتہ بہت ہی گھٹیا انسان ہے مرد کے روپ میں پورا شیطان وہ تو تیری بولی لگارہا ہے کہہ رہا ہے عورت برائے فروخت وہ تجھے فروخت کرئےگا میری مان تو یہ بدنام گلیوں کی رہائش چھوڑ دے” جانم خاتون کا ہمدردی بھرا لب و لہجہ شبانہ کو حیران کن لگا اس نے تو جانم کے بارے میں جو جو سنا تھا وہ اس کے برعکس نکلی۔
“صدیوں سے ہم یہ سن رہے ہیں کہ ویشیا کا ڈسا ہوا پانی نہیں مانگتا تو یہ مرد اپنے آپ کو ڈسواتے کیوں ہیں، جانم بتا یہ یہاں آتے کیوں ہیں ” شبانہ نے اس کی ہمسری میں چادر بچھاکر کمر سیدھی کی۔
” یہاں طوائف کی لڑکی طوائف ہے رقاصہ کا لڑکا مجرا باز اور ویشیا کی بچی رنڈی ہے پر وہ مرد جو کوٹھوں پر عیاشی کی نشانی چھوڑ جاتے اس دلال کی اولاد پھر کیا کہلاتی ہوگئ؟ جانم بتاو ناں شبانہ سے ضد کی وہ پان تھوک کر خالی آنکھوں سے اس کو دیکھ کر کھڑی ہوگئی اور بنا کسی جواب کے اس تنگ کمرے سے جانے کو مڑی۔
” جانم مجھے افسوس ہے کہ اب خنریز کو سرعام سنگسار کرنے کا زمانہ نا رہا ورنہ یہ پیشہ بھی شاید باعث عزت کا مکاں ہوتا ” شبانہ کے ان آخری الفاظ کی تاب جانم نا کھاسکی اور انہی قدموں پلٹ گئی ۔
۔☆☆☆☆☆☆۔
“سیٹھ اللہ دتہ ! سنا ہے تمہارے بڑا خوبصورت نرم و ملائم مال ہے اور قیمت تم منہ مانگی لیتے ہو ؟ کچھ ہمارا بھی خیال کرو ”
بلال کھلے آستین کی قمیض زیب تن کیے اللہ دتہ کے دروازے پر انگلیاں گھوما کربولا۔
” بابو دام لگتے ہیں نرم و ملائم کومل بسترکے تب ہی سکون سے نیند پوری کرپاوگے پر چلو تم پر سیٹھ اللہ دتہ تھوڑا رحم کرتا ہے تم دو گھنٹے کے پانچ ہزار دے دو اور عش کرو ” کھاتے کی کاپی پر نام درج کرکے اللہ دتہ نے روپے کےلیے ہاتھ آگے بڑھایا۔
” سیٹھ کھاتہ لکھ رہا ہے مجھ سے پہلے بھی کوئی گاہک آیا ہے”
بلال نے اس سے حیرت سے پوچھا تھا
” نہیں بابو تو پہلا ہے آج دھندے کا پہلا دن ہے چل جا شاباش”
اللہ نے جھٹ روپے پکڑے اور تھوک لگاکر ان کی گنتی کرنےلگا۔
بلال سینہ تان کر سیڑھیاں چڑھا بائیں جانب ایک کمرہ جس کا دروازہ
آدھا ٹوٹا تھا اور پردہ بھئ چاک تھا وہ قہقہہ لگاکر اس طرف بڑھا ۔
ابھی ایک قدم اندر رکھا تھا وہ دنگ رہ گیا سامنے چوبارے پر کھڑی
لڑکی بےحد خوبصورت معلوم ہوئی تیکھے نین نقش، وہ آگے بڑھا
اور جاکر اس ٹوٹی پھوٹی چارپائی پر بیٹھ گیا۔ اور سیٹی بجانےلگا
شبانہ کو اس کے آنے کی بالکل خبر نا ہوئی اب چونک کر دیکھا تو وہ پیچھے بیٹھا تھا اسکے ذہن میں جانم خاتون کی تختی والی بات گھومی غصہ ایک طرف کیے وہ بےنیازی سے بولی۔ “کون ہو تم ؟ جس بھئ کام کو آئے ہو بےمطلب آئے ہو چلو میرا مکان خالی کرو “
” تیری رقم ادا کرچکا ہوں بنا مزہ کیے تو نہیں جاوںگا۔ “
بلال لمبئ تان کر نہائت لوفر پن سے بولا۔
” ابھی اسی وقت میرے مکان سے نکل جاو تم جیسے گھٹیا لوگوں کا یہاں بھلا کیا کام ؟؟ اس سے پہلے کہ میں بھول جاوں میں کون ہوں یا تم۔کون ہو نکلو یہاں سے ” شبانہ نے چاقو چولی میں چھپائے کہا
بلال اپنی وحشی نظروں کو اس پر گاڑے زبان سے ہونٹوں کو تر کرکے
مخاطب ھوا ۔ ” کتنے مردوں کے ساتھ سوئی ہے۔میری باری پر اچھل رہی چل اپنا ڈرامہ بند کر اور ادھر آا ” وہ چلاکر بولا ۔
” کیوں ؟ مسلنے سے پہلے ہر کلی سے پوچھتے ہو کہ تمہارا نمبر کون سا ہے ؟ بڑے ہی خود دار مرد ہو ویسے یہاں پر بھی برتری رکھنا چاہتے ہو ” اس نے جلے پر تیل ڈال دیا تو آگ مچ گئی۔
” وشیا کی بچی تمیز سے ؛ تیری زبان کاٹ دوںگا تُو جانتی نہیں مجھ کو ” وہ کہر آلود زبان سے گالم گلوچ کرتا گیا۔اور جھٹ اٹھا چارپائی کو پیر مارتا کھڑا ہوگیا۔
” تم ہوس کے مارے عورت کو بے پردہ ہی چاہتے ہو ارے تم کو کیا معلوم عورت کا حسن دوپٹہ ہے، افسوس کہ تم اس لطف سے انجان ہو” شبانہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نا ہوئی بلال پر اب خون سوار ہوگیا وہ اپنی پتلون ڈھیلا چھوڑ ابھی ایک قدم آگے ہوا شبانہ نے ہاتھ میں پکڑا تیز رفتار چاقو اس کی ناف کے نیچے چلادیا خون کا ایک فوارا چھوٹ گیا وہ دونوں ہاتھ اپنی ناف پر دبائے گالیاں بکتا سیڑھیاں اتر گیا۔ سامنے اللہ دتہ کو دیکھ کر اسکا گریبان پکڑ لیا۔
” کیمنہ کس قسم کا مال رکھا ہے دیکھ اس گندی نالی کی بچی نے میرا کیا حال کیا ہے اللہ دتہ میں تجھے چھوڑوگا نہیں کیس کروںگا کیس ؛ ” اللہ دتہ کے کاندھے سے کپڑا کھینچ کر بلال نے اپنی ناف کے نیچے باندھا اور اپنا وقار قائم رکھتے ٹھاٹ سے اللہ دتہ منزل سے نکل گیا ۔ اس کے جاتے ہی اللہ دتہ اوپر اٹاری کی طرف بڑھا ۔
” میں نے تم پر احسان پر کیا، تم کو مکان دیا ، اور تو حرام زادی
میرا دھندا بند کروائے گئ میرا ؟ ” اللہ دتہ نے جاتے ہی اس کے منہ پر تھپڑوں کی برسات کردی وہ کچھ نا بولی۔
” بول حرام کی پلی تیری اوقات ہے تو سیٹھ اللہ دتہ کا کام بند کرئے اس لڑکے پر چاقو چلادیا جنگلی کہیں کی” شبانہ کو بالوں سے پکڑ کر وہ نیچے لےآیا اور لاکر زمین پر مارا وہ پیٹھ کےبل گری۔ اللہ دتہ
گالیاں بکتا گیا وہ سنتئ گئی۔ پھر ہنس پڑی اتنا ہنسی کہ آنکھوں
سے آنسو جارئ ہوگئے۔
“کتنے ڈرتے ہو تم عورت سے، ہاں عورت بازاری ہو تو بس رنگ ریلیاں مناتے ہو، ہمبستری کرکے اپنی ناجائز نشانیاں چھوڑ جاتے ہو پر پھر اسی عورت سے اتنا خوف کھاتے ہو کیوں؟ کیوں کہ جو گھر چھوڑ کر آئے ہو اس کو تین بول میں خرید لیا وہ جائزہ تھی تو بدکار کیوں بنے؟ اور جو باہر کی ہے اس کو تین نوٹوں پر ؟ میں تمہاری بدکارئیوں کی شریک کیوں بنوں؟ بتاو اللہ دتہ تم کو اللہ وسائی کے مجرم ہو اتنے مجرم کہ وہ سیاہ رات میں نکلی اور سیاہ بخت کی حق دار ٹھہرائی گئی کیوں ؟؟ جانتے ہو ناں اللہ وسائی کو ؟؟
” افسوس کہ تیری مردانگی کا تعلق گوشت کے اس ایک لوتھڑے سے ہے۔ جس کا مالک بھی تو خود نہیں۔ بھول گیا اس شریف، عفیفہ اور پارسا خاتون مریم بنت عمران علیہا السلام کو؟۔ اُن کا بغیر کسی جنسی تعلّق کے حاملہ ہونا۔ اُن کو کسی مرد نے کبھی چُھوا تک نہ تھا۔ یہ اللہ کا بڑا معجزہ ہے۔۔ خوف کھاو اس وقت سے کہ جب میرا خدا یہ معجزہ عام کردے۔۔ تو کیا وقعت و اہمیت رہ جائےگی تیری اس مردانگی کی ؟؟ مجھے دیکھ میں عورت ہوں کومل، نازک پر اعضاء میں بھی تم سے برتری پر ہوں۔ میری ناف سے لےکر میری کوکھ تک کا سفر تجھ جیسے مرد نہیں جان سکتے، میری کوکھ میں جب سیپ بنے تو اس میں پلنے والے موتی کا رزق میری چھاتی میں رکھا ہے تو اور اس کا اجر بھی میرے قدموں میں رکھا ہے۔ بےشک وہ بے نیاز ہے” شبانہ کا ضبط جواب دے گیا تھا اللہ دتہ منہ پر ہاتھ رکھے دیوار کو تھام کر کھڑا ہوگیا۔ اس کی حالت کسی دم توڑتے انسان کی سی تھی آنکھیں تر پاؤں کانپ رہے تھے اور جسم میں لگی کپکپاہٹ نے ذیادہ دیر تک کھڑا نا رہنے دیا۔ حیرت و شرمندگی سے جھکی نظریں وہ شبانہ کو بس اک نگاہ دیکھ پایا پھر ہولے سے لب ہلے ۔
” تم اللہ وسائی کی __؟ ”
” ہاں میں اسی اللہ وسائی کی بد بخت اولاد ہوں؛ پر کمال ہے ناں
اللہ وسائی کو لوگوں نے وسنے نا دیا اور اللہ دتہ کو اللہ نے دیا اور اس کو آگے دینا نا آیا ؛ میں تو بخت سے جلی تھی پر تم ؟؟ اپنے نام کا پاس بھی نا رکھ پائے اماں کہتی تھی اس کو دو بالیاں اس کی ماں نے دی تو اکلوتا بھائی حصے میں ایک بالی مانگتا تھا جبکہ کے ہماری دو منزل کی عمارت اس کے نام تھی، میں نے بالیاں کانوں میں ڈال لی تو بھائی نے گھر سے نکال دیا ” شبانہ کے رونے سے ہچکی باندھ گئی تھی وہ زمین پر بیٹھی اپنے دوپٹہ کی کناری سے گانٹھ کھول رہئ تھی پھر باریک تار سی بالیاں نکال کر اللہ دتہ کی طرف اچھال دی۔ ” لے ایک تیرا حصہ دوسری سود سمت واپس کردی رکھ لے اب نا کہنا کہ اللہ وسائی تیرا حصہ کھاگئی ! میں تو اپنوں سے لٹٌی ہوئی لاش ہوں اور تم میری بولی لگارہے تھے؟؟ اللہ وسائی اندھیرے میں نکلی تھی میں روشنی میں جارہی ہوں خدا میرا بخت
بدلے میرے مقدر میں کوئی کوٹھا نا ہو ” شبانہ نے اپنا سامان اٹھایا، چپل سیدھی کی اور دہلیز پار کرگئی۔۔ وقت چار قسط آگے بڑھا اللہ دتہ اپنا ذہنی توازن کھو چکا تھا وہ دولت اب سڑک کنارے لگاکر اس کی کشتیاں بناکر جلادیتا۔ ایسا امیر انسان کہ جس سے فقیر بھی بھیک نہیں لیتے! جانم خاتون ایک رات ہارٹ اٹیک سے مر گئی نماز جنازہ تو دور کفر دفن بھی میسر ناں آیا اُسی کچی سُوتی ساڑھی میں زمین بوس کردی گئی۔ جانم منزل پر نوآموز طوائفیں گدی نشین ہوگئی اور جمالی محلہ خاموش تماشائی بنا ہر راز اپنی در و دیوار میں لیے نئے قصے کہانیوں کا منتظر ہے شاید کوئی شبانہ واپس آجائے!
وقت بولتا ہے پر ہم قاصر ہیں سمجھنے سے، مثل جھوٹ ہے کہ چور کا بیٹا چور ہوگا بدکار کا لڑکا بدکار ہوگا۔۔ مثل جھوٹ ہے کہ کھوٹھوں پر تبلیغ نہیں ہوا کرتی مثل جھوٹ ہے کہ عزتوں کا جنازہ باہر والے نکالتے۔۔ مثل جھوٹ ہےکہ یہاں خون کے رشتے محافظ ہوتے۔۔۔
ازقلم سماءچوہدری ۔۔۔۔۔
اجازت کے بنا کاپی پوسٹ کرنا چوری کے زمرے میں آئےگا۔اپنی رائے دینا مت بھولیں۔ چائیں تو شئیر کرسکتے ہیں۔شکریہ
 

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 15

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: