Aziat Nak Saza Horror Novel By Anwari Ramzan

0
اذیت ناک سزا از انوری رمضان ( مکمل خوفناک ناول )

–**–**–

جینا دشوار کر دیا ہے۔۔۔۔۔اتنی مشکلوں سے ابا سے اجازت لی تھی،رکاوٹ پر رکاوٹ،پہلے ابا اور اب یہ لفنگے…..اگر یہی چلتا رہا ناں تو تیرا تو پتہ نہیں پر میری جاب ضرور ختم ہو جائے گی۔؛
اللہ نہ کرے۔۔۔۔۔ہانیہ تجھے پتہ ہے ناں میری جاب تیری وجہ سے چل رہی ہے اور تو جانتی ہے کہ میرے گھر والے مجھ سے زیادہ تجھ پر بھروسا کرتے ہیں،میرے لیے نوکری بہت ضروری ہے۔”
پھر آج ان کو سبق سکھا کر رہوں گی کتنے دنوں سے برداشت کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔
ہر لڑکی سے تھپڑ کھاتے ہیں لیکن پھر بھی۔۔۔۔غیرت نام کی کوئی چیز نہیں ہے لڑکوں میں؛
ہانیہ غصے سے لال پیلی ہوئے جا رہی تھی۔
یہ بھی تو دیکھو کہ تمہارا گاوں کتنا ٹائٹ ہے۔۔۔۔۔
ایسے پردے کا کیا فائدہ جو صرف نام کا ہو۔۔۔۔اور ہاں ہانیہ اس راستے سے گزرنا ہماری مجبوری ہے ان لڑکوں کو تو کوئی اور ٹھکانہ مل جائے گا لیکن ہم نہ گھر کے رہیں گے نہ گھاٹ کے،میرے تو خیال میں خاموشی ہی اس کا واحد علاج ہے۔،حبہ حانیہ کو سمجھانے لگی لیکن ہانیہ کو تو سبق سکھانے کی پڑی تھی۔۔۔
یہ لو۔۔۔۔شیطان کا نام لیا شیطان حاضر؛
ہانیہ نے گلی کے نکڑ پر تین چار لڑکوں کو دیکھ کر کہا۔۔۔
GOOD MORNING MADAM
وہ لڑکے ہانیہ اور حبہ کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔۔۔
ایکچولی میڈم کل آپ کا یہ سو روپے کا نوٹ گر گیا تھا بس یہی واپس دینا تھا۔۔
ان لڑکوں میں سے ایک نے اپنی جیب سے سو کا نوٹ نکالا۔،
میری بات سنئیے۔۔۔۔ہم شریف عزت دار ہیں بہت مجبوری میں گھر سے نکلتے ہیں برائے مہربانی ہمارا راستہ چھوڑ دیں ورنہ۔۔۔۔۔،ہانیہ نے دھمکی والے انداز میں کہا۔
ورنہ؟؟؟
وہ لڑکے بیک وقت ایک ساتھ بولے،
ورنہ ایک زور دار تھپڑ ماروں گی اور عقل ٹھکانے آجائے گی ہانیہ نے ہاتھ کا اشارہ دیا۔
اچھا؟؟۔۔۔۔۔واہ۔۔۔۔۔۔۔بہت ہمت ہے؟؟؟
اس لڑکے نے ہانیہ کی آنکھوں میں گھورا اور پھر ہانیہ نے ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کر دیا۔
*
یا اللہ مدد کرنا۔۔۔۔۔؛ہانیہ بڑ بڑا کر بیٹھ گئی سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھایا اور غٹاغٹ پی گئی۔
ہانیہ۔۔۔۔ہانیہ۔۔۔۔۔کسی ان دیکھی طاقت کی سر گوشیاں سن کر ہانیہ کے منہ سے لگا گلاس چھوٹ گیا۔
ک۔۔۔۔ک۔۔۔۔۔کو۔۔۔۔۔کون۔۔۔۔۔۔ہے ہانیہ نے چہرے سے شرابور بالوں کو ہٹایا۔
وہی۔۔۔۔۔ہانیہ۔۔۔۔۔وہ شر گوشی اب قریب سے آرہی تھی۔
مجھے معاف کر دو۔۔۔۔۔۔ہانیہ ہاتھ جوڑ کر رونے لگی۔
آ۔۔۔۔۔۔زناٹے دار تھپڑ ہانیہ کے چہرے پر پڑا اور وہ بیڈ سے نیچے گر گئی اس کے گال سے خون رسنے لگا۔
ہانیہ بیٹا دروازہ کھولو،
ہانیہ کے ابا کمرے کا دروازہ زورزور سے پیٹنے لگے۔
ابا۔۔۔۔ابا کی آواز سن کر وہ بھاگ کر کنڈی کی طرف گئی۔
ابا۔۔۔۔باپ کے سینے سے لپٹ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
ہانیہ کیا ہوا۔۔۔۔۔۔کوئی خواب دیکھ لیا کیا۔۔۔۔؟؟؟؟
بیٹے ڈرو نہیں۔۔۔۔۔ابا ہانیہ کو تسلی دینے لگے۔
ابا جان آپ کو میرے گالوں سے رستا خون نہیں دکھائی دے رہا۔۔۔۔خواب میں ڈرنے سے کیا چوٹ لگ جاتی ہے۔
کون سا خون؟؟؟
ابا نے ہانیہ کے نرم صاف شفاف گالوں پر ہاتھ رکھا۔
*
GOOD MORNING MADAM
عینی نے اپنا بیگ ہانیہ کے پاس رکھا اور وہیں گھاس پر بیٹھ گئی۔
یہ گوڈ مارننگ مت بولا کرو۔۔۔۔تمہیں ایک بار سمجھ نہیں آتی:
اوکے یار۔۔۔۔کاٹ کھانے کو کیوں آرہی ہو عینی نے بیگ سے پیپسی کا ٹین پیک نکالا۔
ویسے۔۔۔۔میری نانی کہتی ہیں کہ آسیب کا اثر اور دل کا چور یعنی عشق چھپائے نہیں چھپتا،اب آسیب تو ہونے سے رہا تو سیکنڈ والی آپشن کا جواب دینا پسند کریں گی آپ؟؟؟
عینی نے ہانیہ کے چہرے کو گھورکر دیکھا۔
کیوں؟؟؟؟ جس پر آسیب ہو اس کے کیا سینگ نکل آتے ہیں؟؟؟
ہانیہ نے خلاء میں جھانکتے ہوئے کہا۔
ہاں۔۔۔۔۔۔سینگ تو نہیں بلکہ چہرا ضرور بگڑ جاتا ہے۔۔۔۔ہانیہ نے چونک کر عینی کو دیکھا جو پکوڑے کھانے میں مگن بولے جا رہی تھی۔
ارے۔۔۔۔سر عاصم کے لیکچر میں جسٹ دو منٹ رہ گئے ہیں چلو اٹھو پٹواو گی کیا؟۔۔۔۔۔عینی نے اپنا یونیفارم جھاڑا اور بیگ کندھے پر لٹکا کر چل پڑی۔
May i Coming Sir
عینی نے ڈرتے ڈرتے کلاس روم میں قدم رکھا۔
No
سر عاصم نے ایک نظر عینی پر ڈالی اور نفی میں سر ہلا دیا۔
سوری سر۔۔۔۔۔عینی التجاوں پر اتر آئی۔۔۔
NO….
آپ کو پتہ ہونا پاہئے کلاس کی ٹائمنگز کا۔۔۔۔۔”
سر عاصم نے اپنے کوٹ کا بٹن بند کیا۔
سر میں ہانیہ کو ڈھونڈنے چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔سر قسم سے پورا کالج گواہ ہے کہ یہ ایک پل یہاں ہوتی ہے تو دوسرے پل وہاں پلیز سر۔۔۔۔۔عینی کی جھوٹی قسم پر ہانیہ نے چونک کر دیکھا۔
اوکے بٹ لاسٹ ٹائم۔۔۔۔۔۔سر عاصم نے اپنی موٹی موٹی بھنووں کو سیکیڑا،سر عاصم اسلامیت کے پروفیسر تھے لیکن ان کو دیکھ کر یہ لگتا تھا جیسے وہ کسی فلم کے ہیرو ہیں۔
اونچے،لمبے،چوڑے سفید رنگت پر کالی فرہنگ والا نظر کا چشمہ اور اس چشمے کے پیچھے سبز بڑی بڑی آنکھیں۔
بالوں پر جیل لگانا وہ کبھی بھی نہ بھولتے تھے۔
پچھلے چار سال سے وہ موسٹ فیشن ایبل پروفیسر کا ایوارڈ جیتتے آرہے تھے۔
لیکن وہ پڑھائی کے معاملے میں بہت سخت تھے وقت کی پابندی نہ کرنے والوں سے سخت نفرت تھی ان کو۔”
حیاء۔۔۔۔۔سینہ تان کر لڑنے میں نہیں بلکہ نیچی نگاہوں میں ہوتی ہے”سر عاصم نے پنسل کو ہاتھ میں گماتے ہوئے کہا”
اور اگر کوئی لڑکا بدتمیزی کرے تو ؟ اس نازک حالات میں شرم و حیاء کو کیسے سنبھالا جائے؟
لاسٹ ڈیسک سے سوال ابھرا تو سر عاصم مسکرا دیئے۔
ثانیہ ہر فساد کی کوئی نہ کوئی جڑ ہوتی ہے۔۔۔۔
کوئی لڑکا بلاوجہ کسی لڑکی کو نہیں چھیڑتا،
اس کا مطلب ہے سر آپ ان لڑکوں کی حمایت کر رہے ہیں،لاسٹ ڈیسک کا سوال جوں کا توں تھا۔
ہرگز نہیں۔۔۔۔۔
فرض کریں جیسا آپ سوچتی ہیں اگر ویسی ہی ذہنیت میری بھی ہو تو ہم دونوں میں معاملات بڑھیں گے بالکل ایسے ہی گلی کوچوں میں پھرنے والے لڑکے صرف انہی کی طرف اٹریکٹ ہوتے ہیں جن میں انہیں اٹریکشن ملتی ہے۔
پر سر گاوں اور حجاب کرنے والی لڑکیوں میں کیسی اٹریکشن؟
اب کی بار عینی کی طرف سے سوال آیا۔
اس سوال کا جواب تو آپ کو خود دینا چاہئے۔۔۔۔
آج کل پردے کو اسلام سے زیادہ فیشن کے اصولوں پر چلایا جا رہا ہے۔۔۔۔ایسے پردے کا کیا فائدہ جو صرف نام کا ہو۔
ہانیہ جو کب سے زمین کو تکے جا رہی تھی سر عاصم کو چونک کر دیکھا۔
خواتین فیشن کی نمائش کو پردہ کہتی ہیں اور جب ان کی نمائشی پروگرام سے کوئی اٹریکٹ ہوتا ہے تب وہ حیاء کی بات کرتی ہیں۔
بڑی سفاکی سے وہ اپنا لباس نظر انداز کر دیتی ہیں۔۔۔۔۔کلاس کا ٹائم ختم ہو رہا ہے اس نازک اور سنجیدہ ٹاپک کو کل پھر ڈسکس کریں گے۔
سر عاصم نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر دوڑائی۔
سر۔۔۔۔۔ساری لڑکیاں کلاس سے جانے لگیں تب ہانیہ آگے بڑھ کر بولی۔
جی بولیئے”
سر مجھے کچھ پوچھنا ہے ہانیہ نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے کہا۔جس کے جواب میں سر عاصم ہانیہ کی طرف ہاتھ باندھ کر رک گئے۔
کچھ نہیں سر۔۔۔۔ہانیہ نے بیگ کندھے پر لٹکایا اور عینی کے ساتھ چل پڑی۔
سر عاصم سمجھ گئے تھے کہ وہ عینی کی موجودگی سے مطمئن نہیں تھی۔
کالج کی چھٹی ہوتے ہی لڑکیاں اپنے اپنے گھروں کو ہو لیں۔
♡_☆_☆_☆_☆_☆_♡
آج ابا جان کسی ضروری کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے تھے اس لیے ہانیہ ٹیکسی یا رکشہ کے انتظار میں گیٹ کے پاس ہی کھڑی ہو گئی۔
ہانیہ کیا ہوا؟۔۔۔۔آپ ایسے کیوں کھڑی ہیں ایک بلیک کار ہانیہ کے پاس رکی اور اس میں سے سر عاصم Ray Bon کی عینک لگائے ہوئے نکلے۔
سر میں رکشے کا ویٹ کر رہی ہوں آج ابا نہیں آئے لینے؛
اوکے۔۔۔۔آئیں میں آپ کو چھوڑ دوں،
انہیوں نے گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔ہانیہ بھی نہ چاہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی۔ساتھ ہی اپنا ایڈریس سمجھانے لگی۔
آپ کچھ کہنا چاہتی تھیں۔۔۔۔سر عاصم نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے پوچھا۔
سر اگر کوئی شخص اپنی غلطی کسی دوسرے پر ڈالے اور بعد میں اس کو احساس ہو جائے تو وہ اپنی غلطی کا کفارہ کیسے ادا کرے ہانیہ نے خلاء میں گھورتے ہوئے کہا۔
ڈائریکٹلی یا ان ڈائریکٹلی اس سے معافی مانگی جائے اور سب کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے۔
پر اگر وہ مر گیا ہو تو؟
ہانیہ نے سر عاصم کی طرف دیکھ کر پوچھا اور سر عاصم نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
ارے ٹریفک جام۔۔۔۔اف چلیں میں شارٹ کٹ سے لے جاتا ہوں۔۔۔۔”
سر عاصم نے سڑک پر لگی گاڑیوں کی قطار دیکھ کر گاڑی کو یوٹرن دیا اور تنگ تنگ گلیاں پار کرنے لگے گاڑی بہت مشکل سے چل رہی تھی۔
سڑک بہت خراب ہے لگتا ہے ٹائر بدلنا پڑے گا۔
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تو سر عاصم نے کھڑکی سے باہر جھانک کر ٹائر کا جائزہ لیا۔۔
ہانیہ آپ گاڑی میں بیٹھیئے گا میں کہیں سے پانی لے کر آتا ہوں سر عاصم نے گاڑی سے موبائل فون نکال کر جیب میں رکھا اور پانی کی تلاش میں نکل پڑے۔
☆_☆_☆
ہانیہ ۔۔۔۔باہر آو۔۔۔۔۔وہی نادیدہ سر گوشیاں پھر سے سنائی دیں۔
ہانیہ نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا۔۔۔وہ اپنے بچاو کے غرض سے گاڑی سے باہر نکل۔
یہ۔۔۔۔یہ تو۔۔۔۔۔یہ تو وہی جگہ ہے۔۔۔۔۔۔میں اس محلے میں کیسے آئی۔ہانیہ نے تھوک نگلتے ہوئے سوچا۔
GOOD MORNING MADAM
آپ کا سو روپے کا نوٹ گر گیا تھا۔۔۔۔۔ہمت ہے۔۔۔۔۔۔
ملی جلی آوازیں ہانیہ کا دماغ پھاڑ رہیں تھی۔ہانیہ نے سر پٹ دوڑ لگادی،
لیکن حیرت کے مارے اس کی آنکھیں پتھرا گئیں اتنا دوڑنے کے باوجود آخر میں وہ اسی نکڑ پر رکتی جہاں سے وہ بھاگ رہی تھی۔
ہانیہ اس سیڑھیوں پر بیٹھ گئی جہاں ان لڑکوں کا ٹولا بیٹھا کرتا تھا ہانیہ نے کھینچ کر اپنا دوپٹہ زمین پر پھینکا اور دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لیے۔
☆_☆_☆_☆_☆
اس تھپڑ کا بدلہ تو میں تم سے لے کر رہوں گا۔۔۔۔۔
ایسی موت آئے گی تمہیں جو تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔
ہانیہ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔۔تمہاری اذیت کے آگے ہر اذیت پھیکی پڑ جائے گی۔۔۔۔۔خدا کی لاٹھی بے آواز ہے ہانیہ۔۔۔۔دردناک موت مرو گی تم۔۔۔۔تم دنیا کے سامنے تماشابنوں گی ویسے ہی جیسے تم نے مجھے بنایا۔۔۔۔۔وہ آوازیں ہانیہ کی جان نکال رہی تھیں آتے جاتے لوگ اسے پاگل سمجھ کر نظر انداز کرنے لگے اور کچھ اس کی ویڈیو بنانے لگے،
ہانیہ اپنے کان نوچنے لگی وہ اپنے ناخنوں سے اپنے کانوں کو جیسے اکھاڑنے لگی۔
وہ ان آوازوں سے دور جانا چاہتی تھی۔۔۔ہانیہ کے بال ٹوٹ کر اس کے ناخنوں میں پھنستے گئے وہ بری طرح سے نڈھال ہو گئی تھی اس کا چہرہ خون میں لت پت تھا۔
ہانیہ کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔۔۔ہانیہ ہوش کرو۔۔۔۔۔
سر عاصم نے ہانیہ کو دیکھا تو دوڑ کر اس کے پاس آئے بمشکل اسے کار میں بٹھایا اور اسپتال کی طرف گاڑی دوڑادی۔
ایسے لگتا ہے کہ بہت سے لوگوں نے مل کر اس کو زدوکوب کیا ہو اس کی حالت غیر ہے اگر تھوڑی دیر ہو جاتی تو شاید اس کے کانوں کے پردے پھٹ سکتے تھے ڈاکڑ عدنان نے کہا۔۔۔۔
یار عدنان میں تو خود پریشان ہوں’
عاصم یہ ٹوٹلی پولیس کیس ہے تم بچ کر رہنا اس کی حالت سے مجھے خوف آگیا تھا اس کے ناخنوں میں اس کے کانوں کا گوشت اڑسا ہوا ہے بہت ہی دردناک کنڈیشن ہے۔
ہوں۔۔۔۔۔’
عاصم کہیں یہ لڑکی ۔۔۔۔’ عدنان اٹھ کر عاصم کے پاس بیٹھ گیا بات ادھوری رہ گئی،
اچھا میں اس سے مل کر آتا ہوں۔۔۔۔’ عاصم نے کرسی کھسکائی اور باہر چلا گیا۔
زخم بہت گہرا ہے ۔۔۔۔ ڈاکڑ نے کہا ہے کہ آپ کو کم سے کم ایک ہفتے کا ریسٹ کرنا چاہئے آپ فکر نہ کریں میں کالج سے آپ کی چھٹیاں لے دوں گا آپ کو شام تک ڈسچارج کیا جائے گا۔۔۔۔۔’سر عاصم نے جواب کے لیے ہانیہ کی طرف دیکھا مگر وہ تو نجانے کب سے چھت کو تکے جارہی تھی۔
☆_☆_☆_☆_☆
صلہ آپ کا بھائی آج ایک لڑکی کو اسپتال لایا تھا۔۔۔کہہ رہا تھا عدنان اس کو جلدی ٹھیک کرو۔۔۔۔میں نے اس نکاح کرنا ہے۔۔۔۔عدنان نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور عاصم کی طرف دیکھا جو پانی ناک میں جانے کی وجہ سے کھانسے جا رہا تھا۔
اچھا اتنی جلدی ہے شادی کی ۔۔۔۔ عاصم اگر اتنی ہی جلدی تھی تو آج آتے ہوئے اسے بھی لے آنا تھا اپنی دلہن بنا کے صلہ نے چائے کے کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
آپی عدنان مزاق کر رہا ہے۔۔۔۔’ عاصم نے عدنان کو کہنی ماری۔۔
مجھے ہانیہ اچھی لگتی ہے پر ابھی شادی کا سوچا بھی نہیں عاصم صلہ کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگا۔
تو پھر کرو اس سے شادی کی بات تاکہ میں تیاری اسٹارٹ کروں۔۔۔صلہ نے چائے کا گھونٹ بھرا۔
اوکے۔۔۔امن چلو آئس کریم کھانے چلتے ہیں عاصم نے امن کو گود میں اٹھا لیا۔
ہاں ہاں اب تو آئے گا لاڈ بھانجی پر۔۔۔۔بھانجی کی ماما نے تیرے دل کی بات جو کردی ہے عدنان نے عاصم کو ایک بار پھر چھیڑا جس کے جواب میں عاصم نے صوفے پر پڑا کشن عدنان پر اچھالا۔
☆_☆_☆_☆_☆
ہانیہ۔۔۔۔اٹھو۔۔۔۔۔سر گوشی سے ہانیہ اٹھ بیٹھی پورے کمرے میں اندھیرا تھا شاید بجلی والوں کی بہتر کارکردگی کی مہربانی کہ لائٹ چلی گئی تھی۔
ہانیہ نے بالوں کو کیچر میں قید کیا اور سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ مارنے لگی وہ اپنا موبائل فون تلاش کر رہی تھی ہاتھ مارتے مارتے پٹخ کی آواز آئی شاید موبائل فون نیچے گر گیا تھا وہ بیڈ پر بیٹھی بیٹھی نیچے کی طرف جھکی۔
آ۔۔۔آ۔۔۔۔آ۔۔۔۔بیڈ کے نیچے سفید کفن میں لپٹی شانوں پر کالے ساہ بال بکھرائے وہ لال لال آنکھوں سے ہانیہ کو ہی دیکھ رہی تھی۔
ہانیہ نے جیسے ہی اسے دیکھا اس کی چیخ نکل گئی ہانیہ کے چیختے ہی وہ فورا غائب ہو گئی۔
ہانیہ نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں تو کمرے میں مکمل سناٹا تھا۔
اچانک اسے کنڈی کی آواز آئی جیسے کسی نے کنڈی لگائی ہو وہ چاروں طرف آنکھیں پھاڑے دیکھنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
ہانیہ۔۔۔۔اس سر گوشی کے ساتھ کفن میں لپٹی وہ لڑکی پھر نمودار ہوئی حیرت کی بات تو یہ تھی کہ کمرے میں اندھیرا ہونے کے باوجود وہ بالکل صاف دکھائی دے رہی تھی۔
مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔میں مجبور تھی۔۔۔۔مجھے چھوڑ دو ہانیہ رونے لگی اس لڑکی نے اپنے بازو لمبے کیے اور ہانیہ کے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر باندھ دیئے بیڈ کے نیچے سے ایک زنجیر نکلی اور ہانیہ کے پیروں سے لپٹ گئی۔
مارنا چاہتی ہو مجھے۔۔۔۔مارو میں بھی مرنا چاہتی ہوں نکلنا چاہتی ہوں اس اذیت سے۔۔۔۔مارو مجھے مارو۔۔۔۔ہانیہ چیخ چیخ کر اس لڑکی سے کہہ رہی رہی تھی جبکہ وہ لڑکی سرخ انگارہ آنکھوں سے ہانیہ کو گھور رہی تھی۔
اس کے کالے بال ہوا کے دوش پر الجھ گئے تھے کھڑکیاں اور دروازے بند ہونے کے باوجود کمرے میں طوفان سا آگیا۔
اچانک بہت ساری تیز دھار والی چھریاں اڑکر ہانیہ کے جسم میں پیوست ہو گئیں اور وہ پتھرائی آنکھوں کے ساتھ بیڈ پر اوندے منہ گری پڑی تھی پورے کمرے میں خون کی جیسے ندی بہہ گئی۔
☆_☆_☆_☆_☆
عینی یہ ہانیہ کی چھٹی کی درخواست ہے میں نے سائن کر دیئے ہیں آپ ہانیہ کے باقی ٹیچر سے بھی سائن کروالینا،
عینی اسٹاف روم میں داخل ہوئی تو سر عاصم نے ایک پیپر عینی کو تھما دیا۔
لیکن سر ہانیہ تو کالج آئی ہوئی ہے ان فیکٹ وہ میرے ساتھ آئی ہے اسٹاف روم سے باہر کھڑی ہے،
میں بلا کر لاوں ؟
عینی سر عاصم کو حیرتوں کے سمندر میں چھوڑ کر ہانیہ کو بلانے چلی گئی۔
اسلام عیلکم۔۔۔۔سر۔۔۔۔ہانیہ کی آواز پر سر عاصم نے نظر اٹھا کر ہانیہ کو دیکھا تو حیرت سے منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ہانیہ نے موٹے موٹے بھاری سے جھمکے کانوں میں لٹکائے ہوئے تھے۔
اس کے کانوں کی حالت بالکل ٹھیک تھی وہ بڑے آرام سے جھمکے ہلا ہلا کر بول رہی تھی۔
☆_☆_☆_☆_☆_☆
سر عاصم نے کچھ سوچتے ہوئے گاڑی ڈیفنس کی طرف دوڑادی۔
اسلام علیکم ۔۔۔۔۔۔فالیٹ کا دروازہ ہانیہ نے کھولا تو سر عاصم نے سلام کیا۔
سر آپ میرے گھر پر۔۔۔۔۔۔اندر آئیں سر ہانیہ نے اندر کی طرف اشارہ دیا۔
آج آپ ہاف ڈے لے آئی تھیں اس لیے سوچا کہ آپ سے مل آوں۔
جی سر اصل میں ابا اسپتال میں داخل ہیں وہ شہر سے باہر گئے تھے وہیں انہیں دل کا دورہ پڑا رشتے داروں کے ہاں رکے ہوئے ہیں اس لیے کالج میں میری طبیعت خراب ہو گئی۔۔”
اللہ پاک ان کو صحت دے،میں ایک اور سلسلے میں بھی آیا تھا آپ کے ابا یہاں ہوتے تو زیادہ اچھا تھا،
دیکھئے ہانیہ میں ایک اسریٹ فارورڈ انسان ہوں اس لیے برا مت منائیے گا۔۔۔۔ہانیہ ول یو میری می؟؟
سر عاصم رک رک کر بولے اور ہانیہ نے بے یقینی سے سر عاصم کو دیکھا۔
ہانیہ میں جانتا ہوں کہ آپ شاکڈ ہوں گی بٹ یہ سچ ہے۔۔۔۔میں،میری بہن صلہ،میری بھانجی امن اور بہنوئی عدنان جو آپ سے اسپتال میں ملا تھا ڈاکڑ عدنان ہم سب ایک ہی گھر میں رہتے ہیں عدنان کے گھر والے لندن شفٹ ہو چکے ہیں میرے والدین بچپن میں ہی گزر گئے تھے آپ اپنے بارے میں بتائے۔
جی میں اور ابا اس گھر میں رہتے ہیں اور۔۔ہانیہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔
اور۔۔۔؟؟
عاصم نے ہانیہ کہ آنکھوں میں جھانکا۔
کچھ نہیں۔۔۔۔۔”
*
بیٹا ایک نہ ایک دن تو ہانیہ کو بیاہنا تھا،بس مجھے تو حیرانگی ہوئی کہ آپ اچانک سے ایسے ۔۔۔۔۔ابا نے چائے کی چسکی بھرتے ہوئے کہا۔
انکل اب ان میڑ کو چھوڑیں اور شادی کی تاریخ پکی کریں امی ابو کے جانے کے بعد عاصم کا سب سے بڑا رشتہ میرے ساتھ ہے میں چاہتی ہوں کہ جلد از جلد میرا بھائی اپنا گھر بسا لے،صلہ نے عاصم کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
جی بالکل آپ جانتی ہیں اس ایک انسان نے میری زندگی اجیرن کر دی ہے بیوی کا تو نام بدنام ہے اصل میں فساد کی جڑ تو یہ سالے ہوتے ہیں،
عدنان نے نہایت رازداری سے ہانیہ کے کان میں کہا۔
چلے جاو یہاں سے۔۔۔۔ہانیہ نے عدنان کی گردن کو بڑے آرام سے اپنے ہاتھ میں قید کر دی۔
ہانیہ واٹس رونگ ودیو۔۔۔۔ہانیہ ہوش کرو۔۔۔۔ہانیہ کی غیرارادی حرکات دیکھ کر سبھی گھبرا گئے۔
اچانک ہانیہ کی دھڑکنیں اتنی تیز ہو گئی کہ کمرہ دھک دھک کی آوازوں سے گونجنے لگا ہانیہ کے بال شانوں پر بکھیر کر ہوا میں لہرانے لگے۔
چلے جاو میں بدروح نہیں ہوں تم معصوم ہو۔۔۔۔مگر یہ معصوم نہیں ہے تم پچھتاو گے چھوڑ دو اسے اسے جاو۔۔۔۔ہانیہ منہ پھاڑ پھاڑ کر بول رہی تھی ہانیہ کی آواز میں عجیب سا بدلاو تھا۔
بیوقوف مت بنو۔۔۔۔ارے یار آج تو ist Aprill ہے نا ہانیہ فول بنا رہی ہے سب کو۔۔۔۔عاصم سب کو مطمئن کرنے لگا۔
میں ہانیہ نہیں حبہ ہوں۔۔۔۔اب بتاتی ہوں۔۔۔۔۔
ہانیہ نے امن کو ہوا میں اچھال دیا وہ کسی روئی کے گالوں کی طرح اڑتی ہوئی دیوار سے ٹکرا کر بےہوش ہو گئی۔
امن۔۔۔امن۔۔۔سبھی بھاگ کر امن کے پاس گئے،
عاصم نے امن کو پانی کے چھینٹے دیئے امن کے سر سے خون بہنے لگا۔
عاصم غصے سے دانت پیستے ہوئے اٹھا اور ہانیہ کا بازو پکڑ کر گھسیٹتا ہوا گاڑی میں لے گیا عاصم نے گاڑی اسٹارٹ کی اور اندھا دھند ڈرائیور کرتا ہوا قبرستان کے پاس جا کر رکا۔
بہت شوق ہے تمہیں ڈرانے کا۔۔۔۔چلو ڈراو اب،قبرستان میں تو روحیں آزاد پھرتی ہیں ناں تو اب تمہیں بھی آزاد کیا،
ڈراو اب۔۔۔۔۔عاصم نے ہانیہ کو ایک قبر کی طرف دھکیلا۔
اب ساری رات یہیں سڑنا ان قبروں کو ڈرانا۔
عاصم نے گاڑی کی چابی لگائی اور گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
عاصم سر۔۔۔۔عاصم کو اپنے عقب سے آواز آئی تو اس نے گھبرا کر پیچھے دیکھا بیک سیٹ پر ہانیہ بڑے آرام سے بیٹھی مسکرا رہی تھی عاصم جلدی سے گاڑی سے اترا اور الٹے پاوں دوڑ لگادی وہ کسی چیز سے ٹکرایا اور اوندھے منہ ایک قبر پر گرا۔
حبہ ولد ریاض قبر کے کتبہ پر حبہ کا نام پڑھ کر عاصم کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے،
عاصم ہمت کر کے کھڑا ہوا تو ہوا میں ہانیہ کو پایا وہ عاصم کو ہی دیکھ رہی تھی اب عاصم کو یقین ہو گیا کہ ہانیہ پراثرات ہیں۔
کون ہو تم؟
ہانیہ کے پیچھے کیوں پڑی ہو؟
کیا ہانیہ نے تمہارا کچھ بگاڑا ہے؟
عاصم کے پیچھے سے نہایت نورانی آواز آئی تو عاصم نے مڑ کر دیکھا تو ایک سفید داڑھی والے بزرگ کھڑے تھے انہوں نے ہاتھ میں لمبی سی تسبیح پکڑی ہوئی تھی جس کے دانے بات کرتے ہوئے بھی آگے آگے سرک رہے تھے وہ سبز چولا پہنے عاصم کے پاس ہی آکر کھڑے ہو گئے۔
بابا تو چلا جا۔۔۔۔۔میں اس لڑکی کو ختم کر دونگی تو بیچ میں نہ پڑ، ہانیہ ہوا میں لہراتی ہوئی بول رہی تھی۔
میں پہچان گیا ہوں۔۔۔۔تیری خوشبو بتاتی ہے کہ تو نے ابھی تک خون نہیں پیا تو نیک ہے تجھے تیرے رب کا واسطہ دیتا ہوں بتا کیا ہے تیرا انتقام بزرگ کی آواز میں بہت نرمی تھی۔۔
ہانیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے پر شاید وہ ہانیہ کے نہیں بلکہ حبہ کے آنسو تھے حبہ نے بولنا شروع کیا۔
میں اور ہانیہ ایک سکول میں جاب کرتے تھے میرے گھر کے حالات فاقہ انگیز تھے اس لیے مجبورا مجھے گھر سے نکلنا پڑا،
میری قریبی سہیلی اور ہمسائی ہانیہ نے بھی اسی اسکول میں جاب شروع کر دی جاب شروع کیے ہوئے کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ گلی کے نکڑ پر بیٹھنے والے لڑکوں نے ہمیں چھیڑنا شروع کر دیا ہانیہ غصے کی تیز تھی ایک دن غصے میں آ کر ہانیہ نے ان میں سے ایک لڑکے کو تھپڑ مار دیا۔
وہ لڑکا امیر باپ کا تھا اپنے تھپڑ کا بدلہ لینے کے لیے اس نے ہانیہ کو خط لکھا کہ وہ بہت جلد اپنے تھپڑ کا بدلہ لے کر رہے گا۔
ہانیہ نے مجھے نہیں بتایا اگلے دن جب میں ہانیہ کو اسکول کے لیے بلانے گئی تو ہانیہ نے بہانے سے اپنے گاون پر چائے گرا دی اور پھر ضد کرنے لگی کہ وہ آج چھٹی کرے گی میں نے اسے اسکول جانے کے لیے منایا یہ کہہ کر وہ میرا گاون پہن لے جوکہ ڈھیلا تھا اور اس کا گاون خود میں نے پہن لیا جو بےانتہا ٹائٹ تھا میں جانتی تھی کہ اب لڑکوں نے ہانیہ کو گاون سے پہچان لیں گے۔
جب اسکول سے چھٹی ہوئی تو ان لڑکوں نے مجھے ہانیہ سمجھ کر اغواء کر لیا بعد میں جب انہیں پتا چلا کہ میں ہانیہ نہیں بلکہ حبہ ہوں تو انہوں نے مجھے پولیس کے حوالے کر دیا کہ میں جان بوجھ کر اغواء ہوئی تھی سب سے بڑھ کر ان لڑکوں نے ہانیہ کو پیسے کا لالچ دیا کہ عدالت میں میرے خلاف گواہی دے تو ہانیہ نے عدالت میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی گواہی دی،
میں نے اسی رات اپنے آپ کو خنجر مار کر خودکشی کر لی لیکن ہانیہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بھی تماشہ بنے گی میرے گھر والے ہانیہ کی وجہ سے موت کی آغوش میں گئے وہ صدمہ برداشت نہ کر سکے،
بابا آپ بتاو کہ میں اس کو کیسے چھوڑ دوں اپنا حساب معاف کر بھی دوں تو اس کی جھوٹی گواہی کا حساب تو معافی کے قابل نہیں ہے نا۔۔۔۔۔حبہ کی آواز میں دردناکی صاف جھلک رہی تھی۔۔”
بیٹا اس کو معاف کر دو۔۔۔۔۔بزرگ نے حبہ سے التجا کی۔
حبہ نے ہانیہ کا جسم چھوڑا اور ہانیہ دھڑام سے نیچے گری حبہ کی روح ابھی بھی ہوا میں کھڑی تھی،
حبہ کی روح ایک سفید روشنی پر مشتمل تھی وہ روشنی ہانیہ کو اٹھا کر پھر سے ہوا میں پھرانے لگی،
حبہ نے ہانیہ کو ایک بار پھر زمین پر پٹخا،
اب ہانیہ ہوش میں آ چکی تھی لیکن ہانیہ کی ریڑھ کی ہڈی بری طرح متاثر ہو چکی تھی۔
حبہ مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔۔مجھے جانے دو۔۔۔۔۔مجھے چھوڑ دو حبہ۔۔۔۔۔میں تمہیں خدا کا واسطہ دیتی ہوں مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔۔ہانیہ زمین پر لیٹے حبہ سے معافیاں مانگنے لگی۔
کر دیا معاف تمہیں ۔۔۔۔جاو۔۔۔۔مگر میں ہمیشہ تمہارے دماغ پر سوار رہوں گی تمہیں کبھی چھوڑوں گی نہیں۔
تمہارا دماغ گھن کی طرح چاٹ جاوں گی۔
حبہ کی روح ہانیہ کے بالکل سامنے بیٹھ گئی،
حبہ کی نظر عاصم اور بزرگ پر پڑی جو حبہ کی قبر پر فاتحہ پڑھ رہے تھے،
وہ مسکرائی اور آسمان کی طرف پرواز کر گئی۔
*
ہانیہ۔۔۔۔نادیدہ سرگوشیاں ہانیہ کو آنکھیں بند کرنے پر مجبور کرنے لگیں وہ کسی بچے کی طرح رونے لگی۔
ابا مجھے چھوڑ کر مت جاو حبہ آئے گی اس نے مجھے کہا تھا وہ آ گئی ہے۔۔۔۔وہ۔۔۔۔دیکھو ابا وہ دیوار پر حبہ کھڑی ہے؛
ہانیہ آنکھیں بند کیے اپنے آپ سے باتیں کرنے لگی،
ریڈھ کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے وہ زندگی بھر کے لیے بے کار ہوگئی ہے وہ بس لیٹی رہے گی۔
کھڑکی سے باہر کھڑے عاصم نے بزرگ کو بتایا۔
میں جانتا تھا ایسا ہی ہو گا یہ اذیت یہ خوف ہانیہ کو نہ جینے دے گا اور نہ مرنے دے گا،
اچھا عاصم بیٹا میں چلتا ہوں شام ہونے والی ہے اور مجھے عبادت کرنی ہے وہاں جا کر۔۔۔۔۔۔بزرگ نے عاصم سے اجازت لی اور چلے گئے۔
کاش تم وہ سب نہ کرتیں۔۔۔۔۔کاش! عاصم نے سرد آہ بھری اور اپنی کار کی طرف چلا گیا۔
ابا جی ۔۔۔۔ حبہ آ گئی ہے۔۔۔۔۔وہ مار ڈالے گی،
میں نے اسے دھوکہ دیا تھا وہ مجھے مارنے آ گئی ہے۔۔۔۔۔
بچاو مجھے۔۔۔۔۔کوئی تو بچائے ہانیہ کا فلیٹ اس کی چیخوں سے گونجنے لگا۔
–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: