Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 10

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 10

–**–**–

گزری رات میں پھوار ڈالنے کی وجہ سے آج موسم بہت خوشگوار تھا… ٹھنڈی ہوائیں اور گہرے بادل.. موسم کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرہے تھے. اس کی بیک سائیڈ پے بنی سیشے کی وال نظروں کو بھا دینے والے منظر پیش کر رہی تھی. اور وہ اس منظر میں بڑی خوش دلی سے ڈوبی ہوئی تھی. آخر کار سب ٹھیک ہو ہی گیا تھا سب کی زندگی معمول پے آگئی تھی… سواے اریزے کی.. وہ اپنے اور عثمان کی آخری ملاقات کے بارے میں سوچنے لگی تھی.. کتنے دن ہو گئے تھے وہ دوبار نہیں آیا تھا یہ تو وہ جانتی تھی کہ وہ آفس کم ہی آتا ہے ماسواے میٹنگ کے ورنہ سارا کام عمیر ہی دیکھتا تھا. لیکن پھر بھی انجانے میں وہ اس کا انتیظار کرنے لگی تھی. وہ اپنی سوچوں میں گم تھی. جب گلاس ڈورکھولنے کی آواز آئ. خلاف تواقع عمیر کی جگہ عثمان تھا. اریزے کو اپنی آنکھوں پے یقین نہیں آیا تھا، کیا اتنے دل سے اس نے یاد کیا تھا کہ وہ اس کے سامنے کھڑا کر دیا گیا تھا. کیوں کے ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ عثمان صبح میں آے تو پھر آج کیسے… لیکن عثمان کا سپاٹ چہرہ دیکھ کر اریزے کچھ پوچھ نہیں سکی. اس نے بھر پور مگر محتاط نظر اس کے چہرے پی ڈالی جہاں حد درجہ سنجیدگی چھائی ہوئی تھی.
اسلام و علیکم سر… اس نے پاس سے گزارتے عثمان کو سرسری سے لہجے میں سلام کیا.. وہ نہں چاہتی تھی کے پچھلی بار کی طرح پھر کوئی بدمزگی ہو… آخر وہ اس کا باس تھا اور ہر ایمپلائی کی طرح وہ بھی چاہتی تھی کا وہ اپنا اچھا امپیریشن دے سکے جس میں وہ اب تک نہ کامیاب تھی…
وعلیکم اسلام…. مس اریزے میں کسی سے بھی ملنا نہں چاہتا… تو پلیز کوشش کریں کہ مجھے ڈسٹرب نہ کریں… وہ اس کی طرف دیکھے بغیر اپنی بات کہتا روم میں گھس گیا تھا.
اس کا موڈ ٹھیک نہیں ہے یہ اندازہ تو اریزے پہلے ہی لگا چکی تھی پر اتنا خراب ہے یہ اندازہ اسے اس کے جملے سے سے ہوا تھا بہرحال جو بھی ہے وہ اس کا باس ہے اور اس کی بات مانا اریزے کا فرض.
…………………………………
یہ یوسف کہاں رہ گیا ؟؟ رانیہ نے اندر آتے عمر کو پوچھا..
نیچے ہے… عمر اس کی برابر والی کرسی پے تھا تھا..
کیا مطلب نیچے ہے… سر مستنصر کلاس میں آگے ہیں اور تم جانتے ہو وقت کے کتنے پابند ہیں وہ ٹائم پے کلاس میں نہیں آیا تو وہ اسے بعد میں نہیں آنے دیں گئے… یوسف کی حرکتوں نے رانیہ کو چڑا دیا تھا پچھلے ایک ہفتے سے یہی ہو رہا تھا وہ اپنی پہلی کلاس مس کر دیتا تھا. آج کل اس کے انداز ہی بدلے بدلے سے تھے… اور اب رانیہ کے لئے اس کے انداز کو برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا کیوں کے وہ یوسف کو خود سے دور جاتا دیکھ رہی تھی اور یہ بات کسی طور بھی اس کو قبول نہیں تھی.
یار….. رانیہ تم جانتی ہو اس کو.. پھر بھی مجھے پوچھ رہی ہو اور اتنی پریشانی ہے تم کو تو خود کیوں نہں چلی جاتی اس کو بولانے تمہارا تو وہ بچپن کا دوست ہے نہ. عمر اس کی بات پے چڑ گیا تھا.. پتا نہیں کیا تھا پر رانیہ جب بھی یوسف یوسف کرتی وہ ہمیشہ چڑ جاتا تھا.
………………………………….
یوسف ڈیپارٹمنٹ میں تو موجود تھا پر بہت بلانے پر بھی وہ اپنی کلاس میں نہں گیا تھا. اور پچھلے کچھ دنوں سے یہ اس کا معمول بن گیا تھا… وہ روز صبح یونیورسٹی آتا اور پھر اوپر کلاسز کو جانے والی سیڑھیوں میں بیٹھ جاتا… سب لوگ اس کی حرکت کو نوٹ کر رہے تھے. کیوں کے وہ ایڈوینچر پسند کرتا تھا، شرارتی ضرور تھا لیکن پڑھائی کے ،معملے میں لاپرواہ کبھی نہں تھا.. اور یہی بات تو تمام ٹیچرس کو اس کی پسند تھی. لیکن اس کا یہ انداز سب کے لئے نیا تھا. شروع میں سب کو لگا کے کوئی نیا ایڈوینچر ہے لیکن اب بات ہاتھ سے نکلتی جا رہی تھی، پر وہ بھی اپنے نام کا یوسف ہے اسے کب سے دنیا کی فکر ہونے لگی.. ابھی بھی وہ وہیں بیٹھا تھا، جب محسن اس کے پاس آیا.
کیا مثلا ہے تمہارے ساتھ… محسن اس کے ساتھ بیٹھتا ہوا بولا..
وہ آج بھی نہیں آئ… ایک ہفتہ ہو گیا ہے.. اب تک تو وہ ٹھیک ہو گئی ہو گی، تو پھر وہ کیوں نہیں آرہی، کیا وہ اتنا ڈر گئی ہے… یوسف نے سر جھکا لیا تھا وہ کسی ٹرانس میں بولے جا رہا تھا…
تو پاگل ہو گیا ہے کیا.. یہ ہمارا فائنل سیمسٹر ہے اور اس وقت جب تجھے اپنی اسٹیڈی کے بارے میں سوچنا چاہیے تو کن چکروں میں پڑ رہا ہے… محسن کو شوک لگا تھا… یہ وہی یوسف ہے جو کبھی اسٹیڈی پی کمپرومائز نہں کرتا تھا اور آج ایسے یہاں بیٹھا تھا جیسے ساری دنیا ختم ہو گئی ہے اور اس کے پاسس صرف ایک ہی کام ہے شانزے کا انتیظار کرنا..وہ یوسف کے جذبات سے واقف تھا پر وہ اتنا آگے نکل گیا ہے یہ تو خیال بھی نہیں آیا تھا اسے…
تو پاگل ہو گیا ہے کیا، جانتا ہے پوری یونیورسٹی تیرے بارے میں باتیں کر رہی ہے.
مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہے.. لوگ کیا کہتے ہیں کیا سوچتے ہیں یہ سب سوچنا میرا کام نہیں ہے اور نہ مجھے اس سب سے کوئی فرق پڑتا ہے…
جانتا ہوں تجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا.. لیکن مجھے پڑتا ہے تو دوست ہے میرا، وہ دوست جو مجھے بھائیوں سے بڑھ کے عزیز ہے.. اور پھر یہاں یوں بیٹھ کر کیا ہو گا ؟؟ وہ آجاے گی ؟؟ نہیں نا… تو پھر کیوں تو اس طرح خود خوار کر رہا ہے..
پھر تو بتا میں کیا کروں… کچھ سمجھ نہیں آرہا.. کیسے بات کروں اس سے.. اور بات کروں بھی تو کیا کہوں گا اس سے ؟ شانزے مجھے معاف کر دو یہ سب میں نے کیا تھا… تمہیں ڈرانے کے لئے… تو کیا کبھی وہ میرا یقین کر پاے گی ؟؟ نہیں تو نے نہیں دیکھی تھی اس کی حالت میں نے دیکھی تھی…
یوسف کے چہرے پے بےبسی نمایاں تھی..
کچھ مت کر… صرف اپنی اسٹیڈی پے توجہ دے باقی میں سب سمبھال لوں گا.. بھروسہ کر.. محسن نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے.. اور یوسف بن.. خدا کے لئے…. ایک مجنوں کافی تھا.. اس کا باپ بننے کوشش بھی مت کرنا تجھے سوٹ نہیں کرتا سمجھا.. اور رہی شانزے کی بات تو فکر مت کر وہ یونیورسٹی آجاے گی..
تو کیا کرنے والا ہے… یوسف نے محسن کو دیکھا تھا… اس کا سکون بتا رہا تھا کہ وہ کچھ پلان کر چکا ہے..
وہ تو مجھے پے چھوڑ دے.. آخراتنے سالوں سے تیری صحبت میں ہوں تو کچھ کمال ہم بھی رکھتے ہیں… وہ کیا کہتے ہیں.. باکمال لوگ.. لاجواب دوست… محسن نے کلر جھاڑا تھا… چل اٹھ اب مجنوں کی فاتح پڑھ لی ہے تو کلاس میں چلتے ہیں.. ویسے بھی اگلا لیکچر مس ام کلثوم کا ہے.. اور تو نے ان کے سامنے مجنوں کا باپ بنے کی کوشش کی تو وہ تجھے دادی بن کے دیکھیں گی…
یوسف کو اس کے انداز پے مسکرا دیا تھا.. محسن جو ہمیشہ اس طرح کے مسلوں سے دور رہنا پسند کرتا تھا صرف اس کی خاطر اتنا سوچ رہا تھا اور اسے فخر ہوا تھا اپنے دوست پے جو اچھے برے دونوں میں اس کے ساتھ تھا.
……………………………………….
آفس میں بلکل خاموشی چھائی تھی… وہ جب سے آیا تھا اسی انداز میں براجمان تھا. اپنے خیالوں کی جنگ میں مصروف…
صبح اس نے پاپا کو کال پے بات کرتے سنا تھا وہ پھر کسی سے زینب کے بارے میں بات کر رہے تھے اور تب سے اس کا موڈ خراب تھا.. وہ جانا چاہتا تھا کے پاپا کس سے بات کر رہے تھے پر اپنی لاکھ کوشش کے باوجود بھی جان نہیں پایا تھا، اور یہی بات اس کے غصے میں اضافہ کر رہی تھی. وہ زینب کے بارے میں بات کر رہے تھے.. آخر کون ہے یہ زینب… کیا چھپا رہے ہیں پاپا ہم سب… کیا پاپا کا کوئی افئیر تھا… جو وہ چھپا رہے ہیں اور ماما ان کو معلوم ہو گا تو کیا گزرے گی ان پے… نہیں نہیں میں زیادہ سوچ رہا ہوں میرے پاپا ایسے نہں ہیں ضرور کوئی اور بات ہے… پر پھر چھپانے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے.. آخر کیوں پاپا اس بارے میں کوئی بات نہیں کر رہے… اور کب تک.. کون ہے وہ… بس اب کچھ بھی ہو جائے مجھے پاپا سے اس بارے میں بات کرنی ہی ہو گی.. انھیں بتانا ہی ہو گا کے چل کیا رہا ہے.. وہ پھر سے اپنی سوچوں میں گم تھا…
…………………………………………….
شانزے ایک ہفتے سے یونیورسٹی نہیں جا رہی تھی لیکن کسی نے بھی اسے جانے کے لئے نہیں کہا تھا. سب کو لگا وہ ایکسیڈنٹ سے پریشان ہے ٹھیک ہو گی تو چلی جائے گی.. لیکن اب وہ کسی کو کیا بتاتی کہ وہ حادثے سے زیادہ یوسف سے پریشان ہے.. اس دن سے اس کا انداز شانزے کے لئے سراپا سوال بن گیا تھا.. اپنے گرد اسے یوسف کی بازوں کا گیھرا محسوس ہوتا.. تو کبھی اپنے گندھے پے اس کا ہاتھ کا وزن محسوس کرتی، تو کبھی اس کو لگتا جیسے اس نے اس کا ہاتھ ابھی بھی تھام رکھا ہے… اس کے جذبات تھے کے قابو میں نہیں آرھے تھے… بار بار یوسف کو سوچتی… وہ جتنا شدت سے اس کا خیال دل سے نکلتی وہ اتنی شدت سے یاد آتا. اف الله جی کسی مشکل میں ڈال دیا ہے… اب کیسے جاؤں یونیورسٹی کیسے کروں اس کا سامنا… وہ دیوار سے ٹیک لگاے سوچے جا رہی تھی…. اس بات سے بےخبر کے می جانی نے تیسرا چکر لگایا ہے… اور اس کا ایسے خیالوں میں گم ہونا انھیں فکر میں مبتلا کر رہا ہے… وہ جانتی تھیں شانزے کسی سے ناراض نہیں تھی… ہستی تھی… باتیں کرتی تھی، لیکن پھر بھی کچھ کمی تھی جو می جانی محسوس کر رہی تھیں اور وہ شاید اس لئے کہ وہ جب بھی اسے اکیلا دیکھتی تو وہ کہیں اپنے آپ میں ہی گم ہوتی. ابھی بھی کسی کام سے اس کے کمرے میں آئ تھیں اور وہ اتنا گم تھی کے ان کے آنے کا پتا بھی نہں چل سکا.. می جانی نے اس کے چہرے پے ہاتھ پہرا تھا..
مے جانی آپ… آپ کب آئیں ؟؟ وہ حیران ہوئی تھیں…
بس ابھی تمہارے لئے جوس لائی تھی…
اوہ- اچھا.. اس نے جوس کا گلاس ہاتھ میں پکڑتے ہوے بولا..
کیا تم اپنی می جانی سے اب تک ناراض ہو شانزے..؟؟ می جانی کے اتنا اچانک پوچھنے شانزے پریشان ہو گئی تھی،
یہ کیا کہ رہی ہیں آپ می جانی میں آپ سے کیوں ناراض ہوں گی ؟؟
تو پھر تم ہر وقت کیا سوچتی رہتی ہو شانزے میں جبھی تمہیں دیکھتی ہوں تو مجھے وہم گھیر لیتے ہیں کہیں تمہیں کچھ ہو گیا تو….
اف – مجانی آپ کتنا سوچتی ہیں ایسا نہیں ہے… اور میں کچھ نہیں سوچتی.. اس لئے آپ بھی، اب سے کچھ نہیں سوچیں گی ٹھیک ہے.. اس نے لاڈ سے گلے میں بازو ڈالے تھے..
تم نہیں جانتی شانزے جوان بیٹیوں کی ماؤں کو کیسے کیسے وسوسے ستاتے ہیں… اس دن جب اتنے ٹائم ہونے پر بھی تم گھر نہیں آئیں تو مجھے لگا میں نے تمھیں کھو دیا… اور دیکھو پھر تم سچ میں حادثے کا شکار ہوئیں… اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو جانتی ہو میں کبھی خود کو معاف نا کر پاتی.. انہوں نے اسے پیار کیا تھا.
اب وہ انھیں کیا بتاتی کہ ان کا در سچ میں پورا ہو جاتا اگر وہاں یوسف نہ آتا تو… آپ بھی نا می جانی… ڈرامے کم دیکھا کریں… ان کا اثر آتا جا رہا ہے آپ پر.. اور مجھے کچھ نہیں ہو گا.. آپ ہیں نا میرا خیال رکھنے کے لئے.. اور میں ہمیشہ آپ کے پاسس رہوں گی آپ کو تنگ کرنے کے لئے کوئی تو ہونا چاہیے نا…
بیٹیاں کب صدا ساتھ رہتیں ہیں.. ایک نا ایک دن تو انھیں اپنے گھر جانا ہی ہوتا ہے…
ہاں تو پھر میں آپ کو بھی ساتھ لے کے جاؤں گی، بلکے پاپا اور اریزے کو بھی…
توبہ ہے لڑکی ہر بات میں مذاق کبھی تو کوئی ڈھنگ کی بات کیا کرو.. می جانی اس کے بچپنے مسکرتی اٹھ گیں تھیں.
اور وہ دوبارہ اپنے خیالوں کی دنیا میں لوٹ آئ تھی.. اب وہ کیا بتائی می جانی کو.. اپنے احساسات کے بارے میں جو یوسف کے لئے پال رہی تھی.. ہر وقت اسے سوچنا اور بے تحاشا سوچنا….
…………………………………………..
فون بہت دیر سے بج رہا تھا پر کسی نے بھی زحمت نہیں کی تھی اٹھانے کی.. اور اس کی آواز شانزے کا سر درد بڑھا رہی تھی…. لیکن اصل مثلا سر درد نہں تھا.. بلکے یوسف کے خیال تھے جن سے باہر نکلنا محال ہو رہا تھا یا دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہ سکتے ہیں کے وہ نکلنا نہیں چاہ رہی تھی. لیکن فون کرنے والا بھی دنیا کا کوئی آخری ڈھیٹ پیدا ہوا تھا جیسے اس نے قسم ہی کها لی تھی کے ہر حال میں فون اٹھوا کے ہی رہے گا… اور اوپر سے می جانی کی آتی آوازیں جو کچن میں مصروف ہونے کی وجہ سے اسے فون اٹھانے کے لئے کہ رہی تھیں.. اور شانزے پاؤں پٹختی فون کی طرف بڑھی تھی کیوںکہ یہ تو وہ جان گئی تھی کے آج اس گھر میں کوئی اور فون نہیں اٹھانے والا…
ہیلو… اسلام و علیکم – شانزے نے فون اٹھاتے کہا اور دوسری طرف سے آنے والی آواز نے اس سے شدید قسم کا جھٹکا یا تھا اس کے چودہ طبق روشن ہو چکے تھے….
………………………………
موسم بہت خوشگوار تھا پر اس کی خوشگواری کا اثر عثمان پے نہیں پڑا تھا. وہ جب سے آیا تھا روم میں بند تھا.. ورنہ اسے یاد تھا پچھلی دفع جب آیا تھا تو ایک ایک ایمپلائی سے ملا تھا. تو پھر آج کیا ہوا طبیعت تو خراب نہیں، مجھے دکھانا چاہیے.. اریزے نے دل میں سوچا… نہیں نہیں.. وہ کافی غصے میں تھے، اور منع بھی کیا تھا خام خا پھر ڈانٹیں گئے…
وہ اپنے خیالات کو جھٹکتی پھر سے کام میں مصروف ہو گئی تھی… لیکن اس کی بیچنی کام نہیں ہو رہی تھی.. ابھی اس نے فائل اٹھائی ہی تھی.. دروازہ کھول کر ایک ماڈل جیسی لڑکی اندر آئ تنگ جینس پے مردانہ طرز کی شرط پہنے، نیلی آنکھوں والی، وہ کسی ماڈل سے کم نہیں لگ رہی تھی جو بھی تھی بہت خوبصورت تھی… اریزے اسے پھٹی آنکھوں سے دیکھنے میں مصروف تھی. جب وہ پاسس سے گزرتی عثمان کے روم کی طرف گئی…
اوہ مائی گاڈ… آج تو میری نوکری گئی سر تو مجھے جان سے ماردیں گئے اگر یہ اندر چلی گئی تو..
ایسکیوز میم…. اریزے نے اسے روکا تھا…
یس ؟ اس کا دروازہ کی طرف بڑھتا ہاتھ روک گیا تھا..
اپ اندر نہیں جا سکتی… ایکچولی سر کچھ بسے ہیں تو انہوں نے کسی سے بھی ملنے سے مانا کیا ہے…
اوہ – آئ سی پر اپ پلیز انہیں میرے بارے میں بتا دیں، کیوں کے میرا ان سے ملنا بہت ضروری ہے..
میم ایم سوری بٹ سر نے سختی سے مانا کیا ہے کے وہ کسی سے نہیں ملنا چاہتے…. اگر اپ کہیں تو میں اپ کی میٹنگ ارینج کر سکتی ہوں.
اچھا…!!! آپ صرف عثمان کو اتنا کہ دیں کے میں ملنا چاہ رہی ہوں… اس نے اس انداز میں کہا کے عرضے کو لگا وہ کوئی جانے والی ہے. ویسے بھی عثمان کے آفس میں ہونے کا اریزے کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا تھا تو پھر یہ اتنے یقین سے کیسے کہ رہی ہے… ہو سکتا ہے اس کی عثمان سر سے کوئی بات ہوئی ہو…
نا چاہتے ہوے بھی اس نے ایکسٹینشن سے کال ملائی..
سر ایک میڈم ہیں آپ سے ملنا چاہ رہی ہیں..
مجھ سے ملنے… میڈم… عثمان کی آواز اتنی بھاری اور لہجہ اتنا سخت تھا کے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ہی اریزے کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا.. لیکن فلحال اب وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی جو بھی ہے غلطی تو اس سے ہو گئی تھی.
میرا خیال ہے مس اریزے میں نے آپ کو بہت آسان الفاظ میں کہا تھا کہ مجھے کسی سے نہیں ملنا… اس کی آواز اتنی سرد تھی کے اریزے کو اپنے سارے اوسان ٹھنڈے پڑتے محسوس ہوے تھے…
سر.. وہ دراصل… اریزے ںے اٹک اٹک کے بولنا شروع کیا…
مس پلیز.. آپ مجھ یہ بتایئں گی کے کون ہیں…؟؟ اس کی آواز ہنوز ویسی ہی تھی…
سوری سر میں ںے نام تو پوچھا ہی نہیں…
ایک بات باتیں یہ آپکی عادت ہے یا ہابی کے بغیر نام وغیر پوچھے ہی آپ آگے بات کرنا شروع کر دیتی ہیں… جب کوئی آوٹ سایڈرآتا ہے تو اس کا نام بھی پوچھ لیتے ہیں…
مس اریزے آپ انتہا درجے کی کوئی ان پروفیشنل ایمپلائی ہیں…
میں معافی چاہتی ہوں مجھے سے غلطی ہو گئی… کہ بغیرنام پوچھے اپ کو ڈسٹرب کیا.. اریزے رونے کے در پے تھی جب پاس کھڑی لڑکی نے اپنا تروف کرایا میرا نام سعدیہ جبّار… جب کے لائن منقطع ہو چکی تھی…
سعدیہ ہکہ بکہ اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی جو لال ہو رہا تھا… میں معذرت چاہتی ہوں اس سے پہلے وہ کچھ کہتی عثمان کی دھر نے دونو کو چونکا دیا…
آپ کی توجہ کہاں ہوتی ہے آپ پہلے نہں بتا سکتیں تھیں کے سعدیہ آئ ہیں… لیکن آپ کو بھر کے نظارے کرنے سے فرسٹ ملے تو آپ کو کچھ اور سجھائی دے… عثمان سے صبح اس اپنی بیک سائیڈ سے شید ہٹا کر بھر دیکھتے ہووے دیکھ لیا تھا اور اب بری سہولت سے جاتا بھی دیا تھا..
سر… آئ ایم ریلی سوری… اریزے نے انتہائی آہستہ آواز میں کہا تھا، اتنی سنے کے بعد اس کی ہمت جواب دے گئی تھی…
جب کے عثمان ٹھٹھک گیا تھا… پھر بنا کچھ کہے بھر کی طرف بڑھا..
میرا خیال ہے چلتے ہیں، راستے میں ہی ڈسکس کر لیں گئے… وہ دونو آفس سے باہر نکل گئے… موسم ابھی بھی خوشگوار تھا ہر طرف بدل چاہے ہوے تھے جب کہ اندر برسات شروع ہو گئی تھی…
………………………………….
مجھے شانزے سے بات کرنی ہے، میں یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ افیئرز ڈیپارٹمنٹ سے بات کر رہا ہوں..
ہیلو.. ہیلو…
جی میں شانزے بات کر رہی ہوں.. فون پے انے والی ہیلو ہیلو نے اس کا سکتا توڑا تھا.
مس شانزے آپ ایک ہفتے سے یونیورسٹی نہیں آرہیں وہ بھی بغیر کسی اطلاع کہ… اس لئے آپ کو بتا دیں کہ آپ کے فائنل پیپرز نزدیک ہیں اس لیے آپ کل سے یونیورسٹی جوائن کریں.. ورنہ یونیورسٹی آپ کا داخلہ کینسل کر دے گی..
سوری سر میرا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا بس اس وجہ سے ہی میں یونیورسٹی نہں اسکی تھی..
مس شانزے کچھ رولز نام کی بھی چیز ہوتی ہے ٹھیک ہے آپ کے ساتھ کوئی مس ہاپپینگ ہوئی پر یہ آپ کا فرض تھا کے آپ اپنے ڈیپارٹمنٹ میں انفارم کرتیں…
جی سر میں سمجھتی ہوں آپ کی بات..
ٹھیک آپ جلد از جلد اپنی کلاسز لینا شروع کریں.
اوکے سر تھنک یو… الله حافظ… لائن منقطع ہو چکی تھی جب شانزے سوچ میں پر گئی تھی… جس بات سے وہ بھگ رہی تھی… وہی ہوا تھا…
………………………………………
آج کا دن بہت شاندار تھا… اور کسی کا تو پتا نہیں پر یوسف کے لئے آج کی صبح مسرتوں سے بھر پور تھی.. محسن اسے مکمل یقین دلایا تھا کے آج شانزے ضرور ے گی اور یہ بات اس نے رات سونے تک کوئی دس دفع اس سے کونفرم کی تھی.. پوری رات ہی اس نے آنکھوں میں گزار دی تھی ڈر تھا کہ اگر آنکھ لگ گئی اور صبح وہ اٹھ نہیں پایا تو پھر کیا ہو گا… وہ فرش ہو کہ ناشتے کی ٹیبل پے موجود تھا لیکن باقی سب پتا نہیں کہاں تھے…
کوئی ہے گھر میں… لوگ ناشتہ بھی کریں گئے یا میں اکیلا که لوں… یوسف کا موڈ بہت اچھا تھا… اور اس کا ہر انداز اس کے اچھے موڈ کا گواہ تھا…
آرے ہیں بهی… اتنی بےصبری کس بات کی ہے.. تمہاری یونیورسٹی تو 9 بجے سٹارٹ ہو گی نہ… حسین نے سیڑیاں اترتے ہوے کہا..
جی پاپا مگر آج کچھ خاص کام ہے..
اوھو— تو یہ بات ہے… اب اگر یوسف دی گریٹ کہ رہے ہیں تو لازمی بات ہے معملا کی نویت واقعے ہی خاص ہو گی وہ مسکراتے ہووے چیر کھنچ کے بیٹھ گئے تھے. جب کے ماما اب انھیں ناشتہ دینے لگیں تھیں…
یوسف اور حسین دونوں خوشگپیوں میں مصروف تھے… تبھی انھیں عثمان کا خیال آیا جو خلاف تواقع ٹیبل پے نہں تھا..
اس بات نے حسین کو تھوڑا پریشن کیا تھا کیوں کے بات عثمان کی عادت کے خلاف تھی وہ کبھی رزق کو انتیظار نہیں کرتا تھا اس کا مانا تھا.. کہ رزق کو انتیظار کرانے سے الله ناراض ہوتا… اور پھر رزق انتیظار کرنے لگتا ہے اور انسان ہر جگہ مارا مارا پھرتا ہے… پر آج وہ خود موجود نہں تھا جب کے آج تک کبھی ایسا نہں ہوا تھا کے ناشتہ یا کھانا لگ گیا ہو اور وہ وہاں نہ ہو…
عثمان کہاں ہے… ؟؟ حسین نے شاہینہ سے پوچھا تھا..
لو آگے بھائی… یوسف نے باپ کو متوجہ کرتے ہوے بولا…
کہاں رہ گئے تھے آپ کب سے انتیظار کر رہے ہیں آپ کا، پتا ہے مجھے جلدی نکلنا تھا اور آپ کا انتیظار کرتے میں لیٹ ہو گیا…
میں نے تو نہیں روکا تھا اگر اتنی جلدی تھی تو کر لیتے ناشتہ ویسے بھی کونسا ہم ساری باتیں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں.. جو اگر ناشتہ نہ کرتے تو عذاب نازل ہو جاتا.. عثمان کا لہجہ گزے سے بھرا تھا اور اس کا ہر لفظ ظہار میں ڈوبا تھا.. وہ چاہ کے بھی اپنے غصے پے قابو نہیں رکھ سکا… اس کے لہجے کی کڑواہٹ سب نے ہی محسوس کی تھی.. وہ تو کبھی ایسے بات نہیں کرتا تھا تو پھر اب…
ریلکس بھائی کیا ہوا ہے آپ کچھ پریشان ہیں… کہیں عشق کا روگ تو نہیں لگ گیا آپ کو… بتایئں بتایئں کون ہے وہ.. کسی ہے وہ… کیڑے پنڈ دی آے… کیڑے شہر دی آ… یوسف نے شہرتی انداز میں گنگنایا تھا.
شٹ اپ یوسف اب تمہیں دیر نہیں ہو رہی چپ چاپ ناشتہ کرو اور یونیورسٹی یہ تمہارا لسٹ سیمسٹر ہے نہ.. تو اپنی توجہ صرف سٹدے پے رکھو سمجھے…
کیا ہوا بھائی… سب ٹھیک تو ہے نا ؟؟ کل سے دیکھ رہا ہوں آپ کا موڈ کچھ اوف ہے، یوسف نے اس کو ٹٹولتی نظروں سے دیکھا تھا..
نہیں کچھ نہیں تم پریشان نہ ہو… آرام سے یونیورسٹی جو اسبارے میں پھر بات کریں گئے، عثمان کو اپنے لہجے کی کڑواہٹ کا احساس ہوا تھا اس لئے اپنے آپ کو دھیما کرتے ہووے بولا کیوں کے فلحال وہ کسی کو بھی پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا..
اچھا ٹھیک ہے ابھی تو میں جا رہا ہوں پر شام میں آپ کو بتانا پڑے گا… اوکے اس نے عثمان کو پیچھے سے ہگ کیا تھا.. اور عثمان کے لبوں پے بلاآخر مسکراہٹ آہی گئی تھی.. جس نے یوسف سمیت سب کو اطمینان بخشا تھا..
یوسف جا چکا تھا… ماما کچن میں تھیں.. جب عثمان نے اٹھتے ہوے پاپا سے پوچھا.. پاپا چلیں آفس…؟؟
نہیں تم جو مجھے کچھ کام ہے وہ کر کے آتا ہوں… شاید مجھے دیر ہو جائے…
کیا کام ہے…؟؟؟ عثمان سے پہلی دفع ان سے سوال کیا تھا اور سوال نے حسین کو چونکنے میں مجبور کر دیا تھا..
مجھے کسی سے ملنا ہے… حسین نوکیں سے ہاتھ صاف کے تھے…
جبکہ یوسف ان کے تاثر کو جانجنے کی کوشش کر رہا تھا… کس سے پاپا…؟؟
ہے ایک پرانا دوست تم نہیں جانتے… وہ کہتے اسٹیڈی روم کی طرف بڑھے تھے..
شاید میں جانتا ہوں پاپا.. کہیں آپ کی پرانی دوست تو نہیں ہے…
عثمان کی آواز نے پاپا کے اسٹڈی کی طرف بڑھتے قدم روک دئے تھے…
زینب… میں نے سہی نام لیا ہے نا پاپا…؟؟؟
جب اندر آتی شاہینہ کو بھی اس کے الفاظ ، اور لہجے کی کڑواہٹ نے حیرت میں ڈال دیا تھا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: