Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 12

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 12

–**–**–

شاہینہ اور کلثوم نے کتنا سمجھایا تھا حسین کو پر اس معملے میں انہوں نے کسی کی ایک نہ سنی اس لئے نہ چاہتے ہوے بھی دونوں نے شادی کی تیاری مکمل کر لی تھی. اگرچہ حسین اس شادی کے لئے دل سے رضامند نہیں تھے پر زینی کی زد نے انھیں مجبور کر دیا تھا. آج تک اس کی کوئی زد ٹالی نہیں گئی تھی تو اب کیسے ممکن تھا کے انکارہو جاتا… پر زینی اس بات سے لاعلم تھی کے اس بار جو خواہش اس نے کی ہے اسے پورا کرنے میں حسین ہلکان ہو گئے تھے…
رسم دنیا نبھانے کے لئے گھر میں نکاح کی تقریب رکھی تھی اور بہت خاص لوگوں کو بلایا گیا تھا. حالانکہ اپنی شیزادی جیسی بہن کے لئے انہوں نے شہزادے کے خواب دیکھے تھے محلوں کا جشن سوچا تھا. لیکن کچھ خوابوں کی قسمت صرف خواب رہنا ہی ہوتا ہے. جیسے کے زینب کے معملے میں ہوا تھا. نکاح کی تیاریاں مکمل کر لیں گیں تھیں. تقریب چوٹی تھی پر پھر بھی ہر لہٰذ سے مکمل تھی. کمی تھی تو صرف ان ارمانوں کی جو حسین کے دل میں رہ گئے تھے. اور اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا کے ان ارمانوں کو دل کے کسی کونے میں ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا جاتا…
اور پھر وہ وقت بھی اکر گزر گیا جس نے زینی کو سب سے پریا کر دیا تھا. ہلکا کام والا لال جوڑے اور ہلکے ہلکے میک اپ میں بھی اس کا روپ چودہویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا. جس کی روشنا نے دیکھنے والوں کی آنکھیں چندھیا تھیں. سب لوگ اس کے سجے سنورے روپ کو دیکھ کر عش عش کر رہے تھے. اپنی خواہش کے پورا جانے پے اس کا چہرہ مزید نکھار گیا تھا. ڈھیروں سکون وہ اپنے اندر پھیلا محسوس کر رہی تھی جس کا اندازہ اس کی آنکھوں سے باخوبی لگایا جا سکتا تھا. دیکھنے والوں کی نظریں تو مانو اس پے جم کے رہ گیں تھیں پر نہیں دیکھا تو حسین نے اور دیکھتے بھی کیسے جسے اتنے نازوں سے پالا ہو اس کو اس طرح سے رخصت ہوتے وہ کیسے دیکھ سکتے تھے. پر زینی کو اب پرواہ بھی کہاں تھی. اس کے لئے تو اپنی خواہش کا پورا ہو جانا ہی بہت تھا. لیکن وہ یہ بھول گئی تھی کہ اپنوں کا دل دکھا کر کب کون خوشی سے جی پایا ہے. رخصتی کے وقت کلثوم اس سے مل کر رو پڑیں تھیں نہ چاہتے ہوے بھی شکوہ زبان پے آگے تھا. زینی تم نے ہمارے ساتھ ہی نہیں بلکے اپنے ساتھ بھی ظلم کیا ہے. شاہینہ بیگم ملنے کے لئے آگے بڑھیں پر زینی نے انھیں نظر انداز کر دیا وہ آج بھی سب کا زمیدار ان کو ہی سمجھتی تھی. وہ آہستہ آہستہ چلتی حسین کے پیچھے آکھڑی ہوئی تھی. کتنی دیر وہ انتظار کرتی رہی پر حسین نے اس کی طرف رخ نہیں کیا وہ جو سمجھی تھی کے رخصتی کے وقت بھائی سے مل کے اپنا دل ہلکا کر لے گی مگراس کا ارمان دل میں رہ جانے والا تھا.
بھائی جان… زینی نے حسین کو پکارا تھا. اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتی حسین نے کچھ پیپرز اور ایک بیگ زینب کی طرف بڑھیا تھا.
یہ کچھ پراپرٹی کے پیپرز ہیں اور کچھ چیزیں جو میں نے تمہاری شادی کے لئے لیں تھیں… کچھ کمی ہے تو بتاسکتی ہو.. میں تمہاری ہر ضرورت پوری کروں گا.. میں امید کرتا ہوں کے تم اپنی انے والی زندگی میں اتنی ہی خوش رہو گی جتنا تم نے سوچا ہے… زندگی میں کبھی کوئی ضرورت پڑے تو بلا جھجگ کہنا… میں ہمیشہ تمہاری ضروریات پوری کروں گا. کہہ کے حسین رکے نہیں تھے. پر زینی کو لگا کسی نے اس کے کانوں میں سیسہ انڈیل دیا ہے اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا تھا… اس کو تو لگا تھا وہ حسین کو مانا لے گی پر نہیں… وہ اکیلی ہو گئی تھی اور اب گھر کی دہلیز اکیلے پار کرتے پہلی دفع اسے احساس ہوا تھا کے وہ کیا چھوڑے جا رہی ہے…
………………………………..
وہ چلی گئی یہ جانے بغیر کے میرے دل پر کیا قیامت گزری ہے… اس نے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا کتنا انتیظار کیا میں نے اس کا پر وہ نہیں ای… اور اس کا خیال کبھی اس دل سے گیا ہی نہیں.. حسین کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے پر کس میں بھی اتنی ہمت نہ تھی کہ آگے بڑھ کر انھیں صاف کر دے عثمان کی حالت تو ایسی تھی کے کاٹو تو خون نہ نکلے….
شاہینہ اور یوسف الگ فکرمند تھے… جبکہ حسین اپنی دھن میں تھے… برسوں سے درد سینے میں قید کر رکھا تھا آج آنسوؤں اور الفاظوں میں اس کا بیان ہو جانا ہی بہتر تھا..
وہ چلی گئی پھر کبھی واپس نہ انے کے لئے… وہ جانتی تھی میں ناراض ہوں پر وہ یہ بھی جانتی تھی کے کچھ بھی ہو جائے اگر وہ مجھے مناے گی تو میں ماں جاؤں گا… پر وہ نہیں آئ کتنا ڈھونڈا میں نے اس سے… پر وہ نہیں ملی… شانزے کو دیکھا تو لگا میری زینی کھڑی ہو گئی ہے میرے سامنے… وہی روب جماتا انداز، وہی غصہ بھری آواز، وہی نہیں نقش ، میں قابو نہیں رکھ سکا خود پے اس لئے اسے ڈھونڈنے لگا… پرکہاں ڈھونڈو میں اس کو….
روز… ہر روز یہ بات ستاتی ہے میری بہن میری جان… جسے میں نے زمانے کے گرم سرد سے بچا کے رکھا… اس نے خود کو جلتی آگ میں دھکیل دیا
اور میں بے بس تمشائی بن گیا. اپنی بیٹی کو روک نہیں سکا… اسے نہیں بتا سکا کے میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں..
لیکن غلطی اس کی نہیں تھی غلطی میری تھی…میں اپنی ذیمداری نہیں نیبھا سکا. میں وہ سب نہیں کر سکا جو کوئی باپ اپنی اولاد کے لئے کرتا ہے… میں ایک اچھا بھائی نہں بن سکا…. حسین کے آنسوؤں میں روانی آگئی تھی.. شاہینہ نے ان کی طرف بڑھنا چاہا تھا تبھی اپنے پیچھے کلثوم کی آواز سنائی دی تھی.
نہیں بھائی جان آپ بہت اچھے بھائی ہیں.. کلثوم جو جانے کب آئیں تھیں اور کیا کیا سن چکی تھیں… حسین کے گھٹنوں پے سر رکھ کے رو پڑیں تھیں. آپ ایسا نہ کہیں بھائی جان بس وہ وقت ہی ایسا تھا.. آپ کی غلطی نہیں ہے… آپ نے تو باپ سے بڑھ کرہمیں پلا ہے.. ساری خواہشیں پوری کی دن رات کی پرواہ کے بغیر… حسین نے انھیں اپنے سنے سے لگایا تھا… جب کے کلثوم ان کی آنکھوں سے آنسو صاف کر رہی تھی.. آپ جانتے ہیں آپ اس دنیا کے سب سے اچھے بھائی ہیں.. پریشان نہ ہوں بھائی وہ مل جائے گی ہم سب ہیں نہ آپ کے ساتھ…
محول بدل رہا تھا تھوڑی دیر پہلے جو صف ماتم بچھا تھا اب وہ سمٹ رہا تھا. عثمان خود کو کافی حد تک کومپوز کر چکا تھا اس لئے حسین کے پاس آیا..چہرے پے شرمندگی کے اثرات اتنے واضح تھے کے ایک نظر میں پڑھے جا سکتے تھے.
پاپا کیا آپ اپنے نکمے بیٹے کو معاف کر سکتے ہیں… عثمان کا سر جھک گیا تھا…
حسین تڑپ گئے تھے اس کے انداز پے وہ تو ہمیشہ ان کے لئے باعث فخر رہا ہے تو پھر کیسے ہو سکتا ہے کے وہ ان کے سامنے سر جھکا کے کھڑا ہوا تھا… جبکہ یوسف کو بھی شدید جھٹکا لگا تھا. حسین نے اپنے بیٹے کو گلے لگایا تھا… اور یہ تو ان کی ذات کی خوبی دی تھی معاف کر دینا… وہ بڑی سے بڑی بات یہ کہ کے معاف کر دیتے تھے کہ الله راضی رہتا ہے ان لوگوں سے جو دوسروں کو ان کی غلطیوں پے معاف کرتے ہیں…
عثمان باپ کے گلے لگ کے رو رہا تھا… پاپا پلز مجھے معاف کر دیں میں نے آپ کو غلط سمجھا… پر مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ کسی تکلیف سے گزر رہے ہیں… مجھ سے غلطی ہو گئی پاپا… مجھے آپ کو سمجھنا چاہیے تھا.. پلز مجھے معاف کر دیں…
بس میرا بچا غلطیاں سب سے ہوتی ہیں لیکن اچھا یہی ہے کہ معافی مانگ لی جائے اور معاف کر دیا جائے اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے… اور یہ بات عثمان بہت اچھی طرح جان گیا تھا کے وہ کس دیر کے بارے میں بات کر رہے ہیں…
نہیں بابا ابھی اتنی بھی دیر نہیں ہوئی، ہم سب مل کے ڈھونڈیں گئے چھوٹی پھوپھو کو…
اور انھیں گھر لیں آیئں گئے. یوسف نے بات میں ٹکڑا جوڑا تھا کلثوم اور شاہینہ دونوں کے چہرے پے اطمینان تھا…
ویسے پاپا ایک بات پتا ہے آپ کو بھائی نے کتنی چالاکی سے میری جگہ لینے کی کوشش کی ہے….
میں نے… ؟؟؟ میں نے کب کوشش کی عثمان جو اس حملے کے لئے تیار نہیں تھا…. حیران رہ گیا…
بس بس بھائی…زیادہ معصوم نہ بنیں ابھی آپ نے کہاں نہیں “نکما بیٹا”… تو زیادہ فری مت ہوں پاپا کا نکما بیٹا میں ہوں اور ہمیشہ میں ہی رہوں گا… آپ تو پاپا کے اچھے بیٹے ہیں نہ… یوسف کی بات پے سب ہنس پڑے تھے وہ ایک اداسسی جو محول پے طاری تھی ختم ہو گئی تھی…
اور ہاں بھائی ایک بات اور یوسف نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوے کہا… وہ میں سوچ رہا تھا کہ آپ کی بارات لیجانے کے بجاے بلوا کر آپ کی رخصتی کر دیں گئے وہ کیا ہے نہ آپ آج کل لڑکیوں سے زیادہ اچھا روتے ہیں…. وہ شرارت سے کہتا اوپر بھگا تھا… جب کے عثمان بھی تیزی سے اس کے پیچھے گیا تھا…
اور باقی تینوں انھیں مسکراتا دیکھ کر ہی خوش ہو رہے تھے اور یہ تو اس گھر کی روایت تھی ایک کی خوشی میں سب خوش… اب اگر اس منظر میں کمی تھی تو صرف زینب کی.
………………………………
دیش انسان کہاں تھا تو… محسن نے اس سے پین کھنچ کے مارا تھا…
او… محسن… ہاے… یوسف اس کو دیکھ بولا….
تیرے ہاے کی تو… ایسی تیسی… یہی ابھی تجھ پے پڑے گی… محسن کے ارادے خاصے مشکوک تھے… اس لئے یوسف پیچھے ہوا تھا… دیکھ میں تجھے سب سمجھتا ہوں… یوسف نے پھر سے کوشش کی…
تو سمجھاے گا مجھے…. تو سمجھ…. کہ تیرے لئے میں نے اتنا بڑا رسک لیا… اس نے دوسرا پین مارا تھا….
یار روک تو… میری بات تو سن یوسف نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا محسن نے بورڈ مارک اس کی طرف پھنکا…. منہ بند رکھ اپنا اور تو میری بات سن…. تیرے لئے میں نے ایڈمن بلاک میں گھس کر اسے فون کیا…. اسے آنے کے لئے منایا….
پوری رات تو نے میری بیکار کی پوچھ پوچھ کے وہ آے گی یا نہیں…اور صبح کو تو خود نہیں آیا… ساتھ ہی اس نے اپنی نوٹ بک کیھنچ کے ماری تھی… جبکہ یوسف اس بار بھی اس کے حملے سے بچ گیا تھا… پتا نہیں وہ نشانہ صحیی نہیں لگا رہا تھا یا پھر یوسف ہی اتنا اچھا ڈیفنڈر تھا کہ ہر بار بچ جاتا تھا…
اچھا بابا معاف کر دے غلطی ہو گئی… کچھ مثلا ہی ایسا ہو گیا تھا… یوسف نے کان پکڑتے بولا تھا…
یوسف کے چہرے پے کوئی لہر اکر گزری تھی…
توجانتا ہے کل کتنا ہنگامہ ہوا تھا یہاں…. تیری والی اور رانیہ کل دوبار آمنے سامنے ہوئی… ایک بار وہاں تمہارے حجرے میں اس کا اشارہ سهیڑیوں کی طرف تھا… اور دوسری بار کینٹین میں محسن کافی سیریس تھا…
تو پھر…. یوسف نے غور سے دیکھا تھا…
تو پھر یہ کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی…. محسن نے تپ کے جواب دیا تھا…
ارے یار وہ تو تیری اس عجیب صورت پے بڑا بڑا لکھا ہے یہ بتا چراغ کسی کے تھے… یوسف جھنجلایا تھا…
مقابل اگر شانزے حسان ہو تو چراغ کس کے ہو سکتے ہیں…؟؟؟ محسن نے الٹا سوال کیا..
وہ دونوں تالی مار کے ہنسے تھے…
………………………………………..
شانزے یونیورسٹی آگئی تھی، اور اب ہر اس جگہ بہانے سے جا رہی تھی جہاں یوسف ہو سکتا تھا پر یوسف آج بھی کہیں نظر نہیں آرہا تھا… اسے شدید غصہ آرہا تھا پر بیکار تھا… صبا جو کافی دیر سے اسے نوٹ کر رہی تھی بول پڑی…
کیا مثلا ہے تمہارے ساتھ…؟؟ ہو سکتا ہے یوسف آج بھی نہ آیا ہو…
شانزے کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا اس نے تو ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا تو پھر کیسے صبا نے سب جان لیا تھا.
نہیں میں یوسف کو کیوں ڈھونڈوں گی ؟؟ شانزے نے کمزور آواز میں کہا…
دیکھو شانزے میں بچی نہیں ہوں… اور الله کے کرم سے میری آنکھیں بھی کام کرتی ہیں. کل بھی تمہاری نظریں یوسف کو ڈھونڈ رہی تھیں.. اور آج بھی تم ہر جگہ جا چکی ہو جہاں وہ ہو سکتا تھا پر.. اب مجھے بتاؤ ماجرا کیا ہے… صبا نے کرے تیور سے اسے دیکھا تھا.
کچھ نہں لمبی کہانی ہی پھر کبھی شانزے نے بات ٹالی تھی،
کوئی بات نہیں میرے پاس بھی بہت وقت ہے.. صبا نے ڈھٹائی کی انتہا کو چھوا تھا. اور مجبورن شانزے کو اپنی کدناپنگ سے لے بعد تک کی ساری بات اسے بتانی پڑی…. بس یہی قصہ ہے میں اس کا شکریہ ادا کر کے اس قصے کو یہیں ختم کرنا چاہتی ہوں… پریشانی اس کے چہرے پی صاف ظاہر تھی..
صبا کو اپنی معصوم لڑاکا دوست پی بےتحاشا پیار اور ترس آیا تھا… کیوںکہ جس قصے کو ختم کرنے کی وہ بات کر رہی تھی وہ نہ شروع اپنی مرضی سے ہوتا ہے اور نہ ختم…. لیکن فلحال کچھ بول کے وہ شانزے کو پریشان نہیں کر سکتی تھی. اور بہتر یہی تھا کہ وہ خود اپنی کیفیت کو پہچانے.. اچھا تم پریشان مت ہو، یہ بھی تو مکین ہے کہ یوسف آج آیا ہی نہ ہو. صبا نے اسے ڑےلَش کرنے کی کوشش کی..
نہیں وہ یونیورسٹی آیا ہے… شانزے اس کی بات سے انکار کیا تھا.
تمہیں کیسے پتا..؟؟؟ صبا کو تجاسوس ہوا تھا.
وہاں پارکنگ میں اس کی کوئیک کھڑی ہے… شانزے نے پارکنگ کی طرف اشارہ کیا..
شازنے وہاں اور بھی کوئیک کھڑی ہیں تمہیں کیسے پتا وہ اس کی ہے… سب کو حیرت ہوئی تھی..
گاڑی کے نمبر سے.. APA 321 اس کی ہی گاڑی کے نمبر ہے.. شانزے نے نو.بتایا تھا…
سیریسلی..!!! شانزے یو ارے امپوسسبل….صبا کا حیرت سے برا حال تھا.
میں نے ایسا کیا کر دیا..؟؟
تمہیں اس کی گاڑی کا نمبر تک یاد ہے…
ہاں..!! تو اس میں کون سی بڑی بات ہے. اتنی بار اس کی گاڑی پے نظر پڑتی ہے رہ گیا یاد ؟؟ شانزے کچھ الجھی تھی.
تو یہ کہ شانزے حسان، اس یونیورسٹی کے کتنے لوگوں کی گاڑیوں کے نمبر تمہیں یاد ہیں، سب چھوڑو مس کلثوم تو تمہاری فوریٹ ہیں انہی کی گاڑی کا نمبر بتا دو… صبا نے اٹھتے ہوے کہا…
جبکہ شانزے دل ہی دل میں مس کلثوم کی گاڑی کا نمبر یاد کرنے کی کوشش کرنے لگی..
……………………………………
کیا ہوا آج بڑی مصروف ہو، ماہرہ نے اسے مخاطب کرتے ہوے کہا،
بس یار ایک فائل ہے اس پے ہی کام کر رہی ہوں، سنا ہے آج عثمان باس آرہے ہیں تو سوچا ہر چیز پہلے سے کر لوں وہ کب کیا مانگ لیں کچھ پتا نہیں ہے. اریزے نے فائل پے جھکے ہوے ہی جواب دیا.
ہاں..!! یہ تو ہے عمیر کی نسبت عثمان باس کافی مشکل پسند ہے. ہزار کیڑے مکوڑے نکل کر کوئی چیز وک کرتے ہیں…
ماہر نے اس انداز سے کہا اریزے کو ہنسی آگئی..
لگتا ہے ابھی تک نہیں ورنہ ہنسی کی آواز پے بھی غصہ آجاتا… اریزے نے ہستے ہوے کہا.
نہیں آگے ہوں گئے بس تمہاری طلبی نہیں ہوئی ہے ابھی تک. بڑے پنچوئل ہیں نہیں اتے تو نہیں اتے اور جب آتے ہیں تو ٹائم پے… تم بغیر گھڑی دیکھ بھی وقت کا پتا لگا سکتی ہو.. اب وہ دونو ماہرہ کی بات پے ہنس رہی تھیں اور وہ ایسی ہی تھی سب کو ہنسانے والی لیکن قسمت کی خرابی عین اس وقت عثمان اپنے روم سے نکلا…
اریزے کی ہنسی اتنی دلکش تھی کے وہ اس کو روک کے دیکھنے پے مجبور ہو گیا تھا. جب کے ماہرہ وہاں سے کھسک گئی تھی اور اریزے کی ہنسی کو بریک لگیا تھا. لاسٹ ٹائم ہوئی عزت افزائی اسے اچھی طرح یاد تھی. جبکہ عثمان اس کا جائزہ لینے میں مصروف تھا، کچھ تھا اریزے میں جو اسے ہمیشہ متوجہ کرتا تھا.ایسا نہیں تھا کہ اسنے کوئی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی تھی، جس کلاس سے ان کا تعلوق تھا وہاں ایسی شکلیں عام تھی اور جن کی نہیں ہوتی تھیں وہ تراش خراش سے بنوا لیتی تھیں پر پھر اریزے سب سے مختلف تھی.
سر کچھ چاہیے آپ کو اریزے نے بلاخر پوچ ہی لیا تھا..
جی… میرے روم میں آیئں.. عثمان کو اپنی حالت پے شدید غصہ آیا تھا..
چلو اریزے مادام… U & U کارپوریشن اور اس کے مضافات میں تمہاری پیشی کا وقت ہوا چاہتا ہے… اس نے خود کلامی کی تھی. اور دھڑکتے دل کے ساتھ دروازے پے دستک دی..
کم ان… اپنی روب جماعتی بھری آواز میں اجازت دی تھی.
مس اریزے مجھے امید ہے آپ کی ورکنگ کمپلیٹ ہو گی تو پلیز مجھے فائل دے دیں تا کے میں دیکھ سکوں..
اس نے آیات لکرسی کا ورد کرتے ہوے فائل عثمان کو پکڑائی تھی. اور اب وہ بغور اس کا جائز لینے میں مصروف تھا.
اریزے کو لگا جیسے جیسے وہ فائل کو دیکھ رہا ہی اس کا موڈ اوف ہوتا جا رہا تھا. اسے اپنا سانس روکتا ہوا لگا آج پھر اس کی کلاس پاکی تھی.
آپ کا فورمیٹ اچھا ہے، پرآپ کی اور آل ورکنگ میں مسٹیکز ہیں، کہیں پے اسٹاک آوٹ ہوا ہے تو ان نہیں ہو رہا اور جہاں ان ہوتا نظر آرہا ہے وہاں پے آوٹ کا کوئی ذکر نہیں ایسے تو پتا نہیں چلے کا رمیننگ کونٹیٹی کتنی ہے. گریڈز کی نمبرنگ بھی آپ نے منشن نہیں کی تو پتا کیسے چلے گا کے کون سے گریڈ کی بات ہو رہی ہے.
مارے گئے، وہ سر نیچے کے انگلیاں مڑوڑ نے میں مصروف تھی جیسے فائنل ایگزم کے رزلٹ کے وقت فیل ہونے والے بچے کھڑے ہوتے ہیں.
لوٹس نمبرز بھی مسنگ ہیں، آرڈر لیتے ہوے اگر آپ کے پاسس لوٹس نمبر نہیں ہیں تو پھر آپ کو کیسے یاد رہے گا کے کون سی لوٹس سے میٹریل جائے گا.
اب وہ شرمندگی سے ہونٹ بھینچ رہی تھی.
ایئرلی پلاننگ کی بات کریں تو آپ کی شیٹ کی سب سے بڑی مسٹیک یہ ہے کس کسٹمر نے کس سیزن میں کتنا کنزیوم کیا پتا ہی نہیں چل رہا. تو پھر اپ کمینگ سیزن کے لئے فورکاسٹنگ کیسے ہو گی. اور اس کے بغیر یہ قطعی بےکار ہے.
اف الله… اریزے کو اپنی حماقتوں پے چکر سا آیا تھا، اور ساتھ اپنی بےعزتی پے رونا آیا، آفٹر آل یہ اس کی پہلی پروفیشنل بےعزتی تھی.
عثمان نے بھرپور نظر اس پے ڈالی. اور پھر تشویش بھری نظروں سے دیکھتے ہوے فائل اس کی طرف بڑھائی..
امیزنگ… اگر کام میں غلطیاں ہو تو کیا ایسے بدحواس ہو جاتے ہیں ؟؟ عثمان نے گہری سانس لی تھی.
دیکھو اریزے… کوئی بھی ایک دن میں کچھ نہیں سیکھ لیتا، محنت کرنی پڑتی ہے، اپنی غلطیوں سے سیکھنا پڑتا ہے،
غلطیاں کرنا کوئی غلطی نہیں ہوتی بلکے اپنی غلطیوں سے نہ سیکھنا غلطی ہے. اس لئے آپ غلطیاں ضرور کیجئے لیکن ان کی اصلح بھی کریں اور جب کوئی آپ کی غلطیوں کی نشاندہی کرے تو اس کو غور سے سنے. تاکے اگلی دفعہ کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہ پڑے.
میں اب جاؤں ؟؟ اس نے ابھی تک نظرین جھکائی ہوئی تھی وہ بار بار پلکیں جھاپک رہی تھی جیسے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہو.
جی ضرور… مگر آخری غلطی بھی سنتی جائیں جب کبھی کوئی رپورٹ آپ بنائیں تو اس پے اپنے نام کے ساتھ سگنیچر کا کالم بھی بنایا کریں.
اف.. بےاختیار اس کے منہ سے نکلا تھا جبکہ عادت سے مجبور ہو ہاتھ ماتھے پے مارا تھا. میں خیال کروں گی سر اگلی دفعہ آپ کو کوئی شکایات نہیں ہوگی.
اوکے.. عثمان نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوے کہا تھا. جبکہ اریزے تیزی سے روم سے بھر نکل گئی تھی اسے ڈر تھا کے کہیں پھر کوئی غلطی اس کے آڑے نہ آجاے.
………………………………..
شانزے تھک ہار کے اپنی مخصوس جگہ کی طرف چل دی تھی، اتنا تو وہ جانتی تھی کہ یوسف آیا ہے تو پھر کہاں چھپ کے بیٹھا.. وہ اپنے خیالوں میں چل رہی تھی یہ الگ بات ہے کے اس کے خیال اتنے زور دار تھے کے دوسرے لوگ بھی آسانی سن سکتے تھے..
گھر کیا چھوڑا احسان کر دیا مجال ہے ایک بار پالت کے خبر بھی لی ہو… کوئی حد نہیں ہے اس لڑکے کی..کوئی ایسا کرتا ہے کیا.. ایک نمبر کا بدتمیز انسان ہے.. اپنے علاوہ کسی کی کوئی پرواہ نہیں… مجال ہے جو کہیں نظر آیا ہو پتا نہیں کہاں چھپ کے بیٹھ گیا ہے، صبح سے ڈھونڈھ رہی ہوں… وہ اپنے آپ سے باتوں میں مصروف تھی تبھی فرش پے گرا پانی نہیں دیکھ پائی اس لئے سلپ ہوئی لیکن اس سے پہلے گرتی اس نے خود کو کسی کے مضبوط حصار میں پایا تھا…
ایک منٹ کو وہ پلکیں جھپکنا بھول گئی تھی، ووہی تھا دشمن جان جسے صبح سے ڈھونڈ رہی تھی.. دونوں کی نظریں کچھ پل کے لئے ایک دوسرے پے جم گئی تھی. شانزے کو جلدی اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ خود کو اس کی بازوں کے احصار سے نکالے کی کوشش کرنے لگی جبکہ یوسف اسے اپنی پرسنل پراپرٹی سمجھتے ہووے چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: