Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 13

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 13

–**–**–

جس لڑکی سے مجھے پیار ہو گا وہ دنیا کی حسین لڑکی ہو گی اس کی اپنی آواز کانوں میں گنجی تھی. جب وہ میری طرف دیکھ گی تو تو ہوا میں خوشبو پیھل جائے گی… اسے لگا ہر طرف خوشبو بھکر رہی ہے شانزے کی سانسوں کی خوشبو وہ ہوا میں محسوس کر سکتا تھا. یوسف نے اس کے چہرے پے آتی لاٹوں کو کان کے پیچھے کیا تھا اسے ان لاٹوں کی مداخلت بہت زہر لگی تھی. اس نے بغور شانزے کے چہرے کو دیکھا تھا، کھلا کھلا چہرہ، غصے اور معصومیت کے ملے جلے احساس لئے اسے بہت پیارا لگا تھا. ایک عجیب دلکشی تھی اس چہرے پے بلا شبہ وہ خوبصورت لوگوں میں شامل ہوتی تھی. لیکن ایسا بھی نہ تھا کہ وہ آخری حسین لڑکی ہو لیکن کچھ تھا اس میں جو اسے خاص بناتا تھا… ہاں..!!! اس کی کالی سیاہ مقناطیسی آنکھیں جو دیکھنے والوں کو سحرزادہ کرتیں تھیں. یہی اسے دوسروں سے منفرید کرتی ہیں اتنی کالی آنکھیں تو اس نے کبھی نہیں دیکھیں تھیں. وہ جب بھی انھیں دیکھتا تھا ایک عجیب احساس اس جگڑ لیتا تھا. جیسے یوسف کی نظریں تھیں کے جم کے رہ گیں تھیں، جبکہ شانزے کی نظریں جھک گیں تھیں. یوسف کو جلدی اپنی حالت کا اساس ہوا تھا. اپنے جذبات پے قابو پاتے ہوے مصنوعی غصے سے شانزے سے بولا.
تمہارے دماغ کے سکریو ڈھیلے ہیں یہ تو مجھے پتا ہے لیکن یہ ہیڈ لائٹ جیسی آنکھیں کیا ان کے سارے سکریو بھی تمہارے دماغ کی طرح ڈھیلے ہیں ؟ ہر بار بچانے نہیں آؤں گا سمجھیں. اس نے اپنا کالرجھاڑا تھا.
ایکسٹیوز می…!!! میں نے تمہیں انویٹیشن نہیں بھیجا تھا کے مسٹر یوسف میر میں مثبت میں پڑنے والی ہوں او اور اکر مجھے بچاؤ، تم خود آے تھے… وہ کہ کر لائبریری کی طرف بڑھ گئی تھی. شانزے کو کتنی دیر یقین نہیں آیا تھا اپنی آنکھوں پر لیکن یوسف کی باتوں نے تو جیسے آگ ہی لگا دی تھی اس لئے شانزے نے ساری مروت سائیڈ میں رکھتے ہوے کہا تھا. حالانکہ کتنی دن سے وہ سب جملے رٹ رہی تھی جو اس نے یوسف کو کہنے تھے پر اس کو دیکھتے ہی جیسے وہ سب بھول بھال گئی تھی گجنی کے عامر خان کی طرح اس لئے چپ چاپ کھسکنے میں ہی آفیت جانی…
یوسف کے ہونٹوں پی ہنسی پہلی تھی اس سے پہلے کے وہ لائبریری میں داخل ہوتی وہ اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا.
کیا مثلا ہے اب…؟؟؟ شانزے اکتائی تھی.. دراصل وہ نہیں چاہتی تھی کے یوسف اس کے دل کا راز پا لے.
لسن… کیا ہم بغیر لڑے، سکون سے دو منٹ بات کر سکتے ہیں..؟؟؟ یوسف کی آنکھوں میں محبتوں کے رنگ پہلے تھے.
اور شانزے کے لئے ان سے بچنا مشکل ہو رہا تھا، وہ جتنا گریز کر رہی تھی اتنا ان کی نظریں تک ر رہی تھیں.
کر سکتے ہیں اگر تم اپنا یہ دی گریٹ والا ایٹیٹیوٹ سائیڈ میں رکھ دو تو…
اوکے تو رکھ دیا… یوسف نے مثنوی انداز میں بولا.
اس کے انداز پے ہنسی آئ، اب بولو بھی… شانزے مزید ان میں دیکھ نہ سکی اس لئے نظریں چرا گئی تھی جبکہ یوسف کو اس کا نظریں چرانا بڑا دلکش لگا تھا. وہ کیا کہنا چاہتا تھا شانزے کی مسکراہٹ دیکھ کر سب بھول گیا تھا.
بولو بھی کیا ہوا، شانزے نے اس کے سامنے ہاتھ لہرایا تھا..
ہاں..!! وہ…!! کیسی ہو تم..؟؟ کہاں تھیں اتنے دن سے ؟؟ یوسف کو بات کرنے کے لئے اس سے اچھا جملہ نہیں ملا تھا.
واہ کیا انداز ہے جناب کا… بڑی جلدی خیال آگیا، شانزے نے دل میں سوچا. میں ٹھیک ہوں اور ویسے آپ کی معلومات میں اضافہ کر دوں کہ میں کل بھی آئ تھی پر آپ غائب تھے… آخر کے لفظ کافی چبا کر ادا کیے گئے تھے..
اوہ – تو تم مجھے مس کر رہی تھیں… یوسف نے جان بوجھ کر مس کا ورڈ یوز کیا تھا.. جب کے خود دیوار سے ٹیک لگے اطمینان سے اس پاس کے نظارے کر رہا تھا.
یو نو وہاٹ… انسان بلی پال لے پر خوشفہمی نہ پالے… وہ لائبریری کی طرف بڑھی تھی.
اچھا تو پھر صبح سے ڈھونڈنے کی کوئی خاص وجہ، ابھی کچھ دیرپہلے شاید کچھ ایسی آواز آرہی تھی یہیں کہیں سے… وہ بھی ڈھیٹ ابن ڈھیٹ تھا اتنی آسانی سے ہار کیسے مان لیتا…
شانزے کو بریک لگا تھا، اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یوسف سب سن چکا ہے. تو کیا وہ اس کا انتیظار کر رہا تھا اور یہ انکشاف شانزے کے اوسان خطا کرنے کے لئے کافی تھا… وہ اصل میں… میں… شانزے کے لفظ اس کا ساتھ نہیں دے پا رہے تھے..
کیا ؟؟؟ یوسف نے اس کی کالی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا تھا. شانزے کی ایسی حالات دیکھ کر اسے کافی مزہ آرہا تھا. کیونکہ اب سے کچھ دیر پہلے والی شانزے کہیں غائب ہو گئی تھی. اس کا سارا اعتماد ہوا ہوگیا تھا. اس کے چہرے پے اطراف لکھا تھا…
وہ اصل میں… میں اس دن کے لئے تمہیں تھنکس بولنا چاہ رہی تھی. شانزے نے بلاآخر اپنی بات مکمل کی تھی.
اوہ…. تو اب بول دو… یوسف نے بظاھر لاپرواہی سے کہا تھا. لیکن شانزے کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی. کچھ پل کے لئے تو لگا کے یوسف اس کے دل کا راز پا گیا ہے..
کیا…؟؟؟ بہت ہمت کر کے شانزے نے جھجکتے ہوے کہا تھا.
وہ جو شانزے حسان کہنا چاہتی ہے پر کہ نہیں پا رہی… یوسف وہاں روکا نہیں تھا وہ جو جانا چاہتا تھا جان چکا تھا وہ جو کہنا چاہتا تھا بنا کچھ کہے بھی کہہ گیا تھا، اور شانزے اسےتب تک دیکھتی رہی تھی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہں ہو گیا تھا،تو بلاآخرآگہی کا لمحہ اکر گزر گیا تھا.. خاموشی سے… اور نئی داستان کی بنیاد رکھ دی گئی تھی. دو دلوں کی داستان… محبت کی داستان..
……………………………………….
کیا ہوا اسلم کس بات کے لئے پریشان ہے. کیوں ادھر سے ادھر غصہ کرتا پھر رہا ہے. اماں نے اسلم کو ٹوکا تھا جو چیزیں یہاں سے وہاں پٹخ رہا تھا. اماں تو چپ کر جا تو نہیں سمجھے گی کیا مثلا ہے، ماں ہو تیری ایسے نہیں تجھے اتنا بڑا کیا. اماں نے لاڈ سے اس کے سر پے ہاتھ پھیرا تھا، وہ صاحب ہے جو زینب کا پتا کرنے آتا ہے اس نے کل آنا تھا پر نہ تو وہ آیا اور نہ اس کا کوئی فون آیا اتنے مہینوں میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا، کہیں ایسا تو نہیں اس کو سب پتا چل گیا ہو میرے سونے کا انڈا دینے والی مرغی میرے ہاتھ سے نکل گئی ہو. اسلم نے پریشانی کے علم میں اماں کو بولا تھا. جبکہ اماں حقہ بقہ سی رہ گیں تھیں. ان کا بیٹا لالچ کے دلدل میں پھسا تھا یہ تو وہ جانتی تھیں پر اس حد تک یہ تو انہوں نے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا. دیکھ اسلم بیٹا اتنا لالچ اچھا نہیں ہے. تو بتا کیوں نہیں دیتا سب کچھ اس کو مجھے تو بڑا بھلا آدمی لگتا ہے. برا ترس آتا ہے بیچارے پر کیا بیتے گی اس پے جب اسے پتہ چا لے گا.
اوہو اماں اب تو اپنا سبق نہ شروع کر دینا. ہزار دفع کہا یہ تیرے سبق آج کل نہیں چلتے. آج کل صرف پیسہ چلتا ہے پیسہ اسلم ماں کی بات سے متفق نہیں تھا. میں جانتی ہوں سبق پرانا ہے پر بیٹا ہرزمانے کے لئے دیا گیا سبق ہے یہ، نئی بنیادیں وہی لوگ رکھتے ہیں جو اس راز سے واقف ہوں کے ماضی میں بیٹھ جانے والی بنیادوں کی کیا وجہ تھی. دیکھا بیٹا الله کی لاٹھی بےآواز ہے کسی کا صابر نہیں آزماتے میرے بچے، صبر کرنے والا صبر کر کے اگربھول بھی جائے لیکن الله کسی کا صابر رائیگاں نہیں جانے دیتا وہ سب یاد رکھتا ہے. دکھی دل سے نکلی آہ تو سیدھا عرش پے پہنچتی ہے. اماں یہ دیکھ میں تیرے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں اس نے سچ میں ہاتھ ہی جوڑے تھے. اس کا صبر پڑے نہ پڑے پر تیری چیکچک ضرور پڑ گئی ہے، تبھی صاحب نہیں آیا. اور یاد رکھنا اماں اگر وہ نہ آیا نہ تو ہم سب بھوکے مریں گئے. اس نے تقریبن ماں کو دھکہ دیا خود باہر نکل گیا تھا. اماں اور آمنہ دونوں ہی ایک دوسرے کا منہ دیکھتی رہ گیں تھیں. میں ڈرتی ہوں آمنہ کہیں اس کا لالچ ہمارے آگے ہی نہ آجاے. تو سمجھا اسے بیٹا. انہوں نے پاسس بیٹھی بہو کو بارے مان سے کہا تھا جو ان کی ہی طرح پریشان تھی جانتی ہوں اماں پر وہ آپ کی نہیں سنتے تو میری کہاں سنیں گئے. لیکن پھر بھی میں بات کرنے کی کوشش کروں گی.. اس نپسس بیٹھے اپنے بیٹے کے منہ میں آخری نوالہ ڈالا تھا.
…………………………………………..
عثمان ناشتے کے لئے آیا تو حسین بھی وہاں موجود تھے. شاہینہ اور حسین شاید کسی اہم موزو پے بات کر رہے تھے تبھی دونوں کافی سیریس نظر آرہے تھے کیوں یہ بات وہ اب بہت اچھی طرح جانتا تھا.
خیریت ہے پاپا آپ گئے نہیں ابھی تک ؟؟ عثمان نے چیرکھنچ کر بیٹھا تھا.
ہاں.. بس نکل رہا تھا. وہ آج مجھے اسلم سے ملنے جانا ہے. کافی دن سے جا نہیں پایا.
اسلم ؟؟ کون اسلم پاپا ؟؟ عثمان نے چاے کا کپ منہ سے لگایا تھا.
بیٹا وہی تو ہے جو مجھے زینی کے بارے میں تھوڑی بہت انفورمیشن دے پایا ہے. انہوں نے اس کی بات کی وضاحت کی تھی صاف ظاہر تھا وہ نہیں چاہتے پھر کوئی غلط فہمی ہو. حسین کی آواز میں اتنی بیچارگی تھی کہ عثمان چاہ کر بھی نظر انداز نہیں کر پایا. اسے پاپا سے شرمندگی ہوئی تھی.یہی وجہ تھی کہ وہ مزید کچھ کہ نہیں پا رہا تھا.
پاپا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی. حسین آفس کے لئے نکل رہے تھے کہ عثمان نے آواز دی.
آجاؤ- ساتھ میں چلتے ہیں بات بھی ہوجاے گی. حسین دروازہ سے باہر نکل گئے تھے. عثمان پیچھے چل پڑا تھا. اسے پہلے کے ڈرائیور اپنی سیٹ سمبھلتا عثمان ڈرائیونگ سیٹ پے براجمان تھا. رحمان آپ میری گاڑی لے کے آفس آجائیں، آج کے لئے میں ہی پاپا کا ڈرائیور ہوں اس نے پاپا کو مسکرا کر دیکھا تھا کیوں پاپا ٹھیک ہے نا.
وہ دونوں اب شہر کی مصروف ترین شاہراہ پے موجود تھے، تمہیں کچھ بات کرنی تھی حسین اپنے بیٹے کی مشکل آسان کرتے ہوے بولے. پاپا میں آپ سے زینب آئ مین زینب پھوپھو کے بارے میں بات کرنا چاہ رہا تھا. عثمان نے جھجکتے ہوے کہا تھا. وہ ایک ایک لفظ سمبھال سمبھال کے ادا کر رہا تھا، پہلے ہی وہ کافی تکلیف دے چکا تھا اب مزید کوئی دکھ پہنچے یہ اس کو گوارہ ہی کب تھا.
ہاں بیٹا ضرور بولو کیا بولنا چاہتے ہو. حسین نے اسے حوصلہ دیا تھا.
پاپا میں چاہتا ہوں کے میں بھی آپ کے ساتھ اسلم سے ملنے چلوں، اگر آپ کو اعتراض نا ہو پاپا میں چاہتا ہوں کہ ہم مل کے پھوپھو کو ڈھونڈے پلیز پاپا..
حسین کے لب ہی نہیں بلکے آنکھیں بھی مسکرائیں تھیں ایک سکون تھا جو ان کے چہرے پے پہل گیا تھا. اور وہی سکون عثمان نے اپنے اندر بھی محسوس کیا تھا اسے اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا.
………………………………………
کہاں تھے تم ؟؟ کل بھی غائب رہے اور آج بھی جب سے آے ہو غائب ہو. رانیہ نے یوسف کو کڑے تہواروں سے دیکھا تھا..
کہاں ہونا تھا… بس یہاں ہی ہوں.. کچھ کام تھا اس لئے کل نہیں آسکا… اور ابھی بس لائبریری تک ہی گیا تھا، لیکن تم تو ایسے پوچھ تاج کر رہی ہو جیسے پولیس میں ہو گئی ہو اور میں کوئی فرار مجرم. یوسف نے تپے ہوے انداز میں جواب دیا تھا.
رانیہ کو ہنسی آگئی تھی نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا.. اصل میں کافی دیر سے تمہیں ڈھونڈھ رہی تھی لیکن تم مل نہیں رہے تھے.ہاں کیوں کہ میں نے سلیمانی ٹوپی پہن لی تھی… یوسف کا انداز ابھی بھی کافی ٹپ ہوا تھا.
اچھا موڈ ٹھیک کرو- تمہیں کچھ بتانا ہے، سنا ہے اسٹوڈنٹ ویک سٹارٹ ہو رہا ہے اس کے بعد فائنل پیپرز ہیں اس کے بات گرینڈ پارٹی اور پھر ہم یونیورسٹی سے آزاد رانیہ نے گول گھومتے ہوے دونوں بازو ایسے پہلاے تھے جیسے کھلے آسمان پے کوئی پرندہ اپنے پر پہلا رہا ہو.
ارے واہ سٹوڈنٹ ویک – پارٹیسپٹ کرنے کی لاسٹ ڈیٹ کیا ہے. اس کی اتنی لمبی لسٹ میں یوسف کو صرف ایک یہی بات قابیلے غور لگی تھی.جس سے اس کا موڈ بھی بحال ہو گیا تھا.
وہ تو میں نہیں جانتی پر سنا ہی ایک دو دن میں آناوسمینٹ کر دی جائے گی آڈیٹوریم میں.
خبر لائیں وہ بھی آدھی ادھوری.. یوسف نے کمینٹ پاسس کیا تھا..
یوسف میں تمہاری دوست ہوں جاسوس نہیں ہوں… اب کی بار رانیہ کو برا لگا تھا.
اچھا چلو خیر ہو گئی… دیکتے ہیں پھر کون کون ہیں کمپیٹیشن میں یوسف نے کچھ سوچتے ہوے کہا تھا..
کوئی بھی ہو مجھے یقین ہے جیتو گئے صرف تم… رانیہ کے لہجے میں بے پناه محبت تھی اس کی لو دیتی آنکھیں کسی کو بھی چونکا دیتی پر یوسف تو جیسے اندھا ہو گیا تھا اسے یہ سب نظر کہاں آتا تھا، یا پھر وہ جن کیے بھی انجان تھا اور اب شانزے کے ہوتے ہوے تو سوال ہی نہیں ہوتا کیے وہ کسی اور کی طرف توجہ دے پھر چاہے وہ رانیہ ہی کیوں نہ ہو. پر رانیہ کو اس سب کی خبر ہی کہاں تھیں. وہ دونوں ہی خیالوں میں گم تھے وہ الگ بات ہے کے یوسف شانزے کے اور رانیہ ، یوسف کے خیالوں میں گم تھی.
…………………………………………
عثمان اور حسین دونوں اسلم کے دروازے پے کھڑے تھے، عثمان پے حیرتوں کا پھاڑ ٹوٹ تھا کے اس کی پھوپھو یہاں ایسے کسی علاقے میں ہو سکتی ہیں. لیکن فلحال خاموشی کے علاوه کوئی چارہ نا تھا.
بار بار دروازہ بجانے پر اسلم نے دروازہ کھولا تھا اور وہ عثمان کو دیکھ کر گھبرا گیا تھا کیوں کے آج سے پہلے حسین ہمیشہ اکیلے آتے تھے.
صاحب یہ اپنے ساتھ کس کو لاے ہو. اسلم نے ڈرتے ہوے پوچھا تھا.
گھبراؤ نہیں یہ میرا بیٹا ہے. حسین اس کی گھبراہٹ بھانپ گئے تھے.
کیا صاحب آپ نے اتنے دن لگا دیے آنے میں اسلم نے بات شروع کی تھی.
ہاں وہ کچھ مسلے تھے. تو ان کی واضح سے مصروف رہا. تم بتاؤ کوئی خبر ہے، زینب ملی تمہیں ؟؟ حسین کی آواز میں بیچنی تھی.
خبر تو ہے میرے پاس… پر آپ تو جانتے ہو نہ جب تک پیٹ میں کچھ نہ جائے تو…. خبر نکلتی نہیں ہے مجھ سے… اسلم نے کمینگی سے کہا تھا..
دیکھو اسلم… میں تمہیں پہلے ہی اتنے پیسے دے چکا ہوں لیکن آج تک تم مجھے ایک بھی ڈھنگ کا ثبوت نہں دے سکے سواے اس کی چند پرانی چیزوں کے آخر کب تک میں تمہیں ایسے ہی پیسے دیتا جاؤں… اگر تم جانتے ہو تو آخر بتاتے کیوں نہیں کہ وہ کہاں ہے.
صاحب میرا کام کرنے کا یہی سٹائل ہے بنا پیسوں کے مجھ سے کام نہیں ہوتا..
آپ امیروں کا بھی عجیب ہے پہلے تو اپنی عورتیں سمبھلتی نہیں ہیں پھر انھیں یوں گلیوں بازاروں میں ڈھونڈتے پھرتے ہو… اور صاحب آپ کو تو معلوم ہونا چاہیے نہ کے گھر سے بھاگی اورات کو ڈھوڈنا اتنا آسان نہیں ہوتا وہ تو راہ چلتے پھول کی طرح ہوتی ہے جس کو آتا جاتا ہر شخص سونگھتا ہے… اسلم نے اپنی ساری حدیں پار کر دیں تھی.
جانے خون کا اثر تھا یا کیا ، عثمان جس نے ایک بار بھی پاپا اور اسلم کے درمیان مداخلت نہیں کی تھی اس کے ایسے الفاظ برداشت نہیں کر سکا اس نے بڑھ کر اسلم کا گریبان پکڑا تھا، منہ سمبھال کے بات کرو ورنہ تمہارا منہ توڑ گا سمجھے..
میں نے کچھ غلط نہیں کہا صاحب.. آپ خود ڈھونڈھ رہے ہو اسے…
بات بگڑتی اس سے پہلے ہی حسین نے عثمان کا ہاتھ پکڑا تھا وہ اب دونوں کو الگ کر رہے تھے. بھاگی نہیں تھی میری بہن… بھاگی نہیں تھی وہ… حسین کی آواز اتنی سخت تھی کے عثمان کے ساتھ اسلم ہی حیران رہ گیا تھا اس نے آج تک حسین کو التجہ کرتا ہی دیکھا تھا.
ٹھیک ہے صاحب بھاگی نہیں تھی ، اگر ملنا ہوتا تو وہ خود آسکتی تھی، اسلم نے اپنی بات جاری رکھی تھی. اب ان حالات میں ڈھونڈنا تھوڑا تو مشکل ہے نہ، اس نے پینترا بدلہ تھا وہ نہیں چاہتا تھا کے بات بگڑے اور وہ پیسوں سے ہاتھ دھو بیٹھے.
کتنے پیسے چاہیے تمہیں ؟؟ عثمان سے اس کی بات کاٹی تھی،
ایک لاکھ روپے.. اسلم کے لئے تو یہ سنہرا موقع تھا.
ٹھیک ہے، میں تمہیں دس لاکھ دوں گا… حسین نے روکنا چاہ تھا پر عثمان نے کچھ بھی کہنے سے روک دیا تھا،
دس لاکھ… اسلم نے زیر لاب ڈھورایا تھا..
ہاں دس لاکھ لیکن ان کا پتا ملنے کے بعد… پتا بتاؤ اور دس لاکھ لے لو… ورنہ ایک روپیہ بھی نہیں… عثمان گاڑی کی طرف چل دیا تھا اور حسین نے اس کی پیروی کی تھی. وہ جانتے تھے کہ ان کا بیٹا چال چل گیا تھا انتظار تھا تو اس بات کا کہ اسلم اس میں کب پھستا ہے… کیونکہ یہ بات تو وہ جانتے تھے تھے کہ آج نہیں تو کل اسلم اپنے لالچ کے ہاتھوں اس چال میں پھس ہی جائے گا… اور ایسا ہوا بھی تھا اسلم کو صرف ایک ہی آواز سنی دے رہی تھی… دس لاکھ….
………………………………
اریزے نے دل لگا کر بہت محنت سے شیٹ تیار کی تھی اور کوئی دس بار وہ اس شیٹ کو دیکھ چکی تھی. اب جلدی تھی تو اس بات کی کے کب عثمان آے اور وہ اس کو دیکھاے. اسے پورا یقین تھا کہ اس بار تو عثمان اس کی محنت کو ضرور سراہے گا. پر عثمان تھا کے آہی نہیں رہا تھا. ٣ دن گزر گئے تھے. اور تین دن میں نجانے کتنی بار وہ اس شیٹ پے کام کر چکی تھی اور اب وہ ہر لہٰذ سے پرفیکٹ تھی کسی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں تھی اس میں. لیکن مشکل یہ تھی کہ جس کے لئے محنت کی تھی وہ جناب آج بھی غائب تھے اور آنے کا کوئی آثار نظر نہیں آرہا تھا.
اور مصیبت یہ تھی آج عمیر بھی نہں آیا تھا، اس لئے وہ کافی بور ہو رہی تھی کیوں کے جب دونوں باس نہں ہوتے تھے تو آفس میں کام نا ہونے کے برابر ہوتا تھا. اس لئے وہ اپنی چیر پے براجمان بڑے شوق سے گلاس ونڈو سے بھر کے نظروں میں مصروف تھی آج کل موسم خوش گوار تھا. تقریبن روز شام میں پوہار پر جاتی تھی جس نے موسم کی دلکشی بڑھا دی تھی. ہر چیز نکھری نکھری سی لگتی تھی. قدآورکھڑکی سے نیلا آسمان دیکھنا بڑا بھلا لگتا تھا. اس لیے وہ جب بھی فارغ ہوتی تو وہاں باہردیکھنے لگتی. کبھی تو دل کرتا کے وہ بھی آسمان میں پرندوں کے کسی جھرمٹ میں شامل ہو کر ان کی طرح پر پھلاے اڑنے لگے… سورج کی کرنوں سے آنکھہ مچولی کھیلے…. بادلوں کی نرمی کو محسوس کرے… یا پھر آسمان کا نیلا رنگ اپنے اوپر اوڑھ لے… اس ہمیشہ ہی آسمان کا نیلا رنگ اپنی طرف کھنچتا تھا، اور اس وقت تو بات ہی الگ تھی… آفس میں بیل بجنے کی آواز نے اسے چونکا دیا تھا. اس کا مطلب تھا کہ عثمان یا عمیر میں سے کوئی آفس آگیا ہے. تو کیا وہ اتنی بےخبر تھی کے اسے احساس ہی نہیں ہوا. اریزے کا دل چاہا کے اپنی حالت پی ماتم کرے لیکن بہرحال اب فائدہ نہیں تھا سواے اس کے ، کہ وہ دعا کرے عثمان نہ ہو. ورنہ کتنی بےعزتی ہو گی اس کی. ابھی تو وہ لاسٹ ٹائم والی ہی نہیں بھولی تھی. وہ لاحول پڑھنے لگی تھی.
میڈم آپ کو سر بولا رہے ہیں. پیوں نے اکر اطلاع دی تھی. جس کا مطلب تھا عمیر آیا ہے، کیوں کے عثمان کسی کو بھی بلانے کے لئے انٹرکام استعمال کرتا تھا یا پھر خود جاتا تھا پاس. اریزے کا روکا ہوا سانس بحال ہوا تھا. وہ دروازہ نوک کرتی اندر داخل ہوئی تھی. لیکن اندر بیٹھے شخص نے اس کے ہوش اڑنے کے لئے کافی تھا. اریزے کا رنگ اوڑھ گیا تھا فلل اےسی میں بھی اسے پسینہ آرہا تھا. عثمان نے اس کی بدحواس ہوتی شکل کو غور سے دیکھا اور نہ چاہتے ہوے بھی اس کے چہرے پے ہنسی پھل گئی تھی.
اریزے.. آر یو اوکے ؟
جی سر… آئ یم… پر آپ یہاں ؟؟ کیسے ؟؟؟ میرا مطلب کیوں آے… نہیں میرا مطلب کب آے ؟؟ اریزے کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بولے، اور ہمیشہ ایسا ہی تو ہوتا تھا نہ جانے عثمان کے سامنے ہی کیوں اس کا دماغ کام کرنا بند کر دیتا تھا.
جبکہ عثمان کو اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا تھا. کیوں اریزے آپ کسی اور کو ایکسپیکٹ کر رہی تھیں ؟؟
سوری سر… میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا. اریزے کو شرمندہ ہوئی تھی اور دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگی تھی.
ایٹس اوکے، اریزے آپ شیٹ لے آؤ تاکہ آج اسے فائنل کر لییں. اس کا اترا اترا چہرہ عثمان کو بلکل اچھا نہیں لگا اس لئے اس نے بات بدلی تھی.
جی سر، وہ جانے کے لئے پلٹی تھی جب عثمان کی آواز نے اسے روکا تھا.
ویسے میں اس وقت آیا تھا جب آپ دور کہیں آسمانوں میں اڑ رہیں تھیں. وو بظاھر ایک فائل میں مصروف ہوتے بولا. انداز بہت عام سا تھا لیکن اریزے کو چونکہ گیا تھا. تو کیا سر سوچیں بھی پڑھ لیتے ہیں.. وہ سوچتی آفس سے نکل گئی تھی.
عثمان اب بھرپور انداز میں مسکرایا تھا کیوں فائل میں دیکھنے کے بعد بھی وہ جانتا تھا اریزے کا چہرہ کیسا دیکھ رہا ہو گا. اور پھر وہ اسے کیا بتاتا کہ وہ لمحہ اس کے لئے کتنا قیمتی تھا. کتنا نکھرا چہرہ تھا اس کا. معصوم دنیا بھر کی سنجیدگی لئے. کتنا سکون تھا اس کے چہرے پے، کتنے رنگ دیکھے تھے اس نے اریزے کے چہرے پے. اس کا دل چاہا تھا وہ لمحہ تھام جائے اس لئے اس نے اس لمحے کو محفوظ کر لیا تھا. پر وہ اتنی بےخبر تھی کے یہ بھی نہ جان نہیں پائی کے عثمان کے فون میں قید کر لی گئی ہی.
دروازے پے اسٹک دیتی وہ اندر آئ تھی. سر شیٹ اس نے عثمان کے آگے رکھی.
بیٹھے… عثمان نے چئیر کی طرف اشارہ کرتے ہوے بولا.
اب بہت غور سے وہ شیٹ دیکھ رہا تھا. اریزے نے سکھ کا سانس لیا. اسے یقین تھا کہ ہر چیز پرفیکٹ ہے.
مس اریزے آپ غلطی جان بوجھ کر کرتی ہیں یا ہو جاتی ہے. انداز تہزائیہ تھا.
یا الله رحم… اب کیا ہو گیا… اریزے کو لگا کسی نے منوں پانی انڈیل دیا ہو.
کام کے وقت بھی آپ کا دیہان نہں ہوتا. آپ نے اس پے سگنیچر تو کے ہی نہیں ہیں تو کیسا پتا چلے گا کے یہ شیٹ کس نے بنی ہے اور اگر آپ اپنی عادت نہیں بنائیں گی تو کوئی بھی آپ کا نام استعمال کرسکتا ہے.
اس کا لہجہ سخت نہیں تھا. پر پھربھی اریزے کو صدمہ پہنچھا تھا کتنی محنت کی تھی اس نے. سر آپ نے تو کہا تھا کے غلطیاں کیجئے انسان اس طرح سیکھتا ہے. اتنا بےتکا جواز اریزے نے حد ہی کر دی تھی. نہایت معصومیت سے کہا گیا تھا اتنا کے تھوڑی دیر کے لئے تو مقابل کو حیران کر گیا تھا. نہ چاہتے ہوے بھی وہ ہنس پڑا تھا.
بلکل لیکن یہ بھی تو کہا تھا کہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے وہ اریزے کی خوبصورت آنکھوں میں دیکھتے ہوے بولا تھا. اریزے اس کی نظروں سے گھبرا گئی تھی اس لئے نظرین جھکا لیں تھیں. غلطی کرنا غلطی نہیں ہوتی بلکے اپنی غلطی کو دوہرانا یا پھر اس کو نظرانداز کرنا غلطی ہوتی ہے. اس نے شیٹ اریزے کی طرف بڑھائی تھی.
میں خیال رکھوں گی، اریزے نے شیٹ اپنی طرف کھنچ لی تھی.
ایک منٹ اریزے ، وہ سائن کرنے لگی ہی تھی کے عثمان نے اسے روک دیا تھا.
وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر اس کے پاس آیا تھا، یہاں یہاں سائن کیجئے ، وہ شیٹ کی طرف جھکا تھا، ایک ہاتھ اریزے کی چئیر پر اوردوسرے سے شیٹ پے وہ اریزے کو پائنٹ آوٹ کرنے لگا تھا.
وہ اس کے اتنا نزدیک تھا وہ کہ آرام سے اس کی پرفیوم کی خوشبو اپنی سانسوں میں شامل ہوتی محسوس کر رہی تھی اریزے نے چور نظروں سے دیکھا تھا. بلیک کلر کے تھری پیس میں اس کی شاندار پرسنیلٹی اور بھی شاندار لگ رہی تھی.
اس نے سائن کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تھا لیکن ہاتھ میں پکڑا پین لرز گیا تھا.
کیا ہوا ؟؟ عثمان نے اس کی ہاتھوں کی جنبش محسوس کی تھی.
دونوں کی نظریں کچھ لمحوں کے لئے ملیں تھیں. اس کی گھبراہٹ میں چھپا احساس محبت کا خوبصورت اعتراف عثمان سے چھپ نہیں پایا تھا. عثمان کے ہونٹوں پے بری دلخیز مسکراہٹ پہلی تھی. یہ بات تو روز اول سے تہہ تھی کے میدان چاہے کامیابی کا ہو یا محبت کا جیت اس کا مقدر ہو گی. یک ٹک اریزے کو دیکھ رہا تھا جو اب اس کے بتاے ہوے کالم میں سائن کر رہی تھی. عثمان کو لگا اچانک ہی محول بدل سا گیا تھا جیسے ہر طرف رنگوں اور خوشبو کی بارش ہو… اس سے یوسف کی کہی بات یاد آئ تھی.. لیکن جلدی ہی اس نے اپنی جذبات لوٹتی آنکھوں کو قابو میں کیا تھا کچھ بھی تھا یہ اس کا آفس تھا اور جذبات لوٹانے کے لئے جگہ کچھ موزوں نہیں تھی. اور اریزے سائن کرتے ہی وہاں سے چلی گئی تھی وہ جانتی اس کے دل نے جرم محبت کا اعطراف کر لیا ہے… عثمان اس کی کیفیت سمجھ سکتا تھا اس لئے اس کو روک نہیں.
………………………………
یوسف یونیورسٹی آیا تو موڈ بہت خوشگوار تھا.. وہ اپنے گروپ سے مل چکا تھا.. اب انتظار تھا تو شانزے کا پر وہ اس پاس کہیں نظر ہی نہیں آرہی تھی.. اس لئے وہ ڈیپارٹمنٹ کی طرف چال دیا تھا. جب وہ کلاسزز کی طرف جانے لگا تو شانزے کی ہنسنے کی آواز اس کانوں میں ٹکرائی…. جس لڑکی سے مھجے پیار ہو گا نہ وہ اس دنیا کی سب سے حسین لڑکی ہو گی… جب وہ ہنسے کی تو ہوا میں پھول بھکر جائیں گئے…. یوسف اپنے کہے لفظ یاد کر کے ہنس پڑا تھا… پر سامنے کا منظر دیکھ کر تو اس سے آگ ہی لگ تھی… سامنے شانزے تھی پر وارث کے ساتھ اور وہ دونوں کسی بات پر بڑے کھل کے مسکرا رہے تھے.. یوسف کو لگا غصہ اس کی نس نس میں لہو بن کے ڈور رہا ہے… اس کا دل چاہ وہ وارث کو اٹھا کر نیچے گراؤنڈ فلور پے پیھنک دے. اور ایسا تو ممکن ہی نہیں ہے نہ کے پیار ہو اور کھو جانے کا احساس نہ ہو، پیار ہو اور جلنے کا احساس نہ ہو، جب انسان کسی سے محبت کرتا ہے تو یہ سارے احساسس تو نہ چاہتے ہوے بھی آپ میں آہی جاتے ہیں.. تو پھر کیسے ممکن تھا کے یوسف محبت تو کرتا لیکن ان احساسات سے بچ جاتا. اس سے برداشت نہیں ہوا تو وہ بھاری بھاری قدم اٹھاتا وہ وہ ان دونوں کی جانب بڑھ رہا تھا..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: