Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 17

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 17

–**–**–

وہ دونوں مستقل ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے اس بات کی پرواہ کیے بغیر یہیں پاس میں کوئی ہے جو ان دونوں کو ساتھ بیٹھا دیکھ کے خوش نہیں ہے.. جلان کی.. حسد کی.. آنچ اتنی زیادہ تھی کہ نہ چاہتے ہوے بھی درد آنسو بن کر رانیہ کی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے. کیوں وہ نہیں جانتی تھی.. لیکن جبھی وہ دونوں کو ساتھ دیکھتی تو اس کی حالت ہی ایسی ہی ہوجاتی تھی. بنا مقصد ہی وہ اپنا مقابلہ شانزے سے کرنے لگی تھی. کیا تھا اس میں ہر لہٰذ سے وہ رانیہ سے کم تھی، نہ فیملی بیک گراؤنڈ… نہ کلاس.. نہ کوئی سوشل سرکل… عام سے کپڑے.. فیشن سینس… کچھ بھی نہیں تھا اس میں کے وو یوسف جیسے ہندسوم بندے کو ڈیزرو کرتی… اور حیرت تو اس سے یوسف پے ہوتی، کتنی لڑکیاں تھی جو اس پیے فدھا تھیں، اس کی ایک نظر پانے کے لیے مری جاتیں پر اسے نے کبھی انھیں لفٹ تک نہ کرائی تھی اور اب کرائی بھی تو کسے شانزے حسان ایک انتہائی عام لڑکی کو سانولی رنگت، عام سا حلیہ پھر بھی یوسف اس کو دیکھ کر سب بھول جاتا تھا .یہی وجہ تھی کہ وہ شانزے سے حسد کرنے لگی تھی.. اس بات سے بلکل بے خبر کہ “حسد ایک ایسا سانپ ہے جو جس کے اندر پلتا ہے.. سب سے زیادہ اسی کو ڈستا ہے”..
تو کیا لگتا ہے آپ سب کون ہے جو یوسف کی ٹیم کا دوسرا ممبر بنے والا ہے…
مس کلثوم کی آواز نے رانیہ کی سوچوں کا تسلط توڑا تھا.
ایک بار پھر حال میں بیٹھے دو لوگوں نے دعا کی تھی… ایک نے شانزے کا نام آنے کے لیے اور ایک نے نام نہ آنے کے لئے… جگہ وہی… حالات وہی… دعا وہی… لیکن اس بار وہ دو لوگ رانیہ اور یوسف تھے… قبولیت کا وقت اکر گزر گیا تھا. دعا قبول ہو گئی تھی.. وہ دونوں جو پچھلے ٢:٣٠ منٹ سے ایک دوسرے کو ایک ہی پوز میں دیکھ رہے تھے بلا آخر ان میں ہلچل ہوئی تھی.. اور یہ ہلچل یوسف کی مسکراہٹ نے کی تھی.. شانزے نے کچھ حیرانگی سے اس سے دیکھا تھا…
( ہے ہی کوئی نفسیاتی انسان شانزے نے جل کے دل میں بولا تھا. ویسے ہی اسے دکھ تھا وارث کے ساتھ نام نہ آنے کا اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہی تھا کے وہ اس کمپیٹیشن سے آوٹ ہے…. اوپر سے یوسف کی جان لیوا مسکراہٹ… اف… لیکن وہ تو ہنسے گا ہی نہ کیوںکہ ہمیشہ کی طرح اس نام نام جو آگیا ہے.)
سکرین پے یوسف کی ٹیم کے سیکنڈ ممبر کا نام اب چمک رہا تھا لیکن اس بار بھی دونوں کو کوئی فکر نہیں تھی.. کیوں شانزے نومید تھی جب یوسف کے چہرے پیے سکون ہی سکون تھا جیسے وہ جنتا تھا کے شانزے کا نام نہیں نے والا. شانزے کا دل چاہا وہ اٹھ کر کہیں بھاگ جائے صیح کہا تھا سب نے وہ دل میں خود کو کوس رہی تھی…
جبکہ ہال میں بیٹھا ہر شخض حیران تھا..
لیکن شانزے کو فکر تھی تو صرف یوسف کی بےوجہ کی ہنسی کی…
وہ کہ جانے واکی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی، تبھی یوسف نے اسٹیج کی طرف انگلی سے اشارہ کیا تھا اور عین اسی وقت مس کلثوم کی آواز مائک پے آئ تھی ” فرسٹ پوزیشن گوز ٹو مس شانزے حسان”….
اور شانزے پیے حیرتوں کا پہاڑ گر پیرا تھا وہ بے یقینی کے عالم کبی سکرین کی طرف دیکھتی تو کبھی یوسف کو…
تو کیا یوسف پہلے سے جانتا تھا… یہ تو ممکن ہی نہیں تھا… تو پھر کیا اس سے مجھ پے… نہیں یہ نہیں ہو سکتا یہ تو اس نے خود نہیں سوچا تھا کے وہ فرسٹ پوزیشن لے سکتی ہے وہ تو سکرین پے وارث کے ساتھ صفیہ کا نام دیکھ کر ہی امید ہار چکی تھی. صفیہ اچھی کومپیٹیٹر تھی پر اتنی اچھی یہ نہیں سوچا تھا اور فرسٹ پوزیشن تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی.. لیکن قسمت نے بھی عجیب دوراہے پے لا کھڑا کیا تھا…
اس وقت اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ ہنسے یا روے…
وہ اپنی کامیابی کی خوشیاں مناے یا پھر یوسف کی ٹیم میں ہونے کا سوگ…
تبھی سپیکر میں مانوس سی آواز گنجی تھی، مجھے یقین ہے کے آپ سب بہترین طلبہ ہیں. آپ میں سے کوئی کسی سے کم نہیں ہے اس لیے میں آپ سب کی شکر گزر ہوں کیوںکہ آپ لوگو کے پیر اور محبت سے ہی ہم یہ کومپیتیشن ارینج کرنے جا رہے ہیں. مجھے امید ہی آپ سب بھرپور طریقے سے شامل ہوں گئے اور جو اب اس کمپیٹیشن کا حصہ نہیں ہیں وہ اپنے ساتھیوں کو خوب سپورٹ کریں گئے… اب سے ٹھیک دو دن بعد آپ کو یہیں کوئز کومپیتیشن کے لیے آنا ہے، جیتنے والی ١٠ ٹیمز ہی آگے موو کریں گی. اور اگلا سرپرائز بھی آپ کو کوئز رزلٹ کے بعد بٹیا جائے گا، آووووو کے شور ساتھ ہی حال میں تالیاں بجنے کا شور بھی میز ہوا تھا جب مس کلثوم آناونسمنٹ پوری کر کے نیچے اتر رہی تھیں.
……………………………….
مبارکاں… مبارکاں…مہک، ذرا ور صبا نے ایک ساتھ کہا تھا جبکہ صبا نے محبت سے شانزے کو گلے لگایا تھا.
تھنک یو صبا.. شانزے کو شرمندگی ہوئی تھی کل جیسے اس نے صبا کو جھاڑا تھا.
اسے بلکل امید نہیں تھی کے صبا آج اس سے بات بھی کرے گی لیکن اس کے رویے سے کہیں بھی کوئی ناراضگی ظاہر نہیں تھی.
واہ – شانزے ماں گئے تم نے جو بولا وہ کر دکھایا، وی رئیلی پراوڈ اوف.. ذارا نے چہکتے ہووے کہا تھا.
ہاں بھئ سچ میں تم نے تو کمال کر دیا نہ صف ون کیا بلکے پوزیشن بھی لی اور نہ صرف پوزیشن لی بلکے یوسف کے ساتھ ٹیم بنانے میں بھی کامیاب ہو گئی اور اب تو کوئی بھی تمہیں جیتنے سے نہیں روک سکتا اکھڑ کو یوسف جو تمہارا پاٹنر ہے. مہک نے کافی پرجوش انداز میں کہا تھا کیوں کے وہ یوسف کے مداحوں میں سے ایک تھی اور یہ بات ان تینوں سے ڈھکی چھپی نہیں تھی.
شانزے کے منہ کہ نقشہ بگاڑ گیا تھا یوسف کے نام سے، اور یہ صبا نے خوب محسوس کی تھی، لیکن فلحال وہ ذارا اور مہک کے سامنے کچھ بھی کہنا نہیں چاہتی تھی، اس لیے صبا نے دوبارہ سے ٹریٹ کا پائنٹ ریز کیا تکے شانزے کی جان چوری جائے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو گئی تھی کیوں وہ تینوں سب کچھ بھول بھال کے اس سے ٹریٹ مانگ رہیں تھیں. چلو میری بہنوں چلو شانزے نے ہار مانتے ہووے کہا تھا، اس لیے وہ سب کینٹین کی طرف چل دیں تھیں.
…………………………….
کونگریچولیشنز… رانیہ نے آگے بڑھ کے مبارک بعد دی تھی یوسف کو.. اس کے بعد محسن اور عمر نے بھی روایت کو دھورایا تھا. اب یہ بتاؤ ٹریٹ کہاں دو گئے.. رانیہ نے کینٹین میں یوسف کے برابر بیٹھتے ہوے کہا.
ٹریٹ کس بات کی ٹریٹ ؟؟؟ یوسف نے مصنوئی حیرانگی سے پوچھا.
بنو مت تم اچھی طرح جانتے ہو… رانیہ نے اس کے بازو پے مقہ مارا تھا.
ارے یار آرام سے… جان لو گی کیا..
ہاں لے لوں گی.. اگر تم نے ٹریٹ نہ دی تو….. اب کی بار شانزے بال بگڑے تھے…
اف تم بھی نہ بچوں کی طرح زد کرتھی ہو ساری محنت تو میں نے کی ہے تم نے کیا کیا ہے ؟ یوسف نے رانیہ کے ماتھے پے انگلی سے نوک کیا تھا.
میں نے تمہارے جیتنے کے لیے دعایں کی اور کیا…
واہ – مجھے نہیں پتا تھا آج کل دعایں بڑے فروخت ہیں… ویسے پھر تو تم اپنا کاروبار شروع کر سکتی ہو- نہیں ؟
آؤ آؤ دعایئں لو بدلے میں ٹریٹ دو… یوسف نے کافی پروفیشنل انداز میں آواز لگائی تھی. وہ مسلسل رانیہ کی ٹانگ کھنچ
رہا تھا..
اوکے – نہیں دینی مت تو کنجوس کہیں کے، بات نہ کرنا اب مجھ سے وہ غصے میں جانے لگی تھی، تبھی یوسف نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا. تم بھی نہ آج کل چھوٹی چھوٹی باتوں پے ناراض ہو جاتی ہو. چلو آج شام کو تماری یہ خواھش پوری کر دی جائے گی خوش ؟؟؟؟
میں نہیں مانے والی ایسے.. رانیہ نے منہ پھولیا تھا. وہ اور یوسف بچپن کے دوست تھے وہ جانتی ناراضگی یوسف کی کمزوری ہے جب کوئی اس سے ناراض ہوتا تو اسے اس وقت تک سکون اتا جب تک وہ اسے مانا نہ لے.. اور اس وقت وہ اس بات کا پورا فائدہ اٹھا رہی تھی. کیوںکہ اس نے سامنے سے آتے شانزے اور اس کے گروپ کو دیکھ لیا تھا. اور یہی سب سے بہترین مقہ تھا شانزے کو اپنی اہمیت جتلانے کا تبھی اس نے معصومانہ اندازسے بولا ٹھیک ہے، پہلے تم کان پکڑ کر سوری بولو..
اوکے – ٹھیک یہ لو سوری، یوسف نے کان پکڑے تھے. اسی دم یوسف کی نظر شانزے پے پڑی تھی جو جانے کب کینٹین میں آئ تھی اور خلاف تواقع اس کو ہی دیکھ رہی تھی. جانے کیا تھا شانزے کی آنکھوں میں جو یوسف نے پل بھر میں ہی رانیہ کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا. لیکن شانزے منہ موڑ چکی تھی، اور اس بات نے کافی حد تھا رانیہ کو تسکین پہنچائی تھی، وہ جو کرنا چاہتی تھی بہت مہارت سے کر گزری تھی. اور فلحال اس کے لئے یہی بہت تھا کے شانزے یوسف کا منہ تک نہیں دیکھنا چاہتی تھی.
ٹھیک ہے میں چلتی ہوں، شام میں ملتے ہیں، رانیہ نے اپنا بیگ اٹھایا تھا اور چل پڑی تھی.
وہ سب باہر کی طرف بڑھے تھے…
عین اسی وقت شانزے کا گروپ بھی کینٹین سے باہر جا رہا تھا،
مبارک ہو رانیہ نے شانزے کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا..
تھنک یو… نہ چاہتے ہوے بھی شانزے اس کا بڑھا ہاتھ تھاما تھا…
ویل – تم نے کافی اچھا سکور گین کیا ہے.. رانیہ نے اس کی تریف کی تھی لیکن شانزے کو وہ ہضم نہیں ہو رہی تھی کیوں کہ وہ رانیہ کو جتنا جانتی تھی اس حساب تو اس وقت رانیہ کو آگ برسانی چاہیے تھی لیکن یہاں تو موسم بہار تھا…
تھنک یو سو مچ… اس بار شانزے نے کافی ہمبلی جواب دیا تھا.
کافی محنت کی ہو گی نہ تم نے اس کمپیٹیشن کے لیے لیکن اب بےفکر ہو جاؤ.. کیوں کہ یوسف جو ہے تمہارے ساتھ اور وہ کبھی کسی کومپیتیشن میں نہیں ہارا… رانیہ نے مسکراکے شانزے کی طرف دیکھا تھا..
جانے کیوں پر شانزے کو اس کی ہنسی زہر لگی تھی…
مجھے یہ کمپیٹیشن جیتنے کے لیے کسی کی ضرورت نہیں ہے اور یوسف کی تو بلکل نہیں…
انفیکٹ میں اس کے ساتھ اس میں تو کیا کسی بھی کومپیٹیشن میں شامل نہیں ہونا چاہتی…
چلو آل د بیسٹ.. رانیہ آگے بڑھ گئی تھی.. اس نے یوسف کو قریب آتے دیکھ لیا تھا.
شانزے کونگریچولیشن…. پیچھے آتے یوسف نے کہنا چاہا تھا پر شانزے پاؤں پٹخ کے چلی گئی تھی.
یوسف نے افسوس سے اسے جاتے دیکھا تھا..
………………………………….
اسلم کمرے میں یہاں سے وہاں پھر رہا تھا، چہرے سے کافی پریشان معلوم ہوتا تھا…
اماں اور آمنہ بہت دیر سے اسے دیکھ رہے تھے جو یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا. وہ دونوں جانتی تھیں کہ وہ کیوں پریشان ہے. لیکن کسی نے بھی اس کو بلانے کی کوشش نہیں کی تھی. تبھی وہ تھک ہار کے ان کے پاسس آبیٹھا تھا.
اماں… اماں میں بہت پریشان ہوں اس نے خود ہی ماں کو پکارا تھا..
اماں اور آمنہ دونوں اب اس کی طرف متوجہ تھیں..
اماں کچھ تو بول کیا کروں. میں بہت پریشان ہوں…
صاحب تو بڑا سیدھا آدمی تھا میری باتوں میں آجاتا تھا. پر اس کا بیٹا وہ بہت چالاک نکلا..
مجھے لگا تھا ٹانگ اکر خود ہ آجائیں گئے پر دیکھ آج دو ہفتے ہو گئے نہ وہ آے اور نہ فون آیا..
دیکھ اسلم پہلے بھی کہا تھا ابھی کہتی ہوں بتا دے سچ.. نہ دے دھوکہ.. اماں نے کہنا شروع کیا تھا.
ایسا نہ ہو ہمیں بڑی بھاری قیمت چکانی پڑے..
اماں میں کب دھوکہ دیا ہے.. اسلم نے کمزور آواز میں کہا تھا
بیٹا لیکن تونے سچ بھی تو نہ بتایا، کیا یہ دھوکہ نہ ہوا ؟؟ اماں نے اسلم کے سر پیے ہاتھ پہرا تھا.. جو اس نے بری طرح جھٹکا تھا.. اماں تو کیوں نہیں سمجھتی بہت ہے اس کے پاس اسے کچھ کمی نہیں ہو گی.. اماں تو میری بات ماں جا…
دیکھ بیٹا انسان جو بوتا ہے اس نے کاٹنا بھی وہی ہوتا ہے،
“آج تک ایسا نہ ہوا کے کسی نے کیکر بویا ہو اور اس کی جگہ آم کھایا ہو”…
تو نے دھوکہ دیا ہے وہ ایک نہ ایک دیں تجھ تک لوٹ آے گا..
بیٹا حرام کرنے سے اولاد حرام کی نہیں ہوتی بلکے حرام کی کمائی کھانے سے اولاد حرام کی ہوتی ہے…
تو کیوں بھول جاتا ہے ہمارے پیارے نبی محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے “یہی کہا وہ ہم میں سے نہیں جو دھوکہ دے”
دیکھ اماں میں مانتا ہوں یہ سب باتیں.. لیکن آج کے زمانے میں یہ سب نہیں ہوتا کوئی مقافات عمل نہیں ہوتا…
تو دیکھ لوگ کتنے کالے کام کر کے پیسہ کما کہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے..
بیٹا الله کی لاٹھی بے آواز ہے.. بیٹا دیر سویر ہو سکتی ہے پر ٹل نہیں سکتا..
کبھی کبھی کچھ چیزیں بہت دیر میں پلٹتی ہیں..
لیکن وہ لوٹ کر اتی ضرور ہیں جیسے کسی مظلومکو دے جانے والا دھوکہ….
بس اماں… میں آخری بار کہتا ہوں اگر تونے میری بات نہ مانی تو میں اپنی جان دے دوں گا…
اماں نے تاسف سے اپنے اکلوتے بیٹے کو دیکھا تھا.. اور سوچا تھا کہاں کمی رہ گئی تھی ان کی پرورش میں جو وہ ایسا ہو گیا ہے ان ہونے تو کبھی حرام کا ایک نوالہ نہیں کھلایا تو پھر کہاں سے اس کے خون میں یہ سب شامل ہوا..
…………………………………
میم کیا میں اندر آسکتی ہوں.. شانزے نے مس کلثوم کے روم کے دروازے سے پوچھا تھا..
جی جی شانزے آیئں…انہوں نے بہت محبت سے شانزے کو پکارا تھا..
میم آئ تھنک آپ بیزی ہیں، میں بعد میں آجاؤں گی، شانزے نے سر مستنصر کو وہاں دیکھ کر کہا..
نی شانزے ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ بولے..
ان لہجہ اتنی شفقت لئے ہووے تھا کہ شانزے کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ بات کہاں سے شروع کرے..
میم وہ درصل.. وہ ہیچکیچائی تھی…
کیا ہوا بھئی اتنی ہونہار سٹوڈنٹ کو چپ کیوں لگ گئی ہے… سر مستنصر نے اس کا حوصلہ بڑھایا تھا وہ جانتے تھے کچھ بہت پریشن کن بات ہے اس لیے وہ کنفیوز ہو رہی ہے..
میم میں پارٹنر چینج کرنا چاہتی ہوں.. میں یوسف کے ساتھ اس میں پارٹ نہیں لینا چاہتی.. شانزے ایک لائن میں بات مکالم کی تھی اور وہاں بیٹھے دونوں لوگوں کو صدمہ لگا تھا…
لیکن کیوں شانزے آپ دونوں سے تو ہمیں کتنی امیدیں ہیں… سر مستنصر نے اس سے بولا تو وہ کچھ شرمندہ ہوئی تھی..
سر بس میں یوسف کے ساتھ… اس نے بات بیچ میں ہی چھوڑ دی تھی..
شانزے یوسف ایک اچھا سٹوڈنٹ ہے میں مانتا ہوں اس کی سرگرمیاں کبھی کبھی پریشانی کا بائیس بنتی ہیں لیکن پھر بھی وہ میرے بہترین طلبہ میں سے ایک ہے.. اگر صرف وہ وجہ ہے تو یقین کرو اس کی پوری زمیداری میں لیتا ہوں سر مستنصر نے بارے مان سے کہا تھا. شانزے کو رشک آیا تھا یوسف پیے کتنا لکی ہے نہ.. کتنا چاہتے ہیں سب اسے…… اس نے دل میں سوچا تھا…
نہیں سر ایسی کوئی بات نہیں ہے… بس میری اور اس کی ٹیم نہیں ہو سکتی…
ٹیم میں انڈرسٹنڈنگ ہونا ضروری ہے…
اور مجھے نہیں لگتا کے ہم دونو اس ایک ساتھ ایک اچھی ٹیم کی طرح کام کر سکتے ہیں..
شانزے لیکن اس بارے میں تو ہم یوسف سے بات کر سکتے ہیں… میم کلثوم پوری بات میں پہلے دفع بولیں تھیں..
نہیں میم مجھے نہیں لگتا اس کی ضرورت ہے… شانزے کو کہتے ہوے بہت دکھ ہوا تھا..
میم کلثوم اور سر مستنصر سے اسے خاص عقیدت تھی..
ٹھیک ہے شانزے لیکن پارٹنر چینج نہیں ہو سکتے باصورت دیگر آپ کو ڈیسقولیفاے ہونا پڑے گا..
سر مستنصر نے کافی دکھ بھرے لہجے میں کہا تھا…
ٹھیک ہے سر مجھے منظور ہے… سامنے بیٹھے دونوں لوگ حیران رہ گئے تھے.
شانزے آپ اچھی طرح سوچ لیں اور پھر کل تک انفارم کر دیں… مس کلثوم نے اس سے کہا تھا..
میں جانتی ہوں کہ آخری فیصلہ آپ کا ہی ہو گا… اور وہ ہمرے لئے قابل قبول اور احترام بھی ہے…
آپ پے کوئی زور زبردستی نہیں ہے.. آپ ایک اچھی سٹوڈنٹ ہیں…
اورمیں نہیں چاہتی کے کسی اختلاف کی بنا پر آپ یہ چانس مس کریں…
اپنی بات کے آخر میں وہ اپنے مخصوس سٹائل میں مسکرائیں تھیں…
تھنک یو میم… وہ روم سے سے باہر نکل گئی تھی…
جب سر مستنصر نے کسی کو کال ملائی تھی…
…………………………………..
شانزے… شانزے… روکو پلیز… یوسف اس کے سامنے کھڑا ہوا تھا..
شانزے پلیز میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں، وہ دوبارہ بڑھنے لگی تھی.. یوسف نے پھر اس سے روکا تھا…
لیکن مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی.. شانزے نے منہ بنا کے بولا تھا..
پلیز شانزے مجھے معاف کر دو میں مانتا ہوں مجھ سے غلطی ہو گئی، میں شرمندہ ہوں…
اچھا… کس کس غلطی کی معافی مانگو گئے یوسف..؟
کس کس غلطی کی مطلب ؟؟ وہ حیران ہوا تھا..
زیادہ معصوم مت بنو تم سب جانتے ہو..
میں کچھ نہیں جانتا تم بتاؤ.
او – اچھا پر میرے پاس وقت نہیں ہے.. تو پھر الله حافظ.. وہ کہتی آگے ہوئی تھی…
شانزے پلیز یار بتاؤ مجھے کے کیا ہوا ہے.. یوسف کا سر سچ مچ چکرایا تھا ابھی تو ایک مثلا حل نہیں ہوا تھا..
تم نے جان بوجھ کے میرے جیسا سکور کیا تاکہ میں اور تم ایک ٹیم میں ہوں..
اس نے انتہائی بےتکی بات کی تھی کچھ پل یوسف اس کا منہ دیکھتا رہ گیا تھا،
وہاٹ… ارے یو ان سینسس ؟؟؟ میں یہ سب کیوں کرنے لگا..؟؟ اس لیے تم اپنا پارٹنر چینج کرنے گین تھیں..
وہ مجھے نہیں پتا پر یہ تمہاری شازش ہے… شانزے کو جھٹکا لگا تھا جسے اس نے کوور کیا تھا..
ہاں ہاں میں تو امریکہ ہوں.. سب کچھ میں ہی تو کرتا ہوں.. یوسف نجل کر کہا تھا،
اور تم ٹھری بیچاری پاکستان….
جس کی اپنی تو کوئی عقل ہے نہیں کسی نے کچھ بھی کہا اور مان لیا… یوسف نے چوٹ کی.
جبکہ شانزے گھبرائی تھی…(کیا یوسف جانتا ہے کے مجھ کسی نے…اس نے دل میں سوچا تھا.)
دیکھو یوسف بکواس مت کرو مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی… اس نے یوسف کو کراس کرنے کی کوشش کی تھی..
لیکن یوسف نے جھٹکے سے اس کا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھنچا تھا، شانزے اس کے لئے تیار نہیں تھی اس لیا اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی… جبکہ یوسف نے اس سے دیوار کے ساتھ لگایا تھا…
مثلا کیا ہے تمہارے ساتھ… آرام سے بات نہیں سن سکتیں… یوسف کو کچھ غصہ آیا تھا..
شانزے کے سارے طبق اچھی طرح روشن ہو چکے تھے… شکر ہے اس حصے میں سٹوڈنٹ کا رش نہیں تھا ورنہ…
مانتا ہوں غلطی کی.. جو تمہارے ساتھ کیا غلط کیا… تم ہزار بار کہوں گی تم سے معافی مانگ لوں گا..
تمہارے آگے ہاتھ جوڑ سکتا ہوں.. کہو تو پاؤں پکڑ سکتا ہوں… کہو تو جینا چھوڑ سکتا ہوں…
جو تم کہو گی کروں… تم جو بولو مانوں گا… لیکن تم سے بات نہ کرنا یہ میرے بس سے باہر ہے شانزے حسان…
اس لیے بھول جاؤ کہ تم ایسا کر سکتی ہو… تم جس راستے جاؤ گی مجھے پاؤ گی…
کیوںکہ میں اپنا راستہ جدا نہیں کر سکتا…
تم چاہے اسے جو بھی نام دو لیکن میں تم سے… یوسف کہتے کتے روک گیا تھا..
جبکہ شانزے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے میں مصروف تھی…
جہاں تک بات ہے سکور کی تو ایک بات اپنے چھوٹے سے دماغ میں اچھی طرح بیٹھا لو…
رزلٹ کسی کو بھی معلوم نہیں تھا….
سواے مس کلثوم… سر مستنصر… اور ڈین صاحب کے… تو بولو اب تمہیں ان تینوں پے سے کس پے
شک ہے،
شانزے مجھے پورا یقین تھا تم پے تمہاری قابلیت پے کہ تم اچھا سکور کرو گی…
کیا تمہیں نہیں تھا ؟ جو تم نے یہ سب سوچا ؟؟
شانزے نظریں چرائی تھیں، وہ جانتی تھی کہ وہ تینوں ہی اپنے پروفیشن سے کتنا ایماندار ہیں..
شانزے ہر رات کی سبھا ہوتی ہے… ایسے ہی ہار غلطی کی کی معافی ہوتی بس سامنے والے کے دل میں آپ کے لئے گنجش ہونا چاہیے… تو کیا میں یہ سمجھوں میرے لیے تمہارے دل میں کوئی جگہ نہیں بن پائی…
یوسف کی آنکھیں اس کی سچائی بول رہی تھی.. اس کی شرمندگی، اس کی تڑپ اس کی آنکھوں سے صاف ظاہر تھی..
لیکن اتنا کچھ بول کے شانزے سچ کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی….
اس کا غصہ… اس کی زد آڑے آرہی تھی..
یوسف اس کا جواب جان گیا تھا… اس لئے اس کے ہاتھ چھوڑ دے تھے…
شانزے میں جانتا ہوں معافی مانگنا آسان ہے… معاف کرنا مشکل…
پلیز ایک بار اپنے دل سے پوچھا کیا وہ مجھے معاف کرنے پیے تیار نہیں ہے ؟؟؟
یوسف روکا نہیں تھا چل گیا تھا.. اس سے زیادہ وہ بردشت نہیں کرسکتا تھا وہ نہیں چاہتا کے اس کی نم آنکھیں شانزے کے سامنے اس کے جذبات کاعلان کر دیں…
شانزے ٹھنکے تھکے قدموں سے گھر کی طرف چل دی تھی……

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: