Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 18

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 18

–**–**–

کہاں گیا تھا ؟؟ محسن نے مشکوک سا پوچھا تھا،
کہیں نہیں.. کہاں جانا ہے… یوسف کا لہجہ کچھ عجیب سا تھا..
ابے اوے… زیادہ ڈرامہ نہیں جو پوچھا ہے وہ بتا… دیوداس کہیں کا، محسن نے جھڑکا تھا..
ارے یار تجھے کوئی کام نہیں ہے جب دیکھو نام دیتا رہتا ہے.. کہاں جانا ہے تجھے پتہ تو ہے.. یوسف بھی چڑ گیا تھا.
اوہ – سوری میں بھول گیا تھا ملا کی دوڑ مسجد تک اور یوسف کی دوڑ….
محسن کے الفاظ، یوسف کے گھورنے کی وجہ سے بیچ میں ہی رہ گئے تھے.
اچھا چل یہ بتا مثلا حال ہوا… مانی وہ..؟؟
تجھے کیا لگتا ہے یوسف نے الٹا سوال کیا تھا.. وہ شانزے ہی کیا جو آسانی سے مان جائے،
دیکھ یوسف بات اتنی چھوٹی تو نہیں کہ وہ آسانی سے مان جائے یہ تو بھی جانتا ہے میں بھی،
مانتا ہوں، پر کیا کروں یہ دل نہیں مانتا نا، تجھے پتا ہے میڈم اپنا پارٹنر چینج کرنے گیں تھیں..
ایک بار… صرف ایک بار معاف کر کہ دیکھے ساری زندگی اس کو کوئی موقع نہیں دوں گا پھر ناراض ہونے کا..
اوہو- بری لمبی پلاننگ ہے…
یوسف کی ایسی حالت دیکھ کر محسن کو ہنسی آگئی تھی اور اس کی ہنسی نے جلتی پے تیل کا کام کیا تھا.
اور تو کیا ہر وقت دانت نکالنے لگا ہے…؟ یوسف غصے میں بولا تھا.
تیری حالت دیکھ کر نا ایک شیر یاد آیا… سناؤں کیا..؟؟
میں مانا کروں گا تو، کیا تو نہیں سناے گا ؟؟ یوسف نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا..
یہ بھی ہے… لے تو پھر سن..
” ابتداے عشق ہے روتا ہے کیا… آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا”….
محسن نے داد طلب نگاہوں سے دیکھا تھا… اور جواباً یوسف نے گھورا تھا..
کیا ہوا پسند نہیں آیا ؟ نہایت معصومیت سے پوچھا تھا محسن نے….
چل ایک اور سناتا ہوں.. ہممم.. ہمم.. محسن نے گلہ کھنکارا تھا..
بس کر دے تو اپنی ڈرامے بازیاں میں ٹھیک ہوں.. یوسف جانتا تھا یہ سب وہ اسے بہلانے کے لئے کر رہا ہے..
پکا..؟ محسن نے کنفرم کیا تھا..
ہاں پکا.. یوسف جانے آسمان میں کیا تلاش کرنے لگا تھا..
اگرچہ موسم خوشگوار تھا.. لیکن یوسف کے دیکھنے کا تعلق اس سے نہ تھا……..
کیا سوچنے لگا..؟؟ محسن سے رہا نہں گیا وہ اس کی حالت اچھے سے سمجھ رہا تھا..
یہی کہ تھوڑے دن پہلے تک سوچتا تھا کہ اسے کبھی سچ پتا نہ چلے،
جانے کیسے ریکٹ کر گی… اگر نفرت کرنے لگی تو…
کیسے سمبھالوں گا… کیسے کہوں گا کہ مجھے محبت ہی اس سے…
لیکن اب لگتا ہے جو ہوا صیہح ہوا… اب کم سے کم دل پے کوئی بوجھ نہیں ہی…
پتا ہے، جھوٹ کی بنیادیں بہت کمزور ہوتی ہیں.. اس لیے جھوٹ کی بنیاد پے بنایا گیا رشتہ زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکتا…
بلکل پانی پے بنائی گئی کاغذ کی کشتی کی طرح… جو زیادہ دیر پانی پے تیر نہیں سکتی…
یوسف خاموش ہو گیا تھا.. اور یہ خاموشی کافی طویل ہو رہی تھی.. تبھی محسن نے اس کو پکارا تھا.
اچھا سن تو پریشان مت ہو میں شانزے سے بات کرتا ہوں.. میں اسے سب سچ بتا دوں گا تو پھر وہ…
نہیں.. نہیں.. اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے.. میں خود سب سمبھال لوں گا.. یوسف نے روانی سے کہا..
میں نے اس کا دل دکھایا ہے.. اس کا بھروسہ توڑا ہے تو جوڑوں گا بھی میں..
اس سے مناؤں گا بھی میں ہی، بول دوں گا اسے وہ جو بھی سزا دے گی مجھے منظور ہے.
غلطی میری ہے تو جھکنا بھی تو مجھے ہی پڑے گا..
جانتا ہوں ناراض ہے… پر اگر میری محبت سچی ہے تو وہ مان جائے گی میں مانا لوں گا اس کو.. فکر نا کر..
جانتا ہے تعلوق جوڑنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن اس کو نیبھانا بہت مشکل…
اس لیے اگر نیبھانے کی ہمت نا ہو تو تعلوق جوڑنا ہی نہیں چاہیے…
اور یہاں تو تعلوق محبت کا ہے… تو پھر بتا کیسے نہ نیبھاؤں..
یوسف کا لہجہ بھاری ہوا تھا… اور وہ سوالیہ نظروں سے محسن کو دیکھ رہا تھا..
کیا ہوا اب تو کیوں ایسے دیکھ رہا ہے مجھے.. یوسف نے محسن کو اپنی طرف دیکھتا پایا تو پوچ لیا..
کچھ نہیں… بس دل جیت لیا تو نے میرا… محسن نے کہا تو یوسف نے اسے گلے لگیا تھا..
بس کر میں شانزے نہیں ہوں.. چھوڑ مجھے شرم آرہی ہے… محسن نے اداکاری کی ناکام کوشش کی تھی..
جبکہ یوسف نے اس کی کمر پے زور دار ہاتھ مارا تھا…
اف مر گیا… اتنی زور سے مارا ہے..
چل اٹھ اب شام کو پارٹی بھی کرنی ہے.. یوسف کہتا گاڑی کی طرف بڑھا تھا.
………………………………….
شانزے شام کی چاے بنا کر اوپر چھت پے لے آئ تھی،
بادل چاہنے کی وجہ سے کافی حفس تھا.. لیکن بارش کا کوئی آتا پتا نہ تھا…
اس لیے سب اوپر ہی بیٹھے تھے، سب خوش گپیوں میں مصروف تھے گھر کا ماحول پہلے جیسے نہیں رہا تھا…
تائی اماں کا موڈ بھی کافی بدل گیا تھا اب وہ اور عنیقہ اس پے پہلے کی طرح طنز کے تیر نہیں چلاتیں تھیں..
ہاں البتہ تایا جان کا انداز وہی تھا.. لیکن اب شانزے نے بھی ان سب باتوں کو اگنورکرنا شروع کر دیا تھا..
تمہارے ٹیسٹ کا کیا ہوا ؟؟ عنیقہ نے چاے پیتی شانزے سے پوچھا تھا،
اس کو حیرت ہوئی تھی کیوںکہ آج پہلے اس نے کبھی شانزے میں دل چسپی نہیں لی تھی. تو پھر اب اچانک…
وہ زیادہ سوچتی اس سے پہلے ہی می جانی نے پوچھا تھا،
ہاں شانزے سچ میں تو بھول ہی گئی تھی کیا ہوا بیٹا … تم نے بتایا نہیں..
می جانی وہ بس میرے ذھن سے نکل گیا تھا.. میں نے فرسٹ پوزیشن لی ہے.. درحقیقت وہ بتانا ہی نہیں چاہتی تھی…
ارے واہ – مبارک ہو بھئی یہ تو بہت خوشی کی بات ہے.. اریزے نے اس سے گلے لگا کر مبارک بعد دی تھی..
تھنک یو اریزے… شانزے نے بجھے دل سے کہا تھا وہ کیا بتاتی اب اسے کے وہ تو اپنا نام واپس لینا چاہتی ہے..
صرف تھنک یو سے کام نہیں چلے گا.. اس پے تو منہ میٹھا کرانا بنتا ہے..
عنیقہ نے کہا تو شانزے کے ساتھ اریزے نے بھی اسے حیرت سے دیکھا تھا،
کیوںکہ وہ دونوں ہی واقف تھیں کہ اس میں اور اریزے میں ایسی کو فرینکنیس نہیں ہے…
ارے ہاں بھئی کیوں نہیں، یہ تو بڑی خوشی کی خبر ہے،
عنیقہ بھائی کو فون کر کے کہو کے آتے ہوے آئس کریم لے کر آے.. آج تو بڑی خوشی کا دن ہے..
شانزے کو لگا وہ تائی جان کے اس رویے پے بے ہوش ہی نہ ہو جائے..
حیرت تو اریزے اور می جانی کو بھی ہوئی تھی پر وہ دونوں ضبط کر گیں..
کیوں بھئی… کس خوشی میں آرہی ہے آئس کریم …
حسان جو غالباً سب کو نیچے نہ پاکر اوپر آتےایسٹ تھے پوچھنے لگے.
پاپا اسلام وعلیکم.. اریزے اور شانزے نے ایک ساتھ سلام کیا تھا..
وعلیکم اسلام.. بھئی کیا باتیں ہو رہی ہیں کچھ پتا تو چلے…
چاچو شانزے نہ ٹیسٹ میں فرسٹ پوزیشن لی ہے..
تو بس اس خوشی میں آئس کریم آرہی ہے.. عنیقہ آج کچھ بدلی بدلی تھی.
ہاں بھئی تم لوگوں کو مبارک ہو.. تائی جان نے بھی جملہ جوڑا تھا..
بس تائی اماں.. ابھی تو ایک ہی ٹیسٹ ہوا ہے ابھی ایسے بہت ٹیسٹ باقی ہیں.. شانزے کو کچھ عجیب لگ رہا تھا،
ارے میری بچی… تم میں کامیاب ہو گی تائی جان کے اچانک کہنے پے شانزے چکرا گئی تھی…
جی بھابھی آپ نے صیہح کہا، میری بیٹی ہی کامیاب ہو گی… حسان نے بہت محبت سے اسے دیکھا تھا..
وہ خوش تھے بلآخر تائی جان نے اسے گھر کا فرد تسلیم کر لیا تھا… لیکن وہ بہت سی باتوں سے ناواقف تھے..
چلو پھر اس خوشی میں سب باہر چلتے ہیں.. کیوں بچوں آج رات پارٹی ہو جائے…
یهہ… اریزے اور عنیقہ نے ایک ساتھ کہا تھا.. جبکہ شانزے چپ ہو گئی تھی..
چلو سب اپنی اپنی تیاری کرو پھر نکلتے ہیں..اور ہاں عنیقہ بچے تم بھائی کو بھی بتا دینا..
ٹھیک ہے چاہو.. عنیقہ نے خوب تابیداری کا مظاہرہ کیا تھا..
اور آپ میرے لئے بہترین سی چاے بنا دیں اب انہوں نے می جانی کو مخاطب کیا تھا…
محفل برخواست ہو گئی تھی، سب نیچے چلے گئے تھے…
سواے شانزے کے ایک وہی تھی جو اکیلی بیٹھی تھی..
کیا بات ہے شانزے نیچے نہیں چلنا.. اریزے نے جاتے جاتے پوچھا تھا ؟؟
تم چلو میں آتی ہوں.. لکڑی سے خوبصورت نقشو نگار والے جھولے میں پاؤں پھلتے کہا تھا..
اریزے جو جانے لگی تھی واپس پلٹ آئ… کیا ہوا اداس کیوں اپنے جیتنے کی خوشی نہیں ہے کیا ؟؟
سمجھ نہیں آرہا خوشی مناؤں یا سوگ..
الله نہ کرے کیسی باتیں کر رہی ہو.. تمہیں تو خوش ہونا چاہیے..
چاہتی تو میں بھی یہی تھی پر اب ایسا ممکن نہیں ہے..
لیکن کیوں ؟؟ اریزے حیران ہوئی تھی..
کیوں میں اس کمپیٹیشن سے بیک کر رہی ہوں..
کیا…؟؟؟ تم پاگل ہو گئی ہو کتنی محنت کی تھی تم نے تو اب ایسا کیا ہو گیا ہے اچانک…
کیوں کہ میری ٹیم کا دوسرا ممبر یوسف ہے…
یوسف… ؟؟؟ اریزے حیران ہوئی تھی…
اف اب تم ایسے ریکٹ نہیں کرو، میں نے پورے حوش و حواس میں اس کا نام لیا ہے..
ہم تو یہ مثلا ہے… ویسے برائی کیا ہے کمپیٹیشن ہے.. تم اس کے ساتھ…
نہیں بلکل نہیں میں اس کی شکل بھی نہیں دکھانا چاہتی تو پھر سوال ہی نہیں رہتا…. اور ویسے بھی میں مانا کر چکی ہوں..
شانزے اب تم زیاتی کر رہی ہو اس کے ساتھ تم کیا چاہتی ہو…. وہ تمہارے آگے ہاتھ جوڑے… تمہارے پاؤں پکڑے…
اگر یہ سب چاہتی تو آج ہی کرا لیتی جبکہ وہ خود تیار تھا..
وہاٹ… آر یو سیریس..؟؟ اریزے کی آنکھوں میں حیرت تھی..
شانزے نے نظریں جھکا لیں تھیں…
شانزے بس کرو اب، تم کیوں اس کی عزت نفس سے کھیل رہی ہو، کیوں اس کی ایگو کو ہرٹ کر رہی ہو….
تم جانتی ہو، بات اگر ایگو کی آجاے تو انسان کس حد تک چلا جاتا ہے… اسے انسان سے حیوان بنے میں ٹائم نہیں لگتا… اور لڑکوں میں تو الله نے ویسے ہی اس حس کو زیادہ رکھا ہے، یارلڑکے تو اپنی غلطی ہوتے ہوے بھی اکڑ جاتے ہیں….
اور وہ ہے کہ… شانزے ایسا نہ ہو کے اسے توڑنے میں تم خود ٹوٹ جو اور پھر تمہیں سمیٹنا مشکل ہو جائے…
اریزے… شانزے… بیٹا کہاں رہ گیں… اریزے مزید کچھ کہتی اس سے پہلے ہی پاپا نے انہیں آواز دی تھی..
جی پاپا آرہے ہیں.. اریزے نے آواز لگائی تھی..
چلو.. ابھی تو پھر واپس آکر بات کرتے ہیں اس بارے میں..
اس نے شانزے کا ہاتھ پکڑ کے اٹھایا تھا.
………………………………….
بس یار اب میں چلتی ہوں… رانیہ نے بال واپس باکس میں رکھی تھی..
کیوں ہار مان لی ابھی سے ڈر گیں کیا… محسن نے اسے چھیڑا تھا کیوں کہ وہ ایک بھی سٹرائیک نہیں کر پایئ تھی…
ڈر… اور وہ بھی میں… امپوسیبل… رانیہ کہ لہجے میں غرور تھا..
اوہ ہاں – میں بھول گیا تھا تم کہاں ڈرتی ہو… تم تو ڈرانے کے کام اتی ہو.. محسن اسے زچ کرنے پے تلا تھا.
تم نہ اپنا منہ بینڈ رکھو سمجھے… رانیہ نے اس پے ٹشو پیپر کی بال بنا کر پہنکی تھی،
اچھا اچھا ٹھیک ہے مذک کر رہا تھا… پر ابھی تو دیننار باقی ہیں تم کہاں بھگ رہی ہو..
یوسف آئ ایم سوری میں خود نہیں جانا چاہتی تھی پر یو نو آج سائرہ خالہ کے ہاں دعوت ہے اگر نہ گئی تو ماما برا مان جین گی… پلیز سوری… اس نے یوسف کی طرف معصومیت سے دیکھا تھا.
ایٹس اوکے… رانیہ تم جو ہم دوبارہ پلان بنالیں گے ٹھیک ہے. یوسف نے بغیر کسی تکرارا کے کہا تھا…
کیا یار رانیہ.. پورا پروگرام خراب کیا ہے تم نے… سوچا تھا ایک آخری ڈنر ہو جائے گا دو دریا پے پھر کہاں موقع ملے گا… لیکن تم نے تو… الله پوچھے گا… محسن کو غصہ آیا تھا..
اوہو- میں کون سا مرنے لگ رہی ہوں.. رانیہ نے برا منایا تھا..
تم نے نہیں مرنا پتا ہے برائی کی عمر لمبی ہوتی ہے.. پر دو دریا نے بند ہو جانا ہے جلدی…
محسن نے معلومات میں اضافہ کیا تھا..
ہیں.. کیوں بھئی.. رانیہ شاید جانتی نہیں تھی..
مابدولت نے جانے سے جو مانا کر دیا.. کیوں یوسف… محسن نے یوسف کے آگے ہاتھ کیا اور دونوں تلی مار کے ہنسے…
حد ہے تم دونوں کی.. چلو میں نکلتی ہوں کل ملتے ہیں وہ گاڑی میں بیٹھ گئی،
تو وہ دونوں بھی دو دریا کی طرف چل پڑے تھے….
………………………………….
حسان سب کو لے کر کباب جیز آے تھے. اور تقریبن سب کھانا کها چکے تھے..
سواے شانزے کے جو کها کم رہی تھی اور سوچ زیادہ تھی تھی.
باکی سب خوش گپیوں میں مصروف تھے… کافی عرصے کے اس طرح سب ایک ساتھ بیٹھے تھے..
شانزے کا موڈ بھی اب بہتر تھا، دو دریا پے چلنے والی سمندری ہوا نے مزید سکون اترا تھا اس میں..
شانزے بہت مبارک ہو تمہیں… وجی نے اس کو دل سے مبارک بعد دی تھی،
تھنک یو.. شانزے کا موڈ بگاڑا تھا وجی کو ہنسی آگئی تھی شانزے ابھی تک پکوڑوں والی بات پے ناراض تھی.
اوہو- تو میری پیاری سی، لڑاکی سی، میرا مطلب ہے معصوم سی بہن ابھی تک ناراض ہے.
اچھا چلو تو پھر تمہیں کیسے منایا جائے.. وجی نے اس کی پلیٹ سے چالو کباب اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھا تھا.
وجی بھائی.. آج میں اپ کی باتوں میں نہیں آنے والی شانزے نے کباب واپس اٹھا کر کے کها لیا تھا…
چلو ٹھیک ہے اب یہ دن بھی دیکھنے تھے..
جی وجی بھائی اب یہی دن چلیں گئے شانزے نے ہاتھ میں پکڑا فوک اس سے دکھایا تھا جہاں سے کباب غائب تھا…
چلو ٹھیک ہے اب میں تو تمہاری طرح بعد لہٰذ نہیں ہوں نہ اس لیے ایسے ہی گفٹ دے دیتا ہوں..
وجی نے پاکٹ میں ہاتھ ڈالا تھا پر گفٹ شاید مس ہو گیا تھا… میں شاید گاڑی میں بھول آیا ہوں شانزے جو لے آؤ اس نے گاڑی کی چابی دیتے کہا تھا..
نہ وجی بھائی نہ… آج نہیں شانزے اپنی پلیٹ ذرا ور اپنے آگے کھنچی تھی..
چلو بھئی اب مجھے ہی جانا پڑے گا.. وجی کہتا بھر گیا تھا..
جبکہ باقی سب ان دونوں کو دیکھ کر مسکراے تھے..
…………………………………….
یوسف اور محسن دونوں کھانا کها چکے تھے اور کوفی سے انصاف کر رہے تھے..
جب اس کی نظر پیچھے ٹیبل پے پڑی.. اس سے لگا شانزے ہے پھر خودی ہی اپنی حالت پے ہنسی آئ تھی..
کیا ہوا کیا دیکھ لیا… محسن نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا تھا.. پر اس سکاچ ایسا نظر نہیں آیا…
کچھ نہیں… یوسف نے مختصر کہا تھا.
کیا کچھ نہیں… پاگل ہے جو خام خہ ہنس رہا تھا..
یار مجھے لگا شانزے ہے.. یوسف زچ ہوا تھا..
تو سچ میں پاگل ہے.. محسن نے کوفی کا آخری سپ لیا تھا.
اس لیے نہیں بتا رہا تھا.. یوسف نے بھی گھورا تھا.
چل اٹھ اب اس سے پہلے کے دوبارہ نظر آجاے… محسن نے کمنٹ کیا تھا..
یوسف ہنستا ہوا کھڑا ہو گیا تھا..
وہ دونوں باہر نکل رہے تھے. جب کسی نے آواز دی تھی.
یوسف.. وجی گاڑی سے شانزے کے لیے گفٹ لایا تھا جب اس کی نظر ان پے پڑی..
اسلام و علیکم وجی بھائی کیسے ہیں آپ.. اس نے کافی خوش اخلاقی سے سلام کیا تھا..
وعلیکم اسلام… کیسے ہو بھئی اس کے بعد تو تم آے ہی نہیں… وجی بھائی بھی کافی خوش اخلاق تھے.
بس کچھ مصروف تھا.. محسن یہ شانزے کے بھائی ہیں وجی.. یوسف نے محسن کو بتانا ضروری سمجھا تھا…
اوہ- آپ سے مل ک خوشی ہوئی.. محسن نے کہا تھا.. وہ سمجھ گے تھا کہ یوسف اسے کیا جتنا چاہتا ہے..
مجھے بھی.. وجی نے جواب دیا تھا..
اچھا وجی بھائی پھر ملتے ہیں اب اجازت.. یوسف نے ہاتھ بڑھایا تھا.
وجی نے اس کا بڑھا ہاتھ تھام لیا تھا، بلکل نہیں.. اس دن کہا تھا تو آج ملے ہو..
وجی بھائی اب آپ شرمندہ کر رہے ہیں.. میں ضرور آؤں گا کسی دن..
کسی دن نہیں ابھی.. سب یہیں ہے ایک ایک آئس کریم کھاتے ہیں.. سب سے مل بھی لینا وجی نے اتنے پیار سے کہا تھا کہ یوسف کے لیے انکار کرنا مشکل ہو رہا تھا پر وہ اپنی مشکل کیسے بتاتا…
چلو آؤ شاباش.. وجی آگے بڑھا تھا مجبورن یوسف اور محسن کو بھی اس کی پیروی کرنی پڑی تھی.
……………………………………
یوسف سب سے مل چکا تھا.. باتوں کا دور پھر سے چل پڑا تھا…
یوسف پاپا کے ساتھ والی سیٹ پے بیٹھا تھا شانزے کے بلکل سامنے..
اریزے نے شانزے کو کہونی ماری تھی. اور اس نے جواب میں غور کر دیکھا تھا..
کیا یاد گار سین ہے نہ.. ایک پک تو بنتی ہے اریزے فون اٹھا کے اس لمحے کو گائیڈ کر لیا تھا..
اریزے تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا کیا کر رہی ہو یہ… شانزے کو غصہ آیا تھا..
جب عنیقہ کی آواز نے ان دونو کو متوجہ کیا تھا..
یوسف آپ نے کمپیٹیشن میں حصہ نہیں لیا..؟؟ شانزے نے تو پوزیشن لی ہے
شانزے کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے جب کے اریزے چہرے پے مسکراہٹ چہ گئی تھی…
ارے – کیوں نہیں لیا.. نہ صرف لیا ہے بلکے فرسٹ پوزیشن بھی لی ہے.. شانزے اور یوسف ایک ہی ٹیم میں ہیں.
محسن نے جواب دیا تھا..
شانزے نے کتنی بےبسی سے دیکھا تھا اس سے..
مبارک ہو آپ کو یوسف.. عنیقہ نے کہا تو سب نے اس سے باری باری مبارک بعد تھی…
ارے واہ – یہ تو بہت اچھی بات ہے، شانزے تم نے بتایا نہیں… وجی بھائی نے بات مکمل کی تھی..
اور شانزے کا دل چاہا وہ اپنا سر پیٹ لے… وہ بھائی میں بھول گئی تھی.. شانزے نے اپنی جان چھوڑائی تھی..
چلو بھئی اب بہت دیر ہو گئی چلنے کی تیاری کرو.. حسان نے کہا تو سب سے پہلے شانزے کھڑی ہوئی تھی.
نہ چاہتے ہوے بھی یوسف کو ہنسی آگئی تھی.. لیکن مشکل یہ تھی کے سب سے پہلے جانے کے لئے شانزے کو یوسف کے پاسس سے گزرنا پڑتا.. وجی تم بہنوں کو لے کر آجاؤ میں میں بھابھی ور تمہاری چچی کو لے کر نکلتا ہوں.. حسان یوسف سے مل کے باہر نکلے تھے جو ان کو دیکھ کر احترام کھڑا ہوا تھا.
تمہیں بڑی جلدی ہے.. ہم نے ساتھ ہی جانا ہی.. وجی نے اس کی حرکت کو نوٹ کیا تھا..
شانزے شرمندہ ہوئی تھی.. جب کہ یوسف کی مسکراہٹ ور گہری ہو گئی تھی..
کیا بات ہے اکیلے اکیلے مسکرا رہے ہو… بھئی ہمیں بھی بتاؤ ہم بھی ہنس لیں گئے.. کیوں شانزے ؟؟
اریزے نے دونوں کی تانگ ایک بار میں ہی کھنچ لی تھی.. شانزے گھورا تھا جب کہ یوسف گڑبڑا گیا تھا..
اور وہ ان دونوں کی حالت سے محفوظ ہوئی تھی..
وجی عنیقہ اور محسن تین باتیں کرتے آگے بڑھ گئے.. اریزے اور شانزے بھی ان کے پیچھے تھے جب یوسف ان دونوں کے پیچھے اپنی جگہ پے کھڑا تھا.. شانزے غصے سے پلٹی تھی..
کیا مثلا ہے تمہارے ساتھ.. شانزے ہلکا سا چلائی تھی.
مطلب….؟؟؟؟ وہ حیران ہوا تھا…
یہ ایک جگہ رہ گئی تھی پورے کراچی میں تمہارے انے کے لئے… شانزے نے خفگی سے بولا تھا..
اور اریزے کا دل چاہا وہ اس کی بے توکی پے ماتم کرنے لگے…
یہ تو میں بھی کہ سکتا ہوں.. یوسف نے مسکراتے ہوے کہا تھا، بے کتنا دلکش لگ رہا تھا وہ… بلیک شرٹ بلوے جینس.. حسب عادت آستیں کو آگے سے موڑے.. ہلکی ہلکی شوے میں اس کی مسکراہٹ اور بھی حسین لگی تھی.. شانزے کی ہارٹ بات مس ہوئی تھی..
مانا اچھا لگ رہا ہوں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ تم اس کا ناجائز فائدہ اٹھاؤ…
بہت دن کے بعد اس کی ٹون بدلی تھی. اریزے کو بےاختیار ہنسی آئ تھی.. شانزے نے اس سے فورن گھور کر دیکھا..
تم جانتے ہو… ایک نمبر کے نفسیاتی ہو تم… شانزے کہتے پلٹی تھی..
یوسف نے ہاتھ پکڑ کے ہلکا سا اپنی طرف کھنچا تھا نہ چاہتے ہوے بھی شانزے کو پلٹنا پڑا تھا.
ہاں تمہاری وجہ سے… یوسف کے جواب نے شانزے کو مزید اکسایا تھا..
میں انتیظار کر رہی ہوں… اریزے کہتی سائیڈ میں چلی گئی تھی شانزے نے اس سے ناراض ہوتے دیکھا تھا..
جب کے یوسف کی آنکھوں میں شکریہ ہی شکریہ تھا.. وہ ہنستے ہوے تھوڑا دور پے آگئی تھی…
ویسے تم نے بتایا کیوں نہیں کے ہم ایک ٹیم ہیں.. یوسف نے اگلا سوال کیا تھا..
کیوںکہ میں اپنا نام واپس لینا چاہتی ہو.. یوسف کو دکھ ہوا تھا پر اس نے بتایا نہیں..
اچھا تو پھر یہی بتا دیتیں کہ ہم ٹیم ہیں اس لیے تم نام واپس لے رہی ہو..
میں بھول گئی تھی، اس نے جان چورنی چاہی تو وہ سمجھ گئی تھی کہ یوسف کے سامنے پھس گئی ہے.
یوسف نے کچھ بولا نہیں مگر مزید گہری نظروں سے دیکھا تھا،
میں بتانا نہیں چاہتی تھی، اس لیے نہیں بتایا.. جیسے یہ نہیں بتایا کہ میرے کڈنیپ ہوا تھا…
شانزے کی آنکھوں میں غصہ واضح تھا..
وہ جانے لگی تھی جب یوسف نے دوبارہ اس کا ہاتھ کھنچا تھا..
اپنی دھن میں شید شانزے بھول گئی تھی کہ اس ہاتھ ابھی تک یوسف کی گائیڈ میں ہے..
شانزے پلز اب ناراضگی ختم کر دو.. یوسف کی آواز میں اتنی شدت تھی کی شانزے کی پلکیں جھک گیں تھیں..
اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے جانے ماحول کا اثر تھا یا اریزے کی کہی باتوں کا..
تبھی یوسف نے اس سے پکارا تھا… تم جو کہو گی میں مانوں گا.. پلز شانزے صرف ایک بار…
یوسف کی آواز کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ شانزے کو لگا اس کا دل اس میں ڈوب جائے گا…
جو میں کہوں گی مانوں گئے ؟؟ شانزے بنا اس کی طرف دیکھے کہا تھا..
ہاں مانوں گا.. وعدہ.. یوسف نے کہا تھا.
ٹھیک ہے تو پھر تم اپنا نام واپس لے لو… شانزے نے چور نظروں سے اس سے دیکھا تھا…
اب کی بار وہ کھل کے مسکرایا تھا… شانزے نے محسوس کیا وہ اس کا ہاتھ سیدھا کر رہا ہے..
یوسف نے اس کے ہاتھ پے اپنا ہاتھ رکھا تھا…
میں یوسف میر… شانزے حسان سے وعدہ کرتا ہوں کہ کل میں اپنا نام واپس لے لوں گا…
وہ چلا گیا تھا.. شانزے کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے… اریزے نے اس سے تاسف سے دیکھا تھا،
شانزے اس سے جاتا دیکھا رہی تھی… کیا مصیبت تھی… “نہ جیئے چین نہ مرے چین”…
…………………………………
شانزے تم پاگل تو نہیں ہو… اریزے کو اس وقت بہت غصہ آیا تھا.. وہ روم میں اتے ہی شرو ہو گئی تھی..
میں نے کیا کیا…؟؟؟ شانزے حیران ہوئی تھی..
کیا کیا…؟؟ تم نے یوسف کو نام واپس لینے کے لئے کہا…
ہاں تو اس میں غلط کیا ہے… اس نے خود کہا کہ میں جو کہوں گی وہ مانے گا.. شانزے نے لاپرواہی سے جواب دیا.
شانزے تم اس کے خلوص کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو اب.. اریزے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا..
ہاں جانتی ہوں…
فائنلی تم نے مانا تو.. اریزے اس سے پلو مارا تھا..
پر اریزے وہ کیا خوب کہا ہے نہ کسی نے،
تیرے خلوص سے انکار تو نہیں لیکن..
میں کیا کروں میرا اعتبار ٹوٹ ہے… شانزے کھڑکی سے باہر دیکھا تھا…
شانزے، میں مانتی ہوں.. کے تم بھی ٹھیک ہو پر کیا اس کی کوئی کوشش تمہارے دل پے اثر نہیں کر رہی،
شانزے کیا یہ کافی نہیں کے اسے احساس ہے..؟؟ کتنی سلفش ہو گئی ہو تم… جانتی ہو تمہارا مثلا کیا ہے…
تمہیں اچھا لگتا ہے وہ بار بار تمہارے پیچھے آے.. تم صرف اپنی تسلی کے لیے یہ سب کر ری ہو…
سیریسلی… شانزے ناراض ہوئی تھی…
شانزے معاف کر دو اسے… بھول جاؤ سب…. ایسا نہ ہو وہ معافی مانگتے مانگتے تھک جائے….
اریزے کی آنکھوں میں التجہ تھی…
…………………………………
شانزے یونیورسٹی پونچھ گئی تھی.. پر خلاف توقع یوسف اسے دکھائی نہیں دیا تھا.
بڑا آیا نام واپس لینے والا… شانزے نے دل میں سوچا تھا. جب اس کی نظر مہک پے پڑی جؤ بےتحاشا رو رہی تھی.
اس سے کیا ہوا، یہ کیوں رو رہی ہے… اس نے صبا کہ ساتھ بیٹھے پوچھا تھا..
یوسف کمپیٹیشن سے نام واپس لے رہا اس لیے… صبا نے افسوس بھری نیگھاؤں سے دیکھا تھا.
شانزے واقعی شوک میں تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ایسا کر جائے گا..
کیا ہوا اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہو… یہی تو تم چاہتیں تھیں نہ… صبا نے اس سے بولا تھا..
تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو میں یہ کیوں چاہوں گی.. شانزے پرشان تھی..
شانزے غلط میں نہیں سمجھ رہی ، تم سمجھ رہی ہو یوسف کو.. تم نے کچھ نہیں کہا پر وہ یہ سب کر تو تمہارے لیے ہی رہا ہی نہ.. صبا نے اس کا ہاتھ تھاما تھا.. شانزے کی آنکھوں سے آنسو پھر نکل پڑے تھے…
پلیز شانزے رو مت میں معافی چاہتی ہوں اگر تمہیں میری بات بری لگی.. صبا نے اس کے آنسو صاف کے تھے..
نہیں سوری تو مجھے بولنا چاہیے میں نے سب کو غلط سمجھا.. تمھی بھی کتنا کچھ کہا.. پلیز صبا مجھے…
بس کر پگلی رولے گی کیا ویسے بھی دوستی میں سوری نہیں ہوتا… سمجھیں.. صبا نے اس سر پے ہلکا ہاتھ مارا تھا،
شانزے ہنستے ہوے کھڑی ہوئی تھی…
کہاں چلیں صبا نے اس کو اٹھتا دیکھ پوچھا تھا.. سب خراب میں نے کیا ہے تو ٹھیک بھی تو میں ہی کروں گی نا..
شانزے چلی گئی.. صبا نے روکا نہیں تھا وہ جانتی تھی کہ اب وہ کہاں جائے گی.. اس نے مسکڑتے ہووے دل سے دوا کی تھی اس کے لئے… اس کی خوشیوں کے لئے وہ جانتی تھی کہ شانزے دل کی بری نہیں ہے “بس کچھ زیدی ہے”..
………………………………………………..
شانزے میم کلثوم کے آفس میں آئ تو یوسف وہاں پہلے سے ہی تھا…
وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ کیوں آیا.. تبھی شانزے نے بھی اپنے آنے کا مدعا بیان کیا تھا…
اب پھر ایک نی جنگ چڑ گئی تھی.. شانزے کی ہاں کی تو یوسف کی نا کی وہ دونوں بحث میں مصروف تھے.
ایک ہاں کر رہا تھا، تو دوسرا نا پے باضد تھا..
اس بات کو نظر انداز کے کے وہ میم کلثوم کے آفس میں ہیں…
لیکن آج میم کلثوم کو سچ میں غصہ آگیا تھا… وہ ان کے چویے بلی والے کھیل سے تنگ آگئیں تھیں…
سمجھتے کیا ہیں آپ دونوں خود کو…؟؟ ٹھیک ہے مانا کہ آپ دونوں اچھے سٹوڈنٹس میں شامل ہیں،
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کی ہر بات کو نظر انداز کر دیا جائے..
بچے تو نہیں ہیں آپ دونوں جؤ اس طرح سے لڑیں انہوں نے دونوں کو کڑی نظروں سے دیکھا تھا،
آپ لوگو اپنی مان منی کریں گئے اور کوئی آپ کو روکے گا نہیں؟؟
یاد رکھیے یہ میرا ڈیپارٹمنٹ ہے اور اس کا ہر فیصلہ میں کروں گی..
اور میرا فیصلہ ہے کہ آپ دونوں ہی اس میں شامل ہیں اور وہ بھی ایک ٹیم کی طرح اور اب انکار کی صورت میں آپ دونو اس کمپیٹیشن میں تو کیا کبھی کسی دوسرے کمپیٹیشن میں بھی شامل نہیں ہونے دیا جائے گا… انڈرایسٹینڈ…
یس میم.. دونوں نے ایک ساتھ بولا تھا..
پلیز آپ دونوں جا سکتے ہیں… اب وہ ٹیبل پے پڑی فائل دیکھنے میں مصروف ہو گیں تھیں..
وہ دونوں آہستہ آہستہ چلتے روم سے باہر آگے تھے..
شانزے… یوسف…
دونوں نے ساتھ میں ایک دوسرے کو پکارا تھا… اور بےساختہ ان کی ہنسی چھوٹ گئی تھی…
لیکن جلدی دونوں سیریس ہو گئے تھے…
شانزے آگے بڑی تھی…
شانزے… یوسف نے آواز دی تھی…
صرف کمپیٹیشن… اوکے… شانزے کہتی پلٹ گئی تھی دونوں کے ہونٹوں پے پھر مسکراہٹ پہلی تھی لیکن وہ دونوں ہی دیکھ نہیں سکے تھے…
………………………………….
وہ جیسے آفس پہنچی تو کافی افراتفری تھی.. ہر شخص یہاں سے وہاں پھرتا کچھ نا کچھ کرتا ہی نظر آرہا تھا..
اریزے آج کچھ لیٹ آئ تھی اس لیے نہیں آئ جانتی تھی کے عمیر آج نہیں آیا ہے، اور اس کی جگہ عثمان پہنچ چکا ہے…
اریزے میڈم اچھا ہوا آپ گیں.. باس بہت دیر سے ٹینڈر فائل کا پوچھ رہ ہیں لیکن آپ آئیں نہیں تھیں تو..
ٹھیک ہے میں لاتی ہوں.. اریزے نے بول کے ہٹی ہی تھی، کہ فون بجنے لگا..
ہیلو…. اس نے کال رسیو کر کے کہا تھا…
اریزے.. موسم دیکھ کتنا پیارا ہو رہا.. دوسری جانب سے مہرہ کی آواز آئ تھی..
روک میں دیکھتی ہوں.. وہ قد اور کھڑ سے باہر دیکھنے میں لگی تھی…
باہر ہلکی بارش تھی.. یہ کب ہوا.. ابھی جب میں آئ تو کچھ بھی نہیں تھا… اریزے نے حیرت سے پوچھا تھا..
ابھی ٥ منٹ پہلے… یار میرے پاس ایک پلان ہے لنچ ٹائم میں باہر چلتے ہیں.. ماہرہ کافی پرجوش تھی..
باہر بارش میں.. اریزے کچھ پریشن ہوئی تھی..
ارے میری گاڑی میں جائیں گئے نا پلیز پلیز… ماہرہ نے زد کی تھی.
اچھا اچھا ٹھیک ہے اب دوبارہ وہ باہر دیکھنے لگی تھی…. فون رکھا جا چکا تھا..
وہ فون رکھنے کے لئے پلٹی تو سامنے کھڑے عثمان کو دیکھ کے ٹھٹک گئی تھی…
جؤ بہت غور سے اس سے ہی دیکھ رہا تھا.. لائیٹ گرین کلر.. پہنے وہ اسے موسم کا حصہ لگی تھی…
ہمیشہ ایسے ہی ہوتا تھا کہ وہ جب بھی اس سے دیکھتا تو دیکھتا ہی رہ جاتا…
سر.. وہ میں… بارش.. میرا مطلب ہے ہے کہ… میں.. اسلام و علیکم… اریزے گڑبڑا گئی تھی…
وعلیکم اسلام، فائل لے کے آجائیں اریزے، کچھ چینجز ہیں..
عثمان کہتا پلاٹ گیا تھا کہ کہیں ایسا نا ہو کہ وہ اس کی ہنسی دیکھ لے….
اریزے نے سر میں ہاتھ مارا تھا.. اور فائل اٹھا کے اس روم میں گئی تھی…
عثمان اب بہت غور سے فائل دیکھ رہا تھا.. اور کچھ مارک بھی کر رہا تھا..
جبکہ اریزے عثمان کو دیکھ رہی تھی.. کتنے دن بعد دیکھ تھا اس کو.. گیرے کلر اسے کافی سوٹ کر رہا تھا..
اس کی پرسینلٹی ہمیشہ کی طرح شاندار لگ رہی تھی…
جبکہ عثمان اپنے چہرے پے اس کی نگاہیں اچھی طرح محسوس کر سکتا تھا…
لیکن اریزے کی طرف دیکھ کر اس کو کونفیز نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے فائل میں دیکھتے ہوے بولا..
اریزے اس فائل پرسوں ہمیں ایک میٹنگ کرنی ہے اپنے کلائنٹ سے پلیز میک می شیور ڈٹ سعدیہ مست بی ہیرے فور میٹنگ،
یو نو ایٹس ریلی امپورٹنٹ فور بوتھ اوف عس.. اس نے نہایت شائستگی سے کہا تھا..
اریزے اس کے انداز میں کھو سی جاتی تھی ابھی بھی وہ اس کے انداز میں گم تھی جب عثمان نے اسے چونکایا تھا..اریزے ارے یو اوکے… اب کی بار وہ کہے بنا نا رہ سکا… عثمان اس کی حالت سے محفوظ ہوا تھا…
جی کچھ نہیں.. اریزے پلٹی تھی..
آپ کچھ کہنا چاہتی تھیں.. اریزے..؟ عثمان نے جاتے جاتے اس سے پوچھا تھا.. جانے وہ کیا سنا چھ رہا تھا،
نہیں کچھ بھی تو نہیں.. بارے آرام سے کہتی اس کے دل کی دنیا اتھل پتھل کرتی باہر چلی گئی تھی..
………………………………………….
شانزے کا موڈ بہت اچھا تھا… شاید موسم کا اثر تھا… یا موسم پے شانزے کے موڈ کا اثر ہوا تھا…
بہرحال… ہلکی ہلکی بارشاس کے دل اور ذھن کو کو بھی ہلکا پھلکا کر دیا تھا..
شانزے بات بے بات مسکرا رہی تھی…
خیریت ہے.. آج سورج کہاں سے نکلا ہے… مہک نے شاید کچھ زیادہ ہو نوٹ کیا تھا..
تمہاری نظر کمزور ہے یا نظر ہی نہیں آتا.. شانزے نے آئ برو اچکا کر پوچھا تھا..
کیا مطلب.. مہک سمیت باقی دونو بھی حیران ہوئی تھیں..
مطلب یہ کہ آج سورج نکالا ہی کہاں ہے… شانزے نے آنکھوں کے اپر ہاتھ کا سیا کرتے اس کا مذاق اوریہ تھا..
شانزے تم بھی نا.. اس نے اپنا چھوٹا سا وولٹ کھنچ کے شانزے کو مارا تھا جؤ اس نے بڑی مہارت سے کیچ کیا تھا…
ہمم… چلو بھئی.. آج تو سب کو میری طرف سے دعوت… اس نے مہک کا وولٹ نچایا تھا… کیوں مہک ،
اور وہ تینوں مہک کی حالت پے ہنس پڑیں تھیں وہ ہمیشہ کہ کے بچ جاتی تھی کہ میں وولٹ بھول آئ ہوں اور آج خود ہی جذبات میں اکر غلطی کر بیٹھی تھی وہ بھی اتنے خوصورت موسم میں…
………………………………………..
یوسف ، رانیہ محسن سمیت کینٹین میں بیٹھا تھا،
اس کا خوشگوار موڈ دیکھ کے محسن کو بہت خوشی ہوئی تھی…
اور اسی خوشی میں ہی وہ سب کو کوفی اور سموسے کھلانے لایا تھا.. جؤ موسم کا تقاضا بھی یہ تھا..
وہ لوگ کینٹین میں بیٹھے تھے.. جب شانزے لوگ بھی کینٹین میں پہنچھے…
گرم گرم پکوڑوں اور سموسوں کی خشبو نے ماحول کو خوب اچھا کر دیا تھا..
وہ بیٹھنے کے لیے جگہ ڈھونڈنے لگیں تھیں لکین کہیں بھی جگا نہیں تھی..
موسم کی وجہ سے سٹوڈنٹ کا رش آج زیادہ ہی تھا.. وہ چاروں واپس جاتیں اس سے پہلے ہی وارث نے آواز دی تھی..
شانزے.. صبا… تم لوگ یہاں آجاؤ ان کے ٹیبل پے زیادہ جگہ تھی کیوں وہاں صرف صفیہ اور وارث ہی تھی..
وہ چاروں اس طرف بڑھیں تھیں.. جب شانزے کی نظر اس پے پڑی… اور وہ مسکراتی ہوئی وارث کی ٹیبل طرف بڑھ گئی تھی.. دوسری طرف یوسف کی حالت بن پانی مچھلی جیسی تھی…
ارے ہم نے ڈسٹرب کر دیا آپ کو شانزے نے جان بوجھ کروارث کو مخاطب کیا تھا… جؤ بکس سمیٹ رہا تھا..
نہیں نہیں… ایسی کوئی بات نہیں ہے، ہم بس خود بھی بریک لینا چاہ رہے تھے.. وارث نے کافی عاجزی سے کہا تھا…
اور تم بتاؤ کیسی تیاری چل رہی ہے… سوال صفیہ نے کیا تھا…
اچھی چل رہی ہے… بس ابھی بریک لیا ہے تو سوچا کینٹین آجاؤں شانزے مسکراتے ہووے جواب دیا تھا…
وہ جانتی تھی کے اس کی مسکراہٹ جلتی پے تیل کا کام کر رہی ہے.. وہ یوسف کی نگاہیں اچھے سے محسوس کر سکتی تھی، جس جگہ وہ نتھی تھی وہاں سے وہ براہ راست نا صیہح پر آمنے سامنے ضرور تھے اور بغیر کسی روکاوٹ کے ایک دوسرے کو دیکھ اور سن سکتے تھے…
کوفی اور چاے آچکی تھی.. اور وہ سب اس میں مصروف تھے…
یوسف شانزے میں اتنا مگن تھا.. کہ رانیہ کی بات بھی نا سن سکا… تبھی اس نے اس کو جھنجوڑا تھا..
یہ تمہاری ٹیم میں ہی نا تو وہاں کیا کر رہی ہے…
کیا کر رہی ہے مطلب… بھائی موسم انجواے کر رہی ہے اور کیا محسن جان بوجھ کر بولا تھا..
کل کوئز ہے، اور اس کو کوئی فکر نہیں ہے… یوسف میں بتا رہی ہوں اس کی وجہ سے تم ہارے نا تو میں اس سے چوروں گی نہیں… سن رہے ہو نا تم… وہ زچ ہوئی تھی کیوںکہ یوسف مسلسل شانزے کو دیکھ رہا تھا..
یوسف یوسف… رانیہ نے اس کو آواز دی تھی لیکن وہ اس کی آواز کو نظر انداز کرتا اپنی جگہ سے اٹھ گیا تھا…
اور شانزے کے سر پے کھڑا تھا… بریک از اوور، شانزے حسان… لیٹس میٹ ان لائبریری ویتھین فائیو منٹس…
وہ کہ کر روکا نہیں تھا…
کتنا اٹیٹیوڈ ہیں نا اس میں کبھی سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتا کسی سے..، صفیہ نے تبصرہ کیا تھا…
جب کے شانزے اور محسن زیرلیب مسکراے تھے…
……………………………………………
سر یہ فائل جؤ کریکشن ریکواہیڈ تھیں وہ میں کر چکی ہوں.. اور مس سعدیہ بھی میٹنگ میں آرہی ہیں..
ٹھیک ہے.. یہ تو اچھی بات ہے… میں اس سے چیک کر لیتا ہوں.. عثمان نے فائل اس کے ہاتھ سے لی تھی..
اس نے دیکھا تھا اریزے کچھ پریشان سی ہے لیکن بول نہیں رہی..
میں جاؤں سر… وہ ہمیشہ ایسے ہی اجازت مانگتی تھی جیسے کلاس میں بچے اپنے ٹیچر سے..
نہیں بیٹھ جائیں…عثمان مسکریا تھا…
جی… وہ کچھ پریشان ہوتی بیٹھ گئی تھی….
کچھ کہنا چاہتی ہیں آپ ؟؟ اس نے آگے ہو کر ٹیبل پے ہاتھ رکھے تھے..
اریزے کا دل دھڑکنا بھول گیا تھا … پسینے کی ننھی بوندیں اس کے ماتھے پے چمکیں تھیں..
نہیں سر.. آئ یم فائن.. اریزے نے کچھ کنفیوز ہوتے منہ اتے بل پیچھے کے تھے…
کتنی م،اشکل سے عثمان نے دل کی بات رد کی تھی جؤ بضد تھا اس کے بالوں کو چھونے کا.
اس کا زیادہ دیر بیٹھنا خطرے سے خالی نہیں تھا… عثمان سے اپنا دل سمبھلانا مشکل ہو رہا تھا..
جبکہ اریزے کی حالت بھی خاصی مختلف نہیں تھی..
ٹھیک ہے میں یہ فائل آپ کو دے دوں گا فائنل کرنے سے پہلے ایک بار دیکھ لیجئے گا..
جی سر… وہ کہتی اٹھ گئی تھی.. تبھی کا اس ڈوبٹہ پیچھے سے کھنچا تھا..اور اس وجہ سے سر سے اتر گیا تھا..
اریزے کا دل اچھل کر کے حلق میں آگیا تھا، اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ عثمان ایسی حرکت کر سکتا ہے.. غصے سے اس کا چہرہ لال ہو گیا تھا… جب اس نے پلاٹ کر دیکھا تھا…
آنکھوں میں نجانے کون سا صدمہ تھا لیکن پیچھے پلٹ کر وہ حیران رہ گئی تھی..
عثمان اپنی جگہ پے بیٹھا فائل میں مصروف تھا.. اور اس ڈوپٹہ کا چیر میں نکلی کیل میں پھنسا تھا..
اریزے کو اپنے خیالات پے شرمندگی ہوئی تھی.. اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہوا تھا…
اب وہ پوری جدوجہد سے اپنا ڈوپٹہ نکلنے میں مصروف تھی گھبرات کی وجہ سے وہ نکل نہیں پارہی تھی..
جب عثمان کی نظر اس پے پڑی کیا ہوا اریزے…؟؟ اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا..
وہ میرا ڈوپٹہ پھس گیا ہے.. اس نے شرمندہ ہوتے کہا تھا.. ایک ہاتھ سے ڈوپٹہ نکلنے کی کوشش کر رہی تھی..
اور دوسرا ہاتھ اپنے کندھے پے رکھا تھا کہ کہیں دوپٹتا گرنا جائے…
عثمان نے آج پہلی بار اس کے بال دیکھے تھے، اور دیکھتا ہی رہ گیا تھا،
اسے یہ تو اندازہ تھا کہ کہ اس کے بل لمبے ہیں لیکن اتنے وہ حیران تھا..
نورملیی ان کی سوسایٹی میں پائی جانی والی لڑکیوں کے بال تو شولڈر تک بھی مشکل ہی ہوتے ہیں..
اریزے ایک منٹ روکو..اس کو بری طرح ڈوبٹہ کھنچتے دیکھ عثمان اپنی جگہ سے اٹھا تھا..
اور اب چیر پے جھکا اسے نکلنے میں مصروف تھا…
اریزے کو اپنی سانس روکتی محسوس ہوئی تھی آج دوسری بار وہ اس سے انتہائی نزدیک تھا… اس کا پرفیوم….
اریزے کو لگا اس کے ہوش اوڑھ رہے ہیں.. اپنے ہاؤس میں رہنا مشکل ہو رہا تھا.. ایک تو اپنے خیال کی شرمندگی اور اب اس کی قربت دونوں نے ہی اس کے اندر اتھل پتھل کر دی تھی…
لیجئے جناب اپ کا ڈوپٹہ.. عثمان نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا…
اس نے جلدی سے تھام لیا تھا اور وہ اب دوبارہ اپنے سر پے ڈوپٹہ ٹیک چکی تھی..
عثمان نے اس سے بہت محبت سے دیکھا تھا فخر ہوا تھا اسے اپنے دل کی پسند پ اریزے کے چہرے پے بکھرے ہی کے رنگ اس سے بہت بھلے معلوم ہوے تھے…. مزید روکنا اریزے کے لئے محال تھا…
اریزے…. وہ جانے لگی تھی جب عثمان نے اسے آواز دی…
وہ پلٹ کر اب اس کو ہی دیکھ رہی تھی ،
آپ نے تو پوچھا ہی نہیں پر… پھر بھی، آپ لنچ کے لئے جا سکتی ہیں.. ماہرہ کے ساتھ…. عثمان مسکریا تھا..
اریزے نے نگاہیں جھکا لیں تھیں.. تھنک یو سر… وہ کہتی باہر نکل گئی تھی…
…………………………………………..
اداسی تم پے بیتے گی تو تم بھی جان جاؤ گئے…
کوئی نظر انداز کرتا ہے تو کتنا درد ہوتا ہے…
یوسف نے دور سے اتی شانزے کو دیکھ کر سوچا تھا…
کیا مسلۂ ہے تمہارے ساتھ…. کیوں جھوٹ بولا تم نے… بریک از اوور.. شانزے آتے ہی برسی تھی اس پے..
یہ تو میں بھی بول سکتا ہوں نا… اور ویسے تم نے ہی کہا تھا کہ بریک ملا ہے تو بس اب ختم….
اس نے بھی ٹکا کر جواب دیا تھا..
نیہایت فضول طریقہ تھا بلانے کا… شانزے چیڑی تھی..
وہ چھوڑو… تم آگیں نا… ویسے تمہیں کونسا خیال تھا.. بڑی خوش اخلاق بن رہیں تھیں اس وارث کہ سامنے تو..
اچھا اور خود جؤ رانیہ کہ ساتھ مصروف تھے، تب خیال نہیں آیا تھا کوئز کا…؟؟ شانزے کہاں کم تھی..
اوہ – جلنے کی بو آرہی ہے… نہیں ؟؟؟ یوسف نے آئ برو اچکا کر پوچھا تھا..
ہاں آ تو رہی ہے..،، شانزے نے ہاں میں ہاں ملائی..
کہاں سے…؟؟ یوسف نے طنز کیا تھا…
یہاں سے… شانزے نے اس کی ناک پے انگلی رکھ کے زور سے دبائی تھی…
اب وہ دونوں ہنس پڑے تھے…
بس بس زیادہ ہنسو نہیں… اور بھولو نہیں صرف کمپیٹیشن… شانزے نے بک اٹھائی تھی..
اور یوسف بھی پین پکڑے اسے سمجھانے لگا تھا…
………………………………..
عثمان اثر پڑھ کے واپس آیا تو اریزے کو دیکھ کر ٹھٹک گیا تھا..آپ…؟؟؟
جی سر… کیوں کیا ہوا.. اریزے اس کے ریکشن پے حیران تھی..
باہر بارش ہے.. موسم کافی خاران ہے مجھے لگا آپ وہاں سے گھر چلی جائیں گی…
سر آپ نے تو کہا تھا کہ آپ فائل دیں گئے تو میں چیک کر لوں بس اس لئے… نہایت معصومیت بھرا انداز تھا..
میرا مطلب کل تھا اریزے.. عثمان کو اس پے بےتحاشا پیار آیا تھا لیکن اس کا اظہر ممکن نا تھا..
اوہ اچھا…. اریزے نے ٹھنڈی سی آواز میں کہا تھا..
خیر بارش ہلکی ہو تو آپ چلی جائیے گا..
ٹھیک ہے سر.. ریزے نے چھوٹے بچے کی طرح تابیداری سے کہا…
عثمان اس کی معصوم سی صورت دیکھتا رہ گیا تھا سر جھٹکاتا آگے بڑھا تو کسی خیال سے پلٹ گیا تھا..
اریزے آپ جائیں گی کیسے…؟؟
سر میں گھر سے کسی کو بلا لیتی ہوں.. اریزے کے لہجے میں ابھی بھی سادگی تھی..
عثمان کو اپنے خیال پے ہنسی آئ تھی.. وہ زیر لب مسکراتا روم میں آگیا تھا…
…………………………………………..
میرا خیال ہے کافی ہے اتنی تیاری، باقی جؤ میلز میں نے کی ہیں ٹائم نکل کر اس کو دیکھ لینا… ٹھیک ہے..
اس نے سوالیہ نگاہوں سے شانزے کو دیکھا تھا..
ہمم ٹھیک ہے… شانزے نے سر ہلایا تھا..
پھر کل صبح ملتے ہیں.. ٩ بجے… یوسف نے چیزیں سمٹ کر بیگ میں ڈالیں تھیں..
کیوں ؟؟ نو بجے کیوں ؟؟ کوئز تو ١٢ بجے شروع ہو گا نا شانزے نے حیرت سے دیکھا تھا..
میڈم کوئز جیتنا ہے نا…؟؟ یوسف نے طنز کیا تھا… جواباً شانزے نے سر ہاں میں ہلایا تھا..
تو پھر اس کے لیے پلان بھی بنانا ہو گا اور وہ بنیں گئے… کل اوکے… یوسف نے پین اس کے سر پے مارا تھا..
اوکے… شانزے حیران رہ گئی تھی.. وہ باہر نکلی تو بارش کی وجہ سے سٹوڈنٹس تقریبن جا چکے تھے.. اس کے گروپ کا کوئی بھی وہاں موجود نہیں تھا…
کیا ہوا..؟؟ یوسف اس کی شکل دیکھ کر کچھ کچھ سمجھ گیا تھا لیکن پھر پوچھنا بہتر سمجھا…
سب چلے گئے… شانزے نے پریشان ہوتے کہا ،
شانزے بارش کا موسم ہے ہلکی ہوئی تو چلے گئے… یوسف نے کندھے اچکاے تھے، وہ چل پڑا تھا…
لیکن شانزے اپنی جگہ کھڑی تھی.. کیا ہوا آجاؤ میں چور دیتا ہوں گھر.. یوسف نے کہا تھا.. لیکن وہ کھڑی رہی..
کیا ؟؟ انویٹیشن دوں اب… یوسف چڑ گیا تھا..
مجھے تمہارے ساتھ نہیں جانا… شانزے نے اس کی اوفر رد کی تھی…
وہاٹ.. یوسف کو جھٹکا لگا تھا…
ہاں بلکل… شانزے ابھی تک اری ہوئی تھی…
لیکن شانزے… یوسف نے کچھ کہنا چاہا تھا…
apology accepted”
“trust denied
شانزے ہاتھ اٹھا کر کہا اور چلتی بنی…
……………………………….
شانزے باہر نکلی تو بارش تیز تھی.. وہ درخت کی آڑ میں کھڑی تھی لیکن پھر بھی بری طرح بھیگ گئی تھی..
تبھی وہاں تین لڑکے آے تھے… حلیے اور آنکھوں سے سے وہ کچھ اچھی نیت والے نہیں لگ رہے تھے..
اچانک ہی شانزے کو غلطی کا احساس ہوا تھا… وہ اب آہستہ آہستہ چلنے لگی تھی جبکہ وہ تینوں اس کے پیچھے چلتے غلط ریمارکس پاسس کر رہے تھے.. شانزے کو رونا انے لگا تھا… پر اب کوئی فائدہ نہیں تھا..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: