Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 19

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 19

–**–**–

اریزے باہر نکلی تو اس کے ہوش اڑ گئے… بارش اتنی تیز تھی اس کا تو اندازہ ہی نہیں ہوا تھا اسے….
لیکن بھر حال ٹائم ختم ہو چکا تھا اور گھر بھی جانا تھا…
اس لئے وہ قسمت آزمائی کرنے لگی.. ایک دو رکشہ والوں کو پوچھا تو انہوں نے جانے سے مانا کر دیا..
اور پھر ایک رکشہ روکا تو اس میں جلدی سے آدمی چڑھ کے بیٹھ گئے..
اریزے پہلی دفع ایسی مصیبت میں پھسی تھی… وہ بار بار وجی کا نمبر ملا رہی تھی،
پر ہر بار یہی جواب آتا کہ ” آپ کا مطلوبہ نمبر فل وقت بند ہے… براے مہربانی کچھ دیر بعد کوشش کیجئے”…
اریزے کی آنکھوں میں اندھرا چاہنے لگا تھا…
وہ پچھلے ڈھیر گھنٹے سے کھڑی تھی اور ابھی تک اپنے لیے کچھ بھی نہیں کر پی تھی…
پاپا کو فون نہیں کر سکتی تھی.. وہ پریشآن ہو جاتے…
اور پھر ان کا آفس تو بلکل ہی الگ سائیڈ پے تھا.
یا الله میں کیا کروں… میری مدد کریں الله جی.. اریزے کی موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے تھے..
لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے کوئی مدد کے لئے اپنے پاک پروردگار کو پکارے اور اسے مدد نہ بھجی جائے…
اریزے کو بھی مدد بیھج دی گئی تھی…
……………………………..
کالے بدل غیر کے آرہی تھے… بجلی چمکنے نے اس منظر کو خوب خوفناک بنایا تھا،
جیسے جیسے گھٹائیں خوب گرج چمک کے ساتھ آسمان کی وسعتوں میں پھل رہی تھیں،
ویسے ویسے اس کے اندر بےچینی بڑھ رہی تھی..
شانزے نے اپنی سپیڈ بڑھا دی تھی… اتنی ہی تیزی سے کالی گھٹائیں بھی بڑھ رہیں تھیں…
اوران لڑکوں نے بھی رفتار بڑھا دی تھی……
بارش کی رفتار پہلے سے بہت زیادہ… بوندوں کا تانہ بانہ ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا…
وہ لڑکے اب زور زور سے ہنس رہے تھے.. اور اس پے باتیں اچھل رہے تھے کوئی اور موقع ہوتا تو وہ اب تک حساب برابر کر چکی ہوتی لیکن اس وقت اس کے لئے یہ سب آسان نہیں تھا… وہ بار بار پیچھے پلٹ کر دیکھ رہی تھی..
اور ہر بار وہ اسے اپنے پیچھے ہی نظر اتے… تبھی اچانک وہ کسی سے ٹکرائی تھی…
شانزے منہ سے چیخ نکلی تھی… دل دہلا دینے والی چیخ…
…………………………….
عثمان اپنے روم سے نکلا تو اریزے وہاں نہیں تھی.. اسے تسلی ہو گی تھی کہ وہ جا چکی ہے….
وہ نیچے پارکنگ میں اپنی گاڑی کی طرف چلا گیا تھا جس کا درواز پچھلی سائیڈ کھلتا تھا..
گاڑی میں بیٹھ کر اسے خیال آیا کے بارش بہت تیز ہے.. تو گارڈ کو بول دے کہ وہ بھی چلا جائے..
اس نیت سے وہ بلڈنگ کے فرنٹ سائیڈ پے آیا تھا…
روڈ کے دوسری سائیڈ گاڑی روکی تو اس کی نظر اریزے پے پڑی..
اریزے… اس نے آواز دی تھی… اور ساتھ میں ہارن بھی بجایا تھا..
لیکن وہ اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ اس نے دیکھا ہی نہیں..
لیکن گارڈ نے دیکھ لیا تھا…. تبھی وہ چھتری لے گاڑی کی طرف بھاگا آیا تھا.. صاحب آپ…
ہاں وہ میں کہنے آیا تھا کے اب تم جاؤ.. اتنی بارش میں یہاں روکنا ٹھیک نہیں ہے…
یہ اریزے ہیں نا… عثمان نے اپنی بات کی تصدیق کرنا چاہی تھی…
جی صاحب دو گھنٹے سے کھڑی ہیں..
ان کی گھر کی طرف کوئی رکشہ والا جانا نہیں مان رہا کہ رہے ہیں وہاں کافی پانی بھرا ہے….
اوکے… عثمان باہر نکل تو گارڈ نے جلدی سے چھتری اس پے کی تھی،
وہ فورن روڈ کروسس کرتا اس کے پاس پہنچا تھا.
آیئں اریزے… اس پہلے کے وہ اسے دیکھ کر رو پڑتی… عثمان نے اس سے مخاطب کیا تھا…
اور اریزے اس کے پیچھے چل پڑی تھی.. اس سے پہلے کے وہ بارش میں بھیگتی عثمان نے گارڈ کے ہاتھ سے چھتری لے لی تھی… اور اب اس نے وہی چھتری اریزے اور اپنے اوپر کی تاکہ وہ بھیگنے سے بچے رہیں.
وہ دونوں گاڑی تک پوھنچ گئے تھے… عثمان نے فورنٹ ڈور اوپن کر کے اریزے کو بٹھایا تھا…
اور خود ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی تھی.. عثمان کو شدید غصہ آیا تھا…
اپ تو گھر سے کسی کو بلانے والی تھیں.. عثمان سے اب برداشت نہیں ہوا تھا..
وہ نمبر بند جا رہا تھا تو میں نے سوچا…
کیا سوچا آپ نے…؟؟ غصہ اس کے الفاظ میں شامل تھا…
کہ میں خود… اریزے بات پوری نہیں کر پائی تھی،،
میں خود کیا اریزے… ملی کوئی کنوینس ؟؟
اریزے صرف نا میں سر ہلا سکی تھی…
حد ہے غیر زمیداری کی آپ واپس آفس آسکتیں تھیں… اس طرح سے نیچے کھڑے رہنے کی کیا ضرورت تھی..
پچھلے دو گھنٹے سے آپ نیچے کھڑی ہیں… آپ نے نیچے روکنا پسند کیا، لیکن اوپر اکر بتانا گوارا نہیں کیا…
مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اتنی غیر زمیدار ہیں…
اریزے کو حیرت ہوئی تھی اتنی کریکٹ انفارمیشن پے…
اریزے… اس وقت بارش کی وجہ سے آپ کسی مصیبت میں بھی پھس سکتیں تھیں اس کے بارے میں سوچا آپ نے ؟؟
آپ لڑکیوں کا یہی مثلا ہوتا ہے… جاب کرنا شروع کرتی ہیں تو کسی کی مدد لینا ناگوار گزرتا ہے…
خود کو بہت بہادر سمجھنے لگتی ہیں… اب وہ ٹھیک ٹھآک اریزے کو سنا رہا تھا..
جب جواب نہ آیا تو اس نے اریزے کی طرف دیکھا اور وہ دیکھتا رہ گیا..
بنا آواز کے بارش کیسے ہو تھی ہے یہ آج پتہ لگا تھا اریزے کو دیکھ…
اس سے افسوس ہوا تھا، غصے میں کافی کچھ کہ گیا تھا. اچھا سوری… مجھ آپ کو ڈانٹنا نہیں چاہیے تھا..
قدرے نرم لہجہ تھا پر اریزے کا رونا ابھی بھی جاری تھا…
تبھی عثمان نے جیب سے رومال نکال کر دیا… یہ لیں…
اریزے نے چپ چاپ ہاتھ میں پکڑ لیا تھا…
چلیں اب اچھی لڑکیوں کی طرح رونا بند کریں… اور اپنے گھر کا راستہ تو بتایں تاکہ میں آپ کو ڈراپ تو کر سکوں…
وہ اپنے آنسو صاف کرنے میں مشغول تھی، اس کے رونے میں کمی آگئی تھی…
………………………………
شانزے نے ڈر سے آنکھیں بند کر لیں تھی.. سامنے کا منظر وہ نہیں دیکھنا چاہتی تھی…
اب کون سی مصیبت اس کے گلے ڈالنے والی ہے یہ سوچ کے ہی وہ ہاؤس باختہ تھی..
یوسف نے بہت غور سے اس کو دیکھا تھا.. جو جلدی جلدی شاید آیاتلکرسی پڑھنے میں مصروف تھی…
درد کی ایک لہر یوسف کے جسم میں پہلی تھی، اس سے اس دن والی شانزے یاد آئ تھی.. ڈری، سہمی،
اس نے دونو بازوں سے شانزے کو تھاما تھا… جانا پہچانا سا احساس پا کر شانزے نے آنکھیں کھول کے دیکھا تھا…
اس کی آنکھوں میں خوف صاف واضح تھا جو\
یوسف نے اس اپنے پیچھے کیا تھا اور خود ان لڑکوں کے سامنے دیوار کی طرح کھڑا تھا…
شانزے گری میں بیٹھو… یوسف کی آواز میں غصہ تھا.. وہ اپنی آستیں کو فولڈ کرتے ہووے بولا…
پر یوسف… شانزے کچھ کہنا چاہتی تھی پر اس سے پہلے ہی یوسف پھر دھاڑا…
سنا نہیں تم نے، گاڑی میں بیٹھو… وہ اتنی زور سے چیخا تھا.. شانزے کے ساتھ وہ تینوں لڑکے بھی ڈر گئے..
اگر تم میں سے کسی نے اس کی طرف دیکھا بھی تو یقین کرو میں اس کی آنکھیں پھوڑ ڈان گا…
یوسف بولتا ہوا ابھی ایک قدم ان کی طرف بڑھا تھا کہ وہ تینوں ڈر کہ بھاگ گئے تھے….
اب الله جانے اس کے چیخنے کا اثر تھا یا پھر اس کے قد کٹھ اور جسامت کا…
گاڑی میں بیٹھ کر اس نے ڈرائیور سیٹ سمبھال لی تھی..
کار میں سلو آواز میں مائک ڈی’ انجیلو کا انگلش ٹریک بج رہا تھا..
شانزے کی پریشان صورت دیکھ کر اس سے کچھ ہوا تھا…
Think that I’m falling in love with you
I’m lifting my entire heart to you, who are so important
You are the one
I am asking you to stay
To stay like this forever
To stay like this forever
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہی تھی.. اس کی حالت اتنی غیر تھی کہ وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی..
یوسف نے شانزے کے سر پر ہاتھ رکھا تھا.. “ڈرو نہیں میں ہوں نا”… اس نے اس کی کالی گہری آنکھوں میں دیکھا تھا.
اور شانزے کے صبر کا باندہ ٹوٹ گیا تھا…. وہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کے رونے لگی تھی..
یوسف کو سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ کیسے چپ کراے تبھی اس نے شانزے کا سر اپنے کندھے سے لگایا تھا…
You make me feel good
İnside, every time you turn towards me
When you give me your smile
You know you make me tremble
اب وہ اسے تسلیاں دے رہا تھا… شانزے کے رونے میں کمی آئ تو یوسف کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا…
تم جانتی ہو روتے ہوے تم اس دنیا کی سب سے بدصورت لڑکی لگتی ہو…
اس نے شانزے کو آہستہ سے خود سے الگ کیا تھا… اور گاڑی چلانا شروع کر دی تھی…
ہاں میں تو لگوں گی ہی نہ، کیونکہ آج تک تم نے خود کو تو روتے ہووے شیشے میں دیکھا نہیں ہو گا…
رونا اور میں… نیور… یوسف نے اس کے سر پے ہلکا ہاتھ ٹیکایہ تھا..
ویسے بھی میں کیوں رونا نے لگا رویائیں میرے دشمن… یوسف نے اترا کہ کہا تھا..
ہاں وہ جن کا نام ” W ” سے شروع ہوتا ہے.. شانزے نے جل کے کہا تھا…
ہاہاہاہا…. یوسف نے قہقہہ لگایا تھا. ویسے تمہیں رونا کس بات کا آرہا ہے.
میرے آنے کا… یا اپنے ان بھایوں کے جانے کا.. کہو تو واپس بلا دوں ؟؟
بھائی ہوں گئے تمہارے… سمجھے… ویسے بھی میں نے تمہیں نہیں بلایا تھا… شانزے چڑ گئی تھی،
اور رہا سہا بھی رونا بھول چکی تھی…
ہاں تو.. میں ہمیشہ خدمات خلق کے لیے تیار رہتا ہوں…
تمہاری خدمات خلق میں اچھے سے جانتی ہوں..
جو رانیہ کے پک اینڈ ڈراپ سے شروع ہو کے اس پے ہی ختم ہوتی ہے.. شانزے نے غصے سے کہا تھا..
یوسف کو وہ اس وقت ایک معصوم بچے جیسی لگی تھی،
جو اپنا پورا حق اس پے جاتا رہی تھی.. اور اس بات کو مانا بھی نہیں چہ رہی تھی… اس کے معملے میں خاصی کنجوس ثابت ہونے والی ہے… اس کا اندازہ اسے اچھی طرح ہو گیا تھا..
تبھی یوسف کے ہونٹوں پے ہنسی پہلی تھی،
ہنس کیوں رہے ہو…؟؟ شانزے نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا..
کچھ نہیں اب وہ اس سے کیا بتاتا کے وہ ساری زندگی اسے یہ سروس دینے کے لئے تیار ہے…
کیا بتاتا کے ساری زندگی بغیر پلکیں چھپکے بنا اسے دیکھ سکتا ہے…
I want to tell you that you are so cute, what should I do
But ı am probably not good enough for you
I want to give you my heart
but I don’t know if you’d accept it
کار میں ایک بار پھر مائک کی آواز گنجی تھی…. گانے کے الفاظ نے یوسف کو مسکرانے مجبور کیا تھا…
تم نہ پاگل ہو… اس کو مسکراتا ہوا دیکھ کر شانزے سے رہا نہیں گیا تھا…
ہاں تمہارے لئے… یوسف نے بھی جھٹ جواب دیا تھا…
شانزے اس کا منہ دیکھتی رہ گئی تھی، پر وہ گاڑی چلاتا سامنے دیکھنے میں مصروف تھا…
کار کا AC بہت تیز تھا اور بھیگنے کی وجہہ سے شانزے کو سردی لگ رہی تھی وہ بار بار اپنے بازوں پے ہاتھ پھرتی…
سردی سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی ، بھلا سردی بھی روکتی ہے ایسے…
یوسف بہت دیر سے اس سے نوٹ کر رہا تھا… تبھی اس نے پچھلی سیٹ پے پڑا اپنا کوٹ اس کی طرف بڑھایا…
شانزے… یہ لو پہن لو.. شانزے جو ونڈو سے بھر دیکھ رہی تھی.. چونک گئی تھی…
پر کیوں..؟؟ وہ حیران تھی… اس نے تو کچھ نہیں کہا تھا. تو یوسف نے کیسے…
وہ کیا ہیں نہ مجھے بہت سردی لگ رہی ہے… یوسف کے کہنے پے اسے ہنسی آئ تھی..
ایٹس اوکے میں ٹھیک ہوں… اچھوں… ساتھ ہی اسے چھینک آئ تھی… اور پھر ایک کے ایک بعد کئی آئیں….
یوسف نے اسے گھورا تھا نتیجتاً شانزے نے چپ چاپ کوٹ پہن لیا تھا…
I love the way you call my name, oh Babe
Every time I am near you, I go crazy
I want to love you with all of my heart
I just want to give you my love
کوٹ سے اٹھتی بھینی بھینی پرفیوم کی خشبو نے عجیب سحر طاری کیا تھا..
مائک کی آواز اس سے اپنے دل سے اتی لگی تھی… وہ یک ٹک یوسف کو دیکھے جا رہی تھی…
کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو، جب بہت دیر تک وہ کچھ نہ بولی تو یوسف نے ہی مخاطب کیا تھا…
ہم کہاں جا رہی ہیں… شانزے کو کچھ سمجھ نہیں آیا.. اس سے لگا چوری پکڑی گئی..
حیدرآباد… یوسف نے اطمینان سے جواب دیا تھا…
کیا… لیکن کیوں ؟؟ شانزے پریشان ہوئی تھی..
ریلس یار تمہارے گھر ہی جا رہی ہیں…
وہ… وہ… اصل میں راستہ سمجھ نہیں آیا تھا.. شانزے شرمندہ ہوئی تھی..
تبھی یوسف نے پیٹرول پمپ کی طرف گاڑی موڑی تھی.. کیا ہوا… اس نے دوبارہ پوچھا تھا…
کچھ نہیں بس دو منٹ میں آیا تم گاڑی میں بیٹھو…
تھوڑی دیر میں ہی وہ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا تھا.. پمپ پے خاصا رش تھا.. بائیک والے…
پیدل چلنے والنے بارش سے پریشان پمپ پے پناہ لینے پے مجبور تھے…
کتنے بائیک والے بائیک بند ہو جانے سے کی وجہ سے وہاں کھڑے تھے…
کیوںکہ روڈ پے پانی بھر چکا تھا… لیکن کوئی پرسانے حال نہ تھا… انتیزامیہ کہاں تھی کچھ نہیں پتا تھا…
شہری اتنی پریشانی میں بھی مسکرا رہے تھے.. اور دوسرے کو مدد کی پیش کش کرتے نظر آرھے تھے…
یہ ہے کراچی اور ایسے ہیں یہاں کے لوگو ہر پریشانی کا مقابلہ کرنے والے…
شانزے نے دل سے اپنے شہر کے لئے دعا کی تھی…
…………………………………….
یوسف نے کچھ اسنیکس لئے اور کوفی کاؤنٹر پے آیا جب اس کی نظر عثمان پے پڑی،
جو فیول فل کرا رہا تھا، غلبان کسی لڑکی کے ساتھ تھا…
لڑکی کون تھی وہ دیکھ نہیں پا رہا تھا.. وہ جلدی جلدی سامان لیتا بھر نکلا تھا پر اسے پہلے ہی عثمان جا چکا تھا…
ایک شاہراتی مسکراہٹ یوسف کے ہونٹوں پے پہلی تھی…
کچھ بھی تھا، کچی ڈور ہی صیہح پر یوسف کے ہاتھ آہی گئی تھی…
وہ سامان لے کے گاڑی میں آگیا تھا…
اور اب کوفی اور اسنیکس شانزے کی طرف بڑھایا تھا… شانزے کچھ جھجکی تھی… لیکن پھر اس نے کوفی لے لی…
گاڑی میں ایک بار پھر مائک کی آواز آئ تھی…
Oh Baby I
Think that I’m falling in love with you
I’m lifting my entire heart to you, who are so important
You are the one
I am asking you to stay
To stay like this forever
اس بار دونوں کو اپنے دل سے اتی محسوس ہوئی تھی….
اب سے کچھ دیر پہلے جو موسم اسے خوف میں مبتلا کر رہا تھا… اب وہی اسے حسین اور خوشنما لگ رہا تھا…
ہر چیز نکھری نکھری محسوس ہو رہی تھی… دل سے تمام شکوہ دھل گئے تھے…
نئی امنگوں نے دل میں انگڑائی لی تھی.
…………………………………….
چلو بھئی… گھر آگیا تمہارا… یوسف نے گاڑی روکتے ہوے کہا تھا… بارش اب کافی ہلکی ہو گئی تھی…
شانزے فورن گاڑی سے اترنا چاہتی تھی جب یوسف کی آواز نے اسے روکنے پے مجبور کیا تھا……
کتنی بد لہٰذ ہو تم… بندہ کوئی شکریہ… کوئی تیھنکس بول دیتا ہے… یوسف نے بناوٹی انداز میں بولا.
تھنکس وہ بھی تمہیں… ؟؟؟ شانزے نے الٹا سوال کیا تھا..
ہاں بلکل…. یوسف نے ڈھٹائی دیکھائی تھی…
کبھی نہیں… شانزے کون سا کم ڈھیٹ تھی…
اچھا چلو مت بولو… لیکن اتنا تو کہ دو کے اب تم نے مجھے معاف کیا…. یوسف نے اصل مدعہ بیان کیا تھا…
اووو…. تو یہ بات ہے شانزے دل میں کہتی اس کی طرف موڑی تھی…
نہیں کبھی نہیں… شانزے نے اس سے چڑایا تھا..
پھر کیا کروں تمہیں منانے کیلئے… یوسف نے بےبسی سے سر سٹیرنگ میں مارا تھا…
وہ سامنے درخت دیکھ رہے ہو… شانزے نے روڈ کی دوسری طرف لگے گھنے درخت کی طرف اشارہ کیا تھا..
شانزے نے مسکراہٹ دباتے ہوے کہا تھا…
یوسف نے ہاں میں سر ہلایا تھا..
اور وہ اس کے نیچے جو وائٹ سمنٹیڈ بینچ ہے وہ… شانزے نے پھر پوچھا تھا اسے ہنسی روکنا مشکل ہو رہا تھا…
ہاں یار…. یوسف چڑ گیا تھا… تم کیا میری آئ سائٹ چیک کرنے بیٹھ گئی ہو… بولو کرنا کیا ہے..
کچھ نہیں بس وہاں بیٹھ کر صبح تک میرا انتیظار کرنا ہے..
وہاٹ… ارے یو سیریس… یوسف کو چار سو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا تھا…
بلکل… شانزے نے ہاں میں سر ہلایا تھا… وہ گاڑی سے اتر گئی تھی…
شانزے میں صبح تک کروں گا کیا… یوسف حیران ہوتا خود بھی گاڑی سے اترا تھا..
میرے معاف کر دینے کا انتیظار… شانزے نے اطمینان سے کہا تھا.. ہاتھ باندھتے ہوے اس کے سامنے کھڑی ہوئی تھی.
اور ویسے بھی تم نے تو کہا تھا جو میں کہوں گی تم کرو… تو میں سمجھوں تم نے ہار مان لی…
شانزے کہ کے پلٹی تھی، جب یوسف نے اس کا ہاتھ پکڑ کے روکا تھا….
اگر میں بارش میں بھیگ کر بیمار ہو گیا تو… یوسف نے اس کی کالی گہری آنکھوں میں دیکھا تھا…
تو پھر میں تمہارے لیے کوفی بنا کر لاؤں گی… شانزے اپنے گھر کی طرف بڑھی تھی..
جبکہ یوسف اسے مسکرتا ہوا جاتے دیکھ رہا تھا، پھر گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹرٹ کرنے لگا….
………………………………
ارے اریزے بیٹا تم تو پوری بھیگ گئی ہو… می جانی فکر مند ہوئی تھیں،
میں ٹھیک ہوں می جانی فکر نہ کریں… اور ساتھ ہی اسے چھینک آئ تھی…
دیکھو دیکھو… تمہیں فلو ہو گیا جاؤ شاباش جلدی سے چینج کرو میں چاے لاتی ہوں تمہارے لئے…
می جانی میں ٹھیکککک… اچھوں… ہوں… اف…. شانزے کا سر چکرا گیا تھا.. اتنی چھینکیئں..
وہ روم میں آئ تو سب سے پہلے کھڑکی سے باہر جھانکا…
شانزے کو ہنسی آئ تھی کیوں کے درخت کے نیچے یوسف تو کیا اس کا بھوت بھی نہیں تھا…
دل ہی دل میں مسکرائی تھی ایک اور بات جو مل گئی تھی یوسف کو چڑانے کے لئے..
وہ جب پلٹی ت سامنے بیٹھی اریزے کو دیکھ کے ٹھٹکی…
جو ہاتھ میں رومال لئے بیٹھی تھی…
اور خوب مسکرا مسکرا کے اسے دیکھنے میں مصروف تھی.. اس کے چہرے پے بکھرے رنگ اس بات کو بتانے کے لیے کافی تھے کے رومال کس کا ہے… لیکن اصل مثلا تو یہ تھا کے وہ رومال یہاں تک پونچھا کیسے…
تبھی شانزے دبے اس کے پاسس گئی ور ہاتھ سے رومال کھنچ لیا… اپنے خیالوں میں گم اریزے بھی ہوش کی دنیا میں لوٹ آئ تھی… شانزے تم… تم کب آئیں…؟؟ اس نے حیران ہوتے کہا تھا..
میں بس ابھی جب اپ اس رومال میں گم تھیں اس نے اس کے منہ پے لہرایا تھا…
شانزے پلیز واپس کرو یہ… اریزے نے ہاتھ بڑھایا تھا..
اگر نہ کروں تو… ویسے ایسا بھی کیا ہے اس میں…؟؟ رومال نہ ہوا سلیمانی ٹوپی ہو گئی.. اریزے نے رومال لہرایا…
شانزے.. واپس کرو نہیں تو… اریزے نے رونے جیسی صورت بنائی تھی…
نہیں تو کیا… اب شانزے زد پے آگئی تھی..
مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا… اریزے نے جذبات میں کہا تھا..
تم سے برا کوئی ہو بھی نہیں سکتا.. شانزے نے چڑیا تھا…
شانزے پلیز نہ.. یہ انہوں نے دیا تھا… اریزے نے التجا کی تھی…
OMG – انہوں نے دیا تھا… اس نے بیڈ پے گرنے والے انداز میں کہا تھا..
چلو اب جلدی بتاؤ… کب ، کہاں ، اور کیسے…؟؟
اگر نہ بتاؤں تو ؟؟ اریزے نے اس کو گھورا تھا….
تو یہ کہ میں… وہ کچھ بولتی اس سے پہلے اس سے چھینک آگئی تھی.. اور شانزے نے رومال اپنے منہ کے قریب کیا..
نہیں پلیز… بتاتی ہوں… اریزے اس کا ارادھ بھانمپتے ہوے بولی تھی…
اریزے آہستہ آہستہ اس سے ساری بات بتانے لگی تھی…
ارے وہ لونگ ڈرائیو ہاں… شانزے نے خوش ہوتے کہا تھا…
کہاں لونگ ڈرائیو…. میں اتنی نرووس ہو رہی تھی کے کچھ بولا ہی نہیں گیا اریزے روانگی میں بول کے پھس گئی تھی…
اوہو – تو جناب کو دکھ ہو رہا ہے… تو پھر بلا لیتے ہیں.. کیوں ؟؟ شانزے نے چھیڑا تھا…
اف ایک تو تم نہ ہر بات کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہو مجھے چھوڑو یہ بتاؤ تم کیسے آئیں…
پریشانی ہوئی ہو گی نہ بہت… اریزے فکرمند ہوئی تھی اسے یاد آیا تھا وہ وقت جب وہ اسٹاپ پے کھڑی تھی..
نہیں نہیں پریشانی کسی میں تو یوسف کے ساتھ آئ ہوں… شانزے اپنی ٹون میں بول گئی تھی…
پھر دانتوں میں زبان دبائی تھی وہ جانتی تھی اب اریزے اس کو چھوڑنے والی نہیں ہے….
ہمم تو میڈم مجھے چھیڑ رہیں تھیں… اب اپنے بارے میں کیا خیال ہے..؟؟
کس بارے میں کیا خیال ہے.. تبھی می جانی اندر آیئں تھیں،
بس یہی آپ دنیا کی سب سے خوبصورت ماں ہیں… شانزے نے لاڈ سے گلے میں بازو ڈالے تھے…
چلو چاے پی لو.. می جانی مسکرائیں تھیں…
…………………………………….
وہ دونوں ہارر مووی دیکھ کے فری هوں تو رات کا تقریباً ٢ بج رہا تھا.. اس وقت بھی بارش ہو رہی تھی…
ساتھ ساتھ بجلی بھی چمک رہی تھی.. شانزے جلدی سے اپنے بستر پے لیٹ گئی تھی..
اریزے جب روم میں آئ تو شانزے نے اسے آواز دی تھی… اریزے..
ہاں.. اریزے نے جواباً کہا تھا…
ڈر لگ رہا ہے.. شانزے نے جان بوجھ کر پوچھا تھا وہ اچھی طرح جانتی تھی کے اریزے ڈرتی ہے…
نہیں.. نہیں تو… اریزے نے اپنی آواز کی کپکپاہٹ پے قابو پانے کی ناکام کوشش کی تھی…
پکا نہ… شانزے نے تصدیق چاہی تھی..
ہاں بلکل… اریزے نے بستر سمبھالا تھا ٹھیک ہے..
اچھا تو پھر ٹھیک ہے تو کھڑکی بند کر دو مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے… ایسا نہ ہو کوئی بھوت کھڑکی میں بیٹھا ہو…
اور وہ اندر آجاے…. شانزے نے جان بوجھ کر اسے سر ڈرایا تھا…
چھوڑو شانزے دیکھو نہ کتنی اچھی ہوا آرہی ہے… اریزے کو ڈر لگا تھا..
ہاں ابھی تو ہوا آرہی ہے، کچھ دیر بعد بھوت، چڑیلیں بھی ارہے ہوں گئے. شانزے نے ڈرتے ہوے کہا تھا..
ایسا نہیں ہوتا.. اریزے نے کمزور دلیل دی تھی..
اچھا مت مانو جب آیئں گئے نہ ٹیب پتا چلے گا ہو سکتا ہے ابھی بھی کوئی بھوت نیچے کھڑا ہو…
شانزے نے ہنسی روکی تھی..
اچھا ٹھیک ہے بکو نہیں زیادہ… اریزے اٹھ کر کھڑکی میں آئ تھی…
اور سامنے کے منظر نے اس کے چودہ طبق روشن کر دے تھے…
سامنے سچ میں کوئی تھا کالے سیاہ کپڑوں میں… جو یہاں سے وہاں چلتا کھڑکی طرف ہی مڑتا تھا…
خوف سے اریزے نے شانزے کو آواز دی تھی… شانزے شانزے…
ہاں کیا ہوا آجاؤ یار سویئں اتنا ٹائم ہو رہا ہے، کل میرا کوئز ہے… شانزے کو نیند آئ تھی…
شانزے… وہاں کوئی ہے… اریزے نے بھر دیکھتے ہووے کہا تھا…
کہاں یار…. کون ہو گا اتنی رات میں… شانزے چڑ گئی تھی..
وہاں سامنے… شاید کوئی بھوت ہے… اریزے نے ڈرتے ہووے جواب دیا تھا…
شانزے کا دل چاہا وہ اپنا سر پیٹ لے اس نے سوچا بھی نہیں تھا، کہ اس کا مزاق اس پے اتنا اثر کرے گا…
اچھا تو کیا کر رہا ہے تمہارا دیر بھوت…
وہ ڈانس کر رہا ہے… اریزے کی آواز میں ابھی بھی ڈر واضح تھا..
شانزے کا صابر جواب دے گیا تھا وہ اپنی جگہ سے اٹھتی خر کی میں آئ تھی… تم پاگل ہو گئی ہو…
بھوت ووٹ نہیں ہوتے… اور ڈانس… یہ تو حد ہی گئی کہاں ہے بھوت دیکھاو.. وہ بھر دیکھنے لگی جب سامنے کے منظر نے اس سے پوری آنکھیں کھولنے پے مجبور کر دیا تھا… سامنے روڈ کے پار دھرخت کے نیچے بلا شوبا وہ یوسف تھا..
یوسف… شانزے نے ذیرلب کہا تھا پر پھر بھی اریزے نے سن لیا تھا…
یوسف… کیا مطلب ہے… وہ بھوت نہیں ہے… اریزے پریشان ہوئی تھی…
مطلب یہ کے میں نے اس سے کہا تھا کہ
اگر وہ ساری رات وہاں کھڑے رہ کر میرا انتیظار کرے گا، تو میں صبح اس سے معاف کر دوں گی.
اف یہ لڑکا پاگل ہے… وہ کہتی باہر کی طرف بھاگی تھی… اور اریزے نہ قابل یقین نگھاؤں سے دیکھ رہی تھی…
…………………………………….
وہ تقریبن بھاگتی ہوئی اس کے پاسس آئ تھی… تمہارا دماغ ٹھیک ہے… تم پگل ہو…
شانزے اس پے بری طرح چیخ رہی تھی…
تو پھر تم نے مجھے معاف کیا…؟؟؟ یوسف ہنسا تھا…
شانزے کچھ پل کے لئے سکات ہو گئی تھی، وہ کیا کہ رہی تھی اور یوسف کیا جواب دے رہا تھا…
نہیں… شانزے نے اکڑ کے کہا تھا…
کیوں… میں نے وعدہ پورا کیا ہے، تمہارے آنے تک کھڑا رہا ہوں… یوسف نے بیاقینی سے دیکھا تھا…
کیوں کے تم نے کان نہیں پکڑے… شانزے کی آواز میں شرارت تھی…
یوسف کو کچھ دن پہلے کینٹین میں ہونے والا سین یاد آیا تھا…
وہ اب زمین پے بیٹھ رہا تھا… گھٹنوں کے بل…
شانزے اپنی جگہ جم گئی تھی.. یوسف نے دونوں ہاتھوں سے کان پکڑے تھے… شانزے نے ناظرین جھکائیں تھی…
تو مس شانزے حسان میں دل سے اپ نے معافی مانگتا ہوں،
جو تکلیف میں نے آپ کو دی، اس کے لئے میں آپ سے تہے دل سے معافی کا طلب گر ہوں…
تو کیا آپ مجھ ناچیز کو معاف کر سکتی ہیں…؟؟؟ یوسف اب کی طرف دیکھ رہا تھا…
شانزے کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا بولے… ایک بار پھر بارش ہو رہی تھی وہ دونوں اس میں بھیگ رہے تھے…
بولو بھی میرے گھٹنوں میں درد ہونے لگا ہے اب تو… یوسف نے معصوم شکل بنائی تھی…
بس ابھی سے تھک گئے جاؤ معاف نہیں کرتی وہ پلٹی تھی…
یوسف نے اس کا ہاتھ پکڑ کے کھنچا تھا… اب مجھے ضرورت بھی نہیں ہے…
یوسف نے کہا تو شانزے حیران رہ گئی تھی…
کیونکہ میں جان گیا ہوں کہ شانزے حسان مجھ سے خفا نہیں ہے… یوسف نے اس کے کان میں کہا تھا…
اس کی گرم سانسیں شانزے کان سے ٹکرائیں تھیں… پلز گھر جاؤ اپنے…
وہ وہاں روکی نہیں تھی، اگر ایک پل بھی وہاں روکتی تو وہ شرم سے پانی ہو جاتی…
تم وعدہ توڑ رہی ہو کوفی کہاں ہے میری…. یوسف پیچھے سے چلایا تھا…
اریزے کھڑکی سے یہ منظر دیکھ کے مسکرائی تھی… اسے یقین تھا کہ یوسف اس کی بہن کے لیے ہی بنا ہے…
……………………………………….
وہ سب ناشتے کی ٹیبل پے تھے… شاہینہ بیگم سب ناشتہ صرف کر رہی تھیں.. جب حسین نے یوسف سے پوچھا تھا.
کل رات بڑی دیر سے گھر آے آپ…؟؟
بس کچھ نہیں پاپا… وہ ایک دوست کو چھوڑنے گیا تھا… یوسف کچھ گھبرایا تھا..
کون سا دوست…؟؟ حسین مشکوک ہوے تھے…
ہے ایک دوست پاپا آپ نہیں جانتے.. یوسف نے بات ٹالی تھی..
ایسا کون سا دوست ہے جو ہمیں نہیں پتا… عثمان نے بھی حصہ ڈالا تھا ماما نظر رکھیں اپنے لاڈلے پے…
ہے نہ بس ایک دوست… اور پاپا کیا آپ مجھ سے پوچھ تاج کر رہے ہیں…
بھائی سے بھی تو پوچھیں وہ کل کس کے ساتھ تھے… یوسف نے ایک دم ہی دھماکہ کیا تھا..
عثمان جو چاہے پینے لگے تھے گرم پیالی سے اپنا منہ جلا بیٹھے تھے…
میں کس کے ساتھ تھا مطلب.. میں ٹائم سے گھر آیا تھا…
اوہ… اچھا نکلے تو ٹائم سے پہلے تھے..؟؟ وہ بھی یوسف تھا عثمان بھول گئے تھے… ماما نظر رکھیں نظر…
یوسف نے انگلیوں سے و بنایا تھا اور پہلے اپنی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا اور پھر عثمان کی….
ویسے بھائی کل آپ شہراہ فیصل پے تھے نہ… یوسف نے آئ برو اچ کایئں تھیں…
نہیں… نہیں تو میں وہاں کہاں… عثمان نے چھوڑ لہجے میں کہا تھا..
اوہ – مجھے لگا… یوسف نے مسکرا کے جواب دیا تھا…
ویسے بیگم میرا خیال ہے آپ اپنے دونوں لاڈلوں پے نظر رکھیں… حسین جو بہت دیر سے دونوں کی تکرار سن رہے تھے بلاآخر بولتے ہووے ناشتے کی ٹیبل سے اٹھ گئے تھے.. جب کے عثمان اور یوسف ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس پڑے تھے…
……………………………………
وہ یونیورسٹی آگئی تھی اور کافی دیر ہو گئی تھی، لیکن یوسف نہیں آیا تھا..
حالانکہ اس نے خود نو بجے کا ٹائم دیا تھا.. شانزے اب پریشان ہونے لگی تھی.. کہیں وہ بیمار تو…
نہیں نہیں ایسا ہوتا تو کسی کو تو پتا ہوتا…
ہو سکتا ہے اچانک طبیعت خراب ہو گئی ہو…
پھر بھی اس کو بتانا تو چاہیے تھا، پر ہو سکتا ہے راستے میں ہو شانزے نے دل کو تسلی دی تھی…
محسن سے پوچھتی ہوں… شانزے محسن کو دیکھ رہی تھی، جب سامنے سے یوسف اتا دکھائی دیا..
یہ ٹائم ہے تمہارے آنے کا.. شانزے اس کے منہ کے آگے گھڑی کی تھی…
وہ کیا ہے نہ کل رات میرے پیچھے ایک چڑیل پر گئی تھی…
تو بس اس وجہ سے میں بہت دیر سے گھر پہنچا تھا تو دیر سے سویا اور پھر دیر سے اٹھا… یوسف نے ڈیٹیل بتائی…
اچھا تو کس نے کہا تھا چڑیل کے چکر میں پرہو سیدھے گھر جاتے نہ… شانزے نے جل کے کہا تھا…
اب کیا کرتا چڑیل تھی اتنی پیاری… یوسف نے معصومیت سے کہا تھا جب کے شانزے نے پاؤں پٹخا تھا…
ہو گیا تمہارا… ؟؟؟؟ اب کوئز کے بارے میں بات کریں… شانزے نے چڑ کر کہا تھا..
ابھی تو میں نے شروع بھی نہیں کیا… یوسف نے اس کو کنکھیوں سے دیکھا تھا..
میرا مطلب ہے… کوئز چلو او بات کرتے ہیں…
………………………………………
اسلم بیٹا یہ تو کیا کر رہا… پھنک دے میں کہتی ہوں… مان جا میرے بچے کہیں لگ جائے گا…
دیکھ میں تیرے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں، نہ کر میرے بچے اس امر میں اپنی ماں کو یہ کیسا دکھ دینا چاہتا ہے،
امان نے روتے ہوے، اسلم سے کہا تھا جو برا سا چاقو اپنی گردن پے رکھے کھڑا تھا…
امان اگر تجھے اتنا خیال ہوتا تو، تو میری بات مان جاتی…
میں نے کہا تھا تجھے تو نہیں مانی تو میں خود کو جان سے مار دوں گا..
میرے بچے یہ کسی زد تو نے لگا لی ہے… کیوں خود کو لالچ کی آگ میں جھونک رہا ہے ایک بار میری بات ٹھنڈے دل سے سن امان نے پھر سے ایک کوشش کی تھی…
نہیں اماں.. تو میری بات سن آج تجھے میرا فیصلہ کرنا ہو گا یا تو،
تو مجھے زینب کے لکھ خط دے گی یا پھر میں خود کو مار لوں گا…
سوچ اماں سوچ میں وہ خط دے کر صاحب سے ١٠ لکھ روپے لے سکتا ہوں…
ہمارے دن بدل جائیں گئے اماں… میرا بیٹا بھی اچھے اسکول میں جائے گا…
میری بیوی بھی اچھا کپڑا پہنے گی اور تو.. تو اماں تیرا میں اچھا علاج کروں گا…
ورنہ تو میرا بچا یتیم ہو جائے گا.. میری بیوی بیوہ ہو جائے گی…
اور تو سوچ تیرا اکلوتا بیٹا تیری آنکھوں کے سامنے لاش بن جائے گا…
اسلم اس وقت کچھ سنے کی حالات میں نہ نہیں تھا.. اس کا جنون بڑھتا جا رہا تھا..
اماں مان جا… اب کی بار آمنہ نے بولا تھا.. اماں نے اس کی طرف شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا تھا…
میں جانتی ہوں اماں یہ غلط ہے… لیکن میں نہیں چاہتی میرا بچا یتیمی کی زندگی گزارے وہ اب رو رہی تھی..
اس سے دیکھ کر منہ بھی رونے لگا تھا… اماں بے بس ہو گیں تھیں…
ٹھیک ہے… اماں کی ہاں نے تین لوگوں کو زندگی بخشی تھی.. جب اماں کو لگا وہ مر گئی ہیں آج..
انہی مرے مرے قدموں سے اپنے صندوق کی طرف بڑھی تھیں…
اور ان میں سے نکال کر کچھ خط اسلم کی طرف بڑھے تھے..
اسلم یک دم ہی ٹھنڈا پڑا تھا اس کا اس کی آنکھوں میں چمک آگئی تھی…
………………………………..
شانزے… بہت دیر سے یوسف کو سن رہی تھی وہ مختلف چیزیں سن رہا تھا اور سمجھا رہا تھا..
میرا خیال ہے اب بس بہت ہو گیا ہے.. ورنہ برڈن ہو جائے گا.. باقی ہم دونوں سمبھال گئے ٹھیک ہے نہ…
یوسف نے مسکرا کر دیکھا تھا… لیکن شانزے کچھ پریشان تھی..
کیا ہوا سب ٹھیک ہے نہ… ہاں بس مجھے تھوڑا ڈر لگ رہا…
کیوں مجھ پے بھروسہ نہیں ہے… یوسف نے بہت سانجھیدہ ہو کر پوچھا تھا..
یوسف ہے پر… اگر میں نے کچھ گڑبڑ کر دی تو… شانزے کی پریشانی برقرار تھی..
مجھے تم پے پورا بھروسہ ہے… یوسف نے اس کو بہت سنجیدہ گی سے دیکھا تھا..
کچھ لمحے خاموشی سے سڑک گئے… شانزے اس کی نگاہوں کی تپش برداشت نہیں کر پائی تھی..
تبھی بات بدل کر بولی تھی…
چلو اب بتاؤ کیا پلان ہے..؟؟؟ کوئز کے لئے..؟؟ شانزے پوچھا تھا…
پلان یہ ہے کہ…. کوئی پلان نہیں ہے… یوسف نے چیر کی بیک سے ٹیک لگی تھی…
وہاٹ… شانزے نے اس کی طرف گھسے سے دیکھا تھا..
چلیں اب ٹائم ہو گیا ہے…
………………………………….
صاحب… میں اسلم… آپ کی زینب کا پتا مل گیا ہے…
میرے ١٠ لکھ لے کر آجائیں…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: