Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 2

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 2

–**–**–

یار شانزے تمہیں یوسف کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا. تم جانتی نہیں ہو اس وہ.کسی بزنس ٹایکون کا بیٹا ہے بہت پاور فلل لوگ ہیں اور وہ……..
وہ کیا ہاں ؟؟ شانزے تیزی سے صبا کی بات کاٹتے ہوے بولی. خوب جانتی ہوں ان امیرزادوں کو یونیورسٹی صرف ہلا گلا کرنے آتے ہیں، اپنے باپ کے پیسوں کی نمائش کرنے اور بس…
یار جو بھی کہو پر یوسف ٹیچرز اور سٹوڈنٹس دونوں کا پسندیدہ ہے. اور سنا ہے اس کا اور آل ریکارڈ بہت اچھا ہے. وہ MS کر رہا ہے.اس نے ہر سیمسٹر میں پوزیشن گین کی ہے اب صرف لاسٹ کے سیمسٹر ہیں جلدی وہ پاس آوٹ ہو جاے گا اور سب کہتے ہیں وہ ضرور گولڈ میڈل لے گا. سپورٹس میں ایجوکیشنل اکٹیوٹئیز میں ہمیشہ ون کرتا ہے.اس لیے اس کی چوٹی موٹی حرکتوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے…. انٹر یونیورسٹی چیمپئن شپ ہو یا آل چیمپئنز لیگ وه ہمیشہ ون کر کے یونیورسٹی کا نام روشن کرتا ہے…
OMG گوڈ… شانزے نے زمین پے گرتے ہوے کہا…صبا اپنی بات کہتے کہتے روکی اس سے گرتا دیکھ وہ پریشن ہو گئی تھی.
کیا ہوا شانزے تم ٹھیک ہو ؟؟
ہاں..شانزے نے جواب دیا. تو پھر؟؟ اس نے حیران ہوتے پوچھا.
تو پھر یہ جناب کے تم تو پوری بک لکھ سکتی ہو یوسف پے خام خا اپنا وقت برباد کر رہی ہو ڈگری کے لیے تم تو اچھی خاصی ریسرچر ہو… کتنا کچھ تم نے اس مختصر وقت میں جان لیا….
صبا چڑ گئی تھی تبھی غصے سے بولی یار میں تو بس اتنا کہ رہی تھی کے وہ یوسف…
پلیز اب بس بھی کرو یوسف نامہ مجے کوئی شوق نہیں ہے اس کی سٹوری جانے کا. اور جتنا جانا تھا وہ تو میں جان ہی چکی ہوں.. شانزے نے پھر سے صبا کی بات کو اگنور کیا تھا..
لیکن وہ چپ نہیں بیٹھے گا بدلا ضرور لے گا. اگر اس نے کچھ کیا تو..اب کی بار صبا نے ہلکی آواز میں کہا، جس میں کہیں نہ کہیں ڈرکی ہلکی آہٹ موجود تھی.
تب کی تب دیکھیں فلحال میری بس آگئی ہے میں چلتی ہوں. الله حافظ وہ کہتی بس میں چڑھ گئی تھی جب کے صبا اس کو دیکھتی رہ گئی تھی… وہ جانتی تھی یوسف اتنی آرام سے ہارنے والا نہیں ہے… اور یہ خاموشی جتنی لمبی ہو گی اتنا زیادہ نقصان دہ ہو گی
………………………………………………..
آگئی میڈم… کہاں تھیں آپ پوچھنے کی غلطی کر سکتی ہوں…؟؟ نصرت بیگم نے چبا چبا کے ایک ایک لفظ بولا تھا جب کے شانزے کو ان کا یہی انداز زہرلگتا تھا..
اب غلطی کر ہی لی ہے تو پوچھئے… ویسے بھی اپنی بات کے بغیر تو آپ جائیں گی نہیں آخری لائن شانزے نے ذرا آہستہ آواز میں ہی کہی تھی..
زبان دیکھو اس لڑکی کی قینچی طرح چلتی ہے.. ذرا تمیز نہیں. بڑوں سے کیسے بات کرتے ہیں.. تائی امی کی آواز پے گھر کے سبھی لوگ وہاں آگے تھے. کیا ہوا آپا.. حنا جهٹانی کی آواز پے بھاگتی چلی آئ جو ان کی بڑی بہن بھی تھیں.
مجھے کیا پوچھتی ہو پوچھو اپنی لاڈلی سے کہاں تھی اب تک.. کس کے ساتھ منہ کالا کرتی پھر رہی تھی.. نہ جانے کس کا گندا خون ہے جو تمہارا شوہر گھر لے آیا اور مجھے تو تم پے حیرت ہوتی ہے حنا کے تم کیسے اسے سینے سے لگاتی ہو الله جانے کس کا گناه ہے یہ….
بس کریں آپا یہ کیا کہ رہی ہیں آپ.. کہیں نہیں گئی تھی یونیورسٹی گئی تھی آج پہلا دن تھا دیر ہو گئی مجھے پتا ہے… اریے میری بھولی بہن تمہی بنو اس چڑیل کے ہاتوں بیوقوف.. میں نہیں بنے والی.. نجانے تم نے اور تمہارے شوہر آنکھوں پے پٹی کیوں بندہ لی ہے.. شانزے کی حالت کسی سے چھپی نہیں تھی تبھی حنا بیگم بولی آپا بس کریں ابھی تو آئ ہے.. نہ کھانا کھایا نہ پانی پیا… جاؤ اریزے بہن کو لے اندر جاؤ… اریزے جو بےبسی سے سارا تماشا دیکھ رہی ماں کے کہنے پی آگے بڑھی اور شانزے کا ہاتھ پکڑ کر روم سے نکل ہی رہی تھی کے شانزے نے گزارتے ہوے گلدان پی ہاتھ مار کے گرا دیا.. ایک زور دار آواز کے ساتھ گلدان زمین پی گر کے چورچور ہو گیا تھا جب کے تائی اماں کا پارا آسمان کو جا لگا… دیکھا دیکھا یس منحوس کو کیسے نخرے کرتی ہے ذرا سا کچھ کہ دو طور پھوڑ پی آجاتی ہے… ارے اماں مرحوم کو کیا جواب دوں گی روز محشر کتنے ارمانوں سے انہوں نے نانی جان کا یہ گلدان مجھے جہیز میں دیا تھا…. اب نصرت بیگم رونے لگیں تھی. کیا آپا آپ بھی تو آتے اس کا پیچھا لے لیتی ہیں نا…. اچھا چلیں رویائیں نہیں میں سمجھاتی ہوں اس سے بھی. ہاں بھی… چڑھاؤ اور چڑھاؤ سر پے دیکھنا ایک دن ایسی کالک ملے گی کے. دھونے کے لئے آنسو بھی کم پڑھ جائیں گئے..وہ بڑبڑاتے ہوے اندر چلی گئیں تھی جبکہ باہر کھڑی شانزے اپنی جگا سکت تھی… حالانکہ یہ نت روز کی کہانی تھی اور وہ اپنی تائی اماں کی عادت سے خوب واقف تھی.
حنا بیگم نے تڑپ کے اس کی طرف دیکھا.. اور وہ بنا کچھ کہے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی تھی… لیکن پھر بھی وہ اس سے کچھ نہیں بولیں وہ جانتی تھیں اب کئی گھنٹوں تک وہ یوں ہی خاموش رہے گی…. اور وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ اب اسے ٹھیک کیسا کرنا ہے…
—————————————-——
وہ جب سے آیا تھا کمرے میں بند تھا ماما کے بولا نے پے بھی نہیں اٹھا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کے وہ اس کی لال آنکھیں دیکھ کر پریشان ہو جائیں۔ابھی بھی وہ نہ اٹھتا اگر عثمان اس سے آواز نہں دیتا۔ یہ عثمان کے اآنے کا وقت نہیں تھااس وقت وہ آوفس میں ہوتا ہے تو یقینن اس سے بولا گیا ہو گا اور یہ بھلا ماما کے علاوہ کون ہو سکتا تھا.. لیکن بہرحال اب سے اٹھنا ہی تھا. کیونکہ عثمان میں تو اس کی جان تھی اس کا اکلوتا بڑا بھائی جس نے ہمیشہ اسکا خیال چھوٹے بچے کی طرح کیا۔ وہ اس کا دوست بھائی ماں باپ سب کچھ تھا ہر چیز کا خیال رکھنا اس کے لاڈ کرنا اس کی غلطیوں کو چھپانا اور یہی وجہ تھی جس نے یوسف کو تھوڑا خود سر بنا دیا تھا لیکن وہ کبھی عثمان سے نہ کوئی بات چھپتا تھا اور نہ کوئی بات ٹالتا تھا۔ یہی بات ان کی جوڑی کو بے مثال بناتی تھی۔ عثمان کو گھر آنے سے پہلے ہی اطلاع مل گئی تھی تبھی وہ سیدھا یوسف کے روم میں آیا تھا۔ کیا ہوا میرے ہینڈسم لٹل اینجل کو ؟؟ اس نے درواز کھولتے ہوے پوچھا…
کچھ نہیں بھائی… اچھا ذرا میری طرف دیکھو.. عثمان نے کچھ تشویش سے کہا… کچھ نہیں ہوا تو پھر منہ پے بارہ کیوں بج رہے ہیں… وہ میں ابھی سو کے اٹھا ہوں.. اچھا تو اب اینجل نے جھوٹ بھی بولنا شروع کر دیا… نہیں بھائی وہ میں بس…
چلو ٹھیک ہے تم نہیں بتانا چاہتے تو سہی ہے.. اب تمہارا بیسٹ فرینڈ کوئی اور ہو گیا ہے تو میں چلتا ہوں… عثمان اچھی طرح جنتا تھا یوسف کو اس لیے بناوٹی ناراضگی دکھا کے بولا… اچھا نہ ٹھیک ہے اب ایموشنل بلیک میل نہ کریں یوسف نے اس کی گود میں سر رکھتے ہوے کہا… چلو اب جلدی بتاؤ اتنا موڈ کس بات پے خراب ہے… اور یوسف نے ساری بات عثمان کو بتا دی… یوسف اب پھر غصّے میں تھا جبکہ عثمان کا ہنس ہنس کے برا حال ہو رہا تھا.. بھائی آپ کو ہنسی آرہی ہے… ہاں.. کیوں کے میرے شیر کو قابو کرنے والی شیرنی مل گئی ہے. میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ تمہارے لیے اسے گھرلے آیئں تم دونوں لڑتے رہنا اور میں ایسا ہی ہنستا رہوں گا… واٹ… کیا کہ رہے ہیں آپ جانتے بھی ہیں وہ اور میں ؟؟ یہ اس صدی کا سب سے بڑا مذاق ہے… ایمپوسبل….یوسف نے بیڈ سے اٹھتے ہوے بولا… مائی ڈیرلٹل اینجل بھولو مت ہر ایمپوسبل میں ایک پوسبلیٹی چھپی ہوتی ہے… عثمان نے اس کے کندھوں پے ہاتھ رکھتے ہوے کہا… پر اس کیس میں کبھی نہیں… ہو ہی نہیں سکتا… آپ جانتے ہیں مجھے اس وقت بھی شدید غصہ آرہا ہے میرا بس چلے تو اس کو دور سمندرکے بیچ میں ایک بڑا سا پتھر باندھ کر پھنک آؤں کبھی نہ نکلنے کے لیے… اچھا اور رانیہ اس کے بارے میں کیا خیال ہے… بھائی اب بس کریں دیکھو ایک تو بتانی پڑے گی جلدی بتاؤ ورنہ میں مما کو بتا ڈان گا عثمان کہتا کمرے سے نکل گیا تھا اور یوسف اس کے پیچھےبھگا وہ جانتا تھا کہ اس معملے میں وہ اس کا ہی بھائی ہے…. وہ دونوں اب کسی بات پے ہنس رہے تھے… جب کے شاہینہ بیگم ان دونوں کو ہنستا دیکھتے ہی ہنس پڑی تھیں…
……………………………………………
لگتا ہے لوگ سو گئے… می جانی… اریزے نے حنا بیگم کو مخاطب کر کے بولا… ہان لگتا تو ایسا ہی ہے انہوں نے اریزے کی ہاں میں ہاں ملی جب کے وہ دونوں جانتی تھیں. کے وہ جاگ رہی ہے… اچھا تو می جانی یہ پکوڑے اور ہری چٹنی کا کیا کریں چلیں ایسا کرتے ہیں آپ اور میں ہی کھالیتے ہیں ورنہ تو یہ ٹھنڈے ہو جائیں گئے…. وہ دونوں جانتی تھیں کے شانزے بھوک کی کچی ہے. اور پکوڑے وہ تو اس کے پسندیدہ ہے.. آہا کتنے مزے کے پکوڑے ہیں… اریزے نے ایک پکوڑا کهاتے ہوے بولا . خوشبو باہر تک آرہی ہے تبھی اندرآتےوجدان نے جملہ مکمل کیا…. اور کیا غنیمت ہے بھوکے لوگ سو رہے ہیں اور بس تبھی شانزے کی ہمت نے جواب دے دیا تھا… بس وجی بھائی بس… پہلے ہی بہت موٹے ہیں آپ… اس نے پلیٹ اٹھا کے اپنے آگے رکھی.. خالہ جانی دیکھ رہی ہیں آپ کے ہوتے ہوے یہ سلوق ہو رہا ہے میرے غریب کے ساتھ.. وجی نے مصنوئی ناراضگی سے بولا جب کے اریزے اور می جانی تو اس دیکھ کے ہی خوش ہو رہے تھے… وجدان مسلسل پکوڑے لینے کی کوشش میں تھا لیکن وہ بھی شانزے ہے مجال ہے ایک بھی لینے دیا ہو تھک ہار کے وجدان بیٹھ گیا تھا اس کا منہ غصے میں پھول گیا تھا تبھی شانزے اس کے منہ کے آگے پکوڑے کیا جیسے اس نے ناراضگی سے ہی پر کھا لیا تھا… اس پھولا منہ دیکھ کے شانزے کی ہنسی کنٹرول نہیں ہو رہی تھی پھر اچانک وہ سیریس ہو گئی تھی. بس کریں وجی بھائی آپ کو یہ سوٹ نہیں کرتا اور کب تک ڈرامہ کریں گئے آپ می جانی اور اریزے کے ساتھ مل ک ؟؟ جب تک میری چھوٹی سی ڈول کا موڈ ٹھیک نہیں ہو جاتا… وجی نے اس کی گردن میں ہاتھ ڈالتے کہا تھا.
جانتی ہونا تم دنیا کی سب سے پیاری بہن ہو.. شانزے نے ہاں میں سر ہلایا… چلو اب اٹھو اب منہ ٹھیک کرو شاباش وہ اس کے سر پے ہاتھ پھرتا نیچے آگیا تھا شانزے کے مسکرانے سے وہ تینوں پرسکون ہو گئے تھے. پر شانزے کے اندر اٹھنے والے طوفان سے بےخبر تھے الله جانے یہ طوفان کس طرف جانا تھا… اوراس میں کس کس نے بہنا تھا….
……………………………………………..
جب وہ ڈیپارٹمنٹ میں پہنچی تو 9:15 ہو رہے تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ پیپر شروع ہو چکا ہے۔ وه جلد از جلد کلاس میں جانا چاہتی تھی اس لیے بھاگنے والے انداز میں سیڑیاں چڑہنے لگی۔
تبھی سامنے سے آتے کسی نے خوفناک چیخ ماری۔۔۔
جس کی وجہ سے شانزے کا توازن بگاڑ گیا۔ گرنے کے خوف سے اس کی آنکھیں بند ہو گئی تھیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ سیڑیوں سے منہ کے بل گرتی کسی نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ وہ گرنے سے بچ گئی تھی پر ابھی بھی خود کو ہوا میں لہرات ہوا محسوس کر سکتی تھی۔
شانزے نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولی۔۔۔
تم………..
سامنے کھڑا شحص کوئی اور نہں یوسف ہی تھا۔ اور یہی بات شانزے کا موڈ خراب کرنے کے لیے کافی تھی۔ تمہاری ہمت کیسے ہوی میرا ہاتھ پکڑنے کی۔۔۔
ریلکس مس۔۔۔۔ شانزے حسان۔۔۔
میں بھی مرا نہیں جارہا تمہارا ہاتھ پکڑنے کے لیے….
بھولو مت مدد کی ہے تمہاری۔۔۔ تمھیں گرنے سے بچایا ہے میں نے ورنہ۔۔۔۔۔۔ یوسف نے سیڑیوں کی طرف اشارہ کیا…. ناؤ سے تھنک یو….
تھنک یو ؟؟ مائ فٹ….. کیا ہوتا ؟؟؟ زیادہ سے زیادہ میں گر جاتی نہ….
تمہارے ہاتھ پکڑنے سے تو یہی بہتر تھا…
شانزے کا غصہ آسمان سے باتیں کر رہا تھا۔ وہ یہ بھی بھول گئی تھی کے ابھی تک وہ یوسف کے رحم و کرم پے ہے…
اچھا…. ایک بارسوچ لو… یوسف نے جیسے وارن کیا تھا…
ہاں سوچ لیا… شانزے نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے کہا….
ہم م م م….آئی ایم ایمپریسڈ… اور ساتھ ہی یوسف نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا…
ایک زور دار چیخ شانزے کے منہ سے نکلی…. ابھی اس کا پاوں تیسری سیڑھی پے ہی تھا کہ یوسف نے اس سے سمبھالا… تو کیسا لگا میرا سٹائل…؟؟ یوسف کا انداز چیڑانے والا تھا…
تم…تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے… سمجھتے کیا ہو خود کو…
وہ بھی بتاؤں گا لیکن کسی دن فرصت سے میرا خیال ہے ابھی میری ڈیٹیل سے زیادہ انٹرسٹ تمہیں اپنے پیپر میں ہو گا…
یوسف نے اس کی قلائی پے بندھی گھڑی اس کے سامنے کی. جو ٩:٣٠ بجا رہی تھی..
تمہیں تو میں بعد میں دیکھوں گی… وہ کہتی کلاس کی طرف بھاگی…
شوق سے… میں انتیظار کروں گا جلدی آنا…پکچرابھی باقی ہے میری دوست…. پیچھے سے یوسف کی آواز آئی…
……………………………………………
الله الله کر کے پیپر ختم ہوا تھا کتنی مشکل سے اسے میم کلثوم نے پیپر دینے کی اجازت دی تھی کتنی مافی مانگی پڑی تھی اسے…. حالاںکہ وہ جانتی تھی کہ انہے راضی کرنا یا اونٹ کو رکشے میں بٹھانا ایک ہی بعد تھی.. لیکن پھر بھی اس نے مانا ہی لیا تھا. وہ پیپر دے کے کلاس سے نکل رہی تھی جب مس کلثوم نے اسے آواز دی…
شانزے آپ کا اسائنمنٹ کہاں ہے.آپ شاید بھول رہی ہیں آج لاسٹ ڈیٹ ہے..
سوری مس.. میں بھول گئی.. میرے بیگ میں ہے ابھی آپ کو دے دیتی ہوں…
شانزے نے بیگ میں دیکھنا شروع کیا پر اسائنمنٹ نہیں تھا…
کیا ہوا شانزے ویر از یور اسائنمنٹ ؟؟ مس کلثوم جو بہت دیرسے شانزے کو بیگ کے ساتھ جنگ کرتا دیکھ رہی تھیں تنگ آکر پوچھنے لگیں.
مس وہ… وہ… میرا اسائنمنٹ مل نہیں رہا..
حد ہے لاپرواہی کی میں آپ کو کتنا زمیندار سمجھتی تھی لیکن افسوس آپ کو تو مطلب بھی نہیں پتا… پہلے پیپر میں لیٹ اور اب… وہ کہتی ہوئی کلاس روم سے بھر نکل گیں..
میم پلیز میری بات سنیں مجھے ایک موقع تو دیں میں سچ میں اسائنمنٹ لائی تھی.
اچھا تو پھر کہاں گیا ؟ اب وہ روک کے اس سے مخاطب ہوئی تھیں.
میم شاید یہیں کہیں مس ہوا ہے میں ابھی ڈھونڈ کے آپ کو دے دوں گی پلیز میم مجھ ایک موقع دے دیں پلیز…
ٹھیک ہے شانزے آپ کو میں آخری موقع دے رہی ہوں اگر آپ ١ بجے تک اسائنمنٹ جمع کرا دیتی ہیں تو نمبر آپ کو مل جائیں گئے ورنہ میں مجبور ہوں اپنے اصول میں کسی کے لیے نہیں بدلتی…
نجانے کیا تھا شانزے کی باتوں میں… مس ام کلثوم رضوی جو اپنے نام کی ایک ہی تھیں… جنہوں نے ہمیشہ اپنے اصلوں کو اہمیت دی تھی آج بار بار شانزے حسان کے لیے اپنے اصول خود ہی توڑ رہیں تھیں…
تھنک یو میم تھنک یو سو مچ… مس کلثوم وہاں سے جا چکی تھیں…
تبھی صبا وہاں آئ شانزے کیا ہوا تم اتنا لیٹ کیسے ہو گئیں ؟؟ اور تمہارا اسائنمنٹ کہاں گیا ؟؟
بس یار مت پوچھو…آج کا دن تو مجھے ہمیشہ یاد رہے گا… پھر اس نے پوری بات صبا کو بتائی… تبھی شانزے کے دماغ مے دھماکہ سا ہوا… جبکہ صبا کی سوئی یوسف پے اٹک چکی تھی.
یار یوسف نے تمہیں بچایا ؟؟؟ سچ میں ؟؟؟
دیکھو تم نے اس کے ساتھ جو سلوق کیا اس سب کے بعد بھی… اس سے پہلے کے صبا کا یوسف نامہ شروع ہوتا شانزے اپنا بیگ اٹھا کے چل پڑی…. کہاں چلی صبا نے آواز دی… تمہارے یوسف صاحب کا شکریہ ادا کرنے… روکو میں بھی آتی ہوں صبا نے اپنی چیزیں سمیٹے ہوے کہا…
…………………………………………
عادت کے مطابق یوسف اینڈ گنگ کیفے میں ہی دستیاب تھے. اور زورو شور سے خوش گپیوں میں مصروف تھے.
وہ آئے ہمارے گھر میں آئی مین کیفے میں خدا کی قدرت ہے…
کبھی ہم ان کو… کبھی کیفے کو دیکھتے ہے..
یوسف نے جھک کر سلام پیش کیا تھا..
او- تو یہ تمہارا پلان تھا مجھے تو تمھیں دیکھتے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا کے یہ سب تمہارا کیا دہرا ہے.. ویسے بھی یہاں میرا اور کون دشمن ہو سکتا ہے…..
ہا ہا ہا…. سمارٹ… ہاں… یوسف نے قہقہ لگتے ہوے کہا..
چپ چاپ میرا اسائنمنٹ دو.. شانزے نے غصے سے گھورتے ہوے بولا…
اسائنمنٹ کون سا اسائنمنٹ ؟ میڈم میں اپنا اسائنمنٹ جمع کرا چکا ہوں.. یوسف نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا تھا..
بکواس بند کرو اور میرا اسائنمنٹ مجھے واپس کرو..
ٹھیک لیکن میری ایک شرط ہے… یوسف نے سینے پے ہاتھ باندهتے ہوے بولا..
وہاٹ..؟؟ تم بھول رہے ہو یہ میرا اسائنمنٹ میں..
اچھا پر ابھی تو میرے پاسس ہے اس نے ہاتھ میں پکڑی فائل اس کے منہ پے لہرای..
اس سے پہلے کے شانزے اس سے چھینے کی کوشش کرتی یوسف نے ہاتھ پیچھے کر کے دوسرے ہاتھ سے لائیٹر جلایا اور فائل کے پاسس لے گیا….
اوکے… بتاؤ کیا شرط ہے تمہاری.. شانزے اس کا ارادہ بھامتے ہوے بولی..
گڈ گرل.. یوسف نے ٹیبل پے بیٹھتے ہوے بولا…
چلو اب اچھے بچوں کی طرح مجھے سوری بولو…
اور شانزے کو لگا اس کے کان خراب ہو گئے ہیں… سوری کس بات کی سوری.. ؟؟
یوسف نے پھر سے لائیٹرجلایا…
ok پلیز …سوری.. شانزے نے اپنے ہنٹوں پے زبان پھرتے ہوے بولا..
کیا کہا تم نے ؟؟ مجھے آواز نہیں آئ… کیوں رانیہ تم نے سنا کیا… رانیہ نے جواباً نہ میں سر ہلایا…
سوری……..آئ سیڈ سوری… سنا تم نے… میں نے کہا سوری…شانزے سمجھ گئی تھی کے وہ اس سے کیا کروانا چاہتا ہے تبھی شانزے اپنی پوری قوت سے بولتی رانیہ اور یوسف کے مقابل کھڑی ہوئی تھی…
کیا اب آپ مجھے میرا اسائنمنٹ دے دیں گئے…؟؟ شانزے کی آنکھوں میں نمی تھی… جو یوسف نے دیکھ لی تھی.. تبھی یوسف کی ایک ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی.. اور نہ چاہتے ہوے بھی اس کا ہاتھ شانزے کی طرف بڑھ گیا…
شانزے نے اسائنمنٹ لیا اور چل پڑی جبکہ یوسف اپنی ٹون میں واپس آگیا تھا.. اب وہ اور اس کا گروپ پھر سے اپنی مستیوں میں مصروف تھے…
تبھی شانزے پلٹ کر یوسف کے پاسس آئی… ٹیبل پے رکھا کولڈرنگ سے بھرا گلاس اٹھایا… اس سے پہلے کے وہ یوسف کے منہ پے پہنکتی.. اس نے برق رفتاری سے اس کا ہاتھ پکڑا…. نو لٹل ڈول… نوٹ ایوری ٹائم… یوسف نے اپنی ہنسی مشکل سے کنٹرول کرتے ہوے کہا تھا….
زیادہ خوش مت ہو…. وقت ایک سا نہیں رہتا آج تمہارا کل کسی اور کا… آج دن تمہارا تھا اس لیے تم بچ گئے لیکن ہر بار قسمت تمہارا ساتھ نہیں دے گی۔ شانزے نے یوسف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولا۔
مطلع کرنے کا شکریہ پر تمہاری اطلاع کے لیے دن تو کتے کا ہوتا ہے اور شیر کا زمانہ۔ ہمارا تو زمانہ آے گا۔۔۔ یوسف نے اپنا کالر سہی کیا اور اس کی بڑی بڑی کالی گہری آنکھوں میں دیکھ کے کہا۔
تو تم خود خود کو شیر سمجھتے ہو ؟؟؟
ہاں۔۔۔!!! بلکل۔۔۔!!! یوسف نے سینے پے ہاتھ بانتے ہوے کہا۔
چلو ایک بات تو ثابت ہوئی تم رہو گئے جانور ہی پھر چاہے شیر ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔ کیوں وہ سوالیا نظروں سے دیکھتی وہاں سے چلی گئی تھی۔ جب کہ یوسف جیسے لاجواب ہو گیا تھا۔ پیچھے سے یوسف کے گروپ کا فلک شیگاف قہقہ گنجا۔ اور سن نے یک زبان ہو کر کہا یوسف تھارے سے نا ہو پاے گا….. جبکہ یوسف کو اپنا غصہ کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا. اس کو تو میں چھوڑوں گا نہیں سمجھتی کیا ہے خود۔۔ اس نے دل میں خود سے وعدہ کیا تھا۔۔۔ اور دوسری طرف شانزے حسان نے بھی خود سے ایسا ہی کچھ وعده کیا تھا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: