Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 20

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 20

–**–**–

میں کیسے یقین کروں تمہاری بات کا، کہ تم سچ کہ رہے ہو… دوسری طرف فون پے عثمان کی آواز ابھری تھی..
دیکھو صاحب میں آپ سے کیوں جھوٹ بولنے لگا… مجھے صرف پیسوں سے مطلب ہے..
یقین کرنا نہ کرنا آپ کی مرضی میں نے اپنا کام کردیا ہے… اسلم نے سفاکی سے کہا.
ہممم.. ٹھیک ہے… تو پھر شام میں تم سے 4 بجے تک ملتا ہوں.. تم زینب کا پتہ تیار رکھنا..
ٹھیک ہے صاحب آجاؤ… میں تیار ہوں…
امید کرتا ہوں اس دفعہ مجھے کوئی مایوسی نہیں ہو گی… عثمان نے کہ کر فون رکھ دیا دیا تھا…
………………………………….
عثمان فون بند کر چکا تھا، جب اس نے حسین کو اپنی طرف متوجہ پایا… پاپا وہ اسلم…
میں سن چکا ہوں.. تمہیں کیا لگتا ہے کہ اب کی بار وہ سچ بول رہا ہو گا..؟؟؟ حسین کی آنکھوں میں سوال تھا.
پاپا میں کچھ کہ نہیں سکتا.. لیکن مجھے لگتا ہے کہ پیسوں کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے،
تو اس بار ممکن ہے اس کے ہاتھ میں کچھ ہو.
عثمان ممکن یہ بھی کہ اس کے پاس جو ہے وہ جھوٹ ہے.. تم نے تو کہا وہ پیسوں کے لئے کچھ بھی کرسکتا ہے،
تو کیا وہ جھوٹا ثبوت نہیں دے سکتا…؟؟
پاپا آپ ٹھیک کہ رہے ہیں پر اتنا رسک تو ہمیں لینا پڑے گا نہ.. اور آپ فکر نہ کریں میں سب سمبھال لوں گا..
عثمان مجھے پورا بھروسہ ہے تم پر میرا دل کچھ گھبرارہا ہے.. حسین سچ میں پریشان تھے..
پاپا آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں سب ٹھیک ہو گا.. انشاللہ..
انشاللہ… حسین نے سر ہاں میں ہلایا تھا..
میں چلتا ہوں میری میٹنگ ہے جیسے ہی میٹنگ ختم ہوتی ہے، میں اسلم کے پاسس پہنچ جاؤں گا.
ٹھیک ہے تو پھر میں تمہیں تمہارے آفس سے لے لوں گا…حسین نے اپنا ارادہ بتایا تھا،،
ٹھیک ہے پاپا آپ جیسا بہتر سمجھیں..
………………………………
سب لوگ کوئز کے لیے ہال میں جمع ہو گئے تھے ٹیمز کو ان کی پوزیشن دے دیں گیں تھیں..
ہر ٹیم اپنی پوری تیاری کے ساتھ آئ تھی..
ہر ٹیم اچھی طرح جانتی تھی کے کمپیٹیشن میں آگے جانے کے لیے آج کا کوئز بہت ضروری ہے..
یہ وجہ تھی کہ شانزے بہت نروس تھی.. یوسف بہت دیر سے اس کی رونی صورت دیکھ رہا تھا..
لیکن وہ اس کے علاوہ سب کو دیکھنے میں مصروف تھی…
تبھی یوسف نے ڈیسک کے نیچے سے اس کا ہاتھ تھاما تھا.. شانزے نے کرنٹ کھا کراس کو دیکھا تھا..
جو آنکھوں میں جذبات کے دیے روشن کیے اس کو ہی دیکھ رہا تھا..
جانے کیا تھا جس نے شانزے کی آنکھیں نم کر دیں تھیں..
نروس ؟؟ یوسف نے پوچھا تھا..
ہاں…!!! شانزے نے سر جھکا لیا تھا…
شانزے..!! لسن تو می ویری کیئرفلی…!! یہ کومپیٹیشن ہے یہاں سب ٹیمز ہی جیتنے آئ ہیں…
اور سب ہی نے اپنا ١٠٠ پرسینٹ دیا ہے..
لیکن ساری ٹیمز تو جیت نہیں سکتی نہ تو پھر تم کیوں اپنا کانفیڈنس لوز کر رہی ہو..؟؟؟
شانزے جو شخض ناکامی کے خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا…
ضروری یہ نہیں کے ہم جیتے ہیں یا نہیں… ضروری یہ ہے کے ہم نے کوشش کتنی کی..
جانتی ہو نہ عمالوں کا دارو مدار نیتوں پے ہوتا ہے… تو اگر تم پہلے ہی نیت کر چکی ہو ہارنے کی تو الگ بات ہے…
ورنہ شانزے حسان ایک بات یاد رکھنا پوری دنیا بھی چاہے تو آپ کو ہرا نہیں سکتی جب تک آپ خود سے ہارنا من لیں”… تو پھر یقین رکھو اپنے آپ پر… اور اپنے الله پے.. جو یہاں تک لایا ہے وہ آگے بھی لے جائے گا…
کیا ہوا کیا سوچنے لگیں…؟؟؟ یوسف کی نظریں گہری هوں تھیں..
یہی کہ کبھی کبھی تم کتنی اچھی باتیں کر لیتے ہو… شانزے نے حیرانگی ظاہر کی تھی..
کبھی کبھی سے کیا مطلب ہے.. میں تو ہمیشہ ہی اچھی باتیں کرتا ہوں.. یوسف نے کلر جھاڑا تھا..
کتنی خوش فہمی ہیں نہ تمہیں..؟؟ شانزے نے ٹونٹ کیا تھا..
نہ…….. غلط فہمی… یوسف نے فٹ سے جواب دیا تھا..
سی.. ائی نیو ڈیٹ…. شانزے نے ڈیسک پے ہاتھ رکھا تھا..
میڈم تمہیں غلط فہمی ہے کہ مجھے خوش فہمی ہے… یوسف نے بات کلیر کیا تھا..
تب سر مستنصر کی آواز مائک میں آئ تھی… آج کا پروگرام وہ ہوسٹ کرنے والے تھے.
اسلام و علیکم… امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہیں.. اور آج کے کوئز پروگرام کی بھر پور تیاری کر کے آے ہیں. میں آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ اس وقت کمپیٹیشن کی ٹاپ ٢٠ ٹیمز یہاں موجود ہیں، جن میں سے صرف ١٠ ٹیمز آگے
جائیں گی.. اور نیکسٹ راؤنڈ میں شامل ہوں گی.. کوئز ٣ لیولز پے مشتمل ہے..
١- فاسٹ آنسر ، جس کے اختتام پر سب سے کم سکور کرنے والی 4 ٹیمز آوٹ ہوں گی…
٢- ویزول راؤنڈ ، اس راؤنڈ کے اختتام پر سب سے کم سکور کرنے والی ٣ ٹیمز آوٹ ہوں گی…
٣- بزر راؤنڈ ، جس کے آخر میں 3 ٹیمز علیمیینیٹ ہوں گی، اس طرح نیکسٹ کمپیٹیشن میں جانے کے لئے ہمارے پاس صرف ١٠ ٹیمز رہ جائیں گی.
شروع کرتے ہیں… فاسٹ آنسر سے.. آپ سب سے ٦٠ سوال کیے جائیں گئے.. جیتنے کے لئے آپ کو ٢ منٹ کے ٹائم کے اندر سب سے زیادہ صیہح جواب دینے ہوں گئے.. یاد رکھیں آپ کے اور آپ کے پارٹنر میں میں کوآرڈینیشن ہپں ضروری ہے.. کیوںکہ آپ دونوں لوگوں میں سے جس نے بھی پہلے جواب دیا اس سے ہی قابلے قبول سمجھا جائے صیہح اور غلط دونوں صورتوں میں، تو کوشش کریں کے صیہح جواب معلوم ہونے کی صورت میں ہی آپ جواب دیں..
تو آپ سب تیار ہیں…؟؟؟ سر مستنصر نہ ساری ٹیمز سے پوچھا…
یس سر… ہال میں آواز گنجی تھی اور ساتھ ہی پہلا راؤنڈ شروع ہو چکا تھا..
………………………………….
اسلم واپس لوٹا تو بہت خوش تھا ، اس کے پاؤں زمین پے کہاں تک رہے تھے..
آج تو اس کے دل کی پوری ہونے والی تھی، جو چاہا تھا ملنے والا تھا تو پھر خوش کیوں نہ ہوتا لیکن وہ بھول گیا تھا..
کے لالچ و مکر فریب سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا انسان کا لالچ اس کے آگے ضرور اتا ہے..
لیکن اس وقت یہ باتیں اس سے کہاں سوجاہی دے رہی تھیں.. اسے یاد تھے تو بس ١٠ لکھ روپے…
اس خوشی میں مبتلا جب وہ گھر لوٹا تو سامنے کے منظر نے اسے دنگ کر دیا تھا..
گھر کا باہری دروازہ کھلا تھا… آس پاسس کے سب لوگ اس کے دروازے پے جمع تھے…
اور اندر سے رونے کی ہلکی ہلکی آوازیں آرہی تھیں…. جس نے اس کو حواس باختہ کر دیا تھا…
لوگوں کی چیم گویاں اس کو دیکھ کر شروع ہو گیں تھیں… پر اس وقت وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصرتھا…
وہ مرے مرے قدموں سے دروازے سے اندر داخل ہوا تھا…
جب اس کی نظر سامنے جامن کے پیڑ کے نیچے بیٹھی آمنہ پر پر جو زاروقطار رو رہی تھی..
وہیں پاس میں پڑی چارپائی پے ایک وجود ساخت تھا…
اور اس کے وجود کو دیکھ کر اسلم کو اپنا جسم ٹھنڈا پڑتا محسوس ہوا تھا…
اس کا دل چاہا چیخے چلاے پر آواز نے بھر نکلنے سے انکار کر دیا تھا…
اندر اٹھنے والا لاوا جب اپنی حد پار کر گیا تو اس کی لپٹیں گرم سیال بن کر آنکھوں سے بہنے لگیں..
مکافات عمل کا وقت شاید شروع ہو گیا تھا، یا پھر اس کی بد نیتی اس کو ڈوبونے والی تھی…
…………………………………
یہ دیکھو ذرا کتنا بول رہی ہے.. اور یوسف اسے روک کیوں نہیں رہا… رانیہ نے جل کر کہا تھا… اسے غصہ تھا کے اب تک شانزے نے سارے سوالوں کے جواب صیہح دیے تھے اور تقریباً سوالوں کے جواب اس نے دے دیے تھے…
اف – رانیہ تمہیں مثلا کیا ہے اگر شانزے جواب دے رہی ہے.. ہمارے لیے تو ضروری یوسف کی جیت ہے نہ…؟؟
اور وہ دونوں ہی جیت رہے ہیں… محسن نے اس سے سمجھایا تھا…
ہاں پر میں نہیں چاہتی کے سارا کریڈٹ وہ لے جائے… اور یوسف اس کی محنت خراب ہو جائے…
(محسن کو غصہ آیا تھا اب وہ اسے کیسے سمجھاتا کے یوسف کی خوشی اسی میں ہے..
لیکن یس وقت کچھ کہنا بقر تھا ویسے بھی وہ رانیہ کی یوسف سے وابستگی اچھی طرح جنتا تھا)…
یس لیے آرام سے سمجھانے لگا، کوئی کسی کا کریڈٹ نہیں لے گا.. جو پرفارم کرے گا اس کو تو سراہا جائے گا نہ…
اور ویسے بھی تم جانتی ہو… وہ ایک ٹیم ہیں تو لازمی ہے کے اپنی ٹیم کے پرفارم کریں…
خود کے لیے بس کر دو… رانیہ نے محسن کے آگے ہاتھ جوڑے تھے…
پتا نہیں تم لوگوں کو ہو کیا گیا ہے بس نام لے دو شانزے کا اور تم لوگ سٹارٹ ہو جاتے ہو..
اتنا لمبا لیکچر لینا ہو تو کلاس اتٹنڈ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے… وہ چڑگئی تھی…
جا بچہ معاف کیا… محسن نے کھلے دل کا مظاہرہ کیا تھا…
محسن تم نہ…. وہ بات پوری کرتی اس سے پہلے ہی مستنصر کی آواز نے دونوں کو روک دیا تھا…
جی تو سٹوڈنٹس پہلا روند کمپلیٹ ہو چکا ہے… اور وقت آگیا ہے کے پہلے راؤنڈ کا رسالت آناونس کیا جائے…
بہت افسوس سے کہنا پڑے گا کہ چار ٹیمز ہمارے ساتھ اگلے راؤنڈ میں نہیں ہوں گئے…
اب وہ ان ٹیمز کے نام بتا رہے تھا…
شانزے بہت غور سے رزلٹ سنے میں مصروف تھی..
کیا ہوا.. تم تو ایسے سن رہی ہو… جیسے عاطف اسلم کے کنسرٹ میں آئ ہو… یوسف نے اسے مخاطب کیا تھا…
اس سے بہتر تو تھا کہ تم مجھے سن لو… یوسف نے اسے چھڑا تھا….
کیوں تم عاطف اسلم ہو ؟؟؟ شانزے نے اس کا جملہ لوٹایا تھا…
سوری میں اس سے بہت بہتر ہوں… یوسف نے اٹیٹوٹ دکھایا تھا…
کچھ بھی… نہیں….؟؟؟ شانزے کو حیرت ہوئی تھی..
مطلب تمہیں شک ہے…؟؟؟ یوسف نے تنگ کرنے کے لیے کہا تھا..
نہیں… شانزے نے نہ میں سر ہلایا…
سی..آئ ٹولڈ یو.. یوسف نے اس کی طرح اشارہ کیا تھا…
مجھے یقین ہے.. تبھی شانزے نے اپنی بات مکمل کی تھی…
تیسری پوزیشن پے ہیں وارث اور صفیہ… ہال میں تالیاں گونجیں تھیں… اگر چھ صفیہ اچھی سٹوڈنٹ تھی پر اس راؤنڈ میں وہ پرفارم نہیں کر پائی تھی.. اس لیے وارث کی ٹیم کو نقصان ہوا تھا..
دوسری پوزیشن ہیں شاہنواز اور ماریا… کی ہال میں تالیاں گونجیں تھیں..
اور پہلے پوزیشن پے ہیں.. یوسف اور شانزے… ہال میں پھر تالیاں بجنے لگیں تھیں…
ویل پلیڈ شانزے… سر مستنصر نے شانزے کو سراہا تھا…
مجھے یقین نہیں آرہا… ہماری پوزیشن مینٹین ہے……. اب وہ یوسف کی طرف متوجہ تھی…
یہی تو مثلا ہے جہاں یقین کرنا چاہیے وہاں تم کرتی نہیں ہو… یوسف نے منہ بنایا تھا..
شانزے اس کو منہ بسورتا دیکھ ہنس پر تھی…
لیکن دور بیٹھی رانیہ کو یہ بات کچھ زیادہ پسند نہیں آئ تھی…
جبکہ دوسرا راؤنڈ شروع ہو چکا تھا…
………………………………
میٹنگ کی سب تیاریاں مکمل ہیں…؟ عثمان نے اندر آتے ہی اریزے سے پوچھا تھا…
اور وہ اس کو دیکھ کر شوک میں آگئی تھی… سر آپ…؟؟؟
اریزے نے عجیب سے لہجے میں کہا تھا اس کا آپ زیادہ ہی لمبا ہو گیا تھا….
میری شکل تو ٹھیک ہے..؟؟؟ عثمان نے اس کی طرف دیکھتے ہوے اپنے چہرے پے ہاتھ پیھرا تھا…
جی سر ٹھیک ہے… اریزے نے معصوم سے انداز میں کہا تھا…
تو پھر ایسے کیوں ریکٹ کر رہی ہیں جیسے خلائی مخلوق دیکھ لی ہو…
فائل لے کے آجائیں.. کانفرنس روم میں آجائیں… وہ ہنستا ہوا جا چکا تھا..
اور اریزے اپنی حرکتوں پے دل جلانے لگی تھی…..
……………………………………..
وہ فائل کے اندر گئی تو عمیر اور عثمان کسی چیز پے بات کر رہے تھے…
اس لیے واپس پلٹنے لگی تھی، جب عثمان نے اسے آواز دی تھی.. اریزے…
اور اشارے سے اسے روکنے کے لئے کہا تھا….
وہ بات کرتے اس کی طرف ہی بڑھ رہے تھے… قدم قدم اٹھا وہ اس کی جانب ہی آرہا تھا….
اریزے کو اس کے ہر قدم پے اپنی دھڑکن تیز ہوتی محسوس ہو رہی تھی…
ہمیشہ کی طرح وہ آج بھی بہت پرکشش لگ رہا تھا.. بہت دیہان سے عمیر کو کچھ کچھ سمجھا رہا تھا،
جس سے عمیر پوری توجہ سے سن اور سمجھ رہا تھا… اریزے کی دل کی دنیا تو پوری اتھل پتھل تھی..
ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ وہ عمیر اور عثمان دونوں کے ساتھ ہو…
اور جب بھی ہوتا اس کی حالات کافی نروس ہو جاتی تھی..
ایک طرف عثمان جو جانے کب من محرم بن گیا تھا… تو دوسری طرف عمیر جو اس کے لیے بھائیوں جیسا تھا..
ایسے میں ہمیشہ خطرہ ہی رہتا کہ کب دل کی چوری پکڑی جائے… اس لیے اسے خاص احتیاط کرنا پڑتی تھی…
اریزے آپ نے میٹنگ سے ریلیٹڈ ساری امپورٹنٹ چیزیں چیک کر لیں ؟؟ اس نے اس کے ہاتھ سے فائل لیتے کہا تھا.
لاسٹ ٹائم میں مجھے کوئی بھی بلنڈر نہیں چاہیے… پلیز ایک بار اور ہر چیز چیک کر لیں…
جی سر… وہ کہہ کر جانے کے لئے پلٹی تھی…
ایک منٹ اریزے میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی… کافی سخت آواز میں کہا گیا تھا…
عثمان کے الفاظ نے اریزے کو اپنی جگہ جما دیا تھا… جب عمیر بھی کچھ حیران ہوا تھا،
سوری سر… مجھے لگا کہ… اریزے شرمندہ ہوئی تھی اس کی شکل صاف بتا رہی تھی…
عثمان کو اپنے الفاظ کی سنگینی کا احساس ہوا تھا…
ایٹس اوکے… اس فائل کو میں نے دیکھ لیا ہے.. آپ اس کی کاپیز کر لیں…
جی سر ٹھیک ہے،،، اس کا لہجہ ابھی تک بھیگا تھا…
کیا ہوا کچھ پریشن ہے کیا… اریزے کے جانے بعد عمیر نے پوچھا تھا وہ اچھی طرح جانتا تھا اس کا لہجہ کب بدلتا ہے.
نہیں کچھ خاص نہیں.. ایک بندے سے ضروری ملنا ہے کافی دن کے بعدد ہاتھ آیا ہے تو اس وجہ سے شاید…
پھر میٹنگ کینسل کر دیتے ہیں… عمیر نے تجویز دی تھی…
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے… یہ میٹنگ بھی بہت اہم ہے..
ٹھیک.. عمیر نے سر ہلایا تھا…
……………………………………….
سیکنڈ راؤنڈ کا رزلٹ آناونس ہو چکا تھا… اور وہ پچھلے راؤنڈ جیسا ہی تھا.. سیم ٹیمز… سیم پوزیشن…
شانزے کا کانفیڈنس کافی حد تک بحال ہو گیا تھا.. یہ وجہ تھی کے اس کے چہرے کا زاویہ کافی حد تک چینج ہو گیا تھا.
اگلا راؤنڈ بزذر اس لیے تمام ٹیمز کو کچھ دیر کا بریک دیا گیا تھا…
کیا ہوا کیا سوچ رہے ہو… شانزے یوسف کو گہری نظروں سے دیکھا تھا.. جو کافی سیریس لگ رہا تھا..
یہی کہ تم نہ ہوتیں تو میرا آج کیا ہوتا… یوسف مسکرایا تھا..
ہاں یہ تو ہے… تم بھی سوچتے ہو گئے کیا پاٹنر ملی ہے تمہیں… شانزے کافی ایکسایٹیڈ تھی..
سچ کہا یہ تو میں سوچتا ہوں… کیا پارٹنر ملی ہے مجھے… یوسف نے بیہوش ہونے کو ایکٹنگ کی تھی…
شکر کرو مل گئی… ورنہ تمہیں تو پھوپھو کی بیٹی ملنی چاہیے تھی…
اچھا… ویسے تم کیوں جلتی ہو میری پھوپو کی بیٹی سے…. یوسف اسے تنگ کرنے لگا تھا…
جلتی اور میں… وہ تمہاری پھوپھو کی بیٹی سے… تمہیں ہی مبارک ہو… شانزے جلی تو تھی پر بتانا نہیں چاہ رہی تھی…
خیر مبارک… خیر مبارک… الله تمہاری زبان مبارک کرے… وہ کیا کہتے ہیں.. تمہارے منہ میں گھی شاکر…
یوسف نے کھلے دل سے مبارک بعد قبول کی تھی…
چلو ٹائم ہو گیا ہے.. شانزے غصے سے کہتی چلی گئی تھی جبکہ یوسف کا اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا تھا…
…………………………………………
اریزے… وہ کاپی کرنے میں مصروف تھی… جب پیچھے سے آواز آئ تھی…
جی سر… وہ پلٹی تھی..
کوپیز کر لیں آپ نے… عثمان نے بارے غور سے اسے دیکھا تھا جہاں کسی قسم کے غصے کے کوئی اثار نہیں تھے…
حالانکہ عثمان کو لگا تھا، وہ عام لڑکیوں کی طرح شاید رو رہی ہو… پر یہاں تو ایسا کچھ نہیں تھا…
وہ سچ میں ایمپرسس ہوا تھا..
جی سر… اریزے کی آواز میں ہمیشہ کی سی نرمی تھی..
اچھا کتنی کوپیز کی ہیں آپ نے..؟؟؟ عثمان نے شرارت سے پوچھا تھا. کیوں کہ اس نے اریزے کو نہیں بتایا تھا کے کتنی کوپیز کرنی ہیں اور نہ اریزے نے پوچھا تھا. تو اسے لگا وہ پریشن ہو گی لیکن ووہتو آرام سے کوپیز کرنے میں مصروف تھی.. اور اس بات نے عثمان کو چونکا دیا تھا…
سر ١٠ کی ہیں… یہ لاسٹ ہے… اریزے کچھ نروس ہوئی تھی…
سر اصل میں میٹنگ میں ١٠ کلائنٹس نے آنا ہے تو مجھے لگا ١٠ کوپیز ہونی چاہیے ہیں.. اس کے نہ بولنے پے اریزے نے صفائی دی تھی…
ساؤنڈز گڈ… آپ تو کافی سمجھ دار ہیں.. عثمان نے اپنی جگمگاتی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا..
جی….؟؟؟ اریزے کچھ اور کنفیوز ہو تھی… عثمان کی آنکھوں کی چمک ہمیشہ اسے پریشان کرتی ہے.
مطلب یہ کہ آپ تو بنا کہے بھی باتیں سمجھ لیتی ہیں..
تو پھر ضروری تو نہ ہوا نہ کہ ہر بات میں آپ کو کہ کر ہی سمجھاوں…
عثمان کہ کر روکا نہیں تھا.. جبکہ اس کی بات نے اریزے کو کچھ پریشان کر دیا تھا…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: