Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 21

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 21

–**–**–

میٹنگ شروع ہو گئی تھی لیکن عثمان کی ساری توجہ کہیں اور ہی تھی… وہ اسلم میں ہی الجھا تھا…
اب کیا کہانی سنانے والا ہے وہ آج…. جانے آج بھی ان کی امید پوری ہوتی ہے یا نہیں..
عثمان پریشان تھا کیونکہ دن بہ دن حسین کی بے چنی بڑھتی جا رہی تھی..
وہ بول کچھ نہیں رہے تھے پر ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے لہجے کی تھکن وہ آرام سے محسوس کر سکتا تھا.
کسی حد تک وہ نہ امید ہو چکے تھے اور اپنے باپ کا ہارا ہوا لہجہ اسے تڑپانے کے لئے کافی تھا…
پریزنٹیشن ختم ہو چکی تھی،
اب کانفرنس روم میں بیٹھے سارے لوگ اپنے سامنے ٹیبل پر رکھی فائل دیکھنے میں مصروف تھے..
عثمان تمہیں کیا لگتا ہے جب سیزن اون ہو گا تو اس سے ہمیں کیا بینیفٹ ہونے والا ہے… ؟؟
اور تمہیں لگتا ہے ایسا کر تم اون سیزن سب کو سپلائی دے سکو گئے….؟؟
اگر اس وقت میٹریل شارٹ ہوتا ہے تو اس کا ڈائریکٹ اثر ہم کلائنٹس پے پڑے گا…؟؟
میٹنگ میں بیٹھے امین صاحب نے عثمان سے پوچھا تھا پر وہ تو کہیں اور ہی تھا…
عثمان…. عثمان… امین صاحب نے اسے پکارا تھا…
تو عمیر نے بھی چونک کر دیکھا جو رفیق صاحب سے کچھ بات کرنے میں مصروف تھا…
جی.. جی امین صاحب… عثمان کچھ گڑبڑایا تھا اس کی حالات عمیر اور اریزے دونوں نے نوٹ کی تھی…
وہ دونوں سمجھ گئے تھے عثمان نے بات سنی ہی نہیں ہے، عمیر کچھ بولتا اس سے پہلے ہی اریزے بول پڑی تھی.
عثمان اور عمیر حیران ہوے تھے،
لیکن وہ دونوں کی حیرت کو خاطر میں لاے بغیر امین صاحب کی بات کا جواب دینے میں مصروف تھی…
عثمان نے اس کی طرف تشکر نیگھاؤں سے دیکھا تھا…
اور اریزے نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا تھا جس کا مطلب تھا وہ پریشان نہ ہو… جواباً عثمان بھی مسکرایا تھا…
لیکن اریزے اس سے کوسٹ پے فرق پڑے گا… ہم سب جانتے ہیں سیزن میں میٹریل کوسٹ بڑھ جاتی ہے..
اور کبھی کبھی کمپنیز اپنے کرنٹ کنڈیشن دیکھ کر انویسٹمنٹ کرتی ہیں تو یہ بھی پوسیبل ہے کہ وہ اتنا میٹریل نہ لے سکے تو اس کنڈیشن میں اس کنٹریکٹ پے کیا فرق پڑے گا..؟؟
اب کی بار سعدیہ نے پوچھا تھا…
میرا نہیں خیال کوئی فرق پڑے گا… کنٹریکٹ میں صاف مینشن ہے کہ یہ صرف آزمپشن ہے… اریزے نے بات شروع کی تھی لیکن عثمان نے بیچ میں سے ہی بات شروع کی تھی، وہ جلدی سے میٹنگ اپنے ہینڈاور کرنا چاہتا تھا…
اریزے نے بہت اچھا سمبھالا تھا بات کو لیکن پھر بھی وہ ابھی اکیلے اتنا نہیں سمبھال سکتی تھی وہ تینوں اب کلائنٹس کو مطمین کرنے میں لگ گئے تھے اور کافی حد تک میٹنگ کامیاب ہوئی تھی تکریباً سب کلائنٹس ان سے اگری کر گئے تھے…
…………………………………
میرا خیال ہے سب لوگ اب خود کو فریش محسوس کر رہے ہوں گئے…
اب اپنا پروگرام شروع کرتے ہیں… یہ آج کے کومپیتیشن کا لا لسٹ راونڈ ہے…
یہی آپ کی آج کی فائنل پوزیشن کا تہیہ کرے گا… اور یہی راؤنڈ فیصلہ کرے گا کون ان کون آوٹ
آپ سٹوڈنٹ کو میں ایک بات واضح کر دوں کہ اس رونڈ میں جو بزر سب سے پہلے پریس کرے گا پہلا موقع اس ٹیم کو ہی دیا جائے گا. جواب صیہح ہونے کی صورت میں آپ کو پانچ نمبر ملیں گئے…
لیکن بزر پریس کر کے جواب نہ دینے کی صورت میں یا جواب غلط دینے پر یا پھر بٹن پریس کیے بنا جواب دینے پر…
آپ کے ٣ مارکس مائنس کے جائیں گئے،
اس لیے اس بات کو ذھن میں رکھتے ہوے پہلے سوال کو اچھی طرح سن کر پھر ہی جواب دیں…
از ڈیٹ کلیر ؟؟ سر نے ٹیمز سے پوچھا تھا…
یس سر… ہال میں بیٹھی ٹیمز کی آواز گنجی تھی..
شانزے میری بات غور سے سنو تمہیں اگر جواب آتا ہو تو تم اپنی مرضی سے بٹن پریس کر دینا میرے کہنے کا انتیظار مت کرنا… کیوں کہ اگر مجھے جواب آتا ہوا تو میں بھی کر بٹن پریس کر دوں گا…
شانزے اب کچھ گھبرا رہی تھی سنے میں جتنا آسان لگ رہا تھا،. کرنے میں اتنا ہی مشکل لگ رہا تھا.
وہ دونوں بٹن کے پاسس ہی ہاتھ رکھ کے بیٹھے تھے اور تقریباً ہر ٹیم نے ایسا ہی کیا ہوا تھا…
راؤنڈ شروع ہو گیا تھا… لگ رہا تھا مقابلہ صرف یوسف اور شاہنواز کی ٹیم میں ہاں کبھی کبھی وارث کو بھی جوش آتا تھا.
لیکن پھر بھی اس بات کو نظر اندازکرنا مشکل تھا کہ وارث بھی اس گیم میں شامل ہے..
راؤنڈ اب اس لیول پے تھا، جہاں غلطی کوئی گنجائش نہیں تھی…
لیکن شانزے غلطی کر بیٹھی آدھا سوال سن کر ہی اس نے بٹن پریس کر دیا تھا لیکن سوال مکمل ہونے پر اس سے احساس ہوا کے اسے جواب معلوم نہیں ہے… لہٰذا ان کے حصے میں نیگیٹو مارکس آے تھے،
لیکن بہرحال ابھی بھی بات بگڑی نہیں تھی وہ لیڈ کر رہے تھے… لیکن تبھی شانزے نے ایک اور جواب غلط دیا اور ایک بار پھر ان کے حصے میں مارکس انے کے بجاے چلے گئے تھے…
شانزے نے یوسف کی طرف دیکھ تھا لیکن وہاں کسی قسم کا کوئی ریکشن نہیں تھا…
اس کی توجہ ابھی سر کی طرف ہی تھی..
شانزے کو لگا یوسف کو اس پے غصہ ہے… وہ کچھ کہنا چاہتی تھی پر اس سے پہلے ہی سر سوال کر چکے تھے اور اس بار اسے جواب بھی آتا تھا تبھی اس نے جواب دیا…
جو کہ ٹھیک تھا لیکن یوسف نے اس کی طرف بے یقینی سے دیکھا تھا…
شانزے کو حیرت ہوئی تھی، میرا جواب ٹھیک ہے… اس نے خود کو کلیر کیا تھا…
ہاں ٹھیک ہے… پر بنا بزر کے… یوسف نے کہا تھا اور شانزے نے اپنے سر پر ہاتھ مارا تھا لیکن اب کوئی فائدہ نہ تھا ایک اور نیگیٹو مارکس ان کے حصے میں آیا تھا…
…………………………………
لو دیکھ لو میڈم کے کارنامے کبھی جو کوئی کام یہ اچھا کر سکتی ہو…
میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے یوسف کے لئے… رانیہ سے برداشت نہیں ہوا تھا…
رانیہ تمہارا حساب کتاب بھی نہ عجیب ہے… جب وہ اچھا کیھل رہی تھی تو مثلا تھا…
اب نہیں کیھل پائی تو بھی تمہیں مثلا ہے.. یار وہ دونوں بہتر جانتے ہیں کیسے کرنا ہے…
تم چپ رہو… تمہیں نہ آج کل اس کی ہمدردی کا بھوت چڑہا ہے تم تو بولو گئے ہی…
یوسف چاہے کچھ بھی نقصان ہو تمہیں اس سے کیا… رانیہ کو غصہ آیا تھا..
اچھا ٹھیک ہے اب بس بھی کرو… محسن نے بات ختم کی تھی… ویسے بھی اس کو سمجهانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا..
…………………………………
میٹنگ ختم ہو چکی تھی… سب لوگ لنچ کے لیے اٹھ گئے تھے…
عثمان سب سے مل رہا تھا… لیکن بار بار اس کی نظر اریزے پے جاتی تھی…
جو تھوڑی دور پے سعدیہ سے باتیں کرنے میں مصروف تھی…
عثمان کو اس وقت وہ دل سے بہت قریب محسوس ہوئی تھی…
وہ بار بار اس کو دیکھتا اور ہر بار مسکراہٹ اس کے لبوں پے پھیل جاتی تھی…
اریزے اس کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی… لیکن اپنے چہرے پے پڑنے والی نظر وہ اچھی طرح پہچانتی تھی…
اپنے دل کی دھڑکن باخوبی سن سکتی تھی… ایک شرساری نے اس گھیرے ہوا تھا.
تبھی سعدیہ عثمان کی طرف بڑھی تھی. تو آج مسٹر پرفیکٹ غلطی کر ہی بیٹھے…
ہاہاہا…. ہاں ہاں بول لو، عثمان نے ہنستے ہووے کہا تھا اورعین اس وقت ہی اریزے نے اس کی طرف دیکھا..
(اس کی مسکراہٹ ہمیشہ ہی بھر بحالی لگتی تھی، کیوںکہ وہ زیادہ تر مسکراتا تھا.. کم ہی زور سے ہنستا تھا…)
آئ واز شوکڈ… بٹ آئ مسٹ سیڈ یو آر سو لکی ٹو ہاوینگ عین امپولائی لائک اریزے..
شی اس سچ عین انٹیلیجنٹ گرل… سعدیہ نے کھلے دل سے اس کی تعریف کی تھی..
عثمان کو لگا وہ تعریف وصول کرنا اس کا حق ہے، وہ بہت خوش تھا اریزے کی تعریف پے..
اس لئے بات پے بات مسکرا رہا تھا… وہ دونوں اپنی باتوں میں مصروف تھے،
جب اریزے نے اس کے ساتھ کھڑی سعدیہ کو دیکھا تو اور اسے کے دل کو کچھ ہوا تھا…
کیا..؟؟ وہ کچھ نام نہیں دینا چاہتی تھی…
………………………………….
عثمان اریزے کی طرف بڑھا تھا کہ آفس بواۓ نے اکر اسے حسین کی آمد کی خبر دی تھی…
اس لئے وہ بنا اریزے کو کچھ بولے ہی چلا گیا…
شیریوں سے اترتے ہوے اس نے کال ملی تھی اور اب وہ فون پے دوسری جانب موجود بندے کو انسٹرکشن دے رہا تھا..
وہ آفس سے باہر نکالا تو سامنے گاڑی میں ہی حسین اس کا ویٹ کر رہے تھے..
عثمان ان کی جانب بڑھ گیا تھا.. خان بابا آپ میری گاڑی لے کہ گھر چلے جائیں میں خود فدروے کر لوں گا..
عثمان نے خان بابا سے کہا تھا اور ڈرائیونگ سیٹ سمبھال لی تھی..
کسی رہی تمہاری میٹنگ.. حسین نے اس پوچھا تھا..
اچھی رہی پاپا… وہ سمجھ رہا تھا پاپا کچھ پریشان ہیں… لیکن اس وقت وہ خود بھی کوئی تسلی دینے کے کابل نہ تھا…
باقی کا پورا سفر دونوں نے خاموشی سے گزارا تھا..
عثمان نے گاڑی سائیڈ میں لگائی تھی، اسلم گھر میں روڈ سے نزدیک تھا، اس لیے گاڑی سے ہی عثمان نے اس کے گھر کے باہر لگا ٹینٹ دیکھ لیا تھا… عثمان کو کچھ عجیب سا کھٹکا ہوا تھا لیکن بہرحال وہ کیا کہ سکتا تھا..
عثمان سب ٹھیک تو ہے.. حسن کچھ ور فکرمند ہوے تھے،
پتا نہیں پاپا لیکن آپ پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہی ہو گا…
وہ دونوں اسلم کے گھر کے پاسس پہنچ گئے تھے، جہاں بہر تھوڑے سے لوگ بیٹھے تھے.. جبکہ گھر کا دروازہ خلا پیرا تھا… سامنے ہی جامن کے پیڑ کے نیچے اسلم بیٹھا تھا… جہاں اب سے کچھ دیر پہلے آمنہ بیٹھی تھی…
منظر وہی تھا بس کرداروں میں ردو بدل ہو گیا تھا..
اسلم سب ٹھیک تو ہے نہ…؟؟ حسین نے اپنی فطری رحم دلی سے مجبور ہو کے پوچھا تھا..
اسلم کی آواز اس کے گلے میں پھس گئی تھی… وہ کیسے بتاتا حسین کو کے اس پے کسی قیامت اکر گزر گئی ہے..
اسلم… اسلم… کچھ بولو.. حسین نے اسے پکارا تھا… لیکن ان کی آواز سن کے آمنہ باہر آگئی تھی..
آپ آگے صاحب… میں تو کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی… آمنہ نے حسین کو مخاطب کیا تھا…
نہ صرف عثمان اور حسین بلکے اسلم بھی حیران تھا آمنہ کو اس طرح دیکھ کر..
پیسے تو لاے ہوں گئے آپ ؟؟ آمنہ نے ایک بار پھر بولا تھا..
اسلم کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تھے.. حسین نے پریشان ہوتے ان دونوں کو دیکھا تھا،
اور پھر عثمان کو اشارے سے پیسے دینے کہا..
١٠ لکھ پورے ہیں… عثمان نے بیگ ہاتھ میں پکڑاتے کہا تھا…
زینب کا پتا چاہیے تھا نہ آپ کو ؟؟ صاحب… آمنہ نے حسین کا سر ہاں میں ہلتا دیکھا تھا..
وہ مر چکی ہے… اسے مرے ٢١ برس ہو گئے ہیں… صاحب آمنہ کے الفاظ تھے یا ہتوڑا حسین کو سمجھ نہیں آیا تھا…
ہٹوڑے برسنا کسے کہتے ہیں یہ آج پتا چلا تھا… حسین کا ہاتھ اپنے دل کی طرف بڑھا تھا..
یہ لو ١٠ لاکھ آگے… آمنہ نے بیگ اسلم کہ سامنے رکھا تھا… تم نے کہا تھا ان پیسوں سے سب مسلے حل ہو جائیں گئے..
تو جاؤ مجھے میرا بیٹا لا دو ان پیسوں سے… آمنہ نے اسلم کا گریبان پکڑا تھا…
عثمان پریشانی سے کبھی آمنہ کو دیکھتا تو کبھی حسین کو سمجھ نہیں پا رہا تھا کے کس کو تسلی دے…
اماں ایک کونے میں کھڑی رو رہی تھیں… جب انہوں نے بڑھ کر آمنہ کو سمبھالنا چاہا…
میری بچی صبر کر قدرت کو یہی منظور تھا…
نہیں اماں قدرت نے انصاف کیا ہے… اسلم نے کسی کی بیٹی کسی کی بہن کی موت پے سودا کرنا چاہ تھا..
اور قدرت نے اس کے بیٹے کی موت اس سودے میں منظور کی تھی..
تیرے لالچ نے اسلم… تیرے لالچ نے ہمیں ڈبو دیا تو خط لے کے اتنا حواس باختہ ہوا کے اپنے پیچھے اتی اپنے بیٹے کو نہ سن سکا نہ دیکھ سکا اور روڈ پے اتی گاڑی نے ہمرے بچے کو مار دیا… اب اٹھا یہ ١٠ لاکھ اور لا دے میرا بیٹا..
تو نے کہا تھا پیسا ہی سب کچھ ہے… تو دے پیسے ور لا دے میرا بیٹا آمنہ اب زاروقطار رو رہی تھی…
حسین الگ صدمے تھے… عثمان چلو… حسین کی آواز اتنی ہلکی تھی کہ بمشکل عثمان نے سنی تھی…
ایک منٹ صاحب… اماں نے آواز دی تو وہ دونوں ہی روک گئے تھے…
میں زیادہ نہیں جانتی صاحب…. سواے اس کہ میرے شوہر اس سے بیٹی بنا کر اس گھر میں لاے تھے…
جب اس کے شوہر نے اس کو چھوڑ دیا تھا….
اس کی حالات بہت خراب تھی.. ڈاکٹر کہتے تھے اس کو ٹی بی ہے، وہ نہیں بچے گی..
تب اس نے اپنی بیٹی اپنے شور کو دے دی تھی… وہ اکثر خط لکھتی تھی کچھ ارسال کرتی… کچھ جلا دیتی…
پھر ایک دن کہنے لگی اماں آج ایک آخری خط لکھنا ہے…
اماں نے ایک فولڈ ہوا کاغذ پکڑایا تھا.. یہ زینب کا لکھا آخری خط ہے صاحب… جو وہ مرنے سے پہلے لکھ رہی تھی…
لیکن زندگی نے اسے پتہ لکھنے کی مہلت ہی نہ دی ہاں لیکن اس نے مرنے سے پہلے کہا تھا کہ یہ امانت ہے..
اور ایک نہ ایک دن کوئی ضرور آے گا اسے لینے… لیکن صاحب آپ نے ٢١ سال لگا دیے آنے میں…
حسین نے خط پکڑ لیا تھا. وہ تیز تیز باہر کی طرف چلنے لگے تھے…
ان کے دل دھڑکن اس سے بھی تیز چل رہی تھی… وہ گاڑی میں بیٹھ چکے تھے جب عثمان ان کے پیچھے آیا تھا…
پاپا آپ ٹھیک ہیں…؟؟ وہ فکرمند تھا…
ہاں… تم گاڑی چلاؤ… حسین نے کہا تھا پھر ہاتھ میں پکڑا خط کھولنے لگے تھے…
عثمان بار بار باپ کو دیکھ رہا تھا… AC چلنے کے باوجود حسین کو پسینے آرھے تھے…
ان کی آنکھیں میں لالی تھی… آہستہ آہستہ آنکھوں سے پانی ٹوکنے لگا تھا…
انھیں اپنی آنکھیں بوجھل ہوتی محسوس ہوئی تھیں.. ان کی آنکھیں بند ہو رہی تھی…
پاپا… پاپا… آپ ٹھیک تو ہیں…
پاپا… آپ کچھ تو بولیں دور سے آتی عثمان کی آواز سنائی دی تھی پر وہ کچھ بھی کہنے کے قابل نہیں رہے تھے…
……………………………………
یہ آخری سوال ہے… یوسف شانزے آپ کی پوزیشن کا فیصلہ یہ کرے گا کہ آپ دونوں ٹاپ تھری میں آتے ہیں یا نہیں…
سر نے سوال کرنا شروع کیا تھا… شانزے یوسف دونوں تیار تھے… سوال مکمل ہو گیا تھا..
تبھی بزر بجا تھا اور اس بار دونوں نے ایک ساتھ بزر بجایا تھا… شانزے اور یوسف دونوں حیران ہوے تھے…
شانزے نے جواب دیا تھا… جواب اس بار صیہح تھا بلا آخر مارکس ان کے حصے میں آہی گئے تھے…
وہ یوسف سے بات کرنا چاہتی تھی پر کر نہیں پا رہی تھی…
رزلٹ آناونس ہو رہا تھا لیکن وہ دونوں ہی اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے…
شانزے کو یوسف کی فکر تھی کچھ بھی تھا اس کی وجہ سے کافی نقصان ہوا تھا لیکن یوسف کا دیہاں کہیں اور تھا…
وہ بار بار اپنی پاکٹ پے ہاتھ رکھتا شانزے نے بہت بار محسوسو کیا لیکن شرمندگی سے وہ پوچھ نہیں پائی تھی…
پوزیشن آناونس ہو چکی تھیں… پہلی پوزیشن آخر کار شاہنواز نے اپنے نام کر ہی لی تھی.. جب کے دوسری پے وارث تھا اور تیسری پے یوسف شانزے….
سر مستنصر اب سب ٹیمز کو مبارک باد دے رہے تھے… اور سب سٹوڈنٹ اپنے اپنے شور میں مگن تھے…
یوسف.. وہ میں… شانزے کچھ کہنا چاہتی تھی،
تبھی یوسف نے اس سے معذرت کی تھی اور جیب سے اپنا موبائل نکالا تھا…
وہ کافی دیر سے بج رہا تھا شاید تبھی یوسف بار بار اپنی پاکٹ پے ہاتھ رکھ رہا تھا…
شانزے نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا تھا وہ کافی پریشان تھا. وہ فون بند کر کے باہر کی جانب بڑھا تھا..
جب شانزے نے اسے آواز دی تھی… یوسف…
شانزے پلیز میں بعد میں بات کرتا ہوں… یوسف نے پلٹ کر کہا اور تیزی سے نکل گیا..
اور شانزے کو عجیب سے احساسات نے جگڑ لیا… انھیں نام تو ہوئی تھیں پر اس وقت وہ رونے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی…
وہ بھی تب جب سامنے سے رانیہ اور محسن ارہے ہوں…
کیا ہوا شانزے سب ٹھیک ہے یہ یوسف کہاں چلا گیا ؟؟
محسن نے حیران ہو کے پوچھا تھا…. وہ کسی سے بھی مل کہ نہیں گیا تھا..
پتا نہیں اس نے کچھ… شانزے کے بات مکمل کرنے سے پہلے ہی رانیہ نے بات کٹی تھی..
کہاں جانا ہے… گھر گیا ہو گا…. میڈم نے پرفارم جو اتنا اچھا کیا ہے بنی بنائی پوزیشن خراب کر دی کس کس کو صفائی دیتا کہ اس کی پارٹنر کی ہوشیاریوں نے ڈبو دیا.. اس نے کافی چبا چبا کر بولے تھے لفظ…
شانزے خاموش تھی اس وقت رانیہ کی کوئی بھی بات اس کے لئے اہمیت نہیں رکھتی تھی..
اسے دکھ تھا تو یوسف کے ردعمل کا..
وہ جانتی تھی کہ اس سے جیتنے کی عادت ہے.. لیکن وہ ایسا ریکٹ کرے گا اس نے سوچا نہیں تھا…
کہا تھا یوسف کو.. شانزے کبھی اس کے لئے ٹھیک پارٹنر نہیں ہو سکتی.. رانیہ پھر سٹارٹ ہوئی تھی…
پلیز یار کیا ہو گیا ہے… بس کر دو وہ کون سا اوٹ ہو گئے ہیں تیسری پوزیشن پے تو ہیں نہ…محسن تانگ آگیا تھا..
ہاں تیسری پے کیا خوب کہا یہ بھی… اس کی پہلی پوزیشن تو خراب کر دی نہ… رانیہ کہاں باز انے والی تھی..
بھولو مت کے پہلی پوزیشن شانزے کی بھی تھی… پیچھے آتے شانزے کے گروپ میں سے صبا نے کہا تھا…
اور ہاں یہ بھی یاد رکھنا کے شانزے پرفارم نہیں کرنا چاہتی تھی یوسف کے ساتھ،
وہ خود آیا تھا اس کے پاس اس کو منانے.. صبا نے رانیہ کی بولتی تھی بند کردی تھی..
اس لئے وہ وہاں سے پاؤں پٹختی چلی گئی..
شانزے پلیز تم اس کی باتوں پے دیہان مت دو وہ تو یونہی شروع رہتی ہے… محسن نے شانزے کو چیر کرنا چاہا تھا..
اس نے ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہا تھا.. اور پھر یوسف اس کا ریکشن تو دیکھ ہی لیا ہے،
شانزے نے بوجھے لہجے میں کہا تھا…
شانزے میں نہیں مانتا کے یوسف کا ریکشن اس بات پے تھا… ضرور کچھ اور ہوا ہے.. اگر رانیہ اس سے بچپن سے جانتی ہے تو میں بھی پچھلے ١٢ سالوں سے اس کے ساتھ ہوں تھوڑا بہت تو میں بھی اس کو جانتا ہوں…
تم پریشان مت ہو میں دیکھتا ہوں اسے… محسن نے تسلی دی تھی اس کو….
……………………………………..
اریزے کا دماغ سعدیہ کی ہنسی میں اٹک گیا تھا، کتنا مکمل سا لگا تھا وہ سین اسے،
لیکن ایسا سوچنا بھی کتنا مشکل لگ رہا تھا… لیکن وہ بار بار یہی سوچتی… سوچنے کے لئے تو اب وقت جو بہت تھا..
عثمان میٹنگ کے فورن بعد ہی نکل گیا تھا.. بنا اریزے سے کوئی بات کرے، حالانکہ کہ وہ منتظر تھی کہ عثمان اس کو بلاے… کتنا اچھا لگتا تھا اسے اپنا نام اس کے منہ سے سنا…. لیکن ایسا کچھ نہ ہوا…
عثمان کی ہنسی اب تک اس کے کانوں میں گنج رہی تھی.. لیکن ساتھ میں ایک دوسرا نقش بھی ذھن میں ابھرتا..
کیا ہوا میڈم گھر نہیں جانا ؟؟ ماہرہ نے اس کو ہلایا تھا…
گھر…؟؟؟ اریزے کچھ پزل سی تھی..
ہاں بھئی گھر… ٹائم ہو گیا ہے.. ماہرہ نے کہا تو اریزے گہری کی طرف دیکھا…
اوہ – اچھا چلو بس میں بھی نکل رہی ہوں… اریزے نے جواب دیا..
ماہرہ چل پڑی تھی.. اور اریزے اس کے پیچھے…
میم… وہ باہر نکل رہی تھی جب ریسپشن پے بیٹھی لڑکی نے اس کو روکا تھا.
جی… اریزے پلٹی تھی..
یہ آپ کے لیے ہے.. اس نے ایک باکس اریزے کی طرف بڑھایا تھا..
پر میں نے تو کچھ نہیں منگایا… ریزے نے حیرانگی ظاہر کی تھی پر میم اس پے آپ کا نام لکھا ہے….
اچھا ٹھیک ہے اریزے نے اس سے لے لیا تھا پر پریشانی یہ تھی کے یہ کس نے بھیجا ہے..
………………………………
عثمان ICU کے باہر… جب یوسف نے کال ریسیو کی…
اس نے یوسف کو ہسپتال آنے کے لئے کہا تھا.. دوسری طرف بغیر کسی سوال کے کال مقطع کر دی گئی تھی..
وہ جنتا تھا کچھ ہی دیر میں یوسف پہنچ جائے گا…
عثمان نے اپنے باپ کے ہاتھ سے لیا خط نکالا تھا…
بھائی جان…!!!
دل چاہ رہا تھا کہ آپ سے باتیں کروں…. لیکن سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے…
بہت بار آپ کو خط لکھا پر بھجنے کی ہمت نہیں ہوئی…
بہت بار دل چاہا ایک بار ملوں آپ سے پرسوچتی ہوں کسی منہ سے آؤ آپ کہ پاس…
کیسے کہوں کہ اپ نے جو کہا تھا ٹھیک کہا تھا…
آپ کا ہر لفظ سچا تھا… کیسے کہتی کہ اپنے باپ جیسے بھائی کا دل دکھانے کی سزا مجھے مل گئی ہے…
وہ مجھ چھوڑ گیا ہے… جس کے لئے میں نے اپنا ہر رشتہ چوڑا تھا…
وہ کہتا ہے، بغیر آپ کی دولت کے میں اس کے کسی کام کی نہیں…
وہ چلا گیا بھائی اور میں نے اسے نہیں روکا…
میں نہیں چاہتی کہ وہ واپس آے…
جب جب اس سے دیکھتی ہوں یا سوچتیں ہوں تو مجھے وہ باتیں یاد آتی ہے جو میں نے آپ سے کہیں…
میں جانتی ہوں جو غلطی میں نے کی وہ معافی کے قبل نہیں ہے… میں آپ کی قصوروار ہوں…
نہیں میں آپ کی گناہ گار ہوں… بھائی میں بہت اکیلی ہو گئی ہوں… مرنا چاہتی تھی…
اور شاید کب کی مر جاتی اگر الله نے میری جھولی میں ایک ننی پری نہ ڈالی ہوتی…
لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور ہے… ڈاکٹر کہتا ہے… زیادہ وقت نہیں ہے میرے پاسس…
میں چاہتی تھی میری بیٹی آپ کے پاسس رہے پھر سوچا کتنی خود غرض ہوں میں… یہاں بھی صرف اپنا سوچ رہی ہوں..
اس لیے آج میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے جگر کا ٹکرا… اپنی بیٹی بھی اس کو بیھج دی…
مجھے لگا تھا ایسا کر کے میں سکون سے مر سکوں گی، پر نہیں میرا دل کٹ رہا ہے…
ایسا لگ رہا ہے میں اگلے پل بھی سانس نہیں لے سکوں گی…
آج مجھے احساس ہوا ہے آپ کے آپ کے دل پی کیا گزری ہو گی، جب میں نے آپ کی دہلیز پار کی ہو گی…
آج خود پے بیتی تو جانا… کیسا لگتا اپنے ہاتھوں سے اپنی سب کچھ کسی کو سونپ دینا…
میں جانتی ہوں میں نے بہت ستایا ہے آپ کو… آپ کا دل دکھایا ہے…
لیکن میں آپ کی بہن ہوں… آپ کے خون کا حصہ….
تو کیا اس حیثیت سے آپ مجھے سے صرف ایک بار ملنے نہیں آسکتے…؟؟؟
بھائی… یہ میری آخری خواھش ہے… کیا آپ اس سے پورا نہیں کر سکتے….؟؟
بھائی… یہ…
وہ شاید آگے کچھ لکھنا چاہتی تھی پر سچ میں اسے زندگی نے مہلت نہ دی تھی…
عثمان کی آنکھیں نام ہوئیں تھیں… خون کی کشش تھی یا زینی کے الفاظ کی تڑپ…
وہ جان گیا تھا.. کے کیوں اس کا باپ جو اس سے ہمیشہ پھر کی طرح مضبوط معلوم ہوتا تھا ڈھہ گیا تھا…
یہ زینی کے آخری الفاظ تھے.. وہ جانتا تھا کہ ان کی کیا اہمیت ہے…
وہ ICU کے باہر بیٹھ کے یوسف کا انتیظار کرنے لگا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: