Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 23

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 23

–**–**–

وہ آڈی کی طرف جا رہی تھیں.. شانزے کے دل میں ہزاروں سوال تھے، لیکن جس سے پوچھنے تھے وہ یہاں نہیں تھا…
اس لئے وہ خیالوں میں اس سے لڑتی آڈی کی طرف چلتی رہی…ابھی کافی وقت تھا آڈی ١٢ بجے کھولنی تھی اور ابھی تو صرف ٩ بجے تھے.. جانے وہ کس امید میں یہاں آئ تھی.. لیکن یہاں اکر بھی فائدہ کچھ نہیں ہوا تھا…
تم پریشان مت ہو… ابھی کافی ٹائم ہے ہو سکتا ہے.. وہ آجاے تم اتنا پریشان مت ہو.. صبا نے تسلی دی تھی..
پر میں کیا کروں صبا کچھ سمجھ نہیں آرہا… اگر وہ مجھ سے خفا ہے تو غصہ اپنا نقصان کر کے کیوں نکال رہا ہے..
مجھے بولے میں سنوں گی سب… شانزے نے بیچار گی سے کہا تھا..
شانزے مجھے یقین نہیں آرہا یہ تم ہو. صبا حیران تھی.
ان دونوں کو وہاں دیکھ کر شاہنواز آیا تھا… ارے تم لوگ یہاں… ابھی سے..
ہاں بس وہ.. صبا کو سمجھ نہیں آیا تھا وہ کیا کہے..
کیا ہوا تم لوگ کچھ پریشان لگ رہی ہو… شاہنواز نے جانجتی نظروں سے دیکھا تھا..
وہ اصل میں یوسف ابھی تک نہیں آیا تو… اس لئے صبا نے بولا تھا..
ارے وہ کیسے آے گا، وہ تو ہسپتال میں… عمر نے گویا دھماکہ کیا تھا..
وہاٹ… ہسپتال میں… لیکن کیوں…؟؟ کیا ہوا اسے…
ٹو بی ویری فرینک یہ تو مجھے بھی نہیں پتا بس اتنا پتا ہے کے NMC میں… شاہنواز کی بات بیچ میں رہ گئی تھی.
شانزے سن کے رکی نہیں تھی… شانزے روکو پلیز… صبا نے روکنا چاہا تھا..
پر تب تک شانزے آڈی کی حدود سے نکل چکی تھی…
…………………………..
تو کیا کہ رہا ہے جانتا بھی ہے… محسن کو شوک لگا تھا..
ہاں میں جانتا ہوں.. پر تو سب دیکھ رہا ہے نا… میری فیملی کو میری ضرورت ہے.
بھائی اکیلے کیسے کرے گا سب.. آفس… گھر یا ہسپتال.. میری بھی کچھ ذمداری ہے، ابھی تک بھائی نے پاپا نے مجھے کبھی کچھ نہیں کہا تھا پر اس وقت میں ان کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتا…
ایک بار اور سوچ لے… محسن نے اس کے کندھے پے ہاتھ رکھا تھا..
سوچ لیا… بہت سوچ کے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنا نام واپس لے لوں گا..
میں بات کرلی ہے پھوپو سے وہ شانزے کو کوئی دوسرا پارٹنر ارینج کر دیں گی…
کوئی اور پارٹنر تیری طرح اس کی ہیلپ کر سکتا ہے..
تو نے کہا تھا یہ کمیتیشن تو صرف شانزے کے لئے کر رہا ہے.. محسن نے اس کا راستہ روکا تھا…
مجھے یقین ہے وہ جیت جائے گی… بہت ٹالنٹیڈ ہے بس ذرا جذباتی ہے… یوسف ہلکا سا ہنسا تھا..
اور میں اس کی ہیلپ تو کروں گا ہی نا.. یوسف نے محسن کے ہاتھ پے اپنا ہاتھ رکھا تھا…
لیکن یوسف… محسن نے کچھ کہنا چاہا تھا…
لیکن ویکن کچھ نہیں بس اب اس بحث کو یہیں ختم کر دے..
لیکن محسن کہاں اتنی آسانی سے ہار مانے والا تھا…
…………………………………
شانزے تیزی سے ہسپتال میں داخل ہوئی تھی.. لیکن اندر اکر اس سے بریک لگ گئی تھی..
کیوںکہ اب اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کہاں جائے.. جلدی میں اس نے پوچھا ہی نہیں تھا کہ یوسف کہاں ہے…
یا کس وارڈ میں ہیں… وہ پریشانی کے علم میں ریسپشن پے گئی تھی..
کل یا پرسوں یہاں کوئی مریض آیا تھا.. ایمرجنسی میں.. شانزے نے اپنے سانس پے قابو پانے کی کوشش کی…
میم یہ ہسپتال ہے یہاں کیسز آتے رہتے ہیں پلیز آپ ہمیں نام بتائیں…
یوسف.. نام ہے.. شانزے نے بولا تو اٹینڈنٹ اس کا نام سرچ کرنے لگی…
سوری میم اس نام کا کوئی پیشنٹ نہیں ہے… لڑکی نے معذرت کی تھی.
اپ پلیز دوبارہ دیکھیں.. یوسف نام ہے.. یوسف میر… شانزے پریشان ہوئی تھی.
میم یوسف نام کا کوئی پیشنٹ نہیں ہے تو پھر یوسف میر…
آپ پلیز ایک بار چیک کریں… شانزے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کاٹی تھی…
شانزے… جب کسی نے پیچھے سے آواز دی تھی…
شانزے نے پلٹ کر دیکھا تھا تھا.. وہ عثمان تھا…
وہ میں یوسف… کیا ہوا ہے… سب ٹھیک ہے نا.. عثمان نے اس کی آواز کی بےچینی محسوس کی تھی..
آؤ میرے ساتھ وہ کہتا بڑھ گیا تھا… شانزے اس کی پیروی کرنے لگی تھی..
وہ ایک روم کے باہر کھڑا تھا اب.. شانزے کا دل زور سے دھڑکا تھا… اس نے ہینڈل پے ہاتھ رکھ کر گھمایا تھا..
شانزے نے آنکھوں بند کر لیں تھیں، آؤ شانزے.. وہ کہتے اندر گئے تھے،
سامنے بستر پے لیٹے حسین کو دیکھ وہ مزید پریشان ہو گئی تھی..
یوسف ٹھیک ہے… پاپا کی طبیت خراب تھی..
انھیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے… عثمان نے اس کی گھبراہٹ کو محسوس کر لیا تھا..
اب کیسی طبیعت ہے.. شانزے نے اپنی حالت پے قابو پاتے پوچھا تھا..
اب وہ حسین کے پاس بیٹھی تھی. جو دوائیوں کے زیرے اثر سو رہے تھے..
پہلے سے ٹھیک ہے.. لیکن ابھی کچھ دن یہاں رہنا پڑے گا…
(بی پی اپ اینڈ ڈاؤن کا مثلا ہے ڈاکٹرز کہتے ہیں دوبارہ پھر ایسا ہونے کا خطرہ ہے… عثمان کہنا چاہتا تھا پر چپ رہا)
آپ پریشان نا ہوں انکل جلدی ٹھیک ہو جایئں گئے… شانزے نے تسلی دی تھی،
اور تم بھی پریشان مت ہو.. عثمان نے اس کے سر پے ہاتھ رکھا تھا.
بیٹھو میں یوسف کو دیکھتا ہوں یہیں کہیں ہو گا..
نہیں بھائی میں خود دیکھ لیتی ہوں اسے.. شانزے کو شرمندگی ہوئی تھی،
آر یو شیور..؟؟ عثمان نے پوچھا تھا…؟؟ اس کوشانزے کا اس کو بھائی کہنا بہت اچھا لگا تھا.
جی.. شانزے کہتی باہر نکلی تھی..
جب سامنے وہ دونوں کسی بحث میں الجھے چلے آرہے تھے.. شانزے ان کی طرف بڑھی تھی…
کیسی ہو شانزے..؟؟ محسن نے اس کا بگڑا ہوا موسم دیکھ کر پوچھا تھا..
بتا نہیں سکتے تھے…؟؟ شانزے نے محسن کو جواب دیے بغیر سوال دغا تھا..
شانزے تم یہاں کیا کر رہی ہو، تمہیں تو اس وقت یونیورسٹی میں ہونا چاہیے تھا.. یوسف کی آواز میں سختی تھی.
محسن نے اس کا کندہ تھپتپایا تھا اور خود وہاں سے کھسکنے میں آفیت جانی تھی.
ہونا تو تمہیں بھی یونیورسٹی میں چائے تھا نہیں…؟؟؟ وہ بھی شانزے تھی..
شانزے تم نے دیکھ لیا نا.. سب پھر بھی..
وہ اب ٹھیک ہیں بھائی کہ رہے ہیں… میں مل چکی ہوں..
یوسف چپ ہو گیا تھا وہ سمجھ گیا تھا شانزے نہیں جانتی پوری بات..
مجھے لگا ہم ٹیم ہیں.. تم مجھے ٹرسٹ کرتے ہو.. لیکن تم نے ثابت کر دیا کے ایسا نہیں ہے، اس کی آنکھوں میں دکھ تھا.
ایسے کیسے مجھ سے بغیر بات کیے جا سکتے ہو… تم مجھے بتا سکتے تھے. میں تمہاری ہیلپ کرتی… کچھ بھی جو تم کہتے وہ کرتی..لیکن تمہیں بتانے کی کیا ضرورت تھی، میں تو تمہارے لئے ایگزیسٹ نہیں کرتی نا..
شانزے بولے جا رہی تھی. جتنی تیزی سے بول رہی تھی اتنی تیزی سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے.
تم یہ سب کیا کہ رہی ہو.. یوسف حیران ہوا تھا..
اگر مجھ سے ناراض تھے، میری غلطی تھی، تو کچھ کہا ہوتا… سنا لیا ہوتا… کچھ کہنے کا موقع تو دیتے..
تمہیں ناراض ہونے کا حق تھا، پر تم ایسے کیسے نظر انداز کر سکتے ہو..
میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا.. یوسف نے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا تھا..
تو کیا اب میں پریشان نہیں ہوں..؟؟؟ شانزے بات تو بلکل ٹھیک کہی تھی.
سوری… یوسف نے اس کے آنسو صاف کیے تھے….
شانزے ریلکس ہو جاؤ پلیز… یوسف نے اس کو محبت سے دیکھا تھا..
چلو بس اب تم یونیورسٹی جاؤ.. ٹائم ہونے والا ہے… محسن تمہیں لے جائے گا..
اور تم…؟؟؟ شانزے نے یوسف کو اداس آنکھوں سے دیکھا تھا، یوسف کے دل کو کچھ ہوا تھا.. پر وہ مجبور تھا..
شانزے میں… یوسف کچھ بولتا اس سے پہلے عثمان بولے تو شاید ابھی آے تھے.
تم کیا…؟؟؟ چلو شاباش یونیورسٹی جاؤ
لیکن بھائی پاپا… یوسف نے کچھ کہنا چاہا تھا..
میں ہوں یہاں.. اور ویسے یہ میرے بھی پاپا ہیں. تو میں بھی ان کا خیال رکھ سکتا ہوں،
اور تمہارے لئے ضروری یہ ہے تم کمپیٹیشن پے توجہ دو.. یہاں میں دیکھ لوں گا سب.. جب تم فری ہو جاؤ تو آجانا..
عثمان نے بات ختم کی تھی..
اور پھر ایسا کریں گئے کے رات میں شانزے کی ڈیوٹی لگا دیں گئے، ٹھیک ہے نا…؟؟ عثمان سے خاموش کھڑی شانزے کو مخاطب کیا تھا وہ اچھی طرح اس کی دماغی حالت سمجھ رہا تھا..
ٹھیک ہے.. شانزے نے ہاں میں سر ہلایا تھا..
ٹھیک ہے…؟؟ عثمان نے دوبارہ سوالیہ نگاہوں سے پوچھا تھا اور وہ ہنس پڑے تھے..
……………………………
ٹائم آل موسٹ ہو چکا تھا. لوگ آڈی میں جا رہے تھے. صبا سمیت ذارا اور مہک بھی پریشان تھے.
یہ دونوں کہاں چلے گئے. اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر ایک بھی دن مس کیا تو وہ ڈیس کولیفاے ہو سکتے ہیں..
لیکن دونوں چاہتے کیا ہیں سمجھ نہیں آتا.. زارا جنجھلائی تھی.
پہلے ہی شانزے کی وجہ سے یوسف کو نقصان ہوا تھا.. اس کو یہ تو سوچنا چاہیے تھا. مہک کو دکھ ہوا تھا.
وہ دیکھو وہ رہے دونوں.. زارا نے شانزے کی طرف سے اشارہ کیا تھا.
کہاں تھیں تم.. بندہ کچھ موقع دیتا ہے بولنے کا، لیکن تم نے تو حد کر دی منہ اٹھایا ور چلی گیں. صبا نے اسے ڈانٹا تھا..
یار شانزے کچھ تو بندہ سنسبیل ساؤنڈ کرتا ہے.. مہک نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا.
اس کے لئے انسان کے پاس سینس ہونا بھی ضروری ہے.. رانیہ نے جملہ جوڑا تھا جو یوسف کو دیکھ کر وہیں آگئی تھی..
لیکن بات ساری اہمیت کی ہے جو شانزے تو جانتی نہیں ہے. کیوںکہ مفت کی اسکالرشپ کا تو اپنا مزہ ہے..
اچھا ٹھیک ہے ہم لیٹ ہیں ویسے ہی بعد میں بات کرتے ہیں. یوسف نے شانزے کا ہاتھ پکڑا تھا..
وہ دونوں آڈی میں چلے گئے تھے..
جب کہ رانیہ منہ دیکھتی رہ گئی تھی..
……………………………
سب لوگ آڈی میں جمع تھے.. ماحول بہت خوشگوار تھا… آگے جانے والے سارے سٹوڈنٹ بہت چہک رہے تھے،
یوسف اور شانزے اپنی سیٹس پے بیٹھ گئے.. ہسپتال سے لے کر اب تک دونوں نے کوئی بات نہیں کی تھی…
یوسف نے اس کی طرف پانی کی بوتل بڑھائی تھی شانزے نے چپ چاپ لے کے پانی پیا تھا.
اتنی پریشان کیوں ہو.. یوسف نے بہت تحمل سے پوچھا تھا.
تم نے بات نہیں کی تو مجھے لگا مجھ سے ناراض ہو.. جواب صاف تھا..
تو تم بات کر سکتیں تھیں.. اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس حد تک پریشان ہو گی، ورنہ وہ ضرور بات کرتا.
کیسے کرتی ؟؟ انتیھائی فضول سوال تھا..
یوسف نے اس کے ہاتھ سے موبائل کھنچ کر اس کے منہ کے آگے کیا تھا. وہ جانتا تھا اس کی فون میں کوئی دلچسپی نہں ہے، کیوںکہ اس نے کبھی دوسری لڑکیوں کی طرح اس کو فون اسے کرتے نہیں دیکھا تھا.
میرے پاسس نمبر نہیں تھا.. اور میں کسی سے کیوں لیتی.. شانزے نے ڈھٹائی سے کہا تھا، حالانکہ حقیقت تو یہ تھی کہ اس طرف تو اس دماغ گیا ہی نہیں تھا.. شانزے کو اپنی بیوقوفی پے غصہ آیا تھا لیکن وہ یوسف کے سامنے اس کا اظہار نہیں کرنا چاہتی تھی، اس لئے خاموش رہی..
یوسف اس کے فون میں کچھ ٹائپ کر رہا تھا، ٹائپ کرنے کے بعد اسنے فون شانزے کو دیا تھا.. میرا نمبر ہے، اس نے زیادہ کچھ نہیں بولا تھا.. وہ سامنے اسٹیج پے چھڑتی مس کلثوم کو دیکھا تھا.
جب شانزے سیٹ کی بیک پے سر ٹیکاے آنکھیں بند کر چکی تھی.. یوسف کے دل کو کچھ ہوا تھا..
شانزے چہرے سے کافی تھکی ہوئی لگ رہی تھی جیسے کوئی جنگ لڑ کر آئ ہے…
وہ کیسے بتاتا کہ اب وہ اس کے ساتھ مزید اس ٹیم کا پارٹ نہیں ہو سکتا.
یوسف اس کو بتانا چاہتا تھا پر ہربار اس کا اترا ہوا چہرہ اس کو روک رہا تھا..
اسلام وعلیکم.. سٹوڈنٹس مجھے امید ہے آپ سب لوگ خیریت سے ہوں گئے..
مس کلثوم کی آواز مائک میں ابھری تھی.. لیکن اس میں وہ جوش نہیں تھا جو ہمیشہ ہوتا تھا.
اور یہ بات یوسف سے بہتر کون جان سکتا تھا.. یوسف نے ان کی طرف دیکھا تھا. اور کلثوم نے بھی یوسف کی طرف دیکھا تھا، اس کا پریشان چہرہ کیسے وہ نظر انداز کر سکتی تھیں..
نیکسٹ راؤنڈ پویٹری کا ہے.. جس میں ٹاپ ١٠ ٹیمز شامل ہوں گی…
مس یوسف نے کلثوم کو دیکھا تھا اور وہ خود پے قابو نہیں کر سکیں تھیں…
ڈیٹیل آپ کو مستنصر سر دیں گئے… ہال میں تالیاں بجنے لگیں تھیں..
یوسف ان کی حالت سمجھ رہا تھا اس کی اپنی حالت کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی…
مائک میں اب سر مستنصر کی آواز آرہی تھی… جی تو آپ سب ایکسایٹڈ ہیں…
یس سر حال میں آواز گنجی تھی..
اگلے سر پرائس کے لئے تیار ہیں… ایک بار پھر آواز آئ تھی..
یس سر… ہال میں شور ہوا تھا..
ٹھیک ہے تو ہم آپ کو بتاتے چلیں گئے اگلے راؤنڈ میں ہر ٹیم سے صرف ایک ممبر ہی شامل ہو گا.. اور وہی اپنی ٹیم کے لئے وہ راؤنڈ کھیلے گا.. اور جیتنے والے صرف چھ ٹیمز اگلے راؤنڈ میں جائیں گی.
لیکن… لیکن… ٹیم کا وہ ممبر جو اس راؤنڈ میں پرفارم کرے گا وہ اگلے راؤنڈ میں نہیں کھیل سکتا.
یا یہ کہ سکتے ہیں کے دوسراممبر(جو ٹیم میں رمیننگ رہ جائے گا) اوٹومیٹیکلی نیکسٹ راؤنڈ کے اے الیجبل ہو جائے گا.
آپ لوگوں کو آپس میں بہت سوچ سمجھ کر ہمیں کل تک اس ممبر کا نام دینا ہے جو نیکسٹ راؤنڈ میں پرفارم کرے گا..
تو مجھے امید ہے کے آپ لوگ بہت اچھے سے پرفارم کریں گئے…
وہ ٹیم جو اب کا کمپیٹیشن کا حصہ نہیں ہیں.. وہ لوگ اپنے دوستوں کو سپورٹ کریں گئے..
سر مستنصر اسٹیج سے اتر رہے تھے… ہال میں تالیاں بجنے لگی سٹوڈنٹ اپنی سیٹس سے اٹھ گئے تھے..
………………………….
تمہیں اب جانا چاہیے.بھائی انتیظار کر رہے ہوں گئے. باقی کل ڈیسایڈ کر لیں گئے. شانزے نے یوسف کی طرف دیکھا تھا. وائٹ ہاف سلوس کی ٹی شرٹ اور بلوے جینس میں اس کا دراز قد مزید دراز لگ رہا تھا.. وہ کہیں سے بھی وہ یوسف نہیں لگ رہا تھا جو اس سے ایک دن پہلے ملا تھا، اس کی شکل اس کی تھکن کا پتا صاف دے رہی تھی..
یوسف نے ہاں میں سر ہلایا تھا..
تم ٹھیک ہو.. یوسف فکرمند ہوا تھا کیونکہ اس کی آنکھیں بہت لال ہو رہی تھیں..
ہاں میں ٹھیک ہوں… شانزے نے مختصر جواب دیا تھا.
تم کیا کرو گی اب..؟؟؟ یوسف نے بنا مطلب ہی پوچھا تھا. وہ آہستہ آہستہ چلتے آڈی سے باہر آگے تھے.
میں گھر چلی جاؤں گی.. جواب سادھا سے الفاظ میں آیا تھا.
ٹھیک چلو، یوسف پارکنگ کی طرف بڑھا تھا،
نہیں میں چلی جاؤں گی. شانزے زیادہ کچھ بولتی اس سے پہلے ہی یوسف نے اس کا ہاتھ پکڑ کے چلنا شروع کر دیا تھا..
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے تھے، یوسف نے گاڑی سٹارٹ کر کے شانزے کے گھر کی طرف موڑی تھی…
دونوں طرف خاموشی تھی. یوسف بتانا چاہتا تھا شانزے کو کے اب وہ یس کی ٹیم میں نہیں ہے پر کیسے بتاے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا بہت بار اس نے بتانا چاہا پر شانزے کی طرف دیکھتے ہی اس کی ہمت جواب دے جاتی..
اس لئے اس نے شانزے کی طرف دینا بند کر دیا تھا. جب کے وہ شانزے کی ناظرین خود پے محسوس کر رہا تھا.
ایک بے چینی تھی اس کے اندر جس کو کنٹرول کرنے کے لئے اس نے گاڑی میں لگے میوزک سسٹم کا بٹن پریس کیا تھا.
شانزے میں کچھ بتانا چاہتا ہوں تمہیں.. یوسف نےبہت ہمت کر کے شانزے کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا.
لیکن اس کی ہمت ایک بار پھر اس کی کالی گہری آنکھوں تیرتی لالی دیکھ کر جواب دے گئی تھی. اس کا چہرہ اتنا معصوم لگ رہا تھا کہ یوسف ناظرین ہٹانا بھول گیا تھا.اس وقت بیک گراؤنڈ میں گانے کی آواز آئ تھی،
دیکھا ہزاروں دفع آپکو پھر بیقراری کیسی ہے
سمبھالے سمبھلتا نہیں یہ دل کچھ آپ میں بات ایسی ہے..
کیا ہوا چپ کن ہو گئے..؟؟ بتاؤ کیا بتانا چاہتے ہو.. شانزے خاموش دیکھ کر پوچھا تھا.
کچھ نہیں.. یوسف نے دوبارہ سامنے کی طرف دیکھنے لگا تھا.
لیکر اجازت اب آپ سے، سانسیں یہ آتی جاتی ہیں
ڈھونڈھ سے ملتے نہیں ہیں ہم ، بس آپ ہی آپ باکی ہیں..
شانزے کو یوسف کی اور اپنی پہلی ملاقات آئ تھی، ٹیب اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس لئے اتنا اہم ہو جائے گا.
جو کہانی لڑائی سے شروع ہوئی تھی. اس کا ٹریک اتنی خاموشی سے بدل جائے گا..
پل بھر نہ دوری سہیں آپ سے، بیتابیاں یہ کچھ اور ہیں
ہم دور ہوکے بھی پاس ہیں، نزدیکیاں یہ کچھ اور ہیں…
سوچا تو یوسف نے بھی نہیں تھا. کوئی لڑکی اس لئے اتنی اہمیت بھی رکھ سکتی ہے وہ ہمیشہ ان مسلوں سے دور رہتا تھا.
لیکن کچھ تو تھا شانزے میں جو اس سے دور نہیں جانے دیتا تھا. اور شاید شانزے کا حال بھی زیادہ مختلف نہیں تھا..
تبھی تو فورن چلی آئ تھی ہسپتال.. دوریاں سہنے کی ہمت ان دونوں میں ہی نہیں تھیں..
آگوش میں ہے جو آپکی ، ایسا سکوں اور پاے کہاں
آنکھیں ہمیں یہ راس آگے، اب ہم یہاں سے جائے کہاں…
کیسے بتاتی وہ اس سے کہ پچھلی پوری رات نے جاگتے گزاری تھی.. یوسف کو سوچتے.. ایک منٹ کے لئے بھی اسے نیند نہیں آئ تھی.. کتنی کوشش کی تھی اس نے سونے کی لیکن ایک پل کا سکون بھی نہیں ملا تھا. اس لئے وہ آڈی میں اس کے برا میں بیٹھی تو اس کی آنکھیں بند ہو گیں تھیں.. شاید وہ سکون یوسف کے ہونے میں تھا…
اور یوسف وہ کیسے بولتا کہ اس کا سکون تو اس کی آنکھوں میں ہے..
دیکھا ہزاروں دفع آپکو پھر بیقراری کیسی ہے
سمبھالے سمبھلتا نہیں یہ دل کچھ آپ میں بات ایسی ہے..
دونوں نے غیر ارادتاً ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا.. یوسف زیر لیب مسکرایا تو شانزے کے ہونٹوں پے بھی مسکراہٹ آئ تھی.. پورے دن میں پہلی بار یوسف نے اس کو مسکراتے ہووے دیکھا تھا.. تو کیا ان کا تلوق یہاں تک آگیا ہے،
ایک مسکراے گا د تو ہی دوسرا مسکراے گا.. یوسف نے دل میں سوچا تھا مسکراہٹ پھر اس سے چھو گئی تھی..
اس نے گاڑی سائیڈ میں روکی تھی شانزے کا گھر آگیا تھا..
کل ملتے ہیں یوسف نے شانزے کو دیکھ کر کہا تھا.. فلحال وہ زیادہ کچھ کہنے کی کنڈیشن میں نہیں تھا.
شانزے نے ہان میں سر ہلایا تھا.. وہ گاڑی سے اترنے لگی تھی کہ پھر بیٹھ گئی..
تم کچھ بتانا چاہتے تھے نا ؟؟ شانزے پوچھا تھا..
نہیں.. یوسف نے جھوٹ بولا تھا شانزے کی بوجھل آنکھیں اس سے مجبور کر رہی تھیں..
بولو کیا بات ہے تمہارے چہرے پے صاف لکھا ہے..
اچھا تو اب تم میرا چہرہ بھی پڑنے لگیں..
باتیں مت بناؤ وہ بتاؤ جو بتانا تھا.. شانزے کے ہلکی ناراضگی کا اظہار کیا تھا.
نہیں میں کچھ پوچھنا چاہتا تھا. یوسف نے پھر بات بنائی تھی..
کیا ؟؟ شانزے نے سوال کیا تھا..
تم.. کسی زینب کو جانتی ہو.. زینب میر..؟ یوسف نے بنا ارادہ کے ہی پوچھ لیا تھا..
نہیں… لیکن کیوں..؟ شانزے کو تجسوس ہوا تھا..
نہیں کچھ خسس نہیں تمہاری شکل ملتی ہے کافی.. چلو میں چلتا ہوں دیر ہو رہی ہے..
اپنا خیال رکھنا. شانزے گاڑی سے اتری تھی..
تم بھی.. یوسف روکا نہیں تھا…
اور شانزے اس کی باتوں میں الجہتی گھر آگئی تھی..
………………………………
شانزے نے اپنے کمرے کے اندر اکر کھڑکی سے بھر جھانکا تھا، موسم اب پہلے کی طرح گرم نہیں تھا.
سردیوں کی آمد تھی تو شام میں اکثر ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں تھیں… لیکن اس وقت تو موسم بہت ہی اعلی تھا..
کھلا نیلا آسمان.. ہوا میں اڑتے پرندے.. شاید پاسس میں ہی کسی نے کبوتروں کو کھولا تھا اور اب وہ آسمان میں اپنے پر پھیلاے اڑنے میں مصروف تھے.. سامنے پارک سے اتے بچوں کے شور کی آواز اس سے بہت اچھی لگ رہی تھی..
دار حقیقت یہ شانزے کے اندر کاموسم تھا.. جس نے ہر چیز کو نکھار دیا تھا. وہ کیا ہے نا انسان کے اندر کا موسم اچھا ہو تو باہر کا بھی خود با خود اچھا ہو جاتا ہے.. جیسے بارش کا برسنا کسی کے لئے مسرت کا سبب بنتا ہے.. محبت کا برسنا لگتا ہے.. سندھی خوشبو کا پھیلانا ہوتا ہے.. تو وہیں کسی کو اپنے دکھ پر بادلوں کا رونا بھی لگتا ہے.. بات سری دل کی ہی تو ہے.. شانزے کے اپنے اندر کا موسم یوسف کو ملنے سے بدلہ تھا تو اس سے ہر چیز بدلی بدلی لگ رہی تھی..
وہ کھڑکی میں کھڑی جانے کب تک سب میں گھوم رہتی جب اس کسی کی انے کی آہٹ ہوئی تھی.
اس نے پلٹ کر دیکھا تھا وہاں اریزے تھی..
تم اتنی جلدی آگئیں ؟؟ شانزے حیران تھی..
جلدی ؟ میڈم میں اپنے ٹائم پے آئ ہوں لگتا ہے آپ کسی اور دنیا میں گم تھیں.. اریزے نے گھورا تھا.
بےاختیار شانزے نے گھڑی کی طرف دیکھا تھا. جو اریزے کی بات کی تصدیق کر رہی تھی. مطلب وہ پچھلے ڈیڑ گھنٹے سے وہاں کھڑی تھی اور اس سے احساس بھی نہیں ہوا تھا، وہ پھر سوچ کی دنیا میں گم تھی. ہلکی مسکراہٹ ہونٹوں پے پہلی تھی، کہ ایک بار پھر اریزے نے اس کو اس دنیا سے باہر نکالا تھا..
لگتا ہے یوسف سے بات ہو گئی ہے.. تبھی محترمہ گھوم ہیں، کچھ ٹائم ہم غریبوں کو بھی دے دیا کرو.. اریزے نے کہا.
اوہ – مائی ڈیر اریزے جلو مت میرا سارا وقت تمہارا ہی تو ہے.. شانزے اس کے گلے میں بازو ڈالے تھے..
اچھا تو بات ہو گئی، اریزے نے اپنی بات دھرائی تھی.. پوچھا نہیں اس سے کہاں گائب تھا..
ایسا کرتا ہے کوئی بتانا تو چاہیے تھا نا اس کو.. اریزے شروع ہی گئی تھی..
اوہو – اریزے پہلے پوچھ تو لو اس کے پاپا بیمار تھے اس لئے نہیں آیا تھا.. شانزے ٹوکا تھا..
اوہ – سوری مجھے نہیں پتا تھا… اریزے نے معذرت کی تھی.. ویسے کچھ زیادہ ہمدردیاں نہیں آرہیں..؟؟
ہان آرہی ہیں کوئی مثلا..؟؟ شانزے نے پلو کھنچ کر مارا تھا.
کیا مثبت ہے.. میں نے اٹھا کے باہر پھنک دینا ہے.. اریزے چڑی تھی..
کی ہے غصہ کن کر رہی ہو.. کل تو موڈ بہت اچھا تھا.
شانزے کا اشارہ کس طرف تھا وہ جانتی ہے..
ویسے تم نے تھنک یو بولا کیک کا.. شانزے نی بات شروع کی تھی..
نہیں… اریزے نے انکار کیا تھا.
کیوں..؟ شانزے کو حیرت ہوئی تھی..
وہ آج آے نہیں تھے آفس.. اریزے نے کہا تھا..
کیوں.. شانزے پھر سوال کیا تھا.
کیا مطلب کیوں ؟ مجھے بتا کے تھوڑی اوف کرتے ہیں اریزے نے غصہ کیا تھا. اور تم کیا گھر اتے ہی پولیس والی بن جاتی ہو جب دیکھو سوال پے سوال.. کمرہ نا ہوا عدالت ہو گئی.. پاؤں رکھو نہیں میڈم شروع ہو جاتی ہیں..
تو پوچھ لیتی نا.. شانزے نے پھر سے کہا تھا.
کیسے پوچھتی. اریزے نے آنکھیں نکال کر کہا تھا..
ایسے پوچھتی… شانزے نے بیڈ پے پڑے بیگ میں سے فون نکالا تھا.. جتنی زبان چلا رہی ہو نا اس کا آدھا بھی دماغ چلاتی تو پتا ہوتا. آنکھیں نکلنے سے فون نکلنا بہتر ہے..
شانزے ناراض ہو گئی تھی اس لئے پاؤں پٹختی چلی گئی تھی..
اور اریزے سوچ میں پڑ گی تھی اب وہ اس کو کیا بتاتی کے اس کے پاسس نمبر نہیں ہے..
………………………………
می جانی کیا کر رہی ہیں آپ شانزے کچن میں آئ تھی.. جب می جانی سامنے آٹا نکلتی نظارہ آئیں تھیں..
کچھ نہیں روٹی ڈالنے لگی ہوں تمہارے پاپا ارہے ہوں گئے تو پھر ساتھ میں کھانا کھاتے ہیں.. انہوں سے آٹے باول چلے کے پاسس رکھا تھا..
ٹھیک ہے آپ ہٹیں میں بناتی ہوں.. شانزے نے پیڑے بنانے شروع کیے تھے..
شانزے تم رہنے دو میں کر لیتی ہوں تم اپنا پڑھو.. تم نے جیتنا ہے.. می جانی نے پیر سے بولا تھا.
می جانی ہو جائے گا سب.. آپ فکر نا کریں میں کر لوں گی نا.. شانزے نے روٹی ڈالی تھی..
اچھا تم جیتی میں ہاری اب خوش.. می جانی سلاد بنانے لگیں تھیں..
وہ دونوں مسلسل کام کرتے ہوے بھی باتیں کر رہی تھیں، جب حسان اے تھے..
کیا بات ہے بھئی آج بڑا شور کر رہی ہیں دونوں ماں بیٹی.. انہوں نے پاس ہی ڈائننگ پے بیٹھتے کہا تھا..
شور نہیں کر رہے ہیں باتیں کر رہی ہیں می جانی نے پانی کا گلاس انھیں پکڑایا تھا.
جب شانزے کو یوسف کی بات کا خیال آیا تھا..
می جانی آپ کسی زینب کو جانتی ہیں.. وہ کیا نام تھا پورا ہاں..!! زینب میر .. شانزے نے کچھ سوچتے ہوے بولا..
میں..؟؟ می جانی کچھ حیران هوں تھیں… نہیں میں تو ایسی کسی کو نہیں جانتی..
جبکہ حسان کو ان دونوں کی باتوں نے سانپ سنگھا دیا تھا..
تم جانتی نہیں ہو.. می جانی نے الٹا سوال کیا تھا..
نہیں بس کچھ زیادہ نہیں بس یہی کے میری شکل ان سے ملتی ہے.. شانزے نے تسلی سے کہا تھا..
جبکہ حسین کے ہاتھ سے پانی کا گلاس جھوٹتے جھوٹتے بچا تھا پھر بھی ان کے کپڑے گلے کر رہی گیا تھا..
اچھا تمہیں کس نے کہا… می جانی پاپا کی طرح ٹشو کا باکس کرتے پوچھا تھا.
مجھے وہ یو… مجھے کسی نے ایسے ہی کہا تھا.. شانزے نے جانے کیوں یوسف کا نام چھپایا تھا..
جبکہ حسان نے غور سے شانزے کا چہرہ دیکھا تھا. وہ جانا چاہا رہے تھے کیا سچ میں وہ کچھ نہیں جانتی ؟
یہ بات کھلے گی وہ جانتے تھے.. ایک نا ایک دن شانزے کو سچ پتا چلنا ہی تھا.. لیکن وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی اور اس سے سری حقیقت سے آگاہ کرے.. تو پھر یہ کون تھا جو حقیقت سے پردھا اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا.. حسان جانا چاہتے تھے پر وہ کچھ بھی شانزے سے نہیں پوچھ سکتے تھے. وہ جانتے تھے شانزے کو اگر اس کو ذرا سا بھی شک ہو گیا تو پھر وہ ہر حال میں اس کا پتا لگے گی..
………………………………
عنیقہ کی فرینڈ ریکویسٹ ایکسیپٹ کر لی گئی تھی.. اس نے جلدی جلدی میسج ٹائپ کر کے سند کیا تھا.
خوشی سے اس کا برا حال تھا..
وہ کمرے میں پاگلوں کی طرح اچھل رہی تھی.. جب تائی جان اندر آئیں تھیں..
اری لڑکی ہوش کر باپ بھائی گھر میں اور تو کیا ناچ گنا کر رہی ہے.. تائی جان نے اس کو روکنا چاہا تھا.
امی اگر میں اگر میں آپ کو بتا دوں تو آپ بھی میرے ساتھ ناچنے لگیں گی..
ہیں…؟؟ اس کیا ہوا ہے… وہ حیران تھی اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کر اس کا دماغ خراب ہے یہ تو پتا تھا لیکن اس حد تک یہ نہیں سوچا کبھی انہوں نے…
یہ دیکھیں یوسف نے میری فرینڈ ریکویسٹ ایکسیپٹ کر لی ہے.. اس کا میسج بھی آیا ہے.
اس نے ماں کو فون دکھایا تھا.. میں نے اس سے نمبر منگا ہے.. پھر میں اس سے باتیں شروع کروں گی..
تو اس میں کون سا بڑی بات ہے.. تم تو ایسے خوش ہو رہیں تھیں جیسے رشتہ لے کر آرہا ہو..
اوہ – میری بھولی ماں کن فکرمند ہوتی ہیں.. وہ دن بھی دور نہیں جب وہ رشتہ لے کر اے گا.. عنیقہ نے خیالی پلاؤ بنائی تھی..
دیکھ لینا یہ جو پلاؤ تم نے چڑھایا ہے نا خیالوں میں.. کہیں جل ہی نا جائے.. تائی جان نے حقیت سے اگاہ کیا تھا.
امی اپ بھی نا کبھی کچھ اچھا نہیں سوچتیں.. اپ بس دیکھتی جائیں..
عنیقہ نے فون میں یوسف کی تصویر دیکھتے کہا تھا..
……………………………..
ناراض ہو… اریزے نے شانزے سے پوچھا تھا جو اپنے بستر پے آنکھوں پے ہاتھ رکھے لیٹی تھی.
کیوں میں کیوں ہونے لگی ناراض.. شانزے نے ایسے ہی لیٹے لیٹے جواب دیا تھا..
اچھا نا سوری.. اریزے اس کے بڑا بر میں لیٹی تھی..
کیا کروں اس سوری کا.. شانزے نے چڑ کر کہا تھا..
بولا نا سوری اتنا اٹیٹوڈ کیوں دکھا رہی ہو.. اریزے نے اس گدگدی کی تھی لکی مثلا یہ تھا کہ شانزے کو ہوتی نہیں تھی.
کان پکڑ کے بولو شانزے نے روکھائی سے کہا تھا.
کیا… شانزے میں تمہاری بڑی بہن ہوں، اریزے نے حیران ہوتے کہا تھا.. وو بستر پے اٹھ بیٹھی تھی..
سو وہاٹ… شانزے اپنی بات پے آڑی تھی… اس نے بھی اریزے کو فالو کیا تھا.
اچھا نا سوری اریزے نے کان پکڑے تھے..
اور شانزے نے جلدی سے اس کی پک لی تھی..
یہ کیا ہے.. اریزے نے فون چھین نے کی کوشش کی تھی..
یہ تصویر ہے اس نےاریزے کو دکھائی تھی،
یہ جب تمہارے ہینڈسم باس ہمرے گھر آیئں گئے تو انھیں دکھانی بھی تو ہو گی نا..
بکو مت دو ادھر.. اریزے نے مانگی تھی پھر سے…
نا نا نا نا… ٹھاکر یہ تصویر تو اب سوۓ رہے گی.. شانزے دوبار لیٹی تھی.
تم کتنی خراب ہو گئی ہو نا… اریزے نے لیٹتے ہوے کہا تھا..
ہاں… تھنک یو… تھنک یو… شانزے موبائل میں دوبارہ تصویر نکالی تھی.. ویسے تم اچھی لگ رہی ہو نہیں..؟؟
وہ دونوں شانزے کے کہنے پے ہنس پڑی تھیں..
اچھا سوری مجھے تم غصہ نہیں کرنا چاہیے تھا اریزے نے پھر سے کہا تھا.
اب بس کرو نا رولاؤ گی کیا، شانزے نے اس کا مذاق اڑایا تھا..
تم بھی نا، یہ بتاؤ یوسف کے فادر کو کیا ہوا.. اریزے نے پوچھا تھا
انھیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا، اب ٹھیک ہیں. لیکن ابھی ہسپتال میں ہیں. شانزے نے بولا تھا..
اوہ اچھا تھا. یہ تو بہت برا ہوا الله انھیں جلدی اچھا کر دے.. امین.. اریزے نے کہا تھا..
امین… میں کل جاؤں گی انھیں دیکھنے NMC میں ہیں.. شانزے اس کی معلومات میں اضافہ کیا تھا..
آہاں.. بڑا خیال کیا جا رہا ہے ہونے والے… اریزے نے بڑا چھیڑنے والا ریکشن دیا تھا.
شٹ اپ اریزے تم بات کو کہاں لے کے جا رہی ہو..
اچھا….؟؟؟؟
اور تم بھول گیں می جانی کیا کہتی ہیں، بیمار کو پوچھنا ثواب ہے..
اچھا…. اس بار اچھا کچھ زیادہ لمبا ہوا تھا..
بس کرو نا یہ بات نہیں ہے… شانزے رونے والی ہوئی تھی..
اچھا تو پھر کیا بات ہے.. اریزے چھیڑنے سے باز نہیں آئ تھی..
پتا نہیں اریزے انھیں جب بھی دیکھتی ہوں بارے اپنے اپنے سے لگتے ہیں.. ان کا لہجہ مجھے پاپا جیسا لگتا ہے…
بڑی جانی پہچانی سی خوشبو آتی ہے ان سے… جیسے میں جانتی ہوں انھیں.. شانزے کہتی کیتی سیریس ہو گئی تھی..
اوہ تو بات یہ ہے… اچھا چلو میں تمہیں چھوڑ دوں گی، صبح ساتھ چلیں گئے.. میرا آفس بھی وہیں قریب میں ہے..
یو ارے ریلی گریٹ اریزے شانزے نے اس کے گلے میں باجو ڈالے تھے..
ہاں وہ تو میں بچپن سے ہوں اب سو جاؤ ورنہ… اریزے نے دھمکی دی تھی اور وہ دونوں ہی خاموش ہو گیں تھیں.
اریزے سوگئی تو شانزے کھڑکی میں اکر کھڑی ہو گئی آج بھی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی..
آہستہ آہستہ اس کی سوچیں اس پے حاوی ہوتی جا رہی تھیں…
…………………………….
چلو میں چلتی ہوں.. تم ٹائم سے یونی چلی جانا.. اریزے نے اسے رکشہ میں بیٹھے ہدایت کی تھی.
کیوں تم نہیں آرہی میرے ساتھ..؟؟ شانزے حیران ہوئی تھی..
نہیں بھئی میں لیٹ ہو جاؤں گی… اریزے نے گھڑی دکھاتے کہا تھا..
پلیز نا اریزے تم یہاں تک آئ ہو تو اندر آؤ نا پلیز… ایک دن میرے لئے لیٹ نہیں ہو سکتیں، شانزے نے زد کی تھی.
شانزے تم پاگل ہو.. ہو سکتیں ہوں، پراچھا نہیں لگتا ایسے..
میں جانتی بھی نہیں ہوں انہیں.. اریزے نے منانے کی کوشش کی تھی..
تم مجھے تو جانتی ہونا… شانزے نے منہ بنایا تھا..
اچھا چلو تم نے کبھی مانی ہے کسی کی، اریزے نے سر جھٹکتے رکشہ کو فارغ کیا تھا..
چلو.. اریزے نے شانزے کو دیکھ کر مصنوئی غصے سے کہا تھا..
چلو…شانزے بچوں کی طرح اس سے لپٹی تھی..
…………………………
اسلام وعلیکم… وہ دونوں ایک ساتھ سلام کرتیں اندر آئیں تھیں..
وعلیکم اسلام.. حسین نے بہت خوش ہو کر جواب دیا تھا.. آج وہ جاگ رہے تھے.. جبکہ یوسف کچھ حیران ہوا تھا اس نے نہیں سوچا تھا کہ وہ آج بھی آے گی.. لیکن وہ ہمیشہ اسے حیران کرتی تھی.. وہ جانتا تھا شانزے کے لئے اس کمپیٹیشن کی اہمیت لیکن اس کے باوجود وہ یہاں تھیں ہر چیز سے بے فکر.. یوسف کے کو اس پے ڈھیر سارا پیار آیا تھا، لیکن وہ صرف آنکھوں سے اس کو سراہا پایا تھا…
اب کسی طبیعت ہے آپ کی.. شانزے نے پوچھا تھا، شانزے نے فروٹ ٹیبل پے رکھا تھا جو آتے ہوے لائی تھی..
میں بلکل ٹھیک حسین نے پیار سے جواب دیا تھا.. وہ کیا کہتے اس کو دیکھ کے تو وہ سچ میں ٹھیک ہو گئے تھے..
انکل یہ میری بہن ہیں، اریزے… شانزے ان اتنے احترام سے کہا کہ اریزے کو لگا وہ بے ہوش جائے گی..
بلکل آپ کے جیسی ہیں بہت پیاری.. حسین نے کہا تھا اور وہ دونوں مسکرائیں تھیں..
آپ دونوں کھڑے کیوں ہیں بیٹھ جائیں.. میں چاے لے کے آتا ہوں.یوسف نے کہا تھا.
نہیں یوسف ایٹس اوکے.. بس انکل کو دیکھنے آئ تھی میں چلتی ہوں اب.. آفس سے لیٹ ہو جاؤں گی، اریزے نے کہا تھا..
اریزے.. ڈونٹ وری صرف ١٠ منٹ لگے گیں اور میں آپ کو چھوڑ دوں گا آفس… یوسف نے اس کو تسلی دی تھی..
اریزے کا دل چہ تھا سر پیٹ لے زندگی میں ایک شانزے کام تھی کیا کہ پھر یوسف کو بھی ویسے ہونا تھا..
بیٹا اپ روک جائیں ابھی تو آئ ہیں.. کچھ ڈیر بیٹھتیں حسین نے اتنے پیار سے کہا کے اریزے جو کھڑی ہو گئی تھی واپس بیٹھ گئی تھی.. یوسف چاے لے کر آگیا تھا. وہ لوگ باتوں میں مصروف تھے.. جب کوئی دروازہ کھول کے اندر آیا تھا.
ارے واہ… شانزے آئ ہے، تبھی یہاں محفل جمی ہے… دیکھیں ماما عثمان نے پیچھے آتی ماں کو بولا تھا..
اریزے ٹھٹکی تھی آواز بڑی جانی پہچانی تھی، شانزے اور وہ ایک ساتھ پیچھے پلٹن تھیں..
اور پیچھے کے منظر نے حالت خراب کر دی تھی..
اریزے کی پیچھے کھڑے عثمان نے جبکہ شانزے کی عثمان کے ساتھ کھڑی کلثوم نے شانزے کو چکر آیا تھا..
میم یہاں… شانزے نے بولا تھا.. جبکہ کلثوم حسین کی طرف بڑھیں تھیں.. بھائی جان کیسے ہیں آپ ؟؟
شانزے کو اب ٹھیک تھک جھٹک لگا تھا… شانزے کی تو بولتی بند ہو گئی تھی..
باس یہاں.. اریزے نے بھی عین اس وقت بولا تھا.. مروا دیا نا تم نے باس یہاں ہیں.. اس نے شانزے کو گھورا تھا.
اریزے آپ.. عثمان بھی حیران ہوا تھا…
آپ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں.. یوسف نے پوچھا تھا.
ہاں اریزے میرے آفس میں جاب کرتی ہیں عثمان نے ایک لائن میں خلاصہ کیا تھا..
اوہ – یہ شانزے کی بڑی بہن ہیں یوسف نے انٹروڈکشن کروایا تھا. ماما اور کلثوم دونوں ہی شانزے اور اریزے سے ملی تھیں…
ویسے تم دونوں یہاں کر رہے ہو یونیورسٹی سے چوتھی مل گئی ہے کیا دونوں کو، کیوں پھوپو… عثمان نے پہلے شانزے اور یوسف کو اور پھر کلثوم کو مخاطب کیا تھا.. جبکہ ناظرین اریزے پے روک گیں تھیں.. شانزے کو لگا کسی نے پانی پیھنک دیا اس پے..
بھائی آپ آفس جائیں آج میں ہوں پاپا کے پاس..
کیوں تمہیں تیاری نہیں کرنی..؟؟ آگے کے لئے تمہارا جانا زدہ ضروری ہے،، تم جاؤ میں تمہارے انے پے چلا جاؤں گا..
نہیں بھائی ایٹس اوکے آپ فکر نہیں کریں میں کر لوں گا. یوسف نے دوبارہ مانا کیا تھا..
میرا خیال ہے آپ دونوں ہی جائیں.. میں ہوں اپنے بھائی جان کے پاس کلثوم نے ان کی بحث کو اختتام پذیر کیا تھا.
لیکن پھوپو.. عثمان نے کہنا چاہا تھا..
بس ہو گیا فیصلہ کیوں بھائی جان.. کلثوم نے حسین کو پوچھا تھا اور انہوں نے بہن کی بھر پور حمایت کی تھی.
چلیں ٹھیک ہے پھر شام مے ملتے ہیں یوسف نے کہا تھا اور وہ سب مل ملا کے باہر آگے تھا..
اریزے آپ ایک کام کریں آپ بھائی کے ساتھ چلی جائیں آفٹر آل آپ دونوں کو ایک ہی جگہ جانا ہے. یوسف نے کہا تھا..
کیوں بھائی یوسف نے عثمان کو مخاطب کیا تھا.. اس نے عثمان کی بار بار اریزے پے ٹھہرتی نظر دیکھ لی تھی..
ہاں ٹھیک ہے چلو ہم چلتے ہیں.. عثمان نے کہا تھا. وہ اور اریزے دونوں گاڑی کی طرف پڑ بڑھ گئے تھے..
شانزے اور یوسف دونوں مسکرا رہے تھے.. جب ایک دوسرے پے نظر پڑی کیا ہوا کن ہنس رہے ہو.. شانزے نے پوچھا تھا.. میری مرضی.. یوسف نے الٹا جواب دیا تھا.. اور تم..؟؟ یوسف نے اس سے پوچھا تھا.. میری بھی مرضی..
شانزے بھی الٹی تھی تو جواب سیدھا کیسے اٹھتا وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے تھے.
……………………..
وہ یونیورسٹی پہنچ گئے تھے، بہت سے سٹوڈنٹ سے یوسف سے مل رہے تھے،
اس کے پاپا کی طبیعت پوچھ رہے تھے اس لئے وہ دونوں یہیں لائبریری کی طرف آگے تھے..
وہیں صبا اور سب لوگ بیٹھے تھے.. شانزے اور یوسف کو دیکھ کر سب خوش ہو گئے تھے،
کیوںکہ سب کو لگا تھا وہ آج نہیں آیئں گئے..
سب رسمی باتوں میں مصروف تھے محسن بھی وہیں آگیا تھا..
خیریت بڑی محفل لگی ہے آج تو.. محسن نے پاسس ہی بیٹھتے پوچھا تھا..
آجاؤ آجاؤ.. ویسے بھی آج تم لوگوں کی پھوپی نہیں آئیں ہے.. ذرا نے بات ماری تھی..
وہاٹ… کون پھوپو..؟؟ محسن حیران ہوا تھا..
رانیہ اور کون.. مہک نے چہک کر جواب دیا تھا..
وہ…. محسن نے وہ کو کھنچا تھا..
ہاں بھئی جیسے وہ تم لوگوں پے نظر رکھتی ہے لگتا تو ایسا ہی ہے.. زارا نے پھر سے بولا تھا..
ویسے نام دیا کس نے ہے.. محسن نے پوچھا تھا..
کون دے سکتا ہے..؟؟ زارا نے اشارے سے پوچھا تھا.
اوہ – اچھا… محسن نے ٹھنڈی اہ بھری تھی..
ویسے تم نے بٹیا نہیں کہ میم تمہاری پھوپو ہیں شانزے نے یوسف سے راز داری سے پوچھا تھا..
سب جانتے ہیں شانزے اس میں ایسی کون سی بات ہے..> یوسف حیران ہوا تھا..
اچھا لیکن میں نہیں جانتی تھی.. شانزے نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا..
اب تو پتا چل گیا نا.. یوسف کو عجیب لگا تھا..
ہاں تو تم نے تو نہیں بتایا نا.. شانزے بہت فضول بات کی تھی…
ہاں … تو تم نے کون سا پوچھ لیا… یوسف نے منہ بنایا تھا..
بہرحال تمہیں بتانا چاہیے تھا.. شانزے نے بھی منہ بنایا تھا..
اوکے فائن میں نوٹس بورڈ پے لگوا دوں گا.. یوسف چڑ گیا تھا.
یہ تم دونوں کیا کھسرپھسر لگے ہو.. محسن نے ان دونوں کو ٹوکا تھا جو اپنی ہی دنیا میں مگن تھے.. اور اس کی بر وقت مداخلت سے ان کی بحث کو بھی سکون ملا تھا..
کچھ نہیں تو بتا.. یوسف نے الٹا سوال کیا تھا..
ارے بھئی کیا ڈسایڈ کیا پھر تم لوگوں نے کون پلے کرے گا پوٹری راؤنڈ میں،
صبا نے سب کے سوال جواب کو اگنور کیا تھا،
یار یہ بات میں پوچھنا پہلے سب کیفے ٹیریا چلو.. مہک اور زارا نے ایک ساتھ کہا تھا..
سب کھڑے ہو گئے تھے.. سواے یوسف اور شانزے کے..
شانزےا نے یوسف کو دیکھا تھا وہ خاموش تھا، کون کرے گا میں ہی کروں گی.. لوگوں کے بس کی بات کہاں..
شانزے ہاتھ جھاڑتی کھڑی ہوئی تھی، چلو چلتے ہیں.. شانزے آگے بڑھتی جب اپنے پیچھے آتی یوسف کی آواز نے اس کے قدم روک دے تھے… وہ اس کی طرف قدم قدم بڑھ رہا تھا..
تیری آنکھوں کی نمکین مستیاں…
تیری ہنس کی بےپرواہ گستاخیاں…
تیری زلفوں کی لہراتی انگدیاں
نہیں بھولنگا میں
جب تک ہے جان , جب تک ہے جان… وہ بلکل اس کے سامنے کھڑا تھا..
شانزے کو ایک دم ہنسی آئ تھی… کچھ بھی نہیں..؟؟؟ اس سے زیادہ گھسی ہوئی لائنز نہیں تھیں تمہارے پاس..
شانزے کو اتنی ہنسی آئ تھی کہ با مشکل وہ اپنی بات کر پائی تھی..
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ ،”تو میں تمھارا”
یا اس پہ مبنی کوئی تاثر کوئی اشارہ ،”تومیں تمھارا”
یوسف نے کہنا شروع کیا تھا.. شانزے کی ہنسی کو بریک لگ گیا تھا..
غرور پرور ، انا کا مالک ،کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے
مگر قسم سے جو تم نے اک بھی دفعہ پکارا “تو میں تمھارا”
شانزے آنکھیں پھاڑے یوسف کو دیکھ رہی تھی..
یوسف کے لہجے سے کہیں سے نہیں لگتا تھا کہ اس کو شاعری کا سنس نہیں ہے..
وہ بہت خوبصورت انداز میں بول رہا تھا..
تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو ،میں جیسے چاہوں لگاؤں بازی
اگر میں جیتا تو تم ہو میرے ، اگر میں ہارا ،”تو میں تمھارا”
یوسف بولے جا رہا تھا.. شانزے سمیت باقی سب بھی حیرت سے اس کو دیکھ رہے تھے،
تمھارا عاشق ، تمھارا مخلص ، تمھارا ساتھی ، تمھارا اپنا
رہا نہ ان میں سے کوئی دنیا میں جب تمھارا”تو میں تمھارا”
صبا اور محسن کو لگا تھا وہ اظہار محبت کر رہا ہے… شانزے کو لگا آس پاس کی ہر چیز غائب ہو گئی ہے…
اس کی غزل کا ہر بول دل سے آرہا تھا.. وقت جیسے روک گیا تھا..
تمھارا ہونے کے فیصلے کو میں اپنی قسمت پہ چھوڑتا ہوں
اگر مقدر کا ٹوٹا کوئی کبھی ستارہ “تو میں تمھارا”
یوسف غزل پوری کر چکا تھا لیکن وہاں کھڑا ہر شخص ابھی تک سکتے میں تھا. یوسف نے سب کی شکلیں غور سے دیکھیں تھیں، چلو بھئی کیفے چلتے ہیں.. یوسف نے پیکٹس میں ہاتھ ڈالے تھے اور کیفے کی طرف بڑھ گیا تھا.
………………………………..
وہ کیفے میں بیٹھے اپنی مستیوں میں مگن تھے..
چلو بھائی اب بس کرو کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے.. صبا نے یاد دلایا تھا.. اور وہ سب کھڑی ہو گیں تھیں…
اوہ – ہاں چلو ہم بھی چلتے ہیں ہماری بھی کلاس ہے.. محسن نے ٹائم دیکھتے کہا تھا..
لیکن یوسف ابھی تک بیٹھا تھا کیوںکہ شانزے سیٹ سے سر ٹیکاے سونے میں مصروف تھی..
یوسف چلو… محسن نے آواز دی تھی..
ssshhhh یوسف نے منہ پے انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا.. جب محسن کی نظر شانزے پے پڑی تھی..
اتنے میں صبا، مہک اور زارا بھی آگئیں تھیں، میں اٹھاتی ہوں… شانزے… صبا نے آواز دی تھی..
نا… ٹھیک ہے.. سونے دو… یوسف نے اسے مانا کیا تھا..
لیکن یوسف، کلاس رہ جائے گی.. صبا نے اس کو بولا تھا.
کوئی بات نہیں تم ہو نا.. یقینن تھکی ہوئی ہے اس لئے اتنے شور میں بھی سو رہی ہے،
یوسف نے اتنی محبت سے دیکھا تھا کہ صبا مزید کچھ نہیں کہ سکی تھی…
لیکن یوسف.. محسن نے کچھ کہنا چاہا تھا..
تم لوگ جاؤ میں ہوں یہاں… یوسف نے محسن کو کہا تھا.. وہ سب چلے گئے تھے..
اور یوسف دوبارہ اس کو دیکھنے میں مصروف ہو گیا… مسکراہٹ اس کے لبوں پے ٹھری تھی.. اس نے سر سیٹ سے ٹیک لیا تھا…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: