Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 24

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 24

–**–**–

عثمان نے پورے راستے اریزے سے کوئی بات نہیں کی تھی. اور جب سے وہ آفس آیا تھا، ویسے ہی مصروف تھا..
اریزے کو لگا وہ ناراض ہے اس کے ہسپتال جانے کی وجہ سے، وہ دل ہی دل میں کتنی بار خود کو کوس چکی تھی..
نہ میں شانزے کے کہنے سے جاتی نہ وہاں باس آتے اور نہ مجھے وہاں دیکھتے.. اریزے نے خود ہی قیاس آرائیاں کیں.
اب کیا کروں… مجھے بات کرنی چاہیے.. نہیں میں خود کیسے بات کروں، انھیں بات کرنی چاہیے تھی مجھ سے..
اف… شانزے… کس مصیبت میں ڈال دیا ہے تم نے، اریزے نے دل میں یاد کیا تھا،
وہ خام خہ چیزوں کی جگہ بدل رہی تھی..
عثمان نے وہاں سے گزارتے ہوے جتنی بار بھی اس کو دیکھا وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی.
پہلی دفعہ تو وہ اتفاقاً وہاں سے گزرا تھا. لیکن ایسا کرتے ہوے وہ اس کو اتنی کیوٹ لگی تھی.
کہ وہ پھر اسے دیکھنے آیا تھا. وہ کافی بار اس سے دیکھ کر جا کوکا تھا.
اور ابھی بھی بہت دیر سے اس کو دیکھ رہا تھا… لیکن اریزے کو احساس نہیں ہوا تھا.
وہ اتنی بوکھلائی ہوئی تھی کہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی کرنا کیا ہے…
ابھی بھی وہ فائلز کی جگہ بدل کر ہٹی تھی (جن کی جگہ وہ پہلے کوئی پانچ بار بدل چکی تھی.)
جب سامنے کھڑے عثمان کو دیکھا… آپ یہاں کیسے..؟ ہڑبڑاہٹ میں وہ الٹا ہی بول گئی تھی..
مطلب…؟؟ عثمان کو جھٹکا لگا تھا لیکن فلحال وہ یہ سوچ رہا تھا کے اریزے کو ہوا کیا ہے آخر..
ہاں.. میرا مطلب تھا.. کہ.. ہاں وہ آپ کو کچھ چاہیے تھا.. میرا مطلب ہے کوئی کام تھا.. اریزے کچھ بھی بول رہی تھی..
ہاں کام تو تھا پر… عثمان کہتے کہتے روکا تھا،
پر.. اریزے نے اس کی بات کو پکڑا تھا.
آپ ٹھیک ہیں…؟؟ جی مجھے کیا ہوا ہے میں ٹھیک ہوں… اریزے تاثرات عجیب ہوے تھے..
پھر لنچ کے بعد میٹنگ رکھتے ہیں.. عثمان نے کہا تھا..
کیوں.. اریزے کے منہ سے ایک دم نکلا تھا..
عثمان نے بہت غور سے اسے دیکھا تھا.. پھر آہستہ آواز میں کہا..
اریزے پاپا کی طبیت ٹھیک نہیں ہے، تو ضروری ہے کہ ان کے ساتھ کوئی ہو. یوسف اور شانزے کمپیٹیشن میں پارٹیسپیٹ
کر رہے ہیں یہ تو آپ جانتی ہوں گی نہ..؟؟ تو ایسے میں یوسف کو تو نہیں کہہ سکتا، تو لازمی ہے مجھے وہاں رہنا پڑے گا، ایسے میں آفس آنا کبھی کبھی مشکل ہو سکتا ہے تو میں چاہ رہا تھا کہ پہلے ہی آپ سب لوگوں سے کچھ چیزیں ڈیسکس کر لوں تا کے میری غیر موجودگی میں کوئی مسلہ نہ ہو…
آپ پریشان نا ہوں، انکل جلدی ٹھیک ہو جائیں گئے انشاللہ.. اریزے کو سمجھ نہں آیا تھا کہ وہ کیا کہہ کر تسلی دے…
انشاللہ.. عثمان اپنے روم کی طرف مڑا تھا.
سر.. اریزے نے پیچھے سے پکارا تھا..
جی..؟؟ عثمان نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا…
آئ ایم سوری.. اریزے نے بہت معصومیت سے بولا تھا.
لیکن کیوں…؟؟؟ کس بات کے لئے ؟؟ لیکن عثمان حیران تھا، اس لئے پوچھ بیٹھا.
وہ میں ایسے ہسپتال چلی گئی.. لیکن مجھے پتا نہیں تھا کہ یوسف آپ کا بھائی ہے،
اور وہ آپ کے پاپا.. اریزے نے اپنے پاؤں کو دیکھا تھا…
تو اگر پتا ہوتا تو کیا آپ نہیں جاتیں..؟؟؟ عثمان نے جانے کیوں پوچھا تھا.. اور نا جانے وہ کیا سنا چاہ رہا تھا..
تو پھر میں آپ سے پہلے پوچھ لیتی نا، جاؤں یا نہیں… .. جواب ابھی بھی سادھا سا تھا..
کیوں…؟؟ عثمان کو اس کی بات عجیب لگی تھی..
پتا چل جاتا نا، کہ آپ کو اچھا نہیں لگا… اریزے نے نظریں جھکائی تھیں.
آپ کو کس نے کہا کہ مجھے اچھا نہیں لگا… وہ ابھی حیران تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بولنا چاہ رہی ہے..
اس کا مطلب آپ کو برا نہیں لگا.. اریزے نے تصدیق کی تھی..
نہیں.. عثمان نے تیزی سے جواب دیا تھا وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ کیا سوچ رہی ہے..
شکر میں تو ڈر گئی تھی.. اریزے نے ٹیبل پے رکھے گلاس میں سے پانی پیا تھا..
عثمان کو ہنسی آئ تھی اس کی حالت پے، لیکن فلحال ہنسنا مناسب نہیں تھا..
ویسے اچھا ہوا آپ سب سے ملیں.. عثمان نے مسکراہٹ دبا کر کہا تھا..
جی…؟؟ اریزے اس کا مطلب نہیں سمجھی تھی.. لیکن عثمان اپنے روم کی طرف بڑھا تھا..
ویسے آپ چاہیں تو دوبارہ بھی جا سکتیں ہیں.. عثمان نے مڑ کر کہا تھا، اور پھر اپنے روم میں چلا گیا تھا.
جبکہ اریزے اس کی بات پے حیران ہوئی تھی.
………………………………..
شانزے کی آنکھ کھلی تو، یوسف اس کو ہی دیکھ رہا تھا، وہ ہڑبڑا کے سیدھی ہوئی تھی.
جبکہ یوسف کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا.. اس لئے اپنی نظروں کو ڈایا میٹر چینج کر لیا تھا.
سب کہاں گئے..؟؟ شانزے نے خود کو نارمل رکھتے بولا تھا.
کلاس لینے.. جواب کافی سیدھا سا تھا.
شٹ… میری کلاس تھی… شانزے نے بیگ اٹھایا تھا،
بیٹھی رہو، اب تو ختم ہونے والی ہے.. یوسف نے فون کی ڈیسپلے لائٹ اون کی تھی تا کے وہ ٹائم دیکھ لے..
تم نہیں گئے..؟؟ شانزے نے جان بوجھ کر پوچھا تھا. اسے یوسف کا اس کے لئے روکنا اچھا لگا تھا.
نہیں.. جواب اب بھی سادھا تھا.
کیوں ؟ پھر سوال کیا تھا..
کیوں کہ میں جاننا چاہ رہا تھا کہ تم سوتے میں خراٹے تو نہیں لیتیں.. یوسف مسکرایا تھا..
سوری.. شانزے نے پہلی بار اس کی بات پے ریکٹ نہیں کیا تھا..
کس لئے.. میری وجہ سے تمہاری کلاس رہ گئی.. شانزے کی آنکھوں میں افسوس تھا..
کوئی بات نہیں کم سے کم بات تو کلیر ہو گئی نا.. یوسف نے شرارتی انداز میں کہا تھا.
کون سی بات ؟ شانزے حیران تھی..
یہی کہ تم خراٹے نہیں لیتیں.. اب کی بار وہ دونوں ہنس پڑے تھے.
چلو… یوسف کھڑا ہوا تھا.
کہاں ؟؟ شانزے نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا.
چاند کے پار.. یوسف نے اپنے تمام تر جذبات یکجا کر کے بڑے خوبصورت انداز میں کہا تھا..
مطلب.. لیکن شانزے کے پلے کچھ نہ پڑا تھا..
سر مستنصر کے پاسس تمہارا نام دینے.. یوسف نے افسوس سے دیکھا تھا اور آگے بڑھا تھا اور شانزے اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی تھی.
……………………………….
سر شانزے کی ٹیم میں سے نیکسٹ راؤنڈ میں شانزے پرفارم کرے گی. یوسف نے سر مستنصر سے کہا تھا.
شانزے کو عجیب لگا تھا کوئی بات تھی جو اس کو کھٹکی تھی لیکن کیا یہ سمجھ نہیں آیا تھا.
ٹھیک ہے مجھے اندازہ تھا، سر مستنصر نے کہا تھا.
تو اجازت ہے پھر سر.. یوسف کھڑا ہوا تھا.
بلکل.. یوسف نے سر سے ہاتھ ملایا تھا..
اب تمہارے والد صاحب کیسے ہیں.. سر مستنصر نے اچانک اس سے پوچھا تھا.
شکر ہے الله کا اب ٹھیک ہیں. یوسف نے مختصر جواب دیا تھا.
تو پھر میرا خیال ہے ایک بار تم پھر اپنے فیصلے پے غور کرو.. سر مستنصر کافی سنجیدہ تھے.
جی سر.. یوسف نے بات ختم کی تھی، وہ کس بارے میں بات کر رہے ہیں وہ اچھی طرح جانتا تھا.
وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس وقت شانزے کے سامنے کوئی بات ہو.کیونکہ شانزے سے وہ خود بات کرنا چاہ رہا تھا.
یہ وجہ تھی کے اس نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا ابھی. سر مستنصر کو بھی شاید کلثوم نے بتایا تھا.
یہ سر کیا کہہ رہے تھے.. کون سا فیصلہ یوسف.. شانزے نے باہر نکلتے ہی سب سے پہلی بات یہی پوچھی تھی. وہ اندر ہونے والی باتوں سے پریشان تھی، وہ کیا کہ رہے تھے سمجھ نہیں پائی تھی.
لیکن کچھ غلط ہے اس کا اندازہ اسے ہورہا تھا..
کچھ خاص نہیں شانزے… یوسف نے بات بنائی تھی..
اچھا تو پھر مجھے کیوں لگ رہا ہی جیسے کوئی بات مجھ سے چھپائی جا رہی ہے.. شانزے نے اس کا راستہ روکا تھا.
ایسی کوئی بات نہیں ہے، تم زیادہ سوچ رہی ہو.. فالحال اپنی توجہ اپنے مقصد پے رکھو.
وہ مزید کچھ کہتا اس سے پہلے ہی اس کا فون بجنے لگا تھا.
یوسف نے اپنا دیکھا تھا سکرین پے اننون نمبر چمک رہا تھا.
اسلام وعلیکم. یوسف نے کال ریسیو کی تھی.
وعلیکم اسلام. دوسری طرف سے نسوانی آواز ابھری تھی.
جی کون میں نے پہچانا نہیں آپ کو.. یوسف کے ماتھے پے بل پڑے تھے..
ارے اتنی جلدی بھول گئے آپ، ابھی تو ہماری دوستی قبول کی ہے آپ نے.. بڑے انداز سے بولا گیا تھا..
دیکھیں مس.. میں اس طرح فضول کے معملات سے پرہیز کرتا ہوں تو بہتر ہو گا کہ اپ سیدھی طرح بتائیں کہ کون ہیں..
ورنہ… یوسف کہتا کہتا روک گیا تھا..
ورنہ کیا… دوسری طرف بھی کوئی ڈھیٹ تھی..
ورنہ میرا فون میری مرضی.. یوسف چڑ گیا تھا..
ارے ارے غصہ کیوں کرتے ہیں، میں عنیقہ ہوں فیس بک پے ریکویسٹ دی تھی اپ کو.. یاد آیا..؟ دھمکی نے اثر کیا تھا، تبھی عنیقہ نے فورن ہی بولنا شروع کیا تھا.
اوہ اچھا آپ ہیں.. یوسف کے تنے ہوے اعصاب ڈھیلے پڑے تھے..
شکر آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا، عنیقہ نے بھر پور ڈرنے کی ایکٹنگ کی تھی..
چلیں پھر بات ہو گی آپ سے.. یوسف نے ایک دو رسمی باتوں کے بعد کہا تھا..
مجھے لگتا ہے بات نہیں ملاقات ہونی چاہیے.. یوسف نے بےاختیار شانزے کی طرف دیکھا تھا،
کتنا فرق تھا اس میں اور عنیقہ میں. ٹھیک ہے ضرور.. یوسف نے فون بند کر دیا تھا.
کس کا فون تھا.. شانزے کے ماتھے میں اب کی بار بل تھے..
تمہاری کزن کا.. یوسف نے شرارتی انداز میں ہنسا تھا.. وہ دونوں لائبریری کی طرف جا رہے تھے..
بکو مت ٹھیک ٹھیک بتاؤ.. شانزے نے اس کے بازو پے ہاتھ میں پکڑا پین مارا تھا.
ارے سچ کہہ رہا ہوں… یوسف نے پھر سے کہا تھا..
سیدھا سیدھا بولو تمہاری پھوپو کی بیٹی تھی… شانزے نے چڑانے کی ناکام کوشش کی تھی.
میری پھوپو کی بیٹی مجھے فون نہیں کرتی.. یوسف نے اطمینان سے جواب دیا تھا.
کیوں ؟؟ شانزے نے حیرت سے اس کا منہ دیکھا تھا.
کیوںکہ میں اس سے روز مل جو لیتا ہوں..
اب کی بار کیا گیا حملہ کافی حد تک کامیاب تھا، یہ بات شانزے کا منہ بتانے کے لئے کافی تھا..
یوسف نے کنکھیوں سے اس کو دیکھا تھا، اور پھر من ہی من مسکراتا چلتا گیا..
……………………………………..
یوسف اور شانزے اب پرسوں کی تیاری میں مصروف تھے..
یوسف اسے ایک ایک چیز بچوں کی طرح سمجھا رہا تھا..شانزے یاد رکھنا دو راؤنڈ ہوں گئے.
پہلا – سٹارٹ فرام لاسٹ، یعنی شعر ختم ہونے پر جو آخری لفظ آے گا اس سے شعرشروع کرنا ہو گا.
جیسے بچپن میں تم نے کبھی گانوں والا کھیل کھلا ہو گا ویسا.
ایگزیکٹیلی میں ابھی کہہ نہیں سکتا کہ یہ بزر راؤنڈ ہو گا یا پھر ٹائم بانڈ.
لیکن ہاں !! تمہیں مکسیمم پائنٹ یہاں سے گین کرنے ہیں،
کیونکہ نیکسٹ راؤنڈ میں ویزول ہو گا، مے بی کوئی کلپ ہو… کوئی سچویشن… یا پھر کوئی چیز ہو..
اور اس سے ریلٹڈ شعر ہو گا جو تمہیں اون دا سپاٹ بتانا ہو گا.
لیکن اگر میرا اندازہ سہی ہے تو اس بار اس میں کچھ نیا ہونے کے چانس کافی ہیں،
لیکن کیا یہ مجھے ٹھیک سے اندازہ نہیں ہے..
یوسف نے اپنی بات ختم کی تو شانزے کو دیکھ کر حیران رہ گیا،
وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اس کو دیکھ رہی تھی.. کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو..؟؟
تمہیں کیسے پتا یہ سب ہو گا..؟؟ شانزے حیران ہوئی تھی.
اس کو لگا وہ ضرور جانتا ہے سب. یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی نے اس کو کوئی فیوور دی ہو،
آخر وہ میم کلثوم کا بھتیجا تھا ، لیکن میم پے یا سر پہ شک کرنا تو وہ کبھی سوچ بھی نہں سکتی تھی.
اسے یاد تھا شروع میں جب شانزے اور یوسف کی لڑائیاں ہوتیں تھیں تو انہوں نے کبھی یوسف کو سپورٹ نہیں کیا…
اسٹاپ… پلیز اپنی سوچ کے گھوڑے کو لگام دو.. کچھ غلط مت سوچنا… یہ میرا اندازہ ہے.
میں، میم اور سر کو بہت اچھے سے جانتا ہوں بس اس کے بی ہاف پے میں نے یہ اندازہ لگایا ہے،
اور ویسے بھی میں ہر سال اس کمپیٹیشن میں شامل ہوتا رہا ہوں اور جیتا بھی رہا ہوں.. سمجھیں…
یوسف نے اس کو اتنے اطمینان سے سمجھایا تھا. کچھ پل کے لئے تو شانزے کو لگا کہ وہ اس کا دماغ پڑھ رہا ہے..
اور ایسا ہے تو یہ تو بہت خطرناک ہے. اس لئے شانزے نے بات بدلی تھی.
مجھے لگتا ہے میں ہار جاؤں گی؟؟ شانزے نے اپنے دل کی بات کہی تھی اس کی آنکھوں میں خوف تھا
اور یوسف کو لگا یہ خوف اس کی جان لے گا..
ٹاپ ٹین ٹیمز ہیں.. سب ایک سے بڑھ کے ایک، پہلے میری وجہ سے پوزیسشن خراب ہوئی ہے..
شانزے نے اب بک میں دیکھنے لگی تھی.. یوسف نے اس کا منہ اوپر کیا تھا.
شانزے ایک بات یاد رکھنا لوگ ان کو یاد رکھتے ہیں جو جیت جاتے ہیں. ہارنے والوں کو دنیا کبھی یاد نہیں کرتی،
یہ معنئ نہیں رکھتا کہ جیتنے کے لئے آپ کو کتنی بار ہارنا پڑا ہے. کتنی مشکلیں راستے میں آئ ہیں.
معنئ یہ رکھتا ہے کے آپ نے کوشش کتنی بار کی..
جب تم جیت جاؤ گی تو کسی کو یاد بھی نہیں رہی گا کے پوزیشن خراب ہوئی تھی یا نہیں.. یوسف نے سمجھایا تھا..
تم جیت جاؤ گی سے کیا مطلب ہے..؟؟ شانزے نے اس کے الفاظ دھوراے تھے.
آ.. میرا مطلب تھا کہ… اگلا راؤنڈ تم کھیل رہی ہوں نہ اس لئے کہ دیا.. یوسف نے دنیا کا سب سے آسان بہانہ بنایا تھا.
جو بھی ہے.. پر اگر جیتیں گے تو ہم.. شانزے اس کو ناراضگی سے دیکھا تھا.
اچھا اب تیاری کرو.. ابھی بہت تیاری کرنی ہے.. یوسف نے اس کی نوٹ بک میں کچھ لکھنا سٹارٹ کیا تھا..
شانزے بہت غور سے دیکھ رہی تھی.. اس کی رایٹنگ بہت خوبصورت تھی. کوئی کام ایسا ہے جو اس کا اچھا نہیں ہے،
اس نے دل میں سوچا تھا.
forget your fears,
stay focused
look forward, belive in your self,
and just do it..
then you must be win…
yousf
تمہیں جب بھی لگے کہ تم ڈر رہی ہو… تو اس کو پڑھ لینا میرا خیال ہے تمہیں ڈر نہیں لگے گا.
یوسف نے نوٹ بک واپس کی تھی..
شانزے نے بہت محبت سے اس کے نام پے ہاتھ پہرا تھا.. اور وہ جانتی تھی کہ یوسف نے دیکھا لیا ہو گا.
اپنی غلطی کا احساس اسے ہوا تھا اس لئے فورن بات بنا کر بولی تھی.. یہ کیا اپنا نام کیوں لکھا..؟؟
اس لئے کے یہ یوسف دی گریٹ نے کہا ہے.. اس نے پین شانزے کے سر پے ہلکا مارا تھا…
اوہ – تو اب لوگ آپ کے اقوال زریں بھی پڑھیں گئے.. شانزے نے داد دی تھی..
نہیں یہ دنیا محروم رہ جائے گی، کیوںکہ یہ صرف تمہارے لئے ہے..
یوسف کی آنکھوں میں محبت کے جگنو چمکے تھے..
شانزے کچھ دیر دیکھتی رہی تھی. لیکن اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا اب اس کے بس کی بات نہیں رہی تھی..
اس لئے اس نے دوبارہ نوٹ بک میں دیکھا تھا، یوسف کو اس شرمانا بہت اچھا لگتا تھا.
اس نے نہیں سوچا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ شانزے جس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سامنے والے کو لتاڑ دینے کی عادت اسے پسند آئ تھی وہ ایسے اس سے نظرین چرا بھی سکتی ہے..
کتنے پل آے اور اکر خاموشی سے گزر گئے ، دونوں کے پاسس شاید الفاظ نہیں تھے.
اس لئے ان کا اقرار ہمیشہ خاموشی میں ہی ہوتا تھا بغیر لفظوں کے یا شاید لفظوں کی ضرورت انھیں تھی نہیں..
اور بھی جانے کتنے پل گزتے لیکن تبھی وہاں محسن سمیت شانزے کا پورا گروپ آگیا تھا..
کیا ہوا بھئی کہاں گم ہو دونوں مہک نے دورسے ہی بولا تھا..
کہیں نہیں بس پرسوں کے بارے میں ہی سوچ رہے ہیں.. جواب یوسف نے دیا تھا کیونکہ شانزے گڑبڑا گئی تھی…
شاباش سوچو سوچو.. ذارا نے دونوں کو اپریشیٹ کیا تھا.
تم سب لوگ کہاں ؟؟؟ یوسف نے سب کو ساتھ دیکھ کر پوچھا تھا.
کہاں سے کیا مطلب ہے میرے بھائی، پڑھنے لکھنے والے لوگ ہیں کلاس لے کر آے ہیں.. سونے نہیں آتے
محسن نے سیدھا سیدھا حملہ کیا تھا.
اگر آپ شرمندہ کرنے کا ارادھ رکھتے ہیں. تو آپ کو جان کر دکھ ہو گا،
کہ آپ کے ان جملے بازیوں سے مجھے کوئی فرق نہں پڑتا.. شانزے نے ہنس کے جواب دیا تھا..
محسن اپنا سا منہ لے کر رہ گیا تھا اور باقی سب اس کا مذاق اڑنے لگے تھے..
شور کی آواز سن کر لائبریرین وہاں آگئیں تھیں اور انہوں نے سب کو باہر جانے کا کہہ دیا تھا.
چلو ایسا کرتے ہیں کیفے چلتے ہیں.. صبا نے مشورہ دیا تھا..
ہاں.. ہاں.. ٹھیک ہے.. کچھ کها بھی لیں گئے، مہک نے فورن بولا تھا..
تم نے صبح فرائز اورسموسہ کھایا ہے.. صبا سچ میں حیران ہوئی تھی.
ہاں تو.. وہ صبح کی بات تھی اب مجھے پھر سے بھوک لگ گئی ہے..
پھر فرائز تو مجھے شانزے کی وجہ سے کھانے پڑے تھے کیوں کہ وہ سو جو گئی تھی..
اور ویسے کلاس لے کر میری انرجی کافی ویسٹ ہوئی ہے. مہک نے بڑا تسلی بخش جواب دیا تھا.
صبا سمیت سب اس کی بات پھر سے ہنسنے لگے تھے..
شانزے یوسف… تم لوگ چل رہے ہو..
نہیں… اصل میں ابھی کافی تیاری رہتی ہے.. اور وقت بھی کم ہے شانزے نے انکار کیا تو وہ سب لوگ چلے گئے تھے..
تمہیں جانا چاہیے تھا. کچھ کها لو جا کر.. یوسف کو فکر ہوئی تھی..
نہیں مجھے سچ میں بھوک نہیں ہے.. شانزے نے اسے اطمینان دلانے کی کوشش کی تھی.
پکا…؟؟؟ یوسف نے بچوں کی طرح پوچھا تھا..
پکا.. شانزے نے مسکرا کے جواب دیا تھا اور وہ دونو پھر سے تیاری کرنے لگے تھے..
…………………………………
لنچ کے بعد، جیسے کہ عثمان نے کہا تھا میٹنگ شروع کر دی گئی تھی.
عثمان بڑی مہارت سے سب کو ساری چیزیں سمجھا رہا تھا، سب کو ان کے کاموں کی ڈیٹیل دے رہا تھا.
اور کون اسے کیسے رپورٹ کرے گا یہ بھی اس نے بتا دیا تھا.
اریزے کو حیرت ہوئی اس نے اتنی پریشانی میں بھی سب بہت اچھے سے پلان کیا تھا.
وہ سچ میں اچھا بزنس مین ہے. اریزے نے دل میں داد دی تھی.
تقریباً سب ہی چیزوں پے بات ہو چکی تھی آنے والی میٹنگز سے لے کر کمپنی کی نیا پالیسی تک پے..
تم نے ایگزبیشن کے بارے میں کیا سوچا… عمیر نے پوچھا تو سب کی توجہ اس طرف آئ تھی.
میں چاہتا ہوں کے یہ ایگزبیشن ہمارے حق میں کامیاب ثابت ہو، کیونکہ اس سے کمپنی کو بہت فائدہ ہونے والا ہے.
لیکن میں اس ٹرپ کے لئے نہیں جا سکتا آپ سب جانتے ہیں میرے پاپا کی طبیعت کہ بارے میں..
اس لئے میں چاہتا ہوں کے یہ ٹریپ عمیر اور عظیم کریں.. عثمان نے دونوں کو میٹنگ میں کہا تھا.
اریزے سمیت باقی سب لوگ بھی حیران رہ گئے تھے، کیوں عثمان کے اس فیصلے کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا.
سر آپ کی بات ٹھیک ہے.. معذرت کے ساتھ لیکن یوسف صاحب ہیں، وہ بھی تو حسین صاحب کے ساتھ روک سکتے ہیں.
جمیل صاحب جو کمپنی ایڈووکیٹ اور اڈوایز کی حثیت رکھتے تھے چپ نہ رہ سکے..
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں جمیل صاحب لیکن یوسف پہلے سے اسکولرشپ کے کمپیٹیشن میں مصروف ہے اور میں اسے فلحال اس ذمداری میں نہیں الجھا سکتا..
لیکن عثمان اسے کیا ضرورت ہے… جمیل صاحب کو سچ میں سمجھ نہیں آیا تھا،
جمیل صاحب بات ضرورت کی نہیں ہے.. یوسف کے ساتھ ایک اور سٹوڈنٹ بھی ہیں، وہ ایز ٹیم پرفارم کرنے والے ہیں.
اور میں نہیں چاہتا کے کسی کا نقصان ہو میری وجہ سے..
لیکن عثمان کمپنی کا نقصان… جمیل صاحب کی بات بیچ میں رہ گئی تھی.. عمیر نے انھیں اشارہ کیا تھا.
جمیل صاحب میرا خیال عثمان نے فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہو گا. میں اس سے بچپن سے جانتا ہوں، فیملی اس کے لئے ہمیشہ پہلے رہی ہے. آپ فکر نہ کریں اس نے ضرور کچھ سوچ کر کہا ہے. عمیر نے جمیل صاحب کو تسلی دی.
سر یہ میرے لئے باعث فخر بات ہے لیکن میں آپ کی جگہ کیسے جا سکتا ہوں..
ویسے بھی آپ نے اس کے لئے کافی محنت کی ہے.. تو پھر جانا بھی آپ کو چاہیے. عظیم نے عثمان کو سمجھانا چاہ تھا.
میرا خیال ہے عظیم یہ ایک اچھا موقع ہے تمہارے پاسس اپنی قابلیت منوانے کا، عثمان کچھ دیر خاموش ہو کر بولے تھے..
اور باقی سب خاموش ہو گے تھے، کیوں سب جانتے تھے کے کسی کی بھی کنوینسنگ پاور عثمان سے زیادہ نہ تھی.
…………………………………
شانزے کافی دیر سے ایک ہی ڈاریکشن میں دیکھ رہی تھی. ایک دو بار یوسف نے نظرانداز کیا تھا. لیکن جب رہا نہ گیا تو پوچھ لیا. کیا ہوا ؟؟ کیا سوچ رہی ہوں..؟؟
پتا نہں مجھے کیا ہو رہا ہے، شانزے کے چہرے پی پریشانی تھی..
تم بہت زیادہ سوچ رہی ہو تم صرف اپنے بارے میں سوچو بھول جاؤ باقی سب کو. شانزے اپنے آپ پر یقین رکھو.
یوسف نے کمال تحمل کا مظاہرہ کیا تھا.
اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کے شانزے اس پے ڈیپنڈ کر رہی ہے. جو غلط ہے اسے نہیں پتا تھا کہ ایسا کب ہوا . ہاں لیکن دکھ ہوا تھا. اس کی اپنی ایک پہچان تھی، ایسے تو وہ اسے کھو دے گی. شانزے کا اس کے بغیر یہ روند جیتنا بہت ضروری تھا ورنہ وہ ہمیشہ اسی احساس میں دب جائے گی..
ہاں بھی… تم لوگوں نے کیا پلان کیا پھر..؟؟
سپورٹس راؤنڈ میں کون جا رہا ہے.. صبا نے پوچھا تھا.
لازمی بات ہے.. یوسف اور کون.. شانزے تو پہلے ہی اگلے راؤنڈ میں کھیلے گی تو پھر یوسف بچا نہ…؟؟؟
مہک نے آرام سے جواب دیا تھا.. (لیکن یوسف اور محسن نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا. یوسف نے نظریں جھکا لیں تھی. جس کا مطلب صاف تھا کہ ابھی تک اس نے شانزے سے کوئی بات نہیں کی تھی..)
OMG – مہک یو آر گو جینیس.. صبا نے بیوقوف ہونے کا ٹھیک تھک مظاہرہ کیا تھا.
چلو بھئی میرا خیال ہے گھر چلنا چاہیے کافی وقت ہو گیا ہے.. زارا کھڑی ہوئی تو مہک بھی کھڑی ہو گئی تھی.
شانزے اور صبا نے بھی ایک ساتھ گھڑی دیکھی جو اس وقت ٦ بجا رہی تھی، موسم سرما کی آمد تھی کچھ دیرمیں ہی مغرب ہو جاتی اور پھر اندیھرا بھی،
اف – وقت پتا ہی نہیں چلا آج تو.. شانزے کچھ پریشان ہوئی تھی.
ہاں یہ تو ہے. چلو نکلتے ہیں، صبا نے آخر کار بول ہی دیا تھا.
سب باتیں کرتے اپنے اپنے راستے کی طرف بڑھ گئے تھے.
شانزے… ایک منٹ روکو.. یوسف نے آواز دی تھی..
ہاں.. شانزے پلٹی تھی.. جب کہ صبا باقی سب کے ساتھ اگے بڑھ گئی تھی وہ جانتی ہے اب یوسف کیا کہنے والا ہے.
چلو میں چھوڑ دیتا ہوں.. یوسف نے پارکنگ کا رخ کیا تھا.
نہیں یوسف.. میں چلی جاؤں گی.. روز روز ایسے اچھا نہیں لگتا کہ تم پریشان ہو. شانزے کچھ شرمندہ سے ہوئی تھی.
اوہ – آئ سی… ہو گیا تمہارا ؟؟ اب چلیں.. ویسے بھی میں نے پوچھا نہیں ہے تم سے… یوسف اس کی طرف بڑھا تھا.
اوکے چلو.. شانزے جانتی تھی کہ اب وہ کیا کرنے والا ہی تبھی جلدی سے بولی تھی.
یوسف کو ہنسی آئ تھی کیوں کے اس نے بھی یہی کرنا تھا..
…………………………..
ایک بات یاد رکھنا کے جو بھی شعر تم بولو اس کو تم اون کرو ایسا نہ ہو کے بس بول رہی ہو اس کی گہری تمہاری سمجھ سے باہر ہو. تمہارا لہجہ ہی اس شعار میں میں روح ڈالے گا. یوسف اسے ابھی بھی پروگرام کے حوالے سے سمجھا رہا تھا. شانزے نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا اس لئے اس کو اب بھوک لگ رہی تھی لیکن شرمندگی سے وہ یوسف کو بول نہیں پارہی تھی. اس لئے بیگ میں سے بسکٹ نکلے تھے.
لو.. اس نے یوسف کو اوفر کیا تھا.
یوسف نے غور سے اس کے ہاتھ میں پکڑا بسکٹ کا چھوٹا سا پیکٹ دیکھا تھا،
جس میں گنتی کے چار بسکٹ تھے لیکن پھر بھی وہ اسے پوچھ رہی تی.
وہ ہر لمحے اسے ایسے ہی حیران کرتی تھی.
اور پھر ایک بسکٹ اس نے تھنکس کہہ کرلے لیا تھا.
جبکہ شانزے اس کے میوزک سسٹم سے اس کی پلےلسٹ دیکھنے میں مصروف تھی..
مسکراہٹ یوسف کے چہرے پے بکھری تھی. اس نے پیٹرول پمپ پے گاڑی روکی تھی.
تم ویٹ کرو میں آتا ہوں یوسف نے روانی سے کہا تھا..
پلیز بند مت کرنا مجھے سونگ سنے ہیں، شانزے نے اس کو روکا تھا
اوکے… گاڑی سائیڈ میں لگا کر وہ چلا گیا تھا.
شانزے نے اپنے مرضی کا سونگ سلیکٹ کر کے آرام سے اپنے آپ میں مگن تھی. جب یوسف گاڑی میں اکر بیٹھا تھا.
اس نے شانزے کی طرف سینڈوچ اور کوفی بڑھائی تھی.. شانزے کچھ شرمندہ ہوئی تھی..
اس کی ضرورت نہیں تھی. شانزے نے پکڑتے ہوے کہا تھا.
جانتا ہوں تمہیں نہیں ہے.. پر مجھے تو ہے نہ بھوک لگ رہی تھی یار یوسف نے جان بوجھ کر کہا تھا. وہ شانزے کو شرمندہ ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا. شانزے اب کوفی کے سپ لے رہی تھی..
بیک گراؤنڈ میں ارجیت کی آواز ابھری تھی.
ہم تیرے بن اب رہ نہیں سکتے
تیرے بنا کیا وجود میرا
تجھسے جدا گر ہو جاینگے
تو خود سے ہی ہو جاینگے جدا….. یوسف نے شانزے کی طرف دیکھا تھا جو سیٹ پے دونوں پاؤں اوپر کر کے بیک سیٹ سے سر ٹیکا کربیٹھی تھی، مسکراہٹ یوسف کے لبوں پے بکھری تھی… آواز پھر آنے لگی تھی..
کیونکہ تم ہی ہو…
اب تم ہی ہو…
زندگی اب تم ہی ہو…
چین بھی, میرا درد بھی….
میری عاشقی اب تم ہی ہو.. یوسف نے اپنے جذبات پے قابو رکھنے کے لئے سر جھٹکا تھا….
…………………………………..
شانزے آتے ہی صوفے پے گری تھی، خلاف توقع سب پہلے سے یہاں موجود تھے.
خیر تو ہے سب یہاں ؟؟ شانزے کو بات کچھ عجیب لگی،
ورنہ اس وقت زیادہ تر سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوتے تھے.
تو پھر ضرور کوئی خاص بات تھی جو سب ہال میں نظر آرہے تھے.
ہاں ابھی تک تو خیر تھی، کیونکہ تم نہیں تھیں، اب آگے کا کہہ نہیں سکتے.. وجی نے اس کے برا بر میں بیٹھ کر کہا تھا..
ویسے تم بتاؤ کون سا پہاڑ توڑ کر آئی ہو.. وجی نے اسے اکسایا تھا وہ خود بھر پور چارج تھا..
میرے پہاڑ کی فکر چھوڑیں اپنا بتائیں… لگتا ہے فون والی سے مل کے ارہے ہیں.. شانزے نے حساب برابر کیا تھا..
وجی نے پانی کا گھونٹ بھرا ہی تھا جو فوارے کی شکل میں باہر آگیا تھا..
کیا کہ رہی ہے بہن…؟؟ جبکہ تائی جان نے وجی کو گھور کر پوچھا تھا..
امی آپ بھی کس کی باتوں میں آرہی ہیں ایسے ہی کہتی ہے پاگل.. وجی نے بہلایا تھا..
پاگل…؟؟ شانزے نے آہستہ سے پوچھا تھا..
پلیز نہ میری پیاری بہن نہں ہے.. وجی نے منت کی تھی.
وہ جانتا تھا کہ شانزے اس کے اور اس کی کال والی کے بارے میں جانتی ہے، اس لئے کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا.
پھر آئس کریم شانزے نے اپنا مطالبہ رکھا تھا..
ڈن.. وجی نے ایک منٹ لہے بغیر اس کی بات مان لی تھی..
ارے تم دونوں کیا کھسر پھسر کرنے لگے..؟؟ تائی جان سے پوچھے بنا رہا نہیں گیا.
کچھ نہں امی بس یونہی.. وجی نے نہ بتانے میں عافیت جانی تھی.
تو پیچھا چھوڑو بہن کا کیوں دماغ کها رہے ہو ابھی بیچاری تھکی ہاری آئ ہے..
تائی جان کی پھول برساتی باتوں نے سب کو حیران کیا تھا..
یہ سورج کہاں سے نکل رہا ہے آج کل.. وجی نے شانزے کے قریب ہو کے آہستہ سے پوچھا تھا..
لیکن تائی جان کی باریک نظر سے بچ نہیں پایا تھا تبھی انہوں نے اپنی فلائنگ چپل کا استعمال کیا تھا،
جسے بروقت وجی نے کیچ کیا تھا.کیا امی آپ بھی کمال کرتی ہے یہ کوئی عمر ہے کیچ کیچ کھیلنے کی..
وجی میرا دماغ نہ خراب کر دیکھ بہت ہو گیا.. تائی نے دوسری چپل کی طرف اشارہ کیا تھا.
وجی بھائی جائیں نہ اب.. تائی جان زیادہ جذباتی ہوتی اس سے پہلے ہی شانزے نے وجی کو آئس کریم یاد دلائی تھی..
اچھا بھی.. وجی باہر کی طرف بڑھے تھے..
جبکہ اریزے نے اسے چاے کا کپ پکڑایا تھا..
یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟؟؟ شانزے نے اس سے پوچھا تھا.. تائی جان اور می جانی کے بڑے پلان بن رہے ہیں..
ہاں وہ پھوپو آرہی ہیں نہ.. اریزے نے گویا دھماکہ کیا تھا..
ہیں کیوں..؟؟ شانزے جذبات میں بول گئی تھی.. لیکن سب کے دیکھنے پر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا.
میرا مطلب ہے کب.. شانزے نے بات کو کوور کرنے کے لئے پوچھا تھا..
پرسوں.. شام تک آجائیں گی.. اپنے ایک عدد بیٹے کے ساتھ عنیقہ نے تفصیل بتائی تھی.
تبھی عنیقہ کا فون بجا تھا.. سکرین پے یوسف کا نام چمک رہا تھا اور ساتھ میں عنیقہ کا چہرہ بھی..
وہ معذرت کرتی ان کے بیچ سے اٹھ گئی تھی.. جو شاید تائی جان کے علاوہ کسی نے نوٹ نہیں کیا تھا،
جبھی وہ فورن اس کے پیچھے گیں تھیں..
چلو بھی میرا خیال ہے اب کھانا کھاتے ہیں، حسان کہتے اٹھ گئے تھے اور محفل برخواست ہو گئی.
……………………………..
کیا ہوا تھا کیا کہ رہا تھا.. تائی جان نے عنیقہ کو فون بند کرتے دیکھ پوچھا تھا..
کچھ نہیں امی کچھ خاص نہیں… عنیقہ نے منہ بنا کر بولا تھا..
ارے کیا مطلب ہے تمہارا آدھا گھنٹہ بات کی ہے تم نے.. تائی جان حیران تھیں.
اوہ – کہہ تو رہی ہوں کچھ نہیں اب آپ سے جھوٹ بولوں گی کیا…؟؟ عنیقہ کچھ چیڑی ہوئی تھی.
ارے میری بچی کیوں منہ بنا رہی ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے تو بہت خوش تھی.. تائی جان نے پیار کیا تھا.
امی وہ بات تو مجھ سے کر رہا تھا، لیکن صرف شانزے کے بارے میں.. عنیقہ غصہ ہوئی تھی..
ارے تو کیا ہوا ایک ساتھ پڑھتے ہیں اور پھر شانزے کی وجہ سے ہی تو یوسف سے مل پایئں ہیں.. انہوں نے سمجھایا تھا.
وہ تو ٹھیک ہے.. پر مجھے اچھا نہیں لگتا جب وہ شانزے کے بارے میں بات کرتا ہے.. عنیقہ بھی زد کی پکی تھی.
تم فکر نہ کرو ایک بار تم دونوں ایک دوسرے کو سمجھ لو تو پھر سارے مسلے حل ہو جائیں گئے.. انہوں نے نیا راستہ دیا.
ہاں میں نے بولا ہے اسے ملنے کا میں چاہتی ہوں جلد از جلد ہمارا ملنا شروع ہو صرف یہی طریقہ ہیں اس کو شانزے سے دور کرنے کا.. عنیقہ نے سوچتے کہا تھا..
پھر کیا کہا اس نے..؟؟ تائی جان نے تجسوس سے پوچھا تھا
حامی تو بھر لی ہے.. کہتا ہے جلدی بتاے گا کہ کہاں اور کب ملنا ہے..
چل اب تو خوش ہو جا تو نے جیسا سوچا اس نے ویسے کیا..
ہاں…!!! یہ تو ہے مجھے تو یقین نہیں آرہا کے وہ اتنے آرام سے ہاتھ آگیا شکل سے بڑا مغرور لگتا ہے..
عنیقہ نے حیرت کا اظہار کیا تھا..
ارے میری بچی کیا کسی سے کم ہے کوئی ایک بار دیکھ لے تو دوبارہ ضرور پلٹتا ہے..
اور پھر وہ شانزے اس کا مقابلہ ہی کیا ہے.. سانولی رنگت، تائی جان نے نفرت بھرے لہجے میں کہا تھا.
چل شاباش اب آجا کھانا کھاتے ہیں.. وہ عنیقہ کو ساتھ لے کر ہال میں گیں تھیں..
……………………………
اسلام و علیکم ، شانزے حسین سے ملنے آئ تھی.
وعلیکم اسلام ، حسین سمیت سب نے ہی کافی خوش دلی سے جواب دیا تھا.
کیسے ہیں آپ اب انکل، شانزے نے بہت محبت سے حسین سے پوچھا تھا.
اور جاکے جوس اور بسکٹ ٹیبل پے رکھے تھے.
وہ روز حسین کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور لاتی تھی..
میں ٹھیک ہوں.. اور اپنی بیٹی کے آنے سے تو اور بھی ٹھیک ہو گیا ہوں.
وہ خوشی سے بولے تو شانزے بھی مسکرائی تھی.
لیکن بیٹا اس کی کیا ضرورت ہے.. آپ آجاتیں ہیں میں تو اس کے لئے ہی شکر گزر ہوں..
شانزے جوس گلاس میں نکل رہی تھی جب انہوں نے بہت پیار سے کہا تھا.
ارے واہ انکل.. اتنے پیار سے بیٹی کہا اور پھر پریا بھی کر دیا، شانزے نے گلاس ان کی طرف بڑھایا تھا.
اس کےانداز نے انھیں کچھ دیر کے لئے سن کر دیا تھا بلکل وہی انداز حسین نے ذرے لیب کہا تھا،
لیکن شاہینہ نے پھر بھی سمجھ لیا تھا اس لئے ان کے ہاتھ پے ہاتھ رکھا ہے..
ویسے یہ تم لوگوں کو اچھا بہانہ مل گیا ہے روز روز دیر سے جانے کا.. نہیں ؟؟ عثمان نے اس کے پاس بیٹھے کہا تھا.
نہیں بھائی کوئی فرق نہیں پڑتا.. کمپیٹیشن والے سٹوڈنٹس کو لیوریج ہے..
شانزے چھوٹے بچوں کے سے انداز میں بولا تو سب ہی ہنس پڑے تھے،
وہ تو ایسے کہو نا، فلل ٹائم چیٹنگ.. عثمان نے اسے دوبارہ چیڑانے کی کوشش کی تھی..
عثمان بری بات ہے بہن کو ایسے نہیں ستاتے.. شاہینہ نے اسے ٹوکا تھا..
نہیں آنٹی.. کوئی بات نہیں.. “وہ ستا سکتے ہیں بھائی ہیں نا”.. شانزے نے روانی سے بولا تھا.
حسین نے ایک بار پھر شانزے کو دیکھا تھا.. انھیں پھر زینب یاد آئ تھی..
شاہینہ بھی ٹھٹکی تھیں.. کیوں جب بھی حسین زینی کو بہت ستاتے تو وہ رونے لگتی،
اور شاہینہ مانا کرتی تو وہ ایسے ہی کہتی تھی “بھائی ہیں میرے ستا سکتے ہیں”
ارے واہ – دیکھا ماما ایک بہن تو ہونی چائیے نا.. وہ بھی چوٹی.. عثمان نے ماں کو پکارا تھا وہ جانتے تھے کہ اس کے ماں باپ کہیں اور ہی ہیں.. سب پھر مسکرانے لگے تھے.
اچھا اب میں چلتی ہوں کل پھر آؤں گی.. شانزے نے حسین کو کہا تھا انہوں نے اس کے سر پے ہاتھ رکھا تھا.
چاہتے تو وہ بھی یہی تھے کے وہ روز اسے دیکھیں نا جانے کیوں ان کا دل ابھی کہتا تھا کہ شانزے ہی زینی کی بیٹی ہے..
ضرور – تم کیسے جاؤ گی یوسف تمہیں لے جائے گا ساتھ.. حسین نے بولا تھا، کہاں ہیں موصوف.
پتا نہیں پاپا.. کافی دیر پہلے بات ہوئی تھی تو کہ رہا تھا آرہا ہے.. تبھی یوسف اور محسن اندر آے تھے…
لو جی.. شیطان کا نام لیا اور شیطان حاضر.. عثمان شانزے عقریب ہو کر کہا تھا تو ہنس پڑی تھی..
بس بس زیادہ پارٹی بدلنے کی ضرورت نہیں ہے.. یوسف نے اندر آتے عثمان کو ناراضگی سے کہا تھا.
چلو جاؤ شانزے کو لے کر.. حسین نے اتے ہی حکم صادر کیا تھا.
پاپا ابھی تو میں آیا ہوں.. یوسف نے منہ بنایا تھا.
تو ؟؟ کس نے کہا تھا دیر سے آؤ… ماما نے اسکے کان کھینچے تھے.
اوہ ماما کیا ہو گیا ہے لے جاؤں گا نا ابھی.. یہاں تو سب ہی بدل گئے ہیں.. یوسف نے کان سہلایا تھا..
اچھا اچھا ٹھیک ہے ایکٹنگ کم کرو عثمان نے بھی جملہ پاس کیا تھا.
ہاں ہاں بول لیں… معصوم بچا جو ہاتھ آگیا ہے.. اس نے منہ بنایا تھا.
چلو شاباش اٹھو فورن.. میں دیکھ رہا ہوں تمہاری توجہ کم ہو گئی ہے کمپیٹیشن سے عثمان نے کہا تھا.
یوسف کو گلٹی فیل ہوا تھا کہ تو وہ ٹھیک رہا تھا، اب وہ اسے کیا بتاتا..
اچھا نا ٹھیک ہے… یوسف اس سے زیادہ کچھ نہں کہ سکا..
وہ اٹھ گئے تھے، وہ تینوں باہر نکلے تھے..
اوہ – میں اپنی نوٹ بک اوپر بھول آئ.. شانزے نے پارکنگ سے تھوڑا پہلے بولا تھا.
روکو میں لاتا ہوں.. یوسف نے کہا تھا.
نہیں میں لے آتی ہو تم لوگ جب تک گاڑی نکال لو، شانزے نے کہا تو یوسف نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی..
یوسف یہ ٹھیک نہیں ہے.. محسن جو کافی دیر سے خاموش تھا شانزے کے جاتے ہی بولا تھا..
کیا ٹھیک نہیں ہے ؟ یوسف نے حیرت سے دیکھا تھا.
تو نے ابھی تک شانزے کو اور عثمان بھی کو نہیں بٹیا کے اب تو کمپیٹیشن میں نہیں ہے..
کل شانزے کو پتا چل جائے گا جب اسٹیج اسکے نیو پارٹنر کا نام لیا جائے گا. تب… تب کیا کرو گئے..
کتنے دن سے تو کوشش کر رہا ہوں بتانے کی پر.. یوسف نے بات ادھوری چھوڑی تھی..
پر کیا..؟؟ تو جانتا ہے اسے وہ جذباتی ہے اگر لاسٹ منٹ پے اس نے کچھ الٹا کر دیا تو ؟؟
تجھے سوچنا چاہیے تھا.. فیصلہ لینے سے شانزے کو پوچھنا چائیے تھا، لیکن نہیں تو نے اکیلے فیصلہ لے لیا.
تو اس اس کمپیٹیشن میں نہیں ہے اب تک اس کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا..
سوچ اگر اسے کہیں سے پتا…. محسن جو جذبات میں اکر بولے جا رہا تھا ایک دم خاموش ہو گیا تھا.
یوسف نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا تھا اور کچھ لمحوں کے لئے اسے لگا تھا اس کے پیروں سے زمین نکل گئی ہے.
شانزے اسکے بلکل پیچھے کھڑی تھی.. اور اسکا چہرہ صاف بتارہا تھا کے وہ سب سن چکی ہے..
تم نے ایسا کیوں کیا یوسف..؟؟ کیونکہ تم پریشان ہو انکل کے لئے ؟؟ اس لئے تم شامل نہی ہو رہے..
لیکن اب وہ ٹھیک ہیں پہلے سے… شانزے اس کے بلکل سامنے کھڑی ہوئی تھی..
یوسف خاموشی سے اسے سن رہا تھا،
تم ہمیشہ سے اس میں شامل ہوتے رہے ہو.. تو اب کیسے تم نام واپس لے سکتے ہو..
شانزے کو غصہ آیا تھا یوسف کے جواب نا دینے پے..
ٹھیک ہے میں خود میم سے بات کروں گی.. شانزے پلٹی تھی جب یوسف نے اس کا ہاتھ پکڑ کے روکا تھا..
نہیں.. اس کی ضرورت نہیں ہے.. اس کی آواز میں سختی تھی..
لیکن کیوں یوسف..؟؟ شانزے تقریباً چیخی تھی..
اپنے کام سے کام رکھویہی اچھا ہے. یہ ایک اچھا تمہارے لئے چانس ہے تو پلیز، اسے اویل کرو..
بجاے اس کے ، کہ اپنا ٹائم تم مجھ پے یا میرے لئے سوچ کر ویسٹ کرو..
یوسف نے ساری محبت، سارا پیار سائیڈ میں رکھ دیا تھا.
ٹھیک ہے اگر ایسا ہے تو مجھے بھی اس میں شامل نہیں ہونا،
شانزے اس کا بدلہ لہجہ دیکھ کر حیران رہ گئی تھی، لیکن پھر اس نے فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگایا تھا..
تمہیں نا صرف شامل ہونا ہے.. بلکے جیتنا بھی ہے سمجھیں.. یوسف اب غصے میں تھا.
پلیز یوسف ایسا مت کہو.. ہم نے ساتھ میں ٹیم بنائی تھی.. اور ہم ساتھ ہی اسے جیتیں گئے..
شانزے کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا تھا.. اس نے پہلی بار یوسف کا ہاتھ پکڑا تھا.. یوسف کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی..
کہا نا اپنے کام سے کام رکھو، اس نے شانزے کا ہاتھ جھٹک دیا تھا..
میں گاڑی لاتا ہوں.. یوسف کہتا چلا گیا تھا..
لیکن شانزے بھی روکی نہیں تھی..
شانزے پلیز روکو محسن نے آواز دی تھی.. لیکن اس نے نظر انداز کر دی تھی..
…………………………..
کیا ہوا سب خیریت ہے ؟؟ صبا نے پانی کی بوتل اس کی طرف بڑھائی تھی، اسے شانزے ٹھیک نہیں لگ رہی تھی.
اس کا چہرہ اور آنکھیں لال ہو رہی تھیں… جب سر کی نسیں اتنی تنی تھیں کے آسانی سے پتا چل رہیں تھیں..
کچھ ٹھیک نہیں ہے.. شانزے کی آنکھوں میں پھر پانی بھرنے لگا تھا.
کیا ہوا ہے کچھ بولو تو.. صبا اب سچ میں پریشان تھی.
اس نے اپنا نام کمپیٹیشن سے واپس لے لیا ہے بغیر مجھے بتائے، بغیر مجھ سے پوچھے.. شانزے نے دکھ سے کہا تھا.
لیکن کیوں ؟؟ صبا حیران ہوئی تھی..
اس کے پاپا کی بیماری وجہہ سے..
اوہ – صبا نے ٹھنڈی آہ بھری تھی، جیسے وہ یوسف سے متفق ہو..
لیکن وہ اب ٹھیک ہیں تو آخر وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے.. ؟؟
وہ کہتا ہے، مجھے اکیلے شامل ہونا ہو گا اب وہ ایسے کیسے بول سکتا ہے شانزے زیادہ جذباتی ہو رہی تھی.
شانزے اس کی بات بھی ٹھیک ہے، تم اس کی جگہ پے خود کو رکھ کے سوچو..
نہیں، میں اکیلے نہیں کر سکتی اس کے بغیر… میں اپنا نام واپس لے لوں گی، شانزے نےکہا تھا..
وہاٹ..؟؟؟ شانزے یہ تم کیا کہ رہی…؟؟ صبا حیران ہوئی تھی…
نہیں یوسف کے بغیر نہیں.. اس نے مجھ سے زیادہ محنت کی ہے اس کمپیٹیشن کے لیے…
میں اکیلے نہیں کر سکتی.. وہ نہیں آیا تو کوئی مطلب نہیں رہ جاتا نہ ٹیم کا.
تو بغیر یوسف کے کیسی ٹیم…؟؟ میں کیا کروں گی اکیلی وہاں..؟؟
تم نہیں جانتی ہو، اگر وہ نہ ہوتا تو میں کوئز میں کبھی کلیر نہ ہو پاتی.. اس نے ہر چیز کو پلان کر رکھا تھا..
اس نے اپنا ١٠٠ پرسینٹ دیا ہے.. پھر میں کیسے اس کی محنت کو نظر انداز ہونے دوں…
تم نہیں جانتی بارش میں بھیگنے سے اس کی طبیت کتنی خراب تھی،
لیکن پھر بھی ایک لفظ بولے بغیر اس نے پرفارم کیا..
مجھ نہیں شامل ہونا اس کمپیٹیشن میں… شانزے کا لہجہ اٹل تھا..
شانزے تم بھول رہی ہو تم نے کہا تھا یہ تمہارے لیے بہت امپورٹنٹ ہے..
تو پھر تم کیسے گیو اپ کر سکتی ہو.. صبا نے اس سے یاد دلایا تھا.
ہاں کہا تھا… مجھے سب یاد ہے… لیکن وہ تب کی بات تھی، لیکن اب.. شانزے بولتے بولتے روکی تھی..
اب وہ کیسے صبا کو کہے وہ جیتنا چاہتی ہے لیکن یوسف کے ساتھ…
وہ شامل ہونا چاہتی ہے، پر یوسف کے بغیر نہیں…
لیکن اب کیا شانزے…؟؟؟ یوسف کی آواز نے دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا..
(یوسف اور محسن اس سے پہلے یونیورسٹی پہنچ چکے تھے اور سب جگہ ڈھونڈ کر اب اس طرف آے تھے،
جہاں انہوں نے شانزے اور صبا کو الجھتے ہوے دیکھا تھا، اس لئے وہ اس طرف چلے آے تھے
اور غیر ارادی طور پے ان کی باتیں بھی سن لی تھیں)
بولو شانزے… اب کیا…؟؟ یوسف کی آواز میں سنجیدہ گی تھی. شانزے کی نظریں جھک گیں تھیں..
یوسف کا دل چاہا وہ جا کر ایک تھپڑ لگاے شانزے کو…
اور شانزے کی طرف وہ جس انداز سے بڑھا تھا، لگا بھی یہ تھا…
یوسف یار.. محسن نے آواز دی تھی وہ گھبرا گیا تھا.. جبکہ صبا اس کے تیور دیکھ ایک قدم اچھے ہٹی تھی.
وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے… شانزے کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا تھا وہ نہیں چاہتی تھی رونا…
پر یہ دل بھی نہ کیسا مجبور کر دیتا ہے… یوسف نے شانزے کا ہاتھ پکڑا تھا… وہ اس کو اپنے ساتھ لے لائبریری کی طرف لے جا رہا تھا.. اور وہ کسی ربورٹ کر طرح اس کے ساتھ کھینچی جا رہی تھی…
یوسف سنو… صبا نے روکنا چاہ تھا یوسف کے تیور کافی بگڑے تھے…
صبا مت روکو، انھیں ضرورت ہے بات کرنے کی.. لیکن محسن نے اس کو روک دیا تھا…
لیکن… دونوں لڑ پڑے تو.. تم جانتے ہو دونوں ہی آخیر لیول کے بدتمیز ہیں،
لہٰذ بھی نہیں کرنا کسی کا .. صبا نے خدشہ ظاہر کیا تھا…
لیکن یہ مت بھولو کے وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں.. وہ کبی ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گئے…
محسن نے بہت آسان لفظوں میں بات کی تھی..
بڑے بڑے عاشق دیکھے… یہ کون سا عشق ہے.. جب دیکھو لڑتے رہتے ہیں.. ایسا تو نہ دیکھا نہ سنا، صبا چڑ گئی تھی..
یہ بدتمیز عشق ہے… وہ ایک دوسرے سے لڑتے ہیں وہ بھی ایک دوسرے کے لئے… محسن ہنسا تھا تم کیا سوچنے لگیں، اس نے صبا سے پوچھا تھا جو کہیں خیالوں میں گم تھی..
کچھ نہیں بس یہی سوچ رہی ہوں.. ان دونوں کو دیکھ کر محبت کا دل کرتا ہو گا اپنا سر پیٹلے، کہ میں کن کو ہو گئی ہوں..
بس بس ان کی کتاب بعد میں لکھنا… آؤ دیکھتے ہیں اب کیا ہنگامہ کر رہے ہیں…
محسن نے صبا کو کہا تھا وہ دونوں ان کے پیچھے گے تھے.
………………………………..
کیوں شانزے ایسا کیا ہو گیا تھا کہ تم اس میں شامل نہیں ہونا چاہتیں ؟؟
وہ دونوں لائبریری کے پاس بنے لان کی بینچ پے بیٹھے تھے… جب یوسف نے اس سے پوچھا تھا.
اس کی آواز کی سنجیدگی نے شانزے کو ساکت کر دیا..
اس کی آواز میں دکھ نمایاں تھا.. وہ جانتی تھی یوسف کبھی نہیں چاہے گا کہ وہ پارٹیسیپیٹ نہ کرے…
وہ تم نہیں ہو تو پھر میں… شانزے کے لفظ ادھورے رہ گئے تھے..
میں نہیں ہوں تو کیا شانزے… زندگی روک نہیں جائے گئی..
تم نے کیسے سوچا لیا یہ سب، اس کے لئے تو اتنی محنت نہیں کی تھی ہم نے…
کہ تم اتنی آسانی سے ہارمان لو.. یوسف نے بڑی بے رحمی سے بولا تھا..
(اس وقت سے وہ کہیں سے بھی وہ یوسف نہیں لگ رہا تھا جو ہر وقت، ہر بات، کو مذاق سمجھتا ہے…
اس وقت تو وہ اپنے لہجے میں اتنی سختی لئے تھا کہ شانزے اندر سے کافی حد تک ڈر گئی تھی، لیکن وہ یوسف پے ظاہر نہیں کر سکتی تھی. ورنہ یوسف نے اس کی بات کبھی نہیں مانی تھی. شانزے کو اپنی حالت پے رونا آیا تھا کچھ آنسو آنکھوں سے ٹوٹے بھی تھے، یوسف کا دل تڑپ تھا لیکن فلحال وہ کمزور نہیں پڑ سکتا تھا،
وہ جانتا تھا کہ اگر وہ کمزور پڑھ گیا تو پھر عثمان کو قربانی دینی پڑے گی اپنا ٹریپ کینسل کر کے.. جس کے لئے وہ پچھلے کتنے ماہ سے تیاری کر رہا تھا. اور یوسف نہیں چاہتا تھا کہ ایسا ہو عثمان کو اس کی وجہ سے کوئی پریشانی ہو. لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ شانزے اتنی آسانی سے ہار مان لے..)
پلیز شانزے اینف ناؤ… وہاٹس رانگ وید یو ؟؟ یہ لڑکیوں کی طرح رونا دھونا بند کرو پلیز…
بہت اچھا طریقہ ہے اپنی بات منوانے کہ لیکن بہت گھسا پیٹا.. یوسف کہا لہجہ ابھی بھی سخت تھا.
لیکن شانزے کو اس کی کوئی بات اثر کہاں کر رہی تھی یہاں تک کہ اس کا لہجہ بھی نہیں،
وہ تو بس اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھی،
یوسف.. تم بات نہیں سمجھ رہے تمہارے بغیر میں ہار جاؤں گی.. شانزے نے ناکام کوشش کی تھی..
یوسف کو شدید غصہ آیا تھا، جو وہ نہیں چاہتا تھا وہ ہو گیا تھا،
انجانے میں ہی سہی لیکن شانزے اس پے ڈیپینڈ کرنے لگی تھی.
کتنی دقیانوسی ہو تم شانزے میں نے سوچا بھی نہیں تھا.. پلیز جا کے منہ دھو اور اپنا دماغ صاف کرو..
کل کمپیٹیشن ہے اور اس میں تم جا رہی ہو.. ڈیٹس فائنل.. یوسف کہہ کر روکا نہیں تھا..
سامنے سے آتے صبا محسن حیران رہ گئے تھے، اب دونوں شانزے کو تسلی دینے لگے تھے.
……………………………
شانزے گھر آگئی تھی اس کی خاموشی سب نے محسوس کی تھی لیکن کسی نے بھی کچھ بولا نہیں تھا.
سب کو لگا تھا وہ کل کی وجہ سے سٹریس میں ہے.
تائی جان اور می جانی آج کل پھوپھو کو لے کر کافی مصروف تھیں.. اس لئے انہوں نے بھی کچھ خاص توجہ نہں دی.
اور عنیقہ اس کا تو کیا کہنا.. وہ آج کل اپنے فون میں کچھ زیادہ ہو مگن تھی.
اس لئے وجی بھائی اور پاپا اس کا حوصلہ بڑھانے لگے تھے.
ڈونٹ وری.. شانزے دیکھنا تم ہی جیتو گی.. پاپا نے لاڈ سے اس کو اپنے ساتھ لگایا تھا.
مجھے اپنی بیٹی پے پورا بھروسہ ہے.. وہ ہمیشہ ہر میدان میں کامیاب ہو گی.. وہ بہت محبت سے بولے رہے تھے.
لیکن شانزے وہ تو اس وقت کہیں اور ہی تھی.. جب بہت دیر بھی شانزے نے کچھ نہیں بولا،
تو انہوں نے شانزے کو پوچھا تھا، کیا ہوا آج میرا فائٹر طیارہ کافی ٹھنڈا ہے… حسان کچھ پریشان ہوے تھے.
کچھ نہیں پاپا بہت تھک گئی ہوں تو سر درد کر رہا ہے.. شانزے نے بہانا بنایا تھا اور وہ کافی حد تک کام کر بھی گیا تھا.
اوہ – اچھا تو پھر میرا بچہ آرام کر لو تھوڑی دیر انہوں شانزے کا سر چوما تھا.
جی پاپا.. شانزے نے کہا اور کمرے کی طرف چل پڑی.. اریزے کو گڑبڑ کا احساس ہوا تھا، اور اس کا اندازہ اس وقت بلکل سہی ثابت ہوا جب اس نے کھانا کھانے سے بلکے آئس کریم کے لئے بھی یہ کہ کر مانا کر دیا تھا،
کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے..
………………………………….
اریزے کمرے میں آئ تھی.. لائیٹ اوف کی وجہ سے کمرے میں گپ اندھرا تھا. اس لئے اس نے سیور اون کیا تھا.
شانزے کے جسم میں ہلکی سی حرکت ہوئی تھی، وہ سمجھ گئی تھی کہ شانزے جاگ رہی ہے.
وہ اس پاس بیڈ پے اکر بیٹھ گئی تھی.. اس نے آہستہ آہستہ شانزے کے سر میں ہاتھ پھیر تھا. شانزے خود پے قابو نہیں رکھ سکی تھی اس لئے رونے لگی.. اریزے نے اس کی آنکھوں سے بازو ہٹایا تھا.
کیا ہوا.. اسنے شانزے کے چہرے پے ہاتھ پھیر تھا شانزے اٹھ کے اس کے گلے لگ گئی تھی.
اب وہ اریزے کو اپنی اور یوسف کی ہونے والی بات بتا رہی تھی.
میں نہیں شامل ہوں گی اس کے بغیر اس نے بہت کیا ہے، اس کمویتیشن کے لئے شانزے رو رہی تھی.
اریزے اس کو چھپ کرا رہی تھی اور ساتھ ساتھ اس نے دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ اب کو کیا کرنا ہے..
وہ دوبارہ کمرے میں آئ تو شانزے سو رہی تھی، شاید رو رو کے تھک گئی تھی.
اریزے نے اپنا فون اٹھایا تھا اور نمبر ملانے لگی..
……………………….
معذرت چاہتی ہوں اس وقت فون کرنے کی۔…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: