Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 26

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 26

–**–**–

وہ صندوق حسان کا تھا، وہ بہت اچھے سے پہچانتی تھی.
(جسے بچپن سے آج تک اس نے بند ہی دیکھا تھا.. اور کبھی کسی نے اسے کھولنے کی کوشش نہیں کی تھی..
کیوںکہ سب کو یہی پتا تھا کہ اس میں حسان کی بہت اہم چیزیں ہیں…
اور کیا ہیں یہ نہ کبھی انہوں نے بتایا نہ کسی نے پوچھا.. لیکن اب جو شانزے نے دیکھا اسے نظر انداز کرنا مشکل تھا)
شانزے پلٹی تھی، اس نے وہاں سے وہ خط اٹھا لئے تھے.. جنھیں لے کر وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی..
وہ ایک ایک کر کے سب خط دیکھ رہی تھی.. سارے کھلے ہوے تھے سواے ایک کے، ہر خط پے صرف ایک ہی نام تھا،
زینب میر… زینب میر…
“می جانی کیا آپ کسی زینب کو جانتی ہیں”.. شانزے کی اپنی آواز اس کے کانوں میں گنجی تھی..
اس کا دل دھڑکنا بھول رہا تھا.. ایک انجانا خوف اسے گھیر رہا تھا.
تو کیا پاپا جانتے ہیں زینب کو.. اس نے خود سے سوال کیا تھا. لگا تھا اس کی آواز کہیں پاتال سے آرہی ہے..
تو پھر اس دن وہ کچھ بولے کیوں نہیں.. اس کا مطلب وہ چھپا رہے ہیں.. لیکن کیوں.. اس کا دل بیٹھ رہا تھا..
تو کیا پاپا ہی میرے باپ ہیں.. اس لئے وہ سب سے بات چھپاتے رہے ہیں.. دل بدگمان ہوا تھا..
ایک ایک کر کے خط پڑھنے لگی تھی… سارے راز کھلنے لگے تھے..
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے.. وہ جان گئی تھی.. حقیقت…
وہ جان گئی تھی زینب کوئی اور نہیں اس کی ماں ہے..
وہ جان گئی تھی.. اس کا باپ کون ہے (اور یہ ایک نیا انکشاف تھا اس پے…)
وہ یہ بھی جان گئی تھی.. زینب میر ، حسین کی چھوٹی بہن ہیں..
اوہ – تو اس لئے اس کا دل حسین کی طرف کھینچتا تھا.. اس نے دل میں سوچا تھا..
وہ جان گئی تھی کہ اس کے باپ نے پیسوں کے لئے اس کی ماں سے شادی کی تھی..
اور پھر اسے دولت نہ ملنے کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا.
شانزے کو لگا کمرہ گھوم رہا ہے.. کبھی لگتا کمرے کی ہر چیز اس پے گر جائے گی..
اس نے خود کو با مشکل سمبھالا تھا..
اب وہ آخری خط کھول رہی تھی.. شانزے کی آنکھیں ڈبڈبہ رہی تھیں..
اس نے خط کھولا تھا.
میری پیاری بیٹی..
میں نہیں جانتی کے یہ خط تمہیں ملے گا یا نہیں…
اگر مل گیا تو میں حسان کی شکر گزر ہوں گی.. اور اگر نہ ملا تو میں سمجھ سکتی ہوں کہ وہ مجبور ہے..
میں نہیں جانتی تم کتنی بڑی ہو گیں.. میں یہ بھی نہیں جانتی کے تم میری بات سمجھ پاؤ گی یا نہیں..
پر چاہتی ہوں تم میری بات سمجھو.. کیوں کے تم نے ایک اچھی بیٹی بنانا ہے..
تم نے زینب نہیں بنا.. جو غلطی میں نے کی وہ تم نہ کرنا..
جیسے میں نے اپنے باپ جیسے بھائی پے اپنی خواھشات کو ترجی دی.. تم نہ کرنا…
کبھی دل اور باپ میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو بنا کچھ سوچے اپنے باپ کو چننا..
یہ وہ سایا ہے جو تمہیں زندگی کے کڑے موسموں سے بچاے گا…
اگر ایک یہ سر سے چلا گیا نہ تو پھر کبھی واپس نہیں ملے گا..
اور تم بھی میری طرح اکیلی رہ جاؤ گی.. اور میں نہیں چاہتی کے تم بھی میری طرح دربدر بھٹکو…
پچھلے ڈیڑہ سال میں میں نے زمانے کے سب رنگ ددیکھ لئے،
میں نہیں چاہتی کہ تمہیں ان سب کا سمانا ہو.. میری دعا ہے کہ تم ہمیشہ ثابت قدم رہو..
تم کبھی اپنی راہ نہ بھٹکو.. تم ہمیشہ کامیابی حاصل کرو…
میں یہ نہیں جانتی کے تم مجھے سے محبت کرتی ہو یا نہیں..
پر میں چاہتی ہوں کہ تم مجھ سے نفرت کبھی نہ کرنا..
ہو سکے تو اپنی بدنصیب ماں کو معاف کردینا..
شانزے کو لگا اس کا دل بند ہو جائے گا. اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا ہوا ہے..
ایسا لگ رہا تھا پل بھر میں پوری دنیا بدل گئی ہے..
اس نے لفافے میں سے تصویر نکالی تھی،
“تم زینب کو جانتی ہو..؟؟ تمہاری شکل ان سے ملتی ہے، یوسف کی آواز اس نے خود میں سے اتی سنی تھی.
جس میں بلکل اس کی شکل کی لڑکی گود میں چھوٹی بچی لی ہوئی تھی..
شانزے نے بےاختیار تصویر کو چوما تھا. آنسو خود بہ خود بہنے لگے تھے.
شانزے نے ماؤف ہوتے دماغ کے ساتھ سب سمیٹا تھا اس نے منٹوں میں فیصلہ کیا تھا..
“مجھے پاپا سے بات کرنی ہے” اس نے دل میں سوچا تھا،
شانزے کو لگا اس کی جان نکل رہی ہے، ایک بار پھر کمرہ گھوم گیا تھا..
اس نے دیوار کا سہارا لیا تھا اور پھر حسان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی..
……………………….
کیا ہوا بہت دنوں سے دیکھ رہی ہوں پریشان ہیں..
کوئی بات ہے تو بتائیں ہو سکتا ہے میں اپ کے لئے کچھ کر سکوں.. حنا نے حسان کے پاس بیٹھتے پوچھا تھا..
حنا وقت آگیا ہے کہ شانزے، جانے کہ وہ کون ہیں
اپنے باپ کے بارے میں جانے… اپنے رشتیداروں کے بارے میں جانے.. حسان کی آواز میں دکھ تھا.. بے انتہا دکھ..
اندر آتی شانزے کے قدم روک گئے تھے..
مجھے سمجھ نہیں آتا میں اس کو کیسے بتاؤں.. اگر اس نے مجھے غلط سمجھا تو ؟؟
وہ ہماری بیٹی ہے حسان وہ کیوں ہمیں غلط سمجھے گی.. حنا پریشان ہوئی تھی..
کیوں کہ میں اس کا مجرم ہوں.. کیوں کہ میں سب جانتا ہوں.. لیکن پھر بھی میں نے چھپایا…
دل ڈرتا ہے، سب جان کر اگر وہ مجھ سے نفرت کرنے لگی تو..؟؟؟
اگر ہمیں چھوڑ گئی تو…؟؟؟ بات کرتے ہوے حسسان کی آواز بھرا گئی تھی..
حسان کی بھیگی آواز وہ صاف سن سکتی تھی.. وہ اندازہ کر سکتی تھی کہ وہ رو رہے ہیں..
شانزے کا دل تڑپ تھا.. اس کا دل چاہا تھا کہ وہ بھاگ کر جا کے ان کہ آنسو سمیٹ لے..
حسان یہ آپ کیا کر رہے ہیں… تڑپ تو حنا بھی گیں تھیں..
وہ ہماری بیٹی ہے.. صرف ہماری وہ کیوں ہمیں چھوڑ کے جائے گی،
میں اسے نہیں جانے دوں گی.. وہ میری بیٹی ہے.. اپ نے مجھے لا کر دی تھی..
آپ نے کہا تھا کہ یہ ہماری ہے تو آخر آج آپ کیسے کہہ سکتے ہیں.. آپ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں..
اور اگر ایسا ہی ہے تو آپ نہ بتائیں اسے.. حنا خود بھی رو پڑی تھی..
حنا یہ اب ناممکن ہے.. اس کے رشتداروں میں سے کوئی اسے ڈھونڈھ رہا ہے..
اور جلد یا بدیر انھیں پتا چل ہی جائے گا.. اور پھر شانزے کا سوچو..
اس کے ساتھ بھی تو ناانصافی ہے نہ… حسان انھیں سمجھا رہے تھے..
شانزے میں مزید سنے کی ہمت نہیں تھی وہ کیا کرے سمجھ نہیں آرہا تھا..
وہ تو حسان سے اپنے بیتے کل کا حساب مانگنے آئ تھی..
لیکن اب احساس ہوا تھا.. کہ ماں باپ سے حساب کرنا اتنا آسان کہاں تھا..
پیروں سے زمین کھسک گئی تھی…. اسے اپنا آپ خلا میں اڑتا محسوس ہوا..
جہاں ہر طرف اندھیرا تھا.. جو پوری طرح اسے اپنے آپ میں لپیٹ رہا تھا..
شانزے کی آنکھیں بند ہوئی تھیں… اور وہ زمین پے گر پڑی تھی..
آخری آواز جو اس نے سنی وہ شاید اریزے کی تھی.. لیکن وقت نے مہلت نہیں دی کے وہ ریکٹ کرے..
…………………………..
کیا ہوا اماں، یہ شور کیسا تھا. عنیقہ جو کل سے اپنے کمرے میں بند اپنے ٹھوکراے جانے کا سوگ مانا رہی تھی.
باہر اکر طائ جان سے پوچھنے لگی.
ارے کیا ہونا ہے ایک ہی مصیبت نامہ ہمر زندگیوں میں لکھا گیا ہے، اور وہ شانزے ہے. تائی جان نے بڑا دل جلایا تھا.
اوہ – اماں آپ بھی نہ.. سیدھا سیدھا بتائیں ہوا کیا ہے. عنیقہ ماں سے جنجھلائی تھی.
ہونا کیا ہے.. بیہوش ہو گئی تھی، در کے لے کر گیں ہیں ہوش میں ہی نہیں آرہی تھی. تائی جان نے اسے اطلاع دی تھی.
اچھا ہی ہے نہ آے، عنیقہ کہتی واپس چلی گئی تھی.
تائی جان اس کے پیچھے گیں تھی. وہ بسٹر پے گری آنسو بہا رہی تھی.
ارے میری بچی دل کن جلاتی ہے، دفع کر اسے..
تائی جان نے تسلی دی تھی، ان سے بیٹی کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی.
اماں کیسے دفع کروں.. ایک تو اچھا لڑکا ملا تھا اور وہ بھی.. عنیقہ پھر رونے لگی تھی.
آے لو.. ایسا بھی کیا تھا یوسف میں اس سے بھی اچھے لڑکے پڑے ہیں دنیا میں.. تائی جان نے بات کا رخ موڑا تھا.
اچھا کہاں مجھے کیوں نہیں نظر آتے.. عنیقہ رونا بھول گئی تھی.
تم دیکھو تو نظر آیئں گئے نہ، تائی جان نے اس کی عقل پے ماتم کیا تھا.
اماں کہاں دیکھوں.. عنیقہ بولتے بولتے روکی تھی.. آپ کا مطلب احد ؟؟؟ عنیقہ نے ماں کی طرف دیکھا تھا.
اور وہ دونوں ہنس پڑیں تھیں.
…………………………..
بلڈ پریشر خطرناک حد تک لو ہے، جس کی وجہ سے ہارٹ بیٹ مس ہوئی ہے..
کوئی صدمہ ، یا کوئی بات ہوئی ہے جو وہ برداشت نہیں کر سکیں ہیں، ڈاکٹر نے حسان کو مخاطب کیا تھا.
نہیں ڈاکٹر ایسا تو کچھ نہیں ہے، حسان نے پریشان ہوتے کہا تھا.
ٹھیک ہے، لیکن آپ کو خیال کرنا پڑے گا، فلحال خطرے سے باہر ہیں. کچھ دائر میں ہوش اجے گا.
لیکن ابھی کچھ کہ نہیں سکتے. اس لئے کسی قسم کا اسٹریس بھی ان کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے.
کچھ میڈیسن ہیں جو آپ نے کنٹینیو کرنی ہوں گی، ڈاکٹر نے میڈیسن لکھ کے دی تھیں..
حسان ڈاکٹر کیا کہ رہے ہیں می جانی اور پھوپو فورن بولیں تھیں.. جبکہ اریزے کچھ چپ سی تھی،
ڈاکٹرکہتے ہیں کسی بات کا صدمہ لیا ہے اس نے، کسی قسم کا سٹریس بھی اس کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے..
کس بات کا کیا ہوا ہے..؟؟ پھوپو حیران تھیں..
مجھے تو خود کچھ سمجھ نہیں آرہا، ابھی کچھ دیر پہلے تو ٹھیک تھی اب اچانک کیا ہو گیا..
حسان ایک دم ہی کافی تھکے سے لگ رہے تھے، شانزے کی چھوٹی سی تکلیف بھی انھیں پریشان کرتی تھی..
لیکن اب تو بات ہی اتنی سیریس تھی.
اریزے مزید کچھ چھپ ہوی تھی، وہ کسی گہری سوچ میں تھی..
حسان کو لگا شانزے کی وجہ سے ہے اس لئے انہوں نے اس کو دلاسہ دیا تھا. لیکن بار یہ نہیں تھی.
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ شانزے کو کیا ہوا ہے. اس کی بہن اتنی کمزور تو کبھی نہیں تھی.
کوئی بات اسے اتنا پریشان کرتی، تو پھر ایسا کیا ہو گیا..
اریزے کے ہاتھ میں فون بج رہا تھا… کال عثمان کی تھی..
اسلام وعلیکم.. عثمان کی آواز ہمیشہ کی طرح فریش تھی.
وعلیکم اسلام.. اریزے نے اپنے خیالوں میں گم کہا تھا.
اریزے تم ٹھیک ہیں.. عثمان پوچھے بنا نہیں رہا تھا. وہ اس کی آواز کی تبدیلی کو اچھے سے پہچان سکتا تھا.
جی.. اریزے رونے لگی تھی..
اریزے پلیز کیا ہوا ہے.. آپ بتایئں تو سہی… ایسے تو تم صرف مجھے پریشان کر رہی ہو. عثمان فکر سے بولا تھا..
جس کم کے لئے اس نے فون کیا تھا اچانک وہ بھی بھول گیا تھا.
وہ شانزے… اریزے نے پھر رونے لگی تھی..
کیا ہوا شانزے کو.. عثمان نے اتنی زور سے کہا تھا..
یوسف جو ابھی حسین کے روم میں داخل ہو رہا تھا، عثمان کی طرف آیا تھا..
بھائی سب خیریت ہے.؟؟ اس نے عثمان کو پوچھا تھا. جبکہ عثمان نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا.
پلیز اریزے بولیں شانزے کو کیا ہوا..؟؟ عثمان اس سے پوچھ رہے تھے، جب کے کے چہرے پے پریشانی واضح تھی.
وہ.. ہسپتال میں ہے.. اریزے نے بات مکمل نہیں کی تھی جب اس نے عثمان کو کہتے سنا تھا.
یوسف تم گری نکالو.. یوسف ایک ڈیم ہی پلتا تھا. اور آپ پلیز مجھے بتایئں کون سے ہسپتال میں ہم ابھی آرھے ہیں..
آپ پریشان ہوں… وہ اب سیرین اتر رہے تھے.. جب کے اریزے انھیں ایڈریس بتا رہی تھی.
…………………………..
میرا خیال ہے آپ سب لوگ اب گھر چلے جائیں.. جیسے شانزے کو ہوش آتا ہے. ہم بتا دیں گئے سب کو..
حسان فکرمند تھے لیکن سب کا اس طرح پریشان ہونا بھی انھیں ٹھیک کہاں لگ رہا تھا..
اور پھر می جانی وہ تو جب سے روے ہی جا رہی تھیں..
ہان میرا خیال ہے حسان ٹھیک کہ رہا ہے اب چلتے ہے، پھر آجائیں گئے.
تائی جان جو اب سے کچھ دیر پہلے ہی آئ تھیں فورن بولیں..
پاپا میں یہیں روکوں گی پلیز اریزے نے منت کی حسان سمجھ رہے تھے اس کی حالت وہ رو نہیں رہی تھی..
لیکن پھر بھی انھیں اندازہ تھا کہ وہ بہت پریشان ہے..
چاچو میں بھی روکتا ہوں.. ایسا کرتے ہیں احد کے ساتھ امی اور خالہ کو بہج دیتے ہیں..
احد جو ہر چیز سے بےنیاز کھڑا تھا..وجی کہ کہنے پے چونکا تھا. وہ آ تو گیا تھا،
کسی جذبے میں کھنچ کر لیکن اسے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی.
وہ سب باہر کی طرف بڑھ گئے تھے.
…………………………..
آپ دونوں گاڑی میں بیٹھیں میں آتا ہو، احد کہتا ہوا ہسپتال کی پارکنگ میں بنی شاپ کی طرف بڑھا تھا..
اس نے اپنے لئے جوس لیا تھا، جب ایک مانگ نے والا بچی اس سے پیسے مانگ نے لگی،
آے بھائی.. دے دینا.. الله کے نام پے دے دے… بچی نے اس کے آگے ہاتھ پھلایا تھا..
بھاگو یہاں سے.. وہ بچی احد کو بڑی اریٹیٹ کر رہی تھی..
بھائی دے دینا.. دعا کروں گی..
کہا نہ جاؤ یہاں سے.. منہ اٹھا کے مانگنے کے علاوہ کوئی کم نہیں ہے تم لوگوں کو. محنت تو تم لوگوں کو آتی نہیں ہے.
احد چلا رہا تھا.. اب اسے بہت غصہ رہا تھا..
بھائی… بچی نے احد ٹراؤزر پکڑا تھا، احد کو لگا اس نے سری حدیں پر کر دیں، اس نے بچی کو دھکہ دیا تھا..
وہ زمین پے گر گئی تھی.. احد غصے میں اس کی طرف بڑھا تھا،
وہ اٹھ پاتی اس سے پہلے اس نے اس کو لات مارنا چاہا تھا.
لیکن کسی نے بڑی تیزی سے بچی کو اس کے آگے سے کھینچا تھا. تم ٹھیک ہو بیٹا وہ اب بچی سے پوچھ رہا تھا.
وہ دار گئی تھی.. تبھی بھاگتی چلی گئی تھی..
ریلکس برو بچی ہے.. نہیں دینا مت دو لیکن اس طرح کا رویہ.. یہ تو غلط ہے.. اس نے اطمینان سے احد کو کہا تھا..
تم ہوتے کون ہو مجھے بولنے والے تم لوگوں کی وجہ سے انہیں شہہ ملتی ہے،
تمھی دیکھ کر لگتا نہیں کہ اس کا تمہارا کوئی رشتہ ہو سکتا ہے..
ایک مانگنے والی بچی کے لئے تم مجھے لکچر دے رہے ہو. احد ابھی بھی غصے میں تھا..
میں کوئی نہیں ہوتا بولنے والا.. نہ میں شہہ دے رہا ہوں. میں صرف اتنا کہ رہا ہوں.. کہ بچے بچے ہوتے ہیں..
معصوم.. نہیں دینا نہ دو پر.. ہاتھ نہ اٹھاؤ..وہ شخض آگے بڑھا تھا لیکن پھر پلٹ کر آیا..
اور ہاں ہم سب کے درمیان اللہ تعالیٰ نے جو خبصورت رشتہ رکھا ہے نہ اسے انسانیت کہتے ہیں..
احد کو منہ توڑ جواب ملا تھا وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا..
جبکہ وہ ابھی بھی وہیں کھڑا تھا، جب کسی نے پیچھے سے کہا تھا..
یوسف کیا ہوا.. عثمان نے اسے کھڑا دیکھ کر پوچھا تھا..
کچھ نہیں بھائی اندر چلتے ہیں..
………………………
کہاں رہ گئے تھے..؟؟ روبینہ نے گری چلاتے احد سے پوچھا تھے جو ایک منٹ کا کہہ کر اچھا خاصہ ٹائم لگا کر آرہا تھا.
ماما کچھ نہیں بس وہ جوس لینے میں دائر ہو گئی تھی.. اس نے ان کو مطمین کیا تھا..
روبینہ تم بھی کیا بیٹے سے سوال کر رہی ہو آج کل تو لوگ بیٹیوں سے نہیں پوچھتے.. تائی اماں نے جان کرکہا تھا.
نہیں بھابھی ایسا نہیں ہے، بیٹا ہو یا بیٹی ماں باپ کا فرض ہے کے اولاد سے پوچھیں..
وہ اپنے دل کے چور پے گھبرائیں تھیں اصل بات یہ تھی کہ وہ اپنے بیٹے کی جھگڑالو طبیعت سے واقف تھیں.
تم تو بھولی ہو.. ابھی تک انہی ریتی رواجوں میں جی رہی ہو..
اب اپنے گھر میں شانزے کو ہی دیکھ لو مجال ہے جو کبھی کسی سے کوئی مشورہ کر کے کم کرے..
ارے میری انیقہ تو کوئی کپڑا بھی لیتی ہے تو دس دفع پوچھتی ہے. امی لوں یا نہ لوں…
اور انے جانے کا تو تم نے دیکھ ہی لیا ہے.. کوئی ٹائم نہیں ہے.. تائی جان نے بلا آخر بات کو موت ہی دیا تھا..
نہیں بھابھی مجھے تو بڑی پیاری لگتی ہے، اور پھر یونیورسٹی میں ہے.. ہزار مسلے ہوتے ہیں..
ٹریفک یہ.. وہ.. دیر سویر ہو جاتی ہے.. روبینہ کی آواز میں محبت تھی.. جب کہ احد کی سوچ کا رخ مڑا تھا..
ارے تم کچھ بھی کہو، یہ لڑکیاں جنھیں بھر کی ہوا لگ جائے نہ ان کے پاؤں زمین اے نہیں ٹکتے.. تائی جان نے پھر کہا..
اچھا..!!!! چھوڑیں ان باتوں کو… ابھی دوا کریں ٹھیک ہو جائے، بچی بیچاری..
پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی.. روبینہ نے افسوس کا اظہار کیا تھا..
ارے نظر نہیں روگ لگ گیا ہے.. سنا نہیں تم نے در نے کہا تھا صدمہ لگا ہے..
ارے بتاؤ بھلا کیسا صدمہ شام میں تو بڑی خوش خوش آئ تھی.. مجھے تو لگتا ہے.. عشق وشق کا مسلہ ہے..
تبھی تو ایسے ہو رہی ہے مرنے والی.. ورنہ شانزے اور اور کسی بعد کا صدمہ میں نہیں مانتی..
تائی جان نے کنکھیوں سے نند کو دیکھا تھا..
جن کی مضبط سوچ میں انہوں نے غلط فہمی کی ایک کھڑکی تو کھول ہی دی تھی..
…………………………..
عثمان اور یوسف دونوں ہی وہاں تھے، یوسف اب پاپا اور وجی سے بتائیں کر رہا تھا..
جبکہ عثمان ڈاکٹر سے مل کر تسلی کرنا چاہتے تھے…
تبھی نرس نے اکر کہا تھا، آپ کے پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے..
وہ سب اندر آگے تھے.. شانزے کی آنکھیں بند تھیں..
دماغ میں پھر سوال جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا.. اس نے آنکھیں بند کر لیں تھی..
اس کی تکلیف کا اندازہ اس کے چہرے سے لگایا جا سکتا تھا.
شانزے میرے بچے.. پاپا اس کے پاس بیٹھے تھے اس نے آنکھیں کھول دیں تھیں..
پاپا.. وہ اٹھنا چاہتی تھی پاپا نے اسے سہارا دے بٹھایا تھا لیکن وہ ان کے سینے سے لگ کے رونے لگی تھی..
میں آپ سے بہت پیر کرتی ہوں پاپا.. میں صرف آپ کی بیٹی ہوں..
وہ روتے ہوے بہت آہستہ آواز میں بول رہی تھی.. اتنی کہ پاپا مشکل سے سمجھے تھے.
میں بھی اپنی بیٹی سے بہت پیار کرتا ہوں.. حسان کی آواز کاپکپائی تھی..
وعدہ کریں آپ کبھی مجھے خود سے دور نہیں کریں گئے.. شانزے کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا بولے..
اور نہ حسان سمجھ پا رہے تھے وہ کیا بول رہی ہے… بس وہ تو اس کی ہر بات میں ہاں کر رہے تھے..
پیچھے کھڑے چاروں لوگ شانزے کا تڑپنا دیکھ کر پریشان تھے کسی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہوا ہے..
حسان سے برداشت نہیں ہوا تھا وہ رونے لگے تھے..
ایسے نہیں کرتے اپنے پاپا کے ساتھ بیٹا.. بس اب چپ..
جب وجی پاپا کی طرف بڑھے تھے.. اور عثمان شانزے کی طرف..
ان دونوں نے شانزے اور پاپا کو الگ کیا تھا.. وجی نے پاپا کو حوصلہ دلایا تھا..
جبکہ عثمان نے شانزے کے سر ہاتھ پھیرا تھا..
ارے میں تو بڑا بہادر سمجھتا تھا.. عثمان نے کہا تو مسکرائی تھی لیکن بولی کچھ نہیں تھی.
اس کی آنکھوں میں خاموشی تھی.. تاریک، کالی رات جیسی کچھ پل کے لئے عثمان بھی حل گئے تھے..
لیکن سمجھ نہیں پا رہے تھے.. شانزے بچے اب ٹھیک ہو نہ ؟؟؟
جی بھائی.. شانزے نے آہستہ سے جواب دیا تھا..
اریزے اب اس کے پاسس آئ تھی.. اس کا دل کسی انہونی کا علان کر رہا تھا.
میں ڈاکٹر سے مل کے آتا ہوں. پاپا باہر کی طرف گئے تھے، تو عثمان بھی ان کے ساتھ ہی چلے گئے تھے..
یہ کچھ میڈیسن ہیں، نرس نے ایک پیپر بڑھایا تھا، جو وجی نے فورن لے لیا تھا.. میں لے کر آتا ہوں..
یوسف بہت دیر تک شانزے کو دیکھتا رہا تھا، وہ بھی اریزے کی طرح شوک میں تھا..
اسے بھی سمجھ نہیں آرہا تھا، کیا ہوا ہے، کیوں ہوا ہے.. لیکن بہرحال اس نے خود مکو سمبھالا تھا.
واہ – مس شانزے حسان.. مزے ہیں آپ کے تو.. وہ شانزے کے پاسس بیٹھتے بولا تھا..
شانزے اور اریزے دونوں حیران ہوئی تھیں..
اگر ٹوپک چوز کرنا نہیں آرہا تھا تو بول دیتیں.. اتنا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی..؟؟
اس نے ناراضی سے بولا تھا، شانزے ہنس پڑی تھی..
یوسف اور اریزے دونوں نے سکون کا سانس لیا تھا.. لیکن کچھ تھا جو پریشان کر رہا تھا..
چلو کیا یاد کرو گی.. کس حاتم سے پلا پڑا ہے.. یہ کام میں کر دوں گا.. اس کے بولنے پے پھر سے ہنسنے لگی تھی.
…………………………..
آپ شانزے کو لی جا سکتے ہیں، ابھی مزید رکھنے کی ضرورت نہیں ہے..
لیکن حسان صاحب، آپ کو خیال کرنا ہو گا، شانزے کی حالت سے صاف ظاہر ہے کہ وہ کسی سٹریس میں ہے،
اور اگر اس کی حالات ایسی ہی رہی تو پھر اس کے لئے مشکل ہو سکتا ہے.. ڈاکٹر نے حسان سے کہا تھا.
جی ڈاکٹر میں آپ کی بات سمجھ رہا ہوں. حسان خاموشی سے باہر آگے تھے.
کیا ہم کسی کو کنسرن کریں ڈاکٹر ؟؟ عثمان نے پوچھا تھا..
نہیں فلحال یس کی ضرورت نہیں ہے، آپ تسلی کرنا چاہیئں تو الگ بات ہے.. ڈاکٹر نے عثمان کو کلیر کیا تھا.
وہ دونوں اب شانزے کے پاس جا رہے تھے، عثمان ابھی تک پریشان تھے..
انکل آپ پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہو جائے گا..
اگر آپ پریشن ہوں گئے تھے باقی سب کو سمبھالنا مشکل ہو جائے گا. عثمان نے انھیں تسلی دی تھی.
عثمان نے ہاں میں سر ہلایا تھا.. وہ دونوں اندر آگئے تھے.
چلو گھر چلیں.. عثمان نے شانزے کو پیار کیا تھا. پچھلے کچھ گھنٹوں میں انہیں وہ بہت کمزور لگی تھی..
……………………………..
ٹھیک ہے انکل ہم گھر چلتے ہیں، عثمان نے حسان سے کہا تھا.
ایسے کس طرح بیٹا آپ لوگ اندر آیئں.. پلیز اپنا گھر سمجھیں.. حسان شرمندہ ہوے تھے..
کیونکہ پورا ٹائم عثمان بغیر کہے اس کے ساتھ رہی تھے. گھر انے کہ ٹائم بھی عثمان نے ان کی ایک نہیں سنی تھی،
اور خود چھوڑنے ہے تھے..
انکل کوئی فارمیلٹی نہیں ہے… آپ جانتے ہیں پاپا ابھی ہسپتال میں ہیں اور ہمیں وہاں بھی پہنچنا ہے..
عثمان نے سہولت سے انکار کیا تھا.
ٹھیک ہے.. لیکن آپ دونوں کا بہت شکریہ جس طرح سے آپ لوگ ہے اور ہمارا خیال کیا..
حسان کچھ اور کہتے لیکن عثمان نے بات بیچ میں ہی کٹ دی تھی…
انکل اب آپ شرمندہ کر رہے ہیں.. اور ویسے بھی بھائی کبھی بہنوں پے احسان نہیں کرتے..
اور شانزے تو میری سب سے پیاری بہن.. انہوں پھر شانزے کو پیار کیا تھا..
جو ابھی تک باپ کے سینے سے لگی کھڑی تھی..
اچھا اب ہم چلتے ہیں، شانزے اپنا خیال رکھنا.. شانزے نے چھوٹے بچوں کی طرح ہاں میں سر ہلایا تھا..
وہ دونوں جا چکے تھے.. اور حسان اپنی دونوں بیٹیوں سمیت گھر میں داخل ہوے تھے..
…………………………
سب اپنی تسلی کر کے جا چکے تھے..
لیکن پاپا اب تک شانزے کے پاس ہی بیٹھے تھے وہ بار بار انکو دیکھتی..
اور حسان ہر بار اسے پیار کرتے.. اریزے نے بہت غور سے دیکھا تھا اس کو..
پاپا کے وہ ہمیشہ قریب رہی تھی.. لیکن اس وقت وہ ایسے برتاؤ کر رہی تھی جیسے پاپا کے کھو جانے کا دار ہو..
لیکن مشکل یہ تھی کے وہ کچھ کہہ نہیں سکتی تھی..
شانزے تمہیں پاپا پے کتنا بھروسہ ہے.. حسان نے اچانک پوچھا تھا..
شانزے اور اریزے دونوں چونکیں تھیں..
خود سے بھی زیادہ.. شانزے نے آہستہ سے کہا تھا.
تو پھر کیا اپنے پاپا کو نہیں بتاؤ گی کیا مسلہ… کیا پریشانی ہے… حسان اس کے سر میں ہاتھ پھیر نے لگے تھے..
شانزے نے بہت دیر اپنے باپ کو دیکھا تھا، وہ کہنا چاہتی, وہ حساب چاہتی تھی پر ان کی محبت نے اسے مجبور کردیا تھا.
ایسی کوئی بات نہیں ہے پاپا.. صبح سے کچھ کھایا نہیں تھا تو اس لئے شاید… شانزے نے سفید جھوٹ کہا تھا..
میں بس کمپیٹیشن کے لئے بہت پریشان ہو گئی تھی.. میں جیتنا چاہتی ہوں پاپا.. شانزے نے ان کو بہلایا تھا..
اتنی سی بات کے لئے کوئی ایسا کرتا ہے، تم جانتی ہو تم نے اپنے پاپا کی جان نکل دی تھی.. حسان نے پیار سے کہا.
سوری پاپا.. شانزے شرمندہ ہوئی تھی..
چلو اب بس اب جلدی ٹھیک ہو جاؤ.. اریزے نے پاس آتے کہا تھا.. میں زدہ خدمتیں نہیں کر سکتی..
وہ اس کے لئے جوس لائی تھی.. شانزے نے جوس کا گلاس پکڑ لیا تھا..
چلو شاباش اب سو جانا تم دونوں.. اریزے بیٹا بہن کو میڈیسن دے دینا یاد سے..
حسان ہدایت دیتے چلے گئے تھے..
…………………………..
صبح سب ناشتے کی ٹیبل پے تھے.. گزری شام کی وجہ سے سب ہی لیٹ تھے آج..
جب شانزے آئ تھی.. وہ رات سے کافی بہتر لگ رہی تھی.
کیسی ہو بیٹا.. پھوپو نے بہت پیار سے پوچھا تھا..
ٹھیک ہوں اب.. وہ کہتی کرسی کھنچ کر بیٹھ گئی تھی.
شانزے تم کیوں اٹھ گیں بیٹا آرام کرتیں.. می جانی جو پلیٹ میں پراٹھے لا رہی تھیں. اس کو دیکھ کر حیران ہوئیں.
میں ٹھیک ہوں می جانی، پھر مجھے انی جانا ہے ابھی.. شانزے کی اطلاع نے سب کو حیران کیا تھا..
لیکن شانزے تمہری طبیعت ابھی ٹھیک نہیں ہے.. اور پھر ڈاکٹر نے کہا تھا تمہیں آرام کی ضرورت ہے..
می جانی اس کے فیصلے سے حیران تھیں..
جی می جانی پر کمپیٹیشن کا لسٹ سیشن ہے اور میں نہیں چاہتی کہ صرف طبیعت کی وجہ سے میں ہر جاؤں…
شانزے نے پراٹھا اور چاے اپنے آگے تھی..
شانزے تمہاری بات ٹھیک ہے بیٹا لیکن تمہاری طبیعت..
وہ زیادہ کچھ بولٹن اس سے پہلے ہی پاپا نے نے انھیں روک دیا تھا.
میرا خیال ہے ہمیں شانزے کو سپورٹ کرنا کہئے اور یہ تو اچھی بات ہے گر وہ خود اچھا محسوس کر رہی ہے.
حسان نے جان بوجھ کر بولا تھا.. انہوں نے شانزے کی رات کو کہی بات مان لی تھی،
کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ صرف انھیں تسلی دے رہی ہے.. لیکن حقیقت یہ تھی کہ انکا دل مانے کو تیار نہ تھا.
اس لئے انہوں نے شانزے کے جانے کے لئے حامی بھری تھی، وہ چاہتے تھے کہ شانزے کا دماغ بٹے،
اور جو سوچیں وہ پال رہی ہے.. وہ ان سے کہے بھلے نہ پر باہر ضرور آجاے..
می جانی میں ٹھیک ہوں.. آپ پریشان نہ ہوں جلدی آجاؤں گی، شانزے نے ان کے گلے لگ کر کہا تھا..
عثمان مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے.. روبینہ نے کہا تھا، تائی جان ٹھٹہکی تھیں لیکن چپ رہیں.
چلو میں ذرا چینج کر لوں، حسن کہ کر اٹھے تھے، جبکہ باقی سب بھی اپنے کاموں میں لگ گئے تھے..
“دیکھا کہا تھا نہ میں نے..” اب دیکھو ذرا رات میں اتنا خوار کیا سب کو اور اب نکل پڑی..
کہنے کو تو میری سگی بہن ہے، پر کیا کہ سکتے ہیں ایک یونیورسٹی کے نام پے باہر رہتی ہے،
اور دوسری آفس کے نام پے..
تائی جان جو بہت دیر سے خاموش تھیں.. سب کو جاتا دیکھ فورن نند سے بولیں..
جبکہ روبینہ ان کی بات سن کہیں دور جا نکلیں تھیں..
………………………..
شانزے حسان سے ملنے آئ تھی.. خلاف توقع روم میں کوئی نہیں تھا.. اور حسین بھی آنکھیں بینڈ کے لیٹے تھے..
شانزے اندازہ نہیں کر سکی کہ وہ سو رہے ہیں یا صرف لیٹے ہیں.. وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ان کے پاسس آگئی تھی.
بہت دیر تک وہ حسان کو دیکھتی رہی، اسے لگا حسین میں سے بلکل ویسی خوشبو آرہی ہے،
جیسی اس کی ماں میں سے آتی ہو گی، شانزے حسین کے بیڈ پے پڑے ہاتھ پے جھکی تھی..
“ماموں جان” دیکھیں میں ہوں آپ کی زینب کی شانزے.. اس نے دل میں کہا تھا..
جانے کسی عقیدت تھی کہ اس کی آنکھیں بہنے لگیں تھی.. اس کے آنسو حسین کی ہتیلی پے گرے تھے..
حسین کے ہاتھوں میں جنبش ہوئی تھی،
شانزے کو کچھ سمجھ نہیں آیا اس لئے جلدی سے پہلے اپنے اور حسین کے ہاتھ پے گرے آنسو صاف کے تھے..
زینی… اسی وقت حسین نے آنکھیں کھولیں تھیں…
ارے شانزے بیٹا آپ.. حسین نے اپنی آنکھیں صاف کی تھیں..
شانزے کچھ جھینپ گئی تھی، اس نے غور سے انھیں دیکھا تھا،
وہ دونوں ہی ایک دوسرے پے حیران اپنے جذبات کو کنٹرول کر رہے تھے.
کب آئینں آپ..؟؟ حسین اٹھ کر بیٹھے تھے..
بس ابھی.. شانزے اٹھ کر ان کے لئے جوس نکالنے لگی تھی..
بیٹا رہنے دو تمہاری آنٹی اکر کر لیں گی تم یہاں اکر بیٹھو میرے پاس حسین نے اسے بلایا تھا.
پر وہ پھر بھی ان کے لئے جوس دال کر لے آئ تھی..
بس اتنی سی بات تھی.. شانزے نے جوس کا گلاس پکڑایا تھا..
اب تم بتاؤ.. کیسی طبیعت ہے اب..؟؟ حسین کی آنکھوں میں فکر نمایاں تھی..
عثمان نے بتایا تھا، میرا دل تو بہت اداس ہو گیا تھا. حسین نے اس کی حیرانگی دیکھ کر بتایا تھا.
شانزے ا آنکھیں پھر پگھلنے لگیں تھیں،، لیکن اس نے خود کو سمبھال لیا تھا..
میں ٹھیک ہوں.. آپ پریشان نہ ہوں، ڈاکٹر نے بھی آپ کو مانا کیا ہے نہ. شانزے بہت پیار سے بول رہی تھی..
اس کا دل بھر بھر آرہا تھا.. شانزے سے مشکل ہو رہا تھا اپنے جذبات کو سمبھالنا.
شانزے تم.. اندر آتے یوسف نے حیران ہو کر کہا تھا.
کیوں مجھے نہیں آنا چاہیے تھا کیا..؟ اگر تم بولتے ہو تو نہیں آؤں گی.. اس نے یوسف کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا..
میرا وہ مطلب نہیں تھا.. دراصل.. یوسف نے بولنا چاہے تھا.. جب شاہینہ پہلے ہی بول پڑیں..
یہ کون ہوتا ہے مانا کرنے والا.. انہوں نے اگے ہو کر شانزے کو پیار کیا تھا..
اور اب اس سے حال چل پوچھنے میں مصروف تھیں.. جبکہ یوسف دل جلا کر رہ گیا تھا.
کچھ پل تو اسے برا غصہ آیا تھا.. اسے بلکل توقع نہیں تھی کہ وہ آے گی.. لیکن.. وہ سچ میں ایک ہی تھی..
بھائی کہاں ہیں پاپا.. یوسف نے حسین سے پوچھا تھا..
باہر شاید ڈاکٹر سے ملنے سے گیا ہے.. میں دیکھتا ہوں.. یوسف باہر نکل گیا تھا،
کیسی ہو شانزے.. عثمان نے اندر آتے پوچھا تھا تھا..
ٹھیک ہوں بھائی.. شانزے ہلکہ سا مسکرائی تھی.
لیکن تمہیں آرام کرنا چاہیے تھا. عثمان نے بڑی سنجیدہ گی سے بولا تھا.
جبکہ یوسف سب کو چاے دینے میں مصروف تھا.
بھائی میں ٹھیک ہوں اب.. اور پھر انکل سے تو ملنا تھا..
ہممم… لیکن اب تم ملنے نہیں آسکو گی.. عثمان نے سروس منہ بنایا تھا..
کیوں.. وہ پریشان ہوئی تھی..
کیوں کہ آج تو پاپا کو چوتھی مل جائے گی.. اور وہ گھر آجائیں گئے.. عثمان اب بھی سروس تھا..
ٹھیک ہے تو پھر میں گھر نہیں جاتا.. حسین نے بچوں کی طرح کہا تھا..
شانزے ہنس پڑی تھی.. یوسف نے پلٹ کر دیکھا تھا کل رات سے پہلی دفع اسے لگا تھا کہ وہ دل سے ہنسی ہے..
آپ فکر نہ کریں میں گھر آؤں گی آپ سے ملنے.. شانزے نے ہنستے ہوے کہا تھا..
پکا وعدہ.. حسین نے ہاتھ آگے کیا تھا..
جی بی جان پکا وعدہ. شانزے انکے ہاتھ پے ہاتھ رکھتی روانی میں بول گئی تھی..
لیکن شاید کسی کی نے بھی توجہ نہیں دی تھی.. سواے حسین کے وہ اپنی جگہ سن ہو گئے تھے..
شانزے کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا..
کیوں کہ وہ جانتی تھی،، کہ اس کی ماں انھیں پیار سے بی جان کہتی تھیں..
جوانہوں نے اس کے باپ کو لکھے جانے والے خط میں کی بار لکھا تھا..
اچھا اب چلتے ہیں.. دیر ہو رہی ہے.. شانزے کھڑی ہو گئی تھی.. یوسف بھی خیالوں سے نکل آیا تھا..
وہ دونوں الله حافظ کہتے باہر آگے تھے..
جبکہ حسین خاموشی سے واپس بستر پے لیٹ گئے تھے.
……………………….
جی آپا آپ کیا کہ رہی تھیں… حسان ہال میں اکر ان کے پاس بیٹھے تھے.. تبھی تائی جان نے
حسان میں تم دراصل… اصل میں کیا ہے نہ…
اتنے سالوں سے میں وہاں اتنی دور کبھی روشتوں کو ٹھیک سے محسوس نہیں کر سکی..
پھر تم جانتے ہو الله نے مجھے بیٹی بھی نہیں دی.. تو میں ہمیشہ سوچتی تھی،
کہ میری کمی میرے احد کی دلہن پوری کرے گی.. اس لئے میں نے سوچا کہ میں خاندان کی لڑکی لوں..
اور پھر احد نے بھی اعتراض نہیں کیا اس لئے میں یہاں چلی آئ اپنے خاندان میں..
(اچھا تو میرا شک ٹھیک تھا… تائی جان نے دل میں سوچا تھا).
میں چاہتی ہوں تم مجھے نہ امید نہ کرو.. مجھے اریزے…
بس بس.. اریزے کا نام نہ لینا… میں نے تو برسوں سے سوچا تھا اریزے میری ہے…
تائی جان فل ساؤنڈ میں شروع ہوئی تھیں وہ بھی پوری بات سنے بغیر..
ارے بھابھی میری بات تو پوری ہونے دیں.. روبینہ نے کہنا چاہا تھا..
بس روبینہ تم سے پہلے میرا حق ہے.. آخر کو تایا کا حق زیادہ بنتا ہے..
تائی جان فل سپیڈ میں تھیں اس بار وہ لڑکا ہاتھ سے نہیں جانے دے سکتیں تھیں..
بھابھی آپ ٹھیک کہ رہی ہیں.. پر.. حسن نے کہنا چاہ تھا لیکن تائی جان پھر بیچ میں بولی تھیں..
ارے وجی کے ابا آپ بھی تو کچھ بولیں.. میں کہتی ہوں حسان ابھی مجھے ہاں کرو میں کل برات لے آؤں گی..
تائی جان نے تو حد ہی کر دی تھی.. بس تم نے اریزے میری جھولی میں ڈالی ہے..
حسان اب سچ میں پریشان تھے.. ایک طرف بہن تھی ایک طرف بھابھی..
یہ کیا ہو رہا ہے.. وجی برا حیران تھا.. ان کی آوازیں سن کر وہ اندر ہی آگیا تھا..
ارے کچھ نہیں بس آج میں تمہارا اور اریزے کا رشتہ پکا کر رہی ہوں تم تیاری پکڑ لو.. تائی جان نے بمب پھوڑا تھا.
امی آپ یہ کیا کہ رہی ہیں.. ایسا نہیں ہو سکتا.. وجی نے حسان کی مشکل آسان کی تھی..
ارے لو کیوں نہیں ہو سکتا کیا خرابی ہے اریزے میں.. تائی جان نے ابھی بھی بات جاری رکھی تھی..
امی میں نے کبھی اریزے کو اس نظر سے نہیں دیکھا.. وہ میرے لئے بہنوں جیسی ہے.. وجی پریشان تھا.
لو بھئی، یہ بھی نئی کہی، ارے لیکن یہ رشتہ جائز ہے.. تائی کو ہونا منصوبہ ڈوبتا محسوس ہوا تھا.
آپ ٹھیک کہ رہی ہیں. لیکن میں نے عنیقہ اور اس میں کوئی فرق نہیں سمجھا تو میں کیسے..
اور سب سے بڑی بات میں کہیں اور انٹرسٹڈ ہوں.. وجی نے گویا دھماکہ کیا تھا..
کمرے میں خاموشی چاہا گئی تھی.. تائی جان کا دل چاہا تھا وہ بیٹے کا منہ رنگ دیں لیکن سب کا لہٰذ کر گیں.
ارے میں نہیں مانتی کوئی پسند وسند… جو میں نے کہ دیا تمہیں مانا پڑے گا.. تائی جان نے ہٹ دھرمی دکھائی تھی.
ٹھیک اگر آپ کو میری پسند قبول نہیں.. تو میں پھر اس گھر میں نہیں رہوں گا، چلا جاؤں گا. اور یاد رکھیے گا..
میں نے واپس کبھی نہیں آنا.. وجی نے دھمکی دی تھی..
ارے جاؤ.. جاؤ بہت دیکھ…. بس بیگم بہت ہوا چھپ کر جائیں.. فرقان نے پہلی بار مداخلت کی تھی بات میں..
وجی تم جہاں چاہتے ہو تمہاری شادی وہیں ہو گی.. تایا جان نے انھیں ٹھنڈا کیا تھا آخر کو وہ ان کا سہارا تھا..
یہ آپ کیا کہ رہے ہیں.. بس بیگم اب ایک لفظ اور نہیں.. فرقان کی آواز اب کی بار کافی بلند تھی..
اور صاحب زادے بتا دیں کب جانا ہے.. تایا جان نے اب کی بار وجی کو مخاطب کیا تھا..
پاپا میں آج ہی ان لوگوں کو گھر بلا لیتا ہوں.. وجی نے جلدی سے کہا تھا، انھیں بھی ماں سے خطرہ پر گیا تھا..
ارے لو یہ بھی نئی آئ ہے.. اب لڑکی والے آیئں گئے،، تف ہے بھئی تائی جان کو تو پتنگے لگ گئے تھے..
ابا.. میرے باس کی بیٹی ہے.. بہت بارے گھر میں رہتے ہیں وہ لوگ میں چاہتا ہوں دیکھ لیں کہ ہم لوگ کیسے ہیں.
وجی نے صفائی دی تھی…
آپ میرا خیال ہے، وجی سہی کہ رہا ہے.. می جانی نے اس کی حمایت میں وٹ کیا تھا..
میرا بھی یہی کھیل ہے.. حسان نے بھی اپنا وٹ دیا تھا..
ہاں ہاں سب ہم خیال ہیں.. تو بولو پھر دیر کیسی، تائی جان جو شوہر کے خیالات سے واقف تھی جل کر بولیں..
چلو بھائی بہت مبارک ہو تمہیں.. حسان نے بھتیجے کو گلے سے لگایا تھا..
ارے نام تو بتا جا کل موئیکا، وہ دونوں باہر نکل رہے تھے جب انہوں نے پیچھے سے کہا تھا،
مانیہ.. وہ دونوں چلے گئے تھے، محفل برخواست تھی..
تایا جان اپنے بکول تائی جان کے اپنے حجرے میں گھس گئے تھے..
جبکہ می جانی اپنی بہن کو لے کر اچھی سی چے پائن چلیں گئی تھیں..
جبکہ روبینہ بیگم کی بات بیچ میں رہ گئی تھی..
……………………….
کیا ضرورت تھی تمہیں آنے کی… آرام نہیں کر سکتیں تھیں… یوسف نے گاڑی چلاتےغصے سے کہا تھا..
کر سکتی تھی.. لیکن پھر سوچا تمہارا سکون برباد کون کرے گا… شانزے نے ہنستے ہوے کہا تھا.
میرا سکون برباد کرنے کے لئے ساری زندگی پڑی تھی، آرام سے کر لیتیں جلدی کس بات کی تھی..
وہ ابھی بھی گھسے میں تھا..
بس بس.. یہ باتیں کہانیوں میں، ڈراموں میں اچھی لگتی ہیں، اصل زندگی میں یہ سب نہیں ہوتا..
شانزے کی ہنسی پھیکی تھی اس بار.. (اسے اپنی ماں کا خط یاد آیا تھا.
جس میں اس کی ماں نے رو رو کہ اس کے بیوفا باپ کی منت کی تھی کہ وہ اسے نہ چوڑے..)
یوسف اس کی طرف پوری طرح اس کی طرف مڑا تھا..
نہ ڈرامہ… نہ کہانی.. میں اپنے پورے ہوش حواس میں کہتا ہوں.
کہ میں یوسف میر.. نہ صرف اپنا سکون، بلکہ اپنی پوری زندگی شانزے حسان کے لئے برباد کر سکتا ہوں.
کچھ دیر کے لئے دونوں کے درمیان خاموشی چاہا گئی تھی..
تم تو یوسف ہو.. تمہیں کوئی ذلیخا مل جائے گی.. شانزے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی تھی..
میں یوسف ہوں پر مجھے ذلیخا نہیں چاہہے… مجھے شانزے چلے گی.. یوسف اب سامنے کی طرف دیکھ رہا تھا..
…………………………..
یہ لو..اس میں سے جو تمہیں اچھی لگے تم اپنے لئے رکھ لو.. جو رہ جائے گی وہ میں لے لوں گا..
(یوسف شاید اس کی دماغی حالت سمجھ رہا تھا…
اس لئے اس نے ان دونوں کی ڈبیٹس تیار پہلے سے کر لی تھی… تاکہ شانزے کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے..)
شانزے نے حیران ہوتے اسے دیکھا تھا.. اور پھر ڈبیٹس دیکھنے لگی تھی..
یہ سب تم نے کب کیا..؟؟ وہ حیران تھی.. ڈبیٹس بہت اچھے ٹوپک پے اور بہت اچھے سے لکھی گیں تھیں…
کل رات میں.. یوسف نے اطمینان سے جواب دیا تھا..
ایک رات میں..؟؟ شانزے اب بھی اپنی حیرانگی ظاہر کی تھی، تو تم سوے نہیں کیا..
(شانزے نے دل میں اس کی قابلیت کی داد دی تھی.)
ہاں، جواب مختصر تھا.
لیکن کیوں… ہمارے پاس آج کا ٹائم تھا.. ہم کر سکتے تھے، شانزے کے دل کو کچھ ہوا تھا..
بس وہ نیند نہیں آرہی تھی تو سوچا کام کر لیا جائے.. یوسف نے پراعتماد لہجے میں کہا تھا..
کچھ دیر شانزے دیکھتی رہ گئی تھی.. اسے یاد آیا تھا وہ کل پوری رات سکوں سے سو تھی.. جبکہ یوسف…
کیا ہوا کہاں گم ہو گیں…؟؟؟ یوسف نے اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرایا تھا..
کہیں نہیں… تھنک یو.. شانزے مسکرائی تھی..
تھنک یو نہیں ٹریٹ.. یاد ہے نہ… یوسف نے اسے کرے تیوروں سے دیکھا تھا..
ہاں ہاں.. یاد ہے.. پہلی بار اس کی آنکھیں اس کے ساتھ مسکرائیں تھیں..
یوسف کو اندر سکون پھیلتا محسوس ہوا تھا، وہ سچ میں اپنی ویران آنکھوں سے اسے بسکوں کرتی رہی تھی..
چلو اب بتاؤ تم نے دونوں میں سے کس کی تیاری کرنی ہے.. یوسف نے اس سے پوچھا تھا..
ہممم… تم بتاؤ میں کس کی تیاری کروں..؟؟ کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے دونوں پپرز یوسف کے آگے کیے تھے..
یوسف مسکرایا تھا، سامنے بیٹھی اس بےترتیب لڑکی پے اسے ڈھیروں پیار آیا تھا..
(جو ہزار بار ٹوٹی.. ہزار بار بنی… جو اندرسے بہت صاف شفاف ہے.. بہتے آبشار کی طرح.
جس کی معصومیت اس کے چہرے سے ہی نہیں آنکھوں سے بھی جھلک پڑتی تھی.)
کیا ہوا کیا سوچ رہے ہو اب بتاؤ بھی… شانزے نے پوچھا تھا. وہ مسکرانے لگا تھا، اب کیا بتاتا وہ کیا کیا سوچتا تھا..
اچھا.. تو پھر یہ والی.. ویسے تو یہ دونوں ٹوپک میں نے لکھیں پر یہ میرے دل کے بہت قریب ہے..
یوسف نے پیپر اس کی طرف بڑھایا تھا.. اور شانزے نے چھپ چاپ اس سے لے لیا تھا..
……………………………
وہ لوگ کافی حد تیاری کر چکے تھے.. اس لئے اب کینٹین کی طرف آگے تھے..
آج کل یہی ان کا دوسرا ڈیرہ تھا.. وہاں سب تھے ہمیشہ کی طرح لیکن رانیہ غائب تھی..
کیا ہوا سب خاموش کیوں ہو گئے ، شانزے نے بیٹھتے ہوے پوچھا تھا.. اس نے غیر معمولی خاموشی محسوس کی تھی..
بولو… کیا ہوا ہے.. شانزے اب رو دینے کو تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ لوگو ایسے کیوں کر رہے ہیں..
(کل سے کچھ ایسا ہی تھا، وہ بات پے بات رونے کو تیار تھی اور یوسف نے یہ بات محسوس کی تھی تبھی اس نے
محسن کو اشارہ کیا تھا.اور وہ بول پڑا تھا..)
وہ کیا ہے نہ شانزے…. وہ بولتا اس سے پہلے سب شور کرنے لگے تھے..
لوزر…. لوزر… یہ… وہ سب شور کر رہے تھے..
شانزے کی روکی سانس ان کے شور کے ساتھ بحال ہوئی تھی…
ارے کوئی بتاؤ تو ہوا کیا..؟؟ شانزے نے حیران ہوتے بولا تھا.
ہونا کیا ہے.. موصوف کہہ رہے تھے لڑکیاں کبھی چپ نہیں رہتیں، تو لگ گئی شرط..
جو بولے وہ کنڈی کھولے.. میرا مطلب ہے.. کینٹین کا بل دے… ذرا نے جوش سے بولا تھا..
شانزے کو ہنسی آئ تھی، ارے واہ یہ تو بہت مزے کا تھا..
ہاں… یہ تو ہے.. مہک نے اس کی طرف بہت پیار سے دیکھا تھا..
کیا خاک مزے کا تھا تمہاری وجہ سے میں ہر گیا یوسف نے منہ بنایا تھا..
بس.. بس.. زیادہ ڈرامہ نہیں.. ویسے بھی ہار ہار ہوتی ہے.. اصلی نقلی نہیں.. صبا نے فیصلہ کیا تھا..
اوکے لیڈیز…. تو بتایئں اپنی اپنی فرمائشیں… محسن نے تبیداری دیکھائی تھی..
وہ کاؤنٹر کی طرف بڑھا تھا جب یوسف بھی پیچھے گیا تھا..
روکا جا میں دیتا ہوں.. یوسف نے اسے پیسے دینے سے روکا تھا..
کیوں..؟؟؟ محسن حیران ہوا تھا..
کیوںکہ کہ تو میرے کہنے پے ہارا تھا.. یوسف نے اسکے کندھے پے ہاتھ رکھا تھا.
بس کر دے پلیز… تو اس سے محبت کرتا ہے.. اور اس حوالے سے میرے لئے بہت محترم ہے وہ..
اور پھر صرف یہی بات نہیں آخر کو دوست ہے میری.. اور پھر تو بھی میرا دوست ہے…
تو تجھے لگتا ہے میں دوستی میں کچھ کرنے کے پیسے لوں گا تجھ سے.. محسن کا بہت دکھ سے کہا تھا..
اچھا.. اچھا.. زیادہ اموشنل مت ہو.. رولاے گا کیا اب.. یوسف نے اس کی کمر میں ہاتھ مارا تھا.
وہ ٹیبل کی طرف آگے تھے..سب نے چیزوں سے انصاف شروع کر دیا تھا.
وہ سب آپس میں ہلکا پھلکا مذاق کر رہے تھے..
سواے شانزے کے وہ صرف دیکھ رہی تھی… کیا ہوا کھاؤ نہ.. صبا نے اس کو ہلایا تھا..
ہاں.. ہاں.. کھاؤ.. کیا یاد کرو گی کس سخی سے پلا پڑا تھا. محسن نے کلر جھاڑا تھا..
کنگلے سے کہو.. مہک نے بات ماری تھی،،، وہ سب ہنسنے لگے تھے..
……………………………
شانزے دونوں پاؤں سیٹ پے رکھ کر بیٹھی تھی، اس نے آنکھیں بند کر کے بیک سیٹ سے سر ٹکایہ تھا.
یوسف کو لگا وہ سو رہی ہے اس لئے اس نے ساؤنڈ سسٹم بینڈ کیا تھا..
کیا ہوا..؟ بینڈ کیوں کر دیا.. شانزے نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا..
مجھے لگا تم سو گئی ہو.. یوسف نے صاف گوئی سے کہا تھا.
نہیں میں جگ رہی ہوں.. شانزے شرمندہ ہوئی تھی..
تو پھر مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتیں تھیں..؟؟ یوسف نے جان بوجھ کر تنگ کیا تھا.
ایسا نہیں ہے.. شانزے نے ایک ڈیم پریشان ہو کر کہا تھا، یوسف کو ہنسی آئ تھی..
اچھا تو پھر کیسا ہے..؟؟ یوسف نے پھر سے پوچھا تھا.
بس ایسے ہی, شانزے نے بات ادھوری چھوڑی تھی اور دوبارہ سر سیٹ سے لگے تھا بس اس بار آنکھیں بینڈ نہیں کن تھیں.
اچھا اب ایسا منہ تو نہ بناؤ ورنہ.. یوسف نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑی تھی..
ورنہ کیا….؟؟؟ شانزے پھر سے اٹھ بیٹھی تھی..
چھوڑو تم ناراض ہو جاؤ گی… یوسف نے اب پھر اسے تانگ کیا تھا..
یوسف بتاؤ.. ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا.. شانزے نے اپنے انداز میں دھمکی دی تھی..
فور یور کاینڈ انفورمشن… تم سے برا کوئی ہو بھی نہیں سکتا.. یوسف نے اسے چڑایا تھا اور وہ چڑ بھی گئی تھی…
بتاؤ نہ یار ورنہ کیا… شانزے نے مقا بنا کر اس کی بازو میں مارا تھا..
بتا دوں…؟؟ یوسف نے کنفرم کیا تھا..
شانزے نے ہاں میں سر ہلایا تھا..
ورنہ یہ کہ جب تم ایسے منہ بناتی ہو تو مجھے… مجھے ہنسی آجاتی ہے یار.. یوسف نے کہہ کر قہقہہ لگایا تھا..
اس کے ایسے ہنسنے پر شانزے کو بھی ہنسی آگئی تھی..
اور لیں میڈم گھر بھی آگیا.. یوسف نے گاڑی روکی تھی..
اب تم آرام کرنا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے باقی تیاری کل کریں گے ٹھیک ہے..
یوسف نے اس کے سر میں ہاتھ پھیرا تھا..
کل ملتے ہیں.. شانزے کہ کر اتر گئی تھی.. وہ گاڑی کے سامنے سے ہوتی اندر جا رہی تھی.. جب یوسف نے آواز دی..
شانزے.. اس کی آواز سن کر وہ روک گئی تھی..
ہاں… وہ ڈرائیونگ سیٹ کے پاس آئ تھی..
اپنا خیال رکھنا.. پلیز.. یوسف نے بہت پیار سے کہا تھا..
شانزے کے اندر تک سکون پھیلا تھا… اور ہونٹوں بےساختہ مسکراہٹ..
………………………….
وہ اندر آئ تو تو گھر میں غیر معمولی چہل پہل تھی.. ڈراینگ روم سے بارے ہنس بولنے کی آوازیں آرہی تھیں..
اچھا ہوا تم آگئیں… کیسی طبیعت ہے.. می جانی اسے اندر آتے دیکھ کہا تھا وہ خود کچن میں مصروف تھیں..
مہمان ہے ہیں..؟؟ شانزے وہیں ہال میں ڈائننگ میں بیٹھ گئی تھی..
ہاں.. وجی کا رشتہ تہہ کر رہے ہیں، لڑکی والے ہیں اندر.. انہوں نے اسے اطلاع دی تھی..
اچھا یہ کب ہوا…؟؟ شانزے حیران تھی..
آج صبح وجی نے کہا وہ پسند کرتا ہے کسی کو… تو بس پھر تمہارے تایا جان اور پاپا نے کہا مل لیتے ہیں..
جب لڑکا لڑکی راضی، تو پھر کیا کرے گا قاضی.. انہوں نے اپنے آم سے انداز میں کہا تھا.
اوہ – تو وجی بھائی نے بتا دیا آخرکار.. شانزے نے پانی پیتے کہا تھا..
تم جانتیں تھیں.. می جانی حیران ہوئی تھیں..
ہاں زیادہ کچھ نہیں بس ایک دو بار فون پے بات کرتے دیکھا تھا.. شانزے نے سچ کہا تھا..
چلو اب تو پتا چل ہی گیا ہے.. می جانی تیزی سے ہاتھ چلاتے کہا تھا..
سب اندر ہیں.. شانزے نے کچھ سوچتے ہوے پوچھا تھا..
ہاں بھائی… تمہاری تائی اور پھوپھی دونوں وہیں ہیں.. عنیقہ کو تو ہونا ہی تھا تم جانتی ہو اس کی عادت..
تم بیٹھو میں تمہیں کچھ ملک شیھک دیتی ہوں.. می جانی نے فریج کی طرف گیں تھیں..
نہیں میں ٹھیک ہوں لیں میں آپ کی مدد کر دیتی ہوں.. شانزے آپ آئل میں ڈالے رولز میں چمچہ ہلا رہی تھی.
نہیں شانزے پہلے طبیعت ٹھیک نہیں ہے تم آرام کرو.. انہوں نے روکنا چاہ تھا..
میں ٹھیک ہوں آپ فکر نہ کریں.. اس نے ایک ہاتھ سے جوس پیا تھا..
………………………….
اریزے بارے سہی وقت پے آئ ہو چلو میرے ساتھ یہ سامان اندر لے چلو.. می جانی نے آتے ہی اریزے کو حکم دیا تھا.
کون آیا ہے.. اہتمام دیکھ کر اریزے نے پوچھ لیا تھا.
ارے وہ بات میں بتاؤں گی پہلے تم یہ سب رکھواؤ.. می جانی بڑی جلدی میں تھیں..
اوکے… اریزے بارے کھنچ کر کہا تھا، وہ پرس رکھ کر چیزیں اٹھانے لگی تھی، جب شانزے آگئی تھی..
تم جاؤ فرش ہو یہ میں کر لیتی ہوں، اس نے اریزے کے ہاتھ سے چیزیں لیں تھیں..
ارے نہیں تم آرام کرو.. اریزے نے کہنا چاہا تھا پر شانزے کے گھورنے پے چھپ چاپ چلی گئی تھی..
می جانی کچھ چیزیں اندر رکھ کے آگئیں تھیں.. جب شانزے اندر گئی.. اسلام وعلیکم… اس نے اندر آتے کہا..
اور اسے لگا کمرہ پورا گھوم گیا ہے.. کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی اس کی پہلی نظر رانیہ پے پڑی تھی..
تم… بے اختیار رانیہ کہ منہ سے نکلا تھا.. جبکہ شانزے کو چپ لگ گئی تھی..
تم دونوں ایک دوسرے کو جانتی ہو اس کے برابر میں بیٹھی لڑکی حیرت سے بولی تھی..
ہاں… یہ یونیورسٹی میں میری جونئر ہے.. آپی..
(اب وہ سمجھ گئی تھی کہ وجی کی ہونے والی سسرالی رانیہ کے گھر والے ہیں..)
اوہ – اچھا لڑکی نے ٹھنڈی آواز میں کہا تھا…
آؤ بیٹا اندر آؤ.. یہ بچی کون ہے بہن بڑی پیاری ہے… چھوٹے صوفے پے بیٹھی رانیہ کی ماں نے کہا تھا..
ارے.. یہ بھئی یہ شانزے ہے.. میرے دیوار کی بیٹی ہے.. ویسے اس کی اپنی تو ایک بیٹی ہے..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: