Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 27

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 27

–**–**–

حسین نیوز پیپر پڑھ رہے تھے.. جب کسی نے نے ان کی آنکھوں پے پیچھے سےاکر ہاتھ رکھا تھا.
شانزے.. انہوں نے بنا کسی تاخیر کے نام لیا تھا..
یہ کیا انکل آپ نے تو ایک سیکنڈ میں پہچان لیا.. شانزے پاس ہی صوفے بیٹھتے کہا تھا.
ہاں.. بیٹیاں بھلے دور ہوں پر وہ ہمیشہ دل میں رہتی ہیں.. حسین کہ کہنے پے شانزے سوچ میں پڑھ گئی تھی.
آجائیں اب ناشتہ کر لیں… اریزے، شانزے آپ دونوں بھی آؤ.. شاہینہ نے ناشتہ لگایا تھا..
نہیں آنٹی.. ہم ناشتہ کر کرے ہے ہیں.. شانزے نے مانا کیا تھا..
اور ویسے بھی میں اب نکلتی ہوں.. اریزے اٹھ کی کھڑی ہوئی تھی.
اریزے شانزے دونوں چھپ چاپ عضو کوئی بہانہ نہیں.. شاہینہ بیگم نے ناراض ہوتے کہا تھا..
آجاؤ بیٹے.. اریزے آپ کو ڈرائیور چھوڑ آے گا.. حسین نے دونوں کی بلاتے ہوے خود چیر سمبھال لی تھی..
پاپا بھائی لے جائے گا نہ.. یوسف نے وہیں کاؤچ پے بیٹھے کہا تھا.
وہ آج دیر سے جائے گا رات کو کہہ کر سویا ہے،
کہ صبح نہ اٹھانا شاہینہ نے اپنی طرف سے اس کی معلومات میں اضافہ کیا تھا.
گڈ مورننگ ایوری ون… عثمان نے اوپر سے آتے کہا..
لیں آگیا آپ کا لال.. یوسف نے مسکرا کر کہا..
تم.. تم نے تو دیر سے جانا تھا نہ.. شاہینہ نے حیرت سے پوچھا..
تو کیا آپ نے ناشتہ کم بنوایا ہے.. عثمان نے حیرت سے پوچھا سب ہنسنے لگے..کہ ماما نے غور کر دیکھا تھا.
آپ نے بولا ایسے تو مجھے لگا.. عثمان نے صفائی دی تھی.
تمہیں کچھ زیادہ لگنے لگا ہے.. انہوں نے تسلی کی تھی عثمان کی، اب تمہیں کیا کارڈ بہجوں.. نشانہ اب یوسف تھا..
میرا ایک نام ہے.. آپ وہ بھی لے سکتی ہیں.. جیسے سب کا لے کر بلایا ہے.. یوسف نے اپنی ناراضگی بتائی تھی..
سب پھر سے ہنسنے لگے تھے.. یوسف چپ چاپ ناشتہ کرو..
پتا نہیں کب بڑے ہوں گئے دونوں..
………………………………..
شانزے خوش تھی، آج کی صبح خوبصورت تھی. اور کچھ یوسف کے اچانک سے آنے نے بنا دی تھی.
اس کے اندر سکون تھا، جو اس کی آنکھوں سے جھلک رہا تھا..
اور کہیں نہ کہیں یہ سکون یوسف کے اندر بھی اتر رہا تھا. وہ صبح سے ہی ہنس رہی تھی.
حسین کو مل کہ وہ دونوں یونیورسٹی آگے تھے، اپنی تیاری کر کے وہ دونوں اب کیفے کی طرف آے تھے..
اوہ – تو آگے وننرز… محسن نے پر جوش انداز میں کہا تھا.
وہ سب بھی کلاس ختم ہونے کے بعد وہیں آگے تھے.
ابھی لسٹ سیشن باقی ہے.. یوسف نے محسن کے آگے سے فرنچ فریز اٹھاے تھے..
تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے..؟؟ سب جانتے ہیں وہ ہمیشہ تم سے ہارتا رہا ہے.. مھک نے بہت عترا کے کہا تھا.
دیکھو ہمارے اختلافات اپنی جگہ ، لیکن وارث بہت اچھا کمپیٹیٹر ہے، اسکی اپنی سکلز ہیں..
انھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور ہر جیت میں تھوڑا ہاتھ قسمت کا بھی ہوتا.
یوسف نے بڑی آرام سے مہک کو سمجھایا تھا..
تو یہاں بیٹھ ہیں، وارث آیا تھا..
آجاؤ تم بھی یہیں.. یوسف نے اس کو بیٹھے کے لئے جگا دی تھی.
نہیں.. میں چلتا ہوں تیاری کرنی ہے ابھی تھوڑی اور آخر کو تمہیں ہرانا ہے مجھے،
وارث کے کہنے پے سب کو غصہ آیا تھا.. سواے یوسف کے وہ ہنسنے لگا تھا..
ویسے آل تھے بیسٹ بوتھ آف یو… وارث وہاں سے چلا گیا تھا..
دیکھا یس کا منہ کبھی سیدھا نہیں ہو سکتا.. ذرا کو نے غصے سے کہا تھا..
اچھا چھوڑو یہ تو کل دیکھا جائے گا ابھی سے کیا سوچنا..
شانزے نے یوسف کو دیکھا تھا.. وہاں غصے کے یا برا منانے جیسے کوئی تاثرات نہیں تھے.
وہ بلکل ویسا نہیں تھا، جیسے اس نے پہلی ملاقات کے بعد سوچا تھا.
وہ سر جھٹک کے مسکرائی تھی.. تمہیں کیا ہوا..؟؟
کچھ نہیں… وہ کہتی کھڑی ہوئی تھی..
تو پھر…؟؟؟ یوسف نے پوچھا تھا.
میں بس یہ بکس واپس کر کے آئ.. شانزے نے کچھ بکس دیکھیں تھیں..
چلو ساتھ چلتے ہیں.. یوسف کھڑا ہوا تھا..
ارے نہیں میں بس ابھی تم روک میں آتی ہوں.. شانزے کہ کہنے پے وہ بیٹھ گیا تھا.
(لیکن وہ چاہتا یہی تھا کہ ساتھ جائے لیکن… وہ اپنی کوئی بات اس پے تھوپنا نہیں چاہتا تھا..)
شانزے چلی گئی تھی…
…………………………….
وہ بکس واپس کر کے آنے لگی تھی.. جب رانیہ سے ٹکراؤ ہوا تھا. جو تین ، چار لڑکیوں کے ساتھ تھی.
کیسی ہو شانزے.. ؟؟ اس نے شانزے کا راستہ روکا تھا.
میں ٹھیک ہوں، شانزے نکلنا چاہتی تھی، لیکن رانیہ نے اسے موقع نہیں دیا..
اور تمہاری تیاری..؟؟ رانیہ کی آنکھوں میں کچھ عجیب سا تھا، شانزے کو پہلی بار اس سے ڈر لگا تھا.
اچھی ہے.. جواب مختصر تھا وہ چاہتی تھی وہ جلد از جلد چلی جائے..
ہاں بھئی تم نے تو کرنی ہی ہے تیاری.. آخر کو تمہارے پیچھے کون بیٹھا ہے، جو یہ سب تمہارے لئے کرے..
رانیہ نے ہر لفظ چبا چبا کر کہا تھا..
رانیہ پلیز سب کے سامنے تماشا نہیں بناؤ.. شانزے کی آواز کانپی تھی..
ارے میں تو بس اتنا کہ رہی ہوں.. کے بنا ماں پاب کے رہنا کتنا مشکل ہے نا..
وہ بھی تب، جب ان کا کچھ آتا پتا نہیں ہو.. سچ شانزے بہت دکھ ہوا مجھے سن کے..
کہ تمہارے ماں باپ کا نہیں پتا کہ وہ کون تھے.. رانیہ بولے جا رہی تھی..
اور پیچھے کھڑی چاروں لڑکیاں اپنی باتوں سے حیرت کا اظہار کر رہیں تھیں.
تم جانتی ہوں نہ ایسے بچوں کو دنیا کس نام سے پکارتی ہے.. رانیہ نے پھر سے کہا تھا..
شانزے گرنے لگی تھی.. جب اس نے دیوار کا سہارا لیا تھا..
(صفیہ تقریباً بھاگتی ہوئی آئ تی.. یوسف جلدی چلو… اس نے ہانپتے ہوے کہا تھا..
کیا ہوا سب ٹھیک ہے..؟ یوسف کچھ پریشان ہوا تھا.
وہ شانزے وہاں لائبریری کے باہر.. وہ رانیہ کے ساتھ… وہ ہانپ رہی تھی اس سے بولا نہیں جا رہا تھا.
لیکن یوسف نے ایک سیکنڈ کا وقت بھی نہیں لیا تھا اٹھ کے جانے میں.. محسن سمیت وہ تینوں بھی پیچھے گیں تھیں..)
وہ کیا کہتے ہیں.. رانیہ نے سوچنے کی ایکٹنگ کی تھی..
برا خراب سا لفظ ہے… اس نے اپنے ذھن پے زور ڈالنے کی بھر پور اداکاری کی تھی..
ہاں.. یاد آیا، ناجائز… شانزے اپنے دونوں ہاتھ کانوں پے رکھتے بیٹھتی چلی گئی تھی..
شٹ اپ… رانیہ… پیچھے سے یوسف دھاڑا تھا، تم ہوش میں ہو.. یہ سب کیا بکواس کر رہی ہو..
رانیہ نے سوچا نہیں تھا کہ یوسف اچانک آجاے گا.. اور نہ صرف آے گا بلکے شانزے کی سائیڈ بھی لے.
رانیہ مجھے تم سے امید نہیں تھی.. تم کب سے ایسی ہو گیں…؟؟ مجھے یقین نہیں آرہا تم اتنا گر سکتی ہو.
رانیہ کا صابر جواب دے گیا تھا، اس نے کبھی نہیں سوچا تھا،
کہ یوسف اسے اس طرح سے سب کے سامنے ذلیل کر سکتا ہے.
مجھے بھی یقین نہیں آتا کے تم اس دو ٹکے کی لڑکی کے لئے، جس کی نہ ماں کا پتا نہ باپ کا…
شٹ اپ… یوسف رانیہ کی طرف بڑھا تھا.. وہ ڈر کے پیچھے ہٹی، باقی سب لوگ حیران تھے..
محسن یوسف کو روکنے کے لئے آگے بڑھا تھا.. لیکن اس سے پہلے یوسف نے خود پے کنٹرول کیا تھا.
ایک بات کان کھول کے سن لو.. کہ اگر تم نے اس کو گلی دی، تو میں سمجھوں گا، تم نے مجھے گلی دی ہے.
یوسف نے آگے بڑھ کے شانزے کا ہاتھ پکڑ کے اٹھایا تھا، وہ اسے لے جا رہا تھا.
میری بات سنو یوسف.. رانیہ کا غصہ اوڑھ گیا تھا.. اب وہ پریشان تھی اس کا مسلہ شانزے تھی، یوسف نہیں.
آج کے بعد مجھے اپنی شکل مت دیکھانا، یوسف نے اس کی طرف بغیر دیکھ کہا تھا..
وہ شانزے کو لے کر چلا گیا تھا…
سب نے رانیہ کو ملامتی نظروں سے دیکھا تھا.. ایک ایک کر کہ سب چلے گئے تھے..
رانیہ وہاں اکیلے کھڑی رہ گئی تھی.. جو تماشا اس نے شروع کیا تھا.. وہ اس پے ہی ختم ہو گیا تھا..
……………………….
شانزے خاموش تھی… وہ رو نہیں رہی تھی، لیکن ٹھیک بھی نہیں تھی..
پچھلے ایک گھنٹے سے وہ گاڑی یوں ہی سڑکوں پے دوڑا رہا تھا..
یوسف نے گاڑی سائیڈ میں لگائی تھی.. شانزے پلیز کچھ تو بولو..
کیا بولوں…؟؟ شانزے کی آواز سپاٹ تھی.
کچھ بھی یار.. اسے برا بھلا بولو اپنے دل کی بھڑاس نکالو.. لیکن بولو، وہ جنجھلایا تھا..
اس نے کک غلط نہیں کہا، اس نے ووہی کہا جو سچ ہے، تو پھر میں کیوں برا مانوں.. شانزے کی آواز اب بھی ویسے تھی.
اس کی باتیں کیا تمہارے لئے اتنی اہمیت رکھتیں ہیں..؟؟ اور میں ؟؟ میری کوئی اہمیت نہیں…؟؟ یوسف تنگ آگیا تھا.
اس کی آنکھوں میں اتنا دکھ تھا، کے شانزے برداشت نہیں ہوا تھا.
اس نے اپنا سر یوسف کے کندھے سے ٹیکا لیا تھا.. (اب وہ کیا بتاتی اسے کے وہ کتنی اہمیت رکھتا ہے..)
اس نے آنکھیں بند کر لیں تھیں، آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگے تھے..
یوسف کو اس کا جواب مل گیا تھا، وہ مسکرایا تھا، پھر آہستہ سے اس کے آنسو صاف کیے..
بھول جو سب شانزے.. کیوںکہ اگر تم ڈرو گی تو دنیا تمہیں ڈراے گی..
تو مقابلہ کرو… مجھے یہ شانزے نہیں پسند جو کسی دو باتیں سن کے روے..
مجھے وہ شانزے پسند ہے.. جو کسی کی غلط بات برداشت نہیں کر سکتی..
جو اینٹھ کا جواب پتھر سے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے..
مجھے وہ شانزے پسند ہے جو زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں دال کر اپنا حصہ وصول کرنا جانتی ہے..
یوسف آہستہ آہستہ بولتا گاڑی چلا رہا تھا.. اور اس کا ہر لفظ شانزے کو سکون بخش رہا تھا…
………………………………
ہم یہاں کیوں آے ہیں..؟؟؟ شانزے نے حیران ہو کر پوچھا تھا.
جب یوسف نے اسے بڑی خوبصورت بلڈنگ کے سامنے گاڑی روک کر اترنے کا کہا تھا.
اندر چلو سب سمجھ آجاے گا.. یوسف نے اسے آنے کا اشارہ کیا تھا.
وہ دونوں اندر آے تھے.. شانزے ابھی تک کچھ پریشان تھی کیونکہ اتنا اندازہ تو اسے ہو گیا تھا کہ یہ آفس ہے…
یوسف نے دروازے کھولا تھا.. سرپرائز…
شانزے عثمان کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی.. جب یوسف روم میں رکھے صوفے پے بیٹھ گیا تھا..
ارے واہ – شانزے یہ تو بہت اچھا سرپرائز ہے.. عثمان نے خوش ہوتے کہا تھا..
بیٹھو بھی کھڑی کیوں ہو… عثمان نے اسے اشارہ کیا تھا.. اور خود فون کر کے اریزے کو بولیا تھا..
اریزے شانزے کو دیکھ کر خوش ہوئی تھی.. مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا تم یہاں آئ ہو..
چلو بتاؤ تم دونوں کی لو گئے عثمان پوچھا تھا..
کیا لو گئے مطلب…؟؟ بھائی ہم لنچ کریں گئے.. یوسف نے آرام سے جواب دیا تھا..
نہیں رہنے دیں بھائی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے.. شانزے یوسف کے کہنے پے شرمندہ ہوئی تھی..
اچھا ٹھیک ہے.. پھر تم مت کرنا ہم تینو کر لیں گئے.. یوسف نے اٹھتے آرام سے جواب دیا تھا..
وہ سب ہنس پڑے تھے..
………………………………
لنچ سے کافی لیٹ ہو گئے تھے.. اس لئے آفس جانا فضول تھا.
لیکن عثمان کو آج صدیا سے ملنے جانا تھا اس لئے وہ واپس چلا گیا تھا.
اور یوسف ان دونوں کو گھر چھوڑنے آیا تھا، پورے راستے وہ شانزے کو تانگ کرتا آیا تھا..
اور شانزے بھی اسے خوب جواب دیتی رہی تھی، اریزے کو وہ اب کافی حد تک نارمل لگی تھی..
جس کا پورا کریڈٹ یوسف کو جاتا تھا.. ان دونوں کا ساتھ اس کو بہت اچھا لگا تھا.
یوسف کو دیکھ کر تسلی ہوئی تھی، کہ اس کی بہن کا مستبل روشن ہے..
چلیں جی آگئی آپ دونوں کی منزل.. یوسف کی آواز نے اریزے کو خیالوں سے نکالا تھا،
ورنہ وہ تو دونوں کی شادی کے بعد ان کے بچوں کی شادی کی تیاری بھی کر بیٹھی تھی..
اریزے کو خود پے ہنسی آئ تھی.
جانتی ہیں.. اکیلے میں ہنسنے والوں کو کیا کہتے ہیں، یوسف نے فرنٹ میرر سے دیکھا تھا..
ہاں.. یوسف… اریزے نے مسکرا کے کہا تھا..
مطلب.. یوسف کک حیران ہوا تھا..
ملب یوسف کہتے ہیں.. شانزے نے بہن کی سائیڈ لیتے کہا تھا..
اور وہ دونوں ہنسنے لگیں تھی.. یوسف ان کی بات کا مطلب سمجھ گیا تھا اس لئے ہنسنے لگا تھا.
چلو اب تم بھی اپنی منزل کی طرف.. شانزے اترنے لگی تھی..
منزل تو میری بھی یہی ہے.. بس آنے میں ٹائم لگے گا یوسف نے اپنے بال سیٹ کیے تھے..
مطلب…؟؟ شانزے نے پوچھا تھا.. اسے سمجھ نہیں آیا تھا.. (لیکن اریزے سمجھ گئی تھی.. اس لئے ہنستے ہوے
گاڑی سے باہر آگئی تھی.)
مطلب… یہ کہ میری ٹریٹ کی تیاری پکڑو….. یوسف نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا تھا..
حد ہے تمہاری والی تو.. تو یاد ہے مجھے.. شانزے غصے سے کہتی چلی گئی تھی.
……………………………….
کیا ہوا اتنا پریشن کیوں ہو عمر نے رانیہ سے پوچھا تھا، جو اس سے ملنے کلب آیا تھا.
لیکن رانیہ نے اسے کوئی رسپانس نہیں دیا تھا بلکے وہ اپنا ساراغصہ بال پے اتارنے میں مصروف تھی.
یہی وجہ تھی اب تک اس نے ایک بھی اسٹرائیک نہیں کیا تھا, حالانکہ وہ اس گیم میں ایکسپرٹ تھی.
کچھ نہیں… رانیہ نے جواب مختصر دیا تھا. اس نے ایک بار پھر زور سے بال ماری تھی.
جیسے وہ بال کے بجاے کسی انسان کو پٹخ رہی ہو، نشانہ اس بار بھی چک گیا تھا..
وہ پھر بال اٹھانے لگی تھی جب عمر نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا.
ایسے بال مارنے سے کیا ہو گا ؟؟ تمہارا مسلہ حل ہو گا.. نہیں نہ؟؟
مجھے بتاؤ کیا پریشانی ہے.. میں تمہارا مسلے کا حل تلاش کروں گا.
لیکن ایسے تو میں کچھ نہیں کر سکتا… عمر نے اپنے جذبات سے مجبور ہو کر کہا تھا.
اور عنیقہ کو کافی حد تک اس کی بات پے یقین بھی آگیا تھا.
تم سچ میں میری مدد کرو گئے ؟ وہ کچھ حیران تھی.
ہاں.. عمر نے ایک لفظ میں بات ختم کی تھی..
وعدہ ؟؟ رانیہ نے پھر پوچھا تھا ؟؟
ہاں.. جواب اب بھی مختصر تھا.
ٹھیک ہے، تو پھر میں چاہتی ہوں شانزے اس کمپیٹیشن میں نہ جیتے، اس نے بہت سادھ الفاظ میں مطالبہ بیان کیا.
وہ نہیں جیتے گی.. عمر نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا..
اور پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ رانیہ مسکرائی تھی. عمر کو لگا وہ اپنی سری زندگی اس ایک لمحے کے نام کر سکتی ہے..
…………………………….
تم چلو میں ابھی آیا.. یوسف شانزے کو کہتا گیا تھا..
ہیلو شانزے.. کیسی ہو تم.. تبھی عمر آیا تھا اس نے بڑے جوش میں حال چل پوچھا تھا.
میں ٹھیک ہوں، تم بتاؤ کہاں تھے اتنے دن سے.. شانزے بہت خوشی سے بولی تھی..
بس وہ کچھ بزنس ٹریپ تھے تو اس میں لگا تھا پاپا کہ ساتھ.. عمر انفورمیشن دے رہا تھا.
پھر وہ کافی دیر اس سے باتیں کرتا رہا..
چلو اب میں چلتی ہوں، یوسف کو دیکھ لوں، تم آؤ گئے نہ کمپیٹیشن کے لئے شانزے نے اس سے پوچھا تھا..
ہاں.. ہاں.. ضرور اتنی محنت جو کی ہے.. عمر کا لہجہ کچھ عجیب تھا..
مطلب..؟؟ شانزے حیران ہوئی تھی،
تم لوگوں نے محنت کی ہے بھئی.. وہ کہ کر چل دیا تھا..
شانزے اب یوسف کو دیکھ رہی تھی، اس بات سے بےخبر کے عمر اپنا کام کر گیا ہے..
…………………………….
کام ہوا یا صرف باتیں کر کے آگے..؟؟ رانیہ نے طنز کیا تھا..
ارے یہ لو ہو گیا کام یہ رہی سپیچ… عمر نے اس کے آگے کی تھی..
ہممم…. گریٹ.. رانیہ اس کے ہاتھ سے لیتی مسکرائی تھی..
اور پھر اس نے عمر سے لائٹر لے کر جلا دیا..
جیسے جیسے پپرز جل رہے تھے… رانیہ کو اپنے دل میں لگی آگ پر پانی ڈالتا محسوس ہوا تھا.
……………………………
چلو آڈی میں چلتے ہیں.. شانزے تمہارا نمبر لاسٹ ہے.. تم تیاری کر سکتی ہو آرام سے.. یوسف نے اسے خبر دی تھی.
سب لوگ آڈی میں جمع تھے.. وہ لوگ بھی اپنی جگہ پے آگے تھے،
مس کلثوم کی آواز مائک میں آئ تھی..
میرے پیارے سٹوڈنٹس.. مجھے امید ہے کہ آپ سب کو یہ کمپیٹیشن بہت پسند آیا ہو گا.
اور آپ سب نے اس کو خوب انجوے کیا ہو گا..
آج کمپیٹیشن کا لاسٹ راؤنڈ ہے. آپ سب بہت جوش میں ہوں گئے..
میری دعا ہے، کہ آپ اپنا بیسٹ دیں.. اور جیتیں.
سب پرتیسپنٹ، بیک اسٹیج آجائیں اور اپنی اپنی سپیچ جمع کرا دیں، مس کلثوم اب اپنی جگہ پے آگئیں تھیں..
مائک میں اب سر مستنصر کی آواز آرہی تھی.. جو ججیز کا تعاروف کروا رہے تھے..
(شانزے اپنی سپیچ دو.. یوسف نے مانگی تھی..
شانزے اپنے بیگ میں دیکھنے لگی تھی.. اس کے چہرے پے پریشانی پھیل رہی تھی، جو یوسف بآسانی دیکھ سکتا تھا..
کیا ہوا…؟؟؟ یوسف کافی حد تک سمجھ گیا تھا..
مل نہیں رہی پتا نہیں.. کہاں گئی کہیں میں گھر تو نہیں بھول آئ.. شانزے کو یاد نہیں آرہا تھا..
اس نے یوسف کی طرف پریشان نظروں سے دیکھا تھا… اچھا ریلکس .. یوسف نے کہا تھا..
نہیں میں لے کر آئ تھی، مجھے یاد ہے، تمہارے گھر میں میں نے جب فون نکالا تھا تو تھی.. شانزے کو یاد آیا تھا.
ہاں تو میرے گھر میں رہ گئی ہو گی.. یوسف نے تسلی دی تھی.. ڈونٹ وری..
وہ سمجھ گیا تھا کہ کسی نے جان بوجھ کر کیا ہے. کیوںکہ جب وہ انی آے تھے تو یوسف نے اس کہ بیگ میں دیکھتی،
جو بیگ کی زپ کھلی ہونے کی وجہ سے نظر آرہی تھی. لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا. وقت نہیں تھا،
کہ وہ پھر سے لکھتا، اس نے ایک لمحے میں فیصلہ کیا تھا)
(اب وقت ہے سرپرائز کا اور وہ یہ ہے کہ آپ لوگ اب ٹیمز نہیں ہیں بلکے صرف اپنے لئے پرفارم کر رہے ہیں..
یعنی جو آپ کے پارٹنرز تھے وہ بھی اب آپ کے کمپیتیٹرز ہیں… سر مستنصر اور بھی ڈیٹیل بتا رہے تھے.)
یوسف یہ سر … شانزے بولنا چاہتی تھی..
یہ چھوڑو شانزے اور میری بات سنو.. یہ میری سپیچ لو اور جا کر جمع کروا دو..
نہیں میں یہ نہیں کر سکتی.. اب وقت نہیں ہے.. وہ دیکھ صفیہ اسٹیج پر آچکی ہے.. شانزے پریشن ہوئی تھی.
کیوں ہم نے ساتھ تیاری کی تھی.. تمہیں کوئی مشکل نہیں ہو گی اس میں بھی.. یوسف نے اس کو تسلی دی تھی.
نہیں بات یہ نہیں ہے، پر میں یہ نہیں لے سکتی، یہ تمہاری ہے.. شانزے نے اپنی بات دھرائی تھی.
شانزے میری بات سنو پلیز تم یہ جمع کراؤ.. میں میم سے بات کر کے اپنا نمبر لاسٹ کر دیتا ہوں.
ہر کینڈیڈت کی ڈیبٹ ٣٠ منٹ کی ہے تو میرے پاس ایک گھنٹہ ہے میں گھر سے جا کر لے آؤں گا..
اور پھر اپنی باری میں میں وہ ڈیبٹ دے لوں گا.. یوسف نے مسلہ حل کیا تھا..
یوسف نہیں… شانزے نے بولا تھا اسے کچھ غلط لگ رہا تھا..
فکر نہیں کرو میں آؤں گا… یوسف نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا..
اب تم جاؤ جلدی… یوسف نے کہا تھا اور وہ اسٹیج پے مس کلثوم کے پاسس گئی تھی، فائل جمع ہو گئی تھی..
یوسف کے چہرے پے سکون تھا.. شانزے اپنی جگہ پے بیٹھ گئی تھی..
اور اس نے یوسف کو میم سے بات کرتے اور پھر جاتے دیکھا تھا..
……………………………
شانزے پریشان تھی، یوسف ابھی تک نہیں آیا تھا.. وہ بار بار کبھی ہال میں دیکھتی اور کبھی اسٹیج کی بیک سائیڈ پے.
لیکن وہ کہیں نہیں تھا.. شانزے کو دم گھٹتا محسوس ہوا تھا.. مائک میں سر اب اس کا نام پکار رہے تھے..
لیکن شانزے کو اپنے قدم بھری لگ رہے تھے انہی قدموں سے اٹھتی وہ اپنی جگہ کی طرف بڑھ رہی تی…
اپنی سپیچ شروع کرنے سے پہلے اس نے ایک بھر پور نظر ہال میں ڈالی تھی.. وہ وہاں نہیں تھا…
شانزے نے پلٹ کردیکھا تھا.. یوسف بیک اسٹیج اپنے مخصوس انداز میں کھڑا تھا..
شانزے کی روکی سانس بھال ہوئی تھی.. یوسف نے ہاتھ کے اشارے سے اسے آل ڈ بیسٹ کہا تھا..
……………………………
شانزے کی سپیچ ختم ہو گئی تھی.. ہال میں تالیاں بجنے لگیں تھی.. شانزے کا کونفڈینس بھال ہوا تھا..
لکین وہ بہت زیادہ خوش نہیں تھی.. سر مسنٹر اب اسٹیج پے تھے..
آپ وقت آگیا ہے کہ رزلٹ آناونس کیا جائے اس لئے میں اپنے محترم ججیز کو یہاں آنے کی دعوت دیتا ہوں..
ان کی آواز نے اگر ہال میں سکتا طاری کر دیا تھا تو شانزے کے لئے بھی وہ الفاظ بم سے کام نہ تھے.
ججیز اب اسٹیج پے آگے تھے.. اور شانزے اٹھ کر موم کی طرف گئی تھی..
میم رزلٹ کیسے..؟؟ ابھی یوسف باقی ہے.. شانزے حیران تھی،
یوسف کمپیٹیشن میں نہیں تھا شانزے.. اس نے مانا کر دیا تھا.. انہوں نے اطمینان سے جواب دیا تھا..
میم آپ ایک بار یوسف سے پوچھیں ایسا نہیں ہے.. اس نے اشارہ کیا تھا بیک اسٹیج لیکن وہ نہں تھا.
شانزے ریلکس.. وہ مجھے کمپیٹیشن سٹارٹ ہوتے ہی مانا کر گیا تھا. میم نے ایک نیا بم پھوڑا تھا..
اوہ – تو اس وقت وہ یہ بات کر رہا تھا.. شانزے نے دل میں سوچا تھا..
ٹھیک ہے.. تو پھر آپ مجھے بھی بیر سمجھیں.. شانزے جانے لگی تھی..
روکو شانزے تم ایسا نہیں کر سکتیں.. میم پریشان هوں تھیں..
کیوں نہیں کر سکتی.. اگر وہ کر سکتا ہے.. تو میں بھی کر سکتی ہوں.. شانزے رونے کو تھی..
ٹھیک ہے.. جاؤ پھر.. اور پھیر دو اس کی ساری محنت پے پانی..
وہی پاگل تھا جو تمہیں جیتانے میں لگا رہا… آپنا آپ بھولا دیا اس نے تمہارے لئے..
شانزے اگر وہ ہوتا کمپیٹیشن میں تو میں دعوے سے کہتی ہوں یوسف ضرور جیتا..
لیکن پھر بھی اس نے بغیر سوچے تمہیں یہ موقع دیا.. تاکہ تم اپنا آپ مانوا سکو..
شانزے وہ ہر نہیں ہے، لیکن یہاں سے جا کے تم اسے ہرا دو گی..
مائک میں شانزے کا نام آناونس ہو رہا تھا…
وہ جیت گئی تھی، مرے مرے قدموں سے اس نے شیلڈ اور سرٹیفیکیٹ لیا تھا.. حال میں تالیاں بج رہی تھیں..
رانیہ کو اپنی آنکھوں پے یقین نہیں آیا تھا اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہوا..
وارث اپنی جگہ سن تھا..
ہال میں بیٹھے تین لوگ صرف ایک شخص کی وجہ سے ہار گئے تھے.. یوسف کی وجہ سے،
شانزے، گیم جیت گئی تھی.. لیکن یوسف کے بغیر یہ بے معنی تھی…
وارث جانتا تھا کہ یوسف ہوتا تو وہ کبھی جیت نہیں سکتا، وہ جیتنا جاتا تھا لیکن اپنی محنت سے دان سے نہیں..
عنیقہ، نے شانزے کو ہرانے چکر میں یوسف کو ہارا دیا تھا اور دل پے یہی بوجھ کافی تھا..
……………………………
شانزے سب سے مل کے باہر آگئی تھی، یوسف وہاں کہیں نہیں تھا، شانزے سمیت بہت سے لوگ اس کو ڈھونڈ رہے تھے..
جب وہ سامنے سے آیا تھا اس نے وارث اور شانزے کو مبارک باد دی تھی..
وارث نے ٹھنڈی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا جن کا مطلب وہ اچھے سے جانتا تھا..
جبکہ اس کی نسبت شانزے کی آنکھوں میں انگارے تھے، وہ جانتا تھا لاوا کبھی بہہ سکتا تھا..
وہ سب کو بہانے بناتا جلدی سے شانزے کے پیچھے آیا تھا..
روکو میں گاڑی لاتا ہوں.. یوسف کہہ کر گیا تھا..
پر وہ روکی نہیں تھی…. جب یوسف آیا تو وہاں کوئی نہیں تھا.. یار یہ اتنی زیدی کیوں ہے.. اس نے سوچا تھا،..
وہ باہر نکلا تھا جب یوسف کو وہ کچھ دور پے کھڑی نظر آئ تھی اس نے گاڑی پاس میں روکی..
شانزے تم سنتی کیوں نہیں ہو..؟؟؟ یوسف نے غصے سے کہا تھا..
تم نے سنی میری..؟؟ وہ بھی اسی انداز میں بولی تھی..
کب نہیں سنی تمہاری..؟ یوسف کو سچ میں ایسا کوئی لمحہ یاد نہیں تھا..
ابھی کچھ گھنٹوں پہلے تم نے وعدہ کیا تھا تم آؤ گئے.. شانزے نے یاد دلایا تھا.. جھوٹا وعدہ وہ بڑبڑائی تھی..
کوئی جھوٹا وعدہ نہیں کیا. آیا تو ہوں… یوسف نے شاید سن لیا تھا..
تم نے کہا تھا.. شانزے بولتے بولتے روکی تھی.. یوسف نے اسے لفظوں میں پھسایا تھا، اور پھس گئی تھی..
یوسف نے صرف آنے کا کہا تھا.. اور وہ آگیا تھا…
آگیا یاد… چپ چاپ گاڑی میں بیٹھو.. یوسف مڑا تھا..
کیوں کیا تم نے.. تم جانتے تھے تم جیتو گئے.. پھر بھی تم نے یہ سب کیا.. شانزے نے اچانک پوچھا تھا..
شانزے یقین کرو ور کوئی اپشن نہیں تھا میرے پاس.. یوسف نے کے چہرے پے مجبوری صاف تھی..
نہیں تھا تو پھر بول دیا ہوتا میں خود نام واپس لیتی اپنا.. ویسے بھی سپیچ میری مس ہوئی تھی تمہاری نہیں.. شانزے نے پھر بات وہیں سے شروع کی تھی..
میں نہیں کر سکتا تھا ایسا.. یوسف نے صاف لفظوں میں کہا تھا..
لیکن کیوں.. وہ حیران تھی سامنے کھڑے اس شخص پے..
کیوںکہ تم نے کہا تھا.. تم جیتنا چاہتی ہو.. یہ جیت تمہارے لئے ضروری ہے… یوسف غصے میں بول گیا..
یہ سب میں نے تم سے کب کہا ؟؟؟ شانزے حیران ہوئی تھی..
مجھ سے نہیں کہا پر میں نے سن لیا تھا سب تم صبا سے کہ رہیں تھیں.. یوسف نے اب سچ بتا دیا تھا..
اوہ – تو وہ جانتا تھا… یوسف تم… شانزے کو غصہ آیا تھا..
مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ… اس نے اپنا سارا غصہ اس بات پے نکالا تھا…
شانزے مجھے مجبور مت کرو ورنہ…. یوسف نے آدھی بات کی تھی..
ورنہ کیا ہاں…؟؟ شانزے غصے میں آئ تھی..
یوسف نے بنا کچھ بولے اس کا ہاتھ پکڑ کے کیھنچا تھا.. اور اسے گاڑی میں بٹھایا تھا.. چھپ چاپ بیٹھو یہاں..
یوسف ڈرائیونگ سیٹ پے بیٹھا تھا…
بدتمیز… شانزے نے ٹشو پیپرز کی بال بنا کر ماری تھی..
تھنک یو.. یوسف نے اپنا ہاتھ سر سے ٹچ کر کے سلوٹ کیا تھا..
……………………………
یہ لو آئس کریم.. یوسف نے گاڑی میں بیٹھ کر سو کی طرف بڑھائی تھی..
ویسے تو تمہیں کھلانی چاہیے تھی.. لیکن فلحال میں کھلا دیتا ہوں.. اس نے ہنس کے کہا تھا..
شانزے نے آئس کریم لے لی تھی.. لیکن اس کے چہرے پے اداسی تھی..
یوسف نے دیکھا تھا اسے.. وہ سمجھتا تھا اس کی وجہ..
شانزے اداس مت ہو.. میں جانتا ہوں تمھی برا محسوس ہو رہا ہے..
لیکن میں چاہتا ہوں تم اپنی جیت دل سے مناؤ..
تم خوش ہو..؟؟؟ شانزے نے پوچھا تھا..
ہاں.. یوسف نے ایک سک سے بھی کم میں جواب دیا تھا..
کیوں..؟؟ اگلا سوال تیار تھا..
کیوںکہ تم جیتی ہو.. اور یہ میرے بہت اہمیت رکھتا ہے.. یوسف اطمینان سے ہر سوال کا جواب دے رہا تھا..
تمہارے لئے میرا جیتنا اہمیت کیوں رکھتا ہے.. شانزے نے دھڑکتے دل سے پوچھا تھا..
یوسف نے گاڑی روک دی تھی.. شانزے کا دل کک اور زور سے دھڑکا تھا..
یوسف اس کی طرف جھکا تھا.. اس کیوں کا جواب میں تمہیں پرسوں دوں گا.. تیار رہنا میری ٹریٹ ہے..
شانزے کے چہرے پی پوری دنیا کے رنگ سمت آے تھے.. اس نے نظرین نیچی کر لیں تھیں..
یوسف کو وہ اس وقت اور بھی ہنسیں لگی تھی.. ویسے تمہارا گھر آگیا ہے یوسف سیدھا ہو کہ بیٹھا تھا.
اوہ– شانزے نے ہڑبڑا کر دیکھا تھا.. میں چلتی ہوں..وہ گاڑی سے اتری تھی..
سنو.. یوسف نے روکا تھا.. میں اپنے جواب لاؤں گا تم اپنے..
وہ روکی نہیں تھی پھر..
……………………………
وہ تیزی سے اندر آئ تھی.. جب احد سے سامنا ہوا..
شانزے ایک دم روکی تھی.. اوہ – آپ.. اس نے ٹھنڈی سانس لی تھی..
کیوں کسی اور کو ہونا چاہیے تھا ؟؟ احد نے بڑے عجیب انداز میں کہا تھا..
اصولن کسی اور کو تو کیا آپ کو بھی نہیں ہونا چاہیے تھا. شانزے جانے لگی تھی..
شانزے دور رہو اس سے.. وہ جو بھی ہے.. احد کے لہجے میں غصہ تھا..
کیوں..؟؟؟ شانزے پلٹ کر اس کے سامنے کھڑی ہوئی تھی..
کیونکہ مجھے پسند نہیں.. اس نے اطمینان سے بولا تھا..
اور کس حق سے آپ یہ پسند مجھ پے تھوپ رہے ہیں..؟؟ شانزے نے اتنی خود اعتمادی سے کہا تھا،
کہ احد روکا نہیں تھا چلتا بنا تھا..
…………………………..
شانزے نے پوری الماری کے کپڑے بیڈ پے ڈالے تھے.. اور اب ایک ایک کپڑا دیکھ رہی تھی..
یہ سب کیا ہے.. جب اریزے اندر آئ..
کپڑے… اطمینان سے جواب دیا..
مجھے بھی نظر آرہا ہے.. پر یہاں کیا کر رہے ہیں..
مجھے سمجھ نہیں آرہا کون سے پہنوں اس لئے.. اف.. شانزے ڈھیر پے گری تھی..
کہاں جانا ہے.. ویسے جو اتنی تیاری ہو رہی ہے. اریزے کو حیرت ہوئی تھی.. وہ تو کبھی شادیوں میں یوں نی گئی تھی،
وہ ٹریٹ دینی ہے جیتنے کی خوشی میں..
کس کو..؟؟؟ اریزے نے سامنے کھڑے ہوتے پوچھا تھا جبکہ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی تھی..
اس نے دوبارہ آنکھوں کے اشارے سے پوچھا تھا.. بولو.. اریزے نے مثنوی غصہ کیا..
یوسف کو نہ.. شانزے نے شرماتے ہوے اپنا منہ دوپٹے میں چھپایا تھا..
OMG…. اریزے نے حیران ہوتے کہا تھا.. ویسے یہ اتنی شرم کیوں آرہی ہے..
اریزے تانگ مت کرو پلیز… شانزے نے منت کی تھی..
اچھا ہٹو.. وہ اسے ہٹا کر خود کپڑے دیکھنے لگی تھی.. اسے بھی ٹھیک نہیں لگا تھا،
چلو لے کر اتے ہے.. اریزے نے بیگ اٹھایا تھا..
مطلب..؟؟ شانزے کو سمجھ نہیں آیا تھا..
مطلب کیا.. تمہارے پہننے کے لئے کچھ لے کر آتے ہیں… اریزے نے کہا تھا. وہ دونوں چل پڑیں تھیں..
کہاں جا رہی ہو دونوں.. می جانی نے دونوں کو جاتا دیکھ پوچھا تھا…
می جانی بس یہی پاس میں شوپنگ مال تک..
وہ کل شانزے کو پارٹی میں جانا ہے نہ تو میں نے سوچا کچھ ڈھنگ کا پہنے … اریزے نے بات بنی تھی..
اچھا ٹھیک ہے.. پر اپنے پاپا کے ساتھ چلے جانا.. می جانی نے ان کو مشورہ دیا تھا..
نہیں می جانی دیر ہو جائے گی، پھر ٹھیک سے دیکھ بھی نی سکیں گئے.. اریزے نے مانا کیا تھا..
اچھا پھر ٹھیک ہے.. جلدی آجانا می جانی نے کہا تو وہ دونوں جلدی سے چلی گیں..
…………………………..
بہت گھوم پھر کر دونوں نے ایک صوت پسن کیا تھا..
چلو می جانی کو دیکھاتے ہیں.. شانزے خوش تھی اور اس کی خوشی اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی.
وہ دونوں می جانی اور پاپا کے کمرے کی طرف بڑھیں تھیں.. جب اندر سے آتی آوازوں نے دونوں کو روک دیا تھا،
حسان اس کی دن بھی بات یوں ہی رہ گئی تھی.. میں نے سوچا وجی کا معملا تہھ ہو جائے تو تم سے بات کروں گی.
اب تو خیر سے یہ معملا بھی پورا ہو گیا.. میں تم سے احد کے رشتے کے بڑے میں بات کرنا چاہتی ہوں..
پھوپو کی آواز نے دونوں کو گنگا کر دیا تھا.
جی آپا.. ضرور کریں.. حسان نے باری محبت سے بہن کو کہا تھا..
میں چاہتی ہوں تم شانزے کا رشتہ احد کے لئے منظور کرو.. پھوپو نے کہا ہی تھا کہ طائ جن شروع ہو گیں..
ارے لو.. یہ کیا بات ہوئی کبھی اریزے تو.. کبھی شانزے ارے بچیاں ہماری کوئی گاجر مولی تھوڑی..
کبھی یہ کبھی وہ..
بھابھی آپ ٹھیک کہ رہی ہیں.. میں تو اس دن بھی شانزے کی بات ہی کرنے والی تھی..
حالانکہ اریزے بھی مجھے بہت پیاری ہے.. لیکن میں چاہتی ہوں تم شانزے مجھے دو..
طائ جان تو بل کها کہ رہ گیں تھیں..
آپا آپ کی بات سر آنکھوں پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے.. حسان کی آواز نے شانزے کے ہوش اڑا دے تھے..
ارے لو ایسے کیسے ہاں کر رہے ہو.. پہلے اپنی لاڈلی سے پوچھ تو لو..
ایسا نہ ہو اس نے پھیلے ہی کہیں چکر چلاے ہوں.. ارے باہر نکلتی ہے.. ہزاروں سے ملتی ہے..
کیا پتا کہیں بھول بھال آئ ہو اپنا دل…
بس بھابھی میری شانزے ایسی نہیں ہے.. مجھے پورا یقین ہے..
میرا فیصلہ اس کا فیصلہ.. حسان نے پر اعتماد لہجے میں بولا تھا..
اس سے زیادہ شانزے سن نہیں پائی تھی.. وہ دونوں اپنے کمرے میں آئ تھی..
………………………………
شانزے تیار تھی لیکن اس نے ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں پہنی تھی جو کل وہ خرید کر لیں تھیں..
وہ شیشے میں کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی..
ایک بار اور سوچ لو شانزے.. اریزے نے بوجھے لہجے میں کہا تھا.
سوچا لیا.. اس کا لہجہ ہمیشہ کی طرح مسزبوت تھا.
تبھی می جانی.. اور پھوپو آئ تھیں.. یہ کیا تم تیار نہیں ہوئیں…
تیار ہو می جانی..
اور وہ جو کل جوڑا لیا تھا.. اس کا کیا ہوا..
بس دل نہیں چاہ رہا اب..
ایسے کیسے چلو شاباش جلدی سے پہنو یہ بھی کوئی بات ہوئی..
می جانی اور پھوپو دونوں نے پر زور کہا تھا تو اسے وہ جوڑا پہنا پڑا.. ماشاللہ باری پیاری لگ رہی ہے..
اریزے تھوڑا تیار کر دو بہن کو.. اب کی بار پھوپو نے کہا تھا..
نہیں میں ایسے ٹھیک ہوں.. شانزے نے اتیجاج کیا تھا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا.
اریزے نے اسے ہلکے رنگ کی لپسٹک لگائی تھی اور ہلکی سی جیولری دی تھی جو اس نے چھپ کر کے پہن لی تھی.
اس کا فون بجنے لگا تھا.. شانزے سمجھ گئی تھی فون کس کا ہے اس لئے وہ الله حافظ کہتی باہر آگئی تھی..
……………………………..
باہر گاڑی کھڑی تھی.. لیکن اس میں یوسف نہیں محسن تھا..
چلیں اس نے شانزے کی حیرانگی دیکھ کر کہا تھا..
شانزے نے ہاں میں سر ہلایا تھا اور گہری میں بیٹھ گئی تھی..
وہ شہر سے کافی دور آگئے تھے آبادی پیچھے رہ گئی تھی..
جب محسن نے گاڑی روکی تھی.. یہ ساحل سمندر کا کنارہ تھا..
یہاں سے اب تم نے خود جانا ہے.. محسن نے بہت پیار سے کہا تھا.. اس نے دور بنے ہٹ کی طرف اشارہ کیا تھا.
شانزے کا دل دھڑکا تھا.. وہ دھڑکتے دل کے ساتھ چلنے لگی تھی…
اس نے غور کیا تھا اس کے پیروں کے نیچے ریت نہیں تھی بلکے پھول تھے..
شانزے کی دھڑکنیں اور تیز ہوئیں تھی..
وہ جیسے جیسے چلتی دونوں طرف کی لائٹس جلنے لگتیں..
شانزے کو اپنے قدم بھری لگ نے لگے تھے.. ہر قدم کے ساتھ اس کا دل بوجھل ہو رہا تھا..
لیکن پھر بھی وہ ہٹ تک پہنچ گئی تھی.. اور ویسے ہی ہٹ روشنی سے جگمگا گیا تھا..
پل بھر کے لئے شانزے کو لگا وہ کسی اور ہی جہاں میں ہے،، کسی ریاست کی شہزادی ہے..
شانزے کو اپنا آپ بہت خاص لگا تھا.. اس نے چاروں طرف نظر گھمائی تھی.
یہ مصنوی ہٹ تھا جو لکڑی سے بنایا گے تھا.. اور پھر سفید ریشم کے کپڑے اور پھولوں سے سجایا گیا تھا..
کہیں کہیں پھولوں میں چھوٹی چھوٹی لائٹس جل رہی تھیں..
پھولوں کی خوشبو اتنی زیادہ تھی.. کہ اب سے کچھ دیر پہلے آنے والی سمندر کی خوشبو غائب ہو گئی تھی..
اور پھر اس پے نظر پر تھی اور شانزے نظر ہٹانا بھول گئی تھی.. وائٹ ڈریس شرٹ.. جی آستیں فولڈ کی ہوئیں تھیں..
بلیک پینٹ میں وہ کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا..
…………………………………..
یوسف نے ہر چیز اچھے سے کی تھی.. وہ شانزے کو اپنی دل کی بات بتانا چاہتا تھا..
اسلئے اس کے پاس اس سے اچھا آئیڈیا نہیں تھا.. وہ ان لمحوں کو قید کے لینا چاہتا تھا..
وہ ان لمحوں کو یاد گار بنانا چاہتا تھا..
اس نے دور سے ہی شانزے کو دیکھ لیا تھا.. سفید جعلی دار فراک میں ہلکی لپسٹک لگاے..
کانوں میں پرل کے ٹاپس پہنے وہ اسے حد درجہ حسین لگی تھی..
اٹھنے والے ہر قدم کے ساتھ یوسف کو اپنا دل سمبھلانا مشکل لگ رہا تھا..
…………………………………
وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے… شانزے سچ میں پلکیں جھپکنا بھول گئی تھی..
ایسا تو اس نے خیالوں میں بھی نہیں سوچا.. وہ اپنی سوچوں میں گم تھی..
جب کسی آواز نے اسے چونکا دیا تھا.. اور پھر پھول برسنے لگے تھے..
ہوا میں.. مائک کے گانے کا میوزک بجنے لگا تھا..
Oh Baby
I
Think that I’m falling in love with you
Mod tang hoajai yok hai ther ti samkhan
You are the One
وہ پہچانتی تھی یہ میوزک یہ یوسف کو بہت پسند ہے.. وہ گنگناتا ہے اکثر.. وہ پھر خیالوں میں تھی..
ایک بار پھر وہ چونکی تھی لیکن اب کی بار آواز یوسف کی تھی..
اگر میں تم سے کچھ مانگوں..
اگر میں تم سے یوں بولوں..
(شانزے کو لگا اس کا دل چلنا بھول گیا ہے..)
اگر میری تمنا ہو..
میرے دل کی یہ خواھش ہو..
(اسے صرف یوسف کی آواز آرہی تھی..)
کہ..
زندگی میں جب کبھی تم کو پکاروں میں..
(وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف آیا تھا.)
(شانزے کو لگا اس کی دل کی جگہ تو کب کی خالی وہاں تو صرف یوسف ہے.)
تمہارا ساتھ چاہوں میں..
تمہارے پیار کی جو تھوڑی سی خیرات مانگوں میں..
(شانزے کو لگا دنیا ختم ہو رہی ہے.)
وصل کے خوابیدہ لمحوں میں..
(یوسف اب اس کے سامنے کھڑا تھا اس نے اس کی کالی گہری آنکھوں دیکھ کر کہا تھا..)
تم..
(اب وہ زمین پے جھک رہا تھا..) (شانزے کو لگا سور پھونکا جائے گا)
ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیاں کو بانٹ لو گی نہ..
(یوسف نے زمین پے ایک گھٹنا ٹیکا تھا.. اس کے ہاتھ میں ڈائمنڈ رینگ بہت سمپل بہت خوبصورت..
اس نے دل میں یوسف کی پسند کو سراہا تھا..)
میرا ساتھ دو گی نہ..؟؟؟
سور پھونک دیا تھا.. شانزے نے آنکھیں بند کیں تھیں.. یوسف اسے جواب کا منتظر تھا…..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: