Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 28

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 28

–**–**–

اریزے نے آنکھیں کھولیں.. محبت سے خالی آنکھیں.. جذبات کے ہر رشتے سے عاری..
وہ ابھی یوسف کو دیکھ رہی تھی.. لیکن اس کی آنکھوں میں شناسی کا کوئی رنگ نہیں تھا..
یوسف کا دل دھل گیا تھا.. اس نے کیا کیا سوچا تھا.. اور کیا ہونے جا رہا تھا..
شانزے بولو تمہارا کیا جواب ہے.. اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا..
(میری شانزے ایسی نہیں ہے.. مجھے پورا یقین ہے..
میرا فیصلہ اس کا فیصلہ.. شانزے کے کانوں میں پاپا کی آواز گنجی تھی..)
کیسا جواب یوسف..؟؟ شانزے نے الٹا اس سے سوال کیا تھا.. (وہ نہیں جانتا تھا کیسی مسافتیں تہہ کئیں تھیں اس نے.)
مجھ سے شادی کرو گی…؟؟؟ یوسف نے ایک دم ہی پوچھ لیا تھا.. وہ اس کے سامنے نے کھڑا تھا..
شانزے کے اندر سب کچھ اتھل پوتھل ہو گیا تھا.. لیکن اس نے خود کو سمبھال لیا تھا..
شادی، وہ منہ پے ہاتھ رکھ کر ہنسی تھی.. کس کی شادی.. اس نے اداکاری کے سارے ریکارڈ توڑے تھے..
میں تم سے محبت کرتا ہوں.. تم مجھ سے محبت کرتی ہو.. تو شادی تو ہو گی نہ..
(یوسف کے اندر ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی تھی، یہ گواہی اس کی آواز دے رہی تھی.)
یہ کب ہوا..؟؟؟ نہ تم نے کچھ کہا.. نہ میں نے کچھ سنا، نہ میں نے کچھ کہا، تو پھر تم نے خود سے کیسے یہ سب سوچ لیا..
(شانزے نے پھر دل پے پتھر رکھا تھا..)
شانزے پلیز کیا ہو گیا ہے تمہیں، کوئی بات بری لگی ہے.. ناراض ہو مجھ سے بولو..
ہم بات کر سکتے ہیں اس بارے میں، میں سوری کر لوں گا.. یوسف کی آواز میں منت تھی..
یوسف بات سوری کی نہیں ہے.. میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا.. ہم دوست ہو سکتے ہیں اور بس..
یوسف میں سمجھ سکتیں ہوں.. لیکن اس سفر میں تم اکیلے ہو.. شانزے جانے کے لئے مڑ گئی تھی…
لیکن یوسف نے اس کا ہاتھ پکڑ کے زور سے اپنی طرف کھنچا تھا.. شانزے خود کو سمبھال نہیں پائی تھی..
اور اب وہ یوسف کے مضبوط حصار میں تھی..
کہہ دو کہ تمہیں یاد نہیں کہ جب نظر سے نظر ملتی تھی، ” میرا دل دھڑکتا تھا، تو دھڑکن تمہاری بھی تیز ہوتی تھی “
نہیں… کس غلط فہمی میں ہو یوسف.. شانزے نے نظرین جھکیں تھیں.. اتنے پاس سے دیکھنا مشکل ہو رہا تھا.
یوسف کی گرفت میں سختی آگئی تھی.. آخر کو تو وہ بھی انسان تھا. لاکھ کوشش کے بعد بھی وہ قابو نہں رکھ پایا تھا.
یوسف کی انگلیاں اس نے اپنے بازوں میں گڑھتی محسوس ہوئی تھی..
یوسف پلیز تم ایسے مجھے سے زبردستی نہیں کر سکتے.. شانزے بول پڑی تھی..
ٹھیک ہے.. بس ایک بار میری آنکھوں میں دیکھ کر کہو.. کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں..
اور میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تمہاری زندگی سے چلا جاؤں گا…. یوسف کا لہجہ بہت مظبوط ہوا تھا..
“میں تم سے محبت نہیں کرتی..” شانزے نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا، اسے لگا تھا..
یوسف کی آنکھوں کا ہر احساس جم گیا ہے.. اس نے دیکھا تھا طوفان اکر گزر گیا تھا..
یوسف کی آنکھوں میں کالی رات اتری تھی، اپنی تمام تر خاموشی لئے..
یوسف کی گرفت ڈھیلی ہوئی تھی.. محسن شانزے کو گھر چھوڑ دو.. یوسف نے محسن کو کال کی تھی،
اب کوئی یوسف تمہارے راستے میں نہیں آے گا..
جاؤ یہاں سے… چلی جاؤ..
وہ پلٹ گئی تھی.. ہر قدم پے اسے کچھ چھوٹ جانے کا احساس گھیر رہا تھا.. اسے یوسف کے بولنے کی آواز آرہی تھی.
بچھڑ جاؤ مگر سن لو…
ہمارے درمیان کوئی ایسی بات تو ہو گی..
جسے تم یاد رکھو گی..
اس نے آخری الفاظ یوسف کو کہتے سنے تھے… وہ خاموش ہو گیا تھا..
شانزے کو خدشات نے گھیرا تھا.. وہ پلٹ کر دیکھنا چاہتی تھی..
لیکن وہ نہیں پلٹی وہ جانتی تھی.. کہ اگر پلٹی تو وہ پتھر کی ہو جائے گی. پھر ہر راستہ بند ہو جائے گا..
جیسے اس کی ماں کے لئے ہو گیا تھا.. وہ گاڑی میں بیٹھ گئی تھی..
گاڑی چل پڑی تھی.. محسن نے اس سے کچھ نہیں پوچھا تھا.
……………………………………..
محسن واپس گیا تھا، لیکن یوسف وہاں نہیں تھا، اب اصل میں محسن کو پریشانی ہوئی تھی.
وہ آس پاس یوسف کو دیکھ رہا تھا، لیکن وہ کہیں نہیں تھا. بارش شروع ہو گئی تھی.. اور وہ بارش میں بھیگ رہا تھا.
لیکن اس وقت اسے پروا تھی تو صرف یوسف کی.. اور وہ جانے کہا تھا..
اس سے کچھ سمجھ نہیں رہا تھا، اس نے یوسف کا فون ملایا تھا پر وہ اٹھا نہیں رہا تھا..
کئی بار فون کرنے پے بھی جب اس نے فون نہیں اٹھایا تو محسن نے عثمان کو فون کیا تھا،
اور وہ فورن ہی آگیا تھا..
محسن کہاں ہے یوسف…؟؟ عثمان کی آواز میں بھی ویسا ہی ڈر تھا جیسا محسن محسوس کر رہا تھا..
عثمان بھائی، میں یہیں چھوڑ کر گیا تھا.. لیکن جب واپس آیا تو وہ یہاں نہیں تھا.. محسن نے صافی دی تھی..
بھائی مجھے کچھ سمجھ نہں رہا کیا ہوا ہے.. مجھے لگتا ہے ضرور وجہ شانزے ہے..
وہاں وہ خاموش تھی اور یہاں.. یوسف کا کچھ پتا نہیں ہے،
آپ پلیز کچھ کریں محسن روہنسا ہوا تھا.
تم فکر نہ کر آؤ دیکھتے ہیں.. اس کی گاڑی تمہارے پاس تھی زیادہ دور نہیں جا سکتا..
عثمان نے کہہ تو دیا تھا لیکن آواز سے پریشانی واضح تھی…
بھائی اگر اس نے کچھ….. محسن کی آواز میں خوف تھا،
نہیں ایسا کچھ نہیں کرے گا میں جانتا ہوں اسے، پتہ نہیں انہوں نے اس کو تسلی دی تھی یا خود کو.
……………………………………..
دسمبر کی سردی اور پھر بارش.. اریزے کو بڑی بری لگتی تھی، جانے کیوں اسے بچپن میں سنا گانا یاد آجاتا تھا..
بھیگا بھیگا سا یہ دسمبر ہے… بھیگی بھیگی سی تنہائی ہے.. یہ گانا کہیں دماغ میں چپک ہی گیا تھا..
تبھی اس نے چینل چینج کیا تھا.. اور کیا اتفاق تھا ایک چینل پے یہی گانا چل رہا تھا..
اریزے نے بڑی نارضگی میں ہٹایا تھا.. جیسے ایسے کرنے سے چینل والے چلانا بند کر دیں
اور اس وقت یہ گانا اسے عجیب ہی سوچ میں مبتلا کر رہا تھا.. سب اپنے اپنے کمروں میں گم ہو گئے تھے..
سواے اس کے، وہی تھی جو شانزے کے انتیظار میں تھی..
اریزے تم یہاں کیوں بیٹھی ہو ؟؟ می جانی فریج سے پانی لے رہیں تھیں..
می جانی بس شانزے کا ویٹ کر رہی ہوں، پتا نہیں کہاں رہ گئی.. اریزے نے گھڑی دیکھی تھی.
وہ تو کب کی آگئی، تمہیں نہیں پتہ…؟؟ می جانی حیرت سے بولیں تھی.
نہیں… اریزے کچھ سوچتے ہوے بولی تھی.. وہ ٹی وی بند کرتی کھڑی ہو گئی تھی..
چلیں پھر میں بھی چلتی ہوں، وہ دونوں ہی اپنے اپنے کمروں کی طرف چل پڑیں تھیں..
اریزے کمرے میں آئ تو چاروں طرف اندھیرا تھا.. خاموشی تھی، اس نے لائٹ جلائی تھی..
لیکن شانزے نظر نہیں آئ تھی.. اس نے واش روم میں دیکھا تھا وہ وہاں بھی نہیں تھی.
OMG اریزے کو ایک دم چھت کا خیال آیا تھا.. وہ اوپر گئی تھی.. چھت کے بلکل بیچ میں شانزے بیٹھی تھی.
شانزے پاگل ہو گئی ہو کیا یہ سردی کی بارش ہے اٹھو.. نیچے چلو.. اریزے نے ہاتھ پکڑ کے اٹھانا چاہا تھا..
لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلی تک نہیں تھی..
شانزے.. پلیز اٹھو.. تم بیمار ہو جاؤ گی.. اریزے نے اس کا چہرہ اوپر کیا تھا وہ رو نہیں رہی تھی..
اریزے اسے زبردستی اٹھا کے لائی تھی. وہ دونوں کپڑے بدل چکیں تھیں…
شانزے خاموش تھی.. اتنی خاموش کے اریزے کو ڈر لگ رہا تھا،،
تم ٹھیک ہو نہ شانزے.. اریزے نے پاس بیٹھتے کہا تھا..
ہاں.. اس کی آواز موسم سے زیادہ ٹھنڈی تھی، اریزے نے تو یہی محسوس کیا تھا.
بدقسمتی تو دیکھو میں اب بھی ٹھیک ہوں.. جانتی ہو پورے راستے میں نے دعا مانگی تھی،
کہ میں مر جاؤں.. مجھے دوبارہ کبھی سانس نہ آے.. لیکن دیکھو میں کتنی بے بس ہوں، اب تک سانس لے رہی ہوں..
تم جانتی ہو اریزے اس نے کہا تھا صرف ایک بار میری آنکھوں میں دیکھ کر کہو کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں،
اور میں نے کہہ دیا اس کی آنکھوں میں دیکھ کر لیکن اب لگ رہا ہے میں تو وہیں اس کی آنکھوں میں قید ہو گئی ہوں..
جیسے اس نے اپنی آنکھوں سے میری روح قبض کرلی ہے..
میں اپنا وجود تو لے آئ ہوں، پر خالی.. کسی فقیر کی کشکول کی طرح خالی..
مجھے لگا تھا کہ بہت آسان ہو گا… پر اب اندازہ ہوا کہ اتنا آسان نہیں ہے…
مجھے لگ رہا ہے کوئی میرے دل پے زنگ آلود چھری پھیر رہا ہے..
مجھے لگ رہا ہے کسی نے میرے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے میرے ہاتھوں میں دے دیا ہے..
مجھے لگ رہا ہے میں جیسے اگلے لمحے بھی جی نہیں سکون گی…
اریزے میرے حق میں دعا کرو میں اس کو بھول جاؤں..
میں اس کو نہیں بھولوں گی، تو خود کو بھول جاؤں گی… وہ بولے جا رہی تھی.. اور اریزے سنے جا رہی تھی..
…………………………..
صبح کے ٥ بج رہے تھے. عثمان اور محسن تقریباً پوری رات ہی ڈھونتے رہے تھے،
لیکن اب ان کی ہمت جواب دینے لگی تھی.
وہ دونوں سی وی یو کی طرف آگے تھے…
عثمان ابھی سڑک کے دونوں کناروں پے دیکھ رہے تھے شاید اب وہ نظر آجاے..
تبھی انہوں نے دیکھا تھا محسن گاڑی سے اتر کے سمندر کی طرف بھاگا تھا.
اور اگر ان کا انداز ٹھیک تھا تو وہ یوسف کے لئے بھاگا تھا.. عثمان بھی گاڑی روک کر اس طرف گئے تھے..
یوسف تو ٹھیک ہے نہ.. محسن نے اسے گلے لگایا تھا.
جبکہ یوسف بلکل خاموش تھا، اس نے کوئی حرکت نہیں کی تھی.. وہ اسی طرح مٹی میں بیٹھا تھا..
یوسف بول کیا ہوا ہے.. شانزے سے لڑائی ہوئی، تو بول ایک بار، میں اسے تیرے لئے لے کر آؤں گا یہاں..
محسن جذباتی ہورہا تھا.. عثمان بھی ان دونوں تک آگے تھے.. یوسف کی حالت نے ان کو دھجکا دیا تھا..
وہ پورا مٹی مٹی ہو رہا تھا.. ایسے لگا اس نے خود مٹھیاں بھر بھر کے اپنے اوپر مٹی ڈالی ہے..
جبکہ محسن اسے کچھ کہ رہا تھا لیکن وہ کوئی جواب نہیں دے رہا تھا..
عثمان کو لگا کسی نے ان کا دل مٹھی میں لے لیا ہے.. انہوں نے آگے بڑھ کے یوسف کو سینے سے لگایا تھا.
عثمان کی آنکھوں میں آنسو آے تھے.. لیکن انہوں نے ضبط کیا تھا..
کیا ہوا بیٹا کچھ تو بول.. عثمان نے آہستہ سے کہا تھا.. اور یوسف جیسے نیند سے جاگ گیا تھا..
ٹھیک ہوں میں.. یوسف ان کا ہاتھ چھوڑا کر کھڑا ہوا تھا.. اس کے قدم کانپ رہے تھے..
یوسف، شانزے سے کوئی لڑائی ہوئی ہے.. عثمان نے اسے سمبھالنا چاہ تھا..
میری لڑائی… یوسف نے کچھ سوچتے ہوے کہا تھا.. میری لڑائی تو زندگی سے ہے بھائی.. وہ پیچھے ہٹا تھا..
میرا سانس… میرا سانس روک رہا ہے.. یوسف نے سینے پے ہاتھ رکھا تھا..
محسن اور عثمان دونوں اس کی طرف بڑھے تھے..
آپ دونوں پلیز جائیں یہاں سے.. یوسف کی آواز میں درد تھا..
یوسف میری جان.. میں عثمان… تمہارا بھائی.. عثمان کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا…
یوسف بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے، کیا کہا ہے شانزے نے، عثمان نے اس کو بازوں میں بھرنے کی کوشش کی تھی..
اس نے کہا وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی.. یوسف نے ایک ٹرانس میں بولا تھا..
محسن ، عثمان دونوں کو شوک لگا تھا..
بہت درد ہو رہا ہے بھائی… اس کا انکار میری جان لے لے گا.. یوسف کی آواز میں تڑپ تھی..
عثمان نے اس کو گلے لگایا تھا..
میرے لئے ناقابل برداشت ہے یہ… یوسف نے خود کو دور کیا تھا.. پر وہ اپنے جسم کا بوجھ اٹھا نہیں پایا تھا..
زمین پر گر گیا… عثمان محسن دونوں اس کی طرف بھاگے تھے.. لیکن بہت دیر ہو گئی تھی.. وہ زمین پے گر گیا تھا.
…………………………..
اریزے تو صبح ہی آفس آگئی تھی.. لیکن عثمان کا کوئی پتا نہیں تھا..
اس نے کوشش کی تھی پوچھنے کی لیکن وہاں کسی کو اس کے بارے میں کچھ نہیں پتا تھا،
یہاں تک کے عمیر کو بھی.. کیوںکہ وہ تو خود اریزے سے اس کے بارے میں پوچھ رہا تھا..
اریزے بےدلی سے اپنے کام میں لگ گئی تھی..
اسے انتظار تھا تو صرف عثمان کا وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی..
اس نے فون کرنے کا سوچا تھا، پھر یہ سوچ کے ارادہ ترک کر دیا کہ جانے وہ کیسے ریکٹ کرے..
کچھ بھی ہے یوسف اس کا بھائی.. اور اس کے لئے عثمان کا پیار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا..
لیکن شانزے بھی تو اسے پیاری تھی، وہ ضرور کوئی حل نکال لے گا..
اس لئے وہ بتانا چاہتی تھی کہ شانزے مجبور ہے..
اریزے بتانا چاہتی تھی.. کہ شانزے ہی اس کی پھوپو کی بیٹی ہے..
لیکن یہ سب ہو اس وقت سکتا تھا جب ان کی کوئی بات ہوتی..
…………………………
ڈاکٹر، سب ٹھیک اس نے سامنے سے آتے ڈاکٹر سے پوچھا تھا، جو حسین کے قریبی دوست تھے..
نہیں عثمان کچھ ٹھیک نہیں ہے.. اس کا نروس بریکڈاؤں ہوا.. میں فلحال کچھ نہیں کہ سکتا… وہ چلے گئے..
مجھے سمجھ نہیں آرہا ایسا کیا ہوا ہے.. وہ بیہوشی میں بھی بڑبڑا رہا ہے..
ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں.. باقی تم دعا کرو بس..
میں ابھی جا کر شانزے سے پوچھتا ہوں.. محسن نے غصے سے کھا، وہ جانے لگا تھا..
جب عثمان نے اسے روکا.. انہوں نے اشارے سے ماننا کیا تھا، بولنے کی ہمت تو تھی نہیں اس میں..
محسن ان کے گلے لگ کر رو پڑا تھا..
حوصلہ رکھو محسن سب ٹھیک ہو جائے گا.. عثمان نے اسے تسلی دی تھی..
………………………….
اریزے پچھلے 6 دن سے اس کا انتیظار کر رہی تھی نہ وہ آیا، نہ کوئی خبر..
نہ کوئی فون.. اریزے دلبرداشتہ ہو گئی تھی..
گھر میں شانزے کی چپ نے اسے توڑا تھا، توعثمان نے بھی اس پے کم نہیں گزاری تھی..
اس نے ریزیگنیشن لیٹر ٹائپ کیا تھا..
ان سب میں وہ خام خہ میں پس کے رہ گئی تھی..
…………………………
محسن یوسف سے ملنے آیا تھا ، لیکن وہ یوسف کو دیکھ کر پریشان ہوا تو جو تکیہ پے زور زور سے مار رہا تھا..
اس نے بھگ کر ڈاکٹر کو بتایا، عثمان جو ڈاکٹر کے پاس ہی تھا.. پریشان ہوا تھا..
وہ سب یوسف کے پاس تھے، لیکن وہ پھر ایسے ہی تڑپ رہا تھا..
ڈاکٹر نے اسے سکون کی میڈیسن دی تھی.. اور کچھ دیر میں ہی وہ سکون کی آغوش میں آگیا تھا،
…………………………
وہ دوبارہ جب روم میں آیا تو یوسف جاگ رہا تھا،
سائیڈ میں لگی قدآور کھڑکی سے باہر کی جانب دیکھنے میں مصروف تھا.
محسن نے دیکھا تھا اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لکیری جاری تھی…
کیا ہو گیا تھا یار تجھے… محسن نے اس کی آنکھیں صاف کیں تھیں…
نشہ.. میرا نشہ ٹوٹ رہا تھا.. اتنے دن میں پہلا لفظ تھا جو اس نے سنا تھا.. اور اس لفظ نے محسن کو چونکا دیا تھا..
یہ تو کیا کہ رہا ہے.. میں مان ہی نہیں سکتا تو اور نشہ.. محسن اس کی بات سمجھ نہیں سکا تھا..
تو نہیں جانتا محبت بھی نشے کی طرح ہے.. جب چڑھتی ہے… تو سر چڑھ کے بولتی ہے..
جب اترتی ہے… تو انسان کو بری طرح سے توڑ دیتی ہے…
اور یہ محبت کا مارا انسان تڑپ تڑپ کر.. سسک سسک کر اپنی جان دے دیتا ہے..
بس کر یہ کیسی عجیب باتیں کررہا ہے.. مجھے تو ایسے اچھا نہیں لگتا..
مجھے تو وہ یوسف پسند ہے جو ہنستا تھا.. ہنساتا تھا.. زندہ دل، ایسی باتیں مت کر اچھی نہیں لگتیں..
محسن نے پھر سے بڑی ہمت کر کے کہا تھا.. حالانکہ اس کی باتوں کا شدید دکھ تھا.
جب آپ کی محبت آپ سے روٹھ جاتی ہے نہ،
تو انسان کا وجود قبرستان بن جاتا ہے جس میں بہت سی قبریں بن جاتی ہے…
ہنسی کی.. خوشیوں کی.. آرزوں کی… خوابوں کی… وعدوں کی…
“اور آپ کی اپنی بھی”… یوسف کی آواز میں کچھ نہیں تھا کچھ پل کو محسن کو اس کا وجود قبرستان جیسا لگا تھا..
اس نے دل کو ملامت کی تھی لیکن اب کی بار وہ ہمت نہیں کر سکا تھا کچھ کہنے کی..
………………………..
آخر وہ گھر آگیا تھا ایک سکون جو پچھلے کچھ دنوں میں وہ محسوس کرنا چاہتا تھا، وہ گھر کا تھا.
یوسف کی جان بچ گئی تھی، اب پہلے سے بہتر تھا… لیکن ڈاکٹر ابھی اس کو لے کافی کنسرن تھے..
ماما پاپا سب اسے روز ملنے اتے تھے ہسپتال میں..
لیکن عثمان نے تو اسے ایک پل بھی اکیلا نہیں چھوڑا تھا.. لیکن پھر بھی وہ وہاں نہیں رہنا چاہتا تھا..
کسی نے بھی اس سے شانزے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی نہ اس نے خود کی تھی..
وہ باتیں کرنے لگا تھا. لیکن اس کی باتوں میں کہیں کچھ کمی تھی..
شاید زندگی کی کمی تھی.. ڈاکٹر نے گھر آنے کی اجازت دی تھی..
لیکن ایک لمبی چوڑی ہدایت کے ساتھ..
انھیں لگتا تھا وہ ابھی بھی سٹریس میں ہے اور یہ اس کی دماغی حالت کے لئے خطرناک ہے..
کسی بھی وقت وہ دوبارہ وہ اپنی پہلی کنڈیشن میں جا سکتا تھا اور اپ کی بار ایسا ہونا اس کی جان لے سکتا ہے.
…………………………………
یوسف کے گھر آنے کے دو دن بعد عثمان آفس آیا تھا، اور آتے ہی پہلی خبر اسے اریزے کے ریزیگنیشن کی ملی تھی..
وہاٹ.. لیکن کیوں..؟؟ وہ حیران تھا اور اس کا اظہار اس نے عمیر سے بھی کیا تھا..
یہ تو مجھے نہیں پتا.. میں نے کافی کوشش کی پوچھنے کی لیکن کوئی جواب نہیں،
مجھے خود حیرت ہے، لکین کیا کر سکتے ہیں.. عمیر نےبلکل سہی کہا تھا..
لیکن کچھ تھا جو عثمان کو کھٹکا تھا.. اس نے اریزے کا نمبر ملایا تھا..
لیکن وہ اوف جا رہا تھا…
عثمان نے اپنا سر پکڑ لیا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ سب کیا ہو رہا ہے..
ایک پہلے وہ یوسف کے لئے پریشان تھا، اب اریزے بھی خاموشی سے غائب تھی.
…………………………
اریزے تم آفس کیوں نہیں جا رہیں..؟؟ شانزے اور وہ دونوں چھت پے بیٹھیں لیکن خاموش..
جیسے بات کرنے کے لئے کچھ رہا ہی نہیں تھا..
اوربہت ٹائم کہ بعد ایسا ہوا تھا کہ شانزے نے خود سے کوئی بات کی تھی.
ایسے ہی.. اریزے کو سمجھ نہیں آیا تھا کیا بولے آج نہیں تو کل شانزے کو پتا چل ہی جاتا..
ایسے ہی کیا.. اریزے کیا چھپا رہی ہو…؟؟ شانزے کے ماتھے میں بل آے تھے..
میں ریزائن کر دیا ہے.. اریزے نے سکون سے کہا تھا.
لیکن کیوں..؟؟؟ شانزے کو شوک لگا تھا..
کیوں سے کیا مطلب ہے.. میری مرضی.. جیسے تمہاری مرضی ہوتی ہے.. اور بہت دنوں کی بعد اریزے تلخ ہوئی تھی.
اس نے شانزے کو اس کے الفاظ واپس کیے تھے،
جو اس نے یوسف سے ملنے سے پہلے اریزے کے روکنے پے کہے تھے..
تم عثمان بھائی کے ساتھ ایسے کیسے کر سکتی ہو..؟؟؟ شانزے نے اس کو احساس دلانے کی کوشش کی تھی،
جیسے تم کر سکتی ہو.. جواب بہت تیزی سے آیا تھا..
لیکن.. شانزے نے کچھ کہنا چاہا تھا..
لیکن یہ.. اریزے کے عثمان اور اریزے کے رشتے کی عمر بھی اتنی لمبی تھی، جتنی شانزے اور یوسف کہ..
اریزے نے بہت صاف لفظوں میں جواب دیا تھا.. اب وہ اوپر آسمان میں کہیں دیکھ رہی تھی.
وہ دونوں پھر خاموش ہو گیں تھیں جبکہ شانزے کچھ سوچنے لگی تھی..
…………………………
شانزےاس دن کے بعد آج یونیورسٹی آئ تھی، وہ بھی پیپرز کی وجہ سے…
اسے اپنے گروپ میں سے ابھی تک کوئی بھی نہیں ملا، یہاں تک کے نہ محسن نہ یوسف…
وہ انتیظار کرنے لگی تھی.. جب اسے صبا، ذارا اور مہک تینوں ہی نظر آئیں تھیں..
رسمی باتوں کے بعد وہ تینوں کیفے میں آگئیں تھیں.. لیکن ابھی تک وہ اسے کہیں بھی نظر نہیں آیا تھا..
(تو اس نے اپنی بات پوری کی تھی وہ نکل گیا تھا اس کی زندگی سے..)
وہ تینوں آپس میں باتیں کر رہیں تھیں شانزے کو لگا وہ مس فٹ ہے ان میں.. وہ صرف اپنی باتیں کر رہیں تھیں..
محسن… یہاں آجاؤ.. مہک نے اسے آواز دی اس نے شاید دیکھا نہیں تھا. تبھی وہ دوسری طرف جا رہا تھا.
کیسے ہو محسن.. شانزے نے پوچھا تھا..
ٹھیک.. اس نے ایسے جواب دیا تھا جیسے احسان کیا ہو..
کہو مہک میں جلدی میں ہوں مجھے جانا ہے.. محسن کی آواز میں عجیب سختی تھی.
شانزے کو لگا وہ اس کے لئے ہے..
یوسف کیسا ہے اب.. مہک نے پوچھا تھا. لیکن شانزے کا تو سر ہی چکرا گیا تھا..
زندہ ہے،، محسن نے براہ راست شانزے کو دیکھ کر کہا تھا.
بکو مت… ایگزمز کا بتاؤ دے گا یا نہیں… زارا نے اگلا سوال کیا تھا.
دے گا لیکن چلینجر… ( بورڈ اوف ڈائریکٹرز نے پرمیشن دے دی ہے.. ) ابھی تو اس کی حالت ایسی نہیں ہے..
کیا ہوا اس کو… شانزے کا صبر جواب دے گیا تھا… اس نے محسن سے پوچھا تھا،
اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا بول رہے ہیں..
لیکن محسن نے کوئی جواب نہیں وہ ابھی بھی زارا اور مہک سے باتیں کر رہا تھا..
محسن پلیز میں کچھ پوچھ رہی ہوں..؟؟ شانزے نے کو یقین نہیں آیا تھا یہی ووہی محسن ہے..
اتنی فکر کیوں..؟؟؟ محسن تلخ ہوا تھا… موت کے منہ میں تو دھکیل دیا ہی تم نے اب کیا جاننا چاہتی ہو..؟؟
شانزے جانے لگی تھی.. جب محسن اس کے سامنے اکر کھڑا ہو گیا تھا..
کیا ہوا ڈر رہی ہو.. سچ کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے.. محسن کی آنکھیں ایک دم بھیگنے لگیں تھی..
شانزے حسان.. ایک ہنستے بستے انسان کو اجاڑ دیا تم نے…
“نہ اسے اپنا بنایا، نہ کسی اور کے قابل چھوڑا..” “میری دعا ہے تم بھی یونہی تڑپو”
محسن پلیز بس کرو.. کیا ہو گیا ہے.. صبا نے مداخلت کی.. اس نے شانزے کا پیلا ہوتا رنگ دیکھا تھا..
محسن روکا نہیں تھا چلا گیا تھا.. صبا نے اسے بٹھایا تھا وہ اسے پانی پلا رہی تھی…
اور اس نے ہی اسے یوسف کی طبیعت کے بارے میں بتایا تھا.
………………………..
اوہ تم – رانیہ یوسف سے ملنے آئ تھی.. وہ پہلے بھی آتی رہی تھی لیکن یوسف اس سے کبھی بات نہیں کرتا تھا…
آج بھی وہ مانیہ کی منگنی کا بلاوا دینے آئ تھی.. تو یوسف سے ملنے چلی آئ..
کیسے ہو..؟؟ اس نے اندر آتے کہا تھا..
ٹھیک ہوں.. تم بتاؤ کیسی ہو.. یوسف کی آواز سپاٹ تھی..
یوسف میں تمھی کچھ بتانا چاہتی ہوں، یوسف تم میری وجہ سے ہارے تھے.. میں نے شانزے کی سپیچ چوری تھی..
رانیہ سب کچھ ایک سانس میں بول گئی تھی،،
جانتا ہو ہوں.. یوسف کا جواب تو ایک لفظ کا تھا. رانیہ کا منہ کھلا رہ گیا تھا.
میں نے دیکھ لیا جب تم نے سپیچ جلائی تھی.. یوسف خاموش ہوا تھا..
کیا مجھے حق ہے کہ میں معافی مانگ سکوں.. رانیہ کی آنکھوں سے آنسو گرے تھے..
میرے پاس کچھ بھی نہیں رانیہ، میں کیا دے سکتا ہوں.. یوسف کا لہجہ ویسا ہی تھا..
پلیز یوسف مجھے معاف کر دو.. رانیہ اس کے سامنے زمین پے بیٹھی تھی..
یہ کیا کر رہی ہو رانیہ پلیز ایسا مت کرو.. یوسف نے اسے اٹھا کر پاس بٹھایا تھا..
میں ناراض نہیں ہوں تم سے، میں تو بس خود سے ناراض ہوں.. یوسف نے آہستہ سے کہا تھا..
میں جانتی ہوں تم مجھے سے بہت ناراض ہو، ہونا بھی چاہیے..
لیکن پلیز مجھے معاف کر دو، یوسف میں اندھی ہو گئی تھی،
میں نے تمہاری دوستی کا غلط مطلب لیا.. لیکن غلطی تمہاری بھی ہے تم نے ہمیشہ مجھے اہمیت دی….
اور میں خوش گماں ہوتی گئی.. رانیہ شرمندہ تھی.. پر پوری طرح غلطی مانے کے لئے تیار نہ تھی..
ٹھیک کہ رہی ہو غلطی تو میری ہے..
تمہیں تو پتا ہے نا میں دنیا کا سب سے کمزور آدمی ہوں..
میری دعا رہی ہے.. کہ جو لوگ مجھ سے پیار کرتے ہیں وہ ہمیشہ خوش رہیں..
لیکن جب میری خوشی کی باری آئ تو سب اپنے بارے میں سوچنے لگے… یوسف کی آنکھوں میں ٹرپ تھی.
مجھے معاف کر دو یوسف.. پلیز مجھے معاف کر دو.. تم مجھے معاف کر دو گئے تو شاید
خدا بھی مجھے معاف کر دے گا.. ورنہ وہ پھر اتنا اچھا دوست کبھی کسی کو نہیں دیگا..
رانیہ رونے لگی تھی.. اس کے کندھے پر سر رکھ کر..
یوسف کا دل پگھلنے لگا تھا.. وہ کیسے اسے رولا سکتا تھا، وہ اس کے بچپن کی دوست تھی..
بس کرو… میری شرٹ خراب ہو جائے گی.. اس نے اس کے بال کھنچے تھے..
وہ ہنسی تھی.. یوسف مسکرایا تھا.. لیکن رانیہ نے دیکھا تھا یہ مسکراہٹ مصنوئی تھی
آنسو اب کی بار اس کے اپنے دل پے گرے تھے.. وہ یوسف کو چاہتی تھی.. وہ اس کے بچپن کا دوست تھا..
………………………..
شانزے دل کے ہاتھوں مجبور ہوئی تھی..آنا تو اس نے تھا تو سوچا ابھی کیوں نہیں..
اس نے اندر اکر عثمان سے ملنے کا کہا تھا.. تب آپریٹر نے عثمان کو کال ملائی تھی..
سر آپ سے کوئی شانزے ملنے آئ ہیں.. آپریٹر نے عثمان کو بتایا تھا..
اور وہ سب کام چھوڑ کر آگیا تھا.. آؤ شانزے باہر چلتے ہیں..
اسے بات کرنے کے لئے آفس مناسب جگہ نہیں لگی تھی…
وہ دونوں اب قریبی ریسٹورینٹ میں بیٹھے تھے.. عثمان نے جوس منگایا تھا..
اور شانزے کو دیکھنے لگا تھا.. وہ کہیں سے بھی وہ شانزے نہیں لگ رہی تھی جسے وہ چند دن پہلے ملا تھا..
پیلی رنگت.. خشک ہونٹ… خاموش آنکھیں.. اور انکے نیچے بنے سیاہ دائرے سارے سوالوں کا جواب تھے..
کیا ہوا بھائی.. آپ کچھ بولیں گئے نہیں.. برا بھلا.. آخر کو میں نے… شانزے پھر خاموش ہوئی تھی..
شانزے.. انسان کبھی اچھا برا نہیں ہو تھا سارا مسلہ وقت کا ہے..
وقت تہہ کرتا ہے کسے اچھا بنانا ہے کسے برا… عثمان کی آواز میں ہمیشہ جیسا ٹہراؤ تھا..
تو پھر میں یہ سمجوں کہ میری بہن کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا.. شانزے نے نظرین جھکایں تھیں..
دل میں چور جو تھا،، وہ یہاں صرف اریزے کے لئے آئ تھی..
انہوں نے شانزے کو غور سے دیکھا تھا اس کی حالت سے صاف ظاہر تھا کوئی مسلہ ہے..
لیکن کیا وہ جان نہیں پاے تھے.. اگر یوسف اس کے بغیر مر رہا تھا، تو زندہ وہ بھی نہیں تھی..
انھیں دکھ ہوا تھا. یوسف شانزے انھیں سچ میں بہت پیارے تھے.
نہیں تمہاری بہن کو کوئی نقصان نہیں ہو گا.. عثمان کی آواز ابھی بھی ویسی تھی اتنی ہی نرم..
تو پھر آپ جلدی لے جائیں اسے.. شانزے نے کہا تھا اور اس بار اس نے صرف عثمان کا سر ہاں میں ہلتا دیکھا تھا.
تھنک یو بھائی.. شانزے نے کہا تھا اور بغیر جوس پیے کھڑی ہو گئی تھی..
بہنیں تھنکس نہیں بولتیں.. عثمان نے اس کی طرف مسکرا کے دیکھا تھا..
شانزے کا دل بھرنے لگا تھا.. وہ مسکرا نہیں سکی تھی.. چلتی ہوں.. شانزے جانے کے لئے بڑھی تھی..
یوسف کا نہیں پوچھو گی.. عثمان نے جانے کس اس میں کہا تھا..
میں جانتی ہوں آپ اس کا خیال رکھیں گئے.. وہ روکی نہیں تھی..
اور اب روکنا اس کے بس کی بات بھی نہیں تھی..
………………………..
گھر میں ہر طرف ہنگامہ تھا آج وجی کی منگنی ہے…. وہ بہت خوش تھا،
اور اس کی خوشی کا اظہار اس کا روم روم کرتا تھا.. اس کے پاؤں زمین پے نہیں پڑھ رہے تھے…
وہ بار بار سب کو چھیڑتا.. اس نے محسوس کیا تھا اب شانزے پہلے کی طرح اس سے لڑتی نہیں تھی.
وہ کتنی بھی کوشش کرتا لیکن.. اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا..
آج بھی وہ اسے احد کے حوالے سے چھیڑ رہا تھا، پر شانزے نے کوئی ریکٹ نہیں کیا تھا..
کیا ہوا میری F16 کو بڑی بدل گئی ہے.. سنا تھا بہنیں شادی کے بعد پرائی ہو جاتی ہیں…
یہاں تو رشتہ پکا ہونے پے یہ حال ہے… وجی نے پھر کوشش کی تھی..
نہیں تو میں کہاں بدلی ہوں.. آپ بدل گئے ہیں.. شانزے خوش نظر آنے کی بھرپور کوشش کی تھی..
اچھا تو پھر.. تم پہلے کی طرح مجھ سے لڑتیں کیوں نہیں.. وجی نے پھر سے پوچھا تھا..
کیونکہ اب میں بڑی ہو گئی نہ… شانزے کہتی چلی گئی تھی..
اور وجی سوچ میں پڑ گیا تھا، وہ سچ میں بڑی ہو گئی تھی.. اس کے دل کا راز پانا اب آسان نہیں تھا..
………………………..
وہ اوپر جا رہی تھی، جب اس نے احد کو آتے دیکھا تھا.. بلیک کلر کے قمیض شلوار میں اچھا لگ رہا تھا..
شانزے نے آج پہلی بار اسے ٹریڈیشنل کپڑوں میں دیکھا تھا..
لگ تو شانزے بھی بہت خوبصورت رہی تھی،
سفید رنگ کے حیدرآبادی کرتا بجامہ پہنے، ساتھ ہلکا پنک کلر کا کامدانی کا دوپٹہ لئے..
اپنی بوسیدھا حالت میں میں بھی وہ نظر بھر کے دیکھنے کے قابل تھی..
لیکن احد نے اسے سرسری سا بھی دیکھنا پسند نہیں کیا تھا..
شانزے نے نوٹ کیا تھا جیسے پہلے وہ اسے دیکھتا تھا، اور اسے الجھن ہوتی تھی اب وہ بات نہیں رہی تھی..
حتکہ رشتہ پکا ہونے کے بعد بھی احد نے کوئی ریسپونس نہیں دیا تھا..
لیکن شانزے خوش تھی.. جو بھی تھا اس کی جان فلحال احد سے چھوٹ گئی تھی..
…………………………
وجی اپنی پوری فیملی کے ساتھ ہال میں تھا جہاں اب سے کچھ دیر بعد وجی اور مانیہ کی منگنی کی تقریب ہونی تھی..
سب ایک دوسرے سے مل رہے تھے.. عثمان کے بہت کہنے پے یوسف ساتھ آگیا تھا..
حسین کی طبیعت ناساز تھی اس لئے وہ نہیں آے تھے، اور شاہینہ ان کے پاسس روکیں تھیں..
اور پھر عثمان نے اپنے بور ہونے کا واسطہ دیا تھا تو اسے آنا پڑا.
اور وہ دونوں جان کر حیران ہوے تھے.. کہ مانیہ کا رشتہ وجی سے ہوا ہے..
وہ موئن صاحب کے ساتھ لڑکے والوں کو ریسیو کر رہے تھے.. موئن صاحب کو بھی جان کے حیرت ہوئی تھی،
کہ وہ پہلے سے ایک ایک دوسرے کو جانتے ہیں.. لیکن یہ بحیرت بڑی خوشگوار تھی،
کہ وہ سب ایک دوسرے کو جانتے تھے..
احد کی نظر، یوسف پے پڑی تھی اور اسے اس دن والا سین یاد آگیا تھا.. اس لئے اس کی بھویں تن گیں تھیں..
وجی اب یوسف اور احد کا تعارف کروا رہے تھے.. یوسف نے بڑھ کر اس سے ہاتھ ملایا تھا..
تقریباً سب ہی اندر آگے تھے پر شانزے نظر نہیں آئ تھی.. یوسف کا دل بے چین ہوا.. اچانک دل نے خواھش کی تھی.
ایسے کیسے ہو سکتا تھا کہ پیاسہ پانی کے اتنے پاس اکر بھی پیاسہ رہے..
خود سے کیے سارے عہد ایک ایک کر کے ٹوٹنے لگے تھے.. قدم خود بہ خود باہر کی طرف بڑھے تھے..
جب وہ سامنے سے آتی دیکھائی دی تھی،،
جو کبھی اپنا دوپٹہ سمبھالتی تو کبھی اپنے ہاتھ میں پکڑا سامان. آس پاس کی ہر چیز ہوا میں تحلیل ہوگئی تھی..
آس پاس سے آتا باتوں کا شور.. زمین آسمان سب کچھ..
اگر وہ دیکھ سکتا تھا تو صرف شانزے کو، اتنے دن میں پہلی بار اسے اپنے زندہ ہونے کا احساس ہوا..
وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا…
شانزے نے دیکھا تھا اسے.. پھر دیکھتی رہ گئی تھی.. شیو ہلکی ہلکی بڑی تھی..
چہرے سے لگ رہا تھا کہ ٹھیک نہیں ہے، شانزے کو پہلے کی نسبت کمزور لگا تھا..
لیکن پھر بھی سفید کرتا پاجامہ پہنے ہمیشہ سے زیادہ ڈیسنٹ لگا رہا تھا..
اسے احساس ہی نہیں ہوا تھا کہ اس کے پیچھے آتی اریزے کب کی روک گئی ہے..
وہ دیکھ سکتی تھی تو صرف یوسف کو..
جو بلکل اس کے سامنے کھڑا تھا.. شانزے کے ہاتھ سے باکسیز گرنے لگے تھے..
جب یوسف نے اس کے ہاتھوں سے وہ پکڑ لئے تھے.. اسی وقت اس کے ہاتھ شانزے کی انگلیوں سے مس ہوے تھے..
شانزے کا دل دھڑکا تھا.. لیکن تب تک یوسف واپس پلٹ گیا تھا..
اتنے دن میں پہلی بار اس نے اپنے دل کو دھڑکتا محسوس کیا تھا..
………………………….
سب لوگ منگنی کی رسم کے لئے اسٹیج پے تھے.. تبھی می جانی کو گفٹس یاد آے، جو وہ لے کر آئ تھیں..
کہاں چلے گئے، یہیں تو رکھے تھے، وہ پریشان ہو رہی تھیں..
کیا ہوا می جانی.. شانزے گفٹس نہیں مل رہے ابھی تو یہیں تھے..
آپ پریشان نہ ہوں، میں دیکھتی ہوں.. شانزے نے تسلی دی تھی..
ٹھیک ہے لیکن جلدی ایسا نہ ہو رسم رہ جائے.. اانہوں نے فکر مندی سے کہا تھا..
آپ جائیں میں دیکھتیں.. شانزے کہہ کر دیکھنے لگی تھی.. اس بات سے بےخبر کے وہ نظروں کے حصار میں ہے.
سب دیکھنے پر بھی جب نہیں ملا..تو شانزے ڈریسنگ روم کی طرف گئی تھی..
اور اسے سامنے ہی نظر آگے تھے، شانزے اٹھا کر پلٹی ہی تھی..
اپنے سامنے اسے کھڑا دیکھ حیران ہوئی تھی..
رانیہ تم… شانزے کے منہ سے نکلا تھا..
ہاں.. کچھ بات کرنی ہے تم سے.. رانیہ آگے بڑی تھی.. وہ بہت دیر سے شانزے پے نظر رکھے ہوے تھی..
کب وہ شانزے سے مل سکے.. اور آخرکار موقع مل گیا تھا.
لیکن مجھے کوئی بات نہیں کرنی.. شانزے جانے کے لئے آگے ہوئی تھی لیکن رانیہ نے روکا تھا..
کیوں کر رہی ہو ایسا.. رانیہ اب اس کے سامنے دیوار بنی کھڑی تھی..
میں نے کیا کیا ہے..؟؟ شانزے نے نظرین چرائیں تھیں..
تم اچھی طرح جانتی ہو.. ورنہ ایسے نظرین نہ چراتیں.. یوسف محبت کرتا ہے تم سے..
تم محبت کرتی ہو یوسف سے تو پھر کیوں…؟؟؟ رانیہ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں دیکھ کر کہا تھا..
محبت تو تم بھی کرتی ہو نہ تو پھر؟؟؟ تم یہیں چاہتیں تھیں یوسف مجھ سے دور ہو جائے تو پھر..؟؟ شانزے بولی تھی..
ہاں مانتی ہوں.. کرتی ہوں.. بہت کرتی ہوں.. پر میں جان گئی ہوں، محبت چھینے کا نام نہیں ہے..
محبت دینے کا نام ہے… جیسے یوسف نے دیا اپنا سب کچھ تمہیں… بغیر کسی لالچ کے..
اور تم نے بدلے میں کیا کیا، اس کا دل توڑ دیا وہ بھی اتنی بےرحمی سے.. کیوں کیا تم نے ایسا..
یا میں یہ سمجھ لوں کہ تم بھی مڈل کلاس کی ان لڑکیوں کی طرح ہو جو اپنا مطلب پورا کرتی ہیں..
اور پھر مطلب نکلنے پے راستہ بدل لیتی ہیں.. رانیہ کی بات نے شانزے کو انتہا پے لا کھڑا کیا تھا..
ہاں تم یہی سمجھ لو.. شانزے کہہ کر پلٹی تھی، اس میں رانیہ کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی..
وہ اپنے دونوں ہاتھ روم میں رکھے صوفے پر رکھ کر تھوڑا جھک کر کھڑی تھی..
تم کچھ بھی کہہ لو رانیہ میں ہر الزام سہہ لوں گی..
لیکن یہ مت کہو کہ میں نے اس کا استعمال کیا ہے..
میں نے محبت کی ہے اس سے پر میں تمہیں کیسے بتاؤں کے بیٹیاں کتنی مجبور ہو جاتی ہیں،،
میں بھی مجبور ہوں اپنے باپ کے فیصلے کے آگے.. وہ روتے ہوے بولے جا رہی تھی..
یہ جانے بغیر کے رانیہ کب کی جا چکی لیکن پیچھے کھڑے یوسف نے اس کی ساری باتیں سن لی ہیں..
جو لاکھ ہمت جوٹا کر اس سے اپنے سوالوں کا جواب مانگنے آیا تھا..
لیکن یہاں اکر کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی..
یوسف خاموشی سے واپس پلٹ گیا تھا..
شانزے کافی حد تک خود کو کمپوز کر چکی تھی، اس لئے گفٹس اٹھا کر بھی آگئی تھی..
…………………………………….
اریزے میں بہت دیر سے تم سے بات کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، عثمان نے اریزے کے سامنے کھڑے ہوتے کہا..
جو بہت دیر سے اسے اگنور کر رہی تھی..
لیکن مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی.. اریزے جانے لگی تھی جب پیچھے سے عثمان کی آواز آئ تھی.
ٹھیک ہے پھر مجھے آپ کے پاپا سے ہی بات کر لینی چاہیے ..
اریزے کا تو رنگ ہی اوڑھ گیا تھا.. بولیں کیا کہنا ہے آپ کو..
اریزے مجھ سے ایسی کون سی غلطی ہو گئی جو آپ نے مجھ سے بات کرنا تک ضروری نہیں سمجھا…
وہ آپ آے نہیں تو… اریزے شرمندہ ہوئی تھی..
میں آیا نہیں تو آپ نے کچھ بھی سوچ لیا..؟؟
یہ آپ دونوں بہنوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے کیا.. عثمان نے ناراض ہوتے کہا تھا..
نہیں.. بنا بتاے غائب ہونا آپ دونوں بھائیوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے.. اریزے نے بھی ویسے کہا تھا..
عثمان کو ہنسی آئ تھی.. اس نے تو ہمیشہ سے بڑی سلجھی سے اریزے کو دیکھا تھا..
اوہ – تو یہ کولیٹی بھی ہے آپ نے.. عثمان نے اس بہت محبت سے دیکھا تھا..
ٹھیک ہے میں مانتا ہوں میری غلطی ہے، مجھے بتانا چاہیے تھا. لیکن اریزے،
آپ خود بتائیں کہ اس وقت یوسف موت کے منہ میں تھا میں کیسے اپنے حواس میں رہتا..
عثمان کی آنکھوں میں صاف لکھا تھا کہ وہ سچ کہ رہا ہے.. اریزے کچھ اور شرمندہ ہی تھی..
اریزے محبت کی پہلی شرط ہے ایک دوسرے پے بھروسہ کرنا.. عثمان نے بہت سنجیدھ لہجے میں کہا تھا..
اور میں چاہتا ہوں آپ مجھ پے بھروسہ کریں.. جیسے میں آپ پر کرتا ہوں..
اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ یہ بھروسہ میں کبھی ٹوٹنے نہیں دوں گا.
اریزے نے منہ نیچے کیا تھا.. اس کے چہرے پے اس وقت روشنیاں ہی جگمگا رہیں تھیں..
محبت کا پہلا لفظی اظہار تھا.. اریزے کی دنیا جگمگا گئی تھی.. جب اس نے عثمان کو کہتے سنا..
آپ جانتی ہیں، آپ کے میرے رشتے کی سب سے خوبصورت بات مجھے کیا لگتی ہے..
اریزے نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا اور عثمان نے اس کی آنکھوں میں…
یہی کہ آپ بنا کچھ بولے بھی میرے دل کی بات جان لیتی ہیں.. وہ مسکرایا تھا..
اسٹیج پے کھڑے یوسف اور شانزے نے ان دونوں کو دیکھا تھا اور پھر ان کی خوشیوں کی دعا کی تھی..
………………………………………..
اریزے اور عثمان کے رابطے بھال ہو گئے تھے. لیکن عثمان نے اسے آفس آنے سے مانںا کیا تھا..
وہ چاہتا تھا کہ اب وہ ایک ہی بار آے اپنے تمام تر حقوق کے ساتھ..
شزنے کو بھی علم تھا کہ وہ دونوں بات کرتے ہیں..
اس لئے شانزے نے اریزے کو قسم دی تھی کہ وہ عثمان کو کچھ نہ بتاے..
اور اریزے بیچاری پھر دونوں طرف سے پھس گئی تھی..
عثمان نے اس سے پوچھا تھا ایک بار..
شانزے کے انکار کے بارے میں لیکن اریزے نے شانزے کی قسم کی وجہ سے کچھ نہیں کہا تھا..
اور پھر اس کے بعد سے عثمان نے دوبارہ کوئی بات نہیں کی تھی..
اریزے کو ان کی یہ بات بہت پسند تھی وہ کبھی بےجا اصرار نہیں کرتے تھے..
ابھی بھی وہ کال سن کے فری ہوئی تھی ، جب اسے شانزے کا خیال آیا تھا..
لیکن وہ پورے گھر میں اسے کہیں نہیں ملی تھی ہاں البتہ انیقہ ضرور دیکھائی دی تھی احد کہ ساتھ..
اور یہ بات اریزے کو کچھ خاص پسند نہیں آئ تھی..
………………………………
………………………………
بہت دن کے آج یوسف اور محسن ڈرائیو پے آے تھے.. جس کی فرمائش یوسف نے کی تھی..
کیا بات ہے دیکھ رہا ہوں جب سے شانزے ملی تجھے منگنی میں تو کچھ نارمل ہو گیا ہے.. محسن نے دل بات کی تھی..
کیوں میں کیا ابنارمل ہو گیا تھا ؟؟ یوسف نے اپنے پہلے کے سے انداز میں اس کی بات پکڑی تھی..
ہاں لگ تو ایسا ہی رہا تھا.. محسن نے جل کر کہا تھا.
یوسف اس کی بات پے مسکرایا تھا.. ہنسا تو خیر اس نے چھوڑ ہی دیا تھا.. لیکن محسن کے لئے تو یہ بھی بہت تھا..
لگتا ہے بات ہوئی ہے شانزے سے.. محسن نے کچھ جانچنے کی کوشش کی تھی..
ہاں کہ سکتے ہیں.. یوسف نے انکار نہیں کیا تھا.
تو میرا اندازہ ٹھیک تھا.. محسن مسکرایا تھا. جبکہ یوسف نے ہاں میں سر ہلا تھا.
کیا بات ہوئی ؟؟ محسن کو اب شانزے پے یقین نہیں رہا تھا، کم سے کم یوسف کے معاملے میں تو ایسا ہی تھا.
یوسف نے جو سنا تھا، جیسے سنا تھا بتا دیا تھا..
جس پے محسن بھڑک گیا تھا، مجبوری ؟؟ میں نہیں مانتا.. یہ صرف بہلاوا ہے یوسف.. کوئی مجبور نہیں ہوتی..
پتھر دل انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کسی کی فیلنگس اگر سوچتی ہیں تو صرف اپنا.. محسن ابھی غصے میں تھا.
محسن، یہ لڑکیاں نہ بڑی پیاری ہوتی ہیں.. جب باپ کی عزت کی بات آجاے نہ تو وہ کسی کی پرواہ نہیں کرتیں..
دل اور باپ میں سے کسی کو ایک کو چننا ہو تو دل اکثرہی ہار جاتا ہے..
باہر سے نازک دیکھنے والی یہ لڑکیاں اندر سے بہت مضبوط ہوتی ہیں،
دل ٹوٹ بھی جائے تو یہ شور نہیں کرتیں، پھر چاہے ان کی کرچیوں سے ان روحیں تک زخمی کیوں نہ ہو جائیں..
محسن خاموش ہو گیا تھا، وہ دیکھ رہا تھا یوسف کو جو پہلے کے مقابلے میں بہت ریلکس تھا.
تو پھر اب کیا..؟؟ محسن نے پوچھ ہی لیا تھا..
اب… جو الله کی مرضی، میں تو اس کے دار کا فقیر ہوں، صرف مانگ سکتا ہوں..
اس کے پاسس تو بادشاہی ہے، دینے والا تو وہ ہے.. یوسف نے بہت سکون سے کہا تھا..
………………………………
اریزے سهڑیاں چڑھ رہی تھی، وہ جانتی تھی، کہ شانزے وہیں ہو گی اپنی مخصوس جگہ پے.
اریزے روک گئی تھی.. اس نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا تھا..
بلکل سپاٹ.. آنکھیں حد درجہ ویرانی لئے تھیں.. اریزے کا دل کٹا تھا.. وہ ایسی تو بھی نہں تھی.
یہ احد آج کل کچھ زدہ ہی عنیقہ میں نہیں گھس رہا.. اریزے نے پاس بیٹھ کر کہا تھا..
گھسنے دو مجھے کیا فرق پڑتا ہے.. شانزے نے اطمینان سے کہا تھا.
کیوں کر رہی ہو تم ایسا.. اریزے نے اس کے چہرے پے پہلے دکھ کا موسم دیکھا تھا.
کیسا.. وہ چونکی..
تم پاپا کو کیوں نہیں کہہ دیتیں کہ تم احد سے شادی نہیں کرنا چاہتیں.. اریزے چیڑی تھی..
نہیں… میں نہیں کر سکتی ایسا تم جانتی ہو.. شانزے دبا دبا چلائی تھی.
ٹھیک ہے تو پھر کرو خود قربان… دو اپنی قربانی… اریزے نے اس بار غصے سے کہا تھا…
لیکن شانزے ایک بار یوسف کا بھی سوچ لو.. اے کس بات کی سزا دے رہی ہو… دھوکہ ہے یہ تو…
اریزے نے اس میں کچھ احساس جگانے کی کوشش کی تھی..
ہاں میں کر دوں گی خود کو قربان کیوں کہ میں باپ کی عزت کو قربان کر کے اپنی خوشیاں نہیں حاصل کر سکتی..
شانزے کی آنکھوں میں پانی بھرا تھا… میں زینب نہیں بن سکتی ، میں اپنی ماں والی غلطی نہیں کر سکتی..
میں محبت کرتی ہوں یوسف سے لیکن اپنے باپ سے زیادہ نہیں.. تم نہیں جانتی پاپا نے کتنے مان سے کہا تھا..
کہ میں ان کی بات سے کبھی انکار نہیں کر سکتی… تم بتاؤ کیسے میں ان کا یہ مان توڑ دوں…؟؟
اپنے باپ کو دھوکہ دینے سے بہتر ہے میں یوسف کو دھوکہ دے لوں.. شانزے نے اسے سمجھانے کی کوشش کی.
اریزے کیسا دھوکہ.. پاپا نہیں جانتے.. اگر وہ جانتے ہوتے تو ایسا کبھی نہیں ہونے دیتے…
تم جانتی ہو وہ تمہیں چاہتے ہیں، تمہاری خوشی کبھی وہ یوں قربان نہ کرتے..
پلیز اریزے آہستہ بولو اگر کسی نے سن لیا تو.. شانزے نے ہاتھ جوڑے تھے..
تو بہت اچھا ہو گا.. اور اگر ایسا نہ ہوا تو میں خود جا کے پاپا کو بتا دوں گی.. اریزے اٹھ کے جانے لگی تھی..
جب شانزے نے اس کا ہاتھ پکڑ کے روکا تھا..
تمہیں میری قسم تم پاپا کو یا کسی کو بھی کچھ نہیں بولو گی.. شانزے نےمنت کی تھی..
نیچے کی طرف کی سهڑیوں پے کچھ گرنے کی آواز آئ تھی.. ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا..
میں دیکھتیں جب اریزے نیچے گئی تو وہاں کوئی نہیں تھا…
اس نے گملا سیدھا کیا تھا اور واپس شانزے کے پاسس آئ تھی..
کون تھا….؟؟ شانزے پریشان تھی..
کوئی نہیں.. اریزے نے تسلی کرائی تھی..
تو پھر آواز… شانزے کا چہرہ سوالیہ نشان بنا تھا..
اوہو – گملا گرا تھا.. چلو نیچے چلتے ہیں کافی اندھیرا ہو رہا ہے..
………………………………….
سب کچھ پہلے جیسے تھا.. لیکن گھر کا ماحول آج کل بڑا خوش گوار تھا.. وجی کی شادی شروع ہو گئی تھی..
اس لئے گھر میں ہر وقت رونک لگی رہتی تھی،
سارے رشتدار جمع تھے آخر کو اس خاندان کے اکلوتے چشم و چراغ کی شادی تھی..
کبھی گانے گاے جاتے، تو کبھی چاے کا شور اٹھتا.. بڑوں نے تو اپنی الگ ٹولی بنا لی تھی..
ہر طرف باتوں کا شور… ہنسی مذاق..
لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے جانے کیا ہوا تھا، کہ پھوپو نے اچانک ہی ایک نیا دھماکہ کیا..
میں چاہتی ہوں.. کل وجی کی مہندی اور نکاح ہے میں ہی ہم شانزے اور احد کا نکاح بھی کر دیں..
پھوپو اپنی بات کر کے خاموش ہوئیں تھیں اور خاموش تو حسان بھی ہوے تھے، جانے کن سوچوں میں گم ہو گے تھے.
ارے لو تم نے تو پورا پورا پروگرام ہی بنا لیا کوئی مشورہ ہوتا ہے، تم نے خود ہی سب کچھ تہہ کر لیا..
نہ ماں کو پتہ نہ باپ کو.. تائی جان سب سے پہلے بولیں تھیں..
بات ان کی غلط نہیں تھی،، اب روبینہ کیا بتاتیں ان کو کہ یہ سب ان کی اور عنیقہ کی وجہ سے ہی سوچا ہے..
عنیقہ کی اور احد کی بڑھتی نزدیکیاں انھیں پسند نہیں آرہیں تھیں، احد ابھی تک ان سے کچھ کہا نہیں تھا
لیکن وہ ڈر رہی تھیں..
بھابھی اس میں برائی کیا ہے.. ہم پہلے رشتہ پکا کر ہی چکے ہیں اور پھر ہمارے جانے سے پہلے شادی تو ہونی ہی ہے نا.
ارے بہن کوئی تیاری ہوتی ہے یا نہیں یوں تھوڑی شادی اور منگنیاں ہو جاتی ہیں منہ اٹھا کہ..
تقریباً سارے ہی ان کی بات سے اتفاق کر رہے تھے..
اور کچھ حسان کی خاموشی نے بھی انہیں ہمت دی تھی جو جانے کہاں گم تھے..
حسان تم بولو، تمہاری کیا راے ہے.. روبینہ کی آخری امید وہی تھے..
مجھے آفس کے کام سے سے آج حیدرآباد جانا ہے.. میں کل رات میں آئ آؤں گا..
اس لئے یہ ممکن نہیں پھر اس کے بعد ہم بیٹھ کر بت کرتے ہیں اس رشتے کے بڑے میں..
حسان نے کہا تھا.. روبینہ مایوس ہوئیں تھیں.. جبکہ تائی جان کو اپنے دل کی ہوتی پوری نظر آئ تھی..
یہ کیا چاچو آپ نہیں ہوں گے.. وجی مایوس ہوا تھا..
یار فکر نہ کرو میں تمہارا فنشن ختم ہونے سے پہلے آجاؤں گا.. حسان نے تسلی دی تھی..
آپ کو نکاح سے پہلے آنا ہی پڑے گا ورنہ میں نے نہیں کرنا.. وجی نے منہ بناتے کہا تھا..
اچھا دیکھ لو میں آزما لوں گا، حسان نے دھمکی دی تھی..
چاچو اب آپ ایسا کریں گے.. وجی نے کچھ اور منہ بنایا تھا سب پھر سے ہنسنے لگے تھا..
……………………………………
دیکھ لیا آپ نے یہاں نکاح کی باتیں ہو رہی ہیں.. عنیقہ غصے کی حدوں کو چھو رہی تھی..
صبر کر میری بچی کچھ نہیں ہو گا میں دیکھتی ہوں کیسے احد اور شانزے کی شادی ہوتی ہے.. تائی جان نے تسلی دی.
بس کر دیں اماں آپ نے تو رشتے کے وقت ہی یہی کہا تھا پھر کیا کر لیا آپ نے..؟؟
جیسے رشتہ ہوا ویسے نکاح بھی ہوجاے گا، آپ بس مجھے صبر دلانا عنیقہ غصے میں بولے جا رہی تھی..
عنیقہ میں وعدہ کرتی ہوں یہ نکاح نہیں ہو گا.. تائی جان نے پتہ نہیں کیا سوچتے ہوے کہا تھا..
سچ اماں..؟؟؟ عنیقہ کی تو بس ہی ہو گئی تھی..
ہاں بس میں جیسے کہتی ہوں ویسا کر… تائی جان نے اسے اپنا پلان بتایا تھا….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: