Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 29

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 29

–**–**–

مہندی اور نکاح کا فنشن ساتھ میں تھا.. اس لئے سب اپنی بھر پور تیاریوں میں مگن تھے..
ہر طرف رنگ ہی رنگ تھے.. مہندی اور ابٹن کی ملی جلی خشبو پھولوں کی خشبو کے ساتھ اور بھی بھلی لگ رہی تھی..
رانیہ نے اور اس کی کزنز نے مل کر مہندی کے لئے گرین کلر کی شارٹ شرٹ اور کیپری پہنا تھا..
اور لڑکوں نے کھٹے پلے رنگ کے کرتے سفید کلر کی شلوار کے ساتھ پہنے تھے..
عثمان کو تو اس نے اور مانیہ نے مانا لیا تھا لیکن عادت سے مجبور یوسف نے صاف انکار کر دیا تھا..
کیسا لگ رہا ہوں ؟؟ یوسف نے رانیہ کہ برابر میں کھڑے ہوتے پوچھا تھا..
(وہ سب لوگ وجی اور اس کے گھر والوں کے لئے وہاں کھڑے ہوے تھے.)
بہت برے… رانیہ نے چڑ کر کہا تھا.. حالانکہ سفید قمیض شلوار میں بہت سادھ اور سنجیدہ لگ رہا تھا..
اوہ – مطلب اچھا لگ رہا ہوں.. یوسف نے اسے چڑایا تھا..
اف… خوش فہمیاں… آج کل فیشن نہیں رہا سفید پہنے کا.. پورے فنشن میں دیکھ لینا ایک تم ہی پگل نکلو..
رانیہ کو ابھی بھی غصہ آرہا تھا..
اچھا دیکھتے ہیں.. فلحال استقبال کرو.. یوسف نے اس کی توجہ سامنے سے آتے وجی لوگوں کی طرف کی تھی..
او مائی گوڈ… رانیہ کی نظر شانزے پے پڑی تھی.. رانیہ نے حیرت سے یوسف کو دیکھا تھا…
جو اب شانزے کو دیکھ رہا تھا.
وہ سب سے آخر میں کھڑی تھی، اس نے سفید رنگ کا غرار پہن رکھا تھا..
اس کے غرارے پے سلور کام تھا جو اتنا ہلکا تھا کے دور سے پتہ ہی نہیں چل رہا تھا.
میک اپ کے نام پے آج بھی صرف ہلکی سی لیپ سٹک لگائ تھی.. ہر طرح کی جیولری سے بے نیاز تھی..
بہت سادھ سا حلیہ تھا.. لیکن اس کے باوجود یوسف نظر ہٹانا بھول گیا تھا..
تبھی رانیہ نے اس کے پیٹ میں کونی ماری تھی بس کر دو بے صبرے..
بتا دیتے یہ بات تھی خام خہ اتنے ڈرامے کیے… اس کی نظر مشکوک ہوئی تھی..
یار تم جانتی ہو اب کوئی بات نہیں ہے پھر بھی شک کر رہی ہو.. وہ دیکھو احد نے وائٹ پہنا ہے..
یوسف نے شانزے کی طرف سے اس کی توجہ ہٹانی چاہی تھی..
وہ دونوں ایک ساتھ ہنس پڑے تھے.. تبھی شانزے نے یوسف کی طرف دیکھا تھا..
جانے کیوں دل میں ہوک سی اٹھی تھی..
وہ دونوں باتیں کر رہے تھے، اور ساتھ میں آنے والوں کا استقبال بھی.. شانزے کی نظرین جیسے جم گیں تھیں..
وہ بار بار دونوں کو دیکھتی..
آہستہ آہستہ چلتی سب سے آخر میں ہونے کے باوجود بھی، وہ ان سے تھوڑے ہی فاصلے پے تھی..
اس نے دیکھا تھا رانیہ کے ہاتھوں میں پکڑی پلیٹ جس میں گجرے تھے خالی ہو چکی تھی،
اس لئے اس نے بچ کر نکل جانا چاہا تھا.. لیکن رانیہ نے اچانک ہی اسے روک لیا تھا..
جبکہ یوسف اب پیچھے رہ جانے والوں کو دیکھ رہا تھا..
کیسی ہو شانزے.. رانیہ نے پوچھا تھا..
ٹھیک ہوں.. جواب مختصر تھا..
ویسے تو کہنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن بہت پیاری لگ رہی ہو.. رانیہ نے دل سے تریف کی تھی..
شکریہ.. جواب پھر مختصر تھا..
یوسف.. رانیہ نے آواز دی تھی.. وہ ان سے کچھ قدم کے فاصلے پے تھا..
اس کا نام سن کر شانزے کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی تھی وہ جانے لگی تھی. لیکن رانیہ نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا..
ہاں.. یوسف نے رانیہ کو پوچھا تھا..
تبھی اس نے یوسف کی سائیڈ پاکٹ سے دونوں گجرے نکالے تھے..
(جو یوسف نے جانے کس خیال میں میں اپنی پاکٹ میں ڈالے تھے، یوسف حیران ہوا تھا کہ رانیہ جانتی تھی..)
پلیز مجھے یہ سب نہیں پسند، رانیہ نے ابھی شانزے کے ہاتھ میں گجرا ڈالا ہی تھا..
وجی بھائی… رانیہ نے آواز دی تھی.. وہ فورن ہی آے تھے اس کے بلانے پے..
دیکھیں اچھا لگ رہا ہے نا.. رانیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کے جان بوجھ کر کہا تھا،
ہاں بھئی لگ تو بہت اچھا رہا ہے.. وجی نے تعریف کی تھی، لیکن دیکھیں نہ دوسرا نہیں پہن رہی..
اس نے اپنا اصل مقصد بیان کیا تھا.. پہن لو شانزے.. وجی نے بہت پیار سے کہا تھا..
رانیہ نے دوسرے ہاتھ میں بھی گجرا پہنایا تھا.. جبکہ شانزے اس کی حرکت پے دل جلا کر رہ گئی تھی…
تم جانتی ہو تم دنیا کی آخری پاگل ہو.. یوسف نے رانیہ کے پاس آتے کہا تھا..
ہاں جانتی ہوں.. کیوںکہ میں دنیا کہ پہلے پاگل کی دوست ہوں.. اس نے بھی اطمینان سے جواب دیا تھا..
اور وہ دونوں شانزے کو جاتے دکھنے لگے تھے..
………………………..
اریزے اور عنیقہ دونوں نے گولڈن رنگ کا غرارہ پہن رکھا تھا.. البتہ دونوں کی شرٹس چینج تھیں.
عنیقہ کی شرٹ گرین کلر کی تھی.. جبکہ اریزے کی شرٹ کھٹے پیلے رنگ کی.. جو عثمان کی شرٹ سے میچ ہوتی تھی..
وہ سب لوگ اندر آگے تھے.. ہر طرف رونق تھی، سب لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے..
اریزے اسٹیج پے چڑھ رہی تھی.. اسی وقت عثمان وجی سے مل کر پلٹا تھا، اور نظر اریزے پے پڑی تھی..
وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ساکت رہ گے تھے.. دونوں نے ایک ہی کلر پہنا تھا، عثمان نے بھر پور نظر ڈالی تھی..
جیسے وہ اسے آنکھوں میں بسانا چاہ رہا ہو..اریزے کی نظرین خود بہ خود جھکیں تھیں..
“حسن کو احتیاط لازم ہے…” عثمان نے اس کے پاس گزرتے کہا تھا، سردی میں بھی اریزے کو پسینے آگے تھے..
اور بغیر کسی کو پتہ چلنے دیے وہ اریزے کے ہاتھ میں گلاب تھاما گیا تھا..
وہ اپنے ہاتھ میں پھول دیکھ خود حیران تھی.. جب اس کے فون پے میسج آیا تھا..
“تجھ سے ملتا ہوں تو سوچ میں پڑ جاتا ہوں،
وقت کے پاؤں میں زنجیر ڈالوں کیسے”..
بڑی خوبصورت مسکراہٹ تھی اس کے چہرے پے.. اس روم روم مہک اٹھا تھا..
……………………..
نکاح ہو چکا ، اب دلہن کو لانے کی باری تھی… عنیقہ سمیت اریزے ، شانزے اور احد سب ہی اسٹیج پے تھے..
دلہن سامنے سے چلتی آرہی تھی.. وجی کو لگا وہ ہر قدم پے اسے آزما رہی ہے..
تائی جان کو لگا یہی ٹھیک موقع ہے.. انہوں ایک بچے کو بلایا اور اسے احد کو اوپر بھیجنے کے لئے کہا تھا.
کون آنٹی.. بچہ چھوٹا تھا اس لئے اسے دور سے سمجھ نہیں آرہا تھا..
وہ جس نے وائٹ کپڑے پہنے ہیں.. وہ… ان کو بولو اوپر جائیں انہیں کوئی بلا رہا ہے..
بچہ اسٹیج کی طرف گیا تھا. اب اگلا کام عنیقہ کو بلانا تھا. تائی نے فون کر کہ اسے اوپر جانے کو کہا تھا..
عین اسی وقت دلہن اوپر چڑھ رہی تھی.. سب نے ایک ساتھ شور کیا تھا..
عنیقہ جانے لگی تھی، جب وجی نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا کہاں جا رہی ہو..؟؟
وہ مجھے کچھ کام ہے اوپر… میں آتی ہوں.. عنیقہ نے جانا چاہ تھا..
کیا کام ہے.. وہ ہار پھول اوپر ہیں میں لاتی ہوں… رہنے دو شانزے لے آے گی تم نے ویسے بھی گھنٹے لگانے ہیں..
عنیقہ کا دماغ اوڑھ گیا تھا.. لیکن بھائی کے سامنے اور وہ بھی اسٹیج پے وہ کیا بولتی،
وہ بھی تب شانزے چلی بھی گئی تھی..
دلہن اب اسٹیج پے تھی.. ہر طرف شور تھا.. تیز آواز میں گانے چل رہے تھے..
بچہ ابھی اسٹیج پے آیا تھا کہ.. اسی وقت احد کا فون بجا تھا اور وہ اسٹیج سے تو کیا لان سے بھی باہر نکل گیا تھا..
بچے نے سفید کپڑے والے کو میسج دے دیا تھا.. لیکن مسلہ یہ تھا کہ وہ کوئی اور نہیں یوسف تھا..
عنیقہ نے ماں کو کال کی لیکن انہوں نے اٹھائی نہیں کیوںکہ یہی تہہ ہوا تھا جیسے احد آے گا وہ کال کرے گی..
تا کے وہ روبینہ کو اور کسی دوسری خاتون عورت کو ساتھ بیھج سکیں..
اور انہوں نے ایسا ہی کیا تھا.. روبینہ ان کی خالہ زاد اکبری کے ساتھ اوپر کی طرف گیں تھیں..
……………………………
تم… تم یہاں کیا کر رہے ہو… شانزے کے سارے طبق روشن ہوے تھے..
مطلب تم نے تو بلایا تھا.. یوسف حیران ہوا تھا.. بچے نے تو یہی کہا تھا آپ کو بلایا ہے..
میں نے… میں تمہیں کیوں بلانے لگی.. ؟؟ شانزے بگڑی تھی..
یہ تو تمہیں پتہ ہو گا نہ.. یوسف نے صاف کہا تھا.. وہ سچ میں حیران تھا اس کے ریکشن پے..
میں نے تمہیں نہیں بلایا تھا، وہ کہہ کر بھاگنے کے سٹائل میں پلٹی تھی..
لیکن غرارے کی وجہ سے گرنے لگی ہی تھی کہ یوسف نے اسے سمبھالا تھا..
اور اسی وقت روبینہ اور اکبری آئیں تھیں.. وہ دونوں دروازے میں حیران کھڑیں تھیں..
جبکہ شانزے کو لگا اس پے کسی نے ٹھنڈا پانی ڈال دیا ہے.. جبکہ یوسف کی حالت بھی مختلف نہں تھی..
وہ دونوں پلٹیں تھیں… جبھی شانزے ہوش میں آئ تھی اس نے یوسف سے خود کو چھڑایا تھا..
پھوپو آپ غلط سمجھ رہی ہیں میں.. شانزے پریشان تھی،
ارے لڑکی اندھا سمجھا ہے کیا.. اتنی مر رہیں تھیں تو ماں باپ کو کہتیں شادی کر دیتے..
روبینہ سے پہلے اکبری بولیں تھیں..
پھوپو پلیز مری بات سنیں… ایسا کچھ نہیں ہے میرا یقین کریں.. شانزے منتیں کر رہی تھی..
جبکہ اکبری نے بول بول کر پورا ہال سر پے اٹھا لیا تھا..
سب لوگ جمع ہو گے تھے، اکبری بیگم نے جو دیکھا بڑھا چڑھا کے بتایا..
تائی کی جان میں جان آئ تھی کہ وہ احد نہیں تھا… اس لئے وہ بھی شروع ہوئیں تھیں
کیا ہوا ہے آپ کچھ بتیائیں تو. می جانی نے بہن سے پوچھا تھا..
مجھ سے کیا پوچھتی ہو اپنی بیٹی سے پوچھو جس نے خاندان کی ناک کٹوا کے رکھ دی ہے.
جواب تائی جان کے بجاے اکبری نے دیا تھا.
می جانی شانزے، می جانی کی طرف بڑھی تھی.. لیکن تائی جان بیچ میں ہی تھیں..
بےغیرت تجھے شرم نہیں.. ارے کچھ خیال کرتی، اتنے سال کھلایا، پڑھایا لکھایا اس کا یہ صلہ دیا.
تجھ سے بہتر تو کتا ہوتا ہے، جس کو ایک نوالہ کھلاؤ تو بھی وفاداری نبھاتا ہے..
یوسف کو غصہ آیا تھا اس نے مٹھیاں بھنچیں تھیں… لیکن وجی پہلے بول پڑا تھا..
اماں بس کریں آپ ہوش میں تو ہیں.. وجی نے چھپ کرانے کی کوشش کی تھی..
میں نے کہا تھا شانزے کو وہ اوپر سے ہار پھول لے آے.. وجی نے اس کی طرف صفائی دینا چاہی تھی.
اچھا تو اس یوسف کو بھی تو نے بھیجا تھا.. تائی جان نے حلق پھاڑ کر کہا تھا. اور وجی لاجواب ہو گیا تھا..
اور چلو مان بھی لیں کے اتفاق تھا، تو یہ دونوں جس طرح سے ایک دوسرے کی…
توبہ توبہ مجھ سے بولا بھی نہں جا رہا. اکبری نے کانوں کو ہاتھ لگایا تھا..
می جانی یہ جھوٹ ہے.. میں سچ کہ رہی ہوں.. شانزے نے می جانی کو دیکھا تھا..
می جانی میری بات تو سنیں شانزے نے کچھ کہنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ ناکام رہی اس سے پہلے تائی بولیں..
اب کہنے سنے کو رہ کیا گیا ہے..
خاندان کے نام پے کلک پوت دی ہے.. انہوں نے رونے کی اداکاری کی تھی..
سینے سے لگا کر پلا اور یہ صلہ ملا.. کوئی غیرت مند ہوتا تو ایسا نہ کرتا.. تائی جان نے پھر کہا تھا..
تائی جان پلیز آپ ایسے نہیں کہہ سکتیں میری بہن کو.. اریزے نے انھیں ٹوکا تھا..
اور تمہاری بہن جو مرضی کرے.. تائی جان نے اریزے کا بھی لہٰذ نہیں کیا تھا..
ارے اس نے یہ تک لہٰذ نہیں کیا کہ پھوپی مری جا رہی ہے، بہو بنانے کے لئے..
اتنی بھی.. کیا بےصبری تھی آخر کو ہو جاتی نہ شادی.. تائی نے جان بوجھ کر یہ بات نکالی تھی..
میرا خیال ہے وجی کے ساتھ شانزے کی بھی نکاح کر دو..
اور اس بات کو ختم کرو , حسان کے چچا نے بڑا سوچ کر مشورہ دیا تھا.
کیوں روبینہ تمہارا کیا خیال ہے.. انہوں نے روبینہ سے پوچھا تھا..
میرا ایسا کوئی خیال نہیں ہے.. احد پہلی بار بولا تھا.. اور تائی جان کے دل کو ٹھنڈ پہنچ گیا تھا..
احد یہ تم کیا کہ رہے ہو.. شانزے کو صدمہ لگا تھا.. وہ اس کی طرف بڑھی تھی..
ٹھیک کہہ رہا ہوں.. میں کسی ایسے لڑکی کے ساتھ شادی نہیں کر سکتا جس کا کردار مشکوک ہو جائے..
احد تم ایسا نہیں کر سکتے.. یہ رشتہ میرے پاپا کا فیصلہ ہے.. تم اس سے انکار نہیں کر سکتے..
میں نے انکار کر دیا ہے. وہ کہہ کر جانا چاہتا تھا.
احد.. لیکن شانزے نے اس کی بازو پکڑی تھی.. تبھی احد نے اپنی عادت سے مجبور ہو کے ہاتھ اٹھایا تھا..
سب حیران رہ گے.. ہر شخص اپنی جگہ ساکت تھا.. یوسف نے احد کا ہاتھ پکڑ لیا تھا..
یہ کیا کر رہے ہو تم.. یوسف نے اس کا ہاتھ جھٹک سے چھوڑا تھا..
بہت برا لگ رہا ہے..لگے گا ہی آخر کو یارانہ جو ہے… احد ڈھارا تھا..
احد پلیز جیسا سب سمجھ رہے ہیں ایسا نہیں ہے… سب ایک غلط فہمی ہے.. یوسف نے منت کی تھی.
اچھا تو پھر تم سمجھا دو، دور کر دو غلط فہمی.. یہ تمہارے ساتھ کیا کر رہی تھی.. احد نے نفرت سے اسے دیکھا تھا.
نکاح ہی کرنا ہے،، تو ایک کام کیوں نہیں کرتے تم نکاح کر لو..
احد… شانزے چلائی تھی.. احد پلیز بس کرو یہ کیا کہ رہے ہو تم ہوش میں تو ہو.
چلاؤ مت.. احد ڈھارا تھا.. وہ پھر سے یوسف کی طرف مڑا تھا..
کیا ہوا چپ لگ گئی.. بولو کرو گے ابھی اسی وقت شانزے سے نکاح.. سب کہ سامنے..
یا صرف دل بہلانے کا شوق تھا.. احد نے طنزیہ کہا تھا..
بس… اپنی بکواس بند کرو.. شانزے ایسی نہیں ہے.. ایک لفظ بھی اور بولا تو زبان کیھنچ لوں گا..
یوسف کا صبر کا جواب دے گیا تھا.
شانزے نے اسے بولنا چاہا تھا لیکن یوسف نے اسے اپنی بازو کے زور سے پیچھے کر دیا تھا…
ہاں میں کروں گا.. یوسف نے کہا تھا،، اور سب حیران رہ گے تھے،،
سب کی حیرت می جانی کی آواز نے ختم کی تھی.. وجی نکاح کی تیاری کرو..
وجی نے بھی فورن ہی رازمندی ظاہر کی تھی..
می جانی نے بڑھ کر شانزے کو گلے لگایا تھا وہ ماں تھیں جانتی تھیں اپنی اولاد کو…
ٹھیک ہے مجھے حنا کی بات سے کوئی اختلاف نہیں لیکن میں اس لڑکی کو ایک میں بھی برداشت نہں کرو گا.
اس لئے اسے ابھی رخصت کرو..
لیکن بھائی صاحب ایسے کس طرح…؟؟؟ می جانی ٹرپ گیں تھیں،
حنا، اس راہ چلتی لڑکی نے ساری عمر میرے سینے پے مونگ دللی ہے، اب بس کر دو..
میں اس گندگی کو مزید بردشت نہیں کر سکتا.. وہ جو بہت دیر سے دور کھڑے تھے..
اندھی کی طرح آے اور طوفان کی طرح چلے گے تھے.
موئن صاحب نے شانزے کو اپنے گھر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا.. وہ چاہتے تھے کہ شانزے اور مانیہ کی رخصتی وہ کریں..
حنا نے اجازت دے دی تھی، ویسے تو حالت ایسے تھے کہ نہ بھی دیتیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا..
لیکن موئن صاحب کے رکھ رکھو کے وہ سب ہی قائل ہوے تھے..
وجی خوش تھے کچھ بھی تھا وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جو شانزے کی طرف تھے،،
تائی جان کو تو سکتا ہی ہو گیا تھا.. انہوں نے کیا سوچا تھا، کیا ہوا تھا..
احد بھی انھیں پسند تھا. لیکن پھر یوسف جیسا لڑکا وہ بھی شانزے کی قسمت میں..
رانیہ نے بڑھ کر یوسف کو مبارک باد دی تھی، بڑی طاقت ہے تمہارے پیار میں یقین نہیں آتا ایسا بھی ہوتا ہے..
اس نے کہا تو یوسف ہنس پڑا تھا.. یقین تو مجھے بھی نہیں آرہا اور عنیقہ کا دل چاہ وہ یوسف کو شوٹ کر دے..
…………………………….
می جانی میں یہ نکاح نہیں کر سکتی،
شانزے اگر تم مجھ سے اور اپنے پاپا سے پیار کرتی ہو نہ تو یہ نکاح کر لو.. می جانی نے اس سے مجبور کیا تھا..
می جانی لیکن.. شانزے نے کچھ کہنا چاہا تھا..
بس یہ سمجھ لو کے یہ میری خواھش ہے.. کیا تم میرے لئے اتنا نہیں کر سکتیں..
مجانی نے اس کی طرف بہت آس سے دیکھا تھا اور وہ مجبور ہو گئی تھی..
………………………….
رانیہ اور محسن دونوں ہی یوسف کے ساتھ ساتھ تھے یوسف اگر خوش تھا تو وہ دونوں بھی کم خوش نہیں تھے،
نکاح ہو گیا تھا.. ہر طرف مبارک باد کا شور تھا.. اب سے کچھ دیر پہلے والی کیفیت سب غائب ہو گئی تھی..
وجی اور مانیہ کا نکاح پہلے ہوا تھا،، وہ دونوں شانزے سے ملنے آے تھے..
وجی نے بڑھ کر شانزے سے کے سر پے ہاتھ رکھا تھا،
وہ رونے لگی تھی.. بس شانزے چپ ہو جاؤ اس نے اسے گلے لگایا تھا..
میں چاہتا ہوں تم ہمیشہ خوش رہو.. تمہاری زندگی کی سب کمیاں پوری ہوں..
میں جانتا ہو کہ تم غلط نہیں ہو، لیکن شاید قسمت اسی کو کہتے ہیں.. وجی نے اسے پیار کیا تھا.
می جانی نہیں چاہتیں تھیں کہ وہ ایسے رخصت ہو .. لیکن یہ ان کی مجبوری تھی..
وہ نہیں چاہتیں تھیں کہ شانزے کو کوئی ڈپریشن ہو.. کیوںکہ ابھی بھی تائی جان کے تیر چلنا بند نہیں ہوا تھے..
تایا جان الگ ہی محاذ کھولے بیٹھے تھے،
لیکن می جانی کو اب کسی کی فکر نہیں تھی سواے شانزے کے..
میں ایک بار تایا جان سے ملنا چاہتیں ہوں اس کی عجیب مطالبے پر سب حیران ہوے تھے،
سب نے اسے روکا تھا، لیکن وہ ان کی طرف بڑھ گئی تھی.. جو لان کے کونے میں منہ پھیر کے بیٹھے تھے.
تاکہ شانزے کا منہ نہ دیکھنا پڑے لیکن اب خود ہی آگئی تھی، “تایا جان” شانزے نے پاس جا کر پکارا تھا،
کیوں آئ ہو یہاں.. ان کی آواز میں سختی تھی.
آپ سے ملنے.. شانزے نے سکون سے کہا تھا پر وہ ویسے ہی اپنی جگہ بیٹھ رہے تھے،،
بچپن سے لے کر آج تک آپ نے مجھ سے نفرت کی ہے.. لیکن میں نے کبھی کچھ نہیں کہا،
بس ایک خواھش ہے آپ میرے سر پے ہاتھ رکھ دیں.. کیا آج آپ میری یہ خواھش پوری کریں گے..؟؟
وہ اس کی طرف نہیں دیکھ رہے تھے، اس لئے شانزے ان کے قدموں میں بیٹھی تھی
اس نے ہاتھ ان کے گھٹنوں پر رکھے تھے.. تایا جان کا صبر جواب دے گیا تھا..
انہوں نے شانزے کو دھکا دیا تھا وہ زمین پے گری تھی. بدذات… گندا خون… ان کی بات میں بیچ میں ہی رہ گئی تھی..
وہ شانزے کو دکھتے رہ گے تھے.. ان کی آنکھوں میں ایک عکس لہرایا تھا، الفاظ سارے ساتھ چھوڑ گے تھے..
ان کا اٹھا ہوا ہاتھ اپنی گود میں گرا تھا.. شانزے مسکرائی تھی.. اس کی مسکراہٹ میں طنز تھا..
اور یہ طنز تایا جان بہت اچھی طرح سمجھ گئے تھے..
زینب میر… تایا جان نے زیرے لب کہا تھا..
وہ اٹھ کر چلی گئی تھی.. انہوں نے خود کو ڈھیر بنتا محسوس کیا تھا..
وہ سب گھر جانے کے لئے نکل رہے تھے. سارے ڈرامے میں مہندی کا فنشن نہیں ہو سکا تھا..
لیکن کچھ لوگوں کے علاوہ سب خوش تھے.. شانزے می جانی سے مل کے رونے لگی تھی،
انہوں نے اسے پیار کیا تھا،، تسلی دی تھی مجھے یقین ہے یوسف تمہارا بہت خیال رکھے گا..
اب شانزے اریزے سے ملی تھی.. اریزے بھی رو پڑی تھی حالانکہ وہ دل سے خوش تھی..
کہ شانزے کو مان چاہا ساتھ ملا ہے.. تبھی یوسف اریزے کے پاس آیا تھا.
فکر نہ کریں آپ کو بھی جلدی لے کر جائیں گے.. اس نے شرارت سے کہا تھا اریزے روتے روتے ہنس پڑی تھی..
…………………………
ہاں جی تو کر لی شادی مل گیا سکون.. وہ سب لوگ اندر آگے تھے اصل طوفان بدتمیزی تو اب شروع ہوئی تھی..
محسن نے چیھڑا تھا اس کو.. ابھی کہاں ابھی تو دل میں بم دھماکے ہو رہے ہوں گے..
آخر کو دلہن دیکھنے کو جو نہیں ملی بیچارے کو دل تو بہت چاہ رہا ہو گا نہیں…؟؟
کیوں مانیہ..؟؟ رانیہ نے اسے بھی شامل کیا تھا..
پلیز مجھے مت چھیڑو میرے تو اپنے حالات ایسے ہیں… اس نے دکھ سے کہا تھا، اور سب بے شور کیا تھا..
ہیلو… میرے حالات ایسے بلکل نہیں ہیں.. تو پلیز کچھ بھی مت بولو.. یوسف نے جوش سے بولا تھا..
مطلب تم نے نہیں ملنا پھر اپنی دلہن سے.. عثمان نے حیرت سے کہا تھا..
نہیں.. یوسف کو مجبوراً کہنا پڑا تھا عزت کا سوال تھا اور پھر شانزے بھی پتہ نہیں کہاں چھپ گئی تھی..
میں کہتا ہوں سوچ لو… محسن نے فہد مصطفیٰ بنے کی ناکام کوشش کی تھی.
ہاں سوچ لیا میں نے کوشش بی کی تو میرا نام بدل دینا…
اور کیا تم لوگ میرے پیچھے پڑ گے ہو مانیہ کو بھی تو بولو اس کا بھی نکاح ہوا ہے.. یوسف نے جذبات میں بولا تھا..
مانیہ مجھ سے بڑی ہے اس کا حق بنتا تھا.. لیکن تم نے اپنے بڑے بھائی کا حق مارا ہے.. کیوں عثمان بھائی..
بس کیا بولو… سو سیڈ… عثمان نے افسوس سے کہا تھا..
بھائی… یوسف کو یقین نہیں آیا تھا کہ وہ سب ایک طرف ہیں اور وہ اکیلا..
بس بہت ہوا.. یوسف کھڑا ہوا تھا اپنی جگہ،
نہیں ابھی باقی ہے.. محسن نے ہاتھ کھنچ کر بٹھایا تھا.. وہ سب پھر اسے چیھڑنے لگے تھے..
کیا ہوا ماما.. آپ پریشان کیوں ہیں.. مانیہ نے ماں سے پوچھا تھا جو کچھ پریشان لگ رہی تھیں..
کچھ نہیں بس کھانا لے کر گئی تھی.. شانزے کے لئے لیکن اس نے مانا کر دیا اب تک رو رہی ہے..
بیگم صدمہ لگا ہے کچھ وقت تو لگے گا نہ.. موئن صاحب جو باہر سے آے تھے اسمارہ کی بات سن کر بولے تھے..
آپ ٹھیک کہ رہیں، لیکن مجھ سے اس کی حالت دیکھی نہں جا رہی، انہوں نے دکھ سے کہا تھا..
یوسف کچھ پریشان ہوا تھا.. رانیہ مانیہ تم لوگو دیکھو پلیز..
ماما نے کہا تھا پھر مسٹر اینڈ مسز موئن اپنے کمرے میں چلے گے تھے..
میں دیکھتا ہوں یوسف کھڑا ہوا تھا..
رانیہ… اچھے ناموں کی کتاب لانا… نام رکھنا ہے.. یوسف کا… عثمان نے اس کا مذاق اڑایا تھا..
یوسف روکا نہیں تھا…. مانیہ کے روم میں ہے.. جب پیچھے سے آواز آئ تھی..
ساتھ پیچھے سب نے مل کے اوووووووو.. کا شور کیا تھا..
……………………………
شور کی آواز سے شانزے کا دل گھبرا رہا تھا.. باہر سے آنے والی آوازیں اسے صرف تکلیف دے رہیں تھیں..
یوسف ڈور نوک کر کے اندر آیا تھا.. شانزے نیچے کارپٹ پے بیٹھی تھی.. اور سر بیڈ سے ٹکایا ہوا تھا..
وہ ابھی بھی رو رہی تھی، یوسف نے بڑھ کر آنسو صاف کرنا چاہے تھے.. لیکن شانزے برق رفتاری سے پیچھے ہٹی تھی..
کیوں کیا تم نے یہ سب، شانزے چلائی تھی.
کیا کیا میں نے ؟ یوسف حیران تھا..
تم جان بوجھ کر میرے پیچھے آے تھے. شانزے کی نظروں میں شک تھا..
شانزے میرا یقین کرو.. مجھ سچ میں بیھجا گیا تھا.. یوسف نے یقین دلانا چاہا تھا.
تمہیں لگتا ہے میں تمہارا یقین کروں گی جو ایک چھوٹی سی بات کے لئے کڈنیپ کر سکتا ہے،
وہ اتنی بڑی بات کیسے نظر انداز کر سکتا ہے.. شانزے نے جتایا تھا..
تم بات کہاں سے کہاں لی جا رہی ہو.. یوسف نے کہنا چاہا تھا پر شانزے کچھ سنے کو تیار نہیں تھی..
وہ غصے میں پاگل ہو رہی تھی.. اس نے یوسف کا گریبان پکڑا تھا..
تمہیں کیا لگا مجھ سے نکاح کر کے تم جیت گے.. نہیں یوسف کبھی نہیں “مجھے تم سے طلاق چاہیے،،
شانزے نے کتنی آرام سے اتنی بڑی بات بول دی تھی..
یوسف کو لگا اس کے سر پے کسی نے بھاری چیز مار دی ہے.. ابھی کچھ گھنٹے ہی تو ہوے تھے نکاح کو
اور شانزے نے یہ کیسا مطالبہ کر دیا تھا.. کچھ بھی تھا وہ مرد تھا اور وہ اس کی بیوی..
یوسف کو غصہ آیا تھا اس نے شانزے کو دونوں بازوں سے پکڑ کر دیوار سے لگایا تھا..
مس شانزے حسان ایک بات کان کھول کر سن لو.. ہمارے ہاں طلاق نہیں ہوتی..
تو مجھ سے یہ مطالبہ کرنے سے تو بہتر ہے.. تم اپنے بیوہ ہونے کی دعا مانگوں.. اس نے اسے جھٹکے سے چھوڑا تھا.
ایک بات یاد رکھنا شانزے محبت ہر چیز کا مقابلہ کر سکتی ہے… سواے غلط فہمی کے..
یوسف دروازہ بند کرتا بھر نکل گیا تھا..
……………………………….
بیل بار بار بج رہی تھی.. لیکن کوئی بھی دروازہ کھولنے کے لئے تیار نہیں تھا..
مجبوراً اریزے کو اٹھنا پڑا تھا.. اس نے دروازہ کھولا تو سامنے حسان کھڑے تھے..
پاپا.. اریزے حسان کے گلے لگی تھی.. پاپا آپ کہاں رہ گئے تھے،
بیٹا بس کچھ کام تھا اور پھر ٹائم زیادہ ہو جانے کی وجہ سے بس نہیں ملی،
اتنی دیر کر دی آپ نے آنے میں، اریزے رو رہی تھی..
اریزے پاپا کی پری کیوں رو رہی ہے.. کیا ہوا میرے بچے.. حسان اسے چپ کرا رہے تھے،
اور وہ سب انھیں بتانے لگیں تھی.. می جانی اور تائی جان سمیت سب ہال میں آے تھے..
آے ایسے کیسے رو رہی ہو.. اس بےشرم کو دیکھو.. وہ مزے کر رہی ہے.. تائی جان نے حسان کو اکسانا چاہا..
بس بھابھی.. میری بیٹی پے مجھے پورا بھروسہ ہے..
آپ کو نہیں کرنا نا کریں لیکن مجھ سے امید نا رکھیں کہ میں آپ لوگوں کا ساتھ دونوں گا،
حسان نے سب پے سکتا طاری کر دیا تھا، پھر کسی کی ہمت نا ہوئی کچھ کہنے کی..
انہوں نے ہمیشہ برداشت کیا تھا، لیکن اب حد پار ہو گئی تھی.. وہ غصے میں اپنے بھائی کے پاسس گے تھے..
مل گیا سکوں نکال دیا اس کو گھر سے.. اب کیا بھائی صاحب ؟؟
اب تو آپ کا گھر پاک ہو جائے گا.. چلی گئی نہ وہ جس سے ساری زندگی آپ گندا خون گندا خون کرتے رہے..
ساری زندگی آپ حقارت سے دیکھتے رہے.. آپ جانا چاہتے تھے نہ وہ کون ہے، وہ کہاں سے آئ ہے..
جس کی نہ ماں کا نہ پتہ نہ باپ کا، تو آپ جان لیں آج.. وہ کسی اور کی نہیں بلکے…
“وہ میری بیٹی ہے”.. تایا جان نے دکھ سے اپنے بھائی سے کہا تھا..
حسان خاموش ہو گے تھے.. تو بلآخر سچ سے پردہ اٹھ گیا تھا..
ساری عمر نفرت کی پٹی بندھی رہی تھی، میں کبھی دیکھ نہیں پایا، اگر دیکھتا تو جان لیتا..
وہ میری اور زینب کی بیٹی ہے.. وہ اپنی ماں جیسی ہے وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگے تھے..
لیکن تم نے کبھی کہا کیوں نہیں کہ شانزے میری بیٹی ہے، اور وہ تمہارے پاسس کیوں..؟؟ اور زینی وہ کہاں ہے..
تایا جان نے ان سے پوچھا تھا.. آخر خیال آہی گیا تھا.. لیکن افسوس اس خیال کو آنے میں کئی موسم گزرے تھے..
شانزے میرے پاس اس لئے ہے، کہ زینب اس دنیا میں نہیں رہی.. وہ معصوم آپ کا دھوکہ برداشت نہیں کر سکی..
جس کی ہنستی بستی زندگی کو اپنے اجاڑ دیا صرف اپنے مفاد کے لئے…
اور دھوکے نے آہستہ آہستہ اس کی جان لے لی مرنے سے پہلے اس نے آپ کے نام خط لکھے تھے جو میرے ہاتھ
لگ گئے تھے.. جس میں اس نے آپ کے بارے میں لکھا تھا،، آپ کی اور اس کی شادی کے بارے میں لکھا تھا..
حسین میر کے بارے میں لکھا تھا، آپ کے دھوکے کے بارے میں لکھا تھا.. شانزے کے بارے میں لکھا تھا..
آپ جانتے ہیں کتنی التجائیں تھیں اس میں… کسی معصوم کی کتنی اہیں تھیں اس میں.. حسان نے ان ہیں دیکھا تھا..
(اوہ – تو وہ سب جانتا ہے ، تایا جان نے دل میں سوچا تھا وہ کچھ اور پشیمان ہووے تھے..)
میں بتانا چاہتا تھا پر انھیں دنوں آپ کے اور بھابھی کے جھگڑے ہو رہے تھے.. آپ کی دوسری شازی کی اخبروں پے..
جب بھابھی نے خود جلا کر مارنے کی کوشش کی تو میں ڈر گیا میں نے خاموشی اختیار کی..
لیکن انہی دنوں زینب کا آخری خط ملا تھا جس میں انہوں نے اپنی بیماری کا لکھا تھا..
میں گیا تھا ملنے اور انہوں نے میری گود میں شانزے کو ڈالا.. وہ چاہتیں تھیں،
میں شانزے کو اسے باپ کے حوالے کر دوں..
میں اسے لے تو آیا لیکن آپ کی اور بھابھی کی ازواجی زندگی خاران ہونے کے ڈر سے کچھ بول نہیں سکا..
کچھ دن بعد جب میں ملنے گیا تو پتا چلا وہ دنیا میں نہیں رہیں.. ٹیب میں نے فیصلہ کیا کے شانزے میری بیٹی ہے..
وہ میری بیٹی رہے گی ہمیشہ… اور یہ سچ میں اپنے ساتھ اس دنیا سے لے جاؤں گا،،
لیکن مجھے نہیں پتا تھا کہ الله نے اس کی شکل میں ہم سب کے لئے آزمائش رکھی ہے..
تایا جان حسان کے پیروں میں گرے تھے.. مجھے معاف کر دو حسان الله کے لئے مجھے معاف کر دو..
میں ساری زندگی اپنے ہی خوں کو گندا کہتا رہا..
بھائی جان پلیز یہ آپ کیا کر رہے ہیں.. ایسا نہ کریں.. حسان بھائی کی حالت دیکھ کر پریشان ہووے تھے.
کچھ بھی تھا آخر کو وہ اس کے بڑے بھائی تھے.. میں کون ہوتا ہوں آپ کو ماگ کرنے والا..
معافی تو ان سے مانگے جن کے ساتھ زیاتی ہوئی ہے.. حسان نے دکھ سے کہا تھا.
حسان میں اپنی بیٹی کو اپنے سینے سے لگانا چاہتا ہوں.. مجھے اس کے پاس لے چلو.. تایا جان نے ہاتھ جوڑے تھے..
لیکن اس سے پہلے ہمیں کہیں اور بھی جانا ہے.. تایا جان نے روتے ہوے کہا تھا..
حسان جانتے تھے وہ کہاں جانے کے لئے کہ رہے ہیں،،
……………………………
ٹھیک آدھے گھٹے بعد وہ دونوں حسین میر کے سامنے تھے.. تایا جان نے اپنا گناہ قبول کر لیا تھا..
اور یہ بھی کے شانزے ان کی بیٹی ہے.. حسین کی تلاش ختم ہوئی تھی.. ان کے دل کی آواز ٹھیک تھی..
وہ ان کی زینب کی نشانی تھی.. حسین رونے لگے تھے.. عثمان اور یوسف نے مل کر باپ کو سمبھالا تھا..
کیوں کیا تم نے ایسا کیوں…؟؟؟ حسین نے تایا جان سے کہا تھا..
صرف دولت کے لئے…؟؟ تم ایک بار کہتے میں اپنی ساری دولت تمہیں دے دیتا اپنی زینی کے صدقے..
حسین نے بہت مشکل سے خود پے قابو پایا تھا..
تایا جان اٹھ کر ان کے پاس آے تھے… مجھے معاف کر دو حسین… انہوں نے ہاتھ جوڑے تھے..
تم مجھے زینی لادو.. حسین کی آنکھیں سخت ہوئی تھیں.. تایا جان سمجھ گئے تھے ان کے لئے معافی نہیں ہے..
میں تمہارا شکر گزار ہوں حسان تم نے میری زینی کی امانت کو اتنے سالوں سمبھالا.. تو کیا تمہاری اجازت ہے،
کہ ہم اس سے مل سکیں… حسین نے حسان کے ہاتھ جوڑنے چاہے تھے..
یہ کیا کر رہے ہیں.. پلیز ویسے بھی شانزے اب آپ کی بیٹی ہے…
آپ کی امانت ہے.. آپ جب چاہیں مل سکتے ہیں… آپ کو اجازت کی ضرورت نہیں ہے..
حسان نے حسین نے کو روکتے ہوے کہا تھا..
……………………………
شانزے.. حسان نے کمرے میں اکر آواز دی تھی..
شانزے ابھی تک وہیں اس دیوار سے لگی بیٹھی تھی.. اسے لگا اس کا وہم ہے.. اس لئے اس نے کانوں پے ہاتھ رکھا تھا..
وہ دیوار سے سر ٹیکاے. آنکھیں بند کیے رو رہی تھی.. مجھے معاف کر دیں پاپا میں بےقصور ہوں..
وہ بولے جا رہی تھی.. حسان کو پہلی بار پتا چلا تھا دل کٹنا کیا ہوتا ہے.. وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گئے..
اور انہوں نے شانزے کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا.. آنکھیں کھولے بغیر بھی وہ جانتی تھی.. کہ وہ پاپا ہیں.
مجھے معاف کر دیں پاپا، وہ بلاک بلاک کے رو رہی تھی..
کس بات کی معافی بچے.. میں جانتا ہوں میری شانزے ایسے نہیں ہے.. پاپا نے اسے پیار کیا تھا.
میں آپ کا وعدہ پورا نہیں کر پائی، احد سے شادی.. شانزے روی تھی..
تو اچھا ہوا نا… جس نے ابھی تمہاری قدر نہیں کی وہ بعد میں کیا کرتا..
(اب وہ کیسے بتاتے اسے کہ اس دن سیڑیوں میں گملا گرنے کی وجہ وہ تھے..
اور تبھی انہوں نے احد سے رشتہ توڑنے کا ارادہ کر لیا تھا.. وہ کیسے اپنی بیٹی سے قربانی لیتے، وہ اس کے دل کی..
وہ ان کی بیٹی تھی.. اس کا بھرم انھیں ہی تو رکھنا تھا)
میں چاہتا تھا کہ میری شہزادی کو کوئی شہزادہ ملے جو اس کی عزت کرے، جو اس کی حفاظت کرے..
اور مجھے خوشی ہے کہ اسے یوسف جیسا انسان ملا ہے.. حسان نے اسے پیار کیا تھا..
یوسف اچھا لڑکا ہے.. میں جانتا ہوں وہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے گا.
لیکن شانزے کیا تم اپنے پاپا کو معاف کر سکو گی..؟؟ حسان نے اچانک بولا تھا شانزے حیران رہ گئی تھی..؟؟
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں پاپا.. شانزے حیران ہوئی تھی..
شانزے میں جانتا ہوں تمہاری ماں کون تھی.. تمہاری ماں زینب میر تھی..
حسین میر کی چھوٹی بہن.. وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں.. لیکن تمہارے ماموں تم سے ملنے آیئں ہیں..
تمہارے پاپا.. حسان کی آواز بھرائی تھی… دروازہ کھلا تھا.. فرقان اندر آے ہی تھے، کہ شانزے کی آواز سنائی دی..
نہیں پاپا پلیز مجھے نہیں جانںا، وہ کون ہیں.. میں صرف اتنا جانتی ہوں.. میرے پاپا آپ ہیں…
اس کے علاوہ میں کچھ نہیں جانا چاہتی، وہ کون ہیں.. کہاں ہیں.. کوئی فرق نہیں پڑتا..
کیوںکہ مجھے یہ پتا ہے کہ میرے پاپا میرے پاس ہے..
آپ مجھے لاے تھے.. آپ اور می جانی ہی میرے لئے سب کچھ ہیں.. میں اس سے زیادہ کچھ نہیں جانا نہیں چاہتی..
میں صرف اتنا جانتی ہوں.. آپ میرے پاپا ہیں.. اور میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں..
شانزے نے حسان کے آنسو صاف کیے تھے.. اور فرقان واپس پلٹ گئے تھے..
قدرت کا یہی انصاف تھا.. کہ شانزے انھیں معاف نا کرے.. وہ بھی ان سے نہ ملے، جیسے انہوں نے کیا تھا..
بالکل ویسے جس طرح حسین نے انھیں معافی مانگنے پے بھی معاف نہیں کیا تھا.
چلو شانزے اپنے گھر چلتے ہیں… وہ باہر آئ تھی.. تو حسین اور عثمان دونوں سامنے کھڑے تھے..
شانزے کو حسین نے گلے لگایا تھا. وہ دونوں رو رہے تھا.. حسین بار بار اس کا چہرہ پانے ہاتھوں میں لے کر چوم رہے تھا.. وہ کبھی اسے زینی کہتے تو کبھی شانزے،، جذبات میں انھیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا..
وہ بار بار حسان کا شکریہ ادا کر رہے تھے.. بار بار شانزے کو پیار کر رہے تھے..
حسین اتنے زیادہ جذباتی ہو رہے تھے کہ ان سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا.. آنسو اب تک ان کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے.
عثمان کو دار تھا ان کی طبیعت نہ بگاڑ جائے…اس لئے وہ کبھی باپ کو تسلی دیتا..
تو کبھی شانزے کو چپ کراتے.. تایا جان نے حسان کی طرف دیکھا تھا،،
وہ تمہاری بیٹی ہے.. حسان… اور تمہاری بیٹی ہی رہے گی… تایا جان نے ان کے کندھا تھپتھپایا تھا..
اور خود بھر چلے گئے…
میری شانزے کا خیال رکھنا، ہم جلد لینے آیئں گئے،، حسین نے نکلتے وقت، حسان سے کہا تھا..
آپ جب چاہے اکر لے جا سکتے ہیں آپ کو اختیار ہے.. بھائی سحاب.. حسان نے ان کے جذبات کی قدر کی تھی..
اور شانزے کی نظروں نے پہلی بار اسے ڈھونڈا تھا.. لیکن وہ کہیں نہیں تھا..
وہ جانتی تھی وہ ناراض ہے.
……………………………….
حسان شانزے کو گھر لے آے تھے.. تائی جان نے بہت شور کیا تھا. لیکن اب کی بار صدمے کی بات یہ تھی
کہ تایا جان نے نا صرف انھیں سپورٹ نہیں کیا تھا بلکے خاموش رہنے کا بھی کہا تھا..
اور تایا جان کے بولنے سے یہ ہوا تھا کہ سب رشتداروں کی بولتی بند ہو گئی تھی..
شام میں یوسف اور اس کے گھر والے آیئں گئے شانزے کی رخصتی کی ڈیٹ لینے،
آپ سب انھیں وہی عزت دیں گئے جو لڑکے والوں کی ہونی چاہیے.. تایا جان کہہ کر اپنے کمرے میں چلے گئے تھے..
جب کہ عنیقہ اور تائی جان کا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا.
……………………………….
حسین اپنی فیملی کے ساتھ ان کے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے..
انہوں نے ایک ماہ کے بعد کی شادی فکس کی تھی… اور ساتھ ساتھ اریزے کو بھی عثمان کے لئے مانگ لیا تھا..
حسان نے اریزے کے لئے بھی ہاں کر دی تھی.. اس لئے تہہ ہوا تھا کہ دونوں کی رخصتی اگلے ماہ اس ساتھ
کی جائے گی.. مبارک باد کا شور ہوا تھا. شانزے نے یوسف کو دیکھا تھا لیکن وہ اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا..
شانزے کے دل کو کچھ ہوا تھا، اتنے دن میں پہلی بار اس کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی..
گھر کے سب لوگ ہی وہاں موجود تھے.. سواے تائی جان اور عنیقہ کے، وجی انھیں بلانے گیا تھا.
لیکن اندر سے آتی عنیقہ کی آواز نے اس کی زمین کیھنچ لی تھی..
آپ کے کہنے پے میں نے یوسف سے بات کرنا شروع کیا لیکن کیا ہوا اس نے مجھے ٹھکرا دیا..
آپ کے کہنے پے میں احد کو بد گمان کیا شانزے کو لے کر کیا فائدہ ہوا…؟؟ اس نے کوئی بات کی نہیں..
آپ نے تو کہا تھا کہ ایسی پلاننگ کریں گی کے سب ٹھیک ہو جائے گا کیا ٹھیک ہوا..؟؟
الٹا یوسف اور شانزے کا نکاح ہو گیا اور میں… میں ایسی رہ گئی.. عنیقہ چلا رہی تھی..
اری مجھ کیا پتا تھا کہ تمہاری جگہ وہ شانزے اوپر پہنچ جائے گی.. اور ساری گیم پلٹ جائے گی.
میں نے تو چاہا تھا تمہاری پھوپو تمہیں اور احد کو اوپر دیکھیں، اس لئے اکبری کو بیھجا تھا..
تاکہ وہ بات کو بڑھاوا دے اور تمہارا اور احد کا نکاح کر دیا جائے.. لیکن ہاے ری قسمت…
تائی جان اپنا رونا رونے میں مصروف تھیں.. جب وہ اندر آیا تھا..
مجھے یقین نہیں آرہا یہ سب آپ کی وجہ سے.. کیوں امی.. کیوں..؟؟ وجی کو یقین نہیں آیا تھا..
وہ غصے میں پاگل ہو رہا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے، وہ ماں کو کچھ نہیں کہہ سکتا تھا..
اس نے عنیقہ کا بازو پکڑ کے کھنچا تھا.. اور سب کے سامنے لا کر کھڑا کیا تھا..
سب حیران ہوے تھے اس کا چہرہ بتانے کے لئے کافی تھا کہ وہ غصے میں ہے.
وجی بیٹا کیا ہوا سب خیر تو ہے.. می جانی نے پوچھا تھا..
شانزے یوسف،، یہ ہے تمہاری گناہ گار.. یہ سب اس کا اور امی کا کیا دہرا ہے..
بتاؤ سب کو اس نے عنیقہ کو جھنجوڑا تھا..
وجی کیا کر رہے ہو.. ایسا نہں کرتے بیٹا.. حسان نے روکا تھا..
وہ سب کو چیخ چیخ بتا رہا تھا، جو می جانی اور عنیقہ نے کیا.. وجی کو سمجھ نہیں آیا تھا..
تبھی وہ شانزے کے پاس آیا تھا اس نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے آگے جوڑے تھے.. جو ان لوگوں نے کیا میں اس کی..
شانزے تڑپ گئی تھی.. کچھ بھی تھا وہ اس کا بھائی تھا اور کون بہن چاہے گی کے اس کا بھائی اس کے آگے ہاتھ جوڑے..
شانزے نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑے تھے.. اور اپنا سر ان پے رکھا تھا..
یوسف نے وجی کو سمبھالا.. تبھی حسین نے کہا تھا جو ہو چکا ہے اسے بھول جانے میں سب کی بہتری ہے،،
خوشیاں دروازے میں کھڑیں ہیں انھیں اندر آنے دیتے ہیں.. عنیقہ ، تائی جان ،
اور تایا جان تینوں ہی اپنی جگہ شرمندہ تھے.. لیکن احد کو عنیقہ پے شدید غصہ آیا تھا..
اس دل اور دماغ میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا..
…………………………………..
شانزے نے یوسف سے کئی بار بات کرنے کی کوشش کی تھی. لیکن وہ تھا کہ بات کرنے کے لئے تیار نہیں تھا..
نا اس کی کال اٹھتا تھا نا کسی میسج کا جواب دیتا تھا.. حتکہ وجی کی برات اور ولیمے میں بھی اس کو
اگنورے کرتا رہا تھا.. جب بھی شانزے اس کے پاسس جاتی وہ اسے نظر انداز کر دیتا..
اور یہی بات شانزے کو تکلیف دے رہی تھی.. لیکن مجبوری یہ تھی کہ وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی..
ناراض اس نے کیا تھا تو مانا بھی اس نے تھا.. لیکن کیسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا.
وہ تو ہمیشہ اس معاملے میں کمزور رہی تھی.. شادی میں اب صرف ایک دن رہ گیا تھا..
آج اس کی مہندی تھی.. سب لوگ ہال میں آگے تھے.. رسم کے لئے پہلے اریزے اور عثمان کو اسٹیج پے لیجایا گیا تھا..
پھر شانزے اور یوسف.. بلا شبہ وہ چاروں ہی بہت خوبصورت لگ رہے تھا..
عثمان بار بار اریزے سے کچھ کہتا اور وہ کھل کھل جاتی لیکن شانزے وہ تو منتصر ہی تھی..
لیکن یوسف ایسے بیٹھا رہا جیسے.. اس کو جانتا تک نہیں ہے..
مہندی کی رسم ختم ہو گئی تھی، اب صرف گھر گھر والے ہی رہ گئے.
جس میں رانیہ، کے گھر والے، محسن اور عمر بھی شامل تھے.. ان سب کا پلان رت جگے کا تھا..
بڑے سب ایک طرف ہو کے بیٹھ گئے تھے.. اور وہ لوگ اپنی مذاق مستی میں لگ گئے تھے..
سب اریزے اورعثمان کو تنگ کر رہے تھے.. شانزے کو لگا جیسے وہ مس فٹ ہے تبھی اٹھ کے جانے لگی تھی..
لیکن اس کے برا بر میں بیٹھے یوسف نے اس کا ہاتھ کھنچ کر بٹھایا تھا…
کہاں…؟؟؟ یوسف نے پوچھا تھا..
تم سے مطلب.. شانزے کو بھی اب غصہ آگیا تھا.. گلٹی جیسی ساری فیلنگز ختم ہو گیں تھیں.
سارے مطلب اب مجھے ہی ہیں، بھولو مت.. ہاں تمہارا پتا نہیں..
ویسے یہ اچانک ارادہ کیسے بدل گیا تمہیں تو میرے ساتھ نہیں رہنا تھا، یوسف نے ادھر ادھر دیکھا تھا..
میں یہ شادی صرف پاپا اور ماموں کی خوشی کے لئے کر رہی ہوں..
کسی خوش فہمی میں مت رہنا.. شانزے نے جل کر کہا تھا..
کیسی خوش فہمی میں کون سا مرے جا رہوں تم سے شادی کرنے کے لئے.. یوسف کہاں کم تھا..
اتنی تکلیف ہے تو مانا کر دو نہ.. شانزے نے غصے میں کہا تھا،
کیوں میں کیوں مانا کروں..؟ یوسف نے پھر ادھر ادھر دیکھ کر کہا تھا..
کیوں تمہاری زبان کیا گھر رہ گئی ہے.. شانزے کو اب غصہ آرہا تھا..
ہاں یہی کہہ لو.. لیکن تم تو ساتھ لائی ہو نا، اور ماشاللہ خوب چل بھی رہی ہے..
تو یہ کام تم ہی کر لو.. یوسف نے بھر پور طنز کیا تھا..
یہ فضول کا اٹیٹود دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے مجھے..
سمجھے..یقین کرو زہر لگ رہے ہو… شانزے نے غصے سے کہا..
تو تم کونسا مجھے شہد لگ رہی ہو.. مس مرچی پاؤڈر.. بھولا نہیں ہوں میں.. یوسف نے پھر سے ٹیکا کر جواب دیا تھا..
ہیلو… یہ تم دونوں کہ کون سے اہم مزاکرات چل رہے ہیں.. عثمان نے بلا آخر پوچھ ہی لیا تھا..
کچھ نہیں بھائی اگنور کریں… آپ بھابھی پے توجہ دیں.. یوسف اٹھ کر اس کے پاس چلا گیا تھا..
جبکہ شانزے اکیلی بیٹھی رہ گئی تھی..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: