Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 4

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 4

–**–**–

شانزے کہاں تھیں تم… صبا نے اس کے برابر میں بیٹھتے ہوے کہا.
کہیں نہیں بس ذرا لائبریری تک گئی تھی…. شانزے نے اس کا جواب دیتے بک کھولی…
میں ابھی کی بات نہیں کر رہی تھی پچلے کچھ دنوں کی بات کر رہی تھی. کوئی آتا پتہ ہی نہیں تمہارا….
سب ٹھیک تو ہے نا… صبا نے شانزے کو غور سے دیکھتے ہوے پوچھا…
ہاں سب ٹھیک ہے…. کیوں کیا ہوا ؟؟؟
تم آج چار دن بعد یونیورسٹی آئ ہو. اور وہاں یوسف کا بھی کچھ پتہ نہیں ہے… صبا نے اسے اپ ڈیٹ کیا تھا…
تو میں کیا کروں…بہت ڈھیٹ ہے مرے گا نہیں ڈونٹ واری…
حد ہے شانزے… غصہ اپنی جگہ لیکن تم غصے کی انتہا پی جا پہنچی ہو. بلکے تم غصے میں پاگل ہو گئی ہو… صبا نے تاسف سے اس کو دیکھا. لیکن کوئی جواب نہ ملا.
تم نے وہ وڈیو دیکھی جو فیس بک کے پیج پے اپلوڈ ہوئی تھی.. صبا نے پھر سے بات شروع کی…
ہاں دیکھ لی… اور اس کو سبق بھی سیکھا دیا… شانزے کے سکون میں کوئی فرق نہیں آیا تھا.
واٹ… کیا کیا تم نے ؟؟؟ صبا کے لئے یہ نیوز سچ میں نئی تھی وہ حیران ہوئی.
وہی جس کا وہ حقدار تھا… شانزے نے ساری بات اسے بتائی…
تمہیں احساس ہے تم نے کیا کیا ہے… صبا نے حیران ہوتے پوچھا…
ہاں !! جو اس نے کیا میرے ساتھ اس کا تیسرا حصہ بھی نہیں تھا… میرا مذاق بنا دیا جانتی ہو کتنے لوگوں نے وہ وڈیو دیکھی. کیسے کیسے کمینٹ آے. شانزے کے چہرے پے دکھ کے اثرات صاف دکھائی دے رہے تھے..
لیکن پھر بھی تمھیں اس طرح اس کے گھر نہیں جانا چاہیے تھا… اور اگر گیں ہی تھیں تو بات کر سکتیں تھیں… ایسے اس کے ماں باپ کو بیچ میں لا کے کیا ہو گا…
میں مانتی ہوں مجھے یوں اس کے گھر نہیں جانا چاہیے تھا.. پر اس وقت مجھے جو ٹھیک لگا میں نے کیا اور ویسے بھی ان امیر لوگوں کو اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا… شانزے نے کتاب میں دیکھتے ہوے بولا.
اس سب سے کیا فائدہ ہوگا شانزے.. بات بڑھتی جا رہی ہے.. پہلے مذاق تھی پھر نوک جھوک ہوئی… پھر لڑائی بنی… اور اب.. اب تو یہ دشمنی بنتی جا رہی ہے… پلیز سب کو یہیں روک دو ایسا نا ہو تمہیں کوئی نقصان اٹھانا پڑے صبا نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی…
دیکھو شانزے میری بات ہو سکتا ہے تمہیں بری لگے پر یہ بات جتنی لمبی جائے گی.. اتنی ہی باتیں بنتی جائیں گی ہم یہاں
پڑھنے آیئں ہیں… کسی کو ہرانے یا لڑنے نہیں… یہ کس ریس کا حصہ بن رہی ہوتم؟ یہ تمہارے خواب نہیں تھے،
کیا ہوا میری بات بری لگی کیا ؟ صبا نے خاموش بیٹھی شانزے کو پوچھا….
نہیں تو… شانزے اپنا سر جھکا لیا تھا…
تو پھر ؟؟
تم ٹھیک کہہ رہی ہو اس نے زمین کو گھورتے جواب دیا…
گڈ گرل !! چلو کینٹین چلتے ہیں زارا اور مہک ہمارا انتیظار کر رہی ہیں.صبا نے مسکرا کے کہا اور وہ دونوں کینٹین کی طرف چل دیں.
………………………………………………
کیا بات ہے آج کل آپ بہت چپ ہو گئے ہیں… شاہینہ بیگم چائے میز پے رکھتے ہوے بولیں. حسین صاحب شانزے والے حادثے کے بعد سے کچھ چپ تھے. اگرچہ انہوں نے یوسف اور عثمان دونوں کو مطمئن کر دیا تھا. پر وہ شاہینہ بیگم تھی ان سے کچھ چھپانا مشکل ہی نہیں نہ ممکن بھی تھا…
اتنے سالوں کی رفاقت نے ان دونوں کو ہی یہ شرف بخشا تھا کے بنا کہے ایک دوسرے کے دل کا حال جان لیتے ہیں.
نہیں ایسا تو کچھ نہیں ہے. حسین صاحب نے بات بنا ئی…
میں جانتی ہوں آپ شانزے کو لے کے پریشان.. اس کی شکل بہت حد تک زینب سے ملتی ہے… اس لئے نہ… شاہینہ بیگم ان کے سامنے بیٹھتے ہوے بولیں…
جبکہ حسین صاحب چونک گئے تھے… بنا کہے بھی وہ ان کے دل کا راز جان گئی تھیں، یہ بات تو انہوں نے خود سے بھی نہیں کی تھی…
کیا ہوا حیران کیوں ہو رہے ہیں… انہوں نے چائے دیتے ہوے کہا. شانزے کو دیکھ کے مجھے بھی ایک پل ایسا لگا جیسے زینب ہے… آپ معاف کیوں نہیں کر دیتے اسے اتنے سال ہو گئے ہیں…. اتنے سالوں سے جو بات دل میں تھی بلاآخر زبان پے آہی گئی تھی.انہوں نے بڑی آس سے دیکھا تھا جیسے آج حسین انھیں نہ نہیں کہیں گئے….
معاف کر دوں…؟؟ کس بات کے لئے…؟؟ اس لیے کے اس نے اپنا نقصان کیا ؟؟ حسین نے دکھ سے شاہینہ کی طرف دیکھا تھا… کتنا سمجھایا تھا اسے.. وہ میرے دل کا ٹکڑا تھی.. بے انتہا محبت کی تھی میں نے اس سے. کبھی چھوٹی سی چھوٹی بات کے لئے میری ہاں کا انتظار کرتی تھی اور اتنے بڑے فیصلے میں میری ہاں کا انتیظار نہیں کیا. حسین کے چہرے سے ان کے اندر کی اذیت صاف ظاہر ہو رہی تھی. اتنے سالوں کی خاموشی آج ختم ہوئی تھی.
اتنے سال ہو گئے ہیں اس بات کو آپ بھول کیوں نہیں جاتے ؟؟ شاہینہ نے التجا کی…
کیسے بھول جاؤں؟ کیسے بھول ؟ کہ وہ مجھے چھوڑ کے چلی گئی…
کیا ایک بار… ایک بار وہ بات نہیں کر سکتی تھی…. لڑتی جھگڑتی اور اپنی بات منوا لیتی جیسے ہمیشہ منواتی تھی پر ایسے چپ چاپ گم نہ ہو جاتی… تمہیں کیا لگتا ہے اتنے سالوں میں نے اس کبھی یاد نہیں کیا ؟؟ کیا… بہت یاد کیا… اپنی ہر سانس کے ساتھ… تو کیا اس کو کبھی میری یاد نہیں آئ… حسین اس وقت شدید تکلیف سے دوچار تھے اور شاہینہ سے بہتر کون جان سکتا تھا…
ایک بار صرف ایک بار کیا پرانی باتوں کو بھول نہیں سکتے. میں جانتی ہوں آپ نے کب کا اسے معاف کر دیا ہے پر… یہ بات آپ ماننا نہیں چاہتے… صرف ایک بار دماغ سے نہیں دل سے سوچیں…
حسین صاحب نے کسی شکست خور انسان کی طرح ان کی طرف دیکھا تھا… تم ٹھیک کہتی ہو.. اب مجھ سے اور ناراض نہیں ہوا جاتا پھر زندگی کا کیا بھروسہ ایسا نہ ہو کے میں اس سے دیکھے بنا…
الله نہ کرے کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ… شاہینہ نے ان کی بات کاٹی آپ اس سے ڈھونڈیں ہم خود جا کر اسے، گھر واپس لے کے آیئں گئے.. شاہینہ بیگم نے گھٹنے پے رکھے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا. اور ان کے ہاتھ پے حسین صاحب
نے اپنا دوسرا ہاتھ رکھا جو اس بات کی نشاندہی تھا کہ وہ ان کے فیصلے پے رضامند ہیں. جواباً شاہینہ بیگم ان کی طرف دیکھ کے مسکرائی تھیں..
………………………………………………
بھائی جان آپ یہاں… آفس میں… میم کلثوم حسین صاحب کو دیکھ کر احترام میں کھڑی ہوئی تھیں وہ سچ میں حیران تھیں کیوں کے آج تک وہ کبھی ان کے آفس نہیں آئے تھے.مس کلثوم حسین صاحب کی چھوٹی بہن ہیں اور یوسف کی پھوپو ہیں یہ بات یونیورسٹی میں صرف وہی لوگ جانتے ہیں جن سے ان کے فیملی ٹرمز ہیں. اس کی ایک بہت بڑی وجہ میم کلثوم کا یوسف کے ساتھ پیش آنے والا رویہ ہے. وہ اتنا ہی عام ہے جتنا وہ کسی دوسرے سٹوڈنٹ کے ساتھ رکھتی ہیں.
بیٹھو بیٹھو… حسین نے آگے بڑھ کر بہن کے سر پے ہاتھ رکھا تھا.
بھائی جان سب خیریت ہے ؟ میم کلثوم ان کی اچانک آمد پے کچھ پریشان بھی تھیں وہ اتنا تو جانتی تھیں کے کوئی بات ضرور ہے. ورنہ حسین ایسے کبھی ان کے آفس نہ آتے. آپ چائے لیں گئے یا کافی ؟ انہوں نے اپنے بھائی کی کشمکش کو کم کرنے کے لئے پوچھا.
ہاں !! کیا کہ رہی تھیں. دراصل حسین صاحب اپنے خیالوں میں مگن تھے انھیں سمجھ نہیں آرہا تھا بات کہاں سے شروع کریں.
بھائی آپ چائے لیں گئے یا… کچھ بھی.. حسین نے بات کاٹتے ہوے کہا.. یہ تو صاف ظاہر تھا کے وہ ان سے ملنے نہیں آے اورنہ ہی کسی اور بات میں کوئی دلچسپی ہے. لیکن کلثوم کے لئے پریشانی کی بات یہ تھی کے وہ آنے کا مقصد نہیں جان سکیں تھیں اور فلحال وہ کوئی سوال کر کے انھیں مزید الجھانا نہیں چاہتی تھیں. انہوں نے فون کر کے چائے لانے کا کہا.
کچھ لمحے خاموشی سے ایسے ہی نکل گئے اور تبھی چائے بھی آگئی. انہوں نے کپ بھائی کو دیا..
شانزے .. شانزے کو جانتی ہو تم ؟؟ کلثوم کا چائے کی طرف بڑھتا ہاتھ روک گیا تھا. صرف اس ایک نام نے انھیں پوری بات سمجھا دی تھی. اپنے بھائی کی پریشانی کی وجہ وہ سمجھ گیں تھی. بہت بیچارگی سے انہوں نے حسین کی طرف دیکھا تھا.
جی بھائی جان… میرے ہی ڈیپارٹمنٹ میں ہے… کلثوم نے نظریں چورائی تھیں جیسے ان کی چوری پکڑی گئی ہے.
تو پھر تم یہ بھی جان گئی ہو گی کے میں یہاں کیوں آیا ہوں.. حسین نے اپنی بہن کو غور سے دیکھا تھا.
جی بھائی جان.. میں جانتی ہوں پر…
میم جلدی چلیں ایک مثلہ ہو گیا… اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتیں تبھی پیوں دروازہ نوک کر کے اندرآیا…
…………………………………………..
دیکھا تم نے میرا کمال کیا دھماکے دار وڈیو ایڈٹ کی ہے… وارث نے اپنے گروپ کے لڑکوں سے بات کرتے ہوے تالی ماری تھی. ہاں یار مزہ آگیا اور سب سے اچھی بات کسی کا شک بھی مجھ پے نہیں گیا. جاتا بھی کیسے سب جانتے ہیں شانزے اور یوسف کے چوہے بلی کے کھیل کو. اگر یوسف کو پتا چل گیا ؟ ایک لڑکے نے اپنا شک ظاہر کیا. تو ایسی منحوس باتیں مت کر یوسف کے فرشتوں کو بھی پتا نہی چلنا… وارث نے کچھ اکڑتے ہوے کہا. تو شاید بھول گیا ہے کے ہم یوسف کے بارے میں بات کر رہے ہیں چیتا ہے وہ ان سب کاموں میں اور ہیکنگ تو اس کے بایئں ہاتھ کا کام ہے. ایسے تو وہ گولڈمیڈلسٹ نہیں بنے والا نہ. ایک دوسرے لڑکے نے کہا… گولڈمیڈلسٹ کا حال نہیں دیکھا میں نے کیا کیا ہے..؟؟ ہاہاہا… ایک قہقہ بلند ہوا.
تبھی یوسف دندناتا ہوا آیا اوراکر وارث کا گریبان پکڑا… چلو میرے ساتھ….
چھوڑو مجھے … وارث مذمت کرنا چاہتا لیکن یوسف نے انگلی کے اشارے سے اس دھمکایا.اگر تم چاہتے ہو کے تمہارا یہ منہ سلامت رہے تو میرے ساتھ چپ چاپ چلو.
لیکن ہم جا کہاں رہے ہیں…؟؟؟؟ وارث کچھ پرشان ہوا تھا.
بتاتا ہوں جلدی کیا ہے ؟ یوسف نے سوال کے بدلے سوال کیا تھا.
۔………………………………………
چلو کلاس ختم…صبا نے ہاتھ جھاڑنےوالے انداز میں کہا…
ہاں میں بہت تھک گئی ہوں چلو کیںٹین چلتے ہیں.. مہک نے اور زارا نے ایک زبان ہوتے کہا کیوں کے ان دونوں کو ہی ہر لیکچر کے بعد تھکن ہو جاتی تھی.
نہیں تم لوگ جاؤ، میں نکلتی ہوں گھر میں بہت کام ہیں. شانزے نے اپنی نوٹس سمیٹتے ہوے کہا.
ارے واہ… تو شانزے لوگوں کی کھچائی کے علاوہ گھر کے کام بھی کر لیتی ہیں.. واہ بھئی ذارا نے ایکٹنگ کرتے ہوے بولا. شانزے نے خفگی سے اس کو گھورا.
خیریت ہے… کہیں رشتے والے تو نہیں آرہے میڈم کے… حملہ اس دفع مہک کی طرف سے ہوا تھا.
تمہیں کیسے پتا ؟ شانزے نے بھی بھر پور ایکٹنگ کی شرمانے کی.
کیا…..؟؟؟؟؟؟ سچ میں صبا نے خوش ہوتے پوچھا….
ہاں !! بلکل سچ پر میرے نہیں عنیقہ کے… شانزے نے آنکھیں گھومائی.. اور چاروں ہنسنے لگیں…
وہ کلاس سے باہر نکلیں ہی تھیں کے وارث شانزے کے پیروں میں اکر گرا جس سے دیکھ کر وہ گڑبڑا گئی تھی…
کیا ہوا وارث … تم ٹھیک ہو… ؟؟ اس نے پریشان ہو کر پوچھا اور اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ پوچھتی نظر یوسف پے پڑی…
او.. تو یہ تم ہو یوسف دی گریٹ… سب کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے. جبکہ تم یہاں موجود ہو. شرم نہیں آتی تمہیں اپنے ہی ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں کو تنگ کرتے ہوے…
شٹ اپ… جسٹ شٹ اپ…. یوسف دھا ڑا تھا…
…..not a single word ok
یہ تمہارا مجرم ہے اس نے بنائی ہے وہ وڈیو… یوسف کی آواز نے شانزے کے اوپر بم پھوڑا تھا.
نہیں شانزے میں نے کچھ نہیں کیا… آئ پرومس… یہ سب یوسف کا پلان ہے… وہ مجھے پھسانا چاہتا ہے.. مجھ پے جھوٹا الزام لگا کر خود کو بےقصور ثابت کرنا چاہتا ہے. وارث اب اپنی صفائی دینے لگا تھا.
شانزے بے یقینی کی کفیت میں تھی اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے…
تبھی یوسف نے اپنے فون سے ریکارڈنگ چلائی جس میں وارث اور اس کے دوستوں کی آوازیں صاف واضح تھیں…
ہر شخص اپنی جگہ جم گیا تھا.
اب بولو شانزے حسان اس دن تو بہت بول رہی تھیں. تو پھر آج کیا ہو گیا تمہیں ؟ یاداشت چلی گئی یا گلہ خراب ہے.. یوسف بلکل اس کے سامنے کھڑا تھا.. اس سے پہلے کے وہ اور زیادہ بولتا مس کلثوم آگئیں تھیں..
کیا ہو رہا ہے یہ سب… کم اون اسٹوڈنٹس موو… اور آپ تینوں میرے روم میں آیئں… وہ شانزے، یوسف اور وارث کو کہتی چلی گیں تھی.
……………………………………………..
وہ تینوں ان کے روم میں داخل ہوے شانزے اور یوسف دونوں حسین صاحب کو دیکھ کر ٹھٹک گئے تھے.
شانزے کو اس دن کی گئی ساری باتیں یاد آنے لگیں اسے لگا وہ اب کبھی حسین صاحب کے سامنے نظرین نہیں اٹھا سکے گی. جبکہ یوسف اس لیے حیران تھا کہ آج تک بلاوجہ حسین کبھی یوسف کی یونیورسٹی نہیں آئے تھے تو پھر آج کیوں..؟؟
اب آپ تینوں بتایئں گئے کہ یہ سب کیا ہو رہا تھا. یا ایسے ہی ایک دوسرے کی شکل دیکھتے رہیں گئے.؟ مس کلثوم کی آواز کمرے میں گنجی..
وہ میم بات دارصل یہ ہے… شانزے نے آہستہ آہستہ ساری بات میم کلثوم کو بتائی جس سے انہوں نے بڑے تحمل سے سنا…
ڈیسگسٹنگ… میں سوچ بھی نہیں سکتی کے میرے ڈیپارٹمنٹ کے اسٹوڈنٹ ایسا کریں گئے.
کیوں وارث کیوں کیا آپ نے ایسا ؟
میم ائی ایم سوررے مجھ سے غلطی ہو گئی… پلیز شانزے مجھے معاف کر دو میں تو صرف یوسف سے بدلہ لینا چاہتا اس کی وجہ سے میں کبھی بھی پوزیشن ہولڈر نہیں رہا کتنی محنت کر لو لیکن ہمیشہ وہی پوزیشن لیتا ہے یس بات نے میرے اندر احساس کمتری پیدا کر دی اور اس زد میں تم بھی آگئیں پلیز شانزے مجھے معاف کر دو.. وارث رو دینے کو تھا.
جبکہ شانزے ایسے کھڑی تھی جیسے چپ کا روزہ رکھا ہو. کم سے کم یوسف کو تو ایسا ہی لگا تھا اور یہی بات تو اس سلگاہ رہی تھی. اگر پاپا کا اور میم کلثوم کا لہٰذ نہ ہوتا تو وہ کب کا شانزے کو جھنجوڑ چکا ہوتا.
ٹھیک ہے وارث آپ کی پہلی غلطی سمجھ کے میں آپ کو معاف کر رہی ہوں لیکن اس کے اگینسٹ آپ کے نام کا نوٹس ضرور نکلے گا. آگے سے آپ کسی بھی غلط ایکٹیویٹی میں ملوث ہوے تو بطور ڈیپارٹمنٹ ہیڈ میں یہ رایٹ کھتی ہوں کے آپ کو یونیورسٹی سے نکل دیا جائے. از ڈیٹ کلیر ؟
یس میم ! وارث نے تشکر نگاہوں سے دیکھا…
وارث کسی سے آگے بڑھنے کے لئے محنت کرتے ہیں نہ کہ اس انسان کو نیچے گرانے کی کوشش کریں.. اب آپ جائیں..
سوری شانزے.. سوری یوسف.. وارث نے جاتے جاتے یوسف کے کندھے پے ہاتھ رکھا جس پے یوسف نے اپنا ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھپ تھاپایا جو اس بات کا سگنل تھا کے بات ختم ہو گئی ہے. کم از کم شانزے کو یہی لگا.
میں نے آپ سے کہا تھا نہ پاپا میں نے کچھ نہیں کیا. یوسف نے آگے بڑھ کر باپ سے کہا. شانزے کو لگا اس پے کسی نے گھڑوں پانی ڈال دیا ہو.ایک مختصر سی مسکراہٹ نے یوسف کو سکون بخشا… اب ان کی توجہ شانزے تھی وہ شانزے جس نے انھیں یونیورسٹی آنے تک کے لئے مجبور کر دیا تھا. اور یہ بات یوسف نے بھی نوٹ کی تھی. تبھی اس کی نظر شانزے پے پڑی…
سوری سر آج ابھی جو کچھ یہاں ہوا اس سب کے لئے.. اور اس دن جو میں نے آپ کے گھر پے ہنگامہ کیا اس کے لئے بھی.. یوسف مزید کچھ بولتا اس سے پہلے ہی شانزے نے اپنی خاموشی توڑی…
حسن صاحب جو بہت دیر سے اس کی معصوم صورت دیکھنے میں مصروف تھے اس اچانک معافی پے چونک گئے اور آگے بڑھ کے اس کے سر پے ہاتھ رکھا کوئی بات نہیں بیٹا غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتیں ہیں. انہوں نے مسکرا کر شانزے کی طرف دیکھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو. یوسف اپنے باپ پے حیران تھا آخر کیا تھا اس میں جو ہر بار اس کا باپ اس سے اتنی اہمیت دیتا تھا اور اس بات نے یوسف کے اندر اور آگ لگا دی تھی.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: