Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 5

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 5

–**–**–

میرا خیال ہے یہ میرا آفس ہے ملاقاتی کمرہ نہیں آپ دونوں یہاں سے جا سکتے ہیں. وہ دونوں جانے کے پلٹے..
اور ہاں میں امید کرتی ہوں کے آیئندہ آپ دونوں ہی ڈیپارٹمنٹ کا سکون برباد کرنے کی وجہ نہیں بنیں گئے ورنہ دوسری صورت آپ جانتے ہی ہیں… ان دونوں نے ہاں میں سر ہلایا اور کمرے سے بھر نکل گئے…
شانزے کچھ کہنے کے لیے آگے بڑھی ہی تھی کہ یوسف نے اس کی بات کاٹ دی…
نہیں شانزے حسان پکچر ابھی باقی ہے… ویٹ ٹل دا اینڈ…
وہ کہتا آگے بڑھ گیا…
……………………………………….
معاف کیجئے گا بھائی جان مجھ نہیں پتا تھا بات اتنی بڑھ جائے گی ورنہ میں آپ کو پہلے ہی بتا دیتی. میم کلثوم نے بات بنائی حالاںکہ سچ تو یہ تھا کہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ حسین شانزے کو دیکھیں اور پرشان ہوں جیسے کہ وہ اس وقت ہو رہے تھے… کوئی بات نہیں میں بس یہی جانا چاہتا تھا کے تم جانتی ہوں شانزے کو کیوں کے وہ….
جی بھائی جان جانتی ہوں… یہ بھی کے وہ بلکل زینب جیسی ہے… جب پہلے دن دیکھا تھا تبھی ایک نظر تو ایسا لگا جیسے زینب ہو…انہوں نے نیچے منہ کیا.
تم جانتی ہو شانزے کے ماں باپ کے بارے میں.. ان سے ملی ہو ؟؟ حسین نے اپنی بہن سے پوچھا.
نہیں بھائی جان ملی تو نہیں پر ایڈمشن کے ریکارڈ سے جتنا معلوم ہوا ہے وہ یہی ہے کے زینب اور شانزے کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے.
اچھا میں چلتا ہوں… حسین کو جیسے ان کے سوالوں کا جواب مل گیا تھا. بھائی جان آپ کی چائے تو رہ گئی میں دوسری مانگا دیتی ہوں.. کلثوم نے بھائی کو محبت سے کہا… نہیں پھر کبھی میں ابھی چلتا ہوں وہ کہتے چل پڑے..
بھائی جان…
ہاں !! حسین دروازے سے پلٹے….
کیا ہم زینب کو ڈھونڈھ نہیں سکتے ؟؟؟
میں ڈھونڈھ رہا ہوں تم پریشان مت ہو.. وہ مختصر کہتے چلے گئے بنا جواب سنے…
جبکہ کلثوم کے چہرے پر دھڑوں اطمینان تھا.
………………………………………………….
وہ گھر آئ تو خلاف تواقع گھر میں سکون سا تھا وجہ صاف ظاہرتھی. آج عنیقہ کے لئے رشتہ جو آرہا تھا. وہ بھی باہر سے.آگئیں تم چلو اب جلدی جلدی بہنوں کا ہاتھ بٹاو کچن میں جا کر.. ابھی اس نے کھانا کھایا ہی تھا کہ تائی اماں نے اس سے دیکھتے ہی حکم صادرکیا… جی تائی اماں اس نے فرمابرداری کے سارے ریکارڈ توڑے تھے… اچھا سنو یہ تم مجھے تائی اماں نہ کہا کرو وہ کیا ہے نہ اس سے نہ انسان بڑی عمر کا لگتا ہے اور آج کل تو فیشن میں بھی نہیں ہے… تم مجھے تائی امی کہو یا تائی جانی کہو کیوں… انہوں نے پھول جھاڑتی زبان سے شانزے کو کہا. جکہ شانزے کو لگا وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے…. جی تائی امی بلکل کہتی وہ کچن کی طرف چل دی کیوں اس سے زیادہ وہ سنے کی برداشت کہاں رکھتی تھی…
ارے عنیقہ تم یہاں…. شانزے نے اس کو دیکھتے ہوے بولا.
عنیقہ جو سر پے کھڑی تھی اور ہر چیز کی نگرانی کر رہی تھی شانزے کو دیکھ کے چونک گئی.. کیوں میرا گھرہے میں جہاں چاہے آؤں جہاں چاہے جاؤں تمہیں کیا.. اس نے تنک کے جواب دیا.
ارے میرا مطلب تھا تمہیں تو پولر جانا چاہیے تھا بھئی آج تمہارے رشتے والے آرھے ہیں.. تھوڑا تیار ہو.. ساجو سنورو…
یہ کیا تم ماسی بنی پھر رہی ہو… شانزے نے سیب کھاتے ہوے بولا..
زندگی میں پہلی بات تم نے ڈھنگ کی ، کی ہے… وہ کہتی چلی گئی تھی جب کے شانزے اور اریزے ایک دوسرے کو دیکھ ہنس پڑیں..
کیوں کیا تم نے ایسا اچھا خاصا وہ دیکھ تو رہی تھی… دیکھ نہیں رہی تھی ٹانگ آڑا رہی تھی. اس میں نمک کم ڈالو… اس میں مرچیں زیادہ کر دو… مکرونی ایسے بوئل کرو اتنا آتا ہے تو خود کر لے نا… شانزے نے منہ بنایا..
او ہو تم بھی نہ بس…. اب وہ خالہ جانی کا دماغ کھائی اچھا ہے نہ اور تو کسی کام آتا نہیں تو کم از کم یہی سہی…
اب دونوں پھر سے ہنسنے لگیں کیوں کے وہ جانتی پوری دنیا بھی کوشش کر لے تو اب عنیقہ کو پولر جانے سے نہیں روک سکتی..
…………………………………………
مہمان آچکے تھے لیکن عنیقہ نہیں آئ تھی.. تائی جان کا پارہ آسمان سے باتیں کر رہا تھا. اسے پہلے کہ وہ پولر جا پہنچتیں عنیقہ آگئی تھی وہ سچ میں بہت پیاری لگ رہی تھی. تائی اماں نے محبت بھری نگاہ اس پے ڈالی پل بھر میں وہ سارا غصہ بھول گیں تھیں. چلو شاباش اندر آو سلام کرو آنٹیوں کو انہوں نے عنیقہ کو اندر لیجاتے ہوے کہا. وہ عورتیں بہت پیار سے ملیں ان کے انداز سے تو لگ رہا تھا کہ عنیقہ انھیں بہت پسند آئ ہے لیکن ابھی تک انہوں نے اس بات کا اظہار نہیں کیا تھا… اب می جانی اور تائی جان دونوں ان کی آو بھگت میں لگے تھے.. تائی جان ہر چیز اٹھا کہ کہتیں کے یہ لیں یہ عنیقہ نے بڑی محنت سے بنائی ہے. یہ کھایئں آپ تو انگلیاں چاٹتی رہ جائیں گی ایسا ذائقہ ہے میری عنیقہ کے ہاتوں میں کتنے گھنٹوں سے ہلکان ہو رہی ہے بیچاری… جب کے عنیقہ کا میک اپ چیخ چیخ کے تائی جان کے جھوٹ کا پول کھول رہا تھا.جبکہ ان میں سے ایک عورت کے منہ پے ناگواری کے سے تاثرات ابھر رہے تھے. تائی اماں اپنی دھن میں اتنی مگن تھی کہ انہوں نے نوٹ ہی نہیں کیا. عنیقہ تو جیسے جوڑ ہی گئی تھی جگہ سے جیسے آج ہی بات پاکی ہو جائے گی. ایک دو بار تائی جان نے اس سے چیزیں اٹھانے کا اشارہ بھی کیا لیکن اس نے نظر انداز کر دیا تبھی تائی اماں نے مجبوراً شانزے اور اریزے کو آواز دی آو بیٹا آپ لوگ بھی مہمانوں سے مل لو.. ان دونوں نےاندر آتے سلام کیا.
آیئں آپ بھی یہاں بٹھائیں ایک عورت جو لڑکے کی بڑی بہن تھی محبت سے بولی، یہ دونوں بھی آپ کی بیٹیاں ہیں… اب وہ تائی جان سے پوچھ رہی تھیں.
یہ اریزے ہے میری بہن اور دیوار کی بیٹی.. اور یہ شانزے ہے.. اسے ہم نے باہر سے گود لیا ہے… لیکن بہن الله کا شکر ہے کبھی کوئی فرق نہیں کیا اب دیکھو سارا دن یونیورسٹی میں ہلا گلا کرتی ہے لیکن مجال ہے کوئی کچھ کہہ دے… موبائل انٹرنیٹ ہر چیز ملی ہے اسے دوستوں کے ساتھ اڑتی پھرتی ہے ہم نے تو کبھی کوئی کم نہیں کرایا. تائی اماں کو اس کی بہن کا بار بار شانزے کو دیکھنا کھٹک رہا تھا لہٰذا فورن سے پہلے اس کے عیزاز میں پھول برسانا ضروری سمجھا گیا اور اپنے ایسے تعارف پر شانزے کا دل کیا وہ ڈوب مرے… می جانی نے غصے اپنی بہن کو دیکھا… جب کے اریزے نے اپنی معصوم بہن کا اترا ہوا چہرہ دیکھا.. جس کی بڑی بڑی آنکھیں آنسوؤں کی ٹنکی بنی ہوئی تھیں.
جاؤ بیٹا آپ لوگ یہ سب سمیٹ لو… تبھی می جانی نے حالات کو سمبھال نے کی کوشش کی… وہ تین سب سمیٹتی کمرے سے باہر نکل گئی تھیں.. شانزے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی… اور اریزے اس کے پیچھے گئی تھی…
اچھا بہن اب ہمیں اجازت دیں ہم پھر جلدی آیئں گئے… تائی اماں کا منہ خوشی سے کھل گیا تھا.. اتنا اچھا رشتہ جو مل رہا تھا. جی بہن ضرور آپ کا اپنا گھر ہے جب چاہیں آیئں آپ.. تائی اماں خوش اخلاقی کی بلندیوں پے تھیں اس وقت..
پر ایک بات میں صاف کر دینا چاہتی ہوں لڑکے کی بہن سے تائی اماں کو مخاطب کرتے ہوے کہا… جی جی ضرور بولیں تائی اماں نے ان کی ہاں میں ملائی.
دیکھیں ویسے تو ساری بچیاں ہی بہت پیاری ہیں پر ہم عنیقہ کے لئے نہیں شانزے کے لئے آنا چاہتے ہیں…
تائی اماں کو تو جیسے سانس آنا بند ہو گیا تھا جبکہ می جانی بھی اپنی جگہ حیران ہو گئی تھیں…
……………………………….
وہ سب لوگ ناشتے کی ٹیبل پے تھے اور اپنی اپنی خوش گپپیوں میں مصروف تھے سواے تایا جان کے ایک وہی تھے جوسب کے ساتھ کھانے یا ناشتے کے لئے نہیں آتے تھے وجہ صاف تھی.. شانزے… تایا جان نے تو گویا قسم ہی کہا رکھی تھی اس کی شکل نہ دیکھنے کی. بچپن کے ایک دو بدصورات واقعایات کے بعد شانزے نے بھی کبھی ان کے سامنے جانے کی ہمت نہ کی تھی حالانکہ چھوٹے ہوتے اس کا بھی دل چاہتا تھا کہ اور بچوں کی طرح تایا جان اس کے بھی لاڈ کریں لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی شانزے کو بھولا بھٹکا کوئی ایسا واقعی یاد تھا. یاد تھا تو صرف تایا جان کی غصیلی آنکھیں جو ہر وقت اس سے گھورتی تھیں اور اب تو وہ بھی نہیں کیوں کے جیسے جیسے وہ سمجھ دار ہوتی گئی اس نے تایا جان کے سامنے جانا چھوڑ دیا تھا…
ہاں بھئی… تم دونوں میں سے کسی کا پروگرام ہے جاب کا ؟؟ وجدان ناشتہ کر رہا تھا جب اچانک اس نے عنیقہ اور اریزے سے پوچھا….
اری لو ہماری بچیاں کیوں کرنے لگیں نوکری ماشاللہ سے سب کچھ ملتا ہے انہیں کون سا کسی چیز کی کمی ہے… تائی امان نے ان دونوں کے بولنے سے پہلے جواب دیا.
امی..!! آپ بھی نہ پتا نہیں کس زمانے میں رہتی ہیں. جاب اس لیے نہیں کی جاتی کے خداناخواستہ لڑکیاں گھر والوں پے بوجھ ہیں یا باپ بھائی خرچا نہیں برداشت کر سکتے. بلکے اس کی جاتی ہیں انسان میں دنیا کا کچھ شعورپیدا ہو وہ اپنے اندرچھپی خبویوں کو پہچان سکیئں. اور یہ جان سکیئں کے وقت پڑھنے پے انھیں کیسے استعمال کرنا ہے.. جو تعلیم انہوں نے حاصل کی ہے اس کی ورتھ کیا ہے.. وہ آج کل کے زمانے میں کہاں اسٹینڈ کرتی ہیں. وجدان نے ماں کو سمجھانے کی کوشش کی تھی.
ہاں !! تو یہ کون سی مشکل بات ہے. یہ سب تو گھر میں بیٹھ کے بھی پتا چل جاتا ہے. باہر نکلنے کی کیا ضرورت ہے ویسے بھی یہ آفیسوں میں کام کرنے والی لڑکیاں گھر کی نہیں رہتی. نا کوئی کام نا کاج بس اٹھے اور چلے گئے…
امی آپ بھی نا پتا نہیں کن خیالوں میں رہتی ہیں. آفیسوں میں کام کرنے والی لڑکیاں اتنی بھی خراب نہیں ہوتیں جتنا آپ نے سوچ لیا ہے.
ارے لو میری بلا سے جیسی بھی ہوں… مجھے کیا لینا… بس عنیقہ نہیں کرے گی. کریں وہ جنھیں ضرورت ہے.. تائی اماں نے شانزے کی طرف دیکھتے ہوہے کہا جسے شانزے کے ساتھ باقی سب نے نوٹس کیا.
وجی بھائی میں کرنا چاہتی ہوں.. اس سے پہلے کے کوئی کچھ بولتا اریزے نے وجی سے کہا.
کوئی ضرورت نہیں ہے..!! می جانی نے فورن مانا کیا.
پاپا پلیز آپ بولیں نا می جان کو.. اریزے نے باپ کو بیچ میں گھسیٹا.
بیگم صاحب کرنے دیں بیٹی کو شوق پورا. پاپا نے اریزے کی سائیڈ لی.
آپ بھی نا… کچھ بھی بولتے ہیں.. کام کاج سیکھنے کے بجاے اب یہ نوکریاں کرتی پھرے گی. می جان نے ناراض ہوتے کہا.
کل کو شادی کے وقت یہ نوکری کام نہیں آے گی.. تائی اماں نے عادت سے مجبور فکرہ جوڑا…
می جانی پلیز نا… اریزے نے منت کی.
بیگم ماں جائیں آپ… پاپا نے دوبارہ حمایت کی..
کیا می جان آپ تو ایسے پریشان ہو رہی ہیں جیسے اریزے آفس کی بات نا کر رہی ہو بلکے دل والے دلہنیا لے جائیں گئے کی سمرن یورپ ٹورپے جانے کی بات کاری ہوں. شانزے نے ماں کے گلے کا ہار بنتے لاڈ سے کہا..
بس شانزے ہر وقت مذاق اچھا نہیں لگتا کبھی تو بات کو سریس ہونے دو.. ماما نے تھوڑا برہمی سے کہا.
خالہ جانی کیوں پریشان ہوتی ہیں دیکھی بحالی جگہ ہے. میرے دوست کا آفیس ہے. اریزے کو کوئی پریشانی نہیں ہو. اور پھرمیں بھی آتا جاتا رہتا ہوں وہاں. وجی نے میدان میں آتے کہا.
مان جائیں بیگم اتنا مت سوچیں.. حسسان صاحب نے بات میں دوبارہ مداخلت کی.
اچھا ٹھیک ہے کر لو.. لیکن جس دن میں نے بولا بس چھوڑنا پڑے گی ٹھیک ہے.. ؟ می جان نے اپنا فیصلہ سناتے کہا.
ٹھیک می جان… وعدہ .. اریزے محبت سے ماں کے گلے لگی…
جا سمرن جی لے اپنی زندگی. شانزے نے باپ کے گلے میں بازو ڈالے ایک ہاتھ اٹھا کر ایرزے کو کہا اس کے انداز پے سب کو ہنسی آگئی سواے تائی جان اور عنیقہ کے جو بے دل سے اس محفل کا نہیں حصہ تھیں.
…………………………………………….
ناشتہ کر کے سب اپنے جانے کی تیاریوں میں مصروف تھے. اریزے کو آج سے ہی جانا تھا اس لئے وہ جلدی جلدی تیاری کررہی تھی اور اس کی وجہ سے شانزے کو دیر ہو گئی تھی.
شانی میں اچھی تو لگ رہی ہوں نا اریزے نے اس کے آگے گھومتے ہوے کہا.
ہاں میری جان بہت اب جلدی کرو تب تک میں وجی بھائی کو بولا کے لاتی ہوں پہلا پیریڈ تو ویسے گیا میرا اب تمہاری فنکاریوں میں کہیں دوسرا بھی چلا گیا تو مس ام کلثوم نے تو مجھے جان سے ہی مار دینا ہیں…
وہ کہتی وجی کے کمرے کی طرف بڑھ گئی.
اس پہلے کہ وہ اندر جاتی اندر سے آتی آوازوں نے شانزے کے قدم روک دیے.
اک آواز تو وجی کی تھی لیکن دوسری آواز وہ کس لڑکی تھی اور اگر اس کا اندازہ سہی تھا تو وہ گھر کی کسی لڑکی کی نہیں تھی. تو پھر وہ تھی کون یہی جانے لے لئے وہ دبے پاؤں وجی کے کمرے میں گئی. وجی کسی لڑکی سے وڈیو کال پے مصروف تھا. ان دونوں کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ رقابت کافی پرانی ہے. اچھا تو بڑے چھپے رستم نکلے آپ تو…
شانزے نے وجی کے کان میں بولا جس سے وہ ہڑبڑا گیا جب کے دوسری طرف کی کال مقطع کر دی گئی تھی.
وہ.. میری دوست ہے.. وجی نے شانزے کو صفائی دینی چاہی لیکن آواز نے ان کا ساتھ دینا گوارا نہیں کیا.
اچھا………… شانزے نے اچھا پے زور دیتے ہوے کہا…
کیا اچھا اور تمہاری یہ عادت نہیں جائے گی چوروں والی.. وجی.. کچھ گربڑا سا گیا تھا،
وجی بھائی آپ نے پھر مجھے چور بولا میں ابھی جا کے سب کو بتاتی ہوں کے بند کمرے میں کیا ہو رہا تھا.
شانزے کمرے سے بھاگتے ہوئی بولی…
روکو شانزے… اچھا پرومیس میں اب کبھی نہیں بولوں گا… وجی اس کے پیچھے پیچھے بھاگا ..
اچھا شانزے تھوڑا روکتے ہوے بولی… اور مجھے آئس کریم بھی دلائیں گئے وہ بھی دو بار اوکے….؟؟؟ شانزے نے اگلا مطالبہ رکھا.
ٹھیک ہے.. وجی نے اس کی بات مانتے ہوے کہا..
اور شاپنگ بھی وہ بھی ہرہفتے… ایک نیا مطالبہ پیش کیا گیا…
شانزے اب بہت ہو رہا ہے… وجی نے اسے وارن کیا.
اچھا تو میں ابھی جا کے سب کو بتاتی ہوں کے وجی بھائی کسی لڑ…
منہ بند کرو اپنا… وجی نے پاس پڑا پلّو کھینچ کے مارا….جس سے شانزے کی بات بیچ میں ہی رہی گئی تھی.
وجی بھائی اب بچ کے دکھایئں شانزے نے دھمکی دی اور ہال کی طرف بھاگی اور سامنے آتی عنیقہ سے ٹکرا گئی.
جس کی وجہ سے عنیقہ ہاتھ میں پکڑے ناشتے کی ٹرے جو وہ تایا جان کو دینے جا رہی تھی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور اس کو بچانے کے چکر میں گرم چاتے شانزے کے بازو جلا گئے. ابھی اس کے منہ سے سی کی آواز نکلی ہی تھی کہ عنیقہ کے چلا نے کی آواز نے سب کو ہلا کر رکھ دیا.
امی… جلدی آیئں دیکھیں اس منحوس نے کیا کیا…
کیا ہوا… تائی اماں اور می جان سمیت گھر کے سبھی لوگ وہاں آگے تھے.
کیا ہوا میری بچی کو یہ شور کیسا تھا. تائی جان کچھ بوکھالی ہوئی تھیں.
امی دیکھئیں اس نے مجھے دھکہ دیا اور سب کچھ گر گیا میرا پاؤں بھی جل گیا. عنیقہ نے بےتحاشا آنسو بہاتے ہوے اپنے پاؤں کی طرف اشارہ کیا.
نہیں تائی اماں عنیقہ جھوٹ بول رہی ہے میں نے ایسا… اس سے پہلے کے وہ اپنا جملہ پورا کرتی تائی جان کے زناٹے دار تھپڑ نے اس کا دماغ تک ہلا کے رکھ دیا تھا. ہال میں کھڑا ہرشخص اپنی جگہ جم گیا تھا.
نامراد کہیں کی کبھی جوکوئی کام ڈھنگ کا کرتی ہو.. ایسی کوئی منحوس ہے جب دیکھو توڑ پھوڑ. ہلا گلّا باپ کا گھر سمجھتی ہے کیا. مفت کی روٹیاں کھاتی ہے .وہی پیٹ میں لڑ رہی ہیں.
آپا… می جانی نے اپنی بہن کو ٹوکنا چاہا پر تائی اماں نے انھیں چپ کرا دیا.
بس چپ کرو تم… آج کوئی بیچ میں نہیں بولے گا سن لیا سب نے… ان نے وجی کو بھی اشارہ کیا تھا.
بتاؤ ذرا میری بچی کا پاؤں جلا دیا. ایک ایک کر کے سارا سامان برباد کر دیا. کیا منہ دکھاؤں گی میں اماں کو…
یہ سب تمہارے شوہر کی غلطیوں کا بھگتان ہے. نہ وہ اس کچرے کو اٹھا کے لاتا اور نہ یہ ہمارے سر پے بیٹھتی.تائی اماں مسلسل بولے جا رہی تھی ایسے جیسے آج وہ اگلے پچھلے سارے حساب اس سے پورے کرلیں گی.
امی بس کریں ایسا بھی کیا ہو گیا ہے… وجی نے بات ختم کرنے کی ناکام کوشش کی تھی.
واہ بیٹا واہ … اس پراے گندے خون کے لیے تو اپنی ماں کو بول رہا ہے…؟؟ تائی جان نے طنز کا تیر چلایا…
بس تائی امی… اب ایک لفظ اور نہیں… پوچھیں اپنی بیٹی سے کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے یا نہیں. شانزے سے برداشت نہ ہوا اور وہ بلا آخر بول ہی پڑی.. دوسری طرف عنیقہ کو سانپ سونگھ گیا تھا. اسے اندازہ نہیں تھا کہ بات اتنی بڑھ جائے گی وہ تو بس شانزے سے اس دن کے تھپڑ کا بدلہ لینا چاہتی تھی.
دیکھو تو کیسا تن تنا دکھا رہی ہے… غضب خدا کا میرے بچوں نے آج تک کبھی میرے آگے ایک لفظ نہیں بولا.. ارے خون خون کی بات ہے یہ نہ جانے کس کا گندا خون ہے جو سر چڑھ کے بول رہا ہے،،، تائی جان پھر شروع ہوئیں.
ہاں تائی امی ٹھیک کہا اپنے… میرا خون تو گندا ہے…
پر آپ کا خون تو اچھا ہے نا… تو آپ کی پرورش میں کھوٹ کیوں ہے… اس سے پہلے کہ شانزے مزید کچھ بولتی
ایک اور تھپڑ اس ہوش اڑا گیا تھا.. لیکن اس بار وجہ تھپڑ نہیں تھا بلکے مارنے والا تھا..
می جان… شانزے نے حیرت سے انھیں دیکھا تھا. آج تک انھیں نے کبھی اسے ڈانٹا تک نہیں تھا اور آج یہ تھپڑ… اس کے منہ پے نہیں دل پے لگا تھا… اس کی درد کا اثر گال پے نہیں دل پے ہوا تھا.
بس کر دو شانزے…. شرم آتی ہے مجھے تمہیں اپنی بیٹی کہتے ہوے… کتناگر گئی ہو تم…
پتا نہیں کون سی منحوس گھڑی تھی جب انہوں نے تمہیں میری گود میں ڈالا تھا… می جان کی زبان بھی آج ویسے ہی انگارے برسا رہی تھی جیسے تائی اماں کی زبان برساتی آئ تھی… کمرے میں کھڑا شخص حیران، خاموش تماشائی تھا… اریزے کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے تھے… وجی اپنی جگہ ساکت تھی..
شانزے کو لگا کسی نے گرم سیسہ اس کے کانوں میں انڈیل دیا ہو… وہ آہستہ آہستہ چلتی کرے سے باہر جا رہی تھی.
وجی نے اسے آواز دی جسے اس نے سنا ان سنا کر دیا تھا…
می جانی کو یکدم اپنی غلطی کا احساس ہوا…. لیکن اب بہت دیر ہو گئی تھی… وہ کمرے سے نکلتی گھر سے باہر نکل گئی تھی…
می جانی گرنے والے انداز میں صوفے پے بیٹھیں. اریزے ان کے پاسس گئی. می جان سمبھالیں خود کو… اریزے روکو اسے کہیں وہ… ارے کہیں نہیں جائے گی…. پروفسسورنی گئی ہو گی یونیورسٹی تم پریشان نا ہو تائی اماں نے اپنی بہن کو تسلی دی. اور جاؤ بھائی تم دونوں کو آفس نہیں جانا کیا چلو شاباش.. اریزے کا بلکل دل نہیں تھا لیکن تائی اماں نے زبردستی اسے بیھجا. وہ بلکل ایسے ریکٹ کر رہی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو اور یہ بات اریزے کو بری طرح کھٹکی تھی.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: