Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 6

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 6

–**–**–

ناشتہ ٹیبل پے لگ گیا تھا… ماما اور عثمان کب سے یوسف اور پاپا کا انتیظار کر رہے تھے جو آنے میں نہیں آرہے تھے. ماما کہاں ہے یہ دونوں… مجھے اب بھوک لگ رہی ہے.. عثمان نے جوس کا سپ لیتے کہا..
آگیا میری جان آگیا.. یوسف نے ڈائننگ کی چیر کھینچی اور بیٹھ گیا… اس کا موڈ بہت خوش گوار تھا جب سے وڈیو والا معملا کلیر ہوا تھا وہ دوبارہ سے اپنی روٹین میں آگیا تھا. عثمان بھی اس کی طرف سے مطمین ہو گیا تھا. ورنہ پچھلے کچھ دنوں جو خاموشی اس پے چھائی ہوئی تھی ماما، پاپا کے علاوہ اس نے یوسف کو بھی پریشان کر دیا تھا. انھیں ڈر تھا کہ غصے میں وہ کوئی غلط قدم نہ اٹھالے لیکن شکر ہے الله کا سارا معاملہ سیدھا ہو گیا تھا….
خیریت ہے آج تو موڈ کچھ زیادہ ہی اچھا نہیں ہو رہا ؟ کہیں کوئی مل تو نہیں گئی…؟؟ عثمان نے اسے چھڑا تھا.
توبہ بھائی آپ بھی نہ کیا صبح صبح شروع ہو گئے ہیں…
آپ بتائیں… اس وقت گھر پے کیسے، آفس نہیں گئے ؟؟
ہاں دو دن سے تمھیں دیکھا نہیں تھا تو سوچا تمہاری شکل دیکھنے کا شرف حاصل کر لوں.. عثمان نے اپنا ناشتہ کرتے جواب دیا..
بھائی آپ اتنی جلدی نکل جاتے ہیں جیسے آفس کے تالے آپ نے کھولنے ہوں. اور اس وقت میں سو رہا ہوتا ہوں. وہ بھی اب اپنی ٹون میں واپس آگیا تھا.
تمہاری تو روٹین ہی خراب ہے عثمان نے بھی اس کی طبیعت صاف کی تھی..
بھائی آپ کو پتا تو تھا سب… لیکن اب سب ٹھیک ہے.. یوسف نے جواب دیتے جوس کا گلاس اٹھایا…
اور اب سب ٹھیک رہنا بھی چاہیے ٹھیک ہے عثمان نے اس سے نصیحت کرنا ضروری سمجھا.
ماما آپ کا یہ ہٹلر بیٹا اس نے جان بوجھ کے عثمان کو چڑانا چاہا تھا..
تبھی اس کی نظر سامنے سے آتے پاپا پے پڑی. اسلام و علیکم پاپا… آپ ٹھیک ہیں ؟ یوسف نے باپ کے چہرے کو غور سے دیکھا تھا. اسے وہ تھکے تھکے سے لگے تھے اس لیے وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا.
نوٹ تو عثمان نے بھی کیا تھا بلکہ کئی دن سے کر رہا تھا. حسین کا انداز کچھ بدلہ بدلہ تھا. پر جب بھی وہ بات کرنے کی کوشش کرتا پاپا اس کی بات پلٹ دیتے تھے.
ہاں میں ٹھیک ہوں.. مجھے کیا ہوا ؟؟ انہوں نے الٹا اس سے سوال کیا.
کچھ نہیں بس مجھے لگا.. یوسف کے پاسس کوئی جواب نہیں تھا اور حسین دینا نہیں چاہتے تھے.
اچھا میں چلتا ہوں یونیورسٹی کے لئے دیر ہو رہی ہے شام میں ملتے ہیں… یوسف کہتا باہرنکل گیا تھا..
جبکہ عثمان ابھی تک باپ کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا اور یہ بات حسین بھی جانتے تھے لیکن ابھی وہ کسی کو بھی اس معاملے میں انوولوے نہیں کرنا چاہتے تھے، عثمان کو بھی نہیں..
عثمان تمھیں تو میٹنگ کے لئے جانا تھا بیٹا… شاہینہ نے اسے یاد دلایا…
جی ماما بس پاپا کے ساتھ نکلتا ہوں… عثمان نے جان بوجھ کے بولا اورغور سے باپ کو دیکھا…
تم جاؤ عثمان میں آجاؤں گا. مجھے کچھ کام ہے بس وہ کر کہ آتا ہوں. حسین نے عثمان کو بولا تو ان کا چہرہ بلکل سپاٹ تھا وہ کوئی اندازہ نہیں کر سکا کہ وہ سچ کہ رہے ہیں یا پھر کوئی بہانہ ہے. لیکن وہ اتنا تو ضرور جانتا تھا کہ کوئی بات ہے جو وہ سب سے چھپا رہے ہیں، پر کیا ؟ ابھی تک وہ اس کے سرے تک نہیں پہنچا تھا. لیکن اب وہ اور زیادہ انتیظار نہیں کر سکتا تھا. اس جلد از جلد یہ راز جانا ہے کیا ہے جو وہ ان سب سے چھپا رہے ہیں. کیوں کہ پچھلے کچھ دنوں سے پاپا روز آفس لیٹ ہی جا رہے تھے وہ جب بھی پوچھتا ہمیشہ کام کا بہانا بناتے شروع میں تو عثمان نے غور نہیں کیا لیکن آہستہ آہستہ یہ بات اسے کھٹکنے لگی. اس سے پہلے وہ ہمیشہ آفس ٹائم پے جاتے تھے سواے میٹنگ یا ریگولر چیک اپ کے علاوہ. لیکن اب یہ روز کی بات ہو گئی تھی. پہلی بار اسے شک تب ہوا جب پاپا نے اس سے کہا کہ وہ اپنے دوست ہاشم کے ساتھ تھے جبکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ہاشم انکل اس وقت ملک سے باہر ہیں. پھر اس نے جان بوجھ کہ پاپا کو کراس چیک کرنا شروع کیا پاپا سے ہمیشہ پوچھتا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں اور وہ جس جگہ کا کہتے وہاں نہیں ہوتے اور یہی بات عثمان کے لئے پریشان کن ثابت ہو رہی تھی. بہرحال جو بھی بات تھی اس سے جلد از جلد اس کا سراغ لگانا تھا. اس سے پہلے کے دیر ہو جاتی…
………………………………………………
جانے کیوں محسوس ہوتا ہے مجھے یہ.
بہت کمزور ہوں میں اس شہر میں…
ہو سکا اب تک نہ میرا فیصلہ،
کب سے زیرے غور ہوں اس شہر میں….
آج می جان نے جو کچھ بھی کہا اس میں کچھ بھی نیا نہیں تھا. یہ سب وہی باتیں ہیں جو وہ پچھلے کئی برسوں سے سنتی آرہی ہے. اسے لئے سنے کی عادت سی ہو گئی تھی. لیکن آج کی اس بے انتہا تکلیف ہو رہی تھی. کیوں کے آج نیا یہ تھا کے آج سے پہلے یہ باتیں وہ لوگ کرتے تھے جو اس کے لئے کچھ نہ تھے. جن کے ہونے نہ ہونے سے شانزے کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا. پر می جانی وہ تو اس کئی ماں تھیں تو پھر وہ کیسے یہ سب بول سکتی تھیں وہ تو اس کے لئے سب کچھ تھیں….
یہ بات اس کو سکون نہیں لینے دے رہی تھی.. بار بار صرف ایک ہی جملہ کانوں سے ٹکراتا “تم میری بیٹی نہیں ہو سکتیں”… وہ گھر سے تو نکل آئ تھی پر اب راستہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ جانا کہاں ہے؟ کیا دنیا میں اس کا کوئی ٹھکانہ ہے یا نہیں ؟ کوئی ہے جو اس کو بغیر پہچان کے اپنا سکتا ہے…
کون ہے وہ ؟
کہاں سے لاے تھے اسے ؟
اس کے ماں باپ کون ہیں.. ہیں بھی یا نہیں.. اگر ہیں تو کہاں ہیں ؟
کیوں چھوڑ دیا ایسے اسے دنیا کہ رحم و کرم پے ؟
کیا وہ نہیں جانتے تھے اس ظالم دنیا کو ؟ کیا وہ کسی کا گناہ ہے ؟ یا کسی پے ہوے ظلم کی داستان ہے، یہ بات تو صرف پاپا ہی جانتے تھے اور وہ کیسے پوچھتی ان سے کتنا چاہتے تھے وہ اسے.
وہ درد کی انتہا پے تھی… سرد درد سے پھٹا جا رہا تھا. اس کو دیکھ کے کو بھی اس کی حالت جان سکتا تھا. اس وقت جو وہ تکلیف محسوس کررہی تھی وہ لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی. ایسا لگ رہا تھا. اسے کہیں دور کسی جزیرے پے چھوڑ دیا گیا ہے. بےیارومددگا… کسی نے اس کے پورے جسم پے چاقو سے کٹ لگا دیے ہیں.. اور اب ان میں سے خون بہہ رہا ہے اور خون کی ہر بوند کے ساتھ اس کی جان بھی نکل ری ہے آہستہ آہستہ… اس پی نداردی چھا گئی وہ اپنی جگہ سے حل بھی نہیں پا رہی. خون بہنے کی وجہ سے کیڑے مکڑو آنے لگے ہیں.. اب کیڑے اس کے جسم پے رینگ رہے ہیں… ان کے رینگنے کی سنسناہٹ وہ اپنے جسم پہ محسوس کر سکتی تھی پر انھیں ہٹا نہیں پا رہی تھی. اس کا جسم ان کیڑوں کی خوراک بن رہا ہے… آہستہ آہستہ وہ اس سے نوچ رہے ہے پر یہ تکلیف اس کے دل میں اٹھنے والی تکلیف کے آگے کچھ بھی ہے… اسے سانس لینا مشکل لگ رہا تھا…
وہ رونا چاہتی تھی..
چیخنا چاہتی تھی.. چلانا چاہتی…
لیکن شدت غم سے وہ نڈھال ہو رہی تھی. اس کے آنسو جیسے خشک ہو گئے تھے.آواز نے ساتھ چھوڑ دیا تھا. دماغ کی نسیں ایسے تنی تھیں جیسے ابھی ان میں دھماکے ہونے لگیں گئے….
……………………………………………………….
وہ یونیورسٹی آگئی تھی پر کیسے آئ تھی، یہاں تک سفر اس نے کیسے تہہ کیا، یہ نہیں جانتی تھی. ابھی تک اس کے کانوں میں صرف ایک آواز گنج رہی تھی اور وہ آواز تھی می جانی کی…. وہ کلاس میں جانے کے بجائے لائبریری کی پچھلی طرف آگئی تھی… یہ جگہ کافی سنسان تھی اس لئے اکثر وہ یہاں پائی جاتی تھی یہاں خاموشی سے بیٹھ کے پڑھنے کا موقع مل جاتا تھا لیکن ابھی وہ اپنی کیفیت چھپانے کے لئے یہاں آئ تھی، فلحال اس میں کسی کا بھی سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں تھا. وہ نہیں چاہتی تھی کہ زارا، مہک یا صبا اس کوایسے دیکھیں اور کوئی سوال کریں وہ کیا بٹے گی انھیں ؟؟ اس سے بہتر تھا وہ یہاں بیٹھے.. تاکہ کسی کی بھی نظروں کا سامنا نہیں کرنا پڑے. اور اس وقت چھپنے کے لئے یہی سب سے اچھی جگہ تھی. وہ پلر سے ٹیک لگاے آنکھیں بند کر کے بیٹھی، اب سے کچھ دیر پہلے ہونے والے واقعے کو سوچ رہی تھی تبھی کسی نے پیچھے سے اکر اس کے منہ پے رومال رکھا… اس سے پہلے کہ وہ کوئی مزاحمت کرتی رومال میں بسے کولوروفوم نے ہوش کی دنیا سے بیگانہ کر دیا تھا. اب وہ لوگ اسے گاڑی میں ڈال کر یونیورسٹی کے پچھلے راستے سے باہر لے جا رہے تھے.
………………………………………………….
آج اس کا آفس میں پہلا دن تھا. وجی بھائی اسے اپنے دوست عمیر سے ملوا کے جا چکے تھے. عمیر بھی بہت اچھے تھے بلکل وجی بھی جیسے نرم مزاج لیکن مثلا یہ تھا کہ اس کمپنی کے دو مالک تھے ایک عمیر اور دوسرا عثمان. یہ بات اسے عمیر نے ہی بتائی تھی. یہ کوئی روایتی جاب نہ تھی اس لئے اس کا انٹرویو تو ہوا نہیں تھا. عمیر نے اسے کام سمجھا دیا تھا اور ساتھ میں آفس کا فون بھی دے دیا تھا تا کے کوئی مثلا ہو تو وہ کال کر کے پوچھ سکے. یہ آفس اسسٹنٹ کی جاب تھی. یا دوسرے لفظوں میں سکیٹری کی جاب کہا جا سکتا ہے اس لئے کا زیادہ تر واسطہ باس سے ہی پڑنے والا تھا. عمیر بھی کو دیکھ کے اسے کافی تسلی ہوئی تھی پر دوسرا باس وہ ابھی تک نہیں ملا تھا پر عمیر نے اس سے کافی حوصلہ دیا تھا. اسے آفس کا ماحول بہت اچھا لگا تھا. ہار شخص اپنے آپ میں مگن اپنے کام کرتے پھر رہے تھے. وہ اپنی سیٹ پے آگئی تھی. جو باس کے روم کے باہر ہی لگی تھی، ایک کیبن کی شکل میں… اسے اپنی سیٹ بہت پسند آئ تھی. اس کے پیچھے کی دیوار پوری شیشے کی تھی جہاں سے مین روڈ صاف دکھائی دیتا تھا. عمیر باہر گیا تھا اس سے مانا کر کرے کہ کوئی بھی بلا ضرورت اندر نہ جائے..اس کے جانے کہ بعد کرنے کے لئے کچھ نہ تھا اور اس وقت اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ شانزے کی وجہ سے بہت پریشان تھی. اگر کوئی اور دن ہوتا تو، اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوتا پر ابھی… ابھی وہ کوئی خوشی محسوس نہیں کر رہی تھی دماغ میں صرف ایک بات تھی شانزے… اس کی پیاری بہن اسے تائی اماں سے دل سے نفرت محسوس ہوئی تھی… اور اپنی ماں کے بولنے کا افسوس تھا. تائی اماں تو ہمیشہ سے ایسی ہی تھیں پر می جانی وہ تو ایسی نہ تھی تو پھر کیوں انہوں نے سب کے سامنے شانزے کو اتنا سب کچھ کہ دیا… وہ ابھی دیھڑوں سوچنا چاہتی تھی لیکن تبھی کوئی اس کے سامنے سے گزرا…
ایکسٹیوز می… کس سے ملنا ہے آپ کو..؟؟ شانزے نے اس کے پیچھے جا کر روکا تھا.
محترمہ میرا نام…
میں نے آپ کا نام تو نہیں پوچھا… اریزے نے منہ بناتے بولا.
آپ شاید نئ آئ ہیں تبھی مجھے نہیں جانتی.. میں…
ہاں !! میں نئی آئ ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کے آپ مجھے بیواقوف بنا کر اس طرح آفس میں گھسے چلے آیئں گئے. آپ کو پتا ہے نہیں ہے کہ کسی آفس میں جانے سے پہلے اس کی اجازت لیتے ہیں ؟ یا کم از کم انفارم کرنا چاہیے.. اس نے بات کاٹی.
اوکے فائن !! مجھے عمیر سے ملنا ہے.. وہ کہتا روم کیطرف بڑھا تھا کہ وہ پھر سے سامنے آگئی آپ کو میری بات سمجھ نہیں ای ؟ آپ اندر نہیں جا سکتے…
ایکسٹیوز می…. کیا کہا آپ نے.. اس کو سچ میں جھٹکا لگا تھا..
آپ اونچا سنتے ہیں کیا ؟ کتنی بار کہوں ؟ میں نے کہا آپ اندر روم میں نہیں جاسکتے… اریزے نے اس کو بیچارگی سے دیکھا تھا.
کیوں ؟؟ لمبا قد.. صاف ستھرا رنگ… ڈارک بلو سوٹ میں وہ جو بھی تھا لا جواب تھا اریزے نے دل میں اطراف کیا. ماتھے پے بل اور آنکھوں میں حیرانی لئے وہ اس سے ہی دیکھ رہا تھا.
دیکھیں… عمیر سر اپنے روم میں نہیں ہیں اور ود آوٹ پرمیشن میں آپ کو اندر نہیں جانے دوں گی… اریزے نے اٹل لہجے میں بولا. اب وہ دلچسپی سے نازک سی لڑکی کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا.. گندمی رنگ.. لائٹ براؤن آنکھیں.. کالے بال… سلیقے سے ڈوپٹہ لئے.. وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی.
آپ ایسے کیا دیکھ رہے ہیں… اریزے کو اس کے ایسے دیکھنے پے غصہ آیا تھا.
آپ نے تو کہا دیکھیں… اب اسے شرارت سوجھی تھی، جبکہ اریزے جھینب گئی تھی.
وہ..وہ … اصل میں.. وہ میرا.. مطلب تھا… اریزے کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا بولے، آپ یہاں بٹھئیں میں سر سے پوچھتی ہوں. وہ کہتی چلی گئی تھی. جبکہ اس نے اپنی ہنسی دبائی تھی وہ نہیں چاہتا کہ پہلے دن ہی وہ پریشن ہو جائے.
اریزے نے عمیر کو کال ملائی.. جو دوسری طرف سے اٹھا لی گئی تھی. سر کوئی آپ سے ملنے آیا ہے.. وہ سیدھا آپ کہ روم میں جا رہا تھا بہت مشکل سے روکا ہے.. اس نے پوری بات ایک سانس میں کی… جبکہ کنکھیوں سے وہ اس سے ہی دیکھ رہی تھی جیسے وہ کوئی چور ہو.
کون ہیں ؟ کوئی کلائنٹ ؟
سر ! یہ تو میں نے پوچھا ہی نہیں..
اوکے !! آپ نام پوچھو کون ہیں..
ایک منٹ سر…
سنیں.. وہ جو فون میں مگن تھا.. اس کی آواز سن کے بھی مگن رہا…حالانکہ وہ اسے بار بار اس کی طرف دیکھتا ہوا دیکھ چکا تھا. نہ جانے کیوں پر اسے اس کا سنیں کہنا بہت اچھا لگا تھا… اس لئے وہ انجان بنا رہا.
سنیں.. سنیں میں آپ سے بول رہی ہوں.. اریزے نے اس کے سامنے کھڑے ہوتے کہا.
جی بولیے.. اس نے فون سے نظر اٹھاتے دیکھا.
آپ کا نام کیا ہے…؟؟ اریزے کہ چہرے پے جھجلاہٹ تھی.
عثمان میر… سکون سے جواب دیا گیا…
اوک.. وہ جانے کے لئے موڑی ہی تھی کہ روک گئی. عثمان میر… اس نے زیرے لیب نام دھورایا نہیں میرے کان بج رہے ہیں اس نے خود کو تسلی دی…. اس لئے وہ اس کی طرف موڑی، عثمان میر …؟؟ اس نے کنفرم کیا تھا.. جواباً ہاں میں سر ہلایا گیا اریزے کو لگا اس کے پاؤں زمین میں دھنس گئے ہیں. سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ہی وہ پہچان گئی تھی کہ یہ وہی عثمان ہے اس کا دوسرا باس… شانزے کے منہ پے بارہ بجے تھے..
فون شاید کٹ کر دوبارہ کیا گیا تھا تبھی بج رہا تھا پر اریزے تو جیسے ہوش میں ہی نہیں تھی تبھی وہ آرام سے چلتا اس کے پاسس آیا اس کے ہاتھ سے فون لیتا چلا گیا… اریزے کو جیسے ہوش آیا تھا.. اور اب سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے پہلے ہی دن اتنا برا تاثردیا تھا اس نے.
………………………………………………
اریزے کو اب ایک اور پریشانی نے آ گھیرا تھا. اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اب کیا کرے سوری بولے یا نہیں..
اگر اس نے سب کچھ عمیر کو بولا تو اسے کتنی شرمندگی ہوں تھی کچھ تھا وہ اس کے بھائی کا دوست تھا اور وہ نہیں چاہتی تھی کے عمیر سے ہوتی یہ بات وجھی بھی تک پہنچے. اس لئے وہ عمیر کے روم کی طرف گئی جہاں وہ بیٹھا تھا.
اندر سے کافی غصے میں بولنے کی آوازیں آرہی تھی. اریزے مزید پریشان ہوئی اس سے پہلے کہ وہ پلٹتی عثمان کی آواز نے روک دیا.
جی بولیے کچھ بولنا تھا آپ کو…
وہ… میں… وہ… درصل میں آپ سے… اسے سمجھ نہیں آرہا تھا بات کہاں سے شروع کرے.
اب آپ کچھ بولیں گی…یا یوں ہی میرا وقت ضائع کرتی رہیں گی ؟؟؟؟ عثمان کا غصہ ابھی بھی برقرار تھا.
شانزے کو شرمندگی ہوئی تھی سوری سر فور بوتھ. وہ روکی نہیں کہتی چلی گئی تھی.
جبکہ عثمان کو پچھتاوا سا ہوا تھا. وہ پاپا کا پتا نہیں لگا سکا اس بات کا غصہ تھا خام خا اس بیچاری پے نکل دیا تھا..
وہ اس کے کیبن کی طرف گیا تو وہ کسی کام میں بزی تھی.
اریزے اس کو دیکھ کے کھڑی ہوئی جی سر کچھ چاہیے آپ کو.. چہرے پے ابھی شرمندگی کا تاثر تھا. عثمان کو اپنے رویے پہ شرمندگی ہوئی. یہ ڈرائیو آپ عمیر کو دے دیجئے گا یاد سے. وہ جو اس سے سوری کہنا چاہتا تھا، ایک نظر اس پے ڈالتا باہر چلا گیا. جبکہ اریزے نے سکھ کا سانس لیا.
………………………………………………………
اس وقت وہ شہر کے تھرڈ کلاس علاقے میں کھڑے تھے. درد کی ایک شدید لہر ان کے اندر اٹھی تھی. تو وہ یہاں کہیں رہتی ہے. وہ جو کابھئی ذرا سی ڈسٹ برداشت نہیں کرتی تھی تو یہاں اس مٹی کے ڈھیر میں رہ رہی تھی… ماضی کے سارے یادگار پل ان کی آنکھوں میں فلم کی طرح چلنے لگے تھے. حسین نے دکھ سے سوچا.. نہ جانے کیسی ہو گی کس حال میں ہو گی.. وہ سوچتے ہوے پتلی، تنگ گلیوں میں سے گزر رہے تھے. اور گلی ان کی تالیف میں اضافہ کر رہی تھی. تو تم یہاں ہو زینب سوچا نہیں تھا کہ وہ ایسی کسی جگہ ملے گی پر افسوس صد افسوس اور اس کے علاوہ حسین اور کر بھی کیا سکتے تھے وہ اس سے ملنے کی لئے بے قرار ہوے جا رہے تھے، ایک بار وہ مل جائے تو میں گزری ہار مصیبت کا ازالہ کر دوں گا بس ایک بار ایک بار وہ مل جائے میں واپس گھر لے جاؤں گا…
دل میں ہزاروں امیدیں لئے اب وہ ایک ایک شخض سے زینب کا پوچھ رہے تھے پر یہاں کوئی ایسا نہیں تھا جو زینب جانتا
ہوتا..
تھک ہار کے وہ واپسی جانے لگے کہ ایک آدمی نے انھیں آواز دی..
صاحب… صاحب جی وہ بھاگتا ہوا گاڑی تک آیا.. سنا ہے آپ کسی کو ڈھونڈ رہے ہیں اس نے ہاںپتے ہوے بولا.
ہاں پر تمھیں اس سب سے کیا مطلب ؟؟ حسین کی تیواری چڑی تھی.
میں، میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں.. میرا نام.. اسلم… اسلم ہے… اس بستی میں ہی رہتا ہوں. وہ ابھی تک ہاںپ رہا تھا.
لیکن کیوں ؟؟ حسین کو کچھ کھٹکا تھا.
صاحب اس کے بدلے آپ میری کچھ مدد کر دینا..
حسین اس کا مطلب اچھے سے سمجھ گئے تھے، اس لئے جیب سے ہزار ہزار کے کئی نوٹ نکل کر دیے، کیوں کے پچھلے ایک ہفتے سے وہ اس بستی میں خور تھے پر ابھی تک کوئی سرا ہاتھ نہ آیا تھا جسے کچھ پتا چلتا.
اس کا نام زینب ہے… اور یہ میرا فون نمبر ہے.. جتنا جلدی میرا کام کرو گئے اتنا ہی زیادہ انعام پاؤ گئے..
وہ آپ کی ہے کون ؟ کوئی نشانی ؟ اس آدمی نے نام سنتے بولا.
تمھیں اس سے کی مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ یہ کون ہے اور ڈیٹیل میں تمھیں فون پے دے دوں گا.
حسین کہتے گاڑی میں بیٹھے اور سپیڈ میں وہاں سے نکل گئے…
…………………………………………………..
گاڑی شہر سے ہوتے ہوے اس سنسان سے راستے پے تھی جو سمندر کی طرف جاتا تھا..
گاڑی ہاکس بے کی طرف لے لو، ڈرائیور کو ہدایت ملی.
شانزے ابھی تک کولوروفوم کے زیرے اثر تھی. ڈرائیور کے اچانک ٹرن لینے سے وہ سائیڈ پے لڑکھڑائی اس سے پہلے کہ اس کا سر ونڈو میں ٹکراتا، گردن کے پیچھے سے اپنا ہاتھ نکال کر یوسف نے ونڈو اور اس کے سر کے درمیان اپنا ہاتھ کر دیا جس کی وجہ سے سر یوسف کے ہاتھ سے ٹکرا گیا.
یار اب آگے کیا کرنا ہے اٹھا تو لاے ہیں اسے.. محسن جو ایک گھنٹے سے ڈرائیو کر رہا تھا اکتاتے ہوے بولا…
وہ میں نے ابھی سوچا نہیں.. اس کے مقابلے یوسف خاصا مطمئن تھا.
تبھی شانزے لڑکھڑا کر اس کے کندھے پے گری… ایک تو اسے سکوں نہیں کبھی یہاں گرتی ہے.. کبھی وہاں.. یوسف جو اسے سمبھال سمبھال کے تنگ آگیا تھا اس لئے جھنجھلاتے ہوے بولا. عمرکو پوچھا.
بس روک جاؤ وہ رہا ہٹ… گاڑی یہیں روکو… عمر نے محسن کو بولا.
اب وہ اس کو گاڑی سے نکال کر ہٹ میں لے آے تھے.
چل پاوں باندھ اس کے یوسف نے رسی محسن کی طرف اچھالی.
ابے پاگل ہے کیا آرام سے باندھ کہیں کچھ ہو نہ جائے اس کو. عمرنے محسن کو ڈرایا.
ارے ہاں !! میں ایسا کرتا ہوں رسی ڈھیلی کر دیتا ہوں..
تم دونوں پاگل ہو کیا ؟؟ یوسف نے حیرت سے دیکھا.
تو وہ چھوڑ اس کی آنکھوں پے پٹی باندھ ورنہ ہم تینوں پھسیں گئے. عمر کافی ڈر ہوا تھا.
اوے آرام سے کہیں اٹھ نہ جائے محسن نے پٹی باندھتے یوسف کو الرٹ کرنا فرض سمجھا.
یار !! یوسف کتنا کولوروفورم سنگھایا تھا یہ اٹھ کیوں نہیں رہی.. عمر نے نیا خدشہ ظاہر کیا.
چپ ہو جا… نام کیوں لے رہا ہے. اور بات تو ایسے کر رہا ہے جیسے ہم پروفیشنل کڈنپرز ہیں مجھے کیا پتا کتنا تھا میرا بھی یہ پہلا تجْربہ ہے. یوسف گھورتے ہوے بولا.
تو کیا ضرورت تھی کدنپینگ کی ؟ اور کیا ہے یہ سب ؟ عمر نے بھی جواباً گھورا تھا.
کون.. کون ہے.. شانزے کو ہوش آنے لگا تھا…
ssshhhhh یوسف نے منہ انگلی رکھتے خاموش ہونے کا اشارہ کیا…
محسن، عمر دونوں گڑبڑا گئے تھے.
کون ہو تم لوگ.. کیوں لاے ہو مجھے یہاں…. ہیلپ…. کوئی بچاؤ مجھے… کہاں ہوں میں… اب وہ چلا رہی تھی. شانزے اب پوری طرح ہوش میں تھی. یوسف نے اپنی جیب میں سے رومال نکالا اور اس کہ منہ پے باندہ دیا. اور اب اس کے ہاتھ پیچھے کی طرف باندھ رہا تھا تبھی شانزے نے اس کا ہاتھ پکڑا. اس کے ہاتھوں کی نمی یوسف نے محسوس کی تھی اس کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی.. نہیں میں اب تمھیں نہیں چھوڑ سکتا اگر تم نے دیکھا لیا تو پتا نہیں کیا ہو گا اس نے دل میں سوچا تھا. وہ تینوں اب گاڑی میں بیٹھ گئے تھے. کہ یوسف گاڑی سے اترا اور چیزیں نکالنے لگا.
اوے ! اب کہاں ؟؟ محسن نے اس کی حرکت کا خاصا نوٹس لیا.
یار یہ کچھ کھانے پینے کا سمان وہاں رکھ دیتے ہیں پتا نہیں کتنی دیر میں کوئی آے اس سے بچانے…
واہ رے ولن!! یہ تو ہیرو کس ٹائم میں بن گیا ؟؟ بٹیا نہیں پکنک کا بھی پروگرام ہے. محسن نے غور سے یوسف کی بدلتی حالت نوٹ کی.
بکواس نہ کر ٹھیک ہے مجھے اس کو سبق سیکھانا ہے پر اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کے میں اسے بھوکا پیاسا مار دوں.. وہ کہتا دوبارہ ہٹ کی طرف بڑھ گیا تھا.
شانزے ابھی تک شور کررہی تھی.. خاموش شور مت کرو..اسکی دبی دبی آواز پے یوسف نے آواز بدل کے بولا..
یہ پیزا اور کولڈرنگ پی لینا اور چلاو مت ایسا نہ ہو کے کتے تمہاری آواز سن کہ ڈر جائیں.. میرا مطلب ہے آجائیں اور اگر انہوں نے تمہیں کاٹ لیا تو زمیدار تم خود ہو گی یوسف نے اسے ڈراتا چلا گیا تھا…
چلو چلتے ہیں… ایسے کیا گھور رہے ہو دونوں.. میں کوئی اس سے پیسے نہں لوٹنے والا.. اس نے عمر اور محسن کو گھورتا دیکھ کے بولا.
پیسے نہیں لینے تو پھر کیا کرنا ہے تو کوئی چیپ حرکت تو…
شٹ اپ… میں صرف سبق سکھانا چاہتا ہوں.. یوسف نے محسن کو ملامتی نظروں سے دیکھا.
اور اگر کچھ ہو گیا تو ؟؟ عمر نے اپنا خدشہ ظاہر کیا..
کچھ نہیں ہو گا یہاں پاسس مچھیروں کی بستی ہے کوئی نہ کوئی اکر مدد کر دے گا…
اب چلو بھی اس نے محسن کو پچھلی سیٹ پے بیٹھتے بولا…
گاڑی چل پڑی تھی یوسف نے ایک نظر ہٹ کی طرف دیکھا اور پھر گلاسسیس پہن لئے… جیسے اس کی آنکھوں سے دل کی حالت ظاہر ہونے کا خدشہ ہو. لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھا محسن نے اس کی آنکھوں کے بدلتے تاثرات دیکھ لئے ہیں. گاڑی اب سمندر کی حدود سے نکال آئ تھی. لیکن ایک بے چین سی خاموشی تھی جس نے ان تینوں کو گھیر رکھا تھا. یوسف کو بار بار شانزے کی آوازیں آرہی تھیں جو اس کی بے چانی میں اضافہ کر رہی تھیں حالآنکہ اس سے خوش ہونا چاہیے تھا کہ اس نے بدلہ لے لیا پر وہ خوش نہیں تھا. لیکن اب وہ واپس نہیں جا سکتا تھا.
………………………………………….
شانزے نے اب کوشش کرنا بند کر دیا تھا وہ سمجھ گئی تھی کہ آسس پاسس کوئی نہیں لیکن ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصرتھی کہ یہ لوگ کون ہیں اور اس یہاں کیوں لاے ہیں. دیوار سے ٹیک لگاے وہ مصروف جنگ تھی جب اس کے کانوں سے بھدی سی آواز ٹکرائی… ابے دیکھ لڑکی.. کسی نے اس کی آنکھوں سے پٹی کھولی تھی…
شانزے بے یقینی سے سامنے کھڑے تین مستنڈوکو دیکھ رہی تھی عجیب کالے کالے سے گندے کپڑے پہنے وہ لوگ بہت خوفناک لگ رہے تھے…ان کی آنکھوں کی گندی چمک شانزے کا خون خشک کرنے کی لئے بہت تھی…
……………………………………….
وہ نہ چاہتے ہوے بھی شانزے کو سوچے جا رہا تھا. تھک ہار کر اس نے آنکھیں بند کر بیک سیٹ سے سر ٹیکا لیا تھا… شانزے کا چہرہ اس کی آنکھوں میں گھوم گیا تھا.. وہ آنکھیں کھول کے باہر دیکھنے لگا. ایک بے چینی سی تھی وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا… وہ تینوں خاموش تھے کوئی بھی کسی سے بات نہیں کر رہا تھا.. ایک عجیب سناٹا طاری تھا موت کا سانٹا اور بلاخر اس سناٹے کو یوسف نے توڑا تھا…
گائز… ائی تھنک میں نے غلطی کر دی ہے… وہاں ایسے اکیلے نہیں چھوڑنا چاہیے تھا…
وہ دونوں اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے اور وہ کسی ٹرانس کی کفیت میں بولتا چلا جا رہا تھا…
مجھے لگتا ہے مجھے واپس جانا چاہیے… اس نے گویا دھماکہ کیا تھا. کم از کم عمر کو تو یہی لگا تھا. جبکہ اس کی بات پے محسن نے بھی گاڑی کو بریک لگائی تھی.
تیرا دماغ خراب تو نہیں ہو گیا تو واپس جائے گا.. تو جانتا ہے تیرے واپسی جانے سے کیا ہو گا..؟؟ عمر پریشان ہو گیا تھا.
ہاں جانتا ہوں. پر میں اتنا بے حس کیسے ہو سکتا ہوں ؟ کیسے اسے چھوڑ کے جا سکتا ہوں.
یہ سب پہلے سوچنا چاہیے تھا.. اب بہت dair ہو چکی ہے.. ہم واپس نہیں جائیں گئے بس.. تو جانتا ہے اسے ایک فسادی لڑکی ہے وہ… وہ لازمی کوئی فساد کھڑا کرے گی. عمر نے اسے سمجهانے کی کوشش کی..
کچھ بھی ہو مجھے اس کی پرواہ نہیں… میں اسے چھوڑ کے نہیں جا سکتا… وہ جو سزا دے گی مجھے منظور ہے.. پر میں ایسے نہیں جا سکتا.. شاید وہ عمر کی باتیں نہیں سن رہا تھا تبھی ایک ہی راگ آلاپ رہا تھا..
تو سمجھ نہیں رہا ہے میری بات.. عمر چیخا تھا تکریباً…
میں سمجھ رہا ہوں یار… یوسف کی آواز میں اتنی بیچارگی تھی.
میرا خیال ہے یوسف ٹھیک کہ رہا ہے. اس کی بیچارگی کے دیکھ کے محسن سے رہا نہیں گیا وہ جو کافی دیر سے ان کی بحث سن رہا تھا آخرکار بول ہی پڑا. چل شانزے کو لے کے آتے ہیں. یوسف نے تشکر نگاہوں سے اسے دیکھا تھا.
نہیں میں خود جاؤں گا تم دونوں واپس جاؤ. یہ مثلا میں نے بنایا ہے تو حل بھی میں ہی کروں گا. یوسف نے اس کے کندھے پے ہاتھ رکھا.
ٹھیک تو گاڑی لے جا اس نے چابی یوسف کو دی.. فکر مت کر ہم لوگ چلے جائیں گئے ویسے بھی کریم والے کس دن کام آیئں گئے. محسن نے اس کی آنکھیں میں چھپا سوال پڑھ لیا تھا تبھی اس کو حوصلہ دیتے بولا.
یوسف نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا وہ سچ میں اس کا بہترین دوست تھا. وہ گاڑی لے کے واپسی کی طرف موڑا تھا.
………………………………………………..
کون ہو تم لوگ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا…
واہ ری قسمت ہم تو چوری کر کے بھاگے تھے اور یہاں تو خزانہ ہاتھ لگ گیا.. وہ تینوں آپس میں مگن تھے تبھی اس کی بات کا جواب نہ دیا…
اتنے میں ایک آدمی زمین پے شانزے کے پاسس بیٹھا اور اس کے پاؤں پے ہاتھ پھیرنے لگا…
شانزے کو اس کا ہاتھ پھیرنا عجیب خوف میں مبتلا کر رہا تھا.. دیکھو مجھے جانے دو پلیز… اس آدمی کی گندی نظروں سے شانزے کو ابقائی آنے کو تھی.. پلیز میں ہاتھ جوڑتی ہوں شانزے نے اپنے بندھے ہووے دونوں ہاتھ اس کے آگے جوڑے جہاں اس نے جھپٹ کر پکڑا.. شانزے کرنٹ کہا کے پیچھے کی طرف ہٹی تھی.. وہ آہستہ آہستہ کھسک کے پیچھے ہو رہی تھی اور وہ آدمی اس کہ قریب اتا جا رہا تھا…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: