Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 8

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – قسط نمبر 8

–**–**–

قدرت کا انصاف بھی عجیب ہی ہے… انسان جس شہہ یا شخض سے دور بھاگتا ہے قدرت بار بار انسان کو ان کے ہی مقابل کھڑا کرتی ہے.
کبھی محبت کے احساس کے ساتھ تو کبھی نفرت کے احساسات لئے..
احساس اگر نفرت کا ہو تو انسان کبھی نہ کبھی، کس کسی نہ طرح چھٹکارہ حاصل کر ہی لیتا ہے…
لیکن احساس محبت کا ہو تو وہ کسی طور چین نہیں لینے دیتا.. نہ دور رہ کے نہ پاسس رہ کے…
تو پھر یوسف کو اتنی جلدی چھٹکارہ کیسا مل جاتا ابھی ابھی تو محبت کا انکشاف ہوا تھا….
محبت اتنی آسان بھی نہں ہے جتنا کے خیال کیا جاتا ہے بڑے بڑے لوگوں نے جان کی بازی ہاری ہے اس سفر میں..
بڑاعجیب سفر ہے محبت کا…
اس راستے پے چلتے بہت لوگوں کے پیر… جسم، حتکہ روح تک لہولوہان ہو گئی… لیکن پھربھی منزل نہ ملی… کچھ راستے میں کہیں گم ہو گئے…کچھ بےنام و نشان تو کچھ کہانیاں بن کے….
اور یوسف اس نے تو ابھی سفر شروع ہی کیا ہے اور وہ بھی اکیلے… نہ جانے آگے کتنی مشکلات کا سمانا ہے… جانے قسمت میں کیا لکھا… منزل ملتی ہے.. یا بے نام ونشان ہونا…. یا پھر کسی افسانے میں ڈھالنا ہے…. یا خاک میں ملنا ہے… یہ تو وقت نے ہی تہہ کرنا ہے… لیکن اس وقت وہ یہ سب کہاں سوچ رہا تھا… اس وقت اسے صرف ایک خیال تھا شانزے جو اس کے سامنے بےجان سی حالت میں پڑی تھی.
یوسف نے شانزے کو باہوں میں اٹھایا اور بغیر دیر کیے اپنی گاڑی کی طرف آیا…
شانزے کو فرنٹ سیٹ پے بیٹھا کر خود زمین پے پنجوں کے بل بیٹھ کراس کے ہاتھ سہلانے لگا…
شانزے پلیز آنکھوں کھولو… پلیز… شانزے تمہیں کچھ نہیں ہو سکتا…
اب وہ بار بار اس کے چہرے کو تھپتھپا رہا تھا. پر وہ رسپونس نہیں کر رہی تھی.
آئی ایم سوری… شانزے میں تو صرف تھوڑا ڈرانا چاہتا تھا.میں نے نہیں سوچا تھا، یہ سب ہو سکتا ہے. وہ مسلسل اپنی صفائی دے رہا تھا جبکہ شانزے ابھی تک بیہوش تھی… اور یوسف گہرے پچھتاوے کی لپٹے میں….
اس کی نظر گاڑی میں رکھی پانی کی بوٹل پے پڑی..یوسف نے تھوڑا سا پانی شانزے کے منہ پے پھنکا…
طریقہ کام کر گیا تھا وہ ہوش میں آگئی تھی…. جانے لحمے گزرے تھے یا صدیاں.. یوسف کے لئے تو صدیاں ہی تھیں. تبھی اس نے سکون کا سانس لیا… شانزے ہوش کی دنیا میں لوٹ آئ تھی پر پوری طرح سے آنکھیں کھولنے کی کوشش میں اس کی آنکھوں کے پپوٹے بہت بھاری ہو رہے تھے. جیسے کسی نے اس کی لمبی گھنی پلکوں کے ساتھ پتھر باندھ دیے ہوں. اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا. اور جسم کا جوڑ جوڑ دکھ رہا
تم ٹھیک ہو… ؟؟ یوسف نے اس کی کالی گہری آنکھوں میں دیکھا تھا…
ہاں.. میں ٹھیک ہوں.. پر وہ…وہ… وہ لوگ ….
ریلکس شانزے وہ لوگ جا چکے ہیں.. یوسف نے اس سے تسلی دی تھی.
اگر وہ واپس آگے تو.. شانزے ابھی بھی پریشان تھی…
میں ہوں نہ… یوسف نے اس کے گال پے ہاتھ رکھ تھا…. جبکہ شانزے کچھ جھینپ سی گئی تھی.
پر تم.. یہاں کیسے آے.. شانزے کو ایک دم ہی خیال آیا تھا…
وہ.. میں.. اصل میں… یوسف کو کوئی جواب سمجھ نہیں آرہا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ شانزے کو سچ پتا چلے نہ جانے وہ کیا سمجھے… اتنے بڑے حادثے کے بعد وہ اس پے اعتبار کرے بھی یا نہیں… اور وہ بھی تب جب اس کے احساسات بدل گئے تھے. شانزے بہت غور سے اس کو دیکھ رہی تھی. وہ جواب کی منتظر تھی تبھی بات بدلنے کے لئے یوسف ادھر ادھر دیکھنے لگا اور نظر اس کے پاؤں کی چوٹ پے پڑی.
یہ تمہارے پاؤں میں کیا ہوا… یوسف نے اس کے پاؤں کی طرف اشارہ کیا جہاں سے خون نکل رہا تھا. اس نے شانزے کا پاؤں پکڑ کر اپنے گھٹنے پے رکھا. شانزے کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا. کیا یہ وہی یوسف ہے جو ہر قدم اس سے چوٹ پہنچانے کی کوشش کرتا رہا تھا. شانزے کو اپنے دل کی دھڑکن تیز ہوتی سنائی دی تھی. اس نے خود پے قابو کرنے کے لئے اپنے دل پے ہاتھ رکھا. وہ سب کچھ بھول کر اس کو دیکھنے لگی تھی جو بہت غور سے کسی ماہر ڈاکٹر کی طرح اس کے پاؤں کے زخم کو دیکھ رہا تھا. یوسف نے زخم والے حصے کو دبایا. ایک چیخ شانزے کے منہ سے نکلی تھی. اس نے اپنا پاؤں کھنچنے کی کوشش کی لیکن یوسف کی گرفت کافی مضبوط تھی.
پاؤں میں کانچ کا ٹکڑا ابھی تک گھسا ہوا ہے. تھوڑا درد تو ہو گا ورنہ چلنے مشکل ہو گی. یوسف نے شانزے کو بتایا اور ساتھ ہی زخم والے حصے کو دبا کر جھٹکے سے کانچ کا ٹوکرا نکالا درد کی ایک شدید لہر شانزے کو اپنے پورے جسم میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی تھی. بے اختیار اس نے یوسف کا بازو پکڑا تھا. جبکہ یوسف نہایت اطمینان سے اپنا رومال اس کے پاؤں پے باندھ رہا تھا جیسے یہی اس کا پسندیدہ مشغلہ ہو. پاؤں سے فارغ ہوا تو شانزے کے ماتھے پے لگی چوٹ نے اس کی توجہ اپنی طرف موڑ لی.غصے کی لہر اس میں اٹھی تھی پر کیا کر سکتا ہے.. یہ سب اس کا اپنا کیا ہے. دل میں خود کو سلوٹیں سناتے یوسف نے شانزے کا چہرہ اپنی طرف کیا، اب وہ اس کے ماتھے کی چوٹ دیکھنے میں مصروف تھا.. شانزے کی ہارٹ بات مس ہوئی تھی. عورت چاہے جتنی بھی لا پرواہ کیوں نہ ہو پر اپنی طرف اٹھنے والی نظروں کو بآسانی پہچان لیتی ہے. یوسف کی ہر ادا فلحال شانزے کے لئے امتحان بنی ہوئی تھی. پر وہ کوئی خوشفہمی نہیں پالنا چاہتی تھی اور یوسف سے تو کبھی نہیں.
میرا خیال پہلے ڈاکٹر چلتے ہیں پھر میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دوں گا. چوٹ زیادہ گہری نہیں تھی. یوسف نے تسلی کرتے بولا.
میرے گھر…؟؟؟ یوسف کی بات پے شانزے چونک گئی تھی. اسے لگا وہ خواب سے جاگی ہے. کیا وہ گھر اس کا ہے ؟ صبح ہوئی ساری باتیں اسے یاد آنے لگی تھیں. فلحال اس کی حالت ایک مسافر جیسی تھی. ایک ایسا مسافر جس نے سامان تو باندھ لیا ہوتا ہے پر جانا کہاں ہے وہ ٹھکانہ نہیں معلوم ہوتا. شانزے کے معملات بھی ایسے ہی تھی. سامان تو بندہ لیا تھا پر نہ منزل کا پتا تھا نہ راستے کا. جب وہ صبح گھر سے نکلی تو پکا ارادہ رکھتی تھی گھر واپس نہ جانے کا. اس نے عہد کیا تھا خود سے کہ وہ اپنے ماں باپ کو ڈھونڈے گی. پوچھے گی ان سے کیوں اس طرح اسے کسی کے در پے چھوڑ دیا. وہ بتاے گی انھیں کے کیسے بار بار اس کی عزت نفس کو پامال کیا جاتا رہا ہے. پر اب اس وقت اس پے زندگی کی تلخ حقیقت واضح ہوئی تھی کہ اس پوری دنیا میں اس گھر کے علاوہ جو وہ چھوڑ آئ تھی کوئی جائے پناہ نہیں ہے. وہاں کتنی بھی تنگی صحیی پر وہ محفوظ ہے. کہاں ہیں آپ لوگ ہیں بھی یا نہیں.. ایک سسکی سی اس نے لی تھی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا تھا پر وہ رو کے خود کمزور نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے خود پے قابو پانے لگی. اور یوسف کے سامنے تو بلکل نہیں پہلی ہی وہ حالات سے بے قابو ہو کر ایک غلطی کر چکی تھی پر اب مزید نہیں کرنا چاہتی. اسے مضبوط رہنا تھا اپنے لئے اپنی عزت کے لئے.
یوسف نے حیرت سے اسے دیکھا تھا کچھ تھا شانزے کے چہرے پے پر وہ سمجھ نہیں پایا تھا لیکن کیا ؟؟ کیا وہ رو رہی ہے ؟؟ اس نے معذرت بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا پر کچھ بھی بول نہیں سکا… اور فلحال اس کے لئے یہی بہت تھا کہ شانزے اسے مل گئی وہ بھی صیحی سلامت اور فلحال وہ اپنا سوال بھی بھول گئی… یوسف گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا وہ جلد از جلد یہاں سے نکلنا چاہتا تھا. یہ جگہ ابھی بھی خطرے سے خالی نہیں تھی.
…………………………………
دروازے پے دستک ہوئی تھی… اسلم او اسلم دیکھ دروازے پے کون ہے. اماں نے اسلم کو آواز دی تھی پر وہ اٹھ کر نہیں آرہا تھا اور شاید دروازہ بجانے والا بھی آج تہیہ کر کے آیا تھا کے دروازہ کھلوا کہ ہی جائے گا. اماں نے بڑی مشکل سے دروازہ کھولا اور سامنے کھڑے شخض کو دیکھ کر حیران رہ گیں سوٹ بوٹ پہنے وہ کہیں سے بھی اس محلے کا نہیں لگ رہا تھا. اپنے حلیے سے وہ کافی پیسے والا لگ رہا تھا. کون ہو بیٹا کس سے ملانا ہے اماں نے بلاآخر پوچھ ہی لیا تھا.
اماں جی وہ مجھے اسلم سے ملانا ہے..
سلام صاحب آپ یہاں ؟؟ اس سے پہلے کہ وہ کوئی تفصیل بتاتے اسلم آگیا تھا.
ہاں مجھے تم سے کام کے بارے میں پوچھنا تھا.
اماں تم اندر جاؤ اور آمنہ کو بولو چاے بھجنے کا. اسلم نے ماں کو اندر دھکیلا اور دروازہ بند کر لیا. ہاں صاحب اب بولو…
پچلے کئی ہفتوں سے میں تمہیں پیسے دے رہا ہوں پر ابھی تک تم سے ایک کام نہیں ہوا آخر کتنا وقت لگے گا تمہیں زینب کو ڈھونڈنے میں.. حسین صاحب اسلم پے برسے تھے کیوں کے وہ ان سے معاوضے کے نام پر اب تک ہزروں روپے لے چکا تھا پر ابھی تک مطلب کی کوئی خبر بھی اس کے ہاتھ نہیں لگی تھی.
دیکھو سیٹھ مجھ پے غصہ ںا کرو کہا ںا کوشش کر رہا ہوں جلدی بتا دوں گا.
کتنے ہفتوں سے تم مجھے یہی کہانی سنا رہے ہو آخر کب بتاؤ گئے. اور کتنا انتیظار کرنا ہو گا مجھے ؟ حسین کا غصہ بھی آسمان سے باتیں کر رہا تھا. جبھی انھیں محسوس ہوا کہ دروازے کی دوسری طرف کوئی ہے جو چھپ کے ان کی باتیں سن رہا ہے. اسلم کی دروازے کی طرف پیٹھ تھی اس لئے وہ دیکھ ںا سکا تھا.
اگر جلدی ہے تو کسی اور کو بول دو یہ کام میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا. اسلم نے تنک کر کہا.
اس کی آواز پے حسین چونکے وہ جو ابھی تک دروازے کے پیچھے کھڑے شخض کی کھوج میں تھے لیکن سایا اب غائب ہو چکا تھا… ٹھیک ہے صرف اس ہفتے کا وقت ہے تمہارے پاسس ورنہ یہ کام میں کسی اور سے بھی کروا سکتا ہوں. حسین کہتے آگے بڑھے تھے جب اسلم نے انھیں آواز دی…
صاحب اس ہفتے کا چاے پانی ؟ اس نے اپنا کان کھجاتے ہوے کہا..
حسین نے اس سے تصوف سے دیکھا اور پھر جیب سے ایک لفافہ نکل کر دیا… یہ آخری ہے وہ اسے کہتے وہاں سے چلے گئے تھے…
اسلم لفافہ جیب میں ڈالے اندر آگیا تھا. اسلم کون تھا یہ صاحب اور وہ زینب کے بارے میں کیوں بات کر رہا تھا ؟؟ اماں نے اندر آتے اسلم سے پوچھا.
اماں ہو گا کوئی مجھے کیا پتا بس جب بھی ملتا ہے تو زینب کا پوچھتا ہے. اور پھر پیسے دے کے چلا جاتا ہے. اسلم نے ماں کے سامنے پیسے لہراے تھے….
تو پھر تو انھیں بتا کیوں نہیں دیتا زینب کے بارے میں… مجھے تو بڑا بھلا آدمی معلوم ہو رہا تھا بیچارہ کتنا پریشن لگ رہا تھا شکل سے بھی..
اماں تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا..؟؟ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کو ایک ہی دفع حلال کر دوں اسلم کا دل چاہا وہ اماں کی باتوں پے خوب ماتم کرے.
دیکھ بیٹا برے کا انجام برا ہوتا ہے. اماں نے اسے سمجھایا.
بس کر اماں آج کل کے دور میں تیرے یہ سبق کام نہیں آتے، کام آتا ہے تو صرف پیسہ. اسلم نے ہزار ہزار کے کئی نوٹوں سے خود کو ہوا دی تھی.
میرا خیال ہے اماں صیح کہ رہی ہیں آمنہ نے چاے کا کپ رکھتے ہوے ساس کی حمایت کی…
دماغ خراب ہے تم دونوں کا بہت پیسہ ہے اس کے پاسس تبھی ایک عورت کے پیچھے یوں لوٹا رہا ہے.. تم دونوں اپنی یہ انسانی ہمدردیاں اپنے پاسس رکھو مجھے ایسا کوئی بخار نہیں چڑھا… اور خبردار جو تم دونوں میں سے کسی نے اسے کچھ بتایا مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا.. وہ چاۓ کے کپ ٹھوکر مارتا باہر نکل گیا تھا جب کے اماں اور آمنہ ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گیں تھیں.
…………………………………
وہ دونوں اب شہر میں تھے… پورا راستہ گزر گیا تھا پر شانزے نے ایک لفظ بھی نہیں بولا اور نہ ہی یوسف ک ساتھ ہونے پے کسی قسم کا غصہ کیا نارمل حالات میں وہ یوسف کو ایک منٹ بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی. حالانکہ یوسف کو ایسا کوئی بھی لمحہ یاد نہیں تھا جب وہ ساتھ ہوں اور لڑائی نہ ہوئی ہو. پر ابھی وہ شانزے کو چھیڑنا افورڈ نہیں کر سکتا کیوں کے اگر شانزے کو پھر سے اپنا سوال یاد آگے تو اس بار اس سے بچنا ممکن نہیں ہو گا. یوسف خود ہی ہر بات کی قیاس آرای میں مصروف اس کی حالت سے بےخبر تھا وہ تو اپنے مسلوں میں الجھی تھی. جہاں سے نکلنا اس کے بس کی بات ہی کہاں تھی. لیکن سب میں وہ یہ بھول گئی تھی کہ اس کی نظریں یوسف کے چہرے پے جمی ہیں… اس کا اس طرح سے دیکھنا اس کو الجھا رہا تھا.
تم ٹھیک ہو ؟ یوسف اس کے اس طرح دیکھنے سے تنگ ہو رہا تھا اس لئے پوچھ بیٹھا.
ہاں مجھے کیا ہوا ہے..؟؟ شانزے نے بھی سوال کے بدلے سوال کیا..
کیا ہوا ہے ؟؟ یوسف کو اس کی دماغی حالت پے کچھ شعبہ ہوا تبھی ماتھے پے ہاتھ لگا کر چیک کیا نہیں بخار تو نہیں ہے تو کیا اس کی یاداشت…
تمہارا نام کیا ہے..؟ یوسف نے اچانک اسے پوچھا..
شانزے.. شانزے حسان… شانزے کو حیرت ہوئی تھی…
اچھا… تو پھر یہ بتاؤ تمہارا سبجیکٹ کیا ہے…؟؟ یوسف نے اگلا سوال کیا..
BSCS ، چوٹ میرے سر پے لگی ہے اثر موصوف کو ہوا ہے… تبھی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے، شانزے کو اس کی دماغی حالت پے شبہ ہوا تھا…
اوہو… لگتا ہے بیچاری کی یاداشت ایک محدوت ٹائم پیریڈ کے حساب سے چلی گئی ہے اپنے بارے میں پوچھتا ہوں میں یاد بھی ہوں یا نہیں، یوسف نے دل میں سوچا.. اچھا تو یہ بتاؤ میں کون ہوں ؟؟؟
تم… شانزے کی آنکھیں حیرت سے کھولی تھیں…
اوہ – تو میرا شک صیحی تھا.. یوسف نے پھر دل میں سوچا..
یوسف مثلا کیا ہے ؟ یہ کیسے بہکے بہکے سوال کر رہے ہو ؟ شانزے نے تنگ اکر پوچھا.
جوابن یوسف کا منہ کھولا کا کھولا رہ گیا تھا. اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا شانزے خود ہی بول پڑی. ایک منٹ کہیں تم یہ تو نہیں سوچ رہے کہ میری یاداشت چلی گئی ہے ؟؟ شانزے کڑی نظروں سے دیکھا..
وہ اصل میں… تم اتنی دیر سے کچھ بول نہیں رہی تھیں… نہ لڑ رہی تھیں.. تو مجھے لگا..
یو آر امپوسیبل… شانزے نے منہ بنایا…
وہ تو ہے.. یوسف نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی…
………………………………
آگے آپ.. شاہینہ اندر آتے حسین کو دیکھتے بولی. پر وہ بنا کچھ کہے اپنے روم کی طرف چلے گئے. شاہینہ پیچھے گیں وہ جانتی کہ حسین پریشان ہیں اور کس وجہ سے پریشان ہیں یہ بات بھی ان سے چھپی نہیں تھی. ان کے چہرے سے صاف ظاہر تھا.
کچھ پتا چلا زینب کا ؟
نہیں… وہ آدمی بس ہر ہفتے پیسہ لے لیتا ہے پر ابھی تک زینب کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکا.
تو آپ اس سے بات کیوں نہیں کرتے..؟
کی ہے پر کوئی فائدہ نی فلحال ہم اس کے رحم و کرم پے ہیں.
ہم پولیس کا سہارا لے سکتے ہیں. شاہینہ نے نیا راستہ دیکھایا تھا.
نہیں پولیس نہیں تم جانتی ہو پولیس والوں کو ںا جانے کیسے کیسے سوال ہوں گئے بات میڈیا میں میں چلی گئی تو وہ لوگ الگ جینا حرام کر دیں گئے. اور پھر زینب کا سوچو اس کی زندگی پے اس سب کیا اثر پڑے گا. نجانے وہ کن حالات میں ہو گی کن حالات سے گزری ہو گی.
پھر ہم کیا کریں گئے ؟ شاہینہ کے لہجے میں بھی پریشانی تھی.
فلحال میں کچھ نہیں کہ سکتا جو بھی الله کی مرضی ہے. ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں. اب چاہے وہ نواز دے یا خالی ہاتھ لوٹا دے. حسین نے ان کا ہاتھ تھاما تھا.
پر آپ کی اتنی کوشش کے بعد بھی تو کچھ حاصل نہیں ہو رہا. میں فکرمند ہوں آپ کے لئے آپ کی صحت دن با دن خراب ہوتی جا رہی ہے.
تم فکر نہیں کرو میں ٹھیک ہوں اور ویسے بھی کچھ حاصل ںا ہونے کے ڈر سے ہم اپنی جدوجہد روک تو نہیں سکتے ںا. تم جانتی ہو زندہ لوگوں کی پہچان ہے کوشش کرتے رہنا وہ مردے ہوتے ہیں جو روک جاتے ہیں ایک جگہ ٹھہر جاتے ہیں. مجھے الله پے پورا بھروسہ ہے. میں اپنی آخری سانس تک اس کو ڈھونڈنے کی کوشش کروں گا.
شاہینہ نے مسکرا کے دیکھا حسین ایسے ہی تھے ہربات میں کچھ ںا کچھ پازیٹیو ڈھونڈ ہی لیتے تھے وہ کبھی مایوس نہیں ہوتے تھے اور یہی ان کی پرسینلٹی کا سب سے خوبصورت پہلو تھا.
……………………………
وہ دونوں ہسپتال میں بیٹھے تھے. بینڈچ ہو چکی تھی. تبھی نرس انجکشن لے کر آئ. چلیں آستیں اوپر کریں. اس نے شانزے کو کہا.
واٹ… آر یو سیریس ؟؟ شانزے کے منہ سے باختیار نکلا تھا.
میرا خیال ہے چوٹیں آپ کو ہی لگیں ہیں اور جہاں تک مجھے معلوم آپ کی میری کوئی دوستی نہیں تو مذاق کا سوال ہی نہیں اٹھتا اور اس حساب سے میں بلکل سیریس ہوں. نرس بھی شانزے کی ٹکر کی تھی تبھی ٹکا کے جواب دیا تھا.
شانزے کا منہ کھولا رہ گیا تھا. اور یوسف نے منہ نیچے کر لیا تھا کیوںکہ وہ نہیں چاہتا تھا کے نرس کا غصہ شانزے اس کی مسکراہٹ پے نکال دے.
پر میں انجکشن نہیں لگواؤں گی. شانزے نے ساتھ بیٹھے یوسف کی بازو پکڑی تھی.
اٹس اوکے شانزے کچھ نہیں ہوتا یوسف نے اس کے ہاتھ پے اپنا ہاتھ رکھ کے تسلی دی تھی اسے شانزے کا اس کی بازو پکڑنا بہت اچھا لگا تھا وہ بات بات میں چھوٹے بچوں کی طرح اس کی بازو پکڑتی تھی. اس وقت کہیں سے بھی وہ جھگڑالو یا بہادر ٹائپ نہیں لگ رہی تھی.
پر میں نے کبھی انجکشن نہں لگوایا.. شانزے کی آواز پر وہ واپس آیا تھا.
ریلکس… اس میں اتنی بڑی بات نہیں ہے تمھی چوٹ لگی ہے انجکشن سے تم اچھا فیل کرو گی اور ویسے بھی کبھی نہ کبھی کوئی کم ہم پہلی دفع کرتے ہی ہیں…
ریلکس ؟؟؟ تم جانتے بھی ہو کیا کہہ رہے ہو..؟؟ کتنی تکلیف ہوتی ہے ؟؟
شانزے پلیز یار انجکشن ہے. میزائل نہیں جو تم ایسے ریکٹ کر رہی ہو… یوسف نے سمجھنے کی ناکام کوشش کی.
ہاں..!!! تمہارا بس چلے نہ تو تم میزائل ہی لے آتے مجھے مارنے… کبھی لگوایا ہو تو پتا چلے نہ کیٹی تکلیف ہوتی ہے..
یار لگوایا ہے اور ہاں…!!! مرچوں سے تو کم ہی تکلیف ہوتی ہے.. یوسف نے نرس کو اشارہ کیا. جپ حیران پریشان ان دونوں کی بحث سن رہی تھی، اس نے فورن ہی انجکشن لگا دیا..
شانزے کو ہلکی سی چبھن کا احساس ہوا وہ کچھ ریکٹ کرتی اس سے پہلے ہی نرس بولی. ہو گیا میڈم آستیں نیچے کرلیں.
جبکہ شانزے ابھی تک اپنی بازو کو ہی دیکھ رہی تھی..
چلیں یوسف نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا. نہیں شکریہ میں خود چل سکتی ہوں. اس نے کھڑے ہونے کی کوشش کی مگر پاؤں میں دباؤ پڑتے ہی درد کی ایک لہر پورے جسم میں سیرات کر گئی تھی. ایک اس کہ منہ سے نکلی اور وہ دوبارہ بینچ پے بیٹھ گئی تھی. یوسف نے اپنے ہاتھ اس کے آگے پھلایا..
تھام لو یقین کرو گرنے نہیں دوں گا. یوسف کے لبوں پے بڑی خوبصورت مسکراہٹ تھی.
شانزے نے کسی ٹرانس کی کیفیت میں اس کی چوڑی ہتیلی تھام لی تھی.
یوسف نے اسے کیھنچ کے کھڑا کیا اور کندھے پے بازو پہلا کرچلنے میں مدد کرنے لگا.
شانزے کا منہ حیا سے لال ہو گیا تھا جیسے اس کے جسم کا سارا خون اس کے چہرے پے جما ہو گیا ہواور حیرت سے اس کا منہ کھولا رہ گیا تھا… وہ اپنا ہاتھ جو یوسف کی مظبوط گرفت میں قید تھا اس سے ہی دیکھ جا رہی تھی. وہ اتنی حیران تھی کہ یہ بھی احساس نہیں کر پائی کے وہ دونوں گاڑی کے پاسس پہنچ گئے ہیں.
کیا ہوا کرسٹوفر کولمبس کیا ڈھونڈ رہی ہو ؟ اس نے شانزے کو اپنے ہاتھ کو گھورتے دیکھا تو پوچھ بیٹھا ؟؟
دیکھ رہی ہو اتنا بڑا ہاتھ کیسے ہو سکتا ہے کسی کا اس پے تو واقعی امریکا آباد ہو سکتا ہے.. شانزے نے اس کی چوڑی ہتیلی پے چوٹ کی تھی.
چلو تو پھر دیکھ لو کیا پتا اس کرسٹوفر کی قسمت کی لکیر بھی یہیں کہیں ہو… یوسف نے اس فرنٹ سیٹ پے بیٹھاتے ہوے کہا.
اس کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی.. بےاختیار اس نے اپنا ہاتھ دل پے رکھا تھا. شانزے کچھ جھینب گئی تھی.
یوسف کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی. چلو اب یہ بتاؤ تمہارا گھر کہاں ہے..؟؟ اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوے پوچھا.
…………………………………
چاچو میرا خیال ہے آپ ٹھیک کہ رہے ہیں. وجی نے حسان کی ہاں میں ہاں ملائی تھی. مجھے بھی لگتا ہے ہمیں پولیس کا سہارا لینا چاہیے. ایسا نہ شانزے کسی مصیبت میں ہو اور ہم دائر کر دیں. وقت کافی زیادہ ہو گیا ہے..
جب کہ تائی جان کو تو جیسے موقع مل گیا تھا. ارے تم دونوں کی عقل کیا گھاس چرنے گئی ہے کیا بولو گئے تم لوگ پولیس والوں کو، کہاں گئی، کیوں گئی ؟ یہ بتاؤ گئے کے گھر کے بڑوں نے سمجھنے کی کوشش کی تو محترما منہ اٹھا کے گھر چھوڑ گئی… کیسی لڑکی ہے مجال ہے کہ زندگی میں سکون ہونے دے جاتے جاتے بھی عذاب نازل کر رہی ہے. ارے میں تو کہتی ہوں کبھی واپس نہ ہے مر جائے منحوس کہیں کی…
اپا..!! بس کریں کیوں میری معصوم بچی کو بعد دعائیں دیتی ہیں. نہ جانے کہاں ہو گی.. کس حال میں ہو گی.. حنا پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھیں اور اریزے انھیں سمبھال رہی تھی..
ارے لو بھلا میں نے کیا کہ دیا ایسا.. ذرا لہٰذ نہیں رہا تمہیں حنا، جیٹھانی نہ سمجھتیں بہن سمجھ کے ہی لہٰذ کر لیتیں میرا… اس میسنی کے لئے رو رہی ہو. جو جانے کہاں چھپی بیٹھی ہے اور یہاں ہمیں تھانے اور پولیس کے چکروں میں پھسا رہی ہے.. تائی جان مسلسل بولے جا رہی تھیں..
میرا خیال ہے اففت ٹھیک کہ رہی ہے. تم لوگ خام خا پریشان ہو رہے وہ جہاں گئی ہے اپنی رضامندی سے گئی ہے اس لئے ہم پولیس میں نہیں جا سکتے کیا منہ دکھایئں گئے پورے شہر کو، لوگ طرح طرح کی باتیں کریں گئے. کس کس منہ بند کریں گئے. وہ دو ٹکے کی لڑکی کیسی کلک مل رہی ہے ہمارے منہ پے جانے کس کا گندا خون ہے.. کتنا مان سمان دیا اس گھر نے لیکن نہیں خون اپنا اثر ضرور دکھاتا ہے. خدا کرے وہ کبھی واپس نہ ہے وہیں کہیں مر جائے . تایا جان نہ جانے کیسے کیسے الفاظ سے نواز رہے تھے.
اندر آتی شانزے کو تایا جی گرجدار آواز نے باہر روکنے پے مجبور کر دیا تھا. باہر کھڑی وہ سب باتیں سن رہی تھی ایک قدم مزید چلنے کی ہمت بھی اس میں نہ تھی. الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ.. کیسی تذلیل تھی یہ.. کون سی سزا تھی جو دن بہ دن ختم ہونے کے بجے بڑھتی جا رہی تھی.. اور کس نگری کہ باسی تھے یہ جو دلوں میں عداوت لئے ہوے تھے. کتنے احسان تھے ان کے اس پے ایک راہ چلتی بچی کو اپنے گھر میں جگہ دی… بنا جانے کہ اس کہ ماں باپ کون ہیں.. کیسے ہیں.. وہ کس ناجائز رشتے کی پیداوار ہے یا کوئی اس کا جائز وارث ہے…. وہ کب تک ناکردہ گناہ کی سزا کاٹے گی.. ماں باپ کے نہ ہونے کی سزا… بے نام ونیشان ہونے کی سزا… اس گھر میں رہنے کی سزا… شانزے کو لگا وہ زمین میں دھنس رہی ہے… اس سے پہلے کے اس کا پورا وجود مٹی کا ڈھیر ہو جاتا یوسف کی مضبوط بازوں نے اس سمبھال لیا تھا. تایاجان کے الفاظ نے اس کا دماغ ماؤف کر دیا تھا وہ یہ بھی بھول گئی تھی کے یوسف اس کے ساتھ ہی ہے اور یہ سب باتیں اس نے بھی سنی ہوں گی. اور اب اس کے لمس نے یوسف کے ہونے احساس دلایا. یہ احساس اس وقت دنیا کا خراب ترین احساس تھا. یوسف کا یہاں ہونا اس کے لئے موت جیسا تھا. شانزے کو لگا وہ کبھی نظر نہیں اٹھا پاے گی… اس کو اپنا سانس روکتا ہوا محسوس ہوا.. یوسف نے اس کی غیر ہوتی حالات محسوس کی تھی. اسے لگا وہ اس کے ہاتوں سے گیلی ریت کی طرح پھسل جائے گی. اس کا دل چاہا تھا کے شانزے کے طوطے بھکرے وجود کو سمیت لے لیکن اس وقت خود اس میں اتنی ہمت نہ تھی. اس نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا وہ رو نہیں رہی تھی اس کی آنکھیں خشک تھی کسی صحرا کی طرح جہاں کہیں برسوں سے بارش نہ برسی ہو. پر اس کے چہرے پے اس کی روح کی اذیت کی پوری کہانی رقم تھی. یوسف کو احساس تھا کہیں نہ کہیں وہ بھی اس سب میں برابر کا شریک ہے. اپنی حرکت پے ندامت تھی اگر اس نے وہ سب نہ کیا ہوتا تو شید اس وقت یہ سب نہ ہو رہا ہوتا.
اندر سے آوازیں ابھی تک آرہی تھی بس بولنے والوں کی آوازیں بدل گیں تھیں…
آج سے پہلے اس نے اپنے باپ کی اتنی ونچی آواز کبھی نہیں سنی تھی پر حسان کی آواز نے اس کے خیالوں کا تسلط توڑا تھا…
بس…. بھائی صاحب کیا ہو گیا ہے آپ کو کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ…
آپ جانتے ہیں کس کے لئے بول رہے ہیں یہ، سب بیٹی ہے وہ میری.. میرے دل کا سکون ہے..
آپ اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے میں نے کبھی اعتراض نہیں کیا..
آپ نے اسے اپنے سامنے آنے سے مانا کیا میں تب بھی خاموش رہا…
پر اس کی مرنے کی دعاییں… اگر نہیں برداشت ہوتی وہ سب کو تو بتا دیں میں اپنی بیٹی کو لے کے چلا جاؤں گا یہاں سے.. آپ سب سے دور بہت دور.. حسان جذبات پے قابو نہیں رکھ پے تھے.
تم ہوش میں تو ہو کیا ایسے بات کرتے ہیں اپنے بارے بھائی سے..؟؟ وہ بھی ایک بدذات..
بس بھائی صاحب خدا کے لئے بس کریں… ایسا نہ ہو کل کو آپ کو آپ کے ہی الفاظ مار دیں، اور آپ کے پاسس پچھتاوے کے سوا کچھ بھی نہ رہے. حسان نے اپنے بارے بھائی کے آگے ہاتھ جوڑ دے تھے.
تایا جان اپنی ساکت رہ گئے تھے.. ٹھیک ہے جو دل چاہے کرو. بلاخر تایا جان نے ہار مان لی تھی. ہر شخض اپنی جگا سن تھا..
چاچو میں گاڑی نکلتا ہوں آپ شانزے کی تصویر لے آیئں.. وجی کہتا باہر گیا تھا پر سامنے کھڑے یوسف اور شانزے کو دیکھ کر ٹھٹک گیا..
شانزے… اس نے اتنی زور سے بولا کے اندر کھڑے ہر شخض نے اس کی آواز بخوبی سنی…
پاپا نے سکون کا سانس بھرا..
اریزے اور می جانی کی جان میں جان آئ… وہ سب باہر کی طرف بھرے جبکہ تایا جان کے چہرے پے بیزاری دار آئ تھی اپنے کمرے کی طرف چل دیا تھے.
وجی نے شانزے کو تھما تھا. کیا ہوا گڑیا یہ سب وہ اس کے پاؤں میں اور سر میں بندھی پٹی دیکھ کر پوچھ بیٹھ تھے.
پاپا، می جانی اور اریزے بھی اس کی حالت دیکھ کے حیران تھے.
شانزے پاپا نے اس پکارا تھا اور وہ چھوٹے بچوں کی طرح باپ کے سینے سے لگی وہیں چپ جانا جاتی تھی.
کچھ موتی ٹوٹے تھے آنکھوں سے یوسف کو لگا اس کا دل ان آنسوؤں میں ہی بہ جائے گا جبکہ پاپا اسے چپ کرا رہے تھے.
کیا ہوا شانزے کچھ تو بولو وجی نے پریشان ہوتے یوسف اور شانزے کو دیکھا.
ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا.. اس سے پہلے کہ یوسف کچھ بولتا… شانزے خود ہی بول پڑی.
……………………………………
یوسف جب سے آیا تھا خوش بیٹھا تھا جب کہ شانزے نے ایکسیڈنٹ کہ کے بات ٹال دی تھی. کافی حد تک سب کی تسلی بھی ہو گئی تھی. اریزے سب کے لئے چاہے کا انتیظام کر رہی تھی. تائی جان اور انیقہ سامنے بیٹھے اس خوبصورت لڑکے کو گھورنے میں مصروف تھیں. کہ کب اس کا تعاروف ہو تو پتا چلے کون ہے، کہاں سے ہے.. دیکھنے میں تو کافی پیسے والا لگ رہا ہے. پرسنیلٹی بھی بہت زبردست تھی. جب کو یوسف کو لگا کے وہ اس فیملی سین میں مس فٹ ہے. اس لئے وہ جانے کے لئے کھڑا ہوا. تبھی پاپا سمیت سب کی نظر یوسف کی طرف اٹھی…
بیٹا آپ…؟؟ پاپا نے اس کی طرح کچھ جانجتی نظروں سے دیکھا..
پاپا… یہ یوسف ہیں.. میری یونیورسٹی میں پڑتے ہیں مجھ سے سینئر ہیں انہوں نے ہی میری جان بچائی اور مجھ ہسپتال لے کے گئے. جواب یوسف کی طرف سے آیا تھا.. اندر آتی اریزے نے مسکرا کے شانزے کو دیکھا جوابن شانزے نے اس سے گھورا تھا. اریزے نے یوسف کی طرف چاے کی پیالی بڑھائی تھی. جس سے یوسف نے شکریہ کہتے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ لے لی تھی. اریزے کو لگ اس نے پہلے بھی اکھیں دیکھا ہی اس سے بہت قریب سے پر کہاں بہت سوچنے پے بھی پر یاد نہیں کر پائی..
میرا خیال ہے شانزے تمھی آرام کرنا چاہیے اریزے نے شانزے اور یوسف کو ٹٹولتی نظروں سے دیکھتے ہوے کہا،
شانزے کے چہرے پے غصہ اور یوسف چہرے پے کچھ پریشانی کہ سے تاثرات تھے جب اریزے نے اپنی ہنسی دبی تھی.
شانزے نے کھڑے ہونے کی کوشش کی تبھی وجی نے آگے ہو کے اس سے سہارا دیا، او می لے چلتا ہوں..
بیٹا میں آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں.. مجانی اور پاپا دونوں ہی اب یوسف کی طرف متوجہ تھے.
نہیں انکل آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں.. یوسف نے نہیات انکساری و عاجزی کا مظاہرہ کیا تھا.
شانزے کے جانے سے یوسف کو ہر چیز بے رنگ لگنے لگی تھی. اس کا منظر میں نہ ہونا اس کو برا لاگا تھا. لیکن وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا اس لئے کھڑا ہو گیا. انکل اب اجزات دیں میں چلتا ہوں. یوسف کھڑا ہوا تو سب اس کے ساتھ کھڑے ہوے تھے..
ارے بیٹا آپ کھانا تو کہا کے جائیں، تائی جان کی آواز نے سب کو حیران کر دیا تھا اتنا شیریں لہجہ تو ان کا کبھی نہ تھا.
لیکن شاید یہ یوسف کے بیگ گراونڈ اثر تھا جو باتوں باتوں میں کسی حد تک تو انہوں نے اگلوا ہی لیا تھا. اس لئے زبان پے مٹھاس در آئ تھی.
نہیں آنٹی بہت شکریہ لیکن وقت بہت ہو گیا ہے… اب میں چلتا ہوں پھر کبھی… یوسف کو اگرچہ وہ آنکہ نہیں بہائیں تھی لیکن پھر بھی وہ لہٰذ کر گیا تھا.
ہاں ہاں بیٹا ضرور.. وجی او وجی… انہوں نے وجی کو آواز دی تھی جو شانزے کے ساتھ گیا تو وہیں رہ گیا تھا.
جی اماں ارے تم کہاں رہ گئے تھے؟؟ دیکھو مہمان جا رہے ہیں مل تو لو بات چیت تم نے کی نہیں بس بہن کے ہو کے رہ گئے. میں مزارات چاہتا ہوں اصل میں شانزے…
نہیں وجی بھائی کوئی مثلا نہیں ہے.. پھر کبھی ملاقات ہو گی تو ضرور بات چیت بھی کریں گئے… تم کھانا تو کھاتے ہمارے ساتھ.. نہیں اصل میں کافی وقت ہو گیا میں چلتا ہوں اب مجھے اجازت دیں.
وہ اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا جب اپنی پیٹھ پے کسی کی نظروں کا احساس ہوا… یوسف نے خواھش کی تھی کے ناظرین اس کی ہی ہوں، ایک لمحہ ضائع کے بنا پیچھے مڑا اور اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Dastan e Ishq by Sana Luqman – Last Episode 10

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: