Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Last Episode 30

0
بدتمیز عشق از ردابہ نورین – آخری قسط نمبر 30

–**–**–

وہ چاروں اسٹیج پے تھے اور دنیا جہاں کی نظرین ان پے
تھیں..
کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کون سی جوڑی زیادہ خوبصورت ہے..
شانزے نے یوسف کو چور نظروں سے دیکھا تھا بلیک کلر کی سمپل شیروانی میں وہ ہمیشہ سے زیادہ ڈیسنٹ لگ رہا تھا..
ایسے مت دیکھو نظر لگاؤ گی کیا.. جانتا ہوں چاند لگ رہا ہوں.. یوسف نے اس کی چوری پکڑ لی تھی..
ہاں.. چاند.. گرہن بولو.. شانزے نے جواب دینا فرض سمجھا تھا..
اچھا یہی بات میری آنکھوں میں دیکھ کر کہو.. یوسف نے اس کی طرف دیکھا تھا،
جو ریڈ کلر کے روایتی شرارے میں قیامت لگ رہی تھی…
اس کی بات پے شانزے نے نظریں جھکائیں تھیں..
کیا ہوا نظرین کیوں چرا رہی ہو.. بولو اب.. چور…
یوسف نے اسے چڑایا تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ شانزے اس لفظ پے ہمیشہ چڑ جاتی ہے….
یوسف زبان سمبھال کر بات کرو سمجھے.. بیوی ہوں میں تمہاری.. شانزے کو اب غصہ آیا تھا..
چورررررر… یوسف نے اس بار چور کو زیادہ لمبا کر دیا تھا آخر شانزے کی چڑ جو ملی تھی..
میں آخر بار بول رہی ہوں اگر تم نے اب مجھے چور کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا، شانزے نے وارننگ دی تھی..
نہیں تو تم کیا کر لو گی.. یوسف نے آنکھوں کے اشارے سے چڑایا تھا..
بھول جانا پھر شادی وادی… سمجھے.. شانزے نے پھر دھمکی دی تھی..
پرواہ کسے ہے.. چور.. یوسف نے پھر بولا تھا..
یوسف… شانزے نے انگلی اٹھا کے کہا تھا..
شانزے… یوسف نے اس کی انگلی پکڑی تھی..
اور اسی وقت محسن اور رانیہ نے یہ ،لمحہ تصویر کی شکل میں قید کر لیا تھا..
بس کر دو.. یہ تم دونوں کیا کر رہے ہو..
اپنا خیال نہیں ہے تو ہم دونوں معصوم لوگوں کا خیال کرو.. سب دیکھ رہے ہیں.. عثمان نے بلاآخر ٹوکا تھا..
بھائی میں آپ کا ہی خیال کر رہی ہوں ورنہ.. اس شیر کے ساتھ مجھے بیٹھنے کا کوئی شوق نہیں..
شانزے نے جان بوجھ کر کہا تھا.. یوسف کو یاد تھا کہ اس کے خود کو شیر کہنے پے شانزے نے کیا کہا تھا..
ہاں تو میں کون سا مرا جا رہا ہوں.. تمہارے ساتھ بیٹھنے کے لئے میں بھی بھائی کی وجہ سے بیٹھا ہوں..
یوسف پلیز.. عثمان نے اسے بولا تھا..
بھائی آپ اس مرچی پاؤڈر کو سمجھائیں.. یوسف نے چڑ کر کہا تھا ہے عثمان نے سچ میں سر پے ہاتھ رکھا تھا..
وہ جانتے تھے کہ زندگی اب ایسے ہی گزارنی ہے.. کبھی کھٹی.. کبھی میٹھی..
میرا خیال ہے رخصتی کر لیتے ہیں بھائی.. شانزے اور یوسف کافی دیر سکون سے بیٹھ لئے ہیں.. محسن نے عثمان کو مشورہ دیا تھا.. ہاں تم ٹھیک کہ رہے ہو.. انہوں نے کچھ سوچتے ہوے کہا تھا..
پھر رخصتی کا وقت آیا تھا، وہ دونوں پاپا سے مل کے خوب روئیں تھیں.. تایا جان نے آگے ہو کر اریزے کو پیار کیا تھا،
اور پھر سب نے دیکھا کہ جب وہ شانزے کی طرف بڑھے تو وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی..
آج وہ اس کے سر پے ہاتھ رکھنا چاہتے تھے، لیکن شانزے نے حق چھین لیا تھا..
آنسو ان کی آنکھوں سے گرے تھے.. لیکن بے مول ہو کے.. کیوں شانزے کے لئے ان کا کوئی مول نہیں تھا..
وہ چاروں ہی اپنی مزل کی طرف گامزن تھے…
وہ سب گھر پہنچے تو رانیہ مانیہ اور محسن نے ان کا شاندار استقبال کیا تھا.
وہ چاروں کسی ریاست کے شاہی جوڑے سے کم نہیں لگ رہے تھے.. تبھی رسموں کا دور شروع ہوا تھا..
اور پھر رسموں سے فارغ ہو کر انھیں ان کے کمروں میں پہنچ دیا گے تھا..
…………………………….
دروازے پے دستک ہوئی تھی.. اریزے نے خود کو سمیٹا تھا. اس کا دل قابو میں کہا آرہا تھا..
حالت تو عثمان کی بھی ایسی ہی تھی.. لال جوڑا پہنے یہ لڑکی ان کی زندگی میں رنگ بیکھیر رہی تھی..
اور وہ ہر رنگ اپنے لئے محفوظ کرنا چاہتے تھے،عثمان اس کے پاس بیڈ پے ہی بیٹھ تھے..
تم جانتی ہو جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا، تو مجھے لگا کہ تم وہ لڑکی ہو جو چاہے جانے کے قابل ہے..
جس کے ساتھ میں اپنی ساری زندگی گزر سکتا ہوں.. اریزے مجھے تمہارا ہر روپ پسند ہے..
جب تم کنفیوز ہوتی ہو.. تو میرا دل چاہتا ہے وہ کنفوزن میں ہوں..
جب تم دور کہیں آسمان میں اڑھنے لگتی ہو.. تو میرا دل جاتا ہے میں بھی تمہارے ساتھ اوڑھنے لگوں..
جب تم خیالوں میں گم ہوتی ، تو میرا دل چاہتا ہے وہ خیال میں ہوں،، عثمان بولے جا رہا تھا..
اریزے کو لگا آس پاس کی ہر چیز غائب ہو گئی ہے.. اگر کوئی باقی ہے تو صرف وہ اور عثمان..
اگر وہ کوئی آواز سن سکتی ہے.. تو عثمان کی… اگر وہ کچھ محسوس کر سکتی ہے تو صرف عثمان کی محبت..
عثمان نے اریزے کا ہاتھ پکڑا تھا.. اریزے خود میں اور سمٹی تھی،
عثمان نے اس کے ہاتھوں میں کنگن پہناے تھے.. اور ساتھ ہی اس اپنی محبت کی پھیلی موہر اس کے ہاتھوں سبت کی تھی..
اس کے جسم میں بجلی چمکی تھی، عثمان نے دھیرے سے اسے اپنے آپ میں سمیٹا تھا،
تھنک و اریزے…. میری زندگی کو خوبصورت بنانے کے لئے..
عثمان نے اریزے کی دل کی دھڑکن پہلی بار اتنی نزدیک سے محسوس کی..
تم جانتی ہو میں نے اتنی بار یہ لمحہ امیجن کیا ہے.. کہ ڈر لگ رہا ہے.. تم غائب نا ہو جاؤ..
عثمانی اس کے گرد حصار تنگ کیا تھا..
میں کہیں غائب نہیں ہوں گی، ہمیشہ یہیں رہوں گی آپ کے پاس.. اریزے نے سر گوشی کی تھی..
وعدہ.. عثمان نے اپنا ہاتھ پھلایا تھا..
وعدہ اریزے نے اپنا ہاتھ اس کو تھمایا تھا.. زندگی کے نے سفر کی شروعات ہو گئی تھی..
وہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں ڈوب رہے تھے،،
………………………………
یوسف روم میں آیا تھا.. ایک نظر شانزے پے ڈالی تھی.. اور پھر جا کر بالکنی میں کھڑا ہو گیا تھا..
شانزے کے دل ہوک سی اٹھی تھی… وہ جتنا کوس سکتی کوس چکی تھی خود کو..
لیکن یوسف تو جیسے بھول ہی گیا تھا اس کو.. نا کچھ کہا… نا سنا… منہ بنا کر کھڑا ہو گیا..
کافی دیر ہو چکی تھی لیکن وہ نہیں آیا تھا.. شانزے کا دل ڈوبنے لگا تھا.. عجیب طرح کے خیال آرھے تھے.
وہ بستر سے اٹھی تھی، اپنا شرارا سمبھلتی اس کی طرف بڑھی تھی.. لیکن خود سے شرارا سمبھالنا بھی ایک جنگ تھی..
جو شانزے نے اس تک جانے کے لئے اکیلے ہی لڑنی تھی… آج سے پہلے اسے کبھی اتنا غصہ نہیں آیا تھا،
جتنا اس وقت اسے شرارے پے آرہا تھا..
کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ یہاں منہ بنا کر کیوں کھڑے ہو..؟؟ شانزے نے غصہ کیا تھا..
تمہیں اس سے کیا.. تم نے تو یہ شادی اپنے پاپا اور ماموں کے لئے کی ہے نا.
میں جیوں یا ماروں تمہیں فرق نہیں پڑنا چاہیے.. یوسف نے منہ بنایا تھا..
مجھے کیوں فرق پڑھنے لگا
__________
یوسف روم میں آیا تھا.. ایک نظر شانزے پے ڈالی تھی.. اور پھر جا کر بالکنی میں کھڑا ہو گیا تھا..
شانزے کے دل ہوک سی اٹھی تھی… وہ جتنا کوس سکتی کوس چکی تھی خود کو..
لیکن یوسف تو جیسے بھول ہی گیا تھا اس کو.. نا کچھ کہا… نا سنا… منہ بنا کر کھڑا ہو گیا..
کافی دیر ہو چکی تھی لیکن وہ نہیں آیا تھا.. شانزے کا دل ڈوبنے لگا تھا.. عجیب طرح کے خیال آرھے تھے.
وہ بستر سے اٹھی تھی، اپنا شرارا سمبھلتی اس کی طرف بڑھی تھی.. لیکن خود سے شرارا سمبھالنا بھی ایک جنگ تھی..
جو شانزے نے اس تک جانے کے لئے اکیلے ہی لڑنی تھی… آج سے پہلے اسے کبھی اتنا غصہ نہیں آیا تھا،
جتنا اس وقت اسے شرارے پے آرہا تھا..
کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ یہاں منہ بنا کر کیوں کھڑے ہو..؟؟ شانزے نے غصہ کیا تھا..
تمہیں اس سے کیا.. تم نے تو یہ شادی اپنے پاپا اور ماموں کے لئے کی ہے نا.
میں جیوں یا ماروں تمہیں فرق نہیں پڑنا چاہیے.. یوسف نے منہ بنایا تھا..
مجھے کیوں فرق پڑھنے لگا میں تو بس یوں ہی.. ہاں تو کی ہے میں نے یہ شادی ان کے لئے..
اتنا مسلہ تھا تو کر لیتے نا اپنی پھوپو کی بیٹی…. شانزے کہتے کہتے روک گئی تھی..
وہ غصے میں جانے کے لئے پلٹی تھی جب یوسف نے اس ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کیھنچا تھا..
اور وہ گول گھومتی اسکے چوڑے سینے سے لگی تھی..
کر لی اپنی پھوپو کی بیٹی سے شادی… یوسف کی آنکھیں جگمگائیں تھی..
شانزے کچھ کنفیوز ہوئی تھی.. یوسف نے پیچھے سے اس کی کمر پے ہاتھ بندھے تھے..
شانزے سے شرم کے مارے آنکھیں اوپر کرنا مشکل ہو گیا تھا…. اس کی دھڑکن تیز تھی..
یوسف بآسانی سن سکتا تھا.. اس نے ہلکے سے اس چہرے کو اٹھایا تھا..
کیا ہوا اب.. لڑو.. شانزے نے منہ اس کے سینے میں چھپایا تھا..
یوسف نے اسے پوری طرح خود میں سمیٹ لیا تھا.. وہ شرماتی ہوئی ہمیشہ اسے بہت معصوم لگتی تھی..
بہت تڑپایا ہے تم نے.. کبھی لگتا تھا ایسے تڑپ تڑپ کے مر جاؤں گا.. یوسف نے کہا تھا..
شانزے نے تڑپ کر اس کے منہ پے ہاتھ رکھا تھا..
پلیز سوری.. میں مجبور تھی.. شانزے کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا تھا..
جانتا ہوں.. میں نے سن لیا تھا، جب تم ڈریسنگ روم میں بول رہی تھیں رانیہ سمجھ کر..
اور مجھے فخر ہے تم پے.. یوسف نے اس کی آنکھوں پے اپنے ہونٹ رکھے تھے..
اور ہزاروں رنگ شانزے کے چہرے پے بکھرے تھے.. شانزے کو اپنی آنکھیں روشن لگیں تھیں..
لیکن پھر بھی میں نے تمہارا دل دکھایا ہے میں تم سے…
تمہارے کچھ بھی کہنے سے پہلے میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں..
یوسف کے کہنے پے شانزے کی بات بیچ میں رہ گئی تھی..
کیا… شانزے پریشان ہوئی تھی..
“یہی کہ تم اتنی خوبصورت کیسے لگ سکتی ہو..” یوسف نے شرارت سے کہا تھا..
وہ بھگنے لگی تھی.. لیکن یوسف نے اس کی کوشش ناکام بنائی تھی..
میں نے اکیلے یہاں سے بہت بار چاند چمکتے دیکھا ہے، میری خواھش تھی کہ تمہارے ساتھ دیکھوں..
اس نے شانزے کو باہوں میں بھرا تھا، اور تھوڑی اس کے کندھے پے ٹیکا کر، چاند کو دیکھتے بولا تھا..
ویسے ایک بات تو مانی پڑے گی تمہیں.. یوسف نے شانزے کے کان میں کہا تھا،
جو اس کی محبت میں پوری طرح ڈوبی تھی..
وہ کیا… شانزے نے آنکھیں بند کر کے اس کو محسوس کیا تھا.
یہی کے کچھ بھی کہو تم ہو چور.. شانزے نے ایک دم آنکھیں کھولیں تھیں.. اور خود کو چھڑانے نے کی کوشش کی تھی..
لیکن یوسف کی گرفت خاصی مظبوط تھی..
چھوڑو مجھے کہا تھا نا ایک بار بھی اور بولا تو بھول جانا یہ شادی وادی.. وہ غصہ کر کرے بولی تھی..
یار ناراض کیوں ہوتی ہو، میں ثابت کر سکتا ہوں.. کہ تم چور ہو.. یوسف نے اس کے کان کا بندہ چھڑتے ہوے کہا تھا…
اچھا کیسے…؟؟؟ وہ ابھی تک غصے میں تھی..
خود دیکھ لو… تم نے میرا دل نہیں چرایا… یوسف نے تمام تر چاہت سمیٹ کر کہا تھا..
شانزے ہنس پڑی تھی.. اس نے ہاتھ کا مقا بنا کر اس کے سینے پے مرا تھا..
اور بدلے میں یوسف نے اس کا ماتھے کو چوما تھا..
………………………………
ان کی شادی کو تین دن ہو گئے تھے.. وہ چاروں اپنی زندگیوں میں خوش تھے..
اور یہ خوشی ان کا چہرہ بتانے کے لئے کافی تھا… اریزے اور شانزے کل عنیقہ اور احد کے نکاح کے لئے آئیں تھیں.. اور پھر می جانی کے اصرار پے روک گیں تھیں.. تقریب زیادہ بڑی نہیں تھی، اس لئے گھر گھر کے ہی لوگ تھے،
کیوں کے یہ احد کی فرمائش تھی.. وہ کوئی روش نہیں چاہتا.. آج صبح کی فلائٹ سے احد اور پھوپو چلے گئے تھے..
ابھی کچھ دیر پہلے ہی عثمان اور یوسف ، اریزے اور شانزے کو لینے آے تھے..
عنیقہ نے دیکھا تھا ان چہروں کے چہرے دمک رہے تھے..
سیھنزے کچن میں تھی.. یوسف وہیں آیا تھا اوے چور.. اس نے شانزے کو آواز دی تھی..
لیکن شانزے ہمیشہ کی طرح چیڑی نہیں تھی.. عنیقہ نے دیکھا تھا.. یوسف نے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا تھا..
مطلب شانزے جانتی تھی.. اور عنیقہ بھی سمجھ گئی تھی..
اسے یاد آیا تھا کل سے لے کر آج جانے تک وہ منتظر ہی رہی تھی کے احد اسے کچھ کہتا،
جو اس کے انتظار کے لمحوں کی مرہم بن سکتا لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا…
وہ اپنے کمرے میں آئ تھی. وہاں سائیڈ ٹیبل پے ایک خط رکھا تھا،
عنیقہ نے اٹھا کر دیکھا تھا.. اس پے احد کا نام تھا… وہ خوش ہو گئی تھی..
اس لئے خط اٹھا کر اوپر چھت پے آگئی تھی، لیکن جیسے جیسے وہ خط پڑھتی جا رہی تھی..
اس کی خوشی ختم ہوتی گئی… احد نے صاف لفظوں میں لکھا تھا.. کہ نکاح صرف ایک بدلہ ہے..
اس سے زیادہ کچھ نہیں.. دل چاہے تو اس رشتے کو نیبھاے ورنہ جب چاہے آزادی مانگ لے..
عنیقہ نے کی آنکھوں میں پانی بھر گیا تھا.. وہ جانتی تھی.. یہ انتظار اب کبھی ختم نہیں ہو گا..
تبھی اس نے گاڑی سٹرٹ ہونے کی آواز آئ تھی.. اس نے دیکھا تھا وہ چاروں جا رہے تھے..
خوش.. اپنی دنیا میں مگن…. اور وہ صرف ان خوشیوں کا انتیظار کر سکتی تھی…..
………………………..
شانزے کو یوسف نے منہ دیکھائی میں،، چین اور ڈائمنڈ لاکٹ دیا تھا. تاکہ وہ ہر وقت پہن سکے..
اور آج طعنے دن بعد شانزے کو پہلی بار اس رنگ کا خیال آیا تھا،
جو شانزے کو پرپوز کرتے ہوے یوسف نے لی ہوئی تھی.
وہ خیالوں میں گم تھی.. جب یوسف واش روم سے اپنے بال ٹاول سے رگڑتا ہوا باہر نکلا تھا..
وہ ایسے ہی اپنے کھالوں میں گم تھی. جب یوسف نے اسے اپنی باہوں میں بھرا تھا..
کیا سوچ رہی ہو میڈم… یوسف نے اس کے کان کے پاس سرگوشی تھی..
یوسف وہ رنگ کہا ہے.. شانزے نے بنا کسی کے بہانے کے پوچھا تھا..
کون سی رنگ…؟؟ یوسف کو یاد تھا لیکن انجان بنا تھا..
وہی رنگ جو تم نے اس دن مجھے دینی تھی… شانزے نے یاد دلایا تھا..
اچھا وہ.. یوسف نے وہ پے زور دیا تھا.. یار وہ تو میں نے دے دی.. اس نے اطمینان سے کہا تھا..
لیکن شانزے کا اطمینان غائب ہو گیا تھا..
کیا….؟؟؟ کسے…؟؟؟ شانزے کو سچ میں شوکڈ لگا تھا..
تھی ہے ایک اجنبی حسینہ… یوسف نے ٹھنڈی آہ بھری تھی..
جب کے شانزے کے چہرے سے ظاہر تھا کہ وہ یوسف کو مار ڈالے گی.. اس لئے اس نے بھاگنے میں آفیت جانی..
اچھا میں چلتا ہوں.. تم شام میں تیار رہنا..
کیوں… شانزے نے پوچھا تھا.. یار وہ کہیں جانا ہے.. یوسف نے ٹالنے والے انداز میں کہا تھا..
لے جاؤ نہ اپنی اجنبی حسینہ کو…. شانزے چیڑی ہوئی تھی..
یار وہ کہتی ہے.. تمہارے لئے پھوپو کی بیٹی ہی ٹھیک ہے.. یوسف کہتا چلا گیا تھا..
بڑا آیا.. شانزے نے بیڈ پے گرتے کہا تھا..
………………………..
شام ہو گئی تھی.. جب اریزے پاس آئ تھی.. تم تیار نہیں ہوئیں..
میرا دل نہیں چاہا رہا.. شانزے اپ سیٹ تھی…
اٹھو فورن.. اریزے نے اسے زبردست اٹھایا تھا… اور پھر سفید رنگ کی خوبصورت میکسی اس کی طرف بڑھائی تھی..
یہ تو بہت خوبصورت ہے… شانزے کو بہت پسند آئ تھی..
چلو جلدی تیار ہو… اریزے نے اسے واش روم میں دھکہ دیا تھا.
اور خود اس کا انتظار کرنے لگی تھی..
………………………..
اریزے کو یاد تھی یہ جگہ وہ کیسے بھول سکتی تھی.. یہی وہی جگہ تھی.. جہاں یوسف نے اسے پرپوز کیا تھا..
شانزے نے اریزے اور عثمان کی طرف دیکھ تھا.. جو اسے لے کر ہے تھے..
اور لاکھ پوچھنے پے بھی نہیں بتایا تھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں… گاڑی روک گئی تھی..
وہ تینوں باہر اے تھے.. اریزے عثمان روک گئے تھے.. شانزے نے پلٹ کر دیکھا تھا..
جاؤ… روک کیوں گیں.. اریزے نے مسکرا کر کہا تھا..
وہ دھڑکتے دل ساتھ چل پڑی تھی سب کچھ ویسا تھا.. فرق صرف اتنا تھا کہ جب جب وہ قدم اٹھاتی تھی..
تو اس بار پھول برستے تھے.. شانزے خوش تھی… اس کا چہرہ دمک رہا تھا..
وہ چلتی چلتی ہٹ میں آگئی تھی،، ہٹ جاگمگا رہا تھا.. یوسف کا پسندیدہ ٹریک ہوا میں گنج رہا تھا..
شانزے نے یوسف کو دیکھا تھا.. اس نے آج بھی سفید فارمل شرٹ اور بلیک پینٹ پہنی تھی..
شانزے کو لگا تھا زندگی ریوائیںڈ ہو گئی ہو.. یوسف اس کے پاس آیا تھا..
تو پھر شانزے حسان ساتھ دو گی نہ…؟؟؟ اس نے گھٹنوں پے بیٹھتے پوچھا تھا..
آس پاس کھڑے… عثمان اریزے.. محسن اور رانیہ… سب نے اوووووو کا شور کیا تھا..
شانزے نے کمر پے سوچنے والے انداز میں ہاتھ رکھا تھا… سب ہنسے تھے…
یوسف کو غصہ آیا تھا.. اس نے شانزے کا ہاتھ پکڑ کے اس میں رینگ پہنائی تھی..
سب ہنسنے لگے تھے…. ہر طرف شور تھا..
پھول اب بھی ان دونوں پے برس رہے تھے.. یوسف ٹھیک کہتا ہے.. زندگی خوبصورت ہے..
شانزے نے دل میں سوچا تھا..

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: