Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 1

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 1

–**–**–

” سردار!….جانشین مبارک ہو ۔ “خیمے کے اندرسے بلند ہوتی دایہ کی آواز نے اسے بیٹا ہونے کی خوش خبری سنائی ، فرط مسرت سے شریک کا چہرہ کھل اٹھا ۔ اس نے کمر سے بندھی تھیلی کھول کر خیمے کے اندر اچھال دی یہ دایہ کا انعام تھا ۔ سردار کا بیٹا پیدا ہونے کی خبر چند لمحوں میں پورے قافلے میں پھیل گئی تھی ۔
”شاید کچھ دن یہیں رکنا پڑے ۔“بوڑھا، اسفند بن احمراپنی بیوی کو مخاطب تھا ۔
اس کی بیوی بولی ۔”شاید،یوں بھی یہ ایسا مقام ہے جہاں مستقل پڑاو¿ڈالا جا سکے ۔“
”خیر یہ تو سردار کبھی نہیں چاہے گا۔قبیلے کے لوگ بڑی شدت سے ہماری واپسی کے منتظر ہوں گے ۔ اور اس دفعہ تو منافع بھی کافی زیادہ ہوا ہے ۔“
اس کی بیوی نے کہا۔” سردار خود جو ساتھ تھا ۔لات و منات سردار پرخصوصی مہربان ہیں ۔“
اسفند بن احمر کے ساتھ والے خیمے میں نوجوان حاجب بن قارب اپنے والد سے محو گفتگو تھا ۔
”بابا ! ….کیا اچھا ہو اگر سردار اسی جگہ کو مستقل طور پر،قبیلے کے لےے منتخب کر لے ۔“
”ایسا ممکن نہیں ہے بیٹا !….وطن کی گھاس کی خوشبو کا بدل دنیا کا کوئی نخلستان نہیں ہو سکتا۔ البتہ اب سردار کا بیٹا ہوا ہے تو امید ہے ہفتہ ڈیڑھ یہاں پڑاو¿ رہے گا ۔“
مختلف خیموں میں ہونے والی چہ میگویوں سے بے نیاز شریک بن ثمامہ بن جساسہ دھڑکتے دل کے ساتھ خیمے میں داخل ہوا۔دایہ نے نوزائیدہ بچے کوصاف کپڑے میں لپیٹ کر ماں کے ساتھ لٹایا ہوا تھا ۔
”بنو جساسہ کا نیا سردار ! “۔اس نے اپنے نوزائیدہ بیٹے کو دونوں ہاتھوں میں بلند کر کے فخریہ لہجے میں کہا۔
”آخر بیٹا کس کا ہے۔“زمین پر بچھے بستر پر نیم درازعاقدہ بنت ثعلبہ نے شوہر کی تائید کی۔ ”سردار کا بیٹا سردار ہی ہوتا ہے ۔“
”یہ کیا ….؟“شریک نے حیرانی سے بچے کے بازوکی طرف اشارہ کیاجہاں بڑا سا سرخ نشان بنا ہوا تھا،ننھے منھے بازو پر، نشان نے کبوتر کے انڈے جتنی جگہ گھیری ہوئی تھی ۔
”ویسے ہی نشان ہے۔ دایہ کہہ رہی تھی کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ،بلکہ پہلے اسی نے دیکھ کر اچھی طرح تسلی کی ہے ۔“
شریک نے سر ہلاکر بچے کو واپس بیوی کے پہلو میں لٹایااور اس کے چہرے پر جھک گیا ….
”پتا ہے نا ،عاقدہ !….عہد کرنے والی کو کہتے ہیں اور جانِ شریک تم نے اپنا عہد پورا کیا ہے“۔
” یہ شرف ہبل نے میرے نصیب میں لکھا ہے ۔ورنہ تو آپ کی تین کھیتیاں(بیویاں) اور بھی ہیں۔“
”ہاں ….مگر مجھے خوشی ہے کہ یہ تحفہ مجھے اپنی پسندیدہ کھیتی سے ملا۔تم مجھے سب سے زیادہ عزیز اور پیاری ہو ۔میری دلی تمنا اور خوشی بھی یہی تھی کہ،یہ شرف مجھے تم سے حاصل ہوتا۔“
”یہ فخر میرے لےے کافی ہے۔ “عاقدہ کا لہجہ خوشی سے بھرپور تھا ۔
اسی وقت خیمے کے باہر سے دایہ کی آواز ابھری وہ اندر آنے کی اجازت مانگ رہی تھی ۔
”آجاو¿….۔“شریک نے بیوی کے بستر سے تھوڑا دور ہو کر اسے اندر آنے کی اجازت دی ۔ دایہ عریسہ بنت منظر اندر آگئی ۔وہ ایک جوان عورت تھی اور عاقدہ کی عم عمر ہی تھی ۔دایہ کا کام اس نے اپنی ماں سے سیکھا تھا ۔ اس کی ماں چونکہ عمر رسیدہ تھی اس وجہ سے دور دراز کے سفر کے قابل نہیں تھی ۔سفر پر آنے سے پہلے ہی سردار کواپنی بیوی کی حالت کا اندازہ تھا اسی لےے اس نے عریسہ بنتِ منظر کو ساتھ لے لیا تھا ۔ گوسردار کے چھوٹے بھائی نے اسے بیوی کو ساتھ لے جانے سے روکا تھا۔ مگر شریک عاقدہ کو ساتھ لے جانے پربہ ضد رہا تھا۔ وہ اسے سوکنوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہتا تھا ۔وہ یقینا خود رک جاتا۔ یا سفر کو موّخر کر دیتا، مگر قبیلے کی مشہور کاہنہ نے سفر کا وہ وقت سعد بتلایا تھا۔ اور شریک کو چونکہ کاروبار کی اچھی سوجھ بوجھ تھی اس لےے اس کا ساتھ جانا ضروری تھا۔پچھلے دو سفروں میں اس کے نہ جانے کی وجہ سے کوئی خاص منافع نہیں ہوا تھا ۔
”سردار !….کیسا لگا ننھا سردار ؟“دایہ نے نوزائیدہ بچے کو ماں کے پہلو سے اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
”ہبل کا تحفہ ہے ۔“شریک فخر سے بولا۔
”اگر سردار کی اجازت ہو تو ،ننھا سردار میرے رکھے گئے نام سے پکارا جائے ؟“عریسہ بنتِ منظر کے دل میں چھپی خواہش ہونٹوں پر سوال بن کر مچلی ۔
”تمھیںپتا ہے یہ ولی عہدہے اور قبیلے کی رسم کے مطابق ولی عمد کا نام سارے بھائیوں نے مل کر طے کرنا ہوتا ہے۔“
”سردار!…. آپ کا نام بھی تو میری ماں نے رکھا تھا ۔اور آپ بھی قبیلے کے سردار ہیں ۔میں چاہتی ہوں امی کی طرح مجھے بھی یہ اعزاز حاصل ہو۔“
”میں قبیلے کا سردار بعد میں بنا۔ کیونکہ مجھ سے بڑ ے دونوں بھائی فوت ہو گئے تھے ۔اصل سردار میرا بھائی کنانہ تھا ۔اور اس کا نام قبیلے کے بڑوں ہی نے رکھا تھا ۔“
اس بار عریسہ بنتِ منظر کچھ نہ کہہ سکی ۔اور خاموشی سے بیٹھ کر عاقدہ کی ٹانگیں دبانے لگی ۔اس کا یہ خواب شرمندہءتعبیر نہیں ہو سکا تھا ۔اس کی خفگی شریک کی نظر سے اوجھل نہیں تھی ۔بیٹا پیدا ہونے کی خوشی اپنی جگہ ،مگر وہ قبیلے کی دیرینہ رسم کے خلاف نہیں کر سکتا تھا ۔
کچھ دیر سوچنے کے بعداس نے پوچھا ۔”سردار !….جب تک چھوٹے سردار کا نام نہیں رکھا جاتا میں اسے یشکر کہہ سکتی ہوں ؟“
”سرداروں والا نام ہے ۔“شریک نے مطمئن انداز میں سر ہلایا۔”اگر میری مرضی کا عمل دخل رہا تو میں بھائیوں کو یہی نام رکھنے کا مشورہ دوں گا ۔“
”اور جب تک نام نہیں رکھا جاتا اس وقت تک تو یشکر کہہ سکتی ہوں نا ؟“اس نے دوبارہ پوچھا۔
”نہیں ….چھوٹے سردار کہہ لیا کرو ۔“کہہ کرشریک باہر نکل گیا ۔
٭٭٭
وہاں انھیں پورا ہفتہ ہو گیا تھا ۔مسلسل سفر کے بعد قافلے کے لےے یہ آرام نعمت غیر مترقبہ تھا۔ پانی کی موجودی سے وہ جگہ کافی سر سبز ہو گئی تھی ۔آگے جانے کے لےے وہ وہاں سے پانی کا ایک بڑا ذخیرہ ساتھ لے جا سکتے تھے۔
سارا دن گپیں ہانکنے اور شکار کے پیچھے بھاگنے کے بعد تمام بے سدھ لیٹے تھے ۔ حاجب بن قارب کو پیشاب کی حاجت ہوئی ۔اس نے سر اٹھا کر دیکھا اس کا باپ لحاف میں لپٹا تھا ۔خنکی کافی بڑھ گئی تھی ۔وہ ہمت کر کے رضائی سے نکلا اور خیمے سے باہر آ گیا ۔بیس اکیس کا چاند گھبراے ہوئے انداز میں مشرق سے سر ابھا رہا تھا ۔دائیں بائیں ٹیلوں پر نظر پڑتے ہی اسے یوں لگا جیسے کوئی اسے گھور رہا ہو۔اسے خیمے سے دور جانے کی ہمت نہ ہوئی اوروہ وہیں رفع حاجت کے لےے بیٹھ گیا ۔خیموں کے دروازں کے سامنے جلنے والا آگ کا آلاو¿، انگاروں میں تبدیل ہو چکا تھا ۔فارغ ہو کر اس نے ایک لمحے کے لےے آگ پر لکڑیاں ڈالنے کی بابت سوچا مگر پھر سرجھٹکتا ہوا خیمے میں گھس گیا ۔آگ جلانے کے لےے سردار نے تین چار آدمی مقرر کےے تھے جنھیں باری باری اٹھ کر آگ کو روشن رکھنا تھا۔ مگر لگتا تھا اس ذمہ داری پر مامور تمام آدمی سوگئے تھے ۔
اس کے خیمے میں گھستے ہی ٹیلوں کی آڑ سے ایک گھڑ سوار برآمد ہوا ،چند لمحوں بعد اس کے عقب سے ایک ایک آدمی نکل کر خیموں کے گرد پھیلتاچلا گیا ۔ان کے سامنے ایک دوسری ٹولی عقب سے خیموں کو گھیرنے میں مصروف تھی ۔گھیرا مکمل ہوتے ہی وہ خیموں کی طرف بڑھے ۔اسی وقت ایک خیمے سے آنکھیں ملتا ہوا آدمی برآمد ہوا ۔چاند کی روشنی میں خیموں کی طرف بڑھتے گھڑ سواروں کو دیکھ کر اس کے حلق سے فلک شگاف چیخ برآمد ہوئی اور وہ ۔”قزاق ….قزاق۔“ کہتا واپس بھاگا ۔مگر اسے خیمے میں گھسنا نصیب نہیں ہو ا،تین چارتیر سنسناتے ہوئے اس کی پیٹھ میں گھس گئے تھے ۔اس کے ساتھ ہی وہ تمام نعرے لگاتے ہوئے خیموں کی طرف بڑھے ۔گھوڑوں سمیت خیموں میں گھسنا ممکن نہیں تھا ۔اس وجہ سے زیادہ تر گھڑ سوار گھوڑوں سے اتر کر خیموں میں گھس گئے ۔
خیمہ نشینوں میں سے کچھ اٹھ کر سراسیمہ سا حملہ آوروں کو دیکھ رہے تھے کچھ اب تک اپنے لحافوں ہی سے نہیں نکل سکّے تھے ۔کچھ اٹھ کر ہتھیار اٹھانے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن مقابلے سے پہلے ان منجھے ہوئے حملہ آوروں کا شکار ہو گئے تھے۔
شریک بھی پہلی چیخ سن کر جاگ گیا تھا ۔اس نے جلدی سے اپنی تلوار سنبھالی اور بستر سے باہر نکلا ۔اسی وقت ایک قزاق اندر داخل ہوا۔چراغ کی روشنی میں ایک بیگانے کو پہچاننے میں شریک کو کوئی دقت نہیں ہوئی تھی اور اس کی تلوار نے پلک جھپکتے میں مخالف کی گردن تن سے جدا کر دی۔
اس وقت دو اور حملہ آوراندر داخل ہوئے، اپنے ساتھی کی لاش دیکھ کر وہ ایک ساتھ شریک پر پل پڑے ،ان کے پیچھے ایک قد آور شخص ہاتھ میں برچھی لےے اندر گھسا ۔
شریک نے جھکائی دے کرایک حملہ آورکی تلوار کا وارخطا کیا، پھر اچھل کر ایک طرف ہوتے ہوئے اس نے دوسرے حملہ آور کا حملہ بے کار کیا اور اس کے ساتھ اس کی تلوار پہلے آدمی کانرخرہ کاٹتی ہوئے گزر گئی ۔وہ تلوار سونت کر دوسرے کی طرف مڑا مگر اس پہلے کہ وہ اس پر کوئی وار کرپا تا نووارد قد آورنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی برچھی بجلی کی سی سرعت سے اس کی طرف پھینکی ۔شریک کا دھیان سامنے والے شخص کی طرف تھا ۔تیز رفتار برچھی دستے تک اس کے سینے میں گھس گئی تھی ۔عاقدہ سکتے کی حالت میں بیٹھی تھی ۔محبوب شوہر کو برچھی لگتے دیکھ کر چیخ مار تے ہوئے لپک کر اس کے پاس آئی ۔شریک گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھا اور پھر بے جان ہو کر پیچھے لیٹ گیا ۔
”نہیں ۔“کہتے ہوئے اس نے شوہر کے ہاتھ سے تلوار جھپٹی اورزخمی شیرنی کی طرح برچھی پھینکنے والے کی طرف لپکی ۔
اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی عورت اس تیزی سے حملہ کر سکتی ہے۔عاقدہ نے تلوار گھما ئی ،نشانہ برچھی والے کی گردن تھا ۔اس نے جلدی سے سرپیچھے ہٹایا، مگر اس کے باوجود ایک اچٹتا ہوا وار اس کے چہرے پر ایک لمبا زخم چھوڑ گیا تھا ۔عاقدہ کے دوبارہ تلوار سوتنے سے پہلے دوسرے آدمی نے عقب سے تلواراس کی پیٹھ میں گھونپ دی ۔وہ بھی اپنے شوہر کے پہلو میں گر گئی تھی ۔
اس خیمے سے متصل ،چھوٹے خیمے میں پردے کی اوٹ سے عریسہ بنتِ منظر سارا منظر دیکھ رہی تھی ۔ عاقدہ کے گرتے ہی اس کے منہ سے تیز سسکی برآمد ہوئی ۔جسے حملہ آوروں نے باآسانی سن لیا تھا ۔ عاقدہ کو ہلاک کرنے والے نے آگے بڑھ کر درمیان میں پڑا پردہ تلوار کی نوک سے ہٹایا ۔عریسہ بنتِ منظر نے بھاگ کر بچے کو گود میں اٹھا لیا ۔
حملہ آور نے عریسہ بنتِ منظر کی گردن اڑانے کے لےے تلوار سونتی ،مگر پھر جانے کیا سوچ کر اس کی تلوار نیچے ہو گئی ۔بچے نے رونا شروع کر دیا تھا ۔عریسہ اسے چھاتی سے لگا کر چپ کرانے لگی ۔ چندلمحے پہلے ماں باپ کی دولت سے بہرہ مند بچہ ایک دم یتیم ہو گیا تھا ۔
”باہر چلو ۔“حملہ آور نے تلوار کی نوک سے اسے ٹہوکا دیا ۔اور وہ لرزتے قدموں باہر کی طرف چل دی ۔قدآور حملہ آور چہرے پر کپڑا باندھ کر خون کا اخراج روکنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
”سردار !….اس کے علاوہ یہاں کوئی نہیں بچا۔“عاقدہ کو مارنے والا ،قد آور شخص کو مخاطب ہوا۔
وہ سر ہلا کر پٹی باندھنے میں مصروف رہا ۔
باہر نکلتے ہی عریسہ بنتِ منظر کو چاروں طرف گھڑ سوار دندناتے نظر آئے ۔
”اشماس !….“عریسہ بنتِ منظر کو باہر لانے والا، زور سے پکارا ۔
”کیا بات ہے ؟“ایک گھڑ سوار نے آگے بڑھ کر پوچھا ۔
”سردار زخمی ہے ،اس کی مرہم پٹی کر دو ۔“
اشماس سر ہلاتا ہوا خیمے میں گھس گیا ۔سردار کی مرہم پٹی ہونے تک باقی حملہ آور وں نے قافلے کے بچ جانے والے لوگوں کو میدان میں اکٹھا کر لیا تھا ۔قافلے میں عاقدہ بنت ثعلبہ ،عریسہ بنتِ منظر اور بوڑھے اسفند بن احمرکی بیوی کے علاوہ کوئی عورت شامل نہیں تھی ۔عاقدہ اور اسفند کی بیوی ماری جا چکی تھی۔بچ جانے والوں میں دس بارہ نوجوان اور عریسہ بنتِ منظر شامل تھے ۔تھوڑی دیر بعد وہ قافلے کا تمام سامان قافلے والوں کے اونٹوں پر لاد چکے تھے ۔لاشوں کے کپڑے تک انھوں نے اتار لےے تھے۔
بچ جانے والوں کو مرنے والے اقربا ،کے دکھ کے ساتھ اپنی موت کا خوف بھی لاحق تھا۔ عریسہ بنتِ منظر تو باقاعدہ سسکیاں بھر رہی تھی ۔وہ جوان تھی اور جانتی تھی کہ جوان عورت کے ساتھ وہ وحشی کیا سلوک کرتے تھے ۔چھوٹے بچے کو اس نے بڑی سختی سے چھاتی سے بھینچاہوا تھا ۔گویا وہ اس کا محافظ ہی تو ہو ۔
سامان لدنے کے بعد جسیم سردار قیدیوں کے پاس آیا ۔حملہ آوروں نے انگاروں پر لکڑیوں کا انبار ڈال کر ایک بڑا الاو¿ روشن کر دیا تھا ۔آگ کی روشنی میں عریسہ بنتِ منظر کو سردار کے چہرے پر بندھی ہوئی بڑی سی پٹی نظر آئی جو عاقدہ کے دےے ہوئے زخم کی مرہونِ منت تھی ۔اس کا ڈراو¿نا چہرہ مزید کریہہ اور بھیانک ہو گیا تھا ۔وہ ایک نوجوان سردار تھا مگر چہرے پر چھائی کرختگی نے اس کی عمر کو دگنا کر دیا تھا ۔وہ ایک ایک قیدی کے سامنے جا کر اس کا جائزہ لینے لگا ۔
”کیا نام ہے ؟“ تیسرے قیدی کے سامنے رک کر سرغنہ نے دبنگ لہجے میں پوچھا ۔قد کاٹھ کی طرح اس کی آواز بھی نہایت کھردری تھی ۔
”سانف بن ارسل۔“جوان آدمی تھوک نگلتے ہوئے بولا ۔اس کا بازو اور ٹانگ زخمی تھی ۔ قدآور سردار نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔اور اپنے عقب میں آتے ہوئے آدمی کو کہا
”یہ زخمی ہے ۔“
”جی آقا ۔“کہہ کر اس آدمی نے آگے بڑھ کر سانف کو پکڑا اور قیدیوں کی قطار سے باہر کھینچا، سانف لنگڑاتے ہوئے آگے بڑھا مگر اسے تیسرا قدم اٹھانے کا موقع نہیں مل سکا تھا ۔قزاق کی تلوار تیزی سے حرکت میں آئی، اگلے لمحے سانف کی گردن تن سے جدا ہو گئی تھی ۔
چھٹے آدمی کے پاس سردار ایک مرتبہ پھر رک گیا ۔
”یہ بھی زخمی ہے ۔“
قیدی گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا ۔”نہیں سردار معمولی زخم ہے ۔“سردار کے ہونٹوں پر زہر خند ہنسی نمودار ہوئی ۔
”رغال !….یہ جھوٹ بول رہا ہے ۔”زخمی غلام کوئی نہیں خریدا کرتا ۔اور میرا خیال ہے ہمارے پاس اتنا فالتو ذخیرہ خوراک نہیں دھرا کہ زخمیوں کو بٹھا کر کھلاتے رہیں ۔“
”جی آقا !“رغال نے اس مرتبہ قیدی کو پکڑکر اسے باہرکھینچا،اس کا رنگ زرد پڑ گیا تھا ۔
وہ منمنایا۔”سردار رحم ……..“اور اس سے آگے رغال نے اسے بولنے کا موقع نہیں دیا تھا۔ اس کی گردن سانف کی گردن سے ایک ہاتھ کے فاصلے پر گری تھی ۔
”بچہ تمھارا ہے ؟“اس مرتبہ سرغنہ نے عریسہ بنتِ منظر کے سامنے رک کر پوچھا ۔
اس نے کانپتے ہوئے نفی میں سر ہلادیا ۔
”بچے کو آگ میں پھینک دو ۔“سر غنہ نے اطمینان سے کہا اور پیچھے مڑا ۔عریسہ بنتِ منظر سرعت سے اس کے قدموں میں گری ۔
”سردار!…. رحم،لات کے واسطے ۔“
”میرا،بھروسانسر پر ہے ۔“
”سردار !….نسر کا واسطہ ہے ….اس کا سایہ ہمیشہ تمھارے سر پر قائم رہے ۔“
رغال نے لقمہ دیا ۔”آقا !….صحارکے میلے میں کبھی کبھی چھوٹے بچوں کے خریدار بھی مل جاتے ہیں ۔“
سرغنہ نے رک کر پوچھا ۔”میلے میں کتنے سورج باقی ہیں ؟“
”سردار!…. اگلے چاند کے آغاز میںمیلہ شروع ہو جائے گا ۔“
”چھوڑ دو ۔“سرغنہ آگے بڑھ گیا ۔
عریسہ بنتِ منظر کو انھوں نے بچے سمیت ایک اونٹ پر بٹھا دیا تھا ،جبکہ باقی قیدیوں کو سواری مہیا نہیں کی گئی تھی ۔وہ بے چارے بندھے ہاتھوں سے ان کے ساتھ چلتے رہے ۔لادو اونٹوں کی وجہ سے ان کی رفتار اتنی تیز نہیں تھی ۔سپیدہ سحر نمودار ہونے کے ساتھ وہ ایک بستی میں پہنچ گئے تھے۔تمام کو ایک بڑے جھونپڑے میں بند کر دیا گیا ۔جھونپڑے کے آگے اور عقب میں ایک ایک محافظ مقرر کر کے ۔وہ مال غنیمت سنبھالنے لگے۔
عریسہ بنتِ منظر کو بھی انھوں نے باقی قیدیوں کے ساتھ ہی بند کر دیا تھا ۔سارے خاموشی سے گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گئے تھے۔
اچانک بچے نے رونا شروع کر دیا ۔اسے خوراک چاہےے تھی ۔اس وقت عریسہ پر یہ روح فرسا انکشاف ہوا کہ بچے کی خوراک کے ضمن میں وہ کوئی بندوبست نہیں کر سکتی تھی ۔
”اسے چپ کراو¿۔“بچے کا لگاتار رونا سن کر سامنے والے محافظ نے دروازہ کھول کر سخت لہجے میں کہا ۔
”یہ بھوکا ہے۔؟“عریسہ دبے لہجے میں بولی ۔
”تو دودھ پلواو¿اسے ۔“
”اس کی ماں ماری جا چکی ہے ؟“
”تو پھر گلا گھونٹ دو ….ایسے بھوکا مارنے کا فائدہ ۔“
عریسہ اٹھ کر اس کے قریب ہوئی ۔”تمھیں نسر کا واسطہ یااخی !….کیا قبیلے میں کوئی ایسی عورت نہیں ہے جو اسے نسر کے نام پر دودھ پلا سکے ؟“
”دودھ پلانے کا معاوضا کون دے گا ؟“
”مم….معاوضا۔“وہ گڑ بڑا گئی تھی ۔
”اچھا تم باہر آ جاو¿۔“
عریسہ بنتِ منظر جھجکتے ہوئے باہر نکلی ۔
”اگر ایک وعدہ کرو تو میں تمھارا یہ کام کر سکتا ہوں ۔“
”کیسا وعدہ ؟“اس کا دل بری طرح دھڑکنے لگا تھا ۔
”سردار ابھی آرام کرے گا ۔اور رات کو تمھیں اس کی خدمت میں پیش کیا جائے گا ۔اگر تم وعدہ کرو کہ سردار کو یہ نہیں بتاو¿ گی کہ تمھارے پاس آنے والا وہ دوسرا ہے ۔تو میں اس بچے کے لےے دودھ کا بندوبست کر سکتا ہوں ۔“
عریسہ کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا ،وہ محافظ کا مطلب جان گئی تھی ۔لیکن اس کے ساتھ ہی اسے خیال آیا کہ اب یہ سب اس کا مقدر ہے ۔چاہے سردار ہو یا کوئی دوسرا، تیسرا ۔اس نے تو یہ اذیت جھیلنا تھی۔ اس نے خاموشی سے سر جھکا لیا ۔
”ادھر کرو اسے ۔“محافظ نے بچہ اس کے ہاتھ سے جھپٹا ۔”میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔“عریسہ بنتِ منظر کو دوبارہ بند کر کے وہ ایک مخصوص سمت کوبڑھ گیا ۔اس کا رخ اپنی ہمشیرہ کے گھر کی طرف تھا جو پچھلے ماہ ایک بچے ماں بنی تھی ۔
”یہ کون ہے ؟“وہ بچے کو دیکھ کر حیران رہ گئی تھی ۔
وہ ہنسا ۔”یہ نیا قیدی ہے ۔اس کی ماں ماری جا چکی ہے۔اور اگر اسے دودھ نہ ملا تو شاید جلد ہی اپنی ماں کے پاس پہنچ جائے ۔“
”ٹھیک ہے نا ،بچھڑے ہوو¿ں کا ملاپ ہو جائے گا ۔“
”شموس !….مذاق نہ کرو اسے دودھ پلاو¿ اور جب تک یہ بک نہیں جاتا اسے دودھ پلانا پڑے گا ۔“
شموس نے بگڑ کر کہا ۔”مفت تو میں اپنے بچے کو بھی دودھ نہ پلاو¿ں۔“
”میں کوشش کروں گا کہ سردار سے تمھارے لےے کچھ لے لوں ،یا پھر اس بچے کا جو معاوضا ملے گا اس میں سے چوتھا حصہ تمھیں دیا جائے ۔“
”درہم کی چوتھائی ہی ملے گی۔“شموس نے منہ بناتے ہوئے بچے کو پکڑا اور بے دلی سے چھاتی سے لگا لیا ۔بچہ کافی دیر سے بھوکا تھا ۔نامانوس لمس سے زیادہ اسے پیٹ بھرنے کی فکر ہوئی ۔
میں تھوڑی دیر بعد آ کر اسے لے جاو¿ں گا ۔“وہ بچے کو بہن کے پاس چھوڑ کر قیدیوں کے جھونپڑے کی طرف بڑھا ۔عریسہ بنتِ منظر کا جوان بدن اس کی آنکھوں کے سامنے لہرا رہا تھا ۔
سب سے پہلے اس نے عقبی محافظ کو اعتماد میں لے کر ساری کہانی سنائی اور پھر اس کی رضامندی پر عریسہ بنتِ منظر کو باہر بلا لیا ۔
عریسہ بنتِ منظر کافی دیر بعد جھونپڑے میں لوٹ سکی تھی ۔قیدیوں کے لےے اس کی اذیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا مگر وہ خود بے بس تھے ۔ان کی نگاہوں کے سامنے غلامی کی ذلت آمیز زندگی لہرا رہی تھی۔ عریسہ بنتِ منظر کونے میں سمٹ کر بیٹھ گئی تھی ۔تھوڑی دیر بعد محافظ بچے کو اس کے حوالے کر گیا ۔ بچہ گہری نیند میں تھا ، پیٹ کی آگ بجھانے کے بعد اسے نیند آ گئی تھی ۔وہ معصوم یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی خوراک کی خاطر کسی پر کیا گزر چکی ہے ۔
٭٭٭
رات تھوڑی سی گہری ہوئی تو عریسہ بنتِ منظر کے لےے سردار کا بلاوا آ گیا ۔وہ ایک مرتبہ پھر اذیت سہنے کے لےے بند ی خانے سے باہر لے جائی گئی ۔یہ بات قیدیوں کے معمول سے ہٹ کے نہیں تھی تمام قیدی جانتے تھے کہ غلاموں اور باندیوں کے ساتھ مالک کیا کچھ کر سکتے تھے ۔وہ خاموشی سے عریسہ بنتِ منظر کو محافظوں کے ساتھ جاتا دیکھتے رہے ۔بچے کو پہلے والا محافظ دوبارہ اپنی بہن کے پاس چھوڑ آیا تھا ۔عریسہ بنتِ منظر کی واپسی سورج نکلنے کے بعد ہی ہو سکی تھی ۔دوپہر کے وقت انھیں کل کی نسبت اچھا کھانا دیا گیا ۔یقینا انھیں کمزور کر کے بیچنے میں قزاقوں کا اپنا نقصان تھا ۔
عریسہ بنتِ منظر کی واپسی کے چند لمحے بعد محافظ نے بچہ لا کر اس کے حوالے کر دیا تھا ۔وہ کسی سے بات چیت کےے بغیر بچے کو چھاتی سے لگا کر زمین پر لیٹ گئی ۔وہ بچہ ،جس کا نام رکھنے کی اجازت اسے نہیں ملی تھی اب اس کا تھا ،وہی اس کی ماں اور محافظ تھی،قزاقوں کے لےے تو وہ کسی کام کا نہیں تھا ۔وہ بہ مشکل چند گھڑیاں ہی آرام کر پائی ہو گی کہ بچہ پھر خوراک کے لےے بلکنے لگا ،وہ اٹھ کر دروازے کھٹکھٹانے لگی ۔
باہر سے درشت آواز میں پوچھا گیا ۔”کیا ہے ؟“
”بچہ بھوکا ہے۔“وہ منمنائی ۔
”تو میں کیا کروں ؟“وہ نیا محافظ تھا ۔
”اسے غنم کی بہن، شموس کے پاس لے جاو¿۔“
”بچہ تمھارا ہے اور اسے دودھ شموس پلائے گی ۔“
”ہاں ….“وہ اسے تفصیل بتانے لگی مگر محافظ کو تفصیل سے زیادہ اس کے جوان بدن سے دلچسپی تھی ۔ عریسہ بنتِ منظر جانتی تھی کہ اب یہ اس کا مقدرہے اور مقدر سے لڑ کر بھی نہیں جیتا جا سکتا۔
”پہلے بچہ شموس کے پاس چھوڑ آو¿ ۔“ اس کا مطمح نظر جاننے کے بعد وہ اذیت بھرے لہجے میں بولی اور محافظ نے دانت نکالتے ہوئے بچہ اس کے ہاتھ سے لے لیا ۔
٭٭٭
حاجب بن قارب کو لگا کسی نے اس کی پنڈلی پر زور دار چٹکی کاٹی ہو ۔اس کے منہ سے کراہ نکلی اور اس کی آنکھیں کھل گئیں ۔چند لمحے تک تو آنکھیں کھلنے کے بعد بھی اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ اسے کیا ہوا ہے ۔اسی دوران اسے پھر پنڈلی پرکسی چیز کے کاٹنے کا احساس ہوا ،وہ کراہ کر اٹھ بیٹھا ۔وہ ایک گدھ تھا اسے اٹھتے دیکھ کر ڈر کر اڑا اور تھوڑی دور پڑی ایک دوسری لاش کے پاس جا بیٹھا ۔اسی وقت حاجب بن قارب کو یاد آیا کہ وہ کس مشکل صورت حال سے دوچار ہے ۔چاروں طرف پھیلی لاشوں کو دیکھ اس کا دل بیٹھنے لگا ۔خود اس کے پیٹ میں بھی ایک گہرا گھاو¿ موجود تھا جبکہ اس کے بدن پر کپڑے کا ایک تار بھی موجود نہیں تھا ۔بیٹھنے کی وجہ سے اسے زخم میں شدید تکلیف کا احساس ہوا اور زخم پر جما خون ایک مرتبہ پھر بھل بھل کربہنے لگا ۔وہ دوبارہ لیٹ گیا ۔اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ یہ کیا ہو گیا ہے ۔ایک ہاتھ زخم پر رکھ کر وہ اپنے والد کو یاد کر کے رونے لگا۔اسے وہیں پڑے کافی دیر ہو گئی ۔سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔اور پھر یہ چمک آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگی ۔نقاہت سے اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں ۔ بہت زیادہ خون بہنے کی وجہ سے اس کے بدن میں بالکل طاقت نہیں رہی تھی ۔
اچانک اس کے زخم میں جیسے کسی نے چھری گھونپ دی ہو ۔وہ چیخ مار کر اٹھ بیٹھا ۔ایک منحوس صورت گدھ اچھل کر چند قدم دور پڑی لاش کو نوچنے لگا ۔
”اے لات ،اے عزیٰ ،اے ہبل مجھے بچا لو ۔“وہ اپنے بتوں کو یاد کرنے لگا کافی دیر بتوں کو پکارنے کے بعد اس کی نظر آسمانوں کی طرف اٹھی اور وہ اللہ پاک کو پکارنے لگا ۔۔”اے آسمانوں کے ربّ تو ہی میرے حال پر رحم فرما ۔“[یاد رہے کہ دور جاہلیت میں بھی عرب اللہ پاک کو مانتے تھے مگر اس کی طاقت اور بادشاہت میں دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے اس لیے انھیں مشرک کہا جاتا ہے۔مشرک کا معنی ہی یہی ہے کہ وہ شخص جو اللہ پاک کو تو مانے مگر اس کی بادشاہت میں دوسروں کو بھی شریک ٹھہرائے اور جو اللہ پاک کو بالکل نہ مانے اسے مشرک نہیں بلکہ دہریہ کہا جاتا ہے ]
سورج کی سفیدی سرخی میں تبدیل ہوئی ،رات کی آمد نے حاجب بن قارب کے دل میں خوف کی لہر دوڑا دی تھی ۔ان منحوس گدھوں سے تو وہ بچ گیا تھا مگر رات کو نکلنے والے بھیڑیوں ،گیدڑوں اور دوسرے مردار خور جانوروں سے بچنا اسے بہت مشکل نظر آ رہاتھا ۔وہ اتنی زیادہ کمزوری محسو س کر رہا تھا، کہ ریت پر گھسیٹ کر بھی کہیں نہیں جاسکتا تھا ۔اسے سخت پیاس محسوس ہو رہی تھی ۔پیاس کی شدت ، ذہنی و جسمانی تکلیف ،مرنے والوں کی یاد اور موت کو سامنے پا کر اس کی حالت عجیب سی ہو رہی تھی ۔ روتے روتے اس کے آنسو خشک ہو گئے تھے۔
وہ چند لمحوں سے زیادہ نہ بیٹھ سکا اور پھر نقاہت سے لیٹ گیا ۔اچانک اس کے کانوں میں گھنٹیوں کی آواز گونجی ۔پہلے تو اس نے اپنا وہم سمجھا ۔مگر مسلسل بجنے والی گھنٹیوں نے اس کے بدن میں خوشی کی لہر دوڑا دی تھی۔
لیٹے لیٹے اس کی نگاہیں آنے والے قافلے کی سمت نگراں رہیں ۔پہلے اونٹ کے نمودار ہوتے ہی اس کے کانوں میں کسی کے چیخنے کی آواز آئی تھی ۔
چند لمحوں بعد ہی قافلے والے اونٹوں سے اتر کر اس نخلستان میں پھیل گئے تھے ۔ایک آدمی حاجب بن قارب کے بھی قریب آیا ۔اس نے ہاتھ ہلا کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا کہ نقاہت کی وجہ اور پیاس کی شدت کی وجہ سے اس سے بولا نہیں جا رہا تھا ۔اس کے ہاتھ کی حرکت دیکھ کر نووارد چیخا ۔
”یہ زندہ ہے ….یہ زندہ ہے ۔“اس کی خیخ و پکار پر تمام حاجب بن قارب کے گرد جمع ہو گئے تھے ۔
”جوان !….کیا اس قابل ہو کہ اس خون ریزی کی وجہ ہمارے کانوں تک پہنچا سکو؟“ایک بوڑھا آدمی اس کے پاس بیٹھ کر مستفسر ہوا۔
جواباََ آنسوو¿ں کے قطرے اس کی آنکھوں کے گوشوں سے پھسلنے لگے مگر وہ زبان سے کچھ نہیں کہہ سکاتھا۔
”کلاب بن رجیع!….یہ موت سے نبرد آزماہے۔پہلے اس کی مرہم پٹی کرو ،پانی سے اس کے بدن اور زبان کو طاقت دو۔ پھر یہ کچھ کہنے کے قابل ہو سکے گا ۔“
”جی سردار !“کہہ کر کلاب بن رجیع نے ایک بندے کو آواز دی ۔
”اسود!….پانی کامشکیزہ لے آو¿۔“
اسود کجاوے سے بندھا مشکیزہ کھولنے لگا ۔مشکیزہ کھول کر اس نے کلاب کے حوالے کیا اور وہ حاجب بن قارب کے منہ میں پانی کے قطرے ٹپکانے لگا ۔وہ گویا آب حیات تھا ۔حاجب بن قارب کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ایک دم مشکیزے کا منہ کھول دے مگر کلاب جہاں دیدہ شخص تھا ۔پہلے وہ حاجب بن قارب کے زخم کا اندازہ لگانا چاہتا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ اس کا معدہ زخمی ہو چکا ہو ایسی صورت میں پانی اسے مزید نقصان پہنچا سکتا تھا ۔مگر چند گھونٹ پانی پینے کے بعد بھی جب اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمودار نہ ہوئے تو اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کا معدہ محفوظ ہے ۔اس کے باوجود وہ اسے قطرہ قطرہ پانی پلاتا رہا ۔
کلاب بن رجیع اور اسودبن مرشد کو حاجب بن قارب کے پاس چھوڑ کر قافلے کا سردار باقی لوگوں کو چاروں طرف بکھری لاشوں کو اکٹھا کرنے کی ہدایات دینے لگا ۔
تمام لوگ نخلستا ن میں پھیل گئے تھے ۔ لاشوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے بعد سردار کے حکم سے وہ گڑھا کھودنے لگے ۔نرم ریت میں کھدائی اتنی مشکل نہیں ہوتی ۔کھدائی کے اوزار تو یوں بھی ہر قافلے کا جزو لاینفک ہوتے تھے ۔
کلاب بن رجیع سردار کے قریب پہنچا ۔”سردار گھاو¿ ،گہرا ہے، داغنا پڑے گا۔“
سردار نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دو آدمیوں کو ایندھن اکٹھا کرنے کا حکم دیا،جبکہ باقی آدمی گڑھا کھودنے میں مصروف رہے ۔
پھاوڑوں کے استعمال سے جلد ہی انھوں نے کافی گہرا گڑھا کھود لیا تھا ۔مناسب گڑھا کھودنے کے بعد وہ لاشوں کو اندر ڈالنے لگے ۔
اس دوران کلاب بن رجیع آگ جلا کر اس میں چوڑے پھل کا خنجر رکھ چکا تھا ۔
آگ کے خوب روشن ہوتے ہی سردار، کلاب بن رجیع کے قریب آگیا۔اسود ،حاجب بن قارب کو شراب پلا رہا تھا ،کیونکہ زخم داغنے سے پہلے اس کا مد ہوش ہونا ضروری تھا ۔خنجر کے خوب سرخ ہونے تک وہ آگ دہکاتے رہے ،اس دوران کثرت شراب نوشی سے حاجب بن قارب کی آنکھیں بند ہونے لگیں تھیں ۔
لاشوں کو دفنا کر باقی قافلے والے بھی ان کے قریب آ گئے تھے ۔کلاب بن رجیع کے اشارے پر دو آدمیوں نے حاجب بن قارب کو کندھوں اور ٹانگوں سے مضبوطی سے پکڑ لیا تھا ۔
کلاب بن رجیع نے ایک موٹے کپڑے کی مدد سے خنجر کو پکڑا اور پھر بغیر کسی تاخیر کے حاجب کے زخم پر رکھ دیا ۔
”آ آ آہ….“حاجب بن قارب کے منہ سے اذیت بھری چیخ خارج ہوئی اور اس کا بدن بے ساختہ پھڑکنے لگا ،مگر دونوں آدمیوں نے اسے بڑی سختی سے جکڑا ہوا تھا ۔ جلتے ہوئے خنجر سے ماس جلنے کی بد بو پھیل گئی تھی ۔اور پھر اذیت کی شدت سے حاجب بن قارب بے ہوش ہو گیا ۔ کلاب نے اطمینان سے زخم پر دھرے خنجر کو اٹھایااور پھر ایک پرانی چادر سے پٹی پھاڑ کر زخم پر باندھنے لگا ۔
٭٭٭
اندھیرے نے مکمل طور پر روشنی کو نگل لیا تھا ۔ٹمٹماتے ستارے ،اندھیرے سے برسر پیکار تھے مگر اندھیرے کے سامنے ان کی دال نہیں گل رہی تھی ۔چاند تین چوتھائی سفر طے کر چکا تھا۔اس کے طلوع ہونے تک اندھیرے کا راج ہی رہنا تھا۔
سردار نے قافلے کے زیادہ ترمردوں کو پہرے داری پر بٹھا دیا تھا ۔وہ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا ۔ایک قافلے کا انجام اس کی نگاہوں کے سامنے تھا۔باقی لوگ بھی اس خطرے انجان نہیں تھے ۔
کلاب بن رجیع اور اسود بن مرشدہنوز زخمی حاجب کے قریب موجود تھے۔گاہے گاہے وہ جلنے والے الاو¿ پر لکڑیاں بھی پھینک دیتے تھے ۔
”میرا خیال ہے ،نیند سے لڑنے کے بجائے ہتھیار ڈال لینے چاہئیں ۔“کلاب نے اسود کی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر مشورہ دیا ۔
”ٹھیک ہے ۔“اسودنے اس سے متفق ہوتے ہوئے کہا ۔”جب آرام کی ضرورت محسوس کرنا تو مجھے آواز دے دینا ۔“
کلاب نے منہ سے کچھ کہے بغیر اثبات میں سر ہلا دیا ۔
پہرے داری پر متعین افراد قافلے کے چاروں اطراف میں فرلانگ فرلانگ بھر کے فاصلے پر موجود تھے تمام نے اونچی جگہوں کو بیٹھنے کے لیے پسند کیا تھا اوروہ جوڑیوں کی شکل میں تھے ۔کسی بھی خطرے سے نبٹنے کے لیے وہ ذہنی طور پر چوکناتھے ۔سرِ شام لاشوں کے نظارے نے انھیں خوف کے ساتھ سمجھ بھی عطا کردی تھی ۔
رات کے پچھلے پہرجھینپے جھینپے چاند نے سر ابھارا،کلاب کی آنکھوں کو نیند کی حاجت محسوس ہونے لگی تھی ۔اس نے اسود کو جگانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ حاجب بن قارب نے کراہ کرآنکھیں کھول دیں۔اس کے ساتھ ہی وہ تکلیف دہ انداز میں بڑبڑانے لگا ۔کلاب نے اس کے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر آسرا دے کر اسے اٹھایا اوراونٹنی کے دودھ سے بھرا پیالہ اس کے ہونٹوں سے لگا دیا ۔
کچھ دودھ اس کے منہ میں گیا تھوڑا دائیں بائیں گرا ۔پیالہ خالی کر کے کلاب نے نیچے رکھا اور حاجب کو دوبارہ لٹا دیا ۔ددھ کے اندر اس نے جڑی بوٹیوں کا سفوف بھی ملا یا تھا جو زخم کو جلد ٹھیک کرنے کے ساتھ درد میں بھی افاقہ کرتا ۔
حاجب بن قارب کا بڑبڑانا جاری تھا ۔کلاب نے اسود کو جگا یااورخود لیٹ گیا ۔
وہ اگلے دن سہ پہر تک اسی جگہ پر رہے اس کے بعد سردار کے حکم سے کوچ کی تیاریاں ہونے لگیں ۔حاجب ابھی تک کچھ بتانے کے قابل نہیں ہوا تھا ۔اس کا اونٹ پر بیٹھ کر سفر کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔سردار کے حکم پر کجاوے میں بستر بچھا کر اسے لٹا دیا گیا تھا ۔سورج کی تمازت میں کمی آتے ہی وہ آگے چل پڑے ،سردار وہاں ٹھہر کر مزید خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا ۔
٭٭٭
جب وہ میلے پر جانے کے لےے تیا ر ہوئے تونیا چاندظاہر ہونے والا تھا۔(صحار کا میلہ عمان میں لگتاتھایہ یکم رجب سے پانچ رجب تک جاری رہتا تھا)عریسہ بنتِ منظر دل ہی دل میں دعا مانگ رہی تھی کہ اسے کوئی نیک دل آدمی خریدے ۔
سفر طویل ہونے کے باوجو د انھوں نے قیدیوں کے لےے کسی سواری کا بندوبست نہیں کیا تھا ، صرف عریسہ بنتِ منظر کو عورت ہونے کی وجہ سے ایک اونٹ پر جگہ ملی تھی ۔قیدیوں کی تعداد تیس سے بھی زیادہ تھی۔ اس میں دس افراد تو شریک کے قبیلے بنو جساسہ کے تھے باقی کے کچھ افراد پہلے سے ان کی قید میں تھے اور کچھ چند دن ہوئے ان کے ہاتھ چڑھے تھے ۔غنم بن سلول کی سفارش پر سردار نے اس کی بہن شموس کو بھی ساتھ رکھا تھا تاکہ بچے کو دودھ ملتا رہے ۔
میلہ پانچ دن تک جاری رہتا تھا ۔غلاموں کے علاوہ وہاں مختلف ممالک کے سامان کی بھی خریدوفروخت ہوتی تھی۔گھوڑے،اونٹ ،مویشی ،جانوروں کی کھالیں ،مختلف قسم کے ہتھیار،خشک کھجوریں ، زیتون کا تیل،چمڑے کے جوتے ،اونی، ریشمی چادریں الغرض ہر قسم کے سامان کی وہاں بہتات ہوتی تھی۔ میلے میں شرکت کے لےے حجاز کے علاوہ روم،فارس،یمن سے بھی تاجروں اور ضرورت مندوں کی ایک کثیر تعداد وہاں جمع ہوجاتی تھی۔گھڑ دوڑ،اونٹوں کی دوڑ ،تلوار بازی ،تیر اندازی ،جسمانی زورآزمائی جیسے مختلف کھیل بھی اس میلے کا حصہ تھے۔
چونکہ ان کے غلام جسمانی لحاظ سے صحت مند اور ظاہری عیوب سے پاک تھے اس لےے عریسہ بنتِ منظر اور بچے کے علاوہ پہلے ہی دن ان کے تمام غلام بک گئے تھے ۔ امید سے زیادہ دام وصول کر کے وہ بہت خوش تھے۔
رات کے وقت میلے کی رونق ماند پڑ جاتی تھی ۔لیکن کسبیوں کے خیموں کی رونق میں اضافہ ہو جاتاتھا۔شراب و شباب کا دور چلتا ۔پہلے شوقین لوگ مغّنیہ کے گیتوں سے مستفید ہوتے بعد میں شب بسری کے لیے قحباوں کے حصول کے لیے تھیلیوں کا منہ کھول دیتے ۔
گھڑ دوڑ اور اونٹوں کے مقابلے تین مراحل میں ہوتے تھے ۔ گھڑ دوڑ کے لےے ایک چھے کوس طویل جلبہ (گھڑ دوڑ کا میدان) مختص تھا ۔پہلے دن دس دس گھڑ سواروں کی ٹولیاں اپنے گھوڑے بھگاتے ہوئے میدان کے ایک سرے سے میلے کے وسط تک دوڑ کر آتے ۔ہرباری میں مجّلی(پہلا نمبر) اورمصّلی( دوسرے نمبر ) آنے والے گھوڑے کو اگلے مرحلے میں شرکت کے لےے چنا جاتا ،پیچھے رہ جانے والے آٹھ گھوڑے مقابلے سے خارج کر دئےے جاتے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا جب تک کہ آخری مقابلے کے لےے دس گھوڑے نہ بچ جاتے ۔دلچسپ بات یہ تھی کہ مقابلے سے گھوڑے خارج کےے جاتے تھے سوار نہیں ،کوئی بھی سوار دوسرے گھوڑے کے ساتھ دوبارہ حصہ لے سکتا تھا ،گویا گھڑ دوڑ میں اصل ہار جیت گھوڑوں ہی کی ہوتی تھی ۔
انعام ساتویں نمبر تک آنے والے گھڑ سوارکو ملتا تھا ۔عربوں نے ان دس نمبروں پر آنے والے گھوڑوں کے لےے نام بھی رکھ چھوڑے تھے جیسے کہ اول آنے والے کو مجّلی،پھر مصّلی،المسلی،المتالی، مرتاج،العاطف،الحظی، مومل،اللطیم،اَسِّکیّت،یہ بالترتیب دس نام ہیں جن میں الحظی تک ،یعنی پہلے سات گھوڑوں کو انعام سے نوازا جاتا اور آخری تین محروم رہ جاتے ۔
اونٹوں کی ریس کے علاوہ وزن اٹھانے کابھی مقابلہ ہوتا۔جوانوں کی کشتیاں ،تلوار بازی اور تیر اندازی کا بھی مقابلہ ہوتا ۔اس کے علاوہ لوگ مختلف قسم کے مویشی جیسے بھیڑ بکری ، شکاری کتے ، گدھے، خچروغیرہ کی بھی خرید و فروخت کرتے ۔ہر قسم کے ہتھیار بھی وہاں بیچے ،خریدے جاتے ۔تلوار ، تیر کمان ،نیزے ،کلہاڑے ،خنجر،ڈھالیں ،زرہیں ،خود وغیرہ حسبِ ضرورت دستیاب ہوتے تھے۔
رات گئے میلے کی رونقیں مدہم پڑتیں ،خریدار ،خریدے گئے مال کا جائزہ لےتے اور بیچنے والے درہم دینار سنبھال کر آرام کرتے ۔ان تین دنوں میں چوری ،ڈکیتی کی بھی کافی وارداتیں ہوتیں ۔لوگ زیادہ تر ٹولیوں کی صورت میں میلے میں شمولیت کی غرض سے آتے تھے ۔
صحرائی قزاق بھی اس وقت اپنے سردار جبلہ بن کنانہ کے ہمراہ ایک بڑے سے خیمے میں موجود تھے ۔ان کی تعداد بیس کے قریب تھی ، غلاموں کی فروخت کے بعد وہ سارا دن ایسے قبائل کی ٹوہ میں رہے تھے، جنھیں واپسی کے سفر میں وہ نشانہ بنا سکتے تھے ۔اس لحاظ سے بہترین ہدف وہ ٹولیاں ہوتی تھیں جن کی تعداد کم ہوتی۔
”سردار !….یقین مانوبنونوفل کے سردار کی دونوں عورتیں اتنی خوب صورت ہیں کہ ان پر نظر نہیں ٹھہرتی ….اور دونوں کووہ ساتھ لے کے آیا ہوا ہے ۔“غنم بن سلول نے سردار کو متوجہ کیا ۔
”اب جبلہ ،دوعورتوں کے لےے قافلہ لوٹے گا ۔“جبلہ بن کنانہ نے منھ بنایا۔
”سردار!….آج پہلے مرحلے میں اس کا گھوڑا مجّلی(اول)ہوا ہے ،مجھے مکمل یقین ہے وہ یہ مقابلہ جیت جائے گا ۔انعام کے علاوہ اس نے اپنے قبیلے کے قریباََبیس جوان بھی ساتھ لائے ہوئے ہیں جن میں سے آدھے بھی زندہ ہاتھ لگ گئے تو محنت بے کار نہیں جائے گی، سب سے بڑھ کر لیلیٰ اور عکرشہ کا سوچو….وہ دونوں گلاب کے پھول کی مانند ہیں ….جنگل میں آوارہ پھرنے والی فربہ ابلق گھوڑی کی طرح بھرے بھرے کولہے ،چیتے کی سی کمر،غزال کی سی آنکھیں ……..“
”بس کرو غنم !….“سردار نے ہاتھ ہلا کر اسے مزید کچھ بولنے سے روکا ۔”اس کے علاوہ کسی نے کچھ کہنا ہو ؟“
”سردار!….بنو ابطح والے قلیل تعداد میں ہیں مگر انھوں نے کافی اونٹ خریدے ہیں ۔“ عیلان بن عبسہ نے زبان کھولی ۔
”نہیں !….“سردار نے نفی میں سر ہلایا۔”وہ سارے جنگجو اور لڑاکے ہیں ، بے شک وہ تعداد میں قلیل ہیں مگر آسان ہدف نہیں ہیں اور میں اپنے کسی آدمی کا نقصان نہیں چاہتا ۔“
”سردار!….میلے کے ختم ہونے میں ابھی تین سورج باقی ہیں ،اگر کوئی مناسب شکار نظر نہ آیا تو غنم کی تجویز پر عمل کر لیں گے ….بنو نوفل کے سردار سامہ بن تیم کی دونوں بیویاں واقعی بہت خوب صورت ہیں ،ان کے بہت اچھے دام ملیں گے ۔“اشماس بن ثابت نے تجویز پیش کی ۔اس کا باپ ایک قابل جراح تھا اور وہ خود بھی اس کام کو اچھی طرح جانتا تھا ۔اسی وجہ سے سردار اسے ہر سفر میں ساتھ رکھتا تھا ۔
اشماس کے مشورے کی تائید کرتے ہوئے سردار نے محفل برخاست کر دی۔ تمام اپنے اپنے بستروں کی طرف بڑھ گئے ،پہرہ دینے والے دو آدمی پہلے سے خیمے کے باہر ٹہل رہے تھے ۔
٭٭٭
وہاں سے اپنے قبیلے تک وہ چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں رکے تھے ۔حاجب بن قارب کی غذا بس اونٹنی کے دودھ تک محدود تھی ۔دوسرے دن اسے درد سے اتنا افاقہ ہو گیا تھا کہ وہ نحیف آواز میں کلاب کو اپنی آپ بیتی سنانے لگا ۔حملے کی رات کے بارے وہ کچھ زیادہ تفصیل نہیں بتا سکا تھا ۔کہ پیٹ میں تلوار کا زخم کھانے کے بعد اسے کچھ ہوش نہیں رہا تھا اور یقینا یہی بے ہوشی اس کے بچنے کا باعث بنی تھی۔اس کے قبیلے بنو جساسہ کا نام سن کر کلاب نے خوشی سے کہا۔
”بنو جساسہ تو ہمارے رستے ہی میں پڑتا ہے ،ہمارا تعلق بنو دیل سے ہے ۔“
حاجب نے نحیف انداز میں سر ہلا دیا ۔ قبیلے پہنچنے کی خوشی سے ،والد اور قریبی رشتا داروں کے قتل ہونے اور لٹ جانے کا دکھ کہیں زیادہ تھا ۔
٭٭٭
دوسرے دن ،رغال بن ذواب اور غنم بن سلول کو عریسہ بنتِ منظر اور بچے کی فروخت کی ذمے داری سونپ کر باقی تمام میلے میں گشت کرنے لگے ۔کافی لوگوں نے عریسہ بنتِ منظر کو پسند کیا تھا مگر وہ بچے کو ساتھ لے جانے پر راضی نہیں تھے ۔
”میرا تو خیال ہے اسے بیچ دیتے ہیں ….بچہ شاید کسی بھیڑئےے کی بھوک مٹادے۔“ سہ پہر ڈھلے ،رغال نے غنم کو مشورہ دیا ۔اس کی بات نے عریسہ بنتِ منظر کو لرزا دیا تھا ۔
غنم بن سلول نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔” شموس میری جان کو آ جائے گی ،میں نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ بچے کی فروخت کی مد میں ملنے والی رقم کا چوتھائی اسے دوں گا۔یہ بات میں نے سردار کو بھی بتائی ہوئی ہے ۔اور اب تو اس نے اس پِلّے کے لےے اتنا طویل سفر بھی طے کیا ہے ،گو اسے میلہ دیکھنے کا بھی شوق تھا ،مگر اس کی آمد اسی بچے کی مرہونِ منت ہے ۔“
رغال نے زور دار قہقہہ لگایا….”اسے کوئی مفت نہیں لے جارہا ،معاوضا خاک ملے گا۔اس کی وجہ سے لڑکی کی جانب بھی کوئی متوجہ نہیں ہورہا ۔“یہ بات رغال کے منہ میں تھی کہ شاہانہ لباس میں ملبوس ایک دراز قدفارسی وہاں سے گزرا ،اس کے پیچھے دست بستہ چلنے والے چھے محافظ اس کے اعلا عہدے دار ہونے کی چغلی کھا رہے تھے ۔وہ خود اپنی قامت اور ڈیل ڈول سے مرد میدان دکھائی دے رہا تھا ۔رغال کے بلند آہنگ قہقہے پر اس نے ان کی طرف سرگھمایا۔ ایک سرسری نظر ان پر ڈال کر وہ آگے بڑھنے ہی لگا تھا کہ اس کی اچٹتی ہوئی نگاہ عریسہ بنتِ منظر پر پڑی….وہ ایک دم رک گیا ۔
رغال کے دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہو گئی ،وہ اگر عریسہ بنتِ منظر کو خریدنے پر آمادہ ہو جاتا تو ضرور ان کے ہاتھ اچھا معاوضا لگتا ،مگر بچے کا خیال آتے ہی اس کے منہ میں کڑواہٹ گھل گئی ،وہ پھول کے ساتھ جڑا ہوا کانٹا تھا۔اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ اگر آج عریسہ بنتِ منظر کا سودا نہ ہوا تو اگلے دن وہ اسے بچے کے ہمراہ لانے کی غلطی نہیں دہرائے گا۔
وہ معزّز شخص چند لمحے ماحول سے بے نیاز عریسہ بنتِ منظر کو گھورتا رہا پھر نپے تلے قدم رکھتا ہوا اس کی طرف بڑھا ۔
”یہ تمھارا بیٹا ہے ؟“عریسہ بنتِ منظر کے سامنے رکتے ہوئے اس نے عربی میں پوچھا ۔گو اس کالہجہ عجمی تھا مگراس نے الفاظ بالکل صحیح ادا کےے تھے ۔
عریسہ بنتِ منظر نے بغیر سوچے سمجھے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
”میں یہ بچہ خریدنا چاہوں گا ۔“وہ رغال کی طرف متوجہ ہوا ۔
”صرف بچہ ….؟“رغال کے لہجے میں حیرانی تھی ۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ جسے پھولوں کا خریدار سمجھے ہوئے تھا وہ کانٹوں کا بیوپاری نکلے گا ۔
”ہاں ….“اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔”ٹھیک ہے ….ٹھیک ہے ۔“رغال حیرانی کے اثر سے نکل آیا تھا ۔
”تو کیا لو گے ؟“معزّز شخص کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ ابھری ،گویا وہ پہلے سے جانتا تھا کہ اسے نہ سننے کو نہیں ملے گی ۔
”محترم !….جو آپ دے دیں ۔“رغال نے تیر اس کی کمان میں رہنے دیا تھا۔
ایک لمحہ سوچے بغیر اس نے کمر سے بندھی ایک تھیلی کھول کر اس کی جانب اچھالی ….
”بیس سونے کے سکّے ہیں …. “اور پھر رغال کے جواب کا انتظار کےے بغیر اپنے ایک محافظ کو کہا ۔
”بچے کو سنبھالو۔“ محافظ کو اس نے اپنی زبان میں مخاطب کیا تھا ۔
محافظ سر ہلاتا ہوا عریسہ کی جانب بڑھا ۔
اسی وقت حیرت سے گنگ رغال کی زبان سے بہ مشکل پھسلا….”بہت ہیں محترم سردار!“
اس شخص نے محض مسکرانے پر اکتفا کیا تھا ….اتنا تو وہ خود بھی جانتا تھا کہ بیس سونے کے سکوں سے بیس جوان مرد خریدے جا سکتے تھے کجا یہ کہ ایک ،دو ماہ کے بچے کے لےے اتنی کثیر رقم دی جائے ۔
محافظ نے عریسہ بنتِ منظر کے ہاتھ سے بچہ لے لیا ۔اس کے چہرے پر اذیتابھری۔اسے یوں محسوس ہوا جیسے سچ مچ اس کا اپنا بچہ چھینا جا رہا ہو ،مگر وہ مجبور تھی اگر سچ مچ بھی اس کا بیٹا ہوتا تب بھی کسی نے پروا نہیں کرنا تھی ۔
”محترم سردار!….“وہ معزز شخص چلنے ہی لگا تھا کہ عریسہ بنتِ منظر نے اسے آواز دی ۔وہ رک کر اس کی طر ف متوجہ ہوا اس کے چہرے پر حیرانی یا غصے کے بجائے ندامت تھی، گویا وہ جانتا تھا کہ ایک ماں کے لےے بچے کی کیا حیثیت ہو تی ہے ۔رغال اور غنم بھی حیرانی اور غصے سے عریسہ بنتِ منظر کو گھورنے لگے ۔
عریسہ بنتِ منظر نے ٹھنڈا سانس بھرا۔”اس کا نام یشکر ہے محترم سردار!۔“
وہ ہولے سے مسکرایا۔”اچھا نام ہے“اور پھر اپنے محافظوں کی معیت میں آگے بڑھ گیا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: