Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 10

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر- قسط نمبر 10

–**–**–

”سردار ،اگر آپ نہیں جا رہے تو بہتر ہوگاکہ سردار زادی کو بھی کسی طرح سے روک دیں۔“ رغال بن ذواب نے جبلہ کو مشورہ دیا۔جبلہ نے طبیعت ناسازہونے کی وجہ سے ایک قافلے پر حملے کے لیے جانے سے معذوری ظاہر کی تھی۔
”کیوں ؟“جبلہ بن کنانہ نے حیرانی ظاہر کی۔
رغال دبے لہجے میں بولا۔”سرداز زادی ،مرضی چلاکر کچھ لوگوں کو اعتراض کا موقع فراہم کرے گی۔“
”وہ سردار زادی ہے اور مرضی چلانا اس کا حق بنتا ہے۔اس میں اعتراض کا مطلب؟“جبلہ بستر پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا۔
”سردار ،مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔آپ کی طرح وہ میری بھی بیٹی ہے مگر عورت ……..“
جبلہ نے ہاتھ اٹھا کر رغال کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا۔” اتنا بیمار نہیں ہوں کہ ساتھ نہ جا سکوں لیکن میں چاہتا ہوں جو فساد میری موت کے بعد کھڑا ہو گا وہ میری زندگی ہی میں سامنے آ جائے۔“
”گویا آپ جان بوجھ کر ایسا کر رہے ہیں۔“رغال کے چہرے پر حیرت تھی۔
”ہاں۔“جبلہ نے اثبات میں سر ہلایا۔”میں قُتیلہ کو احساس دلانا چاہتا ہوں کہ اس کے لیے قبیلے کی سردار بننا ممکن نہیں ہے۔“
”آپ کا سمجھا دینا کافی ہوتا۔“
جبلہ کے چہرے پرپھیکی مسکراہٹ نمودارہوئی۔”ایسا صرف تم سوچتے ہو۔“
رغال کا انداز مشورہ چاہنے والا تھا۔”اگر میں سردار زادی کو رکنے کا کہہ دوں ؟“
جبلہ نے منھ بنایا۔”الفاظ ہی ضایع کرو گے، ورنہ جواب تمھیں معلوم ہے۔“
رغال نے کہا۔”سردار زادی میری بہت عزت کرتی ہے۔“
”اس بارے اس نے عریسہ کی درخواست کو بھی پسِ پشت ڈال دیا ہے۔اورمیرے اندازے میں یہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس نے عریسہ کی بات نہیں مانی۔“
”ہم سہ پہر کو روانہ ہوں گے۔“رغال نے مزید اصرار سے گریز کیا تھا۔
جبلہ نے سر ہلا کر اس کی تائید کی۔
رغال کہنے لگا۔”مخبر دو قافلوں کی اطلاع لائے ہیں۔کیا دونوں پر ہلہ بولا جائے۔“
”نہیں جو قافلہ دبا سے یمن کی طرف جا رہا ہے اسے پکڑو بنو کاظمہ والے کو رہنے دو۔“
اور رغال اثبات میں سرہلاتا ہوا سردار کے خیمے سے باہرنکل گیا۔
٭٭٭
”چچا جان ،شاید آپ لوٹنے میں سرعت سے کام لے رہے ہیں۔“مالک بن شیبہ اپنے چچا شریم کو مخاطب تھا۔
شریم اسے سمجھاتا ہوا بولا۔”دو تین قبائل نے اپنا سامان تجارت جوں کا توں رکھا ہوا ہے۔ہم ان کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ باندھے نہیں بیٹھ سکتے۔“
مالک نے کہا۔”شیخ قافلہ کا تو انتظار کر سکتے ہیں۔کیوں کہ قریش کے ہمراہ سفر کرنے ہی میں عافیت ہے۔“
”وہ بھی اب تک فیصلہ نہیں کر سکے کہ حیرہ سے شام کا رخ کریں گے یا یہیں سامان تجارت بیچیں گے۔گزشتا روز بنو سعد کا قافلہ واپس روانہ ہو گیا ہے۔ہم کوشش کریں تو ان کا ساتھ پکڑ سکتے ہیں۔یوں واپسی کے سفر میں قریش کو معاوضا بھی ادا نہیں کرنا پڑے گا۔“
”جیسے آپ کی مرضی۔“مالک بن شیبہ نے بحث ختم کی۔
اگلی صبح طلوع آفتاب سے پہلے ان کا قافلہ حیرہ سے روانہ ہو گیا تھا۔
یشکربقیہ دو غلاموں کے ساتھ پیدل ہی چل رہا تھا۔اپنی تلوار اس نے پرانے کپڑے میں لپیٹ کر ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی۔شریم سے سن کر مالک بن شیبہ نے بھی ”صاعقہ “کو دیکھنے میں دلچسپی ظاہر کی اور پھر اس نے بھی یشکر کو منہ مانگے معاوضے کی پیش کش کی تھی مگر وہ تلوار یشکر کے پاس سکندر کی آخری یادگار تھی۔گو سکندر اس کا سگا باپ نہیں تھا لیکن اسے وہ سگے باپ سے بھی زیادہ عزیز تھا۔ اس نے نرمی سے انکار کر دیا تھا۔بدلے میں اسے مالک کی چند پھبتیاں بھی سننا پڑی تھیں۔شریم نے وہ باتیں سن کرمالک کو منع کر دیا تھا۔البتہ یشکر اپنی حیثیت جانتا تھا۔اس نے خاموش رہنے میں عافیت سمجھی تھی۔
٭٭٭
پچاس بندوں کا جتھا تیار تھا۔ قبیلے سے نکلنے سے پہلے قُتیلہ نے گھوڑا ریت کے ٹیلے پر چڑھا کر سب کو متوجہ کیا۔”تمام یاد رکھنا قبیلے کا سردار ساتھ نہیں جا رہا اور اس کی غیر موجودی میں قائم مقام میں ہوں۔ اور میں نہیں چاہتی کہ اس بار کوئی ایسی غلطی ہو کہ بابا جان کو طعنہ کسنے کا موقع ملے۔“
”گستاخی معاف سردار زادی ،سردار کی بیٹی اس کی قائم مقام نہیں بن سکتی۔“گرانڈیل جعثمہ بن مرثد کا لہجہ بہ ظاہر مودّبانہ تھا ،مگر اس کے بگڑے تیور کسی کی نظر سے اوجھل نہیں تھے۔
”تو قائم مقام کون ہو گا؟“قتیلہ نے تحمل سے پوچھا البتہ اس کی دُمبالہ آنکھیں قہر اگلنے لگی تھیں۔
”کوئی شہ سوار بھی ہو سکتا ہے۔“جعثمہ نے کندھے اچکائے۔
”سامنے لاﺅ تاکہ پتا تو چلے کون سورما قُتیلہ کی قیادت کرے گا۔“
”اگر کوئی نہیں ہے تو قیادت کی ذمہ داری میں سنبھال لوں گا۔“جعثمہ ،قُتیلہ کے غصے کو اہمیت دینے پر تیار نہیں تھا۔
”زندہ بچ گئے تو تمھاری خواہش کا احترام ضرور کیا جائے گا ۔“گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے قُتیلہ پر جوش انداز میں اس کی جانب بڑھی۔
”سردار زادی نہیں۔“رغال نے اسے چیخ کر روکنے کی کوشش کی۔مگر وہ تیزی سے جعثمہ کی طرف بڑھتی رہی۔اس نے تلوار بے نیام کر لی تھی۔
اسے قریب آتے دیکھ کر جعثمہ نے تلوار سوتنے میں دیر نہیں کی تھی۔اگلے ہی لمحے دونوں کی تلواریں ٹکرانے پر چھنچھناہٹ ابھری ،قُتیلہ کا گھوڑا جعثمہ کے گھوڑے کے پہلو سے ہو کر آگے بڑھا ، جعثمہ نے سوچا شاید وہ آگے جا کر گھوڑے کو پیچھے موڑے گی لیکن اس کی توقعات کے برعکس قُتیلہ نے ایک دم دونوں پاﺅں جوڑ کر گھوڑے کی پشت پررکھے اور الٹی قلابازی کھاتے ہوئے ہوا میں اچھلی۔ اگلے ہی لمحے اس کی تلوار گھوڑا موڑتے جعثمہ کی گردن کو نشانہ بنا چکی تھی۔اس کے قدم جونھی زمین پر لگے ،جعثمہ کا تڑپتا بدن بھی نیچے گر گیا تھا۔
”چچا رغال، اس کی تلوار سنبھال کر رکھ لینا ،دیکھتی ہوں اپنے قبیلے سے کتنی تلواریں اکٹھی کر سکتی ہوں۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ اپنے گھوڑے کی طرف بڑھی جو اپنی مالک کے نیچے اترنے پر رک گیا تھا۔اچھل کر گھوڑے پر بیٹھتے ہوئے اس نے گھوڑا ٹیلے کی جانب موڑدیا۔اوپر پہنچتے ہی اس نے پوچھا۔
”اس کے علاوہ جبلہ بن کنانہ کا جانشین کسی نے بننا ہے تو سامنے آئے۔“
لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد ہلکی بھن بھناہٹ ابھری چند لمحے بعد ادھیڑ عمر عیلان بن عبسہ جرّات کرتے ہوئے بولا۔”سردار زادی ،ماہر تلوار زن ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ میں سمجھ بوجھ بھی اتنی زیادہ ہے کہ آپ قبیلے کی سرداری کر سکتی ہیں۔“
”عیلان بن عبسہ ،میں بنتِ جبلہ بن کنانہ ہوں اور ان کے بعد قبیلے کی سرداری میرا حق ہے۔ مجھ میں کوئی کمی ہے توواضح بتاﺅ،اگر تم لوگ عورت کو کمزور خیال کرتے ہو تو جعثمہ کی طرح اسے ثابت کرنے کی کوشش کرو شاید کسی کی کوشش کامیاب ہو جائے۔“قُتیلہ کی پیش کش پر کسی کو سامنے آنے کی جرّات نہیں ہوئی تھی۔
قُتیلہ کے دوبارہ بولنے سے پہلے قبیلے کی طرف سے دو گھڑ سوار نمودار ہوئے۔قُتیلہ اور جعثمہ کو لڑائی پر آمادہ دیکھ کر غنم بن سلول سردار کو بلالایا تھا۔مگر بہت زیادہ سرعت کا مظاہرہ کرنے کے باوجود جبلہ ، جعثمہ کو مرنے سے نہیں بچا سکا تھا۔
”رغال ،تمھیں معاملے کو سنبھالنا چاہیے تھا۔“جعثمہ کی لاش دیکھتے ہی جبلہ بن کنانہ نے ناراضی کا اظہار کیا۔
”سردار،شرمندہ ہوں میں سردار زادی کے غصے کے سامنے بند نہ باندھ سکا۔“رغال نے ناکامی کو بے صبری کے کھاتے میں ڈالا۔
”غلطی کس کی ہے ؟“
رغال صاف گوئی سے بولا۔”اس کا تعین میں نہیں کر سکتا۔“
”تم بتاﺅ۔“وہ قُتیلہ کی طرف متوجہ ہوا۔
وہ بے پروائی سے بولی۔”جعثمہ بن مرثد نے قائم مقام سردار کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے خود کو قیادت کا اہل ٹھہرایا۔ اس کی خواہش کے احترام میں ،اسے یہ ثابت کرنے کا موقع دینا پڑا اور نتیجہ سامنے ہے۔“
جبلہ نے رغال سے پوچھا۔”کیا ایسا ہی ہوا،جعثمہ نے قُتیلہ کے خلاف تلوار سونتی تھی۔“
”جی سردار۔“رغال نے اثبات میں سر ہلادیا۔
جبلہ سامنے کھڑے سواروں کو مخاطب ہوا۔”جو لوگ قُتیلہ کی قیادت میں نہیں جانا چاہتے وہ ایک طرف ہو جائیں۔“
پچاس سواروں میں سے تیس سوار جرّات کا اظہار کرتے ہوئے ایک جانب ہو گئے تھے۔
”کیا کہتی ہو ؟“جبلہ نے معنی خیز لہجے میں قُتیلہ سے پوچھا۔
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔”قُتیلہ کے لیے چندسوار کافی ہیں۔“
”عیلان بن عبسہ تم ان تیس جنگ جوﺅں کے ساتھ بنو کاظمہ کے رستے سے آنے والے قافلے کو لوٹنے جاﺅ گے ۔ قُتیلہ پرانے ہدف کی طرف جائے گی اور یاد رکھنا قافلہ لوٹنے سے زیادہ اہمیت اپنے لوگوں کو خیریت سے واپس لانے کی ہے۔“
”جی سردار !“عیلان نے اپنی خوشی چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”تمھیں مزید سوار چاہئیں ؟“عیلان بن عبسہ کو جانے کا اشارہ کرتے ہوئے جبلہ ،قُتیلہ کی طرف مڑا۔
اس نے نفی میں سر ہلایا اور جبلہ کندھے اچکاتا ہوا قبیلے کی جانب چل پڑا۔عیلان بن عبسہ تیس سواروں کے دستے کے ساتھ پہلے ہی شمال کا رخ کر چکا تھا۔قُتیلہ نے رغال کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا اور وہ جنوب مشرق کی جانب بڑھ گئے۔دبا سے آنے والے قافلے نے صحار سے ہو کر صحرائے ربع الخالی کے مشرقی جانب سے گزر تے ہوئے حضر موت اور وہاں سے یمن پہنچنا تھا۔غبشان بن عبشہ ،قُتیلہ کے ساتھ تھا۔ وہ ایک ماہر کھوجی تھا۔رغال اور غبشان قُتیلہ کو بہت پسند کرتے تھے۔وہ بھی انھیں چچا جان کہہ کر مخاطب کیا کرتی۔
٭٭٭
تین دن بعد انھوں نے بنو سعد کے قافلے کو پکڑ لیا تھا۔وہاں سے آگے دونوں قبیلے اکٹھے ہی چلتے رہے۔ رات کو دونوں قبیلوں کے چار چار آدمی جاگ کر پہرہ دیتے کہ وہ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے تھے۔ شریم کو متفقہ طور پر شیخِ قافلہ منتخب کر لیا گیا تھا۔
ان کے سفر کو دسواں دن تھا غروب آفتاب سے کچھ دیر پہلے انھوں نے ایک مناسب جگہ پر پڑاﺅ ڈالا۔یشکر دونوں غلاموں اور قبیلے کے دوسرے افراد کے ساتھ انتظامی امور میں مصروف ہو گیا تھا۔ شروع شروع میں اسے یہ کام بہت مشکل لگتا اونٹوں پر سامان لادنا ،اتارنا خیمے لگانا اور اس جیسے دوسرے کام لڑائی بھڑائی کی مشق سے بالکل مختلف تھے۔وہ سخت جان و جفا کش تھا لیکن یہ کام اس کی فطرت سے میل نہیں کھاتے تھے۔البتہ اب وہ عادی ہو گیا تھا۔غلامی کی زندگی کو مقدر سمجھ لینا بہت مشکل ہے۔اور اس کی فطرت ایسی نہیں تھی کہ وہ زیادہ عرصہ غلامی میں گزارنا پسند کرتا۔گو بچپن ہی سے غلامی کی ذلت آمیز زندگی اس کا مقدر کر دی گئی تھی لیکن سکندر نے اس کی پرورش سگی اولاد کی طرح کی تھی اور اب بد قسمتی سے وہ دوبارہ غلام بن گیا تھا۔
رات دو پہر بیت چکی تھی جب پہرے داری پر متعین غلام نے اسے جگایا۔قافلے کے جنوب مشرقی اور جنوب مغربی کونے میں انھی کے پہرے دار مقرر تھے۔جبکہ شمال مشرق اور شما ل مغرب میں بنو جساسہ کے دو دو آدمی پہرہ دے رہے تھے۔بستر سے نکلتے ہی اسے ٹھنڈ کا احساس ہوا۔جنوب سے چلنے والی ہوا نے اچھی خاصی خنکی کر دی تھی۔پرانی چادر بدن سے لپیٹ کر اس نے تلوار ہاتھ میں پکڑی اور آگ کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔وہاں بنو جساسہ کا ایک جوان درید بن صامت پہلے سے بیٹھا ہوا تھا۔ پندرھویں کے چاند نے ماحول کو خوب روشن کیا ہوا تھا۔
”الاﺅ کو شکم سیر کر دو۔“درید نے یشکر کو آگ پر لکڑیاں ڈالنے کا حکم دیا۔
یشکر نے سر ہلاتے ہوئے خشک لکڑیوں کے ڈھیر سے چند لکڑیاں اٹھا کر آگ پر رکھ دیں۔ شعلے ذرا مدہم ہوئے نئی لکڑیوں کوچاٹنے کے لیے شعلوں کی زبان خشک لکڑیوں سے لپٹی ،ہلکی سی ” تڑ تڑ “ ہوئی اور شعلے بلند ہونے لگے۔
درید نے ہاتھ میں شراب سے بھرا آب خورہ پکڑا ہوا تھا۔چھوٹے چھوٹے گھونٹ لے کر وہ خود کو تازہ دم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔شراب کا ادھ بھرا مشکیزہ اس کے ساتھ ہی پڑا ہوا تھا۔ یشکر کو اس نے شراب پینے کی دعوت نہیں دی تھی۔شریم کے علاوہ بنو جساسہ کے باقی افراد کا رویہ غلاموں کے ساتھ اتنا بہتر نہیں تھا۔البتہ شریم ،یشکر کا بہت خیال رکھا کرتا تھا۔
دور کہیں گیدڑوں کی منحوس آوازیں بلند ہوئیں۔اچانک یشکر کی حساس سماعتوں میں گھوڑے کی گھٹی گھٹی ہنہناہٹ گونجی یوں لگا جیسے گھوڑے کا منہ باندھا گیا ہو۔وہ اس وقت درید کے ساتھ قافلے کے جنوب مشرقی جانب بیٹھا ہوا تھا۔ان کے مویشی خیموں کے درمیان میں باندھے ہوئے تھے اور وہ شمالی جانب بندھے ہوئے تھے جبکہ آواز جنوبی سمت سے آئی تھی ایک دم چوکنا ہوتے ہوئے وہ بولا۔
”خطرہ ….“
”کچھ بھی نہیں ہے۔“آب خورے سے ایک بڑا گھونٹ بھرتے ہوئے درید نے بیزاری کا اظہار کیا۔
یشکر اس کی بیزاری کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے زمین پر اوندھے منہ لیٹ گیا۔کان زمین سے لگاتے ہوئے اس نے سن گن لینے کی کوشش کی اور اس کا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا۔
”خطرہ ہے لوگوں کو جگاﺅ۔“دوسرے پہرے داروں کو چوکنا کرتے ہوئے وہ قریبی خیمے کی طرف بھاگا۔
دریدبن صامت اسے جھڑکنے کے لیے منھ کھولنے ہی لگا تھا کہ چند تیر سنسناتے ہوئے آلاﺅ کے قریب آکر ریت میں گھس گئے۔ایک تیر اس کے بائیں کندھے میں بھی پیوست ہو گیا تھا۔اس کے منھ سے تیز کراہ نکلی۔ایک دم پہرے داروں کی چیخ و پکار سے خیموں میں ہلچل ہونے لگی۔قزاقوں کو منصوبے کے مطابق ہلّہ بولنے کا موقع نہیں مل سکا تھا اس کے باوجود وہ ایک دم چاروں اطراف سے خیموں کی طرف بڑھنے لگے۔
پہلے خیمے میں لیٹے چار پانچ آدمیوں کو جگا کر یشکر نے قزاقوں کی آمد کی خبر دی اور پھر صاعقہ کو بے نیام کر کے میان کو گول لپیٹ کر ڈھال کی شکل میں بائیں ہاتھ میں پہنا اور دائیں ہاتھ میں تلوار سنبھال لی۔ماہر لوہار نے صاعقہ کی نیام کو اس طرح بنایا تھا کہ گول لپیٹنے سے نیام ،ڈھال کی شکل اختیار کر لیتی تھی۔ گو اس کا حجم عام ڈھال سے چھوٹا تھا لیکن یشکر کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ سکندر نے اسے تربیت ہی چھوٹی ڈھال کے ساتھ لڑنے کی دی تھی۔ تلوار بھی وہ دونوں ہاتھوں سے یکساں مہارت کے ساتھ استعمال کر سکتا تھا۔
جونھی وہ خیمے سے باہر نکلا گھڑ سوار قزاق بھیانک آوازوں میں چلاتے ہوئے خیمے کے قریب پہنچ گئے تھے۔وہ سرعت سے اگلے گھڑ سوار کے قریب ہوا اور صاعقہ کی ضرب نے گھوڑے کا اگلا پاﺅں صفائی سے کاٹ دیا۔گھوڑا مع سوار اوندھے منہ گرگیاتھا۔سوار نے اچھل کر کھڑا ہونے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے ہی یشکر کی تلوار اس کے سر اور کندھوں کے درمیان سے نکل گئی تھی۔صاعقہ نے اس صفائی سے اس کی گردن کاٹی تھی جیسے تیز دھار چھُری ،مولی یا گاجر کو کاٹتی ہے۔اس وقت تک دوسرا گھڑ سوار اس کے قریب پہنچ گیا تھا۔ اس نے نیچے جھکتے ہوئے یشکر کو نشانہ بنانا چاہا ،ایک دم یشکر نے بائیں ہاتھ میں تھامی ڈھال سے اس کا وار روکا اس کے ساتھ اس کے دائیں ہاتھ نے صاعقہ کو گھڑسوار قزاق کی چھاتی میں گھسیڑ دیا تھا۔اس کا گھوڑاپچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہوااور قزاق کی لاش پیچھے کی جانب گرگئی۔یشکر فوراََ ہی لگام تھام کر اچھلا ،اگلے ہی لمحے وہ گھوڑے کی پیٹھ پر تھا۔ڈھال والے ہاتھ سے گھوڑے کی لگام تھامتے ہوئے اس نے گھوڑے کو موڑا اور تیز رفتاری سے قریب آتے دو قزاقوں سے الجھ پڑا۔اگلے والے گھڑ سوار کا وار جھک کر خطا کرتے ہوئے اس نے پیچھے والے قزاق کا وار ڈھال پر روکا اور اس پہلے کہ قزاق دوسرا وار کر تا صاعقہ اس کے کندھوں کو گردن کے بوجھ سے آزاد کر چکی تھی۔فوراََ ہی گھوڑے کو پیچھے موڑ کر وہ دوسرے قزاق کی طرف متوجہ ہوا۔وہ ساتھی کی بے سر لاش دیکھ کر غضب ناک انداز میں یشکر کی طرف بڑھا ،مگر غصہ اسے موت سے نہیں بچا سکا تھا۔ یشکر کا ہاتھ بجلی کی سی سرعت سے ہاتھ گھوم رہا تھا۔صاعقہ جیسے سرگوشیوں میں اپنے پیاسا ہونے کی خبر سنا رہی تھی۔اور اس کی پیاس بجھانے کے لیے کئی گھڑ سوار قزاقوں کی گردنیں موجود تھیں۔
قزاقوں کو اچانک پن حاصل نہیں ہو سکا تھا اس وجہ سے اہل قافلہ کو سنبھلنے کا موقع مل گیا تھا۔ اور اب وہ دلیری سے دشمن کے مقابلے پر ڈٹ گئے تھے۔ ان کی تعداد قزاقوں سے زیادہ تھی۔شریم اور مالک بھی خیمے سے نکل کر قزاقوں پر ٹوٹ پڑے تھے۔شریم نے دو قزاقوں کو جہنم واصل کیا اسی اثناءمیں تیسرا سوار گھوڑا دوڑاتا ہوا اس کے قریب ہوا۔وہ ایک گرانڈیل سوار تھا۔دونوں کی تلواریں ٹکرائیں اور چھنچھناہٹ سے فضا گونج اٹھی۔قزاق کا اگلا وار ڈھال پر سہارتے ہوئے شریم نے اس کے گھوڑے کی عقبی ٹانگ پر تلوار چلائی اور گھوڑا سوار کا بوجھ نہ سنبھال سکا۔گھوڑے کے نیچے گرنے سے پہلے ،گرانڈیل سوار چھلانگ لگا کر نیچے اتر گیا تھا۔اب شریم اور وہ آمنے سامنے تھے۔شریم کا قد ٹھیک ٹھاک لمبا تھا ،مگر اس قزاق کے سامنے وہ پستہ قامت لگ رہا تھا۔دونوں کی تلواریں ایک بار پھر ٹکرائیں۔قزاق کی پھرتی اور طاقت کا اندازہ لگاتے ہی شریم کو شکست واضح نظر آنے لگی تھی ،مگر وہ اتنی آسانی سے ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔چند واروں کے تبادلے کے بعد اچانک ہی قزاق کی لمبی ٹانگ اس کی چھاتی میں لگی اور وہ کولہوں کے بل نیچے گرا ،اس کے اٹھنے سے پہلے قزاق کے بھرپور وار سے تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری تھی۔قزاق نے اس کے دونوں پاﺅں کے درمیان میں کھڑے ہو کر تلوار بلند کی ،شریم کی آنکھیں خوف سے بند ہو گئی تھیں تلوار کی دھار کسی بھی لمحے اس کے بدن سے ٹکرانے والی تھی۔ اور پھر اس کی سماعتوں میں تلوار کی چھن چھناہٹ گونجی۔اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا وہ یشکر تھا جس نے قزاق کی تلوار کے سامنے صاعقہ پکڑ کر اس کے وار کو شریم کے بدن تک جانے سے روکا تھا۔
یشکر ،شریم کے نیچے گرتے وقت اس سے تھوڑے فاصلے پر موجود تھا۔اس کی نظر اتفاقاََ شریم پر پڑی تھی اور اسے نیچے گرتا دیکھ کر وہ مدمقابل کو تہہ تیغ کرتا ہوا اس طرف بڑھا۔اس وقت تک قزاق اپنی تلوار سر سے بلند کر چکا تھا۔قریب آتے ہی اس نے گھوڑے سے نیچے چھلانگ لگائی اور قزاق کی تلوار کو شریم کے جسم تک پہنچنے سے پہلے ہی صاعقہ کو سامنے پکڑ لیا تھا۔
قزاق غضب ناک ہو کر یشکر کی طرف بڑھا۔یشکر اس کے سامنے چھوٹا بچہ نظر آرہا تھا ،لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ بچہ نظر آنے والا یشکر تلوار کا کیسا دھنی ہے۔قزاق کے دو تین وار اس نے جھکائی دے کر خطا کیے اور پھر موقع ملتے ہی صاعقہ نے قزاق کے تلوار والے ہاتھ کو کلائی سے جدا کر دیا تھا۔
یشکر کو قزاق کے ساتھ مصروف دیکھ کر شریم نے بھاگ کر اپنی تلوار اٹھا لی تھی ،لیکن ان کے قریب پہنچنے سے پہلے یشکر نے لڑائی کو انجام تک پہنچا دیا تھا۔قزاق درد ناک کراہوں کے ساتھ کلائی سے نکلنے والی خون کی دھاروں کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔یشکر نے صاعقہ کی نوک اس کی گردن پر ٹیکی ،اگلے ہی لمحے صاعقہ اس کی گردن سے پار ہو گئی تھی۔شریم نے قریب پہنچ کر بے ساختہ کلمہ تحسین بلند کرتے ہوئے یشکر کا ماتھا چوم لیا تھا۔
”لڑائی ختم نہیں ہوئی آقا۔“یشکر نے اسے بچ جانے والے قزاقوں کی طرف متوجہ کیا۔
شریم نے اعتماد سے کہا۔”اب نہیں جیت سکتے۔“
”ہاں ،مگر بھاگ ضرور سکتے ہیں۔“دو تین گھڑ سوار قزاقوں کو جنوب کا رخ کرتا دیکھ کر یشکر گھوڑے کی طرف بڑھ گیا وہ ان کے تعاقب میں جانا چاہتا تھا ،مگر گھوڑا موڑنے سے پہلے اسے مالک بن شیبہ دو قزاقوں سے الجھا ہوا دکھائی دیا۔شریم دوسری جانب بڑھ گیا تھا ،یشکر تعاقب کا ارادہ موّخر کرتے ہوئے مالک کی مدد کو پہنچ گیا۔جونھی اس نے ایک قزاق کے ساتھ تلوار ٹکرائی ،مالک دوسرے قزاق پر تابڑ توڑ حملے کرنے لگا۔دو تین لمحوں بعد اس کی تلوار مخالف کی چھاتی سے پار ہو چکی تھی۔قزاق گھٹنوں کے بل ریت پر بیٹھتے ہوئے پیچھے کولڑھک گیا۔مالک نے یشکر کا ہاتھ بٹانے کے لیے مڑ کر دیکھا۔یشکر اس سے پہلے ہی اپنے مقابل کی گردن اتار چکا تھا۔
”شاباش جوان۔“مالک اسے سراہے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔
یشکر اسے مطلع کرتے ہوئے بولا۔”چند قزاق فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔“
مالک ہنسا۔”تمھارا مطلب ہے اپنے ساتھیوں کو دفنانے کی ذمہ داری ہمارے سر ڈال گئے ہیں۔بہ ہر حال بے فکر رہو ان لاشوں نے ابن آویٰ(گیدڑ) یا ام عامر(لگڑ بگڑ) کی خوراک ہی بننا ہے۔“
یشکر نے کہا۔”فرار ہو نے والے کمک ملنے پر پلٹنے کا حوصلہ کر سکتے ہیں ،آپ چند سوار میرے ساتھ کر دیں تاکہ ہم ٹیلے کی بلندی پر جا کر پہرے داری کر سکیں۔اس اثناءمیں آپ اطمینان سے نقصان کا جائزہ لینے کے ساتھ مرنے والے ساتھیوں کو دفنانے کا بندوبست کر سکتے ہیں۔“
”تمھاری عمر کے لڑکے سے مجھے اتنی عقل مندی کی توقع نہیں تھی۔“مالک بن شیبہ کے لہجے میں حیرانی تھی۔
”سردار ،جس نے لڑائی کی تربیت حاصل کر رکھی ہو اس کے لیے جزئیات کا دھیان رکھنا اچنبھے کی بات نہیں ہے۔“
”ہونہہ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔تھوڑی دیر بعد یشکر تین جوانو ںکے ساتھ ٹیلے کی بلندی پر جا کر اطراف کا جائزہ لے رہا تھا۔پڑاﺅ کے دوسری جانب بنو سعد کے کچھ جوان پہرے داری کر رہے تھے۔جبکہ بقیہ افراد لڑائی میں ہونے والے نقصان کا جائزہ لے رہے تھے۔بنو سعد کے آٹھ اور بنو جساسہ کے چار آدمی قتل ہو چکے تھے۔دونوں قبیلوں کے ملا کر پانچ چھے آدمی زخمی بھی تھے۔قزاق اپنے سولہ ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔وہ مرنے والے ساتھیوں کو دفنانے لگے۔قزاقوں کی لاشیں انھوں نے یونھی چھوڑ دی تھیں۔
٭٭٭
”قافلے والے کافی چوکنا لگ رہے ہیں۔“رغال ،قتیلہ کو مخاطب ہوا ۔دونوں اس وقت ایک ٹیلے پر الٹے لیٹے پہرے داروں کی نقل و حرکت کا جائزہ لے رہے تھے ۔قافلے کے چاروں کونوں پر مسلح پہرے دار مقرر تھے ۔
قتیلہ اس کی بات کا جواب دیے بغیر خاموشی سے پڑاﺅ کا جائزہ لیتی رہی ۔ہر کونے پر انھوں نے دو دو آدمی بٹھائے ہوئے تھے جو آگ کے آلاﺅ روشن کر نے کے ساتھ چوکنے ہو کر پہرہ داری کر رے تھے ۔آگ روشن کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ وحشی جانور پڑاﺅ کے قریب نہیں آتے تھے ۔صحرا کی راتیں ٹھنڈی ہوتی ہیںکیوں کہ ریت ٹھنڈ اور تپش کو سرعت سے جذب کرتی ہے ۔چاروں کونوں پر جلنے والے آلاﺅ نے بے ترتیب لگے ہوئے خیموں کے گرد حصار قائم کر دیا تھا ۔اہل قافلہ ایک وادی میں سفر کر رہے تھے اور پڑاﺅ ڈالنے کے لیے بھی انھوں نے رستے سے دائیں بائیں ہونا گوارا نہیں کیا تھا ۔
پڑاﺅ کے شمالی اور جنوبی جانب ریت کے اونچے اونچے ٹیلے تھے جبکہ مغرب سے مشرق کی جانب ہموار ریت تھی ۔قتیلہ اس وقت شمالی جانب کے ٹیلے پر رغال کے ساتھ لیٹی تھی ۔پڑاﺅ کا اچھی طرح جائزہ لے کر وہ لیٹے لیٹے پیچھے کو کھسکی ۔
”چلیں رغال چچا ۔“اور رغال اس کی تقلید میں پیچھے سرکنے لگا ۔تھوڑی دیر بعد وہ ٹیلے سے دو تین فرلانگ دور اپنے بقیہ ساتھیوں کے پاس پہنچ گئے تھے ۔قتیلہ نے تمام کو قریب بلا کر کہا ۔
”پڑاﺅ کے چاروں کونوں پر آٹھ آدمی پہرہ دے رہے ہیں اور تمام کو خاموشی سے قتل کر کے ہی ہم اچانک پن حاصل کر سکتے ہیں ۔چاندنی رات ہے اس لیے ان کے قریب ہمیں رینگتے ہوئے جانا پڑے گا ۔پہرے داروں کے ہلاک ہوتے ہی تمام خاموشی سے خیموں کی طرف بڑھیں گے ۔لوگوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اس لیے قیدی بنانے کے چکروں میں نہ پڑنا جو سامنے آئے گردن اڑا دو ۔“ وہ سانس لینے کے لیے لحظہ بھر خاموش ہوئی اور پھر اس کی بات جاری رہی ۔”رغال چچا آپ دس سوار ساتھ لے کر مشرقی جانب سے لمباچکر کاٹتے ہوئے جنوب کی جانب پہنچیں ۔چھے آدمی ٹیلے کی بلندی پر متعین کر کے چار آدمی دو دو کی ٹولیوں میں جنوب مشرق اور جنوب مغرب کی جانب موجود پہرے داروں کی طرف بڑھیں گے ۔جونھی دونوں پارٹیاں پہرے داروں سے پچاس ساٹھ قدموں کے فاصلے پر پہنچ جاتی ہیں ٹیلے پر موجود آدمی ایک ساتھ گیدڑوں کی آواز نکالیں گے ۔ہماری طرف سے بھی تیر انداز پہروں داروں کے قریب پہنچ چکے ہوں گے ۔گیدڑوں کی آواز سنتے ہی تمام تیر انداز تیار ہو جائیں گے ۔اس کے لمحہ بھر بعد چچا غبشان الو کی تیز آواز نکالے گا ۔جسے سنتے ہی تیر انداز ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے تیر چھوڑ دیں گے ۔پہرے داروں کے گرتے ہی اہل قافلہ پر ہلہ بول دیا جائے گا ۔“یہ کہتے ہی اس نے تمام ساتھیوں پر سرسری نگاہ دوڑائی ۔”کوئی مشورہ یا تجویز ….؟“
تمام خاموش رہے تھے ۔
”ٹھیک ہے روانہ ہو جاﺅ ۔“
رغال نے دس سواروں کو علاحدہ کر کے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور مشرق کی جانب بڑھ گیا ۔جبکہ قُتیلہ تین اچھے تیر اندازوں کو ساتھ آنے کا اشارہ کر کے پہرے داروں کی سرکوبی کے لیے چل دی ۔یہ اس کی دلیری اور نڈر پن ہی تھا کہ ہر مشکل کام میں وہ پیش پیش ہوتی تھی ۔اوریہ اچھے قائد کی خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنی فوج کا ہراول ہوتا ہے ۔باقی قزاق غبشان کے حوالے ہو گئے تھے ۔غبشان نے بقیہ سواروں کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اس بڑے ٹیلے کے مشرق اور مغربی جانب بھیج دیا جہاں سے وہ ٹیلے پر چڑھے بغیر قافلے پر ہلہ بول سکتے تھے ۔وہ خود اپنا گھوڑ ا وہیں چھوڑ کر ٹیلے کی بلندی پر پہنچنے لگا ۔
پڑاﺅ کے شمالی جانب موجود ٹیلہ دو اڑھائی سو قدم پھیلا ہوا اور پچاس ساٹھ ہاتھ بلند تھا ۔ٹیلے کے مشرقی اور مغربی جانب اس سے متصل اور ٹیلے بھی تھے ۔لیکن ان کی بلندی بھی کم تھی اور درمیان میں دبی ہوئی جگہ بھی موجود تھی جہاں سے گزر کر ٹیلے کی بلندی چڑھنے سے بچا جا سکتا تھا ۔
قُتیلہ نے دو آدمی شمال مشرقی جانب موجود پہرے داروں کی طرف روانہ کیے اور خود ایک قزاق کو ساتھ لے کر شمال مغربی پہرے داروں کی جانب بڑھ گئی ۔دو ٹیلوں کے درمیان موجود دبی ہوئی جگہ سے گزر کر وہ زمین پر لیٹ گئی تھی ۔وہاں سے پہرے داروں تک انھوں نے رینگتے ہوئے پہنچنا تھا ۔ گھڑی بھر بعد ہی وہ دونوں پہرے داروں سے پچاس ساٹھ قدم کے فاصلے پر ایک چھوٹی سے جھاڑی کے عقب میں موجود تھے ۔قتیلہ نے پشت پر لدے ترکش سے تیر نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا تھا ۔اس کے قریب لیٹے احمر بن ضریرنے بھی اپنی کمان میں تیر جوڑ لیا تھا ۔دونوں کی نگاہوں پہرے داروں پر گڑی تھیں جو الاﺅ کے پاس بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے ۔ان کی باتوں کی مدہم آواز انھیں سنائی دے رہی تھی ۔ اور پھر گِدودَٹ (گیدڑوں کے بولنے کی آواز)شروع ہو گئی تھی ۔پہرے داروں نے بے پروائی کے انداز میں اس جانب سرسری نگاہیں دوڑائیں اور دوبارہ گپیں ہانکنے لگے ۔
قُتیلہ نے زانو کے بل بیٹھتے ہوئے چلے میں تیر جوڑا اور احمر کو بولی ۔”دائیں جانب والا میرا ہدف ہے ۔“اس پہرے دار کا رخ انھی کی طرف تھا اور یہ قُتیلہ کی عادت تھی کہ سامنے سے وار کرنا زیادہ پسند کرتی ۔احمر نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دوسرے آدمی پر شست سادھ لی تھی ۔
الو کی ہوک بلند ہوتے ہی قُتیلہ نے تیر چھوڑ دیا تھا ۔احمر نے بھی چلّہ چھوڑنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔دونوں تیر سنسناتے ہوئے بے خبر پہرے داروں کی طرف بڑھے ۔قُتیلہ کا تیر ہدف کے ماتھے میں جبکہ احمر کا تیر ہدف کے کندھے میں پیوست ہوا تھا ۔قُتیلہ کے دل میں پہلے سے یہ اندیشہ موجود تھا اس لیے اپنا تیر چھوڑنے کے ساتھ اس نے بجلی کی سی سرعت سے دوسرا تیر جوڑ کر احمر کے ہدف کی طرف چلا دیا تھا ۔اس کے منہ سے ہلکی سی چیخ تو بلند ہوئی تھی لیکن اس کے واویلا کرنے سے پہلے قُتیلہ کا تیر اس کے سر کی سختی کا اندازہ کر چکا تھا۔ وہ بھی اپنے ساتھی ساتھ زمین بوس ہو کر ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا۔
”ایسے موقع پر تیر کھوپڑی میں داغا جاتا ہے ۔“زمین سے اٹھتے ہوئے اس نے احمر کو سرزنش کی ۔
”جی سردار زادی ۔“مودّبانہ انداز میں کہتے ہوئے وہ اس کی تقلید میں بھاگ پڑا ۔قتیلہ چھریرے بدن کی مالک تھی وہ لومڑی کی طرح خیمے کی طرف بڑھتی جا رہی تھی ۔شمالی اور جنوبی جانب سے گھڑسوار بھی خیموں کی طرف بڑھے جب تک سوئے ہوئے لوگ خطرے کو بھانپتے وہ موت بن کر ان پر نازل ہو چکے تھے ۔وحشی قزاق خون کی ہولی کھیلنے لگے ۔ان کا پسندیدہ مشغلہ انسانی جانوں سے کھیلنا تھا اور تمام دل پسند کھیل میں جی جان سے جت گئے تھے ۔اکادکا خیمے سے بلند ہونے والی اضطراری چیخوں سے چند لوگوں کو جاگنے کا موقع مل گیا تھا لیکن ان کے ہتھیار سنبھالنے سے پہلے قزاق ان کا کام تمام کر چکے تھے ۔ قتیلہ چار خیموں کے مکینوں کو ہلاک کر کے اندھی و طوفان کی طرح پانچویں خیمے میں گھسی ،خیمے کا مکین نہ صرف جاگا ہوا تھا بلکہ اس نے ہاتھ میں تلوار بھی سونتی ہوئی تھی ۔قتیلہ کے اندر گھستے ہی اس نے جنونی انداز میں تلوار گھمائی ۔اس کا وار اتنا شدید اور اچانک تھا کہ قتیلہ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو مارا گیا ہوتا ، لیکن چراغ کی روشنی میں دشمن کو تلوار گھماتے دیکھتے ہی وہ ایک دم گھٹنوں میں خم ڈال کرجھک گئی تھی ۔تلوار اس کے سر سے چار انگل اوپر شاں کی آوازنکالتی گزر گئی ۔وار خطا ہوتے ہی وہ آدمی لڑکھڑا گیا تھا ۔اس کے سنبھلنے سے پہلے قتیلہ کی تلوار اس کا مزاج پوچھ چکی تھی ۔اس کی تیز تلوار ہدف کے پہلو میں گھس دوسری جانب نکل گئی تھی ۔تلوار کو واپس کھینچ کر وہ بستر پر ہکا بکا بیٹھی عورت کی طرف بڑھی ،چند لمحے پہلے شوہر کی آغوش میں لیٹی عورت نے قضا کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر چیخنے کی کوشش کی تھی ،مگر بے چاری منھ ہی کھول پائی تھی کہ قُتیلہ کی تلوار نے اس کے سر کو جسم کا حصہ نہیں رہنے دیاتھا ۔ اس خیمے میں وہی دو آدمی ہی موجود تھے ۔وہ باہر نکل کر اگلے خیمے کی طرف بڑھ گئی ۔
تھوڑی دیر بعد وادی کی پیاسی ریت سیکڑوں تڑپتے اجسام کا خون چوس رہی تھی ۔ڈیڑھ دو سو افراد میں سے صرف دس مرد اور پانچ عورتیں ہی زندہ بچ پائی تھیں ۔مزاحمت کا اندیشہ رفع ہوتے ہی قُتیلہ کے حکم پر مالِ غنیمت اکھٹا کیا جانے لگا ۔
٭٭٭
طلوع آفتاب تک ساتھیوں کی لاشیں دفنا کر وہ اپنا سازو سامان اونٹوں پر لاد چکے تھے۔زخمی ساتھیوں کی مرہم پٹی کر کے انھیں بھی اونٹوں پر بٹھا دیا گیا تھا۔اکیلے یشکر نے چھے قزاقوں کو ہلاک کیا تھا۔اور بنو جساسہ کے تمام افراد نے مل کر دس قزاقوں کو جہنم کا رستا دکھایا تھا۔جبکہ اہل بنو سعد نے چھے ڈاکوﺅں کو ہلاک کیاتھا۔اپنے قبیلے کے جوانوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے دس قزاقوں کے ہتھیار تو شریم کے حکم پر مال غنیمت کے طور پر سنبھال لیے گئے تھے البتہ جو تین گھوڑے ہاتھ لگے تھے ان میں سے ایک گھوڑا شریم نے بہ طور انعام یشکر کے حوالے کر دیا تھا۔مالک بن شیبہ نے بھی تمام کے سامنے یشکر کی تعریف کی تھی۔قافلے کے روانہ ہوتے ہی مالک نے اپنا گھوڑا ،یشکر کے گھوڑے کے پہلو میں لاتے ہوئے کہا۔
” تمھارے بارے میرا اندازہ ٹھیک نہیں تھا۔بلا شک و شبہ تم تلوار چلانے کا سلیقہ رکھتے ہو۔“
یشکر نے گردن میں ہلکا سا خم لاتے ہوئے کہا۔”شکریہ سردار۔“
مالک تحسین آمیز لہجے میں بولا ۔”تم جیسے غلاموں کی ہم پزیرائی کرتے ہیں ۔“
غروب آفتاب کے بعد بھی ان کا سفر نہیں رکا تھا ۔شریم کو ڈر تھا کہ قزاق اپنے ساتھیوں کا بدلہ لینے کے لیے دوبارہ حملہ کر سکتے تھے ۔رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی جب تھکے ہارے قافلے نے بنو سلیم کے مضافات میں پڑاﺅ ڈالا۔
رات کو شریم کے حکم پر پہلے سے زیادہ پہرے دار مقرر کیے گئے تھے ۔
٭٭٭
عیلان بن عبسہ اور اس کے شکست خوردہ ساتھی قتیلہ کی ٹولی سے پہلے بنو نسر میں پہنچ گئے تھے ۔ سولہ افراد کی ہلاکت کے بارے سن کر جبلہ کا غصے کے مارے برا حال تھا ۔وہ عیلان بن عبسہ کو مخاطب ہوا ۔
”یوں بزدلوں کی طرح جان بچا کر آنے سے بہتر تھا اپنے ساتھیوں کے ساتھ تم لوگ بھی موت کو گلے سے لگا لیتے ۔“
عیلان بن عبسہ تھوک نگلتے ہوئے بولا ۔”سردار ،مرنا مشکل نہیں تھا لیکن مزید لڑائی اس لیے بے فائدہ نظر آرہی تھی کہ اہل قافلہ ہوشیار تھے ۔ان کی تعداد بھی ہم سے زیادہ تھی اور ان کے پاس بہت اچھے جنگ جو بھی موجود تھے ۔یقین مانیں میری آنکھوں کے سامنے ایک جواں سال لڑکے نے سویلم بن حرام جیسے پہلوان اور تلوار کے دھنی کو خاک چٹا دی ۔“
”اہل قافلہ ہوشیار کیسے ہو گئے تھے ،کیا تم لوگوں نے قافلے پر حملہ بولنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بنایا اور یونھی ہلہ بولنے دوڑ پڑے ؟“
وہ ندامت سے سر جھکاتے ہوئے بولا ۔”سردار ،ہمارا خیال تھا ہم انھیں سنبھلنے سے پہلے قابو کر لیں گے ۔“
جبلہ اسے شرم دلاتے ہوئے بولا ۔”عیلان بن عبسہ ،تم جیسے مردوں سے ایک عام عورت بھی اچھی قیادت کر سکتی ہے اور تم قتیلہ کا مقابلہ کرنے چلے تھے ۔وہ تم سے کم سوار ساتھ لے کر گئی تھی ۔دیکھ لینا ناکام واپس نہیں آئے گی ۔“
عیلان کے پاس سر جھکانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا ۔اس کے ساتھی بھی خاموش کھڑے سردار کی لعن طعن سنتے رہے ۔
سہ پہر کے ڈھلے قتیلہ بھی مال غنیمت کے ساتھ کامیاب و کامران لوٹ آئی تھی ۔لوٹ کا ڈھیر سارا سامان دیکھتے ہی جبلہ کا سینہ فخر سے چوڑا ہوگیا تھا ۔عیلان بن عبسہ اور اس کے ساتھی آنکھیں اٹھانے کے قابل نہیں رہے تھے ۔ان کی ناکامی کی خبر سنتے ہی قتیلہ اس قافلے کا تعاقب کرنے پر بہ ضد ہوئی کہ جنہوں نے اس کے قبیلے کے سولہ جوانوں کو قتل کیا تھا ۔لیکن جبلہ نے اسے سختی سے منع کر دیا تھا ۔کیوں کہ اسے ذرہ بھر بھی امید نہیں تھی کہ وہ قافلے کو پکڑ سکیں گے ۔یوں بھی وہ خواہ مخواہ کی لڑائی میں اپنے قبیلے کے لوگوں کو جھونکنا پسند نہیں کرتا تھا ۔
اس کے بعد کئی دن تک عیلان بن عبسہ اور اس کے ساتھی اپنے خیموں ہی میں منھ چھپائے پڑے رہے ۔ان کی ناکامی سے قُتیلہ کی سرداری کی راہ ہموار ہو گئی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: